14/2/22

راجندرسنگھ بیدی کی تخلیقات میں پنجابیت کی جھلک - مضمون نگار: ڈاکٹر رشید جہاں انور

 



          اردو ادب کے مراکز ہمیشہ سے ہی لکھنؤ اور دہلی گردانے جاتے رہے ہیں مگر اس زبانِ شیریں کی ترقی میں جتنا اہم رول خطۂ پنجاب نے ادا کیا ہے اس سے کسی کو بھی منکر ہونے کی گنجائش نہیں۔ مولانا محمد حسین آزاد نے اسی سرزمین میں ’’آبِ حیات‘‘ لکھا اور مولانا الطاف حسین حالی نے ’’مسدسِ حالی‘‘ جیسی عظیم ترین نظم کی تخلیق کی۔

          1930اور 1940کے دوران میں افسانہ نگاروں کے ایک نوجوان گروہ نے ادبی دنیا میں تہلکہ مچا دیاتھا۔افسانے کو نئے اسلوب، نئے زاویے، نئے معنی اور نیا اندازِ فکردے کر جلد ہی افسانوی ادب کے سربراہوں کا سا مقام حاصل کرلیاتھا۔ ان میں اوپندرناتھ اشک، سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، راجندرسنگھ بیدی، خواجہ احمد عباس اور احمد ندیم قاسمی پیش پیش تھے۔

          راجندرسنگھ بیدی کافن شدید انفرادیت کا حامل ہے ۔ ان کا اسلوب بالکل جدا ہے۔بیدی کے اسلوب کا جائزہ لینے سے پہلے ادب میں اسلوب کی کیا معنویت ہے اس پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے تو بہتر ہوگا۔ آل احمد سرور جوراجندر سنگھ بیدی کے مداحوں میں سے تھے، اسلوب کے بارے میں کہتے ہیں:

’’اگر واضح خیال، موزوں اظہار کافی ہے تو اس میں ندرت ، انفرادیت یا بانکپن کا کیا سوال ہے۔ یہیں شخصیت اور اسلوب کی بحث آتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسٹائل میں شخص ہے (Style is the man) ۔حالانکہ شخصیت ، اسلوب میں سیدھے سادے طریقے سے جلوہ گر نہیں ہوتی۔ وہ الفاظ کی چھلنی میں چھن کر آتی ہے ۔ اور یہ الفاظ ہی ایک خاص سانچہ رکھتے ہیں۔ جو الفاظ ایک شخص استعمال کرتا ہے وہ ایک دور یا مزاج یا روایت کے آئینہ دار ہوتے ہیں یعنی وہ انفرادی کے ساتھ اجتماعی خصوصیات رکھتے ہیں۔

(نظر اور نظریے: آل احمدسرور)

          ایک رائے کے مطابق کرشن چندر، سعادت حسن منٹو اور راجندرسنگھ بیدی سے اردو کے عظیم افسانہ نگاروں کا ایک مثلث بنتا ہے۔ ایک ایسا مثلث جس کے تینوں زاویے برابر ہیں ۔یہ تینوں افسانہ نگار اتفاق سے پنجاب سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔

          پروفیسر محمد حسن نے اردو کے افسانوی ادب میں موجود اسلوب کی اقسام پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’پہلا اسلوب منٹو کا ہے۔منٹو کی زبان اپنی روزکی گفتگو سے گہرا رشتہ رکھنے والی شیریں زبان ہے جس میں پنجابی لہجے کے ساتھ بمبیا اردو کی آمیزش ہے۔ دوسرا اسلوب کرشن چندر کی رومانوی نثر کی تابناکی ہے جہاں روشنی اور دھوپ ہے۔ زندگی کی ناہمواری پر سخت طنز ہے اور یہ طنز واقعات کی زبان میں پیش ہوتا ہے۔ اچانک موڑ کاٹنے کا کرشن چندر کو ، کوئی شوق نہیں ہے بلکہ یہاں زندگی اپنے پورے توازن اور ہم آہنگی کے ساتھ ابھرتی ہے۔ اسلوب کی رومانوی خوابناکی کے ساتھ ساتھ یہاںقصے کی فضا اور واقعات اور اس کے زیرِ زمین تاثرات کا بہاؤ فیصلہ کن ہے۔ جبکہ راجندرسنگھ بیدی کے اسلوب میںعام انسان کے اندرونی کرئہ ارض کی سیر ہے جس میں غیر فطری اور غیر معمولی کرداروں کی تحلیل نفسی کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ بلکہ عام انسانوں کی باطنی زندگی کی چھوٹی موٹی مسرتوں اور حسرتوں کی عکاسی کی گئی ہے۔ یہ گویا چیخوف اور گوگول کی کہانیوں سے قریب ہیں اور اس خصوصیت میں ان کا کوئی ہمسفر ہے تو صرف غلام عباس ،جن کی کہانیاں’آنندی‘ اور ’دھنک‘یا ’اوور کوٹ‘اس کی مثالیں ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ غلام عباس تخیل کے ذریعہ بہت دور تک پرواز کرتے ہیںجبکہ بیدی باطنی زندگی کی لطافتوں اور نزاکتوں سے قریب رہتے ہیں۔’اپنے دکھ مجھے دے دو‘ اور ’لاجونتی‘ اس کی اعلیٰ ترین مثالیں ہیں۔

(افسانوی ادب کی تدریس ،ادبیات شناسی :پروفیسر محمد حسن)

          بیدی کے فن کی ایک اور خوبی بہت نمایاں طور پر نظر آتی ہے ۔ وہ اپنے کام کو بہت ایمانداری سے لیتے ہیں۔ اس کے لیے وہ کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے اور نہ ہی اپنے کسی ذاتی مسئلے کو بیچ میں لاتے ہیں۔

          بیدی نے اپنے افسانوں میںویسے ماحول کا ذکر کیا ہے جن سے وہ گہری واقفیت رکھتے ہیں۔ ان میں پنجاب کے دیہات کی خوشبو بھی ملتی ہے اور مہابھارت و گیتاکی رو شنی بھی۔لہٰذا اس تناظرمیں بیدی کے خیال جس طرح نمودار ہوئے وہ عام روش سے مختلف نظر آئے۔ پنجاب سے ان کا رشتہ اٹوٹ ہے۔ یہ اور بات ہے کہ مجبوری ٔحالات کی وجہ سے وہ ملک کے کئی حصوں میں رہے۔ وہاں کی زندگی کے زیر اثر بھی انھوں نے کئی کہانیوں کی تخلیق کی لیکن مجموعی طور پر ان کی تخلیقات کے ماحول پنجاب کے رنگوں میں ڈوبے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پنجابیت کا یہ رنگ بے ساختہ طور پر پیدا ہوتا ہے اور پڑھنے والا اس رنگ میں ڈوب کر مسرور ہوجاتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ بیدی کی زبان پر لگاتار اعتراضات ہوتے رہے لیکن بیدی پر اس بے جا نکتہ چینی کاکوئی خاص اثرنہیںہوتا ۔ آخر کاربڑے بڑے ناقدوں نے جب قدرے غور سے دیکھا تو بیدی کی یہ خاص خوبی نظر آنے لگی۔

          آل احمد سرور ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’گرہن ‘‘ کا پہلا جملہ سن کر ایک اہلِ زبان نے کہا تھا کہ یہ کون سی زبان ہے ، کیا یہ اردو ہے؟ اور مجھے کہنا پڑا تھا :ہاں یہ اردو ہے لیکن یہ ایک پنجابی نے لکھی ہے۔

          اور وہ جملہ تھا:’’روپو، سیتو، کھتّو اورمنّا ۔ ہولی نے اساڑھی کے کائستھوں کو چار بچے دئے تھے اور پانچواں چند ہی مہینوں بعد جننے والی تھی۔‘‘

          اس طرح سے ایک اور جملہ جو بیدی کی شاہکار کہانی ’’لاجونتی‘ کا ہے ۔’’ہتھ لائیاں کملان نی لاجونتی کے بوٹے۔‘‘

          اس مشہو ر پنجابی بول سے اس کہانی کی شروعات ہوئی ہے ۔ یہ کس قدر فطری نظر آتا ہے لیکن اگر اسی بول کا اردو میں ترجمہ کریں تو کچھ اس طرح سے ہوگا:یہ چھوئی موئی کے پودے ہیں ذرا ہاتھ بھی لگاؤ تو کمہلا جاتے ہیں۔

          یہاں یہ بات صاف نظر آ رہی ہے کہ ترجمے میں وہ مفہوم نہیں آیا۔ ’’ہتھ لگائیاں ‘‘کا ترجمہ ہو ہی نہیں پاتا کیونکہ زبان کی لطافتیں بھی لاجونتی کے پودوں کی طرح ہی ہوتی ہیں۔

          بیدی اپنی کہانیوں میں ایسی زبان کا استعمال کرتے ہیں جو ان کے کرداروں کے جذبات و احساسات کی صحیح معنوں میں ترجمان ہیں۔ جہاں تک ممکن ہو ایسی زبان ہوتی ہے جو اردو زبان تو ہوتی ہے لیکن اپنے کرداروں کے ماحول سے ہم آہنگ۔ بیدی اسی طرح کی زبان لکھتے رہے اور اعتراض کرنے والے آخر کار خاموش ہوگئے۔ منٹو کا ایک مشہور جملہ ہے :جب کوئی پنجابی اردو بول رہا ہوتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے جھوٹ بول رہا ہو۔

