3/1/24

ازبیکستان میں اردو زبان و ادب: قرۃ العین


ازبیکستان مرکزی ایشیا کا ایک اہم ملک ہے جس کا شمار دنیا کے قدیم ممالک میں ہوتا ہے۔ یہ خشکی اور خوبصورت پہاڑوں کے درمیان واقع ہے اس کی سرحدیں مغرب اور شمال میں قزاخستان مشرق میں کرگستان اور تاجکستان، جنوب میں افغانستان اور ترکمانستان سے ملتی ہیں۔ یہ دنیا کا دوسرا ایسا ملک ہے جس کے چاروں طرف ایسے ممالک ہیں جو خود بھی سمندر سے محروم ہیں۔ آزادی کے بعد اس ملک کی قومی زبان ازبیک ہے۔ یہ ایک ترکی زبان ہے جو ترکی اور دیگر ترک زبانوں سے ملتی جلتی ہے۔ ازبیکستان عہد قدیم سے ہی ایک علمی مرکز رہا ہے خواہ اسلامی علوم و فنون ہوں یا ادبی و ثقافتی، دیگر ممالک نے بھی یہاں کے علمی سوتے سے فیض حاصل کیا ہے۔ بڑے اورعظیم اسکالروں کا تعلق بھی اس سرزمین سے رہا ہے۔ حدیثوں کو یکجا کرنے والے امام بخاری کا تعلق بھی ازبیکستان کے شہر بخارا سے رہا ہے۔ ان کے علاوہ ابن سینا، البیرونی، الخوارزمی، احمد الفرغانی وغیرہ بھی ازبیکستان کے ہی رہنے والے تھے۔  ہندوستان سے مرکزی ایشیا اور خاص طور پرازبیکستان سے رشتے کافی پرانے ہیں۔

مذہبی، لسانی تجارتی اور تہذیبی تناظرمیں ہندوستان کی تاریخی اہمیت کا جائزہ لیا جائے تو ازبیکستان کا ذکر خصوصی طور پر سامنے آتاہے۔ ازبیکستان سے سماجی سیاسی، تہذیبی، تمدنی، تجارتی اور لسانی سطح پر ہندوستان سے بہت قریبی مراسم رہے ہیں اور ہندوستان کو انھوں نے متاثر بھی کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1995 سے قبل جب ازبیکستان کو باقاعدہ ایک ملک ہونے کا درجہ حاصل نہیں تھا یا ازبیکستان اپنی خصوصی ریاست کے لیے سرگرم جدو جہد تھا اورمتحدہ روسی نظام کے ماتحت ہونے کے باعث یہ اپنے وجود یا وقار کی جنگ لڑ رہا تھا۔ بالآخر 1991 میں جب اسے آزادی کا پروانہ ملا تو اس پر مہر لگانے والا یا اسے عالمی افق پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک ہندوستان بنا اور سب سے پہلے اس کو آزادی کی مبارک باد پیش کی۔ اس سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ازبیکستان اور ہندوستان کے آپسی مراسم اور رشتے کس قدر مضبوط اور مستحکم ہیں۔

اردو جنوبی ایشیا کی ایک اہم اور بڑی زبان ہے۔ یہ بھارت کی بائیس قومی زبانوں میں سے ایک ہے۔ دنیا کی دیگر زبانوں کی طرح اس زبان پر بھی کچھ اہم زبانوں کے اثرات نمایاں ہیں۔ مثلا سنسکرت اور اپ بھرنش کے ساتھ ساتھ عربی، فارسی، ترکی اور ازبیک وغیرہ۔ اگرچہ اردو کی بنیاد کھڑی بولی اور اب بھرنش زبانوں اور بولیوں پر استوار ہے۔ فارسی کا کئی صدیوں تک بھارت میں سرکاری زبان ہونا ایک ایسا عمل ہے جس نے ہندوستانی زبانوں میں اپنے گہرے نقوش ثبت کیے ہیں۔

ہندوستان کی زبان پر فارسی کے توسط سے یا بالواسطہ فارسی کے توسط سے اردو پر ازبیک کے اثرات بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ گرچہ فارسی اورترکی کے اثرات ازبیک کے مقابل زیادہ نمایاں ہیں، لیکن ازبیک چونکہ ترکی سے زیادہ قریب ہے پھر بھی ازبیک پر فارسی کے اثرات بہت زیادہ نمایاں ہیں۔ اس لیے بہت سی چیزیں جو ازبیک کے راستے ہندوستان پہنچی جیسے کھان پان، لباس اور زبان جو ازبیک سے تھی لیکن فارسی کے خانے میں چلی گئی، کیونکہ بھارت کی سرکاری زبان فارسی تھی۔ یہ بھی ہے کہ بہت سی روایتیں جو فارسی اورازبیک کی مشترکہ تھیں وہ آج اردو کا بھی حصہ ہیں۔

عالمی منظرنامے پرازبیکستان ایک ایسا ملک ہے جس سے اردو زبان و تہذیب کے قدیم ترین رشتے ہیں۔ اس کا آغاز ہندوستان میں ازبیکوں کی آمد سے ہوتا ہے۔ انھوں نے ہندوستان کے تہذیبی و ثقافتی اور لسانی دھارے میں خود کو شامل کر کے ایک نیا رنگ دیا۔ اردو زبان کی لفظیات میں ازبیکی الفاظ کا اضافہ کیا۔ نیزحدود سلطنت کی وسعت کے ساتھ ساتھ اردو زبان کا دائرہ بھی وسیع کیا۔ دوسری طرف ہندوستانی مسلمان جب ازبیکستان گئے تو اپنے ساتھ یہ زبان بھی لے گئے۔ اس کے علاوہ ازبیکستان کو ہم اس اعتبار سے بھی جانتے ہیں کہ یہ اردو ادب و تہذیب کا بڑا گہوارا بھی ہے۔ اردو تدریس کے لحاظ سے ازبیکستان اردو کی ایک اہم بستی ہے۔

آزادی کے بعد ہی ازبیکستان کی تاشقند یونیورسٹی میں باقاعدہ السنہ ہند کے نام سے شعبہ قائم ہوگیا تھا جہاں اردو زبان وادب کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی تہذیب، تاریخ اور سیاست وغیرہ کے مضامین پڑھائے جاتے تھے، ابتدا میں اس شعبے کے پہلے ہندوستانی استاد مدن تھے جو پہلے اردو پڑھاتے تھے پھربعد میں ہندی زبان پڑھانے لگے۔ انہیں روسی زبان میں بھی مہارت حاصل تھی۔

مشرق وسطی میں تاشقند اردو، ہندی تعلیم و تدریس کا ہمیشہ سے عظیم مرکز رہا ہے۔ یہاں کے ادیبوں میں کئی بڑے نام شامل ہیں جنھوں نے اردو زبان و ادب اور ہندی ادب کی نہایت ہی قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ان میں رحمان بیردی محمد جانوف، نبی جان محدوف، زینت اللہ عاشور بائف، فتح تیشا بائف، صورت میر قاسموف، طاہر ابراہیموا، آزاد شاماتوف، تاش مرزا، سونیا چیر نیکوا، قربان بیگ، غفور رخصت وغیرہ اولین جماعت تھی جو باقاعدہ مدن جی کے شاگرد تھے اور انھیں کی نگرانی میں اردو زبان سیکھی۔ یہ لوگ بعد میں ازبیکستان کے مختلف اداروں میں اردو تدریس کے فرائض پر مامور ہوئے۔ اس کے علاوہ ازبیکستان میں موجود اردو ہندی کے چند اور اردو اساتذہ کے نام یہ ہیں پروفیسر الفت محب، مکتوبہ مرتضی خوجہ، ڈاکٹر محیا عبدالرحمانوا، مخلصا صاحبہ، امید صاحبہ،ماہرہ صاحبہ اور مخرم صاحبہ وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔

رحمن بیردی محمد جانوف: ازبیکستان میں اردو زبان و ادب کو فروغ دینے والے رحمن بیردی اردو کے بڑے محسن اور سرپرست تھے۔ وہ ازبیک اور اردو زبان و تہذیب کے سچے علم بردار تھے۔ اردو زبان وادب کے قواعد کے تمام پہلووں پر قدرت کاملہ رکھتے تھے۔ ان کے شاگردوں کی تعداد کثیر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ساٹھ کی دہائی میں ازبیکستان میں اردو کا سب سے بڑا کتب خانہ ان کا گھر تھا جہاں اردو کی نادر ونایاب کتابیں موجود تھیں۔ رحمن صاحب بہت کم گو اور منکسرالمزاج شخصیت کے مالک تھے ہمیشہ تحقیقی اور علمی کاموں میں مشغول رہتے تھے۔ انھوں نے باقاعدہ تاشقند کے اسکولوں اور یونیورسٹی کے اردو کورسز کے لیے درسی کتابیں تیار کیں۔ تدریسی اور غیر تدریسی کتابوں کے علاوہ ان کا اہم کارنامہ ترجمہ نگاری بھی ہے۔ انھوں نے اردو شعر وادب کو ازبیکی زبان میں منتقل کیا مثال کے طور پر غالب کے اردو دیوان کے منتخب کلام کو ازبیک زبان میں پیش کیا۔ اس کے علاوہ پریم چند کے مشہور ناول گئودان کا ترجمہ بھی کیا۔ وہ نہ صرف اردو سے ترجمہ کرتے تھے بلکہ از بیک ادیبوں اور شاعروں کی تصانیف کے تراجم بھی اردو میں انجام دیتے تھے۔ ان میں علی شیر نوائی۔ عمیر الدین باندہ اور جدید ازبیک شعرا کے کلام شامل ہیں۔ ان کے اردو سے کیے گئے ترجموں میں پریم چند، راجندر سنگھ بیدی، خواجہ احمد عباس، کرشن چندر، سجاد ظہیر جیسے ادیبوں کی تخلیقات قابل ذکر ہیں۔ وہ خود بھی اردو میں شاعری کرتے تھے۔

نبی جان محدوف: ازبیکستان میں باقاعدہ سردار جعفری کی شاعری پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریت کی سند حاصل کرنے والے پہلے اسکالر تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ نہایت ہی ذہین، خوش گفتار، حاضر جواب اور وسیع المطالعہ شخصیت کے ماہر انسان تھے۔ اردو ازبیکی اور روسی زبانوں میں یکساں مہارت تھی جس کی وجہ سے وہ اکثر سرکاری و غیر سرکاری پروگراموں میں مترجم کے فرائض انجام دیتے تھے۔ نبی جان ترجمہ نگار کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔ مرزا ہادی رسوا کا شاہکار ناول امراو جان ادا کا ترجمہ ازبیک زبان میں کیا جو بہت مقبول ہوا۔ اس کے علاوہ سردار جعفری اور فیض کی شاعری کا بھی ترجمہ انھوں نے کیا۔

زینت اللہ عاشور بائف: تاشقند کے اورینٹل انسٹی ٹیوٹ کے ممتاز اسکالروں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ انھوں نے منٹو کی کہانیوں پر پی ایچ ڈی کی اس کے علاوہ منٹو کی کہانیوں کا ازبیک میں ترجمہ بھی کیا۔ انھوں نے اردو زبان بہت محنت سے سیکھی اور وہ روانی سے اردو میں باتیں کیا کرتے تھے۔

فتح تیشا بائف: ساٹھ کی دہائی میں ازبیکستان سے جن طلبا کی جماعت اردو کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہندوستان آئی تھی ان میں ایک اہم نام فتح کا ہے یہاں دہلی یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور طالب علم رہے۔ بعد میں سر سید کے سماجی افکار کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ازبیکستان کے سابق صدر اسلام کریموو کے دور حکومت میں نائب وزیر خارجہ کی ذمے داری نبھائی اس کے بعد امریکہ میں سفیر کے باوقار عہدے پربھی فائز رہے۔ ازبیکستان کی اردو دنیا میں انھوں نے اپنی صلاحیت، محنت اور ذہانت سے جو مناصب حاصل کیے اس میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ فتح صاحب ہندوستان میں جب ازبیکستان کے سفیر بنائے گئے تو سب سے پہلے انھوں نے یہ کوشش کی کہ دونوں ملکوں کے لسانی، ثقافتی اور تجارتی رشتے مزید مستحکم ہوں اور اس کے توسط سے دونوں ممالک کی زبان کو بھی فروغ حاصل ہو۔ اس کے لیے دہلی میں ایک ہند ازبیک سوسائٹی بھی بنائی گئی جس کے تحت ازبیکستان کے قومی تہوار منانے کے ساتھ ساتھ کئی ادبی وثقافتی سمینار بھی منعقد کیے گئے۔

