22/10/18






طامس ہڈرلی طامس
اردو کا پہلا روزنامچہ نویس

محمد مشتاق تجاروی

تھامس ہڈرلی (Thomas Heatherly)اردو کے مشہور انڈویوروپین شاعراور مرزا غالب اور عارف کے شاگردکپتان الیگزینڈر ہڈرلی کے بڑے بھائی تھے۔ اردو میں وہ اپنا نام طامس لکھتے تھے اور یہی ان کا تخلص بھی تھا۔ان کے والد جیمس ہڈرلی بھی مشہور آدمی تھے اور مرزا غالب کے دوست تھے۔نواب جھجر کے یہاں ملازم تھے۔ طامس ہڈرلی اردو اور فارسی کے اچھے عالم تھے اور انگریزی تو ان کی مادری زبان تھی۔
اردو ادب میں طامس کی اہمیت دو وجہ سے زیادہ ہے۔ ایک وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے چھوٹے بھائی الگزینڈر ہڈرلی آزاد کا دیوان مرتب کرکے شائع کیاجو اردو کے انڈوپوروپین شعرا کی صف اول کے شاعر تھے۔ دوسری اہمیت یہ ہے کہ اب تک کی دریافت کے مطابق وہ اردو کے سب سے پرانے روزنامچہ نویس ہیں۔انھوں نے 1843 سے1853 تک روزنامچہ لکھا۔ان کا روزنامچہ پروفیسر نثار احمد فاروقی نے شائع کر دیاہے۔ اس کا اصل نسخہ دہلی یونیورسٹی کی لائبریری میں محفوظ ہے۔
پروفیسر نثار احمد فاروقی کے مطابق اردو کا سب سے پرانا روزنامچہ مولوی مظہر علی سندیلوی کا ہے۔اس سے قبل جو روزنامچے لکھے جاتے تھے وہ فارسی میں لکھے جاتے تھے۔حتی کے 1857 میں جیون لال،معین الدین اور عبداللطیف کے روزنامچے بھی فارسی میں لکھے گئے۔اس اعتبار سے طامس کے روزنامچے کی خاص اہمیت ہے۔ ساتھ ہی اس سے نہایت اہم تاریخی اور ادبی معلومات فراہم ہو تی ہیں۔یہ روزنامچہ بالکل ذاتی نوعیت کا ہے اور اس میں اپنے ذاتی مسائل کا ہی بیان ہے لیکن ضمنا تاریخی معلومات آگئی ہیں مثلا ماہ اپریل 1849 میں کوہ نور ہیرا کے ولایت جانے کا تذکرہ ہے۔اسی طرح لاہور کی جنگ کا تذکرہ ہے وغیرہ۔
طامس ہڈرلی کی صحیح تاریخ پیدائش تو نہیں معلوم لیکن وہ 1874 میں رٹائرڈ ہوئے تھے اگر ان کی عمر اس وقت 55 سال مانی جائے تو ان کی ولادت 1819 کے قریب ہوئی ہوگی۔ اس طرح وہ اپنے چھوٹے بھائی الیگزینڈر ہڈرلی سے دس سال بڑے تھے۔
طامس کے والد جیمس ہڈرلی نواب جھجر کے معتمد خاص تھے۔اس لیے ان کو بھی آسانی سے نواب صاحب کے یہاں ملازمت مل گئی۔50 روپیہ مہینہ مشاہرہ مقرر ہوا۔ 1843 میں وہ اسی ملازمت پر تھے۔ پھر بعد میں 18، مارچ 1845 کو وہ کل ریاست کے منصرم خزانہ مقرر ہوگئے۔1
رام بابو سکسینہ نے لکھا ہے کہ انھوں نے اپنی عملی زندگی کاآغاز نواب فیض علی خاں کے بیٹے یعقوب علی خاں کے تحویل دار خزانہ کی حیثیت سے کیا تھا اور سو روپیہ ان کامشاہرہ تھا۔2 لیکن طامس کی ڈائری سے اس کی بہت تائیدنہیں ہوتی۔جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔
1845 میں جولائی کے مہینہ میں نواب صاحب نے ان کو بڈھوانہ کا تحصیل دار مقرر کرنا چاہا۔لیکن انھوں نے انکار کر دیا جس کی وجہ سے نواب صاحب خفا ہو گئے۔3
نواب صاحب کی ناراضگی کے ایام میں طامس نے ایک مہینہ کی رخصت لی اور الور چلے گئے۔4 الور میں وہ کم وبیش ایک ماہ رہے۔ اور یہاں اپنے لیے ایسی جگہ بنالی کہ پھر ان کے خاندان کے متعدد لوگ الورمیں ملازم رہے۔ اپنے سفر الور کا تذکرہ کرتے ہوئے انھوں نے اپنی ڈائری میں لکھاہے:
’’بباعث قبول نہ کرنے تحصیل داری بڈھوانہ کے نواب صاحب خیلے آزردہ خاطر ہو گئے۔چوں کہ ہم بھی ان کی عنایت پر ناز کرتے تھے لہذا ہم نے ایک ماہ کی رخصت سرکار سے لی اورارادہ الور جانے کا کیا اور والد بزرگوار سے بھی اجازت حاصل کرلی۔‘‘
طامس نے اپنے سفر الور اور وہاں ایک مہینہ قیام کے حالات اس طرح لکھے ہیں:
’’13 اگست دو روز میں انتظام دیہات مستاجروں کا کر کے آج بطرف الور روانہ ہوا اور براہ گریانی، ریواڑی، باول اورپیپل کھیڑہ 17؍ تاریخ کو الور آکر سرائے میں فروکش ہوا۔
19 اگست کو لال دروازہ میں ایک مکان کرائے کا لیا اور مرزا اسفندیار بیگ صاحب سے ملاقات حاصل کری۔
22 سے 23 اگست کو پیٹر بنتری(شاید صحیح بنسلی ہے) کپتان پلٹن اور جان رسٹل صاحب اور جناب آغا صاحب سے ملاقات کری۔
5ستمبر کو ٹھاکر گلاب سنگھ کیسرولی والا اور ٹھاکر لکھدیر سنگھ جی سے ملاقات کری۔یہ اول ملاقات لکھدیر جی سے ہوئی۔
10 ستمبر کو مہاراجہ نبے سنگھ بہادر سے معرفت اسفندیار بیگ صاحب ملاقات ہوئی۔
12 ستمبر کو والد صاحب کا خط آیا کہ نواب صاحب بہت بیمار ہیں۔
13 ستمبر کو مہاراؤ راجہ صاحب کے محل میں لڑکا پیدا ہوا یعنی شیودان سنگھ جی پیدا ہوئے۔ہم نے راؤ راجہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر نذر گذرانی اور مبارک باد دی نذر منظور ہو ئی چار گھڑی تک محفل رقص میں حاضر رہا۔عبداللہ کا ناچ تھا۔
15 ستمبر کو والد کا خط قاصد لایا کہ نواب فیض علی خاں صاحب بہادر نے وفات پائی۔اسی روز راؤصاحب کے پاس جاکر رخصت ہوا۔راؤ صاحب نے خلعت دے کر فرمایا کہ جب چاہوآؤ تمہارا گھر ہے۔‘‘5
اس اندراج سے اندازہ ہو تا ہے کہ طامس 17 اگست سے 15 ستمبر تک الور میں رہے۔الور سے متعلق ان کی ڈائری اہم حوالہ ہے اس لیے اس کی متعلقہ عبارت پوری نقل کردی۔اتفاق یہ کہ الور کے مشہور حکم راں مہاراجہ شیودان سنگھ کی پیدائش انھیں دنوں میں ہوئی اس طرح مہاراجہ کی تاریخ پیدائش کے لیے یہ ایک معاصر دستاویز بن گئی۔
نواب صاحب کی وفات کے بعد طامس پھر اپنی ملازمت پر واپس چلے گئے۔لیکن اس کے بعد جلد ہی 9مئی 1846 کو طامس نے اپنی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور اپنی جگہ اپنے بھائی الگزینڈر ہڈرلی کو ملازم کروا دیا۔6 اور خود دوسرے علاقوں میں روزگار تلاش کر نے لگے۔طامس کا اپنا مستاجری کا کام تھا،اس کے سلسلے میں جھجر آنا رہتا تھا۔ایسے ہی کسی سفر میں ایک مرتبہ جھجر آئے تو یہاں نواب صاحب نے ان کی منصر می کے زمانے کا حساب مانگ لیا۔ لیکن طامس پہلے ہی حساب کرکے صافی نامہ لے چکے تھے اس لیے کوئی مسئلہ نہیں پیدا ہوا۔7
طامس نے ملازمت کی تلاش میں اپنی جد و جہد کااپنی ڈائری میں تفصیلی تذکرہ کیاہے۔وہ نوکری کی تلاش میں کئی جگہ گئے، دہلی میں نواب اکبر علی خاں کے ذریعہ بھی کوشش کی لیکن انہیں ملازمت کی جگہ نئے نئے تجربات ہی ملتے رہے۔ آخر ایک مرتبہ مایوسی کے عالم میں لکھا کہ’’مگر ہمارے مقسوم آج کل کوئی روزگار نہیں‘‘۔8
کافی دن کی تلاش وجستجو اور بڑی تگ دوکے بعد بھی ان کو کوئی معقول روزگار نہ مل سکا آخر پھر جھجر میں ہی نوکری کرنی پڑی اور اس دفعہ وہی نوکری کرنی پڑی جس سے انکار کرکے مرحوم نواب صاحب کو پہلے ناراض کر چکے تھے یعنی بڈھوانہ کی تحصیل داری۔ 6 مارچ 1848 کو اسی بڈھوانہ میں تحصیل داری کی نوکری کر لی۔ ڈائری میں لکھا ہے ’’6 مارچ کو نواب صاحب نے ہم کو تحصیل دار بڈھوانہ کا کیا۔ شکر خدا کا بعد مدت روزگار کی صورت نظر آئی۔‘‘9
