11/7/25

جدید ہندی شاعری پر اردو کا اثر، مصنف: نریش

 اردو دنیا، مارچ 2025

اردو کے چھندوں اور اردو کی لفظیات کے علاوہ جدید ہندی شاعری نے اردو کی علامتوں کو بھی اپنایا ہے۔ علامت کے لغوی معنی نشان ہیں۔ علامت لفظ کا استعمال کسی ایسی مرئی یا غیرمرئی چیز کے لیے کیا جاتا ہے، جو کسی مرئی یا غیرمرئی شے کو اپنی مشابہت کی بدولت قائم کرتی ہے۔ علامت کے متعدد معانی ہوسکتے ہیں۔ اس لفظ کے کثیر المعانی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ علامت لفظ ایک   نفوذ پذیر لفظ ہے۔ ہماری زندگی کے مختلف شعبوں میں لفظِ علامت کا استعمال مختلف انداز میں ہوتاہے۔ ہماری سماجی یا سیاسی زندگی میں کوئی رنگ، کوئی شکل یا کوئی نشان علامت کہلاتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی ادارے کا کوئی تجارتی نشان، کسی سماج کا کوئی سکّہ یا کسی ملک کا پرچم اس کی علامت بنتا ہے۔ مذہبی زندگی میں کوئی پتھّر یا کوئی بت خداوندِ اقدس کی علامت کے طور پر عبادت کے لائق بن جاتا ہے۔ ادب کے حلقے میں کسی جذبے یا کسی خیال کی نمائندگی کرنے والے الفاظ کو علامت کہتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی مردے کے بارے میں کہا جائے کہ ’’پنچھی اُڑ گیا اور پنجرا خالی ہے‘‘ تو یہاں پر پنچھی روح کی اور پنجرا جسم کی علامت کہلائے گا۔1

اردو کی علامتیں

اپنے جذبات و خیالات کو موثر طریقے سے بیان کرنے کے لیے شعرا علامتوں کا سہارا لیتے ہیں۔ کسی غیرمرئی چیز سے قاری یا سامع کو متعارف کرانے کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ شاعر کسی مرئی چیز کو بطور علامت پیش کرے۔ شاعری میں علامتوں سے کام لینے کا سلسلہ ویدوں کے زمانے سے چلا آرہا ہے۔ جدید ہندی شاعری کو علامتوں کا راستہ عہدِ وسطیٰ کی شاعری نے دکھایا ہے۔ بھگتی ادب میں تو بے شمار علامتیں موجود ہیں بلکہ عالم یہ ہے کہ اگر بھگتی ادب میں سے علامتوں کو خارج کردیا جائے تو تمام ادب عامیانہ ہوکر رہ جائے گا۔ اس کے باوجود جدید ہندی شاعری میں بعض ایسی علامتیں شامل ہوگئی ہیں، جو پہلے سے ہندی ادب میں موجود نہیں تھیں۔ ظاہر ہے کہ یہ علامتیں ہندی نے اردو سے مستعار لی ہیں۔ اردو شاعری میں مستعمل تمام علامات کی فہرست تیار کرنا نہ تو یہاں مقصود ہے، نہ مناسب، تاہم ان علامات پر غور کرنے کی گنجائش ضرور ہے، جو جدید ہندی شاعری نے اردو سے حاصل کی ہیں۔ ان کو ہم تین حصّوں میں تقسیم کرکے دیکھ سکتے ہیں — تہذیبی علامتیں، سماجی علامتیں اور مذہبی علامتیں۔

تہذیبی علامتیں

تہذیب سے یہاں پر ہماری مراد اسلامی تہذیب ہے۔ اسلام کا نزول چونکہ عرب میں ہوا تھا، اس لیے وہاں کے تہذیب و تمدن کی جھلک اردو ادب میں دکھائی دیتی ہے۔ اونٹوں پر سامان لاد کر قافلوں کا ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر کرنا عربی تہذیب کا جزولاینفک رہا ہے۔ عام طور پر عرب کی اسلامی تہذیب کی شناخت چار چیزوں سے کی جاتی ہے۔ یہ ہیں — چراغ و مسجدو مینار و منبر۔

ان کا ہندی میں استعمال

جدید ہندی شعرا نے عربوں کی خانہ بدوش زندگی سے فائدہ اُٹھایا ہے اور اسے نقل مکانی کی علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

یادوں کے اونٹوں پر بیٹھا وہ قافلہ لیے پھرتا ہے 2

***

گھنٹیاں قافلوں کی سننا چاہتا ہوں میں3

اسلامی تہذیب کی شناخت بنے نشانات کا ہندی شاعری میں استعمال ملاحظہ کیجیے:

