3/8/23

جکری دکن کے ابتدائی دور کی مقبول صنف: عامر مظفر بھٹ

 

نویں اور دسویں صدی ہجری میں گجری روایت کی ایک مقبول و معروف صنف کا نام ’جکری‘ہے۔ شیخ بہاو الدین باجن نے سب سے پہلے اس صنف سخن کو متعارف کرایا اور اس کی ماہیت نیز مقصدپر روشنی ڈالی۔ یہ صنف سخن گجری اردو کے ساتھ مخصوص ہے اور اردو شاعری کی پہلی اور قدیم ترین روایت میں شمار ہوتی ہے۔ جکری دراصل ذکری کی گجری شکل ہے۔ متاخرین علمائے ادب نے گجری روایت کے پیش نظر جکری کے طرز املاکو برقرار رکھاہے۔ اس صنف میں بنیادی طور پر ذکر خدا، ذکر رسول، ذکر پیر و مرشد، ذکر تجربات باطنی اور واردات روحانی وغیرہ کو عام فہم الفاظ میں لکھا جاتا ہے، جسے آسانی کے ساتھ گایا جاسکے اور سازپر بجایا بھی جاسکے۔1تاکہ  لوگوں کے اندر وجد و سرور طاری ہو،اور وہ عشق الٰہی کے ولولے اوراس کے سوز و گداز کو اپنے دل میں محسوس کرسکیں۔ جکری میںعشق و محبت کے جذبات اورایسے ناصحانہ مضامین بھی ہوتے ہیں جس سے طالبوں اور مریدوں کی ہدایت بھی کی جاتی تھی۔

حضرت شیخ بہاو الدین باجن نے ’خزائن رحمت اللہ‘ کے ’خزینہ ہفتم‘ میں جکری کی تعریف کرتے ہوئے اس صنف نغمہ کے مقصد و ماہیت پر روشنی ڈالی ہے۔ لکھتے ہیں:

’’درذکر اشعار کہ مقولہ این فقیر است، بزبان ہندوی جکری خوانند و قوالان ہند آمنرادرپردہ ہائے سرودمی نوازند و می سرایند، بعضے در مدح پیر دستگیرو وصف روضہ ایشان و وصف وطن خود کہ گجرات است و بعضے در ذکر مقصد خود و مقصودات مریداں و طالبان وبعضے در ذکر عشق و محبت…‘‘

مذکوہ بالا اقتباس کا مطلب راقم کے لفظوں میں یہ ہے کہ’’اِن اشعار کا تذکرہ کرتے ہو ئے جس کے موضوع کا تعلق اس فقیر سے ہے وہ لوگ ہندوی زبان میں جکری گاتے ہیں اور ہندوستانی شاعر پردے میں گاتے او ر بھجن کرتے ہیں۔کبھی کبھار عمر رسیدہ بزرگ قیدیوں کی تعریف میں،یا ان کے مزارات کو بیان کرتے ہیں اور ان کاوطن گجرات بیان کر تے ہیں اور کبھی اپنی منزل اور شاگردوں اور مریدوں کاذکر کرتے  ہوئے ان کے مقاصد کا تذکرہ کرتے ہیں.....‘‘

مذکورہ اشعار جن کا تعلق اس فقیر سے ہے، جسے لوگ ہندوی زبان میں جکری کہتے ہیں اور ہندوستانی شعرا ساز پر گاتے اور بجاتے ہیں۔ کچھ تو اپنے پیر کی مدح  اور ان کے روضے کی تعریف و توصیف کرتے ہیں۔ اپنے وطن جو کہ گجرات ہے، کا ذکر کرتے ہیں اور کچھ لوگ اپنے مقصد یا اپنے مریدوں یا طالب علموں کے مفاد کو سامنے رکھتے ہیں یا کچھ لوگ جکری میں عشق و محبت کا تذکرہ کرتے ہیں۔

یہاں یہ بات ہمارے ذہن میں رہے کہ اس اقتباس کے مطالعے سے حضرت شیخ بہاو الدین باجن کے موضوعات کا علم ہوتا ہے جو انھوں نے اپنے کہے ہوئے جکریوں میں باندھے ہیں۔ اسی کے ساتھ یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جکری کا کوئی موضوع مخصوص نہیں۔ ڈاکٹر ظہیر الدین مدنی،قاضی محمود دریائی کے ترجمے میں جکری کا تعارف ان الفاظ میں کرتے ہیں۔

صاحب ’خزینتہ الاصفیاء‘ کے حوالے سے محمود شیرانی نے جکری کی ایک اور تعریف نقل کی ہے۔ ملاحظہ ہوں

’’اشعارعاشقانہ بزبان ہند فرمودے کہ قوالان آن دیار بوقت سماع اشعار آنجناب بہ مجلس اصفیا میخو انند و بغایت موثر می باشند۔‘‘2

جکری ہیئت کے اعتبار سے بھجن اور گیت ہی کی ایک شکل ہے، جس میں دوہروں کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ گجری روایت میں اس صنف سخن کو متعارف کرانے والوں نے اس کے ارکان کو اپنے طور پر برتا ہے۔ چنانچہ شیخ بہاو الدین باجن کے یہاں اس کے ارکان اس طرح ہیںکہ ابتدائی اشعار جو ہم قافیہ ہوتے ہیں ’عقدہ‘ کہلاتے ہیں۔ اس کے بعد تین تین چار چار مصرعوں کے بند آتے ہیں، جنھیں ’پین‘کہا جاتا ہے۔ آخری بند جو عام طور پر تین مصرعوں پر مشتمل ہوتاہے ’تخلص‘ کہلاتا ہے۔ پہلے دو مصرعے ہم قافیہ جبکہ تیسرا مصرع الگ قافیہ میں  ہوتا ہے، لیکن  یہ تینوں ہم وزن ہوتے ہیں۔ ہر جکری میں عنوان کے تحت یہ واضح کردیا جاتا ہے کہ اسے کس راگ کے مطابق لکھا گیا ہے۔مثلاً ’’عقد ہ در پردۂ صباحی، عقدہ درپردۂ بلاول اور عقد درپردہ للت وغیرہ۔

عقدہ درپردۂ صباحی کی مثال          ؎

سب پھل باری تو ہیں بھونرا بہو بھر لیوباس

راول میرا راج کرے ری مندر کے پاس

     باجن باجن باجن تیرا تجھ باجیں ناجیون میرا 

عقدہ در پردہ بلاول کے نمونے بطور مثال           ؎

شراب محبت بھر بھر پیالے

آتش عشقت نقل نوائے

 

پس روئے رسول مالامالی

نبی رسول کی چنوں چالی

بھکاری آیاعیدی مانکے

ہیری کا کچھ تجھ دھر سانکے

صحت تن اور عمر دراز

رزق فراخ توفیق نماز

اوکن سکلی کن کر لیئیں

باجن کو دیکھن لیئیں

عقدہ کی مثال        ؎

  تبن پائیں دی رج بسلائییاد بھرا کے اک کلال

خوب ملیں صندلی رنگ نیلے پیلے کالے لال2

پین کی مثال       ؎

شہ جو لایا چندناچوہا چولہ مہوکے

ہوئی جو آئی نو شہ کی میرا جیو را ہو کے

جائی جوئی موگرا چن چن لایا مالی

کچھ کندری کچھ کھولے شہ تیری تائیںتھالی

مائی بہنے مل کر دیو یوں آسیسا

یہ بنابنی جیوری گور لگ پریسا

تخلص کی مثال         ؎

باجن تیرا باؤلاتجھ کارن تپہے دھمکے

نبی محمدمصطفی سیں نور جگ میں جھمکے    

عقدہ کے علاوہ مندرجہ بالا مثالیں جمیل جالبی کی تاریخ ادب اردو سے ماخوذ ہیں۔3؎

شاہ علی محمد جیوگام دھنی نے جکری کی اسی ہیئت کو برقرا ررکھتے ہوئے عناصر ترکیبی کے نام میں فرق کیا ہے۔ انھوںنے جکری کو مکاشفہ کا نام دیا ہے اور ہر بند کوـ ’نکتہ‘ قرار دیا ہے۔ جکری کی پوری نظم ’مکاشفہ‘ کے نام سے موسوم ہوتی ہے جب کہ شیخ باجن نے اپنی نظم کو ’عقدہ‘ اور بند کو ’پین‘ کے نام سے موسوم کیا ہے اور آخرکے تینوں مصرعوں کو ’تخلص‘ کا نام دیا ہے۔

جکری کے ممتاز شعرا میں سے ایک شیخ بہاو الدین باجن نے ایک سو بائیس سال کی طویل عمر پائی۔ انھیں موسیقی سے گہرا لگائو تھا اسی لیے اپنا تخلص باجن اختیار کیا۔ فارسی میں ’خزائن رحمت اللہ‘ کے نام سے ان کی ایک یادگار تصنیف ہے، جس میں شیخ باجن نے جا بجا اپنا اردو کلام بھی درج کیا ہے۔ اس کتاب کے ایک باب کا نام ’خزینۂ ہفتم‘ ہے جس میں  دوسروں کے اقوال کے ساتھ اپنے اشعاراور جکریاں بھی درج کی ہیں۔ ان اشعار کی زبان نویں صدی ہجری کی زبان ہے، جن میں اسلامی اور ہندوی اثرات مل جل کر ایک ایسی شکل اختیار کرتے ہیں جو گجری اردو کے ساتھ مخصوص ہے۔ان کی کتاب ’خزائن رحمت اللہ‘ کے بارے میں تبسم کاشمیری لکھتے ہیں

 ’’لسانی اعتبار سے باجن کی تصنیف ’خزائن رحمت اللہ‘ بہت قدر و قیمت کی حامل کتاب ہے۔ اس کی اہم ترین قدر یہ کہ یہ اردو کے قدیم ترین روپ کا مستند نمونہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ باجن کی ایک اور اہم قدر یہ ہے کہ اس میں اردو غنائیہ شاعری کی روایت پروان چڑھتی ہے۔‘‘4

   شیخ باجن کی جکریوں کے نمونے حسب ذیل ہیں         ؎

اللہ سیتیں جے کوئی ہوئے

اللہ اور جگ اس کا ہوئے

من مراد گھر بیٹھے پاوے

اس کو مار نہ سکھے کوئے

کوئی اللہ سیتیں اللہ کسے 

سہتیں باجن درویش  پر مناوے

اللہ ہوں کوچہ سہتیں بیٹھی بھکیاوے

ایک دوسری مثال میں عقدہ در پردۂ للت کا یہ بند ملاحظہ ہو  ؎

کھولو کھولو ری پار دکھلاؤمکھو

جس مکھو دیکھیں میری نینو جی سکھو

جس مکھو دیکھیں دکھ دلندر جاوے

شاہ رحمت کا درسن باجن پاوے

اس ادبی روایت کو مستحکم کرنے میں قاضی محمود دریائی کا بھی نام خاصا نمایاں ہے۔ گجرات کے برگزیدہ صوفیامیں ان کا شمار ہوتاہے۔ قاضی صاحب بیرپور کے رہنے والے تھے، ان کی شخصیت کی نمایاں خصوصیت ولولۂ عشق ہے۔  ’تحفۃ الکرام‘ میں قاضی صاحب کے بارے میں لکھا ہے ’’ہنگام جوانی از مقام غوثیت درگزشتہ بمقام محبوبیت در رسیدند۔‘‘5جمیل جالبی قاضی صاحب اور ان کلام کے بارے میں اپنی کتاب تاریخ ادب اردو میں یوں تحریر کرتے ہیں

