1/11/23

صحت زبان وبیان اور اردو املا: تابش مہدی

 

زبان ایک ایسا آلہ ہے یا آوازوں کا مجموعہ جس کے ذریعے ایک انسان اپنے خیالات وجذبات دوسرے انسان تک منتقل کرتا ہے، اسلوب زبان کو مزید موثر بناتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے، جو انسان اور غیرانسان کے درمیان دیوار کھڑی کرتی ہے۔ انسان وہی ہے، جس کے اندر نُطق و گویائی ہو اور وہ اپنی ضروریات کے اظہار کے لیے حرف و صوت کا سہارا لینے پر قادر ہو۔ اگر ایسا نہیں ہے تو ہم اُسے گونگا کہیں گے۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ جس شخص کا بولنے چالنے، ادائے روز مرہ اور مافی الضمیر کے اظہار کا انداز، جتنا معیاری اور اعلیٰ ہوگا، اتنا ہی اعلیٰ اور معیاری اس کا وہ پیام ہوگا، جسے وہ کسی ضرورت کے پیشِ نظر کسی فرد یا اجتماع تک پہنچانا چاہ رہا ہے۔

انسانی دنیا میں کتنی زبانیں بولی یا سمجھی جاتی ہیں، ان کا شمار دشوار ہے۔ خود ہمارے ملک ہندستان جنت نشان میں درجنوں زبانیں بولی، سمجھی اور لکھی، پڑھی جاتی ہیں۔ سب کے اپنے اپنے انداز اور ڈھب ہیں۔ یہ سب اپنے علاقوں کے باشندوں کے ذریعے سے ان کی ضروریات کے مطابق وجود میں آئی ہیں۔ اردو بھی ایک زبان ہے۔اس کی بھی ایک تاریخ ہے۔ اِس وقت یہ دنیا کی بڑی اور عظیم علمی و تہذیبی زبانوں میں شمار ہوتی ہے۔ اِس کا امتیاز یہ ہے کہ یہ کسی قوم، ملک یا خطۂ ارض تک محدود نہیں ہے اور نہ یہ کسی مذہب و ملت کے زیرِ اثر وجود میں آئی ہے۔ ہر علاقے و دیار میں اور ہر قوم و مذہب کے لوگ اسے بولتے، سمجھتے اور لکھتے ہیں۔

اردو،دنیا کی متعدد چھوٹی، بڑی زبانوں کی آمیزش سے وجود میں آئی ہے۔ سب سے اس نے حسب ضرورت استفادہ کیا ہے، اپنے دامن کو موتیوں سے بھرا ہے اور اپنے پیروں پر کھڑی ہوئی ہے۔ آپ اِس میں بے شمار زبانوں کے اچھے، صاف ستھرے اور دلوں میں جگہ پیدا کرنے والے الفاظ پائیں گے۔ میں اکثر یہ کہتا ہوں اور علمی دنیا کے متعدد علما اور دانش وروں کے اقوال سے اس کی تائید و تصویب ہوتی ہے کہ اردو زبان خالص صحبتی، تربیتی اور تہذیبی زبان ہے۔ اس کی شیرینی، مٹھاس، نزاکت، تاثیر اور خوشبو کو وہی لوگ محسوس کرسکیں گے، جنھوں نے ایسی مجلسیں، محفلیں اور صحبتیں پائی ہیں، جہاں اس کی آرائش و زیبائش کا التزام ملتا ہے اور مسلسل اس کا انداز و اسلوب، محلِ استعمال، محاورات اور روز مرہ ان کا موضوع گفتگو رہتا ہے۔ اس کی خوبیوں اور نزاکتوں تک محض لغات یا سندوں اور ڈگریوں کے ذریعے سے نہیں پہنچاجاسکتا۔

اردو کا دائرہ بہ تدریج پھیلتا اور وسیع ہوتا جارہا ہے۔ اِس کو بولنے، سمجھنے اور پسند کرنے والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ پوری دنیا میں اردو کی نئی نئی بستیاں آباد ہورہی ہیں۔ یورپ، امریکا، عرب ممالک، امارات اور دور و نزدیک کے دوسرے ممالک میں کسی نہ کسی سطح پر اس کے فروغ و ارتقا کے سلسلے میں کوششیں ہورہی ہیں۔ ہمہ وقتی یا شبینہ و صباحی مدارس و مکاتب قائم ہورہے ہیں۔ وہاں آئے دن اردو کی مجلسیں اور محفلیں منعقد ہوتی رہتی ہیں۔ چھوٹے بڑے مشاعرے ہوتے ہیں۔

اردو زبان اپنی مذکورہ بالا تمام خوبیوں اور انفرادیتوں کے باوجود بعض پریشان کن اور ترقی کی راہ میں موانع پیدا کرنے والے مسائل سے بھی دوچار ہوتی رہی ہے۔ اُن میں اس کا تلفظ اور املا دونوں سرِ فہرست ہیں۔اِن دو چیزوں نے اردو کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹیں اور دشواریاں پیدا کی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ اِن پہلووں سے بے پناہ بے احتیاطیاں اور بے اعتدالیاں پائی جاتی رہی ہیں۔ اب بھی پائی جاتی ہیں۔ یہ مسائل صرف عوام یا کم خواندہ طبقے تک محدود نہیں ہیں، اعلی درجے کے تعلیم یافتہ افراد، مصنفین اور ارباب درس و تدریس بھی ان کا شکار رہے ہیں۔

علم و ادب، تحریر و تصنیف اور تقریر و خطابت کی دنیا میں الفاظ اور اُن کے تلفظ کی ہمیشہ اور ہر دور میں اہمیت رہی ہے۔ علما اور اربابِ نظر نے ہمیشہ ان کی معنویت، لغوی حیثیت، محلِ استعمال، تلفظ اور طرز ادا پر زور دیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ تحریر یا تقریر کی عمارت جملوں پر کھڑی ہوتی ہے اور جملے الفاظ سے بنتے ہیں۔ الفاظ کے بغیر ابتدائیہ، خبریہ یا انشائیہ جملوں کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ ایسی صورت میں یہ بات صاف اور واضح ہوجاتی ہے کہ اصل حیثیت الفاظ کی ہے۔تقریر یا تحریر کا اصل حسن اسی وقت سامنے آتا ہے، جب اِس بات کا پورا پاس و لحاظ رکھا گیا ہو کہ اس میں زیرِ استعمال الفاظ کی لغوی حیثیت کیا ہے، اس کا تلفظ کیا ہے، اس کی ادائی کس طرح ہوئی ہے اور جہاں اور جس سلسلے میں جو لفظ استعمال کیا گیا ہے، وہاں وہی لفظ مناسب ہے یا اس کے علاوہ کوئی دوسرا لفظ استعمال کیا جانا چاہیے تھا؟۔ اِس احساس سے انحراف کرکے جو عبارت لکھی جائے گی یا بات کی جائے گی، وہ صاحب نظر قاری یا سامع کے لیے تکلیف دِہ اور اذیت ناک ہوگی۔وہ تقریر یا تحریر اپنے موضوع کی اہمیت و ناگزیری کے باوجود بے اثر اور غیرمفید رہے گی۔ جو لوگ تقریر، تحریر یا اپنی عام زندگی میں موقع و محل کا خیال نہیں رکھتے، وہ کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں رہتے۔سچ کہا ہے وسیم بریلوی نے:

کون سی بات کہاں کیسے کہی جاتی ہے

یہ سلیقہ ہو تو ہر بات سنی جاتی ہے

املا

لفظ یا جملے میں اِملا ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اِسی سے مصنف کی پہچان ہوتی ہے۔ ویسے املا تحریروں میں ہی دیکھا اور جانا جاتا ہے، لیکن کبھی کبھی یہ تقریر میں بھی اپنا رنگ دکھا دیتا ہے۔ جیسے: لفظ شَخْصْ میں شین پر زبر ہے، خا پر ساکن اور صاد پر بھی ساکن۔ اِسے اگر کوئی شَخَصْ، شین اور خا دونوں کو زبر کے ساتھ بولتا یا لکھتا ہے تو وہ تحریر کی بجائے تقریر ہی میں پہچانا جائے گا۔

اِملے میں پہلی چیز تو یہ دیکھی جاتی ہے کہ لفظ میں کن کن حرفوں کو استعمال کیا گیا ہے۔ دوسری چیز مستعمل حرفوں کی ترتیب دیکھنے کی ہوتی ہے۔ تیسری چیز یہ دیکھنے کی ہوتی ہے کہ جو حروف استعمال کیے گئے ہیں، اُن میں صحیح حرکات کا استعمال کس حد تک ہوا ہے۔ اس کی ایک مثال املا کی تعریف کے ذیل میں دے دی گئی ہے۔ عِلْم کو عِلَمْ، قَلَمْ کو قَلْمْ، حُکْمْ کو حُکَمْ، شَکْلْ کو شَکَلْ، گَرْمْ کو گَرَمْ، سِحْرْ کو سِحَرْ یا سَحَرْ کو سِحْرْ یا سِحَرْ لکھنا یا بولنا بھی اسی ذیل میں آتا ہے۔ اِس طرح کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں۔ ایسی غلطیوں کا اندازہ تحریروں میں تو نہیں ہوپاتا لیکن تقریروں، گفتگووں اور اشعار میں ہوتا ہے۔ایسی غلطیوں سے تقریر یا گفتگو میں بھی کرکراپن آجاتا ہے اور اشعار بھی بے بحرے ہوجاتے ہیں۔ یہ ایسی غلطیاں ہیں، جن میں اچھے خاصے لوگ غچّا کھا جاتے ہیں۔