یہ روضے مینار مقبرے راج بھون رتنوں سے منڈِت4

***

تن کا دِیا پرشن کررہا من کی بنی ایک درگاہ سے 5

***

میں کسی قبر کا جلتا اپورن سہاگ ہوں6

مندرجہ بالا مصرعوں میں روضے، مینار اور مقبرے اسلامی تہذیب کی علامتیں بن کر اپیندرناتھ اشک کو وہاں پر لے گئے ہیں جہاں پر مسلم آبادی اکثریت میں ہے تو ویریندر مشر نے دِیے کو تنفس کی اور درگاہ کو روح کی علامت بنایا ہے۔ نیرج نے بھی دِیئے کو بے قرار روح کی علامت بنایا ہے۔

مذہبی علامتیں

شیطان سے متعلق مفروضہ کے بارے میں ہم آگے چل کر تفصیل سے بات کریںگے۔ یہ لفظ بنی آدم کی دشمنی کی علامت ہے۔ ہم اس کو علامتی روایت بھی کہہ سکتے ہیں لیکن چونکہ ہندی شاعری میں شیطان کو ہر جگہ پر علامت ہی بنایا گیا ہے، اس لیے ہم اس کو روایت کے زمرے میں نہیں رکھ رہے ہیں۔ اردو شاعری میں بھی شیطان کو گمراہ کن کی علامت کے طور پر ہی پیش کیا گیا ہے۔

اسی طرح سے قرآن میں ایک واقعہ بیان ہوا ہے کہ ایک بار حضرت موسیٰ نے خدا کا دیدار کرنا چاہا اور اس کے لیے بار بار استدعا کی۔ ان کی دعا قبول ہوئی اور نور کی شکل میں خدا طور نامی پہاڑ پر اتر آیا مگر خدا کی تجلّی کی تاب نہ موسیٰ لاسکے اور نہ کوہِ طور ۔ موسیٰ بے ہوش ہوکر گر پڑے اور طور جل کر سرمہ ہوگیا۔ اردو شاعری میں نور کو ربانی تجلّی کی علامت کے طور پر اور طور کو سعیِ ناکام کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

ان کا ہندی میں استعمال

یہ علامتیں بھی براہِ راست اردو ہندی کے ایوانِ شاعری تک پہنچی ہیں۔ جدید ہندی شاعری میں بطور علامت شیطان کا استعمال ملاحظہ کیجیے:

شیطان ابھی تک تیرے سر پر بیٹھا ہے7

***

ـوہ نہیں خدا کا وہ شیطاں کاکرتب8

***

ایک نے شیطان پوجا مل گیا بھگوان بھی

ایک نے انسان پوجا جل گیا ایمان بھی9

نور اور طور کی علامتیں ملاحظہ کیجیے:

نور ایک وہ رہے طور پر یا کاشی کے دوار میں10

***

پیغمبر امر محمد کے خاموش نور تم نسسمبھرم11 

ان دونوں مصرعوں میں نور کو فیضانِ الٰہی کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

سماجی روایتیں

تہذیبی اور مذہبی علامتوں کے علاوہ بعض ایسی چیزیں بھی بطور علامت جدید ہندی شاعری میں درآئی ہیں، جن کا تعلق مسلم معاشرے سے ہے۔ شراب ایک زمانے میں ایرانیوں کی مرغوب مشروب رہی ہے۔ اسلام نے اگرچہ شراب نوشی کو ممنوع قرار دے دیا لیکن ادب میں سے شراب کو بے دخل نہ کیا جاسکا۔ اردو شاعری میں شراب کبھی دنیاوی عیش و عشرت کی علامت بنی ہے تو کبھی نشۂ معرفت کی۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی میں کبھی شراب کو چھوکر بھی نہ دیکھنے والے امیرمینائی نے شراب پر دل میں اُتر جانے والے شعر کہے ہیں۔

اسلام کے ابتدائی دور میں غلاموں کی خرید و فروخت عام بات تھی۔ حضرتِ یوسف کو بھی غلاموں کی منڈی میں بیچا گیا تھا۔ انسانی زندگی کا اس سے بڑا المیہ کیا ہوسکتا ہے کہ انسان ہی انسان کو خریدے اور اس کا مالک بن بیٹھے لیکن ملکیت تو فقط جسم پر ہوسکتی ہے، کسی کے دل پر تو پہرا نہیں بٹھایا جاسکتا۔ غلامی کی وجہ سے محرومی و ناکامی کے عذاب میں سے گذر رہے دلوں کے احساسات کو قفس، آشیانہ اور برق کی علامتوں کے ذریعے زبان دی گئی ہے۔ قفس، قید و بنداور انسان کی مجبوری کی علامت بنا تو آزادی اور سکون کی علامت آشیانہ کو بنایا گیا۔ اسی طرح برق کو غیظِ الٰہی کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

