18/11/24

نیر مسعود کے افسانوں کی انفرادیت، مضمون نگار: آصفہ زینب

 اردو دنیا، اکتوبر 2024

نیر مسعود کا شمار برصغیر میں فارسی ادب کے علاوہ اردو ادب کے چند اہم دانشوروں میں کیا جاتا ہے۔ ان کی نثر بظاہر بہت صاف شفاف اور آرپار دکھائی دینے والی کیفیت سے معمور ہے، مگر اس میں خیال کی تہہ داری، پیچید گی اور معنوی گہرائی پائی جاتی ہے۔ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے لیکن ان کی تصنیفات میں سب سے زیادہ اہمیت ان کے افسانوں کی ہے۔ جدید ادب میں ان کی شہرت ایک جدید افسانہ نگار کی حیثیت سے ہے۔ ان کے چار افسانوی مجموعے ہیں۔ جن میں پہلا مجموعہ ’سیمیا‘(1984)، دوسرا ’عطر کافور‘ (1990)، تیسرا ’طاؤس چمن کی مینا‘ (1998)، چوتھا ’گنجفہ‘  (2008) اور’آخری دھول بن‘ ہے جو2011میں شائع ہوا۔

نیر مسعود نے افسانہ نگاری کی عام روش سے ہٹ کر منفرد انداز اختیار کیا۔ لہٰذاا ردو افسانہ نیر مسعود کے عہد میں جن اسالیب سے پہچانا گیا ان میں ایک اہم اسلوب نیر مسعود کے افسانوں کا تھا۔

انھوں نے اردو افسانے میں اپنے علامتی انداز بیان کے مختلف تجربے کیے اور اپنی فنی مہارت سے لفظوں کی نئی قبا ئیں تراشیں اور ان کے معنی کو نئے پیراہن عطا کیے۔ نیرمسعود کی افسانہ نگاری کے متعلق کچھ دانشوروں کی رائے یہ ہے کہ انھوں نے اردو افسانے میں علامتی بیا نیے کا ایک نیا درکھولا ہے۔ سہیل وحید کو ایک انٹرویو کے دوران جواب دیتے ہوئے نیر مسعود نے کہا تھا:

’’... ایک اور خیال رکھا ہے کہ استعارہ اور علامت نہ آنے پائے کہانی میں۔ کہا نی کا علامتی مفہوم نکالا جاسکتا ہے لیکن میں نے علامتی کہانی تو شاید لکھی نہیں،  استعارہ تو تقریباً ہے ہی نہیں۔ میرے یہاں تشبیہ ہوگی بہت لیکن استعارہ نہیں۔ استعارہ کا عمل دوطرفہ ہوتا ہے کہ جوچیز ہے اسی کو کچھ اور بتا ئیں۔ استعارہ شاعری کے لیے منا سب ہے نثر کے لیے نہیں۔ استعارہ میں ٹھیک سے ترسیل نہیں ہو پاتی۔‘‘

(انٹرویوسہیل وحید،ماہنامہ آجکل،نئی دہلی جولائی، 2008،ص6)

دوسری طرف معروف فکشن نگار سید محمد اشرف صاحب نیر مسعود کے افسانوںمیں تشبیہ کے متعلق یوں رقم طراز ہیں :

’’جنرئیات نگاری کے ساتھ ساتھ نیر مسعود کی کہانی کے بیا نیہ میں وضاحت اور طوالت شاید اس لیے ضروری ہیں کہ وہ زبان کے دیگر ہتھیاروں کا استعمال کہانی کی نازک سی فضاکے لیے قاتل سمجھتے ہیں تبھی تو ان کے بیان میں تشبیہ اور استعارے بہت کم ہیں۔ دونوں کتابوں میں مشکل سے اتنی تشبیہیں ہوں گی جتنی ہمارے ہاتھوں میں انگلیاں۔ تشبیہیں تعداد میں بھی کم ہیں اور بنفسہٖ بہت اہتمام کے ساتھ یا عمدہ طریقے پر استعمال بھی نہیں ہوئی ہیں۔ ان کے یہاں تشبیہوں کی کمی اس لیے بھی ہے کہ تشبیہ کسی ایسی چیز کے لیے دی جاتی ہے جو موجود بھی ہو اور محسوس بھی ہو۔  نیر مسعود کے یہاں معاملہ یہ ہے کہ ان کی کہانی میں بیشتر چیزیں موجود ہیں بھی اور نہیں بھی۔ اس لیے ان کے یہاں تشبیہوں کا استعمال بجا طور پر کم بہت کم ہے۔ استعارہ تو ان کی نثرمیں تشویش ناک حدتک عنقا ہے۔غالبًا وہ استعارے پرصرف شاعری کا اجارہ سمجھتے ہیں۔‘‘

(نیر مسعود کی کہانیاں، کھوئے ہووں کی جستجو، سیدمحمد اشرف،ص 10,11)

جب کہ نیر مسعود کے افسانوں کے مطالعے کے بعد راقم الحرو ف کی اپنی رائے یہ ہے کہ نیر مسعود کے کہنے کے مطابق نہ تشبیہوں کی تعداد بہت ہے اور نہ سید محمد اشرف صاحب کے کہنے کے مطابق اتنی کم کہ انگلیوں پر گنی جا سکے۔تشبیہیں ہیں لیکن اتنی زیادہ بھی نہیں کہ افسانے کے بیانیے کی خوبصورتی مجروح ہوجائے اور نہ ہی اتنی کم کہ افسانے کے بیانیے کی رفتار رک جائے ۔    

نیر مسعود کے افسانوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ہر باب جہاں سے شروع ہوتا ہے اور جہاں ختم ہوتا ہے اور پھر جہاں سے دوسرا باب شروع ہوتا ہے سب میں ایک ربط اور تسلسل ہے اور یہ تسلسل تخلیقی، فکری اور معنوی نوعیت کا ہے۔ ہر باب اپنی جگہ مکمل ہے اور ہرباب دوسرے باب سے مربوط بھی ہے۔ان کے افسانوں میں کچھ ایسی صفت ہے کہ وہ آغاز سے انجام تک ایک تاثر نہیں دیتا بلکہ افسانے کا متن قاری کو بار بار پڑھنے پرمجبور کرتاہے۔ نیر مسعود ایک ایسے ادیب تھے جن کی تحریروں کو کماحقہ سمجھنے والا قاری آج تک نہیں مل سکا۔کیونکہ انھوں نے واقعات کی بنت ایسے الفاظ کے ذریعے کی ہے جواپنے اندر معنی کی نئی نئی جہتیں چھپائے ہوئے ہیں۔ اس لیے ان کی کہانیوں کے بطون میں چھپی ہوئی بات کو سمجھنا ہر قاری کے بس کی بات نہیں ہے۔ ان کے فن کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی بنیاد سریت پر استوار ہے جس کی و جہ سے افسانے تفہیم کی سطح پر ذرا مشکل ہی سے کھلتے ہیں اور یہی پیچیدگی ان کے افسانوں کی خوبصورتی ہے۔نیر مسعود کے افسانوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ ان کا آغاز وانجام ایک جیسا نہیں ہوتا، یعنی آغاز اگر بہت واضح ہے تو انجام بہت الجھا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض اوقات تو سمجھ میں نہیں آتا کہ افسانہ یہاں کیوں کر ختم ہو سکتاہے۔

نیر مسعود کے افسانوں کے کردار اپنے لیے ڈھالی جانے والی فضا میں پہنچ کر ویسے نہیں رہتے جیسا کہ وہ عام زندگی میں ہوتے ہیں یا ہوسکتے ہیں۔ افسانہ نگار کا بیانیہ انھیں مختلف کردیتا ہے، عجیب طرح کا مختلف کہ بظاہر وہ ویسے ہی ہوتے ہیں جیسا کہ کوئی عام زندگی میں ہوتا ہے یا ہوسکتا ہے، مگر بیا نیے کی بنت کے اندر ایک عجب اسرارداخل ہوجاتا ہے۔ ان کے افسانوں میں خوا بناک فضاکی موجودگی قاری کے لیے دلکشی کا باعث بنتی ہے، انھیں خوابوں سے جیسی انسیت رہی اسے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ خواب، خواب نہ ہوں بلکہ حقیقت کا ایک دوسرا روپ ہو۔ نیر مسعود نے خوابوں کو پرچھائیوں کی شکل میں پیش نہیں کیا اور اسی لیے ان کے یہاں کردار پرچھائیں کی صورت اختیار نہیں کر سکے،جس کا اظہار 2007کا سر سوتی سمان قبول کرتے ہوئے انھوں نے کہا تھا:

’’سن 70ء کے قریب میں نے ایک مکمل اور مربوط خواب دیکھا۔ محسوس ہوا کہ یہ تواچھا خاصا افسانہ بن سکتا ہے۔ میں نے اس خواب کو معمولی ردو بدل کے بعد لکھ دیا۔ یہ میرا پہلا مکمل افسانہ ’نصرت‘  تھا۔ افسانے میں کچھ خواب کی اور کچھ دھند لکے کی کیفیت تھی جو میرے کئی دوسرے افسانوں میں بھی محسوس کی گئی۔ مجھے خود یہ کیفیت بہت پسند نہیں ہے لیکن یہ خود بخود آجاتی ہے، شاید اس لیے کہ میرے بہت سے افسانوں کی بنیاد میرے خوابوں پرہے، مثلاً مارگیر، اوجھل، مراسلہ، سلطان مظفر کا واقعہ نویس، ندبہ، اکلٹ میوزیم، شیشہ گھاٹ، علام اور بیٹا، خالق آباد، خوابوں پر مبنی ہیں۔‘‘

(پروفیسرنیر مسعودادیب دانشور، شاہد ماہلی، غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی،ص26,27)

نیر مسعود کا اردو افسانے پربہت بڑا احسان ہے کہ انھوں نے اس مادّی دنیا میں رہتے ہوئے ایک ایسے فطری، قدرتی اور وجودی مظہر کو موضوع بنایا جوہمیں کسی اور دنیا سے مربوط کرنے کا وسیلہ بن سکتا ہے۔ یہ بہت بڑا موضوع ہے۔ دنیا کا کوئی انسان ایسا نہ ہوگا جس نے کبھی خواب نہ دیکھا ہو۔ آخر خواب میں جس تجربے سے ہم گزرتے ہیں وہ کیا ہے؟ اس بات کو سمجھانے کے لیے انھوں نے خواب کو اپنے افسانے کا وسیلہ بنایا۔  ان کا مقصد خواب کی حقیقت کو سمجھانا ہے، جس سے اس حقیقت کا اندازہ ہوجائے کہ اس جسم کے ماورا کوئی اور بھی حقیقت ہمارے جسم میں پائی جاتی ہے۔جو چیز ہم اپنی ظاہری آنکھوں سے دیکھتے ہیں وہ توموجود ہے ہمارے سامنے، لیکن جس چیز کو ہم خواب میں دیکھتے ہیں وہ بھی کہیں ہے اور ہم جودیکھتے ہیں بند آنکھوں سے تواس بات کی نشاند ہی ہے کہ ہمارے اندر بھی کوئی قوت ہے۔جب ہم کسی ادیب اور ادب کو پڑھتے ہیں تو صرف اس کے متن تک محدود نہیں رہتے بلکہ مجبور ہوجاتے ہیں کہ اس سے اٹھنے والے علمی، فنی، فکری، نفسیاتی، اخلاقی، عرفانی، وجودی، وجدانی مسائل پر غور کرتے چلے جائیں اور یہ تمام سرمایے ہمارے پاس نیر مسعود کے کلام میں،ان کی تصنیفات میں،ان کی نثر میں اوران کے افسانوں میں ملتے ہیں۔

پورے اردو ادب کے نثری سرمایے کو دیکھا جائے تو یہ بات بلا تامل کہی جا سکتی ہے کہ سب سے مضبوط، مستحکم اور حقیقی نثر نیر مسعود نے ہی لکھی ہے۔ ان کی نثر میں سادگی وپر کاری ہے۔ کون سی صنعت ہے جو ان کے یہاں نہیں ہے، مگر وہ دکھائی بھی نہیں دیتی کیونکہ اس سادگی سے انھوں نے برتا ہے جیسے بہتے ہوئے شفاف پانی میں ہائیڈروجن اور آکسیجن نہیں دکھائی دیتے۔ نیر مسعود کے پاس پوری معروضیت کے ساتھ موزونیت گہرائیوں میں اترتے چلے جانے کا ہنر تھا اور ان کا یہی وصف اپنی پوری موزونیت کے ساتھ ان کے افسانوں میں نظر آتاہے۔ان کے افسانوں کی خوبی کو دیکھ کر صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے پورے علمی، فکری اور دانشورانہ سفرطے کرنے کے بعد افسانہ لکھ کر اشارہ کیا ہے کہ دیکھو جب ایک دانشور افسانہ لکھتا ہے تو کیسے لکھتا ہے۔

نیر مسعود تخلیقی نثر لکھنے کا سلیقہ رکھتے تھے۔ ایک فضا بنا نا جانتے تھے، تاثر کوگہرا اور دیرپابھی کر دیتے تھے۔ فنا یا موت کا احساس ان کا مرکزی تخلیقی تجربہ تھا۔ وہ اپنے افسانوں کے ذریعے مٹنے والے و جود اورہستی کی باز یابی کا تجسس اور انتظار لوگوں میں پیدا کرنا چاہتے تھے۔ ان کے یہاں دیکھنے سے زیادہ سونگھنے، سننے اور چھونے کی حسیات کے ذریعے ہمہ وقت تحلیل ہوتی ہوئی اس دنیا کو بازیاب کرنے کی خواب نما امنگ ملتی ہے۔ان کے زیا دہ ترافسانے واحدمتکلم کے ذریعے بیان ہوئے ہیں۔ ان کے افسانوں کی انفرادیت یہ ہے کہ انہوں نے لکھنوی تہذیب کے پس منظر میں اپنے تاریخی اور اسطوری تجربے، مشاہد ے اور مطالعے کی روشنی میں تصورات اور تخیلات کی ایک ایسی دنیا تعمیر کی ہے جس میں قدیم روایات اور اقدار کے ساتھ ایک پورے دور کی تاریخ زندہ ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ ان کی زبان سادہ، تراشیدہ، صاف شفاف اور کہا نی بیان کرنے کا اسلوب تمثیلی یا استعاراتی الجھاؤ سے پاک ہے۔  نیر مسعود  کے زیادہ تر افسانوں میں محض کسی ایک قصے کا بیان نہیں ملتا بلکہ اس سے جڑے اور قصوں کا بیان بھی شامل رہتا ہے۔ ان کے یہاں پلاٹ کا باضابطہ التنرام نہیں ملتا۔ انھوں نے وحدت تاثر اور مربوط پلاٹ پراستوار یک رخے افسانے لکھنے سے احتراز کیا ہے۔ ان کے افسانوں کے پلاٹ اکہرے نہیں ہوتے بلکہ ذیلی پلاٹ اصلی پلاٹ پرحاوی ہو جاتے ہیں، لیکن ان کا یہ فنی کمال ہے کہ اختتام کے وقت اس کا اصلی پلاٹ پھر کسی نہ کسی صورت میں سامنے آجاتاہے اور تمام ذیلی پلاٹ کے نقوش دھندلے پڑ جاتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں زیادہ تر طلسم، حیرت، جادو، دہشت اورخوف پایا جاتا ہے۔نیر مسعودکی تصنیفات میں سب سے زیادہ اہمیت ان کے افسانوں کی ہے۔ جدید ادب میں ان کی شہرت ایک جدید افسانہ نگار کی حیثیت سے ہے۔ ان کو منفرد اسلوب میں لکھے ہوئے افسانوں کی بدولت غیرمعمولی شہرت حاصل ہوئی۔ نیر مسعود نے ہمیشہ موضوع کے مقابلے میں ہیئت کو اہمیت دی، اور ان کی اسی خوبی نے ا نھیں ایک الگ مزاج کا تخلیق کا ربنا دیا۔ ان کی کہانیوں کا انداز بیان اور ہرصفحہ پر موجود تجسس طویل سے طویل افسانے کو بھی پڑھنے پرقاری کو مجبور کرتا ہے۔ وہ اپنے افسانوں میں کبھی اپنے مطالعے اور آگہی کی نمائش نہیں کرتے، ان کے یہاں انسانی تجربے کی حقیقت کا ادراک اتنی آہستگی اور خاموشی کے ساتھ افسانہ بنتاہے کہ کہیں علم نمائی کی دھندلی سی شکل بھی سامنے نہیں آنے پاتی۔ ان کا مقصد اپنے قاری کی معلومات میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ اس کو پہلے سے زیادہ حسّاس بنانا ہے اور اس کی گم ہوتی ہوئی تہذیب و انسانیت کو بحال کرنا ہے۔ انھیں وہ سب کچھ دکھا ناہے جو بالعموم نظر نہیں آتا۔ اسی لیے سیمیا، عطر کا فور،  طاؤس چمن کی مینا، گنجفہ اور ’دھول بن‘ کے قصّے ہمارے سامنے ایک خواب کا سامنظر نامہ ترتیب دیتے ہیں۔ آج انسان اپنے اجتماعی سفر میں جن تجربوں سے گزر تا ہوا موجودہ عہد کی و حشت ناک و بے راہ روی جیسی اجاڑ زندگی تک پہنچا ہے۔ نیّر مسعود نے ان سب کا احاطہ کیا ہے۔ جب تک ان کی پوری کہانی یکسوئی کے ساتھ نہ پڑھی جائے اس وقت تک ان کے اشارے فہم وادراک کی گرفت میں نہیں آتے۔

