6/4/22

تیج بہادر سپرو کی آئینی اور تہذیبی بصیرت- مضمون نگار : عمیر منظر

 



تیج بہادر سپرو (پ:8دسمبر 1875، و: 20 جنوری 1949) کا شمار ان ممتاز ہندستانی شخصیات میں کیا جاتا ہے، جو نہ صرف ہندستانی تہذیب کا ایک روشن چہرہ تھے، بلکہ انھوں نے اپنے افکار وخیالات سے برطانوی عہد کے ہندستان میں بہت سی قانونی اور آئینی اصلاحات کا بیڑا اٹھایا او راس میں انھیں خاطر خواہ کامیابی بھی ملی۔انھوں نے ہندستانی تہذیب و ثقافت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے روشن پہلوؤں کو اپنی زندگی میں برتا ہی نہیں، بلکہ پوری زندگی اسی کے مبلغ و شارح بھی رہے۔اردو کو صرف وہ ایک زبان نہیں بلکہ اسے ہندستانی تہذیب کااہم جز سمجھتے تھے۔مولوی عبدالحق نے اسی لیے تیج بہادر سپرو کے بارے میں لکھا تھا کہ :

’’اگر کسی کو ہندستانی تہذیب کا بہترین نمونہ دیکھنا ہوتو وہ سرتیج بہادر سپرو کو دیکھے۔‘‘

(ہماری قومی زبان،تیج بہادر سپرو،ص د،انجمن ترقی اردو ہند 1941)

تیج بہادر سپرو کے انتقال پر تقریباً سات دہائیاں گزرنے والی ہیں، لیکن ان کی تحریریں اور وہ راستے جو انھوں نے زندگی بھر اختیار کیے آج بھی روشن اور قابل تقلید ہیں۔

سپرو جیسی شخصیات کا سب سے نمایاں امتیاز یہی ہے کہ انھوں نے ہمیشہ ہندستان اور اس کی رنگار رنگ تہذیب و ثقافت کواپنے پیش نظر رکھا۔اپنے افکار و نظریات اور عملی جدوجہد سے ہندستان کی اُس تہذیبی اور ثقافتی رنگا رنگی کو مزید نمایاں کیا اور اسے ایک تہذیبی اور ثقافتی ورثے سے تعبیر کیا۔اس کام کو انھوں نے پوری ہمت اور جرأت کے ساتھ کیا۔برطانوی ہندستان میں وہ مختلف عہدوں پر فائز رہے، مگر ہر جگہ ہندستان اور ہندستانیت کے ترجمان بنے رہے۔ان کی زندگی کے مختلف گوشوں اور ان کے علمی وسیاسی کارناموں کو اگر دیکھا جائے تو یہ بات بالکل واضح ہوجائے گی۔ جہاں ایک طرف وہ اردو کے بے لوث خادم اور اس تہذیب کے شارح و ترجمان رہے، وہیں دیگر زبانوں کی پرزور وکالت بھی کرتے رہے۔ انگریزیت سے کبھی مرعوب نہیں ہوئے، مگر علمی سطح پر انگریزی زبان کے قدردان اور اس کی علمی حیثیت کو بلند تصور کرتے رہے۔ان کی سرگرم زندگی سے اس کی مختلف مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔

تیج بہادر سپرو 8دسمبر 1875 کو علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔ سپرو کی تعلیم و تربیت ان کے دادا پنڈت رادھا کشن کے زیر سایہ ہوئی،جو دلی کالج میں استاد تھے اور آگے چل کر اتر پردیش میں ڈپٹی کلکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔بجنور میںتعیناتی کے دوران ہی سرسید سے ان کی ملاقات ہوئی۔ ایس کے بوس کے بقول’ یہیں سے اس گھرانے نے اسلامی تہذیب کو قریب سے دیکھا۔‘واضح رہے کہ سپرو ایک کشمیری گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جو وہاں سے ہجرت کرکے علی گڑھ میں آباد ہوگیا تھا۔ایس کے بوس نے لکھا ہے کہ :

’’سپرو کے داداسرسید احمد خاں کے حبیب لبیب تھے۔ 1857 کے انقلاب کے دوران وہ سرسید احمد خاں کے ساتھ بجنور میں تعینات تھے۔علی گڑھ میں اپنے دادا کے ساتھ سپرو اکثر سرسید کے یہاں آتے جاتے تھے۔ وہاں ان کی ملاقات بہت سے مسلم قائدین اور دانشوروں سے ہوئی اور یہیں سے سپرو صاحب فارسی اور اردو ادب کی طرف متوجہ ہوئے۔سپرو سرسید احمد خاں کی بڑی عزت کرتے تھے اور ان کے بیٹے محمود کے مداحین میں تھے۔ جسٹس محمود الہ آباد ہائی کورٹ کے پہلے ہندستانی جج جس وقت بنائے گئے اس وقت سپرو وہاں پر وکالت کی پریکٹس کررہے تھے۔اور یہیں سے وہ ایک دوسرے سے مزید قریب ہوئے۔ان رابطوں کے توسط سے اندر زندگی بھر کے لیے سیکولر اقدار اور تہذیبی رواداری کا مزاج بن گیا۔‘‘(ص 7)

دوران تعلیم آگرہ میں آگرہ کالج کے پروفیسر اینڈریوز سے قربت ہوئی، جنھوں نے سپرو کے لبرل خیالات کو فروغ دینے میں تقویت بخشی۔ 1891 میں آگرہ میں تعلیم کے دوران پنڈت ایودھیا ناتھ نے اردو میں تقریر کی تھی، جسے وہ کبھی فراموش نہیں کرسکے۔ 1911 میں پنڈت بشن نارائن در کانگریس کے صدر بنے،ان سے سپرو کی ذہنی ہم آہنگی تھی اور جن کے اثرات ان کی شخصیت اور خیالات پرمرتسم ہوئے۔اس کے علاوہ جیمس مل، اسپینسر اور ہکسلے جیسے بڑے مغربی فلاسفر کے خیالات سے سپرو کافی متاثر ہوئے۔اپنے عہد کی اہم شخصیات اور ان کے افکار وخیالات سے ہم آہنگی اور اشتراک نے سپرو کو وہ نظر عطا کی جس نے ہندستان کی سرگرم سیاسی اور تہذیبی زندگی میں ان مٹ نقوش قائم کیے۔ ایک مدت بعد آج جب ہم ان کے افکار وخیال پر غور کرتے ہیں تو باور کرنا پڑتا ہے کہ ایسے روشن ضمیر اور کشادہ ظرف انسان ہی کسی تہذیبی تنوع کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔

سپرو نے ایک سرگرم سیاسی زندگی گزاری اور یہ زمانہ برطانوی عہد کے اس ہندستان کا تھا جہاں لب کشائی آسان نہ تھی مگر سپرو نے اس مہم کو اپنی آئینی مہارت اور تہذیبی لگن سے اس کامیابی کے ساتھ سرکیا کہ برطانوی سامراج بھی منہ دیکھتا رہ جاتا۔ سیاسی اتھل پتھل کے زمانے میں سپرو کی فکری بالغ نظری نے خود کو متحدہ ہندستان کی تعمیر و ترقی کے ترجمان کے طور پر پیش کیا۔

سرتیج بہادر سپرو 1913 میں ریاست متحدہ کے ودھان پریشد میں ممبرکی حیثیت سے نامزد کیے گئے اور یہیں سے انھیں اپنی آئینی صلاحیتوں کو بروئے کارلانے کا موقع ملا۔اس سے فائدہ اٹھا کر انھوں نے کچھ مشورے اور تجاویز پاس کرانے کی کوشش کی اور حکومت برطانیہ کی پالیسیوں پر جرأت و ہمت کے ساتھ بحث وتنقید کی۔نامزد ممبر ہونے کے باوجود ودھان پریشد میں ان کی سرگرم گفتگو، تجاویز اور مشورے سے یہ خیال گزرتا تھا کہ یہ آزاد رکن ہیں۔ انھوں نے ودھان پریشد کے محدود اراکین (منتخب) کی تعداد بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ایک بحث کے دوران انھوں نے کہا تھا کہ ودھان پریشد کالبرل آئین، امنگوں اور خواہشوں کے شرمندۂ تعبیر ہوئے بغیر صرف گفتگو کی حدتک آزادی دینے سے کچھ نہیں ہوگا۔

انھوں نے تعلیم یافتہ ہندستان کی بنیاد رکھنے کا کام برطانوی ہندستان کے عہد میں ہی کردیا تھا اور 1913کے بجٹ اجلاس میں یہ مطالبہ کیا تھا کہ چھ ہزار مزید پرائمری اسکول قائم کیے جائیں اور تعلیم کے بجٹ کو ایک لاکھ تک کردیا جائے۔ انھوں نے کہا تھا پولس بجٹ میں کمی لائے جائے اور تعلیم کے بجٹ میں اس کا اضافی پیسہ لگایا جائے۔ سپرو نے اسی اجلاس میں تعلیم نسواں کے لیے الگ سے اسکول کے قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ان تجاویز سے سپرو کی سنجیدہ فکر اور ملک کے لیے ان کے بے لوث جذبے کو بآسانی محسوس کیا جاسکتاہے۔دراصل سپرو کی نگاہ دور رس آئین و انتظام اور تعلیم وتہذیب،سب پر تھی۔وہ ہندستان کی سماجی اور قومی زندگی پر بھی گہری نگاہ رکھتے تھے اور اسی لیے انھوں نے ودھان پریشد میں گرام پنچایتوں کو مضبوط کرانے اور ان کو چھوٹے چھوٹے معاملات کے تصفیے کے اختیار ات دیے جانے سے متعلق تجویز کی پرزور حمایت کی تھی لیکن یہ اس وجہ سے ممکن نہ تھا کہ اس سے عام ہندستانیوںتک کچھ اختیارات منتقل ہوسکتے تھے،انگریز جس کے روادار نہ تھے۔آزاد ہندستان میں بھی یہ بہت دنوں تک ممکن نہ ہوسکا لیکن 1993 میں 73 ویں آئینی ترمیمی بل (پنچایتی راج ایکٹ )کے ذریعے حکومت ہند نے سپرو کے اس خواب کی تکمیل کی۔