’’مزاج کی اس کیفیت اور عشق کی شدت کا یہ اثر ان کے کلام میں محسوس ہوتا ہے۔ دین و دنیا کے سارے امور اسی محور پر گھومتے ہیں۔ عشق کی اس آگ کو وہ موسیقی کی نرمی اور پھوار سے ٹھنڈا کرتے ہیں۔ ان کا بیشتر کلام گانے کے لیے لکھا گیا ہے اور ان کا ایک ضخیم دیوان قلمی صورت میں موجود ہے۔ ‘‘6

صنف جکری میںگجری کی مروجہ روایت کے مطابق ہندوی اثرات نمایاںہیں۔ قاضی صاحب نے اپنے کلام کو مختلف راگ راگنیوں اور سروں کے مطابق ترتیب دیا ہے۔ اسی اعتبارسے عنوان قائم کیے ہیں۔ جیسے جکری درپردۂ بلاول، دردھناسری،دربھاکرہ، درسارنگ وغیرہ۔

نمونۂ کلام درج ذیل ہے          ؎

نین رنگیلوں کے قربان

نین چھبیلوں کے قربان

نین جنجالوں کے قربان

نین سلونوں کے قربان

جن دیکھے سورہ کر دھولے آپس کرے ندھان

دیکھت تین مرک میں موئی جھیل ہوئی نسران

پنکھی پنتھی دیکھت ہوئی کالی کیتی جان

قاضی محمود کا موضوع سخن عشق ہے اور اس عشق کی ہزار ادائیں ان کے کلام میںجھلکتی ہیں۔ ان کا کلام پڑھنے سے زیادہ قوالوں کی زبان اور سازوں کی سنگیت میں اثر کا جادو جگاتاہے۔

قاضی محمود دریائی بیر پوری کو اپنے والد سے انتہا درجے کی عقیدت تھی۔اپنے والد کو قاضی محمد کے نام سے یاد کرتے ہیں اور نام کے ساتھ چالندہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں،جو ان کے والد کا لقب تھا۔والد کے وصال پر جو جکری لکھی ہے وہ قاضی محمود کی اپنے والد سے عقیدت و محبت کی دلیل ہے۔جس کی مثال درج ذیل ہے7

قاضی محمد تن شاہ چایلندھاپیر لاگوںپائے

جکری کی روایت کو مزیدمستحکم کرنے میں گجرات کے ایک اور نامور بزرگ شاہ علی محمد جیوگام دھنی کا نام بھی شامل ہے۔ انھوں نے گجرات کی اس قدیم صنف سخن کو بام عروج تک پہنچایا۔ ان کی تصنیف کا نام ’جواہر اسرار اللہ‘ ہے۔ شاہ علی محمد جیوگام دھنی کا کلام فلسفہ ٔ ہمہ اوست کا ترجمان ہے۔ گام دھنی بہت مشکل پسند شاعر ہیں، ہر بات کو صرف اشاروں میںبیان کرنے کی وجہ سے ان کے کلام میں ابہام نمایاں ہے۔  ان کا سارا کلام واردات قلبی، عرفان ذات کے مسائل اور صوفیانہ تجربات میں ڈوبا ہوا ہے۔ محمود شیرانی نے ان کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’معلوم ایسا ہوتا ہے کہ وہ صفات سے گزر کر عین ذات میں محو ہیں۔‘‘8مثال کے طور پران کے کلام کے نمونے ملاحظہ کیجیے۔

 

جمال جمال کھل بھل جاسی

جلال جلال مل ایکچ تھاسی

جے جس صفت دو مالی ہووے

وہی صفت اس ذات ملاسی

جکری کی روایت کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس شاعری کا مجموعی مزاج ہندوی ہے، جس پر ہندوی اثرات، روایات، صنمیات ا ور رمزیات کا گہرا رنگ چڑھا ہوا ہے۔ گجرات میں تصوف نے جس طرح سے اپنا رنگ جماکر دلوں پر حکمرانی کی ہے اس کی نوعیت شمالی ہندسے مختلف ہے۔ گہرے ہندوی اثرات نے اسلامی تصوف کے ساتھ مل کر ایک ایسی شکل اختیار کر لی، جو صوفیوں اور شاعروں کے کلام میں نظر آتی ہے، گجری روایت میں موسیقی اور سازوں پر وجد کرنے کا رجحان ملتا ہے، جکری اسی روایت کی پاسداری کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ لیکن شاہ علی محمد جیوگام دھنی کے آخری وقت میں اس صنف میں بھی فارسی روایت کے اثرات نمایاںہونے لگتے ہیں، جس روایت کو بعد میں خوب محمد چشتی نے پروان چڑھایا۔ اس طرح جکری کی روایت آہستہ آہستہ دم توڑنے لگی اور معدوم ہو گئی۔اس طرح اردو دنیا ایک ایسی صنف سے محروم ہو گئی جو ساز پر گائی جانے  کے ساتھ ساتھ ہندوی روایت کی امین بھی تھی۔

بقول ڈاکٹر حبیب نثار ’’اس دور میں جکریاں بہت مقبول تھیں مجالس حال وقال میں قوال مزا میر کے ساتھ گاتے تھے۔ جکریاں ہیئت میں نظم او رخیال کے اعتبار سے غزل ہوتی ہے۔ انھوں نے اپنے مقالے میں ڈاکٹر جمیل جالبی کے جکری کے موضوعات اور ان کے محل استعمال پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’جکری (جکری، ذکری کی گجری شکل ہے) میں بنیادی طور پر ذکر خدا، ذکر رسولؐ، ذکر پیرو مرشد، ذکر تجربات باطنی و واردات روحانی کو اس طور پر ایسے اوزان اور ایسے عام فہم الفاظ میں لکھا جاتا تھا کہ اسے گایا بھی جا سکے اور سازوں پر بجایا بھی جا سکے۔ جکری کی حیثیت مختصر گیت یار اگ راگنیوں کے ان بولوں کی تھی جنھیں گا بجا کر لوگوں کے اندر عالم وجد و سرور پیدا کیا جا سکے۔ اس میں عشق و محبت کے جذبات بھی ہوتے تھے اور ایسے ناصحانہ مضامین بھی جن سے مریدوں اور طالبوں کی ہدایت ہو سکے‘‘۔

مشہور ادبی مؤرخ محمود شیرانی جکری کی اصل کا قیاس کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’جکری دراصل ذکر‘کی بگڑی شکل ہے۔ اس کا اطلاق ایسی نظموں پر ہوتا ہے جن میں اور مضامین کے علاوہ سلسلے کا شجرہ اور مشائخ کی مدح ہوتی تھی۔ پروفیسر گیان چند جین جکری کے سلسلے میں ’شیرانی کی تاویل‘ کو صحیح قرار دیتے ہیں اور حقیقت بھی یہی معلوم ہوتی ہے۔ بقول حافظ محمودشیرانی کتاب چشتیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں۔ ’’جکری کے لیے ہندوستانی موسیقی کے چند راگ مخصوص ہیں یعنی للت، بلاول، دیساکھ، توڑی، سیام بیراری، دھنا سری، اساوری، دیوگیری، پوربی، کلیان، کانڑا، بھاکرہ اور گنڈ۔

جکری گجرات میں مقبول ہونے سے قبل شمال میں معروف تھی چنانچہ حضرت نظام الدین اولیا کو’جکری‘ سننے سے حال آیاتھا جس کے متعلق صاحب’سیرالاولیا‘ لکھتے ہیں

’’قوال جکری از مولانا وجہہ الدین بصوتے مرق می گفت و غالب ظن من آنست کہ این جکری بود(پنیا بن بہاجی ایسا سکھ سیں باسوں) حضرت سلطان المشائخ را این ہندوی اثر کرد‘‘

اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے جکری کی اپنی روایت اور ہئیت رہی ہے جو کہ موجودہ دور میں تقریباً ختم ہو چکی ہے اور حد یہ ہے اس جانب ہمارے ادیبوںاور ادب پر کام کرنے والوں کا ذہن نہیں جاتا کہ اس پر بھی کچھ کام کیا جا سکے۔تفصیلی مضمون بہت کم ہے بلکہ یہ کہا جا ئے کہ نہیں ہے تو بے جا نہ ہوگا۔خال خال دو تین مضامین اس بابت ہیں یا اردو ادب کی تاریخی کتابوں میں مقید ہیں۔اس  طرف تھوڑی بہت تفصیل ڈاکٹر جمیل جالبی نے اپنی تاریخ میں لکھی ہے۔جس کا چربہ ایک آدھ لوگوں نے اپنے مضمون میں اتارنے کی کوشش کی ہے۔جب کہ ہم سب بطور اردو کے طالب علم جانتے ہیں کہ کوئی بھی صنف تب تک زندہ رہتی ہے جب تک اس کے برتنے والے باقی رہتے ہیں۔ورنہ وہ صنف اپنی موت آپ مرکر تاریخی کتب کی نذر ہوجایا کرتی ہے۔اور پھر ماسوائے حسرت یاس کے اس صنف کے عالموں کو کچھ نہیں ملتا۔

 

حواشی و حوالہ

  1. تاریخ ادب اردو،ج ۱،جمیل جالبی، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی،ص86
  2. اردو کی ابتدائی نشو و نما میں صوفیائے کرام کا کام،مولوی عبد الحق، انجمن ترقی ہند،2019،ص63
  3. تاریخ ادب اردو،ج 1،جمیل جالبی،ص88
  4. اردو ادب کی تاریخ،ابتدا سے 1857تک، ڈاکٹر تبسم کاشمیری، سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور، 2003،ص60
  5.  تحفۃ الکرام،ج 1، 79 بحوالہ ٔتاریخ ادب اردو،ج 1،جمیل جالبی،ص89
  6. تاریخ ادب اردو،ج ۱،جمیل جالبی،ص90
  7. اردو کی ابتدائی نشو و نما میں صوفیائے کرام کا کام،مولوی عبد الحق، ص57-58
  8. مقالات حافظ محمود شیرانی، ج 1، مجلس ترقی ادب، لاہور 1987،  ص284
  9. جکری: ہئیت وماخذ  از ڈاکٹر حبیب نثار

Amir Muzaffar Bhat

Research Scholar, Dept of Urdu

Jamia Millia Islamia

New Delhi- 110025


2/8/23

اردو نثر کا ارتقاایک سرسری جائزہ: ارشاد سیانوی

ہندوستان کو زبانوں کا عجائب گھر کہا جاتا ہے۔ ہندوستان میں بولی جانے والی زبانوں میں اردو کو وہ مقبولیت حاصل ہے جو کم زبانوں کے حصے میں آتی ہے۔ سماج کا ہر فرد اردو زبان کی شیرینی کو پسند کرتا ہے یہی وجہ کے کہ آج اردو شاعری کو ہندومسلم سکھ عیسائی سب پسند کرتے ہیں۔ اردو میں لکھے گئے گانے ہوں یا نغمے، ترانے ہوں یا گیت سب کے دل جیت لیتے ہیں۔ اردو زبان ملک ہندوستان کے گوشے گوشے میں پسند کی جانے والی زبان ہے۔ اردو واحد ایسی زبان ہے جس نے دیگر کئی زبانوں مثلاً عربی، فارسی، سنسکرت وغیرہ سے اثر قبول کیا۔ جس طرح اردو شاعری کا آغاز دکن سے تسلیم کیا جاتا ہے اسی طرح اردو نثر کے اولین نمونے بھی ہمیں دکن میں نظر آتے ہیں۔ اردو نثر کو بنیاد فراہم کرنے والے صوفیاء کرام کی فہرست بھی طویل ہے۔