طامس کے لیے یہ ملازمت کا فی مشکل ثابت ہوئی۔آئے دن سازشیں اور الزامات کا سلسلہ تھا۔ ایک مرتبہ تو نواب صاحب خود تحقیقات کے لیے بڈھوانہ آئے۔ طامس کی گرفتاری کا بھی حکم دیا۔ با ضابطہ فوجی پہرہ میں حساب ہوا۔ طامس کے بقول وہ اس میں بچ گئے لیکن ان پر24ہزار روپیہ ہرجانہ عائد ہوا۔10اس واقعہ کے بعد 17،فروری 1851میں طامس نے اس ملازمت سے دوبارہ استعفیٰ دے دیا۔ نواب صاحب ان کا استعفیٰ منظور نہیں کر رہے تھے لیکن طامس صاحب دہلی آکر بیٹھ گئے۔نواب صاحب کومجبورا ان کااستعفی قبول کر کے ان کو صافی نامہ دینا پڑا۔اس وقت نواب صاحب کسی وجہ یا غالبا کسانوں کی بچول(دھرنا یا ہڑتال) کی وجہ سے دباؤ میں تھے طامس نے اس کا فائدہ یہ اٹھایا کہ اپنے والد کے لیے تا حیات پنشن لکھوا لی۔11
15جولائی 1852 کو طامس پھرجھجر میں ملازم ہوئے اور اس دفعہ باول کے تحصیل دار مقرر ہوئے۔ طامس کی ڈائری میں لکھا ہے کہ
’’شکر اس خالق اور رزاق کا کہ آج مدت کے بعد صورت روزگار نظر آئی۔یعنی نواب صاحب نے ہم کو تحصیل دار پرگنہ باول کا کیا۔‘‘12
17 مئی1854 میں طامس نے جھجر کی ملازمت ترک کردی اور جے پور کے قریب کھیتڑی کے مختار ہو گئے۔ 1855 میں لارڈ لارنس نے ڈھائی سو روپیہ ماہوار پر انھیں گوپال گڑھ (علاقہ میوات) کا تحصیل دار مقرر کیا گیا۔1862 میں وہ ڈپٹی کلکٹر ہو گئے اور ان کا تبادلہ الور ہو گیا۔پھر اسی عہدے پر بھرت پور پہنچے اور یہاں مہتمم مال گذاری میں صدر مقرر ہوئے 400 روپیے تنخواہ مقرر ہوئی۔ 1874 میں رٹائرڈ ہوئے اور میرٹھ میں مستقل سکونت اختیار کر لی وہیں 1891 میں ان کی وفات ہو گئی۔جارج پیش شور جو ان کے بہنوئی بھی تھے انھوں نے قطعہ تاریخ وفات کہا۔ 
طامس اردو کے بہترین نثر نگار تھے جس کا ثبوت ان کی ڈائری ہے۔وہ اردو کے شاعر بھی تھے نثار احمد فاروقی نے لکھا ہے کہ وہ عارف کے شاگرد تھے لیکن اس کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔13 البتہ ان کی ڈائری میں عارف سے ملاقات کا تذکرہ ہے۔ لکھا ہے:’’22 اکتوبر1847، کو سوارہو کر دہلی آیا اور لالہ اجودھیا پرشاد کے مکان پر قیام کیا اور نواب زین العابدین خاں عارف سے ملاقات کی۔‘‘14
مرزا غالب سے بھی یقیناًتعلق تو رہا ہوگا چونکہ ان کے والد مرزا کے پرانے دوست تھے۔15 اور چھوٹے بھائی ان کے شاگر دبھی تھے اور باہم خط وکتابت بھی تھی اور یہ خود نواب زین العابدین خاں عارف سے ملنے بھی جاتے تھے جس کا ذکر ان کی ڈائری میں بھی ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ غالب کی ان سے زیادہ قربت نہیں تھی اس لیے غالب نے یوسف مرزا کے نام ایک خط میں لکھا ہے۔
’’خدا کی قسم طامس ہڈرلی صاحب سے میری ملاقات نہیں ہے۔ ہاں الک صاحب سے ہے سو ان کے نام کا خط کھلا ہوا تم کو بھیجتا ہوں۔ پڑھ کر بند کر کر ان کو دو اور ان سے ملو اور جو کچھ وہ کہیں مجھ کو لکھو۔‘‘16
طامس ہڈرلی اردو کے نثر نگار ہونے کے ساتھ اردو کے شاعر بھی تھے۔کسی تذکرہ نگار نے بطور شاعر ان کا ذکر نہیں کیا ہے۔پروفیسر نثار احمد فاروقی نے ان کی ڈائری کے ساتھ ان کا ایک انتخاب کلام بھی شائع کیا ہے جو کسی انگریز نے کیا تھا لیکن ان کا نام درج نہیں ہے۔ان کی شاعری کے بارے میں انھوں نے لکھا ہے کہ ان کے کلام میں کوئی خاص خوبی نہیں ہے۔اس کی اہمیت یہی ہے کہ وہ ایک اینگلو انڈین شاعر کا کلام ہے۔اور اس کی دریافت سے ان شاعروں کی فہرست میں اضافہ ہو جاتا ہے جو غیر ملکی خمیر کے تھے مگر انھوں نے ہندستان میں رہ کرایسی محنت اور محبت سے اردو زبان کی تحصیل کی تھی کہ اس میں بے تکلف شعر کہہ سکتے تھے۔17
دل چسپی کے لیے ان کے چند اشعار ذیل میں نقل کیے جاتے ہیں ان میں معنی آفرینی کی کمی تو ہے لیکن لطف زبان قابل قدر ہے ؂
بنا لیتے ہیں دیوانہ کوئی کیسا ہی عاقل ہو
وہ کیا جادو بھرا ہے شہر حسن آباد کیا جانے
مثل مشہور ہے طامس کہ’جی خوش تو جہاں خوش ہے‘
خوشی گر سارا عالم ہو دل ناشاد کیا جانے
چاہ کے تم کو یہ طامس نے نتیجہ پایا
ہوئے عزت کے کئی،جان کے خواہاں کتنے
مت جا طیش میں پیارے،نازک بدن ہے تیرا
ڈھلتا ہے دن ٹہر جا،ہے آفتاب منہ پر
دانتوں پہ تیرے اختر قربان لاکھ دل سے
صدقے ہزار جاں سے ہے ماہ تاب منہ پر
میرے پہلو سے جو اٹھ کر وہ دل آرام گیا
صبر وہوش وخردوطاقت و آرام گیا
طرفہ دکھلائی یہ پستی و بلندی اس نے
ہم گھر اس کے گئے وہ لب بام گیا
ٹوکتا ہے تو مجھے کس لیے ہر بار رقیب
اس کے کوچے میں گیا میں،تجھے کیا کام،گیا
باغ ہستی میں یہ مخلوق ثمر ہیں طامس
پختہ و تر کوئی پژمردہ و خام گیا
اڑ گئی نیند کہ ایک پل نہیں لگتی ہے پلک
جا لڑی آنکھ یہ کس طالع بے دار سے آج
دل کو توڑا میرے،گھر تھا یہ ترا،خوب کیا
اپنے گھر کا تو مختار،برا کیا مانوں
اور جی چاہے تو دوچار سنالے پیارے
تیری الفت سے ہوں لاچار، برا کیا مانوں
نہ پھر تو مانگ کے کوچے میں آدھی رات کو اے دل
زبان شانہ سے آتی ہے یہ صدا تو کون ہے
لالہ چمن میں کشتہ ہے تیرے دہان کا
لاکھا جما ہے کیا ہی غضب رنگ پان کا
چکر میں ہیں جسے مہ و خورشید دیکھ کر
ہوں گے بڑے ستم جو یہ بالا ہے کان کا
اوڑھا ہے چاند تارے کا اودا دوپٹہ آج
پیارے زمیں ہو کیوں نہ جواب آسمان کا
کیا ہی لسّانی سے باتوں میں وہ الجھاتا ہے
اللہ اللہ رے کافر تری تقریر کے پیچ
عقل کہتی ہے میں حیران ہوں جاؤں تو کدھر
عشق لینے نہیں دیتا مجھے اوسان کہیں
صدمہ عشق سے سب ہو گئے درہم برہم
دل کہیں،ہوش کہیں،عقل کہیں،جان کہیں
چھوڑ کر یار کے کوچے کو پھروں صحرا میں
کوئی مجنوں کی طرح میں بھی ہوں نادان کہیں
تاخت تاراج کیا تیغ نگہ نے دل کو
کچھ ہمیشہ سے نہ تھا ملک یہ ویران کہیں
عاشق ہوں ایک ایسے دل ربا پر
الفت جسے،نہ ڈھب دل بری کا
دن کو بھی وہی ذکر وہی شب کو تصور
اے دل تو عجب ذاکر و شاغل نظر آیا
شرم کب تک بس خدا کے واسطے توڑو حجاب
یہ بھی کوئی بات ہے صاحب تکلم زیر لب
فقیری بھیس،طامس نام،عرب کا یا عجم کا ہے
مگر ہندوستاں کا ہے نہ یاں کا ہے نہ واں کا ہے
حواشی
(1) اردو کا ایک ہند برطانوی شاعر اور اس کا روزنامچہ، از نثار احمد فاروقی،مشمولہ مجلہ نقوش،لاہور،فروری 1961،ص27
(2) رام بابوسکسینہ:یوروپین اینڈانڈویوروپین پویٹس آف اردو اینڈ پرشین،نول کشور پریس،1941،ص70
(3) اردو کا ایک ہند برطانوی شاعر اور اس کا روزنامچہ،ص25
(4) ایضا،ص25
(5) ایضا،ص24-25
(6) ایضا،ص27
(7) ایضا،ص27
(8) ایضا،ص29
(9) ایضا،ص30
(10) ایضا،ص33
(11) ایضا،ص33
(12) ایضا،ص35
(13) یوروپین اینڈانڈویوروپین پویٹس آف اردو اینڈ پرشین، ص70
(14) ایضا،ص29
(15) مرزا غالب:غالب کے خطوط،مرتبہ خلیق انجم،غالب انسٹی ٹیوٹ،دہلی ص 2/2-781
(16) ایضا،ص 2/782
(17) اردو کا ایک ہند برطانوی شاعر اور اس کا روزنامچہ،ص13

