26/2/19

اردو کے معاصر غیرمسلم شعرا و ادبا مضمون نگار:۔ خان حسنیین عاقب





اردو کے معاصر غیرمسلم شعرا و ادبا
خان حسنیین عاقب

ناظر کاکوروی کہتے ہیں،’’یہ امر مسلّم ہے کہ ہماری زبان جو شیخ و برہمن کی مشترکہ ملکیت ہے، اس کی عزت افزائی ہمایوں کے عہد سے شروع ہوئی اور اکبری دور کے آتے ہی اس نے ایسی متحدہ صورت اختیار کرلی کہ اگر کسی بزم میں عرفی و نظیری سرگرمِ سخن نظر آتے تھے تو تلسی داس اور سورداس کی نغمہ سنجیاں بھی گرمی پیدا کررہی تھیں۔ اردو ادب اس محبت کے سایہ میں نشو و نما پاتا رہا حتیٰ کہ ہندوستان کی سیاسی بساط کا نقشہ بدلا لیکن باوجود اس انتشار کے شیخ و برہمن کا مسئلہ کہیں بھی رونما نہ ہوسکا۔ اور اگر غالب کے خدنگِ نظر نے میر مہدی کو گھائل کیا تو مرزا گوپال تفتہ بھی اس سے بچ کر نہ نکل سکے۔‘‘ 
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس سے انکار کسی صورت ممکن نہیں کہ اردوصرف اور صرف مسلمانوں کی زبان نہ کبھی تھی ، نہ ہے اور نہ ہوسکتی ہے۔ کوئی مذہبی صحیفہ کسی مخصوص زبان میں ہوسکتا ہے لیکن اس مذہب کے ماننے والوں پر یہ قید نہیں ہوتی کہ وہ صرف اسی زبان میں بات چیت کریں، ادب تخلیق کریں جس زبان میں ان کا مذہبی صحیفہ ناز ل ہوا ہے۔ اسی لیے عربی دنیا بھر کے مسلمانوں کی مادری زبان نہیں ہوسکتی اور نہ ہی سنسکرت دنیا بھر کے ہندوؤں کی مادری زبان۔ کسی زبان پر کسی مذہب کی اجارہ داری نہیں ہوتی اور نہ ہی اس زبان کو مذہب کا لیبل لگاکر بازار میں اس کی تخصیص کی جاسکتی ہے۔ کسی زبان کے پھلنے پھولنے کی اولین شرط بھی یہی ہوتی ہے کہ اسے قبولیتِ عام حاصل ہو۔ اردو کو قبولیتِ عام حاصل ہوئی، اس کی وجہ محض یہی تھی کہ یہ صرف مسلمانوں کی زبان کے طور پروجود میں نہیں آئی ۔ بلکہ ہندوستان کے رابطے کی زبان یعنیLingua franca کے طور پر متعارف و مقبول ہوئی۔ ایک سوال یہ بھی ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ پھر وہ کون سے عوامل تھے جن کی بنیاد پر یہ تاثر عام ہوا کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے؟ اس کا ایک تاریخی اور منطقی جواب بھی ہمیں ناظر کاکوروی کی کتاب ’اردو کے ہندی ادیب‘ سے پتہ چلتا ہے۔ وہ کہتے ہیں،’’ اس میں شک نہیں کہ اردو ادب کی ترقی و تہذیب کے سلسلہ میں مسلمانوں کے کارنامے زیادہ روشن ہیں جس کی وجہ وہ شاہی پشت پناہی تھی جو فرمانروایانِ ما سبق کے دورِ ہمایوں میں اردو زبان کو نصیب ہوئی لیکن یہ کھُلی ہوئی بے انصافی ہوگی اگر کوئی ناواقف یہ کہہ اٹھے کہ ہمارے برادرانِ وطن نے اس زبان کی ترقی اور ترویج میں کوئی نمایاں حصہ نہیں لیا۔‘‘
