22/2/22

پریم چند اور تعلیم و تدریس - مضمون نگار : محمد عظمت الحق




پریم چند (31 جولائی 1880-8 اکتوبر 1936) ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ انھیں زندگی کے مختلف شعبوں سے دلچسپی تھی۔اپنے وقت کے سماجی، سیاسی اور تعلیمی حالات اور اس کے تقاضوں سے وہ بخوبی واقف تھے۔ تعلیم وتدریس،مختلف علوم وفنون اور صنعت و حرفت سے بھی انھیںلگاؤ تھا۔اس لگاؤ کی وجہ سے پریم چند نے مختلف قدیم وجدید علوم وفنون پر بھی مضامین ومقالات قلمبند کیے ہیں۔فکشن کے علاوہ انھوں نے مختلف موضوعات پر مضامین بھی لکھے ہیں۔ان میں تعلیم وتدریس اور نصابِ تعلیم پر لکھے گئے مضامین کے ذریعے وہ ایک ماہرِ تعلیم کی حیثیت سے بھی سامنے آتے ہیں۔اس حوالے سے پریم چند پر شاید کچھ نہیں لکھا گیا۔ راقم الحروف نے پریم چند کے ایسے مضامین کی روشنی میں انھیںایک ماہرِ تعلیم کی حیثیت سے دیکھنے اور دکھانے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔

پریم چند بنیادی طور پر ایک مدرس تھے اسی لیے تعلیم وتدریس کے مسائل پربھی ان کی گہری نظر تھی۔ تعلیم وتدریس اور نصابِ تعلیم کے موضوع پر لکھے گئے ان کے مضامین کے مطالعے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اس بارے میں نہ صرف غور وخوض کیا کرتے تھے بلکہ اس موضوع سے متعلق مسائل کا حل بھی تجویز کیا کرتے تھے۔پریم چند جدید زرعی تعلیم اور تجربات سے استفادہ کرتے ہوے ہندوستان کی زرعی پیداوار میں اضافہ کرنے کی طرف ارباب مجاز کو توجہ دلایا کرتے تھے۔ پریم چند نے تعلیم وتدریس اور نصابِ تعلیم کے موضوع پر اردو اور ہندی میں کچھ مضامین اور اداریے بھی تحریر کیے ہیں۔ان مضامین میں اردو زبان میںلکھے گئے ان کے تین مضامین بہت اہم ہیں جن کے عنوانات یہ ہیں: ’’زراعتی ترقی کیوں کر ہو سکتی ہے‘‘،  ’’صوبۂ متحدہ میں ابتدائی تعلیم‘‘ اور  ’’ کلا بھون‘‘۔ زیرِ نظر مضمون میں پریم چند کے ان تینوں مضامین کے حوالے سے تعلیم وتدریس کے تئیں ان کی دلچسپی،زراعتی، صنعتی اورتکنیکی تعلیم و تربیت کی طرف ان کی رغبت اور ان کے تعلیمی نظریات پر بساط بھر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔

زراعتی ترقی کیوں کر ہو سکتی ہے

پریم چند نے یہ مضمون ہندوستان میں زراعت کے مسائل اوراس کے حل کے حوالے سے لکھا ہے۔انھوں نے اس مضمون میں زراعت کو فروغ دینے کے ممکنہ طریقوں اورامکانات پر اختصار کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ ہندوستان ایک زراعتی ملک ہے اورآج کی تاریخ میں آبادی کی کثرت کے اعتبار سے یہ دوسرے نمبر پر ہے۔آبادی کی کثرت اور اناج کی قلت کے مسئلے پر پچھلے سو دیڑھ سو برسوں سے مغربی ملکوں کے دانشور مختلف خطوط پر سوچ رہے ہیں۔بعض ماہرین کم وقت اور کم زمین پر زیادہ سے زیادہ فصل حاصل کرنے کے عملی تجربے کر رہے ہیں اور ا س میں انھیں کامیابی بھی مل رہی ہے۔ظاہر ہے کہ یہ مثبت اور بہتر اقدامات ہیں۔ دوسری طرف ’کچھ دانشور‘ ایسے بھی گذرے ہیں جو آبادی کو کم کرنے کے نہایت مضحکہ خیزطریقے اپنانے کی سفارشات کیں۔پریم چند کے اس مضمون سے کچھ ایسے ہی مضحکہ خیز مشوروں اور سفارشات سے واقفیت ہوتی ہے۔اس بابت پریم چند نے لکھا ہے:

یورپ میں آبادی کو روکنے کے لیے مالتھس نے یہ تجویز نکالی تھی کہ غربا کو شادی سے محترز ہونا چاہیے۔ایک دوسرے فرقے کی تجویز یہ تھی کہ صرف انھیں لوگوں کو شادی کرنی چاہیے جو قوی الاعضا اولاد پیدا کر سکیں۔اور ایک تیسرے فرقۂ علما کا خیال ہے کہ ہمیں اضافۂ نسل کو معاش کے محکوم رکھنا چاہیے۔لیکن جدید ترین تحقیقات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہر ملک کی زمین اس کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے کافی غلہ پیدا کرنے کی قابلیت رکھتی ہے بشرطیکہ اس کی قوت کو قائم رکھنے اور بڑھانے کی کوشش کی جاتی رہے۔1

پریم چند کے اس مضمون سے واضح ہوتا ہے کہ وہ آبادی کو کم کرنے کے نہیں بلکہ اناج کی پیدائش کو بڑھانے کے طریقوں پر عمل کرنے کے قائل تھے۔ان کا یہ ماننا تھا کہ ہندوستان میں غلے کی پیدائش کو بڑھانے کے طریقوں پر اتنی توجہ نہیں دی گئی جتنی دینی چاہیے تھی۔ اس سلسلے میں انھوں نے انگلستان،فرانس اور ڈنمارک میں ہونے والی زراعتی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوے بتایا ہے کہ وہاں فی ایکڑ اناج اگانے کی مقدار ہندوستان سے تین چار گنہ زیادہ ہے۔پریم چند ایسی اصلاح اپنے ملک میںبھی لانے کے خواہش مند تھے۔ مگر اصلاح کیسے لائی جائے ؟ہندوستان اس ضمن میں طرح طرح کے مسائل کا شکارکل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ بقول پریم چند جب تک یہ مسائل حل نہیںکیے جاتے زراعتی ترقی نا ممکن ہے۔

پریم چند کی نگاہ میں سب سے پہلا مسئلہ یہ تھا ( جو آج بھی برقرار ہے) کہ ہندوستان کے بیشتر کاشتکار غیرتعلیم یافتہ ہیں۔کاشتکاروں کو محض علمی تحقیقات سے نہ دلچسپی ہوتی ہے اور نہ اس سے انھیںکوئی فائدہ پہنچتا ہے۔ تاو قتیکہ عملی اصلاحیں کاشتکاروںکو نہ بتا ئی جائیں۔ پریم چندنے لکھا ہے کہ ہر سال انڈسٹریل کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں لیکن اس کی کوئی خبر کاشتکاروں تک نہیں پہنچتی تھی کیونکہ ساری کا روائی انگریزی میں ہوتی تھی۔ اس سلسلے میں انھوں نے کانفرنسوں کے منتظمین کو یہ مشورہ دیا تھاکہ وہ ایسی کانفرنسوں کی روداد کو عام فہم ملکی زبان میں لکھ کر مفت تقسیم کریں۔ بقول ِپریم چند ایسا کرنے سے کچھ نہ کچھ اثر پڑنے کے امکانات تھے۔

پریم چند نے نصابِ تعلیم میں زراعتی تعلیم کو بھی داخل کرنے کی تجویزپیش کی ہے۔انھوں نے اس کا فائدہ یہ بتایا ہے کہ اس سے طلبا میں اوائلِ عمر ہی سے زراعت سے دلچسپی بڑھے گی اور وہ آگے چل کر زراعت کے پیشے کو کم نگاہی سے نہ دیکھیں گے۔اس کے علاوہ محنت ومشقت سے جی چرانے کا رجحان بھی کم ہو گا۔پریم چند نے تعلیم یافتہ لوگوںکی ملازمت پسندی کوزراعت کی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ کہا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

زراعت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ تعلیم یافتہ فرقے کی ملازمت پسندی ہے۔یہاں تک کہ بڑے بڑے ذی اقتدار اور صاحبِ ثروت رؤ سا بھی اپنے لڑکوں کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کر کے انھیں ملازمت کے لیے پیش کر دیتے ہیں۔اس طرح وہ لوگ جو کاشتکاروں کی حالت میں کچھ اصلاح کرنے کے قابل ہیں،اپنے ایک قومی فرض کی طرف سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ 2

یہاں پریم چند نے کاشتکاروں کی اصلاح کو قومی فرض کہا ہے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ زراعت کے میدان میں اصلاح اور کاشتکاروں کی فلاح وبہبودی کو کتنی اہمیت دیتے تھے۔

پریم چند نے ایک تجویز یہ بھی پیش کی تھی کہ دیہاتوںمیں تقرر پانے والے مدرسین کو یہ تربیت دی جائے کہ وہ کاشتکاروںکومصنوعی کھاد اور عمدہ بیجوں کے استعمال کے مشورے دے سکیں۔کیونکہ اس دور میں یورپ میں مصنوعی کھاد کے استعمال سے فصل کی پیدائش دو چند بلکہ سہ چند ہو چکی تھی۔جب کہ ہندوستان میں گوبر ہی سے کھاد کا کام لیا جارہا تھا۔پریم چند نے حکومت کی توجہ اس طرف بھی مبذول کروائی کہ بڑے بڑے کارخانے شہروں میں قائم کرنے کے بجائے دیہاتوں میں قائم کیے جائیں۔پریم چند کی نظر میں اس کا فائدہ یہ تھا:

ہمارے کاشتکار فاضل اوقات میں کوئی مفید مشغلہ نہ ہونے کے باعث بیکار بیٹھے رہتے ہیں...ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ بجائے بڑے بڑے شہروں میں کارخانے کھولنے کے مواضعات میں صنعت وحرفت کا شغل جاری کریں۔ تاکہ ہمارے کاشتکارخود مختار مالکانِ زمین کی حیثیت سے گر کر محض مزدور نہ ہو جائیں۔آج کل ملک میں کپڑے کا قحط ہے۔اس کا باعث بجز اس کے اور کیا ہے کہ ہم کپڑوں کے لیے بڑے بڑے کارخانوں کے محتاج ہیں۔ہمارے پاس نہ اتنا سرمایہ موجود ہے نہ آسانی سے کلین دستیاب ہو سکتی ہے۔لیکن اگر کاشتکاروں میں سوت کاتنے اور کپڑا بننے کی صنعت زندہ کی جائے تو یہ قحط بڑی حد تک رفع ہو سکتا ہے۔3

اس مضمون میں پریم چند نے اس طرح کی کئی تجاویز پیش کی ہیں۔یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ پریم چند کی ان تجاویز کو حکومت اور قوم کے دانشوران کہاں تک روبہ عمل لاسکے،لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ پریم چند ہندوستان کی زراعتی ترقی کے مسئلے پر نہایت متفکر رہا کرتے تھے۔ اس ضمن میں وہ جو کچھ سوچ سکتے تھے انھوں نے سوچا اور جو کچھ تجاویزپیش کرسکتے تھے انھوں نے پورے خلوص کے ساتھ پیش کیں۔اس مضمون کے مطالعے سے یہ بات اجاگر ہوتی ہے کہ پریم چند صرف ادیب نہیں تھے اور نہ انھوں نے خود کو ادب تک محدود رکھا بلکہ جتنے بھی قومی اور ملکی مسائل ہو سکتے تھے ان پرانھوں نے پورے خلوص کے ساتھ غورو خوض کیا اور مختلف تحریروں کے ذریعے اپنی بات اربابِ مجاز اور عوام تک پہنچادی۔