پندرھویں صدی سے اردو نثر کو ادبی حیثیت حاصل ہوئی۔ قدیم اردو کی تاریخ بہمنی سلطنت سے شروع ہوئی۔ دکن میں بہمنی سلطنت اردو ادب میں پہلی تخلیقی تجربہ گاہ تھی۔ بہمنی دور میں تصانیف و تالیف کا خوب کام ہوا۔ دکن کے پہلے نثر نگاروں میں خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اردو کے ابتدائی نثر نگاروں میں خواجہ بندہ نواز گیسو دراز، میراںجی شمس العشاق، برہان الدین جانم، فضل علی فضلی، میر محمد حسین عطا خاں تحسین، میرامن وغیرہ کے نام اہمیت کے حامل ہیں۔ بہمنی سلطنت حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز، شاہ میراں جی شمس العشاق وغیرہ صوفیوں کی سرگرمیوں کا مرکز تھی۔ یہاں ایسے تخلیق کار پیدا ہوئے جنھوں نے نثر اور نظم کے سدا بہار چمن کی خوبصورتی میں اضافہ کیا۔ خواجہ بندہ نواز گیسو دراز اوائل عمر میں دولت آباد آئے۔جب والد کا انتقال ہو اتو واپس دہلی چلے گئے اور حضرت نظام الدین اولیا کے مرید بن گئے۔ حضرت نظام الدین اولیا کے کہنے پر دکن گئے۔ خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کی تمام تصانیف مذہبی تھیں جو صوفیانہ خیالات کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے لکھی گئی تھیں۔ بہمنی دور میں حضرت خواجہ گیسو دراز کو وہ ادبی مقام حاصل تھا جو بہت کم ادبا وشعرا کے حصے میں آتا ہے۔ آپ نے دکن میں چشتیہ سلسلے کو آگے بڑھایا اور تصوف کے نئے دور کی شروعات کی۔ نئی تحقیق کی رو سے اگر دیکھا جائے تو اردو نثر کی پہلی تصنیف خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کی ’معراج العاشقین‘ ہے۔ حالانکہ آپ کی کئی دیگر تصانیف بھی ہیں جو قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں جیسے ہدایت نامہ، شکار نامہ تلاوۃ الوجود وغیرہ۔ کتاب ’معراج العاشقین‘ میں ہندی، عربی الفاظ کی آمیزش سے کچھ پے چیدگی محسوس ہوتی ہے۔ دکنی الفاظ کی بھر مار زیادہ ہے۔ اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ دکن نے ہمیشہ صوفیاء کرام کو قدر کی نگاہ سے دیکھا اور ان کا احترام کیا۔ خواجہ بندہ نواز کو جس احترام اور قدر کے ساتھ دیکھا جاتا ہے وہ ان ہی کا حق ہے۔ ان کی پہلی نثری کتاب ’معراج العاشقین‘ کی عبارت مشکل ضرور ہے لیکن قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ اس کتاب کی عبارت کا ایک نمونہ دیکھیے:

’’نبی کہے تحقیق خدا کے درمیان تے ستر ہزار پردے اوجیالے کے ہور اندھیارے کے اگر اس میں تے یک پردہ اٹھ جاوے تو اس کی آنچ تے میں جلوں۔ ہورایک وقت ایسا ہوتا ہے اور دیکھ بے پردہ اندھیارے کے اوجیالے کے عارفان پرہے واصلان پر پردے نورانی۔ دے وا صلان کا صفا پردہ ہوتا ہے۔‘‘  (معراج العاشقین(

خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کے پوتے سید محمد عبداللہ حسینی بھی اپنے عہد کے ممتاز نثر نگار تھے۔ آپ کی کئی تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں۔آپ اپنے زمانے کے بڑے صوفی بھی تھے۔ آپ نے اپنے مریدوں اور لوگوں کی ہدایت کے لیے شیخ عبدالقادر جیلانی کے رسالے ’نشاۃ العشق‘ کا دکنی (قدیم اردو) میں ترجمہ کیا۔

اسی زمانے میں یعنی پندرھویں صدی میں شاہ میراں جی شمس العشاق بھی ایک اہم صوفی گزرے ہیں جن کے مریدوں کی تعداد کافی تھی۔ آپ کی نثری تصانیف کے ساتھ ساتھ شعری تصانیف بھی منظر عام پر آئیں۔ عادل شاہی دور میں آپ کو پہلا نثر نگار قرار دیا گیا ہے۔ آپ کی نثری تصانیف ’جل ترنگ، گل باس، خوش نامہ، شہادت الحقیقت، شرح مرغوب القلوب وغیرہ میں تصوف کے مسائل ملتے ہیں۔ آپ ہندی زبان سے واقف نہیں تھے مگر نبیؐ کے فیضان سے آپ کو ہندی زبان پر دسترس ہو گئی۔ ان کی تصانیف اردو زبان و ادب کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوئیں۔

برہان الدین جانم نے بھی دکنی نثر و نظم میں کمال پیدا کیا۔ آپ نے اپنے والد سے علوم ظاہری و باطنی حاصل کیا۔ آپ نے اپنے والد کے مبارک کام کو آگے بڑھایا۔ ’کلمتہ الحقائق‘ اور ’ہشت مسائل‘ ان کی نثری تصانیف ہیں۔ ’کلمۃ الحقائق‘ میںسوال و جواب کی شکل میں تصوف کے مسائل بیان کیے گئے ہیں جو مکالمے کی شکل میں ملتے ہیں۔ اس رسالے میں برہان الدین جانم نے اپنے مریدوں کو بتایا کہ انسانی ذات وصفات خدا اور اس کے وجود کو کس طرح جان اور پہچان سکتے ہیں۔ ’کلمۃ الحقائق‘ کی عبارت کا یہ نمونہ ملاحظہ کیجیے:

سوال صحیح ولیکن اس کا بھی شاہد تو ںہوں۔

جوابنو توں شاہد نور تھا نہ کہ عقل۔

سوالشاہد گواہ دارواصل شاہد سوج عقل۔

جوابصحیح۔ وہ ہدایت قدیم مستقیم سویو فہم ہے اماعارف الوجود نھوے۔

سوال اصل نور کا حال اصل کے نو تاریخ کا یہ شناس کیوں چاکھنا؟

جواب اصل حال وہ کہ جس وقت تیراتج میں سماؤ۔

سوالتو میرا رہن کہاں بتاؤں ہورکہاں سماؤ ہورکہاں اُپاؤ۔

جوابتجھے قدرت میں سماؤ ہورقدرت میں اپاؤ۔

سوالپرچوکیوں؟

جواباپنا پرچیت اپس میں دیکھ۔ تمھیں بول پر پرچولیکھ۔

امین الدین اعلیٰ نے بھی تصوف کے عمدہ خیالات کو اپنی تصانیف میں پیش کیا ہے اور خاندان کی ادبی روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ آپ نے قادریہ اور اس کے بعد چشتیہ سلسلے میں بیعت حاصل کی۔ آپ کی کافی نثری تصانیف ہیں۔ شاعری کے مقابلے میں آپ کا نثری کلام زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ خاندانی روایت کے پیش نظر آپ نے تصوف کے گہرے خیالات کو نثری تصانیف میں اُجاگر کیا اور اپنی صلاحیتوں سے اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے فضا تیار کی۔ آپ کی نثر میں فارسی کا اثر زیادہ ہے۔ امین الدین اعلیٰ کا اسلوب سادہ اور سلیس ہے، انھیں مربوط نثر لکھنے کا سلیقہ معلوم تھا۔ یہ تہذیبی روایات سے بہت قریب نظر آتے ہیں۔ نثر میں لکھے رسالے ’گفتار شاہ امین‘ اور ’ گنج مخفی‘ کا موضوع بھی تصوف ہے۔ ’گفتار امین الدین‘ میں اللہ تبارک و تعالیٰ اور نبی اکرمؐ کے تعلق سے تشریحات ملتی ہیں۔ جو ان کے مریدوں کے لیے تسکین کا سامان فراہم کرتی ہیں۔رسالہ ’کلمۃ الاسرار‘ شاہ امین الدین کا طویل نثری کارنامہ ہے۔ جس میں اصطلاحات تصوف بہت ہیں۔ اس رسالے کے علاوہ بھی کئی رسالوں کا پتہ چلتا ہے۔ مگر ان رسالوں کے مصنّفین کے بارے میں یقین کے ساتھ کوئی فیصلہ کرنا دشوار ہے۔ مگر بعض مشاہیر ادب ان رسائل کو اسی عہد کی تصانیف قرار دیتے ہیں۔ نصیر الدین ہاشمی لکھتے ہیں:

’’آپ نے نثر میں بھی چند رسالے لکھے ہیں۔ ایک کا نام رسالہ ’گفتار شاہ امین‘ ہے اور دوسرے کا نام ’گنج مخفی‘ ہے۔ ان کا موضوع بھی تصوف ہے۔

انجمن ترقی اردو وغیرہ کے کتب خانے میں اس کے مخطوطات موجود ہیں۔ عبارت کا نمونہ پیش ہے۔

 ’’اللہ تعا لیٰ گنج مخفی کوں عیاں کرنا چاہا تو اول اس میں سوں ایک نظر نکلی۔ سوا س سے امین دیکھ ہوا۔ اس سے شاہدکہتے ہیں۔ یو دونوں ذات کے دوطور ہیں۔

اس عہد کے دو اور رسالوں کا پتہ چلا ہے جو نثر میں ہیں۔ لیکن ان کے مصنف کا نام معلوم نہیں ہوتا مگر مخطوطہ کی اندرونی شہادتوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اسی زمانہ کی تالیف ہیں۔‘‘

)دکن میں اردو، نصیرالدین ہاشمی، ص257,58، NCPUL نئی دہلی 1985(

شمال میں نثری تصانیف میںفضلی کی ’دہ مجلس‘ بھی اہم تصنیف ہے، جو فارسی ’روضتہ الشہدا‘ کا ترجمہ ہے۔ یہ ایک مذہبی کتاب ہے۔ ’دہ مجلس‘ میں بارہ مجلسیں ہیں۔یہ اس عہد کی ایک عمدہ کتاب ہے مگر جملے پے چیدہ اور مقفیٰ ہیں۔

بہمنی سلطنت کے زوال کے بعد دکن کے بادشاہوں نے نثر و نظم کو کافی فروغ دیا۔ عادل شاہی خاندان نے 1490 میں بیجاپور میں اپنی حکومت قائم کی۔اس عادل شاہی حکومت میں کل آٹھ بادشاہ ہوئے جن میں تین بادشاہوں نے اردو زبان و ادب کی خوب خدمت کی۔ ابراہیم عادل شاہ ثانی، محمد عادل شاہ اور علی عادل شاہ ثانی کا عہد قابل ذکر ہے۔ عادل شاہ خاندان کے بادشاہوں نے اردو کو کافی فروغ دیا۔ ابراہیم عادل شاہ خود بھی شاعر تھے۔ گولکنڈہ کے قطب شاہی خاندان نے 1508 میں اپنی خود مختار حکومت میں اردو کے فروغ کے لیے بھر پور کوششیں کی۔ عادل شاہی خاندان کی طرح قطب شاہی خاندان میں بھی آٹھ بادشاہ ہوئے جن میں چار بادشاہ اردو شعر وادب میں دلچسپی لیتے تھے۔ گولکنڈہ کا پانچواں بادشاہ محمد قلی قطب شاہ 1580 میں تخت پر بیٹھا۔ اسے اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر کہا جاتا ہے۔ محمد قلی قطب شاہ کے عہد میں ملا وجہی نہایت معروف شاعر اور نثر نگار گزرا ہے۔