1915 میں سپرو نے ’انڈین  لیجسلیٹیو کونسل‘ کی حلف لی اوربہت جلد وہ کونسل کے قدآور قائدین میں شمار کیے جانے لگے۔یہاں انھوں نے ایک ایسے قانون کے نفاذ کا مطالبہ کیاجس سے آئندہ پندرہ برسوںمیں سب کو مفت اور لازمی بنیادی تعلیم کا حق مل سکے۔ انگریزوں کے زمانۂ اقتدار میں یہ چیز تو ممکن نہ تھی لیکن اس کے باوجود انھوں نے پوری قوت اور قانونی دلائل کی روشنی میں اپنی رائے پیش کی۔انگریزوں کے جانے کے بعد عرصے تک یہ تجویز عمل آوری کے لیے منتظر رہی اور بالآخر 2003 میں 86 ویں آئینی ترمیمی بل کے ذریعے آرٹیکل 21-A کو شامل کرکے یہ حق ہندستانی بچوں کو دیا گیا۔سروشکچھا ابھیان کے تحت مڈ ڈے میل کا جوپروگرام شروع کیا گیا ہے یہ سپرو کے خوابوںکی تعبیر ہے۔ انھوںنے ایک تعلیم یافتہ ہندستان کا خواب دیکھا تھا اور اس کے لیے وہ جو کچھ کرسکتے تھے وہ کیا بھی اورآج اس سمت جو کچھ بھی ہورہا ہے اسے انہی کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کہا جاسکتاہے۔

سپرو کی ان کوششوں سے اندازہ کیاجاسکتاہے کہ انھیں قانون وآئین کی جو فہم حاصل تھی اس کوانھوں نے ذاتی مفاد یا عہدہ و منصب کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ ملک سے محبت کرنے والے ایک عظیم دانشور کے طور پر ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنی صلاحیتوں کو قربان کردیا۔ یاد رہے کہ یہ زمانہ ہندستان کی محکومی کا تھا۔انگریز حکمرانوں سے بظاہر کسی خیر کی توقع نہیں رکھی جاسکتی تھی مگر انھوں نے انتظام وانصرام کے لیے جو آئین وضع کیا تھا اس کو سامنے رکھ کر یہ مشورے نہ صرف بہت اہم کہے جاسکتے ہیں بلکہ آزاد ہندستان کے تناظر میں ان کی معنویت دوچند ہوجاتی ہے۔کیونکہ ہم نے آزاد ہندستان کا آئین وضع کرنے میں اس فکر اور ذہنی رویے سے بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ یہ ان کی آئینی بصیرت اور ہمت ہی تھی کہ انھوں نے لیجسلیٹیو کونسل میں پہلی بار فوج میں بھارتیوں کے لیے بالکل برابری کا درجہ،عہدہ اورمواقع کا مطالبہ کیا اور کہا کہ فوج میں جو مرتبے یوروپین کوحاصل ہیںوہی ہندستانی فوجیوں کو بھی ملنے چاہیے۔یہ ہمارا خصوصی اور پیدائشی حق ہے، جس سے ہم دستبر دار نہیں ہوسکتے۔گاندھی جی کے ساتھ خلافت موومنٹ کا انھوں نے نہ صرف ساتھ دیا بلکہ اس کے توسط سے آزادی کی تحریک میں مسلمانوں کی سرگرم شمولیت کو یقینی بنانے کی کوشش کی، جس کی طرف عام طور سے توجہ نہیں تھی۔اسی تناظر میں سپرو کے بنائے ہوئے آئین کو بھی دیکھنا چاہیے جو دراصل ’گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ1919‘ کے تنقیدی جائزے اور اصلاحات پر مبنی ہے۔ انگریز حکمرانوں نے ہندستان کے آئین کی داغ بیل 1919 میں ڈالی تھی اور اس میں دو باتیں خاص تھیں۔

الف : ریاستوں میں دوہری سرکار(Diarchy in Provinces) اور مرکز میں دو ایوانی پارلیمنٹ (Bicameral Central Legislature)

ب: مرکزی سرکار کے بجٹ کی دو حصوں میں تقسیم (Votable, Non-Votable)

ج: ایک ہائی کمشنر جو لندن میں رہ کر ہندستان کی نمائندگی کرے گا۔

سپرو نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے سرکار اور آئین کے ڈھانچے میں تبدیلی کا مطالبہ کیا اور دوہری سرکار کی مخالفت کی۔بجٹ میں Votable اور Non-Votable کی تقسیم کو غلط ٹھہرایا اور کہا کہ اراکین پارلیمان کو ووٹ کا حق پورے بجٹ پر ملنا چاہیے نہ کہ اس کے کسی ایک حصے پر۔واضح رہے کہ برطانوی حکومت اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے Non-Votable بجٹ کو جاری رکھنا چاہتی تھی، جو ظاہر ہے ہندستانیوںکے مفادات کے خلاف تھا۔نہ دلیل،نہ اپیل،نہ وکیل جیسی صورت حال سے دوچار اور بے بس ہندستانیوں کے لیے رالٹ ایکٹ (Rowlett Act-1919)جیسے کالے قوانین کے درپردہ پولس راج کو فروغ دینا چاہتی تھی۔جلیاں والا باغ کا حادثہ اسی Non-Votableبجٹ کا نتیجہ قرار دیا جاسکتا ہے جس کی وجہ سے پولس کو بے پناہ اختیارات حاصل تھے۔ پولیس کسی بھی سرکار کے سامنے جواب دہ نہیں تھی بلکہ براہ راست گورنرکے سامنے ہی وہ جواب دہ تھی۔اس کے باوجود پورے بجٹ پر ووٹ کرنے کا اختیار ہندستانیوں کو انگریزوں کے جانے کے بعدہی مل سکا۔گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1919 کی ان کمیو ں کو اجاگر کرنے کے نتیجے میں ہی گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 میں سپرو کے چند مطالبے کو شامل کرکے ہندستانیوں کو خوش کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور اسی کے تحت دوہری سرکار کے انتظام کو ختم کیاگیا۔اس تناظر میں سپرو کی آئینی بصیرت اور مہارت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

تعلیم یافتہ ہندستان، سپرو کی فکر اور عملی جدوجہد کا کلیدی محور قرار دیا جاسکتا ہے۔انھوں نے مختلف اسٹیج اور مواقع سے تعلیم،ذریعہ تعلیم اور اس کے دیگر عوامل پر بہت واضح اور دوٹوک انداز میں گفتگو کی۔جہاں انھوں نے تعلیم پر بات کی وہیں انھوں نے یونیورسٹیوں کے کردار اور ان کی شناخت کو بھی واضح کرنے کی کوشش کی۔ان کا خیال تھا کہ ملک کی ہریونیورسٹی اپنے وسائل وذرائع کابہتر استعمال کرکے اپنی امتیازی شناخت قائم کرنے کی کوشش کرے تاکہ کسی ایک مضمون کے حوالے سے وہ پہچانی جائے۔وہ چاہتے تھے کہ تعلیم ایسی ہو کہ اس کے بعد کسی پیشے سے منسلک ہوا جاسکے۔ایسی تعلیم نہ ہو جو سرگرم سماجی اور معاشی زندگی سے الگ کردے۔ 30 نومبر 1935 کو پٹنہ یونیورسٹی کے جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ :

’’بھارت پڑھے لکھے بھکاریوں کا ملک بن رہا ہے۔‘‘ مغربی ممالک کے اپنے تجربوں کی روشنی میں کہا کہ’’ تعلیم کو روزگار سے منسلک ہونا چاہیے تاکہ طلبا کواعلی تعلیم کا فائدہ مل سکے‘‘۔ان کا خیال تھا کہ‘‘ پیشہ ورانہ،صنعتی یا پھر ایسی کوئی اور تعلیم دی جانی چاہیے جس سے انھیں نوکری ملنے میں آسانی ہو ‘‘۔ ممکن ہے ان سطور سے کسی کو یہ اندیشہ ہو کہ تیج بہادر سپرو تعلیم کے ثقافتی مظہر کے مخالف تھے۔اصل بات یہ ہے کہ وہ ثقافتی رویوں اور مظاہر کے نہ صرف حامی تھے بلکہ اس کی جیتی جاگتی مثال تھے۔

لکھنؤ یونیورسٹی کے جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے ذریعہ تعلیم کے بارے میںکہا :

ہمارے بچوں کی بہت بڑی تعداد کی تعلیم میں یہ ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے کہ انھیں ایک غیر زبان میں تعلیم دی جاتی ہے اور خصوصاً ایسے مضامین کی تعلیم جن کے لیے ہر گز یہ ضروری نہیں کہ اپنی زبان چھوڑ کر کسی اور زبان میں پڑھائے جائیں ...میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہمیں اپنی یونیورسٹیوں میں انگریزی کا رواج بالکل ترک کردینا چاہیے بلکہ اگر قومیت کے بے جا فخر یا تنگ نظرانہ قومیت کی بدولت کبھی ایسا وقت آیا کہ ہمارے بچے انگریزی ادب کی روحانی مسرتوں اور بلند خیالی سے محروم کردیے گئے تو مجھ سے زیادہ شاید ہی کسی کو افسوس ہوگا کیونکہ انگریزی ادب کی بدولت ہمیں بہت سے نئے خیالات اور نئے معیار میسرآئے ہیں ...بعض مضامین یقینی ایسے ہیں کہ ان کی تعلیم ابھی ایک خاصے عرصے تک انگریزی زبان ہی میں ہونی چاہیے،جب تک کہ ہماری زبان کی پہلی مہم بہت کچھ تکمیل کو نہ پہنچ جائے۔میرا احتجاج انگریزی زبان کے استعمال یا انگریزی زبان کے مطالعہ کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس غفلت کے خلاف ہے جس کی بدولت ہماری زبانیں پیچھے پڑ گئی ہیں۔‘‘

(حوالہ سابق ص:2,5,6)