صوبۂ متحدہ میں ابتدائی تعلیم

پریم چند کی عملی زندگی کا آغاز مدرس کی حیثیت سے ہوا۔ لگ بھگ بائیس برسوں تک انھوں نے معلمی کی خدمت انجام دی۔ اس دوران میں انھیں پرائمری، اپر پرائمری اور ہائی اسکول کی سطح تک تدریس کا تجربہ حاصل ہو چکا تھا۔ان کی ملازمت زیادہ تر دیہاتوں میں رہی۔ اسی لیے وہ پرائمری تعلیم کے مسائل اور اس کے نصاب سے اچھی طر ح واقف تھے۔چوں کہ ان کی ملازمت زیادہ تر دیہاتوں میں رہی اس لیے وہ دیہاتوں میں تعلیم کے مسائل اور اس کی دقتوں سے بھی بخوبی آگاہ تھے۔ دوسری اہم بات یہ بھی ہے کہ وہ برائے نام مدرس نہیں تھے بلکہ ان کے دل میں تعلیم کو عام کرنے کے تئیں پُر خلوص جذبہ بھی تھا۔اسی لیے وہ تعلیم سے جڑے ہوے مسائل پر غور کیا کرتے تھے اور اس میں اصلاح لانے کے طریقے سوچا کرتے تھے۔

زیرِ تبصرہ مضمون پریم چند کے اسی جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔آزادی سے قبل آگرہ اور اودھ کو’صوبۂ متحدہ ‘ کہا جاتا تھا۔غالباً ان دونوں صوبوں کو ملا کر ایک صوبہ بنایا گیا تھا۔اس مضمون میں پریم چند نے اسی صوبے کی ابتدائی تعلیم کی صورتِ حال کاجائزہ لیا ہے۔

 ہندوستان میں پرائمری تعلیم کی جو صورتِ حال تھی اور جو اس کا انفرا اسٹرکچر تھا، اس سے پریم چند بہت دلبرداشتہ اور مایوس تھے۔پریم چند نے سینٹ نہال سنگھ کے ایک مضمون کو پڑھ کر (جو امریکا کے ایک موضعے میں تعلیم کے انتظام سے متعلق تھا) جن احساسات کا اظہار کیا ہے اس سے ان کی مایوسی اور دلبرداشتگی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔وہ لکھتے ہیں:

دسمبر کے ماڈرن ریویو میں سینٹ نہال سنگھ نے ایک نادر مضمون لکھا ہے۔جس میں امریکا کے ایک موضع کی کیفیت بیان کی ہے۔اسے پڑھ کر حیرت بھی ہوتی ہے اور مایوسی بھی۔حیرت اس لیے کہ تہذیب کی جو آسانیاں اور اسباب اس گاؤں میں ہیں وہ ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں کو نصیب نہیں۔اور مایوسی اس لیے کہ شاید ہندوستان کی قسمت میں ترقی لکھی ہی نہیں۔دو ہزار آدمی کا موضع اور ہائی اسکول،اس کی عمارت، اس کے کتب خانے، اس کی لیبورٹری پر ہندوستان کا کوئی کالج ناز کرسکتا ہے۔کیا ہندوستان کے بھی کبھی ایسے نصیب ہوں گے۔4

پریم چندنے امریکا کے دیہات کے اس مدرسے کا موازنہ ہندوستان کے مدارس سے کرتے ہوے افسوس کے ساتھ لکھا ہے کہ:

اب ایک طرف تو اس دیہاتی مدرسے کو رکھیے، اور دوسری طرف ایک ہندوستانی دیہاتی مدرسے کا خیال کیجیے۔ایک درخت کے نیچے جس کے ادھر ادھر کوڑا کرکٹ پڑا ہوا ہے،اور جہاں شاید برسوں سے جھاڑو نہیں دی گئی،ایک پھٹے پرانے ٹاٹ پربیس پچیس بچے بیٹھے اونگھ رہے ہیں۔سامنے ٹوٹی ہوئی کرسی اور ایک پرانی میز ہے اس پر حضرتِ مدرس کی ذات متمکن ہے۔ لڑکے جھوم جھوم کر پہاڑے رٹ رہے ہیں،شاید کسی کے بدن پر ثابت کرتہ نہ ہوگا۔دھوتی ران کے اوپر تک بندھی ہوئی۔ٹوپی میلی کچیلی، صورت گرسنہ، چہرے پژمردہ،یہ آریہ ورت کا مدرسہ ہے جہاں کسی زمانے میں تکس شلا اور ندیا  [کذا، نالندہ] کے دارالعلو م تھے۔کس قدر تفاوت ہے، ہم تہذیب کی دوڑ میں دیگر اقوام سے کس قدر پیچھے ہیں کہ شاید وہاں تک پہنچنے کا حوصلہ بھی نہیں کر سکتے۔5

ہندوستان میں پرائمری تعلیم کی یہ صورتِ حال پریم چند کو افسردہ کر دیتی تھی۔ان کی خواہش تھی کہ ہندوستان کے مدارس میں بھی معیاری تعلیم کاا نتظام ہو۔یہاں کے نظامِ تعلیم اور نصابِ تعلیم میں وہ بہت زیادہ اصلاحات کی ضرورت محسوس کرتے تھے۔ قابل مدرّسوں کی کمی اور اسکول کی عمارتوں کے فقدان کوپریم چنداس اصلاح کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے۔حکومت چار چار درجوں پر صرف ایک مدرس کا تقرر کرتی تھی،اور ان کا مشاہرہ تھا چار تا پانچ روپے۔پھر اس غریب مدرس پر ڈاک خانے کے کام کا اضافی بوجھ بھی لاد دیا گیا تھا۔گویا وہ ٹیچر بھی تھا، گاؤں کا پوسٹ ماسٹر اورڈاکیہ بھی تھا۔

اس مضمون کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں دیہات کے مدرسوں کو ڈاک خانے کے کام کی زائد ذمے داری بھی دی جاتی تھی۔ گو اس کام کی وجہ سے انھیں خفیف سی آمدنی ہوتی تھی لیکن تعلیم وتدریس پراس کا منفی اثر پڑتا تھا۔مدرس تعلیم و تدریس پر خاطر خواہ توجہ نہیں دے پاتا تھا۔پہلے ہی چار چار درجوں کے بچوں کی تعلیم اور ان کی نگرانی پھر ڈاک خانے کا کام۔یہ تویک نہ شد دو شد والا معاملہ تھا۔

پریم چند اس نظام ِمیں تبدیلی اور اصلاح چاہتے تھے۔انھوں نے اس مضمون میں مدرس کی تنخواہ کم سے کم پندرہ روپے ماہانہ کی سفارش کی ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے ٹریننگ کالج سے تعلیم وتدریس کی ٹرینگ پانے والے اساتذہ کے تقرر پربھی زور دیا ہے۔ عام طور پر غیر تربیت یافتہ اساتذہ کی تدریس موثر نہیں ہوتی۔ کیوں کہ وہ تعلیم وتدریس کے سائنٹی فک اصولوں سے واقف نہیں ہوتے۔

پریم چند نے نصابِ تعلیم کی اصلاح کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا ہے کہ پرائمری تعلیم کا نصاب ایسا ہونا چاہیے کہ چار برس تک پڑھنے کے بعد بچے اپنی روز مرہ کی ضروریات کی حد تک تعلیم یافتہ ہو جائیں۔اپر پرائمری کے نصاب کے تعلق سے پریم چند نے لکھا ہے کہ:

ہمارا خیال ہے کہ اپر پرائمری درجے کی تعلیم اگر وہ ذرااور وسیع کر دی جائے تو کاشت کاروں کی ضروریات کے لیے کافی ہے۔ریڈریں جو اس وقت مروج ہیں زبان کے لحاظ سے ناکارہ ہیں۔ان کے پڑھنے سے لڑکے بجز بول چال کے نہ ہندی زبان جانتے ہیں اورنہ اردو،ان کی زبان کی اصلاح ہونی چاہیے تا کہ لڑکے رامائن تو سمجھ لیں۔ قاعدے کی ضرورت نہیں اسے خارج کر دینا چاہیے۔ جغرافیہ کی تعلیم کا فی ہے۔ حساب میں بھی کچھ کسر نہیں، عملی سوالات کی مشق زیادہ ہونی چاہیے۔ڈرائنگ فضول ہے، اس کے بجائے تندرستی کے متعلق ایک چھوٹی سی پرائمری ہونی چاہیے اور قواعدِ زبان کی جگہ زراعت کے کچھ اصول سکھائے جانے چاہیئں۔اس وقت خط وکتابت کا طریقہ نہیں سکھایا جاتا یہ اک بہت ضروری شے ہے۔اس کا بھی کچھ انتظام ہونا چاہیے۔اور تب ابتدائی تعلیم کا مسئلہ گویا حل ہو جائے گا۔6

بقولِ پریم چند عموماً دیہاتوں میں مدرسے کی کوئی عمارت نہیں ہوتی تھی۔بیشتر دیہاتوں میں کسی درخت کے نیچے یا کسی زمین دار کے گھر کے سامنے جھونپڑے میں یا گو شالہ کے اند ر کسی کونے میں بچوںکو پڑھایا جاتا تھا۔ اگر کہیں کوئی عمارت ہوتی بھی تو اس قدر خستہ اور بوسیدہ کہ خدا کی پناہ۔ایسے ماحول میں کیسے تعلیم دی جاسکتی تھی؟ چنانچہ پریم چند نے مدرسوں کے لیے ڈھنگ کی عمارتوں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔حکومت سے کہا ہے کہ وہ مدارس کے معائنے(انسپیکشن) کی مد میں جتنی رقم خرچ کرتی ہے اس میں سے کچھ کم کر کے انفرا اسٹرکچر میں لگا دے تویہ زیادہ بہتر ہوگا۔

ابتدائی تعلیم،اس کی اصلاح اور ترقی کے باب   میں پریم چند کے یہ خیالات یقینا قابلِ قدر اور قابلِ غور ہیں۔ پریم چندنے یہ مضمون 1909 میں لکھا تھا جب کہ انھیں تعلیم وتدریس کے میدان میں آئے ہوئے تقریباً بیس برس ہو چکے تھے۔ان بیس برسوں کے دوران میں وہ جن تجربات اور مشاہدات سے گزرے اور جن مسائل ومشکلات کا انھیں سامنا کرنا پڑا ان کی روشنی میںپریم چند نے یہ مضمون سپردِ قلم کیا ہے۔پرائمری تعلیم کے مسئلے اور اس کی اصلاح پر پریم چندنے جن خیالات کا اظہار کیا ہے موجودہ زمانے میںبھی ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