          یہ اس فنکار کا جملہ ہے جس کی نثر اردو زبان کا ایک بیش قیمت سرمایہ ہے۔ منٹو کے اس جملے سے یہ بات صاف ظاہر ہوجاتی ہے کہ کسی بھی زندہ زبان کو مختلف خطوں کے لوگ مختلف ڈھنگ سے استعمال کرتے ہیں۔ اس سے بنیادی طور پر تو کوئی فرق نہیں پڑتا ،بلکہ اس سے زبان میں ایک وسعت پیدا ہوتی ہے۔ بیدی خود اپنے معترضوںکوخاموش کرنے کے لیے ڈاکٹر اقبال کی مثال دیا کرتے تھے کہ اس صدی کا سب سے بڑا شاعر اقبال گفتگو میں ایسی اردو کا استعمال کرتا تھا جس کا لہجہ خالص پنجابی ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر ایک بار ایک لکھنوی مولانا نے علامہ سے لاہور میں ملاقات کی۔ مولانا کے دوست نے پوچھا کہ علامہ سے گفتگو ہوئی؟ تو ان کا جواب یہ تھا:’’ہاں بھئی ہوئی۔۔۔۔میں جی ہاں، جی ہاں کرتا رہا اور وہ ہاں جی، ہاں جی کرتے رہے۔‘‘

          بیدی کی بیشتر کہانیوں کے پس منظر میں پنجابیت کی جھلک باربار ملتی ہے۔ بیدی نے ملک کی تقسیم کے وقت پنجاب کی پانچ ندیوں میں پانی کی جگہ خون کو بہتے دیکھا ہے۔ ان کے کئی عزیزوں کی بھی جانیں گئیں۔ اس بربریت اور خونی کھیل کو دیکھتے ہوئے انھوں نے ایک کہانی لکھی ’’لاجونتی‘‘۔اس موضوع پر بیدی کے کئی ہم عصروں نے بھی خوبصورت کہانیاں لکھیں، جن میں منٹو کی’’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘‘ ایک لافانی تخلیق ثابت ہوئی۔ لیکن ان دردناک حادثات کاسب سے اہم اور جذباتی موضوع جسے بیدی نے چُنا ،وہ تھااغوا شدہ عورتوں کا مسئلہ۔ بیدی نے بتایا کہ جب کوئی عورت اغوا کی جاتی ہے تو اس کے ساتھ مرد کی مردانگی بھی ختم ہوجاتی ہے۔ چاہے وہ مرد وہی کیوں نہ ہوں جن پر ان عورتوں کی حفاظت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس مسئلے کا حل کسی کے پاس نہیں تھا۔ یہ مسئلہ مغربی پنجاب کا بھی تھا اور مشرقی پنجاب کا بھی ۔ ایسی بدنصیب عورتوں کو پھر سے قبول کرنے کا حوصلہ کہاں سے آئے۔ یہ وہ عورتیں تھیں جو بے بس اور لاچارتھیں ۔ ان کو وہی دکھ ملا تھاجو سیتا کو راون کے پاس قید ہونے کے بعد ملا تھا۔ لیکن جب سیتا کو اگنی پریکشا سے گزرنا پڑا تو ان عورتوں کو کیوں نہ گزرنا پڑتا۔ ’’لاجونتی‘‘ ایسی ہی ایک اگنی پریکشا کی کہانی ہے۔ ان عورتوں کی حالتِ زار کو اس طرح بیدی نے ظاہرکیا ہے۔

’’مغویہ عورتوں میں ایسی بھی تھیں جن کے شوہروں ، جن کے ماں باپ ، بہن اور بھائیوں نے انہیں پہچاننے سے انکار کردیاتھا۔ آخر وہ مر کیوں نہ گئیں۔ انھوں نے زہر کیوںنہ کھالیا۔ کنویں میںچھلانگ کیوں نہ لگا دی۔ وہ بزدل تھیں جو اس طرح زندگی سے چمٹی ہوئی تھیں۔ سینکڑوں ہزاروں عورتوں نے اپنی عصمت لٹ جانے سے پہلے اپنی جان دے دی لیکن انہیں کیا پتہ کہ وہ زندہ رہ کرکس بہادری سے کام لے رہی ہیں۔ کیسے پتھرائی ہوئی آنکھوں سے موت کو گھور رہی ہیں۔ایسی دنیا میں جہاں ان کے شوہر تک انہیں نہیں پہچانتے ۔ پھر ان میں کوئی جی ہی جی میں اپنا نام دہراتی ،سہاگ وتی ، سہاگ وتی۔ اور اپنے بھائی کو اس جم غفیر میں دیکھ کر آخری بار اتنا کہتی، تو بھی مجھے نہیں پہچانتا بہاری؟میں نے تجھے گودی کھلایا ، تھارے! اور بہاری چلّا دینا چاہتا تھا۔ پھروہ ماں باپ کی طرف دیکھتا اور ماں باپ اپنے جگر پر ہاتھ رکھ کر نارائن بابا کی طرف دیکھتے اور نہایت بے بسی کے عالم میں نارائن بابا آسمان کی طرف دیکھتا ۔‘‘

          بیدی نے یہ کہانی اپنے کرداروں کے جذبات واحساسات سے پوری ہم آہنگی کے ساتھ لکھی تھی تو مشہور افسانہ نگار و صحافی کلام حیدری نے بیدی کی وفات پر ایک تعزیتی نشست میں یہ سوال کیا تھا:بیدی تم لاجونتی ہو یا لاجونتی کے شوہر؟

          اور ان کے اس سوال کا جواب پنجاب کے عظیم صوفی شاعر بھُلّے شاہ کے اس جملے میں ملتا ہے ۔’’رانجھا ، رانجھا کردی نی میں آپے رانجھا ہوی۔‘‘

          ان کی کہانیوں میں پنجابی ماحول، رہن سہن، عادات واطوار ، عقاید ونظریات کی حقیقی عکاسی دیکھنے کو ملتی ہے کیونکہ ان کی کہانیوں کے بیشتر کردار اسی خطۂ زمین سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے فن کا نقطۂ عروج بھی پنجابی خوشبو میں رچا بساناولٹ ’’ایک چادر میلی سی‘‘ میں ملتا ہے۔ اس میں پنجابی تہذیب، وہاں کا معاشرہ ، ان کے لوگ ،ان کے سوچنے کا ڈھنگ ، رسم ورواج بے حد نمایاں طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ اردو ادب کو بیدی کی طرف سے یہ ایک انمول تحفہ ہے۔ اس ناولٹ کے بارے میں کرشن چندر نے ایک بار بیدی کو مخاطب کرے ہوئے کہا تھا۔’’کم بخت، تم خود نہیں جانتے کہ تم کیا لکھ گیے ہو۔‘‘

          ’’ایک چادر میلی سی‘‘ میں شروع سے آخر تک پنجابیت کی چھاپ نظرآتی ہے۔ اس میں انھوں نے رانو کی مجبوری اور بے چارگی کا ذکر اس انداز میں کیا ہے کہ پوری کہانی حقیقت کے بہت نزدیک نظر آتی ہے۔ جیسے کہ

’’رانی چلا رہی تھی۔رانی بندیے !تیرا پیچھا نہ آگا ہائے رنڈیے!تیری شکل اب باجار بیٹھنے والی بھی نہیں،اب تو پیشہ کرنے یوگ بھی نہیں رہی۔‘‘

          کچھ اہل زبان کو اس زبان پر اعتراض ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ ایک پنجابی عورت کے ٹوٹے دل کی صدا ہے اور یہ بیدی کا کمال ہے کہ انھوں نے رانو کے جذبات کو، اس کے درد کی شدت کو پنجابی خوشبو کے ساتھ اور پوری صداقتوں کے ساتھ ہم تک پہنچایا ہے۔

          پنجابی ہندی الفاظ جہاں جہاں استعمال ہوئے ہیں وہاں وہاں اس کا فنی نقطۂ نظر پورے عروج کے ساتھ نظر آتا ہے۔پنجاب سے ان کی بے پناہ انسیت اور وابستگی ان کے خون میں تھی۔پھر بھی اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کی تخلیقات کسی محدودیت کی شکار ہیں۔ ان کی مقبولیت کسی ایک علاقے تک محدود نہیں ۔ ان کی تحریروں میں بے پناہ سچائی ہے اسی لیے وہ سب کے محبوب ادیب ہیں۔

 

Dr. Rasheed Jahan Anwar

H.No.40-B, Road No.1

Azadnagar

P.O.: Maango

Jamshedpur-831012 (Bihar)

Contact No.: 8507967120,

E-mail: rjanwar2811@gmail.com

 