اِن شاء اللہ /انشاء اللہ یہ ایک پاکیزہ اور مقدس جملۂ ناقص  ہے۔یہ ادھورا جملہ عربی کا ہے لیکن عربی، فارسی، اردو اور دوسری زبانوں میں بھی بہ کثرت استعمال ہوتا ہے۔ اِس کے املے کے سلسلے میں لوگ شدید غلطی کا شکار ہیں۔ سب انشاء اللہ الف، نون اور شین کو ملاکر لکھتے ہیں۔ جب کہ یہاں ’اِن‘ کا استعمال حرفِ شرط کے طورپر ہوا ہے۔ اِس کا مطلب ہے،’اگر اللہ نے چاہا‘۔ ایسی صورت میں الف اور نون کو’ شا‘ سے الگ ہی لکھنا چاہیے۔ قرآنِ مجید میں بھی یہ الگ ہی استعمال ہوا ہے۔

نونِ غنّہ (ں)

خطابیہ کے آخر میں نونِ غنّہ (ں)لگانے کا بھی رواج عام ہے۔ اے جوانو! اے دوستو! اے مسلمانو! کو غنّہ لگا کر اے جوانوں، اے دوستوں اور اے مسلمانوں لکھا اور بولا جاتا ہے۔ اِس سے ہمیشہ پرہیز کرنا چاہیے۔ غنّہ تو اس وقت لگے گا، جب انھیں ہم غائب کے صیغے میں استعمال کریں۔ مثلاً:

جوانوں نے کہا، دوستوں نے سنا، دشمنوں سے مت ڈرو، اور مسلمانوں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔

مصدر

فارسی میں مصدر کی پہچان دَن یا تَن ہے۔ لیکن اردو میں’نا‘( نون اور الف)۔ جیسے:

 کھانا، پینا، لینا، دینا، جانا، پانا وغیرہ۔

مصدری لفظ کے سلسلے میں دبستانِ دہلی کا عمل یہ ہے کہ یہ اِسم اور فعل کے تابع ہے۔ وہ مذکّر ہے تو یہ بھی مذکر ہے، وہ مؤنّث ہے تو یہ بھی مؤنث۔ مثلاً: روٹی کھانی ہے، دوا لینی ہے، کتاب پڑھنی ہے۔ شہر جانا ہے، کل اُسے کھانا کھلانا ہے اور درزی کے یہاں کرتا سلانا ہے۔ وغیرہ

ہا اور الف

اردو املا ہا اور الف کے سلسلے میں اکثر موضوعِ بحث بنا رہتا ہے۔ حالاں کہ ذرا سی توجہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کہاں الف لکھا جائے گا اور کہاں ہا۔ یہاں ’ہا‘ سے ہماری مراد ہاے مختفی سے ہے۔ ہاے مختفی وہ ’ہا‘ ہے، جو ہم کسی لفظ کے آخر میں لکھتے ہیں اور ہمیشہ اُسے الف کی آواز میں بولا جاتا ہے۔ وزنِ شعری میں بھی وہ الف ہی کا قائم مقام رہتا ہے۔ ہاے مختفی سے متعلق قاعدہ یہ ہے کہ یہ صرف عربی یا فارسی الفاظ کے آخر میں ہی آئے گی۔ جیسے:

طلبہ، صوفیہ، کعبہ، ادویہ، مدینہ، مرثیہ، صفحہ، آموختہ، شگفتہ، گزشتہ، رفتہ، دستہ، بستہ،کہنہ وغیرہ جو الفاظ عربی یا فارسی کے نہیں ہیں ان کے آخر میں ہم الف لکھیں گے۔ جیسے:

پتا، راستا، رستا، بھروسا، اکھاڑا، پسینا، پٹاخا، پیسا، روپیا، راجا، مہینا، ڈاکیا،

ڈھانچا، جھروکا، چبوترا، دھبّا، ٹھپّا، ڈونگا وغیرہ

بعض ماہرین لسانیات نے بعض شہروں کے ناموں کو مستثنیٰ کردیا ہے۔ مثلاً: امروہہ، کلکتہ، پٹنہ وغیرہ لیکن استثنا کی حیثیت بس استثنا کی ہے۔اِس سے قاعدہ نہیں بدلے گا۔

’ہا‘ کی قسمیں

’ہا‘ کی تین قسمیں ہیں: ہائے ملفوظ، ہائے مخلوط اور ہائے مختفی۔

ہاے مخلوط وہ ’ہا‘ ہے، جو کسی لفظ کے شروع میں آتی ہے یا درمیان میں۔ یہ اپنے پورے تلفظ کے ساتھ بولی یا لکھی جاتی ہے۔ جب یہ کسی لفظ کے شروع میں آتی ہے تو شوشے دار لکھی جاتی ہے۔ جیسے: ہم، ہو، ہجرت، ہر۔ اس کی پہچان کے لیے نیچے ایک علامت(،) لگا دیتے ہیں۔ اِس علامت کو بعض علاقوں میں لٹکن بھی کہتے ہیں۔

اگر ’ہا‘ کسی لفظ کے درمیان میں آئے گی تو اسے کہنی دار لکھیں گے۔ پہچان کے لیے اس کے نیچے بھی لٹکن لگائیں گے۔ جیسے: بہت، نہیں، کہیں، مہینا، کہنہ وغیرہ۔

جب ہا کسی لفظ کے آخر میں لکھیں گے تو اسے ہاے مختفی کی شکل میں لکھیں گے۔ البتہ اس کے نیچے پہچان کے لیے لٹکن لگائیں گے، جو کہ عام ہاے مختفی کے نیچے نہیں لگاتے۔ جیسے: وجہہ، کنہہ، نُہہ فلک، گنہہ(گناہ کا مخفف) اور کُہنہ وغیرہ۔ لیکن ہا کی اِس شکل پر انکاری ’نہ‘ یا کافِ بیانیہ ’کہ‘ کو قیاس نہ کریں۔ ’نہ‘ ہمیشہ نون پر زبر کے ساتھ ہی لکھا اور پڑھا جائے گا اور ’کہ‘ کاف کے زیر کے ساتھ۔ شعری وزن میں بھی یہ دونوں نَ اور کِ ہی رہیں گے۔

ہاے مختفی کے سلسلے میں مزید باتیں

یہ بات بتائی جاچکی ہے کہ ہاے مختفی ہمیشہ عربی یا فارسی الفاظ کے آخر میں آتی ہے۔ ہاے مختفی میں ’ہا‘ سے پہلے والا حرف ہمیشہ زبر کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن جب ایسے کسی لفظ کو امالے کے ساتھ پڑھیں گے یا لکھیں گے تو ہا سے پہلے والا حرف زیر کے ساتھ ہوجائے گا۔ ایسی صورت میں ہا کو یاے مجہول (ے) سے بدل دیتے ہیں۔ جیسے قصیدہ سے قصیدے، درجہ سے درجے، مرثیہ سے مرثیے، رتبہ سے رتبے اور جذبہ سے جذبے وغیرہ۔

 امالہ ایک ضروری عمل ہے۔ اس کے بغیر تقریر، تحریر یا شعر میں بدنمائی اور مضحکہ خیزی پیدا ہوجاتی ہے۔ داغؔ دہلوی کا بہت مشہور شعر ہے       ؎

کسی کا مجھ کو نہ محتاج رکھ زمانے میں

کمی ہے کون سی یارب! ترے خزانے میں

اِس شعر کے پہلے مصرعے میں اگر زمانہ اور دوسرے مصرع میں خزانہ پڑھا یا لکھا جاے تو یہ بات اہلِ نظر کے درمیان دیر تک مذاق و تمسخر کا موضوع بنی رہے گی۔ یہی بات شہروں کے ناموں کے سلسلے میں بھی ہے۔ غالب کا شعر ہے         ؎

کلکتّے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں

اِک تیر میرے سینے پہ مارا کہ ہاے ہاے

داغ دہلوی کا بڑا پیارا سا شعر ہے          ؎

کوئی چھینٹا پڑے تو داغ کلکتے چلے جائیں

عظیم آباد میں ہم منتظر ساون کے بیٹھے ہیں

مذکورہ بالا دونوں شعروں میں اگر کلکتے کو کلکتہ اور سینے کو سینہ پڑھیں گے یا لکھیں گے تو یہ ایک مقبوح و مکروہ بات ہوگی۔

