21/11/24

دکنی ہندو اور اردو، ماخذ: دکنی ہندو اور اردو، مصنف: نصیرالدین ہاشمی

 اردو دنیا، اکتوبر 2024

اب ہم ایسے دور کا تذکرہ کرتے ہیں کہ جبکہ سرکار آصفیہ کی سرکاری زبان فارسی سے اردو ہوگئی تھی، اردو کے رسالے اور اخبار شائع ہونے لگے تھے اس دور کے ہندوشعرا کی تفصیل گزرچکی ہے۔ اس دورمیں ہندو ادیبوں اور انشاپردازوں کی پوری صراحت تودشوار ہے کیونکہ شعرا کی طرح ان کے حالات کسی نے جمع نہیں کیے ہیں ہماری تحقیقات اور معلومات سے جن اصحاب کا سردست پتہ چلتا ہے ان کا تعارف کردیا جاتاہے۔ ممکن ہے آئندہ مزید اضافہ ہوسکے۔

مہاراجہ کشن پرشاد: مہاراجہ کشن پرشاد یمین السلطنۃ آنجہانی کا تذکرہ شعرا کی ذیل میں کردیا گیا ہے مگر آپ ایک قادر الکلام شاعر کے ساتھ ساتھ زبردست ادیب صاحب فن نثرنگار اوربہترین انشاپرداز بھی تھے، مہاراجہ کی نثرکی کتابوں میں ناول، سفرنامے، مقالے اور خطوط ہیں جن کی تعدا دخاصی ہے، آپ کے ناولوں میں خاکہ اورکردارنگاری دونوں کے اچھے نمونے موجودہیں، سفرنامے دلچسپ ہونے کے علاوہ معلومات آفریں ہیں، ان میں تاریخی تحقیق بھی ہے اور سماجی ومعاشرتی امور کی صراحت بھی ، درویشوں وفقیروں اور اللہ والوں کا حال بھی لکھا ہے اور سیاسی اورسماجی لیڈروں کا بھی، مہاراجہ کے خطوط میں تبسم وقہقہہ بھی ہے اور متانت بھی ، کبھی آپ کی نثرمیں نظم کی نقش افرینیاں ملتی ہیں،ظفر علی خاں صاحب نے ایک مرتبہ اپنے رسالہ دکن ریویومیں مہاراجہ کی تالیفات پرتبصرہ کرتے ہوئے حسب ذیل صراحت کی ہے جو بالکل صحیح معلوم ہوتی ہے:

پنڈت رتن ناتھ کے مذاق طبیعت کے لحاظ سے مہاراجہ کی تحریرپر بھی اثر پڑاہے جو طرز تحریر پنڈت رتن ناتھ سرشار کا ہے اس کا عکس مہاراجہ کشن پرشاد کی شاعری ونثر میں بھی نظرآتاہے۔(مہاراجہ کشن پرشاد، ص 238)

مہاراجہ کے سفرنامے دوقسم کے ہیں ایک تو روزنامچے کے طورپر لکھے گئے ہیں اور دوسرے سفرنامے میں مہاراجہ کی سرکاری رپورٹیں بھی دلچسپ اور معلومات آفریں ہیں بہرحال مہاراجہ کی نثراپنی روانی، بیساختہ پن، شگفتگی کے لحاظ سے قابل قدر اور لائق ستائش قرار پاتی ہے۔

آپ کی نثرکے بعض نمونے یہاں پیش کیے جاتے ہیں۔

 خطوط: ایک دوست کو لکھتے ہوئے اس امر کا جوا ب دیا گیا ہے کہ بعض اصحاب ان پر اعتراض کرتے اور آپ کے ادبی کارناموں کو پنڈت رتن ناتھ کی طرف منسوب کرتے تھے۔

بیشک میں شاعرنہیں، نثار نہیں مگرایسا بھی نہیں کہ بغیرکسی سہارے کے ٹٹونہ چل سکے۔ آزمائش منظور ہے توقلم ودوات لیں، کوئی مضمون یا خط یا کوئی سین وہ بھی لکھیں بندہ بھی گھسیٹتاہے اس وقت قلعی کھل جائے گی۔ یہ میں نے مانا کہ میں منشی نہیں ہوں، انشاپردازی مجھے نہیں آتی اور نہ مجھے ابوالفضل یا نعمت خاں حالی ہونے کا دعویٰ ہے مگرہاں مرزاعلی باباشیرازی الاصل کا شاگرد ہوں۔ سیدھی سادھی نثرلکھتا ہوں مگرانشائے خلیفہ اور مادھورام سے کم نہیں۔۔۔۔۔۔ نظم میں نہ ذوق ہوں نہ مومن نہ امیرہوں نہ داغ نہ غالب ہوں نہ بیدل نہ حافظ ہوں نہ سعدی مگراپنے مطلب کو نظم میں موزوں کرلیتاہوں۔ اردو نثر لکھنے میں یا ناول نویسی میں پنڈت رتن ناتھ سرشار لکھنوی ۔ ان کا نام میں نے اس وجہ سے نہیں لکھا ہے کہ میرے ہاں موجود ہیں۔ یا بقول آپ کے دوست کے وہ مجھے نظم ونثر لکھ دیا کرتے ہیں نہیں نہیں ان سے پوچھ لیا جائے کہ جب وہ حیدرآباد آئے اس وقت میری ارد وزبان کیسی تھی، اور ان کا میری نسبت کیا خیال تھا۔ الغرض میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں۔ مگر بھیا معمولی مکتوبات نویسی وغیرہ میں اگرغالب مرحوم کا چربانہ اتارا توہارجاؤں ۔ الغرض جوکچھ میں نے سیکھا استادوں سے سیکھا ۔ صحبت اہل علم وفضل کی رہی ہے، یہ میرا کلمہ غرور کا نہ سمجھیے۔ میں توہیمچداں ہوں۔۔۔‘‘ (ایضاً، ص 237)

اورایک خط میں غالب کارنگ ملاحظہ ہو:

مہربان دوستان سلامت، تلوار پہنچی۔ میں توارمغان سمجھا تھا مگر خط کے دیکھنے سے معلوم ہوا کہ ابھی مول نہیں لی گئی۔ صرف میرے امتحان اور پسند کے لیے بھیجی ہے۔ اس قدردانی کا شکریہ، میں اس قابل تونہیں ہوں کہ پرکھوں ۔ مگرحضرت عباس کی قسم عمدہ عباسی ہے، جو ہروارقوت بازوئے سپہ سالار اس کی شان ہے۔ فتح وظفر اس کا دم بھرتے ہیں، تعریف تویہ ہے کہ دشمن بھی جان دیتے ہیں اور اس پر مرتے ہیں۔ اور یہ ان کے خون کی پیاسی واہ ری عباسی آبداری میں گوہر آبدار لولوے شاہوار جس کے نخل ہستی میں آب رسانی کی اس کا چمن سوکھ کر کاٹا ہوگیا۔ گویا خزاں کے جھونکوں سے نیست ونابود توکیا ویران وتباہ ہوگیا۔ باڑھ ہے کہ سمندر کی دھار ہے۔ خم ابرو سے کم نہیں، قبضہ بھی عمدہ ہاتھ آیا ۔ اچھے پر قبضہ پایا ۔ تینی شاہی کام ہے شاہوں کے قبضہ قدرت میں رہنے کا سہام ہے۔ اللہ مبارک کرے۔   (ایضاً، ص 238)

آپ بیتی حالات: ’’اگرچہ ہرفرد بشر جس کی استعداد علمی زیادہ ہو یا کم وہ اپنے سرمایۂ استعداد کے موافق نثرلکھ ہی لیتاہے۔ مگرنثاری کافن بالکل جداگانہ ہے جو آج کے زمانے میں لٹریچرسے موسوم کیا گیا ہے۔ ہرکس وناکس نثار نہیں ہوسکتا۔ بڑے بڑے عالم فاضل دیکھے گئے ہیںکہ وہ باوجوداس لیاقت وفضیلت کے نثار یا منشی نہیں پائے جاتے اردو کی دنیا میں اگرچہ نثاری کی بنیاد مدت سے پڑچکی تھی۔ مگر متاخرین میں مرزاغالب مرحوم کی اردوئے معلی نے اردو زبان کے تن بیجان میں روح پھونک دی ۔ اردو معلی پہلی کتاب ہے جو متاخرین کے زمرے میںمستند سمجھی گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے سب سے پہلے یہ کام کیا کہ اکثر اردو ناولیں جو مشہور مصنفین کے انمول مضامین تھے ان کا مطالعہ کیا ۔ اور التزام کے ساتھ ان کے روز مرہ محاورات دلچسپ فقرات اور ضرب المثل کو قلم بند کرتا گیا۔ جب اس سے فارغ ہوا توان کو از برکرلیا۔ گواس وقت میری عمر کے سفر کے ساتھ فراموشی بھی ہوتی گئی۔ مگر ایک اقتضائے سن دوسرے شوق کی امنگ نے مجھ کو نچلا نہ رہنے دیا۔ میں نے ایک چھوٹا سا رسالہ موسوم بہ ’سرمایہ سعادت ‘ لکھ کر شائع کرایا۔ یہ رسالہ کسی اہل زبان کی محک نظر میں کسا نہیں گیا۔ یوں ہی اس کو طبع کرادیا یہ ایک قصہ دو بھائیوں کا ہے جس میں ایک خواندہ او ردوسرا ناخواندہ ہے۔ ان کی طرز معاشرت اور اتفاق ونفاق کا نتیجہ دکھلایا ہے۔ اس عرصے میں رتن ناتھ سرشار کا فسانۂ آزاد اودھ اخبار میں طبع ہونا شروع ہوا۔‘‘

اس تفصیل سے یہ بھی واضح ہوسکتاہے کہ مہاراجہ کی افسانہ نویسی پنڈت رتن ناتھ سرشار سے پہلے شروع ہوچکی تھی۔ مہاراجہ کے ایک سفرنامہ کا نمونہ بھی پیش کیا جاتاہے جس میں ناگپور کے سفر کے حالات ہیں مگرہم اس سے ایک ایسا اقتباس پیش کرتے ہیں جو مہاراجہ کے تصوف کے شغف کو بھی ظاہر کرتاہے۔

اللہ تعالیٰ کی یکتائی اور اس کی وحدت کاثبوت ہم کو ہروقت اور ہرآن ملتاہے۔ مگرغفلت کاپردہ عقل پرایسا پڑا ہواہے کہ ہم محسوس نہیں کرتے۔ دنیوی تعلقات اور اس کی نیرنگیوں کے تماشوں کو ماسوا اللہ کی شان میں دیکھ دیکھ کر اپنی اوقات کو خراب کرتے ہیں ۔ ورنہ اگر بغور تمام اور بہ نظر تعمق دیکھا جائے توا س کی وحدت ہی کاسارا تماشا ہے۔ ادھر زہرہ بی نے جانے کی خبردی اور اس کے اسباب بظاہر ایسے جمع ہوئے کہ ناگزیرسیروتفریح کا قصدمصمم ہوا۔۔۔۔۔ الغرض چلتے چلتے راجہ کے باغ کی طرف پہنچے جہاں شاہ صاحب رہتے تھے۔ اور خبرلی کہ شاہ صاحب ہیں کہ نہیں معلوم ہوا کہ موجودہیں، فوراً میں اترکر پہنچا۔ دیکھتا کیاہوں کہ زائرین کا تانتا لگا ہوا ہے، اور منتظرفضل باری ہیں اورمجذوب کے مظہر کواپنا قاضی الحاجات سمجھ کر امید کادامن پھیلائے ہوئے ہیں اور مظہر ذات نامتناہی عبودیت کے خلعت سے مزین ہوکر مجذوب کی تصویر بن کر ہرایک کے درد کی دوا کرنے میں اپنی مسیحائی دکھا رہاہے جل جلالہ، جل شانہ، اس وقت شاہ صاحب دوسری طرف متوجہ تھے میرے پس پشت کھڑے ہوتے ہی چونک کر فوراً میری طرف دیکھ کر نظر ملائی بقول شخصے      ؎

