2/11/23

اردو کے تانیثی افسانوں میں احتجاجی عناصر:عشرت صبوحی

 

جدید افسانہ آج بھی ترقی پسند افسانے کی طرح اپنے دور کا ترجمان اور عکاس ہے اور اس میں بھی سیاسی جبر، ناانصافیوں، پا مال عقائد، شکستہ اقدار اور فرسودہ نظام حیات کے خلاف شدید احتجاج پایا جا تا ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ علامت نگاروں کا طرز اظہار حقیقت پسند افسانے سے مختلف ہے اور اس میں تمام باتیں واضح اور دو ٹوک انداز میں نہیں بلکہ بالواسطہ اور علامتی پیرائے میں کہی جاتی ہیں اس کی وجہ اگر نئے دور کے افسانہ نگاروں کا قدیم پیرایۂ اظہار سے اجتناب اور نئے اسلوب کو بروئے کار لانے کی خواہش ہے تو دوسری وجہ عصر کا تقاضا بھی ہے۔

جدید افسانے کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جدید افسانہ روایتی افسانے کی طرح صرف کہانی بیان نہیں کرتا بلکہ زندگی کے تلخ حقائق اور اقدار کی شکست کے ساتھ ساتھ زندگی کی بے معنویت اور بے سمتی کا نوحہ بھی پیش کرتا ہے اور جبر واستحصال کے خلاف صدائے احتجاج بھی بلند کرتا ہے۔ جدید افسانہ نگار عصری مسائل کو جس طرح محسوس کر رہے ہیں اس سے قبل کے افسانہ نگاروں نے کبھی محسوس نہیں کیا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ جدید عہد کے معروضی حالات ماضی قریب کے حالات سے بالکل مختلف تھے۔

جدید افسانہ نگاروں نے عصری زندگی اور خاص طور پر حالیہ تاریخ کے تمام اہم واقعات پر افسانے لکھے ہیں۔ لیکن ان افسانوں کو ان کے صحیح تناظر میں دیکھنے اور سمجھنے کے لیے خاص نظر کی ضرورت ہے قاری چونکہ روایتی افسانہ پڑھنے اور زندگی کو مخصوص نقطہ نظر سے دیکھنے کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ جب ہمارے سامنے کوئی نیا انداز بیان اور زندگی اور فن کو پر کھنے کے لیے نیا معیار آتا ہے تو ذہن اسے قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا، اور قاری اپنے مخصوص اورطے شدہ  راہوں پر چلنے میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں۔

فنی نقطۂ نظر سے جدید اردو افسانوں میں واضح فرق محسوس ہوتاہے۔ اردو کا جدید افسانہ نئے تجربات سے گزرا ہے اردو میں ہیئت، اسلوب اور تکنیک میں کافی تبدیلی کے بعد نئی شکل سامنے آئی ہے بہ الفاظ دیگر ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ زبان موضوع کی تابع ہے لہٰذا نئے طرزِ اظہار کے لیے ہیئت کی تبدیلی نا گزیر تھی۔

 جدید افسانہ نگاروں میں انور سجاد، بلراج مین را، احمد یوسف، شفیع جاوید، شفیع مشہدی، غیاث احمد گدی، زکی انور، الیاس احمد گدی، جیلانی بابو، حسین الحق، شفق، شوکت حیات، عبد الصمد، شمیم افزا قمر، قمر جہاں، سلام بن رزاق، ذکیہ مشہدی، وغیرہ خاص اہمیت کے حامل ہیں درج بالا جدید افسانہ نگاروں کے افسانوں میں جدیدیت کے زیراثر استعاراتی اور مبہم انداز پایا جاتا ہے۔ جس سے تانیثیت کا بھرپور موضوع سامنے نہیں آتا جس کا تعلق میرے مقالے سے ہے لیکن ان میں بعض افسانہ نگاروں مثلا آمنہ ابوالحسن، قمر جہاں، ذکیہ مشہدی وغیرہ کے افسانوں میں عورت پر ہونے والے جبر واستحصال کا اظہار موجود ہے۔

واجدہ تبسم :  واجدہ تبسم کے افسانے بھی ایک خاص تہذیبی ومعاشرتی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں، خواتین اردو ادب میں ان کے افسانے منفرد اور بے باک رجحان کے حامل ہیں۔ ان کے بیشتر افسانوں میں سماجی اور معاشی دباؤ میں کچلی، دبی اور پسی عورتوں کی نفسیات، ذہنی رجحانات اور ذاتی رد عمل کی مکمل تصویر کشی نظرآتی ہے۔

واجدہ تبسم کا ایک مشہور افسانہ اترن ہے۔ یہ افسانہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں انھوں نے تانیثی فکر واحتجاج کی موثر ترجمانی کی ہے۔ تاریخی، سماجی اور معاشی جبر کی شکار ایک الہڑ لڑکی ’چمکی‘ کی نفسیات اور ظلم وزیادتی کے خلاف اس کا احتجاجی رویہ پوری طرح سامنے آتا ہے۔ مذکورہ افسانہ تاریخی، سماجی، نفسیاتی اور ثقافتی اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

افسانہ اترن میں ایک نسوانی کردار ’ چمکی‘ کی کہانی بیان کی گئی ہے  جو شہزادی پاشا کے گھر میں بیگمات کے اترن پہنا کرتی ہے جو اس کے لیے انتہائی کرب انگیز بات ہوتی ہے اس کا ضمیر اسے اترن پہننے سے بازر رہنے پر ابھارتا ہے مگر چمکی نام کی یہ کنیز مجبورا اترن پہنتی ہے۔ دھیرے دھیرے اس کے دل میں انتقامی جذبہ سراٹھانے لگتا ہے۔ بالآخر ایک دن وہ وقت آگیا کہ اس نے بھی نواب صاحب کی بیگم کو اپنا اترن پہنادیا۔

یہاں ’ اترن ‘ سے ہماری مراد استعمال کی ہوئی کوئی بھی چیز ہوتی ہے۔ شہزادی پاشا کی شادی ہونے والی تھی اور تمام تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں، اسی رات چمکی کو بھی ایک خوبصورت اور قیمتی جوڑا پہننے کو ملا۔ اس کے دل میں برسوں کا انتقام لینے کا جذبہ ابھر ا اور رات کو وہ اپنے خوبصورت اور جوان جسم کو خوبصورت کپڑوں سے مزین کرکے دولہا راجہ کو ملیدہ کھلانے پہنچ گئی۔ وہ ملیدے کے ساتھ خود بھی دولہا راجہ کے سامنے کھڑی ہو گئی اور انھیں اکسانے لگی۔ دولہا میاں کو بھی اختلاط کا نشہ سا چڑھنے لگا اور ملیدے کے بجائے وہ چمکی پر نگاہ ڈالتے ہوئے کہنے لگا۔

’’ ہم ملیدے ولید ے سے منھ میٹھا کرنے کے قائل نہیں ہیں۔ ہم تو۔ ہاں۔ ‘‘ انھوں نے ہونٹوں کے شہد سے اپنا منھ میٹھا کرنے کو اپنے ہونٹ بڑھا دیے اور چمکی ان کی بانھوں میں ڈھیر ہو گئی۔ ان کی پاکیزگی لوٹنے۔ خود لٹنے اور انھیں لوٹنے کے لیے۔‘‘

  ( اترن، مشمولہ، بیسویں صدی میں خواتین کا اردو ادب، ص300)

واجدہ تبسم نے بڑے جرأت مندانہ انداز میں مسلم معاشرے کے اس نوابی اور لوٹ کھسوٹ کرنے والے طبقے کے نظام کو بے نقاب کیا ہے۔ ’ اترن‘ جیسی کہانی نے جہاں انھیں شہرت اور مقبولیت بخشی لیکن وہیں سماج کے قدامت پرست طبقے نے انھیں فحش افسانہ نگار قرار دیا۔ وہ کسی سے مرعوب نہیں ہوئیں۔ بلکہ مسلسل سماجی ناسوروں کے خلاف احتجاج بلند کرتی رہیں۔ ان کے بہت سے افسانے جنسی معاملات سے تعلق رکھتے ہیں جس کے حوالے سے وہ عورت کی مجبوریوں کو اس کی لاچاریوں اور فطری محرومیوں کو بیان کرتی ہیں لہذا اس اعتبار سے انھیں تانیثیت کا گہرا شعور رکھنے والی افسانہ نگار کہا جا سکتا ہے۔

آمنہ ابو الحسن:آمنہ ابو الحسن کی تخلیقی نگارشات لگ بھگ نصف صدی سے منظرِعام پرآرہی ہیں۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’کہانی‘ 1965میں شائع ہوا۔آمنہ ابو الحسن نے عورتوں کی نفسیات کو بہتر طو رپر واضح کیا ہے۔ ان کی کہانیاں اس لیے جاندار اور متحرک ہوتی ہیں کہ انھوں نے کائنات میں رونما ہونے والے حالات وواقعات پر محض سرسری نظر نہیں ڈالی ہے بلکہ ان حالات وواقعات کی معنویت کو ہمیشہ مد نظر رکھتے ہوئے فرقہ واریت کی شدید مذمت کی ہے۔

آمنہ ابو الحسن کا ایک نمائندہ تانیثی افسانہ ’لحاف‘ ہے یہ افسانہ عصمت چغتائی کے ’لحاف‘ سے بالکل مختلف ہے۔ اس افسانے میں مصنفہ نے علامتی واستعاراتی انداز میںمردانہ سماج میں عورت ذات کی حیثیت کو بیان کیا ہے۔ ’ لحاف‘ کی کہانی اصل میں عورت کی کہانی ہے جسے مرد نے جب چاہا استعمال کیا اور جب چاہا چھوڑ دیا۔ ’لحاف‘ علامت ہے عورت کے وجود کی کہ جس کے میلا ہوجانے پر مرد کو اس کے دھونے کی کوئی فکر نہیں ہوتی اور اگر پھٹنے لگے تو اس کے سینے کا کوئی غم نہیں ہوتا۔ گویا عورت کی حیثیت مرد کے نزدیک ایک لحاف سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ آمنہ ابو الحسن کو کہانی بننے میں کمال حاصل ہے۔ چھوٹے چھوٹے جملوں میں بڑی بات کہنے کی ماہر ہیں۔ وہ اپنے افسانوں میں نہ تو سیاست بگھارتی ہیں اور نہ ہی فلسفہ طرازی سے مرعوب کرتی ہیں۔ اْن کا یہ اختصاص ان کی ہر کہانی میں موجود رہتا ہے۔