ہمزہ

ہمزہ حرف بھی ہے اور علامت بھی۔ مثلاً:  جلوۂ یار، کوچۂ جاناں اور حوصلۂ مرداں میں ہمزہ کا استعمال علامتِ اضافت کے لیے ہے اور جائو، کھائو، سائل، مسئلہ، علاء الدین، ثناء اللہ، ماشاء اللہ اور اِن شاء اللہ میں حرف کے طور پر۔

جن الفاظ کے آخر میں الف ہے، ان میں اضافت کے وقت ہمزہ کا استعمال نہیں ہوگا۔ یاے مجہول (ے) کافی ہے۔ جیسے: ابتدائے عشق، انتہائے شوق، صدائے دل، دانائے راز وغیرہ

جن الفاظ کے آخر میں یاے معروف (ی) ہے، وہاں بھی ہمزہ نہیں رہے گا۔ آسانی کے لیے یا کے نیچے بس زیر لگادیں گے۔ جیسے: روشنیِ دل، بندگیِ خدا، مرضیِ مولیٰ، سرخیِ حِنا، تجلّیِ کعبہ وغیرہ۔ البتہ اگر کسی لفظ کے آخر کی یا میں ہمزہ شامل ہے تو وہاں ہمزہ ضرور لکھیں گے اور سہولت کے لیے نیچے زیر بھی لگادیں گے۔ جیسے: تماشائیِ حیات، دانائیِ انسان اور بے وفائیِ دوست وغیرہ

چاے، راے، ہاے اور جاے وغیرہ میں بھی عدمِ اشباع کی صورت میں ہمزہ نہیں ہے۔ ہم چاے پییں گے، یہ ان کی راے ہے۔ اقبال کی مناجات کا یہ شعر اکثر لوگ بے وجہ اِشباع کرکے ساقط الوزن کردیتے ہیں         ؎

دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہوجاے

ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہوجاے

اگر دونوں مصرعوں میں جاے کو جائے لکھیں گے یا پڑھیں گے تو دونوں مصرعے بحر سے خارج ہوجائیں گے۔

’گی‘ کا استعمال

بعض الفاظ کے آخر میں ’گی‘ کا استعمال کردیا جاتا ہے۔ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ جن الفاظ کا آخری حرف ہاے مختفی ہے، جو کہ صرف عربی یا فارسی الفاظ میں لکھاجاتا ہے، ان میں ’گی‘ کا استعمال کیا جائے گا۔ جیسے : آہستہ سے آہستگی، شگفتہ سے شگفتگی، شایستہ سے شایستگی، زندہ سے زندگی، پختہ سے پختگی، اور آزردہ سے آزردگی وغیرہ۔

اگر ایسا نہیں ہے تو ’گی‘ کا استعمال درست نہیں: جیسے ناراض سے ناراضگی نہیں ناراضی لکھیں گے اور بولیں گے اور ادا سے ادائیگی نہیں بل کہ ادائی لکھیں گے اور بولیں گے۔

’ہا‘ اور ’ھ‘

’ہا‘ کا استعمال تو عام ہے۔ اس کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ ملفوظی ہے۔ جیسے: یہاں، جہاں، کہاں، بہت اور مہینا وغیرہ لیکن ’ھ‘ جسے دو چشمی ہا بھی کہتے ہیں، اس کا استعمال ہمیشہ کسی حرف کو ہندیانے کے لیے ہوتا ہے۔ وہ حروف جنھوں نے دوچشمی ہا کی مدد سے ہندی کا جامہ پہنا ہے، وہ درجِ ذیل ہیں:

بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ، رھ، ڑھ، کھ، گھ، لھ، مھ، نھ، وھ، یھ۔

دو چشمی ہا کا اصطلاحی نام ہاے مخلوط بھی ہے۔ اس کی آواز اپنے سے پہلے والے حرف میں شامل ہوکر نکلتی ہے۔جیسا کہ آپ نے بالا حروف سے اندازہ کیا ہوگا۔ ہاے مخلوط کے حرف کو دوچشمی ہا سے ہی لکھیں گے۔ اگر کسی نے مجھے، تھے، چولھے، ننھا، جھاڑو، انھیں، انھوں نے، تمھیں، تمھارے، جنھیں، سیدھا، پڑھناوغیرہ کو ہاے ملفوظی سے مجہے، تہے، چولہے، جہاڑو، انھیں، جنھیں، تمھیں، انھوں نے، تمہارا، تمہاری وغیرہ لکھ دیا تو یہ غلط املا ہوگا۔ اِن تمام الفاظ میں ہمیشہ ہاے مخلوط ہی استعمال کریں گے۔ میر کا مشہور شعر ہے        ؎

سرھانے میر کے آہستہ بولو

ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے

اِس شعر کے پہلے مصرعے میں لفظ ’سرھانے‘ کو اگر ہم ’سرہانے‘لکھ دیں گے تو املا بھی غلط ہوگا اور ایک عظیم شاعر کے شعر کو ساقط الوزن کرنے کے بھی مرتکب ہوں گے۔اس سلسلے میں یہ بات بھی ملحوظ رکھنے کی ہے کہ جس طرح سے ہاے مخلوط والے حروف کو ہاے ملفوظ سے لکھنا اِملے کا عیب ہے، اسی طرح سے ہاے ملفوظ والے حروف کو ہاے مخلوط (ھ) سے لکھنا بھی ایک بڑا عیب ہے۔ جیسے:

ہے کوھے، ہو کو ھو، ہمیں کو ھمیں، ہونا کو ھونا، ہند کو ھند، ہم کو ھم، لاہور کو لاھور اور

 ہوا کو ھواوغیرہ لکھنا۔

الفاظ کو الگ الگ لکھنا

اردو کو آسان، زیادہ قابلِ فہم اور حسین بنانے کے لیے علما ے زبان و بیان نے بعض لفظوں کو الگ الگ کرکے لکھنے کی سفارش کی ہے۔ ایسی صورت میں درجِ ذیل الفاظ کو الگ الگ لکھنا زیادہ مناسب ہوگا:

لے کر، دے کر، کے لیے، اس کا، ان کا، جن کا، اس میں، دل میں، اَن پڑھ، اَن جان،

 بے اثر، بے خوف، بے قرار، بے حیا، بے عزت، فن کار، شاہ کار،

دولت خانہ، دانش مند، دانش ور، طاقت ور، عقل مند، پان دان وغیرہ

بہ

بہ کو ہم چاہے جس معنیٰ میں استعمال کریں، اِسے الگ ہی لکھا جائے گا۔ جیسے:

بہ نظر اصلاح، بہ دقت، بہ رنگِ میر، بہ عافیت، بہ خیریت، بہ صد ادب و احترام،

 بہ ذاتِ خود، بہ ہر صورت، بہ ہر حال، بہ قدرِ ضرورت، بہ مشکل، بہ غور وغیرہ

دو لفظوں کے درمیان بھی ’بہ‘ کا استعمال الگ ہی رہے گا۔ جیسے:

ماہ بہ ماہ، دم بہ خود، دم بہ دم، جاں بہ لب، سر بہ سجدہ،صحرا بہ صحرا، صدا بہ صدا،

کو بہ کو، شہر بہ شہر وغیرہ

واو

اردو میں بعض الفاظ ایسے ہیں، جن میں اصول اور قاعدے کے بغیر درمیان میں کبھی کبھی واو کا اضافہ کردیا جاتا ہے۔ جب کہ وہاں ان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ الفاظ یہ ہیں:

اُس، اُن، دکان، مٹاپا، لُہار، اُدھار، دہرایا، دہرانا،  پہنچا، پہنچ، خرد (چھوٹا)اور ہندستان وغیرہ۔

البتہ خورد (کھانے کے معنیٰ میں) واو سے لکھا جائے گا، جس کا مصدر خوردن ہے۔

مذکورہ بالا تمام الفاظ میں واو کی نہیں صرف پیش کی آواز آئے گی۔ رُومال فارسی کے دو لفظوں سے بنا ہے۔ ’رو‘ کے معنیٰ چہرے کے ہیں اور ’مال‘فارسی کے مصدر مالیدن سے ہے، جس کے معنیٰ مَلنے کے ہیں، اس لیے اِسے ہمیشہ واو کے ساتھ لکھیں گے۔ لیکن واو کبھی حسب ضرورت ملفوظی رہے گا اور کبھی محض مکتوبی۔

واضح رہے کہ درج ذیل الفاظ میں واو کا استعمال ہوگا۔ مگر ملفوظی نہیں مکتوبی:

دو آتشہ، دوبارہ، دوپلّی، دوپلّا، دو پٹّا، دو چار، دو چند، دو دھاری

دوسالہ، دوشالہ، دوزانو، خوشامدی، دوشنبہ، دوگانہ، دولتّی، دومحلا،

دوبالا، دومنزلہ، دو ورقہ وغیرہ

واوِ معدولہ

درج ذیل الفاظ میں واو صرف مکتوبی رہے گا۔ ان میں صرف الف کو پڑھیں گے:

خواب، خواجہ، خواجہ تاش، خوار، درخواست، خواہ مخواہ، دسترخوان وغیرہ۔

خورشید اور کم خواب کو بعض لوگوں نے واو کے بغیر لکھا ہے۔ لیکن ماہرین لسانیات نے واو کے ساتھ لکھنے پر ہی اصرار کیا ہے۔

جُز اور جُزو

اس سلسلے میں علما نے اِس بات کی سفارش کی ہے کہ مفرد لکھنے کی صورت میں ’جُز‘ لکھیں گے اور جب فارسی ترکیب کے ساتھ لکھیں گے تو جیم اور زا کے بعد وائو بھی لگائیں گے۔ جیسے: جزوِ بدن، جزوِ لاینفک اور جزوِ لازم۔

علاقائیت زدہ الفاظ

کچھ الفاظ ایسے ہیں، جو بُری طرح سے علاقائی عیب کا شکار ہیں۔ جیسے : میں پڑھا ہوں، میں سنا ہوں، لوٹا دھل دو اور کپڑا سِل دو وغیرہ۔حالاں کہ میں نے پڑھا ہے، میں پڑھ چکا ہوں، میں نے سناہے، میں پہلے بھی سن چکا ہوں، برتن دھو دو، کرتا سی دو، لکھنا درست ہے۔ دھل اور سِل میں مفعولیت ہے۔ جیسے: برتن دُھل گیا ہے، کرتا سِل گیا ہے۔

عدمِ یک سوئی کے الفاظ

اردو میں ایسے الفاظ بڑی تعداد میں ہیں، جن کی لکھاوٹ کے معاملے میں لوگ یک سو نہیں ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں:

لیے، دیے، کیے، جیے، سیے، لیجیے، دیجیے، کیجیے، آئیے، کھائیے، گائیے،

چاہیے، سوچیے،دیکھیے۔

انھیں کوئی ہمزہ سے لکھ دیتا ہے اور کوئی ہمزہ اور یا دونوں سے۔صحیح طریقہ یہ ہے کہ اگر یاے مجہول سے پہلے والے حرف کے نیچے زیر ہے تو یاے مجہول کے نیچے یا کے دو نقطے لگائیں گے۔ جیسا کہ اوپر لکھا ہوا ہے۔ اگر یاے مجہول سے پہلے والے حرف پر زبر ہے تو یا ے مجہول پر ہمزہ لگائیں گے۔ جیسے : آئے، کھائے اور گئے۔

تماشا، معما

غالب کا مشہور مصرع ہے       ؎

تماشاے اہلِ کرم دیکھتے ہیں

ایک دوسرے شاعر کا مصرع ہے      ؎

حل ہوسکا نہ ہم سے معماے زندگی

یہ دونوں مصرعے یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ ان الفاظ کا درست املا تماشا اور معما ہے۔ تماشہ اور معمہ لکھنا درست نہیں ہوگا۔

اِعراب

اردو میں اعراب کا التزام نہیں ہوتا۔ لیکن بعض موقعوں پر یہ ناگزیر ہوجاتا ہے۔ مصنف یا محرّر کو اِس ناگزیریت اور ضرورت کا خود احساس ہونا چاہیے۔ اس کا کوئی قاعدہ نہیں وضع کیا جاسکتا۔ خداے سخن حضرتِ میر کا شعر ہے     ؎

دلّی کے نہ تھے کوچے اوراقِ مصور تھے

جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی

شعر کے پہلے مصرعے میں لفظ ’مصور‘استعمال ہوا ہے، اسے واوکے زبر کے ساتھ بھی پڑھا جاسکتا ہے اور واو کے زیرکے ساتھ بھی۔ دونوں کے الگ الگ معنیٰ ہیں۔ اگر لکھنے والا اس لفظ پر اعراب لگا دیتا تو قاری کو شعر کے مفہوم تک پہنچنے میں دیر نہ لگتی۔ خصوصاً کسی حرف کے مشدّد ہونے کی صورت میں حرکت کی زیادہ ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

عطف اور اضافت

دو لفظوں کے درمیان اور کے معنیٰ میں استعمال ہونے والے ’واو‘ کو عطف کہتے ہیں۔ جیسے:

صبح و شام، مکّہ و مدینہ، نماز و روزہ، روز و شب، قیام و طعام وغیرہ

کسی لفظ کو کسی لفظ سے منسوب کرنے کے لیے اس کے آخری حرف کو زیر کے ساتھ لکھنے اور پڑھنے یا بولنے کو اضافت کہتے ہیں۔ جیسے:

کتابِ حیات،  روشنیِ حرا،   نورِ چشم،   شرحِ کتاب  وغیرہ

اس سلسلے میں یہ بات خصوصیت کے ساتھ یاد رکھنے کی ہے کہ عطف یا اضافت کا استعمال صرف عربی و فارسی الفاظ میں ہوگا۔ بہ صورتِ دیگر عطف کی بہ جاے اور، اور زیر کے ساتھ اضافت کی بہ جاے کا،کی اور کے کا استعمال ہوگا۔ جیسے:

دن اور رات،  سونا اور جاگنا،  چوری اور ڈکیٹی،   چوری اور سینہ زوری

رنگ اور روپ وغیرہ

یہاں دن و رات، سونا و جاگنا، چوری و ڈکیٹی، چوری و سینہ زوری یا رنگ و روپ لکھنا اور بولنا غلط ہوگا۔

اسی طرح دل کی دھڑکن،  اسکول کا وقت،  دل کی بات لکھیں گے۔ یہاں دھڑکنِ دل، وقتِ اسکول اور باتِ دل لکھنا غلط ہوگا۔

رُموزِ اوقاف

اوقاف، وقف کی جمع ہے۔ وقف کے معنیٰ ٹھہرنے اور رُکنے کے ہیں۔ جن علامتوں سے جملوں کی صحیح و مناسب تقسیم ہوتی ہے اور ان کے مختلف ٹکڑوں کو صحیح طور پڑھنے اور سمجھنے میں مدد ملتی ہے، اُن کو اوقاف کہتے ہیں۔ یہ اوقاف ہر زبان کی کتابوں اور عبارتوں میں اپنے اپنے انداز سے ہوتے ہیں۔ اہلِ علم و دانش اُن کا پورا لحاظ رکھتے ہیں۔ اُن کے بغیر جملے کچھ سے کچھ ہوجاتے ہیں۔ اُنھیں پڑھنے، سمجھنے اور صحیح نتیجے تک پہنچنے میں دقت پیش آتی ہے۔ ایک اچھے اور باسلیقہ مصنف یا محرّر کی ایک ذمّے داری یہ بھی ہے کہ وہ اُن اوقاف کا پورا پاس و لحاظ رکھے اور اُن کے ذریعے سے اپنی تصنیف و تحریر کو آسان، لائقِ مطالعہ اور قابلِ فہم بنائے۔

اُردو میں درج ذیل آٹھ علامات ہیں، جن کی مدد سے جملوں کو آراستہ اور آسان کیا جاتا ہے:

  1.       سکتہ    —:       ،  
  2.       وقفہ    —:       ؛
  3.    رابطہ  : —     :      
  4.      ختمہ    —:        ۔
  5.       سوالیہ  —:       ؟ 
  6.       ندائیہ، فجائیہ  !— :
  7.      قوسین :   —   (   ) 
  8.      واوین             —:       ’’ ‘‘

.1        سکتہ( ،)

سکتہ کی علامت یہ ہے:،۔  یہ اپنے انگریزی نام کاما (Comma) سے زیادہ مشہور ہے۔عبارتوں کو حسین، دل کش اور سہل الفہم بنانے میں سکتہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سکتہ، خصوصاً ایسے موقعوں پر استعمال کیا جاتا ہے، جب دو یا دو سے زیادہ کلمے ایک ہی ساتھ آئیں۔ ایسی صورت میں پہلے ایک، دو یا اس سے زائد کلموں کے آگے سکتے کی علامت(،) لگادی جاتی ہے اور آخری کلمے سے پہلے ’اور‘ کا اضافہ کردیا جاتا ہے۔ جیسے:

رشید ایک ذہین، محنتی اور سنجیدہ نوجوان ہے

میر کی شاعری آسان، عام فہم اور معنیٰ خیز ہے

تم بازار سے آتے وقت کچھ آم، خربوزے اور کیلے لیتے آنا

ندائیہ جملوں میں اس طرح استعمال کریں گے:

جناب صدر، معزز سامعین، مائو، بہنو اور بیٹیو!

اے مری قوم کے نام ور شاعرو!

اے عالمو، حافظو اور قاریو!