نین چھپائیں نہ چھپیں پٹ گھونگھٹ کے اوٹ

چترنار اور سورما کریں لاکھ میں جوٹ

نظرکا ملنا تھا کہ میرے قلب پرایک ایسی کیفیت طاری ہوئی جس کا اظہار قلم سے ممکن نہیں۔‘‘

مانک راؤ: پنڈت مانک راؤ وٹھل راؤ صاحب کانام بحیثیت مورخ تاریخ دکن میں یادگار رہے گا۔ ضلع گلبرگہ آپ کا آبائی وطن تھا۔1867میں ولادت ہوئی، گھر پر اردو ،فارسی، انگریزی اور مرہٹی کی تعلیم کا انتظام ہوا، گھر کی تعلیم کے بعدمدرسہ اعزہ میں شریک ہوئے اور کچھ عرصہ تک تعلیم کے بعدملازمت کے سلسلے میں منسلک ہوگئے۔ چونکہ آپ کے خاندان کو پائگاہ خورشید جاہی سے تعلق تھا اس لیے آپ بھی یہاں ہی ملازم ہوئے امراپائگاہ کی مصاحبین کے ساتھ ساتھ مہتمی تعلیمات پائگاہ پھر رکن فوج رہے 1939تک ملازمت کاسلسلہ باقی رہا۔ سنہ مذکور میں وظیفہ حاصل کرکے خانہ نشین ہوئے۔

مانک راؤ صاحب کی علمی خدمت کا سلسلہ ملازمت کے پہلے ہی سے شروع ہوتاہے۔ ان کی پہلی کتاب تفریح الحیات 1896میں شائع ہوئی اور 1932 تک کتابوں کی تصنیف اور اشاعت کاسلسلہ باقی رہا۔ آپ کے تصانیف کی فہرست حسب ذیل ہے:

شمار               نام کتاب فن     

1        تفریح الحیات        اخلاق   

2        امیرانہ اور غریبانہ زندگی        اخلاق

3        راجہ اشوک کاجیون چرتر        تاریخ

4        دیدورنتی  مذہب

5        بستان آصفی سات جلدیں        تاریخ

6        اقوال بدھ مذہب

7        دستورحکمرانی       فن

8        مفید الخواتین        نسوانیات

9        حالات ومقالات سقراط         سوانح وفلسفہ

10      خیابان آصفی         تاریخ

11      مرہٹوں کاتمدن      تاریخ

مانک راؤ صاحب کی تصانیف کو تاریخ اوراخلاق پر تقسیم کرسکتے ہیں جن میں تاریخی کتابوں کا حصہ زیادہ ہے، مختلف سائزکے 4489صفحات پر مانک راؤ صاحب کی کتابیں مشتمل ہیں۔ آپ کی تصانیف میں بستان آصفی کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ یہ کتا ب تاریخ دکن خصوصیت سے سلطنت آصفیہ کی مفصل تاریخ ہے اس میں نظم ونسق حکومت او ردیگر تاریخی امور کے متعلق جس قدر مواد موجودہے بہت کم کسی دوسری کتاب سے حاصل ہوسکتاہے۔

شمس العلما مولانا ذکاء اللہ جیسے مورخ نے اس کتاب کے متعلق جورائے دی ہے وہ قابل ملاحظہ ہے:

اس بستان آصفیہ میں ایسے چمن وگلشن تاریخ لگے ہوئے ہیں جن کی بہار سے دل کی کلیاں کھلتی ہیں، اس میں عموماً دکن کے سلاطین کے خاندانوں اور خصوصاً خاندان آصفیہ کے اس بسیط وتفصیل سے حالات لکھے ہیں کہ اس کے مطالعے کے بعدپھر کسی اور تاریخ دکن سے سلاطین ماضیہ وحال کے حالات بڑی لیاقت وقابلیت وجاں فشانی وعرق ریزی سے استنباط کرکے لکھے ہیں غرض وہ حیدرآباد نظام کے کلیات وجزئیات حالات کا آئینہ ہے۔‘‘

گویہ صحیح ہے کہ اس ضخیم کتا ب میں چند خامیاں بھی ہیں مگروہ ایسی نہیں ہیں جن کی وجہ سے مانک راؤ صاحب کی علمی خدمات کا اعتراف نہ کیا جائے۔ جو ذخیرہ تاریخی اس میں مل سکتا ہے وہ کسی اورجگہ ہمدست نہیں ہوسکتا۔ جب تک اردو زبان زندہ رہے گی مولف کا کارنامہ باقی رہے گا۔ ان کی زبان سادہ سلیس اور بامحاورہ ہے۔

مانک راؤ صاحب کی عبارت کانمونہ حسب ذیل ہے:

ابوالخیر خاں کاسلسلہ نسب حضرت شیخ فرید شکر گنج تک پہنچ کر حضرت عمرؓ سے ملتاہے، آپ کے پدر بزرگوار کا نام شیخ بہاؤ الدین خاں تھا، او روہ مع اپنے چھوٹے فرزند کے شکوہ آباد ضلع مین پوری میں مسکن گزیںتھے، عنفوان شباب میں ذی اقتدار ہوئے، اور محمدشاہ بادشاہ دہلی کے حضور سے ’خان بہادر‘ کاخطاب پایا اور جس زمانے میں حضرت آصف جاہ اول عازم دکن ہوئے تووہ بھی ان کے ساتھ ہوئے حضرت موصوف نے انھیں دوہزار منصب پانچ سو سواراور تین ہزار سپاہ کی جاگیر مرحمت فرمائی۔ سب سے پہلے جو اہم کام انھوں نے کیا وہ یہ تھا کہ آٹھ ہزار سواروں کے ساتھ باپو نانک کا مقابلہ کیا اورفتح پائی۔ جب نواب ناصرجنگ اپنے والد ماجد حضرت آصف جاہ اول سے معرکہ آرا ہوئے انھوں نے اپنا طرفدار بنانا چاہا لیکن انھوں نے بایں الفاظ انکار کردیا کہ باپ کا جوملازم ایسی حالت میں بیٹے کا شریک ہوگا وہ نہ صرف گناہ کبیرہ ہی کا مرتکب نہیں بلکہ دنیا میں بھی سخت سزاپائے گا۔ (بستان آصفی جلد دوم ص548)

راجہ راجیشور راؤ: راجہ راجیشور راؤ صاحب کا تذکرہ شعرا کے ساتھ ہوا۔ آپ کوشاعری سے زیادہ نثرنگاری سے رغبت تھی مختلف فنون میں سے زیادہ کتابیں تصنیف وتالیف فرمائی جن میں بعض حسب ذیل ہیں:

شمار      نام       فن

1        محبوب الاخلاق      اخلاق

2        حدیقۃ الاخلاق       اخلاق

3        گلبن دانش           اخلاق

4        گلزاردانش           اخلاق

5        ریاض دانش         اخلاق

6        کشف الاسرار       تصوف

7        ہدیۃ الملوک         اخلاق

 8       تاریخ جہانگیری      تاریخ

9        معالجات کلب       حیوانات

10      تشریح انفرس       حیوانات

11      گنجینۂ امثال           لغت

12      کارنامہ              تاریخ

13      نجم اللغات           لغت

14      مفتاح اللغات       لغت

15      افسراللغات         لغت

16      فرحت کدہ آفاق      لغت

17      قران السعیدین      لغت

18      مجمع البحرین           لغت

19      نغمہ عنادل           نظم

20      تاریخ ہند            تاریخ

21      طبقات اکبری       تاریخ

22      مجموعہ ضرب الامثال لغت

23      مجمع الالفاظ           لغت

24      فرہنگ فارسی جدید   لغت

25      گلدستہ مصوری      آرٹ

26      راماین              تاریخ

27      مہابھارت           تاریخ

28      کشکول              لغت

29      القاموس            لغت

30      الخط عثمانی           آرٹ

باقی تصانیف فارسی میں ہیں اس لیے ان کو نظرانداز کردیا گیا ہے ا س فہرست سے واضح ہوسکتاہے کہ راجہ راجیشور صاحب نے کس طرح مختلف فنون میں خامہ فرسائی فرمائی ہے۔ لیکن آپ کو زیادہ تر ’لغت‘ سے دلچسپی تھی اسی فن پر آپ کی تصانیف کازیادہ حصہ مشتمل ہے۔ آپ کی علمی یادگاروں اورقلمی کارناموں کے کئی ہزار صفحات ہیں جو شائع ہوچکے ہیں مگراس کے علاوہ راجہ صاحب نے بلحاظ حروف تہجی عربی، فارسی اور اردو کی ایک لغت تیار فرمائی تھی جس کی چھبیس جلدیں مکمل ہیں۔ مگرافسوس ہے کہ اس ضخیم کتاب کی اشاعت نہیں ہوئی ہے۔ مانک راؤ صاحب کی طرح آپ کانام بھی دنیائے اردو میں باقی رہے گا۔ آپ کااسلوب بیان بھی صاف سادہ اور عام فہم ہوتاہے۔ عبارت کا نمونہ حسب ذیل ہے۔

جس وقت جنگجوبہادروں کے اجسام ہتھیار پہننے کے لیے بے چین ہورہے تھے اس وقت جنگ کے باجوں کی آوازوں نے ان لوگوں کے دلوں میں شجاعت کی روح پھونک دی تھی جس سے سب کے دماغوں میں یہی دھن سمائی ہوئی تھی کہ کب جنگ شروع ہواور کب اپنے دل کی امنگ نکالیں۔ اس وقت ارجن نے اپنے دوست بھگوان سری کرشن سے جو ان کا رتھ چلا رہے تھے کہادوست ذرا رتھ کوایسے مقام پر لے چلو جہاں سے میں طرفین کے بہادران کارآزما کو اچھی طرح دیکھ سکوں۔ بھگوان سری کرشن نے ارجن کے منشا کے موافق رتھ کو دونوں افواج کے درمیان لے جا کر کھڑاکردیااور ہرایک بہادر مرنے اور مارنے کے لیے بخوشی تیار تھا۔ چاروں طرف دریائے شجاعت کی لہریں موجزن تھیں سب کے چہروں پر رونق جھلک رہی تھی۔ یعنی سب کے منھ سے یہی آواز نکل رہی تھی کہ بزن وبکش‘‘ (مہابھارت ص110)

راجہ تیج رائے: راجہ تیج رائے صاحب برہم چھتری قوم سے تعلق رکھتے تھے، آپ کے اجداد پائگاہ کے متوسل تھے رائے خوب چند آپ کے مورثِ اعلیٰ تھے جو نواب ابوالفتح خاں شمس الامراکی سرکارمیں ایک ذمے داری کی خدمت پراپنے انتقال تک ماموررہے۔ رائے خوب چند کے بعد ان کے فرزند سروپ چنداور ان کے بعدان کے نواسے راجہ تلجاپرشاد پائگاہ آسمان جاہی سے متعلق رہے۔