Dr. Mufti Mohammad Mushtak
Assistane Prof. Dept of Islamia Studies
Jamia Millia Islamia

New Delhi - 110025


قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

18/10/18





سرسید کے پنجاب کے پانچ سفر
اصغر عباس


1987 میں’سرسید اقبال اور علی گڑھ‘ کے عنوان سے مونوگراف شائع ہوا اس میں سرسید کے پنجاب کے تین سفر کا ذکر ہے لیکن علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میرے لیے انیسویں صدی کے علم وخبر کا بہترین سرچشمہ ہے جس پر میں ایک پیاسے کی طرح پہنچتا ہوں۔ اس سے معلوم ہوا کہ سرسید نے پنجاب کے تین نہیں پانچ سفر کیے تھے۔ یہاں ان کا مختصر احوال پیش کررہا ہوں۔
پنجاب کی سرزمین سرسید کے قدوم میمنت لزوم سے پہلی بار 1873 میں سرفراز ہوئی۔ وہ 25 دسمبر 1873 کو بنارس سے جہاں وہ سب ججی کے عہدہ پر مامور تھے، علی گڑھ آئے اور یہاں سے 25 دسمبر 1873 کی ڈاک گاڑی سے لاہور کے لیے روانہ ہوئے۔اس سفر میں ان کے ہم کاروں میں مولوی سمیع اللہ خاں، سید محمد محمود، سید زین العابدین، مرزا عابد علی بیگ، محمد حمید اللہ خاں، سید ظہور حسین، خواجہ محمد یوسف، منشی وجیہ الدین ہیڈماسٹر بلند شہر، منشی محمد یار خاں اور منشی مشتاق حسین ساتھ تھے۔ یہ ٹرین 26 دسمبر کو صبح دس بجے امرتسر پہنچی۔یہاں سرسید اور ان کے رفقا کا استقبال کرنے والوں میں آغا کلب عابد، خان محمدشاہ، میاں محمد خاں، شیخ الٰہی بخش سوداگر، شیخ غلام حسین، شیخ خدا بخش، منشی مہدی علی خاں، میاں غلام حسن، میاں اسد اللہ خاں، شیخ غلام صادق، حاجی محمد سیف الدین، میاں یوسف شاہ، وزیر شاہ اور شیخ سکندر خاں تھے۔ ان عمائدین امرتسر نے سرسید اور ان کے قافلہ کی شیرینی سے تواضع کی۔
26 دسمبر 1873 کو یہ ٹرین بارہ بجے دن میں لا ہور پہنچی۔ یہاں سرسید اور ان کے احباب کا خیرمقدم کرنے والوں میں برکت علی خاں، سردار محمد حیات خاں، نواب عبدالمجید خاں، شیخ غلام محمد سبحانی، ڈاکٹر رحیم بخش، فقیر سید قمر الدین، منشی محمد لطیف،سید فضل شاہ ریلوے ڈپارٹمنٹ، منشی محمد شمس الدین ایڈیٹر پنجابی اخبار، سیدنادر علی شاہ ایڈیٹر کوہ نور، منشی ہر سکھ رائے مالک مطبع کوہ نور، مولوی احمد شفیع چیف محرر، وہاب الدین ہیڈ ماسٹر، سید عالم شا ہ تحصیلدار، محمد حسین آزاد اور مولانا الطاف حسین حالی اسٹیشن پر موجود تھے۔
سرسید اور ان کے رفقاء کا قیام بازار انارکلی میں شیخ رحیم بخش سوداگر کی کوٹھی میں تھا۔ 26 دسمبر 1873 کی شام میں مولوی سمیع اللہ خاں اور سید محمود نے بادشاہی مسجد، مسجد وزیر خاں کے علاوہ رنجیت سنگھ کی چھتری اور اس کے دیگر مقامات کو دیکھا۔ 28 دسمبر 1873 کو سرسید اوران کے ساتھیوں نے شالی مار باغ دیکھا۔ 
29 دسمبر 1873 کو صدر کمیٹی کاجلسہ ساڑھے بارہ بجے دن میں راجہ دھیان سنگھ کے دیوان خانے میں ہوا۔ اس جلسہ میں جدید اردو تنقید کے بانی مبانی مولانا الطاف حسین حالی موجود تھے۔ وہ حیات جاوید میں لکھتے ہیں :
’’جس گرم جوشی کے ساتھ اہل لاہور نے ریلوے اسٹیشن پرسرسید اور ان کے ہمراہیوں کا استقبال کیا اور جس چاؤ اور امنگ اور فیاضی اور فراخ حوصلگی کے ساتھ ان کی مدارات کی اور جس شوق سے لوگ بیرونِ لاہور سے سرسید کی آمد سن کر لاہور میں آئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سرسید اور ان کے کام کی عظمت کا نقش عموماً اہل پنجاب کے دلوں پر بیٹھا ہوا ہے۔ مگر 29 دسمبر کو جو لکچر سرسید نے راجہ دھیان سنگھ کے دیوان خانے میں جہاں کئی ہزار آدمیوں کا مجمع تھا، دیا اس کا سماں مجھے ہمیشہ یاد رہے گا۔ سامعین پر ایک سکتے کا عالم تھا اور کوئی ایسا نہ ہوگا جو زار و قطار نہ روتا ہو اور جو اپنی بساط سے زیادہ چندہ دینے پر آمادہ نہ ہو۔‘‘
اسی جلسہ میں ہمارے زمانے کے رسالہ ’ادبی دنیا‘ لاہور کے ایڈیٹر صلاح الدین احمد کے والد احمد بخش بھی موجود تھے۔ وہ ایک اسکول میں ہیڈ ماسٹر تھے لیکن انھوں نے اپنی بساط سے کہیں زیادہ زر تعاون پانچ سو روپیہ مدرسۃ العلوم کو دیا تھا۔ اس جلسہ کو مولوی سمیع اللہ خاں، سید محمود اور سردار محمد حیات خاں نے بھی خطاب کیا۔ جلسہ کے اختتام کے بعد سردار محمد حیات خاں کی رہنمائی میں سرسید اوران کے ساتھیوں نے جہانگیر کا مقبرہ دیکھا۔
30 دسمبر 1873 کو ’انجمن اشاعت مطالب مفیدہ پنجاب‘ نے سرسید کے اعزاز میں جلسہ کیا۔ اس زمانے میں اس کے سکریٹری سنسکرت اور انگریزی کے عالم نوین چندر تھے۔ انھوں نے سرسید کا استقبال کیا۔ انجمن کی جانب سے محمد حسین آزاد نے سرسید کی خدمت میں سپاس نامہ پیش کیا جس میں ان کی دانشورانہ خدمات کا بڑے والہانہ انداز میں اعتراف کیا گیا ہے۔ سپاس نامہ کی تحریر محمد حسین آزاد کی ہے۔ اسی سفر کے دوران سرسید کی ملاقات اقبال کے استاد سید میر حسن سے ہوئی۔
31 دسمبر 1873 کو سرسید ا ور ان کے رفقا 8 بجے کی میل ٹرین سے لاہور سے علی گڑھ کے لیے روانہ ہوئے۔ ان لوگوں کے ساتھ برکت علی خاں امرتسر تک آئے۔ سرسید اور ان کے ساتھی آغا کلب عابد کی کوٹھی میں فروکش ہوئے۔ امرتسر میں سرسید اپنے احباب محمد شاہ خاں، خواجہ محمدجان، شیخ غلام حسن منشی، محمد مہدی خاں اور سردار دیال سنگھ کے مکانوں پر ان سے ملنے کے لیے گئے۔
سرسید دربار صاحب بھی گئے۔ دربار صاحب میں جہانگیر کے مقبرے کے قیمتی پتھر نصب ہیں جس نے اس زیارت گاہ کی زینت بڑھادی ہے۔ شب میں آغا کلب عابد کے یہاں رات کا کھانا کھاکر یہ حضرات علی گڑھ کے لیے روانہ ہوئے۔ امرتسر اسٹیشن تک آغا کلب عابد اور برکت علی خاں ساتھ آئے۔
دوسری بار سرزمین پنجاب 1884 میں سرسیدکے قدموں سے مفتخر ہوئی۔ اس سفر سے پہلے اردو میں نسائی تحریک کے قائد اول سید ممتاز علی کو 11 نومبر1883 کے خط میں سرسید لکھتے ہیں: 
’’میرا ارادہ ماہ دسمبر میں پنجاب آنے کا ہے مقصد صرف خلیفہ محمد حسن صاحب سے پٹیالہ میں، گورداس پور میں سردار محمد حیات خا ں سے ا ور لاہور میں آپ (سید ممتاز علی) سے اور برکت علی خاں سے ملنے کا ہے۔ غالباً ہمارے دوست محمد اسمٰعیل خاں رئیس دتاولی بھی ساتھ ہوں گے۔ میں تو مناسب نہیں سمجھتاکہ میرے وہاں آنے کی بابت کچھ زیادہ چرچا کیا جائے۔اس کی دھوم دھام کیا۔ ہاں اگر کالج کے لیے کچھ چندہ مل جائے تو جو دھوم دھام چاہو کرو۔‘‘
علی گڑھ سے 22 جنوری 1884 کو حاجی محمد اسمٰعیل رئیس دتاولی، سرسید کی بہن کے نواسے سید محمد علی، سرسید کے سفر نامہ پنجاب کے مرتب سید اقبال علی کے ہمراہ سرسید دہلی پہنچے۔ اس پارٹی میں یہاں اکرام اللہ خاں رئیس دہلی بھی شامل ہوگئے۔ 23 جنوری 1884 کو یہ حضرات لدھیانہ آئے۔ یہاں ان لوگوں کا قیام نواب علی محمد خاں کی کوٹھی میں تھا۔ 24 جنوری 1884 کو سرسید اور ان کے ہمراہی جالندھر کے لیے روانہ ہوئے۔ یہاں سرسید اور ان کے رفقاء کنور ہر نا م سنگھ اہلووالیہ کی کوٹھی میں ان کے مہمان ہوئے۔ 25 جنوری 1884 کو یہ قافلہ امرتسر کے لیے روانہ ہوا۔ یہاں ان کا قیام ہوٹل میں تھا۔ 27 جنوری 1884 کو سرسید اور ان کے ساتھی گورداس پور کے لیے روانہ ہوئے۔ یہاں سردار محمد حیات خاں نے ان کی میزبانی کی۔ 
گورداس پورمیں سرسید یہاں کے گوردوارے میں بھی گئے جہاں انھیں دستار اور خشک وتر میوے پیش کیے گئے جسے انھوں نے بڑے ادب و احترام سے لیا۔ 29 جنوری 1884 کو سرسید اور ان کی پارٹی دوبارہ امرتسر گئی اور اسی ہوٹل میں مقیم ہوئی۔ جہاں پہلے قیام کرچکی تھی۔ 
اس سفر میں سرسید اور ان کے ساتھیوں کا گذر لدھیانہ، جالندھر، گورداس پور اور امرتسر کے اسٹیشنوں سے ہوا اور ہر اسٹیشن پر سرسید کے فدائیوں اور چاہنے والوں کا ایک انبوہ کثیر ان کے استقبال کو موجود ہوتا تھا۔ اُن مقامات پر انھیں ڈھیروں سپاس نامے بھی پیش کیے گئے۔ 
30 جنوری 1884 کو سرسید اور ان کے ساتھی لاہور پہنچے۔ سید اقبال علی سرسید کے سفر نامہ پنجاب میں لکھتے ہیں: ’’لاہور کے ا سٹیشن پر ایسا سماں دکھائی دیا جیسا کہ الف لیلیٰ کے قصوں میں بیان ہوا ہے۔‘‘ یہاں سرسید سے ملنے سیال کوٹ سے اقبال کے استاد سید میر حسن بھی آئے تھے۔ اخبار انجمن پنجاب اپنی 9 فروری 1884 کی اشاعت میں لکھتا ہے : ’’مولوی سید احمد خاں بہادر 30 جنوری کی شام کو وارد لاہور ہوئے اور کڑی باغ میں مہاراجہ کپورتھلہ کی کوٹھی میں قیام فرمایا۔ اسی روز سے ان کی قیام گاہ زیارت گاہ بن گئی ہے۔‘‘ پنجاب یونیورسٹی لاہورمیں انھیں عصرانہ دیا گیا۔ جلسہ میں محمد حسین آزاد نے نظم پڑھی۔ لاہور کی متعدد تنظیموں نے انھیں مدعو کیا اور سپاسنامے پیش کیے۔ آغا محمد باقر کا بیان ہے کہ’’ ان سب سپاسناموں کو میرے باوا جان محمد حسین آزاد نے بڑی عقیدت سے لکھا تھا‘‘۔ ان میں پنجاب کی پردہ دار بیبیوں کی جانب سے جو سپاس نامہ محمدحسین آزاد نے لکھا تھا اس کے جہاں تہاں سے اقتباس پیش کررہا ہوں۔