افسانہ ’لحاف‘ میں مہر نسوانی کردار ہے اور شکیل مردانہ کردار ہے۔ یہ دونوں میاں بیوی ایک ہی لحاف میں سوتے ہیں جب ان دونوں کی شادی ہوئی تھی تب یہ لحاف انتہائی خوب صورت، ملائم اورآرام دہ تھا لیکن اب کافی عرصہ گزر جانے کے بعد اور کم سن بیٹے کے بار بار رات کو پیشاب کرنے کی وجہ سے اس میں بد بو اور میلا پن پیدا ہو گیا تھا۔ شکیل اس پرانے اور بدبو دار لحاف کو گھر میں رکھنا نہیں چاہتا لیکن مہر کو یہ لحاف اس لیے پیارا تھا کیونکہ اسی لحاف میں وہ اپنے شریک حیات کے ساتھ شب زفاف کو سوئی تھی، ان حسین لمحوں کی یاد مہر کے پورے وجود اور حواس خمسہ میں رچ بس گئی تھی، اسی لیے وہ افشاں کے بستر گیلا کرنے کے بعد اسے دھوپ دکھاتی ہے اور اس پر عطر چھڑکتی ہے تاکہ اس کی بد بو زائل ہوجائے۔ شکیل کے بار بار منع کرنے کے بعد بھی مہر اس لحاف سے کنارہ کش ہونا نہیں چاہتی ہے آخر کار شکیل ایک نیا خوبصورت لحاف خرید لاتا ہے اور جب دونوں میاں بیوی رات کو سوتے ہیں تو مہر کو اس میں بالکل نیند نہیںآتی وہ ساری رات کر وٹیں بدلتی رہتی ہے دوسرے دن وہ پھر اسی پرانے لحاف میں سوتی ہے، یہ پورا افسانہ علامتی اور استعاراتی نوعیت کا ہے مرد جب ایک بیوی سے اکتا جاتا ہے تو وہ دوسری ڈھونڈنے لگتا ہے۔ لیکن عورت جس مرد کا دامن تھام لیتی ہے پھر اسے تادم حیات چھوڑنا نہیں چاہتی۔

آمنہ ابو الحسن عورت کے نفسیاتی پہلوؤں کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کرنے کا ہنر جانتی ہیں۔ انھیں زبان وبیان پر بھی قدرت حاصل ہے۔ وہ عورت ہو کر عورت کی شخصیت اس کی خواہشوں اور سماج میں اس کی حیثیت کی بہتر ین عکاسی کرتی ہیں۔

قمر جہاں:  اردو کے تانیثی افسانہ نگاروں میں قمر جہاں کا نام بھی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ افسانہ نگار کے ساتھ ساتھ نقاد کی حیثیت سے بھی مشہور ہیں۔ قمر جہاں کا اصلی نام بھی قمر جہاں ہی ہے ان کے والد کا نام سید عطا الحق مرحوم تھا اور والدہ کا نام بی بی اختر جہاں تھا۔ ان کی پیدائش 1948 میں دربھنگہ (بہار ) میں ہوئی۔

جہاں تک ان کی افسانہ نگاری میں تانیثی شعور کا تعلق ہے ان کے افسانے نہ صرف نسائی خیالات وجذبات پر مبنی ہوتے ہیں بلکہ وہ سائنسی صنعتی اور تکنیکی دور کی اس تیز رفتار زندگی میں عورت کے ٹوٹتے بکھرتے وجود کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔آج جب کہ عورت زندگی کے ہر شعبے میں اپنی ذہانت اور لیاقت کے جو ہر دکھاچکی ہے۔ لیکن اس سائئنسی،صنعتی اور تکنیکی دور نے بہت حد تک اس کی خانگی زندگی کو در ہم برہم کر دیا ہے قمر جہاںنے اپنے افسانوں میں عصر حاضر کی عورت کے گونا گوں مسائل اور مردوں کے ظلم وستم کو بیان کیا ہے۔

’آج کی عورت ‘ قمر جہاں کا ایک شاہ کار افسانہ ہے جو موجودہ دور کی عورت کے مسائل اور اس کی الجھنوں پرمحیط ہے۔ اس افسانے کا تانا بانا قمر جہاں نے بہت ہنر مندی اور ہوشیاری سے تیار کیا ہے۔ اس افسانے کی کہانی ایک ایسی عورت کے ارد گرد گھومتی ہے جو سر کاری ملازمت کرتی ہے ایک کالج میں لائبریرین کے عہدے پر کام کرتی ہے گھر میں کھانا تیار کرنے بچوں کے کپڑے دھونے اور مختلف طرح کے گھریلو کام کاج میں اس قدر منہمک ہوجاتی ہے کہ اپنی ڈیوٹی پر اکثر تاخیر سے پہنچتی ہے، جس کی وجہ سے اس کی باس اسے جھڑکتی اور لعن طعن کرتی ہے۔ وہ ہر روز کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کر لیتی ہے، اور اپنی باس کو یقین دلانے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن باس بھی سخت مزاج ہے وہ اسے سب کے سامنے جھڑکتی ہے۔ یہ عورت دل مسوس کر رہ جاتی ہے اور اپنے آنسو پی لیتی ہے۔ ایک دن اس لائبریرین کا بچہ سخت بیمار پڑ جاتا ہے۔ وہ اپنے بچے کو پیار بھرے بول سناتی ہوئی بچے کو اپنی ساس کے حوالے کرکے دفتر چلی جاتی ہے ذہنی بے چینی اور تناؤ کی وجہ سے دفتری کام میں غلطی ہوجاتی  ہے اور اس کی باس اس پر سخت ناراض ہوتی ہے۔ تب یہ اپنے بچے کی بیماری کا ذکر کرتی ہے جسے اس کی باس نیا بہانہ سمجھتی ہے۔ بالآخر وہ آدھے دن کیCasual Leave  ڈال کر جیسے ہی گھر پہنچتی ہے توساس اس پر برس پڑتی ہے۔

 اس مجبور عورت کو اپنے شوہر کے ساتھ نئی نئی شادی کے وہ دن بھی بہت یادآنے لگتے ہیں کہ جب اس کا شوہر اس کا بہت خیال رکھتا تھا مگر اب وہ بھی گھر سے باہر اپنے کارو بار اور روپیہ کمانے کے چکر میں ہے اور اس کی طرف کم ہی توجہ دیتا ہے۔ قمر جہاں کا افسانہ انتہائی دلچسپ اور سبق آموز ہے اس افسانے کا مرکزی خیال یہ ہے کہ آج کے دور میں ملازمت پیشہ عورت گھریلو کاموں اور پھر دفتری کاموں میں کتنی ٹوٹتی بکھرتی اور ذہنی وجسمانی تھکان محسوس کرتی ہے۔ لیکن اس کے باوجودکوئی بھی اس پر خوش نہیں ہوتا۔ آج کی عورت دوہری ذمے داری نبھا رہی ہے اور اس صورت میں اس کی حالت قابل رحم ہے۔ لیکن مرد با لا دستی والے سماج کے پاس منصف آنکھیں نہیں ہیں۔

 قمر جہاں نے آج کی ملازمت پیشہ خواتین کی الجھنیں اور اس کی دوہری ذمے داری کی جو تصویر مذکورہ افسانے میں پیش کی ہے وہ انتہائی مؤثرہے۔ انھوں نے مردوں کی سرد مہری کی طرف بھی کچھ بلیغ اشارے کیے ہیں یہ مشاہدے کی بات ہے کہ جن گھروں کی عورتیں ملازمت کرتی ہیں انھیں کئی الجھنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ جب گھر سے اپنی ڈیوٹی پر نکلتی ہیں تو ان کے بچے ان کا دامن پکڑ لیتے ہیں راستہ روکنے لگتے ہیں چیختے چلاتے ہیں اور ماں کی ممتا ڈھونڈھتے ہیں، جو ان کا پیدائشی حق ہے۔ مگر عورت کو وقت پر ڈیوٹی پر حاضر ہونا پڑتا ہے۔ اسی کشمکش میں بچوں کی صحیح پرورش اور نگہداشت نہیں ہوتی ہے۔ چنانچہ ہمار افیملی سسٹم مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔  قمر جہاں نے اس افسانے میں عصر حاضر کی عورت کی جو بھاگ دوڑ دکھائی ہے۔ وہ اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ مردانہ سماج کے وضع کردہ اصولوں اور روایات کے خلاف عورت نے بغاوت کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن اس کے بد لے میں اسے بہت سی الجھنوں اور دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور وہ آئے دن ذمے داریوں کے بوجھ تلے دبتی چلی جا رہی ہے۔

ما بعد جدیدافسانے کی ابتدا1980 کے آس پاس ہوتی ہے۔ما بعد جدید افسانہ نگاروں کی تعداد کافی زیادہ ہے کیونکہ اس سفر میں جدیدیوں کی بھی شمولیت رہی اور وہ خالص بیانیہ کی طرف لوٹ آئے اور اسی ڈگر کو اپنانے کی کوشش کی جو ما بعد جدید فن کاروں کا موقف تھا۔

ما بعد جدید افسانے کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ سماجی عوامل سے آنکھیں نہیں چراتا، فرد کی تنہائی سے بھی اسے کوئی بیر نہیں ہے۔ موضوعات کے انتخاب میں بھی کوئی مسئلہ در پیش نہیںآتا کسی بھی تکنیک کے استعمال سے اسے گریز نہیں اور نہ ہی کسی تعصب کا شکار ہوتا ہے۔ گویا ما بعد جدید افسانے کا پورا رویہ انحراف سے زیادہ انجذاب کا عکاس معلوم ہو تا ہے۔

جدید افسانے کی طرح ما بعد جدید افسانے میں نہ سمجھ میںآنے والی علامت نگاری، فیشن زدگی، تجریدیت تھی اورنہ ہی مبہم موضوعات تھے۔ اس لیے قاری کی دلچسپی ان افسانوں میں بڑھی۔

ما بعد جدیدتانیثی افسانہ نگاروں میں قمر اعجاز، غزال ضیغم، ثروت خان، نگار عظیم، تبسم، فاطمہ، شائستہ فاخری، ہاجرہ مشکور، عنبری رحمن، رخسانہ صدیقی، کہکشاں پروین، افشاں زیدی  اور فریدہ رحمن وغیرہ کے نام اہمیت کے حامل ہیں۔

نگار عظیم:نگار عظیم کے افسانوںمیںمرکزی حیثیت عورت کو حاصل ہے۔ نگارعظیم کا اصلی نام مہر نگار اور قلمی نام نگار عظیم ہے 23ستمبر 1951کو میرٹھ (یوپی) میں پیدا ہوئیں۔ وہ تقریبا پچیس سالوں سے افسانے لکھ رہی ہیں۔  ان کے افسانوی مجموعے ’ عکس‘ 1990میں اور ’گہن‘  1999 میں شائع ہوئے۔

نگار عظیم سماجی احوال وکوائف پر گہری نظر رکھتی ہیں۔  وہ اس بات پر زور دیتی نظرآتی ہیں کہ عورت مردانہ ظلم وستم اور زیادتیوں کو بر داشت نہ کرے چونکہ جب وہ مردوں کے ظلم وستم برداشت کرتی ہے یا نظر انداز کرتی ہے تو اس پر اور زیادہ ظلم، نا انصافی اور محکومیت کے تالے جڑ دیے جاتے ہیں۔ اس لیے عورت کو چاہیے کہ وہ سراپا احتجاج بن جائے، اسی احتجاجی رویے کے تحت وہ بہت حد تک مردانہ بالا دستی اور استحصال سے محفوظ رہ سکتی ہے اور سماج میں اپنا مقام حاصل کر سکتی ہے۔

نگار عظیم کا ایک شاہکار افسانہ ’ابورشن‘ ہے جس میں عورت کی بے بسی اور مرد کی خود غرضی کو بڑے فنکار انہ طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس افسانے میں انھوں نے تانیثی فکر واحساس کو بڑے مؤثر انداز میں سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔  اس افسانے میں مرکزی کردار ایک عورت ہے جو ایک ریڈیو اسٹیشن میں کام کرتی ہے جہاں مختلف مردوں اور عورتوں کاآنا جانا لگا رہتا ہے اور ایک دن ریڈیو پر ہی عورت کی آزادی اور اس پر مردوں کے ظلم وبربریت پر اِک مباحثہ رکھا جاتا ہے اس میں کئی مرد اور عورتیں حصہ لیتی ہیں۔ افسانہ ’ابورشن‘ کا مرکزی کردار ایک سنجیدہ اور دور اندیش عورت ہے و ہ رابعہ نام کی ایک عورت کو جو اپنے شرابی شوہر کی جنسی خواہش پوری نہ کرنے کی صورت میں زد وکوب ہوتی ہے اپنے گھر میں پناہ دیتی ہے لیکن کچھ دن کے بعد وہ پھر اپنے شوہر کے پاس جانے کوآمادہ ہو جاتی ہے جس پر ریڈیو اسٹیشن پر ملازمت کرنے والی خاتون اس سے خفا ہوجاتی ہے کیونکہ وہ خواتین کے لیے با ضابطہ طور پر ایک مشن کا کام کرتی ہے اس لیے وہ نہیں چاہتی کہ رابعہ اپنے شوہر کے پاس بغیر انتقام لیے چلی جائے۔