ماضی میں بھی مسلمان مورخین نے ہندو شعرا و ادبا کے کمالات کو بلند آہنگی اور کشادہ دلی کے ساتھ سراہا ہے۔ اور ان کے جواہر پاروں کی قدر و عزت کی ہے۔ کیا اردو کے داستانی ادب میں کوئی پنڈت رتن ناتھ سرشار کی معرکہ آرا تصنیف ’فسانۂ آزاد‘ کو بھول سکتا ہے؟ کیا کوئی پنڈت دیا شنکر نسیم کی مثنوی ’گلزارِ نسیم‘ سے صرفِ نظر کرسکتا ہے؟ کیااردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج میں منشی نول کشور کی خدمات کو فراموش کیا جاسکتا ہے؟ کیا مالک رام کا کوئی بدل ہوسکتا ہے؟ اردو شاعری ہو یا نثر، تنقید ہو یا تحقیق، طنز مزاح ہو یا تقدیسی ادب، ہر شعبۂ ادب میں غیر مسلم قلمکار، اردو کے ہر محاذ پر شامل رہے ہیں۔ ایک اجمالی اور مختصر نظر ڈالتے ہیں پس منظر پر۔ اہلِ ذوق زمانی و مکانی تقدیم و تاخیر کے پہلو سے صرفِ نظر فرمائیں۔
بیسویں صدی سے قبل: 
بیسویں صدی سے قبل دو تین سو برس کے عرصے پر محیط عہد میں مسلم شعراء و ادیبوں کے ساتھ ساتھ سیکڑوں غیرمسلم شعراء و ادیب بھی اردو زبان و ادب کی آبیاری میں مصروف تھے۔ میرکے عہد اور ان کے بعد کے عہد میں بھی بہت سے برادرانِ وطن کی خدمات قابلِ ذکر ہیں جن میں ٹیک چند بہار، راجہ رام نرائن موزوں جن کے مشہورِ زمانہ شعر کا مصرعۂ ثانی ضرب المثل بن چکا ہے۔ 
غزالاں تم تو واقف ہو، کہو مجنوں کے مرنے کی 
دِوانہ مرگیا، آخر کو ویرانے پہ کیا گزری 
مادھو رام جوہر فرخ آبادی جن کے یہ اشعارضرب المثل بن چکے ہیں ؂
بھانپ ہی لیں گے اشارہ سرِ محفل جو کِیا 
تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں 
یا پھر یہ شعر ؂
اب عطر بھی مَلو تو تکلف کی بو کہاں
وہ دن ہوا ہوئے کہ پسینہ گُلاب تھا
سروپ سنگھ دیوانہ، رتن ناتھ سرشار، دیا شنکر نسیم، جوالا پرساد برق، منشی میوا لال عاجز کَیاوی، شیو نرائن چودھری عارف عظیم آبادی، رائے اسیری پرساد عطا عظیم آبادی، رائے سنگھ عاقل، دوارکا پرساد اُفق، گھاسی رام خوشدل، چمنستانِ شعرا کے مولف لچھمی نارائن شفیق جنھوں نے میر تقی میر کی کتاب نکات الشعرا کی طرز پر چمنستانِ شعرا تالیف کی ، درگا سہائے سُرور جہاں آبادی،غالب کے شاگردوں میں ہرگوپال تفتہ کا نام کون نہیں جانتا؟ علامہ اقبال کے دوستوں میں سردار جُگندر سنگھ کے نام سے کون واقف نہیں ہے؟ 
آزادی سے قبل اوربعد : 
اردو شعرا و ادبا کی ایک نسل ایسی بھی گزری جو آزادی سے قبل بھی فعال تھی اور آزادی کے حصول کے بعد بھی فعال رہی۔ اس نسل کے شعرا و ادبا میں رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری جن کے سیکڑوں اشعار زبان زدِ عام ہیں جن میں میری پسند کا شعر ہے 
طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں
کنور مہندر سنگھ بیدی سحر جن کا مشہور شعر ہے ؂
عشق ہوجائے کسی سے ، کوئی چارہ تو نہیں
صرف مسلم کا محمدﷺ پہ اجارہ تو نہیں
ایک چادر میلی سی والے راجندر سنگھ بیدی، رامانند ساگر، پنڈت برج نارائن دتا تریہ کیفی، گوپی ناتھ امن، گلشن نندہ، گیان سنگھ شاطر، ڈاکٹر اوم پرکاش راز علامی، امر چند قیس جالندھری، جگت موہن لال رواں جن کا شعر ہے ؂
کچھ پودے اُگتے تو ہیں کسی اور زمیں پرلیکن
پھل پھول دیتے اور اپنی بہاریں دکھاتے ہیں کہیں اَور
ابوالفصاحت پنڈت لبھورام جوش ملسیانی، بال مُکند عرش ملسیانی، علامہ سحر عشق آبادی،دامودر ذکی حیدر آبادی، رائے جانکی پرساد، ’شمع ہر رنگ میں جلتی ہے ‘ کے مصنف باگا ریڈی، ’تیرِ نیم کش ‘ اور ’ذرا مسکراؤ‘ کے مصنف مزاح نگار بھارت چند کھنّہ، کنھیا لا ل کپور، اوپندر ناتھ اشک، جمنا داس اختر، رام لعل، گُردیال سنگھ عارف،مشہور دوہا نگار بھگوان داس اعجاز، دیویندر ستیارتھی، پنڈت میلا رام وفا، دلیپ سنگھ، شانتی رنجن بھٹاچاریہ، کنول پرشاد کنول، ’گزشتہ حیدرآباد‘ کے مصنف محبوب نارائن، بشیشر ناتھ صوفیؔ جن کا شعر ہے ؂
اِدھر تکرار اُلفت کی، اُدھر جھگڑا وفاؤں کا
جو رنجش پڑگئی باہم، بڑی مشکل سے نکلے گی 
راج بہادر گَوڑ، بشیشر پرساد منور، لال چند پرارتھی، بھگوان داس شعلہ،بھگوان داس اعجاز، پنڈت لبھو رام جو ش ملسیانی،رنبیر سنگھ، نوین چاؤلہ، فکر تونسوی، رام کرشن مضطر ، جگن ناتھ آزاد، بلونت سنگھ، امرتا پریتم، ماہیہ نگارہمت رائے شرما، ہائی کورٹ کے جج جسٹس آنند نرائن مُلا جن کا شعر مشہورِ زمانہ ہے اور قوالوں نیز غزل گائیکوں نے اسے گا گاکر مزید پھیلادیا ہے ؂
وہ کون ہیں جنھیں توبہ کی مل گئی فرصت 
یہاں گناہ بھی کرنے کو زندگی کم ہے
گوپی ناتھ امن دہلوی، تلوک چند محروم، چکبست، کالی داس گپتا رضا، جگن ناتھ آزاد، کرشن چندر، منشی پریم چند، سرکشن پرساد شاد، نَول کشور پریس والے منشی نول کشور، مالک رام،سدرشن کوشل، کاہن سنگھ جمال، نریش چندر ساتھی، ساحر ہوشیار پوری، ستیہ نند شاکر، کرشنا کماری شبنم، ایس۔ آر ۔ رتن، ابھے راج سنگھ شاد، آزاد گُلاٹی، جگت موہن لال رواں ، راجندر من چندہ بانی، نریش کمار شاد جن کا شعر ہے ؂
عقل سے صرف ذہن روشن تھا
عشق نے دل میں روشنی کی ہے
راج نرائن راز، راجیش کمار اوجؔ ، ست نام سنگھ خمار، سریش چندر شوق، سریندر پنڈت سوز، کنول نور پوری، منوہر شرما ساغر پالم پوری، ہر بھگوان شاد، وغیرہ وغیرہ۔ بہت سے نام ایسے ہیں جو فی الوقت حافظے کی گرفت میں نہیں آرہے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کی پرورش خالص اردو کے ماحول میں ہوئی۔