سپرو کی یہ کشادہ فکر راتوں رات کسی فکری تبدیلی کے سبب نہیں تھی بلکہ یہ چیزیں ان کی تربیت اور پرورش کاحصہ تھیں۔انھوں نے بہت سے ہندستانی رہ نماؤں اور دانشوروں کو قریب سے دیکھا اور استفادہ کیا تھا جو اپنی روشن خیالی اور فکری کشادگی کے سبب ہندستانی معاشرے کے لیے ایک مینارۂ نور کی حیثیت رکھتے ہیں۔سپرونے اس تربیت سے جو کچھ حاصل کیا تھا اس پر تاعمر کار بندرہے۔

اردو زبان سے سپرو کا تعلق محض زبان کے طورپر نہیں بلکہ ایک تہذیبی تنوع اور ہندستانی ثقافت کی بہتر نمائندگی کے سبب تھا۔وہ اردو کو صرف ایک زبان تک محدود نہیں سمجھتے بلکہ اسے ایک تہذیبی رویہ بھی قرار دیتے ہیں۔

سپروکے بقول :

’’اردو زبان ہندو مسلمانوں کا ایک ایسا مشترکہ و مقدس ترکہ ہے جو ناقابل تقسیم ہے ۔اس لیے مسلمان اگر یہ دعوی کریں کہ یہ ان کی زبان ہے تو یہ دعوی ہر گز قابل قبول نہیں ۔یہ ایک مشترکہ ترکہ ہے جو صدیوں سے ہمارے حصے میں آیا ہے ۔یہ ہماری تہذیب کا خزانہ ہے۔ بحیثیت ہندو ہونے کے مجھے یہ کہنے میں کچھ تامل نہیں کہ میری مادری زبان اردو ہے۔‘‘ (ایضاًص72)

یہی وہ تہذیبی اور ثقافتی رویے تھے جس نے انھیں مجبور کیا ہوگا کہ وہ انجمن ترقی اردو کی صدارت کو زینت بخشیں اور اس کثیر ثقافتی اور تہذیبی ملک کو مزید ثروت مندبنائیں۔انجمن ترقی اردو ہند کی جب بھی کوئی تاریخ لکھی جائے گی اس میں سپرو صاحب کے کارناموں اور اردو زبان اور تہذیب سے ان کی گہری اور سرگرم دلچسپی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکے گا۔

ہندستان دراصل وحدت میں کثرت اور کثرت میں وحدت کی ایک نمایاں ترین مثال ہے اور اس ملک کی بنیاد اسی پر ہے۔تیج بہادر سپرو کو یاد کرنے اور ان پر کچھ لکھنے کا مطلب ہی ہے کہ ہم ہندستان اور اس کے تہذیبی تشخص پر غور و فکر کررہے ہیں۔ان کے زمانے میں بھی اس کی ضرورت تھی اورآج بھی۔کیونکہ اس کے بغیر ممکن ہے کہ ہم سب کچھ ہوں مگر آدھے اور ادھورے۔کسی شناخت اور ثقافتی مظہر کے بغیر۔ایک لٹے پٹے اور بے سروسامان قافلے کی طرح،جس کا کوئی پرسان حال نہ ہو

کتابیات

1        آدھونک بھارت کے نرماتا :تیج بہادر سپرو، ایس کے بوس،پبلی کیشن ڈویژن بھارت سرکار 1985

2        ہماری قومی زبان،تیج بہادر سپرو،انجمن ترقی اردو (ہند) دہلی1941


 

Dr. Omair Manzar

504/122, Tagore Marg

Near Shabab Market

Lucknow - 226020 (UP)

Mob.: 8004050865

 

 





5/4/22

بیسویں صدی کا افسانوی ادب اور ہندوستانی سماج - مضمون نگار: ارشد اقبال

 



بیسویں صدی کے ابتدائی چالیس پینتالیس سال کی یہ مختصر ترین انداز میں مختلف تحریکوں کی تاریخ ہے، جس سے ہمیں ملک کے معاشی، سیاسی، تعلیمی اور سماجی حالات وکیفیات کا اندازہ ہوتا ہے۔

جس دور کی یہ سماجی،سیاسی اور معاشی کہانی بیان کی گئی ہے،اس میں مختصر افسانہ نگاری کے واضح میلانات سامنے آتے ہیں۔ایک رومانیت و تخیل پرستی کا، جس کی نمائندگی سجاد حیدر اورنیاز فتح پوری وغیرہ کر رہے تھے۔ دوسراحقیقت نگاری اور اصلاح پسندی کا،جس کے امام پریم چند تھے۔

پریم چند کے ذریعے مختصر افسانہ میں عام آدمی کے دکھ درد، رہن سہن، سماجی تعلقات معاشی کشمکش، مذہبی اور سماجی رسم و رواج، واقعات اور حقائق کے پردے میں قاری کی رسائی ہوئی اس کے علاوہ سماج کی فلاح و بہبود کے نقوش،منظر نگاری اور واقعہ نگاری کے پیرائے میں عوام تک پہنچ کر مقبولیت حاصل کرسکے۔

پریم چند کی افسانہ نگاری کا دور دراصل ہندوستان میں قومی بیداری کا دور تھا۔اس لیے ان کے افسانوں میں ساری کیفیات،زمانے کے حالات اور تحریکوں کے مقاصد نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ پریم چند کے بعد اردو افسانے کو سب سے زیادہ متاثر کرنے میں افسانوں کا مجموعہ ’انگارے‘ کا ہاتھ رہاہے۔ اس مجموعے میں سجاد ظہیر، رشید جہاں، احمد علی اور محمود الظفر کی کہانیاں شامل تھیں۔ متذکرہ مجموعے کے بعد اردو افسانے میںبیسوی صدی کے پیچیدہ مسائل اور شہری زندگی کی تمام نفسیاتی گتھیاں راہ پانے لگیں۔مغربی ادب سے متاثر ہوکر افسانے کی تکنیک میں بہت سے تجربے ہوئے،اس میں ذہنی عناصر کی بالادستی پریم چند کے بعد کی پیداوار ہے۔بعض افسانہ طرازوں نے فرائڈ کا اثر قبول کیا اور جنسی مسائل کو اپنے فن پاروں کا محور بنایا۔

انگارے‘ میں شامل افسانے فنی اعتبار سے خام ضرور ہیں لیکن ان افسانوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتاکہ ان افسانہ نگاروں نے سماج کے اہم اور پیچیدہ مسائل کو فن کی حدود میں لانے کی پہل کی۔اس مجموعے کی اشاعت کے تعلق سے پروفیسر قمر رئیس نے اپنے خیالات کا اظہار اس طرح کیاہے:

’’ایک طرف اردو افسانہ کی پر سکون دنیا میں ایک دھماکہ تھی تو دوسری طرف ان حلقوں اور طبقوں میں غیظ و غضب کی آگ دہک اٹھی جن کے مفاد اور روایتی وقار کو اس سے ضرب پہنچی تھی۔ اس مجموعہ کی کہانیوں میں جو گستاخانہ بیباکی، برہمی،تلخی اور سرکشی تھی، وہ ایک نئی نسل، نئی طرز فکر اور نئے تصور فن کی آمد کا اعلان تھا۔‘‘

پریم چند اور’انگارے‘ کے بعد ترقی پسند ادب کی تحریک نے بھی اردو افسانے کو بہت متاثر کیا۔1936 میں پہلی مرتبہ ہندوستان میں ایک اہم سماجی ضرورت نے باقاعدہ ادبی تحریک کی شکل اختیار کی جو یوروپ اور انگلستان کے انداز کو مد نظر رکھتے ہوئے شروع کی گئی تھی اور یہی تحریک ادب میں سیاسی جذبوں کی بانی کہی جاسکتی ہے۔ اس تحریک کے بعد افسانوں میںنئے معاشی اور سیاسی مسائل پیش کیے گئے۔

پریم چند کے افسانوں کا مخزن دیہات میں بس رہے لوگوں کی سیدھی سادی زندگی سیرت، سچائی، ایمانداری، بے ایمانی، غربت، کاشتکار، زمیندار، پولیس اور دوسرے سرکاری عملے کا عتاب اورکبھی قحط سے سامنا۔اس کے علاوہ ہندوسماج کے رسم و رواج،عادات و اطوار،عقائد اسلاف کے کارنامے اور سماج کے اصلاحی نظریے یہ سب ان کے افسانوں میں عام طور پرموجود ہیں۔

پریم چند کے اثرات سے اردو میں اصلاحی افسانوں کی جو روایت پروان چڑھ رہی تھی اس سے سدرشن، اعظم کریوی،علی عباس حسینی اور سہیل عظیم آبادی خاص طورپر متاثر ہوئے۔

متذکرہ فن کاروں نے اصلاحی نقطۂ نظر کو وسعت دی اور افسانے میں حقیقت نگاری کا عنصر بھی شامل کیا۔ علی عباس حسینی نے ہندو مسلم فرقہ واریت کے خلاف کئی کامیاب افسانے لکھے انھوں نے دیہی زندگی کے مسائل کو بھی اپناخاص موضوع بنایا۔

سہیل عظیم آبادی نے بہار کے دیہاتوں میں بس رہی بے چین و بے بس زندگی کو پیش کیا۔وہاں کے کسانوں کی دکھ بھری زندگی، سیلاب اور زلزلے کی تباہی اور معاشی استحصال،ان کے ابتدائی افسانوں کا محور ہیں۔

سدرشن کے افسانوں کا محور دیہی زندگی بھی ہے اور شہری افراد کی حالت کا نقشہ بھی۔وہ عام طور پر غریب اور امیر کی زندگی کا موازنہ کرتے ہیں۔ اعظم کریوی کے افسانوں میں معاشرت کے طریقے،پنچایتوں اور بازاروں کی گفتگو کے مناظر،آپسی تعلقات اور ان کا اثر، زمینداروں اور رعایاکے تعلقات،حکام اور ان کے عام لوگوں سے برتائو جیسے دلچسپ موضوع ہیں۔

