7/3/23

اردو، آزادی اور وطنیت: محمود قریشی


تاریخ گواہ ہے دنیا بھر کے سیاسی، معاشی اور انقلابی محرکات میں اردو زبان و ادب نے اہم کردار ادا کیا ہے۔جب ہم تاریخ کی ورق گردانی کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے،کہ تحریک آزادی میں اردو زبان و ادب نے جوش و ولولے سے ہند کی تہذیبی و انقلابی زبان ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ اردو زبان ہندوستان کے تمام لوگوں کی مشترکہ زبان رہی ہے اور آزادی کا نعرہ ’انقلاب زندہ باد‘ اردو زبان کی ہی دین ہے۔

بر صغیر کی بات کریں تو انیسویں صدی میں انگریزی حکمراں کاروبار ی مقاصد لے کر ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت میں ہندوستان پہنچے اور ایسٹ انڈیا کمپنی کا پہلا تجارتی جہاز13 فروری 1600 کو ہندوستان آیا۔ یہی ان کی اولین کامیابی تھی۔ کمپنی کا مقصد ’سونے کی چڑیا‘ کو قید کرنا تھا جس میں کامیابی ملی، چونکہ مغل سلطنت زوال آمادہ تھی  ایسے ماحول میں انگریزی حکومت کو ہندوستان میں پیر پسارنے میں کچھ زیادہ وقت نہیں لگا۔ وہ بہت جلد ملک کے ہر حصے پر قابض ہو گئے۔یہ معاملہ زیادہ پر اثر تب ہوا جب انگریزوں نے مسلمانوں اور ہندوؤں کے مذہبی جذبات سے کھیلنا اور انھیں مجروح کرنا چاہا۔جس کے رد عمل کی ایک جھلک 1857 کی جنگ آزادی کی صورت میں نظر آتی ہے۔یہ جنگ آزادی صرف بغاوت نہیں بلکہ،انگریزی استعماریت کے مقابل اپنی بقا کی جنگ تھی۔ہندوستانی اب سمجھ گئے تھے کہ ہم زیادہ دیر اب غلامی کو برداشت نہیں کر سکتے۔اسی لیے 10مئی 1857کی جنگ آزادی میرٹھ سے شروع ہو کر ملک کے گوشے گوشے میں پھیل جاتی ہے۔ ہر طرف آزادی کے نعرے بلند ہونے لگے۔ملک میں تغیر آیا۔ ذہنوں کو ٹٹولہ گیا،اور انگریز حکومت کے خلاف ہندوستانیوں نے علم بغاوت بلند کردیا۔ انگریزوں نے ’پھوٹ ڈالو اور سیاست کرو‘ کی ترکیب اپنائی تو ہندوستان کا باشعور طبقہ بھی پیچھے نہیں رہا۔

1857 کی پہلی جنگ آزادی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ،یہ جنگ ہتھیاروں کے علاوہ اعلانوں اور حکم ناموں کے ذریعے بھی لڑی گئی تب قلم سے تلوار کا کام لینا وقت کا اہم تقاضا تھا۔انہی حالات کے نتیجے میں اردو ادیبوں نے اپنی تحریر کا رخ تحریک آزادی کی طرف موڑ دیا۔

تحریک آزادی کی طرف انقلابی ذہن پیدا کرنے کی کوشش کی بقول آل احمد سرور ’’ادب انقلاب نہیں لاتا بلکہ انقلاب کے لیے ذہن کو بیدار کرتا ہے۔‘‘

جتنے دور ہماری سیاسی،سماجی زندگی میں آئے ہیں اتنے ہی دور ہمارے ادب پر بھی آئے ہیں، جس کا اثر ہر صنف ادب پر دیکھا گیا، نظموں میں،افسانوں میں، ناول میں، اور ہماری شاعری پر،اگر غور کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے،کہ آزادی کے تصور کو پھیلانے میں جو رول ہماری اردو شاعری نے ادا کیا ہے۔وہ کسی نے نہیں کیونکہ شاعری دل کے تاروں کو چھو لیتی ہے۔اور یہ جذبات کو بر انگیختہ کرنے کے لیے ایک کار آمد ذریعہ ہے۔

1857 کے دوران جو حالات رو نما ہوئے تو اردو زبان کے شاعروں،ادیبوں نے اپنی قلمی کارروائی کے ذریعے آزادی کی جدو جہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔

اردو زبان نے تحریک آزادی میں گراں قدر خدمات انجام دی ہے۔اس زبان نے تحریک آزادی کی جدو جہد میں قدم سے قدم ملا کر وفا داری کا ثبوت پیش کیا ہے۔وطن کی آزادی کے لیے اردو زبان و ادب نے جو قربانیاں پیش کی ہیں،وہ ہماری تاریخ کا درخشاں باب ہے۔ تحریک آزادی کے علمبرداروں نے اگر یورپ میں تعلیم حاصل کرکے انگریزی زبان سیکھ کر ملت کو ایک راہ پر گامزن کیا تو اس قوم اور ملت کو یکجا کرنے کا سہرا اردو زبان کو ہی حاصل ہوتا ہے۔ بقول شارب ردولوی

