3/3/23

اردو بلٹز کی صحافت خواجہ احمدعباس اور آر کے کرنجیا کی خدمات: ذاکر حسین ذاکر


 

آر کے کرنجیا نے بلٹزاردو ویکلی کو ممبئی سے 1964 میں جاری کیا۔اس کا ایڈیٹر مشہور کہانی کار انور عظیم کو بنایا گیا۔ بلٹز اردو دراصل انگریزی بلٹز کا ہی اردو ورژن Version تھا۔ کرنجیا نے انگریزی بلٹز 1941میں جاری کیا تھا۔ کرنجیا نے1930 میں بحیثیت نامہ نگار اپنی صحافت کی شروعات ٹائمز آف انڈیا سے کی تھی۔مگر دوسری جنگ عظیم میں انھیں احساس ہوا کہ ٹائمز گروپ پر برٹش کمپنیوں اور جوٹ بارنس کا کنٹرول ہے۔اس لیے یہ  اخبار ان کے احساسات کی ترجمانی کے لیے ناکافی ہے۔ وہ اپنے ذہن میں کافی بے چینی محسوس کر رہے تھے۔ در اصل کرنجیا ایک ترقی پسند‘اشتراکی اور سامراج مخالف صحافی تھے۔ان کے لیے برٹش مفاد پر کام کرنا بہت بھاری پڑ رہا تھا۔ ایک دن چائے کے ٹیبل پر انھوں نے اپنے دوست دینکر وی ناڈکرنی سے کہا کہ کیوں نہ خود کا اخبار جاری کیا جائے۔ اس ٹیبل پر ان کے دوست وی جی ہارنی من بھی بیٹھے تھے۔ان تینوں کی رضامندی سے اخبار نکالنے کا فیصلہ ہوا۔ انھوںنے اپنے اخبار کا نام بلٹز رکھا۔ یعنی یلغار۔دشمن پر سیدھا اوراچانک حملہ۔خواجہ احمدعباس نے بلٹز کے مفہوم کو سمجھاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ لفظ جرمن لفظ Blitzkrieg کامخفف ہے۔اس لفظ کا سب سے پہلا استعمال 1939 میں پولینڈ کی جنگ میں جرمنی نے کیا تھا۔یہ جرمنی کا طریقہ جنگ تھا‘ جسے Blitz lightning and krieg warکہا گیا۔کرنجیا نے بہت سوچ سمجھ کر اپنے اخبار کا نام بلٹز رکھاتھا۔ انھوں نے پہلے ہی شمارے میں بلٹز کو متعارف کراتے ہوئے لکھاOur Blitz, India's Blitz against Hitler یعنی ہمارا بلٹز ہندوستان کا بلٹز جو ہٹلر کا مخالف ہے۔

جب ہم بلٹز کی فطری بناوٹ کا جائزہ لیتے ہیںتو بلٹز کے نام کی معنویت کا اندازہ لگانا آسان ہوجاتا ہے۔ بلٹز نے ہندوستان چھوڑو تحریک کا کوریج بلٹز کے طریقے سے کیا۔ہندوستان چھوڑو تحریک میں بلٹز کے طریقہ کار نے انگریزی حکومت کو چوکنا کر دیا۔صرف چار ماہ بعد بلٹز کا سرکولیشن 20ہزار پہنچ گیا اور پچیس سال بعد اس کا سرکولیشن لاکھوں میں تھا۔تب کرنجیا نے بلٹز کو People's paper   یعنی عوام کا اخبار کہا‘جو بنیادی ضرورتوں کی عکاسی کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا تھا۔بلٹز کے ایڈیٹوریل بورڈ میں اس زمانے کے جانے مانے ترقی پسند اور اشتراکی صحافی شامل تھے۔اس میںاہم نام خواجہ احمد عباس کا تھا جو لاسٹ پیج لکھتے تھے۔رمیش سنگھاوی‘اے راگھون جیسے صحافی مستقل کالم لکھتے تھے۔وی ناڈکرنی ‘وی جی ہارنی من اور ظہیر بابر قریشی مقبول  مشہور کالم نگار تھے۔ظہیر بابر قریشی  ZABAK کے فرضی نام سے کالم لکھتے تھے۔بلٹزکے سرکولیشن ‘تجارتی تعلقات اور اشتہار ات کی دیکھ بھال نادر بومن بہرام کرتے تھے۔

ہندوستانی صحافت میں سنسنی خیزی اور اسٹنگ کا چلن بلٹز نے شروع کیا۔ یہ بلٹز کا مخصوص طریقہ کار تھا۔کیوں کہ کرنجیا ایک عظیم کہانی کار تھے۔وہ حالات کو بہت بے خوفی اور جواں مردی سے منعکس کرنے کے عادی تھے۔نچلے طبقے کے عام انسان مل مزدور اور فٹ پاتھ پر رہنے والوں نے ہمیشہ بلٹز کو اپنے قریب تر پایا ہے۔کرنجیانے بلٹز کو ہمیشہ Embedded jounalism یعنی ریاست یا فوجی خبروں کی ترجمانی سے دور رکھا۔وہ صحیح معنوں میں Embellished jounalismیعنی حسن پرستی اور جدت پسند صحافت کے قائل تھے۔وہ بلٹز کو سبھی کے لیے یکساں طور پر مقبول بنانا چاہتے تھے۔تمام ذہنیت کے لوگوں کے لیے چاہے وہ فلم انڈسٹری میں ہوں یا چالوں میں رہنے والے مل مزدور۔یہی وجہ ہے کہ بلٹز میں ہر طرح کے موضوعات شامل کیے جاتے تھے۔بلٹز غیر قانونی پیسہ بنانے والوں ‘دھمکی دینے والوں اور غیر قانونی طریقے سے کام کرنے والوں یعنیRacketeerکا پردہ فاش کرنے پر یقین کرتا تھا۔بڑے بڑے سیاسی بازیگر ‘ وزرائے اعلیٰ ‘کابینہ کے وزرااور گورنر تک بلٹز کی تحقیقاتی رپورٹ کی زد میں ہوتے تھے۔بلٹز کے قاری عام طور پر کرنجیا کی ہمت اور جرأت پر حیران رہ جاتے تھے۔اسی حوصلے اور ہمت کی وجہ سے بلٹز چین کی سرحد سے لے کر ممبئی کے مل مزدوروں میں یکساں طور پرمقبول و مشہور تھا۔اکثر ان کے معاملات عدالت میںگئے اور ان کو ہرجانے بھی اداکرنے پڑے۔مگر وہ کبھی اپنی بے خوفی سے کنارہ کش نہیں ہوئے۔

(R K Karanjia:Living through the Blitz by P.Sainath, The Hindu Daily,Dated-06-02-2008)

70 کی دہائی میں جب انگریزی بلٹز اپنے عروج پر تھااور اس کا سرکولیشن تین لاکھ سے زائد پہنچ چکا تھا۔ لوگوںنے اس کا اردو ایڈیشن جاری کرنے کا مطالبہ شروع کیا۔ بلٹز گروپ نے ہندی بلٹز اور مراٹھی بلٹز کی اشاعت  پہلے ہی شروع کر رکھی تھی۔بلٹز کے ایک کلیدی رکن خواجہ احمد عباس تھے‘ جو 1946سے ہی انگریزی بلٹز کے لیے لاسٹ پیج لکھ رہے تھے۔اردو جاننے والے مشہور کالم نویس ظہیر بابر قریشی نے بھی اردو بلٹز شائع کرنے کا مشورہ دیا۔اس کے علاوہ فلم اور ملک کے دوسرے علاقوں سے بھی بلٹز کے اردو ورژن کی اشاعت کا شدیدمطالبہ کیاجا رہا تھا۔لیکن کرنجیا کو اردو بلٹز کے لیے کوئی مناسب ایڈیٹرنہیں مل رہا تھا۔ اردو کے لیے کسی ایڈیٹر کی تلاش شروع ہو گئی۔اس موقعے پر ان کی رہنمائی خواجہ احمد عباس نے کی۔ انھوںنے اپنے دور کے رشتہ دار انور عظیم کو اس عہدے کے لیے منتخب کرنے کا عندیہ دیا۔ان دنوں وہ دلی میں ریڈیو کے لیے پروگرام مرتب کر رہے تھے۔ اس سے قبل انور عظیم ماسکومیں غیر ملکی زبانوں کے مترجم کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات پیش کر چکے تھے۔کرنجیا نے انھیںدلی سے بلا کر بلٹز اردو کی ادارت کی ذمے داری سپرد کر دی۔ انور عظیم 1924-1999 بہار کے گیا ضلع کے رہنے والے تھے۔وہ مشہوراشتراکی ادیب‘شاعر اور صحافی تھے۔انور عظیم نے بلٹز شروع کر دیا اور اسے کامیابی کے ساتھ پانچ سال تک چلایا۔ان کی اہلیہ دلی رہ رہی تھیں اور وہ ممبئی رہتے تھے۔اس لیے وہ ذہنی طور پرممبئی میں کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہو پا رہے تھے۔انھوں نے 1968 میں بلٹز کو خیر باد کہہ دیا اور دلی چلے گئے۔کچھ دنوںبعد ان کی تقرری سویت لینڈ میگزین کے تمام پانچوں ایڈیشنوں کے ایڈیٹر کے طورپر ہو گئی۔انور عظیم 1990 تک  اسٹائل ایڈیٹر اور تجزیہ کارکی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ انھیں 1969میں سویت لینڈنہرو ایوارڈ سے بھی نواز گیا تھا۔