نگار عظیم کا کمال یہ ہے کہ وہ ہر نئے موضوع کی تلاش میں رہتی ہیں۔ وہ سماج کی ان حقیقتوں تک رسائی حاصل کر لیتی ہیں، جہاں تک دوسری خواتین افسانہ نگار کی نظر نہیں پہنچتی۔ نچلے اور متوسط طبقے کی عورتوں کی زندگی اور ان کی الجھنوں کو خصوصی اہمیت دیتی ہیں۔ ’ابورشن‘ کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

’’ طلاق اور عورت کو زندہ جلا دینے والے اذیت ناک واقعات، عورت کا مستقبل، تعلیم نسواں، شوہروں کی زیادتیاں، ان پڑھ عورت کے مسائل، اس مباحثے میں حصہ لے کر مجھے کوفت ہو رہی تھی۔ کیونکہ مجھے لگا سب کے سب وہاں عورت کے مسائل پر کم اور مرد کے خلاف زیادہ محاذآرائیاں کر رہے ہیں۔ جب کہ میرا نظر یہ ذرا مختلف تھا، عورت ظلم سہے گی تو ظلم ہوتا رہے گا۔ ظلم سہنا بند کردے گی تو ظلم کے راستے بھی بند ہو جائیں گے۔ سیکڑوں مثالیں ہیںعورت پر عور ت کے ظلم کی۔

چائے کی شدید طلب ہو رہی تھی۔ گھر پہنچ کر میں نے رابعہ کوآواز دی رابعہ ایک کپ چائے…‘‘

بی بی ہم تو جاتے ہیں …آپ کا رستہ دیکھتے دیکھتے تھک گئی ہم تو ‘‘ کہاں جا رہی ہے؟‘‘

گھر…‘‘

یہ پاگل ہوئی ہو تم … ؟ اتنی جلدی بھول گئیں تم … اتنا مارا تھا تمہیں لیاقت نے شراب پی کر …

 ’’آدھی رات کو ہمیں اس نے گھر سے نکال دیا تھا۔‘‘

کیا کریں بی بی جی … گلتی تو میری تھی…‘‘

کیا غلطی تھی تمہاری ؟

وہ ذرا شرمائی… جھجکی… اور مسکراتے ہوئی بولی :

 ’’ نشے میں کچھ ادھک تنگ کرتا ہے نا ؟ بس ہم نے اس کی بات نہ مانی، اسی لیے مارتا تھا۔ اب کیا کریں بی بی؟ آدمی تو اپنا ہی ہے۔ دوسری عورت لینے چلا گیا تو ہمارا گھر برباد ہو جاوے گا۔ اپنے ببوا کا باپ بھی تو ہے وہ جاویں نائی تو کیا کریں؟ تنک بولی،آپ کو چاہ بنا دوں پھر چلی جاؤں گی … ‘‘

 ’’ نہیں رہنے دو … تم جاؤ مجھے چائے نہیں پینا‘‘

لڑو عورتوں کے حقوق کے لیے… میں بڑ بڑائی… فون کی گھنٹی بج اٹھی … ٹرن ٹرن ہلو … کیا …؟

مندرجہ بالا اقتباس میں نگار عظیم نے نہایت ہنرمندی سے ایک ناخواندہ عور ت کا المیہ بیان کیا ہے عورت کو یہ احساس ہے کہ اگر وہ اپنے شرابی شوہر کے پاس فورا نہیں جائے گی تو وہ کسی دوسری عورت کو گھر میں بٹھادے گا اور یہ احساس بھی اسے فکر میں مبتلا کرتا ہے وہ اس کے بیٹے کا باپ ہے۔ ہمارے سماج میںہر روز کئی طرح کے بھیانک جرائم رونما ہوتے رہتے ہیں۔ جس کا تعلق عورتوں کی بے بسی سے ہوتا ہے، عورت جب اپنے شوہر سے تنگ آجاتی ہے تو خود کشی کر لیتی ہے یا پھر راہ فرار اختیار کر لیتی ہے۔ غرض مرد کی کمزوریاں، زیادتیاں اور اس کی نا انصافیاں ازدواجی زندگی کو درہم برہم کر نے میں محرک ثابت ہوتی ہیں۔

 کہکشاں پروین :کہکشاں پروین کی پیدائش مغربی بنگال میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام سید مسعود الدین تھا۔ ان کی شادی مشہور مضمون نگار اور کالم نویس اخترآفتاب کے بڑے صاحبزادے سید حسین فاطمی سے ہوئی۔ کہکشاں پروین اردو کے متعدد رسالوں میں افسانے اور مضامین لکھ رہی ہیں۔ ان کی تصنیفات میں ’ ایک مٹھی دھوپ‘ (افسانوی مجموعہ) ’دوپہر کا سفر‘ (افسانوی مجموعہ) ’سرخ لکیریں‘ (افسانوی مجموعہ) ’صالحہ عابد حسین بحیثیت ناول نگار (تحقیق وتنقید) اور، منٹو اور بیدی کا تقابلی مطالعہ (تنقید) شامل ہیں۔

کہکشاں پروین کے افسانوں میں تانیثیت کی بھر پور عکاسی ملتی ہے ان کے افسانوں میں عورتیں مردوں کے استحصالی شکنجے میں جکڑی نظرآتی ہیں۔ کہکشاں کا خیال ہے کہ آزادی کے بعد بھی عورتیں ابھی تک مردوں کے ظلم وستم کا شکار ہیں۔ مرد، عورت کی نزاکت اور معصومیت کی آڑ میں اس پر قہر بر پا کرتا ہے۔ لیکن یہ بات بھی طے شدہ ہے کہ عورت کی جو حالت ابتر قدیم سماج میں تھی آج کی عورت کی وہ مایوس کن حالت نہیں ہے آج کی عورت مکمل طور پر اپنی اہمیت اور صلاحیت کا اعتراف کروانے میں کامیاب ہوئی ہے وہ قدرت کی ان تمام عطا کردہ خوبیوں کا مظاہرہ کر رہی ہے جن پر کسی زمانے میں اس پر پابندیاں عائدکر دی گئی تھیں۔ کہکشاں پروین کے اکثر افسانے عورت کی اسی تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس ضمن میں ان کا افسانہ ’ سراب‘ قابل ذکر ہے جس میں انھوں نے عورت کی ازلی کمزوری اور اس کی مجبوری کو موضوع بنایا ہے زیر بحث افسانے کا پس منظر بہار کی یا پھر راجستھان کی وہ مزدور طبقہ خواتین سے تعلق رکھنے والی کنواری مانو ہے جو انتہائی حسین ہے اور کسی گاؤں میں اپنے غریب ماں باپ اور ایک چھوٹی بہن پارو کے ساتھ رہتی ہے۔مانو بھیڑ بکریاں چراتی ہے اور گھر میں پیٹ بھر کھانا میسر نہیں ہے چنانچہ نئی ریاست کے قیام کے بعد حالات بدلتے ہیں۔ مانو کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ شہر میں مزدوری زیادہ ملے گی اس لیے وہ اپنے بوڑھے والدین اور دادی اماں سے نمناک آنکھوں سے رخصت ہوتی ہے۔ شہر میں اپنے علاقے کی مزدور طبقے کی خواتین کے ساتھ رات دن مزدوری کرکے خوب روپے جمع کرتی ہے لیکن ہر روز جب شام کے وقت ٹھیکیدار یا اس کا کوئی کارندہ مزدوروں کو ان کی مزدوری بانٹتا ہے تو مانو کو یہ خدشہ رہتا ہے کہ اس کے روپے کوئی چرا لے گا اس لیے وہ ہفتہ دس دن کے بعد اپنے بوڑھے بابا کو روپے لینے کو کہتی وہ آکر روپیہ لے جاتا۔ پھر والدین کسی مجبوری کے تحت مانو کے پاس نہیں پہنچ پاتے ہیں تو اس کی چھوٹی بہن پاروآتی ہے جس کی بھری جوانی کو دیکھ کر ٹھیکیدار اور اس کے کارندے اْسے اپنے دام فریب میں مقید کر نا چاہتے ہیں لیکن مانو کی غیرت اور پاک نسوانی جذبہ یہ گوارہ نہیں کر تا ہے کہ پارو اْس کے پاس روپے لینے آئے۔ چونکہ اسے یہ معلوم ہے کہ یہاں ٹھیکیدار جسم وجان کا بھی ٹھیکہ کرتے ہیں۔ والدین کی زیادہ روپیہ بھیجنے کی فرمائش پر مانو مجبورا ٹھیکیدار کے پاس جا کر اس سے روپے مانگتی ہے اور مزدوری کرنے کے ساتھ ساتھ اسے اپنا جسم بیچنے پر بھی آمادہ ہوجاتی ہے۔ اس مقام پر اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ گاؤں سے اٹھ کر شہر میں مزدوری کمانے آنا ایک سراب کے سوا اور کچھ نہیں تھا !

کہکشاں پروین افسانہ ’سراب‘ کے ذریعے اپنے قارئین کو یہ بتانا چاہتی ہیں کہ مردوں کی کمزوری عورت ہے اور عورت کی کمزوری اس کے خوبصورت جسمانی خد وخال ہیں۔ خوبصورت عورت سماج میں استحصال کا زیادہ شکار ہوتی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ حسین عورت کو مرد غالب معاشرہ پاکدامن رہنے نہیں دیتا۔ ہندوستان کی کچھ ریاستوں میں شادی شدہ یا غیر شادی شدہ خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کڑکتی دھوپ اور کڑاکے کی ٹھنڈ میں بارہ مہینے کام کرتی ہیں۔ زیادہ تر بہار، راجستھان اور چھتیس گڑھ کی خواتین مردوں کے ساتھ کام کرتی ہیں اور اپنے شوہر اور بچوں کی کفالت کرتی ہیں۔ کہکشاں پروین کے افسانہ ’سراب ‘ میں مانوکا کردار بھی ایک ایسی مظلوم لڑکی کا کردار ہے جو اپنے والدین اور اپنا پیٹ پالنے کے لیے مردوں اور اپنی عمر وطبقے کی خواتین کے ساتھ مزدوری کرتی ہے یہاں تک کہ محض روپے کمانے کی خاطر وہ اپنے خوبصورت جسم کو ٹھیکیدار کے سپرد کرنے کو تیار ہے۔

کہکشاں پروین اپنے افسانے کو کامیاب بنانے کا ہنر بخوبی جانتی ہیں۔ وہ ایک نقاد ہی نہیں بلکہ ایک سلجھی ہوئی کہانی کار بھی ہیں۔ وہ عورتوں کے مسائل اور مصائب کو بخوبی جانتی ہیں۔ اور اْسے اپنے افسانوں میں بیان کرنے کا سلیقہ بھی رکھتی ہیں۔