راجہ تیج رائے تلجا پرشاد کے فرزند تھے جو 1281ھ میں حیدرآباد میں تولدہوئے حسب رواج قدیم اردو فارسی اور انگریزی کی تعلیم پائی ، بچپن میں والد کاسایہ سرسے اٹھ گیا۔ اسی لیے اعلیٰ تعلیم نہیں پائی بلکہ ملازمت کے دائرہ میں منسلک ہوگئے۔ آسمان جاہ نے آپ کو آبائی خدمت پرمامور کردیا۔ اولاً مہتمم خزانہ اورسررشتہ دار فوج بنے پھر جب مجلس پائگاہ مرتب ہوئی توآپ کو رکن فوج کی خدمت دے دی گئی آسمان جاہ کے انتقال کے بعد پادشاہ بیگم صاحبہ اورنواب معین الدولہ کے زمانے میں اسی خدمت کو انجام دیتے رہے۔ جب راقم الحروف کے نانامولوی حسین عطاء اللہ صاحب (جومیر مجلس پائگاہ تھے) کا 1327ھ میں انتقال ہوا توراجہ تیج رائے صاحب ان کی جگہ میر مجلس پائگاہ بنائے گئے جس کی انھوں نے اپنے انتقال تک جو 1935میں ہواانجام دیتے رہے۔

راجہ تیج رائے کو اردو ادب سے دلچسپی تھی، اور کتابوں اوراخباروں کا دلچسپی سے مطالعہ کرتے تھے، اس دلچسپی کا نتیجہ تھا کہ آپ نے اپنے مربی اور محسن آقا نواب سرآسمان جاہ کی سوانح عمری لکھنے کا ارادہ کیا اور 1320ھ میں اس کی ترتیب شروع ہوئی اورنہایت محنت اورجانفشانی سے اس کا مواد مرتب کیا۔ اس سوانح عمری کو آپ نے ’صحیفہ آسمان جاہی‘ سے موسوم کیا ہے اس کے دوحصے ہیں ایک میں آسماںجاہ کی سوانح عمری ہے جس میں امرائے پائگاہ کے مختصر حالات اور آسماںجاہ کی وزارت کا تذکرہ اورمختلف سفروں وغیرہ کے حالات لکھے گئے ہیں اور دوسرے حصے میں آسمان جاہ کے سفر یورپ کے حالات کو جس کو نواب صاحب نے خود قلم بند کیا تھا درج کیا ہے۔

1321ھ میں یہ کتاب شائع ہوئی ۔ حیدرآباد کے اخبار نویسوں نے اس پر اچھی تنقیدیں کی ہیں، نواب محسن الملک اور وقار الملک جیسے اصحاب نے بھی اس کی ستائش کی ہے۔ چنانچہ نواب محسن الملک نے لکھا ہے کسی نے نواب سالار جنگ کی لائف نہ لکھی آپ نے حق خدمت خوب ادا کیا۔ نواب آسمان جاہ کی ایسی عمدہ لائف لکھ کراپنی لیاقت اور سعادت ثابت کی۔ صحیفہ آسمان جاہی کی عبارت کانمونہ پیش ہے۔

آسمان جاہ کی شادی کے ضمن میں لکھتے ہیں:

روز دوشنبہ کوصاحب عالیشان رزیڈنٹ صاحب بہادر کی دعوت مع ایک سودیگر صاحبان انگریزوافسران بلوارم وسکندرآباد کی بڑے تکلف سے جدیدحویلی میں کی گئی۔ لہٰذا سانچق ومہندی وشب گشت وبازگشت بھی یہاں کے رواج ودستور کے موافق اس دھوم دھام اورتکلف سے آئے اور گئے کہ جس کاحال قلم بند کرنا یا توناول نویسوں کاکام ہے یا نثاروں کا نہ مجھ میں اتنی لیاقت ہے نہ قابلیت اس کا فوٹو کھینچ سکوں اورنہ میرا ارادہ اس قسم کی رنگ آمیزی کا ہے۔ حتی الامکان اس امر کا لحاظ رکھا گیا ہے کہ سچے واقعات کو سلیس عام فہم عبارت میں ظاہر کیا جائے اور مبالغے سے کوسوں دور رہوں۔‘‘(ص34)

شمس الامر اکے حالات میں تذکرہ کرتے ہیں:

آپ کے محل میں اب تک بھی کیمیاوی تجربات کے آلات موجودہیں جو انگلستان اوریورپ کے دیگر ممالک سے بصرف زر کثیر منگوائے گئے تھے۔ ان آلات کو آپ نے نمائش کے طورپر نہیں منگوایا تھا بلکہ ہرایک آلہ کو خوداستعمال کرنے کی لیاقت اور قابلیت رکھتے تھے آپ کی تعمیر کردہ عمارت موسوم بہ جہاں نما اس زمانے میں واقعی اسم بامسمیٰ تھی دور دور سے شائقین اس کو دیکھنے کی غرض سے آتے تھے۔ اب تک اس مکان کی شہرت تھی ، اس زمانے میں حیدرآباد میں اس کی مثل کوئی ایسی عالیشان سجی ہوئی عمارت نہیںتھی۔‘‘

)صحیفہ آسماںجاہی، ص9(

پنڈت رتن ناتھ سرشار:اگرچہ سرشار حیدرآباد کے نہیں تھے بلکہ کشمیر کے باشندہ تھے لیکن ملازمت کے سلسلے میں 1897میں حیدرآباد آگئے اور یہاں ہی 1902میں ان کا انتقال ہوا۔ اس لحاظ سے حیدرآباد کے ادیبوں میں ان کا تذکرہ کرنا نامناسب نہیں ہے۔

پنڈت سرشار کی ادبی خدمات کی تفصیل ہمارے مختصرصفحات میں دشوار ہے۔ انھوں نے ’فسانہ آزاد‘ لکھ کر دنیائے اردومیں اپنا سکہ بٹھا دیا اور جب تک اردو زبان باقی ہے اس وقت تک سرشار کا نام بھی تاریخ اردو میں سنہرے حروف میں ثبت رہے گا۔

سرشار ایک نہایت خوشگوار شاعر بھی تھے اور مزاحیہ نگار نثار بھی ان کی حسب ذیل تصانیف بہت مشہورہیں۔

فسانہ آزاد ، سیر کوہسار، جام سرشار، کامنی، خدائی فوجدار، کڑم دھم بچھڑی دلہن، ہشو، طوفان بے تمیزی، رنگیلے سماں،پی کہاں شمس الضحیٰ وغیرہ

ان میں سے بعض حیدرآباد میں تصنیف ہوئی ہیں۔ سرشار کی کردار نگاری مشہور ہے اگرچہ وہ اصلیت کے ساتھ مبالغے سے کام لیتے ہیں۔

سرشار کی عبارت کا نمونہ حسب ذیل ہے:

ــ’’لوگوں نے سمجھایا کہ صاحب ابھی بندرگاہ تو آنے دیجیے ۔ بی شتاب جان اور کرم بحق اس سے کیونکر سن لیں گی۔ کہااجی ہٹو بھی تم کیا جانو کبھی کسی پردل آیا توسمجھو۔ ارے نادان عشق کے کان دوکوس تک کی خبرلاتے ہیں اور کون کو س کڑی منزل کے کوسن لیا شتاب جان نے آواز نہ سنی ہوگی، واہ بھلا کوئی بات ہے، مگر جواب کیوں نہ دیا۔ یہ پوچھو اس میں ایک لم ہے۔ پوچھووہ کیا وہ یہ کہ معشوق پن نہیں اگر اتنی کچی نہ ہو۔ اگرآواز کے ساتھ ہی آواز کا جواب دیں توبندے کی نظروں سے گرجائیں۔ مزاجب ہے کہ ہم بوکھلائے ہوئے ادھر ادھر ڈھونڈتے اور آو ازیں دیتے ہوں کہ بی شتاب جان صاحب ابی بی صاحب اوروہ بے خبری میں پیچھے سے ایک دھول جمائیں اورتنک کرکہیں مونڈی کاٹا آنکھوں کا اندھانام نین سکھ غل مچاتا پھرتاہے۔

درد:رگھوناتھ راؤ بھی اس دور کے شاعرہیں، زیادہ دوہرے نظم لکھا کرتے، افسانہ نگاری سے بھی دلچسپی تھی، رسالہ ’تاج‘ کے نائب مدیر کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔

درد کاوطن بیدرتھا جہاں وہ 11اکتوبر1891کو تولد ہوئے ان کے بچپن میں والد کا انتقال ہوگیا، حیدرآباد آکر ماموں کے زیر پرورش رہے اردو فارسی کی تعلیم پائی وکالت کابھی امتحان دیا۔ مطالعے کا ذوق تھا اردو کے مشاہیر مولانا نذیراحمد ، مولانامحمد حسین آزاد اور سرشار کی کتابوں کو شوق سے دیکھا کرتے، اس سلسلے میں رسالہ تاج اور ادیب الاطفال کے ایڈیٹروں کے اصرار پر مضمون نویسی شروع کردی ساتھ ساتھ افسانہ نگاری کرتے رہے بیدرگزٹ کی ایڈیٹری بھی کچھ عرصے تک کرتے رہے۔

ثمرۂ محنت، یتیم کی عید، بیوہ کی عید، صدائے بیکس، پیکروفا، تازیانہ عبرت، ظہور قدرت، سچا محسن، نیرنگی وغیرہ ان کے مشہور افسانے ہیں۔

افسوس ہے کہ ان کا کوئی مجموعہ شائع نہیں ہوا اور اس سے زیادہ افسوسناک یہ امر ہے کہ بجز دوتین افسانوں کے باقی افسانے ہمدست بھی نہیں ہوتے۔

درد کے افسانے طبع زاد ہیں ان کے افسانوں میں رنج والم زیادہ ہے۔

ہیراسنگھ نے جوئے اور شراب خواری کی لت سے چوری کرنے کا پیشہ اختیار کیا اس کا ساتھی امرسنگھ اچکا تھا ، ہیرا سنگھ گوطبعاً نیک تھا مگر امرسنگھ کی صحبت کا اثریہ ہوا کہ یہ بھی پکا جواری اور چوربن گیا پھر شراب کی عادت پڑگئی، گھر سے چار چار روز غائب رہنے لگا گھر میں بیوی اور ایک شیر خوار بچہ دوتھے۔ اگردل میں آیا روپیہ دو روپیہ گھر میں دے دیا ورنہ چلتا پھر تانظر آیا بیوی (درو پدی) کرتی توکیا کرتی اگرکچھ چوں چرا کرتی تولاٹھی یا جوتی سے مدارات کی جاتی۔

فاقے پر فاقے گزرتے تھے لیکن صبروشکر کے ساتھ زندگی کے دن کاٹ رہی تھی، محنت مزدوری اس وقت ممکن ہے جب کہ پیٹ میں کچھ ہو ، جہاں تین تین دن کے فاقے گزرتے ہوں وہاں کیا ہوسکتاہے۔

چھوٹا دیال بیمار ہوگیا ماں کے کلیجہ پر سانپ لوٹنے لگا کوئی پرسان حال نہیں اس کے لیے دنیا تاریک تھی، بیمار کے لیے حکیم اور دوا کی ضرورت تھی لیکن ان کے بھینٹ چڑھانے کے لیے یہاں کچھ بھی نہ تھا۔‘‘