انور عظیم کے بلٹز چھوڑنے کے بعد جلدی جلدی کئی ایڈیٹر بدلے گئے۔1968میںسب ایڈیٹر اختر حسن کو بلٹز اردو کا ایڈیٹر بنایا گیا۔مگروہ بہت کامیاب نہیں ہوئے۔ انھیں ایک سال کے اندربلٹز چھوڑنا پڑا۔آرکے کرنجیا نے ہندی ایڈیشن کے ایڈیٹر منیش نرائن سکسینہ کو اردو کی بھی ذمے داری دے دی۔اس دوران کرنجیا سنجیدگی سے اس بات پر غور کر رہے تھے کہ اردو ایڈیشن بند کر دیا جائے۔ لیکن جس طرح لوگوںنے اردو ایڈیشن کا خیر مقدم کیا تھا۔اس سے کرنجیا پس وپیش میں تھے۔آخر کار اردو بلٹز کو بلندی تک پہنچانے والے شخص کی دریافت ہو گئی اور وہ تھے حسن کمال جو بلٹز اردو میں1965سے ہی کام کر رہے تھے۔حسن کمال مہاراشٹر سرکار کے رسالے ماہنامہ امکان اور سہ ماہی نورس کی ادارت بھی کرتے تھے۔کرنجیا نے 1974میں حسن کمال کو بلٹز کا ایڈیٹر بنایا دیا۔مشہور صحافی‘ شاعر اور ادیب حسن کمال 1943میںلکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک علمی خانوادے کے چشم و چراغ ہیں۔ان کی ابتدائی تعلیم لکھنؤ کے ممتاز انٹر کالج سے ہوئی۔پھر انھوںنے لکھنؤ یونیورسٹی سے بی اے اور ایم اے کیا۔ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے جوانٹ سکریٹری رہے۔ یونیورسٹی فیسٹول اور تقریبات میںجم کر حصہ لیا۔ حسن کمال ایک مزاحیہ‘ قہقہے باز ‘یار باش اورالہڑقسم کے نوجوان تھے۔ان کی لکھنؤ یونیورسٹی کی شخصیت کے متعلق اقبال مجید نے خوب لکھاہے۔’’لکھنؤ یونیورسٹی کی کینٹین میں پارے کی طرح تھرکتا ہوا ‘ قہقہہ لگاتا‘ سنجیدہ ہوتا لڑتا جھگڑتاحسن کمال میری آنکھوں کے سامنے بار بار آجاتاہے۔‘‘

(حاصل سہی از حسن کمال،قلم پبلی کیشنز ممبئی 2005ص5)

آج حسن کمال سنجیدہ اور باکمال شاعر ہیں۔ایک اعلیٰ درجے کے صحافی کے طور پر پورے ہندوستان میں جانے جاتے ہیں۔حسن کمال نے بلٹز کی ادارت سنبھالنے کے بعداسے بلندمقام پر پہنچایا۔اس کے کلیور میںتبدیلی کی اور اس کے صفحات پر نئے مضامین اور مواد شامل کیے۔ اس کے بعد بلٹز کے سرکولیشن میں زبردست اچھال آیا۔ منیش نرائن سکسینہ کے زمانے میں جہاں بلٹز کا سرکولیشن 13ہزار تھا وہیں حسن کمال کے چارج سنبھالنے کے 6ماہ بعد اس کا سرکولیشن 27000تک پہنچ گیا۔مقبولیت کی یہ رفتار بڑھتی رہی اور 1977کا سال آتے آتے اس کا سرکولیشن 107000ہو گیا۔ یہ حسن کمال کے ذوق ا ور جنون کا کمال تھا ‘جس نے صحافت میں شعریات کا تڑکہ لگایااوراردو بلٹز کو بھی انگریزی کے ہم پلہ کھڑا کر دیا۔ان کا انداز بلٹز اردوقارئین کو اس قدر پسند آیا کہ قارئین ایک ہفتے تک اس کے تجزیے اور خبروں کو پڑھنے کے منتظر رہنے لگے۔ ان دنوں اردوبلٹز کا جادو لوگوں کے سر چڑھ کر بول رہا تھا۔جو لوگ اس کے خریدار تھے‘  وہ ہفتے کے روز بلٹز کے بنڈل کھلنے سے قبل اسٹال پرقطار میں کھڑے رہتے تھے۔زرد کاغذ پر شائع ہونے والے بلٹز کے صفحات سے یگانگت‘رواداری اور دوستانہ لمس کی خوشبو دل تک محسوس ہوتی تھی۔بلٹز کے صفحات 20ہوتے تھے اور قیمت ایک روپے تھی۔ کئی دفعہ ایسا بھی ہوتا تھاکہ اس کے قاری ایک روپہ کا بلٹز دس روپئے میں خریدنے کے لیے بھی تیار ہو جاتے۔

حسن کمال نے بلٹز میں اس وقت ممبئی کے تمام بڑے لکھاریوں کو جمع کر رکھا تھا۔قیصر مظہر حسین‘ اختر حسین‘ امجد عثمان‘شفیع محمود ایوبی ‘ اور ہارون رشید جیسے کامیاب صحافی بلٹز کی مستقل ادارت میںشامل تھے۔ اس کے علاوہ ندا فاضلی ‘ظ انصاری‘کیفی اعظمی ‘سلمیٰ صدیقی اورسردار جعفری کے مستقل کالم بلٹز میں شائع ہوتے تھے۔ندا فاضلی کا مستقل کالم ’ملاقاتیں ‘ایک ایسا بد کالم تھا‘ جس میں ادیبوں اور شاعروں سے ملاقات کی روداد مزاحیہ انداز میں شائع ہوتی تھی۔اس کالم میں کئی بار تنازعے کاماحول قائم ہو جاتا۔مگر جیسا کہ اخباری دنیا جانتی ہے آر کے کرنجیا کسی تنازعے سے ڈرنے والے نہیں تھے۔ یہ کالم بے خوف و خطر شائع ہوتے رہتے۔ کیفی اعظمی نے کچھ سالوںتک مزاحیہ کالم نئی گلستاں لکھا۔وہ ان کالموںمیں شیخ سعدی کی شہرہ آفاق کتاب گلستاں کی طرز پر تبصرے کرتے تھے۔حسن کمال نے عالم اسلام ‘کے نام سے ایک نیا کالم شروع کیا۔اس کالم کو ظفر پیامی لکھتے تھے۔یہ کالم بھی بہت مقبول ہوا۔ان کالموں کے ذریعے ظفر پیامی مسلم ممالک کے مسائل اور دیگر حالات کی جانکاری دیتے تھے۔مسلم ممالک کے مسائل پر ان کے تبصرے بے حد ہمدردانہ اور مثبت ہوتے تھے‘جسے اردو قاری بہت پسندکرتا تھا۔ظ انصاری کی خدا لگتی کے عنوان سے کالم ادبی تنقید اور تنقیح کا بہترین مظہر تھا۔ کالم کھیل کی دنیامشہور صحافی ہارون رشید علیگ لکھتے تھے۔ایک مستقل کالم طب یونانی اور اس کی مسیحائی حکیم مختار احمداصلاحی لکھتے تھے۔ان کالموں کا تذکرہ بے معنی ہے جب تک خواجہ احمدعباس کا مستقل کالم’آزاد قلم ‘ کا ذکر نہ ہو۔خواجہ احمد عباس کے آخری صفحے کا کمال تھا بلٹز کے ہر زبان کے قاری اسے آخری صفحے سے پڑھتے تھے۔

خواجہ احمدعباس نے1946سے بلٹز کے لیے لاسٹ پیج(Last page)  لکھنا شروع کیااوراپنی وفات تک اس سلسلے کو قائم رکھا۔یہ کارنامہ صحافتی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے کہ کوئی صحافی مسلسل چالیس سال تک پابندی سے کالم لکھتا رہاہو۔بلٹز اخبار میں صرف خواجہ احمدعباس ہی ایسے صحافی تھے جن کی تحریر پریس میں بھیجنے سے قبل آر کے کرنجیا کے پاس نہیںجاتی تھی۔اردو میں لاسٹ پیج آزاد قلم کے نام سے شائع ہوتا تھا۔آزاد قلم اردو صحافت کا مقبول کالم تھا۔آزاد قلم میں ادب ‘فلم ‘کلچر اور کتابوں کے متعلق ان کی خاص رپورٹ ہوتی تھی۔ان رپورٹوں میں اتنی معلومات ہوتی تھی کہ ادب اور کلچر میں دلچسپی نہ رکھنے والے بھی اسے پڑھتے تھے۔اس کے علاوہ آزاد قلم میں سیاسی تڑکہ ان کے مخصوص انداز میں منعکس ہوتا تھا۔ان سیاسی کالموں کو دیکھنے سے معلوم ہوتا جیسے عباس ایک منجھے ہوئے سیاست داں ہیں۔عباس کا ہاتھ عوام کی کمزورنبض پر ہوتا تھا۔لوگوں کو یہ محسوس ہوتا تھا‘ جیسے ان کے دل کی بات کہہ دی گئی ہو۔

خواجہ احمد عباس ہفتے میں صرف ایک دن بلٹز کے لیے نکالتے تھے۔وہ جمعرات کواپنے اپارٹمنٹ کے پیچھے واقع دفتر میںبیٹھ کردن بھر آزاد قلم لکھتے رہتے تھے۔ان کے ساتھ ان کے دونوں سیکریٹری عبدالرحمن ا ور وحید انور موجود ہوتے۔ان کے ایک سکریٹری شفیق احمد نے بڑے دلچسپ انداز بیان میںان کے کام کرنے کے طریقے پرروشنی ڈالی ہے۔’’جمعرات کے دن ناشتہ کرتے ہی عباس صاحب اردو بلٹز کے لیے لکھنا شروع کردیتے تھے۔وحید انور صرف جمعرات کے دن آتے تھے اور ان کے مضمون کی نقل کر کے دوکاپیاں بناتے تھے۔دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد عباس صاحب سو جاتے تھے اور چار بجے اٹھ کرانگریزی بلٹز کے لیے دوسرا مضمون لکھتے تھے‘جو عبدالرحمن صاحب ٹائپ کرتے تھے۔ہندی بلٹز کے ایڈیٹر ان کے اردو مضمون کا ہندی میں ترجمہ کرتے تھے۔وحید انور صاحب ان کے مضمون کوبلٹز کے دفتر دے کرآتے تھے۔ (ماہنامہ نیا دور لکھنؤ۔مارچ۔ستمبر 1988ص66 )

’آزاد قلم‘ میں خواجہ احمدعباس ملک کے سماجی‘ اقتصادی اور سیاسی مسائل کا زبردست محاسبہ کرتے تھے۔ اس کالم میں عباس سماجی تفریق ‘جہالت اور وحشیانہ عقیدت مندی میںغیرانسانی سلوک پر بھی اظہار خیال کرتے تھے۔کبھی وہ ان مسائل پر طنز کرتے ہیں کبھی اس کی تفسیر بیان کرتے ہیںاور کبھی وہ ان کا تجزیہ پیش کرتے ہیں۔آزاد قلم کا انداز ہر کالم میںمتفرق ہوتاہے۔ طنزیہ‘ مزاحیہ اور تبصراتی انداز بھی وہ حسب ضرورت استعمال کرتے تھے۔وہ اکثر سماجی اصلاحات میں اہم کارکردگی انجام دینے والے افراد کی تعریف و توصیف بھی کرتے تھے۔جیسے مہاراشٹر کے ایک گاؤں میں لوگوں نے پانی پنچایت کی تشکیل کی تو خواجہ صاحب کی نظر ادھر گئی۔ انھوںنے آزاد قلم میں اس موضوع پر توصیفی اظہار خیال کیا۔1975میں مہاراشٹر میں مراہٹواڑا علاقے میں خزانے کی تلاش کے لیے دوشیزاؤں کی بلی دے دی گئی۔ عباس کے آزاد قلم نے اس اقدام کی سخت مذمت کی۔ انھوںنے لکھا۔ کیا ہم ابھی تک وحشی ہیں۔انھوں نے اس درندگی کی لعن طعن کی۔انھوںنے اس کالم میں کرشن چندرکے افسانے ہم وحشی ہیںکا بھی تذکرہ کیا۔