بلبل دکن پروفیسر فاطمہ پروین - ڈاکٹر عزیز سہیل




          جامعہ عثمانیہ حیدرآباد ایسی عظیم مادر علمیہ ہے جس نے زندگی کے تمام شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے کئی انمول رتن پیدا کیے۔ شعبۂ اردو جامعہ عثمانیہ سے وابستہ اساتذہ بھی اردو تحقیق و تنقید ‘دکنی علوم کے فروغ اور اردو زبان و ادب کی خدمت کرنے والوں میں پیش پیش رہے ہیں۔ اساتذہ شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ میں درس وتدریس‘تحقیق و تنقید اورفروغ اردو کے حوالے سے یکساں طور پر جن کوصاحبان علم و ادب کابلند مقام حاصل ہوا ہے ان میں ایک اہم نام پروفیسر فاطمہ بیگم (پروین) کا بھی ہے ۔ جو حیدرآباد کے علمی و ادبی افق پر اپنے زور خطابت‘تبحر علمی اور لیاقت اور دانشوری کے سبب بلا شبہ بلبل دکن کہلانے کی مستحق تھیں۔ پروفیسر فاطمہ پروین 30دسمبر1953 کو حیدرآباد میں پیدا ہوئیں،آپ کے والد جناب سید محمد علی صاحب طوبی محکمہ آبکاری میں سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر فائز تھے، وہ شعر وادب کااچھا ذوق رکھتے تھے ،آپ کی والدہ رضیہ بیگم شاعرہ تھیں وہ ریاضت تخلص کرتی تھیں،ان کے شعری مجموعے’ اشک غم اول‘ ، اشک غم دوم، مراثی کے مجموعے ، خمسہ ٔ مراثی ،مشاہدۂ غم،اور چشم غم شائع ہو کر مقبول ہو چکے ہیں ۔پروفیسر فاطمہ پروین کا تعلق ایک علم پرور گھرانے سے رہا ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم بھی اچھے انداز میں ہوئی ،انھوں نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کی تکمیل کے بعد اعلی تعلیم کے لیے جامعہ عثمانیہ کا رخ کیا اور 1972 میںیہاں سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی،انھوں نے اپنے تعلیمی سفر کو آگے بڑھاتے ہوئے ، ایم اے اردو میں داخلہ لیا اور1975 میں امتیازی کامیابی حاصل کرتے ہوئے گولڈ میڈل حاصل کیا،تعلیمی سفر یوں ہی جاری رہا 1979میں ایم فل کامیاب کیا ،ایم فل کی کامیابی کے بعد جامعہ عثمانیہ سے ہی پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا جہاں ان کے مقالہ کا موضوع ’’غواصی کی شاعری کا تنقیدی مطالعہ ’’ تھا1989 میں پی ایچ ڈی کی تکمیل کی۔

          پروفیسر فاطمہ پروین صاحبہ کی شادی 1980 میں جناب ڈاکٹر محمد مجید اللہ صدیقی سے ہوئی وہ سنگھی کالج آف کامرس اینڈ سائنس میں وائس پرنسپل تھے ۔ ان کے شوہرمجیداللہ صدیقی ایک اچھے شاعر تھے جن کا شعری مجموعہ ’’درد کے اتھاہ سمندر میں‘‘ اردو حلقوں میں کافی مقبول ہوا تھا ۔آپ کو اللہ رب العزت نے دوبیٹوں اور دو بیٹیوں سے نواز ا ۔

          پروفیسر فاطمہ پروین کے تدریسی سفر کا آغاز 1976ئ میں بحیثیت جونیئر لیکچرر اردو عمل میں آیاانھوں نے جونیئر لیکچرر کی حیثیت سے 14سال تک خدمات انجام دی ،1990 میں آپ کا تقرر بحیثیت لیکچرر شعبۂ اردو عثمانیہ یونیورسٹی میں ہوا۔آپ کی خدمات کو دیکھتے ہوئے 1997 میں بطور ریڈر ترقی دی گئی اور 2005 میں پروفیسر کے عہدے پر ترقی ہوئی ۔2006 میں چیٔر پرسن بورڈ آف اسٹڈیز مقرر ہوئیں ۔کچھ عرصہ بعد صدر شعبۂ اردو بنائی گئیں۔2012ئ میں بحیثیت وائس پرنسپل آرٹس کالج عثمانیہ یونیورسٹی کے ترقی دی گئی ان کے لیے یہ ایک بہت بڑا اعزاز تھا۔ 30دسمبر 2013 کووہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہوئیں۔سبکدوشی کے کچھ عرصہ بعد امبیڈکر اوپن یونیورسٹی میں شعبہ اردو میں برسرکارر ہیں۔ 27 ا گست 2021 بروز جمعہ صبح 9 بجے، مختصر سی علالت کے بعد ان کا انتقال ہوگیا گویا اردو سمیناروں اور ادبی اجلاسوں میں گونجنے والی بلبل دکن کی یہ آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔

          پروفیسر فاطمہ پر وین کی پہلی تصنیف’’ اختر انصاری کی شاعری کا تنقیدی مطالعہ ‘‘1980 میں شائع ہوئی ۔ان کی دیگر تصانیف میںکربِ کربلا، زاویہ ٔ نگاہ2005 ،ننھی نظمیں(تلگو سے ترجمہ)،کلاسیکی شاعری کا مطالعہ2009،اشک غم ،دکنی ادب کا مطالعہ2019،پروفیسر مغنی تبسم ایک روشن چراغ تھا نہ رہا‘2019 شامل ہیں ۔ان کی تصانیف کو اردو اکیڈمی آندھراپردیش ،تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈمی ،مغربی بنگال اردو اکیڈمی نے انعامات سے نوازا ہے ۔2011 میں اردو اکیڈمی آندھراپردیش کی جانب سے انھیں یونیورسٹی اساتذہ کے زمرے میں’’ بسٹ ٹیچر ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا ۔2013 میں اردو اکیڈمی آندھراپردیش نے ان کے علمی وادبی خدمات کے پیش نظر باوقار کارنامہ حیات ایوارڈ عطا کیا۔ان کے علاوہ دیگر اداروں اورانجمنوں کی جانب سے ان کی خدمات کے اعتراف میں انعامات و اعزازت سے نوازا ہے ۔محترمہ فاطمہ پروین صاحبہ نے ملک و بیرون ملک مختلف سمیناروںاور ورکشاپ میں عثمانیہ یونیورسٹی کی نمائندگی کی ہے ۔انھوں نے لندن کا بھی علمی سفر کیا ہے ۔پروفیسر فاطمہ پروین کی خدمات کے اعتراف میں ایوان فنکار اورگواہ اردو ویکلی کی جانب سے 2014 میں ’’ بلبل دکن ‘‘کا خطاب عطا کیا گیا۔

          پروفیسر فاطمہ پروین کی شخصیت اپنی ذات میں ایک انجمن تھیں ۔فرد کی صلاحیتیں خدا کی ایک عظیم نعمت ہے اور شخصیت کی تعمیر میں خاندان کا اثر بھی نمایاں ہوتا ہے ،پروفیسر فاطمہ پروین کو اللہ رب العزت نے متنوع صلاحیتوں سے نوازا ہے ،ساتھ ہی ان کا تعلق ایک علمی گھرانے سے رہا ہے جس کے اثرات ان کی تعلیم و تربیت پر مرتب ہوئے ہیں ان کی شخصیت کو ہم بحیثیت استاد،محقق، نقاد،مترجم،مقرر اور بحیثیت منتظم کے دیکھ سکتے ہیں۔

بحیثیت استا د :

           پروفیسر فاطمہ پروین کا تدریسی سفر کافی طویل رہاہے انھوں نے 1976 میں بحیثیت جونیئر لیکچرر کے اپنی تدریسی خدمات کاآغاز کیا تھا جو 2013ئ تک جاری رہا اپنی ملازمت کے دوران انھوں نے اپنے پیشے کا مکمل طور پر حق ادا کیا اور پوری دیانت داری سے اپنی ذمہ داری کو انجام دیتی رہیں،وہ ایک خوش اخلاق نگراں بھی تھیں جن کی نگرانی میں درجنوں طالب علموں نے اپنا تحقیقی سفر مکمل کیا عموماََ جامعات میں پی ایچ ڈی کی تکمیل میں سب سے بڑی رکاوٹ ریسرچ سپروائز کا اپنے شاگرد وںسے درست رویہ ہے ،لیکن میرے علم کے مطابق جن تحقیق کاروں کو سوپروائزر کی حیثیت سے پروفیسر فاطمہ پروین کا ساتھ ملا ان کے بڑی آسانی کے ساتھ تحقیقی مقالے مکمل ہوئے اوران کے شاگردوں نے ان سے آداب و اخلاق سیکھا،اس کی مثال میں خود بھی ہوں میں محترمہ کے رویہ سے اتنا زیادہ متاثر ہوا کہ میں نے اپنے کام میں کوئی تساہلی نہیں کی اور وقت مقررہ پر اپنا کام مکمل کیا ،حالانکہ اس وقت میڈم آرٹس کالج کی وائس پرنسپل تھیں اپنی مصروفیات کے باوجود انھوں نے کبھی مجھے واپس نہیں کیااور نا کبھی سختی سے پیش آئیں وہ مجھے اپنے ماں کی طرح نصیحت فرماتیں اور میری خوب ہمت افزائی کرتیں تھیں، میری شخصیت کی تعمیر میں ان کا نمایاں کرادر رہا ہے۔میرے ساتھ ساتھ دیگر اسکالرس سے بھی میں نے سنا ہے کہ ان کا رویہ اپنے ہر ایک طالب علم کے ساتھ یکساں ہیں۔ میرے پیشرو تحقیق کار ’ڈاکٹر جاوید کمال نے اپنے مضمون شفیق استاد،ہمدرد انسان،منکسرالمزاج شخصیت پروفیسر فاطمہ پروین ‘‘ میں لکھا ہے:

’’ میری استاذ محترمہ پروفیسر فاطمہ پروین صاحبہ کا نام جب بھی ذہن میں آتا ہے ایک شفیق استاد ،ہمدرد انسان اور منکسر المزاج شخصیت کا پیکر ابھر کر سامنے آجاتا ہے اور میرا سر احتراماً خودبخود جھک جاتا ہے ۔سچ بات تو یہ ہے کہ ان ہی شفیق استاد ہی کی بدولت بڑی آسانی سے ڈاکٹر جیسا باوقا ر لفظ تادم حیات میرے نام کا جزبن گیا جس کی تمنا بیسوں اسکالرس کے دل میں ہوتی ہے ‘‘۔

(ڈاکٹر جاوید کمال ،گواہ اردو ویکلی حیدرآباد،7تا13فروری 2014،ص13)

          ڈاکٹر سید فاضل حسین نے ’’ممتا کا آنچل ‘‘کے عنوان سے پروفیسر فاطمہ پروین پر مضمون لکھا ہے جس میں بہت سے واقعات کو انھوں نے رقم کیا اور محترمہ کے الفاظ کوبطور نصیحت ممتا کے آنچل سے تعبیر کیا ہے ۔سید فاضل حسین پرویز نے پروفیسر فاطمہ پروین سے جو کچھ سیکھا اس کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’محترمہ سے جتنی بار ملنے کا موقع ملا ہر بار ان سے کچھ نہ کچھ سیکھا،رواداری،مروت،اخلاص،باہمی احترام،کسی سے اختلاف کے باوجود اسے اہمیت دینا۔نہ تو کسی کو کمزور سمجھنا اور نہ اپنی کمزوریوں سے غافل رہنا،جو ذمہ داری قبول کی جائے اسے اتنی ہی ذمہ داری سے پوری بھی کی جائے استاد اور شاگرد کے درمیان باہمی اعتماد کا رشتہ کیسے برقرار رکھا جائے اور یہی میری پانچ سال محنت کاحاصل ہے ‘‘

(ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز،گواہ اردو ویکلی حیدرآباد،7تا13فروری 2014،ص16)

          بحیثیت محقق : پروفیسر فاطمہ پروین نے بیسوں تحقیقی کام انجام دیے جن میںایم اے کا مقالہ’’ اختر انصاری کی شاعری کا تنقیدی مطالعہ‘‘ 1975، ایم فل کا تحقیقی مقالہ ’سترہویں صدی میں ہندالمانی عناصر‘‘ 1979اور پی ایچ ڈی کا تحقیقی مقالہ ’’غواصی کی شاعری کا تنقیدی مطالعہ‘‘ 1989 شامل ہیں،ان کے علاوہ دیگر تصانیف کی اشاعت اور سیکڑوں سمیناروں میں پیش کئے گئے مقالات اور مضامین شامل ہیں جو ان کے تحقیقی فکراور شعور کو نمایاں کرتے ہیں ،ان کے علاوہ محترمہ نے مختلف جامعات کی نصابی کتابوں کی ترتیب میں بھی کافی اہم کردار ادا کیا ہے ۔

          بحیثیت نقاد: پروفیسر فاطمہ پروین تنقیدی مزاج بھی رکھتی ہیں جہاں ایم اے اردو میں ان کی تحقیق کا آغاز ہوا وہیں ان کی تنقیدی صلاحیتیں فروغ پانے لگی جس کا اندازہ ان کی تصنیف ’’ اخترانصاری کی شاعری کا تنقیدی مطالعہ‘‘ سے ہوتا ہے ۔پروفیسر مغنی تبسم نے پروفیسر فاطمہ پروین کے تنقیدی شعور سے متعلق لکھا ہے :

’’فاطمہ پروین نہایت انہماک کے ساتھ اس کام میں لگی رہیں،انھوں نے تلاش اور جستجو سے اختر انصاری کی تقریباََ سبھی تحریریں فراہم کیں اور طالب علمانہ لگن کے ساتھ ان کامطالعہ کیا پھر ہر صنف ادب کے فنی اصولوں کی روشنی میں معروضیت کے ساتھ ان کا تنقیدی جائزہ لے کر اختر انصاری کے ادبی مرتبے کو متعین کرنے کی کوشش کی ہے ۔‘‘

(پروفیسر مغنی تبسم’’ اختر ؔانصاری کی شاعری کا تنقیدی مطالعہ ‘‘ مقدمہ،ص9)

          پروفیسر فاطمہ پروین نے اخترانصاری کی شاعری کا تجزیہ کرتے ہوئے انھیں جمال پرست شاعر قرار دیاہے۔ان کی تنقیدی فکر دیکھیں

’’اخترانصاری ایک جمال پرست شاعر ہیں ،کیٹس اور شیلی کی طرح انھوں نے زیادہ تر حسن و عشق کے گیت گائے ہیں۔ اپنی شاعری کے آغازمیں وہ ادب برائے ادب کے نظریے کے قائل تھے اور آج تک بھی وہ ادب اورشاعری کے جمالیاتی پہلوپر زیادہ زور دیتے ہیںان کے بیش تر قطعات حسن اور کیفیات عِشق سے لبریز ہیں،اپنی بڑھی ہوئی جمال پرستی کا انھیں احساس بھی ہے ‘‘

(پروفیسر فاطمہ پروین’ اخترؔ انصاری کی شاعری کا تنقیدی مطالعہ ‘‘ ص99)

          پروفیسر فاطمہ پروین کا تنقیدی سرمایہ کچھ زیادہ نہیں ہے ان میں اختر انصاری کی شاعری کا تنقید ی مطالعہ،زاویۂ نگاہ ،دکنی ادب کا مطالعہ شامل ہیں۔ انھوں نے اپنی ان کتابوں میں جن تنقیدی موضوعات کا تجزیہ کیا اوربحث کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے اندر تنقیدی ذہن ہے اور تنقیدی شعور بھی بہتر پایا جاتا ہے۔

          بحیثیت متر جم: پروفیسر فاطمہ پروین نے ترجمہ نگاری کے بھی کام انجام دئے ہیں بحیثیت مترجم انھوں نے ڈاکٹر گوپی کی تلگو شاعری میں صنفِ سخن ’’نانی لو‘‘کا اردو میں ترجمہ’ ننھی نظمیں ‘کے عنوان سے کیا ہے۔ پروفیسر مظفر شہ میری وائس چانسلر عبدالحق اردو یونیورسٹی پروفیسر فاطمہ پروین کی ترجمہ نگاری سے متعلق رقم طرازہیں:

’’پروفیسر فاطمہ کے ترجمے کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔اولاَ۔ من وعن ترجمہ ،ثانیاََ آزاد ترجمہ اور ثالثاََ نئے ترجمے!من و عن ترجمہ میں پروفیسر فاطمہ نے لفظ بہ لفظ ،نظم کی روح کے ساتھ ترجمہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے تلگو الفاظ نکال کر ان کی جگہ اردو الفاظ رکھ دیے ہیں ۔‘‘

(پروفیسر مظفر شہ میری،پروفیسر فاطمہ پروین کی ترجمہ نگاری ،گواہ اردو ویکلی حیدرآباد، 7تا13 فروری 2014،ص14)

          ننھی نظموں کے علاوہ بھی انھوں نے علمی ضرورت کے تحت بھی ترجمے کیے ہیں ،بہرحال ان کے اندر ایک اچھے مترجم کی خصوصیات پائی جاتی ہیں ترجمے کے مفہوم کو اپنے مخصوص انداز میں پیش کرنااور زبان وبیان کی نزاکتوں کو مدنظر رکھ کر ترجمے کیے ہیں۔

          بحیثیت مقرر:تقریر سے متعلق کہا گیا ہے تقریر اس مہارت فن کا نام ہے جس کے ذریعے کوئی شخص کسی متعین موضوع ،متعین وقت میں، مکمل، مسلسل اور موثر اظہار خیال کرسکتا ہے ۔ تقریر کا یہ فن اللہ رب العزت نے خصوصی طور پر پروفیسر فاطمہ پروین کو عطا کیا ہے ان کی تقریر کوسن کر ہر کوئی حیران و ششدر رہ جاتا ہے ،الفاظ موتیوں کا روپ اختیار کرلیتے ہیں، جب وہ تقریر کررہی ہوتی ہیں تو الفاظ ایک تسلسل کے ساتھ زبان سے ادا ہوتے ہیںایسا محسو س ہوتا ہے کہ الفاظ ہاتھ باندھے کھڑے ہوںوہ ہر موضوع پر انتہائی بصیر ت افروز اور سحر انگیز خطاب سے نوازتی ہیںکہ سننے والے   عش عش کرنے لگتے ہیں۔جب کسی موضوع پر وہ اپنی تقریر اختتام پر لے آتیں ہیں تو سامعین پوری طرح اطمینان کااظہار کرتے ہیں ۔مجھے اچھی طرح یاد ہے نظام ٹرسٹ کی جانب سے 4جون2011 کو پرنسس عیسن کالج پرانی حویلی حیدرآباد ،آصف سابع نواب میر عثمان علی خان کی 129 ویں یوم پیدائش کے موقع پر منعقد یادگار لیکچر کے لیے پروفیسر فاطمہ پروین کو مدعو کیا گیا تھا، میں نے بھی محترمہ کو سننے کے لیے اس پروگرام میں شرکت کی۔ پہلا موقع تھا کے محترمہ کو ایک بہترین مقرر کی حیثیت سے سن رہا تھا اورساتھ ہی رپورٹ بھی لکھ رہا تھامیں ان کی تقریر سے بہت زیادہ متاثر ہوا اوراس پروگرام کی طویل رپورتاژ لکھ ڈالی ، جس سے میری رپورتاژ نگاری کا آغاز ہوتا ہے اور چند سال بعد میری ایک تصنیف بھی اس صنف پر شائع ہوئی ۔