غزال ضیغم:’ایک ٹکرا دھوپ کا‘ افسانوی مجموعے کی مصنفہ غزال ضیغم کے افسانوں کا حاوی رجحان تانیثی ڈسکو رس ہے۔ یہ خواتین افسانہ نگاروں کی نئی نسل میں شمار کی جا سکتی ہیں۔

غزال ضیغم کے افسانوں کے مطالعے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ انھیں اپنی تہذیبی جڑوں کی تلاش ہے اس سلسلے میں وہ اپنی پوری تہذیبی وثقافتی وراثت اور قدروں کا از سر نو تجزیہ کرکے نتائج اخذ کرتی ہیں۔ اس سلسلے میں ترنم ریاض ایک جگہ لکھتی ہیںکہ :

’’غزال ضیغم کا شمار اْن نئی خواتین افسانہ نگاروں میں کیا جا سکتا ہے جو اپنی تاریخ، تہذیب سماجی وثقافتی وراثت اور اقدار کا از سر نو جائزہ لے کر انھیں اپنے تجزیوں کی روشنی میں جانچنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کے افسانے ان کی سوچ اور فکر کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا انداز بیاں سادہ اور دلچسپ ہے۔

(ترنم ریاض: بیسویں صدی میں خواتین ادب، ص 88)

غزال ضیغم کا ایک دلچسپ اور متاثر کن افسانہ ’مدھوبن میں رادھیکا‘ہے، جو ان کے فن کی عظمت پر دال ہے۔ اس افسانے میں انھوںنے اپنی تخلیقی بصیرت سے اپنی تہذیب اور سماجی اقدار کو معتبر قرار دیا ہے۔ اس افسانے میں نجمہ باجی نام کی ایک ایسی جدید تہذیب کی دلدادہ عورت کی سوچ اور طرزِ زندگی کو عیاں کیا گیا ہے، جو سگریٹ پیتی ہے اور مردوں کے ساتھ دوستی قائم کرنے میں بڑی ماہر ہے۔ افسانے بھی لکھتی ہے اور بہترین مقرر بھی ہے اور اپنی باغیانہ طبیعت کی وجہ سے مردوں کو گھاس نہیں ڈالتی۔ لپ اسٹک سے اپنے ہونٹوں کو لال رکھتی ہے۔ اپنی شوخ اداؤں میں اپنی کشش رکھتی ہے کہ مرد اْس کی طرف خود بخود کھنچتے چلے آتے ہیں۔ غزال ضیغم ایک راوی کی حیثیت سے اس عورت کی زندگی اور اس کی سوچ کو بیان کرتی ہیں۔ یہ نجمہ بیو روآفس میں کسی اچھے عہدے پر فائز ہے وہ عورتوں سے دوستی نہیں کرتی ہے کیونکہ اس کی نظروں میں ساری عورتیں بے وقوف ہوتی ہیں۔ ساجد نام کا ایک ملازم نجمہ باجی کا ہمراز ہے۔ جس کے نزدیک نجمہ باجی ایک مکمل عورت ہے۔ ایک دن وہ نجمہ باجی کو اپنے گھر میں دعوت دیتا ہے اور خوب خاطر مدارات کرتا ہے۔ کہانی کی راوی خاتون بھی ساجد کے گھر پر نجمہ باجی سے ملنے آتی ہے۔ اور ساجد کی بیوی صائمہ کے دل میں شک کی سوئی گھومنا شروع ہوجاتی ہے۔ وہ اپنے دونوں بچے ساجد کے حوالے کرکے روتی پیٹتی اپنے میکے چلی جاتی ہے۔ اختلاف کا فی بڑھ جاتے ہیں ادھر نجمہ باجی اپنی خود داری اور بے باکی کے باعث شوہر کے ہوتے ہوئے الگ گھر میں رہتی ہیں۔ کہانی کی راوی خاتون کے شوہر کو ایک دن نجمہ باجی کا فون آتا ہے کہ آپ دونوں میاں بیوی فورا ًمیرے گھر پرآؤ مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔ وہ دونوں نجمہ باجی کے گھر پہنچ جاتے ہیں اور نجمہ باجی آہستہ سے کہتی ہے کہ اپنے طلاق نامے پر تم دونوں کے دستخط چاہئیں کچھ دن کے بعد یہ خبرآتی ہے کہ نجمہ باجی نے خود کشی کرنے کی کوشش کی اور اسپتال میں زیر علاج ہیں ان کے دفتر کے تمام ملازم اور ان کے چاہنے والے تحفے لے کر ان کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔آگے کیا دیکھتے ہیں کہ نجمہ باجی اپنے ہونٹوں پر لپ اسٹک لگائے بیٹھی سگریٹ پی رہی ہیں اور سب کو دیکھ کر مسکرارہی ہیں۔

غزال ضیغم نے پوری کہانی میں نجمہ باجی کے کردار کو بڑی خوبصورتی سے ابھارا ہے۔ مذکورہ افسانے میں مصنفہ نے در اصل یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ عورت پر نہ تو بہت زیادہ پابندیاں ہونی چاہئیں اور نہ وہ بالکل آزاد ہونی چاہیے۔ نجمہ باجی ایک آزاد خیال عورت ہے جسے سبھی ایک مکمل عورت سمجھتے ہیں لپ اسٹک اور سگریٹ پینا انھیں بہت پسند ہے۔ مردوں سے دوستی رکھنا اور شوہر کے ہوتے ہوئے بھی تنہائی کی زندگی گزارنا ان کی شخصیت کو مشکوک کرتا ہے۔ اس افسانے میں ہمیں ایک ایسی عورت کا کردار ملتا ہے جو فیشن پرست، عیاش اور باغیانہ ذہنیت کی مالک ہے۔ جو شوہر کے بدلے شوہروں کو پسند کرتی ہے۔ اس طرح جب ساجد کی دعوت پر نجمہ اْس کے گھر پر جاتی ہے تو ساجد کی بیوی اپنے شوہر پر شک کرتی ہے۔ اور اس طرح دونوں میاں بیوی کے درمیان اختلاف بڑھتے ہیں اور ایک مایوس کن صورت حال پیدا ہوجاتی ہے۔

غزال ضیغم نے اپنے افسانے ’مدھوبن میں رادھیکا‘ میں نجمہ باجی کی ان تمام حرکات وسکنات اور طرز فکر کی عکاسی اس طرح کی ہے کہ قاری کے سامنے ایک باغیانہ ذہنیت کی عورت کا کردار ابھرتا ہے۔ جو سماجی اصول وضابطوں کی پرواہ نہیں کرتی اور مردوں کو اپنی انگلی پر نچانا چاہتی ہے۔ اور اپنی انا پر قائم رہتی ہے اور اپنے شوہر سے محض اس لیے طلاق لیتی ہے کیونکہ شوہر اس کی نا مناسب آزادی کو بر داشت نہیں کرپاتا ہے۔ وہ آدھی آدھی رات کو مجلسوں اور پارٹیوں سے واپس گھرآتی ہے جس کی وجہ سے شوہر مایوس رہتا ہے۔ اور بالآخر طلاق ہوجاتی ہے۔ نجمہ باجی طلاق لینا گوارہ کرتی ہے لیکن شوہر کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کو تیار نہیں۔ بری عادتوں نے اس میں غرور، انانیت اور باغیانہ ذہنیت پیدا کردی ہے۔ اس بیان کی تصدیق بقول راوی:

’’کیاآگ ہے اس عورت میں … کیا لکھتی ہے… لگتا ہے آتش فشاں کا لا وا بہہ رہا ہے …پوری کائنات جل رہی ہے۔ جلتی سگریٹ اس عورت کے بیضاوی ہونٹوں پر اتنی خوبصورت اتنی دلکش لگتی ہے جیسے معصوم بچے کی شرارت۔‘‘

غزال ضیغم نے نجمہ کے ذریعے عصری خواتین کے مسائل کا اظہار کیا ہے۔ ہر چند کہ نجمہ ایک ویلن نظرآتی ہے لیکن قاری کی ہمدردی اْس کے ساتھ اس لیے ہوجاتی ہے کیونکہ بہرکیف وہ عورت ہے جو بنیادی طو پر اپنے شوہر سے وفا چاہتی ہے لیکن جب وہ اس سے محروم ہوجاتی ہے تو نجمہ دوسری زندگی جینے پر مجبور ہو جاتی ہے۔غزال ضیغم ایک ذی شعور اور ذی علم خاتون ہیں ان کا کینوس کافی وسیع ہے،یہ ان کاتانیثی افسانہ ہے۔

جدیداردو افسانے کا مطالعہ کرتے ہوئے جو بات کھل کر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اردو افسانے میں خواتین افسانہ نگاروں نے تانیثی افسانوں میں احتجاجی عناصر کو شروع ہی سے روا رکھا۔ احتجاج ہر زمانے میں بڑے ہی گھن گرج کے ساتھ داخل ہوا۔ ابتدا میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اردو ادب میں تانیثیت کی روایت کا با قاعدہ آغاز 1932 یعنی انگارے کی اشاعت کو ہی تسلیم کیا گیا ہے۔ لیکن اس سے قبل نذر سجاد حیدر، ممتاز شیریں اور حجاب امتیاز علی جیسی اہم خواتین افسانہ نگاروں کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا کہ ان کے افسانوں میں بھی نسوانی آواز اور نسائی احتجاج ایک زیریں لہر کی صورت میں سہی لیکن موجودہے ۔

 اردو افسانے میں تانیثی مسائل اور احتجاجی عناصر کو فراموش  نہیں کیا جا سکتا کہ فی زمانہ اس نے ایک تحریک کی صورت اختیار کر لی ہے لیکن ان تمام باتوں کے با وجود اس حقیقت سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی کہ اللہ رب العزت نے اسے جس خصوصی سانچے میں ڈھالا ہے وہ نازک اور حسین ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ آج خاتون ہر شعبے میں مرد کے ہم قدم ہے لیکن کیا مردوں جیسے طور طریقے اپنا نے سے عورت مرد بن سکتی ہے۔ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب تانیثی فکر رکھنے والوں کو ڈھونڈھنا چاہیے۔ میرے خیال میں موجودہ دور کی عورت مردوں سے ایک طرح کا انتقام لے رہی ہے اور یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ کسی بھی طور پر مردوں سے کم نہیں اور وہ واقعتا کسی بھی شعبے میں مرد سے پیچھے نہیں ہے۔  موجودہ دور کی عورت کو تمام حقوق اور تمام سہولیات حاصل ہیں۔ اس کے با وجود اس حقیقت سے کبھی چشم پوشی نہیں کی جا سکتی کے مرد کی با لادستی والے سماج نے عورت کے استحصال کے کئی نئے در، دریچے کھول دیے ہیں۔

 

Dr. Ishrat Saboohi

Asst Prof. Dept of Urdu

Patna University

Patna- 800005 (Bihar)

Mob.: 7091175140


وضعِ اصطلاحات: مسائل و امکانات:صابر علی سیوانی


ہر زندہ زبان میں علوم و فنون کی سطح پر اصطلاحات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں جو زبان کو نئے الفاظ کا خون اور تازہ خیالات کی توانائی عطا کرتی ہیں اور جو ہماری سماجی وراثت کو ثروت مند بناتی ہیں۔ اگر مروج معنی کے علاوہ کسی لفظ کے کوئی معنی صلاح و مشورے سے مقرر کرلیے جائیں تو معنی کی اس صورت کو اصطلاحات کہتے ہیں۔ اسی طرح کئی تصورات یا خیالات اس لفظ سے ادا ہوجاتے ہیں۔ مولوی وحیدالدین سلیم اپنی کتاب ’وضع اصطلاحات‘ میں اصطلاح کی صراحت یوں کرتے ہیں :