آزاد قلم کے موضوعات خواجہ احمد عباس کی سچائی اور ایمانداری کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ان کالموں کے موضوعات میں تنوع ہے۔ ان کی سادگی اور پرکاری اور اپنی بات کو نپے تلے غیرشاعرانہ انداز میں کہنے کی ان کی ادا بھی لوگوں کوان کے کالموں کی طرف کھینچتی تھی۔خواجہ صاحب کہا کرتے تھے کہ ان کے کالم لوگ اس لیے پسند کرتے ہیں کہ وہ سچ کہنے کا ہنر جانتے ہیں۔

خواجہ احمد عباس

فلم ساز ‘کہانی کار‘ ناول نگاراور معروف صحافی خواجہ احمد عباس 1914-1987پانی پت کے ایک روشن خیال علمی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ان کے والدکا نام غلام السبطین تھا۔ان کے چچا غلام الثقلین اور غلام الحسنین دونوں تعلیم یافتہ تھے۔خواجہ احمدعباس کی ابتدائی تعلیم پانی پت میںہوئی۔انھوںنے حالی مسلم ہائی اسکول سے ہائی اسکول پاس کیا۔کہا جاتا ہے کہ بھگت سنگھ ان کے ہم مکتب تھے۔ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انھیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میںداخل کرا یاگیا۔علی گڑھ سے انھوںنے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔پھرایل ایل بی کیا۔علی گڑھ کے ادبی ماحول میں عباس کی شخصیت میںبہت کچھ تبدیلی آئی۔ وہ علی گڑھ سے ڈرامہ ‘فلم اور ادبی ذوق کی ہمہ گیری کے ساتھ باہر نکلے۔

خواجہ احمد عباس کو وکالت پسند نہیں تھی۔ انھوںنے صحافت کو بطور پیشہ منتخب کیا۔وہ علی گڑھ میں یونیورسٹی میگزین کی ادارت کر چکے تھے۔انھوں نے علی گڑھ میں علی گڑھ اوپینین اخبار شائع کیا،جس میں وہ خود مضامین لکھتے‘ اسے پریس میں دیتے اور سائکل پر بیٹھ کر اسے تقسیم کرتے تھے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ دہلی چلے گئے ‘جہاں ان کے والد نے دوا خانہ کھول رکھا تھا۔عباس نے دہلی سے شائع ہونے والے انگریزی اخبار’ نیشنل کال ‘ میں بطور نامہ نگار کام کرناشروع کر دیا۔دراصل صحافت کا الف بے انھوںنے نیشنل کال سے سیکھا۔لیکن انھیںجلد ہی ممبئی سے شائع ہونے والے ایک اخبار بامبے کرونیکلBombay Chronicle میں سب ایڈیٹر کی نوکری مل گئی۔ ان کی اصل صحافتی تربیت بامبے کرونیکل میںہوئی۔ان کی فلموںسے رغبت کی وجہ بھی بامبے کرونیکل بنا ‘جس میں انھیں فلمی تبصرے لکھنے کی ذمے داری دی گئی تھی۔ان کے فلمی تبصرے فلم ساز پسند نہیں کرتے تھے۔کیوں کہ وہ فلم سازوںکو آئینہ دکھانے کا کام کرتے رہتے تھے۔فلم سازی کے شعبے میں قدم بڑھانے کی پوری تفصیل انھوںنے اپنی خود نوشت’ جزیرہ نہیں ہوں میں‘ کے باب ’ غیر معمولی ناقد فلم ‘میں دیا ہے۔

آر کے کرنجیا

رستم خورشید جی کرنجیا موسوم بہ آر کے کرنجیا 1912-2008 ممبئی میں پیدا ہوئے تھے۔ان کے دوست اور گھر والے انھیں پیار سے روسی کہتے تھے۔وہ پارسی النسل تھے اور انتہائی امیر کبیرپارسی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔اس خاندان نے انگریزی طرز رہائش اختیار کر لی تھی۔ان کے والد آنکھ کے معروف سرجن تھے۔انھوںنے ایڈن برگ سے سرجری کی تربیت حاصل کی تھی۔ان کی والدہ پاکستان کے کویٹا شہر کی ایک امیر پارسی خاندان کی بیٹی تھیں۔ان کی تعلیم و تربیت انگریز ی گورنیس کے ذریعے ہوئی تھی۔ کرنجیا خاندان اورینٹ کلب کے سامنے چوپاٹی بیچ کے پاس کویٹا ٹیریس میں رہتا تھا۔یہ مکان ان کے نانا نے ان کی والد ہ کو شادی کے تحفے میںدیا تھا۔آر کے کرنجیا کے گھر میں موسیقی کے تمام جدید آلات اور آرام و آسائش کے سامان موجود تھے۔ کرنجیا کی پرورش انگریزی کے اشرافیہ پارسی خاندان میں ہوئی۔ان کی تعلیم شہر کے بہترین اسکول سینٹ زیویئرس میں ہوئی۔انھوں نے ولسن کالج سے گریجویشن کیا،  لندن جاکر آکسفورڈ سے اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہتے تھے مگر ٹائمز میں ان کی نوکری نے اس خواب کو شرمندہ تعبیر نہ ہونے دیا۔کرنجیا صرف انگریزی بول سکتے تھے۔یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ بلٹز جیسے عوامی اخبار کے چیف ایڈیٹر ہونے کے باوجود کرنجیاکسی ہندوستانی زبان کا ایک لفظ نہیں جانتے تھے۔انھیںصرف گجراتی کے چند الفاظ یاد تھے۔

کرنجیا کی وفات یکم فروری 2008 کو ہوئی جب کہ انھوںنے 68سال قبل یکم فروری 1941کو بلٹز کا اجرا کیا تھا۔ایسا اس لیے بھی کہا جاسکتا ہے کہ کرنجیا کی چالیس سال کی زندگی کے شب وروز بلٹز کے ساتھ گزرے تھے۔


Zakir Hussain Zakir

Shanti Nagar Mahuabari

Near Sant Pushpa School

Deoria- 274001 (UP)

Mob.: 9415276138

Email.: zakirhssn8@gmail.com

گرو نانک دیو جی ایک انقلابی ہادی: محمد موسی

دنیا میں بہت سے ہادی آئے جنھوں نے مذہب و انسانیت کی تعلیم دی اور ان پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کی، ان حضرات میں گرو نانک جی ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔گرو نانک دیو جی کو سکھ مذہب میں پہلا گرو اللہ کو مانا جاتا ہے۔آپ نے مذہب کی بنیاد پر انسانوں میں تفریق کو بہت ہی ناروا قرار دیا۔ آپ صرف سکھ مذہب کے بانی ہی نہیں بلکہ عظیم شاعر، فلسفی، انسانی و سماجی ا صلاح کار اور ایک عظیم ہادی تھے۔

گرو نانک دیو جی مذہبی، سماجی و انسانی مساوات کے علمبردار، قومی یکجہتی، اتحاد، محبت و اخوت کے مشعل بردار، مذاہب و عقائد کے روادار، ذات پات کے خاتمے کے طرفدار اور نشہ وحدت میں سرشار قرونِ وسطیٰ کی مشہور و معروف عظیم المرتبت شخصیت کے مالک تھے۔ ان کا وجود انسان دوستی، امن و اتحاد اور یکجہتی کے لیے تاریخی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ انھوں نے اپنے فلسفہ وحدت، اشعار اور شاہکار کلام کے ذریعے اتحاد کے پیغام کو عام کرکے زمانے میں ایک انقلاب برپا کیا اورہمارے عظیم الشان موروثی، تہذیبی و ثقافتی اخوت کو ازسرنو جلا بخشی ہے۔ رواداری اور بھائی چارگی پر مبنی گرو نانک دیو جی کے افکار، نظریات، تصورات اور خیالات آج بھی ہم آہنگی اور یکجہتی کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انھوں نے سما ج میں ہونے والی ناانصافی،  نابرابری، ظلم و استبداد، مذہنی اور مسلکی تعصب اور استحصال، نسلی و لسانی امتیاز کی لعنتوں کے خلاف جہاد کیا۔ وہ ان برائیوں اور لعنتوں کو انسانی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں رکاوٹیں تصور کرتے تھے۔انھوں نے مطلق العنانیت، شہنشاہیت اور طبقاتی نظام کو بھی رد کیا۔

ان کی ساری زندگی مجاہدانہ رہی اور مساوات اور یکسانیت کا تمام عمر درس دیا۔ انھوں نے اپنے فلسفہ وحدت کے ذریعے تمام انسانوں کو متحد کرنے کی کوشش کی اورمذہبی پیشواؤں کے استحصال، نفرت انگیزی، بغض، کینہ، حسداور عداوت کے خلاف ہمیشہ برسرپیکار رہے۔ ان کی زندگی کا واحد مقصد انسانی سماج میں امن و سکون، اخوت ومحبت، برابری، صلح و رواداری کو فروغ دینا تھا۔ گرو نانک دیو جی کسی ایک  مذہب یا قوم کے ہادی نہیں بلکہ تمام انسانوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ بنے ہیں۔ سوامی ویویکانند  نے آپ کے بارے میں کہا کہ ’’ گرو نانک صاحب کی محبتِ انسانی ایک شاندار اورحیرت انگیز مثال ہے۔‘‘

گرو نانک معاشرے میں دبے اور مظلوم لوگوں خاص کر دلت طبقے کو با اختیار اور پر وقار زندگی گذارنے اور ان کے معیار کو بلند کرنے کی تلقین کرتے رہے۔ آپ فرماتے ہیں

’’  سبھَے  ساَجِھیوَال  سدَائن  توںکِسئے  ناَ  دِسے  باَھرا  جِیؤ  ‘‘   1

گرو نانک جی نے اس معاہدے پر تبادلہ خیال کیا جو معاصر سماج پر اثر انداز ہوا اور ان کی فلاح و بہبود ی ہو سکے۔ انھوں نے ذات کے نظام کوچیلنج کیا، مساوات کا درس دیا اور خواتین کی آزادی و تعلیم اور مساوی حقوق کی توثیق کے لیے ایک اہم کردار ادا کیا۔ آپ کہتے ہیں