 دراصل پریم چند کو تعلیم وتدریس کے موضوع سے بڑی دلچسپی تھی۔وہ جتنی دلچسپی سے ادبی اور علمی کتابوں کا مطالعہ کیا کرتے تھے اتنی ہی رغبت سے تعلیم وتربیت سے متعلق کتابوں کو بھی پڑھا کرتے تھے۔تعلیم وتربیت سے متعلق کتابوں کی اشاعت پر وہ بڑی مسرت کا اظہار بھی کرتے تھے اور ایسی کتابوں کے مصنفین کا حوصلہ بھی بڑھاتے تھے۔ تعلیم وتربیت کے موضوعات پر لکھی گئیں کتابوں پر پریم چند نے جو تبصرے اورتنقیدی مضامین تحریر کیے ہیں ان کے مطالعے سے بھی اس موضوع سے ان کی گہری وابستگی کا اندازہ ہوتا ہے۔لالہ گوکل چند کی تصنیف ’بچوں کی تربیت‘ پرتحریر کردہ تبصرے کا ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں جس سے راقم الحروف کے دعوے کی تصدیق ہوتی ہے۔ پریم چند نے لکھا ہے :

ہمارے یہاں ہر شخص اپنے لڑکے کو یونیورسٹی تعلیم دلوانا چاہتا ہے۔اس کی قدرتی مناسبت کے تحقیق کرنے کی ذرا بھی کوشش نہیں کی جاتی۔جس کا نتیجہ مضر یہ ہے کہ بہت سے لڑکے جو دوسرے صیغۂ تعلیم میں ترقی کرتے وہ اپنی طبیعت کے خلاف کتابیں رٹنے پر مجبور کیے جاتے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ رجحاناتِ طبعی کا اندازہ کیوں کرکیاجائے۔بچپن میں قویٰ بہت ضعیف ہوتے ہیں اور کسی خاص میلان کا اظہار نہیں ہو تا۔لہٰذا 13؍برس کے سن تک لازم ہے کہ بچے کو اسکول کی معمولی تعلیم دی جائے۔ اس کے بعد جس کی طرف توجہ دیکھیںاسی ڈھرے پر لگا دیں۔اگرمصنف نے چند لفظوں میں کنڈر گارٹن طریقۂ تعلیم کا تذکرہ دیا ہوتا تو کتاب اور بھی مفید ہوجاتی۔ قدیم اسپارٹا یا قدیم ہندوستان کے طرزِ تربیت کا تذکرہ کرنے سے جو اب بالکل متروک اور گئی گزری باتیں ہو گئیں ہیں کنڈر گارٹن کا تذکرہ بدرجہا زیادہ فائدہ بخش ہوتا۔7

المختصرپریم چند کا یہ مضمون ابتدائی تعلیم کے مسائل، حل اور اصلاحات پر ان کی گہری فکر مندی کا مظہر ہے۔ اس مضمون میںبھی پریم چند نے ابتدائی تعلیم کے نصاب میں زراعتی تعلیم کی بنیادی باتیں شامل کرنے کی بات کی ہے تاکہ آگے کاشتکاروں کو اس سے فائدہ پہنچے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہمیشہ اور ہر معاملے میں قومی اور ملکی مفاد پریم چندکے پیشِ نظر رہا کرتا تھا۔

 کلا بھون

کلا بھون‘ کے نام سے بڑودہ ریاست کے مہاراجہ نے ایک نہایت معیاری اور عصری تقاضوں کی تکمیل کرنے والا صنعتی کالج( انڈسٹریل کالج) قائم کیا تھا جو آج بھی برقرار ہے اور غالباً یونیورسٹی میں تبدیل ہو گیا ہے۔ یہ مضمون اسی کالج کے تعارف اوراس کے معیارِ تعلیم کے تذکرے پر مشتمل ہے۔ پریم چند نے اس کالج کے قائم کرنے پر بڑودہ ریاست کے مہاراجہ کی بڑی تحسین وستائش کی ہے اور ان کے اس اقدام کو دوسری ریاستوں کے لیے قابلِ تقلید کہا ہے۔وہ لکھتے ہیں :

ریاستِ بڑودہ نے صرف عام تعلیم اور معاشرتی مسائل ہی میںحیرت انگیز ترقی نہیں کی ہے بلکہ صنعتی معاملات میں بھی وہاں پوری توجہ صرف کی گئی ہے۔اور اس عقدہ کا حل کرنے میں اس دور بینی سے کام لیا گیا ہے جو ہندوستان کی دوسری ریاستوں کے لیے قابلِ تقلید ہے۔مہاراجہ صاحب بڑودہ پختہ کار مدبر اور منتظم شخص سے یہ امر کیسے مخفی رہ سکتا ہے کہ کسی قوم کی ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ صنعت وحرفت ہے۔کلابھون جو بڑودہ کا خاص صنعتی کالج ہے.....کیا بہ لحاظ ِمعیارِ تعلیم اور کیا بہ لحاظِ طلبایہ کالج سب ہندوستانی ریاستوں کے کا لجوں میںممتاز ہے۔8

اس اقتباس میں پریم چند نے جس مسرت آمیز اسلوب میںاپنے احساسات کا اظہاکیا ہے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پریم چند کو ریاستِ بڑودہ کے مہاراجہ کے اس اقدام سے کتنی خوشی ہوئی تھی۔یہ خوشی اور مسرت پریم چند کے اس میلان و رغبت کو بھی ظاہر کرتی ہے جو انھیں تعلیم  وتدریس کے موضوع سے تھی۔دراصل پریم چند ہندوستان کو تعلیم اور ہنر کے میدان میں خودمکتفی دیکھنا چاہتے تھے،یہی نہیں بلکہ وہ اپنے ملک کومعیارِ تعلیم کی بلندی پر پہنچتا دیکھنے کی خواہش بھی رکھتے تھے۔وہ یہ جانتے تھے کہ صنعتی کالجوں کے قیام کے بغیر صنعت وحرفت کو فروغ نہیں مل سکتا۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ یوروپی ممالک کی طاقت اور ترقی کا راز صنعتی ترقی میں پوشیدہ ہے۔

پریم چند نے اس مضمون میں کالج میں چلنے والے کورسس، داخلے کا طریقۂ کار،فیس، امتحانات کا طریقہ، مصارفِ تعلیم، وظائف کی سہولت،نظریاتی تعلیم اور عملی تربیت کے معیار،لیبوریٹری اور اس میں استعمال ہونے والے آلات وغیرہ پر گفتگو کی ہے۔پریم چند کے کہنے کے مطابق اس کالج میں زیرِ تعلیم طالبِ علم کے ماہانہ مصارف صرف سولہ روپیے ہوتے تھے جب کہ اس طرز کے دوسرے کالجوں میں چالیس روپیے خرچ آتا تھا۔

پریم چند نے لکھا ہے کہ ہمارے ملک کو تحقیقاتی کالجوں کی اتنی ضرورت نہیں ہے جتنی مفیدِ عام صنعتی کا لجوں کی ہے۔اسی لیے انھوں نے انگریزی حکومت اور دیسی ریاستوں کے حکمرانوں سے اس طرز کے زیادہ سے زیادہ کالج کھولنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔آخر میں صوبہ ٔ  متحدہ ( آگرہ اور اودھ) کے خواہش مند طلبا سے کہا ہے کہ اس کالج میں زیادہ سے زیادہ طلبا داخلہ لے کر اس سے فیض یاب ہوں۔ کیوں کہ یہاں ماہانہ صرف سولہ روپیوں کے مصارف سے تین سالہ کوئی کورس کر کے طلبا اچھے سے اچھا روز گار حاصل کر سکتے ہیں۔

تعلیم وتدریس اور نصابِ تعلیم سے متعلق ان مضامین کے مطالعے سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ پریم  چندکو ان موضوعات سے گہری دلچسپی اور ذہنی مناسبت تھی۔ان موضوعات ومسائل پر وہ غور وفکر کرتے تھے۔ جہاں جو بات قابلِ ستائش ہوتی اس کی تعریف و تحسین کرتے اور جہاں جو بات قابلِ گرفت ہوتی بے باکی کے ساتھ اس کی مذمت بھی کرتے تھے۔ وہ ہر معاملے میں قومی اور ملکی مفاد کو پیشِ نظر رکھتے تھے۔

’’زراعتی ترقی کیو ں کر ہو سکتی ہے‘‘ایسا مضمون ہے جس میں انھوں نے زراعتی علم وتحقیق کے شعبے میں ہندوستان کی پسماندگی پرافسوس کا اظہار کیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس شعبے میں ہونے والی سائنسی تحقیقات سے ہندوستانی کاشتکاروں کو اچھی طرح واقف کروانے کا سجھائو بھی دیا ہے۔ اس کے علاوہ اس راستے میں جو رکاوٹیں پیش آتی تھیں ان کی طرف اشارے بھی کیے ہیں اور انھیں کس طرح دور کیا جاسکتا ہے اس کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔’’صوبۂ متحدہ میں ابتدائی تعلیم ‘‘ کے مطالعے سے تعلیم وتدریس کے موضوع سے ان کی فطری رغبت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے ایک ماہرِ تعلیم کی طرح ابتدائی تعلیم کے مسائل اور اس کی اہمیت وافادیت پر نتیجہ خیز گفتگو کی ہے۔ مضمون’کلا بھون‘ تیکنیکی اور صنعتی تعلیم کے موضوع سے پریم چند کی رغبت کو ظاہر کرتا ہے۔

حوالے

1       زراعتی ترقی کیوںکر ہو سکتی ہے مشمولۂ کلیاتِ پریم چند مرتب مدن گوپال( قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان دہلی،2003) جلد 21ص 58

2       ایضاً ص60

3       ایضاً ص61

4       صوبۂ متحدہ میں ابتدائی تعلیم مشمولۂ کلیاتِ پریم چند مرتب مدن گوپال( قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان دہلی، 2003) جلد 20ص 252

5       ایضاً ص 252

6       ایضاً ص257

7       حال کی بعض کتابیں مشمولۂ کلیاتِ پریم چند مرتب مدن گوپال( قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان دہلی، 2003) جلد 20ص 133

8       کلا بھون مشمولۂ کلیاتِ پریم چند مرتب مدن گوپال( قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان دہلی،2003)جلد 20ص 375

 

Dr. Mohammed Azmat ul Haq

Assit. Professor,  Dept. of Urdu,

Degloor College, DEGLOOR-431717

Dist Nanded (M.S)      

Mob :7020407042




17/2/22

پروفیسر اکبرحیدری کشمیری کی تحقیقات عالیہ - مضمون نگار : سجاد احمد صوفی

 


جموں وکشمیر ہمیشہ علم وادب کی آبیاری کرتا رہا ہے۔  یہ وادی جس طرح حسین اورخوبصورت ہے ٹھیک اسی طرح یہاں کے ادیبوں کے قلم سے حسین اور دل کش تحریریں ابھرتی ہیں۔برصغیرمیںاردو کے محققوں اور مفکروں میں شمار کیے جانے والے محقق پروفیسر اکبر حیدری کشمیری اسی خطے سے تعلق رکھتے تھے۔جموں وکشمیر کے جن اردو ادیبوں کو بین الاقومی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ان میں پروفیسر اکبر حیدری کشمیری کئی لحاظ سے اہم ہیں۔ وہ صرف محقق ہی نہیں،بلکہ ادیب، قلمکار، تذکرہ نویس، نقاد، مؤلف، استاد اور ادبی صحافت میں اپنے ان گنت نقوش مرتسم کرنے والے شخص تھے۔ میدانِ تحقیق میں ان کی شہرت کے حوالے سے پروفیسر قدوس جاوید کا اقتباس ملاحظہ کیجیے :

’’ اکبر حیدری کی موت اردو میں تحقیق کی موت ہے۔قاضی عبدالودود، عرشی رام پوری، مالک رام، جعفرعلی خان اثر اور مشفق خواجہ کے بعد اگر جمیل جالبی کا نام نامی الگ کردیں تو اکبرحیدری کے سوا کس کا نام لیا جائے کہ جس نے اردو میں تحقیق کی آبرو بچائے رکھی ہو۔‘‘