طاہر ابراہیموو: طاہر ابراہیموا کا شمار بھی ازبیکستان کے نامور اردو ادیبوں اور دانشوروں میں ہوتا ہے۔ اردو زبان وادب سے ان سے والہانہ لگاؤ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب آپ تاشقند کے ایک اعلی اشاعتی مرکز غفور غلام کے اہم ذمے دار تھے تو آپ کی سرپرستی میں اس ادارے سے کلاسیکی اور جدید اردو ادب کی کئی کتابیں ترجمہ ہوکر شائع ہوئیں۔ جس میں ایک نہایت ہی اہم کام میرامن دہلوی کی داستان ’باغ وبہار‘ کا ازبیک ترجمہ ہے جسے انھوں نے خود کیا۔اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس داستان کا پہلا اڈیشن ساٹھ ہزار شائع ہوا اور چند مہینوں میں ہی یہ کتاب ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوگئی۔ در اصل قصہ چہار درویش ازبیکستان میں بہت مقبول تھی اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس کا ترجمہ بھی آسان اور عام فہم زبان میں کیا گیا تاکہ ہر ایک کو سمجھ میں آسکے۔

آزاد شاماتوف: ازبیکستان میں اردو کے حوالے سے پروفیسر آزاد شاماتوف ایک معتبر نام ہے۔ انھوں نے ڈاکٹریٹ کے ساتھ ڈی لٹ کی اعلی سند بھی حاصل کی۔ ان کی صلاحیت اور علمیت کا ہر کوئی معترف ہے۔ درس وتدریس ان کا اصل میدان تھا وہ نہایت ایماندار اور اصول پسند تھے اور شعبے کے دیگر اساتذہ کی تربیت کیا کرتے تھے کہ درس وتدریس اور علمی کاموں میں محنت و جانفشانی سے کام کریں تاکہ طلبا پر اس کا مثبت اثر ہو۔ اردو لسانیات، زبان کی نشو و نما اور اس کی لسانی خصوصیات کے حوالے سے آزاد شاماتوف کا نام سر فہرست ہے۔ آزاد شاماتوف کا اصل میدان دکنیات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دکنی ادب، خصوصی طور پر قطب مشتری اور دیگر دکنی ادبیات کی روشنی میں انھوں نے لسانیات کے حوالے سے اہم کام کیے ہیں علاوہ ازیں دیگر جرائد ورسائل میں بھی ان کے مضامین شائع ہوتے تھے۔ ان کے اردو شاگردوں کی ایک طویل فہرست ہے جو ازبیکستان کے مختلف شعبوں میں اردو کے حوالے سے کام کر رہے ہیں جیسے مختلف اداروں میں درس وتدریس، ٹی وی، ریڈیو کے علاوہ سیر وسیاحت کی جگہیں اور ائیر پورٹ وغیرہ۔ آزاد شاماتوف کو ازبیکستان میں اور خاص طور پر ادبی وعلمی حلقوں میں نہایت ہی عزت واحترام کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔

غفور رخصت الائف: ازبیکستان کے اردو منظر نامے پر ایک اہم نام غفور رخصت کا ہے۔ ان کا تعلق ایک زمانے تک ریڈیو ازبیکستان کے شعبہ اردو سے تھا جہاں وہ نہایت ہی ہنرمندی اور مہارت کا ثبوت دیتے ہوئے پروگرام کرتے تھے۔ غفور جان تاشقند کی مشرقیاتی یونیورسٹی میں اردو کے استاد بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ جب ازبیکستان کے شہر تاشقند میں ماسکو کا اردو اشاعت گھر قائم ہوا تو ان کو اس کی اہم ذمے داری دی گئی اور اس ذمے داری کا حق ادا کرتے ہوئے انھوں نے بے شمار ازبیکی شعر و ادب کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کرایا۔ اس کے علاوہ خود بھی کئی ازبیک ادیبوں کی کتابوں کو اردو میں منتقل کیا۔

سونیا چیر نیکوا: اردو میں تحقیق کا کام ہمیشہ سے اہم رہا ہے اس اعتبار سے دیار غیر میں سونیا چیر نیکوا ایک نمایاں نام ہے۔ تحقیق کے موضوع پر ان کی کتاب اردو کے صیغے ایک اہم کتاب ہے۔ تاشقند یونیورسٹی میں ایک عرصے تک اردو کی استاد تھیں۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی اردو پڑھنے، پڑھانے،سیکھنے،سکھانے اور اس زبان کی خدمت و تحقیق میں صرف کردی۔ انھیں اردو محاورے اور قواعد پر غیر معمولی دسترس تھی۔ اردو زبان میں نہایت شائستگی، شگفتگی اور روانی سے باتیں کیا کرتی تھیں۔ اردو میں مرکب افعال کی اقسام، پر ان کی ایک اہم کتاب موجود ہے جسے انھوں سب سے پہلے روسی زبان میں شائع کرایا پھر بعد میں خود اردو میں منتقل کیا۔

ازبیکستان کی کئی یونیورسٹیز میں باقاعدہ اردو زبان کی تدریس ہوتی ہے جن میں مشرقیاتی یونیورسٹی تاشقند اور تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیزکے نام قابل ذکر ہیں۔ ازبیکستان میں اردو زبان کی درس و تدریس کا باقاعدہ آغازتو 1920 میں ہوچکا تھا جب تاشقند میں فارسی زبان کے ساتھ ساتھ اردو کی بھی تعلیم جاری کر دی گئی تھی۔ لیکن اس وقت اردو شناسی کو زیادہ فروغ حاصل نہیں ہوا اور سب سے پہلے مشرقیاتی یونیورسٹی میں اردو کی پڑھائی شروع ہوئی۔ اس طرح ازبیکستان میں اردو تعلیم کا آغاز تو 1920میں ہی ہوا لیکن حال میں وہاں کی مختلف یونیورسٹیز میں اردو زبان وادب کی تہذیبی تاریخی اور لسانی موضوعات پر باقاعدہ ڈاکٹریٹ بھی ہورہی ہے۔ بعد کے اساتذہ میں ڈاکٹر تاش مرزا، ڈاکٹر محیا عبدالرحمانوا، محترمہ مکتوبہ مرتضی، محترمہ امید صاحبہ اور ماہرہ صاحبہ وغیرہ بھی اہم ہیں۔ ان اساتذہ نے بھی ازبیکستان میں اردو زبان کی تعلیم اور اس کی بنیاد کو مستحکم کیا۔

پروفیسر تاش مرزا:ازبیکستان میں اردو ادب کے حوالے سے ایک نمایاں نام مشہورشرق شناس، سوویت اور ازبیک سفارتکار، ماہر لسانیات، ازبیکستان میں اردو کے بڑے محسن استاد ڈاکٹر تاش مرزا صاحب کا ہے۔ تاش مرزا نے ازبیکستان میں اردو کو دورِنو سے روشناس کرایا۔ اردو میں جو تبدیلی آئی اس کو بھی انھوں نے واضح کیا۔ وہ ساری عمر اردو پر کام کرتے رہے اور اب بھی کر رہے ہیں۔ انھوں نے روسی اردو روسی صفات ترتیب دی اس اہم کاوش پر انھوں نے تیس سال کام کیا۔ اردو زبان کی گرامر، نحو، تاریخ اور تبدیلی پر مرزا صاحب کی کئی کتابیں اور مقالے ہیں۔ جن میں دو لغات بھی شامل ہیں، اردو روسی اور اردو ازبیک ڈکشنری کے علاوہ، اردو ریڈراور ہندوستان میں اردو کی ترویج کی چند خصوصیات وغیرہ اہم ہیں۔ ڈاکٹر تاش مرزا کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ انھوں نے وسطی ایشیا اور خاص کر ازبیکستان میں سیکڑوں اردوداں اور ہزاروں ماہرین کی تعلیم و تربیت کی۔ مشرقیاتی یونیورسٹی تاشقند میں اردو کے پروفیسر تھے اب وہ سبک دوش ہوچکے ہیں۔

ڈاکٹر محیا عبدالرحمانوا: اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل لنگویجیز تاشقند میں اردو ادب کی استاد اورغالب شناس ڈاکٹر محیا عبدالرحمانوا ایک معتبر نام ہے۔ انھوں نے قدیم اردو کے افعال پر کام کیا۔ محترمہ محیا صاحبہ غالب کی غزلوں کو ازبیکی زبان میں، ازبیک زبان میں غالب کی غزلوں کا انتخاب اور امام بخاری کے ملک میں چند روز، نامی سفرنامہ کا  ترجمہ کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی کتابوں میں اردو ادب اور زبان، بابر کے زمانے کی زبان کے علاوہ مختلف جرائد ورسائل میں متعدد مضامین بھی ان کے شائع ہو چکے ہیں۔

پروفیسر الفت محب: مرکزی ایشیائی ملک ازبیکستان کا شہر تاشقند زمانہ قدیم سے اردو کی تعلیم وتدریس کے لیے اہم مرکز رہا ہے۔ خاص طور پراسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیز تاشقند، جہاں 1947 سے ہی اردو ہندی کی تعلیم دی جارہی ہے۔ اس ادارے سے کئی اہم شخصیات وابستہ رہی ہیں جن میں پروفیسر الفت محب صاحبہ کا نام بھی ہے۔ اس وقت وہ اس شعبے کی صدر ہیں۔ بابری عہد کے ادب پر ان کا بڑا اہم تحقیقی کام ہے۔

ڈاکٹر لولا مکتوبہ مرتضی: اردو ازبیکستان کی ایک مقبول زبان ہے جس میں ماہرین  اردو اساتذہ اور طلبا کی ایک اہم تعداد موجود ہے۔ جن میں لولا مرتضی کا نام بھی اہم ہے۔ تاشقند اسٹیٹ انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیز میں اردو اور ہندی کی استانی ہیں۔ وہ تقریباً تیس برسوں سے اردو زبان وادب سے وابستہ ہیں۔ اردو زبان کے حوالے سے ان کا خیال ہے کہ یہ بہت ہی خوبصورت اور پیاری زبان ہے۔ وہ اردو نہایت ہی آسانی اور روانی سے بولتی ہیں۔

ان کے علاوہ اور بھی دیگر شخصیات جو اردو زبان وادب کی تدریس سے وابستہ ہیں جن میں ڈاکٹر سراج الدین نورمتو، موجودوہ صادیقوا، سلیمانوامعمورا، شارا حمیدوامخلصہ، کمالہ ارگا شوا اور محترمہ تمارا خوجائیوا صاحبہ بہت ہی اخلاص اور محنت و مشقت سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ ان اساتذہ میں بہت سے ایسے ہیں جن کے مضامین ہند و پاک کے رسائل و جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔ زیادہ تر اساتذہ پی ایچ ڈی کے علاوہ ڈی لٹ کی بھی ڈگری حاصل کر چکے ہیں۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ازبیکستان میں اردو زبان وادب کی تاریخ اوراردو تدریس و تعلیم تقریباً سو سالوں سے  بڑے پیمانے پر وہاں کی مختلف یونیورسٹیوں میں باضابطہ ہورہی ہے۔ ازبیکستان میں اردو زبان و ادب کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ سو سال سے زائد عرصے سے وہاں کی یونیورسٹیوں میں اردو پڑھائی جا رہی ہے۔ ازبیکستان میں اردو کو نہ صرف ایک زبان کے طور پر پڑھایا جاتا ہے بلکہ اس کے پس منظرمیں قدیم ترین دوستی اور ایثار و قربانی کے جذبے کی پوری تاریخ موجود ہے جسے ازبیکی کبھی فراموش نہیں کرنا چاہتے۔ کیونکہ تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی طور پر ہندوستان اور ازبیکستان کی عوام ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اور لسانی اعتبار سے اردو اورازبیکی زبانیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔ رسم الخط میں تبدیلی کے باوجود ان کے پاس لاتعداد الفاظ، کہاوتیں عام ہیں۔ اسی لیے ازبیکی برصغیر کو اپنا دوسرا وطن اور اردو زبان کو اپنا قدیم اور قیمتی اثاثہ و سرمایہ سمجھتے ہیں۔