          پروفیسر فاطمہ پروین کی تقریر کا سب سے بڑا کمال یہی ہے کہ وہ سامعین کو اپنا قائل اور ہم نوا بنا لیتی تھیں۔میر ے اندازے کے مطابق پروفیسر فاطمہ پروین نے اپنے ملازمت کے سفرکے دوران سیکڑوں خطبات دئے ہیں اور حیدرآباد میں منعقد ہونے والی ادبی محفلوں میں صدارت اور مقرر کی حیثیت سے محفل کی رونق میںاضافہ کیا ہے ،حیدرآباد کی اکثر ادبی سرگرمیوں کی پروفیسر فاطمہ پروین روح رواں ہیں ۔

          پروفیسر فاطمہ پروین میں غیر معمولی تنظیمی صلاحیتیں تھیں وہ ایک بہترین منتظم بھی ہیں دوران ملازمت کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر مقابلے کا انعقاد،ورکشاپ اور سمینار کا انعقاد،توسیعی لیکچر کا اہتمام ہر کام میں وہ متحرک رہیں اور بہتر منصوبہ بندی ،باہمی ربط کے ذریعے انھوں نے ہر پروگرام کے کامیاب انعقاد میں اپنا نمایاں کردار ادا کیا،اکثر پروگراموں کی نظامت ان ہی کے ذمہ ہواکرتی تھی انھوں نے بحیثیت صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی کے 90سالہ جشن میں بھی نمایاں رول ادا کیا اور اس موقع پر مجلہ عثمانیہ کی اشاعت بھی عمل میں لائیں، اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے بحیثیت وائس پرنسپل آرٹس کالج کے بھی کئی ایک پروگراموں کو منظم انداز میں انجام دیا۔وہ شہر کے مختلف ادبی اداروںو انجمنوں سے بھی وابستہ رہیں جن میں اقبال فاؤنڈیشن،حیدرآباد اکیڈمی اور ادارہ شعر وحکمت ۔ان اداروں کے مختلف پروگراموں کے کامیاب انعقاد میں ان کا اہم کردار رہاہے ،ان باتوں سے ان کی تنظیمی صلاحیتوں کا خوب اندازہ ہوتا ہے۔ 

          بُلبل دکن پروفیسر فاطمہ پروین کی ہمہ جہت صلاحیتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر آمنہ تحسین،شعبہ ٔ ویمنس ایجوکیشن ،مولاناآزاد نیشنل حیدرآباد نے لکھا ہے:

 ’’ پروفیسر فاطمہ پروین ایک شاعرہ کی حیثیت نہیں رکھتیں،لیکن نثر میں شاعری کرنے والے چند ایک غیر معمولی افراد کی فہرست میں ضرور شامل ہوسکتی ہیں ،وہ ایک فعال اور ہمہ جہت شخصیت کی مالک ہیں ،ان کے کارنامے علمی ،ادبی ،سماجی ،تہذیبی شعبوں پر محیط ہیں۔ ان کی علمیت اور فعالیت کی جہات کو اگر دیکھا جائے تو ان کے جو اہم ترین پہلو واضح ہوتے ہیں وہ ہیں ،تدریس،تحقیق،تنظیم ،اور تقریر۔ان چاروں شعبوں میں ان کے کارنامے مساویانہ اہمیت رکھنے کے باوجود ان سب میں ان کی خطابت کاپہلو مزید اہمیت کا حامل اور غالب نظرآتا ہے ۔‘‘

(ڈاکٹر آمنہ تحسین ،پروفیسر فاطمہ بیگم پروین ۔صنّاع کلام،گواہ اردو ویکلی حیدرآباد، 7تا13 فروری 2014،ص15)

          ڈاکٹر فاضل حسین پرویز گواہ ویکلی نے ادارہ ایوان فنکار کے ساتھ 2014 پروفیسر فاطمہ کے جلسے اعتراف خدمات کا انعقاد عمل میں لائے تو اس موقع پر انھوںنے احمد علی برقی اعظمی سے پروفیسر فاطمہ بیگم پروین کی خدمات پر منظوم تاثرات لکھنے کی فرمائش کی تھی ،جس کو گواہ اردو ویکلی کے پروفیسر فاطمہ پروین نمبر میں بھی شائع کیا ۔ملاحظہ ہو:

فاطمہ بیگم ہیں فخر روزگار

شخصیت ہے ان کی وجہہِ افتخار

ان کی علمی کاوشیں ہیں لازوال

دلنشیںہیں ان کے ادبی شاہکار

شعبۂ اردو سے وابستہ تھیں وہ

جس کو حاصل ہے جہاں میں اعتبار

اپنی معیاری کتابوں کے لیے

ہیں کئی اعزاز سے وہ ہمکنار

ان کو ہے تدریس سے فطری لگاؤ

ان کے اردو ترجمے ہیں شاندار

کام سے اپنے بڑھایا عمر بھر

اپنی تہذیب و ثقافت کا وقار

اختر انصاری پہ ان کی نقد سے

ان کا معیار شرف ہے آشکار

ان کے گلہائے مضامیں آج بھی

گلشنِ اردو میں ہیں مثلِ بہار

وہ رہیں گی زیب تاریخ ادب

ہیں جو اقلیم ِادب کی تاجدار

معترف ہے ان کی عظمت گواہ

نامور لوگوں میں ہے جن کا شمار

 تصانیف کا جائزہ :

          پروفیسر مغنی تبسم نے پروفیسر فاطمہ پروین کی پہلی کتاب’’ اختر انصاری کی شاعری کا تنقید مطالعہ ‘‘کا مقدمہ لکھا ہے جس میں پروفیسر فاطمہ کی صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے :

’’اس کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہوگا کہ فاطمہ پروین ادب کا ستھرا ذدوق رکھتی ہیں،ان کامطالعہ وسیع ہے ۔تنقید میں انھوں نے کسی ایک دبستان کی پیروی کرنے کے بجائے سبھی دبستانوں سے بقدر ضرورت استفادہ کیا ہے ،دوسرے نقاد وں کی آرا سے متاثر ہونے کے بجائے اپنے ذوق ادب اور مطالعہ پر بھروسہ کیا ہے ،تنقید نگاری میں انھوں نے جس خود اعتمادی کا اظہار کیا ہے اس سے توقع بندھتی ہے کہ وہ آئندہ چل کر ایک اچھی نقاد ثابت ہوں گی ۔‘‘

(پروفیسر مغنی تبسم’’ اختر انصاری کی شاعری کا تنقیدی مطالعہ ‘‘ مقدمہ،ص10,9)

          پروفسیر فاطمہ پروین کی صلاحیتوں کے پیش نظر ان کے استاد محترم نے 1980 میں  جوپیشین گوئی کی وہ آج درست ثابت ہوئی آج ان کا شمار اردو کے اہم نقادوں میں ہوتاہے ،انھوں نے سخت محنت،ریاضت اور سنجیدہ جدوجہد سے ادب میں ایک مقام بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

          پروفیسر فاطمہ پروین نے اپنی پہلی تصنیف ’’ اخترانصاری کی شاعری کا تنقیدی مطالعہ ‘‘میں جدید شعرا میں اختر انصار کی اہمیت اور ان کے کارناموں کو بیان کرتے ہوئے لکھاہے:

’’جدید شعرائے اردو میں اختر انصاری کی اہمیت اور انفراد یت مسلمہ ہے وہ جس پایہ کے شاعرہیں اس درجہ کے افسانہ نگار اور نقاد بھی ہیں،انگریزی اور دوسری زبانوں کے ادبیات میں ایسی مثالیں بکثرت ملیں گی لیکن اردو میں ایسی ہمہ گیر شخصیتیںخال خال ہی نظر آتی ہیں،اخترانصاری کا سب سے اہم اور ہمیشہ زندہ رہنے والا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے قطعہ جیسی روایتی صنف کو نیا قالب اور نئی روح عطا کی ۔ان کے دیگر تخلیقی اور تنقیدی کارناموں سے صرف ِنظر بھی کیا جائے تو وہ صرف اپنے قطعات کی وجہ سے اردو شعرائ میں ایک نمایاں مقام پانے کے بجا طور پر مستحق ہیں۔‘‘

(پروفیسر فاطمہ پروین’’ اختر انصاری کی شاعری کا تنقید ومطالعہ ‘‘ حرف آغاز،ص5)

          پروفیسرفاطمہ پروین نے مطالعہ کے مفہوم ،اقسام پر اپنی کتاب کلاسیکی شاعری کا مطالعہ میں اوراس سے متعلق لکھا ہے:

 ’’مطالعہ۔۔ایک ایسا لفظ جس میںمعنی تہہ در تہہ چھپے ہیں،سر سری نظر بھی مطالعہ،گہری نظر بھی مطالعہ،حاصلِ مطالعہ، صاحبِ مطالعہ کے ذوق پر منحصر۔غر ض اس اتھا ہ سمندر میں، میںاپنی استعداد کے موافق شامل ہوئی ہوں۔ غزل ،مرثیہ ، قصیدہ اردو شاعری کی کلاسیکل اصناف اپنے چند اٹوٹ حصوں کے ساتھ میرے اور آپ کے مطالعہ کی کڑی بن کر کتابی شکل میں سامنے ہیں۔‘‘