عشقیہ جذبات کے اظہار کے لیے شمع اور پروانہ کی علامتیں اردو شاعری میں بہت کامیاب رہی ہیں۔ شراب کی طرح شمع و پروانہ کو بھی مجازی اور حقیقی دونوں طرح کے عشق کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ جہاں ایک طرف شمع حسنِ معشوق کی آتشزنی اور اس کی بے نیازی کی علامت بنی، وہیں دوسری طرف پروانہ عاشق کے عشقِ صادق اور اس کی جاں نثاری کی علامت بنا۔

ان کا ہندی میں استعمال

مغربی تہذیب کے زیرِ اثر عیش پرستی کے متمنّی ہندوستانی نوجوان اپنی قدیم روایات اور سماجی اقدار سے کنارہ کشی کرنے لگے تھے۔ انگریزی تعلیم نے ان اعتقادات و اقدار کو کمزور بنادیا تھا۔ادھر اردو شاعری میں محفل جمی ہوئی تھی۔ ساقی کا جلوہ کارفرما تھا۔ جامِ مے گردش میں تھا۔ میکش مستی میں جھوم رہے تھے۔ پرہیزگاروں پر پھبتیاں کسی جارہی تھیں۔ ایسے میں شراب اور ساقی سے مفر کہاں ممکن تھا۔ لہٰذا چھایاواد کے نصف آخرمیں ہندی شعرا ہالا(شراب) اور مدھوبالا (ساقی) کے اس قدر گرویدہ ہوئے کہ اپنی شُدبُد ہی بھول گئے۔ اوصافِ کردار طاق پر رکھ دیے گئے۔ یہاں تک کہ خدا کی خدائی پر بھی سوالیہ نشان لگنے لگے۔ کہنے کا مطلب یہ کہ مے و مینا کے ساتھ اردو شاعری کا تو چولی دامن کا ساتھ تھا ہی، ہندی شعرا بھی اس میدان میں ان سے پیچھے نہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ چھایا وادی دور ہی میں مے سے بھری صراحیوں اور چھلکتے ہوئے جاموں کے ساتھ میکش بھی مے خانوں میں نظر آنے لگے۔12

یہاں پر ایک خام خیالی کا ازالہ کرنا ضروری ہے۔ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ ہندی شاعری میں شراب کے تعلق سے جو علامتیں مروّج ہوئیں، اس کا سبب اردو کا اثر نہیں تھا بلکہ سنسکرت کے سوم رس کا اثر تھا۔ یہ حضرات شاید یہ بھول رہے ہیں کہ اردو میں بھی شراب کو وہی درجہ حاصل رہا ہے، جو سنسکرت میں سوم رس کو حاصل رہا ہے۔اردو میں سوم رس کو شرابِ طہور کہا گیا ہے۔ جیسا پہلے بھی عرض کیا جاچکا ہے، اردو شاعری میں شراب کو مجازی معنی میں بھی علامت بنایا گیا ہے اور حقیقی معنی میں بھی۔ یہ غلط فہمی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب شراب کے مجازی معانی ہی کو ملحوظِ نظر رکھا جاتا ہے اور اس کے عارفانہ معانی نظر انداز کردیے جاتے ہیں۔ جدید ہندی شاعری میں شراب کو بطور علامت جس طرح سے بھی استعمال کیا گیا ہے، وہ ہرگز سنسکرت شاعری کے اثر کا نتیجہ نہیں ہے، اردو کے اثر کا نتیجہ ہے۔ اس حقیقت کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ سنسکرت میں سوم رس کے ذکر میں مے خانہ اور محفل سرے ہی سے خارج ہیں جبکہ اردو شاعری میں شراب کے ساتھ ساقی، پیرمغاں، جام و مینا اور محفل بہرصورت موجود ہیں۔ جدید ہندی شعرا نے اس پورے منظرنامے کو اپنی شاعری میں اتارنے کی کوشش کی ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

میں نے کب دیکھی مدھوشالا

کب مانگا مرکت کا پیالہ

کب چھلکی وِدرُم سی ہالا

میں نے تو ان کی سَمِت میں

کیول آنکھیں دھو ڈالیں13

بعض دوسرے شعرا کے یہاں بھی شراب سے متعلق علامات ملاحظہ کیجیے:

مادکتا سے آئے تم سنگیا سے چلے گئے

ہم ویاکل پڑے بلکھتے تھے اترے ہوئے نشے سے14

***

پینے کا مزہ تو ہے تبھی اے ساقی

میخانہ سبھی جھومے مگر سوئے نہیں15

***

میں بنا ہوا تھا ساقی میں ہی تھا پینے والا16

***

نہیں چاہ  مدِرا کی ساقی کیا ہوں گے یہ پیالے17

***

زندگی صراحی ہے ساقی ہے

دور ابھی ایک اور باقی ہے18

***

اور پھر یہ آج کا گانا کہ محفل ہے جمی19

اسی طرح سے طائر، پنجرا، آشیانہ اور برق کی علامتوں کا استعمال ہندی شاعری میں ہواہے۔ ملاحظہ کیجیے:

کیا ہوائیں تھیں کہ اجڑا پریم کا وہ آشیانہ20

***

تھکی بیڑی قفس کی ہاتھ میں سو بار بولی21

***

گلچیں نِشٹھر پھینک رہا کلیوں کو توڑ انل میں22

***

زندگی کے پنجرے میں بند ہے مجبور پکشی23

***

بجلیاں دل پر گرا کر جھک گئے چنچل پلک دل24

***

نِیڑ ترِن جب جب بنا آندھی قفس بُنتی رہی25

***

جانتی ہیں بجلیاں گرانا مگر نِیڑ کس کا جلا وہ نہ یہ جانتیں26

عاشق و معشوق کے لیے شمع و پروانہ کی علامتوں کا استعمال ملاحظہ کیجیے           ؎

دیپ اور پتنگے میں فرق صرف اتنا ہے

ایک جل کے بجھتا ہے ایک بُجھ کے جلتا ہے27

***

یہ جلتی شماعیں یہ بکھری دعائیں

پتنگا بچارا جلا جا رہا ہے

کہ دیپک کا دامن چھلا جا رہا ہے28

***

اے پروانے دھیرے دھیرے

ہم بھی اب جلنا سیکھ گئے29

***

او  شوق کے  پروانو

ذرا  ٹھہرو

یہ  شمع نہیں ہے

وہ  داغ ہے صرف 30

اردو زبان ، اردو چھندوں اور علامتوں سے تو صرف ہندی شاعری کا جسم ہی متاثر ہوا تھا لیکن جب اردو کی شعری روایات ہندی شاعری میں ضم ہونے لگیں تو اردو شاعری ہندی کے وجود میں داخل ہوکر اس کی روح کو متاثر کرنے لگی۔اردو کی شعری روایات کو اپنا کر تو ہندی شعرا گویا اردو شاعری کی روح تک پہنچ گئے اور انھوں نے اس کو چھوکر دیکھ لیا۔ جیسا ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں، اردو شاعری پر فارسی شاعری کا بہت گہرا اثر پڑا ہے، اس لیے اس کی اکثر شعری روایات بھی فارسی ہی سے آئی ہیں۔ جدید ہندی شاعر ی میں بھی ہندی شعرا نے ایسی روایات کو اپنی شاعری میں جگہ دی تھی لیکن تب یہ روایات اردو سے نہیں بلکہ براہِ راست فارسی سے ہندی میں آئی تھیں۔ مثلاً رحیم کا ایک دوہا ہے       ؎

جکیہاری جوبن لیے ہاٹ پھرے رس دیت

اپنا مال￿ن چکھائی کے رکت آن کو لیت

رکت (خون)، مانس (گوشت) قتل وغیرہ ہندی یا سنسکرت کی روایات نہیں ہیں، یہ فارسی ہی سے ہندی میں آئی ہیں۔ جدید ہندی شعرا فارسی کے بجائے اردو کے زیادہ قریب رہے ہیں، اس لیے انھوں نے شعری روایات اردو ہی سے حاصل کی ہیں۔

 

 

حواشی

.1            گنپتی چندر گپت: ساہتک نبندھ، 1960 ، اشوک پرکاشن، دہلی، ص326

.2            ماکھن لال چترویدی: بیجوری کاجل آنج رہی، 1964 ، بھارتیہ گیان پیٹھ، کاشی، ص49

.3            سرویشور دیال: کاٹھ کی گھنٹیاں، 1959 ، بھارتیہ گیان پیٹھ، کاشی، ص 26

.4            اپیندر ناتھ اشک: چاندنی رات اور اجگر، 1952، نیلابھ پرکاشن، الہ آباد، ص44