حوالہ جات

  1.    ارمغان تاشقند، مرتبہ نو بہار صابر
  2.      ازبیکستان، انقلاب سے انقلاب تک۔ پروفیسر قمر رئیس
  3.      ماہنامہ انشا، (رسالہ) کولکاتہ، مئی، جون 2007
  4.      تاشقند کا جوہری، محمد طاہر نقاش
  5.     ازبیکستان اور علی شیر نوائی۔ پروفیسر قمر رئیس

 

Dr. Qurratulain

Bhartiya Bhasha Samiti

Ministry of Education

3rd Floor, A Wing Vishwakarma Bhawan

IIT, Katwaria Sarai

New Delhi- 110016

Mob.: 9810102723

لبنان کا ایک ’آشفتہ سر‘ جبران خلیل جبران:غزالہ پروین

 

نوعِ  انسانی کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ہم پر یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ دنیا میں مختلف اقوام نے مختلف وجوہات سے نقل مکانی کی ہے۔ غیرمناسب موسم اور آب و ہوا، معاشی و اقتصادی نا آسودگی،حکمراں طبقے کے ظلم و استبداد سے چھٹکارہ،بہتر اور خوشحال مستقبل کی تمنا، غرض سماجی، سیاسی، اقتصادی، تعلیمی وجوہات کے علاوہ بھی بہت سے اہم اسباب تھے جن کی بنا پر دنیا کی مختلف اقوا م مختلف ادوار میں اپنی بود و باش اور سکونت کو تبدیل کرتے رہے۔

جب ہم خلیجی ممالک پر نظر ڈالتے ہیں تو ان ممالک کی عوام نے مختلف سیاسی، سماجی، اقتصادی وجوہات کی بنا پرنقل مکانی یا ہجرت کی۔عرب ممالک میں مصر، عراق، شام، فلسطین اور لبنان ایسے ممالک ہیں جہاں کی عوام نے ہزاروں کی تعداد میں مغربی اور یورپی ممالک میں سکونت اختیار کی۔تقریباً 1850 سے 1925 تک کے دورانیے میں عرب ممالک سے ہزاروں لوگوں نے ہجرت کی۔ خاص طور سے لبنان میں برسوں سے رائج ایسے قوانین ہی سب سے اہم اسباب تھے ہجرت اور نقل مکانی کے۔ لبنان کی خوں ریز جنگوں میں لاکھوں انسان مارے گئے۔ جو بچ گئے انھوں نے اپنی جان کی سلامتی اور اپنے بچوں کے مستقبل کی آس لیے مغربی ممالک اور یورپی ممالک کو اپنا مسکن بنایا۔ان مہاجرین کی اکثریت ملک شام اور لبنان کے باشندوں کی تھی انھوں نے شمالی و جنوبی امریکہ کو اپنا ملجا و ماویٰ بنایا۔

عرب و لبنان کے ان مہاجرین میں لبنان کے سپوت خلیل جبران بھی تھے جو حکومت کے ظلم و ستم اور کلیسائوں کی اجارہ داری سے تنگ آکر اپنے خاندان کے ساتھ 1895 میں شمالی امریکہ کے شہر بوسٹن میں سکونت اختیار کی۔دن بہ دن عرب ممالک سے مہاجر کے قافلے مختلف یورپی و مغربی ممالک پہنچنے لگے۔دیارِ شرق سے نکلے ہوئے یہ قافلے دیارِ غرب کی چکا چوند میں بھی اپنے وطن کی مٹی کو یاد کرتے رہے۔ وقت گزرتا رہا کچھ برسوں بعد ان مہاجرین کو جب ذہنی آسودگی نصیب ہوئی تب انھوں نے اپنے احساسات،تجربات و مشاہدات کو سپرد کو قلم کرنا شروع کیا اور اس طرح شمالی اور جنوبی امریکہ میں رہائش پذیر ان مہاجرین نے ادب کی تمام اصناف کو سیراب کرنا شروع کیا اور اس طرح مہجری ادب کی بنیاد دیارِ غیر میں رکھی۔ مہجری ادب میں تہذیبی تبدیلی کے باوجود اپنی مادری زبان اور وطن سے محبت کا اثر نمایاں ہے۔  مہجری ادب اگرچہ کہ اپنی کم سنی اور کم مائیگی کی وجہ سے طویل زمانہ گزرنے کے بعد پذیرائی حاصل کر سکا لیکن مہجری ادب کا سرمایہ جدید عربی ادب کا اب جزو لا ینفک بن چکا ہے۔جدید عربی ادب میں مھجری ادب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے مشہور عربی ناقد ’شوقی ضیف‘ رقمطرازہیں:

’’مہجری شاعری کو پڑھنے اور سمجھنے سے پہلے اس کے لیے اپنے ذہن کو تیار کر لینا چاہیے کیونکہ جدید پیمانے قدیم شاعری کے پیمانوں سے بالکل مختلف ہیں۔اس کو مکمل طور پر سمجھنے کے بعد ہی اس کی قدر و قیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔‘‘

سابق پروفیسر شعبہ عربی،سرسید کالج اورنگ آباد محترم صدرالحسن ندوی مدنی مہجری شاعری اور اس کی اہمیت کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں:

’’عربی شعر و شاعری عصرِ جاہلی سے عصرِ جدید تک جس مزاج و منہاج پر رواں دواں تھی انیسویں صدی کے نصف اول تک اس میں کوئی نمایاں تبدیلی رونما نہیں ہوئی لیکن اس صدی کے نصف آخر میں سیاسی، سماجی، معاشرتی اور اقتصادی مدو جزر کے تناظر میں بڑے پیمانے پر ترکِ وطن کے نتیجے میں ادب کا ایک ایسا دبستان وجود میں آیا جو عربی شاعری کے قدیم مزاج و منہاج کے سلسلے میں اپنے ذہن و دماغ میں منفی تصورات رکھتا تھا۔اونٹوں اور گھوڑوں کی تعریف،دیارِ محبو ب کے ٹیلوں پر اشک ریزی اور اصحابِ وجاہت کے تملق و مدح سرائی کی ایک بے روح شاعری گردانتا تھا۔اس لیے شعرا مہجر نے عربی شاعری کو تمام بندشوں، روایات، تکلفات اور مبالغہ آرائیوں سے آزاد کرکے ادب برائے زندگی کے ہر شعبے کا ترجمان بنادیا۔اس رد عمل کے نتیجے میں انھوں نے قدیم عربی شاعری کے عروض و قوافی اور اوزان و اسالیب کے مروجہ قواعد سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی اور اس کی شاید سب سی بڑی وجہ مغربی زبان و ادب سے ان کی واقفیت و شیفتگی اور یورپ کے ترقی پسند شعرا سے ان کی مزاجی ہم آہنگی تھی۔‘‘

ان مہجری شعرا میں ایک اہم نام جبران خلیل جبران کا آتا ہے جنھوں نے روایتی اسلوب اور روایتی شاعری کو ترک کرکے نئے مزاج اور نئے ادب سے ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔خلیل جبران کی زندگی کا بیشتر حصہ شمالی امریکہ میں گزرا۔دیارِ مغرب کی آزاد فضا،فکر و عمل کی آزادی نے خلیل جبران کے تخیل کو نئی وسعتیں دیں۔ جبران کے خمیر میں حب الوطنی کی روح جاگزیں تھی۔وہ اپنی قوم و وطن کو ان مغربی ممالک کی صف میں کھڑا کرنا چاہتے تھے جہاں انسانیت ان کے ادب کا ناگزیر حصہ تھی۔اگر جبران کی جملہ تخلیقات کا تجزیہ کیا جائے تو اکثرحصہ ملک و وطن کی بہتری،نئے سماج کی تشکیل، روایت شکنی، انصاف،خوشحالی کی امید اور حقوقِ انسانی پر مشتمل ہے۔ لبنان کی تاریخ میں جبرا ن کی انقلابی سوچ اور ان کی انسان دوستی کو کبھی فراموش نہیں کیا       جا سکتا ہے۔

لبنان کے سپوت اور سرفروش خلیل جبران 1883 میں لبنان کے بشریٰ نامی ایک گائوں میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 1895 میں غربت و تنگدستی سے پریشان ہوکر اپنی ماں،بھائی پطرس اور دو بہنوں کے ہمراہ امریکہ کے شہر بوسٹن میں سکونت اختیار کی۔ اور وہاں چینیوں کا غریب محلہ چائنا ٹائون میں مقیم ہوگئے۔اس وقت جبران محض بارہ سال کے تھے۔اپنی ابتدائی تعلیم بھی مکمل نہیں کی تھی۔ لہٰذا عربی زبان و ادب کی مزید تعلیم کے لیے جبران کو دوبارہ لبنان بھیج دیا گیا۔جہاں جبران نے مدرسۃ الحکمۃ میں تقریباً چار سال تک عربی زبان و ادب میں مہارت حاصل کی۔اسی کے ساتھ فرانسیسی ادب، بائبل اور فلسفے کی بھی تعلیم حاصل کی۔ تقریباً چار سال مدرسۃ الحکمۃمیں گزارنے کے بعد جبران جب بوسٹن واپس لوٹے تو انھیں یکے بعد دیگرے کئی صدمات سے دوچار ہونا پڑا۔ ان کی بڑی بہن سلطانہ کا انتقال ہوگیا اس کے کچھ دنوں بعد جبران کے بھائی اور ماں کا بھی انتقال ہوگیا۔گھر کی تمام ذمے داریوں کا بوجھ جبران اور ان کی بہن ماریہ پر آن پڑا۔ یہ جبران کی زندگی کا بدترین دور تھا۔ ماریہ دست کاری سے اپنا اور جبران کا پیٹ پالتی تھی۔ بیس سال کی عمرمیں جبران نے انشا پردازی اور پینٹنگ شروع کی۔ 1904 میں بوسٹن میں جب ’جریدۃ المھاجر‘ کی اشاعت عمل میں آئی تو جبران اپنے مضامین بھی شائع کرنے لگے۔اسی طرح دوسرے جریدۃ ’الھدیٰ‘ میں جبران کے مضامین باقاعدگی سے شائع ہونے لگے۔جس کی وجہ سے ادبی حلقوں میں جبران بہت جلد معروف ہوگئے۔ 1904 ہی میں تصویروں کی نمائش میں ان کا تعارف میری ہاسکل سے ہوا۔جس نے جبران کی غیر معمولی ذہانت و فطانت دیکھ کر اس پر خاص توجہ کی اور اپنے ذاتی خرچ پر جبران کو فن مصوری(پینٹنگ) کی اعلیٰ تعلیم کے لیے پیرس روانہ کیا۔جبران نے پیرس میں دو سال گزارے۔ فنِ مصوری کے ساتھ ساتھ جبران نے فرانسیسی زبان و ادب کا بھی گہرا مطالعہ کیا۔جس سے انھیں فرانسیسی ادیبوں کے جدید افکار و نظریات کو سمجھنے کا بہترین موقع حاصل ہوا۔