اسی ماحول میں ان کا ذوق اور ان کی دلچسپیاں پروان چڑھیں۔ تقسیم ہند کے سانحے کے بعد بھی ان شعراء و ادباء کی سرگرمیاں جاری رہیں اور وہ اپنی فکر کے مطابق خدمات انجام دیتے رہے۔ ان ناموں میں بہت سے نام ایسے ہیں جو ابھی ابھی ہم سے رخصت ہوئے ہیں۔ بمشکل چندبرس گزرے ہوں گے جب اردو والے ان غیر مسلم محبانِ اردو کی رفاقت سے محروم ہوگئے۔ لیکن یہ لوگ اردو ادب میں اپنی خدمات کے انمٹ نقوش چھوڑ گئے۔
موجودہ غیر مسلم شعراء و ادیب: 
موجودہ دور میں جو لوگ ہمارے درمیان موجود ہیں اور ہنوز اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی میں فعال ہیں ان کی خدمات پر ایک اجمالی نظر ڈالتے ہیں۔ تمام لوگوں کا ذکر تو ممکن نہیں ہے البتہ جو نام بہ آسانی دستیاب ہوسکے ہیں ہم انھیں یہاں درج کررہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بس، اتنے ہی لوگ ہیں اور دیگر ناموں کو ہم تسلیم نہیں کرتے۔ بلکہ یہ ہماری کم علمی یا پھرہماری رسائی کی حد کہ ہمارا علم یا ہمارے وسائل دیگر ناموں کو درج کرنے سے قاصر رہے۔ بہر حال، یہ بھی ایک کوشش ہی ہے۔ موجودہ دور میں جو برادرانِ وطن بڑے اخلاص کے ساتھ اردو کی خدمت انجام دے رہے ہیں ان میں پریم وار برٹنی، عزیز پریہار، ستیہ پال آنند،جناب شباب للت جن کا شعر ہے 
اپنے مقسوم کی روٹیاں کھاتا ہے شباب
آپ کا دست نِگر ہو یہ ضروری تو نہیں 
کرشن کمار طورجو ہماچل پردیش کی راجدھانی شملہ سے اردو سہ ماہی’ سرسبز‘ برسوں سے نکال کر اردو کی آبیاری کررہے ہیں۔ سلکشنا انجم، سریش چندر شوق، مشہور افسانہ نگار دیپک بُدکی، کشمیری لال ذاکر، نریندر لوتھر، اندرا شبنم اندو، آشا پربھات، بلراج مین را، ڈاکٹر کیول دھیر،بلراج کومل، پرکاش پنڈت، جتیندر بِلّو، عاشقِ اردونوّے سالہ نند کشور وِکرم ، راجندر سنگھ رہبر، اودیش رانی حیدر آبادی، بی۔ایس۔جین جوہر، مہندر پرتاپ چاند، شین۔ کاف ۔ نظام، راجیش ریڈی، اتل اجنبی جنھوں نے کہا ؂
جب غزل میر کی پڑھتا ہے پڑوسی میرا
اک نمی سی مری دیوار میں آجاتی ہے
دپتی مشرا، ڈاکٹر مہندر اگروال، راجیش آنند اسیر، راجیش عنبر، طفیل چترویدی، ادھو مہاجن بسمل،چرن سنگھ بشر، سیما گُپتا، روچا صبا، ڈاکٹر لکشمن شرما واحد، نلنی وبھا ناز، رام پنڈت، ڈاکٹر گنیش گائیکواڑ آغاز بلڈانوی، گلزار، ساگر ترپاٹھی، ناول نگار اور افسانہ نگارآنند لہر، افسانہ نگار بلراج بخشی، شاعر اور ہندی ماہنامہ ’نئی غزل ‘ کے مدیرڈاکٹر مہندر کمار اگروال، آر پی شرما مہرِش ، ڈاکٹرچندوسی وغیرہ چند اہم نام ہیں۔ ان دِنوں بزرگ شاعر جناب تلک راج پارس خالص اردو نعتیں تخلیق کررہے ہیں۔ بحیثیت ایک نقاد اور محقق، گوپی چند نارنگ کی خدمات سے پہلوتہی نہیں کی جاسکتی۔ داغ کے تلامذہ کے وارث جناب پنڈت آنند موہن زُتشی گلزار دہلوی ہنوز ہمارے بیچ موجود ہیں۔موقع ہے تو گلزار دہلوی کے بارے میں قرۃ العین حیدر کی رائے بھی سُن لیجیے۔