ملا وجہی کا اصل نام اسد اللہ اور تخلص وجہی تھا۔ ملا وجہی نے قطب شاہی دور کے چار بادشاہوں یعنی ابراہیم قطب شاہ، سلطان محمد قطب شاہ، محمد قطب شاہ اور سلطان عبداللہ کا زمانہ دیکھا تھا۔ اس سے اندازہ ہوا کہ ملا وجہی نے طویل عمر پائی تھی۔ اسی دور میں ملا وجہی کی ’سب رس‘ منظر عام پر آئی جس کا قصہ نہایت دلکش اور زبان سادہ وسلیس ہے۔ یہ اردو کی پہلی داستان ہے جو ملا وجہی نے عبداللہ قطب شاہ کی فرمائش پر 1635 میں لکھی جو تصوف کی اچھی کتابوں میں سے ایک ہے۔ یہ عشقیہ اور تمثیلی داستان دکنی زبان میں لکھی گئی۔ یہ ایک فرضی قصہ ہے مگر اس میں انسانی جذبات و احساسات کی سچی ترجمانی ملتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا شگفتہ اسلوب ہے۔ عبارت مقفی مسجع ہے لیکن سلاست اور سادگی ہی اس کی خاصیت ہے۔ ’سب رس‘ کے بعد اسرار توحید بھی اہم تصنیف ہے۔ اس کے علاوہ ’تاج الحقائق‘ بھی ملا وجہی کی اہم تصنیف ہے۔ ’تاج الحقائق‘ کا تذکرہ مولانا عبدالحق نے کیا ہے جو تصوف اور نثر پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کی عبارت پیش نظر ہے:

’’عشق خداکوں بھید یا تو اس کی خاطر آسمان زمین ہو یدا کیا۔ عشق خدا کوں بھیدیا۔ تو اپنا حبیب کرمحمدؐ کوں پیدا کیا اگر محمد ؐ ناہوتا تو آسمان زمین ناہوتا اگر محمدؐ نہ ہوتا تو ماہ پیردیں نہ ہوتا، اگر محمد ؐ نہ ہوتا تو دنیا ہوردیں نا ہوتا۔ صاحب طہٰ ویٰسین صاحب رحمتہ العالمین جس کے نور تے عالم نے پایا۔ ‘‘

شمالی ہند میں فضلی کی ’کربل کتھا‘ بھی کافی مقبول ہوئی۔ شمالی ہند کی یہ پہلی تصنیف ہے جو قدیم وجدید اردو نثر کے درمیان کڑی تسلیم کی جاتی ہے۔ 1875 میں عطا حسین خاں تحسین نے ’نوطرز مرصع‘ تحریر کی جو فارسی قصہ ’چہار درویش‘ پر لکھی گئی ہے۔ اس کتاب کی عبارت بھی رنگین اور مقفی نظر آتی ہے۔ اسے اردو کی عمدہ کتاب تسلیم کیا جاتا ہے، جس میں فارسی جملوں کی بھر مار ہے۔ جو ملا حسین واعظ کاشفی کی کتاب ’ روضتہ الشہدا‘ کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں واقعہ کربلا اور حضرت امام حسین کی شہادت کو منفرد انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ’نوآئین ہندی‘بھی شمالی ہند میں لکھی جانے والی ایک اہم داستان ہے جس کے مصنف مہر چند ہیں۔

اردونثر کے فروغ میں فورٹ ولیم کالج کی خدمات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ڈاکٹر جان گلکرسٹ اسی کالج کے سربراہ تھے۔ فورٹ ولیم کالج میں ترجمے کا بڑا کام کیا گیا۔ اردو زبان و ادب کی بڑی خدمات انجام دینے والے اس کالج کا مقصد انگریزوں کو یہاں کی زبان اور تہذیب و تمدن سے روشناس کرانا تھا۔ جدید اردو ادب کی خدمات میں اس کالج کا بڑا ہاتھ ہے۔ آرائش محفل، طوطا کہانی، لیلیٰ مجنوں، باغ وبہار، قصہ مہر افروز و دلبر وغیرہ اس کالج سے شائع ہونے والی تصانیف ہیں مگر اس کالج کی تصانیف میں جو مقام و مرتبہ میرامن کی ’باغ وبہار‘ کو حاصل ہے وہ کسی اور کو حاصل نہیں۔ مجموعی طور سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اردو نثر کے ارتقا میں خواجہ بندہ نواز گیسو دراز سے لے کراردو نثر کا سفر سید محمد عبداللہ، میراں جی شمس العشاق، برہان الدین جانم، امین الدین اعلیٰ، فضل علی فضلی، ملاوجہی سے گزرتا ہوا فورٹ ولیم کالج تک پہنچا تواس کالج سے ایسے ادیب اور ترجمہ نگار پیدا ہوئے جنھوں نے بہت سی کتابوں کے ترجمے عربی اور فارسی سے اردو کی سادہ نثر میں کیے اور اردو نثر کو وقار عطا کیا۔ جدید اردو نثر کی بنیاد میں اس کالج کا اہم رول رہا۔ فورٹ ولیم کالج میں جتنی بھی تصانیف منظر عام پر آئیں ان پر فارسی کا اثر رہا۔ اس لیے زیادہ تر تصانیف میں سادگی اور سلاست کی کمی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ میرامن دہلوی کی باغ و بہار میں سادگی اورسلاست نظر آتی ہے مگر اس داستان کو چھوڑ کر دیگر تخلیقات میں سادگی کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

Irshad Sayanvi

Dept of Urdu

Chaudhary Charan Singh University,

Ramgarhi

Meerut- 250001 (UP)

1/8/23

نیر مسعود کی غیرافسانوی خدمت: مہ جبیں خاں

نیر مسعود اردو ادب میں ایک کثیر الجہات شخصیت کے مالک ہیں۔ان کے علمی و ادبی کارنامے مختلف النوع ہیں۔ ان کا شمار جہاں اردو کے صف اول کے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے وہیں اردو کے غیر افسانوی ادب یعنی تحقیق، تنقید،تدوین،خاکہ نگاری اور ترجمہ نگاری کے میدان میں بھی وہ نمایاں اور ممتازحیثیت رکھتے ہیں۔ بالخصوص جن دو مختلف و متضاد میدانوں میں انھوں نے کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں وہ ان کی افسانہ نویسی اور تحقیقی و تنقیدی کارنامے ہیں۔ان کی شخصیت کے ان دونوں پہلوؤں میں کون سا پہلو زیادہ اہم ہے یہ طے کرنا مشکل ہے۔ ایک طرف ان کی افسانہ نگاری کے اعتراف میںانھیں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا جا چکاہے اور دوسری طرف ان کے تحقیقی کارنامے ’رجب علی بیگ سرور۔حیات اور کارنامے‘کے لیے میر اکادمی انھیں اعزاز سے سرفراز کر چکی ہے۔چنانچہ اپنے تخلیقی سفر اور ادبی حیثیتوں کی وضاحت نیر مسعود نے درج ذیل الفاظ میں کی ہے

’’اصل میں میرے دو ہی میدان رہے ہیںـتحقیق اور افسانہ۔بعض لوگ غالباً اس کو متضاد سمجھتے ہیںمگر یہ ہیں نہیں،یہ دونوں اصناف ادب ہیں اگر دو بالکل الگ قسم کی چیزوں میںانسان کو دلچسپی ہو سکتی ہے جیسے مرغی پالنے اور افسانے لکھنے سے تو پھر اصناف ادب سے کیوں نہیں ہو سکتی۔افسانے کے قاری بہت ہیں تحقیق کم لوگ پڑھتے ہیں۔لہٰذا اس حوالے سے لوگ زیادہ مانتے ہیں تعارف میں ضمناً لوگ لکھتے ہیں کہ تحقیق کا کام بھی کرتا ہوں ابھی افسانوں کی دو کتابوں کا ترجمہ ہوا ہے ظاہر ہے کہ حیات انیس یا معرکہ انیس و دبیر کا ترجمہ کوئی نہیں کرے گامگر میں نے افسانے کے مقابلے میں دس گنا زیادہ تحقیق پر کام کیا ہے اس کی میں نے پرواہ نہیں کی کہ افسانے سے زیادہ فائدہ شہرت اور مقبولیت ملی۔‘‘1

 نیر مسعودکی ولادت 16؍ نومبر 1936 کو لکھنؤ میں ہوئی صغرسنی سے ہی انھیں مطالعے کا بہت شوق تھا۔ان کے گھر میں ادبی کتابوں کا ذخیرہ موجود تھااس لیے فطری طور پر ادبی کتابیںپڑھنے کا شوق پیدا ہو گیا۔ یہ کتابیں زیادہ تر ریسرچ کی اور اودھ کی تاریخ یا تنقید کی تھیں۔نیر مسعود کے والدسید مسعود حسن رضوی ادیب لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبۂ فارسی میں پروفیسر تھے اور ان کی خصوصی دلچسپی تحقیق و تنقید جیسے موضوعات سے تھی اور اکثر کتابیں اسی قسم کی ان کے گھر میں موجود تھیں۔چنانچہ نیر مسعود پانچ سال کی عمر میں محمد حسین آزاد کی ’آب حیات‘جیسی ضخیم کتاب ہجے کے ساتھ پڑھ چکے تھے اور دس سال کی عمر تک آتے آتے’دربار اکبری‘اور اسی قسم کی کئی دوسری ضخیم کتابیں پڑھ چکے تھے۔ 2

نیر مسعود نے اپنی علمی و ادبی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز اپنے تحقیقی کارنامے ’رجب علی سرور حیات اور کارنامے‘ سے کیا۔ اردو میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد 1965  میں ان کے تحقیقی مقالے’رجب علی بیگ سرور اور ان کے قلمی آثار‘ کے کچھ حصے الہ آباد یونیورسٹی میگزین کی طرف سے شائع کیے گئے۔ بعد میں 1967 میں یہی مقالہ’رجب علی بیگ سرورحیات و خدمات‘کے عنوان سے کتابی صورت میں منظر عام پر آیا۔3  بلا شبہ رجب علی بیگ سرور اردو کے ان زندہ جاوید ادیبوں میں شامل ہیںجنھیں تاریخ کبھی فراموش نہیں کر پائے گی اور ان کی اس شہرت اور مقبولیت کی اصل وجہ فسانۂ عجائب ہے۔ لیکن قارئین کے حلقے نے فسانۂ عجائب کو جس قدر پڑھا اور پسند کیا اس کے مصنف پر خاطر خواہ توجہ نہیں کی۔یہی وجہ ہے کہ فسانہ عجائب کی اتنی مقبولیت کے باوجود سرور پر تحقیقی کام کم وجود میں آیا بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ نیر مسعود کے کارنامے ’رجب علی بیگ سرور حیات اور کارنامے‘ سے پہلے اردو ادب میں سرور پر کوئی مکمل کتاب موجود نہیں تھی اور یہ بات بھی کہنے کی گنجائش ہے کہ نیر مسعود کے بعد بھی سرور سے متعلق کارناموں میں کوئی اہم اضافہ سامنے نہیں آیا ہے اس لحاظ سے سرور کی سوانح اور تصانیف سے متعلق اب تک کا سب سے جامع اور مکمل کارنامہ نیر مسعود کا ہے۔سرور پر تحقیقی کام کرنے والے تقریباً تمام محققین نے اپنی تصانیف میں نیر مسعود سے استفادہ کیا ہے اور ان کی پیش کردہ شہادتوں اورحوالوں کو مستندو معتبر تسلیم کیاہے۔نیر مسعود سے رجوع کرنے والے محققین میں اردو کے نامور محقق رشید حسن خاں، ڈاکٹر جمیل جالبی،ڈاکٹر گیان چند،پروفیسر حنیف نقوی، ڈاکٹر سید سلیمان اور پروفیسر ابن کنول وغیرہ کے نام خصوصاً قابل ذکر ہیں۔