فرانس سے واپسی کے بعد جبران نے اپنی رہائش مستقل طور پر بوسٹن سے نیویارک منتقل کرلی۔ابتدا میں جبران بہت سے عربی مضامین مختلف جرائد میں شائع کرواتے تھے۔اسی طرح ابتدا میں کچھ کتابیں عربی زبان میں بھی لکھیں۔ لیکن نیویارک میں عربی کتب کو خاطر خواہ پذیرائی نہیں ملی۔ اور نہ ہی ان چند کتابوں کی اشاعت سے معاشی تنگی دور ہوئی۔جبران نے انگریزی میں لکھنا شروع کیا۔ان کے مضامین مختلف انگریزی جرائد کی زینت بننے لگے۔اسی طرح انگریزی زبان میں کچھ کتابیں منظرِ عام پر آنے کے بعد عربی اور انگریزی ادبی حلقوں میں جبران متعارف ہوئے۔ان کی ادبی تخلیقات کی بہت پذیرائی ہوئی۔بلکہ اس حد تک پذیرائی ہوئی کہ کچھ کتابوں کے کئی ایڈیشنس منظر عام پر آئے۔خلیل جبران کی ایک کتاب ’النّبی‘ (The Prophet) دنیا کی سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں میں سے ایک ہے۔ایک اندازے کے مطابق یہ کتاب جو انگریزی زبان میں تحریر کردہ ہے پندرہ لاکھ سے زائد جلدیں فروخت ہوئیں۔دنیا کی تقریباً بیس زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوا۔یہ انگریزی زبان میں سب سے اہم تصنیف ہے۔اس طرح عربی زبان میں ناول ’الاجنحۃ المتکسرۃ‘بھی سب سے عمدہ تصنیف تسلیم کی گئی۔ جبران نے تصنیف و تالیف کا کام دو زبانوں میں کیا ہے،عربی اور انگریزی۔عربی ممالک کے لیے عربی زبان میں اور اہلِ مغرب اور انگریزی داں کے لیے انگریزی کو ذریعۂ اظہار بنایا۔کچھ عرصے بعد جبران کی تمام عربی و انگریزی کتب کا دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔جبران نے آٹھ کتابیں عربی زبان میں اور آٹھ کتابیں انگریز ی زبان میں لکھی ہیں۔

عربی زبان کی کتابیں


1                                 الموسیقی(1905)

جبران نے اس کتاب میں موسیقی کی اہمیت اور نفسِ انسانی کے ساتھ اس کے روحانی رشتے پر روشنی ڈالی ہے۔ جبران نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ موسیقی انسان کے اندر ایک نیا عزم،جوش اور ولولہ پیدا کرتی ہے۔

2                                 عرائس المروج(1906)

یہ تصنیف تین افسانوں پر مشتمل ہے۔ان تینوں افسانوں میں مذہبی تعصب،سرمایہ دارانہ نظام کی اجارہ داری اور مختلف سیاسی و سماجی برائیوں پر ضرب کی گئی ہے۔ اس کتاب میں جبران کا رویہ باغیانہ اور سخت ہے۔

3                                 الارواح المتمرّدہ (1908) سرکش روحیں

یہ کتاب چار افسانوںپر مشتمل ہے۔اس میں حکمراں طبقے اور مذہبی پیشوائوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اس کتاب میں بھی جبران کے باغیانہ تیور نظر آتے ہیں۔اس کتاب کی وجہ سے جبران پر ملحد ہونے کا الزام لگایا گیا۔ چرچ میں اس کتاب کا داخلہ ممنوع قرار دیاگیا۔اور اسے نذرِ آتش کیاگیا۔

4                                 الاجنحۃ المتکسرہ(1921)ٹوٹے ہوئے پر

یہ کتاب جبران کا ایک مشہور ناول ہے۔اس کتاب میں بھی فرسودہ رسوم اور طبقاتی کشکش کو بیان کیاگیا ہے۔ اس میں طبقۂ اناـث کی حمایت اور طرف داری کی گئی ہے۔

5                                 دمعۃُٗو ابتسامہ(1914)آنسو اور مسکان

یہ کتاب جبران کے مختلف مضامین کا مجموعہ ہے جو مختلف جرائد میں شائع ہوتے رہے۔

6                                 المواکب(1914)قافلے

یہ جبران کی واحد شعری تخلیقات کا مجموعہ ہے جس کا نفسِ مضمون فلسفیانہ خیالات اور صوفیانہ افکار ہیں۔

7                                 العواصف(1920) آندھیاں؍ طوفان

یہ کتاب جبران کے افسانوں اور مضامین پر مشتمل ہے۔یہ دراصل پہلی جنگ ِ عظیم کے بعد لبنا ن اور دوسرے عرب ممالک میں ہونے والے بحران اور مسائل کے تناظر میں لکھی گئی ہے۔

8                                 البدائع و الظرائف(1923)

یہ کتاب بھی جبران کے مختلف مضامین کا مجموعہ ہے۔حکیمانہ اقوال اور ناصحانہ تحریریں اس کتاب کا خاصہ ہے۔

خلیل جبران کا تخلیقی ادب نثری و شعری اصناف میں موجود ہے۔جبران نے اپنے تخلیقی اظہار کے لیے شعری ونثری دونوں اصناف میں طبع آزمائی کی ہے لیکن جبران کو شہرت ان کے شعری کلام کے بجائے نثری تخلیقات سے ہوئی۔ سوائے ’مواکب‘کے جو جبران کی پہلی اور آخری شعری تخلیق ہے۔باقی تمام تخلیقات نثری یا منظوم نثری حالت میں ہیں۔

جبران کی ایک بہت اہم کتاب ’الارواح متمرّدہ‘ (سرکش روحیں) ہے جو چار افسانوں پر مشتمل ہے۔اس کتاب میں چار افسانوں میں سے یہاں دو افسانوں کا جائزہ لینا مقصود ہے۔

افسانہ’کافر خلیل‘ اس عنوان سے ہی جبران کا طنز جھلکتا ہے۔ اس افسانے میں جبران نے ایک بہت نیک، پارسا، عیسائی مذہب کا سچا پیروکار، غریبوں کا مسیحا، اخلاقیات کا شیدائی، اعلیٰ اقدار کے حامل انسان کو مرکزی کردار عطا کیا ہے۔کافر خلیل کے روپ میں جبران نے ایک ایسے باغی و سرکش کا روپ دے کر مذہبی پیشوائوں کے سیاہ کارناموں کواجاگر کیا ہے۔ جبران نے جب شعور کی منزلوں کو طے کرنا شروع کیا تب انھیں اس کا ادراک ہوتا گیا کہ سماج کس طرح طبقاتی کشمکش میں مبتلا ہے۔ غربا و مساکین کی آمدنی کا اکثر حصہ کس طرح سرمایہ دار اور مذہبی پیشوائوں کی جیب میں جاتا ہے۔کافر خلیل جو اس افسانے کا مرکزی کردار ہے عوام الناس کو خوابِ غفلت سے بیدار کرتا ہے۔کافر خلیل جو حکمراں طبقے اور مذہبی پیشوائوں کی نظر میں کافر، ابلیس، باغی، سرفروش،سرکش اور روایت شکن ہے۔لیکن جبران نے خلیل کو ایک مسیحا کے طور پر پیش کیا ہے۔یہی وہ تصنیف ہے جس کی وجہ سے جبران پر الحاد کا الزام لگاکر کلیسائوں میں ان کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا۔بلکہ اس کتاب کو عیسائیوں کے لیے حرام قرار دیا گیا۔لبنان میں جبران کی کتابیں نذرِ آتش بھی کی گئیں۔

جبران مذہب مخالف نہ ہوکر مذہبی پیشوائوں کی بے جا بندشوں اور ان کی مفاد پرستی سے نالاں تھے۔ جبران عیسیٰ مسیح کی سچی تعلیمات کو صحیح طریقے سے لوگوں میں پھیلانا چاہتے تھے۔

جبران کا یہ افسانہ پڑھنے کے بعد ہمیں اس وقت کی سماجی نا انصافی اور حقوق تلفی کا اندازہ ہوتا ہے اور لوگوں کے تئیں جبران کی سچائی عیاں ہوتی ہے۔

خلیل جبران کا دوسرا افسانہ جو ’سرکش روحیں‘نامی کتاب میں شامل ہے۔اس افسانے میں جبران نے آج سے ایک صدی قبل لبنان اور دوسرے عرب ممالک کے رسوم پر کاری ضرب لگائی ہے۔اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ صدیوں سے چلے آ رہے بہت سارے فرسودہ رسوم کس طرح ہماری زندگی کو تلخیوں سے بھر دیتے ہیں۔سماج میں بہت سے رسم و رواج محض انسان کی جاہلیت اور کم فہمی کی وجہ ہیںہے۔انسانی سماج میں شادی بیاہ بھی ایک اہم اور ناگریز رواج ہے۔جبران نے اس افسانے میں دو مرکزی کردار یعنی رشید نعمان اور روز ہنی کے ذریعے یہ  بتانے کی کوشش کی ہے کہ چاہتوں اور رشتوں کا پیمانہ مادیت نہیں ہے۔ یہ چاہت دنیاوی شان و شوکت سے بہت پرے کی چیز ہے۔ چاہت تو وہ جذبہ ہے جو لافانی اور ہست و بود سے ماورا ہوتا ہے۔اسی طرح مرد و عورت کے درمیان سچی چاہت کا معیار مال و دولت اور جاہ و حشم کی بجائے وہ احساس و جذبہ ہوتا ہے جس کا کوئی مول نہیں۔گویاجبران نے اس افسانے میںبتایا ہے کہ سچی چاہت ما بعدا لطبعیاتی ہے۔ہمارے سماج میں اکثر ظاہری شان و شوکت اور کر وفر ہی شادی اور دوسرے رشتوں کے لیے محرکات بنتے ہیں۔جبران کے مطابق یہ ہمارے سماج کی بہت تلخ حقیقت ہے کہ انسانی رشتوں میں ہم ہمیشہ مادیت کو مدِ نظر رکھتے ہیں لیکن اس دنیا میں سچی خوشیاں ظاہری شان بان سے نہیں بلکہ یہ تو دلوں کی ہم آہنگی اور لطیف احساسات پر منحصر ہوتی ہیں۔یہ بھی ایک کڑوی حقیقت ہے کہ سماج میںہزارو ں شادیاں محض مال و دولت اور شان و شوکت کو مد نظر رکھ کر انجام پاتی ہیں۔ چاہے مردوعورت کے دل اور ذہن ہم آہنگ ہوں یا نہیں۔آج ہمارے سماج میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو چاہت کی بجائے مصالحت پر زندگی گزار رہے ہیں اور شادی جیسے بندھن کو مصالحت پر گزارنا کسی عذاب سے کم نہیں۔جبران جو سماج کے بڑے نبض شناس تھے انھوں نے سماج کے ان فرسودہ رسوم پر کاری ضرب لگائی ہے۔

اس افسانے میں رشید نعمان،روز ہنی سے عمر میں بہت بڑا ہوتا ہے۔روز ہنی کے والد کی عمر کے برابر۔لیکن رشید اپنی شان و شوکت،دولت و ثروت کی بنیاد پر روز ہنی سے شادی کرتا ہے۔لیکن روز ہنی نعمان کو کبھی اپنے شوہر کے روپ میں قبول نہیں کرتی اور ایک روز وہ موقع پاکر نعمان کا گھر چھوڑ دیتی ہے اور اپنے پسندیدہ شخص کے ساتھ شادی کرلیتی ہے۔بقول جبران’’سماج ایسی عورت کو زانیہ اور فاحشہ گردانتا ہے۔‘‘لیکن جبران کی فکر و نظر میں روز ہنی ذرا بھی قصور وار یا مجرم نہیں ہے۔ جبران نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ انسانی رشتوں اور چاہتوں کو دولت کے پیمانے میں نہ تولا جائے،چاہت تووہ انسانی جذبہ ہے جس کا کوئی مول نہیں اور مادیت کبھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

اقتباس افسانہ ’وردۃالھانی‘

’’عورت کو خوشی نہ تو مرد کی شان و شوکت اور عزت سے حاصل ہوتی ہے اور نہ اس کی سخاوت سے۔بلکہ یہ تو اس پیار سے حاصل ہوتی ہے جو دونوں کے دلوں اور ان کی لگن کو شیر و شکر کردے اور جسم و جاں ایک کردے۔