نیّر مسعود کی پہلی کہانی ’نصرت‘ہے۔ یہ کہانی اس لحاظ سے اہمیت کا درجہ رکھتی ہے کہ ان کی افسانہ نگاری کی بیشتر خصوصیات اس میں موجود ہیں۔ یہ کہانی رسالہ ’شب خون‘ 1971میں پہلی بارشائع ہوئی ۔یہ ایک بیانیہ انداز سے شروع ہوکر ڈرامائی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ کہانی کی جب شروعات  ہوتی ہے توایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیدھا سادہ قصّہ بیان کیا جارہا ہے مگر جب کہانی اپنے عروج پرپہنچتی ہے توذہنی کشمکش و جذ باتی کیفیت کی طرف مائل ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ نیّر مسعود نے اس کہانی میں راوی اور نصرت کے درمیان محبت کا اظہار بڑے ہی محتاط انداز میں کیا ہے۔

نیر مسعود نے نصرت کے انداز گفتگو، عادات واطوار، تہذیب و شائستگی کے حوالے سے اس وقت کے معاشرے کی بھر پورنمائندگی کی ہے۔ انھوں نے اپنی کہانیوں میں متضاد صورت حال کویکجا کردیاہے،جس سے کسی بھی تصویر کا کوئی ایک نقش ابھر کر سامنے نہیں آتا۔ جیسے نصرت کی سبک خرامی کے ساتھ بہارکے موسم کا ذکر، نیک لوگوں کے ساتھ بدکار عورت کا ذکر وغیرہ، یہ وہ متضاد چیزیں ہیں جو نیّر مسعود کے افسانوں میں اکثر نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔ انھوں نے پیرایۂ اظہار میں بھی انوکھے پن کا ثبوت دیا ہے۔ موت کی صراحت کے بجائے اس کی تصویر کے ذریعے موت کی فضا پیدا کردی ہے، جس سے واضح طور پر معلوم نہیں ہوتا کہ وہ مرگئی ہے۔ لیکن راوی جب نصرت کو مراہوا پاتا ہے تو چھوڑ کر فرار کا راستہ اختیار کرتا ہے، جب کہ وہ نصرت سے بے پناہ محبت بھی کرتا ہے۔ یہاں نیّر مسعود قاری کے ذہن کو الجھا دیتے ہیں۔ ان کی کردار نگاری پرجب غور کرتے ہیں تو ان کے فنکارانہ اور محتاط رویے کا نقش ابھرتا ہے۔ انھوں نے اپنے کرداروں کے حوالے سے بہت احتیاط سے کام لیا ہے، کیونکہ ان کا ایک ہی کردار کئی افسانوں میں ملتا ہے۔ افسانہ ’نصرت‘ کا بھا گاہوا کر دار ان کے ایک شاہکار افسانے ’مارگیر‘ میں پایا جاتا ہے جو رسالہ ’شب خون‘ اکتوبر 1978 میں پہلی بار شائع ہوا تھا۔ یہ سیمیا میں شامل تیسرا افسانہ ہے۔ اس افسانے کی شروعات بھی واحدمتکلم سے ہوتی ہے۔ جب ہم افسانہ ’مارگیر‘ میں شکار کی نوعیت اور مارگیر کے علاج کی مختلف تفصیلات کو پڑھتے ہیں تو ہمیں ایک ایسے جملے سے سابقہ پڑتا ہے جس سے ہمیں ’نصرت‘ کا کردار یاد آنے لگتا ہے، جیسے راوی ایک جگہ کہتا ہے ’میں ایک مری ہوئی لڑکی سے بھاگ رہا تھا۔‘ اور وہ اس تذبذب میں مبتلا ہے کہ وہ واقعی مری ہوئی تھی یا اسے مری ہوئی معلوم ہوئی تھی۔ چنانچہ وہ فیصلہ نہیں کرپاتا  اور اس لڑکی سے بھاگتا ہوا ایسے جنگل کی طرف نکل پڑتا ہے، جہاں مارگیر سے ملاقات ہوتی ہے۔ مارگیر اسی جنگل میں سانپوں کی تلاش اور جڑی بوٹی کی کھوج میں دن گزار تا ہے  اور گھر بیٹھے مارگزیدوں کا اپنی جڑی بوٹی سے علاج کرتا ہے  اور راوی اس بستی کے لوگوں کا مسیحا ہے۔ اس کہانی میں ہمیں ایک جگہ اس وقت دھچکا لگتا ہے جب راوی کو سانپ ڈس لیتا ہے تومارگیر اس کا علاج کرتا ہے اور کہتا ہے ’’تمہارے زخم کا نشان باقی نہیں، اب تمھیں یاد نہیں رہے گا‘‘ تو راوی کہتا ہے۔ ’’مجھے یاد رہے گا‘‘۔توپھر مارگیر کہتا ہے ’’یہ پرانے لفظ ہیں انھیں میں پہلے بھی سن چکا ہوں۔‘‘ اس جملے سے ہمارے ذہن میں ’نصرت‘  والا راوی یاد آتا ہے جو اس میں مارگیر کے روپ میں موجود ہے۔ دوسری جگہ وہ مارگیر جو سانپوں کے زہر کا علاج کرتا ہے، وہ خود کہتا ہے ’’مجھے سب سے زیادہ خوف زہر مہرہ سے ہوتا ہے۔‘‘ کہانی کے آخر میں ایک اور اہم موڑ آتا ہے جب مار گیر کو سانپ کاٹ لیتا ہے۔ مگر وہ خود اپنا علاج نہیں کرپاتا اور مرجاتا ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ نیّر مسعود نے اپنی کہانیوں میں ہی بھول بھلیاں سی کیفیت ظاہر نہیں کی ہے بلکہ کردار کے حوالے سے بھی قاری کو التباس میں ڈالنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ انھوں نے افسانے کے اختتام میں مارگیر کی بھی وہی حالت دکھا ئی ہے جوبقیہ افسانوں کے مرکزی کرداروں کی دکھائی ہے۔ یعنی اس کی موت،جس کی وجہ سے کہانی ایک المیے کی شکل میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