نیر مسعودنے تحقیق کے تمام اصولوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے نہایت دیدہ ریزی اور ژرف نگاہی کے ساتھ سرور کی زندگی کے بکھرے ہوئے اوراق کو اپنی اس کتاب میں یکجا کر دیا ہے جس سے سرور اور ان کے احوال و آثار سے متعلق بہت سی مبہم باتیں مترشح اور واضح صورت میں ہمارے سامنے آ گئی ہیں۔ نیر مسعود کی شخصیت کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنی تحقیق میں مستند حوالہ جات اور شہادتوںکے بغیر کسی بات کا حتمی تعین نہیں کرتے، کتاب ’رجب علی بیگ سرور حیات اور کارنامے‘ کے آخر میں شامل تتمہ اس بات کا ثبوت ہے جس میں سرور سے متعلق ایسے نکات زیر بحث لائے گئے ہیں جن پر ابھی مزید تحقیق درکار ہے۔سرور سے متعلق تحقیقی بحث حنیف نقوی کی تحریروں میں بھی ملتی ہے۔اس ضمن میں ان کی کتاب ’رجب علی بیگ سرور۔چند تحقیقی مباحث‘(1991)  اہمیت کی حامل ہے۔ 4

یہ بحث ہمیںنیر مسعود اور حنیف نقوی کے کچھ غیر مطبوعہ خطوط میں بھی ملتی ہے۔استاد محترم پروفیسر ظفر احمد صدیقی کی عنایت سے راقمہ کو اپنے تحقیقی مقالے پرکام کرنے کے دوران ان غیر مطبوعہ خطوط کا مطالعہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ان خطوط میں نیر مسعو دنے سرور سے متعلق حنیف نقوی کی تحقیق کو نہ صرف قبول کیا ہے بلکہ ان کی تحقیق کو داد و تحسین کا مستحق بھی قرار دیا ہے۔علاوہ ازیںنیر مسعود نے ان خطوط میں اپنی اس خواہش کا اظہار بھی کیا ہے کہ وہ ’رجب علی بیگ سرور۔حیات اور کارنامے‘کی اشاعت ثانی میں حنیف نقوی کی تحقیق کو بطور ضمیمہ شامل کرنا چاہتے ہیں۔نیر مسعود کی یہ تحریریں نہ صرف تحقیق میں ان کی دیانت داری اور غیر جانب داری کا ثبوت پیش کرتی ہیں بلکہ ان کی بے مثال شخصیت اور اعلیٰ ظرفی کی آئینہ دار بھی ہیں۔اس بات کا ذکر بھی یہاں ناگزیر معلوم ہوتا ہے کہ بعض ضمنی اختلافات سے قطع نظر حنیف نقوی نے نیر مسعود کی تحقیق کو معتبر اور مستندتسلیم کیا ہے اور نیر مسعود کو ’ماہر سروریات‘قرار دیا ہے۔علاوہ ازیں سرور سے متعلق اپنے دیگر تحقیقی کارناموں(تصانیف سرور اورمقدمۂ کلام سرور)میں بھی حنیف نقوی نے بارہا نیر مسعود سے رجوع کیا ہے۔

تحقیق کے میدان میں نیر مسعود کا دوسرا بڑا اور اہم کارنامہ’ انیس۔ سوانح‘ہے۔ ان کی یہ معرکہ آرا تصنیف 2002  میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،نئی دہلی سے اشاعت پذیر ہوئی۔انیس کی سوانح اور عہد پر یہ ایک مکمل اور جامع کتاب ہے۔نیر مسعود کی خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے لکھنؤ اوررثائی ادب سے وابستہ ادبا و شعرا کے حالات زندگی کو خاص طور پر اپنی توجہ کا مرکز بنایا ہے اور ان سے متعلق تمام تفصیلات کو مکمل اور جامع تحقیقی کارناموں کی شکل میں پیش کیا ہے۔نیر مسعود کی زیر بحث کتا ب ’انیس۔سوانح‘ اسی سلسلے کی ایک کڑی کہی جا سکتی ہے۔ ’انیس۔سوانح‘ میر انیس کی حیات اور شخصیت سے متعلق نیر مسعود کا لاثانی کارنامہ ہے۔راقمہ کی تحقیق کے مطابق انیس صدی کمیٹی نے نیر مسعودسے پہلے ان کے والد مرحوم سید مسعود حسن رضوی ادیب سے اس کام کو کرنے کی فرمائش کی تھی لیکن نومبر 1975 میں ادیب کی وفات ہوجانے کے سبب نیر مسعودسے اس کام کے لیے رجوع کیا گیا۔5  انھوں نے اسی زمانے سے اس کام کا آغاز کر دیا تھا جس کی تکمیل 2000 کے وسط میں ہوئی۔اس طویل عرصے پر اگر غور کیا جائے تو نیر مسعود نے انیس کی حیات و شخصیت پر اس کام کو تقریبا25 سال کے عرصے میں مکمل کیا۔جتنی تعداد میں مآخذ اور حوالے اس کتاب میں پیش کیے گئے ہیں انھیں یکجا کرنا آسان کام ہرگز نہ تھا۔کیوں کہ یہ تمام حوالہ جات اور شواہد اپنی نوعیت کے اعتبار سے بنیادی مآخذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔نیر مسعود کا یہ کارنامہ غیر معمولی ہے کہ انھوں نے انیس کی زندگی کے کسی بھی پہلو کو تشنہ نہیں چھوڑا ہے اور چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی تحقیقی تفصیلات کے ساتھ بیان کیا ہے۔

نیر مسعود کی یہ کتاب اس لحاظ سے بھی اردو ادب میں اولیت کا درجہ رکھتی ہے کہ اس میں پہلی بار انیس کی ادبی شخصیت و شاعری کے تشکیلی مراحل کو زمانے اور سنہ کے ساتھ دریافت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔نیر مسعود نے کوئی بھی بات یا واقعہ صرف اپنی معلومات کی بنیاد پر نہیں لکھا ہے بلکہ اس واقعے سے متعلق جتنے بھی حوالے مل سکتے تھے انھیں تحریر کرنے کے بعد کوئی نتیجہ اخذ کیا ہے۔ خواہ وہ انیس کا سنہ پیدائش ہو،ان کے اساتذہ سے متعلق تفصیلات ہوں،شعر گوئی کا آغاز ہو یا ان کے نام یا نام کے ساتھ میر و سید کے لاحقے ہوں ان کی تصدیق کے لیے نیر مسعود نے خاندان انیس کے مکتوبات،نکاح ناموں تک سے سندیں فراہم کی ہیں۔انیس کی مجموعی ہیئت،مجالس انیس کی تصویر کشی،سامعین کا مجمع،معرکۂ انیس و دبیر ان تمام موضوعات پر نیر مسعود نے جس مدلل انداز میں بحث کی ہے وہ ان کے وسعت مطالعہ کا واضح ثبوت ہے۔ جہاں کہیں بھی انھیں اشتباہ کی گنجائش نظر آتی ہے وہ کسی حتمی فیصلے سے احتراز کرتے ہیں اور تحقیقی احتیاط کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں۔کتاب کو ابتدا سے اختتام تک پڑھنے کے بعد انیس کی شخصیت کا ایک جیتا جاگتا مرقع قارئین کے سامنے آ جاتا ہے۔انیس کا رعب داب،ان کی نازک مزاجی،ان کے لطیفے اور ان کا حس مزاح ایسے موضوعات ہیں جو انیس کی مکمل شخصیت کو قارئین کے روبرو لا کھڑا کرتے ہیں۔انیس کی مجالس سے متعلق بیانات جس پر اثر انداز میں بیان کیے گئے ہیںقاری کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی ان مجالس کا حصہ ہیں۔نیر مسعود کی کتاب سے پہلے میر انیس کی جو سوانح لکھی گئیںوہ عام طور پر نصابی ضرورتوں کے تحت لکھی گئیںوہ انیس کی شخصیت کے بارے میں بعض ضروری معلومات تو فراہم کرتی ہیںلیکن اس عہد کے حالات اور تہذیب و ثقافت کو پیش نہیں کرتیں جس میں میر انیس اور مرزا دبیر سانس لے رہے تھے۔اس عہد کا لکھنؤ کیا تھااس وقت کی معاشی اور تہذیبی صور ت حال کیا تھی۔انتزاع سلطنت اودھ کا کیا اثرامرا،شرفا اور شعرا پر پڑا،انیسیے اور دبیریے کی سماجی نوعیت کیا تھی ایسے بہت سے سوال ہیں جن کا جواب میر انیس پر لکھی جانے والی عام کتابوں میں نہیں ملتا۔نیر مسعود نے اس کتاب میں حیات انیس اور اس کے ذیلی متعلقات کو جس جامع انداز میں پیش کیا ہے وہ اپنی نظیر آپ ہے۔نیر مسعود کی کتاب’ ’انیس سوانح‘‘ نہ صرف تحقیق کے تمام تقاضوں پر پوری اترتی ہے بلکہ تحقیق پر کام کرنے والوں کے لیے ایک مشعلِ راہ بھی ہے جو یہ بتاتی ہے کہ تحقیق کو SystematicاورScientific طریقۂ کار کے ساتھ کس طرح کرنا چاہیے۔

تحقیق سے متعلق نیر مسعود کے دو اہم کارنامے ’مرثیہ خوانی کا فن‘(1990) اور’معرکۂ انیس و دبیر‘ (2000) ان کے مذکورہ معرکتہ الآرا کارنامے ’انیس سوانح‘کے ہی حصے ہیں۔چونکہ یہ سنجیدہ اور وسیع موضوعات تھے اور ان میں مفصل تحقیقی بحث و مباحثے شامل تھے،جس کی وجہ سے اصل کتاب ’انیس‘ کے سوانحی حصے کا توازن بگڑ رہا تھا اس لیے نیر مسعودنے ان ابواب کو ’انیس سوانح‘سے ہٹا کر علاحدہ کتابی صورت میں شائع کرنا مناسب سمجھا۔6  یہ دونوں کتابیں اصل کتاب ’انیس‘ سے پہلے منظر عام پر آئیں۔

مرثیہ خوانی کا فن‘ پہلی مرتبہ1990 میںمغربی پاکستان اردو اکادمی،لاہور سے شائع ہوئی بعد میں اس کی اشاعت ثانی 2005میں آج کی کتابیں،کے زیر اہتمام، سٹی بک پریس شاپ،کراچی سے ہوئی۔تحت الفظ مرثیہ خوانی کے فن پر لکھی جانے والی یہ پہلی مبسوط اور جامع کتاب ہے۔اس کتاب میں نیر مسعود نے فن مرثیہ خوانی کے  ابتدائی خد و خال اورتشکیلی عناصر سے لے کر اس کے عروج و زوال تک کی داستان تحقیقی حقائق کی روشنی میں بیان کی ہے۔نیر مسعود کا یہ کارنامہ اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ مرثیہ خوانی کے فن کے ساتھ نہ صرف تاریخ ِ ادب بلکہ ایک مکمل تہذیب وابستہ ہے۔مرثیہ خواں کا لباس،اس کا منبر پر آنا،سامعین کا مجمع،خواندگی کے دوران مرثیہ خواں کے حرکات و سکنات اور اس کا طرز خواندگی یہ تمام باتیں ایک مکمل تہذیب کی عکاسی کرتی ہیں باوجود اس کے مرثیہ خوانی کے اصول و قواعد پر اردوکے سرمایہ ٔ ادب میں اب تک کوئی مکمل اور مربوط کتاب موجود نہیں تھی۔اس سمت میں پہلا اہم کارنامہ نیرمسعود کا ہے۔ انھوں نے اس کمی کا احساس کرتے ہوئے اس موضوع کو اپنی غور و فکر کا مرکز بنایا اوراپنی کتاب ’مرثیہ خوانی کا فن‘ میں مرثیہ گوئی کی صنفی حیثیت سے صرف نظر کرتے ہوئے مجالس میں اس کی خواندگی کے اصول و قواعد سے ہمیں روشناس کرانے کا گراں قدر کارنامہ انجام دیا۔مرثیہ خوانی سے متعلق نیر مسعود نے جو تحقیقی و تنقیدی بحث کی ہے ا س سے ان کی رثائی ادب سے گہری دلچسپی و وسعت معلومات کا اندازہ ہوتا ہے۔اور اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ یہ صنف مرثیہ سے متعلق ایک بے حد اہم پہلو تھا جسے ہمارے ناقدین نے اپنی توجہ سے محروم رکھا۔نیر مسعود کا یہ کارنامہ نا قابل فراموش ہے کہ انھوں نے مرثیہ سے وابستہ ایک عظیم فن کی بازیافت کی اور اس کے اصول و قواعد کا تعین کیا۔