رائے بیجناتھ:بیجناتھ صاحب شمالی ہند کے باشندہ تھے مگر سرکاری ملازمت کے سلسلے میں حیدرآباد آکر بس گئے اور مرنے تک حیدرآباد میں رہے، آپ کا تعلق سررشتہ قانون سازی سے رہا اس کے علاوہ آپ لاکلا س (قانونی جماعت) کو سالہاسال تعلیم دیتے رہے، اس طرح آپ کے شاگردوں کی تعداد حیدرآباد کے تمام اضلاع میں پھیلی ہوئی ہے۔ جامعہ عثمانیہ کے لیے آپ نے کئی کتابوں کاترجمہ کیا اس کے علاوہ اکثر قانونی کتابیں تالیف کی، جامعہ عثمانیہ کے قانونی کالج میں لکچردیتے رہے کئی کتابوں کے مؤلف ہیں آپ کی نثر کا نمونہ پیش ہے۔

دھرم شاستر کے مضمون کی اہمیت اور قانون پیشہ حضرات کے لیے اس کی ضرورت محتاج بیان نہیں ہے۔ اس مضمون پر اصل کتابیں توسنسکرت زبان میں ہیں لیکن بہت کم قانون پیشہ حضرات ایسے ہیں جو اصلی کتابوں کا مطالعہ فرماسکتے ہیں، یا جن کو اس قدر فرصت ہے کہ ان سے ضرورت کے وقت کسی نزاعی مسئلہ کے متعلق صحیح اصول اخذکرسکیں۔ اس میں شبہ نہیں ہے کہ انگریزی زبان میں بالخصوص ٹیگور لکچروں کے ذریعہ بہت کافی سامان مہیاہوگیا ہے لیکن اردوزبان میں اب تک کوئی ایسی کتاب میرے دیکھنے میں نہیں آئی جس سے طلبا اور نیز قانون پیشہ حضرات کی علمی ضرورتیں پوری ہوسکیں۔ (دھرم شاستر مطبوعہ 1916)

 

ماخذ: دکنی  ہندو اور اردو، مصنف: نصیرالدین ہاشمی،  تیسری اشاعت: 2023، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

 

 

گپت عہد میں تہذیب و تمدن اور نئی طاقتوں کا عروج، ماخذ: قدیم ہندوستان کی تاریخ، مصنف: رما شنکر ترپاٹھی، مترجم: سید سخی حسن نقوی

 اردو دنیا، اکتوبر 2024

عظیم الشان عہد: گپت شہنشاہوں کے دور حکومت کو اکثر ہندو تاریخ کے عہد زریں سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس میں کئی بڑے قابل، ذہین اور طاقتور حکمرانوں کا دور حکومت شامل ہے جنھوں نے شمالی ہند کے ایک بڑے حصے کو ایک سیاسی چھتری کے نیچے لاکر متحد و مستحکم کردیا اور باقاعدہ حکومت  اور ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ ان کی حکومت میں اندرونی تجارت کو بھی فروغ ہوا اور غیرملکی تجارت کو بھی اور ملک میں دولت کی فراوانی ہوگئی۔ اس اندرونی سکون و اطمینان اور خوشحالی و فارغ البالی کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ مذہب، ادب اور علم و فن کی ترقی کے لیے نئی شاہراہیں کھل گئیں۔

مذہب، برہمن مذہب: اس عہد میں برہمن مذہب کا زور کافی بڑھ گیا۔ اس کی وجہ ایک بڑی حد تک تو یہ ہوئی کہ گپت راجاؤں نے جو برہمن مذہب کے پیرو تھے اور وشنو سے عقیدت رکھتے تھے، برہمن مذہب کی سرپرستی کی لیکن خود برہمن مذہب میں جو حیرت انگیز لچک اور اثرپذیری کی داخلی صلاحیت موجود تھی اسے بھی اس کی کامیابی میں بڑا دخل تھا۔ برہمن مذہب نے ان تمام عقائد، رسوم اور قدیم دیسی توہمات پر جنھیں عام مقبولیت حاصل تھی اپنی چھاپ لگا کر عوام کو اپنی طرف جیت لیا۔ اس کے علاوہ غیرملکی حملہ آوروں کو جو ذات  پات سے بے نیازتھے۔ اس نے اپنے وسیع دامن میں پناہ دی جس سے اس کی قوت میں اضافہ ہوگیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پیش بندی کے طور پر اپنے مدمقابل یعنی بدھ مذہب کی بعض لطیف تعلیمات کو اپنے اندر سمو کر اور بدھا کو اپنے دس اوتاروں میں شامل کرکے اس نے بدھ مذہب کے منصوبوں کو مکمل شکست دے دی۔ چنانچہ جب یہ تمام نئی باتیں اس میں داخل ہوگئیں تو برہمن مذہب نے وہ صورت اختیار کرلی جسے آج ہندو دھرم کہتے ہیں۔ مختلف و متنوع دیوتاؤں کی پرستش اب اس کا شعار ہوگیا۔ جن میں وشنو،جسے چکر بھرت بھی کہا جاتا ہے، گدادھر، جناردَن، نارائن، واسودیو، گووند خاص طور پر نمایاں تھے۔ دوسرے دیوتا جنھیں عام مقبولیت حاصل تھی وہ شیو، شمبھو، کارتکیہ اور سوریہ تھے۔ دیویوں میں لکشمی درگا یا بھگوتی اور پاروتی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ برہمن مذہب قربانیوں پر زور دیتا تھا۔ کتبوں میں ان قربانیوں کی طرف جابجا اشارے ملتے ہیں۔ مثلاً آشومیدھ، واج، پئیہ، اگنیش ٹوم، آپ متریام، اتی راتر، پنچ مہایگیہ وغیرہ وغیرہ۔

بدھ مذہب

فاہیان جوہر چیز کو بدھ مذہب کی عینک سے دیکھتا تھا اپنی سیاحت کے دوران کوئی علامت تنزل کی نہ دیکھ سکا، لیکن اس میں کوئی کلام نہیں کہ گپت دورِ حکومت میں بدھ مذہب مدھیہ پردیش میں رو بہ زوال ہوچکا تھا۔ گپت حکمرانوں نے کسی قسم کے جبر و تشدد سے نہیں لیا۔ وہ ویشنومت کے سچے پیرو کار تھے لیکن انھوں نے اپنی میزان عدل کو متضاد عقائد کے مابین ہمیشہ متوازن رکھا۔ رعایا کو مکمل طور پر آزادی ضمیر حاصل تھی۔ چندر گپت کے بدھ سپہ سالار آترکارود کی مثال تو خیر منفرد ہے لیکن اس طرح مملکت کے تمام اعلیٰ عہدوں کے دروازے بلا امتیاز مذہب و ملت ہر شخص کے لیے کھلے ہوئے تھے۔ موضوع سے ذرا ہٹ کر، بدھ مذہب کے زوال کے اسباب کی بحث میں الجھنے کی بجائے اس مقام پر صرف اتنا کہہ دینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بدھ مذہب کی فرقہ بندیوں اور بدھ سنگھ میں خرابیوں نے اس کی قوتِ حیات کو بالکل سلب کردیا تھا، اس کے علاوہ بدھا اور بودھی ستوؤں کی مورتی پوجا، بودھ دیوتاؤں کی مجموعی حیثیت سے پرستش کے رواج، مذہبی رسوم کی ادائیگی اور مذہبی جلوسوں نے بدھ مت کو اس کی دیرینہ لطافت و پاکیزگی سے اس قدر دور ہٹا دیا تھا کہ عام آدمی کے لیے اس میں اور ہندومت میں کوئی خاص فرق باقی نہیں رہا تھا۔ چنانچہ اس کے ہندومت میں ضم ہونے کے لیے زمین خوب ہموار ہوگئی۔ آج اس مشابہت و مماثلت کی بہترین مثال نیپال میں پائی جاتی ہے جہاں بقول ڈاکٹر ونسٹ اسمتھ ’’ہندو دھرم کا عفریت اپنے شکار یعنی بدھ مت کو آہستہ آہستہ ہڑپ کیے جارہا ہے۔‘‘

جین دھرم: کتبوں  سے جین مت کے وجود کا بھی پتہ چلتا ہے لیکن جین مت کچھ اس لیے کہ اس میں نظم و ضبط کی پابندیاں زیادہ تھیں اور کچھ اس لیے کہ شاہی سرپرستی اسے حاصل نہیں تھی، زیادہ نمایاں نہیں تھا۔ جین مت اور دوسرے مذہبوں میں اتفاق و اتحاد پایا جاتا تھا، کیونکہ ایک شخص نذر نامی جس نے پانچ مجسمے جین پتر تھنکروں کے نام منسوب کیے تھے۔ برہمنوں کے مذہبی پیشواؤں کی محبت کا بے پناہ جذبہ اپنے دل میں رکھتا تھا۔

مذہبی خیراتیں: نیک  اور مخیر لوگ دنیا اور عقبیٰ میں سکون و مسرت حاصل کرنے کی غرض سے بڑی فیاضی کے ساتھ برہمنوں کو رہائش کے لیے قیام گاہیں (ستر) دان کرتے اور سونے اور دیہی زمینوں (اگر ہار) کی نذریں گزارتے تھے۔ مورتیاں اور مندر تعمیر کرکے بھی لوگ اظہارِ عقیدت کرتے تھے۔ مندروں کے لیے وہ مستقل رقمیں جمع کردیتے تھے (اکشیہ نی وی) جن کے سود سے مندر میں تمام سال روشنی کا انتظام کیا جاتا تھا۔ جیسے پوجا کا ضروری جز سمجھا جاتا تھا اسی طرح بدھ اور جین مذہب والے علی الترتیب بدھا اور تیر تھنکروں کی مورتیاں خیرات کے طور پر نصب کراتے تھے۔ بدھ مذہب کے لوگ بھکشوؤں کے رہنے کے لیے خانقاہیں (وہار) تیرا کرتے تھے جہاں ان کے لیے کھانا اور کپڑا مفت فراہم کیا جاتا تھا۔

سنسکرت کا احیا: برہمن مت کی تجدید کے ساتھ ساتھ سنسکر ت کا استعمال اور اثر بھی بہت تیزی سے بڑھا۔ اس احیا کی بالکل ابتدائی منزل کی ایک سند جوناگڑھ میں رودر دامن کے طویل چٹانی کتبہ میں ملتی ہے جس پر 72 (شک سمیت؟) مطابق 150 پڑا ہوا ہے لیکن اب اسے مستقل طور پر سرکاری زبان کی حیثیت سے لوحی دستاویزات اور مسکوکاتی شعبوں میں وقیع مقام دیا جانے لگا۔ پہلے پانی ذریعۂ اظہار تھی لیکن اب بدھ مصنفین بھی مثلاً وسوبندھو اور دگ ناگ سنسکرت کو پالی پر ترجیح دینے لگے۔