اس عورت کا غم کون جانے جو خدا کے حکم سے اپنی روح اس آدمی پر نچھاور کردے جسے وہ چاہتی ہو اور اپنا بدن دوسرے کے حوالے کردے  جسے وہ انسانی قاتلوں کے دبائو تلے رہ کر پیار کرے۔یہ ایسا المیہ ہے جسے عورت کے لہو اور آنسوئوں سے لکھا گیا ہو لیکن آدمی اسے پڑھ کر اس کا مذاق اڑاتا ہے کیونکہ وہ اسے سمجھتا ہی نہیں۔پھر اگر وہ سمجھ ہی لے تو اس کا ایک قہقہہ اس فعل کو ملامت میں بدل دے گا اور یہ عورت کے دل پر آگ بن کے جلے گا۔ کالی راتیں یہ ناٹک اس عورت کی روح کے اسٹیج پر کھیلتی ہیں،جس کا بدن شادی کے خدائی قانون کا مطلب سمجھنے سے قبل ایسے آدمی سے باندھ دیاگیا ہو جسے وہ اپنا شوہر سمجھتی ہو۔وہ اپنی روح کو اس آدمی کے ارد گرد منڈلاتے دیکھتی ہو جسے وہ تمام پاکیزہ اور سچے پیار اور خوبصورتی سے سراہتی ہو۔یہ کیسا خوفناک عذاب ہے۔آغاز عورت میں کمزوری پیدا کرنے اور مرد کو طاقت بخشنے سے ہوا۔یہ آدمی کے بگڑے ہوئے قانون اور مقدس پیار اور دل کے متبرک مقصد کے درمیان ہولناک جنگ ہے۔‘‘

مذکورہ افسانے میں سماج کے سامنے سماج کے ان تلخ حقائق کو جبران نے اپنی تحریروں کے ذریعے عیاں کرنے کی کوشش کی ہے۔جبران کی تمام شعری و نثری تخلیقات میں جبران کے باغیانہ افکار اور روایت شکنی کو صاف محسوس کیا جا سکتا ہے۔

جبران کی تمام تخلیقات کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ جبران قوم و ملت کے مسیحا ہیں۔ جبران کی وسعتِ نظری اور آفاقی فکر ایسے رسوم و عقائد کا برابر جائزہ لیتی رہی جو سماج کو صدیوں سے کھوکھلا کرتی چلی آرہی ہے۔ جبران قوم کا مسیحا نظر آتا ہے۔ان کی ذہانت و فطانت ایسی روایات کو برداشت نہ کر سکی۔ انسانوں کا سیاسی، سماجی، معاشی، جذباتی استحصال وہ کسی طرح برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ان کی تمام تخلیقات سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ وہ قوم کے چارہ گر اور غمگسار تھے۔کبھی خوابیدہ قوم کو حکمراں طبقے کے ظلم سے بیدار کرتے ہیں۔ قوم کے اس سوز و گداز میں وہ کبھی باغیانہ روش اختیار کرتے ہیں اور کبھی شفقت و نرمی کا پہلو اختیار کرتے ہیں۔جبران کی ہر تحریر میں ایک انقلابی و اصلاحی سوچ عیاں ہے۔زندگی کا اکثر حصہ دیارِ غیر میں گزارنے کے باوجود جبران اپنے لوگوں اور وطن کی مٹی سے ہمیشہ جڑے رہے۔

لبنان کی تاریخ میں جبران کی سرفروشی اور روایت شکنی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔جبران بطورِ شاعر، ادیب، مصور، روایت شکن،باغی کے علاوہ ایک انسانیت کے ہمدرد اور غمخوار کی حیثیت سے انسانی تاریخ میں ہمیشہ یاد کیے جائیں گے۔


مراجع و مصادر

  1. جدید عربی شاعری: ڈاکٹر فوزان احمد، جامعہ سلفیہ بنارس 2008
  2. جدید عربی ادب اور ادبی تحریکات۔ڈاکٹر ابو عبید۔الکتاب انٹرنیشنل،نئی دہلی2011
  3. سرکش روحیں اور آبی پریاں۔جبران خلیل جبران۔روشان پرنٹرس،دہلی2018
  4. روح کے آئینے اور گلبدن۔جبران خلیل جبران2018
  5. جدید عربی ادب: ڈاکٹر شوقی ضیف،روشان پرنٹرس، دہلی 2014

 

Dr. Ghazala Parveen

Lecturer in Arabic

Dr. Rafiq Zakaria College for Women Aurangabad - 431001 (MS)

Mob.: 9850782985

2/1/24

کرناٹک کی ادبی صحافت کا اجمالی جائزہ: ام عمارہ ضیا

کرناٹک کی ادبی صحافت کئی اعتبار سے ممتاز حیثیت کی حامل ہے۔روزناموں اور ہفتہ وار اخباروں کے علاوہ ریاست کرناٹک اردو رسائل وجرائد کی بھی متنوع وروشن تاریخ رکھتی ہے۔یہاں ان چند نمائندہ رسائل کو موضوع گفتگو بنایا گیا ہے جن رسائل نے ادبی فکر کی توسیع کے ساتھ سنجیدہ صحافت کو ارتقا بخشنے کی کوشش کی ہے۔

اس سلسلے میں پندرہ روزہ رسالہ ’محافظ بنگلور‘کو نقش اول کا درجہ حاصل ہے عبدالمجیب کی زیر ادارت 1875 میں اس کا اجرا عمل میں آیا۔محمد عبدالمجیب نے رسالہ ’محافظ‘ جاری کر کے کرناٹک میںاردو رسائل کی بنیاد ڈالی۔یوں تو یہ آٹھ صفحات پرمشتمل اخباری صورت میںشائع ہوتا تھا لیکن مشمولات، ترتیب وتزئین اور تنوع کے اعتبار سے اس میں ایک رسالے کی تمام خوبیاں یکجا ہو گئی تھیں۔ جاذب نظر کتابت اور طباعت سے مزین ’محافظ‘ میں مضامین کے علاوہ مبسوط،مدلل اداریے کی اشاعت کا بھی اہتمام ہوتا تھا۔اس زمانے میںاس رسالے کی مقبولیت کا یہ عالم رہاکہ اس کی تقلید میں اہم رسائل منظر عام پر آئے۔

عبدالحفیظ آرام کی زیر ادارت شائع ہونے والا عورتوں سے متعلق ماہنامہ ’ترغیب‘بھی کافی اہمیت کا حامل ہے۔چونکہ عبدالحفیظ آرام ایک ممتاز عالم تھے لہٰذا اصلاح نسواں سے خاصی شغف رکھنے کے باعث خواتین میں سماجی، تعلیمی اوراخلاقی شعور پیدا کرنا چاہتے تھے اور اسی مقصد کی تکمیل کے لیے’ترغیب‘ کا اجرا عمل میں آیا تھا۔

19ویں صدی کی آخری دہائی کی ابتدا کے ساتھ بنگلور اور میسور کو ادبی محفلوں اور شعر وسخن کے اہم مراکز کی حیثیت حاصل ہو چکی تھی، لکھنؤ اوردلی کی طرح یہاں بھی طرحی مشاعروں کا رواج عام ہوا۔ اس زمانے کے رسائل واخبارات نے عوام میں اپنی جگہ بنانی شروع کی اور ادبی ذوق رکھنے والوں کے شعری ذوق کو پروان چڑھایا۔ جب یہ رسائل عوام کے ادبی ذوق کی آبیاری میں مصروف تھے اسی وقت بنگلور سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر عبدالحق تحقیق نے ایک گلدستے کی اشاعت کو ضروری محسوس کیا اور پھر ماہنامہ’شمع سخن‘ کی صورت میں اس کمی کو پورا کیا۔ اسے کرناٹک کے اولین گلدستے کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کے ابتدائی صفحات پر جنوبی ہند کے ممتاز شعرا کی غزلیں اور طرحی مشاعروں کی تفصیلات پیش کی جاتیں، جب کہ دیگر صفحات منتخبہ کلام کے لیے وقف ہوتے تھے۔ یہ کلام ملک کے مختلف حصوں سے شائع ہونے والے گلدستوں سے نقل کیے جاتے تھے، جن کا مقصد قارئین کے علم میں اضافہ کرنا تھا۔ تاکہ قارئین مقامی شعرا کے کلام سے محظوظ ہونے کے ساتھ ہندوستان کے دوردراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے مقتدر شعرا کے کلام سے بھی فیض یاب ہوں۔

اس درمیان شعر وادب سے متعلق رسائل کی اشاعت نے بعد میں منظر عام پر آنے والے رسائل کی راہ ہموار کی۔مختلف موضوعات پررسائل وجرائد کی اشاعت میں تیزی آئی اور ادبی فنون کے علاوہ علمی، مذہبی، اخلاقی، اصلاحی و سیاسی غرض مختلف نوعیت کے رسائل ملک کے گوشے گوشے سے شائع ہونے لگے، اور ایسے رسائل بھی منظر عام پر آئے جنھوں نے نئے لکھنے والوںکی راہ ہموار کی اور انھیں ایک پلیٹ فارم مہیا کیا جس سے ادیبوں اور شاعروں کی ایک بڑی تعداد سامنے آئی جو اپنے علمی وادبی و تحقیقی کاموں کے ساتھ اردو دنیا میں ادیب وشاعر کی حیثیت سے متعارف ہوئے۔

اس ضمن میں ماہنامہ ’صبح بہار‘ کا نام خصوصیت کا حامل ہے۔یہ رسالہ مشاہیر شعرا وادبا کی تخلیقات سے مزین ہوتا تھا۔یہ خالص علمی وادبی نوعیت کا رسالہ تھا جو محمد علی آزاد کی نگرانی میںمئی 1906 میں بنگلور سے نکلنا شروع ہوا۔ صبح بہار کے مشمولات کی انفرادیت، تنوع اور حسن ترتیب کے باعث اسے مقبول عام رسالہ بننے میں وقت نہیںلگا اور جلد ہی وہ اہل قلم بھی اس کا حصہ بنے اور اپنا قلمی تعاون پیش کیا جن کی تحریریںادب کاگراں قدر حصہ سمجھی جاتی ہیں۔جہاں ایک طرف مولوی محمد باقر، مولوی فاروق احمد، شمس اللہ قادری، عبدالحلیم شرر، حامد حسین قادری، رشید احمدصدیقی، مولوی سید علی بلگرامی، صفدر مرزا پوری، سید محی الدین اورنگ آبادی وغیرہ مستقل قلمی معاونین میں شامل رہے، وہیں دوسری طرف شعرا میں اختر مینائی، تلوک چند محروم، جلیل مانک پوری، شاد میرٹھی، افسر میرٹھی، جگر لکھنوی، محشر لکھنوی، نشتر لکھنوی، مضطر خیر آبادی، توفیق حیدر آبادی،حباب میسوری وغیرہ نے شعری ایوان کو سجایااور حصہ نظم کو معیار واعتبار بخشا۔

اسی زمانے میں بنگلور سے مزید دو ماہنامے جاری ہوئے۔پہلا ماہنامہ ستارہ میسور(بنگلور) جس کے مدیر محمد سلیمان پرواز تھے اور دوسرا ماہنامہ کوثر (بنگلور)مدیر محمود خان محمود(مارسٹن)وغیرہ بنگلورکے رسائل وجرائد میں ایک اہم اضافہ ہیں،جو اپنی متنوع خصوصیات کی بنا پر قارئین کے حلقوں میں قدر کی نگاہوں سے دیکھے گئے۔