’’ہندوستان کی جنگ آزادی دو اسلحہ سے لڑی گئی،ایک ’اہنسا‘دوسرا ’اردو زبان‘۔

اردو کی تمام اصناف ادب میں یہ جذبہ پایا جاتا ہے۔خاص کر جدو جہد کا۔یہ جذبہ اردو نظم میں بھی پایا جاتا ہے۔ اردو نظم کا وہ دور تو خاص کر جنگ آزادی کے متوالوں کے لیے ہی تھا۔چونکہ پنجاب میں نظم جدید کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا۔جس کی بنیاد ہالرائڈ اور محمد حسین آزاد نے ڈالی تھی۔

ایسے نظم گو شعرامیں، الطاف حسین حالی، علامہ شبلی نعمانی، محمد حسین آزاد،اسمٰعیل میرٹھی، سرور جہان آبادی، برج نرائن  چکبست،

علامہ اقبال،حسرت موہانی، جوش ملیح آبادی، اکبر الہ آبادی، علی سردارجعفری،مخدوم محی الدین،مجاز،فیض احمد فیض،وغیرہ کا شمار  ہوتا ہے۔

حالی نے اپنی شاعری میں حب الوطنی کے جذبے کو پیش کیا۔ جس سے لوگوں میں سیاسی،سماجی اور تہذیبی قدروں کا احساس پیدا ہوا۔ حالی نے حب الوطنی کے جذبہ سے سرشار ہو کر’حب وطن‘کے نام سے ایک مثنوی (نظم ) لکھی۔ انھوں نے اپنی نظموں کے ذریعے ہم وطنوں کو محبت،اتحاد،دوستی اور امن کا پیغام دیا ہے۔ ان کی ہر نظم ہی قومی و سیاسی رنگ کی عکاسی کرتی ہے         ؎

 اے وطن اے مرے بہشت بریں

کیا ہوئے تیرے آسمان و زمین

پھر کہتے ہیں         ؎

رات اور دن کا وہ سماں نہ رہا

وہ زمیں اور وہ آسماں نہ رہا

محمد حسین آزاد نے کرنل ہالرائڈ کے ساتھ انجمن پنجاب کی بنیاد رکھی جس کے تحت آزاد اور حالی نے اپنی نظموں کے ذریعے قوم کی اصلاح کے ساتھ حب الوطنی کے جذبے کو پھیلایا۔تو اکبرالہ آبادی نے اپنی شاعری میں طنز کا سہارا لیا۔انھیں انگریزی تہذیب و تمدن سے نفرت تھی اور ملک کی زوال آمادہ تہذیب کا قلق وافسوس تھا۔اس لیے طنز کے ذریعے اپنی بات کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حب الوطنی کا تصور سرور جہاں آبادی کی نظموں میں بھی صاف نظر آتا ہے۔چونکہ وہ مانتے ہیں کہ حب وطن ایسا جذبہ ہے جو مذہبی رسم و رواج کے بندھن سے آزاد ہے۔اس لیے ان کی نظموں میں وطن  سے عشق اور آزادی کے خیالات ہی پیش کیے گئے ہیں۔

علامہ اقبال نے خاص طور سے اپنی نظموں کے ذریعے حب الوطنی کو فروغ دیا،جس سے آزادی کی قومی جدو جہد میں بڑی قوت ملی۔انھوں نے تحریک آزادی کی جدو جہد کو بڑے غور و فکر سے جانچا تھا۔ جس کا اندازہ جگہ جگہ ان کی شاعری میں ملتا ہے         ؎

نہ سمجھو گے تو مٹ جائوگے اے ہندوستاں والو!

تمھاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں،

حب الوطنی کے شاعر،برج نرائن چکبست نے تو جابہ جا اپنی شاعری کے ذریعے غافل قوم کو جگا نے اور ان کے دلوں میں حرکت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔وہ اپنی نظم’آواز قوم‘  میں لکھتے ہیں        ؎

یہ آرزو ہے کہ مہرو وفا سے کام رہے

وطن کے باغ میں اپنا ہی انتظام رہے

گلوں کی فکر میں گل چیں نہ صبح و شام رہے

نہ کوئی مرغ خوش الحاں اسیر دام رہے

یہ جوش پاک زمانہ مٹا نہیں سکتا

رگوں میں خوں کی حرارت مٹا نہیں سکتا

یہ آگ وہ ہے، جو پانی بجھا نہیں سکتا

دلوں میں آکے  یہ ارمان جا نہیں سکتا

شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کی شاعری کا بہت سارا حصہ جذبۂ آزادی سے بھرا پڑا ہے۔ان کے پر جوش اور ولولہ انگیز انداز بیاں نے آزادی کے متوالوں کو سر بکف ہونے پر آمادہ کیا۔ملک کو غلامی سے نجات دلانے کے لیے وہ ہمیشہ کوشاں تھے۔آزادی کی قدرو قیمت کا انھیں بہت احساس تھا۔تحریک آزادی زوروں پر تھی۔ انھیں کامل یقین ہو گیا کہ اب ملک آزاد ہو جائے گا۔ اس لیے ان کی نظمیں بغاوت و انقلاب جیسے جذبوں سے سر شار ہیں          ؎