’’ہر اصطلاح سے اختصار مقصود ہوتا ہے تاکہ ایک چھوٹے سے لفظ سے وسیع معنی مراد لیے جائیں۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا اور ہمیشہ اس بات کی کوشش کی جاتی کہ عبارت خواہ کسی قدر طولانی ہوجائے تاہم پورا اور صحیح مفہوم ظاہر ہوتو پھر اصطلاح وضع کرنے کی کوئی ضرورت باقی نہ رہتی۔ غرضیکہ ’’ہر اصطلاح ایک چھوٹی سی علامت ہوتی ہے، جو بہت بڑے مفہوم کی طرف اشارہ کرتی ہے اور بولنے والوں اور لکھنے والوں کو وقت ضائع کرنے سے بچاتی ہے۔‘‘

(وضع اصطلاحات انجمن ترقی اردو ہند اورنگ آباد 1921، ص 187)

فیروز اللغات میں اس لفظ کی تعریف یوں کی گئی ہے کہ’’کسی علمی یا فنی گروہ کا کسی لفظ کے عام معنوں کے علاوہ کوئی خاص مفہوم مقرر کرلینا۔‘‘ اصطلاح کے لیے انگریزی میں Terminology لفظ کا استعمال کیا جاتا ہے۔

اردو زبان میں اصطلاحات کا سرمایہ تو اسی وقت سے پیدا ہونے لگا تھا، جب یہ زبان متعدد علوم و فنون کا ذریعہ بنی تھی۔ اسی دور میں عربی، فارسی، ترکی اور سنسکرت سے اصطلاحات ماخوذ کی جانے لگی تھیں یا وضع ہونے لگی تھیں لیکن اٹھارہویں صدی عیسوی میں جب برّصغیر میں مسلم سلطنت کا زوال ہونے لگا اور انگریزی اقتدار رفتہ رفتہ وجود میں آکر انیسویں صدی میں مکمل طور پر مستحکم ہوگیا تو ایک نیا مسئلہ اس وقت پیش آیا جب جدید مغربی علوم کو اردو زبان کے ذریعے حاصل کرنے کا عمل شروع ہوا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اصطلاحات اور وضع اصطلاحات کے مسئلے نے ایک خاص اہمیت حاصل کرلی۔ 1825 میں دہلی کالج قائم ہوا، اسی کے ساتھ ساتھ وہاں ’دہلی ورٹیکلر ٹرانسلیشن سوسائٹی‘ قائم ہوئی اور درسی کتابوں کی ضرورت کے لیے کیمیا، نباتات، معدنیات، ریاضی، طب، علم ہندسہ اور دوسرے علوم کی اصطلاحیں وضع کی گئیں۔ حیدرآباد میں شمس الامرا نے انگریزی اور فرانسیسی سے اہم کتابوں کے اردو تراجم میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ یہاں 1834 سے 1850 کے درمیان 20 سے زائد سائنسی کتابوں کے اردو تراجم منظر عام پر آئے۔ سرسید احمد خان نے 1863میں ’سائنٹفک سوسائٹی‘ قائم کی۔ اس سوسائٹی کا مقصد جدید بنیادی سائنسی کتابوں اور امہات الکتب کو اردو میں منتقل کرنا تھا۔ وضع اصطلاحات کی کمیٹی بھی اسی زمانے میں سرسید احمد خان نے قائم کی۔ رڑکی انجینئرنگ کالج میں 1856سے 1888 تک ذریعۂ تعلیم اردو زبان تھی۔ درسی ضروریات کے پیش نظر وہاں بھی متعدد کتابیں اردو میں لکھی گئیں اور اصطلاحات وضع کی گئیں۔ اسی طرح آگرہ میڈیکل کالج میں بھی ذریعہ تعلیم اردو تھی، وہاں بھی طلبہ کی درسی ضرورت کے پیش نظر کتابیں لکھی گئیں اور جدید طبی اصطلاحات اردو میں وضع کی گئیں۔  یہ ذخیرہ آج بھی ہند و پاک کے بعض کتب خانوں میں محفوظ ہے۔ سائنٹفک سوسائٹی مظفرپور نے 1868کے آس پاس فلکیات، معدنیات، طبیعیات، جغرافیہ اور فنِ تعمیر وغیرہ پر متعدد کتابیں ترجمہ کرائیں، لکھوائیں بلکہ وضع اصطلاحات کے کام کو بھی اس سوسائٹی نے آگے بڑھایا۔ شاہان اودھ غازی الدین حیدر اور نصیرالدین حیدر کے دور حکومت میں بہت سی علمی و سائنسی کتابیں اردو میں ترجمہ ہوئیں اور بہت سی نئی اصطلاحیں وجود میں آئیں۔ 1865 میں انجمن پنجاب کا لاہور میں قیام عمل میں آیا۔ اس انجمن کے تحت بھی ترجمہ و اصطلاحات کا بڑا کام منظر عام پر آیا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ انگریزی سے اردو تراجم اور علمی اصطلاحات کی روایت کی تاریخ کم و بیش 200 سال قدیم ہے، جس کا سلسلہ آج بھی جاری تو ضرور ہے لیکن اصطلاحات سازی کا عمل کم و بیش رک سا گیا ہے۔

بیسویں صدی کے آغاز میں انگریزی سے اردو تراجم اور اصطلاحات سازی کا عمل اس وقت زیادہ اہمیت حاصل کرگیا جب 26 اپریل 1917  کو نظام دکن میر عثمان علی خان نے یہ فرمان جاری کیاکہ ’’اپنی تخت نشینی کی یادگار میں سلطنت آصفیہ میں ایک جامعہ کے قیام کا حکم دیتا ہوں جس کا نام ’جامعہ عثمانیہ‘ ہوگا۔‘‘ اس فرمان کے چار ماہ کے اندر اندر 14 اگست 1917 کو شعبۂ تالیف و ترجمہ کا قیام عمل میں آیا۔ اس شعبے کے سربراہ مولوی عبدالحق مقرر کیے گئے۔ اس کا مقصد جامعہ عثمانیہ کے لیے ضروری کتب لکھوانا اور ترجمہ کرانا تھا تاکہ یہ کتابیں جامعہ عثمانیہ میں درسی کتب کے طور پر استعمال کی جاسکیں۔ جامعہ عثمانیہ کا قیام 1918  میں عمل میں آیا۔ جامعہ عثمانیہ کا ذریعہ تعلیم چونکہ اردو زبان تھی۔ اس لیے یہاں اصطلاحات سازی کے کام میں بھی غیرمعمولی پیش رفت ہوئی۔ اس حوالے سے مولوی وحیدالدین سلیم نے اپنی کتاب وضع اصطلاحات میں لکھا ہے کہ :

’’خدا کا شکر ہے کہ جامعہ عثمانیہ دکن کی اس جنرل کمیٹی میں جس زبان اور علم کا صحیح مذاق رکھنے والے بزرگ شامل تھے، یہ اہم مسئلہ کثرت رائے سے طے کردیا ہے کہ انگریزی زبان کی اصطلاحیں بجنسہٖ یا کسی تغیر یا تبدل کے ساتھ اردو زبان میں نہ لی جائیں بلکہ انگریزی علمی اصطلاحات کے مقابلہ میں اردو علمی اصطلاحات وضع کی جائیں۔ اس بنا پر ان حضرات کے خیالات جو اصطلاح سازی کے مخالف ہیں، اب زیادہ قابل توجہ اور لائق بحث نہیں رہے‘‘۔

(وضع اصطلاحات، مولوی سید وحیدالدین سلیم، اورنگ آباد 1921، ص 7)

اس مرحلے پر پہنچ کر اصطلاحات سازی کے دو گروہ پیدا ہوگئے۔ ایک گروہ کی رائے یہ تھی کہ تمام اصطلاحی الفاظ عربی زبان سے بنائے جائیں۔ دوسرے گروہ کا خیال یہ تھا کہ اصطلاحات وضع کرنے میں ان تمام زبانوں کے لفظوں سے کام لینا چاہیے جو اردو زبان میں بطور عنصر شامل ہیں اور ان لفظوں کی ترکیب میں اردو گرامر سے مدد لینی چاہیے۔ اس گروہ نے یہ بھی کہاکہ اردو زبان آریائی خاندان سے اور عربی زبان سامی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ دونوں خاندانوں میں الفاظ بنانے کے جدا جدا قاعدے ہیں اور یہی وہ چیز ہے جس کی ضرورت علمی اصطلاحات میں پیش آتی ہے۔ چنانچہ جامعہ عثمانیہ کی وضع اصطلاحات کمیٹی نے دونوں گروہ کے نقطۂ نظر پر غور کرنے کے بعد یہ منظور کردیا کہ اردو زبان میں جو علمی اصطلاحیں وضع کی جائیں ان کے الفاظ عربی فارسی اور ہندی سے بے تکلف لیے جائیں مگر الفاظ کی ترکیب وضع کرتے وقت اردو زبان کی گرامر کا لحاظ رکھا جائے۔

مجالس وضع اصطلاحات کا طریقِ کار یہ تھا کہ الفاظ کی فہرست پہلے تیار کرکے ہر رکن کے پاس بھیجی جاتی تھی لہٰذا جب وہ لفظ پیش کیا جاتا تو اس کا ترجمہ بھی پیش کیا جاتا۔ اس سلسلے میں اگر کسی کو اعتراض نہ ہوتا تو وہ لفظ مع ترجمہ صدرنشین مجلس ایک رجسٹر میں درج کرلیتے اور دوسرے لفظ کو لیتے۔ پھر کوئی لفظ ایسا آتا کہ مختلف ترجمے پیش ہوتے۔ ان پر بحث ہوتی اور جو طے پاتا اسے درج کرلیا جاتا۔ کبھی کبھی ایک ہی لفظ پر اتفاق رائے بننے میں گھنٹوں لگ جاتے تھے۔ لیکن اس کے بعد کوئی نہ کوئی لفظ طے کرلیا جاتا تھا۔

مجلسِ وضعِ اصطلاحات میں مختلف علوم و فنون اور ماہرین زبان کی خدمات حاصل کی گئی تھیں، جن کا تعلق ملک کی مختلف ریاستوں سے تھا۔ پورے ملک سے ماہرین کو جمع کرکے وضع اصطلاحات جیسے مشکل کام کو انجام دیا گیا۔ ان تمام میں سرفہرست مولوی سید وحیدالدین سلیم تھے، جنھیں ترکیبیں بنانے اور وضعِ اصطلاحات سے خصوصی دلچسپی تھی۔ جس کا ثبوت ان کی کتاب ’وضع اصطلاحات‘ ہے، جس میں اصطلاحات بنانے کے متعدد طریقے بتائے گئے ہیں۔ سابقوں، لاحقوں، انگریزی زبان کے لاحقوں، اردو مصادر، مفرد اصطلاحیں، فعلی اصطلاحات، اردو کے جدید مصادر، ترکیب الفاظ، نیم سابقے، نیم لاحقے، مرکب اصطلاحات جیسے اصطلاحات بنانے کے لیے متعدد اصول و ضوابط اور طریقے مع مثال پیش کیے گئے ہیں۔ چوں کہ وحیدالدین سلیم عربی فارسی اردو ہندی اور انگریزی زبان کے ماہر تھے اس لیے انھیں یہ کام زیادہ مشکل محسوس نہیں ہوا لیکن برسوں کی محنت کے بعد اس کتاب کی تکمیل ہوپائی۔ اس موضوع پر آج تک اس نوعیت کی کتاب نہیں لکھی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سو سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس کتاب سے استفادہ کرنا محققین، ناقدین اور وضع اصطلاحات سے دلچسپی رکھنے والوں کی ضرورت تسلیم کی جاتی ہے۔ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وحیدالدین سلیم کی کتاب ’وضع اصطلاحات‘ سے چند ایسے مرکب الفاظ اور اصطلاحیں پیش کی جائیں جو سابقوں اور لاحقوں کی مدد سے وضع کی گئی ہیں۔ پہلے سابقوں پر مشتمل چند مثالیں دیکھیں جو لفظ ’خوش‘ سابقہ کے ذریعے وجود میں لائی جاتی ہیں۔