(پروفیسر فاطمہ پروین،کلاسیکی شاعری کا مطالعہ ،ص9)

          پروفیسر فاطمہ پروین نے ڈاکٹر گوپی کی ’’نانی لو‘‘ کا ترجمہ اردو میں ننھی نظمیں کے عنوان سے کیا ہے ۔ڈاکٹر گوپی نے تلگو شاعری میں صنفِ سخن ’’نانی لو‘‘کو ایجاد کیا ۔ان کے اس کارنامے سے متاثر ہوکر پروفیسر فاطمہ نے نانی لو کا ترجمہ’’ ننھی نظمیں‘‘ کے عنوان سے کیا ہے۔

          پروفیسر فاطمہ پروین کی ترجمہ نگاری ’ننھی ننھی نظموں کے حوالے سے‘ کا جائزہ لیتے ہوئے پروفیسر مظفر شہ میری وائس چانسلر عبدالحق اردو یونیورسٹی نے لکھا ہے:

 ’’مجھے یہ کہنے دیجئے کہ پروفیسر فاطمہ کے ان ترجموں کو پڑھ کراردو کا کوئی بھی قاری اس طرح لطف اندوز ہوسکتا ہے جیسے تلگو کاقاری ان کی اصل کو پڑھ کر۔ یہ ترجمہ محض نرے ترجمے نہیں ہیں بلکہ ان میں اصل نظموں کی روح سمیٹ کر آگئی ہے۔جس کے لیے پروفیسر فاطمہ قابلِ مبارک باد ہیں۔ان نظموں کے بالمقابل میں تلگو میں جونظمیں تحریر ہیں وہ بالکل مختلف ہیں ،اس لیے گماں ہوتا ہے کہ ان کے بدلے نئی نظموں کو لکھ دیا گیا ہے ،پروفیسر فاطمہ نے تلگو کی ایک مقبول اور نئی صنف سخن کا ترجمہ پیش کرکے اردو قارئین کے علم میں اضافہ کرنے کے علاوہ ان کی جمالیاتی تسکین کا اہتمام بھی کیا ہے ۔‘‘

(پروفیسر مظفر شہ میری ،پروفیسر فاطمہ پروین کی ترجمہ نگاری ،گواہ اردو ویکلی حیدرآباد، 7تا13 فروری 2014،ص14)

          پروفیسر فاطمہ پروین نے ’’پروفیسر مغنی تبسم ایک روشن چراغ تھا نہ رہا‘‘ کے عنوان سے پروفیسر مغنی شخصیت اور خدمات پر یہ کتاب ترتیب دی ہے اس کتاب کے آغاز میں کتاب کی اشاعت کے مقصد اور پروفیسر مغنی کی خدمات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے:

 ’’شاعر،محقق،نقاد،استاد،مدیر ،اردو دنیا کی مشہورو مقبول شخصیت عالیجناب پروفیسر مغنی تبسم مرحوم کے بارے میں اس کتاب کامقصد علم وادب کی منّور کرنوں کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنا ہے تاکہ اس کی روشنی میں وہ اپنے مستقبل کی صورت گری کرسکیں۔پروفیسر مغنی اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔شعر وادب کی خدمت میں ہمیشہ مصروف رہے ،ان کی تحریروں کا جائزہ آسان کام نہیں ،مختلف اور متعدد شعبہ ٔ جات میں موصوف کی دلچسپیاں ان کی ست رنگی شخصیت کا حصہ رہیں،اس کتاب کے توسط سے ان کی شخصیت کا اجمالی خاکہ پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ آنے والے طالب علم اس نابغۂ روزگار شخصیت سے واقفت حاصل کرکے اپنی صلاحیت کے مطابق ان سے استفادہ کرسکیں۔‘‘

(پروفیسر فاطمہ پروین،پروفیسر مغنی تبسم ایک روشن چراغ تھا نہ رہا،ص7)

           امید کی جاتی ہے کہ بلبل ہند سروجنی نائیڈو کے شہر حیدرآباد دکن سے تعلق رکھنے والی بلبل دکن پروفیسر فاطمہ پروین ہمہ جہت کارناموں سے مستفید ہوتے رہیں گے۔

 

 

Dr. M A Azeez Sohaill

Tgt Urdu

TMRS Yakuthpura Boys 1

Awaise function Hall

Mughal pura, Hyderabad 500002 (Telangana)

Mob: 9110759869

 




10/2/22

جنوبی ہند کے نابغۂ روزگار سید احمد ایثار - مضمون نگار : رؤف خیر

 



ٹی ایس ایلیٹ اپنی شاہ کار نظم کی ابتدا میں کہتا ہے :April is the cruelest monthیاد رہے ہر فن مولا عزیز احمد نے اس شاہ کار نظم کا ’خرابِ آباد‘ کے نام سے آزاد ترجمہ کیا تھا۔2021 کا اپریل بھی بڑا ظالم مہینہ ثابت ہوا۔ اردو شعر و ادب کی کئی ہر دل عزیز شخصیتیں اس مہینے داغِ مفارقت دے گئیں۔ کیسے کیسے لکھنے والوں کے قلم کی سیاہی خشک ہوگئی۔

اسی ماہ میں علامہ اقبال کے سید التراجم حضرت ایثار بھی اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔

پچیس جولائی 1922کو میدانِ حیات میں قدم رنجہ فرمانے والے سید احمد ایثار کی شمسی تقویم کے اعتبار سے بھلے ہی سنچری میں ایک کسر رہ گئی ہو مگر قمری تقویم کے مطابق تو سنچری مکمل ہو ہی گئی تھی۔ اپنی باری میں انھوں نے ترانہ و ترنگ کے کئی چوّے اڑائے اور بعض یادگار چھکے بھی مارے۔ جنوبی ہند کے اس قلم کارنے وہ منفرد بے نظیر ریکارڈ قائم کیا ہے جس سے آگے جانے والا مشکل سے پیدا ہوگا۔

اول تو ہند وپاک میں فارسی لکھنے پڑھنے والے ناپید ہوگئے الا ما شا اللہ ایسے میں یہ بے حد ضروری تھا کہ علامہ اقبال کے ہر فارسی شاہ کار کا باذوق اردو داں حلقے سے بھرپور تعارف کرایا جائے اس مشکل کام کے لیے جانِ ناتواں رکھنے کے باوجود جناب سید احمد ایثار نے بیڑہ اٹھایا۔اور الحمداللہ سرخ رو بھی ٹھیرے۔

علامہ اقبال کے بے مثال شاہ کار جاوید نامہ کا منظوم ترجمہ 1979میں کیا مگر جو 2003میں شائع ہوا۔ساتھ ہی ’’اسرارِ خودی و رموز ی بے خودی‘‘ کے ترجمے سے بھی اسی سال عہدہ بر آہوئے جو 2008 میں منظرِ عام پر آیا۔ ’ارمغان حجاز ‘ کو بھی اردو میں ڈھالنے میں 1979ہی میں کامیاب ٹھیرے جو 2009میں چھپا۔   

علامہ اقبال کو اپنے مجموعۂ کلام ’زبور عجم‘ پر بڑا ناز تھا اور وہ اپنے باذوق قاری سے مطالبہ کرتے ہیں         ؎

اگر ہے ذوق تو خلوت میں پڑھ ’زبور عجم

فغان ِ نیم شبی بے نوا ے راز نہیں

اردو کے باذوق قاری تک زبور عجم کو پہنچانے کی ذمے داری سید احمد ایثار نے اپریل 1980میں نبھائی یہ الگ بات ہے کہ یہ مجموعہ اکتوبر 1999میں اشاعت کا منہ دیکھ سکا۔

اقبال کی قوم و ملت سے درد مندی و ہمدردی کی شاہ کار مثنوی ’پس چہ باید کرد اے اقوام ِ شرق‘ کو بھی قوم و ملت تک پہنچا نے کے لیے جناب ایثار نے 1980ہی میں اس کا منظوم ترجمہ کرڈالا مگر اردو داں قوم تک علامہ اقبال کا یہ پیغام 2006سے پہلے پہنچ نہ سکا۔

جرمن شاعر گوئٹے کے دیوانِ مغرب کے جواب میں اقبال کا ’پیامِ مشرق‘ آج سے تقریباً ایک سو سال پہلے منظر عام پر آیا تھا جس کا منظوم ترجمہ سید احمد ایثار نے 1982میں مکمل کردیا تھا مگر یہ کرنا ٹک اردو اکادمی کے جزوی مالی تعاون سے 1997میں منظر عام پر آیا۔

اقبال کے فارسی شاہ کار وں کے تراجم کے علاوہ سات سو بہتر 772رباعیات عمر خیام کا منظوم اردو ترجمہ رباعی ہی کی بحر میں سید احمد ایثار نے 1977ہی میں کردیا تھا مگر یہ بھی کرناٹک اردو اکادمی کے زیر اہتمام 2019 میں  شائع ہو سکا۔ 1982سے 1992کے دس سالہ عرصے میں حضرت ایثار نے مثنوی مولانا روم کا ترجمہ پانچ جلدوں میں انجام دیا تھا جسے قومی کونسل برائے فروغ اردو NCPULدہلی نے 2020میں شائع کیا۔