(شیرازہ، گوشۂ پروفیسر اکبر حیدری،مضمون ’ اردو تحقیق کی روشن شمعـ‘ از پروفیسر احمد قدوس جاوید،ص 30)

پروفیسر اکبرحیدری کشمیری کے کارناموں کی فہرست بہت طویل ہے۔ انھوں نے اپنی مسلسل محنت اور لگن سے اردو کے کلاسیکی ادبی سرمائے کی تحقیق میں نمایاں اضافے کیے ہیں جس میں میر تقی میر، میر ببر علی انیس، مرزا سلامت علی دبیر، مرزا اسداللہ خان غالب، علامہ سر محمد اقبال اور اسی پائے کی شخصیات کی حیات اور کارناموں کے کتنے ہی پوشیدہ گوشوں کو واضح کیا۔ اکبر حیدری کشمیری کی کلاسیکی اردو ادب پر خاص نظر تھی اور ان کی توجہ سے بہت ساادبی سرمایہ وقت کی گرد کے نیچے دفن ہونے سے بچ گیا، جس سے آنے والی نسلوں کے لیے انھوں نے فکرو تحقیق کا سامان فراہم کیا۔ تحقیق، تصنیف و تالیف میں وہ اعلا معیار کے قائل تھے۔ وہ جو بھی تحقیقی بات کرتے اسے ٹھوس شواہد سے ثابت کرتے ہیں۔

پروفیسراکبرحیدری کشمیری بحیثیت محقق اپنی تحقیق کے موضوعات کا انتخاب سوچ سمجھ کرکر تے ہیں۔ ان کی تحقیق محض مردہ پروری نہیں ہوتی۔ کیونکہ تحقیقی شعور رکھنے والا محقق اپنی ہربات دلیل اور شہادت کی بنیاد پر رکھتا ہے۔ محقق کا کام جہاں ایک طرف کسی موضوع سے متعلق اصلیت کو پیش کرنا ہے وہیں اس موضوع سے متعلق غلط بیانیوں کو رد کرنا بھی اور اصل حقیقت کو پیش کرنا بھی ہے۔ اکبر حیدری نہ صرف موضوعات کی اصلیت کا پتہ لگا کر انھیں منظر عام پر لاتے ہیں۔ بلکہ عام طور پر محققین کی غلطیوں کی تردید کرکے ان کا متبادل بھی پیش کرتے ہیں۔ اس ضمن میں شاید عصر ِحاضرمیں اردو کے ایسے محقق کم ہی ملیں گے۔ تحقیق کے دوران انھیں اپنے آپ کا بھی پتہ نہیں رہتا اتنے گہرے مطالعے اورمطالعے کی چاشنی میں گم ہوجاتے تھے کہ وقت کی خبر نہیں رہتی، اس حوالے سے اقتباس ملاحظہ کیجیے:

’’ رام پورکی رضالائبریری میں انھیں پتہ ہی نہ چلا کہ دن کب گزرا۔ رات کب ہوئی۔ وہ مصروف مطالعہ رہے جب کہ چوکیدار نے لائبریری کو مقفل کیا تھا اور اگلے دن موصوف کو مصروف مطالعہ پاکر بتایا کہ ’ جناب آپ رات بھر پڑھتے رہے ہیں‘‘!           

(شیرازہ، گوشۂ پروفیسر اکبر حیدری،مضمون ’اک شمع تھی دلیل ِ سحر ‘از ناصر مرزا،ص43)

 اکبر حیدری کی بے مثل محنت کے پیش نظر ہی نورالحسن ہاشمی نے ان کو ’ تحقیق کا بھوت ‘ کہا ہے۔اور ڈاکٹر شبیہ الحسن اور ڈاکٹر نیرمسعود نے’ فنافی التحقیق ‘بھی کہا ہے۔

پروفیسر اکبرحیدری کشمیری نے اگر کسی صنف میں زیادہ تحقیقی کام کیا ہے تو وہ اردو مرثیہ ہے۔ مرثیہ نگاری میں انھوں نے بہت سارے مرثیہ نگاروں کے غیرمطبوعہ کلام کا انکشاف ہے گرچہ مرثیہ کی تحقیق کے ضمن میں یوں تو کئی محققین کے نام آتے ہیں۔ جن میں مسعودحسن خان رضوی ادیب، پرو فیسر شبیہ الحسن، ڈاکٹر نیرمسعود، محمد زماں آزردہ اور کاظم علی خان وغیرہ شامل ہیںلیکن ان تمام محققوںکے ساتھ ساتھ مرثیہ اور مرثیہ نگاروں پر بہت اچھا کام اکبر حیدری نے بھی کیا ہے۔ ان کی کئی تصنیفات ایسی ہیں جس میں مرثیہ، مرثیہ کے ارتقا اور گمنام مرثیہ نگاروں کے بارے میں قیمتی خیالات اور نادرتحقیقی انکشافات ملتے ہیں۔ چند کتابیں درج ذیل ہیں :

 میر انیس بحیثیت رزمیہ شاعر،  اودھ میں اردو مرثیے کا ارتقا،  باقیات انیس،  مراثی میرخلیق ،  منظومات دلگیر،  انتخاب مراثی دبیر،  انیس کی منظر نگاری،  باقیات دبیر،  مرثیہ اصلاحی معنی میں، میر ضمیر لکھنوی

پروفیسر اکبر حیدری کا دوسرا خاص موضوع اقبالیات رہا ہے۔ اس میں بھی انھوں نے اہم کتابوں کا اضافہ کیا ہے جیسے اقبال : نادر معلومات ،  اقبالیات کے نئے گوشے ،  اقبال اور علامہ شیخ زنجانی ، اقبال کی صحت زبان،  کلام اقبال قدیم رسالوں کے آئینے میں، زمانہ کانپور اور اقبالیات، اقبال : احباب وآثار ، معنیِ ذبح عظم : اقبال کا شعر

یہ کتابیں اقبالیات میں گراں قدر اضافہ ہیں اور علامہ اقبال کے پوشیدہ خزانوں کا عکس بھی ہیں۔ اکبر حیدری نے رسالہ ’حکیم الامت ‘ نکالا جس میں اقبال پر زیادہ مضامین لکھے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ اکبر حیدری نے مرزا غالب پر بھی کچھ تحقیقی مقالے قلم بند کیے ہیں۔ ان کتابوں کو انعام کے ساتھ ساتھ قدر کی نگاہوں سے بھی دیکھا جاتا ہے ان میں ’ نوادرِ غالب ‘اور’غالبیات ‘ کے نام شامل ہیں۔

پروفیسر اکبرحیدری کشمیری نے دیوان، تذکرے اور شخصیتوں پر بہت اچھا کام کیا ہے۔ ان میں دیوان میرتقی میر، دیوان ذوق، دیوان قائم، دیوان ترقی  وغیرہ ہیں۔ تذکروں میں تذکرۂ بہاربے خزاں، تذکرۂ شعرائے ہندی، تذکرہ ٔ گردیزی، تذکرۂ ریختہ گویاں، تذکرہ ٔ قدیم شاعرات وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔

یہاں پر ہم صرف پروفیسر اکبر حیدری کشمیری کی ایک تحقیقی کتاب’مقالات حیدری‘ پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گئے۔کہ ان کی تحقیق کس حد تک منفرد و مستند ہے اور ساتھ ہی یہ بھی دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ ان کی تحقیق میں امتیازی خصوصیات کیا ہیں۔ اس کتاب میں شامل مقالات سب کے سب تحقیقی نوعیت کے ہیں۔ آیئے اس کتاب پر نظر ڈالتے ہیں۔

مقالات حیدری

مقالات حیدری ‘ فروری 1977میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کو نظامی پریس لکھنؤ نے شائع کیا۔ اکبرحیدری نے اس کتاب کو مرحوم راجہ صاحب محمد امیر احمد خان سے منسوب کیا ہے۔ ’مقالات حیدری‘ سات تحقیقی مقالوں کا مجموعہ ہے اس تحقیقی کام کے لیے اکبرحیدری کو راجہ صاحب محمود آباد کے نادرالوجود کتب خانے سے کئی برسوں تک استفادہ کرنا پڑا۔ اس کتاب میں جو مقالات درج ہیں وہ اس طرح سے ہیں۔

1       دیوان میر کا قدیم ترین مخطوطہ: (مع میر کے گمشدہ غیر مطبوعہ اشعار )

پروفیسر اکبر حیدری کشمیری کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ راجہ صاحب محمود آباد کے کتب خانے میں دیوان میر کے کئی نادرو نایاب اور کارآمد نسخے موجود ہیں ان ہی نسخوں میں سے ایک نسخہ قدیم ترین ہے جو 1213ھ مطابق 1786 میں میرسوز  کے شاگرد موتی لال حیف  کے ہاتھ کا مکتوبہ ہے۔ اس کے سنہ کتابت کے بعد میر 22سال تک زندہ رہے۔ اکبر حیدری کہتے ہیں کہ دیوان کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں سیکڑوں غیرمطبوعہ اشعار درج ہیں۔ جس سے میر کے حزن ویاس، دردوغم کا پتہ چلتا ہے۔

اکبر حیدری نے اس مقالے میں میر کا غیر مطبوعہ کلام بھی درج کیا ہے اور ساتھ ہی اس بات کی بھی جانکاری دی ہے کہ ان اشعار کو کلیات میر میں کہاں درج ہونا چاہیے تھا۔ اس نسخے کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ اس میں میر کی مشہور مثنوی ’مورنامہ ‘ بھی موجودہے۔ یہ مثنوی نسخۂ کلکتہ(1811)، نسخۂ نول کشور(1868)  اور نسخہ ٔ آسی (1940)  کے نسخوں میں موجود نہیں ہے۔ البتہ ڈاکٹر عبادت بریلوی نے ’کلیات میر ‘ کو1958 میں شائع کیا جس میںیہ مثنوی موجود ہے۔ اکبر حیدری کا دعوا ہے کہ یہ مثنوی پروفیسر گیان چند جین کو حیدر آباد میں کلیات میر کے ایک نسخے میں ملی اور انھوں نے اسے 1957میںرسالے میں شائع کیا۔ اور ڈاکٹر عبادت بریلوی نے اسی مثنوی کو ’کلیات میر‘ میں شامل کر کے شائع کیا۔ اکبر حیدری کا ماننا ہے کہ ان دونوں نے یہ مثنوی غلط متن کے ساتھ چھاپی ہے۔ اس حوالے سے اکبر حیدری کا اقتباس ملاحظہ کیجیے :

’’ راجہ صاحب محمود آباد کے کتب خانے میں میر کے دیوان پنجم کا ایک نادراور نایاب قلمی نسخہ ہے۔یہ مطبوعہ دیوان پنجم سے مختلف ہے۔ اس میں میر کا غیر مطبوعہ کلام بھی درج ہے۔ دیوان میں مثنوی مورنامہ بھی ہے۔ یہ مثنوی نسخۂ کلکتہ، نسخہ ٔ نول کشور اور نسخہ ٔ آسی میں شامل نہیں ہے۔ ڈاکٹر جین صاحب کو یہ مثنوی حیدرآباد میں کلیات میر کے ایک نسخے میں دستیاب ہوئی ہے۔ انھوں نے اسے اردو ادب مطبوعہ، جون 1957میں شائع کیا۔ اس کے ایک سال بعد ڈاکٹر عبادت بریلوی نے اسے کلیات میر میں شامل کرکے شائع کیا۔ دونوں حضرات نے یہ مثنوی غلط چھاپی ہے۔ غالباً جین صاحب کے پیش نظر خط شکستہ میں کوئی ناقص نسخہ رہا ہوگا۔ راقم کو اس مثنوی کا بالکل صحیح اور خوشخط نسخہ دستیاب ہوا ہے۔ کیونکہ یہ مثنوی بہت عمدہ، سبق آموز اور مزاج میر کا آئینہ دار ہے اس لیے یہ صحت کے ساتھ پہلی مرتبہ شائع کی جاتی ہے۔‘‘