خوش اسلوب، خوش اسلوبی، خوش اقبال، خوش آواز،  خوش الحان، خوش انتظام، خوش باش، خوش بیان، خوش پوشاک، خوش تقریر، خوش حال، خوش خبری، خوش خرام، خوش خط، خوش خلق، خوش اخلاق، خوش دامن، خوش دل، خوش ذائقہ، خوش رنگ، خوش زبان، خوش طبع، خوش تحریر، خوش گوار، خوش لباس، خوش نصیب، خوش نویس، خوش وضع، خوش کلام، خوش فکر، خوش قسمت، خوش مزاج، خوش اطواروغیرہ۔ (وضع اصطلاحات صفحہ 33-34)

اسی طرح لاحقوں کے ذریعے بنائی گئیں چند اصطلاحیں دیکھیں جو ’خواں‘ کے لاحقے کے ساتھ وضع کی گئی ہیں جو خواندن مصدر پڑھنا سے امر کی شکل ہے۔

مولود خواں، ناظرہ خواں، قرآن خواں، قصہ خواں، فاتحہ خواں، کتاب خواں، ثنا خواں، مدح خواں، نعت خواں، روضہ خواں، مرثیہ خواں، نوحہ خواں، غزل خواں، خوش خواں، سوز خواں، درود خواں، پریخواں، ابجد خواں، انگریزی خواں وغیرہ۔ اسی طرح ’خانہ‘ لاحقہ سے وضع کی گئی چند اصلاحیں دیکھیے :

آبدار خانہ، آئینہ خانہ، بیمار خانہ، پاگل خانہ، قید خانہ، جیل خانہ، کارخانہ، چھاپہ خانہ، شراب خانہ، باورچی خانہ، مے خانہ، قمار خانہ، توپ خانہ، نعمت خانہ، عجائب خانہ، ٹپہ خانہ، شفا خانہ، ڈاک خانہ، دیوان خانہ، غریب خانہ، غسل خانہ، بت خانہ، کبوتر خانہ، کتب خانہ، نگار خانہ، نقار خانہ، بھٹیار خانہ، عاشور خانہ، مہمان خانہ وغیرہ۔

’مجلس وضع اصطلاحات‘ میں ملک کی نامور شخصیتوں کی شمولیت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ عہدِ عثمانی میں اہل علم و فضل کی قدردانی کا کیا عالم تھا۔ سائنسی علوم، فلسفہ، تاریخ، قانون، ریاضی، ارضیات، حیاتیات، انجینئرنگ، طب، تدریسات، علم ہیئت، نباتیات، حیوانیات، منطق، عمرانیات، سیاسیات، معاشیات کے شعبوں کے لیے علیحدہ علیحدہ 12 مجالس وضع اصطلاحات (ذیلی کمیٹیاں) قائم کی گئی تھیں۔ ان کمیٹیوں میں متعلقہ علوم و فنون کی وابستہ ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ ڈاکٹر سید مصطفی کمال نے متعدد علوم و فنون پر مشتمل وضع کی گئیں اصطلاحات کی تعداد کے بارے میں لکھا ہے :

’’1940 کے قریب دارالترجمہ میں اصطلاحات سازی کی گیارہ مختلف مضمون واری کمیٹیاں کام کررہی تھیں۔ سر رشتۂ تالیف و ترجمہ کی آخری مطبوعہ رپورٹ کے مطابق سر رشتہ نے مارچ 1946  تک مختلف فنون کی جو اصطلاحیں وضع کی تھیں اس کی تفصیل یوں ہے : فلسفہ 837، تاریخ 618، عمرانیات 729، تدریسیات 5370، قانون 18,000، ریاضیات 1696، طبیعیات 1213، کیمیا 1176، ارضیات 1200، حیاتیات 7000، طب 40,000، انجینئری 10,000۔ گویا مارچ 1946 ء تک دارالترجمہ میں جملہ 88,839 (اٹھاسی ہزار آٹھ سو انتالیس) اصطلاحیں وضع ہوچکی تھیں۔ ستمبر 1948  تک ممکن ہے اس تعداد میں پانچ چھ ہزار کا اضافہ ہوا ہو لیکن اس کے بارے میں قطعیت کے ساتھ کچھ کہنا مشکل ہے۔‘‘

(حیدرآباد میں اردو کی ترقی تعلیمی اور سرکاری زبان کی حیثیت سے، ڈاکٹر مصطفی کمال، شگوفہ پبلی کیشنز حیدرآباد 1990، ص 27)

ڈاکٹر مصطفی کمال نے وضع اصطلاحات کمیٹیوں میں تال میل نہ ہونے اور ثقیل اور نامانوس اصطلاحیں وضع کرنے کے حوالے سے لکھا ہے :

’’جامعہ عثمانیہ میں اصطلاحات سازی کا کام خاص نہج پر بڑی احتیاط و دانش مندی کے ساتھ سر انجام دینے کی کوشش کی گئی اور ابتدا ہی سے اس تحریک کو انتہا پسند حضرات کی دست برد سے محفوظ رکھا گیا تاہم چوں کہ علمی اور وضع اصطلاحات کی کمیٹیوں میں ان کا غلبہ تھا اور ہر مرحلہ پر ان کی نگرانی ممکن نہ تھی اس لیے ایسی ثقیل اور نامانوس اصطلاحیں بھی مدون کرلی گئیں جن پر بجا طور پر اعتراض ہوتا رہا اور اسی وجہ سے ان اصطلاحات کو مقبولیت حاصل نہ ہوسکی۔ اس کے علاوہ وضع اصطلاحات کے کام میں رابطہ کی کمی بھی تھی۔‘‘

(ایضاً، ص 270)

دارالترجمہ عثمانیہ کے مترجمین اور مولفین اپنے اپنے فن میں ماہر تھے۔ ان میں وحیدالدین سلیم، الطاف حسین حالی، نظم طباطبائی، مرزا محمد ہادی رسوا، عبداللہ عمادی، منشی ذکاء اللہ کے فرزند محمد عنایت اللہ دہلوی، محمد الیاس برنی، عبدالماجد دریابادی، ظفر علی خان، رشید احمد صدیقی، عبدالباری ندوی، خلیفہ عبدالحکیم، نصیر احمد عثمانی، عبدالحلیم شرر شامل تھے۔ ان کے علاوہ جامعہ عثمانیہ کے اساتذہ میں ڈاکٹر مظفرالدین قریشی، ڈاکٹر سید حسین، محمد نصیر احمد عثمانی، محمود احمد خان، ڈاکٹر رضی الدین صدیقی اور مولوی عبدالحق وغیرہ شامل تھے جنھوں نے ان اصطلاحوں کی ترتیب و طباعت اور نشر و اشاعت میں اعانت کی تھی۔

دارالترجمہ جامعہ عثمانیہ میں وضع اصطلاحات کے برسوں بعد تک اصطلاحات کی تدوینی رفتار کافی سست رہی ہے۔  سرکاری سطح پر چلائے جانے والے فروغ اردو سے وابستہ اداروں نے اپنی سطح پر وضع اصطلاحات پر متعدد کام کیے لیکن وہ تشفی بخش نہیں رہے۔ کچھ ماہرین زبان نے بھی اصطلاحات سازی کے عمل میں اپنی دلچسپی ظاہر کی اور کتابیں شائع کرائیں لیکن موجودہ ضرورت کی تکمیل نہ ہوسکی۔ لغات کی تدوین میں بھی ہندوستان اور پاکستان میں بڑا کام ہوا ہے لیکن اصطلاحات سازی کے عمل میں خاطر خواہ ترقی نہیں ہوئی ہے۔

ہندوستان میں لغات و فرہنگ اصطلاحات کے حوالے سے بھی قابل قدر کام نہیں ہوئے ہیں تاہم کچھ اداروں اور ماہرین زبان نے اس موضوع پر وقیع کام کیے ہیں۔

مولوی ظفرالرحمن کی ’فرہنگ اصطلاحات پیشہ وراں‘ آٹھ جلدوں پر محیط ہے۔ یہ لغت کرخنداری اور پیشہ ورانہ الفاظ و اصطلاحات پر مشتمل ہے۔ اس لغت کو مولوی عبدالحق نے انجمن ترقی اردو سے شائع کیا تھا۔ مولوی عبدالحق کا ہی ایک اہم ترین کارنامہ انگریزی اردو ڈکشنری ہے جو اسٹینڈرڈ انگریزی اردو ڈکشنری کے نام سے منظر عام پر آئی۔ اب تک اردو انگریزی ڈکشنری کی کمی محسوس کی جاتی تھی، اس کمی کو مولوی عبدالحق نے پورا کردیا۔ جمیل جالبی نے بھی اکیسویں صدی کے اوائل میں اردو انگریزی ڈکشنری مرتب کرکے شائع کی۔ یہ لغت بھی اپنی نوعیت کی منفرد لغت ہے۔ ہندوستان کے کئی اداروں نے اس ڈکشنری کو شائع کیا ہے۔ قومی کونسل نئی دہلی کی جانب سے مشہور ناقد کلیم الدین احمد کی مرتبہ ڈکشنری ’جامع انگریزی اردو لغت‘ چھ جلدوں میں برسوں قبل شائع ہوچکی ہے۔ یہ لغت بھی کافی اہمیت کی حامل ہے۔