’’یا حضرت، آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ملک پنجاب میں بہت تھوڑی بیبیاں پڑھی لکھی ہیں۔ گھر میں بیٹھی اللہ اللہ کرتی ہیں اوراسی نعمت میں خوش ہیں جتنا سنتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ہندوستان کے لوگوں کو بہت سمجھایاہے اور بہت جتایا ہے کہ یہ لوگ اپنی بد نصیبی سے جس مفلسی اور بدحالی میں پڑے ہیں یہ سب بے علمی کے سبب ہے۔ آپ کی ہدایتوں سے لوگ بہت سمجھ گئے اورتھوڑا ہو یا بہت ان باتوں کا خیال ہوگیا ہے۔ آپ نے سب کو بھلائی کا راستہ بتایا۔ خدا آپ کا بھلا کرے۔‘‘
ہم سنتے ہیں کہ آپ نے علی گڑھ میں ایک مدرسہ بنایا ہے۔ اس میں بہت لوگ بڑے بڑے علموں کی کتابیں پڑھتے ہیں ا ور بڑی عزت کی نوکریاں پاتے ہیں۔ اللہ آپ کی اور آپ کی اولادکی عزت بڑھائے۔
ہم نے سنا ہے کہ آپ نے بہت اچھی اچھی نئے نئے علموں کی کتابیں ان کے لیے تیار کرائی ہیں اور آپ اخبار بھی چھاپتے ہیں۔ ان کے پڑھنے سے لوگوں کی بہت آنکھیں کھل گئی ہیں اور دل بڑے ہوگئے ہیں۔ خدا آپ کی نیت میں برکت دے۔ 
ہم نے سنا ہے کہ آپ نے اپنے مدرسہ میں ہمارے بچوں کے لیے رہنے سہنے کے گھر اور کھانے پینے اور آرام کی سب چیزیں بہت اچھی طرح بنوا دی ہیں اور آپ اور آپ کے دوست ہر وقت ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور دین آئین، نماز روزے کے لیے بھی تاکید کرتے ہیں۔ اس بات کو سن کر جس طرح پہلے بچوں کو با ہر بھیجنے سے ہمارا جی ڈرتا تھا اب خاطر جمع ہوگئی ہے۔ اسی طرح آپ کا اور آپ کے بچوں کا اللہ نگہبان رہے۔
آپ جانتے ہیں کہ اولاد ماں باپ کو جان سے سوا پیاری ہے۔ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ ماں اپنے بچوں کو باپ سے کتنا زیادہ چاہتی ہے۔سمجھ لیجیے کہ ہمارے دل مردوں سے کتنا زیادہ آپ کو دعائیں دیتے ہوں گے۔ 
آپ پیر و مرشد ہیں،سید ہیں۔ آلِ رسول ہیں اور سب کی بھلائی کے لیے محنت کرتے ہیں۔ یہ نذرانہ غریبانہ کہ ماتھے کا پسینہ اور آنکھوں کا تیل ٹپکا کر جمع کیا ہے۔ آپ کے لائق نہیں لیکن مان کا پان ہے اور سچے دل کی نیاز ہے۔ امیدوار ہیں کہ قبول ہو۔‘‘
سرسید کے دوسرے سفر پنجاب کی مفصل روئداد سرسید کا سفر نامہ پنجاب مرتبہ سید اقبال علی میں موجود ہے۔اس کے علاوہ محرم علی چشتی کے ا خبار رفیق ہند، پنجابی اخبار، رہبرہند، اخبار کوہ نور، اخبار انجمن پنجاب، عربی اخبار شفاء الصدور اورانگریزی اخبار ٹریبیون میں اس سفر کی تفصیلات موجود ہیں۔
4 فروری 1884 کو سرسید اور ان کے احباب لاہور سے علی گڑھ کے لیے روانہ ہوئے۔ 4بجے شام کو یہ لوگ جالندھر پہنچے اور یہاں سردار بکرمان سنگھ کی کوٹھی میں ان کے مہمان ہوئے۔یہاں سرسید نے لکچربھی دیا اور انھیں سپاسنامہ بھی پیش کیا گیا۔
جالندھر سے 4 فروری 1884 کی شب میں سرسید اوران کے رفقاء پٹیالہ کے لیے روانہ ہوئے۔ رات میں یہ لوگ راج پورہ اسٹیشن پہنچے اور یہاں ریاست پٹیالہ کے ڈاک بنگلہ میں قیام کیا اور علی الصباح پٹیالہ کے لیے روانہ ہوئے۔ یہاں سرسید کے آنے کا مقصد خلیفہ سید محمد حسن اور خلیفہ سید محمد حسین سے ملاقات تھی۔یہ دونوں حضرات علی گڑھ کالج اور سرسید تحریک کے زبردست حامیوں میں تھے۔ پٹیالہ میں سرسید اور ان کے احباب خلیفہ سید محمد حسن کی کوٹھی میں مقیم اور ان کے مہمان ہوئے۔ یہاں دو دن ٹھہرنے کے بعد6 فروری 1884 کو مظفر نگر کے لیے روانہ ہوئے۔ اس شہر میں نواب مصطفی خاں شیفتہ کے بیٹے نواب اسحاق خاں انڈین سول سروس کے عہدہ پر مامور تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ لاہور سے مراجعت کے بعد سرسید اور ان کے رفقاء مظفر نگر میں ایک دن قیام کریں یہ لوگ نواب اسحاق خاں کی کوٹھی میں فروکش ہوئے۔ انھوں نے بڑی محبت سے پارٹی کی تواضع کی۔ مظفر نگر کے اسکول میں سرسید کا لکچر ہوا اور انھیں عربی اور اردو میں سپاسنامے پیش کیے گئے۔ دوسرے دن یہ لوگ مظفر نگر سے علی گڑھ پہنچے۔
سرسید کا پنجاب کا تیسرا سفر محمدن ایجوکیشنل کانفرنس کے تیسرے اجلاس لاہور میں شرکت کے لیے تھا۔اس اجلاس کے صدر سردار محمد حیات خاں تھے۔ یہ 27دسمبر 1888 سے 30 دسمبر 1888 تک لاہور میں منعقد ہوا۔ اس کانفرنس میں 347 ممبر اور کئی سو وزیٹر شریک ہوئے۔ جلسہ میں سرسید نے تعلیم نسواں کے سلسلہ میں مفصل تقریر کی۔ نسائی تحریک کے قائد اول سید ممتاز علی بھی کانفرنس میں شریک تھے۔ کانفرنس میں کالجوں کے غریب طلباء کی امداد کے لیے کمیٹیاں بنائی گئی اور شادیوں کے اخراجات میں تخفیف کے لیے تجاویز پیش ہوئیں۔ کانفرنس میں مدرسۃ العلوم کے ہر دل عزیز پرنسپل تھیوڈوربک بھی شریک تھے جنھوں نے انگریزی میں تقریر کی جس کا برجستہ اردو ترجمہ شیخ عبدالقادر نے کیا۔ سرسید نے شیخ عبدالقادر کی نفیس اردوکی بڑی تعریف کی اور انھیں گلے لگا لیا۔
محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے تیسرے اجلاس میں شرکت کے لیے سرسید 25 دسمبر 1888 کو علی گڑھ سے لاہور کے لیے روانہ ہوئے۔ راستہ میں اکثر ممبران کانفرنس اس گاڑی پرسوار ہوتے گئے۔ امرتسر اسٹیشن پر سرسید کے وفد کے لیے حاضری چنی گئی۔ جب یہ ٹرین لاہور اسٹیشن میں داخل ہوئی تو اسٹیشن پر ہزاروں افراد سرسید کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ان پر پھولوں کی اتنی بوچھار کی گئی کہ سارا لاہور اسٹیشن پھولوں سے ڈھک گیا۔ اس کانفرنس کے مہمانوں کی رہائش اورآسائش کا اہتمام سرسید کی سائنٹفک سوسائٹی کے ممبراوران کے دوست محمد برکت علی خاں نے کیا تھا۔ مہاراجہ کپورتھلہ کی کوٹھی میں سرسید اور ان کے ساتھیوں کے قیام کا انتظام تھا۔ اس میں تقریباً ساٹھ مہمان فروکش تھے یہ کوٹھی مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ایک فرانسیسی جنرل نے بنائی تھی۔ جس کمرے میں سرسید مقیم تھے وہاں ہمہ وقت ان کے پنجابی دوستوں کا ہجوم رہتا تھا۔ اس سفر میں بھی لاہور کے کالجوں کے طلبا نے انھیں سپاس نامے پیش کیے۔ سرسید نے اعتراف کیا ’’محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس لاہور کا یہ اجلاس خوبیوں اورشان و شوکت اور انتظام کے لحاظ سے سب کانفرنسوں سے اول رہا اور اسی طرح وہ عملی کارروائی میں بھی قابل توصیف اور لائق تقلید ہوا۔‘‘
سرسید کا پنجاب کا چوتھا سفر اپریل 1894 میں ہوا۔ لاہور میں مدرسۃ العلوم علی گڑھ کے حامیوں اور مخلصین نے سرسید کو لاہور آنے کی دعوت دی تھی۔ اس وفد میں ڈپٹی نذیر احمد، مولوی ذکاء اللہ، محمد مزمل اللہ خاں، مرزا عابد علی بیگ، ذکاء اللہ کے بیٹے عنایت اللہ بی اے، نذیر احمد بی اے اور سرسید کے مخلص رفیق سیدممتاز علی جن کے نام سرسید کے سب سے زیادہ خطوط مکاتیب سرسید میں موجودہیں، شامل تھے۔
یہ ڈیپوٹیشن 14 اپریل 1894 کو علی گڑھ سے لاہور کے لیے بمبئی میل سے روانہ ہوا اور 15 اپریل 1894 کو لاہور پہنچا۔ اسٹیشن پر تقریباً ڈھائی تین ہزار سرسید کے عقیدت مندوں نے ان کا استقبال کیا۔ سارا اسٹیشن پھولوں کا بچھونا ہوگیا تھا۔ اسٹیشن سے سرسید کی فرودگاہ تک دونوں طرف لوگ جھنڈیاں لیے کھڑے تھے۔انجمن حمایت ا سلام لاہور کے سکریٹری بھی بہ نفس نفیس اس وفدکے استقبال کے لیے کھڑے تھے اور اس ڈیلیگیشن کے اعزاز کے لیے جتنے جلسے ہوئے ان سب میں وہ شریک تھے۔ انجمن حمایت ا سلام کے کارکنان اور انجمن کے کالجوں کے طلباء اسٹیشن سے سرسید کی قیام گاہ تک ساتھ گئے۔اس وفد کے اعزاز میں جو اجلاس ہوئے ان میں پہلے جلسہ کے صدر سردار محمد حیات خاں تھے اور دوسرے اجلاس کے صدر محمد شاہ دین ہمایوں تھے۔ مذکورہ جلسوں میں سے کسی جلسہ میں بہ سبب ناسازیِ طبع سرسید شریک نہ ہوسکے۔ ان کو جتنے سپاسنامے پیش کیے گئے ان کے بھی وہ جواب نہ دے سکے۔ اپریل کے گرم موسم میں وہ علی گڑھ سے لاہور بہ حالت علالت گئے تھے تاکہ علی گڑھ کالج کے لیے ابیض نورانی جمع ہوسکے۔ اس سلسلے میں ڈیپوٹیشن کو بڑی کامیابی ہوئی اور وزنی جیب کے ساتھ وہ علی گڑھ واپس ہوا۔