اس طرح خالص علمی وادبی رسائل کی روایت جو ماہنامہ ’صبح بہار‘ سے شروع ہوئی تھی،ماہنامہ ’فانوس‘ نے اسے جلا بخشی، اگست 1940 میں شہر بنگلور سے اس کی اشاعت عمل میں آئی۔  مدیر ابوالفضاعزیز بنگلوری اور مدیر خصوصی فرید انصاری بھوپالی تھے۔ عزیز بنگلوری جو خود ایک صاحب طرز انشا پردازاور اخبار نویسی کے ماہر تھے، ساتھ ہی ذوق شعری کا رچا ہوا شعور رکھتے تھے۔ انھوں نے اپنی خلاقانہ صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے نہایت وقیع اداریے کے ساتھ رسالے کی ترتیب وتزئین میں جدت پیدا کی۔ بالخصوص’فانوس خیال‘ کے عنوان سے تحریر کیے جانے والے وقیع اداریے،عزیز بنگلوری کی اعلیٰ مدیرانہ و صحافتی صلاحیتوں کا مظہر ہیںتقریباً ہر شمارے میں اہتمام سے لکھے گئے اداریوں میںہم عصر مسائل پر گفتگو ہوتی اور نہایت ہی دانشورانہ اور مفکرانہ انداز میں ان کے اسباب وعلل پر روشنی ڈالی جاتی تھی۔ علاوہ ازیں شعر وادب کے مسائل کو بھی اپنے اداریوں میں جگہ دی۔ان صفحات میں وہ موجودہ ادبی مسائل بھی زیر بحث لاتے ہیں۔ دیگر مشمولات میںافسانوی ادب کے تحت مشاہیر افسانہ نگاروں کے افسانے شامل ہوتے،اور ایک گوشہ تراجم کے لیے مختص ہوتا  جہاں دوسری زبانوں کے مقبول عام افسانوں کے تراجم پیش کیے جاتے۔مثلاً جلد1 شمارہ6 جنوری 1941 میں بنگلہ زبان کے معروف ادیب رابندر ناتھ ٹیگو ر کے افسانے ’بینائی‘ کا اردو ترجمہ رسالے کی زینت بنا۔اردو تراجم کے علاوہ اس رسالے میں ایک مستقل شعری کالم بھی ہوا کرتا تھا۔جسے ’اصلاح سخن‘ نام دیا گیا۔ اس کالم میںمختلف شعرا کے کلام پر صحت مند گفتگو ہوتی اور کلام میں موجود محاسن ومعائب کا پتہ لگانے کی کوشش کی جاتی، ساتھ ہی’نقد ونظر‘ کے کالم میں نئی کتابوں پر تبصرے کیے جاتے تھے۔مجموعی اعتبار سے ’فانوس ادب ‘ نے ایک عرصے تک قارئین کو عصری ادب سے آگاہ کرنے کے علاوہ مختلف سیاسی ،سماجی ومعاشرتی حالات سے باخبر رکھا۔ نیز عام معلوماتی مضامین کے ذریعے تجزیہ اور تشریح وتوضیح پیش کی۔قارئین کی رہنمائی کے لیے مسائل اور ان کاحل بھی پیش کرنے کی کوشش کی۔

شہر بنگلور سے جاری ہونے والے ادبی رسائل کی ایک لمبی فہرست ہے لیکن چند رسائل ایسے رہے جنہوں نے فکری و فنی اعتبار سے ادب پر گہرے نقوش مرتب کیے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی دو ماہی رسالہ ’نیادور‘ ہے۔ اس کا پہلا شمارہ صمد شاہین اور ممتاز شیریں کی زیر ادارت اگست 1944 میں اقبال پریس سے شائع ہوا۔پہلے شمارے میں مدیر نے اس کی اشاعت کے مقاصد کوکچھ یوں بیان کیا ہے:

’’نیادور کے پیش نظر جو مقصد ہے، وہ معیاری ترقی پسند ادب کی اشاعت ہے۔چوں کہ ادب کا زندگی سے تعلق ناگزیر ہے۔ اس لیے ’نیادور‘ اس معاملے میں کبھی مصالحت نہیں کرے گا کہ مقصد کی خاطر فن بھینٹ چڑھ جائے یابغیر مقصد کے فن ہی فن کا خول رہ جائے۔‘‘

اس سے یہ واضح ہوا کہ یہ رسالہ بنیادی طور پر ترقی پسند مزاج کا حامل رہا،جیسا کہ اس کے مشمولات سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ ’حرف آغاز‘ کے تحت صمد شاہین کا عصری ادب کی تشریح و توضیح کرتا ہوا اداریہ،ادب اور زندگی کے رشتے پر پرمغز گفتگو اور ترقی پسند تحریک کا مفصل جائزہ وغیرہ اس رسالے کو ترقی  پسند تحریک کے علم بردار کی حیثیت سے پیش کرتے رہے۔اس تحریک سے وابستہ قلم کاروں نے رسالہ ’نیادور‘ کو اپنا تخلیقی تعاون پیش کیا اور ان کی تحریریں پابندی سے نیادور کے مختلف شماروں میں شائع ہوتی رہیں۔اس سلسلے میں وقار عظیم ،کرشن چندر،اختر انصاری، قاضی عبدالغفار، رشید احمد صدیقی، احمد ندیم قاسمی، ممتاز مفتی، عزیز احمد، سعادت حسن منٹو، شوکت صدیقی، اقبال متین، ممتاز شیریں، سہیل عظیم آبادی، مخدوم محی الدین، ساحر لدھیانوی، فیض احمد فیض، مجروح سلطان پوری، علی سردار جعفری، آل احمد سرور، خلیل الرحمن اعظمی، قتیل شفائی اور خورشید الاسلام وغیرہ کے نام خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔ رسالے میں شامل اردو ادب کے مایہ ناز ادیبوں اور ممتاز ناقدین کی یہ شعری و نثری تخلیقات ترقی پسند نظریات کی حقیقی ترجمان ہیں۔نیا دور نے ملکی زبان وادب کے فروغ کے ساتھ عالمی ادب کو بھی اپنے صفحات میں جگہ دی اور قارئین کو عالمی ادب سے روبرو کرایا تاکہ انھیں عالمی سطح پر ادبی رجحانات و رویے کا علم رہے۔یہی سبب ہے کہ ملکی زبانیں ہندی، بنگالی، کنڑا، مرہٹی کے علاوہ روسی، چینی، انگریزی، امریکی، اطالوی وغیرہ زبان و ادب کی شاہکار تخلیقات کے اردو تراجم بھی ہمیں اس رسالے میں ملتے ہیں۔ اپنی متنوع خصوصیات کے ساتھ یہ رسالہ ترقی پسند تحریک کے ترجمان کی حیثیت سے تقریباً ایک دہے تک اعلیٰ شعری وادبی ذوق کی آبیاری کرتا رہا۔لیکن تقسیم ہندکا المناک حادثہ اس رسالے کی اشاعت پر بھی اثرانداز ہوا، صمد شاہین اورممتاز شیریں کی پاکستان ہجرت کے ساتھ اس کا دور اول اختتام پذیر ہوا۔ بعد ازاں مدیران نے اسے دوبارہ زندگی عطا کی اور پاکستان کی سرزمین پر ایک بارپھر اس کی اشاعت شروع  ہوئی۔ اس رسالے کی خوبی یہ رہی کہ اس نے ادب اور ادیب دونوں کو اہمیت دی،مغربی افکار و نظریات سے متعارف کرانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیااور ادبی مباحث کو توازن واعتدال سے ابھارا۔

آزادی کے بعد منظرعام پر آنے والے رسائل میں ماہنامہ’رفیق‘کا نام نمایاں ہے۔یہ رسالہ ریاست کرناٹک کے تاریخی شہر بیجاپور سے نومبر 1953 میں شائع ہوا۔شعر وادب کی مستحکم روایت سے عبارت شہر بیجاپور سے نکلنے والا یہ اولین ماہنامہ بیجاپوری صحافت کی نمائندگی کرتا ہے۔اس رسالے کی اشاعت اردو زبان کے محسن سید سراج الدین قاضی کی کاوشوں کا ثمرہ ہے۔قاضی صاحب نے اس ماہنامے کے پہلے شمارے میں ’شذرات‘ کے زیر عنوان رسالے کے اجرائی مقاصد کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’میرایہ قدم اردو کی خدمت کا پہلا زینہ ہوگا، جس کے ذریعے کرناٹک کی عوام اردو کو نہ بھولیں اگر نیت میں خلوص ودیانت ہے تو مجھے یقین ہے کہ کچھ ہی عرصہ میںہمارا رسالہ’رفیق‘ حقیقی معنوں میں اردو داں طبقے کی فکر و ادب کی نشو ونما کرتے ہوئے ہماری زبان کو ہمیشہ زندہ رکھے گا۔‘‘

(سید سراج الدین قاضی، ماہنامہ رفیق، انجمن بلڈنگ بیجاپور، نومبر 1953، جلد1،نمبر1،ص 3,4)

بلاشبہ مدیر سید سراج الدین نے اسی بے لوث جذبے کے ساتھ عملی نمونہ رسالے کی صورت میں پیش کیا، اور چالیس صفحات پر مشتمل عمدہ کتابت وطباعت سے آراستہ رسالہ’رفیق‘ اردو زبان کی توسیع واشاعت کا ذریعہ بنا۔ ہر مہینے کی 15 تاریخ کومطبع ابراہیمیہ حیدرآباد میں طبع ہونے والایہ رسالہ اپنے دفتر ’انجمن بلڈنگ‘ بیجاپور سے شائع ہوکر منظر عام پر آتا تھا۔ اس ماہنامہ میں علمی وادبی اورمعلوماتی مضامین کثیر تعداد میں شائع ہوتے، دیگر مستقل مشمولات میں افسانے، طنزیہ ومزاحیہ مضامین، شعرا وادبا کا تعارف بیجاپور کے تعلیمی اداروں کا جائزہ، ادبی سرگرمیوں کی روئیداد،غزلیں اور ناصحانہ قسم کی نظمیں شامل ہوتیں۔ ماہنامہ رفیق میں ہر طبقے کی دلچسپی کے لحاظ سے مواد شامل کیے جاتے تھے۔ ’بچوں کی دنیا‘ کے عنوان سے چند صفحات مختص ہوتے، جہاں اخلاقی ومعلوماتی مضامین، نظمیں اور کہانیاں بچوں کی توجہ کا باعث ہوتیں۔ اس رسالے نے چار سال تک اردو زبان وادب کی قابل قدر خدمات انجام دیں، پھرنامساعد حالات کے سبب اس عمدہ ماہنامے کی اشاعت بند ہوگئی۔

شمالی کرناٹک کے شہر گلبرگہ سے1956 میں اکرام صہبائی، قاضی حسام الدین اور عظیم یوسف زئی کی مشترکہ کوششوں سے رسالہ ’گلبرگ‘ اردوصحافت کے افق پر نمودار ہوا۔ گلبرگ نے خالص ادبی نوعیت کے رسالے کی حیثیت سے اپنی پہچان قائم کی۔ اس کے صفحات پر اردو افسانہ، نظمیں، غزلیں، تنقیدی وتحقیقی مقالات طنزیہ ومزاحیہ مضامین شائع ہوتے تھے۔علاوہ ازیں دیگر زبانوں کے معروف شعرا کی تخلیقات کے مطالعے کا موقع بھی فراہم کیا۔کرناٹک کے علاوہ برصغیر ہند وپاک کے معروف ادبا وشعرا کی تخلیقات بھی رسالے کی زینت بنیں۔ چنانچہ جاں نثار اختر، باقر مہدی، ساحر لدھیانوی، فیض احمد فیض، فراق گورکھپوری، شاذ تمکنت، شاہد صدیقی، جیلانی بانو، واجدہ تبسم، محی الدین قادری زور،حمید الماس وغیرہ کا قلمی  تعاون گلبرگ کو حاصل رہا اور ایسے معتبر ومستند قلمکاروں کی نادر و نایاب تحریریں قارئین گلبرگ تک پہنچتی رہیں۔چونکہ زمانہ ترقی پسند تحریک کے عروج کا تھا، اس لیے رسالے پر اس کے اثرات صاف دکھائی پڑتے ہیں۔ گلبرگ میں شامل تحریروں میںترقی پسندوں کے افکار وتصورات کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔یہ رسالہ ابتدا میں تو ماہنامہ رہا لیکن بعد میں ہفتہ وار ہوگیا۔تحقیق  کے مطابق ابتدائی چار شماروں کی اشاعت کے بعد یہ علمی وادبی ہفتہ وار کی صورت میں نکلنے لگا۔ آگے چل کر تقریباً دو سال تک اپنی خدمات انجام دینے کے بعد یہ ہفت روزہ بھی بند ہو گیا۔