دو جملوں کے درمیان اس طرح استعمال کریں گے:

*      صبح ہو کہ شام، رات ہو کہ دِن ہمیں اللہ کو یاد کرتے رہنا چاہیے۔

*      انسان کو ہمیشہ، ہر لمحہ اور ہر حال میں اپنا جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔

ایک ہی ڈھنگ کے جملوں کے درمیان، اس طرح استعمال کریں گے:

*      میں یہاں آیا، وہاں گیا اور دن بھر یوں پھرتا رہا

دو ناموں کے درمیان اس طرح استعمال کریں گے:

*      سہیل، دہلی سے واپس آگیا

*      الفاروق، شبلی کی شاہ کا ر تصنیف ہے

.2     وقفہ (؛)

سکتہ چھوٹے ٹھہرائو کے لیے آتا ہے، جس کی علامت ’ ،  ‘ہے۔ وقفہ، سکتہ سے کچھ زیادہ ٹھہرائو کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کی علامت (؛) ہے۔

جب کئی جملوں یا ٹکڑوں کے درمیان سکتہ ہو تو اس صورت میں آخری ٹکڑے کے بعد نسبتاً لمبا توقف کرنا پڑتا ہے۔ اس مقام پر وقفہ کا استعمال کریں گے۔جیسے:

محنت، مستعدی، احساسِ ذمے داری؛ یہ سب آج کی نسل میں مفقود ہیں۔

.3     رابطہ (:)

کسی کا قول نقل کرنے کے لیے، کوئی حوالہ دینے کے لیے یا کسی بات کی تشریح و توضیح سے پہلے رابطہ استعمال کیا جاتا ہے۔اس کی علامت (:) ہے۔ مثلاً:

فارسی کے تین معروف شاعر یہ ہیں:

سعدی، جامی اور حافظ

یہ اقبال کا شعر ہے      ؎

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے، ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

علامت رابطہ کو تفصیلیہ بھی کہتے ہیں۔

.4     ختمہ(۔)

ختمہ  اپنے انگریزی نام ڈیش سے زیادہ جانا جاتا ہے۔اس کی علامت (۔) ہے۔ جب کوئی جملہ مکمل ہوجاے تو ختمہ (۔) لگاتے ہیں۔ جیسے:

میں لکھنؤ میں رہتا ہوں۔

مجھے کل بمبئی جانا ہے۔

.5     واوین  )’’— ‘‘)

واوین کا استعمال اس وقت ہوتا ہے، جب کسی کی کوئی بات یا کسی کا کوئی خاص جملہ نقل کریں۔ اس بات یا جملے کے شروع اور آخر میں واوین (’’    ‘‘) کی علامت لگائیں گے۔ تاکہ یہ بات واضح رہے کہ متذکرہ بات یا جملہ کہاں سے کہاں تک ہے۔

 چونکہ کمپیوٹر میں واوین کا استعمال کسی قدر بدنمائی پیدا کردیتا ہے، اس لیے بعض اہل علم دونوں طرف صرف ایک ایک علامت لگاتے ہیں۔ جیسے:

نظیراکبر آبادی کی نظم ’آدمی نامہ‘ ہے۔

نام ور عالم و محقق اور ماہر لسانیات پروفیسر نثار احمد فاروقی ؒنے آخر میں یہی رویہ اختیار کرلیا تھااور ہمارے ممدوح اور مشہور عالم و مصنف مولانا سیّد جلال الدین عمریؒ بھی اِسی پر عمل کرنے لگے تھے۔

.6     ندائیہ، فجائیہ (!)

ندائیہ کو فجائیہ بھی کہتے ہیں۔یہ علامت کسی کو مخاطب کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ جیسے:

صدرِ محترم!،  پیارے بھائی!   ساقیا!   خدایا!

اکمل! کل تم کہاں تھے؟

غالب کا مشہور مصرع ہے    ؎

جب توقع ہی اٹھ گئی غالب!

جب تخاطُب میں کسی قسم کا غصہ، افسوس، تعجب یا تکلیف کی کیفیت ہو تو یہ علامت فجائیہ کہلاتی ہے۔ جیسے:  افّوہ!   بھیا بس کرو!،   وہ اور شرافت!   افسوس صد افسوس!

.7     سوالیہ (؟)

اگر کسی جملے میں سوال یا دریافت طلب بات ہو تو اسے سوالیہ کہتے ہیں۔ اس کی علامت (؟) ہے۔ جیسے:

کیا اذان ہوگئی؟،  حامد کہاں گیا؟

سوالیہ کو اِستفہامیہ بھی کہتے ہیں۔

.8     قوسین  (    )

قوسین کا استعمال عموماً جملۂ معترضہ میں کیا جاتا ہے۔ جیسے: سیّد ابوالاعلیٰ مودودی (جو جماعت اسلامی کے بانی امیر بھی تھے) انھوں نے تفہیم القرآن کے نام سے قرآنِ مجید کی تفسیر لکھی ہے۔

کبھی کبھی کسی بات کی وضاحت کے لیے اِسے استعمال کرتے ہیں۔ جیسے: مولانا عامر عثمانی اپنے عہد کے نام ور سخن ور (شاعر) تھے۔

قوسین کی علامت (     ) بھی ہے اور [     ] بھی۔

میں نے اس مختصر سے وقت میں تصنیف و تحریر کی اہم ضروریات کے پیشِ نظر زبان و بیان اور تلفظ و املا کے سلسلے کی چند باتوں کی نشاں دہی کی ہے اور اُن اصولوں اور قاعدوں کی بھی کسی قدر صراحت کردی ہے، جو میں نے لسانیات کے علما کی صحبتوں اور اُن کی کتابوں سے سیکھے ہیں۔ جیسا کہ عرض کرچکا ہوں کہ یہ میدان بہت وسیع ہے۔ کسی چھوٹے سے مضمون یا مختصر سی صحبت میںاِس کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ میں نے صرف قاری یاسامع کو زبان و بیان اور تلفظ و املا کے سلسلے میں احساس دلایا ہے اور زبان و بیان اور املا کی اہمیت واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔

زبان و بیان اور تلفظ و املا کے سلسلے میں ہندو پاک میں بہت کام ہوا ہے۔ کتاب خانوں اور لائبریریوں میں اِس موضوع پر بے شمار کتابیں ملتی ہیں۔ اس موضوع پر کام کرنے والوں میں صفِ اوّل کے علما و دانش ور شامل ہیں۔ان میں مولوی عبدالحق، نثار احمد فاروقی، عبدالستار صدیقی، شان الحق حقی، شوکت سبزواری، رشید حسن خاں، شمس الرحمن فاروقی، گوپی چند نارنگ، اطہر ہاشمی، رفیع الدین ہاشمی اور ابونثر احمد حاطب صدیقی کے نام خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں۔بڑی تعداد میں لوگوں نے ان سے استفادہ کیا ہے اوراپنی تحریروں، تقریروں اور تصانیف میں ان کی تجویزوں، سفارشوں اور وضع کردہ قاعدوں کو برتا بھی ہے۔ آپ حسب سہولت ان کتابوں، رسائل اور مضامین کو دیکھیں گے تو اِن شاء اللہ فائدہ ہوگا۔آپ کی تحریر و تقریر میں دل کشی پیدا ہوگی۔

 

Dr. Tabish Mehdi

G5/A - Abul Fazl Enclave

Jamia Nagar, New Delhi - 110025 (INDIA)

Ph: 26970736 Cells:  9818327947

E-mail: drtabishmehdi@gmail.com 

طباعت اور صحافت: محمد مجید بیدار

 

طباعت اور صحافت

عالمی سطح پرجب چھاپہ خانے کی ایجاد ہوئی تو اس کے ساتھ ہی مختلف قسم کے نئے امکانی وسائل کو فروغ کے مواقع فراہم ہوگئے۔ فرانس کی نشاۃ الثانیہ کے نتیجے میں انسانی ہاتھ کے بجائے مشینوںکی کارکردگی کی وجہ سے کام کی رفتاراور پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہوگیا۔چنانچہ ہر شعبہ حیات کی ترقی کے معاملے میں مشینوںکی ضرورت اور اہمیت کی وجہ سے انسانی زندگی پرمشینوںکی حکمرانی کاسلسلہ شروع ہوا۔اگرچھاپہ خانہ نہ ہوتاتوبلاشبہ عالمی سطح سے متعلق ہر ترقی کا مرحلہ خطرے کا شکار ہوجاتا۔ بہرحال کاغذکی صنعت کوبھی مشینوںکی تیاری کی وجہ سے شہرت حاصل ہوئی اورمخصوص ہاتھ سے کاغذ بنانے کی صنعتوں کے بجائے مشینی صنعت کی رفتار سے کاغذ کی پیداوار میںاضافہ ہوگیا۔ اسی طرح قدیم دورمیں مٹی کی تختیوں اورچمڑوں پرلکھنے کے علاوہ پتھرکی تختیوں اورکھجورکی شاخوں کے علاوہ چھالوں پرلکھنے کی تاریخی خصوصیات کے بجائے کاغذ پرلکھنے اوراسے پیش کرنے کی روایت شروع ہوئی، جس کے نتیجے میںصحافت کو فروغ حاصل ہوا۔ بیک وقت صحافت کی ترقی جہاں اخبارکی صنعت کی پروردہ ہے، وہیں کاغذ سازی اور سیاہی کی تیاری کے معاملے میں انسانی ہاتھ کے بجائے کارخانوں کی صنعتوں کی وجہ سے دیگرکاموں کے علاوہ صحافت کوفروغ حاصل ہوا۔ عالمی سطح پراسپین، سسلی اورترکی کے راستے سے یوروپ کے ملکوں میں دستی کاغذسازی کافن فروغ پانے لگا۔ اس دور تک دستی کاغذہی عام طورپراستعمال ہوتا تھا۔