سرسیدکے چوتھے سفر پنجاب کے دوران پنجاب کے بعض اخبارات نے اعتراض کیا تھا کہ اہل پنجاب کو مدرسۃ العلوم کے بجائے پنجاب کے اسکولوں کی امداد کرنی چاہیے۔ سرسید کواس کا بھی افسوس تھا کہ لوگوں کے خیال میں معلوم نہیں کس سبب سے یہ بات جم گئی تھی کہ حامیان مدرسۃ العلوم مدرسہ حمایت الاسلام کے مخالف ہیں۔ سرسیدنے لکھا ہے کہ وہ جو خود’’جو مسلمانوں کی تعلیم و ترقی کی کوشش میں مصروف ہیں کسی ایسے کام سے جو مسلمانوں کی تعلیم و ترقی اورتہذیب سے متعلق ہو، مخالفت ہونی محالات سے ہے، مگر ہاں یہ ان کی مستقل رائے ہے کہ مسلمانوں کی ترقی اعلیٰ تعلیم و تربیت سے ہوگی۔‘‘ لیکن پنجاب میں سرسید کی مخالفت کا سب سے بڑا مرکز محرم علی چشتی کا اخبار رفیق ہند تھا حالانکہ وہ سرسید کے دوسرے سفر پنجاب کے دوران ان کے ا ستقبال میں پیش پیش تھے اور انھوں نے اس موقع پر اپنے اخبار کا خصوصی ضمیمہ بھی شائع کیا تھا جس میں سرسید کو بے نظیر رہنما، اپنی صدی کا سب سے جلیل ا لقدر عالم اور موجودہ اور آئندہ نسلوں کا قائد بتایا گیا تھا۔ لیکن 1894 میں وہ سرسید کے جانی دشمن بن گئے تھے۔ اس انقلاب احوال کا معمہ ابھی تک لاینحل ہے۔ میری نظر سے رفیق ہند کے اس دور کے جتنے شمارے گذرے ہیں ان میں سرسید کے مذہبی افکار کو بنیاد بنا کر ان پر لعن طعن کی گئی ہے۔ لیکن سرسید کے مذہبی افکار تو 1870 سے معلوم و معروف تھے۔ اغلب خیال ہے کہ انھیں سرسید سے کوئی ذاتی توقع تھی جو پوری نہ ہوئی ہو اور اسے انھوں نے مذہبی رنگ دے دیا ہو۔ اورسرسید اوران کے احباب اخبار رفیق ہند کی ملاحیوں کا نشانہ بنے ہوں لیکن ان سب کے باوجود پنجاب میں سرسید کی مقبولیت میں شمہ بھر کمی نہیں آئی اور اہل پنجاب نے ان سے وعدہ لیا کہ وہ موسم سرما میں سید محمود اور محسن الملک کے ساتھ آئیں گے۔پنجاب کے اخبار ’اخبار عام‘ نے سرخی جمائی ’’سرسیدپنجاب سے فائز المرام واپس ہوئے‘‘ یہی نہیں علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں سرسید نے انجمن حمایت اسلام لاہور کا ان کے برادرانہ برتاؤ کا شکریہ ادا کیا ہے۔
19 اپریل 1894 کو مدرسۃ العلوم کا یہ وفد لاہور سے علی گڑھ کے لیے روانہ ہوا۔ آٹھ بجے امرتسر پہنچا۔ ایک دن وہاں قیام کیا۔ 20 اپریل 1894 کو جالندھر پہنچا وہاں ایک روز ٹھہر ا۔ جالندھر سے قریب بارہ بجے رات کو علی گڑھ پہنچا۔ دوران سفر ہوشیار پور، گجرات، راولپنڈی، سیال کوٹ، جموں اور ملتان کے سرسید کے عقیدت مندوں نے ان سے التجا کی کہ مدرسۃالعلوم کا یہ وفد مذکورہ مقامات پر بھی آئے لیکن ابتدائے سفر سے سرسید کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ وفد ان جگہوں پر نہ جا سکا۔ اثنائے سفر میں جب ٹرین پانی پت پہنچی تو یہاں تقریباً چار پانچ سو افراد سرسید کے چاہنے والے موجود تھے۔ انھوں نے نہایت تکلف سے اس وفد کی تواضع کی۔
سرسید پانچویں دفعہ انجمن حمایت اسلام لاہور کے جلسہ میں شرکت کے لیے پنجاب گئے۔ یہ جلسہ 22 اور 24 فروری 1895 کو لاہور میں ہوا۔سرسید، محسن الملک، حاجی محمد اسماعیل، رئیس دتاولی، مولانا شبلی اور خواجہ غلام الثقلین 20 فروری 1895 کو علی گڑھ سے لاہور کے لیے روانہ ہوئے۔ اسی اثنا میں پانی پت اور کرنال میں سرسید کے معتقدین نے ان سے درخواست کی کہ وفد ایک دن کرنال میں قیام کرے۔ 20 فروری 1895 کو شام سات بجے یہ ڈیلیگیشن کرنال پہنچا۔یہاں اس کا قیام رستم علی خاں کی کوٹھی میں تھا۔ پانی پت سے مولانا الطاف حسین حالی مع دیگر اعزہ کے کرنال آئے۔ سجاد حسین کرنال میں ڈپٹی انسپکٹر مدارس تھے۔ دورانِ قیام وہ سرسید اور ان کے رفقاء کے ساتھ ساتھ رہے۔ 21 فروری 1895 کو رستم علی خاں کے دوسرے مکان میں وفد کے لیے خیر مقدمی تقریب ہوئی۔ جلسہ کی صدارت خان بہادر الطاف حسین نے کی۔ مولانا الطاف حسین حالی نے کرنال اورپانی پت کی جانب سے سرسید کی خدمت میں سپاسنامہ پیش کیا۔ میرا قیاس ہے کہ یہ سپاس نامہ حالی کا ہی تحریر کردہ تھا۔ لیکن یہ ان کے کلیات نثر حالی میں موجود نہیں ہے۔ اس سپاسنامہ کا جواب سرسید نے دیا۔ اس کے بعدمحسن الملک نے تقریر کی۔ خواجہ سجاد حسین نے کرنال اور پانی پت کی جانب سے علی گڑھ کالج کے لیے زر تعاون پیش کیا۔ 21 فروری کی شام کو یہ ڈیپوٹیشن لاہور کے لیے روانہ ہوا اور 22 فروری کی شام کو ساڑھے چار بجے لاہور پہنچا۔ استقبال کے لیے انجمن حمایت اسلام کے سکریٹری مولوی شمس الدین ا سٹیشن پر چشم براہ تھے۔ ان کے ہمراہ انجمن حمایت اسلام کے معززین اور کارکنان کے علاوہ انجمن اسلام کے کالجوں کے طلبا کا ہجوم تھا۔
لاہور پہنچ کر سرسید کی طبیعت ناساز ہوگئی۔ وہ انجمن کے جلسوں میں شریک نہ ہوسکے۔ محسن الملک نے 24 فروری 1895 کو انجمن کے جلسہ کو خطاب کیا۔ ’’انجمن حمایت اسلام کے دسویں سالانہ جلسہ کی مختصر کیفیت‘‘ کے عنوان سے پنجاب گزٹ سیال کوٹ نے لکھا ’’یہ جلسہ بڑی خوبی کے ساتھ سر انجام ہوا۔ وہ عالی جناب سرسید احمد خاں، محسن الملک اور مولوی شبلی نعمانی کی تشریف آوری کی وجہ سے تھا۔ پچھلے جلسوں کی بہ نسبت ہجوم زیادہ تھا اورکامیابی بھی زیادہ ہوئی۔ اس جلسہ میں ایک ایسے مستقل سرمایہ کے فنڈ کی بنیاد پڑی جو انجمن حمایت اسلام کو زیادہ گدائی سے بچاوے گا وہ یہ کہ ایک فنڈ ’سرسید فنڈ‘ کے نام سے قائم ہوا ہے جس میں سو حصے دار مقرر کیے گئے ہیں۔ ہر ایک حصہ سو روپیہ کا ہے۔ پس اس حساب سے ہر حصہ دار سو سو روپیہ جمع کرکے انجمن حمایت اسلام کے سپرد کردے گا۔ اس سے دس ہزار جمع ہوجاوے گا جس سے انجمن ایک خاص جائداد خریدے گی اور انجمن حمایت اسلام کے کالجوں کو استقلال ہوجائے گا۔‘‘
علی گڑھ کالج کے وفد کی واپسی 24 فروری 1895 کو شام ساڑھے سات بجے لاہور سے ہوئی اور 25 فروری 1895 کو بارہ بجے یہ وفد علی گڑھ پہنچا۔
سرسید جس تحریک کے پیغام کو لے کر پانچ بار پنجاب گئے تھے وہ کوئی عارضی مصلحتوں اور جزوی اصلاحات یا ہنگامی ضروریات کے تحت پیدا نہیں ہوئی تھی وہ ایک تہذیبی تحریک تھی جس کا مقصد تمام تر زندگی کی تطہیر تھا۔ اس میں تغیر اور تسلسل دونوں پر نظر تھی۔ سرسید نے جو کچھ کیا اس سے بہتر طریقہ آج اکیسویں صدی میں بھی اب تک سامنے نہیں آیا۔ اس تحریک کا خیر مقدم اہل پنجاب نے بڑے جوش وولولہ سے کیا۔ حالی نے لکھا ہے کہ قومی خدمات کی داد جو سرسید کو ملنی چاہئے تھی اس کا حق پنجاب کے برابر کسی صوبے سے ادانہ ہوسکا۔
خدا کی برکتیں پنجاب اور پنجاب والوں پر
جنھوں نے ہر سفر میں تجھ کو آنکھوں پر بٹھایا ہے
(حالی)
مراجع و مآخذ:
1۔ حیات جاوید۔ الطاف حسین حالی۔اکادمی پنجاب لاہور
2۔ سرسید اقبال اور علی گڑھ۔ اصغر عباس۔ ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ 1987
3۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ 1873، مولانا آزاد لائبریری، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
4۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ1874،مولانا آزاد لائبریری، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
5۔ سرسید کا سفر نامہ پنجاب۔سید اقبال علی۔مجلس ترقی ادب لاہور
6۔ مکتوبات سرسید جلد دوم اسماعیل پانی پتی۔
7۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ1883، مولانا آزاد لائبریری، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
8۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ 1884، مولانا آزاد لائبریری، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
9۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ 1887،مولانا آزاد لائبریری، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
10۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ 1888، مولانا آزاد لائبریری، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
11۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ1889،مولانا آزاد لائبریری، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
12۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ 1893، مولانا آزاد لائبریری، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
13۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ 1894، مولانا آزاد لائبریری، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
14۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ 1895، مولانا آزاد لائبریری، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
15۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ 1896، مولانا آزاد لائبریری، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ
16۔ اخبار ’الوقت‘ گورکھپور، 1892،کریمیہ لائبریری،ا نجمن اسلام ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، بمبئی
17۔ اخبار ’گورکھپور‘، گورکھپور1893، کریمیہ لائبریری،انجمن اسلام ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، بمبئی
18۔ اخبار ’رفیق ہند‘، لاہور 1892،کریمیہ لائبریری،انجمن اسلام ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، بمبئی
19۔ مقالات محمد حسین آزاد۔ مجلس ترقی ادب، لاہور
20۔ مکتوبات آزاد، مجلس ترقی ادب، لاہور
21۔ کلیات نظم حالی۔ مرتبہ ڈاکٹر افتخاراحمد صدیقی، مجلس ترقی ادب، لاہور