درج بالا رسائل کے علاوہ بھی اسی زمانے میں کئی ایسے ماہنامے منظر عام پر آئے جن کے حوالے مختلف کتابوں میں ملتے ہیں۔ ان رسائل نے شعری ونثری تخلیقات کی مستقل اشاعت کے ذریعے علاقائی شعرا و ادبا کو ادبی دنیا میں روشناس کرانے کا فریضہ انجام دیا۔مثلاً ماہنامہ’سحاب‘ ہبلی، اقبال سگری کی زیر ادارت، رسالہ ’حبیب ‘ غلام محمد شوکت کی زیر ادارت، ’غزل‘ شہاب درانی کی زیر ادارت، ’انجمن‘ میسور سلیم تمنائی کی زیر ادارت اور ’جلوئہ سخن‘ شرف الدین سلیم کی زیر ادارت منظر عام پر آئے۔

رسالہ ’سوغات‘ کی اشاعت کو کرناٹک میں ادبی صحافت کے زریں دور سے تعبیر کیا جاتا ہے۔سوغات محض ایک رسالے کا نام نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام ہے جس سے وابستہ حضرات نے ادب میںبڑا مقام پیدا کیا۔اردو کے ممتاز ناقد،شاعر اور صحافی محمود ایاز کا یادگار کارنامہ سہ ماہی ’سوغات‘ ہے۔ جنوری 1956 میں بنگلور سے اس کا اجرا عمل میں آیا۔ وقفے وقفے سے یہ شائع اور بند ہوتا رہا۔ طبع اول چار سال سے کچھ زیادہ عرصے تک پابندی سے شائع ہونے کے بعد 1963 میں بند ہوگیا اور اشاعت ثانی 1971میں ہوئی۔ اس دور میں صرف 5 شمارے شائع ہوئے لیکن انداز وہی رہا، اداریے کی بلند آہنگی اور تخلیقات کے انتخاب میں غیر جانبدارانہ رویہ، اصول ومعیار کا خاص خیال، کسی بھی معاملے میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملتی، جو محمود ایاز کی گہری تنقیدی بصیرت اور وسیع النظری کا بہترین اظہار ہے۔رسالے کی بڑی خوبی یہ رہی کہ یہ کبھی کسی تحریک،رجحان اور ادبی گروہ بندی کا حصہ نہیں رہا بلکہ تمام معاملات سے خود کو آزاد رکھتے ہوئے ایک منفرد پہچان قائم کی۔حالانکہ دیگر رسائل کی طرح اس کے صفحات بھی مضامین، افسانوں،غزلوں،تبصروں اور خطوط سے آراستہ ہوتے تھے، لیکن ادب کے پیچیدہ مسائل پر کی جانے والی بحث،مختلف تخلیقات پر پیش کیے جانے والے تنقیدی مضامین،ادبی جستجو میںتحقیقی زاویہ نگاہ،سنجیدہ مزاج تبصرے وہ خوبیاں ہیں جو اس رسالے کی انفرادیت کاسبب بنیں۔ رسالہ ’سوغات‘ نے تخلیقی اور تنقیدی دونوں سطحوں پر اعلیٰ معیار کو قائم رکھا۔ اردو تراجم کے ذریعے مغربی شعر وادب کی تخلیقات کو اردو میں روشناس کیا بلکہ جدید تنقیدی اور فلسفیانہ افکار سے قارئین کو روبرو کرانے کا کام انجام دیا۔ ادبی سرپرستی میںاس رسالے نے جو منفرد رول ادا کیاوہ ناقابل فراموش ہے۔ اخترالایمان، وحید اختر، احمد ندیم قاسمی، خلیل الرحمٰن اعظمی، مجنوں گورکھپوری، شہریار، سہیل عظیم آبادی، کرشن چندر، محمد حسن، بلراج کومل، غیاث احمد گدی، ساقی فاروقی،مجید امجد، شفیق فاطمہ شعریٰ، محمود ایاز وغیرہ کی نایاب تحریریں اس جریدے کا حصہ رہیں۔ ’سوغات‘ کرناٹک ہی نہیں، بلکہ پورے ہندوستان کی ادبی صحافت میں ایک بہترین اور معیاری رسالہ ثابت ہوا۔

اس صحافتی سفر میں ان رسائل کا تذکرہ بھی ضروری ہے جنھوں نے نئے لکھنے والوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے کا بیڑا اٹھایا۔ انھیں موقع فراہم کیا،نئے اذہان کی تربیت اور علاقائی شعر وادب کی عکاسی میں جن رسائل کی کارکردگی نمایاں رہی، ان میں خالص ادبی رسالے کی حیثیت سے متعارف ہونے والاماہنامہ ’افشاں‘ اہمیت کا حامل ہے۔یہ ماہنامہ 1967 میں شہر بلگام سے منظر عام پر آیا۔ 1962 میں یادگیرسے جاری ہونے والے دوماہی ’چراغ نو‘ نے بھی شعر و ادب کے چراغ کو جلائے رکھا۔ علمی و ادبی حلقوں میں اسے خاصی مقبولیت حاصل ہوئی۔

بیسویں صدی کی ساتویں دہائی میں ماہنامہ ’نجات‘ 1972 میںرائچور سے نکلنا شروع ہوا۔اس کے مدیر اردو کے معروف افسانہ نگاراور شاعر وحید واجد تھے۔واجد صاحب نے رائچور کی ادبی فضا کورونق بخشنے اور اردو رسالے کی مقامی ضرورت کو پورا کرنے کی خاطر اس رسالے کے ذریعے صحافتی میدان میں قدم رکھا۔رسالے کے مشمولات میں نظم و نثر کے علاوہ ’سوال و جواب‘ اور ’بزم یاراں‘ مستقل کالم ہوا کرتے تھے۔ رائچور کی نمائندگی کرنے والا یہ اولین رسالہ چند اشاعتوں کے بعد بند ہو گیا۔

اسی طرح چند رسائل ایسے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جنھوں نے دنیائے صحافت میںفلمی میگزین کی حیثیت سے اپنی پہچان قائم کی لیکن ان میں شامل ہونے والا ادبی حصہ بھی کافی جاندار رہا۔ اس قسم کے نیم ادبی وفلمی ماہناموں میںمئی 1970 میں شکیل مظہری کی زیر نگرانی شائع ہونے والا رسالہ ’الفاظ‘،  اگست 1972 میں اے آر حمید کی زیر ادارت بنگلور سے جاری کردہ ماہنامہ ’گڈی‘ اور1983 میں عظیم اللہ خاں کاپندرہ روزہ رسالہ ’خوبصورت‘  کا نام لیا جا سکتا ہے۔ رسالہ ’الفاظ ‘میں فلمی دنیا کی مکمل تصویر کشی کے علاوہ گوشئہ ادب کے لیے بھی چند صفحات مختص ہوتے تھے۔اس کے ادبی صفحات جوگندر پال،حسنٰی سرور، دیوندرراسرجیسے بلند پایہ افسانہ نگاروں کے افسانوں اور مظفر حنفی، فضاابن فیضی، ندا فاضلی،زیب غوری، شہاب جعفری، حرمت الاکرام وغیرہ مقبول عام شاعروںکی نظموں اور غزلوں سے مزین ہوتے تھے۔یہ رسائل بھی کچھ عرصہ جاری رہ کر بند ہو گئے۔

خالص ادبی رسائل کی روایت کو برقرار رکھنے میں جن رسائل نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ان میں ایک نام ماہنامہ ’ درماں‘ کا بھی آتا ہے۔یہ ماہنامہ کرناٹک کی ادبی صحافت میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔اس کا افتتاحی شمارہ سید ضیاء اللہ کی زیر ادارت 1974 میں منظر عام پر آیا، مشہور ومعروف ادبا وشعرا کی نظمیں، غزلیں، افسانے، طنزیہ و مزاحیہ مضامین، اصلاحی و معلوماتی مقالات ادبی لطائف اور تبصرے وغیرہ اہتمام سے شائع کیے جاتے تھے۔ ریاستی قلمکاروں کے علاوہ بیرون ریاست کے معتبر قلم کاروں کی شاہکار تخلیقات بھی مختلف شماروں کا حصہ بنیں۔ یہ رسالہ’ کرناٹک کا واحد ادبی ماہنامہ‘ کے سرنامے کے ساتھ شائع ہوتا تھا۔ پرکشش سرورق کے ساتھ اس کے ابتدائی صفحات پر مشمولات کی فہرست بعنوان ’تخلیقات وتخلیق کار‘ کے شائع ہوتی تھی۔اس کے اداریے بھی کافی معلومات افزا ہوتے جہاں اردو مسائل اور ان کے اسباب وعلل پر گفتگو ملتی ہے ،علاوہ ازیں ایک انوکھے قسم کا کالم ہوا کرتا جسے’ نقطۂ نظر‘ کا نام دیا گیاتھا۔یہاں پر وہ مراسلے شائع کیے جاتے جو علمی ،ادبی ،سماجی اور معاشرتی مسائل کو زیر بحث لاتے تھے اور اس قسم کے علمی ادبی سوالوں کے جواب کو’جوابًا نگارش ہے‘ کے عنوانات سے شائع کیا جاتا جہاں سیر حاصل بحث دیکھنے کو ملتی۔ ادب کا ترجمان یہ مفید عام رسالہ تقریباً تین سال کے بعد بند ہو گیا۔

ساتویں دہائی میں پے درپے رسائل وجرائد کی اشاعت کا سلسلہ قائم رہا اور کئی اچھے رسائل منظر عام پر آئے۔شہر ہبلی کی علمی وادبی سرگرمیوں کا ترجمان ماہنامہ تحریک ادب 1971 اور پندرہ روزہ ہبلی ٹائمز1975  کی اشاعت نے یہاں شعری وادبی ماحول پیدا کیا۔ ان کے مضامین معلوماتی نوعیت کے ہوتے تھے۔ مشمولات میں سماجی علمی و ادبی موضوعات کا احاطہ کیا جاتا۔ ان کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں شامل تحریریں شہر کی ادبی تہذیبی اور سماجی زندگی کی آئینہ دار ہوتی تھیں۔ انتظامی دشواریوں کے سبب اشاعت کے دوسرے سال ہی یہ رسائل بند ہو گئے۔

جنوبی ہند کی اردو صحافت نے ارتقا و زوال کے کئی دور دیکھے ہیں بالخصوص ریاست کرناٹک کی ادبی صحافت کا تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ اس سرزمین سے نہ صرف ادبی ذوق کے حامل علمی وفنی رسائل جاری ہوئے بلکہ قوم وسماج کی ترجمانی کرنے والے رسائل بھی نکالے گئے، سماج و قوم کی علمی ،تعلیمی، سیاسی، تجارتی، ادبی تاریخی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے یہ رسائل وا خبارات روز وشب مصروف کار رہے۔ ’کرناٹک پنچ‘ دھارواڑ کچھ اسی قسم کا ماہنامہ ثابت ہوا، مدیر محبوب بڑائی کے قلم سے نکلتا ہوا کالم ’نرم گرم‘ طنزیہ ومزاحیہ ادب کے سرمایے میں ایک بہترین اضافے کا باعث بنا۔ اس میں عوام کے مختلف طبقوں کی دلچسپی کا خیال رکھتے ہوئے ہر قسم کے مواد شائع کیے جاتے تھے۔ افسانے،نظمیں، غزلیں، ادبی لطائف،اقوال زریں وغیرہ مشمولات اسے ایک معیاری رسالے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔عوام کی تفریح و حیرت انگیز معلومات کا مرقع ’کرناٹک پنچ‘ تقریباً گیارہ سال پابندی سے شائع ہوتا رہا۔ بالآخر چند ناگزیر حالات کے سبب اس کی اشاعت بند ہوگئی۔