ادبی ارتقا: گپت عہد کا مقابلہ عام طور پر تاریخ یونان میں پیرئی کلینر کے عہد سے اور تاریخ انگلستان میں ملکہ ایلزبیتھ کے عہد سے کیا جاتا ہے۔ گپت دورِ حکومت اس جہت سے ممتاز تھا کہ اس میں بہت سے نامور علما و فضلا موجود تھے جن کی تخلیقات نے ہندوستانی ادب کی مختلف اصناف کو مالامال کردیا۔ گپت حکمراں علم و فضل کی ہمت افزائی کرتے تھے اور خود بھی بہت تعلیم یافتہ تھے۔ ہم نے گذشتہ صفحات میں الہ آباد کے ستونی کتبہ کی سند پر سمدگپت کے شاعری اور موسیقی میں کمالات کی طرف اشارہ کیا۔ اس کے علاوہ وہ آفاقی روایت جس میں ’نوہیروں‘ (نورتن) کو قصوں کہانیوں والے وکرمادتیہ سے ربط دیا گیا ہے، ظاہر کرتی ہے کہ چندر گپت دوم وکرمادتی کے دربار کے اس عظیم الشان ادبی حلقے نے عوام کے دل و دماغ پر کتنا گہرا اثر مرتب کیا تھا۔ ان میں سب سے زیادہ ممتاز شخصیت بلا شبہ مشہور و معروف شاعر و تمثیل نگار، کالیداس کی تھی جو غالباً مالوہ کا ساکن تھا۔ بدقسمتی سے اس کی تاریخ اب تک مشتبہ ہے، یہاں تک کہ بعض عالم اس پر بضد ہیں کہ وہ 57 ق م کی شخصیت ہے لیکن کافی مضبوط قرائن ہمارے پاس اس رائے کے حق میں موجود ہیں کہ کالیداس کا تعلق گپت عہد سے تھا، نیز یہ وہ چندرگپت دوم یاکمار گپت اول کا معاصر تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ چندر گپت دوم کی فتوحات کا ایک حوالہ گھوونش میں رگھو کی ’دگ وجے‘ کی مبالغہ آمیز تفصیلات میں دستیاب ہوتا ہے۔ کالیداس کی ایک اور رزمیہ نظم کمار سمبھو ہے؛ رِتو سنگھار اور میگھ دوت اس کی غنائی شاعری کے بہترین نمونے ہیں۔ اس کے ناٹکوں میں ہم مال وکاکنی متروکرم اروشی اور شکنتلا کے بارے میں جانتے ہیں۔ آخرالذکر تو اس درجہ دلکش ہے کہ اس نے دنیا بھر کے عظیم ترین ادبی نقادوں سے خراج تحسین حاصل کیا ہے۔ گپت عہد میں اور بھی بہت سے پایہ کے شعرا موجود تھے لیکن کالیداس کی عظمت نے ان کے فن کو پھیکا کردیا، ہری شین اور ونس بھٹی، علی الترتیب سمدرگپت اور کمار گپت کے معاصر تھے۔ ان کی تخلیقات پتھر کی سلوں پر کندہ ہیں اور بدستور ہم تک پہنچ گئی ہیں۔ مدراراکشش کا مصنف، وشاکھ دت، فرہنگ نویس، امر سنگھ جس نے امرکوش مرتب کی، مشہور و معروف طبیب دھن ونتری اور عظیم بدھ عالم جن کا ذکر ہم نے گذشتہ سطور میں کیا، سب اسی عہد سے تعلق رکھتے تھے۔ مزید برآں، برہمنوں نے اپنے ادب کو اپنے بے شمار عقیدت مندوں کے جذبات سے ہم آہنگ کرنے اور ان پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کی غرض سے اس پر اسی زمانے میں نظرثانی کی۔ پرانوں کے جن میں گپت خاندان کا ذکر ہے، اسی عہد میں اصلاح و تصحیح کے بعد وہ شکل اختیار کی جو آج تک موجود ہے۔ اسی طرح منوسمرتی میں بھی ترمیم کی گئی جو تبدیلیاں رونما ہورہی تھیں انھیں مذہباً جائز قرار دینے کے لیے دوسری سمرتیاں مثلاً یاگیّہ ولکیہ سمرتی،بھاسیہ، یا سوتروں کی تفسیریں لکھی گئیں۔ ہیئت اور ریاضیات کے میدان میں بڑے جم کر کام ہوا اور آریہ بھٹ (ولادت 476)، ولا آہ مبر (505-587) اور برہم گپت (ولادت 598) نے سائنسی ادب کی مختلف اصناف میں حیرت انگیز اضافے کیے۔ معلوم ہوتا ہے وہ یونانی ہیئت سے بھی واقف تھے کیونکہ اپنی تصانیف میں انھوں نے بہت سی یونانی اصطلاحیں استعمال کی ہیں۔

تعلیم: اس عہد کی علمی اور ادبی سرگرمیوں کے نتائج کا جائزہ لینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ رائج الوقت نظامِ تعلیم بہت عمدہ اور باقاعدہ تھا۔ بدقسمتی سے اس موضوع پر ہماری معلومات بہرحال مایوس کن حد تک ناکافی ہے۔ کتبوں سے معلوم ہوتا کہ استادوں کو اس وقت آچاریہ اور اپادھیائے کہا جاتا تھا، لیکن برہمن عالموں کے لیے بھٹ کا لقب بھی استعمال ہوتا تھا۔ برہمنوں کی امداد کے لیے جاگیر میں گاؤں دیے جاتے تھے اور مخیر لوگ اپنے عطیات سے بھی انھیں نوازتے تھے۔ برہمنوں کے تمام چیلے جو ششیہ یا برہم چارن کہلاتے تھے۔ شاکھاؤں اور چرنوں یعنی ان ویدی مدرسوں میںجمع ہوجاتے تھے جو کسی مخصوص وید کے اصلاح شدہ نسخے کی تعلیم دیتے تھے۔ ان اصلاح شدہ نسخوں میں سے کتبوں میں میشرائے فیئے، تیتری لیے اور واجس نِئے اور بعض دوسرے نسخوں کا ذکر آتا ہے۔ رہا مضامین کا سوال تو ان کے بارے میں ہماری معلومات یہ ہے کہ اس وقت چودہ علوم (چتردش ودیا) کی تعلیم دی جاتی تھی۔ یعنی چاروں وید، چھ ویدانگ، پران می مان سا، نیائے اور دھرم یا قانون۔ کبتوں میں شالاتری یہ (پانیتی)  کی دیاکرن (اشٹ آدھیائی) اور شت ساہیئری سن ہِتا یعنی مہابھارت کا بھی ذکر آتا ہے۔ ان مضامین کے علاوہ یقین ہے کہ غیرمذہبی اور دنیاوی ادب کا جو ذخیرہ موجود تھاا س کی ضرور تعلیم دی جاتی تھی۔

زمانے کے روادارانہ مزاج کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ بودھ علوم کے  عظیم مرکز نالندہ کی بنیاد شکرادتیہ، غالباً کمار گپت اول نے رکھی، جس نے تقریباً پانچویں صدی عیسوی کے وسط میں ایک خانقاہ وقف کی۔ اس کے بعد بدھ گپت تتھا گت گپت، بالادتیہ اور دوسرے گپت حکمرانوں نے مزید عطیات سے اسے نوازا۔ نالندہ میں نصاب تعلیم بہت جامع تھاا ور کچھ بعد تو اس کا مقام اتنا بلند ہوگیا کہ نہ صرف ہندوستان کے گوشے گوشے سے بلکہ بیرونی ممالک سے سیکڑوں تشنگان علم اپنی علمی و روحانی پیاس بجھانے یہاں آتے تھے۔

گپت عہد کے سکے: سمدرگپت (یا چندر گپت اول؟ )  کے سب سے پرانے سونے کے سکے 118 سے 122 گرین تک وزن رکھتے ہیں، شکل و صورت اور وزن میں کشن راجاؤں کے سکوں سے بہت مشابہ ہیں، سکوں پر غیرملکی اثر اس سے ثابت ہے کہ گپت عہد کے کتبوں میں کشن نام ’دینار‘ استعمال ہوا ہے جو لاطینی ڈنیریس سے مشتق ہے۔ بہرحال چندرگپت دوم نے جس کے سکوں کا وزن 124 سے 132 گرین تک تھا کشن (رومی)  سکوں والے وزن میں تبدیلی کردی؛ اور بعد ازاں اسکندگپت نے اس وزن کو بالکل ترک کردیا اور ہندو سورون کا معیاری وزن (146 گرین) اختیار کرلیا۔ کشترپ علاقوں کی فتح کے بعد گپت راجاؤں نے شک معیار کے مطابق چاندی کے 32 گرین والے سکے بھی جاری کیے، بعد میں اسکندگپت نے ان کا وزن بڑھا کر کارشاپان کی برابر کردیا، اس مقام پریہ کہہ دینا بھی مناسب ہے کہ گپت راجاؤں کے تانبے کے سکے بہت کم یاب ہیں اس کی وجہ غالباً یہ ہے جیسا کہ فاہیان نے بھی لکھا ہے کہ چھوٹے موٹے لین دین میں کوڑی بطور سکہ کے استعمال ہوتی تھی۔

فن تعمیر: گپت راجاؤںکے عہد حکومت میں فن تعمیر کو بہت فروغ ہوا، لیکن کئی سبب ایسے جمع ہوگئے جن کے باعث اس دور کے آثارِ باقیہ زیادہ تعدادمیں موجود نہیں ہیں۔ گپت عہد کی بہت سی عمارتیں دست بردزمانہ کی نذر ہوگئیں۔ بعض کا ملبہ لوگوں کی تعمیری ضروریات میںکام آگیا۔ باقی جو مسلم افواج کے راستے میںا ٓگئیں، وہ ان کے مذہبی جنون کا شکار ہوگئیں، اس لیے ہماری افواج کا دار ومدار اس عہد کے چند باقیات الصالحات ہیں اور وہ بھی سب مذہبی عمارتیں ہیں، غیرمذہبی ان میں کوئی نہیں ہے۔ ڈاکٹر ونسنٹ اسمتھ نے ایسے دو مندروں کا ذکر کیا ہے۔ ان میں سے ایک جو دیوگڑھ (ضلع جھانسی) میں ہے اس کی دیواروں کی منبت کاری میں نقاشی کے خوبصورت نمونے موجود ہیں، دوسرا بھترگاؤں (ضلع کانپور) میں ہے جو اینٹ اور مسالے سے بنی ہوئی مورتیوں کے لیے مشہور ہے۔ اس مقام پر اجنتا کے غاروں کا تذکرہ بھی ضروری  ہے جو گپت عہد کے فنی کارناموں کی بہترین مثال ہیں۔ ان میں سے اکثر مختلف زمانوں میں ٹھوس پتھر سے تراشے گئے ہیں، لیکن بعض ایسے ہیں جو غالباً زیرنظر عہد میں زمین کھود کر بنائے گئے تھے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ گپت عہد کے انجینئروں کی فنی صلاحیتوں کی زبان حال سے شہادت دے رہے ہیں۔