وہ کہتی ہیں،یونان، مصر و روما، سب مٹ گئے جہاں سے... لیکن ہندوستان میں گُپت سامراجیہ سے لے کر عہدِ مغلیہ تک سارے ادوار محض ایک زبان اور ایک کلچر میں ابھی تک موجود ہیں، اس زبان و تہذیب کا نام ہے اردو... ایک ادبی مورخ کے لیے یہ بات قابلِ ذکر اور اہم ہے کہ اس تہذیب کے وارث اور نام لیوا دورِ حاضر میں بھی شامل ہیں اور وہ اپنے وِرثے کی اہمیت کا شدید احساس رکھتے ہیں۔ انہی وارثوں میں ایک اہم نام گلزار دہلوی کا جو شاعر بن شاعر ، علم اور اہلِ دانش ہی نہیں بلکہ ایک ادبی اور مجلسی تمدن و شائستگی کا دوسرا نام ہے۔‘ 
جو نام میں نے درج کیے ہیں ان میں سے اکثر اردو زبان اور تہذیب کے پروردہ ہیں اور وہ اردو زبان جانتے بھی ہیں۔ لیکن ان کے علاوہ آج کے دیگر بہت سے غیر مسلم شعرا و ادبا اردو کی ترویج کے لیے سنجیدہ اور کار آمد ہیں۔
بہرحال، اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ دور میں بھی کئی غیر مسلم برادرانِ وطن کو اردو کے نام کی نسبت حاصل ہے۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ آج بھی گوپال متل جی کا ادارہ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی ، اردو کی ترویج میں اپنا کردار ادا کررہا ہے۔آج بھی سنجیو صراف ، ریختہ ڈاٹ کام نامی نہایت مقبول اور مصدقہ ویب سائٹ کے توسط سے اردو کی ڈیجیٹل ترویج اور ارتقا میں بے بہا خدمات انجام دے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں اِن دنوں چند نوجوانوں نے اردو اور ہندی کے مشترکہ پلیٹ فارم سے ایک ڈیجیٹل گروپ تیار کیا ہے جس کا نام انہوں نے ’ہِر دو‘ یعنی ہندی اور اردو کا سنگم رکھا ہے۔ ان برادرانِ وطن کے دِلوں میں بے شک اردو زبان اور اردو تہذیب کی محبت سمندر کی لہروں کی طرح موجزن ہے۔ انہی ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور دیگر تمام مذاہب کے محبانِ اردو کی وجہ سے بیکراں تیرگی کے باوجود یہ قندیلِ اردو ہنوز ہمارے اطراف ایک پاکیزہ روشنی بکھیر رہی ہے۔ میں آنند نرائن مُلا کے اس شعر پر اس مقالے کو ختم کرنا زیادہ مناسب خیال کرتا ہوں ؂ 
ملاّ بنادیا ہے اسے بھی مُحاذِ جنگ
اِک صلح کا پیام تھی اردو زباں کبھی

Khan Hasnain Aqib
Allama Iqbal Teachers Colony
Mominpura, Washim Road
Poosad - (MS)







قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

25/2/19

پطرس کی مزاح نگاری مضمون نگار:۔ مسعود جامی



پطرس کی مزاح نگاری