 سب سے پہلے انگلستان میں 1492 میں کاغذ سازی کاکارخانہ قائم ہوا،جس کے بعدچھالوں اور چمڑوں پرلکھنے کے بجائے انگلستان میں کاغذپرلکھنے کی روایت شروع ہوئی۔ بڑی بڑی مشینوںسے کاغذتیار کیا جانے لگا اور مشینوں سے کاغذکی تیاری کی وجہ سے طباعت کوفروغ حاصل ہوا۔ پرنٹنگ کی کہانی بھی بڑی عجیب ہے، کیونکہ قدیم زمانے میں ایران ، عراق ،شام اور ترکی کے باشندے مٹی کی تختیوں پرلکھا کرتے تھے۔ گیلی مٹی کی تختیوں پرتصویریں اتارنے کا رواج قدیم مصرکے باشندوں میںموجود رہا۔ ان تمام پرانی چیزوں پرترقی کااثر اس وقت دکھائی دیتا ہے جبکہ کاغذ بنانے کے لیے مشینوںکاآغاز ہوااور قدیم دور میں موجود طریقے جیسے گوند، کاجل اورپانی کوملاکر روشنائی یاسیاہی بنائی جاتی تھی۔ اس کے بجائے کارخانوں میں سیاہی کی تیاری کا آغاز ہوگیا تواس طریقے سے پرنٹنگ پریس یاپھرطباعت کے لیے پکی سیاہی کی تیاری آسان ہوگئی۔ہر زبان کی تحریر  کے طریقے مختلف ہوتے ہیں۔ ایشیائی ممالک میں موجودبے شمار زبانوں میں تحریر لکھنے کی روایت بھی جداگانہ ہے۔کچھ زبانیں سیدھی جانب سے لکھی جاتی ہیں،  جن میں عربی ،فارسی ،اردو اور دوسری زبانیں شامل ہیں، جبکہ کچھ زبانیں بائیں جانب سے سیدھی جانب لکھی جاتی ہیں، جن میں سنسکرت، ہندی، انگریزی، فرانسیسی، جرمنی کے علاوہ ہندوستان کی دوسری مقامی زبانیں شامل ہیں۔ کچھ زبانوں کوریاضی کے ہندسوں کی طرح لکھا جاتا ہے جو اوپر سے نیچے کی طرف تحریرکی جاتی ہیں۔ چینی، جاپانی اور دوسری زبانیں اسی انداز کی نمائندہ ہیں۔ قدیم تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کاغذسازی کی صنعت کا آغاز134ھ مطابق 751ء  کے دوران عربوں کی جانب سے سمرقند کا علاقہ فتح ہونے کے بعد چند چینی کاغذسازوں کوگرفتار کیا گیا، جن سے عربوںنے کاغذسازی کی صنعت کا ہنر سیکھا۔ چنانچہ مسلمان دورحکومت میں کاغذ سازی کی صنعت کودستی صنعت کادرجہ حاصل ہوگیا۔مشرق کے مشہور شہروں سمرقند، بخارا، بغداد، دمشق، قاہرہ اورقرطبہ میں کاغذ کے دستی کارخانے قائم ہونے لگے۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں جیسے کشمیر،دولت آباد اوراحمد آباد میں بھی کاغذسازی کے دستی کارخانوںکو فروغ حاصل ہوا۔ ہندوستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا مشہور کاغذ  سمرقندی کاغذکہلاتا تھا۔ غرض صحافت کی سب سے بڑی ضرورت کاغذاور سیاہی اور اشاعت کے مرحلے میں طباعت کی ضرورت سے انکارنہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح طباعت کی تکمیل یا پرنٹنگ پریس کی موجودگی کی وجہ سے ہی صحافت کی ترقی کے راستے ہموارہوئے۔ صحافت چاہے کسی بھی زبان کے اخبار سے تعلق کیوں نہ رکھتی ہو، یا ادبی رسائل سے متعلق کیوں قائم نہ ہو، علم وفن اورتہذیب وثقافت کے ساتھ ساتھ شعرو ادب کی نمائندگی کے جدید طریقوں میں چھاپہ خانے کی موجودگی سے انکارنہیں کیا جاسکتا۔

دنیا میں سب سے پہلے جرمنی کے شہرمینزجیسے مقام پرگوٹنبرگ نامی جوہری نے مہر بنانے اورآئینہ سازی میں مہارت حاصل کی۔ اس کا مشغلہ ہی یہی تھا کہ وہ ہیرے جواہرات کو تراشنے اورآئینوںکو کاٹنے کا کام کیا کرتا تھا۔ اس نے سب سے پہلے حروف کاٹنے اورحروف بنانے کی بنیاد رکھی۔جرمنی کے مقام پر1471 میںسب سے پہلے ولیم کیکسٹن نامی انگریز نے فن طباعت کے طریقے پرتوجہ دی، پھرجرمنی کے توسط سے یہ فن انگلستان منتقل ہوا جہاں ویسٹ منسٹرنے اپنا ذاتی خانگی پریس قائم کیا۔جس کے ذریعے ہاتھ سے لکھی جانے والی کتابوں کو مشین کے ذریعے اشاعت یاچھاپنے پر توجہ دی گئی۔فن طباعت کی ترقی میں پرنٹنگ پریس یامطبع کی اہمیت سے انکارنہیں کیاجاسکتا۔ آج بھی ساری دنیا میں اخبارات اور رسائل کی اشاعت اس لیے ممکن ہوگئی ہے کہ اس کے توسط سے کاغذپر سیاہی کے ساتھ بہ یک وقت کئی ہزارصفحات کی اشاعت کے طریقے ایجاد ہوچکے ہیں۔ پرنٹنگ پریس کے ذریعے ایسی سہولت فراہم ہونے کی وجہ سے صحافت کے پیشے اور اخبارات کی اشاعت کے لیے ماحول تیار ہوگیا۔اس پس منظر میں صحافت کی تمام تر ترقی کوپرنٹنگ پریس کی مرہون منت قرار دینامناسب قرار دیا جائے گا ، جہاں کاغذ پر کبھی نہ مٹنے والی تحریرکی اشاعت ممکن ہوجاتی ہے ، اسی لیے صحافت کی تمام ترترقی کوپرنٹنگ پریس یاطباعتی مرکز یا چھاپہ خانے کی ضرورت کادرجہ حاصل ہو جاتا ہے۔اخبار ہو یارسالہ یاجریدہ، ہرایک کی اشاعت کے لیے نہ صرف پرنٹنگ پریس کی ضرورت ہوتی ہے، بلکہ اس کے ساتھ ہی اخبار کے مختلف شعبہ جات سے وابستہ افرادکی عمدہ کارکردگی کی وجہ سے ہی اشاعت کے مرحلے تکمیل تک پہنچتے ہیں۔ اس لیے ادبی صحافت ہویااخباری صحافت ، ان دونوں معاملات کی تکمیل کے لیے جہاں کاغذکی موجودگی ضروری ہے، وہیں سیاہی یاروشنائی کے علاوہ اس کی چھپائی کی تکمیل کے بغیرصحافت کی ذمہ داریوںکومکمل نہیںقرار دیاجاسکتا، ا س طرح ساری دنیا کی زبانوں میں شائع ہونے والے مواد کاتعلق مختلف چھاپہ خانوںکی بروقت کارکردگی کا مرہون منت ہے۔جن کے ذریعے معلومات کی فراہمی ہی نہیں، بلکہ عام انسان تک اہم معلومات کی دسترس کے لیے ان وسائل کے استعمال سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