کام ہے میرا تغیر،نام ہے میرا شباب

میرا نعرہ ہے، انقلاب و انقلاب و انقلاب

علی سردار جعفری نے بھی جنگ آزادی میں قلم کے ساتھ ساتھ عملی طور پر بھی حصہ لیا۔زنداں میں قید و بند کی صعوبت برداشت کی۔ ان کی شاعری دعوت انقلاب، پیغام بیداری، جذبہ آزادی اور خواہش آزادی کے جذبوں  سے لبریز نظر آتی ہے۔ ’نئی دنیا کو سلام‘ میں علی سردار جعفری کہتے ہیں          ؎

رقص کر اے روح آزادی کہ رقصاں ہے حیات

گھومتی ہے وقت کے محور پہ ساری کائنات

حسرت موہانی جو سیاست داں،شاعر،ادیب،صحافی،اور نقاد  تھے آزادی کی لڑائی میں ان کا نعرہ ’انقلاب زندہ باد‘ نے پورے ہندوستان میں آگ لگا دی تھی اور لوگوں کو آزادی کی لڑائی میں کودنے پر آمادہ کیا۔ہندوستانیوں میں اس  نعرے نے جوش بھر دیا تھا۔سیاسی و ادبی سرگرمیوں کے سبب کئی بار جیل گئے۔لیکن آزادی کے جذبے کو پھیلانے میں کوئی فرق نہ آیا اور اپنی پر زور کاوشوں کے سبب آزادی حاصل کر کے رہے۔

جنگ آزادی صرف نظم گو شعرا نہیں لڑ رہے تھے بلکہ نثری ادب سے وابستہ ادیب،دانشور بھی اپنی تخلیقات میں اس نظر یے سے متاثر نظر آتے ہیں۔

ڈپٹی نذیر احمد ناولوں میں آزادی کے تصور کو پیش کرتے ہیں،ابن الوقت،بنات النعش میں سیاسی اور معاشرتی زندگی کی ترجمانی کے حوالے سے جنگ آزادی کے تصور کو پھیلایا۔

مرزاغالب بھی 1857 کی قتل اور غارت گری سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔لیکن ان کی ذہنی قوتیں اس قومی تباہی پر غصے اور رنج کا اظہار اور ماحول کا پورا نقشہ اپنے خطوط میں کھنچتے ہیں۔

پریم چند کی سبھی کہانیاں آزادی کے جذبے سے لبریز ہوتی ہیں۔ساتھ ہی ساتھ وہ وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے انگریزوں کے ظلم و ستم کو برداشت نہیں کر سکے اور جابہ جا اپنی کہانیوں میں جذبۂ آزادی سے سر شار نظر آتے ہیں۔ان کے افسانوی مجموعے’سوز وطن‘ میںشامل افسانہ ’دنیا کا انمول رتن‘ ہے جس کو حکومت وقت نے آزادی کا تصور پھیلانے کے الزام میں ضبط کر لیا تھا۔

اردو صحافت کے ذریعے بھی آزادی کے تصور کو ہو ا مل گئی اردو صحافیوں نے آزادی سے متعلق خبریں چھاپیں۔  جس میں مولوی محمد باقر بھی تھے، جو پہلے شہید صحافی ہیں۔

آزادی کی لڑائی میں رام پرساد بسمل جن کو 19دسمبر 1937 ؁کوگورکھپور جیل میں پھانسی دی گئی۔ ان کی زبان پر اردو زبان میں بسمل عظیم آبادی نے جوشیلے اشعار کہے تھے      ؎ 

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

اَے شہید ملک و ملت تیرے جذبوں کے نثار

تیری قربانی کا چرچا غیر کی محفل میں ہے

وقت آنے دے بتا دیں گے تجھے اے آسماں

ہم ابھی سے کیا بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے

اب نہ اگلے ولولے ہیں اور نہ ارمانوں کی بھیڑ

ایک مٹ جانے کی حسرت اب دل بسمل میں ہے

غرض یہ کہ اردو کا اپناایک شاندار ماضی ہے۔یہی وہ زبان ہے جس نے جنگ آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ تحریک آزادی کے ساتھ اردو زبان و ادب قدم سے قدم ملا کر چلی،جس نے آزادی کے متوالوں کے نہ صرف حوصلے بلند کیے،بلکہ انگریزی حکومت کی بنیاد کو بھی ہلا دیا۔اگر ہم یہ کہیں تو غلط نہ ہوگا کہ ملک میں سیاسی بیداری پیدا کرنے میں اس ملک کی دیگر زبانوں کے مقابلے میں اردو زبان نے سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ یہی زبان ہمارے ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی امین بھی ہے۔اس زبان نے ہر دور میں ہندوستانیوں کے دلوں میں محبت کے دیپ،اور اتحاد و یکجہتی کی قندیلیں روشن کرنے کا مقدس فریضہ بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیا ہے۔

انگریز اس وقت اردو کے ان قلم کاروں سے جو آزادی کے تصور کو پھیلا رہے تھے،حد درجہ خائف تھے اس لیے انھوں نے اس زبان کا بہت سا شعری وادبی سرمایہ ضبط کر لیا تھا، جس میں بہت کچھ شائع ہو چکا تھا، اور کچھ شائع ہونا باقی تھا۔تاہم کچھ فرامین اور خطوط ابھی بھی دستیاب ہیں ان میں سے ایک فرمان جو نانا صاحب کا تھا اردو زبان میں لکھا گیا، یہ خط جس سے آزادی کے جذبے کا پتہ چلتا ہے