.5            ویریندر مشر: لیکھنی ویلا، 1958، بھارتیہ گیان پیٹھ، کاشی، ص 85

.6            گوپال داس نیرج: لہر پکارے، 1959 ، آتمارام اینڈ سنز، دہلی، ص 61

.7            ہری ونش رائے بچّن: سوت کی مالا، 1948، سینٹرل بک ڈپو، الہ آباد، ص 40

.8            بھگوتی چرن ورما: رنگوں سے موہ، 2019 بکرمی، بھارتی بھنڈار، الہ آباد، ص82

.9            جیون پرکاش جوشی: آگ اور آکرشن، 1962 ، ہندی ساہتیہ سنسار، دہلی، ص 45

.10         رام دھاری سنگھ دنکر: دوَند گیت، شری اجنتا پریس، پٹنہ، ص 63

.11         تنمے بکھاریہ: میرے باپو، 1951، بھارتیہ گیان پیٹھ، کاشی، ص67

.12         ہرناراین سنگھ: چھایاواد کاویہ تتھا درشن، 1964 ، گرنتھم، کانپور، ص 425

.13         مہادیوی ورما: نیرجا، 2013 بکرمی، بھارتی بھنڈار، پریاگ، ص 53

.14         جے شنکر پرساد: آنسو، 2003 بکرمی، بھارتی بھنڈار، پریاگ، ص33

.15         گوپال داس نیرج: مکتکی ، 1960 ، آتمارام اینڈ سنز، دہلی، ص62

.16         بھگوتی چرن ورما: پریم سنگیت، 1949، وشال بھارت بک ڈپو، کلکتہ، ص 40

.17         شری من ناراین: رجنی میں پربھات کا انکُر، 1962 ، آتمارام اینڈ سنز، دہلی ،ص40

.18         موہن لال گپت: عربی نہ فارسی، 1958 ، مدھوپرکاشن، بنارس، ص27

.19         اجت کمار: اکیلے کنٹھ کی پکار، 1958 ، راج کمل پرکاشن، دہلی، ص11

.20         ہری ونش رائے بچّن: آدھونک کوی، 1983 ، ہندی ساہتیہ سمیلن، پریاگ، ص 70

.21         رام دھاری سنگھ دنکر: ہنکار، اُدیاچل، پٹنہ، اشاعتِ سوم، ص 32

.22         ایضاً: ص62

.23         ہری کرشن پریمی: روپ درشن، 1951 ، آتمارام اینڈ سنز، دہلی، ص83

.24         ایضاً: ص47

.25         گوپال داس نیرج: پران گیت، 1961 ، آتمارام اینڈ سنز، دہلی ص83

.26         روپ ناراین ترپاٹھی: ون پھول، 1962 ، گیتاین، پریاگ، ص66

.27         گوپال داس نیرج: مکتکی، 1960 ، آتمارام اینڈ سنز، دہلی، ص 52

.28         شِومنگل سنگھ سُمن: پر آنکھیں نہیں بھریں، راجکمل پرکاشن، دہلی، ص10

.29         للت گوسوامی: میرے گیت، 1958، آتمارام اینڈ سنز، دہلی ، ص8

.30         شمشیر بہادر سنگھ: کچھ اور کویتائیں، 1961 ، راجکمل پرکاشن، دہلی، ص62

 

ماخذ: جدید ہندی شاعری پر اردو کا اثر، مصنف: نریش، پہلی اشاعت: 2017، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

 

 

لوک ادب میں لوری کی اہمیت، مضمون نگار: ترنگ موریہ

 اردو دنیا، مارچ 2025

برِّصغیر میں چھوٹے بچوں کو لوری سنانے کی روایت بہت ہی پرانی ہے لیکن جب دنیا میں لوری کی تعریف کو کھنگالا گیا تو پتہ چلا کہ اس کا آغازتقریباًچار ہزار قبل عراق میں بابل کی تہذیب میں ہوا تھا:

’’ماہرین کے مطابق دنیا میں پہلی بار لوری بچوں کو سلانے کے لیے ہی گائی گئی تھی اور دو ہزار قبل مسیح  میں یہ لوری مٹّی کے ایک چھوٹے ٹکڑے پر تحریری کی گئی تھی جو کھدائی کے دوران ملا ہے اس ٹکڑے کو لندن کے برٹش میوزیم میں رکھا گیا ہے۔ہتھیلی میں سما جانے والے مٹّی کے اس ٹکڑے پر موجود تحریر کیونی فارم (cuneiform)اسکرپٹ میں ہے جسے لکھائی کی ابتدائی اشکال میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔‘‘

(لوری کی آفاقی زبان،مشمولہ : بی بی سی اردو،یکم جنوری 2013)