 ’’  پرکھ  مَہہ ناَر،  ناَرمَمہہ  پرکھا،  بجھوٗ  بَرہَم  گِیاَنی  ‘‘   2 

 گرونانک دیو جی نے غریب گھرانے میں ایک پٹواری کے یہاں جنم لیا۔ شاید قدرت کایہ تصور تھا کہ یہ ضروری نہیں کہ اصلاح اور ہدایت کے رہنما و پیشوا کسی بڑے گھرانے یا عالم فاضل خاندان ہی میں پیدا ہوں، لیکن انھوں نے اپنے خلوص و محبت اور میٹھی زبان و کلام کے ذریعے ہر قسم کے لوگوں کے دل میں گھر کر لیا۔آپ نے ایسی مثالوں کے ذریعے اپنی تعلیم کو پیش کیا کہ وہ دل میں اتر جاتی تھیں۔ مشہور واقعہ ہے کہ جب ان سے جنیوپہننے کے لیے کہا گیا تو انھوں نے اس سے انکار کر دیا، اس لیے کہ انھیں شروع ہی سے ظاہری علامتوں کی نہیں بلکہ چھپی ہوئی حقیقتوں کی تلاش تھی۔ انھوں نے سوال کیاکہ روئی کے دھاگے میں روحانیت کہاں سے آ گئی؟ روحانیت تو رحم،محبت، قناعت، سچائی اور بے نفسی سے پیدا ہوتی ہے۔ جب سیرت ان صفات کے تانے بانے سے ترتیب پائے گی اس وقت انسان انسانیت کے اصلی مقام پر پہنچ سکتا ہے اور من کے امتیاز مٹ سکتے ہیں، جس کے بغیر نہ انسان دوسرے انسانوں کے دلوں میں گھر کر سکتا ہے نہ خدا تک پہنچ سکتا ہے۔

گرو نانک دیو جی نے پنجاب کے لوگوں کو ’ست شری اکال ‘ یعنی خدائے واحد ہی سچ ہے،کا نعرہ دے کر ہندوستان کے ان حصوں تک بھی توحید کا پیغام پہنچایا، جہاں دوسرے صوفیا اور سنتوں کی آواز ابھی تک نہیں پہنچی تھی۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے آپ کی شان میں ایک نظم  ’ نانک‘ کے نام سے لکھی اوران کے پیغامِ توحید کو دیکھتے ہوئے اس کے آخری شعر میں انھیں یوں خراجِ تحسین پیش کیا ہے کہ

  پھر  اٹھی آخر صد ا  توحید کی پنجاب سے

ہند کو اک مردِ کامل نے جگایا خواب سے 3

گرو نانک کہتے تھے کہ انسان کا رشتہ براہ راست خدا سے ہوتا ہے تو پھر انسان اس بحث میں کیوں اپنا وقت برباد کرتا ہے کہ گنگا کا پانی اس کے پاپ دھوئے گا یا نہیں اور کس طرح کا لباس خدا کو زیادہ پسند ہے۔مذہب کا اصل نام زندگی کا سدھارنا اور اس کو شرافت اور محبت کے اصول اور طریقوں سے آشنا کرنا ہے۔  وہ کہتے تھے کہ سب سے پہلے اپنا باطن خدا کی مرضی کے مطابق ڈھالو۔لباس، رسوم اورظاہری وضع ثانوی بحث ہے۔

انسان اس فرض کو اسی صورت میں ادا کر سکتا ہے جب وہ دلوں کو ملائے اور ان اثرات کو زائل کرے جو انسان کو ایک دوسرے سے جدا کرتے ہیں اور نفرت، تعصب اور تنگ دلی کے زہریلے بیج بوتے ہیں۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن نے دھرم اور ادھرم کی  تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ

’’  ہر وہ چیز جو دلوں کو ملاتی ہے دھرم ہے، جو دلوں کو ایک دوسرے سے جداکرتی ہے وہ ادھرم ہے۔‘‘   4

 اسی حقیقت کو مولانا رومیؒ نے یوں بیان کیا ہے کہ

  تو برائے وصل کردن آمدی

    نہ برائے فصل کردن آمدی  5

یعنی اے انسان تو دنیا میں میل محبت بڑھانے کے لیے آیا ہے، پھوٹ ڈالنے کے نہیں آیا۔ گرونانک کی اخلاقی عظمت اور روحانی کشش کا اصلی راز یہی ہے کہ ان کی تعلیم محبت اور رفاقت کی تعلیم ہے۔ انھوں نے سب انسانوں کو ان کی مشترک انسانیت کی یاددلائی اور ذات پات، رنگ و روپ، امیری و غریبی کے بھید بھاؤ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ جس وقت اس دیس کے بہت سے باسی مذہب کی سچی تعلیم کو بھلاچکے تھے اور اس کی ظاہری رسموں اور شکلوں میں الجھ کر رہ گئے تھے انھوں نے سب کو یہ قدیم لیکن انقلاب آفریں پیغام سنایا کہ زندگی کا قانون ایک دوسرے سے محبت کرنا ہے۔ یہی محبت کا جذبہ ہے جو عقیدت اور بھکتی کی روح بیدا رکرتا ہے اور اسی کے ذریعے انسان کی رسائی خدا تک ہوتی ہے۔

 گرو نانک جی کے عقائد میں اسلام اورہندوازم کا گہرا امتزاج تھا۔ وہ اللہ اور ایشور کو ایک ہی مانتے تھے اور خدا کو محبت اور محبت کو خدا جانتے تھے اس لیے وہ’’ اداسی ‘‘کے ذریعے ایک انقلابی تحریک کی شکل میں منحرف ہوئے۔ ان کا تصور انسانیت تھا، جس میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، یہودی، پارسی سب شامل ہیں۔ اسی لیے انھوں نے کہا تھا کہ ’’ نہ کو ہندو نہ مسلمان‘‘  اس بات پر دولت خان نے انھیں اپنے دربار میں طلب کیا اور ان کے الفاظ کا مطلب دریافت کیا جس پر گرو نانک جی نے کہا، ’’نہ کو ہندو نہ مسلمان‘‘۔ اس پر دولت خان نے کہا کہ شاید ہندو نہ رہے ہوں،مگر مسلمان اپنے ایمان پر قائم ہیں۔ گرو نانک نے اس کے جواب میں کہا کہ خدا کی رحمت کی مسجد ہو اور نماز ہو،اچھا اخلاق تمھارا قرآن ہو اور سادگی اور رحمدلی تمہارا روزہ ہو۔تمھیں اگر مسلمان ہونا ہے تو ایسے مسلمان بنو۔ نیک اعمال کو اپنا کعبہ بناؤ اور سچ کو اپنا رہبر، اگر ایسا کرو گے تو وہ خدا جو واحد ہے اور اس کا نام حق ہے،تمہیں اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دے گا۔ مذہب کا سچا پیرو وہی ہے جو خدا کے کلام پر ایمان لاتا ہے جو سارے مذہبوں کے بانی اور پیغمبر دنیامیںنمود ہوئے پر یقین رکھتا ہے۔میرے لیے سب یکساں ہیں کیونکہ سب خدا کا پیغام لے کر آئے ہیں۔

آپ کہتے تھے کہ ہم سب بھائی بھائی ہیں۔ گرونانک جی ذات پات کے خلاف تھے، ان کا نظریہ تھا کہ سب انسان اللہ کے نزدیک برابر ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ

  سب  کو  اوچا  آکھیئے  نیچ  نہ  دیسے  کوئے

اک نے بھانڈے ساجیئے  اِک چانن  تِہہ لوئے

    کرمِ  ملے سچ  پائیے  دھرِ بخش نہ  میٹے کوئے 6

آپ کو تصوف اور ویدانت دونوں ہی فلسفوں کی اچھی اور گہری معلومات حاصل تھیں۔ ان کے نزدیک روحانی سفر کے پانچ مراحل تھے ’’ دھرم کھنڈ، گیان کھنڈ،شرم کھنڈ،کرم کھنڈ اور سچ کھنڈ ‘‘  بھائی سنتوکھ سنگھ لکھتے ہیں کہ ’’ یہ مراحل صوفیا کے چار مقامات شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت پر مبنی ہیں۔‘‘ انھوں نے تمام مذاہب و عقائد میں یکسانیت اور اتحاد کا درس دیا۔ انھوں نے بہت سے مذہبی پیشواؤں کو بھی کافی متاثر کیا۔آپ نے خاندانی زندگی کو ترک نہیں کیا، گوشہ نشینی یا رہبانیت اختیار نہیں کی،بلکہ وہ شادی شدہ تھے اور اوسط خاندان کے فرد کی طرح سماجی اور اخلاقی فرائض انجام دیا کرتے تھے۔ان کی زندگی کا مقصد اور نصب العین خدمت خلق تھاوہ کہتے ہیں کہ        ؎

  سَیو  کِیتِی سنتوکھِئیِں جِنہیںسچو  سچ  دھیئائیا

اوہنی مندَے پیرَ نہ رکھئیو کر سکرِت دھرم کمائیا   7

گرونانک نے جہاںآنکھ کھولی تھی وہ پنجاب کا علاقہ تھا، جو روحانی مراکز کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ جہاں بڑی قدآور مذہبی شخصیات موجود تھیں۔ جہاں ایک طرف سید علی ہجویری ؒ تو دوسری طرف بابا فرید گنج شکر ؒ ہیں۔ یہاں مخدوم جہانیاں اور شیخ اسمٰعیل بخاری ؒ، حضرت میاں میر ؒ،حضرت شاہ جمال ؒ،شیخ سرہندی ؒ، جیسی شخصیات اور انتہائی محترم بزرگ موجود ہیں۔ ان کی پارسائی، پرہیزگاری اور شفقت کی وجہ سے ہندوومسلمان یکساں ان سے مستفید ہوتے تھے۔ بابا گرونانک جی بھی ان سے ہمکنار نہ رہ سکے اور اس روحانیت کی طرف مائل ہوتے ہوئے انھوں نے کتابِ زندگی کا مشاہدہ کیا، برسہا برس تک سادھوؤں، سنتوں، صوفیوں اور مختلف مذاہب و عقائد کے رہنماؤں کی صحبت اختیار کی۔ آپ نے صوفی ازم، بدھ ازم، جین ازم اور دیگر مذاہب کے مبلغین، معتقدین، سالکین سے ملاقاتیں کیں، جس سے آپ کی باطنی، روحانی اور عرفانی قوت میں اضافہ ہوتارہا۔ مسلمان کے ساتھ رہنے کی وجہ سے انھیں اسلامی عقائد کا پورا علم تھا۔ بچپن میں ہی مشہورو معروف، روشن خیال اور وسیع النظر روحانی گرو و رہبرمیر حسن سے عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کی، اگرچہ وہ خود آپ کے مرید ہوگئے تھے مگر انھوں نے ان کا  مذہب قبول نہیں کیا۔ انھوں نے شریعت کو پھلانگ کر طریقت، حقیقت اور معرفت کے مقامات کو عبور کرکے باطنی، روحانی، بورانی اور عرفانی طور پر اللہ کی احدیت، واحدیت اور صمدیت کو تسلیم کرکے سِرِ وحدت کانشہ چکھ لیا تھا اور آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰؐ کی عظمت کے حددرجہ معترف تھے، آپ کہتے ہیں          ؎