’’جان یک روز کبھی جائے گی ہی،پر عزت کھو کر کیوں مرنا ہم سے لڑائی،فساد،جنگ جو کچھ ہوگا سو کریں گے تلوار سے ہوگا تو تلوار سے لڑیںگے تاکہ عزت سے جی سکیں۔‘‘

ہمارے ادب کی یہ خوش قسمتی رہی ہے کہ اس کے گیسو سنوارنے اور اپنے ملک کی بقا کی حفاظت کرنے میں جتنا حصہ مسلمانوں نے لیا، اس کے کہیں زیادہ حصہ دوسرے مذہب کے پیرو کاروں نے لیا ہے، جس میںدیا شنکر نسیم، رتن ناتھ سر شار،درگاسہائے سرور جہاں آبادی، آنند نرائن ملا، فراق گورکھپوری،منشی پریم چند، فکر تونسوی، جگن ناتھ آزاد،راجندر سنگھ بیدی،پروفیسر گوپی چند نارنگ جیسے قدآور شخصیات نے اردو زبان و ادب کے لیے جو گراں قدر خدمات انجام دی ہیں وہ اس زبان کی تاریخ کا روشن باب ہے،جسے اردو زبان کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔

مراجع و مآخذ

  1.        ہندوستان کی تحریک آزادی اور اردو شاعریگوپی چند نارنگ، قومی اردو کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی
  2.         تحریک آزادی میں اردو کا حصہ، مرتب ناشر نقوی
  3.         جنگ آزادی میں اردو کا حصہ ناشر اقبال بیدار ،اقبال جنس جہانگیر آباد بھوپال
  4.         تحریک آزادی میں  اردو کا حصہ  ڈاکٹر معین  الدین عقیل
  5.        تاریخ ہند۔ملک ہندوستان کی تاریخ (ہندی زبان میں) ساہتیہ پبلشر
  6.        کلیات حالی

Mehmooda Qureishi

22/78, Dholi Khar Mantola

Agra Fort

Agra - 282002 (UP)

Mob.: 7417912943

 

 

 

 

 

 

 

6/3/23

اردو صحافت ایک جائزہ: محمد سجاد ندوی


 

صحافت پر اگر گہری نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ اس کی تاریخ انسان کی اکثر ایجادو ںکی طرح بہت قدیم ہے۔ محمدعتیق صدیقی اپنی کتاب ہندوستان میں اخبار نویسی (کمپنی کے عہد میں) رقمطراز ہیں

’’حضرت عیسیٰ سے کوئی 751 برس پہلے رومن راج میں روزانہ ایک قلمی خبرنامہ جاری کیا جاتا تھا جس میں سرکاری اطلاعیں نیز میدان جنگ کی خبریں بھی ہوتی تھیں۔ اس قلمی خبرنامے کو ایک ٹاڈیوری کہتے تھے۔ یہ لاطینی زبان کا لفظ ہے جو Acta اور Durna سے مرکب ہے۔ اول الذکر کا معنی ہے کارروائی اور مؤخرالذکر کے معنی ہیں روزانہ۔‘‘

جدیداخبار نویسی کی تاریخ نسبتاً کم پرانی ہے۔ 1566 میں وینس کے شہر میں یہ طریقہ جاری کیا گیا تھا کہ ایک شخص عام شاہِ راہ پر کھڑے ہوکر بلند آواز سے عوام کی دلچسپی کی خبریں ایک قلمی مسودے سے پڑھ کر سناتا۔ یہ مسودہ حکومت کی نگرانی میں مرتب کیا جاتا تھا۔

پہلا مطبوعہ خبرنامہ 1609 میں جرمنی میں جاری کیا گیا۔ اس کا نام تھا ’اویساریلیشن اڈرزیٹنگ (Avisa Relation Order Zeitung) اس طرح مطبوعہ صحافت کی تاریخ تقریباً 377 سال قدیم ہے۔

سولہویں صدی یا سترہویں صدی کے اخباروں کی زیب و آرائش نہ ہوئی تھی جو آج ہمارے اخباروں کی ہوتی ہے، لیکن علم و سائنس کی ترقی اور تجارت کی گرم بازاری کے ساتھ ساتھ واقعات سے باخبر رہنے کا بھی لوگوں میں شوق پیدا ہوا چنانچہ سترہویں صدی میں کچھ لوگوں نے ذاتی طور پر خبر رسانی کا کام یورپ میں شروع کردیا۔ ملکہ الزبتھ کے عہد میں جس کا انگلستان میں وہی زمانہ تھا جو ہندوستان میں اکبر کا تھا۔ اخبارنویس کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور ان ہی کے عہد میں اخباروں کی آزادی کا حق 1641میں قانوناً تسلیم کیا گیا۔ اردو صحافت کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا اس نے اس زمانے کے بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ اس کی تاریخ بہت ہی معرکۃ الآرا رہی ہے۔ 1857 سے لے کر 1935 تک ملک گیر پیمانے پر آزادی اور قومی اتحاد کے لیے جدوجہد کا سہرا اردو صحافت ہی کے سر ہے۔ (اردو صحافت، مرتب انور علی دہلوی، ص 20)