Asghar Abbas
Gulshan Dost, Sir Syed Nagar
Civil Lines
Aligarh - 202002 (UP)

Mob.: 9358209974



قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

15/10/18

ندا فاضلی کے دوہے۔ مضمون نگار عبد السمیع





ندا فاضلی کے دوہے
عبد السمیع


ندافاضلی کی شہرت اور مقبولیت کا دائرہ بہت وسیع ہے اگر یہ کہا جائے کہ شہرت اور مقبولیت کا سفر ندا فاضلی سے زیادہ ان کی تخلیقات نے طے کیا ہے تو کچھ بے جا نہ ہوگا۔ میں نے اپنا مطالعہ ان کے دوہے تک محدود رکھا ہے۔ دوہا سنسکرت،اودھی اور ہندی کے اثر سے اردو میں آیا ہے۔ اس صنف کو کبیر، سور،تلسی، میرا، ان سے پہلے رحیم اور رسخان وغیرہ نے ایک خاص مقام پر لاکھڑا کیا تھا۔ ہندوستانی اصناف سخن میں دوہے کو وہی اہمیت حاصل ہے جو عربی اور فارسی میں غزل کو ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دوہا فنی اعتبار سے بھی غزل سے بہت قریب ہے۔غزل کا فنی امتیاز یہی ہے کہ اس کا ہر شعر اپنے آپ میں مکمل ہوتا ہے ، اگر غزل کے مطلع کو دوہا کے مقابلے میں رکھ کر دیکھیں تو سوائے تہذیبی وراثت اور عروض و بحر کے، دونوں میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ دوہا ہندی عروض کے ساتھ ہندوستان کی شعری ، لسانی اور تہذیبی وراثت کا پابند ہے جبکہ کلاسیکی اردو غزل کی شریانوں میں عربی اور فارسی شعروادب کا خون رواں ہے۔ موضوعاتی سطح پردوہا کا رشتہ کبھی رباعی، کبھی قصیدہ اور کبھی شہرآشوب سے قائم ہوجاتا ہے۔ دوہا کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ابتدا سے ہی عوامی زندگی سے وابستہ رہا ہے، جس کی وجہ سے اس کی لفظیات اور تلازمات بھی عوامی زندگی سے ماخوذ ہیں۔ اس لیے اس کی زبان سادہ مگر پراثرہوتی ہے۔ یہ صنف مرصع کاری کی متحمل نہیں۔ ندافاضلی کا شعری مزاج بھی سادہ کاری سے تشکیل پایا ہے۔
دوہا ہمیشہ سے سماجی مسائل کو پیش کرتا رہا ہے۔اس کا شاعر سامنے کی باتوں کو مانوس الفاظ میں کچھ اس طرح بیان کرتا ہے کہ اس میں تازگی اور انوکھا پن پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ دوہا میں اشیا اور مسائل کی قلب ماہیت ہوجاتی ہے تو شاید بے جا نہ ہو۔ ندا فاضلی کو اپنے زمانے کے حالات اور اس کی کربناکی کا ادراک تھا، وہ اپنے دوہوں میں انسانی اور معاشرتی مسائل کوپیش کرتے ہوئے کھردرے الفاظ کو بھی رچاؤ اور خوش سلیقگی کے ساتھ نظم کرتے ہیں۔یہ دوہا ملاحظہ کیجیے ؂ 
سودا لینے ہاٹ میں، کیسے جائے نار
چاقو لے کے ہاتھ میں بیٹھا ہے بازار
سودا، ہاٹ، نار، چاقو، بازار جیسے الفاظ روزمرہ کا حصہ ہیں۔ ہاٹ اور بازار میں جو نسبت ہے اس سے سبھی واقف ہیں۔ ہاٹ عام طور پر چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں شام میں لگتا ہے۔ بازار بھی اسی قسم کی چیز ہے لیکن اس کا دائرہ کچھ بڑا ہوتاہے۔ دوہے میں لفظ ’نار‘ ناری یا عورت کی نمائندگی نہیں کررہا ہے بلکہ یہ لفظ ایسے تمام لوگوں کو محیط ہے جن میں معصومیت اور خارجی دنیا سے ناآشنائی ہوتی ہے۔جو چالاکی اور عیاری سے کام لینا نہیں جانتے اور اپنی فطری معصومیت کے سبب تمام لوگوں کو اپنی طرح بے ضرر سمجھتے ہیں۔ دنیا جس تیزی سے تبدیل ہوئی ہے ، اس کی اخلاقی اور تہذیبی قدریں جس طرح سے پامال ہوئی ہیں ،اسے بیان کرنا بھی مشکل ہے۔ تبدیلی ایک ناگزیر عمل ہے۔ مثبت تبدیلی انسانی زندگی کو پائیدار ترقی کی طرف لے جاتی ہے جبکہ منفی تبدیلی تہذیب و تمدن کو زیربار کرتی ہے۔ ندا فاضلی نے یہاں سامنے کی مثال کے ذریعہ تبدیلی کے نظام کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ان کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ مختلف مذاہب کی علامتوں اور استعاروں کی مدد سے ایک نیا جہان معنی آباد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ مذہب کو اس کی روحانیت کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔ کوئی بھی مذہب انسانی اقدار سے روگردانی نہیں کرتا لیکن مادہ پرستی نے مذہب کو بھی نام ونمود کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ ندا فاضلی کا یہ دوہا اسی جانب اشارہ کرتا ہے ؂
بچہ بولا دیکھ کر مسجد عالیشان
اللہ تیرے ایک کو اتنا بڑا مکان
ندافاضلی جس روایت کے پاسدار ہیں اس کی فکری اساس نظیر، سور، تلسی، کبیر ، وارث شاہ اور بلھے شاہ کے ساتھ ساتھ سرمد اور منصور کے افکار پر قائم ہے۔ندا فاضلی کا شاعرانہ تیور بھی وہی ہے جو مذکورہ لوگوں کے یہاں ہے۔ کبیر مسجد اور مندر کو ایک جیسا پاتے ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ دونوں مقامات ابتدا میں روحانیت سے عبارت رہے لیکن جب ان میں مادیت کے عناصر نمو پانے لگے تو یہ رفتہ رفتہ اپنے اساسی مقصد سے منحرف ہوگئے اور یہ صرف رسم کی صورت میں باقی رہ گئے۔ ندافاضلی کومندر و مسجد اور دوسری عبادتگاہوں میں وہی گورکھ دھندہ نظر آتا ہے جسے کبیر نے دیکھا اور محسوس کیا تھا۔ انھیں مسجد کے عالیشان ہونے کا شکوہ اور بچہ کے بے مکان ہونے کا احساس ہے تو مندر کا چڑھاوا اور نذر ونیاز بھی روحانیت اورانسانی اقدار سے خالی نظر آتی ہے ؂
اندر مورت پر چڑھے، گھی ، پوری، لوبان
مندر کے باہر کھڑا ، ایشور مانگے دان
ندا فاضلی کی شاعری میں مذہب کی سیاست جس طرح سے بے نقاب ہوئی وہ ہماری شعری روایت میں نئی تو نہیں ہے لیکن ان کا اسلوب کلاسیکی روایت سے الگ ہے۔ وہ قاری کو اپنی سمجھ اور اپنے تجربات و مشاہدات پر بھروسہ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ندا فاضلی زندگی اور مذہب دونوں میں اجتہاد کے قائل ہیں۔ وہ کلیہ اور کلیشے کو نہ صرف رد کرتے ہیں بلکہ قاری سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے تجربات و مشاہدات سے دنیا کو دیکھے، پرکھے پھر اس کی صداقت کو قبول کرے ؂
وہ صوفی کا قول ہو یا پنڈت کا گیان
جتنی بیتی آپ پر، اتنا ہی سچ مان