صحافت درحقیقت عربی زبان کاایسا لفظ ہے جواردو میں فارسی کے توسط سے منتقل ہوا۔ تاریخی پس منظر میں صحافت کی معنوی حیثیت مسلمہ حیثیت رکھتی ہے۔ لغوی اعتبار سے صحافت کی تعریف اور وضاحت اوراس کی صداقت کے ساتھ ساتھ قدامت کے بارے میں مختلف حقائق موجود ہیں۔ عام زبان میں صحافت کے ذریعے اخبار نویسی ہی نہیں، بلکہ اخبارات یاجرائد کی زندگی کے لیے نامہ نگاری یاپھر خبر رسانی کے طریقوں کی تکمیل کی جاتی ہے۔ لازمی طورپر صحافت کے حقیقی مفہوم میں وہ تمام علوم وفنون اور تفریح کے علاوہ کھیل کود، جرائم اور اطلاعات کے وسائل شامل ہوجاتے ہیں، جن کے ذریعے کوئی اخباریارسالہ شہریوں، عام انسانوںاوراہل زبان کو معلومات فراہم کرنے کے مواقع دستیاب ہوتے ہیں۔اس اعتبار سے صحافت ایک ایسا وسیلہ ، جس کے ذریعے کوئی بھی تحریر ایک سے زیادہ تعداد میں شائع ہوکرلوگوں تک پہنچائی جائے گی۔ صحافت کی بنیادی ضرورتوں اور اس کے آغاز اور ارتقا کے بارے میںبھرپور جائزہ لینے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ صحافت کے مختلف رویوں کوپیش نظررکھتے ہوئے یہ ثابت کیاجائے کہ اخباری صحافت اورادبی صحافت میں موجود اشتراک اورتفریق کے امکانات کیا ہیں۔  اس لیے سب سے پہلے ادبی صحافت کے پس منظر میں مختلف حقائق اورامکانات کومنظرعام پرلایاجائے گا۔

قدیم دورسے ہی عالمی ممالک کے علاوہ ہندوستان کے مختلف شہروں میں خبروںکی فراہمی کے مختلف ذرائع موجود تھے، بادشاہوںکے درباروں میں وقائع نویس اور خبرنویسوں کے علاوہ باضابطہ ڈاک وتار کے نظام کی وجہ سے اطلاعات اورمعلومات کوایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچانے کاطریقہ موجود تھا۔جدید ترقیات کے نتیجے میں دنیا میں بہت  بڑا انقلابی رجحان یہ پیدا ہوا کہ ایک وقت میں بے شمارنقول تیار کرکے انہیںدنیا کی کسی بھی زبان میں پیش کرنے کا طریقہ انسان کے قابو کاحصہ بن گیا، جس کے نتیجے میں اخباری صحافت اورادبی صحافت کی بنیادمستحکم ہوئی۔ سیاسی، معاشی، معاشرتی، سماجی اور ترقیاتی ہی نہیں، بلکہ ملک و قوم کے عروج وزوال اور مختلف تنظیمی ،  فلاحی اور خیراتی کاموں  اوران سے متعلق اطلاعات کوپیش کرنے کی ضرورت بلاشبہ کسی بھی اخباری صحافت کی دلیل ثابت ہوئی ہے۔ چنانچہ اشاعت کے وہ مرحلے جوروزنامہ، دوپہرنامہ، شامنامہ، دو روزہ، سہ روزہ،   ہفت روزہ یاپندرہ روزہ اساس کی نمائندگی کے علمبردارہوں، انہیں اخبارات کی حیثیت سے قبول کیا جاتا ہے۔ انگریزی میںNews اورViews کی نمائندگی ، جن کے ذریعے اطلاعات اورنظریات کی پیشکش کواخباری صحافت Newspaper Journalism کی وجہ قرا ر پاتی ہے، اس کے بجائے شاعری ،نثر نگاری اوراس کی مختلف اصناف کے علاوہ تحقیق و تنقیدکی نمائندگی کرنے والی صحافت کو اخباری صحافت سے بالکل مختلف اورادبی صحافت  Literary Journalism کی حیثیت سے شناخت دی جائے گی۔ اردو ادب کی خوش نصیبی یہ ہے کہ اس زبان کے املا، انشااورطرز تحریر کے علاوہ پیشکش کی مختلف خصوصیات کو نمائندگی دینے کے سلسلے میں نہ صرف اخباری صحافت کوعروج حاصل ہوا،بلکہ ادبی صحافت بھی فروغ پانے لگی۔جیسا کہ ابتدا میں بتایا جاچکاہے کہ اخباری صحافت ہویا ادبی صحافت،ہر دونوں کی ترقی کے لیے نہ صرف کاغذاورچھاپہ خانے کی ضرورت سے انکارنہیں کیا جاسکتا، بلکہ اسی کے ساتھ اشاعت کے مرحلوںکوبھی اہمیت کا درجہ حاصل ہوجاتاہے۔ ادبی صحافت ہویا اخباری صحافت ہر دونوں کی تکمیل کئی افراد اور لکھنے والوں کی وجہ سے ممکن ہے۔ خبر رساںایجنسیوںاور نامہ نگاروں کی کوششوں کی وجہ سے اخباری صحافت کوفروغ حاصل ہوتاہے، جیسا کہ ابتدا میں بتایاجاچکاہے کہ پرنٹنگ ٹکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ اخباری صحافت ہی نہیں، بلکہ ادبی صحافت کو بھی فروغ حاصل ہونے لگا۔ ایک دور تھاجبکہ اخبارات اور رسائل اگرچہ مشین پرشائع ہوتے تھے، لیکن لیتھوپریس کی موجودگی سے ہمہ رنگی طباعت ممکن نہیں تھی ، مشین کی طباعت کے باوجود لینوٹائپ مشین اسی وقت کارگر ہوتی تھی، جبکہ مشین آپریٹر موجودہو،جو انگلیوں سے بٹن کو دباکر اشاعت کاکام انجام دیتاتھا۔ کیلاٹائپ مشین بھی اردو میںاشاعت   اورچھپائی کی ضرورت بنی ،لیکن موجودہ دور میں رنگین طباعت اور آفسیٹ پریس کی وجہ سے پرنٹنگ ٹکنالوجی نے کافی ترقی کرلی ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف اخبارات اور کتابیں اوراس کے ساتھ ہی رسائل وجرائد کی تیزرفتار اشاعت میں اضافہ ہوگیا ہے بلکہ مختلف سائز کے علاوہ مختلف رنگوں کے ساتھ نہ صرف نقاشی کے نمونے چھاپہ خانے کے ذریعے پیش ہورہے ہیںبلکہ اب توایسامحسوس ہونے لگا ہے کہ پرنٹنگ ٹکنالوجی کی ترقی اور آفسیٹ مشین کی ترقی یافتہ رنگین طباعت کی وجہ سے اخبارات ورسائل کے علاوہ کتابوںکی خوشنمااشاعت کوفروغ حاصل ہوچکاہے۔