جنوبی ہند کے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے جناب سید احمد ایثار نے علامہ اقبال کے تمام فارسی شاہ کار وں کے ساتھ ساتھ رباعیاتِ عمر خیام اور مثنوی مولانا روم کی پانچ جلدوں میں جو کارنامے اپنے پیچھے چھوڑے ہیں وہ انھیں اردو ادب میں زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔ ان کا شمار بلاشبہ ماہرین اقبالیات میں ہوتا ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک بڑا علمی حلقہ ان سے کماحقہ واقف ہی نہیں ہے اس میں خود جناب ایثار کی قلندرانہ بے نیازی کا دخل ہے کہ انھوں نے اپنے آپ کو منوانے کے جتن کیے ہی نہیں حالانکہ انھوں نے بڑی ہی خود اعتمادی کے ساتھ فارسی متن کے بالمقابل اردو متن رکھ کر دعوتِ خوش ذوقی دی ہے۔ اپنے طبع زاد کلام’’ ترانہ وترنگ‘‘ اور ’’آبفشار ‘‘کو ذیلی و ثانوی حیثیت دی۔ اپنی خود نوشت ’’سراغ ِ زندگی‘‘ میں اپنے حالات بلاکم و کاست بیان کردیے۔   حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

ان کے ایک قریبی دوست محمد اقبال نے ’واردات ِ ایثار اور جہاتِ اقبال ‘کے نام سے ایثار پبلیشنگ ہائوس ٹرسٹ بنگلور کے زیر اہتمام 2006میں مختلف عنوانات کے تحت ایثار صاحب کے فکروفن کے تعلق سے لکھے ہوئے کئی مضامین اور بعض مشاہیر کے خطوط مرتب کیے جن کی روشنی میں سید احمد ایثار کا بھرپور تعارف ہو جاتا ہے۔ 2017میں ایک اور مجموعہ بھی ’وارداتِ ایثار‘ ہی کے نام سے ایثار پبلشنگ ہائوز ٹرسٹ بنگلور کے تحت جناب محمد اقبال نے بعض اہم لکھنے والوں کے جناب ِ ایثار کے نام مکتوبات اور مضامین کو جمع و مرتب کرکے ایثار فہمی کی راہ ہموار کی جس میں خود جناب ایثار کے لکھے ہوئے چند معلوماتی مضامین جیسے قرآن کے ادبی محاسن، اقبال کی نعت گوئی، اقبال کا تصوراتی حج، شکوہ و جواب ِ شکوہ کی تفہیم،اقبال کے تراجم کا ایک اجمالی جائزہ اور چند شخصیات کے خاکے بھی شامل ہیں۔

سید التراجم کا ایثار ِ سخن تو دیکھیے کہ طبع زاد تخلیقات سے اپنے آپ کو منوانے کے بجائے مستند تخلیق کاروں کے فارسی شاہ کاروں کو مادری زبان کے ذریعے روشناس کروانے کے جتن کرتے رہے اور وہ بھی منظوم۔ظاہر ہے شعر کے ترجمے کا مزہ تو شعر ہی میں آتا ہے۔ اچھے سے اچھے شعر کا اگر نثری ترجمہ ہو تو اس کی روح تو مجروح ہوجاتی ہے۔ محترم سید احمد صاحب نے جس عرق ریزی سے نایاب فارسی شاہ کاروں کو منظوم اردو کا جامہ دل کش پہنایا ہے وہ ہر اعتبار سے قابل داد ہے۔مترجم ہونا دوسرے درجے کا خالق ہونا ہے۔مگر جناب سید احمد ایثارکا ایثار دیکھیے کہ انھوں نے اس حیثیت ثانوی کو اولیت بخشی اور اب یہی ان کی پہچان بھی ٹھیری۔ان کا اپنا ’ترانہ و ترنگ‘ دب کر رہ گیا ہے۔

25اگست 2005کو ان سے انہی کے درِ دولت پر نیاز حاصل کرنے کا موقع ملا۔ ان کی کاوشوں کی تفصیلی روداد سننے اور دیکھنے کا موقع ملا۔ حیرت تو یہ جان کر ہوئی کہ ایثار صاحب نے بے شمار فارسی شاہ کاروں کے تراجم محض اپنی خوش ذوقی کے بل بوتے کر ڈالے حالانکہ آپ نے کسی مدرسے میں یا کسی استادِ کامل سے باضابطہ فارسی کی تعلیم حاصل نہیں کی۔ ان تراجم کی داد دینے والا بھی کوئی آپ کو میسر نہ تھا۔ لے دے کے ایک مڈل پاس غریب دوست سید حسین تھے جو ایثار صاحب کے منظوم تراجم خوش خط لکھ کر خوش ہوا کرتے تھے اس طرح یہ تراجم محفوظ بھی رہ سکے۔ ایثار صاحب محکمہئ جنگلات کے بہت بڑے افسر اور سید حسین آب رسانی میں معمولی ملازم لیکن اس ادبی پر بہار رشتے نے دونوں کو شاداب و مستحکم رکھا تھا۔ ایثار صاحب نے سید حسین مرحوم کے احسانات کا بہت ذکر کیا ہے حتیٰ کہ اپنا شعری مجموعہ ان کے نام معنون بھی کیا ہے۔ ایک دور وہ بھی آیا کہ سید حسین کے لڑکے اتنے مرفہ حا ل ہو گئے کہ انھوں نے ایثار صاحب کی ایک کتاب کی اشاعت میں مالی اعانت بھی کی۔

محکمۂ جنگلات میں بے انتہا  مصروفیت اور اندرونی محکمہ جاتی سیاسی کشمکش کے باوجود ادبی شاہ کاروںکے تراجم کے لیے ایثار صاحب وقت نکالتے رہے۔ ان کی حوصلہ افزائی کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ علمی ادبی ماحول بھی آپ کومیسر نہیں تھا۔ آپ نے ابتدائی زندگی کے بارے میں لکھا کہ 1942میں ’اسرار ِ خودی‘ ہاتھ لگی۔ قیمت چھے 6روپے تھی۔ مگر وہ اسے خرید نے کے قابل نہیں تھے۔ لامحالہ پوری کتاب نقل کرڈ الی اور یوں بیشتر اشعار از بر ہوگئے۔ گھر سے اسکول اور اسکول سے گھر آتے جاتے تنہائی میں اقبال ؔ کے اشعار گنگناتے جاتے۔

آپ نے بتایا کہ ’آمدن سی لفظی‘ سامنے رکھ کر فارسی سیکھی۔ اپنے طور پر فارسی شعر و ادب کا ایسا ذوق پیدا کیا جو کئی شاہ کاروں کو روشناس خلق کروانے کا باعث بنا۔ آج سارے بنگلور بلکہ سارے جنوبی ہند کے ماہرین اقبالیات میں آپ کا شمار ہوتا ہے۔ علامہ اقبال کے فرزند ار جمند ڈاکٹر جاوید اقبال نے آپ کے کارناموں کی داد دی ہے۔ یوں تو پروفیسر مسعود حسین خان، پروفیسر جگن ناتھ آزاد اور معتبر نقاد جناب شمس الرحمن فاروقی نے بھی جناب ایثار کی خدمات کو سراہا ہے پھر بھی وہ قدر ومنزلت آپ کے حصے میں نہیں آئی جس کے آپ مستحق ہیں۔ اقبال نے خرد کے بالمقابل جس جنوں کی پذیرائی اپنے کلام میں کی ہے اس کا جیتا جاگتا پیکر ایثار ہمارے سامنے ہیں۔ ڈپٹی نذیر احمد سواسو روپے (ایک روپیہ چارآنے کی)  رائل ڈکشنری سے انڈین پینل کوڈ کا ترجمہ کرسکتے ہیں توسید احمد ایثار آمدن سی لفظی سامنے رکھ کر علامہ اقبال کے تمام کلام کا ترجمہ کیوں نہیں کرسکتے۔

پیام مشرق، زبور عجم، جاوید نامہ،پس چہ باید کرد، اسرار و رموز اور ارمغان حجاز جیسے شاہ کاروں کا منظوم اردو ترجمہ بجائے خود قابل تحسین کارنامہ ہے۔ آپ نے نہ صرف یہ کہ اقبال کے ان شاہ کاروں کا منظوم ترجمہ کرتے ہوئے ایک معلوماتی مقدمہ بھی تحریر فرمایا اور یوں اس شاہ کار کی اہمیت کا احساس دلایا۔ترجمے کی شواریوں پر بھی روشنی ڈالی۔ خاص طور پر ’جاوید نامہ‘ کا 70 صفحات پر پھیلا ہوا مقدمہ بجائے خود دستاویزی نوعیت کا حامل ہے۔ اس میں آپ نے تصنیف کی ابتدا، تمہید آسمانی،تمہید زمینی،جہاں دوست و شوامترکی حقیقت،فلکِ عطار د، طاسین زرتشت، طاسین گوتم، طاسین مسیح سے لے کر جمال الدین افغانی اور سید علم پاشا کی مساعی جمیلہ کا اجمالی ذکر کیا ہے۔ غنی کا شمیری،بھر تری ہری اور احمد شاہ ابدالی وغیرہ کی سیرت پر بھی روشنی ڈالی۔ آپ نے ہر کتاب کا مقدمہ تقریباً ایسا ہی جامع تحریر فرمایا ہے جس سے کتاب، صاحب کتاب اور مترجم کی علمیت سے قاری کا شرحِ صدر ہوتا ہے۔ ’پس چہ باید کرد‘ کا مقدمہ لکھتے ہوئے ایثار صاحب نے اس مثنوی کا پس منظر بیان کیا کہ نادر شاہ والئی افغان کی دعوت پر علامہ اقبال،سید سلیمان ندوی اور سرراس مسعود افعانستان گئے تھے تاکہ اس ملک کے لیے نئی تعلیمی پالیسی پیش کریں۔ اس مثنوی میں درآنے والی اہم شخصیت نادرشاہ،حکیم سنائی اور سلطان محمود غزنوی کا ضروری تعارف لکھ کر ایثار صاحب نے خاصی معلومات فراہم کی ہیں۔