لے  پیغمبری آیا  اس دنیا ماہے

ناؤں محمد مصطفیٰ ہوا بے پرواہے 8

گرونانک جی کا پیغام ہمارے لیے صرف ذاتی حیثیت ہی سے نہیں بلکہ جماعتی لحاظ سے بھی بہت ضروری اور قابل قدر ہے۔

انھوں نے ایک سچے سکھ کی جو تعریف بتائی ہے اس سے اندازہ ہو گا کہ ان کو مذاہب کی تعلیم ِ وحدت اور خیرو شر کے بنیادی مفہوم کا کس قدر گہرا احساس تھا۔کسی نے ان سے پوچھا کہ ایک سچے سکھ کی کیا خصوصیت ہونی چاہیے۔ انھوں نے فرمایا

 ’’وہ جو سچا ہو، قناعت کی صفت رکھتا ہو، سب پردیاکرے،جو لالچ و نفرت سے پاک ہو، جو کسی کو نقصان یا دکھ نہ پہنچائے، جو خواہش کے پھندے سے رِہا ہو چکا ہو، جس کو اپنے اوپر قابو ہو اور خیرو شر میں تمیز کر سکے، جو خدائے بزرگ و برتر کی رضا کے سامنے اپنا سر جھکادے اور اس کی خوشنودی کو ا پنا معیار بنائے۔ ایسا ہی ہم آہنگ شخص اس حلقہ میں شریک ہونے کے قابل ہے۔‘‘   9

آپ نے حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کو لازمی مانا ہے۔ گرو نانک جی تزکیہ نفس، تصفیہ قلب اور پاکیزگی کے قائل تھے، سماجی بیداری کے علمبردار تھے۔ اسی سماجی بیداری نے انھیں زندہ جاوید بنادیا ہے۔ ان کے نغمے اور کلام ابدی ہیں۔ انھوں نے مذہب، سماج اور زندگی کی ظاہرداریوں کو تیاگ دیا تھا۔ اندھے عقائد،  مذہبی رسومات اور تعلقات کی مذمت کی ہے، ذات پات کے نظام سے کنارا کشی، خداپرستی اور انسانیت دوستی کے ذریعے انھوں نے سماج میں انقلاب برپا کیا۔ بھگتوں اور صوفیوں نے انھیں ترکِ دنیا و ترکِ عقبیٰ کی شکل دے کر انقلابی ہادی بنادیا۔

گرو نانک جی نے انسانی برابری، سماجی برابری، حق و انصاف اور محبت و اتحاد کو زندگی کا نصب العین تصور کیا۔ وہ عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی دونوں کے دلدادہ تھے یعنی  ’یادِ صنم، دیدِ صنم، نادِ صنم اور رضائے صنم ‘  ان کا مقصدِ عبادت اور پیغامِ حیات تھا۔ ان کے یہاں اسلامی تصوف اورہندو بھگتی کا حسین سنگم اور وصل تھا،جس کی وجہ سے آپ سماج کے ایک انقلابی، روحانی اور عرفانی رہبر مانے جاتے تھے۔ انھوں نے فرسودہ رسومات کی دیواریں ڈھا دیں۔ وہ طبقاتی نظامِ حیات کے مخالف اور بدترین دشمن اورہندستان کے مظلوم، محنت کش اور استحصال زدہ طبقوں کے پیش رَو تھے۔

آپ کے کلام کی یہ عجیب وغریب خصوصیت ہے کہ وہ اکثروبیشتر اپنے خالق سے بے نیاز ہو جاتے ہیں اوران کے کلام کے متعلق صوفی غلام قاسم قادری اپنی تصنیف،’’تذکرہ جناب نانک ‘‘  میںکہتے ہیں کہ

’’گرونانک کے شبد پڑھتا ہوں تو ان میں ایسی سچی مذہبیت کا جلوہ نظر آتا ہے کہ اس میں محبت رحم، ہمدردی، خدمت اور زندگی کی سچی قدروں کا وہ پیغام ملتا ہے، جس کے لیے آج دنیا بھوکی اور پیاسی ہے۔ یہ دنیا جس کے دل اور دماغ دونوں امن کی دولت سے محروم ہیں۔ جس کے ہاتھوں میں قوت ہے لیکن اس کا استعمال نہیں آتا۔ جس کی رفتار میں بجلی کی سی تیزی پیدا ہو گئی ہے لیکن منزل مقصود آنکھوں سے اوجھل ہے۔ ان کی تعلیم پکار پکار کر ہمیں یہ سبق سکھاتی ہے کہ زندگی کی اصلیت وحدت اور ایکتا ہے، محبت اور پریم ہے، آپس کی خونریزی اور چھین جھپٹ نہیں، ان کے یہاں آپس کے اختلافات کی کوئی اہمیت نہیں، جو ہمیںانسانیت کی دشمنی پر اکساتے ہیں۔‘‘   10

گرونانک صاحب کی تعلیمات سے ایک چیز جو سامنے آتی ہے وہ یہ کہ آپ کوئی مذہبی مفکر یا فلسفی نہیں تھے، بلکہ گرو نانک کا مذہب،خدا سے، انسانوں سے اور انسانیت سے پیار کا مذہب تھا۔ ان کا مذہب ذات پات، نسل اور ملک کی قید سے آزاد تھا۔ ان کا مذہب ایک عوامی تحریک تھی جس کی بنیاد سیکولر ازم اور سوشل ازم کے جدید تصورات پر مبنی تھی، تمام انسانوں کی برابری کی تحریک۔ آپ کی زندگی کے چار سفر بہت مشہور ہیں۔ ’پہلاسفر‘ انھوں نے بنگال اور آسام کی طرف کیا۔ ’دوسرے‘ سفر میں وہ تامل ناڈو کی طرف گئے۔ ’تیسری‘ دفعہ انھوں نے کوہ ہمالیہ میں واقع پہاڑی ریاستوں اورکشمیر سے ہوتے ہوئے تبت کا سفر کیا اور ’چوتھا‘ سفر بغداد، مکہ، مدینہ اور دیگر عرب ممالک کی جانب کیا تھا۔ان اسفارسے آپ نے دنیا میں ایک انقلابی پیغام دیتے ہوئے عشق الہٰی اور عرفان الہٰی کی تلقین کی اور آپ ہمیشہ نیکی کی دعوت دیتے رہے، برائی سے روکتے رہے، ریاکاری سے روکتے رہے، خود غرضی سے روکتے رہے، دنیاداری سے روکتے رہے، جھوٹ کے خلاف تبلیغ کرتے رہے اور کہتے تھے کے سب کو اللہ کے ہاں حساب دینا ہے اور وہاں نجات نیک عمل سے ہوگی۔

مختصراً یہ کہ گرو نانک صاحب ایک انقلابی ہادی، عظیم سماجی اصلاح کارہیں جنھوں نے ایک معاشرے میں موجود خرافات کو دور کرکے مساوات کا درس دیا۔ آپ نے اتحاد اور تعلیم کے لیے جو تحریکیں چلائی تھیں وہ تا قیامت جاری و ساری رہیں گی۔

حواشی

1       شری گرو گرنتھ صاحب،انگ  97، محلہ 5

2       شری گرو گرنتھ صاحب،انگ  878، محلہ 1

3       کلیاتِ اقبال(بانگِ درا)، محمد اقبال، ایجوکیشنل بک ہاؤس علی گڑھ، 2011، ص 240

4       مذہب کی حقیقت، خلیل شرف الدین، مکتبہ جامعہ لمٹیڈ دہلی، 2001،  ص 15

5       کلیدی مثنوی جلد۳،مولانا جلال الدین رومی،مترجم مولانا اشرف علی تھانوی، ادارئہ تالیفات ملتان، 2004، ص 98

6       شری گرو گرنتھ صاحب،انگ  62، محلہ 1

7       شری گرو گرنتھ صاحب،انگ  466، محلہ 2

8       جنم ساکھی، بھائی بالا، ص 148

9       گرو نانک کا سفر حق، اطہر راز، معیار پبلی کیشنز دہلی، 2009، ص 87

10     تذکرہ جناب نانک، صوفی غلام قاسم قادری،ناشر عبدالکریم امرتسر، 1920، ص 18

n

Mohammad Moosa

Research Scholar, Dept of Urdu

Punjab University

Chandigarh- 1620014 (Punjab)

 

1/3/23

اردو شاعری میں گیتا: بلویندر سنگھ

اردو چونکہ ہندوستان میں پیدا ہوئی اور اس کی نشوونما یہاں کی مٹی میں ہوئی۔ لہٰذا یہاں کے تہذیب و تمدن کے اثرات کا اردو پر پڑنا فطری اَمر ہے۔ ہندوستان کا سب سے بڑا اور قدیم ترین مذہب سناتن مذہب ہے، جس کی مقدس کتابیں سنسکرت میں موجود ہیں۔اردو زبان کی شعری و نثری تخلیقات میں ہندو مذہب اور فلسفے کی کارفرمائی ابتدائی زمانے سے ہی نظر آتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اردو زبان وادب کے قلمکاروں نے ہندوستانی مذاہب کے رموز و نکات سے دلچسپی لی بلکہ اس کے فروغ میں بھی حصہ لیا۔بالخصوص ہندو مذہب کی کتابوں کے تراجم اِس بات کا بین ثبوت ہیں کہ اردو ادیبوں اور شاعروں نے ہندو مذہبی اور تہذیبی روایات کو اپنی تخلیقی اور تنقیدی تحریروں کا حوالہ بنایا۔