مجسمہ سازی: سارناتھ اور دوسرے مقامات پر جو دریافتیں ہوئی ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ گپت عہدمیں مجسمہ سازی کا فن معراج کمال کو پہنچ گیا تھا۔ اس عہد میں گندھارا فن کے اثرات رفتہ رفتہ زائل ہونے لگے اور اب جو مجسمے بدھا کے بنائے گئے ان کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ نورانی بالوں سے مزین ہیں، بدھا کو چست لباس پہنایا گیا ہے جس میں جلد بدن جھلکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور بالوں کو خاص انداز سے ترتیب دیا گیا ہے۔ سارناتھ میں جوبے شمار مجسمے گپت دور کے ملے ہیں ان میں سب سے زیادہ دیدہ زیب اور خوبصورت شاید وہ ہے جس میں بدھا کو وعظ دینے کے انداز میں بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ (دھرم چکرمدرا) اپنے آقا کی زندگی کے مختلف مناظر کے علاوہ ہندو دیومالا کے جو واقعات پیش کیے گئے ہیں ان میں غیرمعمولی پاکیزگی پائی جاتی ہے۔ مجموعی طور پر گپت عہد کے فنکاروں کی امتیازی شان یہ ہے کہ ان کا عمل حرکت و زندگی سے مملو، آورد کے عیب سے پاک، اور تکنیک کے اعتبار سے مکمل ہے۔

مصوری: اجنتا  (ریاست حیدرآباد) کے غار جن کے اندرونی حصے کو بہ افراط دیواری تصویروں سے آراستہ کیا گیا ہے، ظاہر کرتے ہیں کہ مصوری کے میدان میں بھی فنکاروں نے مہارت کا اعلیٰ معیار حاصل کرلیا تھا۔ ان غاروں کی تاریخ پہلی صدی عیسوی سے ساتویں صدی عیسوی تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس طرح بعض غار یقینا اس عہد سے بھی متعلق ہیں۔ ایک صاحب ذوق مبصر کی رائے میں ’’اجنتا کی مصوری کمال فن کا بہترین نمونہ ہے، اس میں روایت پسندی ہے مگر وضع داری کے ساتھ۔ اس کے نقش و نگار میں تنو ع ہے جن سے شستگی جھلکتی ہے؟ اور رنگ روپ اور شکل و صورت میں حسن و دلکشی اس قدر نمایاں ہے کہ اسے قدیم دنیا کے بہترین فن کے زمرے میں شامل کیے بغیر چارہ نہیں ہے۔‘‘ اجنتا کے مدرسۂ فن کا حلقہ ٔا ثر آگے بڑھ کر ریاست گوالیار میں باغ کے غاروں تک پہنچ گیا۔  باغ کے غاروں کی تصویریں بھی اعلیٰ معیار رکھتی ہیں اور بے پناہ تنوع کی مظہر ہیں۔

دھات کا کام: گپت  عہد کے کاریگر دھات کے کام میں بھی ماہر تھے۔ یہ بات بدھا کے تانبے سے بنے ہوئے کئی دیوپیکر مجسموں، نیز دلی کے قریب مہرولی کے آہنی ستون کی دریافت سے ثابت ہوتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گپت عہد کے کاریگر خام دھاتوں کو صاف کرنے کے فن میں مہارت تامہ رکھتے تھے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ صدیوں تک دھوپ اور بارش کی زد میں رہنے کے باوجود ستون ابھی تک زنگ آلود نہیں ہوا ہے۔

حرکت و عمل کے اسباب: اب ہم گپت عہد کے تہذیب و تمدن پر تبصرہ ختم کررہے ہیں اس لیے لازمی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ علمی اور فنی سرگرمیوں کا جو طوفان اٹھا تو اس کے آخر اسباب کیا تھے۔ ڈاکٹر ونسنٹ اسمتھ کی رائے ہے کہ ’’غیرملکی تہذیبوں سے ربط و تعلق اس کا خاص سبب تھا‘‘ اس حقیقت کو بلاشبہ بڑی آسانی سے تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ ہندوستان اور چین کے درمیان اور ہندوستان اور مغربی دنیا کے درمیان آمد و رفت کا سلسلہ مستقل جاری رہا کیونکہ فاہیان جیسے عقیدت مند زائرین سرزمین بدھا کی زیارت کے لیے پے در پے آتے رہے اور اسی طرح ہندوستان نے بھی کمارجیو جیسے ممتاز دانشوروں کو بدھ مذہب کی تبلیغ کے لیے اس آسمانی بادشاہت میں بھیجا (383ء) مزید برآں گپت سلطنت کے حدود بڑھ کر جب سوراشٹر اور گجرات کے بندرگاہوں تک پہنچ گئے تو مغرب کے ساتھ ہندوستان کی غیرملکی تجارت کو فروغ ہوا۔ کہتے ہیں کہ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ خیالات کے بہاؤ کا ایک سلسلہ شروع ہوا جس کا ردعمل ہندوستانی دماغ پر بہت اہم ہوا، لیکن ان تمام تر قیوں کے لیے سب سے بڑا محرک وسیع النظر اور کشادہ دل گپت راجاؤں کی حکومت تھی جس میں خوشحالی اور فارغ البال کا دور دورہ رہا۔ گپت راجاؤں نے جس والہانہ انداز میں علم و فن کی سرپرستی کی ایک بڑی حد تک اسی کی بدولت اتنے شاندار و کارآمد نتائج برآمد ہوئے۔

 

ماخذ: قدیم ہندوستان کی تاریخ، مصنف: رما شنکر ترپاٹھی، مترجم: سید سخی حسن نقوی، چوتھی طباعت: 2019، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی


18/11/24

تاریخ تمدن ہند، مصنف: محمد مجیب

 اردو دنیا۔ اکتوبر 2024

فن تعمیر

آٹھویںصدی تک مندر کے نقشے اور اس کے لازمی اجزا کا تعین ہوگیا تھا۔ اس کے بعد تعمیری سرگرمی کا ایک دور شروع ہوا جس میں بیسیوں مندر، جو فن کے بہت اچھے نمونے کہے جاسکتے ہیں بنائے گئے۔ مندر کے نقشے کا مرکز و من، وہ حصہ تھا جس میں بت رکھا جاتا اور وہ خاص کمرہ جس میں بت ہوتا گربھ گریہہ کہلاتا تھا۔ گربھ گریہہ کا دروازہ مشرق کی طرف ایک ہال میں کھلتا تھا جسے منڈپ کہتے تھے۔ پہلے ومن اور منڈپ الگ الگ رکھے جاتے تھے، پھر انھیں ایک پیش دالان (انترالا) کے ذریعے ملا دینے کا رواج ہوگیا۔ منڈپ کے داخلے کے دروازے کی طرف ایک برساتی بنائی جاتی  (اور وہ منڈپ) اور دائیں بائیں بغلوں میں کمرے ( مہا منڈپ) بنا کر منڈپ کو اور وسیع کردیا جاتا تھا۔ مندر کا ایک عام نقشہ بن جانے کا ایک سبب معماروں کی برادریاں تھیں، دوسرا سبب فن تعمیر کے اصول، جو ’وستو شاستروں‘ میں مرتب کرلیے گئے تھے۔ معماروں کی جماعتیں ملک کے ایک حصے سے دوسرے میں بلائی جاتی ہوں گی۔ اڑیسہ اور کھجوراہو کے مندروں کو تاریخی سلسلے سے دیکھا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ ان کے بنانے والوں نے تجربے سے کس طرح سبق لیا اور ہرنیا کام پچھلے کام سے بہتر کیا۔ اس مشق کی پشت پر تعمیر کے اصول تھے جن کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں مندر کا خوش نما ہونا ایک ضمنی بات ٹھہرائی گئی اور اس کے نقشے کا دینی اور فلسفیانہ پہلو زیادہ سے زیادہ نمایاں کیا گیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ برہمن علما فن تعمیر کو بھی اپنے قابو میں رکھنا چاہتے تھے۔ معمار وستوشاستر کو حفظ کرلیتے، کام کرتے وقت اس کی ہدایتوں کو دہراتے رہتے اور اس طرح ان کی ایک اصطلاحی زبان بن گئی جو پورے ہندوستان میں سمجھی جاتی تھی لیکن کسی فن یا صنعت کا مقررہ اصولوں کا اس صورت سے پابند ہوجانا جو برہمنوں کے پیش نظر تھی ہرگز مفید نہیں، کیونکہ ایسی پابندی انفرادی اپج کو بالکل زائل کردیتی ہے۔ ہندوستان کے معماروں نے ’’اپنے فن میں شاستروں کی مدد سے نہیں بلکہ ان کے باوجود جان ڈال دی۔‘‘

باہر سے دیکھا جائے تو مندر کی عمارت بہت پیچیدہ معلوم ہوتی ہے۔ اصل میں ہندوستانی معماروں نے عمارت کو ایک نامیہ سمجھا جو ہم شکل خلیوں سے مرکب ہو۔ کبھی پورا مندر اور اکثر ومن اپنی ہی شکل کے چھوٹے نمونوں کا مجموعہ ہوتا ہے اور اس طرح روکار اور آرائش اچھی نہ ہو تب بھی ناموزوں نہیں ہوسکتی۔ بعض آرائشی خیال بدھ متی عمارتوں سے لیے گئے، جیسے کہ چیتیا محراب۔ مندر کا گنبد استوپ کے گنبد کی بدلی ہوئی شکل ہے۔ معماروں کے پیش نظر خطوط کا حسن نہیں بلکہ جسامت تھی، وہ روشنی اور سایے کی کیفیتیں بڑی خوبی سے پیدا کرتے تھے  اور چٹانوں کو کاٹ کر غار بنانے کی روایتوں اور مشق کا نئے دور میں اثر یہ ہوا کہ معمار پتھر کی عمارتیں بناتے وقت بھی یہ سمجھتے رہے کہ وہ ایک بڑی بھاری چٹان کو تراش رہے ہیں، چنانچہ بعض مندروں کے اندر صرف وہ دھندلکا سا نہیں ہے جو عبادت کرنے والے کے دل کو متاثر کرتا ہے بلکہ انتہائی تاریکی ہے۔ ان چند باتوں کا خیال رکھا جائے تو مندر کی عمارت میں کوئی بھید نہیں رہتا۔ تعمیر کے قاعدے بہت سادہ تھے۔ معمار عمارت کے وزن کو تقسیم کرنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ انھوں نے اس کا کوئی حل نہیں سوچا کہ بالائی حصے کے وزن سے جو ’پھینک‘ یا افقی دباؤپیدا ہوتا ہے اسے کس طرح تعدیل کیا جائے۔ وہ سمجھتے تھے کہ پتھر کافی وزنی ہوا تو وہ اپنی جگہ پر رہے گا اور اگر چنائی میں پتھر ایک دوسرے سے پھنسا دے گئے تو پوری عمارت قائم رہے گی۔ وہ بس اس کا اہتمام کرتے تھے کہ سارا دباؤ اوپر سے نیچے کی طرف ہو اور ’پھینک‘ پیدا ہی نہ ہونے پائے لیکن ان کی تدبیرا یسی عاجز بھی نہ تھی جیسا کہ ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے۔ اڑیسہ کے مندروں میں پتھر کے ان شہتیروں کو جن سے لنٹلوں کا کام لیا گیا ہے اور مضبوط کرنے اور چھت کو قائم رکھنے کے لیے پہلے لوہے کے گارڈوں کا ایک ڈھانچہ سا بنایا گیا تھا۔ ان گارڈوں میں سے بعض 35 فٹ لمبے اور 7 انچ موٹے ہیں۔ مندروں کے ساتھ جو تالاب بنتے تھے ان کی تعریف حکیم البیرونی نے اس طرح کی کہ ’’انھوں نے اس فن میں بڑا کمال پیدا کرلیا ہے اور ہمارے آدمی (یعنی مسلمان) جب انھیں دیکھتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں۔ اس طرح کی کوئی چیز خود بنانا تو درکنار، وہ یہ بھی نہیں سمجھا سکتے کہ یہ تالاب کس طرح سے بنائے گئے ہیں۔‘‘