اردو کے اخبارات اور صحافیوں نے جنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان میں ایک صحافی اور مدیر مولوی محمد باقر شہید ہوئے۔ اردو اخبارات ہی کے مالکان اور مدیران سب سے زیادہ سامراجی ظلم و ستم کا نشانہ بنے۔ قید و بند کی مصیبتیں جھیلیں۔ پریس اور ضمانتیں ضبط ہوئیں۔

لیکن ان سب کے باوجود وہ سنگین سے سنگین حالات کا پامردی اور استقامت کے ساتھ مقابلہ کرتے رہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج اردو صحافت کو ترقی یافتہ اور بام عروج تک پہنچانے میں ہمارے جن عظیم صحافیوں نے ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں، انھیں خراج عقیدت پیش کرنا ہم لوگو ںپر فرض ہے کیونکہ اگر یہ لوگ میدان کارزار میں استقامت کے ساتھ گامزن نہ ہوتے اور اپنی ہڈیوں کو نہ گھلاتے تو ہم ان فیوض و برکات سے قطعی محروم رہتے۔

اردو کے اہم صحافیوں میں مولانا محمد علی، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا حسرت موہانی، مولانا ظفر علی خاں، مولانا محمدعثمان فارقلیط، مولانا عبدالماجد دریابادی، حامد الانصاری غازی کے نام سرفہرست ہیں۔ مولانا محمد علی کے اخبار ’ہمدرد‘ اور مولانا آزاد کے اخبار ’الہلال‘ اور ’البلاغ‘ نے ہمہ گیر شہرت پائی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان ناخوشگوار اور نازک حالات سے دوچار تھا۔ اس احساس کو بیدار کرنے میں مولانا محمد علی جوہر اور مولانا ابوالکلام آزاد نے نمایاں کردار ادا کیا۔

مولانا ابوالکلام آزاد ایک عبقری اور یکتائے روزگار شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی تحریروں میں طلسماتی اور مقناطیسی کیفیت پائی جاتی ہے۔ مولانا آزاد صحافت، خطابت، قیادت کے بادشاہ تھے۔

صحافت کے میدان میں تو اتنی کم عمری میں آئے کہ علامہ شبلی نعمانی نے انھیں دیکھا تو ان کی بے حد تعریف کی اور کہا کہ تم کسی نمائش میں بطور عجوبہ کے پیش کرنے کے قابل ہو۔

مولانا ابوالکلام آزاد کی صحافتی، زندگی کا آغاز ’نیرنگ عالم‘ اور ’المصباح‘ سے ہوا۔ چند شماروں کے بعد یہ اخبارات بند ہوگئے۔ بعد ازاں وہ ’لسان الصدق‘ سے وابستہ رہے۔ یہ اس وقت کے چند معیاری پرچوں میں سے ایک تھا، اس پرچے کے جن مقاصد کا مولانا نے اعلان کیا ان میں سے ایک خاص مقصد مسلمانوں کی سماجی اصلاح اور ان میں جدید تعلیم کا شوق پیدا کرنا تھا۔ ’لسان الصدق‘ سے علاحدگی اختیار کرنے کے بعد مولانا شبلی نے انھیں ’الندوہ‘ میں بلا لیا، وہاں سے سبکدوش ہوئے تو امرتسر کے ’وکیل‘ کی ادارت سنبھالی۔ غالباً ’وکیل‘ میں کام کرنے کے دوران ہی انھیں احساس ہوا کہ اخبار نویس کے ذہن و دماغ اور قلم کو آزاد ہونا چاہیے اور یہ بات اسی وقت ممکن ہے جب اخبار پر اس کی اپنی ملکیت ہو، ان کے خواب کی تعبیر ’الہلال‘ کی صورت میں سامنے آئی۔

’الہلال‘ سامنے آیا تو اس نے صحافت کی دنیا میں انقلاب برپا کردیا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ اردو زبان کا ایک پرچہ حسن صورت اور حسن سیرت سے مزین اور مرصع ہوکر نکلا۔

مولانا ظفر علی خاں کا مولانا آزاد کے زمانے کے بڑے صحافیوں میں شمار ہوتا ہے۔ مولانا ظفر علی خاں نے اپنے اخبار ’زمیندار‘ کے ذریعے ملک و قوم کی بڑی خدمت کی۔ اردو صحافت میں بہت بلند مقام ہے۔ ’زمیندار‘ میں ان کی نظم و نثر کے جوہر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ان کی تحریروں نے اردو ادب میں ایک نئی روح پھونک دی۔

مولانا نے انگریزی حکومت کے خلاف بہت بیباکی اور جرأت مندی کے ساتھ لکھا۔ کئی بار ان کے اخبار کو بند کیا گیا اور ضمانتیں طلب کی گئیں لیکن وہ حکومت کے ظلم و ستم سے نہ گھبرائے اور استقامت و پامردی سے مقابلہ کیا۔