اخباری صحافت کے توسط سے بلاشبہ اطلاعات اورنظریات پیش کرنے اوران سے اختلاف کی گنجائش بھی باقی رہتی ہے۔ ادبی صحافت میں تحقیق و تنقیدکے ذریعے اختلاف رائے کی گنجائش موجود ہوتی ہے تاہم ادبی صحافت کے تمام نکات شعری اورنثری اصناف  کے علاوہ ہر دورمیں ان کی ترقی یا تنزل اور ان کے تاریخی پس منظر سے آگاہی  سے وابستہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اخباری صحافت  کے ساتھ ساتھ اردو کی ادبی صحافت کی سرگرمیوں کوبھی فروغ حاصل ہوا۔ عام طورپریہ سمجھاجاتاہے کہ صحافت کی تفہیم ہی مخصوص اندا زکی نمائندگی ہے۔ اس سلسلے میں صحافت کی تاریخ نہ صرف ادبی پس منظر میں ترقی کرنے لگی بلکہ علمی اورعملی سطح پر بھی ان کی ترقیات کادائرہ  حد درجہ وسیع ہے۔ لازمی ہے کہ اخباری صحافت کا موضوع اپنی مخصوص شناخت رکھتا ہے لیکن ادبی صحافت کے پس منظر میں اس حقیقت کااعتراف کیاجانا ضروری ہے کہ طباعت کی ترقی کی وجہ سے جہاں عالمی سطح پر اخباری صحافت کوفروغ حاصل ہواوہیں ادبی صحافت بھی ادبیات کے نثرونظم کے پس منظرمیںاہمیت کی حامل ہوگئی ہے۔ دنیا کے بے شمار ممالک اورلاتعداد زبانوں میں اخباری صحافت اور ادبی صحافت کے بے شمار نمونے منظر عام پرآگئے۔ ہندوستان جیسے کئی زبانوں کے ملک میںصحافت کی نمائندگی کے دوران ادبی اوراخباری صحافت کے نمایاں نقوش واضح ہوچکے ہیں۔ اس لیے اخباری صحافت کے علاوہ ادبی صحافت کی ترقی کے پس منظرکو پیش کرناضروری ہے۔ اس موضوع کے ذریعے اخباری صحافت کے بجائے ان رسائل وجرائد پرگفتگوکی جائے گی ،جن کاتعلق علم وفن اور ادبیات سے گہراہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو رسائل و جرائدکی تاریخ کے محاکمے پر توجہ دی جائے۔ ایسے جرائد ورسائل نہ صرف طبی اور تعلیمی حیثیت سے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، بلکہ یہ کہاجائے تو بیجانہ ہوگا کہ اردو دنیامیںرسائل کا مرحلہ کافی وسیع ہے۔ سیاسی،معاشی اورمعاشرتی ترقیات اورتنزل کو اخبارات اور صحافت کے ذریعے اوراطلاعات کی حیثیت سے پیش کیاجاتارہا،جبکہ رسائل کے توسط سے قانونی رسائل، زرعی رسائل، تعلیمی رسائل،اقتصادی رسائل، تدریسی اور خواتین کے رسائل ، بچوں کے رسائل کے علاوہ گلدستے  اور ایسی ہی موضوعاتی درجہ بندی سے اندازہ ہوتاہے کہ اردو دنیامیں جہاں اخباروں کی صحافت نمایاں ہے، وہیں علمی اورادبی رسائل کی بے شماراشاعتوں سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا۔ مطبع یا چھاپہ خانے کی شروعات کے بعد ہی عالمی سطح پراخبارات ورسائل کاسلسلہ دنیا کی بے شمار زبانوں میں عام ہوا۔ ادبی رسائل و جرائدمیںبھی مختلف قسموںکی نمائندگی ہوتی ہے ، جن کے ذریعے شعری اور نثری اصناف کے علاوہ تنقید و تبصرہ کی گنجائش برقرار رہتی ہے۔ ان ادبی خصوصیات کے علاوہ واقعات اور ادبی خبروںکی اشاعت بھی ادبی صحافت کا حصہ قرار پاتی ہے۔ کسی بھی زبان میں شائع ہونے والے رسائل کا طریقہ اخبارکے انداز سے جداگانہ ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسائل اور جرائد کی شناخت اور اس کی ساخت اخبار سے مختلف ہوتی  ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ماہنامے، دوماہی ،سہ ماہی ، ششماہی اورسالنامے کی اشاعت کورسائل میںشامل کیا جاتا ہے۔ رسائل کے لیے انگریزی میں استعمال ہونے والی اصطلاح Journal کی حیثیت سے شناخت کی جاتی ہے۔کسی خاص انجمن یا ادارے کی نمائندگی کرنے والے رسالے کو جریدہ ،مجلہ یا Magazineکہا جاتا ہے۔جبکہ کسی خاص فکر کی وضاحت سے وابستہ رسالے کوترجمان یاSpokesman کہا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایک اوراصطلاح انگریزی میں مروج ہے جسے Periodical قراردیاجاتاہے۔ جرنل کے لیے رسالہ یاجریدہ اور پیریاڈیکل کے لیے اردو میں یہی انگریزی اصطلاح مروج ہے، جو وقفے وقفے سے یا طویل وقفے سے شائع ہونے والے رسالوں کے لیے مختص ہے۔ ، اس قسم کے رسائل و جرائد کو انگریزی میں پیریاڈیکل قرار دیا جاتا ہے۔ 2سال یا5سال کے علاوہ دہ سالہ یا پھر پندرہ سالہ یا  20سال کے بعد کوئی رسالہ شائع کیاجائے تو اسے رسالہ یا جریدہ نہیں قراردیا جاسکتا۔ اس کے علاوہ سلورجوبلی(جشن سیمیں) گولڈن جوبلی (جشن زریں) ڈائمنڈجوبلی (جشن الماس )کے علاوہ پلاٹینم جوبلی کے علاوہ صدسالہ تقاریب پرشائع ہونے والے رسالے انگریزی زبان میں پیریاڈیکل قرار دیے جاتے ہیں۔ اس طرح ادبی صحافت کے لیے جہاں ماہنامے ،دوماہی ،سہ ماہی ، ششماہی اورسالنامے شہرت رکھتے ہیں، وہیں دو سال، پانچ سال، دس سال، پندرہ سال، بیس سال یا 25سال کے علاوہ 50سال اور60سال گزارنے اور 75سال کے وقفے میں شائع ہونے والے رسائل کی حیثیت ادبی صحافت کی دین ہے، لیکن ایسے رسائل کو انگریزی میں پیریاڈیکلس کہا جاتا ہے۔اس کے علاوہ اردو میں جنتری کے انداز سے شائع ہونے والے سالانہ رسالوں میں ہرمہینے کے اعتبار سے اہم واقعات کی تفصیلی صراحت ہوتی تھی ،اس قسم کے رسالوں کو’’ تقویم ،،کہا جاتا تھا۔ تقویم کے متبادل کے طورپر انگریزی زبان میں مستعمل اصطلاح ' Almanac' کوبھی پیریاڈیکل میںشمارکیا جاتا ہے۔

ادبی صحافت کے توسط سے ایسے تمام نقوش واضح ہوتے ہیں، جن کے ذریعے ادبی صحافت کی سرگرمیوں کو اجاگر کیاجاتا ہے۔ کسی تنظیم ، ادارے یا پھر انجمن کے علاوہ سوسائٹی کی جانب سے اس کے25 یا50سال گزارنے اور 75 سال اورسو سال پرشائع ہونے والے ادبی رسالے کوپیریاڈیکلس کی حیثیت سے شہرت حاصل ہوتی ہے۔ اردو کی ادبی صحافت میں ان تمام امکانات کی گنجائش موجودہے۔  دنیا کی ہر زبان میں اس قسم کی روایت کے موجود ہونے کاثبوت ملتا ہے۔ اخباری صحافت پربھی کتابیں لکھی جاچکی ہیں اور ادبی صحافت کی بھی نمائندگی ہوتی رہی ہے، غرض جہاں اخباری صحافت کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے وہیں ادبی صحافت کے ذریعے بھی بے شمار کارناموں کااحاطہ ممکن ہے۔ جس طرح اردو زبان کی صحافتی تاریخ میں اخبار کی حیثیت سے ’’ جامع جہاں نما،، کواہمیت حاصل ہے جو 1822میں منظرعام پرآیا جو 27 مارچ 1828 کو کولکتہ سے شائع ہونے والا ہفتہ واراخبار تھا۔اس کے ابتدائی شمارے اردومیں اورپھر فارسی میںشائع ہوتے رہے، جس کے ساتھ اس اخبار کا اردو ضمیمہ بھی شائع ہونے لگا۔ اخباری صحافت کے تمام دائرے وسیع تر ہیں، جن میں روزنامے ، دو روزہ، سہ روزہ اور ہفت روزہ کے علاوہ  پندرہ روزہ اخبارات بھی شامل ہیں، جبکہ ادبی صحافت میںماہنامہ اور دوماہی رسالوں کی کوئی کمی نہیں۔ان رسالوں کا آغاز 1837 سے ہوا، امریکہ کی مشنری سوسائٹی نے عیسائی مذہب کی تبلیغ و اشاعت کی غرض سے ایک اہم اردو ماہنامہ ’ خیر خواہ ہند‘  مرزا پوربنارس سے 1837 میں جاری کیا، جس کے ایڈیٹرلندن مشنری سوسائٹی کے پادری آرسی ماتھرتھے۔ اس جریدے کو اردو کا پہلا ماہنامہ قرار دیا جاتا ہے۔ جس میں شائع ہونے والے مضامین کا انداز فارسی اور رومن خط سے وابستہ تھا،لیکن اس کی زبان اردو تھی۔ چند سال بعد یہ رسالہ بند ہوگیا، لیکن1861 میں دوبارہ شائع ہواتو اس ماہنامے کی اشاعت میں فارسی مضامین کے علاوہ ناگری رسم الخط کوبھی شامل کیاگیا۔ اس رسالہ کی جانب سے1860 میں دومعلوماتی مضامین پرمختص کتابیں شائع کی گئیں، جو ’منتخب العلم‘ اور’ مفرح القلوب‘  کے نام سے شہرت رکھتی ہیں۔ان کتابوں کے بارے میں امداد صابری نے یہ لکھاہے کہ یہ کتابیں لیتھو طریقے پرشائع ہوئی تھیں، جن کے لیے بھاپ کی کلوں اوردخانی جہازوں کے علاوہ انگلستان کی آہنی سڑکوں کی تیاری کی طرح لیتھو طریقے پرطباعت ہوئی تھی۔ جس کے مشمولہ مضامین میں مختلف ممالک کے پرانے باشندوںکی معلومات شائع ہوتی رہیں ،غرض اردوکا پہلا روزنامہ ’جام جہاں نما‘ 1822 میں شائع ہو نے کے بعد اردو کا پہلا ماہوار رسالہ 1837 میں شائع کیاگیا۔ اس اعتبار سے اخباری صحافت کے15سال بعد ادبی صحافت کے ذریعے علمی اور تحقیقی وتنقیدی خدمات سے وابستہ رسالے کی اشاعت عمل میں آئی، اس طرح اردو صحافت میں پہلے اخباری صحافت کی کارکردگی کواہمیت حاصل ہوئی ،جبکہ ادبی صحافت کوفروغ پانے کے لیے15 سال کاوقفہ گزرگیا۔ چنانچہ آج بھی اخباری صحافت کے ساتھ ساتھ ادبی صحافت کی سرگرمیوں اورکارگزاریوں کے بارے میں مقالے ،مضامین اور تحقیق و تنقید کے ساتھ تجزیے کے طریقے رائج ہیں جوادبی صحافت کے فروغ کی ضمانت قرار پاتے ہیں۔

 

Prof. Majeed Bedar

Ex. Dept of Urdu

Usmania University

Hyderabad- (Telangana)

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...