اردو کی مقبول و مبسوط اور ضخیم لغت مولوی فیروز الدین کی ’جامع فیروز اللغات‘ ہے۔ یہ لغت 1472 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں ایک لاکھ پچیس ہزار قدیم و جدید الفاظ کے معنی، صحیح تلفظ، علمی، ادبی اور فنی اصطلاحات، مرکبات، محاورات اور ضرب الامثال شامل ہیں۔ فیروز اللغات کی اشاعت  1950  کے آس پاس عمل میں آئی تھی۔ 1967 میں اس لغت پر نظرثانی کی گئی اور ہندی حروف کو علیحدہ کرکے اس کی اشاعت عمل میں لائی گئی۔ میرے زیرنظر 1988کا ایڈیشن ہے جو ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی کا ہے جس میں تقریباً پچیس ہزار جدید الفاظ اور اصطلاحات کے اضافے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ طلبا کی ضرورت کے پیش نظر ’فیروز اللغات‘ عام کتابی سائز پر بھی اہم ترین الفاظ و اصطلاحات و محاورات کو شامل کرتے ہوئے ضخامت کم کرکے شائع کی گئی ہے۔ ہندوستان و پاکستان کے متعدد اداروں نے اس لغت کو اپنے اپنے انداز سے شائع کیا ہے۔ لیکن آج جب کہ نئے نئے الفاظ، اصطلاحات اور تکنیکی و سائنسی لفظیات اردو میں رائج ہوچکے ہیں، ان کے اندراج کی ضرورت ہے۔ کم و بیش پچاس برسوں سے اس لغت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے جس کی شدید ضرورت ہے۔ اس لغت میں بعض غلطیاں بھی موجود ہیں جس کی تصحیح ضروری ہے بلکہ یہ کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ اردو میں ایک ایسی لغت کی ابھی بھی ضرورت ہے جو ضخامت میں بھلے ہی فیروز اللغات سے کم ہو مگر جدید دور کے تقاضوں کی تکمیل کرسکے اور جس میں قدیم و جدید علوم و فنون سائنس، ٹیکنالوجی، اصطلاحات اور محاورات کے حوالے سے نئے انداز سے روشنی ڈالی گئی ہو۔ یہ کام قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی سے بہتر کوئی دوسرا ادارہ نہیں کرسکتا ہے۔ قومی کونسل کو وضع اصطلاحات کے حوالے سے ابھی کام کرنے کی شدید ضرورت ہے،  وحیدالدین سلیم کی وضع اصطلاحات کے بعد مولوی عبدالحق، برج موہن دتاتریہ کیفی، سید سلیمان ندوی، مسعود حسن رضوی ادیب، ڈاکٹر گوپی چند نارنگ، ڈاکٹر خلیق انجم، ڈاکٹر جمیل جالبی اور ڈاکٹر فرمان فتح پوری جیسے اصحاب قلم نے قلم اٹھایا، لیکن اس کے باوجود فی الوقت جو نئی نئی اصطلاحات اور انگریزی کے نئے نئے الفاظ اردو میں من و عن داخل ہوکر رواج پاچکے ہیں، ایسے اصطلاحات و الفاظ کی اردو میں ترجمے کی شدید ضرورت ہے۔ کشاف قانونی اصطلاحات کے عنوان سے رشید احمد صدیقی کی کتاب 1987-1988  میں منظر عام پر آئی۔ یہ فرہنگ تین جلدوں پر مشتمل ہے۔ وضع اصطلاحات کے موضوع پر پاکستان سے عطش درانی کی کتاب ’اردو اصطلاحات سازی‘ کم و بیش بیس سال قبل منظر عام پر آئی، اس کے بعد ہند و پاک میں اس طرح کا کوئی دوسرا کام اب تک نہیں ہوسکا ہے۔

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی نے لغات کی اشاعت و ترتیب کے سلسلے میں اہم کام انجام دیے ہیں۔ فرہنگ آصفیہ کی اشاعت کے علاوہ مختلف فنون و موضوعات پر مشتمل متعدد فرہنگیں شائع کی ہیں۔ ان میں ’دکنی لغت‘ شامل ہے جسے پروفیسر سیدہ جعفر نے ترتیب دیا۔ بڑی محنت سے اس فرہنگ کی ترتیب عمل میں آئی۔ ’دکنی لغت‘ قومی کونسل کی سلسلہ وار نصابی غیر نصابی اشاعت کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس لغت میں ساڑھے پانچ سو سال قدیم الفاظ تک کو جگہ دی گئی ہے۔ ساتھ ہی ان پر اعراب بھی لگائے گئے ہیں تاکہ قاری کو دکنی الفاظ کے صحیح تلفظ کی ادائیگی میں کوئی دقت نہ ہو۔ الفاظ کے معنی کے ساتھ ساتھ ان کے استعمال کی چار چار مثالیں بھی دی گئی ہیں اور مآخذ کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ مثالیں زیادہ تر نظموں سے پیش کی گئی ہیں اور شاعر کا نام بھی درج کیا گیا ہے۔ دکنی زبان و ادب کے حوالے سے سیدہ جعفر کی ’دکنی لغت‘ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

شمالی ہندوستان کے بیشتر علاقوں میں ہندی زبان بولی جاتی ہے اور کہیں کہیں اردو بولنے والے افراد موجود ہیں تو ان کی بولیوں پر بھی مقامی ہندی کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ بہت سے مترجمین کو جنھیں ہندی سے اردو میں ترجمے کا کام کرنا پڑتا ہے، اردو لغت کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسی ضرورت کے پیش نظر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی نے دو جلدوں پر مشتمل ایک ’جدید ہندی اردو‘ لغت کی اشاعت کا بیڑا اٹھایا اور اس ڈکشنری کی تالیف کی ذمے داری معروف ماہر لسانیات پروفیسر نصیر احمد خاں مرحوم (سابق استاد جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی) کو سونپی گئی۔ انھوں نے بڑی محنت اور عرق ریزی کے بعد جدید ہندی اردو لغت کی تدوین کا فریضہ انجام دیا۔  اس لغت میں قدیم و جدید ہندی کے الفاظ اور معانی و مفاہیم ہندی اور اردو دونوں رسم الخط میں دیئے گئے ہیں۔ اس لغت کی تدوین میں جن چیزوں کا خاص طور پر خیال رکھا گیا ہے ان میں یونیورسٹیوں کے نصاب، قدیم دستاویزات، صحافتی زبان اور عام بول چال کے الفاظ شامل ہیں۔ الفاظ کے مآخذ کے لیے عربی، فارسی اور سنسکرت لفظیات کی بنیاد تک رسائی کی کوشش کی گئی ہے۔ علاقائی بولیوں کے الفاظ، کبیر، سور داس اور تلسی داس وغیرہ کے کلام کے الفاظ، محاورے اور کہاوتیں بھی اس میں شامل ہیں۔ ہندی اندراجات کے معانی اردو میں دے کر انھیں اردو اور دیوناگری دونوں رسم الخط میں علامات و اعراب کے ساتھ پیش کیا گیا ہے تاکہ متن کی قرأت اور تلفظ کی ادائیگی میں کوئی دشواری نہ ہو۔ دو جلدوں پر مشتمل اس لغت میں تقریباً سوا لاکھ الفاظ جمع کیے گئے ہی۔ چار ہزار محاورے اور کہاوتیں بھی شامل ہیں۔

علاوہ ازیں کونسل نے مختلف موضوعات پر چھوٹی چھوٹی فرہنگیں شائع کی ہیں۔ جن میں اردو کی صوتی لغت (مرتب نصیر احمد خاں) فرہنگ اصطلاحات شماریات، فرہنگ اصطلاحات قانون وغیرہ شامل ہیں۔ توقع ہے کہ اردو لغات کی ضرورت کی تکمیل کی راہ آسان کرنے میں کونسل مدد کرے گی۔

’ادبی اصطلاحات کی وضاحتی فرہنگ‘ کے عنوان سے ایک کتاب پروفیسر عتیق اللہ نے اردو مجلس،دہلی سے 1993 میں شائع کی۔جس میں ادبی اصطلاحات کے حوالے سے مفید معلومات ملتی ہیں۔

یہاں ایک اور اہم ڈکشنری کا ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے، اور وہ ہے حیدرآباد کے یعقوب میراں مجتہدی کی ’اردو انگریزی لغت مجتہدی‘۔ یعقوب میراں مجتہدی 1931  میں حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد سے گریجویشن کیا۔ ڈپارٹمنٹ آف ٹرانسلیشن حکومت آندھراپردیش میں ملازم ہوئے۔ ڈپٹی ڈائرکٹر آف ٹرانسلیشن کے عہدے سے 1989  میں سبکدوش ہوئے۔ 21 جولائی 2010 کو ان کا حیدرآباد میں انتقال ہوا۔ یعقوب میراں مجتہدی کو اردو اور انگریزی زبان پر عبور تھا۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے تنہا یہ عظیم الشان کارنامہ انجام دیا۔ ’اردوانگریزی لغت مجتہدی‘ تین جلدوں پر مشتمل ہے، جس میں ایک لاکھ پچیس ہزار الفاظ ہیں۔ یہ لغت چنچل گوڑہ حیدرآباد سے 2009  میں شائع ہوئی۔ برسوں کی محنت کے بعد مجتہدی صاحب نے بغیر کسی کی مدد کے یہ کام انجام دیا جو قابل ستائش و لائق تقلید کارنامہ ہے۔ لغت نویسی کا عمل موجودہ دور میں رک سا گیا ہے کیونکہ عہد حاضر کے نقاد، دانشور اور محققین اس دقت طلب کام کی ذمے داری اپنے سر نہیں لینا چاہتے ہیں اور نہ ہی کوئی ادارہ یہ جوکھم اٹھانا چاہتا ہے۔ ’’فیروز اللغات‘‘ کے بعد کم و بیش نصف صدی کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس عرصے میں کوئی بھی مستند لغت منظر عام پر نہیں آسکی ہے۔ حالانکہ اس طویل مدت میں کثیر تعداد میں ہندی، انگریزی اور دوسری زبانوں کے الفاظ اردو میں داخل ہوچکے ہیں اور ان کا استعمال ہو بہو اردو میں ہوتا ہے۔ اس جانب توجہ کی ضرورت ہے اور ایک ایسی لغت کی تدوین وقت کا تقاضا ہے جس میں جدید الفاظ کے ساتھ ساتھ مروجہ اصطلاحات اور تراکیب وغیرہ کی اصولِ فرہنگ کے مطابق تدوین عمل میں لائی جائے۔

یہاں ایک نکتے کی جانب اشارہ ضروری معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ اصطلاحات سازی کا عمل برسوں سے جمود کا شکار ہے۔ اردو میں گزشتہ پچاس برسوں میں بہت سے انگریزی اور ہندی کے الفاظ لکھنے، پڑھنے اور بول چال کی زبان میں شامل ہوچکے ہیں، جنھیں ہم من و عن اپنی زبان اردو میں استعمال کرتے ہیں، حالانکہ تھوڑی سی توجہ کے بعد ان الفاظ کے اردو متبادل تلاش کیے جاسکتے ہیں یا ان الفاظ کے نعم البدل وضع کیے جاسکتے ہیں۔ اصطلاحات سازی پر کوئی بھی ادارہ، کوئی بھی تنظیم یا کوئی بھی دانش گاہ توجہ مبذول کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔ انگریزی زبان کی تکنیکی و پیشہ ورانہ اصطلاحات اردو زبان کا آئے دن حصہ بنتی رہتی ہیں، جس کے باعث اردو کا ذخیرہ ثروت مند ہونے کی بجائے کم مائیگی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ یہی صورت حال دوسری زبانوں سے اردو میں ترجمہ ہونے والی کتابوں کا بھی ہے۔

اصطلاحات کے حوالے سے جو کام گزشتہ پچاس برسوں میں ہوئے ہیں، ان میں زیادہ معنویت نہیں پائی جاتی بلکہ یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اس مدت میں اصطلاحات سازی پر کوئی کام ہی نہیں ہوا ہے۔ محمد نعمان وحید بخاری اصطلاحات سازی اور تراجم کی موجودہ صورت حال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’اصطلاحات کی بات کی جائے تو عرصہ دراز سے یا یوں کہیے کہ گزشتہ نصف صدی سے کوئی بھی نئی اصطلاح اردو زبان کا حصہ نہیں بنی، جبکہ انگریزی زبان کی تکنیکی اور پیشہ ورانہ اصطلاحات اردو زبان میں آئے دن حصہ بنتی رہتی ہیں، جس کے سبب اردو الفاظ کا ذخیرہ تقریباً معدوم ہوتا جارہا ہے۔ یہی حال دوسری زبانوں سے اردو زبان میں ترجمہ ہونے والی کتب کا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو مترجم کا مقصدِ ترجمہ پیغام رسانی کا ہوتا ہے یا خیال سے متاثر ہوکر وہ اس کام کو انجام دیتا ہے، جس کے باعث مقصد تو پورا ہوجاتا ہے لیکن کوئی زبان سے متاثر نہیں ہوپاتا، یا یوں کہیے کہ اردو زبان کی جانب نہیں آتا۔ تراجم کی فہرست میں بھی موجودہ صورت حال میں دیکھا جائے تو انگریزی زبان سبقت لے گئی ہے۔ دنیا بھر کے کلاسیکی ادب کا ترجمہ انگریزی میں ہوچکا ہے۔ اگر تخلیق کے حوالے سے جائزہ لیا جائے تو بھی جدید علم میں جو اضافہ ہورہا ہے وہ انگریزی میں ہورہا ہے۔ اگر کسی زبان میں ہوتا بھی ہے تو اسے فوری طور پر انگریزی میں ترجمہ کردیا جاتا ہے۔‘‘