ہم اپنے آس پاس دیکھ سکتے ہیں کہ عورتیں اپنے روتے ہوئے بچوں کو چپ کرانے کے لیے کچھ لفظ اپنی زبان سے ادا کرتی ہیں۔جیسے ہو ہو لالا وغیرہ اور ماں اپنے بچے کو خوش کرنے کے لیے کبھی کبھی جھوٹی باتیں اور دلاسے بھی دیتی ہے۔وہ سب لوری کا حصہ ہیں۔مثلاً        ؎

سوجا بابوسوجا تمھارے ابّو آئیں گے

تمھیں   سینے سے   لگائیں   گے

خوش      ہو     جائیں     گے

لوری لوک گیت ہے جس کا وزن، بحر، تکنیک یا ہئیت نہیں ہوتی مگر اس کو پڑھنے اور سننے والے کو اس بات کا احساس ہو جاتا ہے کہ وہ لوک گیتوں کی صنف لوری پڑھ اور سن رہا ہے۔کیوں کہ اس گیت میں ماں کی ممتا کے ایسے جذبات کی خوشبو ہوتی ہے جو پڑھنے اور سننے والے کو متاثر کر دیتی ہے:

’’لوری کے ذریعے بچہ پہلی بار اپنی مادری زبان کی مٹھاس اور موسیقی سے مانوس ہوتا ہے۔‘‘

(قمر رئیس،  مرتبہ: اردو میں لوک ادب،سیمانت پرکاشن،نئی دہلی، 1990،ص 9)

لوری بچے کو سلانے اور روتے بلکتے چہرے پر مسکراہٹ لانے کے لیے گائی جاتی ہے۔بچے میں اتنا شعور نہیں ہوتا کہ وہ لوری کے الفاظ اور معنی سے پوری طرح واقف ہو مگر جذبات و احساسات اور ردم اور ترنم کے سمندر میں ڈوب کر وہ نیند کے آغوش میں چلا جاتا ہے۔لوری صرف میٹھی پُرسکون نیند کا ہی ذریعہ نہیں ہے بلکہ بچوں کے لیے ان کا مستقبل سنوارنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ لوریوں کے ذریعے بچے کو بڑے ہوکر کیا کیا بننے کی ترغیب دی جاتی ہے:

’’نفسیاتی نظریے کے مطابق لوری بچے کے ذہن کو ادھر اُدھر بھٹکنے کے بجائے ایک مرکز پر لے آتی ہے لوری کی لیے پر اس کا ذہن نہ صرف مرکوز ہوتا ہے بلکہ اسے یہ خوش گوار احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔‘‘

(معزّہ ابراہیم قاضی،اردو میں منظوم عوامی ادب اور لوریاں، غزالی پرنٹرس، 2007،ص 72)

بچہ فطری طور پر منظوم ادب میںبھی دلچسپی اس وقت لیتا ہے جب اس میں دلچسپی اور کشش موجود ہوتی ہے اس لیے لوریوں میں صوتی اعتبار سے ماں باپ یا کوئی رشتے دار،دادی نانی وغیرہ کی سریلی آواز درکار ہوتی ہے۔

ماں اور بچے کے درمیان لوریوں کی پرانی تاریخ ہے اور تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بچوں میں تال اور لیَ کو سمجھنے کی انوکھی صلاحیت ہوتی ہے۔ بچہ جب مترنم آوازیں سنتا ہے تو روح افزایا فرحت بخش ماحول محسوس کرتا ہے اور چپ ہوجاتا ہے اور اسے سرلیے کا احساس ہونے لگتا ہے۔ اس کے تخیلات میں تیزی سے ترقی ہوتی ہے اور وہ خیالی دنیا میں اڑان بھرنے لگتا ہے۔ لوری کے ذریعے بچے کے جذبات و احساسات کی جو روشنی نصیب ہوتی ہے اس روشنی میں اس کی تربیت ہوتی ہے جو تاعمر اس کے لیے ناقابل فراموش بنتی ہے۔

بھارت اور پاکستان کے زیادہ تر حصوں میں جو لوریاں سنائی جاتی ہیں ان میں چاند یا چندا ماما کا ذکر ہوتا ہے اور چندا ماما دور کے ایک مقبول لوری ہے۔چند سطریں ملاحظہ ہوں           ؎

چندا ماما دور کے

کھوئے پکائے دودھ کے

آپ کھائے تھالی میں

منیّ کو دیں پیالی میں

پیالی گئی ٹوٹ

منّا گیا روٹھ

نئی پیالی لائیں گے

منّے کو منائیں گے

اگر چہ اس لوری کے تخلیق کار کا نام نہیں معلوم لیکن اس کی غنائیت صوتی آہنگ اور معنویت آوازوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر جو جادوئی کیفیت پیدا کرتی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس لوری کو کسی ذہین شخص نے تخلیق کیا ہے۔