معرکۂ انیس و دبیر‘ محمدی ایجوکیشن،کراچی سے 2000 میں شائع ہوئی۔معرکۂ انیس و دبیر کا نام آتے ہی ہمارا ذہن شبلی کی’ موازنۂ انیس و دبیر‘(1907) کی طرف لازماً منتقل ہو جاتا ہے اور ہم یہ قیاس کرنے لگتے ہیں کہ شبلی کی طرح نیر مسعود نے بھی کلام انیس و دبیر کا فنی موازنہ و مقابلہ پیش کیا ہوگا۔ لیکن اس کتاب کا باقاعدہ مطالعہ کرنے کے بعدیہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نیر مسعود نے موازنے اور مقابلے سے ہٹ کر ایک الگ راہ کا سفر طے کیا ہے انھوں نے اس کتاب میںدونوں عظیم مرثیہ نگاروں کی معرکہ آرائی کے جملہ سماجی و تہذیبی پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے جو اس معرکے کے اصل محرک تھے۔7یہ کتاب اس لحاظ سے منفرد ہے کہ نیر مسعود نے انیس و دبیر کے کردار و شخصیت کے موازنے کو معرکے کا نام دیتے ہوئے تقابلی کارروائی سے گریز کیا ہے۔ انھوں نے تمام شواہد و حوالوں سے ان دونوں شخصیتوں کے کردار و عادات و خصائل قارئین کے سامنے آئینے کی طرح پیش کر دیے ہیں۔ نیر مسعود کا یہ کارنامہ نہ صرف تحقیق کے معیار پر پورا اترتا ہے بلکہ ان کے معتدل و متوازن انداز تنقیدکا بھی عمدہ نمونہ پیش کرتا ہے۔

میر انیس‘’انیس سوانح‘کے سلسلے کی آخری کڑی ہے۔ یہ دراصل نیر مسعودکی ضخیم کتاب’انیس سوانح‘ کی تلخیص ہے۔اس میں تحقیقی مباحث،حوالوں اور ماخذوں کی تفصیل وغیرہ حذف کر کے اختصار کے ساتھ صرف سوانح انیس کو برقرار رکھا گیا ہے۔اس کتاب کا مقصد آئندہ نسلوں کو اردو زبان و ادب کے بنیاد گزاروں کی علمی،ادبی و لسانی خدمات سے آگاہی اور واقفیت حاصل کرانا ہے۔

لکھنویات سے متعلق نیر مسعودکا ایک اور مستند کارنامہ ’یگانہ احوال و آثار‘ ہے۔یہ کتاب 1990 میں انجمن ترقی اردو (ہند )نئی دہلی سے شائع ہوئی۔اپنی ضخامت کے اعتبار سے نیر مسعود کا یہ مختصر کارنامہ موضوع اورمواد کے لحاظ سے بے حد اہم ہے۔اس کتاب میں نیر مسعود نے یگانہ کی شخصیت،فن اور ان کے ادبی معرکوں سے متعلق سات مضامین شامل کیے ہیں۔ان مضامین میں نیر مسعود نے نہایت معقول اور مدلل انداز میں یگانہ کی ذہنی کجروی اور پیچیدہ نفسیاتی شخصیت کا جائزہ لیا ہے۔ دراصل یگانہ نے اپنی زندگی کے مشکل ترین دور میں ایک عرصے تک نیر مسعودکی رہائش گاہ ’ادبستان ‘میں ان کے والد مسعود حسن رضوی ادیب کے ساتھ قیام کیا تھا۔ 7 چنانچہ نیر مسعود کے لیے یگانہ سے متعلق معلومات کا سب سے معتبر اور بنیادی ماخذ ادیب کی ذات تھی۔ 8 علاوہ ازیں خود نیر مسعود نے یگانہ کی زندگی کے آخری چند برس بہت قریب سے دیکھے تھے لہٰذا نیر مسعود بہ ذات خود ایک بنیادی اور معتبر ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔نیر مسعود کو یگانہ سے متعلق مثبت اور منفی دونوںپہلوؤں کا علم تھا۔اوراس کتاب میں  انھوں نے یگانہ کے تعلق سے بعض ایسے حقائق بھی بیان کیے ہیں جن کا تذکرہ دیگرمحققین و ناقدین کے یہاں ناپید ہے۔علاوہ ازیںنیر مسعود نے یگانہ کی نفسیاتی پیچیدگیوں کو بھی ضبط تحریر میں لانے کی کوشش کی ہے اور نہایت غیر جانب داری کے ساتھ ان کی شخصیت اور فن کا جائزہ لیتے ہوئے ادب کے قارئین کے لیے یگانہ شناسی کی راہیں استوار کی ہیں۔

یگانہ احوال و آثار‘میں یگانہ کی پیچیدہ اور نفسیاتی شخصیت سے متعلق تمام حقائق کو نیر مسعود نے جس معروضیت، منطقیت اور دقیقہ رسی کے ساتھ پیش کیا ہے وہ تحقیق کی ایک عمدہ مثال ہے۔نیر مسعود کی یہ کتاب چند متفرق مضامین پر مبنی ہونے کے باوجود یگانہ کی زندگی کے بیشتر اہم پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔ اس کتاب کے ذریعے نیر مسعودنے اپنے پیش روؤں کے لیے یگانہ شناسی کی راہیں استوار کر دی ہیں۔اس کی عمدہ مثال مشفق خواجہ کے مرتبہ ’کلیات یگانہ‘سے دی جا سکتی ہے جس میں انھوں نے مقدمے میں نیر مسعود کے بیانات کو بنیادی حوالے کے طور پر برتا ہے۔  چنانچہ ’یگانہ احوال و آثار‘ یگانہ کی سوانح بھی ہے اور یگانہ کی تحریروں کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ بھی۔نیر مسعود کی یہ تحقیقی تصنیف یگانہ شناسی کی سمت میں ایک اہم اور معتبر کارنامہ ہے۔

تحقیق کے ساتھ ساتھ نیر مسعود کو تدوین سے بھی گہری دلچسپی ہے۔انھوں نے کئی پارینہ نسخوں اور مخطوطوں کو تحقیق و تدوین کے اصولوں کے مطابق مرتب کرنے کا مستحسن فریضہ انجام دیا ہے۔اس سلسلے میں ان کے کارنامے دولہا صاحب عروج(1980) اور شفاء الدولہ کی سرگزشت (1990) تحقیق اور تدوین دونوں اصناف پر مبنی ہیں۔

جیسا کہ گزشتہ صفحات میں عرض کیا جا چکا ہے کہ رثائی ادب،انیس اور متعلقین انیس نیر مسعود کے دلچسپ تحقیقی موضوعات ہیں۔ان موضوعات پر نیر مسعود نے خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔نیر مسعود کی کتاب’دولہا صاحب عروج‘ (1980) اس سلسلے کی اولین کڑی کہی جا سکتی ہے۔ 1980  میں انھوں نے انیس کے پوتے اور لکھنؤ کے آخری باکمال مرثیہ خواں’خورشید حسن عرف دولہا صاحب عروج‘ کی سوانح عمری کو مرتب کرکے ’اردو پبلشرز،لکھنؤ‘سے شائع کروایا۔بعد میں اس سلسلے کومرثیہ خوانی کا فن، موازنۂ انیس و دبیر، انیس سوانح اور’ میر انیس‘ جیسی معرکہ آرا کتابوں نے آگے بڑھایا ہے۔ موضوع کے اعتبار سے نیر مسعود کا یہ کارنامہ بے حد اہم ہے کیوں کہ دولہا صاحب عروج کی سوانح و شخصیت سے واقفیت کے لیے یہ کتاب ایک بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔9

سید خورشید حسن عرف دولہا صاحب عروج میر انیس کے جانشیں،پوتے اور خاندان انیس کے آخری با کمال مرثیہ خواں تھے۔ان کے بعد لکھنؤ میں مرثیہ خوانی کے میدان میں کوئی قابل ذکر نام سامنے نہیں آیا۔چنانچہ اس کی اشد ضرورت تھی کہ دولہاصاحب جیسی بلند مرتبہ شخصیت پر تحقیقی حوالہ جات کی روشنی میں گفتگو کی جائے۔ نیر مسعود کا یہ کارنامہ قابل قدرہے کہ انھوں نے خاندان انیس اور صنف مرثیہ کی آخری وراثت کے بکھرے ہوئے اوراق کو یکجا کرکے تاریخ ادب میں محفوظ کرنے کی کوشش کی۔

تحقیق و تدوین سے متعلق نیر مسعود کا ایک اور لائق تحسین کارنامہ ’شفاء الدولہ کی سرگزشت‘ (1989) ہے۔ شفاء الدولہ حکیم سید افضل علی اودھ کے مقتدر رئیس ممتاز عالم دین اور طبیب حاذق ہی نہیںبلکہ ارد و،فارسی و عربی میں کامل دستگاہ رکھنے والے کثیر التصانیف بزرگ بھی تھے۔ ان کا شمار مشاہیر اودھ کی ممتاز شخصیات میں ہوتا ہے۔آپ نواب واجد علی شاہ کے طبیب خاص اور ہمہ وقتی ندیم بھی تھے۔نیر مسعود کی تحقیق کے مطابق واجد علی شاہ نے اپنی اکثر تصانیف میں بھی شفاء الدولہ کا ذکر کیا ہے۔چنانچہ نیر مسعود نے شفاء الدولہ کی شخصیت و علمیت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ان پر تحقیق کی روشنی میںگفتگو کی ہے۔ کتاب کے آخر میں انھوںنے شفاء الدولہ کی مثنوی  قصۂ عبرت مزیل وحشت‘کو مرتب کرنے کا فریضہ بھی انجام دیا ہے۔10

اپنے دائرۂ عمل میں نیر مسعود کا طریقۂ کار یہ ہے کہ وہ تحقیق کی گتھیوں کو سلجھانے میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے اور نظم و ضبط کے ساتھ دید و دریافت کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہیں۔بنیادی اور مستند مآخذ کے حوالے ان کی تحقیق کے لازمی عناصر ہیں۔بعض اوقات بنیادی اور مستند مآخذ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے قیاس یا داخلی شواہد کے ذریعے انھوں نے مسئلے کی پیچیدگیوں کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔لیکن ایسے موقعوں پر وہ کوئی حتمی رائے پیش نہیں کرتے بلکہ قاری کو غور و فکر پر آمادہ کرتے ہیںنیر مسعود کا یہ تحقیقی رویہ تحقیق کے وقار کو قائم رکھتا ہے۔ تحقیق و تدوین سے متعلق اپنے تمام کارناموں میں نیرمسعود نے انھیں اصولوں کو پیش نظر رکھا ہے۔