صوفی، قول، پنڈت ،گیان یہ الفاظ مذہب سے وابستہ ہیں۔ پہلے دو الفاظ اسلامی روایت سے متعلق ہیں، ہندوستان میں یہ دونوں الفاظ مذہبی انتہا پسندی کے مقابلے میں مذہب کا متوازن سماجی اقدار پیش کرنے کی روایت سے منسلک ہیں۔ پنڈت اور گیان کا تعلق سناتن دھرم سے ہے۔ ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی روایت میں پنڈت اور گیان ’صوفی اور قول‘ کے متوازی قرار دیے گئے ہیں۔ قول اور گیان کے دائرے میں وہ تمام ملفوظات اور اشلوک آجاتے ہیں، جنھیں مختلف مذاہب کے علما نے مختلف اوقات میں عوام کو ’راہ راست‘ پر لانے یا ’حصول نجات‘ کے لیے کچھ اصول وضع کیے تھے۔ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ان ملفوظات میں کتنی صداقت ہے۔ نیز ان کی صداقت آج کتنی معنویت رکھتی ہے۔ اگر ان کی معنویت موجودہ زندگی میں ہے تو اس کا ادراک بھی انسان کو اس کے اپنے تجربے اور مشاہدے سے ممکن ہے۔ اس دوہے میں یہ معنی بھی پوشیدہ ہے کہ خواہ مخواہ کے جھمیلوں میں پڑنے سے بہتر ہے کہ وہ خود کو اپنے مشاہدے تک محدود رکھے۔ ندا فاضلی نے مذہبی اجارہ داری اور مادہ پرستی کو کئی دوہوں میں پیش کیا ہے ؂
ساتوں دن بھگوان کے، کیا منگل کیا پیر
جس دن سوئے دیر تک بھوکا رہے فقیر
سب کی پوجا ایک سی، الگ الگ ہر ریت
مسجد جائے مولوی، کوئل گائے گیت
چاہے گیتا باجیے یا پڑھیے قرآن
میرا تیرا پیار ہی، ہر پستک کا گیان
اس میں شک نہیں کہ مذہب انسان کوکئی سطحوں پر متاثر کرتا ہے۔مذہب کے اس پہلو سے بھی انکار ممکن نہیں کہ افکار و خیالات کی بنیاد پر وہ انسان کو خانوں میں تقسیم بھی کرتا ہے۔ تقسیم کے اس عمل میں انسانی زندگی کو بہتر بنانے کا مقصد مضمر ہے۔ یہ تفریق بہتر سے بہتر زندگی کے حصول کو آسان بنانے کا ذریعہ بھی ہے لیکن تقسیم اور تفریق کے اساسی مقصد کا سہارا لے کر مذہب کی سیاست بھی ہوتی رہی ہے۔ مذہب کی صداقت اور فوائد سے انکار ممکن نہیں لیکن یہ اسی وقت کارآمد ہوسکتا ہے جب تک مذہب اپنی روحانیت کے ساتھ ہماری زندگی میں شامل رہے۔ مذہبی رسوم میں مذہب کی روح پیوست ہو ایسا لازمی نہیں۔ بہت سے رسوم جغرافیائی اثرات سے بھی مذہب کا حصہ بن جاتے ہیں۔ گزرتے وقت کے ساتھ ’رسم اذاں‘رہ جاتی ہے جبکہ ’روح بلالی ‘ ختم ہونے لگتی ہے۔ آج ہم جس ماحول میں سانس لے رہے اس میں روحانیت کی شدید ضرورت ہے۔ روحانیت کسی ایک مذہب سے مخصوص نہیں بلکہ اس کا تعلق احساسات سے ہے۔ انسان جب مذہب، نسل، رنگ اور جغرافیائی امتیاز سے بلند ہوکر انسانی اقدار کی بنیاد پر زندگی کا مشاہدہ کرتا ہے تو اسے یہ دیواریں پست اور بے معنی معلوم ہونے لگتی ہیں۔ 
ندا فاضلی کی شاعری بالخصوص دوہوں کے موضوعات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ ان کی نگاہ عرفان ذات، انسانی دکھ پر رہتی ہے ساتھ ہی وہ انسانی قدروں کی پامالی ، خاندانی رشتوں کی بے حرمتی اور مذہبی اجارہ داری کے خلاف ایک محاذ قائم کرتے بھی نظر آتے ہیں۔انسان کو اپنی مٹی اور تہذیب سے جو والہانہ عشق ہو سکتا ہے اس کی بہترین صورت ندا فاضلی کی شاعری میں موجود ہے۔ ہمارے معاشرے میں مذہب کا جو مقام ہے اور اس کے نام پر جس طرح کا استحصال کیا جاتا ہے، ندافاضلی کے دوہوں کی مدد سے اس کی ایک دھندلی تصویر پیش کی جا چکی ہے۔ انسانی زندگی میں مذہب ایک بڑی صداقت کے طور پر شامل ہے لیکن مذہب سے الگ بھی بہت کچھ ہوتا ہے جس سے انسان کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔ ضروریات زندگی میں بھوک مٹانے کے لیے روٹی اورتن کے لیے کپڑامبادیات کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن ان کے بعد انسان سر چھپانے کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ دربدری اور بے سروسامانی میں انسان جس کرب سے گزرتا ہے اس کی تفصیل میں جانے کا یہ محل نہیں ، ایسے حالات میں انسان خدا کو یاد تو کرتا ہے لیکن یاد کے اس اضطراری عمل میں فریاد، شکوہ اور آہ و زاری ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان اپنے گھر ، اپنے گاؤں اور اپنی مٹی کو کبھی نہیں بھول پاتا، اس سے الگ ہوکر اس کے حصول کی خواہش سے دل ایک لمحہ بھی غافل نہیں ہوتا۔ ڈار سے بچھڑا ہوا شخص بار بار اس کی جانب لوٹ جانا چاہتا ہے۔ وہاں کی چھوٹی چھوٹی چیزوں میں کشش محسوس کرتا ہے اور معمولی سی شے (جس کی موجود گی میں اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی)کے گم ہوجانے کا ماتم ایسے کرتا ہے جیسے کوئی بہت قیمتی شے کھو گئی ہو۔ندا فاضلی کے یہاں اس قسم کی ناسٹلجیائی کیفیت ملتی ہے، جس میں کچھ کھو جانے کا درد محسوس کیا جاسکتا ہے ؂
گھر کو کھوجیں رات دن، گھر سے نکلا پاؤں
وہ رستہ ہی بھول گیا، جس رستے تھا گاؤں
سنا ہے اپنے گاؤں میں رہا نہ اب وہ نیم
جس کے آگے ماند تھے سارے وید حکیم
بوڑھا پیپل گھاٹ کا، بتیائے دن رات
جو بھی گزرے پاس سے سر پر رکھ دے ہاتھ
گھر کو کھوجیں رات دن کا مطلب بہتر اور آسودہ زندگی کی تلاش ہے۔ تلاش ایک ایسا راستہ ہے جس کی کوئی منزل نہیں ہے۔ ایک معنی میں یہ لاحاصلی کا سفر بھی ہے۔ اس سفر میں مسافر اپنے اس گھر کو بھول جاتا ہے جس میں اس نے اپنی زندگی کے خوبصورت لمحات بسر کیے۔ گھر کی تلاش میں گھر سے نکلنا دراصل لامکانی کا سفر ہے جس میں واپسی کی راہیں مسدود ہوتی ہیں۔ اسی لیے شاعر نے اس راستے کے کھوجانے کا ذکر کیا ہے جس پر چل کر پہلے گاؤں اور پھر گھر پہنچا جا سکتا تھا۔ اب جبکہ کے گاؤں کی طرف جانے والا راستہ ہی گم ہوچکا ہے تو گھر تک پہنچنا کیونکر ممکن ہے۔یہاں احساس زیاں تو ہے لیکن اس زیاں کا تعلق انسان کی اپنی فراست سے ہے۔ ندا فاضلی کا ایک شعری وصف یہ بھی ہے کہ وہ انسانی شکست و ریخت کے لیے قدرت یا نظام فطرت کو موردالزام نہیں ٹھہراتے۔ انسانی زندگی کے تمام حادثات کی ذمہ داری خود انسان پر عائد ہوتی ہے۔ 
گاؤں یا بستی صرف انسانی زندگی سے عبارت نہیں ہے بلکہ اس میں چرند و پرند، راستہ، پگڈنڈی، کنواں، تالاب، پیڑ وغیرہ کے بغیر گاؤں کا تصور ممکن نہیں۔ نیم کے پیڑ کو انسانی پیکر عطا کرنے کی کوشش ہے۔ پہلے دوہے میں گھر اور گاؤں کے کھو جانے کا غم ہے تو دوسرے میں گاؤں کے نیم کی موت کا نوحہ ہے۔ گھر،گاؤں اور نیم صرف لفظ نہیں بلکہ ایک تہذیب کی علامت ہیں جن سے ہماری دیہی زندگی تشکیل پاتی ہے۔ ان سب کے کھو جانے کا ماتم دراصل ایک صحت مند تہذیب کے مٹ جانے کا دکھ ہے۔ تیسرا دوہا ہماری مشرقی روایت بالخصوص ہندوستانی تہذیب کے ایک بلیغ عنصر کا بیانیہ ہے۔ پیپل اور برگد کے درخت سایہ دار تو ہوتے ہی ہیں ان کے سایے میں نہ جانے کتنی زندگیاں نمو پاتی ہیں اور سانس لیتی ہیں۔ پیپل اور برگد شفیق بزرگوں کا استعارہ بھی ہیں۔ ہندوستانی اسطور میں ان کی جو اہمیت ہے ان سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اسطوری اہمیت کے پیش نظر قابل احترام بھی ہیں۔ ندافاضلی نے اسی روایت کو پیش کیا ہے ؂