حیات اللہ انصاری کسی ایک ماحول میں خودکو محدود نہیں رکھتے، انھوں نے افسانے کو فکری نقطۂ نظر دیا ہے۔ ان کے افسانوں پر سیاسی نظریوں، رویوں اور گاندھی جی کے فلسفے کا اثر پایاجاتاہے۔کرشن چندر کو اپنے دلچسپ بیان کی وجہ سے بہت زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ان کے افسانوں میں خوبصورت مناظر کے ساتھ ساتھ سماج کی تلخ حقیقتوں کی عکاسی بھی ہے۔ ان کے یہاں سرمایہ دار اور ساہوکار کے خلاف نفرت بھری ہوئی ہے لیکن اکثر وہ کہانی بیان کرتے وقت کہیں کہیں بھٹک بھی جاتے ہیں،جس کی وجہ سے غیر ضروری اذکار و خیالات افسانے میں خود بخود آنے شروع ہوجاتے ہیں لیکن اس سے ان کے افسانوں کی اہمیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

راجندرسنگھ بیدی کے یہاں جذباتیت ہے۔ حالانکہ ان کی جذباتیت میں گہرائی اور سکون ہے۔ انھوں نے سماجی اورمذہبی زندگی کا مشاہدہ بڑی گہرائی سے کیا۔ان کے افسانوں میں متوسط طبقے کی گھریلو زندگی اور روز مرہ کا ماحول ملتا ہے۔انھوں نے حقیقت نگاری کے مادّی پہلو سے کہیں زیادہ نفسیاتی تجزیے پر زور دیاہے۔

سعادت حسن منٹو پر روسی ادیبوں کا بڑا اثر رہا ہے۔ منٹو نے چیخوف،گوگول ترگنیف اور گورکی کے افسانوں کا ترجمہ کرنے کے علاوہ بالخصوص سماج کے اُس طبقے کو اپنے افسانوںکا مرکز بنایا جسے طوائف کہتے ہیں۔منٹو نے سماج کے ٹھیکیداروں پر جتنے پتھر برسائے ہیں،شاید وہ جرأت کسی دوسرے افسانہ نگار میں نہیں تھی۔عصمت چغتائی نے خواتین کے مسائل کو اپنے افسانوں کا مرکز بنایا،گھریلو زندگی اور اس زندگی کے مسائل کو نمایاںجگہ دی۔ اخترحسین رائے پوری کی نظر بیماروں،کمزوروں،بے کسوں فقیروں اور ہراس زدہ چہروں پر جاتی ہے، جنھیں سماج کا ناسور تصور کیا جاتا ہے۔ اخترانصاری سرمایہ دارانہ نظام سے نفرت کرتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ اب بھی دنیا میں ظلم و بربریت،بے انصافی،خود غرضی اورمکاری موجود ہے۔اس لیے انسانیت کا جسم انگنت بیماریوں میں مبتلاہے۔اُوپندر ناتھ اشک کے افسانوں میں نچلے اور درمیانی طبقے کی معاشی زندگی، صنفی عدم مساوات،تشنگی اور بے بسی کی بہت اچھی عکاسی ملتی ہے۔

اختراورینوی نے بعض الجھے ہوئے مسائل کو اپنا موضوع بنایا،نچلے طبقے کی معاشی مشکلات،انسانی اقدار اور بھوک کا تصادم، قرض و سود، جھگڑافساد اور مقدمے بازی، خاندانی منافرت،زمین داراور کاشتکار،رکشہ کھینچنے والے اور مزدوروں کا مطالعہ بہت قریب سے کیا ہے۔

احمد ندیم قاسمی نے پنجاب کی دیہی زندگی کی عکاسی کی ہے۔قاسمی نے بین الاقوامی مسائل پر بھی قلم اٹھایا اور قومی مسائل پر بھی۔دیوندرستیارتھی کے کامیاب افسانوں میں بنگال کی معاشی تباہی کا درد ناک المیہ ہے۔خواجہ احمد عباس کے افسانوں کا موضوع سیاسی ہے۔مہندرناتھ کے یہاں نوجوانوں کی ذہنی الجھنوں کا عکس ملتا ہے۔ ہاجرہ مسرور کے افسانوں میں اودھ کے متوسط طبقے کی زندگی اور خواتین کے مسائل بڑی خوبی سے آئے ہیں۔صدیقہ بیگم سیوہاروی نے بعض اہم مسائل پر افسانے تخلیق کیے ہیں۔

متذکرہ تمام قلم کے شہ سوارآزادی سے قبل مقبول عام ہوچکے تھے۔ ان کے افسانوں میں ٹھہرائو اور نظریوں کی پختگی کا احساس ہوتا ہے۔اس دور کی افسانہ نگاری میں چند رجحانات بڑے واضح اور نمایاں ہیں۔مثلاً ادیب واقعات پر تو پوری توجہ مرکوز کرتے ہی ہیں،علاوہ ازیں کرداروں کو اپنے مشاہدات و تجربات کے مطابق سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔حیات اللہ انصاری بیدی، منٹو، اخترانصاری اور عصمت کے بہت سے افسانوں میں کرداروں کی کشش،واقعات کی دل نشینی سے کہیں زیادہ نمایاں ہیں۔

انسان کے عمل اور رد عمل کے نفسیاتی محرکات کا سراغ لگانے والے افسانہ نگاروں نے زندگی کے معاشی پہلوئوں کو اپنے افسانوں میں بڑا اہم مقام دیا ہے، مظلوم کی حمایت کو اپنا مقصد سمجھاہے۔ان کے کرداروں میں مزدوراور کسان کے علاوہ کلرک طوائف، عورت اور مظلوم ہیں ظالموں کی صف میں سامراجی حاکم، ساہوکار، ڈھونگ رچانے والے مذہبی رہنمااور کٹھ پتلی بنے سیاسی لیڈر بھی۔

اردو افسانہ نگاروں تک کارل مارکس کے معاشی نظریات اور فرائڈ کے جنسی خیالات مغربی افسانوں کے ذریعے بھی پہنچے اور انھوں نے اس انداز کو قبول کرلیا۔ بعض نے سوچ سمجھ کر اپنے مشاہدات اور مطالعات کی بنیاد پر انھیں اپنے افسانوں میں جگہ دی تو بعض نے اس کی اندھی تقلید میں ان نظریات کو ہی اپنے لیے بہتر سمجھا۔اس طرح اُس دور کی افسانہ نگاری کارل مارکس یا فرائڈ سے بہت متاثر نظر آتی ہے۔

اُس دور سے پہلے فن کی ہمہ گیری نظر نہیں آتی جو اس دور کے افسانوں کی خصوصیت ہے۔بیباک انداز بیان،حق اور مظلوم کی حمایت میں کہیں کہیں بے دردی اور بے رحمی کا انداز بھی اختیار کیا گیاہے۔بیان میں نئے نئے تجربے کے علاوہ بعض ایسے ہیں جن میں مغرب کی جدت اور مشرق کی روایت ہم آہنگ نظر آتی ہے۔احمد علی،حسن عسکری،کرشن چندر،عصمت اور راجندر سنگھ بیدی کے افسانے اسی جدت اور روایت کی حسین آمیزش کا نمونہ ہیں۔ علی احمد کے افسانے ’ہماری گلی‘ اور ’میرا کمرہ‘ کرشن چندر کا ’دوفرلانگ لمی سڑک‘ منٹوکا ’نیا قانون‘ راجندر سنگھ بیدی کا ’گرم کوٹ‘ عصمت کا ’دوزخی‘ اور حیات اللہ انصاری کا ’آخری کوشش‘ میں موضوع اور فن کے تمام عناصر یکجا نظر آتے ہیںجواردو افسانہ نگاری کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں،لیکن اسی زمانے میں بعض افسانے ایسے بھی تخلیق ہوئے، جن میں اعتدال و توازن کا فقدان ہے مثلاً ’جنس‘ کو افسانے کا موضوع بناتے وقت احتیاط و توازن کی کمی کی وجہ سے بہت سے افسانوں میں لذت کا غلبہ اور عریانیت واضح ہوگئی ہے۔اسی طرح بعض افسانے صرف اس خیال کے تحت لکھے گئے ہیں کہ پڑھنے والا یک دم اچھل پڑے یا تلملاجائے، خواہ کسی کے جذبات ہی کیوں نہ مجروح ہوں۔

اُس دور میں ایسے فنکار بھی ابھر کر سامنے آئے جن کے فن میں ایک خاص طرح کا ٹھہرائو ملتا ہے۔اعتدال و توازن اور موضوع میں وسعت پائی جاتی ہے۔یہ فنکار زندگی،فن اور شخصیت کے امتزاج کے عکاس ہیں۔ان کے فن پاروں میں زندگی کی معمولی سی تبدیلی کی تصویر ملتی ہے اور انسان کے دل کے چھوٹے بڑے راز کی غمازی نمایاں ہے۔ غلام عباس،ہاجرہ مسرور خدیجہ مستور،قرۃ العین حیدر، ممتاز شیریں، بلونت سنگھ، شفیق الرحمٰن، ابراہیم جلیس، تبسم سلیم،صحالحہ عابد حسین،مہندرناتھ،آغا بابروغیرہ ایسے ہی افسانہ نگاروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

آج افسانہ نگاروں کی تمام تر توجہ اسی ماحول اور موضوع پر افسانے لکھنے کی جانب مرکوز نظر آتی ہے، جن سے وہ مکمل طورپر واقف ہیں۔وہ ماحول کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ اپنے ذہن کو بھی تبدیل کرتے جاتے ہیں مگر ان تبدیلیوں سے قاری کو کوئی دھچکا نہیں لگتا کیونکہ افسانہ نگار فرد کی ذہنی اور جذباتی کیفیتوں سے غافل نظر نہیں آتا۔ اس سے بخوبی اندازہ ہوتاہے کہ وہ انھیں خیالات کی ترجمانی کرتاہے جن سے فرد، بحیثیت سماج کی، ایک اِکائی کے دوچار ہے۔

احمد ندیم قاسمی، اختر اورینوی، سہیل عظیم آبادی، حیات اللہ انصاری اور دیوندرستیارتھی کے افسانوں کا قاری پنجاب، بہار، اترپردیش، ہندوستان کے مختلف علاقوں کے بے شمار مسائل جان لیتا ہے۔سعادت حسن منٹو، علی احمد، حیات اللہ انصاری، احمد ندیم قاسمی اور کرشن چندر کے افسانے پڑھ کر ممبئی،دہلی،لاہوراور کشمیر کی سیر ہوجاتی ہے۔ ان سبھی جگہوں کی اپنی الگ تہذیب ہے، اپنے مسائل ہیں۔ ان جگہوں پر مختلف مذاہب، مختلف طبقات اور مختلف پیشوں میں مہارت رکھنے والے عوام ہیں۔ان کی تصاویر بیدی،عصمت اور حیات اللہ انصاری کے افسانوں میں ملتی ہیں۔