آج  وید، پران،شری مد بھگوت گیتا، رامائن، مہابھارت، رام چرت مانس جیسی سنسکرت زبان کی کتابیں اردو میں بہ آسانی دیکھی جا سکتی ہیں۔آزادی سے قبل ہندو، مسلمان دونوں فرقوںنے مل کر اردو علم و ادب کی آبیاری کی تھی۔ اردو کے شعرا و ادبا نے سنسکرت اور ہندوستان کی دوسری مقامی زبانوں کے ترجمے بڑی فراخ دلی سے کیے ہیں۔اِس سلسلے میں بالخصوص شری مد بھگوت گیتا، رامائن اور مہابھارت کے جتنے بھی ترجمے اردو زبان میں کیے گئے ہیں شاید ہی ہندوستان کی کسی دوسری علاقائی یا مقامی زبان میں کیے گئے ہیں۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آزادی کے بعد ہندوئوں نے اردو زبان کی ترقی وترویج سے بے اعتنائی سے کام لینا شروع کر دیا ہے اور آج یہ حالت ہے کہ گنگاجمنی تہذیب کی یہ زبان صرف مسلمانوں کی زبان بن کر رہ گئی ہے۔

آزادی سے پہلے ہندوئوں کے بہت سے مذہبی گرنتھوں کے اردو میں منثور یا منظوم ترجمے شائع ہوا کرتے تھے۔آریہ سماج چوں کہ ہندو سماج کا ایک تبلیغی حصہ تھا اور ہے، اِس لیے آریہ سماج کے لٹریچر کی نثر و اشاعت کے لیے آریہ سماج کی طرف سے باقاعدہ کتابیں، کتابچے اور اخبارات شائع کیے جاتے تھے۔ کانپور کا مشہور علمی و ادبی ماہنامہ ’زمانہ ‘ منشی دیا نرائن نگم کی ملکیت تھا،  جس میں شری مد بھگوت گیتا،رامائن،  مہابھارت، رام چرت مانس سے متعلق مضامین تواترکے ساتھ شائع ہوتے رہے۔

شری مد بھگوت گیتا،وہ صحیفۂ آسمانی ہے جو دھرم چھیتر کرو چھیتر میں پرم برمبھ ماتما روحِ مطلق کی طرف سے نازل ہوا ہے۔کرہ ارض پر آباد ان تمام انسانوں کی رہنمائی کے لیے جو پریشان حال ہیں اور فرائض کی ادائیگی سے فراری اختیار کرنے کی حد تک مایوس ہیں،وسیلہ بنا ہے۔بھگوان شری کرشن اور مہارتھی ارجن کے درمیان کلام مستدام،بمقام میدان ِ جنگ،مابین افواج مستعد بر سرِ پیکر،بھگوان شری کرشن کے احکام وار شاد ِ اقدس کو مہارشی ’وید ویاس‘ نے دیووانی سنسکرت کے ساتھ 700 اشلوکوں میں قلم بند کیا جس کا اسم مبارک ’شری مد بھگوت گیتا ‘ہے۔شری مد بھگوت گیتا کے رموز ِ یزدانی کو سمجھنے کے لیے کپِل منی کے سانکھیہ درشن (فلسفہ )کے بنیادی اصلوں کی جانکاری درکار ہے۔لیکن ماوشما کے لیے تو ایسی رمز شناسی جوئے شیر لانے کے مصداق ہے۔

آٹھویں صدی عیسوی میں آدی شنکر آچاریہ نے بڑے عالمانہ انداز میں شانکر بھاشیہ، (سنسکرت میں ’بھگوت گیتا‘ کی تفسیر )لکھی۔شانکر آچاریہ ایک اعلیٰ سنیاسی بزرگ تھے جن کی تشریحات کو سمجھنا معمولی آدمی کے بس کے باہر کی بات تھی۔پوری گیِتاکی دانشورانہ تشریح ’سانکھیہ یوگ ‘سے کم نہ تھی۔

جہاں تک اردو ترجمہ کا تعلق ہے اِس کی ایک متمول روایت موجود ہے۔ بیسوی صدی میں بال گنگا دھر تلک کے ’گیتا رہسیہ‘  نے تو بھگوت گیتا کی تشریح کے ذریعے ’کرم یوگ ‘ کا وہ شنکھ ناد کیا کہ ہندوستانی عوام کا ارجن جنگ ِ آزادی کے کرو چھیتر میں گانڈیوبکف ہو کر اٹھ کھڑا ہوا۔ پھر تو شری مد بھگوت گیتا کی تشریحات وتراجم کی وہ باڑھ آئی کہ گویا ساری عالمی زبانیں سیراب ہو گئیں۔

یہاںاکیسویں صدی میں شری مد بھگوت گیتا کے ایک ایسے منظوم ترجمے کا تذکرہ ضروری ہے جو بے حد مقبول ہوا۔یہ انور جلالپوری کی ’تفسیر ِاردو شاعری میں گیتا‘  ہے۔

’’شری مد بھگوت گیتا کا پہلا ترجمہ فارسی میں اکبر کے درباری شاعر علامہ فیضی نے کیا تھا جو منظوم اور آزاد ترجمہ ہے۔ یعنی اِس میں ہر شعر کا ترجمہ نہیں کیا گیا ہے بلکہ پورے پورے باب کے مفہوم کو فارسی میں نظم کر دیا گیا ہے۔ ‘‘1

مندرجہ بالا اقتباس مشہور محقق اور نقاد شارب ردولوی کے مضمون ’نسیم عرفان ‘ سے لیا گیا ہے جو دہلی کے اردو رسالہ ’آج کل ‘ کے اکتوبر 1968 کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ آگے چل کر شارب ردولوی نے اِس ترجمے کے علاوہ دو اردو ترجموں کا تذکرہ کیا ہے جو لچھمن پرشاد صدر لکھنوی کی ’ بھگوت گیِتائے منظوم، اور عالم مظفر نگری کی ’بھگوت گیتا‘ کے نام سے ان کی فہرست میں درج ہیں۔ 

کہاں دربارِ اکبری، کہاں علامہ فیضی اور کہاں زبان فارسی۔ یہ حسن اتفاق ہی کہا جا سکتا ہے کہ اکیسویں صدی میں انور جلالپوری نے بھی شری مدبھگوت گیِتا کے مفہوم کو آزادانہ طور پر،کئی کئی شلوکوں کے مفہوم کو ایک ساتھ متعدد اشعار میں نظم کر کے مکمل بھگوت گیِتا کے مفہوم کا اردو میں منظوم ترجمہ پیش کر دیا ہے۔ علامہ فیضی  کی فارسی  ’ آہنگِ سرمدی ‘ اوراس کے دونوں اردو ترجمے بھلے ہی آج کامیاب یا نایاب ہو چکے ہوں، مگرانورجلالپوری کے ترجمے کے نغمٔہ علم وعمل کی باز گشت ارد وداں طبقے کے گوش فہم و ہوش میں برابر گونجتی رہے گی۔

      انورجلالپوری لکھتے ہیں

’’نہ جانے کیوں بچپن سے ہی شری مدبھگوت گیتا کی  باتوں سے اور اس کے واقعات سے مجھے بڑا ذہنی اور دلی لگاؤ تھا۔گیِتا کا فکر اور فلسفہ میرے اعصاب پر چھایا رہا... پانچ برس پہلے مجھے پھر ایک دھن سوار ہوئی اور میں شری مد بھگوت گیتا کے مطالعے میں لگ گیا... میں نے ہندی اور انگریزی کے ذریعے بہت کچھ سمجھنے کی کوشش کی...‘‘  2

مذکورہ بالااقتباس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مختلف مذہب،کلچر و زبان کے ہوتے ہوئے بھی انور جلالپوری کوشری مدبھگوت گیِتا کے فکر و فلسفے سے بچپن سے ہی بڑی گہری  دلچسپی تھی۔

یہاں اِس بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں خود گیتا پڑھنے، سمجھنے اور اس کے راہ ِ عمل پر چلنے کے مراحل سے گذر رہا ہوں اِس لیے اِس کی دشواریوں سے بخوبی واقف ہوں۔ میں بچپن سے ہی شری مدبھگوت گیتا کا مطالعہ کرتا آرہا ہوں۔گیتا میں فلسفۂ عمل،فلسفۂ زندگی اور فلسفۂ کائنات کو انتہائی غنائی جاذبیت،فکری بلندی اور جمالیاتی رعنائی،برنائی اور جس توانائی سے پیش کیا گیا ہے،میں اِس صحیفہ متبرک سے ہمیشہ متاثر ہوتا آیا ہوں۔

بہر کیف،انور جلالپوری نے جس لگن،جس مشقت اور جس عقیدت کے ساتھ جتنی جان دہی سے ’پہاڑ کو کاٹ کر دودھ کی شاعرانہ نہر ‘ نکالی ہے اور سارے اردو داں طبقے کو شری مد بھگوت گیتا کے فلسفۂ حیات سے روشناس کرایا ہے،وہ بے مثال ہے،انوکھا ہے۔انوکھا اِس لیے ہے کہ شری مدبھگوت گیتا کے منثور اور منظوم تراجم، تشریحات و تصریحات اور ترجمہ در ترجمے کی تعداد سیکڑوں تک پہنچ گئی ہے۔

 ڈاکٹر اجے مالوی جی نے بھگوت گیتا کے جن ترجموں پر تحقیق کیا ان کی ایک لمبی فہرست بہ عنوان ’اردو میں شری مد بھگوت گیتا کے تراجم پر ایک نظر‘ درج کی ہے۔ انھوںنے 82 تراجم کا تذکرہ کیا ہے۔ جن میں سے 61 تراجم خدا بخش اورینٹل لائبریری پٹنہ میں موجود ہیں۔ اِن کے علاوہ رضالابئریری،رام پور میں پانچ، پٹنہ اور الہ آباد میں دو دو ترجمے موجود ہیں۔الہ آباد یونیورسٹی،الہ آباد میں سات، بھارتی بھون لائبریری، الہ آباد میں چار، ہندوستانی لابئریری الہ آباد اور ہندوستانی اکاڈمی،الہ آباد میں ایک ایک نسخہ موجود ہے۔ انجمن ترقی اردو (ہند)کے بک ڈپو میں تین اور سینٹرل لابئریری،الہ آباد میں دو نسخے موجود ہیں۔ کتاب میں جو فہرست پیش کی گئی ہے۔

ڈاکٹر حیدر علی نے اپنے مضمون ’اردو میں ہندو مذہبی صحیفوں کی کتابیات‘ میں شری مد بھگوت گیتا کے 137 تراجم کی فہرست دی ہے، اِس فہرست میں ایک ہی ترجمے کے تین سے پانچ ایڈیشن شامل ہیں۔  3

’بابائے اردو اور برادران ِ یوسف ‘ نام کی اپنی کتاب میں مشہور محقق،تنقید نگار اور تخلیق کار مانک ٹالہ نے ’بھگوت گیتا کے اردو تراجم ‘ کے عنوان سے ایک تحقیقی مقالہ لکھا ہے۔جس میں انھوں نے منثور اور منظوم تراجم کے کل 81نسخوں کا حوالہ دیا ہے۔ 4