اسی سال شہر دھارواڑ سے دوسرااہم رسالہ ماہنامہ اعتماد 1975 خالص علمی و ادبی رسالے کی حیثیت سے منظرعام پر آیا، جس کے مستقل کالموں میں خبرنامہ، نقوش، تبصرے وغیرہ قابل ذکر ہیں۔اس کے علاوہ تراجم،منتخب اشعاراور مختلف کتابوں پر تبصرے بھی اس رسالے میں طبع ہوتے رہے۔ماہنامہ’اعتماد‘کو حمید الماس، محمود ایاز، سلیمان خطیب،راہی قریشی ،انور عظیم،جمیل مظہری،کوثر چاند پوری، ملک زادہ منظور احمد وغیرہ معروف ادیبوں کی تخلیقات شائع کرنے کا شرف حاصل رہا۔

اسی درمیان صحافتی افق پر نمودار ہونے والے پندرہ روزہ رسائل میںپہلا نام پندرہ روزہ ’صد رنگ‘ کا ہے۔ یہ رسالہ اردو کے شاعر عادل ادیب کی زیر ادارت بنگلور سے جاری ہوا۔دوسرا پندرہ روزہ ’صدائے مومن‘ 1979 کولار سے شائع ہو کر منظر عام پر آیا۔یہ رسائل اپنے عہد کی مقامی ،علمی ،ادبی اور سیاسی سرگرمیوں کے آئینہ دار تھے۔رسائل میں لائق مطالعہ ادبی تخلیقات کے علاوہ اہم خبروں کے تجزیے بھی شامل اشاعت ہوتے تھے۔ان پندرہ روزہ رسائل نے تقریباًایک دہے سے زیادہ عرصے تک برابر شائع ہو کر کرناٹک کی صحافتی تاریخ میں طویل عمر پانے والے رسائل میں جگہ بنائی۔

خالص ادبی نوعیت کے رسائل کی اشاعت کا سلسلہ آگے بھی جاری رہا۔بیسویں صدی کی آٹھویں دہائی میں کئی معیاری رسائل ریاست کی ادبی صحافت کی توانا روایت کا حصہ بنے۔رسائل میں شائع ہونے والی ادبی تخلیقات اور معلوماتی قسم کے مضامین نے قاری کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی،جس سے رسائل اور قاری کے درمیان رشتہ مزید استوار ہوا۔  رسالہ ’واردات‘ 1980 خالد سعید کی زیر ادارت، ’شعلہ نوا‘ 1982 خلیل مجاہدکی زیر ادارت ’نوائے عصر‘ 1982 انیس صدیقی کی زیر ادارت اور ’استعارہ‘ 1985 خورشید وحید کی زیر ادارت منظر عام پر آئے اور اردو صحافت کو جلا بخشی۔

ادب کے جدید رجحانات کی پیش کش اور ترجمانی میںرسالہ ’ واردات‘ 1980 نے اہم رول ادا کیا۔اس ماہنامے کو ملک کے تقریباً سبھی اہم ادیبوںاور نامور شاعروں کا تعاون حاصل تھا۔اپنے معیار اور مواد کی وجہ سے دلچسپی سے پڑھا گیا۔ واردات کی اشاعت کے دو سال بعد رسالہ ’شعلہ نوا‘ چند فعال نوجوان قلم کاروں کے ذریعے منظر عام پر آیا۔ اس زمانے میں نئی نسل کے نمائندہ کی حیثیت سے ’شعلہ نوا‘ کو کرناٹک کی ادبی صحافت میں ایک خاص مقام حاصل ہوا۔یہ رسالہ اس دور کے ادبی،سماجی اور ثقافتی رجحانات کا مکمل نقشہ پیش کرتا ہے۔علم وادب اور سماج کی بے لوث خدمت میں ہمہ تن مصروف رہنے والے معروف صحافی انیس صدیقی کا رسالہ’نوائے عصر‘ اپنے موضوعات  کے اعتبار سے تاریخی اور ادبی اہمیت کا حامل ہے۔مشاہیر اہل قلم کے تعاون نے رسالہ کو معیار و وقار بخشا۔

 یوں تو کرناٹک کی اولین خاتون صحافی ہونے کا شرف سیدہ ذکریٰ بتول کو حاصل رہا ہے لیکن صحت مند و صالح ادب کی تشکیل اور اخلاقی اور تعلیمی شعور پیدا کرنے میں ماہنامہ ’زریں شعاعیں‘ 1989کا کافی عمل دخل رہا ہے جس کی مدیرئہ خصوصی فریدہ رحمت اللہ اسما ہیں۔یہ رسالہ خواتین کے لیے مخصوص تھا۔اس رسالے کے اغراض و مقاصد میں تعلیم نسواں کی ترویج، خواتین میں علمی وادبی ذوق پیدا کرنا،خواتین کے معاشرتی ،شہری اور ملکی حقوق کا تحفظ شامل ہے۔ اس نے اپنی ملکی مستورات کی دماغی بیداری و ذہنی ترقی میں کردار ادا کیا، خواتین کے علمی ارتباط،ادبی دلچسپی ،پاکیزگی ذوق اور وسعت نظری کی ترقی کا ذریعہ بنا۔

کرناٹک اردو اکادمی نے بھی صحت مند ادب کی ترویج میں پیش رفت کرتے ہوئے2011 میں بنگلور سے ایک رسالہ ’ادیب‘ جاری کیا۔جس کے نگراں قمر الاسلام اور مدیر کے منصب پر ایس مرزا عظمت اللہ فائز تھے۔ علاوہ ازیںکرناٹک اردو اکادمی کے ترجمان کی حیثیت سے سہ ماہی ادبی و تہذیبی مجلہ اذکار 2011 میں منظر عام پر آیا۔ مدیر اعلیٰ کی حیثیت سے حافظ کرناٹکی اور مدیر کے فرائض مرزا عظمت اللہ نے انجام دیے اس ادبی جریدے میں کرناٹک کے علاوہ ملک بھر کے ممتاز دانشور قلم کار لکھتے رہے،بالخصوص کرناٹک اردو اکادمی کی سرگرمیوں سے متعلق مضامین شامل کیے جاتے۔مختلف سمیناروں میں پڑھے گئے مضامین خصوصی اشاعتوں میں شامل کیے جاتے۔ اس رسالے کی عمر تو زیادہ نہ رہی لیکن اپنے بلند پایہ مضامین اورشاعری کی وجہ سے ادبی حلقوں میں ممتاز مقام رکھتا تھا۔

اس مختصر جائزے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جس طرح جنوبی ہند کی دیگر ریاستیں اور شہر علم و فن کا گہوارہ رہے ہیں اسی طرح کرناٹک بھی ادبی و لسانی اعتبار سے اپنی تاریخ رکھتا ہے۔اس کے اضلاع بھی زبان وادب، تہذیب و ثقافت او رمذہب و سیاست کا گہوارہ رہے ہیں۔  اسی طرح ادبی صحافت کی تاریخ میں ہم کرناٹک کو فراموش نہیں کر سکتے،کیونکہ اس ریاست کی ادبی صحافت صحت مند اقدار کی حامل رہی ہے۔ یہاںکے رسائل کے آغاز وارتقا کی تاریخ کا اجمالی جائزہ ہمیں اس نتیجے پر لے جاتا ہے کہ یہاں بہت سے رسائل شائع ہوئے۔ اردو رسائل نے ایک ایسے زمانے میں اپنے بال و پر نکالے جو ہماری قومی تاریخ کا تغیراتی عہد تھا۔ بلاشبہ رسائل کی اشاعت سے اردو زبان وادب میں آنے والے افکار ونظریات، ادبی وسماجی رجحانات اور تحریکات کا پتہ چلتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو مختلف موضوعات پر شائع ہونے والے یہاں کے رسائل نے ادب کا ایک خاص معیار بھی پیش کیا ہے۔ ماضی میں نکلنے والے ادبی رسائل نے ہماری ادبی تاریخ سازی میں نہایت اہم، بامعنی اور کارآمد کردار ادا کیا ہے۔مختلف مقامات سے وقتًا فوقتًا معیاری اور مفید ادبی رسائل کبھی ہفتہ وار اور پندرہ روزہ تو کبھی ماہنامے اور سہ ماہی کی صورت میں جاری ہوتے رہے، ان میں سے بعض تو تاریخ ادب میں اپنا خاص مقام رکھتے ہیں۔اب اگر موجودہ صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو ان دنوں رسائل کی رفتار سست ہے، یہ ایک افسوسناک صورت حال ہے اور اس کی تلافی ضروری ہے۔رسائل کو زندگی اس کے قارئین سے ملتی ہے جو رسائل قارئین کی دلچسپی کا خیال رکھتے ہوئے ماضی کی بازیافت کے ساتھ روح عصر کو اپنے اندر سمو لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وقت کے ساتھ چلنے کا ہنر جانتے ہیں درحقیقت وہی کامیاب ہیں۔ہم رسائل کی ادبی سماجی و ثقافتی خدمات سے انکار نہیں کر  سکتے، اگرچہ بہت سے بہترین رسائل شائع ہوئے اور ناموافق حالات کے سبب  بند بھی ہو گئے،  لیکن وہ ادبی جریدے جو چراغ کی طرح اب بھی روشن ہیں اور اپنی ادب نوازی اور ادب دوستی کا ثبوت پیش کر رہے ہیں انھیں زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔

 مراجع/کتابیات

  1. اردو صحافت کا سفر، گربچن چندن، عفیف آفسیٹ پرنٹرز، دہلی2007
  2. اردو صحافت ترجمہ وادارت، سید ضیاء  اللہ،کرناٹک اردو اکادمی بنگلور، 1994
  3. ابلاغیات، پروفیسر محمد شاہد حسین، عفیف آفسیٹ پرنٹرز، دہلی، 2004
  4. اردو کے ادبی رسالوں کے مسائل، مرتبہ عابد سہیل،اتر پردیش اردو اکادمی لکھنو،1981
  5. کرناٹک میں اردو صحافت، ڈاکٹر انیس صدیقی،او ایس گرافکس، نارائین گوڑا حیدرآباد،2003
  6. بیسویں صدی میں خواتین اردو ادب،مرتبہ پروفیسر عتیق اللہ، موڈرن پبلشنگ ہائوس،دریا گنج نئی دہلی،1973
  7. چند اہم اخبارات ورسائل،قاضی عبدالودود،ادارہ تحقیقات اردو پٹنہ لبرٹی آرٹ پریس،مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی
  8. جنوبی ہند کا بہترین ادب،مجیب احمد، منظور احمد، مجلس ادب پبلی کیشنز، بنگلور ،1958
  9. اردو ادب آزادی کے بعد، مرتبہ ڈاکٹر خورشیدالاسلام، یونیورسٹی پبلی کیشنز ڈویڑن علی گڑھ،1973
  10. جنوبی ہند کی تاریخ،کے ایل نیل کنٹھ، شاستری، ترقی اردو بیورو نئی  دہلی،1980
  11. مدراس میں اردو ادب کی نشوونما، ڈاکٹر محمد افضل الدین اقبال، معین پبلی کیشنز،باغ روڈ حیدرآباد،1979
  12. مجلاتی صحافت کے ادارتی مسائل،روشن آرا رائو،مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد،1989
  13. مشاہیر کرناٹک،خالد انجم،کرناٹک اردو اکادمی بنگلور،2009
  14. جنوبی ہند کی اردو صحافت،ڈاکٹر محمد افضل الدین اقبال،معین پبلی کیشنز،باغ روڈ حیدرآباد،1980
  15. اردو کے اہم ادبی رسالے اور اخبار،رامپور انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیز1969
  16. ادب اور اردو صحافت،ضمیرالدین قریشی،ایجوکیشنل پریس علی گڑھ،1964
  17. تاریخ ادب اردو،کرناٹک،کرناٹک اردو اکادمی،بنگلور1994

 

Umme Ammara Zia

Room No.: 09, Koyna Hostel, JNU

New Delhi- 110025

Mob.: 8920475306

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...