مقامی مسائل کے علاوہ ہماری زندگی کو سیاست نے بھی بہت متاثر کیا ہے۔نہ صرف  ملکی سیاست بلکہ بین الاقوامی سیاست نے بھی بہت سی الجھنیں پیدا کی ہیں۔ اس کشمکش کی عکاسی کرشن چندر کے بہت سے افسانوں سے ہوتی ہے، جن میں کسان، رشوت، فصل، روزگار کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں، سیٹھ، کلرک، جنگ، سامراج، فاشزم اور بین الاقوامی معاشی کشمکش سبھی کچھ بکھرے ہوئے ہیں۔

منٹوکے افسانوں میں طوائف کی زندگی کے علاوہ ہندوستان کی جنگ آزادی کی تصویریں بھی ملتی ہیں۔جیل خانے،سیاسی جلسوں پر برستی گولیاں،ایک نئے قانون کی تلاش انقلاب کے نعرے،مزدور اور کسان کی بے بسی فلمی کمپنیاں اور ان کے چمکیلے ماحول کے پیچھے گناہوں کی سیاہی جیسے موضوعات بھی ملتے ہیں۔

احمد ندیم قاسمی کے افسانے پنجاب کے دیہاتوں کے رومانی منظر کوہی نہیں پیش کرتے بلکہ خلافت تحریک، فوجی بھرتی اور انقلاب زندہ باد کے نعروں کی گونج میں سیاسی اور معاشی کشمکش کی آئینہ داری بھی ملتی ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اردوافسانے میں اس روش یعنی سماج کے ماحول کی عکاسی کو کچھ لوگوں نے ادب کے لیے مضر سمجھا، زندگی سے بھرپور ادب، وقت اور حالات کی دھڑکنوں سے بھرپور ادب کو ادبیت کا بہکنا تصور کیا۔ اس ضمن میں کلیم الدین احمد لکھتے ہیں:

’’ادب کا براہ راست یا بالواسطہ یہ کام نہیں ہے کہ یہ دنیا کی کثیر سے کثیر انسانی آبادی کو پیٹ بھر کھاناملنے میں مدد کرے اس کام کے لیے انسان کے پاس دوسرے ذرائع موجود ہیں اور وہ ان ذریعوں سے مصرف لیتا اور لے سکتا ہے۔ادب اور سیاسیات و معاشیات کے میدان متحد نہیں ہیں۔‘‘

دراصل یہ اعتراض کہ ادب میں سیاست کا غلبہ، ادب کے لیے صحت مند نہیں ہے۔ یہ دو وجوہ سے پیدا ہوا کہ اس زمانے میں بہت سے افسانے اس انداز سے لکھے گئے کہ وہ افسانے کے بجائے سیاسی نعرہ بن گئے جن کی وجہ سے ان کی ادبی حیثیت مجروح ہوگئی۔دوسری وجہ یہ ہے کہ انجمن ترقی پسند مصنّفین سے وابستہ بیشتر ادیب عملی سیاست سے وابستہ تھے،جس کی وجہ سے یہ بات قدرتی تھی کہ ان ادیبوں کے سیاسی خیالات، ان کے افسانوں میں براہ راست جگہ پانے لگے۔

اب یہاں مختصرطورپر ان افسانہ نگاروں کا تذکرہ کرنا ہوگا،جن پر انجمن ترقی پسند مصنّفین کے قیام اور ترقی پسند تحریک کا اثر نمایاں نظرآتاہے۔ حالانکہ ان فنکاروں کی فہرست بہت طویل ہے لیکن یہاں چند ایسے افسانہ نگاروں کا ذکر کیا جارہا ہے جو اپنے انداز، فن کی وسعت اور موضوعات کی ہمہ گیری کی وجہ سے بہت مشہور و مقبول ہوئے اور ترقی پسند ادب میں نمایاں حیثیت کے حامل ہیں۔

پریم چند کو اردو میں جدید افسانہ نگاری کا بانی کہاجاسکتا ہے۔انھوں نے افسانہ نگاروں کو ایک سنجیدہ و سبک رو مگر دیرپا بغاوت کی راہ دکھائی۔انھوں نے انسانی فطرت کی پوشیدہ تہوں تک رسائی کی۔اس کے ساتھ ہی ساتھ ماضی کی روایت کو زیادہ حسین اور بامعنی بناکر انھوں نے فن کی بھی خدمت کی۔ترقی پسند تحریک سے وابستہ کرکے پریم چند نے بہت سے نوجوان افسانہ نگاروںکو اندھیرے میں بھٹکنے سے بچالیا۔ان کی وجہ سے ترقی پسند افسانے کو حقیقت نگاری کی وہ صلاحیت حاصل ہوئی جس کی وجہ سے اردو افسانہ ترقی پسند ادب کی سب سے نمایاں شاخ بن گیا۔

پریم چند نے مختصر افسانے کو زندگی کا ترجمان بنانے کی جو بنیاد ڈالی تھی،اس کا سب سے نمایاں اثر علی عباس حسینی،اعظم کریوی،سہیل عظیم آبادی اور سدرش پر پڑا۔علی عباس حسینی کو کہانی کہنے کا فن آتا ہے۔ان کی کہانی میں انسانی معصومیت اور خلوص ہے۔انہیں زبان و بیان پر بڑی قدرت حاصل ہے۔ان کا رجحان اصلاحی،انسان دوستی اور قوم پرستی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کے افسانے ’آم کا پھل، کیا کیا جائے‘ اور ’بھوت‘ انقلابی حقیقت نگاری کے بہترین نمونے ہیں جبکہ افسانہ ’مسیحا‘ قحط بنگال سے متاثر ہوکر تخلیق کیاگیا ہے۔

اعظم کریوی کے افسانوں کا پس منظر بھی دیہات ہے۔ان کے افسانوں میں سیاست بھی نظر آتی ہے اور دیہات کی رومان انگیزفضااور وہاں کے باشندوں کی معصوم رومانی فطرت بھی۔

سدرشن نے بھی دیہی زندگی کے معاشرتی پہلو کو اپنا خاص موضوع بنایا،اس طرح ان کا مقصد دیہات کی معاشرتی زندگی کی مصوری ہے۔دیہی معیشت،سیاست اور سرمایہ دارانہ نظام و مزدور کی بے بسی سہیل عظیم آبادی کے خاص موضوع ہیں۔ان کے افسانوں میں زندگی کے مشاہدے اور احساس کی شدت نمایاں ہے۔

متذکرہ فنکاروں نے زندگی کا بڑی گہرائی سے مطالعہ کیا،سماج کے نشیب و فراز کو سمجھااور اس کے تمام اجزا کو افسانوں میں پیش کرکے انہیں کو سماجی اور انفرادی مسائل کا آئینہ دار بنادیا لیکن جن افسانہ نگاروں کو ترقی پسند تحریک نے سب سے زیادہ متاثر کیا اور جنھوں نے اس فن کے میدان میں اپنی جگہ تقریباً اُسی وقت مستحکم کی،جب اس تحریک کی بنیاد پڑی،اُن میں اپندر ناتھ اشک،کرشن چندر، دیوندرستیارتھی،راجندر سنگھ بیدی،خواجہ احمد عباس،سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی، احمد علی، اختر انصاری، احمد ندیم قاسمی،حیات اللہ انصاری اور اختر اورینوی کے نام قابل ذکر ہیں۔حالانکہ ان میں کئی فنکار ایسے بھی تھے جو ترقی پسند تحریک شروع ہونے سے قبل ہی سرگرم عمل تھے مگر ان کی شہرت کا لگ بھگ وہی زمانہ ہے جو اس تحریک کا ہے۔ان میں چند ایسے بھی ہیں جنھوں نے شدت کے ساتھ اس تحریک سے خود کو وابستہ کرلیا تھا۔

1936کے بعد اردو مختصر افسانہ نگاروں کی جو نئی پود پروان چڑھی،اس میں جو مقبولیت کرشن چندر کو حاصل ہوئی، وہ پریم چند کے بعد کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہوئی۔ کرشن چندر نے اپنا تخلیقی سفر رومانویت سے شروع کیا پھر اس میں زندگی کی تلخیاں شامل ہوگئیں۔ان کے افسانوں کا ہیرو تباہ حال،مظلوم اور لٹاہوا انسان ہے۔ان کا نقطۂ نظر انسان سے ہمدردی،اس کی خامیوں پر  طنز اور اس کے مسائل کی تشریح ہے۔کرشن چندر کے مزدور عورتوں پر ایک درجن سے زیادہ افسانے تنوع کی عمدہ مثال ہیں۔ مثلاً جنت اور جہنم، سفید پھول، ٹوٹے ہوئے تارے اور’اندھا چھترپتی‘ اس قبیل کے شاندار افسانے کہے جاسکتے ہیں۔

کرشن چندر کی رومانویت اور انسان دوستی نے اُن کے طرز تحریرکو لطیف بنادیا،جس میں سختی یا کرختگی قطعی نہیںہے۔کرشن چندر کے تعلق سے بعض ناقدین نے ترقی پسند تحریک اور کرشن چندر کو ایک ہی سکے کے دو پہلو قرار دیا ہے۔ دو فرلانگ لمبی سڑک، ان داتا، کالوبھنگی، بھگت رام  اور ’برہم پتر‘ ان کے شاہکار اور اردو افسانوں کے چند یادگار فن پارے ہیں۔وہ نئی نئی تشبیہات سے بین الاقوامی سیاسی حالات،جنگ و امن اور حکومت کی پالیسی پر اس انداز سے افسانہ تخلیق کرتے ہیں کہ موضوع کی خشکی کا احساس نہیں ہوتا۔