نیر مسعود کا ایک افسانہ ’بائی کے ماتم دار‘ ہے جو ان کے افسانوی مجموعے’طاؤس چمن کی مینا‘ میں شامل ہے۔ یہ افسانہ دوحصوں پر مشتمل ہے لیکن انھوں نے اپنے زور بیان سے دونوں حصوں کو ایک کردیا ہے۔ افسانہ ایک دلہن کی موت سے شروع ہوتاہے اور ایک بوڑھی عورت ’بائی‘ کی موت پر ختم ہوجاتا ہے۔ دونوں کی موت کی وجہ بالکل مختلف ہے مگر دونوں کے واقعات میں ایک گہرا رشتہ پایا جاتاہے۔ اس افسانے کا بنیادی خیال انسانی خواہشوں کی تکمیل اور اس تکمیل کے لیے کی جانے والی جائز ونا جائز کوشش ہے۔ اس افسانے میں نیر مسعود نے فلیش بیک کی تکنیک کا استعمال کیا ہے۔ افسانے کے آخری پیراگراف میں کچھ پرانے خیالات کے لوگ جن میں سماجی اقدار، تہذیب و تمدن موجود ہے،اسے نیر مسعود نے ’بائی‘ کے شوہر کے روپ میں دکھایا ہے۔ ’وہ صاحب‘ اپنی بیوی کی موت کے بعد جب گھر چھوڑ کر جاتا ہے تو دروازہ بند کر کے ایک پیتل کا بڑا سا تالا لگاتا ہے اور کنجی ایک بزرگ کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔ ’صاحب‘ کا گھر چھوڑ کرجانا مٹتے ہوئے تہذیب و تمدن اور بزرگ کے ہاتھ میں کنجی دینا اپنے تہذیب و تمدن کو بچانے کی آخری کو شش کی علامت ہے۔ کیوں کہ آج سائنس کی بڑھتی ہوئی روشنی نئی نسل کو اپنی گرفت میں لے کرپرانی قدروں کو مسمار کر چکی ہے۔  نتیجتاً لو گ اپنے تہذیب و تمدن کو بھول چکے ہیں اور ان کے اندر حرص و لالچ اپنا آشیانہ بنا چکی ہے۔ اس بات کو نیّر مسعود نے اپنے افسانے میں بالکل واضح طورپر دکھایا ہے۔ حالانکہ افسانے میں کردارکی اہمیت زیاد ہ نہیں ہے لیکن انھوں نے اپنے زور بیان سے افسانے کو شاہکار بنا دیا ہے۔

ان کا ایک اور افسانہ ’طاؤس چمن کی مینا‘ ہے جو اردو ادب میں منفرد شناخت کاحامل ہے۔ اس افسانے میں نیر مسعود نے بڑی گہری بات کو بہت سادگی سے بیان کیا ہے۔ اس افسانے کا مرکزی کردار کا لے خان ہے جوایک نواب کے یہاں ملازم ہے۔ کالے خان کی ایک لڑکی ہے جو پہاڑی مینا کے لیے ضد کرتی ہے مگر کا لے خان کی مالی حالت ایسی نہیں ہے جو مینا خرید سکے۔ اس لیے وہ نواب کی پہاڑی مینا کو کچھ دنوں کے لیے چرا لیتا ہے۔

اس افسانے میں لکھنوی تہذیب، نوابوں کے چونچلے اور گوروں کو خوش کرنے کے لیے کیے گئے خرچ، زبان کا سلیقہ و نزاکت سب کچھ دیکھنے کو ملتا ہے افسانے کے اختتام پر لکھنؤ میں دل نہ لگنے کا ذکراور ایک مہینے کے اندر بنارس میں آرہنا، سنتاون کی لڑائی، سلطان عالم کا کلکتے میں قید ہونا وغیرہ میں اس وقت کے لکھنؤکا زوال آمادہ ماحول اور تہذیب کی جھلک صاف نظر آتی  ہے۔

نیر مسعود نے احساس فنا اور اشیا کی  نا پائیداری کو اپنے افسانے کا  بنیادی موضوع بنایا ہے۔ گہری رمزیت کے ساتھ پرکشش اور تہ داراسلوب ان کے فن کی امتیازی خصوصیت ہے۔ وہ عہد حاضر کے ایک ممتاز اور منفرد افسانہ نگار ہیں۔ نیر مسعود نے مغربی افسانہ نگاروں سے بھی خوب استفادہ کیاہے اور ان کی خصویات کو اپنے افسانوں میں سمونے کی حتی الامکان کوشش بھی کی ہے۔ کافکا اور بورخیس کی جتنی خصوصیات ان کے افسانوں میں پائی جاتی ہیں وہ ان کے ہمعصر افسانہ نگاروں کے یہاں نہیں ملتیں۔

 

Asfa Zainab

Research Scholar,Dept of Urdu

Jamia Millia Islamia

New Delhi- 110025

Mob:7739267865

E-mail:asfazainab0@gmail.com

 

13/11/24

محمود ایاز کی نظمیہ شاعری،مضمون نگار: منظور احمد دکنی

 اردو دنیا، اکتوبر 2024

محمود ایاز کے ادبی کارناموں میں ادبی صحافت، تنقیدی تحریریں اور شاعری شامل ہیں۔ وہ شاعر و ادیب سے زیادہ ادبی صحافی کی حیثیت سے اردو دنیا میں انفرادی شان رکھتے ہیں۔ سوغات کی ادارت کے ذریعے آج سے ربع صدی قبل تک ان کے نام اور کام کی گونج سنائی دیتی رہی۔ ادبی صحافت سے ہمہ وقت وابستگی کی وجہ سے ان کی شعری و ادبی کاوشیں مقدار کے لحاظ سے کم ہیں مگر معیار و اعتبار کے لحاظ سے انفرادی شناخت کی حامل رہی ہیں۔ محمود ایاز کی اولین شعری تخلیق (غزل) رسالہ ’چمنستان‘ میں 1945 کو شائع ہوئی۔ اس کے بعد ان کی شعری تخلیقات اس دور کے معیاری رسائل میں شائع ہوتی رہیں۔ان کے انتقال کے بعد ان کا کلام ’نقش برآب‘ کے نام سے 2001 میں  منصہ شہود پر آیا۔یہ شعری مجموعہ ان کی تخلیقات کا انتخاب ہے۔ اگرچہ ان کی بہت سی تخلیقات اس میں شامل ہونے سے رہ گئی ہیں، تاہم اس مجموعے میں شامل نظمیں اور غزلیں نہ صرف ان کے تخلیقی اختصاص کے مطالعے کی دعوت دیتی ہیں بلکہ انفرادی حیثیت سے پُر ایک گم شدہ لہجے کی بازیافت پر دال ہیں۔

محمود ایاز کی ادبی تخلیقات کے بنیادی محرکات اور عوامل سے کماحقہ واقف ہیں۔ان کی شاعری درون ترسیل اور مصاحبے کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ سچا تخلیق کاراپنی داخلی شخصیت سے ہم کلام ہوتا ہے تاہم اس کے ہرگز یہ معنی نہ لیے جائیں کہ وہ خارجیت سے بے نیازی دکھاتا ہے بلکہ وہ اپنے خارجی مشاہدے کی بنیاد پر اپنے داخلی احساسات و جذبات کو لفظوں کا پیراہن عطا کرتا ہے اور قاری اس کے فکر وفن کے نہاں خانے تک پہنچ کر داد وتحسین پیش کرتا ہے اور یہی وصف شاعر کی شخصیت اور فکر وفن کی عکاسی کرتے ہوئے جذباتِ حقیقی کو شعری جامہ پہناتا ہے اور سنجیدہ قاری کے فکر و احساس کو ممیز بھی کرتا ہے۔محمود ایاز تخلیق کے اصل راز سے واقف ہیں  اور وہ جدید شاعری بالخصوص جدید نظم کی روایت، ارتقائی مراحل اور مسائل اور اس کی اصل فکر کے مرکزی دھارے سے بڑی حد تک  جڑے ہوئے ہیں۔ جدید نظم کے ان عناصر کا جائزہ لینا ایک تفصیلی بحث کا تقاضا کرتا ہے۔راقم الحروف فی الحال ان تفصیلات میں جائے بغیر جناب محمود ایاز کی کچھ نظمیں جیسے نیا سفر، انتظار اور آخری منزل سے اقتباسات پیش کرتا ہے تاکہ ان کی فکر اور اسلوب کی عکاسی ہوسکے    ؎