بنیادی طور پر مندر کا نقشہ پورے ہندوستان میں ایک سا تھا، طرز کے اعتبار سے مندر دو قسموں میں تقسیم کیے جاتے ہیں، ایک شمالی یا ہندی آریائی دوسرا جنوبی یا دراوڑی۔ دراوڑی طرز کے نمونے صرف جنوبی ہندوستان میں، اور ہندی آریائی طرز کے شمالی ہند اور دکن میں بھی ملتے ہیں۔ یہ مقام کے لحاظ سے سات حصوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں، اڑیسہ، کھجوراہو، راجپوتانہ اور وسطی ہند، گجرات اور کاٹھیاواڑ، برندابن اور دکن۔ دکن کی تعمیرات پر اگلے باب میں تبصرہ کیا جائے گا، گوالیار اور برندابن کا کام بعد کاہے ا ور زیادہ نمایاں حیثیت نہیں رکھتا۔ باقی چار قسموں پر ایک سرسری نظر ڈال لینا چاہیے۔

اڑیسہ میں مندروں کی تعمیر کا سلسلہ آٹھویں صدی کے وسط سے شروع ہوا اور تیرہویں صدی کے وسط تک جاری رہا۔ بیشتر مندر بھونیشور میں بنے، ایک، جو جگن ناتھ کہلاتا ہے، پوری میں اور ایک سوریا (سورج) کا مندر کو نارک میں ہے، جو پوری کے پچیس میل شمال مشرق میں ہے۔ بھونیشور کے مندروں میں مقام اور عمارت کے لحاظ سے سب سے ممتاز لنگ راجا ہے، جو ایک ہزار عیسوی کے قریب بنا ہوگا، یہ اونچی جگہ پر ہے، اور اس کے گرد اور بہت سے چھوٹے مندر اسی طرح بنے ہیں جیسے کہ بدھ متی ستوپوں کے گرد خانقاہوں اور چھوٹے ستوپوں کی بستی بس جاتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے جس جگہ یہ تعمیر کیا گیا وہاں پہلے بدھ متیوں یا  جینیوں کی عبادت گاہیں تھیں۔ غالباً پوری کا مشہور مندر جگن ناتھ بھی پہلے بدھ متی ستوپ تھا۔ کوہن کی رائے میں وہاں کا چوبی بت، جس کا بہت شاندار جلوس نکلتا ہے، کسی بدھ متی بت کو کاٹ چھانٹ کر بنایا گیا ہوگا۔ مندروں کا بہترین نمونہ کونارک کا سورج مندر ہوتا اگر اس کی تکمیل کی جاسکتی۔ اب صرف اس کا منڈپ (جو اڑیسہ کی اصطلاح میں جگ موہن کہلاتا ہے) اور ومن کی کرسی موجود ہے۔ اس کے علاوہ ہاتھیوں اور گھوڑوں کے مجسمے ہیں جو مندر کے صحن میں ایک خاص ترتیب سے رکھے گئے ہیں۔ مورتوں کو دیکھ کر یہ خیال ہوتا ہے کہ غالباً مندر ایسے فرقے کے لوگوں نے بنوایا تھا جن کا مذہب شہوانیت میں ڈوبا ہوا تھا۔ اسی وجہ سے وہ آبادی سے دور بنایا گیا۔ اب اس کے گرد ایک ویرانہ ہے جسے سال میں ایک دن زائر  اِھر اُدھر سے آکر آباد کردیتے ہیں۔

کھجوراہو کے مندروں کی تعمیر کا زمانہ 950 عیسوی سے 1050 تک تھا، جب اس علاقے میں چنڈیل راجاؤں کی حکومت تھی۔ ان کو تعمیر کا بڑا شوق تھا اور مندروں کے علاوہ اس زمانے کے بنے ہوئے تالاب وغیرہ بھی ان کے شوق کی یادگار ہیں۔ کھجوراہو کے مندروں میں کوئی بہت بڑا نہیں ہے۔ ان کی خصوصیت ڈیزائن کی خوبی اور کام کی نفاست ہے۔ ہر عمارت کی کرسی اونچی ہے اور نقشہ ایسا کہ معلوم ہوتا ہے کہ عمارت فضا کی بلندیوں میںا ٹھتی چلی جارہی ہے۔ شکھرا (گنبد) اپنی شکل کے چھوٹے شکھروں سے مرتب کیا گیا ہے، اس طرح کہ پہاڑوں کی چوٹیوں کی شباہت پیدا ہوجاتی ہے۔ اڑیسہ کے مندروں میں عمارت کے اندر روشنی پہنچانے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا بس کہیں کہیں چوکور کھڑکیاں ہیں جن میں جالی کے بجائے مجسمے ہیں، اور ان میں سے بہت کم روشنی گزر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کھجوراہو کے بیشتر مندروں میں ایسے در رکھے گئے ہیں جن سے کافی روشنی عمارت کے اندر جاسکتی ہے اور کھلی سطح عمارت کے نقشے میں بڑا تنوع پیدا کردیتی ہے۔ اڑیسہ کے مندروں میں باہر بھرپور آرائش ہے، اندر انتہائی سادگی، کھجوراہو میں عمارت کے اندرونی حصوں کو بھی نیم مجسموں اور گہری منبت کاری سے آراستہ کیا گیا ہے اور اس کی وجہ سے وہ ستون اور لنٹل جن پر چھت کا بوجھ ڈالا گیا ہے عمارت کے حسن کو دوبالا کردیتے ہیں۔ مندروں میں سب سے خوبصورت کانڈریا مہادیو اور ایک جینی عبادت گاہ ہے جو گھنٹی مندر کہلاتی ہے۔ کونارک کی طرح کھجوراہو کے مندروں کو جن میں شیومتی، وشنو متی، جینی سبھی ہیں، ایسے لوگوں نے بنوایا ہوگا جن کی عبادت کا مرکز شہوانی رسمیں تھیں۔ اسی وجہ سے ان میں بھی اب نہ بت ہیں نہ پجاری اور ان کو آبادی اور انسان کی ہوا تک نہیں لگتی۔

وسطی مغربی ہند، راجپوتانہ اور گجرات میں سیاسی انقلابوں کی وجہ سے بہت کم مندر سلامت رہ سکے ہیں، لیکن ساگر، اران، جیراسپور، اوسیہ (جودھپور کے 33 میل شمال مغرب میں) اور دو ایک جگہ منتشر طور پر ایسے نمونے ملتے ہیں جن سے یہاں کے فن اور خاص محاوروں کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اودے پور، ریاست گوالیار، میں گیارہویں صدی کا بنا ہوا۔ اودیشور مندر چھوٹا مگر نہایت خوبصورت ہے۔

شمالی گجرات اور کاٹھیاواڑ کے مندر بیشتر گیارہویں بارہویں اور تیرہویں صدی کے ہیں، جب یہاں سولنکی خاندان کی حکومت تھی۔ مندروں کے علاوہ چند دروازے اور مینار، تالاب اور باؤلیاں تعمیر کرائی گئیں۔ ان تعمیرات میں جو کچھ خرچ ہوتا اس کا ایک حصہ حکومت دیتی تھی، باقی رعایا سے اس کی رضامندی کے ساتھ محاصل  اور چندوں  کے ذریعے وصول کیا جاتا۔ اس طرح تعمیر کے منصوبے جماعتی اور اعلیٰ تہذیبی حیثیت رکھتے تھے۔ گجرات کی آبادی اس زمانے میں بہت مالدار تھی، عمارتوں میں بہت اچھا پتھر لگایا اور ان کی تہذیب کا کام دل کھول کر کرایا جاسکتا تھا۔ مودھرا (ریاست بڑودہ) کا سورج مندر تخیل کی اس بلند آہنگی کی مثال ہے جو وسائل کی فراوانی پیدا کرسکتی ہے لیکن گجرات میں عام طور پر عمارتوں کی آرائش میں اتنا مبالغہ کیا جاتا ہے کہ اس کا طبیعت پر ویسا ہی اثر پڑتا ہے جیسا کہ مٹھاس کی زیادتی کا۔ وادنگر اور دابھوئی کے دروازے فن تعمیرا ور منبت کاری کے انوکھے نمونے ہیں۔

جینیوں کی تعمیرات میں چتوڑ کا مینار، جو بارہویں صدی میں تعمیر کرایا گیا اور کوہ آبو کے مندر خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ مینار قریب 80 فٹ اونچا ہے اور آٹھ منزلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کا حسن ایک ثبوت ہے کہ ہندوستانی معمار ایسی تعمیرات میں بھی جن کے الگ قاعدے اور نمونے نہ تھے اپنے فن کا کمال دکھا سکتے تھے۔ کوہ آبو کے مندروں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ پورے سنگ مرمر کے ہیں، باہر سے بالکل سادے ہیںا ور اندر ان کی پوری سطح پر بڑی دیدہ ریزی سے منبت کاری کی گئی ہے مگر اس منبت کاری میں فن کے سچے نمونوں کی سی جان یہیں ہے، نظر اسے دیکھ کر اتنی خوش نہیں ہوتی جتنی کہ حیران ہوتی ہے۔

شمالی ہندوستان کے طرز سے بالکل الگ کشمیر کا طرز تھا۔ یہاں بھی تعمیر کا کام بدھ متی ستوپوں اور انقاہوں سے شروع ہوا، لیکن بہترین عمارتیں آٹھویں اور نویں صدی میں للت آدتیہ اور آونتی ورمن کے عہدوں میں بنیں، اب وہ بیشتر کھنڈر ہیں، مگر ان کے آثار سے بھی ان کے نقشے اور ان کے معماروں کے منصوبے ظاہر ہوجاتے ہیں۔ ان کی امتیازی صفت یہ ہے کہ وہ فن تعمیر کے نمونے ہیں، سنگ تراشی کے نہیں یعنی ان کے معماروں کے ذہن پر یہ خیال حاوی نہ تھا کہ عمارت پتھر کی چٹان کو کاٹ کر بنائی جاتی ہے، بلکہ انھوں نے یہ سوچا کہ پتھر کے ٹکڑوں کو تراش اور چن کر کسی طرح عمارت کی شکل بنائیں۔ ان کا نقشہ صحیح نقشہ تھا اور انھوں نے اپنے مسالے سے وہی کام لیا جس کے لیے وہ موزوں تھا۔ کشمیر کی عمارتوں میں پتھر کے جو ٹکڑے لگائے گئے وہ بہت بڑے تھے، بعض کا وزن 64 ٹن ہوگا اور یہ بہت تعجب کی بات ہے کہ اتنے وزنی پتھروں کو اتنا صاف تراشا گیا اور ان کی ایسی چنائی کی گئی کہ اس میں کوئی ناہمواری نظر نہیںا ٓتی۔ کشمیر میں چنائی کے لیے چونا  بھی استعمال کیا گیا، جس کا ہندوستان میں اس وقت رواج نہیں ہوا تھا۔ روم اور مغربی ایشیامیں البتہ اس کا رواج عام ہوگیا تھا اور غالباً کشمیریوں نے چونا اس وجہ سے استعمال کیا کہ ان کے مغربی ممالک سے تعلقات تھے۔ مارتاندادر دوسرے مندروں کے نقشے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے معماروں پر یونانی اور رومی تعمیری طرز کا بہت اثر تھا۔