سائمن کمیشن کی آمد پر انھوں نے انگریز نوازوں کے خلاف بڑی دلیری سے لکھا۔

مولانا ظفر علی خاں پوری زندگی زبان و قلم سے فرنگیوں کی نیند حرام کردی۔ ایک سال سے زائد جیل، قرقیاں اور انگریزوں کی دوسری سختیوں سے دوچار رہے، کبھی بھی پایۂ استقامت میں تزلزل پیدا نہیں ہوا۔ ان کی استقامت کا اندازہ ان کے اس شعر سے لگایا جاسکتا ہے      ؎

اگر مرنا ہے تجھ کو تو مر صحنِ مقتل میں

اِدھر بسمل تڑپتا ہو، اُدھر قاتل پھڑکتا ہو

مولانا حسرت موہانی بڑے صحافی کے ساتھ اچھے شاعر بھی تھے۔ ’اردوئے معلی‘ میں اردو صحافت کا لوہا منوایا۔ بڑے بڑے صحافی اور ادیب سرنگوں ہوگئے۔ مولانا اچھے تنقیدنگار بھی تھے۔ اپنی شاعری کے ذریعے غزل کو ازسر نو زندہ کیا۔

حسرت نے غزل کو سمت و رفتار عطا کی۔ اپنے معاصر شعرا کے کلام پر برجستہ اور بے لاگ تبصرے کیے اور ان کی خامیوں کی اصلاح کی۔ حسرت کے تنقیدی نشتر سے مولانا الطاف حسین حالی بھی نہ بچ سکے۔ حالی پر ان کا ایک باریک طنز ملاحظہ ہو

’’بعض اخباروں کی رائے ہے کہ مولانا حالی کی زبان کی لغزشوں پر ان کی قومی خدمات کے لحاظ سے اعتراضات نہیں کرنے چاہیے لیکن مشکل یہ واقع ہوئی ہے کہ ہندوستان کا ایک بڑا حصہ بدقسمتی سے ان کے کمال شاعری کا قائل ہے اور ان کی پیروی کو قابل فخر سمجھتا ہے اور جو کچھ خواجہ صاحب کے قلم سے نکلتا ہے اسے جائز قرار دیتا ہے۔ اسی حالت میں اگر ان سے زبانوں کی کوئی غلطی سرزد ہو ان سے چشم پوشی کرنا گویا دیدہ و دانستہ ایک حصہ ملک کی زبان خراب کرنا ہے۔‘‘ (اردوئے معلی، فروری 1904)

آج اردو صحافت ماضی کی شاندار روایات اور قابل فخر ورثے کی مالک ہے۔ اردو صحافت ایک بڑے مشن اور مقصد کے تحت آئی تھی لیکن آزادی کے بعد اردو کو وہ پذیرائی نہ ملی جو اسے ملنی چاہیے تھی۔

یہ بات حقیقت برمبنی ہے کہ اردو صحافت کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اردو صحافت نے بڑی بڑی تحریکو ںاور تنظیموں کو جنم دیا ہے اور اردو اخبارات و جرائد ہندوستان کے گوشے گوشے سے شائع ہورہے ہیں۔ اردو ہمارے ملک کی آئینی زبان ہے۔ دیگر علاقائی زبانو ںکی طرح اس زبان کے لیے کوئی حد بندی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو کے بولنے اور سمجھنے والے ہندوستان کے ہر گوشے میں موجود ہیں۔ اس لیے اردو کسی فرقے یا مذہب کی زبان نہیں ہے۔ اردو ہندستان کی ایک مشترکہ زبان ہے۔ اردو ایک تابندہ اور زندہ زبان ہے۔ جس طرح  زندگی اور مسائل کا چولی دامن کا ساتھ ہے اسی طرح اردو مطبوعات ہوں یا اردو صحافت ان کو مسائل درپیش ہیں

   اردو صحافت کا اگر سرسری جائزہ لیا جائے تو سب سے بڑا مسئلہ تعداد اشاعت کا ہے۔ اردو اخبارات محدود اشاعت ہونے کی وجہ سے انگریزی اور ہندی کے مقابلے میں اردو اخبار کی قیمت زیادہ ہوتی ہے، یہ حقیقت ہے کہ قیمت کا انحصار ریڈرشپ پر ہوتا ہے اور ریڈرشپ کا تعلق اردو اخبارات کے معیاری اور دیدہ زیب ہونے پر منحصر ہے اور المیہ یہ کہ تعلیم یافتہ اردو داں گھروں میں بھی انگریزی اخبار ہی پڑھا جاتا ہے کیونکہ اس میں مواد اور وزن بھی ہے اور قیمت کم ہوتی ہے۔ اگر ہم اردو داں پابندی سے ہر صبح اپنے مطالعے میں اردو اخبار رکھیں تو یقین کیجیے کہ اردو اخباروں کی تعداد بڑھے گی۔

 اردو صحافت کو درپیش مسائل کی ایک وجہ ہے تشہیر اور پبلسٹی کی کمی۔ جو لوگ تشہیر کی منفعت کو سمجھتے ہیں وہی اپنے کام کو وسعت اور ترقی دیتے رہتے ہیں۔ جبکہ اخبارات و رسائل پبلسٹی کا ایک عظیم ذریعہ ہیں۔ اردو اخباروں اور رسالوں میں اشتہار اتنے شائع نہیں ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اشتہار دینے والا سمجھتا ہے کہ اردو کی ریڈرشپ محدود ہے۔

یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ اردو خاص طبقے کی زبان بن گئی ہے اور یہ طبقہ مالی و اقتصادی طور پر کمزور ہے۔ ان کے یہاں بچوں کی تعلیم کا رواج کم سے کم ہے کیونکہ زیادہ تر بچوں کو کم عمری سے ہی کسی نہ کسی کام پر لگا دیا جاتا ہے، یہی بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو ان کی دلچسپی پڑھنے سے ختم ہوجاتی ہے۔ درحقیقت معاشی کمزوری اور تعلیم کی کمی ہماری توجہ ہٹائے رکھتی ہے۔

اردو صحافی تمام تر نامساعد حالات تکنیکی دشواریوں اور ناخوشگوارماحول میں بھی اخبارات کو اپنے خون جگر سے آبیاری کرتے رہے ہیں۔ اردو صحافت مشکل ترین دور سے گزر کر آج دیدہ زیب اور رنگین طباعت، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے دور میں پہنچتی ہے

اردو صحافت کا معیار مزید بلند سے بلند تر ہوسکتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ ذمے داران اور کارکنان اپنے فرائض منصبی کو سمجھیں، ایک دوسرے کا تعاون کریں۔ بہتر اور منتخب مواد اپنے قاری کو فراہم کریں تاکہ ریڈرشپ میں اضافہ ہو، سرکولیشن پر ہی اخبار و رسائل کی کامیابی کا دار و مدار ہوتا ہے۔

اردو صحافت کے تمام مسائل کی بنیاد صحافیو ںکی معاشی حالت ہے، اگر اردو صحافیوں کی اقتصادی حالت بہتر ہے تو صحافت کا معیار عمدہ اور بلند ہوتا ہے۔ صحافیوں میں ہمت افزائی اور حوصلہ ہوتا ہے۔

    اخبارات و رسائل کے ذمے داران اپنے اندر توسیع پیدا کریں۔ آپسی تعاون کے ذریعے ایک دوسرے کے اشتہارات چھاپیں اور اپنے اپنے حلقوں میں دیگر اخبارات و رسائل کو متعارف کرائیں۔ اس اقدام کے ذریعے دہلی، یوپی اور شمالی ہند کے اخبارات و رسائل کے تعارفی اشتہارات جنوبی ہند اور بنگال بہار کے اخباروں اور جرائد میں جگہ پاسکتے ہیں اور ان علاقوں میں متعارف کرایا جاسکتا ہے۔ اس طرح کے آپسی تعاون سے نہ صرف ریڈرشپ بڑھ سکتی ہے بلکہ نجی اداروں سے اشتہاروں کے حصول کے مواقع بھی بڑھ سکتے ہیں۔ ممکن ہے حیدرآباد کا کوئی تاجر بنگال اور دہلی کے اخبارات و رسائل کو اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے مفید سمجھے اور دہلی و بنگال کے صنعت کار حیدرآباد اور بنگلور کے اخبارات کو اپنی مصنوعات کا ذریعہ بنانا پسند کریں۔ آج یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اردو صحافت بھی دیگر زبانوں کی صحافت سے کم نہیں ہے اور ہمارے یہاں ایسے اخبارات و رسائل شائع ہورہے ہیں جو اپنے معیار و دلکشی، تنوع اور طباعت کے اعتبار سے دوسری زبانوں کے ہم پلہ ہیں لیکن ترقی کی یہ رفتار جہاں جنوبی ہند میں مسلسل ارتقا کی منزلیں طے کررہی ہیں وہیں شمالی ہند میں یہ بہت سست اور دھیمی ہے۔ حیدرآباد، بنگلورو اور ممبئی کے اردو اخبارات جس معیار اور زبان و بیان اور لب و لہجے اور حسن انداز کی صحافت کو برت رہے ہیں۔ وہ حسن اور تنوع ہمیں دلی، کولکاتا، پٹنہ اور لکھنؤ کے اخبارات میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔ ہر چند کہ اردو صحافت کا آغاز ہی شمالی ہند سے ہوا تھا، لیکن جنوبی ہند کے اخبارات  نے جس تیزی سے ارتقا کی منزلیں طے کی ہیں ان کا مقالہ شمالی ہند کے اخبارات نہیں کرپائے اس کی وجوہات تہذیبی، تاریخی اور جغرافیائی تبدیلیوں کے علاوہ معاشی انقلاب کے فیوض بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔

یہ بات قابل اطمینان ہے کہ موجودہ دور کی اردو صحافت اطلاعاتی تکنالوجی کے تمام ذرائع کو پورے اعتماد کے ساتھ برت رہی ہے اور گلوبلائزیشن کے اس دور میں اردو اخبارات دیگر ترقی یافتہ زبانوں کے اخبارات کے شانہ بشانہ چل رہے ہیں اور تعداد اشاعت میں بھی بتدریج بہتری آرہی ہے۔

اردو صحافت روز اول سے ہی درپیش مسائل کو حل کرنے میں مصروف نظر آتی ہے اور اپنے اپنے زمانے کے مخلص لوگ کمربستہ ہوکر اس کو پروان چڑھانے کے لیے میدان حق گوئی و بے باکی میں مصروف جہاد دکھائی دیتے ہیں۔ بقول شاعر مشرق علامہ اقبال   ؎