نیر مسعود کے تدوین سے متعلق کارناموں میں ’دیوان فارسی میر تقی میرتدوین و تصحیح‘ غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ میر کا یہ فارسی دیوان نوادرات میں سے ہے۔ 1983 میں انھوں نے میر تقی میر کے غیر مطبوعہ فارسی کلام کی ترتیب و تصحیح کی۔ ان کا یہ کارنامہ مجلہ ’نقوش‘ لاہور،1983  کے میر نمبر3 میں شائع ہوا۔یہ بات قابل غور ہے خدائے سخن میرتقی میر کے یہ قلمی آثار جن کا مطالعہ ان کے اردو کلام کے مطالعے کے لیے بھی مفید اور بجائے خود بھی دلچسپ ہے ہنوز ناقدین ادب کی توجہ اور زیور طباعت سے محروم تھا نیر مسعود نے اس کی اہمیت و وقعت کا احساس کرتے ہوئے اس کی بازیافت کی اور میر کے اس ضائع ہوتے ہوئے سرمائے کو محفوظ کرنے کی کوشش کی۔نیر مسعود اردو کے ساتھ فارسی زبان وادب میں بھی اپنی مخصوص شناخت رکھتے ہیں۔اردو کی بہ نسبت فارسی میں ان کی خدمات مختصر ہونے کے باوجود نہایت وقیع ہیں۔ فارسی زبان و ادب میں نیر مسعود کی خدمات کا اعتراف حکومت ہند نے انھیں صدر جمہوریہ اعزاز سے سرفراز کرکے کیا ہے۔ ’دیوان فارسی میر تقی میرتدوین و تصحیح‘ نیر مسعود کا دوسرا اہم فارسی کارنامہ ہے۔پہلا کارنامہ ان کا فارسی میںپی ایچ ڈی کا مقالہ ہے جس میں انھوں نے فارسی کے مشہور شاعر ’ملا محمد صوفی ما زندانی‘ کے دیوان کی ترتیب و تصحیح کی تھی۔نیر مسعود کا یہ کارنامہ ہنوز طباعت سے محروم ہے۔

تدوین سے متعلق ان کے دیگر اہم کارنامے خطوط مشاہیر بنام مسعود حسن رضوی ادیب، انتخاب بستان حکمت،  اسم اعظم، بزم انیس، آگ الاؤ صحرا11 اور ’دیوان سخن اشرف‘ ہیں۔ ان تمام کارناموں میں نیر مسعود نے تحقیق و تدوین کے تمام اصول و ضوابط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے علمی فرائض کو انجام دیا ہے اور اردو ادب کے گراں قدر سرمایے کے تحفظ کا فریضہ انجام دیا ہے۔

خطوط مشاہیر بنام مسعود حسن رضوی ادیب‘میں نیر مسعود نے اپنے والد مسعود حسن رضوی ادیب کے نام آنے والے مشاہیر ادب کے خطوط کو مرتب کرکے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب 1984 میں اتر پردیش اردو اکادمی، لکھنؤ سے شائع ہوئی۔ پروفیسر مسعود حسن رضوی ادیب کی شخصیت اردو ادب میں محتاج تعارف نہیں۔وہ اردو کے بڑے محقق،جید عالم اور بلند پایہ ادیب ہیں اوران کے علمی اور ادبی کارناموں کا دائرہ نہایت وسیع و وقیع  ہے۔ یہ کتاب ’خطوط مشاہیر بنام مسعود حسن رضوی ادیب‘ نہ صرف مسعود حسن ادیب کی ادبی زندگی اور سوانحی گوشوں پر روشنی ڈالتی ہے بلکہ اردو کے بلند پایہ محققین و ناقدین کے درمیان ان کے اعلیٰ ادبی مرتبے کا تعین بھی کرتی ہے۔مشاہیر کے خطوط کے اس مجموعے کی افادیت اور اہمیت کا اندازہ اس کے سرسری مطالعے سے بھی ہو سکتا ہے لیکن نیر مسعود کی یہ کوشش قابل تحسین ہے کہ انھوں نے اس کتاب کو مزید مفید اور دلچسپ بنانے کے لیے تقریباً تمام مکتوب نگاروں کی تحریر اور دستخط اور بعض جگہ مکتوب الیہ کی متعلقہ تحریروں کے عکس اس مجموعے میں شامل کر دیے ہیں جن سے ہمارے بہت سے مشاہیر کی اصل تحریری صورت اور شان خط سے ہمیں وقوف حاصل ہوتا ہے۔12  نیر مسعود کا یہ کارنامہ اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ انھوںنے اپنے والد اور دیگر مشاہیر ادب کی شخصیت اور ا ن کے فکر و خیال کو ان خطوط کے ذریعے محفوظ کرکے آئندہ نسلوں کے لیے ایک گراں قدر سرمایہ محفوظ کر دیا ہے۔

انتخاب بستان حکمت‘1988 میں اتر پردیش اردو اکادمی،لکھنؤ سے شائع ہوئی۔اس کتاب میں نیرمسعود نے فقیر محمد گویا کی تالیف’ بستان حکمت‘کے مخصوص حصوں کو منتخب کرکے اپنے مقدمے کے ساتھ شائع کیا ہے۔نیر مسعود نے اردو اکادمی کی فرمائش پر طلبہ کی درسی ضرورت کے تحت یہ کتاب مرتب کی تھی۔ 13

علیاسم اعظم‘کاظم علی زیدی کی کتاب ہے جس میں انھوں نے حضرت علی کی سوانح کو موضوع بنایا ہے۔ کاظم علی زیدی ایک قابل قدر شخصیت تھے انھوں نے متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں۔ان کتابوں میں ’علی اسم اعظم ‘سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے چنانچہ نیر مسعود نے یہ کتاب 1993 میں مکتبہ کائنات،دہلی سے اپنے مقدمے کے ساتھ شائع کی ہے۔ ’بزم انیس‘ انیس کے منتخب مراثی کا مجموعہ ہے جو1998 میں رہبر پرنٹرز، لاہور سے اشاعت پذیر ہوا۔یہ ترتیب و تدوین سے متعلق نیر مسعود کا ایک اوراہم کارنامہ ہے جس میں انھوںنے انیس کے بارہ شاہکار مرثیوں کو شامل کیا ہے۔14 اور ان کے متن کی ترتیب و تصحیح کی ہے۔نیر مسعود کی ترتیب و تقدیم سے متعلق ایک اور گراں قدر کارنامہ ’سخن اشرف‘2006 ہے۔ جس میں انھوں نے واجد علی شاہ کے دوسرے دیوان  ’سخن اشرف‘کو اپنے مقدمے کے ساتھ شائع کیا ہے۔  واجد علی شاہ کا دیوان ان کی زندگی میں ہی شاہی مطبع سے شائع ہو چکا تھا۔ چونکہ یہ دیوان اب نایاب ہے اور اس کا ایک ہی نسخہ’ امیر الدولہ پبلک لائبریری‘ لکھنؤ میں موجود ہے چنانچہ اردو ادب کے اس گراں قدر سرمایے کے تحفظ کے لحاظ سے  نیر مسعود نے اسے اپنے مقدمے کے ساتھ شائع کروایا۔

نیر مسعود ایک محقق و مدون ہی نہیں ایک ناقد کی بہترین صلاحیتیں بھی رکھتے تھے۔وہ ایک وسیع النظر نقاد تھے ادب کی ماہیت،اس کے مقاصد اور اس کے طریقہ کار پر ان کی نظر گہری تھی اور وہ ادب کے جملہ مباحث کے متعلق اپنی ایک منفرد رائے رکھتے تھے۔نیر مسعودکی کتاب’تعبیر غالب‘کلام غالب اور فکر غالب سے ان کی شناسائی کی عمدہ مثال پیش کرتی ہے۔’تعبیر غالب‘ کی پہلی اشاعت 1973 میں نظامی پریس،لکھنؤ سے ہوئی تھی۔

کلام غالب کی شرح پر مشتمل یہ کتاب نہ صرف اردو میں کلاسک کا درجہ رکھتی ہے بلکہ نیر مسعود کی تنقیدی صلاحیتوں کا بھی عمدہ نمونہ پیش کرتی ہے۔’تعبیر غالب‘ کی ان شرحوںکا تجزیہ ہمیں بتاتا ہے کہ نیر مسعود کو شاعری کے عیوب و محاسن کی روح کا ادراک تھا۔وہ لغات و الفاظ کے اصل و لغوی مفاہیم،لفظوں کے تعبیری پہلو، استعاراتی و کنایاتی زبان کی سمجھ،لفظ و معانی کے درمیانی رشتوں کی پہچان اور ان رشتوں میں اپنی طرف سے فکر انگیز اور نئی معنویت کے انسلاک کا شعور رکھتے تھے۔ نیر مسعود مغربی اصول نقد و نظر اور علوم و اسلوب کی آ گہی کے باوجود مشرقی آداب شعریات و نظریات انتقاد سے زیادہ کام لیتے ہیں۔اپنی اس کتاب میں انھیں اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے انھوں نے کلام غالب کی اصل روح تک رسائی حاصل کی ہے۔ کلام غالب کی متعدد شرحیں لکھی گئیں ہیںاور لکھنے والوں نے اپنے اپنے انداز میںغالب کو سمجھنے اور سمجھانے کی کامیاب کوششیں کیں ہیں۔حالیہ برسوں میں بھی کئی اچھی اور دلچسپ شرحیں سامنے آئی ہیں۔نیر مسعود کی ’تعبیر غالب‘کا آخری حصہ اگر چہ غالب کے محض چودہ منتخب اشعار کی شرح ہے لیکن اپنے مباحث کے لحاظ سے بڑی وقیع اور مشرقی طرز تنقید کی انتہائی عمدہ کوشش ہے۔اس کتاب سے غالب شناسی اور شعر فہمی کی نئی جہات سامنے آ رہی ہیں جو اس حقیقت کا برملا اظہار ہے کہ نیر مسعود جس کوچے میں گئے اپنی انفرادیت کے نقش روشن کر دیے۔15

تنقید سے متعلق ان کا دوسرا کارنامہ’ افسانے کی تلاش ‘ہے۔کتاب’افسانے کی تلاش‘ کی پہلی اور دوسری اشاعت با لترتیب 2017 اور 2018 عرشیہ پبلی کیشنز دہلی سے ہوئی ہے۔یہ کتاب نیر مسعود کے فکشن تنقید سے متعلق مضامین کا مجموعہ ہے جسے آصف فرخی نے مرتب کیا ہے۔ ان مضامین کے تجزیے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نیر مسعود نہ صرف ایک بہترین افسانہ نگار تھے بلکہ افسانوں کے پارکھ بھی تھے۔ نیر مسعود کے یہ مضامین انھیں فکشن تنقید سے متعلق اہم ناقدین کی صف میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ 16

نیر مسعود کو تحقیق و تنقید اور افسانہ نویسی کے علاوہ بچوں کے ادب سے بھی خاص شغف رہا ہے۔ اس مو ضوع پر ان کی کتابیں ’ڈراما سوتا جاگتا‘، ’بچوں کا مشاعرہ‘ اور’ بچوں سے باتیں‘وغیرہ دلچسپ ہیں۔ ادب اطفال سے متعلق ان کا ڈراما ’سوتا جاگتا‘ اتر پردیش اردو اکادمی، لکھنؤ کی جانب سے 1985 میںشائع ہوا۔  مذکورہ اصناف کے علاوہ نیر مسعود نے اردو کی دیگر غیر افسانوی اصناف میں بھی کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔جن میں ترجمہ نگاری،خاکہ نگاری اورسفرنامہ نگاری وغیرہ شامل ہیں۔17