سنگ تراشی

گپت عہد میں جس معیار کا کام ہوا تھا اس کے بعد ایک طرح کی تکان لازمی تھی۔ ساتویں صدی کی سنگ تراشی دیکھیے تو محسوس ہوتا ہے کہ گویا بہار کا زمانہ ختم ہوگیا ہے، بس آخری پھول نکل رہے تھے، جن میں اور سب کچھ ہے مگر شادابی نہیں۔ سنگ تراشوں کے دل امنگوں سے خالی معلوم ہوتے ہیں۔ سارناتھ کے صناع، جو سب سے زیادہ مصروف رہے تھے، کوئی نئی چیز نہیں بناتے، ان کا تخلیقی ذوق نئی راہیں تلاش نہیں کرتا۔ آٹھویں صدی تک یہ تھکن دور ہوگئی، صناعوں کا تخیل پھر جاگ اٹھا مگر کسی اور نئے کام کے لیے تیار ہوگیا۔ یہ نیا دور قرون وسطیٰ کہلاتا ہے۔

اس وقت بدھ مذہب زوال پرتھا اور نئے کام میں بدھ متی دل سے شریک نہیں ہوئے۔ ساتویں سے نویں صدی تک جو بدھ متی مورتیں بنیں ان میں بتوں کی صفت تھی، یعنی وہ علامات کے مجموعے تھیں جنھیں معلوم قدرتی شکلوں سے کوئی تعلق نہ تھا۔ فاہیان کے زمانے میں بھی ایک دیوی پرنگیا، پارمتا (عقل کامل) اور مختلف بودھی ستوون کی، جن میں مائتریا، منجو سری اور اوَلوکت ایشور سب سے ممتاز تھے، پوجا کی جانے لگی تھی۔ آٹھویں اور نویں صدی میں نسوانی بودھی ستووں کا خاص چرچا تھا۔ اَوَلوکت ایشور کی بیوی تارا کی بہت سی مورتیں ملی ہیں جو انھیں دو صدیوں میں بنی تھیں، اور ان میں سے بعض بہت خوبصورت ہیں ۔ ایک دیوی ماریچی کی بھی اس زمانے میں پوجا کی جاتی تھی۔ اس کے تین چہرے ہیں، جن میں سے ایک سور کی تھوتنی تھی اور آٹھ ہاتھ بنائے جاتے۔ بودھی ستووں اور دوسرے دیوتاؤں اور دیویوں کی بھی مورتیں بنتی تھیں جن کے کئی سر اور ہاتھ پاؤں ہوتے تھے۔ اس روش میں بدھ متیوں نے برہمنوں کی نقل کی، مگر ان کے اصل عقیدے، اور ان کے مذہب کا رنگ اور رجحان ایسے تصورات کے خلاف تھا اور وہ اس نئی وضع کو نباہ نہ سکے۔ ان کا روایتی نصب العین کامل سکون تھا، برہمنی علامتیں دوامی حرکت اور مافوق الفطری قوت ظاہر کرتی تھیں، اور ان دونوں کو ایک ہی مورت میں دکھانا ممکن نہ تھا۔ بنگال کے پال راجاؤں نے بدھ مذہب کی سرپرستی کی، خاص خاص مرکزوں میں پتھر اور دھاتوں کی مورتیں بنانے کا کام بہت ہوا، مگر اس میں تازگی نہ اپج نہ وہ شدت اور خلوص جو گپت عہد اور اس سے پہلے کی سنگ تراشی اور منبت کاری کو اجاگر کرتا ہے۔

قرونِ وسطیٰ میں مو رت سازی اور منبت کاری کا بیشتر کام مندروں کی تعمیر کے سلسلے میں ہوا ضمنی یا آرائشی طور پر نہیں بلکہ اس طرح کہ معلوم ہوتا ہے کہ عمارت کی پوری سطح پگھل کر مورتیں اور بیلیں اور روشنی اور سایے کی بساط بن گئی ہے لیکن عمارت کی مجسم اور نیم مجسم مورتوں اور دوسری منبت کی ہوئی شکلوں کا ربط بڑھنے کے بجائے اور گھٹ گیا۔ بھارہت اور سانچی میں منبت کاری کے ذریعے داستانیں بیان کرنے کی کوشش کی گئی، گپت عہد میں مذہبی داستانوں کے خاص خاص منظر دکھائے گئے۔ قرون وسطیٰ میں مورتوں کی حیثیت انفرادی ہوگئی، یہاں تک کہ ہر مجسم اور نیم مجسم مورت ایک الگ موضوع بن گئی۔ قرون وسطیٰ کے سنگ تراش بہت اچھا جمالیاتی ذوق رکھتے تھے، مگر ان کے تصورمیں وہ پاکیزگی اور صفائی نہیں پائی جاتی جو گپت عہد کی مورتوں کو جنس کی تفریق اور مادہ اور روح کی تقسیم سے بالاتر کرکے خالص جمال کا مظہر بنا دیتی ہے۔ ا س کو روحانی بلندیوں پر پہنچنا نصیب نہ ہوا۔ وہ تصورات کو بیان کرنے میں بڑا کمال رکھتے تھے، انھیں اپنی فنی مہارت پر بھروسا تھا، ان کا ہاتھ کبھی خطا نہ کرتا، مگر ان کے فن اور عقیدے میں کامل ہم آہنگی نہ تھی، ان کے دل بے چین سے معلوم ہوتے ہیں، گویا کام کی تکمیل سے انھیں کوئی تسکین نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے وہ ہاتھ کی صفائی کے خیال کے بجائے کام کی خوبی پر زیادہ توجہ کرنے لگے۔ گیارہویں صدی تک مورت سازی تصورات سے قریب قریب خالی ہوگئی، ضمنی باتیں موضوع پر حاوی ہوگئیں۔ اصل چیز تفصیلات میں چھپ گئی۔

گپت عہد کے معیار کا اثر سب سے زیادہ اور دیر تک بنگال اور بہار کے کام پر رہا۔ مجموعی طور پر قرون وسطیٰ کے کام کی یہ ایک خصوصیت یہ ہے کہ سنگ تراش جو کچھ بناتے وہ اپنی طبیعت سے نہیں بلکہ نمونوں اور قاعدوں کو ذہن میں رکھ کر۔ ان کے کام میں آمد کے ساتھ ایک بہت بڑا عنصر آورد کا تھاجو آہستہ ا ٓہستہ بڑھتا رہا۔ انھوں نے نئے تصورات اور احساسات کو بھی نئے اندازمیں نہیں، بلکہ پرانے طریقے پر بیان کیا ہے،اپنی شخصیت ایسی باتوں میں ظاہر کی جو بالکل ضمنی تھیں، ترتیب میں، آرائش میں، تفصیلی نکات میں۔ یہ خصوصیت بنگال اور بہار کی سنگ تراشی میں بہت نمایاں ہے۔ فنی مہارت کے لحاظ سے یہاں کے کام میں کوئی عیب نہیں، لیکن بہترین نمونے بھی اس کا ثبوت ہیں کہ یہاں کے صناع گپت عہد کے اندوختے پر گزر کر رہے ہیں، اپنی طرف سے انھوں نے کوئی اضافہ نہیں کیا اور آخرکار فنی باریکیوں میں الجھ کر رہ گئے ۔

اڑیسہ کے ابتدائی کام میں گپت عہد کے محاوروں اور کسی قدر دکن کا بھی اثر دکھائی دیتا ہے، مگر یہ اثر بہت جلد اڑیسہ کے خاص طرزمیں محو ہوگیا، جس کا اپنا الگ معیار تھا۔ اس معیار کے مطابق حسن کے معنی تھے نرمی، فراوانی، حرکت کے معنی تھے رقص اور ایسا رقص کہ جس میںانسانی ذبات اعضا کی ساخت سے مجبور نہ تھے۔ پرس رام ایشور مندر کے دو روشن دانوں میں منبت کی ہوئی مورتیں، دتیل دیول میں مہیش مردنی کی مورت، کونارک کے ہاتھی اور گھوڑے مثالی نمونے ہیں۔ اس پیمانے پر سنگ تراشی کا کام کیا جائے جیسے کہ اڑیسہ کے مندروں میں تو ایک معیار قائم رکھنا مشکل ہوجاتا ہے، لیکن یہاں اچھے اور معمولی نمونوں میں بھی بڑی اپج ہے اور تیرہویں صدی کی بعض مورتیں ایسی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اڑیسہ کے سنگ تراش فنی روایات کو چھوڑ کر عوام کے تصورات جو طبعی میلانات کی طرف جھک رہے تھے۔ اڑیسہ کے مقابلے میں کھجوراہو کے کام میں نفاست بہت زیادہ ہے۔ یہاں کے صناعوں نے جسم کو ایک نگینہ سمجھا جس کی قیمت تراشنے اور جلا دینے سے بڑھتی ہے، انھوں نے ایک خاص اعصابی کیفیت دکھائی ہے جو شاید ان کی اپنی کیفیت بھی تھی، جس کی وجہ سے بدن تن گئے ہیں، پٹھے ابھر آئے ہیں۔ انھوں نے جو چہرے بنائے ہیں وہ جہاں دیدہ لوگوں کے ہیں، جن کی ہلکی سی مسکراہٹ میں کچھ گھمنڈ ہے، کچھ سیری ہے، جیسے کوئی عیاش جو جانتا ہو کہ عیاشی میں کچھ دھرا نہیں ہے، بھولے بھالے آدمی کو دیکھ کر مسکراتا ہے لیکن ان لوگوں کی نظر دنیا ہی پر ہے، ان کے جذبات کی قوت ان کے جسموں کے اندر ہی گرفتار ہے، وہ نکلنا چاہتی ہے اور نکل نہیں سکتی، اس لیے کہ سرور بن گئی ہے جو ان کی نیم باز آنکھوں سے شعاعوں کی طرح نکلتا ہے،  ایک ابھار جس نے بدن میں غضب کی شگفتگی پیدا کردی ہے۔ شاید یہ کیفیت ان لوگوں کے عقیدوں نے پیدا کی تھی جنھوں نے کھجوراہو کے مندر بنوائے اور جن کا مسلک تھا کہ گناہوں کے ذریعے ثواب، نفسانی لذت کے ذریعے روحانی سکون حاصل کریں۔ ممکن ہے یہ اس زمانے کی تہذیب کا پر تو ہو جو پکے پھل کی طرح شاخ سے ٹپکنے والی تھی۔

کھجوراہو سے ہم وسطی ہند، گجرات اور راجپوتانہ کی طرف جائیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ وہی  اعصابی کیفیت جو کھجوراہو میں نمایاں ہے اور سخت ہوتی جاتی ہے۔ جسم پوری کھنچی ہوئی کمانیں ہیں، اقلید سی شکلیں ہیں، مورتوں کے مجموعے اعضا کی نفیس اور نازک جالیاں۔ جنوبی راجپوتانہ اور گجرات میں سنگ مرمر افراط سے تھا، اور اس نے فن کی باریکیاں دکھانے کا اور بھی موقع دیا، شکلوں کا اعصابی تناؤ بڑھتا گیا اور اسی کے ساتھ وہ بے جان ہوتی گئیں۔

 

ماخذ: تاریخ تمدن ہند، مصنف: محمدمجیب، تیسرا ایڈیشن: 1999، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

 

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...