راقم الحروف کو بھی خدا بخش لائبریری میں تحقیقی حوالے سے جانے کا موقع ملا اور میری نظر سے 63 ترجمے گزرے ہیں۔ ترسٹھواں ترجمہ بہ عنوان ’بھگوت گیتا قرآن کی روشنی میں‘ ہے جس کے مصنف ڈاکٹر ساجد احمد صدیقی ہیں اوریہ ترجمہ حال ہی میںمنظر ِ عام پر آیا ہے۔ شری مد بھگوت گیتا کے چند منظوم اور منثور اردو تراجم جن پر میراتحقیقی کام ہو چکا ہے

1       شری مد بھگوت گیِتا موسوم بہ گنجینۂ معرفت،از رائے بہادر شنکردیال، درنظامی پریس وکٹوریہ اسریٹ لکھنؤ 1931

2       کلام ِ ربانی،از پنڈت یوگی راج نظرسوہانوی،چندر گپت پریس دہلی 1934

3       آہنگ سر مدی (گیتا ئے منظوم)،از۔ الم مظفرنگری، مکتبۂ برہان اردو بازار جامع مسجد دہلی 1954

4       بھگوت گیتا منظوم موسومہ نسیم عرفان ازمنشی بشیشور پرساد منور لکھنوی،کورنیش پرنٹنگ ورکس دہلی 1935

5       بھگوت گیتا منظومۂ تمنا،از منشی رام سہائے تمنا لکھنوی،منشی نولکشور پریس لکھنؤ 1913

6       شری مد بھگوت گیتابا تصاویر موسوم فلسفہ الوہیت، از رائے بہادر پنڈت جانکی ناتھ مدن دہلوی، رام نراین پریس متھرا 1930

7       مہا گیتا،از مہرشی سوامی دیال آتم درشی،دیال پرنٹنگ پریس ہوشیار پور پنجاب 1867

8       بھگوت گیتا (اردو منظوم)،از شان الحق حقی،انجمن ترقی اردو (ہند )نئی دہلی 2011

9       اردو شاعری میں گیتا (نغمۂ علم وعمل)،ازانور جلالپوری،نعمانی پرنٹنگ پریس گولہ گنج لکھنؤ 2013

10     دل کی گیتا، از خواجہ دل محمد، قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان،نئی دہلی 2004

11     شری مد بھگوت گیتا، از منشی پنّا لال بھارگو (مرتب ) ڈاکٹر عزیز اللہ شیرانی، فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی لکھنؤ 2021

12     شری مد بھگوت گیِتا(اردو منظوم ترجمہ و تفسیر)،از۔ سروانند کول پریمی،سِگماانٹر پرائز،نئی دہلی2009

13     فضیلت خیال(شری مد بھگوت گیتا کا اردو منظوم ترجمہ)،ازلکشمی چند نسیم نو ر محلی1961

14     مخزن اسرار ا،ازپنڈت دینا ناتھ مدن معجز دہلوی 1930

15     بھگوت گیتا کا منظوم ترجمہ صلو چودھری،ملینیم آڈیسی، کلکتہ 2013

16     شری مدبھگوت گیتا، ازپنڈت رام لال پرشاد، نولکشور پریس لکھنؤ 1906

17     صدرکی گیتا موسومہ بھگوت گیتا ئے منظوم،ازمنشی لچھمن پرشاد صدر لکھنوی،محبوب المطابع اردو بازار دہلی 1910

18     نغمۂ عرفان،از ٹی این سریواستو، زرنگار باگڑبلی، مدن پورہ، وارانسی 2006

19     شری مد بھگوت گیِتا مع گیِتا بودھ،از مہاتما گاندھی، پروپرائٹرز جامعہ لمٹیڈپٹوڈی ہاوس،دریا گنج،نئی دہلی 1991

20     شری مد بھگوت گیتا،ازحسن الدین احمد،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی 1997

21     من کی گیتا،ازمن موہن لال چھابڑا، وجیتا آف سٹ پرنٹرز،نئی دہلی 1988

22     گیتا امرت عرف بھگوان کا گیت، ازست پال بھاردواج دیوراج صوری،چوپڑاہ پرنٹنگ پریس باغ کرم بخش جالندھر 1982

23     بھگوت گیتا، ازپنڈت لکشمی نارائن مصرا،ہری کرشن مہتاب وزیر اعظم اڑیسہ۔

24     نغمۂ جاوید،از نواب مرزا جعفرعلی خاں اثر لکھنوی، پریم پرنٹنگ پریس جمو ں۔

25     گیتا اور قرآن،ازپنڈت سندر لال، خدا بخش اورنیٹل پبلک لائبریری،پٹنہ 1999

26     کرشن گیتا،از سیماب اکبر آبادی،انڈین پریس لمیٹڈ الہ آباد1940

27     بھگوت گیتا مع ترجمہ اردو،از سندر لال،منشی نول کشور پریس لکھنؤ 1912

28     بھگوت گیتا اردو،ازبابو بھگوان داس بھَارگو پنشز، منشی نو ل کشور لکھنؤ 1945

29     کرشن گیتا،از لالہ بالکشن بترہ ابر،ہفتہ وار اخبار اقبال ملتان 1939

30     گیِتا امرت،از چودھری روشن لال،میسر زجے،ایس سنت سنگھ اینڈ سنزچوک متی لاہور 1942

31     بھگودگیتا( اصلی صورت میں )،از ترجمہ یشیہ پال باٹیہ،رئیس اردو اکادمی،لاہور 1990

32     شریمد بھگوت گیتا اصلی صورت میں، ازسوامی شریلہ پربھوپاد، بھگتی ویدانت بک ٹرسٹ،ممبئی 2013

33     شری مد بھگوت گیتا (نغمہ یزدانی)،ازڈاکٹر اجے مالوی،ناگری پریس،اللہ پور،الہ آباد 2006

بھگوت گیتا کے مفہوم کو ذہن نشین کر کے،اسے دل کی آواز بنا کر اشعار کے سر گم میں پیش کرنا انورجلالپوری کا ہی کرشمہ ہے۔ واقعات کا پورا پس منظر اور پھر باتوں باتوں میں ہی شلوک کا ترجمہ (بھائو انواد ہی سہی )پیش کر دینا کوئی آسان کام نہیں۔نمونے کے طور پر پہلے باب کے اشلوک نمبر ایک کو ہی لیتے ہیں۔سات اشعار میں پس منظر بیان کرتے ہوئے آٹھویں اور نویں اشعار کے ذریعے شلوک کا ترجمہ بھی پیش کر دیا ہے       ؎

کہانی    تو   سنجے   سنا تا   رہا

ہے  میدان  میں  کیا  بتاتا  رہا

وہ میداں جو تھا جنگ ہی کے لیے

وہیں سے جلے دھرم کے بھی دیے6

خیر،گیتا کے شلوکوں کا ترجمہ یہاں پر شاعر کا مقصد نہیں ہے بلکہ منظوم مفہوم کے ذریعے گیِتا کو فہمیدنی بنانے کا مقصد ہے۔ غور فرمائیے        ؎

 دھرت راشٹ آنکھوں سے محروم تھے

  مگر   یہ   نہ  سمجھو کہ  معصوم  تھے6

شعر کا مصرع ثانی کیسا لاثانی ہے۔ایک لفظ ’معصوم ‘کے ذریعے شاعر نے کتنی معصومیت سے آج کے خود غرض اور موہ میں اندھے انسان کی تصویر کھینچ دی ہے۔دھرت راشٹر کا پورا کردار ہی اِس کی علامت ہے۔جس نے بھارت ہی نہیں دنیا میں مہابھارت چھیڑ رکھی ہے۔یہ ہے شاعرانہ انداز۔ یہاں پر عرض کرتا چلو ں کہ اگر’دھرت راشٹ ‘ کے بجائے صحیح نام ’دھرت راشٹر ‘ لکھیں اور پڑھیں تو زیادہ اچھا ہوتا۔

’ٹ‘ اور ’ٹر‘ کی آواز (تلفظ )سے شعر کے ’وزن ‘میں کوئی فرق نہیں پڑے گا اور نام بھی صحیح ہو جائے گا۔

’سانکھیہ یوگ‘یعنی علم کا فلسفہ نام کے دوسرے باب میں ارجن شری کرشن بھگوان سے مخاطب ہوکر ’’استھت پرگیہ ‘‘ یعنی مستحکم روحانیت میں قائم شخص کے بارے میں سوال پوچھتے ہیں۔’’اے کیشو،جس شخص کا شعور روحانیت میں قائم ہو تو ا س کی کیا علامات ہیں ؟ وہ کیسے بولتا ہے اور اِس کی زبان کیا ہے ؟ وہ کیسے بیٹھتاہے اور کس طرح چلتا پھرتا ہے۔‘‘ انور جلالپوری نے بڑ ے موثر انداز میں ارجن اور شری کرشن بھگوان کے مابین مکالمے کو شعری قالب میں ڈھالا ہے۔اشلوک نمبر45 ملاحظہ کیجیے     ؎

یہ سن سن کر ارجن بھی بے چین تھا

سوال اِس نے کیشو سے ہی کر  دیا

بتائیں  مجھے  کون  ہے مطمئن

مرے   واسطے  ہے  سمجھنا کٹھن

کسے گیان  اور دھیان  والا کہوں

حقیقت سمجھ کر  میں کس کی  سنوں

مکمل  انھیں  دیکھنا ہے   مجھے

وہ کیا  ہیں  انھیں جانناہے مجھے7

55اشلوک سے شری کرشن بھگوان جی کا جواب شروع ہو جاتا ہے اور کئی باتوں کے بعد 58 اشلوک میں کہتے ہیں

 جیسے کچھوا اپنے اعضا کو خول میں سمیٹ لیتا ہے، اِسی طرح جو شخص اپنے حواس کو محسوسات اور تمام اعضا کو ان کی لذّتوں کے ساتھ سب طرح سے سمیٹ لیتاہے تب وہ انسان کامل آگاہی میں قائم ہے۔

شاعرانور جلالپوری نے اپنی سادہ زبان میں اِن فلسفیانہ باتوں کو کتنی آسانی سے سمجھایا ہے اِس کی مثال درج ذیل اشعار میں پیش ہے۔شلوک نمبر 58-62 کے پہلے تین اشعار ملاحظہ کیجیے       ؎