مذکورہ اقتباس میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ میر  کی مثنوی ’ مور نامہ‘ صحیح متن کے ساتھ اکبر حیدری کی ہی تحقیق ہے۔لیکن اکبر حیدری نے جو پروفیسر گیان چندجین  کے حوالے سے کہا کہ انھیں یہ نسخہ حیدرآباد میں ملا ہوگا یہ غلط ہے کیوں کہ گیان چند جین نے اپنی کتاب ’اردو مثنوی شمالی ہند میں ‘ میں لکھا ہے کہ یہ مخطوطہ کلیات میر اسٹیٹ لائبریری رام پورمیں موجود ہے۔(ص 229)اکبر حیدری نے اس مقالے میں یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آسی ، ڈاکٹر عبادت بریلوی اور ظل عباس عباسی  نے یہ غلط کہا ہے کہ ان کے پیش نظر نسخۂ کلکتہ تھا کیوں کہ نسخہ ٔ کلکتہ نایاب ہے۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی نے مقدمہ کلیات میر میںجو غلط بیانی سے کام لیا ہے ان کا کہناحقیقت سے کوسوں دور ہے کہ انھوں نے حیدر آباد، علی گڑھ، رام پور اور محمود آباد کے کتب خانوںسے استفاد ہ کیا ہے۔ان دونوں نے کلیات میر کو نسخۂ آسی کی بنیاد پر مرتبہ کیا ہے۔ اقتباس ملاحظہ کیجیے:

’’ دراصل مرتبین نے کلیات میر کو نسخۂ آسی کی بنیاد پر بغیر کسی محنت و تحقیق کے نقل راچہ عقل کے طور پر جوں کا توں شائع کیا ہے۔ ان کا دعویٰ بالکل بے بنیاد ہے کہ انھوں نے نسخۂ کلکتہ سے استفاد ہ کیا ہے۔ اگر ان لوگوں نے نسخۂ آسی کے علاوہ اور کوئی قلمی نسخہ دیکھنے کی زحمت کی ہوتی کم ازکم فٹ نوٹ میں اختلاف ِ نسخ درج کرتے۔‘‘  

اکبر حیدری لکھتے ہیں کہ نسخۂ محمود آباد وہی دیوان ہے جس پر میر کو بڑا فخر تھا اور جس کے بارے میں میر نے پیش گوئی کے طور پر یہ شعر کہا تھا         ؎

جانے کا نہیں شور سخن کا مرے ہرگز

تاحشر جہاں میں مرا دیوان رہے گا

اکبرحیدری کے زیر نظر نسخۂ کلکتہ بھی رہاہے۔جس سے انھوں نے اس مقالے کے لیے بہت استفادہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نسخۂ کلکتہ میں میر کا سارا کلام موجود نہیں ہے۔جب انھوں نے نسخۂ کلکتہ کو نسخۂ محمود آباد کے نسخے سے ملایا تو معلوم ہوا کہ بعض غزلوں کی تعداد اشعار میں نمایاں فرق ہے یعنی نسخۂ کلکتہ اور دیگر مطبوعہ نسخوں میں تعداد کم اور نسخہ ٔ محمود آباد میں زیادہ ہے۔

میر تقی میر کے کلام کے بارے میں اکبر حیدری نے لکھا ہے کہ عام مشہور ہے کہ میر تقی میر کے کلام میں بہتّر نشتر ہیں لیکن اکبر حیدری کا ماننا ہے کہ کلیات میر میں صرف بہتّر(72) نشتر کا تعین کرنا میر  کے ساتھ ناانصافی ہے کیونکہ نسخۂ محمود آباد میں میر کے سیکڑوں اشعار ایسے ہیں جن میں سے ایک ایک شعر نشتر سے تیز تر ہے  اور یہ سب اشعار غیر مطبوعہ ہیں۔ مثال کے طور پر انھوں نے اپنی کتاب میں کچھ اشعار بھی پیش کیے ہیں۔دوسری بات نسخۂ کلکتہ میں مثنوی ’ جنگ نامہ ‘ بھی موجود نہیں ہے۔ 

نسخۂ محمود آباد میں بہت سارے اشعار غیر مطبوعہ موجود ہیں جو میر کے مزاج اور افتاد طبع کے آئینہ دار ہیں۔ اکبر حیدری نے ہر غزل کے فٹ نوٹ میں اختلاف ِ نسخ کے علاوہ ان تمام غیر مطبوعہ اشعار کی نشاندہی کی جو پہلی مرتبہ دریافت کیے گئے ہیں۔ مطبوعہ نسخوں میں اگر کسی شعر کے متن میں اغلاط ہیں تو فٹ نوٹ میں اس کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اکبر حیدری نے نسخۂ محمود آباد کو میر کاقدیم نسخہ بھی دلائل سے ثابت کر دیا ہے جومیر کی حیات میںلکھاگیا نسخہ ہے۔

مختصراً اکبر حیدری کی اس تحقیق سے ایک تومیرتقی میرکا غیر مطبوعہ کلام سامنے آیا۔دوسری بات جن مرتبین نے کلیات میر کو شائع کیا ان کی غلط بیانی کا ازالہ ہوا اور مثنوی مورنامہ کا صحیح متن بھی سامنے آیا۔ یہ ساری باتیں اکبر حیدری کی تحقیق سے وجود میں آئی۔

2        کلیات میرحسن کا قدیم ترین مخطوطہ مکتوبہ بہ قبل 1192ھ اور میر حسن  کا غیر مطبوعہ کلام

کلیات میرحسن کا قدیم ترین نسخہ موتی محل کو تسلیم کیا جاتا تھا۔ اس نسخے کو فیض آباد میں 1192ھ میں کسی کاتب نے لکھاتھا۔ اکبر حیدری نے جو مخطوطہ محمود آباد کتب خانے میں دیکھا ہے وہ موتی محل کے نسخے سے بھی پہلے 1183ھ میں لکھا گیا ہے۔ انھوں نے نسخہ ٔ موتی محل کے حوالے سے کہا کہ اس میں جو تین مثنوی رموزالعارفین (1188ھ)، گلزار ارم (1192ھ)، سحرالبیان (1199ھ) ہیں وہ نسخۂ محمودآباد میں درج نہیں ہیں۔ نسخۂ محمود آباد میں غزلوں اور قصیدوں کے علاوہ دو مثنویاں ہیں ایک مثنوی قصرجواہر اور دوسری مثنوی درکتخدائی(شادی) نواب آصف الدولہ بہادر ہے۔ قصرجواہر کا سال ِ تصنیف معلوم نہیں ہوسکا لیکن دوسری مثنوی آصف الدولہ بہادر کی شادی کے موقعے پر 1183ھ میں تصنیف ہوئی ہے۔ آصف الدولہ بہادر کی شادی کی تاریخ اودھ کی تاریخوں سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ آصف الدولہ کی شادی اسی سال ہوئی تھی۔

گلزار ارم اور سحرالبیان میرحسن  کے بعض نسخوں میں درج ہیں۔ان میں دیباچہ مصنف بھی شامل ہے۔ اکبر حیدری لکھتے ہیں کہ کلیات میرحسن نسخہ ٔ محمود آباد1192ھ سے قبل کا لکھا ہو انسخہ ہے۔ اس میں دیباچہ مصنف موجود نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میر حسن  نے مثنوی قصر جواہر 1192ھ سے پہلے ہی فیض آباد میں تصنیف کی تھی۔ یعنی اس مثنوی (قصرجواہر ) کا زیر نظر نسخے میں شامل ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ مصنف نے اسے فیض آباد میں لکھنؤ جانے سے پہلے ہی تصنیف کیا تھا۔ کلیات میرحسن  کے کئی نسخے ہندستان اور باہر کے بڑے کتب خانوں میں محفوظ ہیں۔

کلیات میرحسن کا ایک نسخہ برٹش میوزیم لند ن میں محفوظ ہے۔ایک نسخہ مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کے کتب خانے میں بھی محفوظ ہے۔یہ نسخہ پہلے نواب حبیب الرحمن خان شروانی صدریار جنگ کی ملکیت میں تھا۔ایک نسخہ لکھنؤ میں خاندان ِانیس کے ایک فرد میر محمد ہادی لائق کے پاس موجود ہے۔ پروفیسر سید مسعود حسن رضوی نے اسی نسخے سے استفادہ کیا اور کلیات میرحسن پر ایک مبسوط مقالہ لکھا ہے۔

جو نسخہ کلیات میرحسن کا محمود آباد کے کتب خانے میں محفوظ ہے،  اس میں نہ کاتب کا نام اور نہ ترقیمہ کہیں درج ہے۔ اکبر حیدری لکھتے ہیںکہ جہاں تک معلوم ہوتا ہے کلیات کا یہ نسخہ بہت پرانا ہے اورفیض آباد میں 1192ھ  سے پہلے مصنف نے خود ہی مرتب کیا ہے۔اس کے لیے انھوں نے اپنے دلائل بھی پیش کیے ہیں۔

3     کلیات انشا : دو نادرنسخے مع انشا کا غیر مطبوعہ کلام

کلیات انشا کے چند مخطوطے رام پور، علی گڑھ، پٹنہ اور حیدر آباد کے کتب خانوں میں محفوظ ہیں۔ ایک نسخہ انڈیا آفس لندن میں بھی ہے۔ کلیات انشا کا قدیم ترین مطبوعہ نسخہ جو ہے وہ مولوی محمد حسین آزاد  کے اہتمام سے 1671ھ مطابق 1855 میں دہلی اردو اخبار میں چھپا تھا۔ اس کے بعد دوسرا ایڈیشن 1293ھ مطابق 1876میں لکھنؤ نول کشور میں شائع ہوا۔ پھر 1312ھ مطابق1894 لکھنؤ میں، آخر میں مرزا محمد عسکر ی نے 1951 میں ’کلام ِانشا‘ کے عنوان سے بڑی کاوش و محنت سے مختلف قلمی و مطبوعہ نسخوں کی مدد سے ترتیب دیا جسے ہندستانی اکادمی الہ آباد نے 1952میں شائع کیا۔

جہاں تک محمودآباد کتب خانے کا تعلق ہے اکبر حیدری کا کہنا ہے کہ محمود آباد کتب خانے میں کلیات انشا ؔکے دو قدیم اور نادر الوجود مخطوطے اچھی حالت میں موجود ہیں۔ دونوں نسخے اہم اور مکمل ہیں اہم اس لیے کہ ان میں انشا  کاغیر مطبوعہ کلام بھی موجود ہے۔