کیف احمد صدیقی عام روایتی لوری میں بیان کردہ ’چندہ ماما‘ کی جگہ بچے کو خواب میں پریوں سے ملایا ہے اور اس کی زبانی دلکش ترانے سنائے ہیں          ؎

’’سو جا میرے دل کے ٹکڑے سو جا میری جان

تو ہے مجھ کو جان سے پیارا تجھ پر میں قربان

سپنوں کی نگری میں بلائے تجھ کو نندیا رانی

چاند دیش میں جاکر تجھ کو کرتی ہے مہمانی

ساری رات تھے ہونا ہے پریوں کا مہمان

سو جا میرے دل کے ٹکڑے سو جا میری جان ‘‘

(کیف احمد صدیقی،اردو میں بچوں کا ادب، نصرت پبلشرس، امینہ باد لکھنؤ،1989،ص 287)

اس لوری میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح ایک ماں کے دل میں اپنے بچے کے لیے پیار کے جذبات ہوتے ہیں اور کس طرح وہ اس کے بہتر مستقبل کے سپنے دیکھ رہی ہے۔

اردو ادب میں جن لوریوں کو محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ان میں سے بہت سی لوریا ں ایسی ہیں جو لوری کی حدوں سے آگے نکل جاتی ہیں اور نظم کے دائرے میں شامل ہو جاتی ہیں لیکن ان کا اسلوب اور لہجہ لوری سے قریب کرتا ہے۔

معزہ ابراہیم قاضی نے اپنی کتاب ’اردو میں منظوم عوامی ادب اور لوریاں ‘میں کئی ایسی لوریاں شامل کی ہیں جن کے تخلیق کاروں کے نام معلوم نہیں ہیں اور بہت سی ایسی لوریوں کو بھی قلم بند کیا ہے جس کے تخلیق کار کا نام دستیاب ہے۔

مثال کے طور پر’’ احمد منشی‘‘ کی لکھی ہوئی یہ لوری ملاحظہ فرمائیں          ؎

اللہ نبی کے جائوں میں واری

لعلوں سے میں نے جھولا سنواری

پیارے کی آنکھوں میں آئی خماری

صدقے میں تیرے صورت ہے  پیاری

آئو سہاگن جھولا جھلانے

نور نظر کو اپنے منانے

مختلف زبانوں میں لوریاں

معاشروں میں تنوع کے باوجود ان کی لوریوں میں مماثلت پائی جاتی ہے۔دنیا میں آپ جہاں چلے جائیں مائیں ایک ہی دھن استعمال کرتی ہیں اور ایک ہی طریقے سے اپنے بچوں کے لیے گیت گاتی ہیں۔ بہت سی لوریاں چند ہی الفاظ پر مشتمل ہوتی ہیں جنھیں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ بعض اوقات ہمیں مختلف زبانوں میں ایسی لوریا ں بھی ملتی ہیں جو ایک دو مصرعوں کی ہی ہوتی ہیں مگر جب مائیںان کو باربار پڑھتی ہیں تو وہ بھی ایک سما باندھ دیتی ہیں۔لوریوں کے بول بے مقصد اور فضول نہیں ہوتے ان کے الفاظ سادہ اور عام فہم ہوتے ہیں۔

پنجابی زبان میں اسے’لوری‘اور پشتو میں ’اللہ ہو‘ کہا جاتا ہے۔پشتومیں اسے اللہ ہو اس لیے کہا جاتا تھا کہ اس گیت کے آخر میں وہ ’اللہ ہو‘ کے الفاظ لاتے ہیں جس کے معنی سو جا کے ہی ہیں۔سندھی بلوچی اور براہوی زبانوں میں بھی اسی انداز سے لوری سنائی جاتی ہے ان کے ساتھ ساتھ کشمیری زبان میں بھی لوری کا یہی انداز رائج تھا۔

ہندی کی لوریاں

ہندوستان کی تقریباً ہر زبان میں لوریاں سنائی جاتی ہیں۔ ہندی ادب نے لوریوں کو سنوارنے میں ایک اہم کام انجام دیا ہے۔مثلاً         ؎