بوڑھا پیپل گھاٹ کا، بتیائے دن رات
جو بھی گزرے پاس سے سر پر رکھ دے ہات
ذاتی زندگی کی مصروفیات اور اپنے آپ میں گم ہوجانے کی وجہ سے انسان آس پاس کی چیزوں سے لاعلم ہوتا جارہا ہے۔ لاعلمی کا دائرہ اشیا سے لے کر انسانی رشتوں تک پھیل چکا ہے۔ اپنی زندگی سے باہرکچھ نہ دیکھنے کا رویہ انسان کو تنہا بھی کرتا ہے۔ ندافاضلی کے یہاں جو تنہائی ہے اس کی وجہ عالمی معاشرے کی بدلتی صورتِ حال نہیں بلکہ اس کے لیے انسان کا اپنا رویہ زیادہ ذمے دار ہے۔ مٹتی ہوئی تہذیب کے پاسداروں کی ذمے داری اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ انھیں خود کو اپنی شناخت کے ساتھ زندہ بھی رکھنا ہے اور اپنے بعد آنے والی نسل کی تربیت بھی کرنی ہے۔ ندافاضلی کے یہاں تہذیب کی بازیافت کی کوشش ان معنوں میں نہیں ہے کہ اسے زندہ کرنے کے لیے اپنی صحت خراب کی جائے۔ اس تہذیب کی مثبت قدروں کو یادداشت کاحصہ بنانا بھی زندگی عطا کرنے کی ایک صورت ہے۔ ندا فاضلی کے یہاں یہ کوشش ان کی کئی نظموں اور غزلوں میں بھی نظرآتی ہے۔
ندا فاضلی کی شعر گوئی کا آغاز اس وقت ہواجب فرد اپنی ذات میں گم نئی دنیا تلاش کرنے پر مجبور تھا۔ ایسے حالات میں انسانی رشتے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ندا فاضلی نے جس معاشرے میں ہوش سنبھالا اس میں بے چہرگی ایک عام مرض تھی۔ اسی لیے ان کے یہاں رشتوں کی گم ہوتی معنویت اور فرد کی بے چہرگی کا اظہار بار بار ہوتا ہے۔ دوہے ملاحظہ ہوں ؂
مجھ جیسا اک آدمی، میرا ہی ہم نام
الٹا سیدھا وہ چلے، مجھے کرے بدنام
اوپر سے گڑیا ہنسے، اندر کاٹ کباڑ
گڑیا سے ہے پیار تو کیلیں نہیں اکھاڑ
ماٹی ماٹی سے ملے، کھو کے سبھی نشان
کس میں کتنا کون ہے، کیسے ہو پہچان
دکھ تو مجھ کو بھی ہوا، ملا نہ تیرا سات
شاید تجھ میں بھی نہ ہو، تیرے جیسی بات
ندا فاضلی نے اپنی شاعری میں جسم اور دماغ کی دوری کو کئی مقامات پر پیش کیا ہے۔ دوسرا دوہا بھی اسی جانب اشارہ کرتا ہے کہ ظاہر اور باطن میں کتنا فرق اور تضاد ہوتا ہے۔ ظاہری اشیا کی اپنی جمالیات ہوتی ہے۔ انسانی زندگی میں ان کی بھی اہمیت ہے۔ اگر کسی کو کوئی چیز یا کوئی شخص اچھا لگتا ہے تو اسے اسی طرح سے قبول کر لینا چاہیے۔ اس کی جڑوں میں جانا اور اس کے باطن میں جھانکنا عام طور پر نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ 
ندافاضلی کی شاعری میں ہجرت، دربدری، اور اپنوں سے جدا ہوجانے کا غم کئی سطحوں پر نظر آتا ہے۔ وہ اس کا اظہا کبھی برملا تو کبھی اشارے کنائے میں کرتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ دکھ بانٹنے سے ہلکا ہوجاتا ہے۔ دکھ کا موسم گزر جاتا ہے البتہ اس کی یادیں تازہ رہتی ہیں۔ ’ماں‘ معاصراردوشاعری میں مستقل موضوع کی حیثیت رکھتی ہے۔ ماں کی ممتا اور بدلتے معاشرتی منظرنامے میں پیچیدہ ہوتے انسانی رشتوں میں ماں کی اہمیت پر نظم لکھنے کا ایک سلسلہ چل پڑا ہے۔ اس سیاق میں ندا فاضلی کی ایک غزل جس کی ردیف ’جیسی ماں‘ ہے، قابل ذکر ہے۔ یہاں کچھ دوہے ملاحظہ کیجیے، جن میں انسانی دکھ اور اس دکھ کی جمالیات کا اظہار ہوا ہے ؂
میں رویا پردیس میں بھیگا ماں کا پیار
دکھ نے دکھ سے بات کی بن چٹھی بن تار
دکھ کی نگری کون سی، آنسو کی کیا ذات
سارے تارے دور کے سب کے چھوٹے ہات
سورج سے دھرتی تپے، چھایا ڈھونڈے کاگ
تن کے اندر من جلے دھواں دکھے نہ آگ
دنیا میں ماں کی ذات ایسی ہے جسے اولاد کا غم اپنے غم سے بڑا محسوس ہوتا ہے۔دوسرا دوہا دکھ کی شعریات سے متعلق ہے۔ دکھ کسی ایک مقام سے وابستہ نہیں ہے۔ اسی طرح آنسو کی پہچان اس کے نکلنے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ بذات خود آنسو کی کوئی پہچان نہیں۔ دکھ اور غم انسان تک جس آسانی سے پہنچ جا تا ہے، اس سے نجات حاصل کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا ہے۔ ندافاضلی نے تیسرے دوہے میں اسی نکتے کی جانب اشارہ کیا ہے۔
یہ کہاجاتا ہے کہ دنیا انسانوں کے لیے بنائی گئی ہے۔ اس لیے اس میں موجود ہر چیز پر انسان کا اختیار ہونا چاہیے۔ ندا فاضلی کا تصورکائنات اس سے مختلف ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ دنیا انسانوں کے لیے بنائی گئی ہے لیکن اس کی ساری چیزیں سارے انسانوں کے لیے نہیں ہیں۔ یہ دنیا قدرت نے بناکر انسانوں کے حوالے کردیا ہے۔ انسان کی اپنی صلاحیت اور اس کی بصیرت پر منحصر ہے کہ وہ اپنی دنیا کس طرح سے بناتا ہے۔ یعنی جو شخص جتنی محنت اور تگ ودو کرے گا اسے اسی مقدار میں دنیا عطا کی جائے گی۔ ندا فاضلی کا خیال ہے کہ انسان اپنی استعداد ، قوت اور بصیرت میں اضافہ کرے تو منزل مقصود مل سکتی ہے ؂
برکھا سب کو دان دے ، جس کی جتنی پیاس
موتی سی یہ سیپ میں، مٹی میں یہ گھاس
سا سے سا تک سات سر، سات سروں میں راگ
اتنا ہی سنگیت ہے جتنی تجھ میں آگ
چاقو کاٹے بانس کو، بنسی کھولے بھید
اتنے ہی سر جانیے، جتنے اس میں چھید
ندا فاضلی کے دوہوں کو نظرانداز کرکے ان کی تخلیقی حسیت کو بہتر طور پر سمجھا نہیں جاسکتا۔ اس حسیت کا تعلق ایک شعری روایت سے ہے۔ جس سے شعوری یا غیر شعوری طور پر ہم نے فاصلہ اختیار کیا ہے۔ ندا فاضلی نے اپنے طور پر اس فاصلے کو کم کرنے کی کوشش کی۔ وہ بنیادی طور پر اردو کے شاعر ہیں لیکن ہندی کا رس جس ان کے لیے کبھی مسئلہ نہیں رہا۔ ندافاضلی کی شاعری کے مطالعے سے اس حقیقت تک پہنچا جاسکتا ہے کہ ان کی غزل کا ایک رشتہ ان کے دوہے سے بھی ہے۔ فکری اور لسانی سطح پر دونوں اصناف ایک دوسرے سے گریزاں نہیں لیکن اس زاویہ نظر سے ابھی تک مطالعہ نہیں کیا گیا۔ 


Abdus Sami
Astt. Prof. Dept of Urdu, 
Banaras Hindu University (BHU)
Ajagara , Varanasi - 221005 (UP)


قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...