کتب خانہ محمود آباد میں کلیات انشا کا نسخہ ٔاول 1242ھ کامکتوبہ ہے۔ اس نسخے میں پہلے انشا کا فارسی کلام ہے ایک مثنوی ’شیر برنج‘ کے نام سے درج ہے۔ یہ مثنوی 1205ھ میں تصنیف کی گئی ہے پھر قصائد ہیں اور فارسی اور اردومیں کہی گئی رباعیاں بھی درج ہیں رباعیوں کے بعد کچھ تاریخیں بھی موجود ہیں۔ نیز فارسی میں نواب سعادت علی خان کی تعریف میں مثنوی ’شکار نامہ‘ بھی درج ہے جو 1220ھ میں تصنیف کی گئی تھی۔نسخہ ٔ ثانی کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ مصنف کے مسودہ سے نقل کیا گیا ہے۔ اسی کتب خانے میں ’مثنوی شیربرنج ‘ بھی ہے جو مصنف کے ہاتھ کی لکھی ہے۔ اکبر حیدری نے انشا کا غیر مطبوعہ کلام بھی اس کتاب میں درج کیا ہے۔

کلیات انشا  کے قدیم نسخے میں مثنوی ’ مرغ نامہ‘ کے چھیالیس شعر درج ہیں۔ ’ کلام انشا ‘ میں مرزاحسن عسکری نے بیالیس شعر نقل کیے ہیں۔ جب کہ اکبر حیدر ی کہتے ہیں کہ نسخۂ محمود آباد میں دو سو انتالیس (239) شعر موجود ہیں۔دوسری بات پروفیسر گیان چند جین کی رائے ہے کہ انشا  کی طویل ترین اور مفصل مثنوی ’ فیل‘ ہے لیکن اکبر حیدری کا کہنا ہے کہ جو محمود آباد کے’کلیات انشا‘کا نسخہ ہے اس کے مطابق ’مرغ نامہ‘ طویل ترین مثنوی ہے۔ بقول اسپرنگر یہ مثنوی 1210ھ میں تصنیف کی گئی ہے۔ اکبرحیدری کہتے ہیں کہ انشا کی تمام مثنویوں میں بس صرف یہی ایک مثنوی ہے جو بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے لگ بھگ ایک سو پچانوے شعر غیر مطبوعہ ہیں۔ یہ پوری مثنوی اکبر حیدری نے اپنی اس کتاب میں شامل کی ہے۔ 

 4     ناسخ  اور کلیات ناسخ: مع غیر مطبوعہ کلام

دیوان ِ ناسخ  کے تین مخطوطے لکھنؤ یونی ورسٹی میں موجود ہیں۔ کچھ محقق دیوانِ  ناسخ کی پہلی اشاعت 1262ھ کہتے ہیں۔ دراصل پہلی مرتبہ دیوان ناسخ  404صفحات پر مشتمل ناسخ  کے مشہور شاگرد رشک لکھنوی کی نگرانی میں 1258ھ میں شائع ہوا۔ اس دیوان میں رشک کا مرتب کیا ہوا غلط نامہ بھی موجود ہے۔دیوان کے صفحہ 399پر ناسخ  کی وفات درج ہے۔ لیکن اکبرحیدری کا دعوا ہے کہ جو نسخہ ان کو ملا ہے وہ اس سے پہلے کا لکھا ہوا ہے۔اکبر حیدری نے اس مقالے میں ناسخ  کے حالات ِ زندگی تفصیل سے معتبر ذرائع سے اخذ کرکے قلم بند کیے ہیں۔ ان کی نظروں سے بہت سے نسخے گزرے ہیں۔ جن میں سے نسخۂ محمود آباد سب سے پرانا اور مستند مخطوطہ ہے جس کی کتابت 1239ھ سے پہلے کی گئی ہے۔ جس میں 1238ھ تک ناسخ  کا کلام درج ہے۔ اکبر حیدری کہتے ہیں کہ اس دیوان میں ناسخ کے مشہور شاگرد نواب حسین علی خان تخلص اثرکی مہر یں موجود ہیں اور ان میں 1244ھ کی تاریخ نمایاں ہے۔ دیوان بڑا ہی دیدہ زیب اور شاندار خط میں لکھا گیا ہے۔ اس میں 1238ھ تک کی اہم تاریخیں بھی د رج ہیں۔ جو مطبوعہ نسخوں میں موجود نہیں ہیں۔اس نسخے میں ناسخ کا غیر مطبوعہ کلام بھی موجود ہے اس کے علاوہ دیوان ناسخ  کے مطبوعہ نسخے 1258ھ پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ نسخۂ محمود آبادکا تیسرا مخطوطہ ناقص الطرفین ہے۔اکبر حیدری نے نسخوں کا سائز اور دوسری جانکاری بھی اس کتاب میں دی ہے۔

5       شاہ نامہ فردوسی کا قدیم ترین مخطوطہ : نسخۂ بایٔسنقر مکتوبہ 868ھ

شاہ نامہ فردوسی پہلی مرتبہ کلکتہ سے قدیم اور مستند نسخوں سے مرتب کیا گیا۔ یہ کپتان ترنرمکان نے 1245ھ مطابق 1829میں مولوی سعید رام پوری کے اہتمام سے چار جلدوں میں شائع کی تھی۔ ابتدا میں دیباچہ بایٔسنقر بھی شامل ہے۔اس میں محمود غزنوی کے خلاف 105ہجویہ اشعار بھی درج ہیں۔ کتاب شاہ نامہ فردوسی دوسری مرتب 1275ھ مطابق 1858 میں بمبئی میں تین جلدوں میں چھپی تھی۔ اس میں دیباچہ بایٔسنقر کے علاوہ دبیاچہ مطبع محمد ابراہیم الطباطبائی الاصفہائی کا لکھا ہوابھی شامل ہے۔

اکبر حیدری کو کتب خانہ محمود آباد میں ’شاہ نامہ فردوسی ‘ کاقدیم ترین مخطوطہ نسخہ ٔ بایٔسنقر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ نسخہ مرزا شاہ رخ کے بیٹے اور صاحبِ قرآن امیر تیمور کے پوتے مرزا بایٔسنقر نے 868ھ مطابق 1425 اپنے درباری شعرا سے متعدد نسخوں سے تصحیح کراکے مرتب کرایا تھا اور بایٔسنقر نے اس پر ایک مبسوط اور معلوماتی دیباچہ بھی لکھوایا تھا۔ ابتدا میں شاہ نامہ کا دیباچۂ قدیم سالِ تصنیف346ھ مطابق 957ئ بھی درج ہے۔

اکبر حیدری نے کل چار قلمی نسخے دیکھے۔ دو نسخے محمود آباد کتب خانے میں اور دو ریاست جموں وکشمیر کے محکمۂ ریسرچ سری نگر میں۔ ان میں سے وہ مخطوطہ قدیم ترین ہے جو مرزا بایٔسنقر 828ھ مطابق 1425 کا ہے۔ یہ مخطوطہ جو اب نسخہ ٔ بایٔسنقرکے نام سے راجہ صاحب محمود آباد کے کتب خانے میں محفوظ ہے،  اس کتب خانے میں اس کا دوسرا نسخہ بھی 963ھ کا مکتوبہ موجود ہے۔اکبر حیدری کی تحقیق کے مطابق نسخہ ٔ دوم فردوسی کے شاہ نامے کا قدیم ترین مخطوطہ ہے جو راجہ محمود آبادکے کتب خانے کی زینت بن چکا ہے۔مخطوطے کی جلد بڑی خوبصورت ہے اور اس پر کشمیری پیپرماشی کا کام کیا ہوا ہے۔

شاہ نامے کے کئی قلمی اور پرانے نسخے لندن، کیمبرج، پیرس اور برلن کے کتب خانوں میں محفوظ ہیں۔ ان میں سب سے قدیم نسخہ برٹش میوزیم لندن میں ہے جس کا سالِ تصنیف 841ھ مطابق 1438ہے۔

اکبر حیدری نے پاکستان کے حکیم شمس اللہ قادری سے اختلاف رائے کیا ہے کہ انھوں نے ’ شاہ نامہ فردوسی ‘ کے جس نسخے سے استفادہ کیا وہ ہندستان کا واحد نسخہ نہیں ہے۔ دوسری بات پروفیسر شیرانی کہتے ہیں کہ شاہ نامے کا دیباچۂ قدیم کم و بیش دوصدی کے بعد تصنیف کیا گیا تھا۔ جب کہ شمس اللہ قادری کی تحقیق ہے کہ یہ 306ھ میں لکھا گیا تھا۔ نسخہ ٔ بایٔسنقر کے علاوہ نسخہ ٔ محمود آباد اور نسخۂ سری نگر میں اس کا سال تصنیف346ھ درج ہے اسے علامہ قزوینی نے بھی تسلیم کیا ہے۔ دیباچہ قدیم کے شان ِ نزول کے بارے میں نسخہ ٔ بایٔسنقر میں لکھاگیا ہے کہ 301ھ تا 912ھ تک ابو منصور محمد بن عبدالرزاق طوسی نے اپنے وزیر ابومنصور المعمری سے نثر میں شاہ نامہ لکھنے کی فرمائش کی تھی۔ ابومنصور المعمری نے 346ھ میں اسے مکمل کیاتھا۔

6       تذکرۂ مخزن الغرائب کا قدیم ترین نسخہ

تذکرۂ مخز ن الغرائب شیخ احمد علی ہاشمی سندیلوی کا لکھا ہوا تذکرہ ہے اس میں فارسی کے شعراکا ذکرکیا گیا ہے۔ اس تذکرے کے کچھ نسخے پٹنہ، رام پوراور اعظم گڑھ کے کتب خانوں میں موجود ہیں۔ اس تذکرے کا سالِ تصنیف 1218ھ مطابق 1803ہے۔ اکبر حیدری نے محمود آباد کتب خانے میں اس تذکرے کے دو قدیم ترین نسخے دیکھے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں مکمل ہیں اور 1219ھ کے لکھے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں نسخے غیرمطبوعہ ہیں۔ اس مقالے میں اکبر حیدری نے ان نسخوں کو قدیم ترین نسخے ثابت کیے ہیں۔

تذکرۂ مخرن الغرائب کے دونوں نسخے کئی کاتبوں کے ہاتھ کے لکھے ہوئے ہیں۔ لیکن دونوں کا ترقیمہ ایک ہی کاتب نے لکھا ہے۔ مخطوطے میں بعض مقامات پر کاتب شاعرکا نام اور تخلص لکھنا بھول گیا ہے۔اکبرحیدری لکھتے ہیں کہ اس تذکرے کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ غالباً شیخ احمدعلی ہاشمی پہلے تذکرہ نویس ہیں جنھوں نے کشمیری فارسی شعرا کی اچھی خاصی تعداد میں ذکر کیا ہے۔ ڈاکٹر اسپرنگر نے مخزن الغرائب کا نام ’ مجمع الغرائب ‘ لکھا تھا لیکن دیباچے میں مصنف نے کہیں اس کا ذکر نہیں کیا ہے۔ قطعہ تاریخ میں مخزن الغرائب ہی لکھا ہے۔ دوسرے جو بھی مخطوطے ہیں وہ سب نامکمل ہیں۔ ڈاکٹر اسپرنگر نے اودھ کیٹلاگ میں مخطوطہ نمبر 27کے تحت اس تذکرے کا ذکر کیا ہے۔ اسپرنگر نے تذکرے کا سال تصنیف نہیں لکھا اور شعرا کی تعداد قیاساً 3061بتائی ہے۔ لیکن جو مخطوطہ محمودآباد کا ہے اس میں کل شعرا کی تعداد 3075ہیں۔ بقول اکبر حیدری مخطوطے میں خامی یہ بھی ہے کہ فہرست میں جن شعرا کے نام کے ساتھ صفحے درج ہیں وہ بھی غلط ہیں۔