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی


مراجع و مآخذ

اردو صحافت کے مختلف صفحات سے ماخوذ، مرتب انور علی دہلوی، شائع کردہ، اردو اکادمی دہلی

n

Mohd Sajjad Nadvi

Uttam Palace, 208 Block-B

Khwajapura, Baily Road

Patna- 8000014

Mob.: 9934287655

عالمی کتاب میلے میں قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام ‘داستانِ جنگ آزادی’ کی پیش کش

 


تحریکِ آزادی میں مردوں کے ساتھ خواتین کی قربانیاں ناقابل فراموش :پروفیسر شیخ عقیل احمد

نئی دہلی:نیشنل بک ٹرسٹ آف انڈیا کے زیر اہتمام پرگتی میدان میں منعقدہ عالمی کتاب میلے کے دوران ۴؍مارچ کو میلے کے تھیم پویلین میں قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام ‘داستان جنگ آزادی’ کے عنوان سے ایک خوب صورت داستان پیش کی گئی، جس میں خصوصاً تحریک آزادی کی خواتین سپاہیوں کی قربانیوں اور ان کی غیر معمولی حب الوطنی اور جذبۂ آزادی کو خراج پیش کیا گیا۔ اس داستان کے تخلیق کار و ڈائریکٹر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر دانش اقبال تھے، جبکہ داستان گوئی عارفہ جبین اور اظہر الدین اظہر نے کی اور میوزک آرٹسٹ کے طورپر سعادت ایثار اور سید انصرام الحق نے اپنی فنکاری کا مظاہرہ کیا۔

قبل ازاں تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے کہا کہ میں سب سے پہلے این بی ٹی اور خاص طورپر جناب شمس اقبال صاحب کو مبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں، جن کی کوششوں سے کتاب میلے کے دوران یہاں کئی علمی، ادبی و ثقافتی پروگرام منعقد ہورہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ خصوصاً اس سال جنگ آزادی کا امرت مہوتسو بھی منایا جارہا ہے، جس کے تحت بہت سی تقریبات ہوچکی ہیں اور اب بھی ہو رہی ہیں، قومی اردو کونسل کے ذریعے پیش کی جانے والی آج کی یہ داستانِ جنگ آزادی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جنگ آزادی کا جب ذکر ہوتا ہے یا اس پر لکھا جاتا ہے تو زیادہ تر مردوں کے ہی نام لیے جاتے ہیں، حالاں کہ ایک بڑی تعداد ان خواتین کی بھی ہے، جنھوں نے تحریک آزادی میں سرگرم حصہ لیا اور اپنے گھربار وغیرہ کی ذمے داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ انھوں نے آزادی کی مختلف تحریکوں میں بھی اہم رول ادا کیا، اس داستان میں ہندوستان کی خواتین مجاہدین آزادی کے کردار پر ہی فوکس کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس داستان کو سننے کے بعد سامعین میں جوش و خروش پیدا ہوگا، وطن سے محبت میں اضافہ ہوگا، تحریک آزادی کے دنوں کے مصائب و مشکلات سے واقفیت ہوگی اور ساتھ ہی یہ سبق بھی ملے گا کہ ہم آج کے وقت میں اپنے ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے کیا کرسکتے ہیں اور بطور شہری اپنی ذمے داریاں کیسے نبھا سکتے ہیں۔ انھوں نے اس داستان کے تخلیق کار و ڈائریکٹر دانش اقبال اور ان کی پوری ٹیم کو بھی مبارکباد پیش کی اور ان کا شکریہ بھی ادا کیا ۔ پروفیسر دانش اقبال نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک کی آزادی میں تمام طبقات نے حصہ لیا اور سبھوں کی مشترکہ کوششوں سے ملک آزاد ہوا، ان میں مردوں کے ساتھ خواتین بھی شامل تھیں مگر ان کا تذکرہ کم ہوتا ہے، اس لیے ہم نے ان کے مختلف واقعات کو جمع کرکے ایک داستان کی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے، اس میں سارے ناموں کا احاطہ نہیں ہے، ‌کچھ چھوٹ بھی گئے ہیں جنھیں ہم آیندہ شامل کرنے کی کوشش‌ کریں ‌گے۔ انھوں نے بتایا کہ اس سے پہلے یہ رقص کے ذریعے پیش کیا گیا جاچکا ہے، آج اسے داستان کے فارم میں پیش کیا جارہا ہے ۔

تمام اداکاروں نے بڑی خوب صورتی سے یہ داستان پیش کی اور رانی ویلونچیار، رانی لکشمی بائی،رانی اونتی بائی، بیگم حضرت محل،بیگم نشاط موہانی، کملانہرو اور کستورباگاندھی وغیرہ کی قربانیوں کی معنی خیز جملوں، خوب صورت اور حوصلہ انگیز اشعار کے ذریعے پیش کش کو سامعین و ناظرین نے خوب پسند کیا اور داد و تحسین سے نوازا۔ اس موقعے پر کونسل کے اسٹاف کے علاوہ بڑی تعداد میں شائقین موجود تھے۔

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...