اُپندر ناتھ اشک کے ابتدائی دور کے افسانوں میں اصلاحی انداز پایاجاتاہے،کیونکہ وہ پریم چند سے بہت متاثر ہوئے۔ ’ڈاچی‘ کے افسانوں سے انھوں نے سیاسی موضوعات کی ابتدا کی، اس کے بعد افسانوں میں انھوں نے نچلے، متوسط طبقے کی معاشرتی زندگی اور صنفی عدم مساوات کی بہت خوبصورت عکاسی کی ہے۔وہ کہانی میں پلاٹ اور واقعات کی ترتیب کو بہت اہمیت دیتے ہیں نیززندگی کے حقائق اور ان کی تفصیلات پر زور دیتے ہیں۔  عورتوں کی بے بسی اور ان کی سماجی نفسیات کا گہرا مطالعہ ہمیں ان کے افسانوں کونپل،قفس،چٹان،چیتن کی ماں میں مل جاتا ہے۔ مزدور طبقے کے مصائب اور طبقاتی کشمکش پر لکھے ہوئے افسانوں میں خلوص اور درد نظرآتا ہے۔ راجندر سنگھ بیدی روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے مسائل کو اپنے افسانوں کا موضوع بناتے ہیں۔وہ افسانے سے تبلیغ کا کام نہیں لیتے بلکہ اپنے کرداروں کے ارد گرد کے ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔متوسط طبقے کی عام گھریلو زندگی کی الجھنوں، پریشانیوں اور آرزوئوں کا عمیق مطالعہ ہونے کی وجہ سے ان کے افسانوں میں تہذیبی قدروں کا عکس بھی ملتا ہے اور سماجی کمزوریوں کا تذکرہ بھی۔انسانی نفسیات اور اس کی کمزوریوں کی مثال ان کے افسانوں زین العابدین، لاجونتی،غلامی،کوکھ جلی اور ’گرہن میں ہے‘ میںکا مطالعہ کرکے، جن میں سماجی تضاد کی بے مثال حقیقت نگاری موجود ہے۔حالانکہ بیدی کے افسانے زندگی کے تلخ حقائق پر مبنی ہوتے ہیں مگر ان میں تلخی یا بیزاری نہیں ملتی بلکہ ان میں انسانیت،محبت اور ہمدردی کی کرنیں بکھری ہوئی معلوم ہوتی ہیں،جس کی مثال گرم کوٹ، دس منٹ، بارش میں، ہڈیاں  اور ’پھول‘ سے دی جاسکتی ہے۔زندگی کی چھوٹی چھوٹی حقیقتوں کو سماج کی بنیادی حقیقت کے انداز میں ابھارنا بیدی کا سب سے بڑا فن ہے۔ ان کے اس فن کی عکاسی ان کے افسانوں پان شاپ،لچھمن،کشمکش وغیرہ میں نمایاں طورپر ملتی ہے۔

حیات اللہ انصاری ترقی پسند تحریک کے انتہائی اہم افسانہ نگار تصور کیے جاتے ہیں۔ پریم چند کے بعد ان کی روایت کی توسیع حیات اللہ انصاری کے افسانوں میں پائی جاتی ہے۔وہ اپنے افسانوں میں خطابت، انشا پردازی یا سنسنی خیزی سے کام نہیں لیتے۔ان کے افسانوںکا پہلا مجموعہ ’انوکھی مصیبت‘ کے کچھ افسانے انگارے گروپ سے متاثر نظر آتے ہیں،جن میں بے لاگ حقیقت نگاری کے نمونے ملتے ہیں مگر ان کا افسانہ ’آخری کوشش‘ اردو کے چند بہترین افسانوں میں شمار ہوتا ہے، جس میں گہرائی، معنویت،ٹھہرائو اور شعور ہے۔ان کے بعض افسانوں میں تفکر کا عنصر غالب ہے لیکن باوجود اس کے کہ ان کے افسانوں میں دلچسپی برقرار رہتی ہے دراصل ان کے فن پارے گہرے تجربے کی نشاندہی کرتے ہیں، اسی وجہ سے نفسیاتی مشاہدہ اور باریک بینی نے ان کے افسانوں کا معیار بلند رکھا ہے۔

احمد ندیم قاسمی کے افسانوں کا موضوع پنجاب کی دیہی زندگی ہے۔ان کے پہلے افسانوی مجموعے ’چوپال‘ میں وہاں کی رومانی ہوائوں کا اثر ملتا ہے مگر ان کے دوسرے مجوعے ’بگولے‘ میں اُسی سرزمین کی زندگی کی تلخ حقیقتیں موجود ہیں۔اس مجموعے کے شروع میں قاسمی نے اپنی ایک نظم تحریر کی ہے،جس کا پہلا شعر ہے        ؎

تیری نظروں میں تو دیہات ہیں فردوس مگر

میں نے دیہات میں اجڑے ہوئے گھر دیکھے ہیں

اور اِنہی اُجڑے ہوئے گھروں کے باسیوں کی داستانیں ان کے افسانوں کا مرکز ہیں غرض یہ کہ قاسمی کے افسانوں کا سفر رومان سے حقیقت کی جانب اور جذباتیت سے فکر کی طرف ہے۔ان کا افسانہ ہیروشیما سے پہلے،ہیروشیما کے بعد دوسر ی عالمی جنگ پر لکھے جانے والے افسانوں میں ایک کامیاب افسانہ ہے۔

اختر انصاری کا افسانوی مجموعے ’اندھی دنیا‘ کے افسانوں میں متوسط طبقے کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی محرومیاں اور اس کے نتیجے میں سماج سے برہمی ہے۔ان افسانوں میں مضمون نگاری کے عناصر زیادہ ملتے ہیں اور تبلیغ کا عنصر نمایاں ہے۔اس کے بعد کے افسانے ’نازو‘ کے نام سے مجموعے کی صورت میں شائع ہوئے،ان میں یہ عیوب تقریباً دور ہوگئے ہیں۔کہیں کہیں طنز کا عنصر بھی ملتا ہے۔موضوع اور مواد کے سلسلے میں بھی نظر انتخاب سے کام لیاگیا ہے۔ ’خونی‘ کے افسانے فکرو نظر اور تخیل کے نکھار کے ساتھ ساتھ اعتدال کے تابع نظر آتے ہیں۔

اختر اورینوی نے بعض پیچیدہ مسائل کو اپنا موضوع بنایاہے اور نچلے طبقے کی معاشی مشکلات، لڑائی جھگڑے اور مقدمے بازی، خاندانی منافرت، زمین دار اور کاشتکار، قلی اور نان بائی رکشہ کھینچنے والے اور بھٹی جھونکنے والے سبھی کا مطالعہ قریب سے کیا ہے۔ان کے افسانے اندھی نگری، جینے  کا سہارا، بیل گاڑی اور ’بوڑھی ماما‘ انھیں موضوعات کے گرد گھومتے ہیں۔ان کے  ٹائپسٹ،یہ دنیا اور ’پس منظر‘ جیسے افسانوں میں انھوں نے سماج کی تلخ حقیقتوں کو جذباتی انداز میں لکھا ہے۔ان کا مجموعہ ’کلیاں اور کانٹے‘ فنی اعتبار سے زیادہ گہرائی اور معنویت رکھتا ہے۔ کردار نگاری کے لحاظ سے ’شکور دادا‘ انتہائی کامیاب افسانہ ہے لیکن افسانہ ’’کلیاں اور کانٹے‘‘ میں بہت سے کرداروں کا نفسیاتی مطالعہ پیش کیا ہے،جس کی وجہ سے زندگی کے بہت سے رخوں کو دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ ان کے اس افسانے کو قابل قدر اور اردو کے چند بہترین افسانوں میں شمار کیا جاتاہے۔

احمدعلی کے افسانے ان کے فنی ارتقا کی نشاندہی کرتے ہیں۔شروع کے افسانوں میں انھوں نے زندگی اور فن کے رشتے کو بہت اہم سمجھا ہے۔مثلاً ان کے افسانے مہاوٹوں کی ایک رات،بادل نہیں آتے اور ’استاد شمو خاں‘ اس رشتے کو استحکام عطاکرتے ہیں۔اس کے بعد ’ہماری گلی‘ اور ’میرا کمرہ‘ جیسے ان کے وہ افسانے ہیں جن میں زندگی کے حقائق کی نفسیاتی تاویلیں ہیں۔ ’قید خانے‘ کے افسانوں میں زندگی، نفسیاتی تخیل، فلسفیانہ فکر اور وسعت ان کا مطمح نظر ہے۔

خواجہ احمد عباس کے بعض افسانے مثلاً ’تین عورتیں‘ اور’معمار‘ انقلابی اور انسانی تصوریت کی عمدہ مثالیں ہیں۔ متوسط طبقے کی پریشانیاں،ایک صحافی کے بیانیہ انداز سے سامنے آتی ہیں۔غریبوں کے مسائل پر لکھے گئے ان کے بیشتر افسانے کہیں کہیں کسی سیاسی نعرے کا جز بن جاتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سیاسی موضوعات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ اپنے کرداروں کے ذہنوں میں گہرائی تک دیکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ان کے افسانوں میں زعفران کے پھول،ٹڈی،بارہ گھنٹے اور ’سردارجی‘ اردو کے قابل قدر افسانوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ان کے فن پاروں میں مارکسیت بھی نمایاں طور پرنظر آتی ہے اور وہ نظریات جن میں تحریک آزادی کی بھی آواز سنائی دیتی ہے۔غیر ملکی سامراج سے دشمنی، سماجی اور اقتصادی مساوات، انسانیت کا واضح تصور اور ہندوستانی عوام کے بیچ آپسی تال میل نمایاں رہے ہیں۔ان کے بیشتر افسانے اِنہیں نظریات سے بھرے ہوئے ہیں۔

دیویندر ستیارتھی نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ہندوستان کے مختلف حصوں میں گھوم گھوم کر لوک گیت جمع کرنے میں گزاردیا،ان گیتوں کی بنیاد پر ایسے افسانے تخلیق کیے جو موضوع، ماحول اور خوبصورت بیان کے اعتبار سے اردو افسانہ طرازی میں ایک نیا تجربہ تھا۔ ان کے افسانوں کے تیسرے مجموعے ’اگلے طوفان نوح تک‘ میں قحط بنگال سے متعلق نئے دھان سے پہلے،دوراہا، پھر وہی کنج قفس اور ’قبروں کے بیچوبیچ‘ جیسے افسانے بنگال کے درد انگیز المیہ سے متعلق اور بہت موثر ہیں۔ان افسانوں میں دکھوں سے بھری دنیا میں بھی امید کی کرنیں نظر آتی ہیں۔