7       میر غلام علی آزاد  بلگرامی اور غالب الہ آبادی کی بعض نایاب تحریریں بخط مصنّفین

اکبر حیدری نے محمود آباد کے کتب خانے میں ایک ’بیاض غالب ‘ کا مخطوطہ، غالب  الہ آبادی کے ہاتھ کا لکھا دیکھا ہے۔یہ بیاض قدیم ترین ہے۔ اس میں میر غلام علی آزاد بلگرامی اور غالب الہ آبادی دونوں بزرگوں کی تحریریں موجود ہیں جو 1147ھ میں لکھی گئی ہے۔ اکبر حیدری نے اپنے اس مقالے میں ان دونوں کے حالات ِ زندگی اور ان کی تصنیفات پر روشنی ڈالی ہے۔مقالے میں ان کی تحریروں کا عکس بھی شامل ہے۔ یہ ’بیاض غالب‘ اس لیے بھی اہم ہے اس میں مصنف نے غزلوں کے ساتھ تاریخیں بھی لکھیں ہیں۔

الغرض اس کتاب ’مقالات حیدری ‘ میں جو بھی مقالات ہیں۔ وہ سب اردو ادب میں اضافے کے طور پر ہیں۔ اس میں انھوں نے دیوان میر کا قدیم ترین مخطوطہ، کلیات میر حسن کا قدیم ترین مخطوطہ،کلیات انشا کے دو نادر نسخے، ناسخ اور کلیات ناسخ، شاہ نامہ فردوسی کا قدیم ترین مخطوطہ، تذکرہ مخزن الغرائب کا قدیم ترین نسخہ اور میر غلام آزاد بلگرامی  اور غالب آلہ ابادی کی بعض نایاب تحریروں کا جو تحقیقی جائز ہ لیاوہ قابل اعتبار ہے۔تحقیقی دعواکرنا کوئی سہل بات نہیں ہے اس کو دلائل سے ثابت کرنا پڑتا ہے جس میں اکبرحیدری کھرے اترتے ہیں۔ان کی یہ کتاب اردو کی تحقیق میں ایک اضافہ اور انمول حیثیت رکھتی ہے۔

مختصراً پروفیسر اکبر حیدری کشمیری کی تحقیقی نظرنے بے شمار پوشیدہ ادبی سرمایے کی کھوج کی۔ اکبرحیدری کی خدمت یاد رکھے جانے کے لیے کافی ہے کہ انھوں نے پردہ خفا میں کئی شعرا کا کلام اردو دنیا سے متعارف کرادیا۔ برصغیر کے اہم محققوں میں بھی ان کا نام گناجاتا ہے۔ انھوں نے جو مرثیہ یا دوسری شخصیات پر تحقیقی کام انجام دیا ہے وہ تا ابد انھیں زندہ جاوید رکھے گا۔

 

Sofi Sajad

Research Scholar

University of Hyderabad

Hyderabad - 500046 (Telangana)

Mob.: 6005000136

 

 


 


16/2/22

اردو ادب میں خواتین کا کردار - مضمون نگار : صبا زہرا رضوی

 



 

یوں تو زندگی کے  ہر شعبے میں خواتین نے اپنی نمائندگی کو یقینی بنایا ہے لیکن ادب سے ان کی دلچسپی اس لیے زیادہ رہی ہے کہ ادب زندگی کا آئینہ ہے اور اس آئینے میں خواتین کا چہرہ نظر نہیں آتا تو ادب بے مایہ ہو جاتا۔ زندگی کی طرح ادب کا محل بھی وجود زن سے قائم ہے۔ اس حقیقت کے باوجود اردو ادب کے تناظر میں خواتین کا چہرہ ایک زمانے تک گرد وغبار سے ڈھکا رہا۔ہمارے ملک میں صنف نازک سے تغافل کی پرانی روایت رہی ہے۔ اردو ادب کے آغاز میں بھی اس روایت کی پاسداری نظر آتی ہے۔ اردو کے تعلق سے اب یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اردو زبان کے ابتدائی نقوش دہلی اور اطراف دہلی میں ملتے ہیں جبکہ اردو ادب کے ابتدائی نقوش دکن کی سرزمین میں نظر آئے۔ دکن میں اردو ادب کا جو ابتدائی سرمایہ ہے اس میں خواتین بطور مصنف اور شاعر نظر نہیں آتی ہیں لیکن بطور سرپرست ان کی خدمات نمایاں ہیں۔

اُردو ادب میں خواتین کے بڑھتے رجحان کی نشاندہی دو سطح پر کی جا سکتی ہے۔ ایک تصنیف و تالیف اور تخلیق کی سطح پر اور دوسری بطور قاری حصہ داری کے طور پر۔ ہر دو سطح پر خواتین کی حصہ داری کا رجحان بیسویں صدی کی پہلی دہائی سے ہی زیادہ واضح نظر آنے لگا۔ ادب کی تخلیق کے ساتھ ساتھ اردو ادب پڑھنے کا رجحان بھی خواتین میں تیزی سے بڑھا ہے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ اکیسویں صدی کی اِن دو دہائیوں میں تو خواتین نے اردو ادب کے منظر نامے پر اپنی بھرپور اور با معنی موجودگی درج کرائی ہے۔ نئی مواصلاتی ٹیکنالوجی کے عام ہونے سے بھی خواتین میں اردو ادب پڑھنے کا رجحان بڑھا ہے۔ رسائل و جرائد کے آن لائن ایڈیشن نے خواتین میں اردو ادب پڑھنے کے شوق کو پروان چڑھایا ہے۔ بیسویں صدی کی تیسری و چوتھی دہائی میں جب ہندوستان میں ریڈیو کا چلن عام ہونے لگا تو یہ بات سامنے آئی کہ اب کتاب و رسائل پڑھنے کا چلن ختم ہو جائے گا یا کم ہو جائے گا۔ لیکن جس رفتار سے ریڈیو نے ترقی کی اسی رفتار سے اردو ادب کی کتابیں بھی منظر عام پر آنے لگیں۔

دنیا ترقی کی راہوں پر آگے بڑھ رہی ہے۔ قوم تہذیب کی بلندیوں کے نزدیک پہنچ رہی ہے۔ سماج وسیع النظر ہو رہا ہے۔ لوگوں کا معیار زندگی بلند ہو رہا ہے۔ معاشرہ ترقی یافتہ ہونے پر فخر محسوس کر رہا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ خواتین ہمیشہ اور ہر دور میں فعال رہی ہیں اور انھوں نے ہر میدان میں اپنی عظمت کے پرچم کو بلند کیا ہے۔ خواتین نے اپنی فضیلت، حیثیت، صلاحیت کو ہمیشہ تسلیم کرایا ہے۔

اردو کی بقائ میں خواتین نے اہم رول ادا کیا ہے۔ تاریخ ادب اردو کا جائزہ لیا جائے تو اردو ادب میں خواتین اہم کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں۔ یہ بات دیگر ہے کہ بعض وجوہات کی بنا پر لا تعداد خواتین کے نام، ان کی کوششیں، صلاحیتیں منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔ پروین شاکر، عفت موہانی، جیلانی بانو، قرۃ العین حیدر، عطیہ پروین، ہاجرہ شکور، بانو سرتاج، عصمت چغتائی، امر تاپریتم، مسرور جہاں، رفیعہ منظو ر الا مین، صغریٰ مہدی، امراؤ جان ادا، زہرہ نگاہ، ساجدہ زیدی، انجم رہبر اور واجدہ تبسم اردو ادب کے وہ نام ہیں جن پر اردو کو ناز ہے۔ 

اردو شاعری ہو یا دنیا کی دوسری زبانوں کی شاعری، اس میں خواتین کا حصہ کم ہے، لیکن ہندوستان میں بالغ نظر شاعرات کا فقدان نہیں ہے۔ پروفیسر زاہدہ زیدی، پروفیسرساجدہ زیدی کی ادبی خدمات مردوں سے کم نہیں ہیں، ڈاکٹررفیعہ شیخ عابدی، پدم شری ممتاز مرزا، عزیز بانو داراب و فا علم و ادب کا بڑا نام ہیں۔ مسعودہ حیات، جمیلہ بانو، نسیم مخموری، شہناز ہنی، نسرین نقاش، ملکہ نسیم، ڈاکٹر نسیم نکہت، ریحانہ نواب، ڈاکٹر ذکیہ انجم شاعرات اپنی ادبی شناخت رکھتی ہیں۔ مشاعروں کے حوالے سے ساحرہ قزلباشی، تسنیم صدیقی، ترنم کانپوری،ثریا رحمانی، انجم رہبر، حنا تیموری، شانتی صبا،عارفہ شبنم، ریحانہ شاہین، سنبل فیضانی، ایکتا شبنم نے اپنا مقام بنایا ہے۔ ان کے علاوہ نزہت پروین بھاگلپور، رباب جعفری بمبئی، سید ہ شان معراج شاہجہانپوری، بیگم ممتاز امید بھوپال،نصرت مہدی،بشریٰ پروین علی گڑھ، ممتاز نازاں (بمبئی)،علینہ عترت (نوئیڈا)، پروفیسر مہ جبیں سیتا مڑھی، فہمیدہ ناز مالیگاؤں، بیگم ممتاز بنگارپیٹ، نمّی رضا پورنیہ، سیدہ نسرین نقاش نوا کول سری نگر، حنا نیازی برنپور (مغربی بنگال)، تبسم پرویز سنبھل، شگفتہ طلعت، سیما  کولکاتہ، فاطمہ تاج حیدر آباد، راشدہ رخسانہ کودگ(ایم پی)، ڈاکٹر شبانہ نذیر (نئی دہلی)، ڈاکٹر عفت  زریں، سعدیہ انصاری(بمبئی)، سیدہ عنوان چشتی، صبوحی پروین (مونگیر)، قریشہ بانو روحی (لکھنؤ)، صابرہ نکہت (لکھنؤ)،عظیمہ نشاط نگینوی(نگینہ)، غزالہ مسرور (چمپارن)، حناانجم (بلرام پور)، قمر قدیر ارم،مینا نقوی (مرادآباد)، صبا بلرامپوری (بلرام پور) وغیرہ خواتین اردو شاعری میں طبع آزمائی کر رہی ہیں۔

اردو شاعری میں اودھ کی شاعرات کا بڑا نام ہے۔ وقا ر فاطمہ اختر جائسی، انیس بانو انیس لکھنو ی،پار سا لکھنوی، سیدہ خیر النسائ بہتر،معصومہ تسنیم ملیح آبادی، جانی بیگم، جعفری لکھنوی، دلہن فیض آبادی، خورشید لکھنوی، کنیز فاطمہ حیا لکھنوی، حور لکھنوی، حسر ماں خیر آبادی، شیبہ لکھنوی، شیریں لکھنوی، زینت زہرہ خیر آبادی، زیبا کاکوری، مہک لکھنوی،ناز سندیلوی، نیہا ردولوی، ناز لکھنوی وغیرہ کے نام اودھ کی شاعرات کی تاریخ میں بمع کلام ملتے ہیں۔اردو ادب کی ابتدائ میں خواتین شاعری کا بڑا ذخیرہ ہے۔