زبور عجم کا مقدمہ لکھتے ہوئے آپ نے اقبال کے تصور خودی، نظریہ وحدت الوجود وغیرہ کے ساتھ ساتھ محمود شبستری کی ’گلشن راز جاوید‘ میں اٹھائے گئے بعض اہم سوالات اور ان کے حل پر بھی کافی دلچسپ مواد پیش کیا ہے۔ غرض ترجمے تو رواں دواں ہیں ہی،مقدمے بھی آپ کی علمیت کے مظہر ہیں۔

اقبالیات کے علاوہ جناب ایثار نے عمر خیام کی ان سات سو بہتر 772رباعیات کا منظوم ترجمہ کر ڈالا۔ شمس تبریز کی چار سو چھتیس رباعیات کا ترجمہ کرتے ہوئے آپ نے محسوس کیا کہ ایک رباعی ایسی ہے جو دونوں شاعروں کے دیوان میں لفظ بہ لفظ موجود ہے        ؎

اے زندگی تن و تو انم ہمہ تو

جانی و دلی اے دل و جانم ہمہ تو

تو ہستی من شدی از آنی ہمہ من

من نیست شدم در تو از انم ہمہ تو

مخفی مباد کہ شمس تبریز تو بے چارہ مجذوب تھا۔ رومی نے ہزاروں غزلیات اپنے مرشد شمس تبریز کی یاد میں کہہ ڈالیں اور وہ غزلیں شمس تبریز کے نام سے ’دیوان ِ شمس تبریز ‘ میں جمع کی گئیں۔ یہ رباعی بھی دراصل رومی کی ہے۔ رومی اور خیام کی رباعی کی مماثلت دراصل اسی سبب سے ہے کہ بعض خوش ذوق ایک شاعر کا کلام دوسرے شاعر کے نام سے لکھ لیا کرتے تھے۔ اس طرح کے الحاق کلام کی کئی مثالیں اردو ادب میں مل جاتی ہیں۔ وہی صورتِ حال ایثار صاحب پر واشگاف ہوئی۔ خیام ورومی کی اس مشترکہ رباعی کا منظوم اردو ترجمہ بھی آپ نے یوں کیا ہے       ؎

تن کے لیے زندگی توانائی تو

تو جان میں دل میں دل وجاں میری تو

تو میرا وجود اس لیے تو خود مجھ میں

میں تجھ میں فناہوں اس لیے ہوں سبھی تو

ایثار  صاحب نے سعدی شیرازی کی 161 رباعیات، حافظ شیرازی کی 88میں سے 33 رباعیات کے منظوم اردو ترجمے کے علاوہ رومی کی مثنوی معنوی مولوی کا اردو ترجمہ بھی تین جلدوں میں کرکے رکھ دیا ہے جو اشاعت کی منتظر ہیں۔

جناب سید احمد ایثار نے رباعیات ِعمرخیام کا منظوم ترجمہ ’بادئہ خیام ‘ کے نام سے کیا جسے کرناٹک اردو اکادمی نے 2019میں شائع کیا۔ ایثار صاحب نے عبدالباری آسی کے مرتبہ 772رباعیات خیام کو بنیاد بنایا۔ کتاب کے دائیں جانب کے صفحے پر چارچار فارسی رباعیات خیام ہیں اور بائیں جانب بالمقابل ان کا منظوم ترجمہ دیا گیا ہے۔ اسی طرح 772رباعیات کا ترجمہ دراصل ایثار صاحب کا کارنامہ ہے جو 2اگست 1978ہی کو تکمیل کو پہنچا تھا۔

محترم سید احمد ایثار کی زندگی جدو جہد سے عبارت ہے۔ اپنی ابتدائی تعلیم ملک میں اور ملک سے باہر جاکر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا، شادی،جنگلوں میں پیدل چلنا، تقریباً تیس پینتیس میل کا پیدل سفررات بھر کرکے گھر پہنچنا، ملازمت میں ایک جنگل سے دوسرے جنگل کو تبادلہ،بعض ضرورت مندوں کی مدد کرنا اور پھر ولایت کا سفر ہوائی جہاز سے،وہاں سے تعلیم کے بعد سمندری جہاز کے ذریعے تجربات سے گزرتے ہوئے واپسی وغیرہ امور سے متعلق محترم سید احمد ایثار صاحب نے کھل کر اپنی آپ بیتی ’سراغِ زندگی‘ میںلکھا ہے۔

سید احمد ایثار صاحب جیسے شریف آدمی نہ اپنے ماتحتین سے خوش ہوتے ہیں نہ اپنے افسران ِ بالا کو خوش کرتے ہیں۔ یہی ان کے سراغ ِ زندگی کی روداد ہے۔ ایک باکر دار آدمی کسی بے کردار سے بھلا کیسے خوش رہ سکتا ہے۔ مگر ایسے آدمی کی خوش کرداری اسے باوقار بناتی ہے۔ اس کا اپنا مضبوط کردار اسے دوسروں کی نظروں میں سبک ہونے نہیں دیتا اور ہر ایمان دار آدمی ایسے صاحب کردار کی قدر کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اور سچ پوچھیے تو یہی ’خوش کرداری‘ مرد مومن کی کمائی ہے۔ سید احمد ایثار مرد مومن ہیں۔

جنگل کی زندگی،دفتری سیاست، ناگفتہ بہ حالات سے گزرتے ہوئے محترم سید احمد ایثار صاحب نے علامہ اقبال کے فکر و فن سے جو اپنے شغف کو بر قرار رکھا وہ قابل داد ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ماہرین اقبالیات ہند و پاک میں بہت ہیں۔ علامہ اقبال کے فارسی کلام کو اردو میں ڈھالنے والے بھی کئی ہیں مگر اقبال کے تمام  فارسی شعری مجموعوں کو منظوم اردو میں پیش کرنے کا سہرا صرف اور صرف سید التراجم حضرت سید احمد ایثار ہی کے سر بند ھتا ہے۔ آپ نے اسرار خودی،رموز بے خودی، زبورعجم، جاوید نامہ، پس چہ باید کرداے اقوام شرق، ارمغان ِ حجاز اور پیامِ مشرق کا منظوم اردو ترجمہ یکے بعد دیگرے 1979سے شروع کرکے 1982میں مکمل کردیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان تراجم کی اشاعت مسلسل نہ ہوسکی بلکہ جیسے جیسے موصوف کو سہولت حاصل ہوئی یعنی حسب استطاعت ان کی اشاعت عمل میں آئی۔ محترم ایثار صاحب کو وظیفہ یابی کے بعد 78000 روپے کے بقایا جات حکومت سے موصول ہوئے تو انھوں نے یہ پوری رقم کتابوں کی اشاعت میں لگادی۔

میں اکثر کہتا رہتا ہوں کہ جو قلم کا ر بنیادی طور پر شاعر ہوتا ہے وہ ہر صنف سخن میں اپنی پہچان کروا کرہی چھوڑ تا ہے چاہے وہ افسانہ ہو،ناول ہو، مضمون نگاری ہو،ڈرامہ نگاری ہو،تنقید ہو، تحقیق ہو چاہے کچھ ہو،اگر وہ متوازن فکر کا حامل ہی نہ ہوگا تو کسی دوسرے کے فن پارے کو بھلا کیسے جانچ پائے گا، تحقیق کرتے ہوئے بھی کسی شاعر کا کلام مرتب نہ کرپائے گا نہ اچھا ڈرامہ لکھ سکے گا نہ اچھا افسانہ یا ناول۔ بہر حال میرا خیال ہے کہ فن کار کا بنیادی طور پر شاعر ہونا ضروری ہے، آپ کو مجھ سے اختلاف کا حق حاصل ہے اگر آپ شاعر نہیں ہیں۔

محترم سید احمد ایثار بھی بنیادی طور پر شاعر ہیں ورنہ اقبال جیسی عبقری شخصیت کے شاہ کاروں کا ترجمہ کیسے کرپاتے۔ انھوں نے ترجمے کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اپنے آپ کو محدود کرلیا۔ وہ اسی دائرے میں سرگرداں رہنے پر مجبور ہیں جو دائرہ اقبال نے کھینچ رکھا ہے۔ اس لکشمن ریکھا سے باہر قدم رکھنا گویار اون کے حوالے ہوجانا ہے۔ اقبال ان کے فکرو فن پر اس قدر حاوی ہے کہ وہ اقبال کے بغیر ایک لقمہ بھی نہیں توڑتے۔عالم یہ ہے        ؎

من تو شدم تو من شدی، من تن شدم تو جاں شدی

تاکس نہ گوید بعد ازیں، من دیگرم تو دیگری


 

Dr. Raoof Khair

Moti Mahal, Golconda

Hyderabad - 500008 (Telangana)

Cell.: 9440945645

Email.: raoofkhair@gmail.com

 

 


 

 

 

 

 

 


تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...