حواشی:

1       اردو افسانے کی نصف صدی: پروفیسر قمر رئیس (مشمولہ  ہفت روزہ ہماری زبان ) فروری 1975 

2       اردو تنقید پر ایک نظر:کلیم الدین احمد 1969،  166

3       (بحوالہ) ’اردو افسانہ تعبیر و تنقید‘ پروفیسر اسلم جمشید پوری 2002 ص 124

4       (بحوالہ) اردو افسانہ تعبیر و تنقید: پروفیسر اسلم جمشید پوری  2002 ص99

5       (بحوالہ) ’اردو افسانوی ادب‘ وہاب اشرفی 1987، ص87

          خواجہ احمد عباس ‘راج نارائن راز 1989 ص44

 

 

 

Dr. Arshad Iqbal

(Asst. Professor) M.M (PG.) College,  Katghar

Dist. Moradabad- 244001 (UP)

Mob. No.: 09412828013





4/4/22

کامکس اور ادب اطفال - مضمون نگار : رضی شہاب

 



ہم میں سے ہر شخص اس بات سے واقف ہے کہ بچے میں کم عمری یا یوں کہیں کہ بچپن سے ہی پڑھنے لکھنے کا شوق پیدا کرنے کی اپنی اہمیت ہے اور یہ بات تو ہم سبھی جانتے ہیں کہ بچوں کو کامکس اور کارٹون سے کتنی رغبت ہوتی ہے۔ رنگ، تصویریں اور کہانیاں وہ تین چیزیں ہیں جن کی طرف بچے سب سے پہلے متوجہ ہوتے ہیں۔ سیکھنے کے سفر کے آغاز میں رنگ، تصویریں اور چھوٹی چھوٹی کہانیاں ان کے ذہن پر اپنا ایک خاص اثر مرتب کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی بچے کے ہاتھ میں کتابیں آتی ہیں تو وہ سب سے پہلے تصویروں کو الٹ پلٹ کردیکھتا ہے۔ رنگوں کی جاذبیت اسے ان تصویروں کو دیکھنے پر مجبور کرتی ہے اور جب کوئی شخص اس سے ان رنگوں اور تصویروں میں چلتی پھرتی کہانیوں کو بیان کرتا ہے تو اس کا ذہن ایک خاص رفتار سے تربیت حاصل کرتا ہے۔ دنیا کی ہر زبان میں بچوں میں کتب بینی کے شوق کو مہمیز دینے کے لیے کارٹون اسٹرپس اور کامکس کا سہارا لیا جاتا رہا ہے۔ ظاہر ہے یہ بلا جواز نہیں ہے۔ جس طرح ادب عالیہ کے مطالعے کے شوقین لوگوں نے جاسوسی ادب یا یوں کہیں کہ پاپولرلٹریچر کو بطور زینہ استعمال کیا  ہے، اسی طرح بچوں میں زبان اور ادب نیز مطالعے کے شوق کو ہوا دینے کے لیے کامکس اور کارٹون اسٹرپس نہایت ہی کارآمد ثابت ہوتے رہے ہیں۔ کارٹون اسٹرپس اور کامکس بچوں کی ذہنی اور فکری سطح سے قریب تر ہوتے ہیں۔ اس لیے ان میں ان کی دلچسپی عام کتابوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے کئی فوائد ہیں۔  کم وقت میں زیادہ صفحات، زیادہ تصویریں اور چند اہم خیالات کے ساتھ انھیں ایک ذخیرہ الفاظ بھی حاصل ہوتا ہے، درست املا اور صرف و نحو سے واقفیت ہوتی ہے، علم اور یادداشت میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور لکھنے کی صلاحتیں  پروان چڑھتی ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے فوائد ہیں جو بچوں کو ان کارٹون اسٹرپس اور کامکس کے مطالعے سے حاصل ہوتے ہیں۔

بچوں کے ادب کی نوعیت کے حوالے سے جو بنیادی باتیں کہی جاتی رہی ہیں ان میں یہ ہے کہ، بچوں کا ادب دلچسپ ہو، ممکن ہو تو اس میں تصویریں ہوں، بچوں کے لحاظ سے اس کی زبان آسان اور عام فہم ہو، بات چیت یا مکالمے کا انداز زیادہ سے زیادہ اختیار کیا جائے، تخلیق ایسی ہو جو سائنسی نقطۂ  نظر کو پیش کرے نہ کہ توہم پرستی اور دیگر نظریات کو بچوں کے اندر ابھارے۔ اس کے ساتھ ہی تفریح بچوں کے ادب کی ضروری شرط ہے، ورنہ بچے کچھ ہی دن میں کہانی یا نظم سننے میں دلچسپی لینا ترک کر دیں گے۔ اور اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ کامکس بچوں کی دلچسپی کا سب اچھا سامان ہو سکتے ہیں۔

کامکس دراصل  قصہ گوئی کا ایک وسیلہ ہے  جس میں سلسلہ وار تصاویر کے سہارے کہانی کا بیان ہوتا ہے۔ ان تصاویر کے ساتھ تحریری بیانیے اور دیگر بصری آلات کا استعمال بھی کامکس میں کیا جاتا ہے۔ کامکس کو اس کے روپ میں لانے کے لیے جو چیزیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں ان میں اسپیچ ببل، کہانی کے متعلق تعارفی جملے اور بیانیہ شامل ہیں۔ کامکس کا بہت ہی خاص عنصر کارٹون اور تصویری خاکے ہوا کرتے ہیں۔ یہ کارٹون اور تصویری خاکے کہانی کے بین السطور کی عکاسی کرتے ہیں۔

تقریباً تمام زبانوں میں کامکس کی ایک قدیم تاریخ رہی ہے۔ جدید یوروپی کامکس کی ابتدا 1830کے آس پاس تسلیم کی جاتی ہے البتہ1930  کی دہائی میں کامکس کو بہت زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ بیسویں صدی میں کامکس کو خوب سراہا گیا۔ یہاں یہ عرض کردوں کہ انگریزی زبان میں کامکس مزاحیہ تصویری خاکوں کے لیے بولا جاتا تھا تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اس لفظ کا استعمال سنجیدہ اور حساس بیانیوں کے لیے بھی کیا جانے لگا۔چونکہ ابتدا میں لوگ کامکس کو سنجیدہ فن و ادب تسلیم نہیں کرتے تھے لیکن بیسویں صدی میں کامکس کی مقبولیت نے سارے تصورات بدل کر رکھ دیے۔ حالانکہ والدین اور اساتذہ اسے آج بھی تعلیمی شعبے میں ایک بے جان ٹول (وسیلہ) ہی سمجھتے ہیں۔ جبکہ کامکس وہ تحریر ہو سکتی ہے جسے بچہ بغیر کسی رہنمائی کے سمجھنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

 اس سے پہلے کہ میں موضوع پر مزید گفتگو کروں، مناسب ہے کہ پہلے یہی عقدہ حل کرلیا جائے کہ آخر بچوں کو کامکس کیوں پڑھنے دیا جائے۔ اس کے اسباب کو چند نکات کی صورت میں بیان کیا جاسکتا ہے۔

1          کامکس کی قرأت بچوں کو ان باتوں تک رسائی حاصل کرنے پر ابھارتی ہے جو تحریر میں نہیں ہوتیں۔ کامکس پڑھتے ہوئے بچہ ڈایئلاگ (مکالمے) اور تصاویر پر انحصار کرتا ہے تاہم وہ ان باتوں پر غور کرتا ہے اور تصویرکی تفصیلات اسے جہاں تک لے جاتی ہیں اس کا ذہن ان تمام ابعاد تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی عمل سے بچے کی تصوراتی اور تخیلی قوت میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ اپنے اندر سماج کو دیکھنے کا نظریہ فروغ دے پاتا ہے۔

2          بلا شبہ وہ بچے جو اپنی کتابوں کو جلد سے جلد ختم کرکے ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہی بچے کامکس پڑھتے ہوئے بہت آرام سے مکمل پلاٹ اور تصویروں کو سمجھ کر انھیں اختتام تک لے جانے کی لاشعوری سعی کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے کامکس بچوں میں پڑھنے کے لیے دلچسپی پیدا کرنے کا غیر معمولی کارنامہ انجام دیتے ہیں۔

3          کامکس کی قرأت مختلف النوع کرداروں، حالات اور دیگر باتوں سے روشناس کراتی ہے۔ اس لحاظ سے بہت ہی کم وقت میں اور دلچسپیوں کے ساتھ بچے کو اپنے آس پاس کے ماحول کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

4          وہ بچے جنھیں پڑھنا مشکلوں بھرا عمل لگتا ہے یا جو زبان سیکھنا چاہتے ہیں، تو انھیں نہ صرف یہ کہ ایسی کتابوں کی ضرورت ہوتی ہے جنھیں وہ پڑھ سکیں بلکہ انھیں ایسی کتابیں بھی چاہئیں جو ان میں کوشش کرتے رہنے کے لیے اعتماد پیدا کریں۔ کامکس کی کتابوں میں نہ صرف عمر کے لحاظ سے مواد فراہم کیا جاتا ہے بلکہ ان میں اضافی تصویریں اور عکس ہوتے ہیں،جو اس عمل میں معاون کا کردار ادا کرتے ہیں۔ 

5          کامکس بہت سے سنجیدہ موضوعات کو اپنے اندر سمونے کی اہلیت رکھتے ہیں اور اس کی ایک روایت رہی ہے۔ ایسی صورت میں بچہ ابتدائی ایام سے ہی سماجی طور پر زیادہ گہری معلومات ان تصاویر اور عکس کے ساتھ حاصل کرسکتا ہے جنھیں بآسانی کامکس میں پیش کیا جاسکتا ہے۔