ہندی والے اصطلاحات سازی اور تراجم کے معاملے میں ہم سے آگے ہیں۔ آج جدید ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک میڈیا سے متعلق سیکڑوںالفاظ جو انگریزی کے ہیں، اردو کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ الفاظ ہماری توجہ کے متقاضی ہیں۔ یہاں چند انگریزی الفاظ و اصطلاحات لکھے جارہے ہیں جو عام طور پر بول چال اور لکھنے پڑھنے میں استعمال ہوتے ہیں لیکن ان کے اردو تراجم موجود نہیں ہیں۔  اس کے علاوہ بھی سیکڑوں اصطلاحیں ہو بہو اردو میں مستعمل ہیں جو انگریزی زبان کی ہیں۔ مثال کے طور پر واشنگ مشین، ریفریجریٹر، چالان، ٹیلی فون، ٹیلی ویژن، موبائل، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، کی بورڈ، ہارڈ کاپی، سافٹ کاپی، ہارڈ ڈسک، مانیٹر، پرنٹر، ماؤس، اسکرین، لیپ ٹاپ، گیجٹس، واٹس اپ، چیٹنگ، ای میل، سوشل میڈیا، فیس بک پوسٹ، لائک، شیئر، ٹوئٹر، انسٹا گرام، ویوز، کانفرنس، سمینار، سمپوزیم، آل انڈیا ریڈیو، پاس بک، نیفٹ، کرنٹ اکاؤنٹ، سیونگ اکاؤنٹ، سی سی ٹی وی کیمرہ، ایمبولنس، وائرس، آدھار کارڈ، لائسنس، پاسپورٹ، آن لائن میٹنگ، ورچول میٹنگ، ماسک، سینیٹائرز، فیس شیلڈ، پی پی ای کٹ، لاک ڈاؤن، کونسلنگ، کال سنٹر، ریزرویشن، ٹکٹ، اسٹیشن، اسٹیشن ماسٹر، ٹی ٹی ای۔ ٹی سی اسٹیشن وغیرہ۔ یہ وہ الفاظ و اصطلاحات ہیں جو برسوں سے ہماری زندگی کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ انگریزی کے ہزاروں الفاظ و اصطلاحیں ہماری زبان میں من و عن مستعمل ہیں جن کا ترجمہ اردو میں نہیں ہوا ہے جس کے باعث مجبوراً ہمیں انگریزی کے الفاظ استعمال کرنے پڑتے ہیں۔

تجسس، تفکر، تدبر اور تحقیق جیسی خصوصیات نئی نسل اور خصوصاً طلبہ میں تقریباً ناپید ہوچکی ہیں۔ تساہل، تجاہل، تغافل اور جمودِ فکر کی شکار یہ نسل محنت اور جدوجہد سے عاری نظر آتی ہے۔ سہل پسندی ان کا وطیرہ بن چکا ہے جس کی وجہ سے زبان کا غلط استعمال، اِن کی بول چال اور تحریروں میں پایا جاتا ہے۔

مصدر، مخرج، مشتق، مفرد، مرکب، اضافتِ لفظی، مضاف، مضاف الیہ اور واؤعطف سے لاعلمی بھی غلط زبان بولنے اور لکھنے کی جانب طلبہ اور اساتذہ کو مائل کرتی ہے۔ انگریزی اصطلاحات پر قناعت کرنے کی عادت بن چکی ہے۔ یونیورسٹیوں میں ادب کے ساتھ ساتھ زبان پر خصوصی توجہ نہ دینے کی وجہ سے بھی یہ مشکلات طلبہ کے ساتھ پیش آتی ہیں۔ بہت سے حرکت والے الفاظ کو ساکن پڑھنے کی روایت عام ہوگئی ہے مثلاً : علما، فضلا، شعرا، فقرا، جہلا، شرکا، ادبا، رؤسا، ورثا، امرا، طلبہ، سفرا وغیرہ کو حرف دوّم پر جذم کے ساتھ پڑھنے کی غلط روایت بن چکی ہے۔

شعَرا کو شعرا، علَماء کو علما، فضَلا کو فضْلا، شرَکاء کو شرَکا، فقَرا کو فقْرا، جہَلا کو جہلا، ادَبا کو ادْبا، طلبہ کو طلباء، امَرا کو امْرا، سفَرا کو سفْرا، اسَاتذہ، اساتذہ، جَدّوجہد کو جدّوجہَد، جَہالت کو جِہالت، خودکشی کو خودکَشی، زعَم کو زعم، شمولیت کو شَمولیت، معنَون کو مَعْنون، ناراضی کو ناراضگی، پڑھنے کی ایک عام روش پڑھے لکھے افراد میں پائی جاتی ہے۔ اسی طرح سے جمع الجمع استعمال کرنے کی روایت عام روش کا حصہ بن چکی ہے۔ جیسے : وجوہ کی جگہ وجوہات، رسوم کی جگہ رسومات، اکابر کے لیے اکابرین، عمائد کے لیے عمائدین، لوازم کے لیے لوازمات، ارکان کے لیے اراکین، مشائخ کے لیے مشائخین وغیرہ الفاظ کو غلط اعراب کے ساتھ پڑھنا عام ہوگیا ہے۔

بول چال کی زبان میں بھی انگریزی کا تسلط اِس قدر بڑھ گیا ہے کہ ہر پڑھا لکھا شخص اپنی گفتگو میں انگریزی الفاظ کا بے محابہ استعمال کرتا ہے۔ اس کی ایک مثال کے لیے ایک اقتباس پیش ہے۔ ایک صاحب اپنے ساتھیوں کو کسی جلسہ کی روئیداد سنارہے تھے۔ ان کی باتیں کچھ اس طرح تھیں :

’’جب ہم ہال میں انٹر (Enter) ہوئے تو اندر گیدرنگ (Gathering) (مجمع) کچھ خاص نہیں تھی، بہت سی کرسیاں ایمٹی (Empty) پڑی تھیں، اسپیکر بہت لاؤڈلی (Loudly) بول رہا تھا، میں واپس آگیا، اس لیے کہ وہاں خواہ مخواہ ٹائم ویسٹ ہونا تھا۔‘‘

(زبان خامہ کی خامیاں، علیم ناصری، پاکستان، صفحہ 66)

امکانات:

          اردو میں مغربی علوم و فنون کے تراجم اور اصطلاحات سازی کے عمل سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ اردو روز بروز ترقی کررہی ہے۔ اخبارات و رسائل اور ٹیلی ویژن نشریات کے علاوہ ٹی وی چینلس پر اردو کی خبریں پیش کی جاتی ہیں۔ ان خبروں کے پڑھنے والوں کے زبان و بیان اور لفظوں کی ادائیگی پر توجہ دلائی گئی تو وہ اردو زبان کو بہتر طور پر پیش کرسکیں گے۔

          آج کل ٹی وی چینلوں کے ذریعے جو خبریں ٹیلی کاسٹ کی جاتی ہیں ان میں بہت سے ایسے انگریزی الفاظ استعمال میں لائے جاتے ہیں جن کے متبادل لفظ اردو میں موجود ہیں، صرف تھوڑی سی توجہ دینے کے بعد یہ کام بہتر طور پر انجام دیا جاسکتا ہے۔

          اردو کے اساتذہ اور زبان کے ماہرین کی کوششوں سے اردو میں دخیل نئے انگریزی الفاظ و اصطلاحات کے تراجم وضع کیے جاسکتے ہیں شرط یہ ہے کہ انھیں سرکاری سرپرستی حاصل ہو یا کوئی سرکاری ادارہ اس طرف توجہ دے اور ان کی خدمات حاصل کرسکے۔

          قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ وضع اصطلاحات پر کسی جامع پروجیکٹ کو منظوری دے اور اس کے لیے خطیر رقم فراہم کرے تو چند برسوں میں ماہرین زبان وضع اصطلاحات کے عمل کو بخوبی انجام دے سکتے ہیں اور مختلف علوم و فنون پر مشتمل انگریزی میں رائج اصطلاحات کے متبادلات اردو میں وضع کیے جاسکتے ہیں۔

          ریاستی سطح پر اردو سے وابستہ افراد بھی اس جانب توجہ دیں تو یہ کام ناممکن نہیں کیوں کہ اردو سے تعلق رکھنے والے افراد کی ملک میں کمی نہیں اور نئی نسل کو اردو میں نئی اصطلاحات سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے۔ طلبہ کو صحیح زبان سکھانا وقت کا تقاضا ہے۔ ممکن ہے اِس جانب حکومت بھی توجہ دے مگر شخصی دلچسپی سے بھی اردو کے اساتذہ یہ کام بہ آسانی انجام دے سکتے ہیں۔ کیونکہ       ؎

نہیں ہے امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

حوالے

  1.      وضع اصطلاحات :مولوی سید وحیدالدین سلیم، انجمن ترقی ہند، اورنگ آباد      1921
  2.         فرہنگ اصطلاحاتِ جامعہ عثمانیہ: مرتبہ : ڈاکٹر جمیل جالبی مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد 1991
  3.         کشاف قانونی اصطلاحات، ترتیب : رشید احمد صدیقی مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد1982
  4.         فرہنگ ِ اصطلاحات اور محاوراتِ قانون، شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ، کراچی یونیورسٹی، کراچی 1982
  5.         حیدرآباد میں اردو کی ترقی تعلیمی اور سرکاری زبان کی حیثیت سے: ڈاکٹر سید مصطفی کمال، شگوفہ پبلی کیشنز، حیدرآباد1990
  6.         مملکت آصفیہ میں اردو زبان کی ترویج و ترقی، مرتب نظامس اردوٹرسٹ ، ملک پیٹ، حیدرآباد          2022
  7.         جامعہ عثمانیہ : ڈاکٹر حسن الدین احمد، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی 1988
  8.         ادبی اصطلاحات کی وضاحتی فرہنگ(جلداوّل): عتیق اللہ اردو مجلس، دہلی 1995
  9.         زبان خامہ کی خامیاں: علیم ناصری، پاکستان ……
  10.       حیدرآباد کے علمی اور ادبی ادارے ، شفیعہ قادری، حسامی بک ڈپو، حیدرآباد 1983
  11.       نقوش (مکاتیب نمبر)، ادارہ فروغ اردو لاہور، پاکستان 1968
  12.        ماہنامہ معارف: دارالمصنّفین شبلی اکیڈیمی، اعظم گڑھ، یوپی مارچ 2022
  13.       سہ ماہی عالمی فلک : مدیر احمد نثار، دھنباد،  جھارکھنڈ اکتوبر تا دسمبر 2021
  14.       اخبار اردو : مقتدرہ قومی زبان، کراچی، پاکستان، مئی 1982

Dr. Sabir Ali Siwani

H. No.: 9-4-87/C/12,  Ist Floor

Behind Moghal Residency, Tollchowkl

Hyderabad- 500008 (Telangana)

Cell.: 9989796088


تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...