جو محسوس ہووے کہیں کچھ خطر

تو فوراً سمٹ جائے کچھوے کا سر

یونہی جو بھی انسان ہے خودشناس

وہ رکھتا ہے قابو میں اپنے حواس

جو ہے نیک لالچ سے ہے خودشناس

ہر اک طرح کی خواہشوں سے ہے دور8

قارئین کی دلچسپی کے لیے ریئس پٹھاری کا ترجمہ ’نغمۂ عرفان ‘ سے 54اور 58 اشلوکوںکو  درج کیے جا رہا ہے۔ اشلوک حسب ذیل ہیں      ؎

ا  شلوک 54

 کہو کیشو !  کیا  علامت  حالت  لاہوت  کی    

کس طرح بے حِس وحرکت،مثل  بت بیٹھا کوئی

جو   لگائے  ہو  ’سمادھی ‘   بولتا   چلتا  ہے  وہ

 کس  طرح آد م ’سمادھی ‘  میں  رہا کرتا ہے کوئی9

اشلوک نمبر58

کھینچتا جس طرح ہے اعضائے جسمانی کشف                 

 اور  ہو کر مطمئن گم صم  پڑا  رہتا  ہے  وہ

 فرد بھی جب کھنیچ لیتا نفس کو  ہے  عضو  سے  نفس کش  ہو کر سمادھی میں چلا جاتا  ہے  وہ

اگران دونوں تراجم کا موازنہ کیا جائے اور  انور جلالپوری کی بات کی جائے تو انھوں نے شری مد بھگوت گیتا کے مفہوم کو جس طرح سے نظم کے قالب میں ڈھالا ہے،اِس کا جواب نہیں۔

بھگوت گیتا کے چوتھے باب کا تیرہواں شلوک بڑا ہی معنی خیز ہے۔وہ ہندئووں کی ورن ویوستھا(نام نہاد ذاتی نظام )کی تفسیر کرتا ہے۔ اشلوک ملاحظہ کیجیے        ؎

مِری بات  سن لے جو ہے مختصر

گنوں  اور کرموں کی  بنیا د  پر

برہمن کوئی،چھتری ہے کوئی

کوئی  ویش ہے،شودر بھی ہے کوئی

 یہ سچ ہے انھیں میں نے پیدا کیا

کئی   رنگ  اِن   میں  ہوید ا کیا       

 مگر  پھر بھی  مجھ کو نہ کرتا سمجھ

ہر اک کرم  سے  مجھ کو  بالا سمجھ10

بھگوان نے انسان کے ملکاتِ طبعی، سَت،رَج اور تَم کے جو صفات،جس مقدار میں ان میں موجود ہیں،کے مطابق انھیں چار حصوں میں تقسیم کیا ہے اور ان کے کام بانٹے۔ یہ برہمن،چھتری،ویش اور شودر کا بٹوارہ ـ’گن اور کرم ‘ کی بنیاد پر تھا نہ کہ جنم اور خاندان کی بنیاد پر جیسا کہ بعد میں تصور کیا گیا ہے۔

انور جلالپوری نے مفہوم کا ترجمہ تو بالکل صحیح کیا ہے لیکن اپنی کتاب کے صفحہ128 پر ’گیتا کے مخصوص پہلو ‘پر روشنی ڈالتے ہوئے،ہندو سماج میں پھیلائے گئے غلط خیال کے مطابق لکھ دیا ہے۔

شری مد بھگوت گیتا میں ہندو سماج کو چار ذاتوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔اِس خیال خام نے ہندو سماج کو بری طرح منتشر کر دیا ہے اور وہ بھی بھگوان کے نام پر۔ذائقہ بدلنے کے لیے یہاں میں دو تراجم کے شلوک نمبر13 پیش کر رہا ہوں          ؎

بنائے ہیں میں نے جو یہ ورن چار

کہ کرموں گنوں کی ہے تقسیم کار

میں خالق  ہوں ان کا مگر بالضرور 

عمل سے بری ہوں، تغیر سے دور11

   چار  صیغے  میں  کیا تقسیم  میں  نے خلق کو   

   دیکھ کر موزونیِ  وصف  و  طبع  ہر  فرد  کا

   ادا  اس کے  ہی  مطابق  کار  کی  تقسیم کی

   کار کردہ  سب مِرے پھر بھی نہ غافل کرد کا12

زیر مطالعہ کتاب میں ’بھگوت گیِتا کی کہانی‘،’گیِتا کا مرکزی خیال‘ اور ’گیتا کے مخصوص پہلو‘وغیرہ کے عنوانات نے کتاب کی افادیت میں اضافہ کیا ہے،خاص طور سے گیِتا کے مبتدی قارئین کے لیے ’شری مد بھگوت کے کرداروں کا تعارف‘کے عنوان سے غلطیاں در آئی ہیں۔ یہ غلطیاں زیادہ تر (خاص طور سے نا م وغیرہ سے متعلق ) تلفظ، ہجا اور اِملا وغیرہ کی وجہ سے، کمپیوٹر ٹائپنگ میں آجاتی ہیں اور پروف ریڈنگ اور پروف چکنگ میں بھی صحت نہیں ہوتیں۔ارد و رسم الخط میںاِعراب اور تشدید وغیرہ کے استعمال میں کوتاہی برتنے سے بھی دِقّت آتی ہے۔ ایسی صورت میںسنسکرت سے نابلد قاری کے لیے غلط جانکاری فراہم ہو جاتی ہے۔کچھ مثالیں درج ذیل ہیں۔

صفحہ نمبر 41 پر شری کرشن کا نام لکھا ہے ’ہری کیش‘ یہ نام ہری کیش نہیں بلکہ ہرشی کیش ہے۔ہرشیک +ایش = ’ہرشیک‘ کے معنی اعضااور’ایش‘ کے معنی مالک۔ہرشیک کے معنی ہوئے اندریوں کا سوامی جو اعضائے انسانی میں چھپی کسی بھی بات کو جانتا ہے اِسی کو انتریامی،اور صرف بھگوان کی ہی ذات انتریامی ہو سکتی ہے۔  

صفحہ نمبر 42 پر لفظ ’کیشو‘ کا ہجا تو ٹھیک ہے مگر معنی ٹھیک نہیں ہے۔ کیشی نام سے ایک بڑے طاقتور دیتیہ کو کرشن بھگوان جی نے اپنے عنفوان ِ شباب میں ہی مار گرایا تھا۔تب نارد منی نے انھیں’ کیشو‘نام دیا تھا۔شری کرشن جی کے تیج یعنی (جاہ و جلال) کو بھی کیش کہتے ہیں اِس لیے انھیں کیشوکہاجاتا ہے لیکن کیش بہ معنی بال سے اِ س نام کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

’اپان ‘ سانس کو اندر کھینچنے والی ہوا نہیں ہوتی۔ سانس لیتے وقت جو ہوا اندر جاتی ہے اسے پران وایو (ہوا) کہتے ہیں۔اپان وایو(ہوا )جسم کے نچلی طرف جاتی ہے،اِس کا مقام ناف سے پائوں تک ہوتا ہے۔

’سوم دتّ‘کے بیٹے کا نام بھومی شروا نہیں بلکہ ’بھوری شروا‘ تھا،اور بھی چھوٹی موٹی غلطیاں ہیں جنھیں کمپیوٹر غلطیاں سمجھ کر در گذر کیا جا سکتا ہے،لیکن جو انجان ہیں انھیں غلط جانکاری ملے گی۔ ویسے ناموں کی فہرست کی ضرورت نہیں تھی۔ اِن کی جگہ اگر انورجلالپوری تلمیحات کی وضاحت کرتے تو موزوں ہوتا جیسے پِنڈدان، پِتروسرجن،ورن سنکر،اترّاین، شرادّھ وغیرہ وغیرہ۔ انور جلالپوری پر کرشنا کریم کا خاص کرم تھا کہ انھیں اپنی باتوں کو سمجھنے اور سمجھانے کی توفق عطافرمائی تھی۔

بہرکیف شری مد بھگوت گیِتا جیسے عالمی صحیفے کے ترجمے،تبصرے اور تحقیقات تو ہوتے رہیں گے لیکن انور جلالپوری کے ترجمے ’اردو شاعری میں گیتا‘کا اپنا منفرد مقام ہے،مرتبہ ہے اور معیار ہے۔مصنف نے بھگوت گیتا کے نفسِ مطلب کو ذہن میں رکھ کر اور دِل میں اتار کر جس چابکدستی سے،عام فہم، بامحاورہ اور خود ساختہ طور پر استعارات سے مزین،ہماری اور آپ کی ہندوستانی زبان میں تفصیل کے ساتھ منظوم پیکر میں پیش کر دیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔میرے خیال میں تو انور جلالپوری نے شری مد بھگوت گیِتا کے مفہوم کو اِیسی عرفانی مثنوی کے پیرہن میں ملبوس کر دیا ہے کہ قاری کا دماغ سمجھتا رہے، دل محسوس کرتا رہے اور اِدراک عرفان کے سمندر میں ڈوبتا اترتا رہے۔ 

واقعی انوکھا ہے انور جلالپوری کا انداز ِ تفہیم اور ادبی کار ِ عظیم،رسمی طور پر نہیں بلکہ یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ’اردو شاعری میں گیتا ‘اردو کے خزینۂ ادب میں ایک بیش قیمتی اضافے کی حیثیت رکھاتا ہے۔

حواشی

1       مضمون ’نسیم عرفان‘شارب ردولوی،رسالہ’ آج کل‘ نئی دہلی، اکتوبر1968

2       اردو شاعری میں گیتا(نغمہ علم و عمل)،از۔انورجلالپوری نغمانی پرنٹنگ پریس گولہ گنج لکھنو، ص26

3       مضمون ’اردو میں ہندو مذہبی صحیفوں کی کتابیات‘ حیدر علی، رسالہ فکر و تحقیق، جولائی۔ستمبر جلد 23،شمارہ 30،2020 ص 87

4       بابائے اردو اور بردرانِ یوسف،از مانک ٹالہ،موڈرن پبلشنگ ہاوس گول مارکیٹ،دریا گنج نئی دہلی،ص59-62

5       اردو شاعری میں گیتا(نغمہ علم و عمل)، ازانورجلالپوری، ص47

6       ایضاً،ص46

7       ایضاً،ص 91

8       ایضاً،ص 93

9       نغمۂ عرفان،از رئیس پٹھاری، زرنگار باگڑ، مدن پورہ ،وارانسی، ص 75-77

10     اردو شاعری میں گیتا (نغمۂ علم و عمل)، از انورجلالپوری، ص128

11     دل کی گیِتا،ازخواجہ دل محمد،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی 2011 ص66

12     نغمۂ عرفان،ازرئیس پٹھاری ص117


Balvinder Singh

Research Scholar, Dept of Urdu, BHU

Varanasi- 221005 (UP)

Mob.: 6006038989

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...