 سوجا میری بٹیا رانی /سو جا راج دلاری

سویا چاند سوئے تارے

نیل گگن کے پنچھی سارے

رنگ برنگی تتلی سوئی

پھولوں کی پھلواری ،سوجا راج دلاری

نبھ سے اترا اڑن کھٹولا

نیند پری نے گھونگھٹ کھولا

سپنوں کی شہزادی لائی

جادو بھری پٹاری /سو جا راج دلاری

لوری میں آئی پریوں کی رانی،نیند کی راج کماری اور سپنوں کا اڑن کھٹولا وغیرہ ایک طرف جہاں بچوں کو جلدی سونے کے لیے اکساتے ہیں وہیں دوسری طرف ان کے دماغ کے تخیل کو تیز کرتے ہیں۔

ہندوستانی فلموں میں لوریاں

ہالی ووڈ کی زیادہ تر فلموں میں گانے نہیں ہوتے جبکہ ہندوستانی سنیما گانوں اور موسیقی کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، ہالی ووڈ میں موسیقی کی ایک متوازی دنیا ہے، جبکہ ہندوستان میں سنیما اور موسیقی کا تعلق اتنا قریب ہے کہ یہ خطے روایت اور ثقافت کے دائروں کو ایک سمندر میں ضم کر دیتا ہے۔جو ثقافتی اتحاد کا پیغام ہے۔لوریوں کا استعمال فلموں میں پہلے بھی ہوتا تھا اور آج بھی ہوتا ہے، مثلاً        ؎

(1)

منّا بڑا پیارا     امّی کا دلارا

 

کوئی کہے چاند  کوئی آنکھ کا تارا

فلم:  مسافر (1957)، گیت کار :کشورکمار

(2)

ننھی کلی سونے چلی ہوا دھیرے آنا

 

نیند  بھرے  پنکھ  لیے جھولا جھلانا

فلم:سجاتا (1959)،  گیت کار :گیتا دت

(3)         آری آجا نندیا

                لے چل کہیں اڑن کھٹولے میں

دور دور یہاں سے دور

فلم:کنوارا باپ (1974)،  گیت کار : کشور کمار

(4)         آجا ری نندیا آ

                ننھی سی آنکھوں میں آ

                چپ کے سے آ  چوری سے آ

فلم: مان اپمان (1979)،  گیت کار : لتا منگیشکر

(5)         آہستہ آہستہ نندیا تو آ

                ان دو نینوں میں

                 ہلکے سے ہولے سے

                کچھ سپنے بھولے سے

فلم:  سودیش (2004)،  گیت کار: ادت نارائن

(6)         چاندنیاں چھپ جانا رے

                چھن بھر کو لُک جانا رے

                نندیا آنکھوں میں آئے

                بٹیا مری سو جائے

فلم: رائو ڈی راٹھور(2012)،  گیت کار : شرِ یا گھوشال

(7)         چائو رو چائو رو

                اچھا پری چائو رو

فلم: میری کام (2014)،  گیت کار : پرینکا چوپڑا

ایک ایسے وقت میں جب ثقافت کی بہت سی تحریریں فراموش ہو رہی ہیں یہ یقین کہ سنیما اور لوک گیتوں کی مشترکہ دنیا میں بہت کچھ باقی ہے،ایک ایسا کارنامہ ہے جس سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔

تمام ترقیوں کے باوجود ہماری کچھ ایسی روایتیں آج بھی مستحکم ہیں جن کی پاسداری ادب و ثقافت سے محبت رکھنے والے کرتے آرہے ہیں۔ ان ثقافتی اقدار کی ایک زندہ روایت لوریاں بھی ہیں جن کی حفاظت اور اس کی پاسداری ہماری ذمے داری ہے۔ ہم جدید ٹکنالوجی کا ضرور استعمال کریں لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنی ثروت مند قدروں کو فراموش نہ کریں اور انھیں ثقافتی قدروں کا ایک حصہ ہماری لوریاں بھی ہیں۔

لوریاں والدین اور بچوں کے درمیان جذباتی تعلق کو مضبوط کرتی ہیں، ابتدائی تعلیم میں مدد فراہم کرتی ہیں اور بچوں کے سکون و نیند کے لیے اہم ہوتی ہیں۔

یہ سماجی اقتصادی اور ماحولیاتی تناظر کی عکاسی کرتی ہیں۔زبانی روایات کے تحفظ میں ان کا کردار بہت اہم ہے۔ لوریوں کے طبّی فوائد بھی ہیں جو درد، بے چینی اور اضطراب کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

مجموعی طور پر لوریاں لوک ادب میں کثیرالجہات اہمیت رکھتی ہیں،جو ثقافتی ورثہ کے تحفظ، جذباتی رشتے اور بچوں کی نشو ونمامیں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

 

Tarang Maurya

Research Scholar Ph.D

CUCS MANUU, Hyderabad

Mob: 9305849668

Email: tarangmaurya1512@gmail.com

 

 

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...