اس حوالے سے ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ ہمیں اس بات سے مکمل طور پر آگاہ ہونا چاہیے کہ آج کے اس تیز رفتار اور دن بہ دن ترقی کی جانب پیش قدمی کرنے والے عہد میں ہمارے بچے کن تفریحی ذرائع کے ساتھ بڑے ہو رہے ہیں؟ سماج میں برائیوں اور تشدد کا عنصر جڑ پکڑتا جارہا ہے۔ ٹی وی اور سوشل میڈیا پر ہزاروں واہیات چیزیں بچوں کے ذہن کو کند اور برائیوں کی جانب لپکنے والا بنا رہی ہیں۔ جو کارٹون ٹی وی پر دکھائے جاتے ہیں وہ مار دھاڑ، لڑائی جھگڑے اور طرح طرح کی خرافات سے پُر ہوتے ہیں۔ایسے میں ان کہانیوں کی ضرورت ہے جو بچوں میں بچپن سے ہی اچھے اخلاق و عادات کی اہمیت سے انھیں آگاہ کردیں۔ چونکہ عام کہانیاں جس طرح سے شائع کی جاتی ہیں، بچوں کی دلچسپی ان میں زیادہ نہیں ہو سکتی ہے، اس لیے کامکس کے سہارے انھیں پڑھنے کا گرویدہ بنایا جاسکتا ہے۔ یہ ایک ایسا ذریعہ ہوگا جس سے ان میں پڑھنے کی عادت جڑ پکڑے گی اور ان کو صحت مند تفریح کا ایک اچھا ذریعہ بھی نصیب ہوگا۔

میں یہاں اردو زبان میں کامکس کی مکمل روایت کا ذکر نہیں کروں گا البتہ یہ بتاتا چلوں کہ حال کے دنوں میں بچوں کے چند ایک رسالے ایسے ہیں جو کبھی کبھار کامکس کہانیاں اپنے رسالوں میں شائع کرتے ہیں۔ مگر مجموعی طور پر اردو میں کامکس کی صورت حال کچھ خاص اچھی نہیں ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن پر تفصیلی بات بھی کی جاسکتی ہے۔ البتہ اتنا ضرور کہوں گا کہ اس کا سبب کچھ بھی ہو، یہ تو قطعاً نہیں ہے کہ کامکس کہانیاں پڑھی نہیں جارہی ہیں، یا لوگوں کی ان کہانیوں میں دلچسپی نہیں ہے یا پھر یہ کہانیاں بچوں کے ذہن پر منفی اثر مرتب کرتی ہیں۔ بلکہ  اس کی سامنے کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں وہ افراد یا ادارے نہیں ہیں جو اس جانب توجہ دیں۔ بچوں کے ادب کے نام پر صرف کہانیاں لکھ دینا، نظمیں کہہ لینا اور پھر ان کو غیر جاذب قسم کے گیٹ اپ میں شائع کرادینا ہی ادب اطفال کی خدمت نہیں ہے بلکہ ادب اطفال پر مشتمل کتابوں کے اپنے منفرد تقاضے ہیں۔ بچوں کی دلچسپیوں اور ان کی ذہنی و فکری سطح کو ملحوظ رکھتے ہوئے کتابیں تیار اور شائع کرنے کی اپنی اہمیت ہے  جس کا ہمارے یہاں فقدان ہے۔ ہمارے یہاں بچوں کی بیس نظمیں لکھ کر اسے کتابچے کی صورت میں شائع کراکر، دس بیس صفحے کی کتابوں کو40-50 روپے کی قیمتوں میں فروخت کرنے کی ہوڑ مچی ہے۔ ایسے میں کامکس جیسی کسی قدر دقت طلب کتابیں کس طرح تیار کی جاسکتی ہیں یا ان کی جانب توجہ دینے کی کسے فرصت ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں یہ شکایت بے جا ہے کہ بچے کتاب نہیں اٹھاتے، وہ پورا دن ٹی وی پر کارٹون دیکھنے یا موبائل پر گیم کھیلنے میں گزار دیتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب کتابوں کی صورت میں ان کی دلچسپیوں کا مواد دستیاب نہیں ہے تو پھر وہ اپنے لیے دستیاب تفریحی پروگرام تلاش ہی لیں گے۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ موبائل اور ٹی وی کی لت کا منفی اثر بچوں کے ذہن پر پڑتا ہے اور اس سے ہر والدین بخوبی واقف ہیں۔ ایسے میں کامکس جیسی دلچسپ کتابوں کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔

بلاشبہ موجودہ حالات اردو میں کامکس کے حوالے سے بہتر نہیں ہیں کیونکہ اس جانب بہت کم توجہ دیا جارہا ہے تاہم اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہم مستقبل کے لیے تیار نہ ہوں۔اس سلسلے میں افراد اور ادارے مل کر چند امور انجام دے سکتے ہیں اور کامکس کی ایک توانا روایت کی ازسر نو داغ بیل ڈال سکتے ہیں۔ یقیناً مستقبل کی نسل کے لیے یہ ایک بہترین سرمایہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس حوالے سے چند ضروری اعمال جو انجام دیے جاسکتے ہیں۔

(الف) ورکشاپ کا انعقاد:

سب سے پہلے ورکشاپ منعقد کرائے جائیں جن میں تخلیق کار، آرٹسٹ دونوں شامل ہوں۔ ورکشاپ کا مقصد چند منتخب عناوین کے تحت کہانیوں اور تصویری خاکوں کا ڈھانچہ تیار کرنا ہو۔ یہ دھیان رکھا جانا ضروری ہے کہ کامکس کس عمر کے بچے کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔کیوں کہ اسی صورت میں مناسب لفظوں اور بہتر موضوعات کا انتخاب کیا جاسکے گا اور پھر یہ کہ اسی کی مناسبت سے ان تصویری خاکوں میں رنگ بھرے جاسکیں گے جو کامکس کو اس کی اصلی شکل میں پیش کریں گے۔

چونکہ بات اردو کے حو الے سے ہو رہی ہے اس لیے غالب امکان ہے کہ ایسے آرٹسٹ بہت کم  دستیاب ہوں جنھیں آرٹ کے ساتھ ساتھ اردو زبان سے بھی واقفیت ہو۔ اس لیے آرٹسٹ اور تخلیق کار کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ضروری ہے کیونکہ ایسی صورت میں آرٹسٹ کو اسکرپٹ کی ضروریات اور کرداروں کا بیان نیز کہانی کے تمام زاویوں سے آگاہ کرنا ہوگا اور اس کے ساتھ آرہے مسائل کو بھی حل کرنا ہوگا۔

(ب)مسابقوں کا انعقاد:

دوسری بات یہ ہے اسکولوں میں اس طرح کے مسابقے منعقد کرائے جاسکتے ہیں جس میں ہر درجے کے طالب علموں کے لیے الگ الگ  موضوعات پر کامکس کی کہانیاں تیار کرائی  جائیں۔ ان کے خیالات کو اچھی طرح پڑھا جائے، انھیں کی کہانیوں پر نئے سرے سے کہانیاں مرتب کی جائیں اور ان کے لیے تصویری خاکے تیار کیے جائیں۔ این سی ای آرٹی اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان یا اردو اکیڈمیاں سب مل کر بھی یہ کام کرسکتی ہیں۔

رسالے کامکس کہانیاں طلب کرسکتے ہیں۔

آیئے اب کامکس کی تیاری کن مراحل سے ہو کر تکمیل کو پہنچتی ہے، کا جائزہ لے لیا جائے۔

کامکس تیار کرنے کے مراحل میں سب سے پہلا مرحلہ کسی خیال کو ذہن میں ترتیب دینے کا ہے۔ اگر آپ نے کوئی خیال اپنے ذہن میں بُن لیا ہے، اور یہ طے کر لیا ہے کہ آپ کس طرح کا کامکس تیار کریں گے تو آپ اگلے مرحلے کی جانب پیش قدمی کیجیے اور کہانی کو لفظوں کا روپ دیجیے۔ کہانی کا ڈھانچہ تیار کیجیے، مکالمے تحریر کیجیے۔ یہ غلطی کبھی نہ کریں کہ پہلے تصویری خاکے بنا لیں اور پھر اس کے مطابق بیانیہ خلق کرنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ ایسی صورت میں کئی دقتیں پیش آئیں گی۔ کہانی مرتب کرنے کے بعد تصویری خاکے تیار کریں۔ اسپیچ ببل اور بیانیہ کے لیے جگہیں مختص کرتے ہوئے اصل کرداروں کی حرکات کو تصویری خاکوں میں زندہ کریں۔ تصویریں بناتے وقت کرداروں کے ماحول کو بھی تصویری ذرائع سے پیش کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے بعد تصویروں میں رنگ بھرنے کا مرحلہ آتا ہے۔

چاہے کہانیوں کا انتخاب ہو یا پھر تصویروں اور رنگوں کا، ہمیں یہ دھیان رکھنا ہوگا کہ وہ کامکس کس عمر کے بچوں کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ کیونکہ ہر عمر کے بچوں کا ذہن اور چیزوں کو دیکھنے اور سمجھنے کا ان کا طریقہ الگ ہوتا ہے۔ کہانیوں کا انتخاب کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ کہانیوں میں لڑائی جھگڑے اور تشدد سے لبریز منظر نامے یا مکالمے نہ تخلیق کیے جائیں۔ پیار محبت اور اخلاص و دوستی کے درس پر مبنی کہانیاں بچپن سے سکھایا جانا عہد حاضر کی بڑی ضرورتوں میں سے ہے۔

 کامکس کی اہمیت اور ادب اطفال میں اس کی ضرورت کے حوالے سے یہ مختصر گفتگو اس لیے کی گئی ہے تاکہ اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے کوشاں رہنے والے ادارے اس جانب بھی توجہ دیں اور اردو میں کامکس کی روایت زندہ  کریں۔اگر اس جانب توجہ دی جاتی ہے تو یقیناً مستقبل کی نسل اس سے ضرور مستفید ہوگی اور ہمیں اردو زبان اور اس کے رسم الخط سے واقف لوگوں کی بڑی تعداد میسر رہے گی۔

 

 

Razi Shahab

Assistant Professor,  Department of Urdu

West Bengal State University

Berunanpukuria, Malikapur

Barasat, North  24 Parganas

Kolkata-700126 (West Bengal)

Mob. 9810332595

 

 



تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...