تعلقات کا فسوں کدورتوں کا غبار

دلوں کا بغض محبت کے دائروں کا حصار

مسرتوں کا ہر اک رنگ’غم کا ہر لمحہ

گزرتی موج کے مانند اُبھر کے ڈوب گیا

)نظم : نیا سفر، ص21(

یہ دل جو زندگیِ نو کے خواب دیکھتا ہے

یہ غم جو روح کی پہنائیوں میں جاگتا ہے

تری نگاہ سے چھٹ کر سکونِ جاں نہ ملا

نفس نفس میں امیدوں نے زہر گھولا ہے

)نظم: انتظار،ص28(

تعلقاتِ جہاں کی ستم گری سے الگ

غم و نشاطِ تمنا کی دسترس سے دور

تمام عمر کی جہدِ حیات سے تھک کر

ہزاروں حسرتیں مشتِ غبار میں ڈھل کر

کچھ ایسے سوئی ہیں خاموشیوں کے مرقد میں

کہ تا ابد کوئی آواز پاجگانہ سکے

)نظم: آخری منزل،ص33(

مذکورہ نظموں کے مطالعے سے اس بات کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ جدید شاعری جو میراجی، راشد،فیض اور اخترالایمان وغیرہ کے فکر وفن کے ساتھ سفر کرتے ہوئے آگے بڑھی اور ردو قبول کے کئی مراحل طے کرتی رہی۔ محمود ایاز بھی اسی راہ کے مسافر رہے  چنانچہ یہ نظمیں جہاں اپنے مخصوص تخلیقی تصور اور ہیئت کے لحاظ سے کلاسیکی لفظیات کا تانا بانا بنتے ہوئے نئے امکانات کا پتہ دیتی ہیں وہیں شاعر کے تخلیقی ذہن کے فنی و لسانیاتی تصورات اور نئے جہانوں کی سیر کرواتی ہیں۔ محمود ایاز نے اپنی نظموں کے ذریعے نظم کے تاریخی و تدریجی نقطئہ نظر کو ملحوظِ خاطر رکھا اور لسانی معیار و اعتبار کی مروجہ حدود کو بامعنی اور تر و تازہ بنانے کی سعی کرتے رہے۔اس عمل میں انھوں نے لفظی ترتیب سے زیادہ کام لیا ہے جومعنویت سے پر نظر آتی ہیں۔اس طرح ان کا رشتہ فنی جہتوں سے بھی منسلک ہوجاتا ہے۔

محمودایاز کی شاعری ترقی پسند تحریک کے دور میں فروغ پائی۔ ظاہر ہے کہ شاعر اپنے عہد کے تقاضوں سے متاثر ہوتا ہے، لہٰذان کے کلام میں اس دور کے مروجہ لفظیات و نظریات راہ پانے لگے۔ایسے میں ان کا رنگ انفرادیت کاحامل ہوا اوران کی نظموں کو جمال اورعصر کا امتزاج قرار دیا جانے لگا۔اس طرح ان کا اپنا اسلوب تشکیل پایا، فنی و فکری لحاظ سے بھی ان کلام عمدہ ہے۔ شا عروں میں ایاز صاحب غالبا فیض اور اختر الایمان سے متاثر نظر آتے ہیں، اس کے باوجود ان کا اپنا طرز نمایاں ہے اس ضمن میں اکرام باگ لکھتے ہیں :

’’محمود ایاز کا زمانہ شاعری ترقی پسند تحریک کے عروج کا زمانہ تھا۔فیض اردو شاعری کے قد آور شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔میراجی اور راشد کی آوازیں بھی پہچانی جانے لگی تھیں۔اخترالایمان کو ابھرتے شاعر کی حیثیت سے تسلیم کیا جارہا تھا۔غزل میں فراق اور ناصر کاظمی نے اپنی شعری پہچان بنالی تھی۔ محمود ایاز کلاسیک شعرا کے پارکھ تھے اور اقبال کے فکر و فلسفے نے ان پر گہرا اثر ڈالا تھا۔محمود ایاز کی شاعری پر مذکورہ شعرا کے اثرات مختلف انداز میں دکھائی دیتے ہیں۔ ایاز صاحب کی شاعری میں وقت کا تصور اقبال اور  اخترالایمان کے امتزاج سے ایک نئے زاویے سے ظہور پذیر ہوا ہے۔فراق اور فیض کا اثر ان کی لفظیات سے مترشح ہے۔‘‘

)تحقیقی مقالہ برائے پی۔ایچ۔ڈی: محمود ایاز اور سوغات کا دور سوم (تدوین و تحقیق) ،ڈاکٹر اکرام باگ ،2006،ص49(

اردو شاعری کا مزاج غزل کا مزاج رہا ہے ۔ اشارے اور کنا یے کی جتنی مثالیں غزل میں پا ئی جاتی ہیں اتنی شاید کسی اور صنف میں نہیں ملتیں۔ محمود ایازنے بھی ان صفات شعری سے خوب فائدہ اُٹھا یا۔ انھوں نے ان خصوصیات کو نہ صرف غزل بلکہ اپنی نظموں میں بھی استعمال کیا ۔  اشارات کے سلسلے میں میراجی نے ایک جگہ لکھا ہے:

’’سچی شاعری وہی ہوتی ہے جو اشاراتی(علامتی) ہو... بات کو دھندلکے میں رکھنے سے ایک حسن پیدا ہوجاتا ہے علامت خیال سے بڑھ کر آپ روپی صورت ہے، اشاراتی شاعری اظہار کا ایک ایسا فطری  طریقہ ہے جو ہماری ہستی کی گہرائیوں سے امڈ کر نمودار ہوتا ہے۔‘‘

میراجی کا مذکورہ بالا اقتباس محمود ایاز کی نظمیہ شاعری پر بھی صادق آتا ہے، ابہام و اشارت سے انہوں نے اپنی شاعری کو سجا یا ہے۔ اشاروں اور کنایوں میں بہت کچھ کہہ دیا ہے جب ہم کسی شاعر کے مزاج و منہاج سے واقف ہو تے ہیں تو قاری کا رابطہ اشاراتی زبان کے وسیلے سے ہوتا ہے ۔ اس ضمن میں ایازکی چندنظموں کے اقتباسات مثالاً پیش کی جا تی ہیں         ؎

چاندنی سطح سمندر پہ رواں

ریگ پہ آسودہ ہے

ساحلِ بحر کے سناٹے میں

دورافتادہ جزیروں میں اسیر

بین کرتی ہوئی موجوں کی صدا آتی ہے

)نظم: ایک تصویر،ص38(

سیہ رات میں ٹمٹماتے ستاروں کے نیچے

خروشاں سمندر کی موجیں تجھے ڈھونڈتی ہیں

خروشاں ہوا کی صدائوں میں تیری صدا ہے

مرادل تجھے ڈھونڈتا ہے

)نظم: نوحہ، ص40(

...اس سے پہلے بھی کئی بار

یہ بے کیفیِ ایام کی رو دیکھی ہے

مگر اب کے نہ بچیںگے

یہ گماں ہے دل کا

)نظم: اندیشئہ گماں ہاداشت،ص52(

اردو نظمیہ شاعری کی جدید گرمی سے لبریز مذکورہ نظمیں جہاں شاعر کے داخلی کرب کا منظر بیان کرتی ہیں وہیں نئے انسان اور نئے دور کے مسائل و مراحل کے مختلف ابعاد کی جانب ذہن و دل کو راغب کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان نظموں میں عہد نو کی جہتوں اور مدارج کا احساس ہوتا ہے ان کے یہاں ماضی ،حال سے مربوط و مبسوط ہوکر مستقبل کا پتہ دیتا ہے۔غرض یہ نظمیں شاعر کے لسانی و لفظیاتی مطالعے کے ساتھ ساتھ نفسیاتی، اخلاقی، تہذیبی اور معاشرتی جمالیات کو بھی نمایاں کرتی ہیں۔ شاعر ی میں علامتوں کا استعمال ایک ضروری شے گردانا گیا ہے، شعری اظہارات کا اختصار علامتوں کا متقاضی ہوتا ہے، یہ علائم و استعارات اور ابہام و اشارات کے توسط سے تخلیق پاتے ہیں۔ محمودایاز نے بھی اپنی نظمیہ شاعری کو علا متوں کے وصف سے سجایا اور سنوارا ہے اُن کی علامتیں منفرد ہیں اور ان میں ابہام اور اشارت بھی نمایاں ہے ۔ بقول شمس الرحمن فاروقی:

’’اجمال اور جدلیاتی لفظ کے بعد ابہام شاعری کی تیسری اور آخری معروضی پہچان ہے۔[موزونیت اور اجمال کی موجودگی ہمیشہ فرض کرتے ہوئے] ہم یہ کہہ سکتے ہیں اگر کسی شعر میں صرف ابہام ہی ہے تو بھی وہ شاعری ہے۔ عام طور پر جدلیاتی لفظ اور ابہام ساتھ ساتھ آتے ہیں لیکن جس طرح تنہا جدلیاتی لفظ شعر کو شاعری میں بدل دیتا ہے،اسی طرح تنہا ابہام بھی شعر کو شاعری بنادیتا ہے۔شعر میں ابہام یا تو علامت سے پیدا ہوتا ہے یا ایسے الفاظ کے استعمال سے جن سے سوالات کے چشمے پھوٹ سکیں۔جتنے سوالات اٹھیں گے شعر اتنا ہی مبہم اور اتنا ہی اچھا ہوگا۔‘‘

)شمس الرحمن فاروقی،شعر ،غیرشعر اور نثر، ص 96، (2005)،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ،نئی دہلی(

محمودایاز کی شاعری ابتدا ہی سے فکر وفن کے تقاضوں سے ہمکنار رہی۔ اُن کی نظموں میں ابہام و اشارت اور علائم کا خلاقانہ استعمال ملتا ہے اس کے علا وہ پیکر تراشی کا تخلیقی اور فنکارانہ استعمال بھی ان کے یہاں نمایاں رہا ہے۔ لفظوں کا صوتی آہنگ اُن کی شاعری کا خاصہ ہے۔ وہ اپنے جذبات و احساسات کو پیش کر نے کے لیے پیکر سازی کے عمل سے گزرتے ہیں۔ ان کے یہاں پیکر تراشی کی بے شمار مثالیں مل جاتی ہیں ۔ ان کی بیشتر نظمیں صفتِ پیکر  پر دلالت کرتی ہیں          ؎

کرب کی رات اٹل ہے

لیکن

نیند آجائے تو دم بھرسولوں

)نظم:نیا سسی فس،ص57(

بسوں کا شور دھواں دھوپ کی شدت

بلند بالا عمارات سرنگوں انساں

تلاشِ رزق میں نکلا ہوا یہ جم ِ غفیر

لپکتی بھاگتی مخلوق کا یہ سیلِ رواں

ہر اک کے سینے میں یادوں کی منہدم قبریں

ہر ایک اپنی ہی آوازِ پا سے روگرداں

یہ وہ ہجوم ہے جس میں کوئی کسی کا نہیں

یہ وہ ہجوم ہے جس کا خدا فلک پہ نہیں

)نظم:شبِ چراغ،ص46(

محمود ایاز نے مختلف فنی جہتوں کا تعین کیا ہے ۔ان کی نظموں کے علائم واستعارے کی معنویت کو پیش نظر رکھیں تو ان کے فنی اختصاص کی وسعت کے ساتھ ساتھ ان کے فکری نہاں خانے کے بعض عناصر جیسے شکست و تنہائی،حزن و ملال، حیات و ممات کی کشاکش وغیرہ کو بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ غرض ایاز صاحب کی نظمیہ شاعری کے جائزے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان کی نظمیں کسی طے شدہ راہ پر نہیں چلتی اور نہ ہی شعری نظریات کی تابع ہوتی ہیں، بلکہ ان کی کچھ اپنی مخصوص لفظیات و مرکبات، اشاراتی و علامتی طرز، جدید ذہنی و جذباتی رویے اور نئی شعری جمالیات کا دلچسپ منظر نامہ پیش کرتی ہیں جو ان کے شعری سفر میں ان کی نظموں کاشناخت نامہ بن گئی ہیں۔

 

Manzoor Ahmed Deccani

H. 5-38, Bakshi Haveli , Roza (B)

Dargah Road, Beside Inamdaar Petrol Pump

KALABURAGI-585104

Cell: 9964801454

Email: drmnzrd@gmail.com

عبد الرحیم خانخاناں کی تعمیری و ادبی خدمات، مضمون نگار: عارف انصاری

 اردو دنیا، اکتوبر 2024

’مآثرر حیمی‘ میں تحریرہے ’’جب تیندوے نے انسانوں کو آتے دیکھا، وہ غصّے سے لپکا۔ سپہ سالارنے سب سے زیادہ تلوار کے ہاتھ اس تیندوے کو مارے اور اس کے سر کو دو نیم کر دیا۔‘‘ 

سیّد منصور علی سہروردی کے ذریعے کیے گئے مآثررحیمی کے اردو تر جمہ میں صفحہ نمبر 206 پر جرأت و بہادری کی روشنی بکھیرتی اس تحریر میں موجود سپہ سالار شکاری کوئی اور نہیں مرزا عبدالرحیم خانخاناں ہیں۔ خانخاناں ایک اچھے شکاری، رزم و بزم کے دھنی اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔

عبدالرحیم خانخاناں کی ولادت اکبر اعظم کے اتالیق و سپہ سالار بیرم خاں کے یہاں 1556  میں لاہور میں ہوئی تھی۔ رحیم نے 71 برس کی عمر پائی۔ ایک روایت کے مطابق 1626اور ایک دوسری روایت کے مطابق 1627 میں رحیم نے جانِ عزیز جاں آفریں کے سپردکی۔

 عبدالرحیم کی یادگاروں میں سب سے بڑی یادگار فارسی کتاب ’مآثررحیمی‘ ہے جو عبدالرحیم کے حکم پر برہان پور میں لکھی گئی تھی۔  اس کتاب کے مصنّف ملا عبدالباقی نہاوندی ہیں۔ قابل مصنف نے اس کتاب میں بیرم خاں اور عبدالرحیم کے کوائف نیز دیگر سیاسی، سماجی حالات تفصیل سے تحریر کیے ہیں۔لیکن عبدالرحیم سے متعلق صرف 1616تک کے حالات ہی تحریر کیے جاسکے ہیں۔ بیرم خاں کی رحلت کے بعد عبدالرحیم کی پرورش چار سال کی عمر سے بطور’ خانہ زاد ‘ مغلیہ سلطنت کے شہنشاہ اکبر اعظم کی دیکھ ریکھ میں ہوئی۔ عبدالقادر جاوید انصاری نے ’تاریخ زرنگار برہان پور‘ میں لکھا ہے:

’’ اکبر بادشاہ نے بیرم خاں کی خدمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مرزاعبدالرحیم کی پرورش اور تربیت اپنی خاص نگرانی میں کرائی۔ مرزا نے اپنی ابتدائی عمر کا حصہ حصول تعلیم میں صَرف کیا اور لہو لعب سے دور رہا۔ جب سن شعور کو پہنچا تو علمی ماحول نے اس کے ذہنِ رسا کو حیرت انگیز تابانی بخشی۔‘‘ (تاریخ زر نگار برہان پور، ص 255)

مآثر رحیمی میںہے کہ عبدالرحیم نے بغیر کسی استاد کی مدد کے گیارہ سال کی عمر میں شعر کہنا شروع کر دیا تھا۔ جب وہ 16کے سن کو پہنچے تو ان کی جنگی مہارتوں کو دیکھتے ہوئے انھیں سپہ سالار بنا دیا گیا۔

مسلسل تربیت اور مشق و ممارست کے ساتھ جیسے جیسے خانخاناںکی عمر بڑھتی رہی بادشاہ سلامت انھیں کسی نئی خدمت پر متعین کرتے رہے۔  جب خانخاناں 28 برس کے ہوئے تو انھیں شہزادہ جہانگیر کا اتالیق مقرر کیا گیا۔ مآثر رحیمی سہروردی کے ترجمہ میں ہے۔’’ بادشاہ نے جب ان کے احوال اور نئے پن کا مشاہدہ کیا تو آزمائش کے لیے خدمات پر معمور فرمایا …چنانچہ 28 برس کی عمر میں شہزادہ کامگار یعنی جہانگیر کی اتالیقی پر جو اس زمانے میں شیخو کے نام سے مشہور تھا، مقرر کیا ۔‘‘

( مآثررحیمی…مترجم سید منصور علی سہروردی، ص 88) 