نیر مسعود کا شمار اردو کے بڑے مترجمین میں ہوتا ہے۔انھیں اردو اور فارسی کے علا وہ انگریزی، فرانسیسی اورجرمن ادب سے بھی شغف تھا چنانچہ ان زبانوں کی متعدد تخلیقات کو انھوں نے اردو کا جامہ پہنایا ہے۔مغربی ادب میں ان کا مطالعہ وسیع ہے۔علاوہ ازیں انھوں نے ایران کا سفر بھی کیا تھا جس کی وجہ سے وہاں کے تہذیب و تمدن،زبان و بیان کی نفاست،اس کی باریکی اور تہہ داری سے وہ بخوبی واقف تھے۔

کافکا کے افسانے ‘ترجمہ نگاری کے حوالے سے ان کا لاثانی کارنامہ ہے۔پہلی مرتبہ یہ کتاب1978  میں ’شبستان پرنٹرز‘الہ آباد سے شائع ہوئی۔ نیر مسعود نے اس کتاب میں کافکا کے بیس افسانوں کا ترجمہ پیش کیا ہے۔کافکا کی تحریروں پر یوں تو اردو کے متعدد مترجموں نے طبع آزمائی کی ہے لیکن یہ ترجمے ان تمام کوششوں میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔نیر مسعود ادبی ذوق رکھنے کے ساتھ ساتھ دقیق النظر بھی تھے انھوں نے نہ صرف کافکا کے افسانوں کی معنویت پر غورر کیا ہے بلکہ اس کے طرز نگارش کو بھی گرفت میں لیا ہے اور معانی کی گہرائی تک پہنچ کر پوری مہارت کے ساتھ کافکا کے انگریزی افسانوں کو اردو کے قالب میں منتقل کیاہے۔18

ترجمہ نگاری سے متعلق نیر مسعود کادوسرا بڑا کارنامہ ’ایرانی کہانیاں‘ ہے۔اس میں نیر مسعود نے پندرہ جدید ایرانی افسانوںکا ترجمہ پیش کیا ہے۔نیر مسعود نے اس کتاب میں جن مصنفین کے آثار شامل کیے ہیں ان میں اسماعیل فصیح،بابا مقدم،جمال میر صادق،شین پرتو، صادق ہدایت، غلام حسین ساعدی،فریدون تنکابنی،فریدہ راری، محسن دامادی، منو چہر خسرو شاہی وغیرہ ہیں۔ نیر مسعود کا یہ کارنامہ لائق تحسین ہے کہ انھوں نے اس انتخاب کے ذریعے نہ صرف اردو کے سرمایہ ادب میں گراں بہا اضافہ کیا بلکہ شائقین اردو کو جدید ایرانی افسانے سے متعارف ہونے کا موقع بھی فراہم کیا۔’ترجمہ حکیم نباتات ‘ اور جارج لوئی بورخس کی نظموں کا ترجمہ ان کے دیگر اہم تراجم ہیں۔19

اردو کے غیر افسانوی ادب میں نیر مسعود نے ایک اچھے خاکہ نگارکی خدمات بھی انجام دی ہیں۔ خاکہ نگار کی حیثیت سے ان کا مجموعہ’ادبستان‘ اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے۔’ ادبستان‘کے خاکے مربوط منصوبے کے تحت نہیں لکھے گئے یہ مختلف وقتوں میں حادثات و جذبات کے زیر اثر وجود میں آنے والی تحریروں کا مجموعہ ہے۔نیر مسعود کے اس مجموعے میں بارہ شخصیات کے خاکے شامل ہیں۔جن میں رشید حسن خان، ڈاکٹر کیسری کشور، احتشام حسین، مسعود حسن رضوی ادیب،اور ادبستان سے متعلق خاکے خصوصاً  قابل تعریف ہیں۔20

نیر مسعود نے جس طرح اردو کی بیشتر اصناف میں طبع آزمائی کی اور بہت خوب لکھا اسی طرح انھوں نے سفرنامے کی روایت کی بھی توسیع کی اور سفرنامہ ’ خنک شہر ایران ‘ (1978)  لکھا۔1977 میں نیر مسعود نے ایران کا سفر کیا اور اپنے سترہ اٹھارہ دن کی مختصر روداد’خنک شہر ایران‘ کے نام سے قلم بند کی۔یہ سفر نامہ پہلی مرتبہ رسالہ ’اظہار‘بمبئی شمارہ4؍ 1978 میں شائع ہوا۔بعد میں یہ سفرنامہ ان کی کتاب ’نیر مسعود کے منتخب مضامین‘میں بھی شائع ہوا ہے۔یہ سفرنامہ نیر مسعود کے اسلوب بیان کا شاہکارہے۔نیر مسعود نے بیانیہ میں نہایت شائستہ و شگفتہ انداز بیان اختیار کیا ہے اور بسیار نویسی سے گریز کیا ہے۔ علاوہ ازیںنیر مسعود نے جو منظر نگاری کی ہے وہ قابل ستائش ہے۔ ایرانی کلچر،وہاں کے لوگ، ان کا انداز گفگو، وہاں کی سڑکیں،وہاں کے عجائبات تمام چیزوں کا بیان نیر مسعود نے اس انداز میں کیا ہے کہ پڑھنے والے کاذہن ایران کی فضا کی سیر کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔نیر مسعود کا یہ سفرنامہ دلچسپ اور معلومات سے پر ہے۔21

مکاتیب نیر مسعو د‘قارئین ادب کے لیے ادب اور مشاہیر ادب سے متعلق معلومات کا گراں قدر سرمایہ ہیں۔ ان مکتوبات میں نہ صرف ادب زندہ ہے بلکہ لکھنوی تہذیب بھی زندہ و متحرک نظر آتی ہے۔نیر مسعود کے متعدد خطوط ابھی تک مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کے کچھ خطوط رسالہ فیضان ادب،مئو،اتر پردیش، شمارہ اپریل تا دسمبر 2018 میں بھی شائع ہوئے ہیں۔ کتابی صورت میں نیر مسعود کے خطوط ابھی تک منظر عام پر نہیں آئے ہیں۔ 22

نیر مسعود نے چند مخصوص کتابوں پر تبصرے بھی لکھے ہیں۔جو ان کے معتدل و متوازن انداز تحریر کا عمدہ نمونہ پیش کرتے ہیں۔اس کے علاوہ ان کی ادبی خدمات میں اردو کی مشہور و معروف شخصیات کے انٹرویوز بھی شامل ہیں۔اپنی ان تحریروں میں انھوں نے ادب کے بہترین قاری ہونے کا ثبوت بھی پیش کر دیا ہے۔

نیر مسعود کی ادبی خدمات کا دائرہ نہایت وسیع ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق افسانوی اور غیر افسانوی ادب سے متعلق اب تک ان کی بتیس سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں بائیس سے زائد کتابیں غیر افسانوی ادب سے متعلق ہیںاور مطبوعہ مضامین کی تعداد تین سو کے قریب ہے، جو ملک اوربیرون ملک کے نمائندہ ادبی جریدوں کی زینت بن چکے ہیں۔ان کتابوں اور مضامین کے مشتملات میریات، غالبیات، رثائیات، انیسیات، لکھنویات،شعریات،تاریخ اورادب جیسے مختلف اور متنوع موضوعات ہیں۔

نیر مسعود کی مذکورہ خدمات کا محاکمہ کرنے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نیر مسعود کی شخصیت اور ان کی خدمات مختلف جہات کو محیط ہیں۔ان کے علمی کارناموں کی دنیا نہایت وسیع و وقیع ہے۔عصری ادب کی جلوہ گاہ میں وہ اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔اور ان کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ وہ نہ صرف ایک سحر طراز افسانہ نگار ہیں بلکہ ایک نکتہ رس محقق اور نقاد بھی ہیں۔ان کے تحقیقی و تنقیدی کارناموں کے غائر مطالعے اور مفصل تجزیے کی روشنی میں ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ نیر مسعود عہد حاضر کے ممتاز و مستند محقق و ناقد ہیں اور ان کا یہ تحقیقی و تنقیدی سرمایہ اردو ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔

حواشی

  1.     معرکہ انیس و دبیر،نیر مسعود،محمدی ایجوکیشن،کراچی 2000،ص 5
  2.       ساگری سین گپتا کے ساتھ انٹرویو۔منتخب مضامیننیر مسعود،نیر مسعود،ڈان پرنٹرز،کراچی،2009،ص 420
  3.       رجب علی بیگ سرورحیات اور کارنامے،نیر مسعود،اسرار کریمی پریس،جانسیں گنج،الہ آباد،ناشر شعبہ اردو،الہ آباد یونیورسٹی،الہ آباد،1967
  4.       رجب علی بیگ سرور،چند تحقیقی مباحث، حنیف نقوی، انجمن ترقی اردو ہند،نئی دلی،1991
  5.       انیس سوانح،نیر مسعود،زیر اہتمام آج کی کتابیں،ذکی سنز پرنٹرز،کراچی،2005(ابتدائیہ)
  6.       انیس سوانح،نیر مسعود،زیر اہتمام آج کی کتابیں،ذکی سنز پرنٹرز،کراچی،2005(ابتدائیہ)
  7.        معرکۂ انیس و دبیر ‘ نیر مسعود،محمدی ایجوکیشن،کراچی  2000 ،ص 7
  8.       یگانہ احوال و آثار،نیر مسعود،انجمن ترقی اردو ہند،نئی دلی، 1991 ص 24
  9.       دولہا صاحب عروج،نیر مسعو د،اردو پبلشرز،نظیر آباد، لکھنؤ، 1980
  10.     شفاء الدولہ کی سرگزشت،نیر مسعود،اتر پردیش اردو اکادمی، لکھنؤ، 2004(پیش لفظ)
  11.     آگ الاؤ صحرا، قمر احسن مرتبہ نیر مسعود،شب خون کتاب گھر،الہ آباد،1980
  12.     خطوط مشاہیر بنام سید مسعود حسن رضوی ادیب،نیر مسعود،اتر پردیش اردو اکادمی،لکھنؤ،1985، ص 11,12
  13.     انتخاب بستان حکمت،نیر مسعود،اتر پردیش اردو اکادمی، لکھنؤ،1988
  14.     بزم انیس مرتبہ نیر مسعود،رہبر پرنٹرز،لاہور،1990،ص ۱1
  15.     تعبیر غالب،نیر مسعود،نظامی پریس،لکھنؤ،1973
  16.     افسانے کی تلاش،نیر مسعود مرتبہ آصف فرخی،2017 عرشیہ پبلی کیشنز،دہلی
  17.     ڈراما سوتا جاگتا،نیر مسعود،اتر پردیش اردو اکادمی، لکھنؤ، 1985
  18.     کافکا کے افسانے،نیر مسعود،زیر اہتمام آج کی کتابیں،ڈان پرنٹرز،کراچی،2009
  19.     ایرانی کہانیاں،مترجم نیر مسعود، آج کی کتابیں،کراچی،2002
  20.     ادبستان،نیر مسعود،شہزاد پرنٹرز،کراچی،2006
  21.     منتخب مضامین نیر مسعودنیر مسعود،آج کی کتابیں،ڈان پرنٹرز، کراچی، 2009،ص 381تا 405
  22.     سہ ماہی فیضان ادب،مؤ،یو پی،جلد نمبر3،شمارہ2,3,4، ص 368 تا 415

Mahjabeen Kha

Dept of Urdu

Aligarh Muslim University

Aligarh - 202001 (UP)

Mob.: 7007649374

 

 

 

 

 

 

 

 


 

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...