افسانہ نگاری کی شروعات بیسوی صدی میں ہوئی۔ افسانہ نگار خواتین کو ہندوستان کے ادب کا منظر نامہ فراموش نہیں کر سکتا ہے ڈاکٹر رشید جہاں اردو کی پہلی خاتون افسانہ نگار سمجھی جاتی ہیں۔ ان کے بعد حجاب اسمٰعیل اور نذر سجاد حیدر کے افسانے اردو میں نظر آئے۔ اردو افسانہ نگاری میں عصمت چغتائی کا نام اہمیت کا حامل ہے۔صدیقہ بیگم سیوہاروی نے بھی کئی اردو افسانے لکھے۔ شکیلہ اختر کے افسانوں کی کتاب ’’درپن‘‘ اردو افسانہ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ گیان پیٹھ ایوارڈ یافتہ اردو کی منفرد افسانہ نگار قرۃ العین حیدر نے اردو ہی نہیں،ہندوستانی ادب کے فکشن میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ رضیہ سجاد ظہیر کے افسانے ترقی پسندانہ نظریات کے حامل ہیں۔ صالحہ عابد حسین اردو کی موقر افسانہ نگار ہیں۔ سلمیٰ صدیقی نے متو سط طبقہ کی زندگی پر افسانے لکھے۔ ان کے علاوہ حیدر آبادکے فرخندہ باد کی جہاں بانو نقوی، زینت ساجدہ، نجمہ نگہت کے نام سامنے آتے ہیں۔ جیلانی بانو ترقی پسند تحریک کی پروردہ ہیں۔ حیدر آباد کی مشہور افسانہ نگار واجدہ تبسم کے افسانے موضوع سخن بنتے رہے۔ عفت موہانی، آمنہ ابو الحسن، رفیعہ منطور الامین، الطاف، کوثر جہاں، وسیم بانو قدوائی، فرحت جہاں، کشور جہاں، سعیدہ سلمیٰ، ڈاکٹر شمیم نکہت، حمیرہ اقبال، حسن بانو، صائمہ ضنّور، مہناز وغیرہ کے نام نمایاں طور پر آتے ہیں۔

ناول ادب کی انتہائی اہم صنف ہے۔خاتون ناول نگاروں نے بیسوی صدی کے آغاز میں ناول کی تخلیق کی۔ آج کئی خاتون ناول نگار بین الا قوامی شہرت کی مالک ہیں۔ ابتدائی خاتون ناول نگاروں نے اپنے ناولوں میں عورتوں کے بنیادی مسائل کو جگہ دی ہے۔ اس ضمن میں محمد بیگم کے ناول ’’آجکل‘‘،’’سگھڑھ بیٹی‘‘اور’’شریف بیٹی‘‘طیبہ بیگم کا ناول ’’انوری بیگم‘‘قابل ِذکرہیں۔ نذر سجاد کا ’’اختر النسائ‘‘ میں عورتوں کی تعلیم و تربیت پر کافی زور دیا گیا ہے۔

عطیہ پروین اور بشریٰ رحمن اس دور کی مقبول ناول نگار ہیں۔ مسرور جہاں کا ناول اجالے، اچانک، عفت موہانی کا ناول بھور، پھول، مینا ناز کا ناول ’’بدنام‘‘ دیبا خانم کا ناول’’پتھر کے صنم‘‘رضیہ بٹ کا ’’روپ‘‘ جمیلہ ہاشمی کا ناول’’داغِ فراق‘‘ وغیرہ مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔

 ٹیکنالوجی کی مدد سے آج خواتین جو ادب پڑھ رہی ہیں اس کے اعلیٰ درجہ کے ادب ہونے میں یقینا شک ہے۔ لیکن ادب کی درجہ بندی ناقدین ادب کا کام ہے۔ ادب عالیہ، لوک ادب، تفریحی ادب، جاسوسی ادب، سِرّی ادب، پاپولر لٹریچر یا کوئی بھی ادب پڑھنے کا رجحان اگر خواتین میں بڑھ رہا ہے تو یہ خوش آئند بات ہے۔ خواتین میں اردو ادب پڑھنے کا رجحان جس تیزی سے بڑھے گا اسی تیزی سے ان کی زندگی میں مثبت تبدیلی رونما ہوگی۔ اردو ادب کی جتنی اصناف ہیں ان میں غزل، ناول اور افسانہ ایسی اصناف ہیں جنھیں خواتین دلچسپی سے پڑھتی ہیں۔ قصیدہ، مرثیہ، مثنوی یا سفر نامہ جیسی اصناف عام طور پر وہی خواتین پڑھتی ہیں جنھیں کسی کالج یا یونیورسٹی کی نصابی ضرورتوں کو پورا کرنا ہو۔افسانہ اور ناول کا معاملہ یہ ہے کہ بانو قدسیہ، عصمت چغتائی، واجدہ تبسم اور رضیہ بٹ جیسی فکشن لکھنے والیوں کی کتابیں آج بھی ہزاروں کی تعداد میں فروخت ہو رہی ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اردو میں ناول نگاری کا آغاز کرنے والے ڈپٹی نذیر احمد اور مصور غم کے لقب سے نوازے گئے راشد الخیری جس طرح خواتین کی اصلاح کے لیے ناول اور افسانے لکھ رہے تھے، اس کی آج ضرورت نہیں ہے۔ آج کا سماج،خواتین کے لیے وہ سوچ نہیں رکھتا ہے جو راشد الخیری کے زمانے میں تھا۔ آج کی خوا تین  اپنے حقوق سے  واقف ہیں اور اپنی زندگی کی سمت و رفتار طے کرنے کی قوت اور صلاحیت رکھتی ہیں۔

اردو ادب کی تخلیق میں خواتین نے جو کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں اس پر اکثر گفتگو ہوئی ہے، مضامین اور مقالے لکھے گئے ہیں، کتابیں بھی شائع ہوئی ہیں۔ اردو ادب کی تاریخ کے ہر دور میں خواتین کی حصہ داری رہی ہے۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اس حصہ داری کا تناسب بہت کم رہا ہے۔ اردو شاعری میں خواتین کی بات آتی ہے تو ہم مہ لقا بائی چندا سے پروین شاکر تک درجنوں نہیں سیکڑوں نام گنوا دیتے ہیں۔ لیکن کیا اردو شاعری کی تاریخ میں میر،  غالب  اور اقبال  کے مقام و مرتبہ کی کوئی شاعرہ نظر آتی ہے؟ شاید نہیں۔ اس کی تاریخی، سماجی،ثقافتی اور نفسیاتی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن حقیقت تبدیل نہیں کی جا سکتی ہے۔  شاعری کے مقابلے اردو فکشن نگاری میں خواتین کے کارنامے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ بات پاپولر ادب کی ہو یا اعلیٰ ادب کی، ہر دو سطح پر خواتین نے اپنی ناقابل فراموش موجودگی درج کرائی ہے۔ رضیہ بٹ، بشریٰ رحمن، عفت موہانی اور واجدہ تبسم جیسی فکشن لکھنے والی خواتین نے اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔ ان کے قارئین کی تعداد لاکھوں میں رہی ہے۔ اردو افسانہ اور ناول کے حوالے سے صرف عصمت چغتائی اور قرۃ العین حیدر کا نام لکھ دیا جائے تو تاریخ کے صفحات پرچاند سورج کی طرح نظر آئیں گی۔ حالانکہ حیدر آباد دکن کی رہنے والی طیبہ بیگم نے بیسویں صدی کی پہلی دہائی میں ہی تین ناول لکھ کر یہ واضح کر دیا تھا کہ اردو فکشن کے میدان میں خواتین بڑے کارنامے انجام دیں گی۔ طیبہ بیگم کے راستے پر چل کے ہی بنت نریندر ناتھ برج کماری، حجاب امتیاز علی، اور نذر سجاد حیدر جیسی خواتین نے اردو ناول کو کچھ نئے موضوعات دیے۔

اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک نے خواتین کو ایک نیا پلیٹ فارم عطا کیا۔ لکھنؤ میں ترقی پسند تحریک کے پہلے جلسے میں بطور صدر منشی پریم چند نے جو خطبہ دیا اس نے اردو ادب کی سمت و رفتار کا کسی حد تک تعین کر دیا۔ یہاں منشی پریم چند نے حُسن کا معیار بدلنے کا جو تاریخی جملہ کہا اس نے خواتین کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔ ترقی پسند تحریک نے خواتین میں خود اعتمادی پیدا کی۔ انھیں ادب کی دنیا میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔ اسی حوصلے نے ڈاکٹر رشید جہاں سے وہ افسانے لکھوائے جن کو پڑھ کر سماج کا ایک طبقہ بلبلا اُٹھا۔ ڈاکٹر رشید جہاں، رضیہ سجاد ظہیر، عصمت چغتائی اور واجدہ تبسم جیسی فکشن نگاروں نے سماج کو آئینہ دکھانے کا کام کیا۔ شجر ممنوعہ کو چھونے کا حوصلہ دکھایا۔ انھیں کے ساتھ قرۃ العین حیدر اپنی ایک الگ دنیا آباد کرتی ہیں۔ ’’یہ غازی یہ تیرے پُر اسرار بندے‘‘ اور ’’فوٹو گرافر‘‘ جیسے لازوال اور شاہکار افسانے لکھ کر قرۃالعین حیدر نے اردو فکشن کو عالمی فکشن میں ممتاز مقام عطا کر دیا۔ اس فہرست میں جیلانی بانو، ہاجرہ مسرور، خدیجہ مستور، بانو قدسیہ، جمیلہ ہاشمی، اور سلمیٰ صدیقی جیسی اعلیٰ پائے کی فکشن نگاروں کے نام بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ سبھی بیسویں صدی کی اہم اردو ادیبائیں ہیں جنھوں نے اردو ادب کے دامن کو مالامال کیا ہے۔ اکیسویں صدی کی دو دہائیوں پر نظر ڈالیں تو اردو ادب کے تئیں خواتین میں جو رجحان بڑھا ہے اس میں جدید موضوعات پر لکھنے والی خواتین کا بہت اہم کردار ہے۔ ذکیہ مشہدی، ثروت خان، صبیحہ انور، ترنم ریاض اور نگار عظیم جیسی فکشن نگاروں نے نئے موضوعات کو اپے افسانوں اور ناولوں میں جگہ دی ہے۔ نئی نسل کی خواتین میں اردو ادب پڑھنے کا جو رجحان نظر آتا ہے اس کی بڑی وجہ یہی خواتین افسانہ نگار ہیں۔ آج کی خواتین جن مسائل سے دوچار ہیں، ان مسائل کو مرکز میں رکھ کر جو فکشن لکھا جا رہا ہے وہ مقبول بھی ہو رہا ہے اور اس کی معنویت بھی ظاہر ہو رہی ہے۔

 مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ اردو ادب میں خواتین کا بڑھتا رجحان ایک خوش آئند بات ہے۔ تخلیق، تحقیق اور تنقید کی سطح پر خواتین آج پہلے سے زیادہ سرگرم نظر آرہی ہیں۔ حکومت ہند کی جانب سے ’’خواتین دنیا‘‘ جیسے رسائل شائع ہو رہے ہیں۔ خواتین اہل قلم کی اپنی تنظیمیں اردو ادب کے میدان میں سرگرم ہیں۔ بطور قاری بھی خواتین کی سرگرمی قابل ستائش ہے۔ اس رفتار کو ذرا اور بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ اردو ادب میں خواتین کا یہ بڑھتا رجحان کم نہ ہونے پائے۔



 

Saba Zehra Rizvi

Zamir Apartment,1st-Floor

Napier road -2

Near Almaa Marriage hall

Hussainabad Chowk

Lucknow-226003  (U.P)

 





تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...