ملکی دارالخلافہ کی طرح دکن کے دارالسلطنت برہانپور سے عبدالرحیم خانخاناں کی گہری وابستگی رہی۔ اس دیار میں عبدالرحیم خانخاناں نے بعد کے دورمیں اپنی عمر کا بہترین زمانہ گزارا۔ خانخاناں کے برہان پور قیام اور دکن کی صوبیداری کے دور میں محققین کے درمیان اختلاف ہے۔ ’رحیم گرنتھاولی‘ میں خاندیش (برہان پور ) میں گذارے گئے ان کے وقت کی میعاد 30 سال تحریر کی گئی ہے۔ مولوی معین الدین ندوی نے بھی یہ مدت 30 برس بتائی ہے۔ عبدالقادر جاوید انصاری نے خانخاناں کی صوبے داری کی مدت 32 سال تحریر کی ہے۔ دکن کی صوبے داری کے زمانے کی جہاں تک بات ہے یہ قلمدان خانخاناںکو اکبر اعظم کے انتقال 1605 کے بعد عہد جہانگیر میں میسر آیا تھا۔ اس سے قبل عبدالرحیم وزارت کے عہدے پر فائز تھے۔ ’مآثر‘ میں ہے جب خاندیش بنایا گیا اس کا پہلا صوبیدار دانیال اور وزیر عبدالرحیم خانخاناں مقرر ہوا۔ احقر کے تحقیقی مقالے برہانپور کی اردو شاعری پر ’دبستانِ لکھنؤ کے اثرات‘ میں صفحہ نمبر32 پر تحریر ہے:

’’ مغل شہنشاہ اکبر 27اکتوبر 1605کو فوت ہوا اور مغلیہ سلطنت کا اگلا تاجدار سلیم جہانگیر آگرہ کے تخت پر جلوہ افروز ہوا۔ جہانگیر نے جنوب کی ساری ذمہ داریاں عبدالرحیم خانخاناں کو سونپ دیں۔ ‘‘

 جہانگیر کے ہاتھوں خانخاناں کو صوبیداری کی ذمے داری سونپے جانے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اس منصوبے پر 1605 یا اس کے بعد ہی عمل در آمد ہوا تھا۔ 1605 کے بعد خانخاناں کے 1627تک بقید حیات رہنے یعنی 22 سال تک مزید زندہ رہنے کے شواہد ملتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ موصوف اپنی زندگی کے آخری برسوں میں دکن یا برہانپور میں موجود نہیں تھے۔ ان شواہد کی روشنی میں خانخاناں کی صوبے داری کے دورانیے اور برہانپور قیام کے زمانے کا تعین کرنا سہل ہو جاتا ہے۔

خانخاناں کے قیام برہان پور کے دور میں ایک وقت ایسا بھی آیا کہ محل سرا میں گروہ بندی کی وجہ سے انھیں دارالسلطنت برہان پور سے واپس بلا لیا گیا۔ تاریخ جہانگیر میں ہے، ’’ نور جہاں کے گروہ نے یہ انتظام کیا کہ شہزادہ پرویز کو الٰہ آباد تبدیل کر دیا اور خانخاناں کو واپس بلا کر دکن کی مہم شہزادہ خرم کے سپرد کر دی۔ ‘‘ ( تاریخ جہانگیر : ڈاکٹر بینی پرساد :ص 264)

اتنا ہی نہیں حکومت مغلیہ کے ماتحت رہتے ہوئے خانخاناں کو برہانپور سے کئی باروقفے وقفے سے دیگر علاقوں کا سفر بھی کرنا پڑاتھا، جو کئی کئی مہینوں اورسالوں پر محیط  تھا۔ اس لیے مسلسل تین دہائیوں تک خانخاناں کی برہانپور میں اقامت کا دورانیہ بھی ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

خانخاناں کے اوصاف کی بات کریںتو الگ الگ دور میں ان کی طبیعت میں تبدیلی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ’مآثر‘ میں سہروردی کے اردو ترجمہ میں ہے: ’’سحرخیزی سے لطف اندوز ہونا ان کی عادت ہے۔ فرائض و سنن کی ادائیگی میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے۔ سلطنت ہوتے ہوئے بھی ہوس سے دور، تقویٰ و صلاح کے قریب تھے۔ خلق اللہ کے اہم کاموں اور ضروریات کی تکمیل کواپنے کاموں پر ترجیح دیتے ہیں۔ ‘‘ 

( مآثر رحیمی ...ترجمہ سہروردی، ص 197) 

خدمت خلق کے جذبے کے تحت رحیم نے عوامی حمام اور نہر خیر جاری المعروف خونی بھنڈارہ کی تعمیر کروا کر تاقیامت یاد رکھا جانے والاکارنامہ انجام دیا تھا جس کے سبب ہر دور کے عوام کی نظر میں خانخاناں کا قد بلند ہونے کے ساتھ ان کا احترام بھی بڑھ جاتا ہے۔

برہانپور میں عہد مغلیہ میں جو تعمیرات ہوئیں ان میں سے متعدد شاہجہاں کے عہد شہزادگی اور صوبے داری کے دور میں ہوئیں۔ محل گل آرا کی عمارتیں، شاہجہانی عیدگاہ، قلعۂ ارک سے منسلک خوبصورت حمام ان میں خاص ہیں۔ عبدالرحیم خانخاناں نے برہان پور میں جو عمارتیں بنوائیں ان میں جہانگیری حمام ( عوامی حمام ) نہر خیر جاری، مسجد اور جہانگیری سرائے، دوسری جہانگیری سرائے جسے اکبری سرائے بھی کہا جاتا ہے، صحن جامع مسجد، مقبرہ شاہنواز خاں اور باغات وغیرہ ہیں۔ عبدالرحیم نے اپنی صوبے داری کے زمانے میں دارالسلطنت برہانپورمیں عوامی حمام موجود نہ ہونے کی وجہ سے محسوس کی جانے والی پریشانیوں کے پیش نظر شہر کے میدان کے سرے پر ایک حمام تعمیر کروایا تھا جسے جہانگیری حمام کہا جاتا ہے۔ یہ حمام محلہ بیری میدان میں بوہرہ جماعت کی زکوی حویلی کے نزدیک زمانے کے سرد و گرم سہتا ہوا آج بھی خستہ حالت میں موجود ہے۔ گرگ خراسانی کے زیر اہتمام رفاہِ عام کے لیے تیار ہوئے اس حمام سے فیض یاب ہوتے  ہوئے فقرا، مساکین اور عوام خانخاناں کی فرماں روائی کے لیے اکثر دعا کرتے تھے۔

عبدالرحیم خانخاناں کی تعمیرات میں ایک اہم کارنامہ نہر خیر جاری کی تعمیر ہے۔ اس نہر کو عرف عام میں خونی بھنڈارہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے اس زمانے میں برہانپور میں پانی کی قلّت تھی۔ خانخاناں نے ست پڑا کی پہاڑیوں میں میٹھے پانی  کے چشمے تلاش کر کے تقریباً دس کلو میڑ زمین دوز نہر بنوائی تھی۔ گچ اور پتھروں سے بنی یہ نہر زیر زمین ہونے کے ساتھ دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ تعمیری اعتبار سے یہ اپنی مثال آ پ کہی  جاتی ہے۔ مآثر رحیمی، تاریخ زرنگار برہانپور اور دیگر کتب میں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔

 خانخاناں نے فاروقیوں کے دور کی فن تعمیر کا اعلیٰ نمونہ کہی جانے والی جامع مسجد کے برباد ہوتے دالان کو اپنے دورمیں نئے سرے سے تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا۔ انگریز سفیر تھامس رو جب  1615میں برہانپور میں موجود تھا،  اس نے عوام کے مٹی سے بنے ہوئے مکانات کا ذکر کرتے ہوئے اپنے سفر نامے میں شہزادہ پرویز، امرا اور خانخاناں کے پکے مکانات بشکل محلات موجود ہونے کا ذکر کیا ہے۔ لکھا ہے ’خانخاناں جب برہانپور میں تھے، انھوں نے ایک وسیع محل بنوایا تھا۔ اس کا بلند گنبد، اس کی زیب و زینت، اس کا رنگ برنگا فرش، مختلف رنگوں سے سجی اس کی چھت قابل تعریف ہے ‘‘

(مآثرِ رحیمی : ترجمہ سہروردی : ص 227) 

اسی طرح سنگ خاراکا حوض، جہانگیری سرائے اور دوسری جہانگیری سرائے کی تعمیر بھی خانخاناں کے دورمیں ہونے کے شواہد ملتے ہیں۔ مقبرہ شاہنواز خاں بھی رحیم خانخاناں کے دور کا فن تعمیرکا بہترین نمونہ ہے۔ یہ مقبرہ در اصل خانخاناںکے پانچ فرزندان میں سے سب سے بڑے بیٹے مرزا ایرج یعنی شاہنواز خاں کا مدفن ہے جو اتاؤلی ندی کے کنارے سطح زمین سے کافی اونچائی پر موجود ہے۔ آج کل محکمۂ آثارِ قدیمہ نے اس احاطے میں ایک باغ لگوادیا ہے جس کے سبب یہ برہانپور کے سیاحتی مراکز میں سے ایک اہم مرکز کے بطور جانا پہچانا جانے لگا ہے۔ یہ عمارات چار صدیاں گزرنے کے بعد آج بھی آثارِ قدیمہ کے بطور اپنے وجود کا احساس کراتی ہے۔ کچھ عمارات ضرور ایسی بھی رہی ہوںگی جن کا وجود وقت کے طوفان میں ختم ہو کر رہ گیاہو۔

ان شواہد کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ خانخاناں کو فن تعمیر سے گہرا لگاؤ تھا۔ ساتھ ہی وہ شاعری اور فنون لطیفہ میں بھی معاصرین میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ فن سپہ گری، جنگلی جانوروں کے شکار کا شوق، فن تعمیراور شعر و ادب سے گہری دلچسپی مل کر عبدالرحیم خانخاناں کوانوکھا اور نرالاثابت کرتے ہیں۔ شاید ان صلاحتیوں کے پیش نظرہی جہانگیر کو اپنی تزک میں تحریر کرنا پڑا تھا۔ ’’خانخاناں قابلیت اور خوبیوں میں سارے عالم میں نرالا تھا۔‘‘ خانخاناں شاعر و ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا شاعر نواز بھی تھا۔ اس نے اپنے دربار میں دیگر سلطنتوں اور ممالک کے شعرائے کرام کو جمع کر رکھا تھا۔ مولوی معین الدین ندوی لکھتے ہیں :

’’نوعی، شاعر برہانپور میں عبدالرحیم خانخاناں کے دربار سے وابستہ تھا۔ اس نے ایک مرتبہ خانخاناں کی تعریف میں ایک قصیدہ لکھ کر سنایا تو خانخاناں نے اسے دس ہزار روپے نقد، ایک ہاتھی، ایک عراقی گھوڑا اور خلعت فاخرہ عطا کیا تھا۔ ‘‘

 (دارالسرور برہان پور: مولوی معین ندوی : ص 20 ) 

عبدالرحیم خانخاناں کو کئی زبانوں پر دسترس حاصل تھی، وہ فارسی کے علاوہ برج بھاشایعنی ہندی میں بھی شعر کہتے تھے، نیز فارسی ہندی کے اچھے نثر نگار بھی تھے۔ ہندی فارسی سے لذت آشنائی کے بعد زبان کا ذائقہ تبدیل ہوا تو خانخاناں نے اردو کی تشکیل کے دور میں ہندی فارسی لفظوں کے سہارے ریختہ یا قدیم اردو میں اشعار کہے۔ نکات الشعرا، تذکرۂ ریختہ گویاں، مجموعۂ نغز، مخزن نکات اور آبِ حیات وغیرہ میں بکھرے اشعار اس بات کی دلیل ہیںکہ خانخاناں نے قدیم اردو میں شعر کہے ہیں۔ بطور مثال دو شعر حاضر ہیں           ؎

ارے ناداں نین اپنے سجن کو کیوںرٹھایا ہے

روٹھاکر پیوںکو جگ میں کسو نے ذوق پایا ہے

بہت پچھتائے گا میری نصیحت مان کہتی ہوں 

سکھی کو رات سبوہی سیپیاریکو جو بھایا ہے

خانخاناں کو فارسی ہندی زبانوں کے علاوہ دیگر زبانوں پر عبور حاصل ہونے کے سلسلے میں مآثر الامراسے یہ اقتباس حاضر خدمت ہے :

’’ خانخاناں در قابلیت و استعداد یکتائے روزگار بود، عربی و فارسی و ترکی و ہندی رواں داشت۔ شعر خوب می فہمید و گفت ‘‘  (ترجمہ ) خانخاناں قابلیت و استعدادمیں یکتائے زمانہ تھا۔ اس کی عربی، فارسی اور ترکی اور ہندی رواں تھی۔ شعر سمجھنے اورتخلیق کرنے میں اسے مہارت حاصل تھی۔

عبدالرحیم خانخاناں کی ہندی شاعری میں انھیں بطور خاص ہندی دوہوں کی وجہ سے شہرت حاصل ہوئی۔ عہد حاضر میں زبان زد خاص و عام چند دوہے حاضر خدمت ہیں        ؎

رحیمن پانی راکھیے، بن پانی سب سون

پانی گئے نہ اوبرے، موتی، مانش چون

بگری بات بنے نہیں، لاکھ کرو کن کوئے

رحیمن پھاٹے دودھ کو، متھے نہ ماکھن ہوئے

حیرت کی بات ہے نہاوندی نے رحیم کے ہندی دوہے ’مآثر‘ میں کہیں نقل نہیں کیے ہیں۔ کہا جاتا ہے شاید وہ زبانِ ہندی سے ناواقف تھے۔ اس ضمن میں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ رحیم کے یہ دوہے بیسویں صدی کی دریافت ہیں اور محققین ان کی صحت پر مزید تحقیق کی گذارش کر تے ہیں۔

مختصر یہ کہ مغلیہ سلطنت کے فرما نرواؤں اکبر اعظم، جہانگیر اور شاہجہاں کے مقرب و معززکہے جانے والے  عبدالرحیم خانخاناں فارسی، ہندی، اردو اور ترکی میں شعر کہنے کے ساتھ اپنی متعدد صلاحیتوں کے سبب بھی اپنے دور میں نمایاں رہے۔ خانخاناں نے خاندیش کے دارالسلطنت برہان پور میں اپنی سکونت کے دور میں نہ صرف متعدد علاقوں کو فتح کیا اور عمارات بنوائیں بلکہ غریبوں کے آنسو پوچھنے کے ساتھ ادبی دنیا کو محبتوں بھری ایسی تخلیقات سے نوازاجس کی ادبی دنیامیں دوسری مثال نہیں ملتی۔رحیم کے اس دوہے پر بات تمام کہ      ؎

رحیمن دھاگا پریم کا، مت توڑو چٹکائے

ٹوٹے سے پھر نہ جڑے، جڑے گانٹھ پری جائے

ماخذات

1        مآثر رحیمی ( خانخاناں بیرم اور عبدالرحیم کی سوانح ) مصنف: عبدالباقی نہاوندی، مترجم : سیّد منصور علی سہروردی مطبع: معارف پریس، شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ، 2017

2        تزک جہانگیری (نورالدین جہانگیر بادشاہ )، مترجم: مولوی احمد علی صاحب رامپوری ، مطبع : مکتبہ الحسنات دہلی ، 2001

3        تاریخ جہانگیری ، مصنف : ڈاکٹر بینی پرساد، مترجم : رحم علی الہاشمی، مطبع ترقی اردو بورڈ، نئی دہلی، سن اشاعت  1979

4        مآثر رحیمی ، مصنف : عبدالباقی نہاوندی  مترجم : محمد اسماعیل فہمی برہانپوری، مطبع: مکتبہ دیوبند، سنہ اشاعت:  2020

5        تاریخ زرنگار برہانپور، مصنّف جاوید انصاری  شائع کردہ : حمید الحق فہمی، 2021

6         رحیم گرنتھا ولی (ہندی )  مصنّف ودیا نواس مشر  مطبع : وانی پرکاشن دہلی

7        دارالسرور برہانپور ، مصنّف : مولوی معین الدین ندوی  مطبع : سردار پریس مالیگاؤں، 1978

8        برہانپور کی اردو شاعری پر دبستانِ لکھنؤ کے اثرات، مصنف : ڈاکٹر عارف انصاری، ناشر : فاضلی اردو لٹریری اینڈ ویلفیئر سوسائٹی، برہانپور ، 2018

 

Dr. Arif Ansari

34/ 274, New Bus Stand Road

Jai Smith

Burhanpur- 506244 (MP)

Mob.: 9993994141

drarif786aa@gmail.com

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...