مسعود جامی
پطرس ارد وکے ان خوش نصیب ادیبوں میں ہیں جنھوں نے اپنے محدود تخلیقی سرمایے کے باوجودنمایاں مقام حاصل کیا۔ پطرس کی تخلیقی کاوشیں صرف چند مضامین کا احاطہ کرتی ہیں اور انہی پر ان کی شہرت کا تمام تر دارومدار ہے۔ وہ بلاشبہ اردو میں مزاح نگاری کے سب سے بڑے بلکہ تنہا علم بردار ہیں، اس فن میں ان کا کوئی مدمقابل نہیں۔ سوال اٹھتا ہے کہ آخر پطرس کا سبب امتیاز کیا ہے ؟ اس سوال کے جواب میں ان کے مضامین سے براہِ راست رجوع کرنا ناگزیر ہے۔لیکن اس سے بھی پیشتر یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ فن مزاح نگاری کی نمائندہ خصوصیات کی حد بندی کردی جائے تاکہ مضامین کے جائزے کے لیے ایک پس منظر فراہم ہوسکے۔
بہ قول اسٹیفین پی کاک ’’مزاح کیا ہے؟ یہ زندگی کی ناہمواریوں کے اس ہمدردانہ شعور کا نام ہے جس کا فن کارانہ اظہار ہوجائے ‘‘ انسان زندگی کے راست پہلوؤں کو دیکھنے کا عادی ہے جب اسے زندگی یا ماحول میں کجی اور بے اعتدالی نظر آتی ہے تو اس کی توقعات متأثر ہوتی ہیں اور اس کی فطرت میں احتجاج پیدا ہوتا ہے۔نتیجے کے طور پر اس کے اندر دو طرح کے جذبے سر ابھارتے ہیں ۔۔۔ ایک نفرت اور دوسرا ترحم کا جذبہ۔ یہی جذبے جب الفاظ کے سانچے میں ڈھلتے ہیں تو طرزِ اظہار کے دو رخ سامنے آتے ہیں یعنی طنزیہ اور مزاحیہ۔طنزیہ اظہار ناہمواریوں سے نفرت کا نتیجہ ہے جب کہ مزاحیہ اظہار ان سے انسیت اور شیفتگی کا مظہر۔اول الذکر میں تلخی،برہمی، نفرت اور نشتریت کی لَے تیز ہوتی ہے، جب کہ مؤخرالذکر میں پیار، محبت،خلوص اور ہمدردی کی ہلکی اور دھیمی لہریں اٹھتی ہیں۔ گویا طنز نگار ایک جراح ہوتا ہے جو سماج اور زندگی کے ناسوروں کے فصد کو بے رحمی کے ساتھ کھولتا ہے اور مزاح نگار ایک مرہم جو ہوتا ہے جو بغیر تکلیف وآزار کے ناسوروں کا علاج پیار ومحبت کے ساتھ کرتا ہے۔ طنز ومزاح میں فرق محض ردعمل اورطرزِ اظہارکاہوتا ہے ورنہ دونوں کا نصب العین یکساں ہوتا ہے۔ دونوں ہی زندگی کی بے اعتدالی،کجی اور بے ڈھنگے پن کو اُبھارکر اعتدال اور راستی کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ طنز ومزاح کے فرق کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر وزیر آغا نے لکھا ہے کہ ’’ہمارے یہاں طنز ومزاح کے فرق کو پوری طرح ملحوظ نہیں رکھا گیا ہے۔ طنز زندگی اور ماحول سے برہمی کا نتیجہ ہے اور اس میں غالب عنصر نشتریت کا ہوتا ہے۔ طنز نگار جس چیز پر ہنستا ہے اس سے نفرت کرتا اور اسے تبدیل کردینے کا خواہاں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس مزاح زندگی اور ماحول سے مفاہمت کی پیداوار ہے اور مزاح نگار جس چیز پر ہنستا ہے اس سے محبت کرتا اور اسے اپنے سینے سے چمٹا لینا چاہتا ہے۔ طنز نگار توڑتا ہے اور توڑنے کے دوران فاتحانہ قہقہہ لگاتا ہے۔ چنانچہ طنز میں جذبۂ افتخار کسی نہ کسی صور ت میں ضرور موجود ہوتا ہے۔ دوسری طرف مزاح نگار اپنی ہنسی سے ٹوٹے ہوئے تار کو جوڑتا ہے اور بڑے پیار سے ناہمواریوں کو تھپکنے لگتا ہے چنانچہ مزاح میں غالب عنصر ہمدردی کا ہوتا ہے۔‘‘
زندگی اور ماحو ل کے بے ڈھنگے پن پر برہمی کا اظہار کرنا قدرے آسان ہے، لیکن ناہمواریوں پر شفقت ومحبت کا ہاتھ پھیرنا بہت مشکل۔ یہ ہرکس وناکس کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لیے ایک مخصوص قسم کی شخصیت درکار ہوتی ہے.....ایسی شخصیت جو اعلیٰ حوصلگی،خلوص اور ہمدردی کی مظہر ہو۔ اور جسے خود رورو کر دوسروں کو ہنسانے کا طریقہ آتا ہو۔ غالب کو یہ فن اچھی طرح آتا تھا۔ ان کے مکتوبات اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں پطر س کا نام بھی بڑے شوق سے لیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے اپنے عہد کی زندگی کو پیار بھری نظروں سے دیکھا اور اپنی کشادہ دلی اور وسعت نظر کے تحت زندگی کی ناہمواریوں سے محظوظ ہوئے۔ انھوں نے زندگی کے مضحک پہلوؤں کی نقاب کشائی کرتے وقت یا کردار کی بوالعجبیوں یا واقعہ کی بے اعتدالیوں کو اجاگر کرتے وقت ہمدردانہ اندازِ نظر کا مظاہرہ کیا، جو ان کے مزاح کی صحت مندی کی دلیل ہے۔ میرے خیال میں پطرس نے اپنے طریقۂ کار کی نشان دہی اپنے دیباچہ میں اشارۃً کردی ہے۔ لکھتے ہیں:
’’ اگر یہ کتاب آپ کو کسی نے مفت بھیجی ہے تو مجھ پر احسان کیا ہے۔ اگر آپ نے کہیں سے چرائی ہے تو میں آپ کے ذوق کی داد دیتا ہوں۔اگر آپ نے پیسوں سے خریدی ہے تو مجھے آپ سے ہمدردی ہے۔ اب بہتر یہی ہے کہ اس کتاب کو اچھی سمجھ کر اپنی حماقت کو حق بہ جانب ثابت کریں۔‘‘
یہاں کتاب خواں طبقے سے مزاح نگار کی ہمدردی، احسان مندی اور دل دہی کو محسوس کیا جاسکتاہے۔ کتب بینی کے سلسلے میں لوگوں میں مذکورہ تینوں رویے عام رہے ہیں۔ یعنی مفت حاصل کرکے،چُرا کر اور خرید کر پڑھنے کا لوگوں کا شیوہ رہا ہے۔ ظاہر ہے یہ سب کے سب طریقے راست نہیں ہوسکتے ان میں کجی بھی ہے۔ لیکن پطرس انھیں ہدفِ ملامت نہیں قرار دیتے۔ اس کے برعکس وہ ان سے ہمدردی جتاتے اور احسان مندی کا اظہار کرتے ہیں۔
مزاح نگاری ہی کے قبیلے سے تعلق رکھنے والی ذکاوت (Wit)بھی ہے جس میں لفظی الٹ پھیر سے سامانِ ظرافت فراہم کیا جاتا ہے۔ غالب کو اس فن میں کمال حاصل تھا انھیں لفظوں کے الٹ پھیر سے ظرافت پیدا کرنے کا سلیقہ خوب آتا تھا۔پطرس کے یہاں بھی ذکاوت کی مثالیں ملتی ہیں،لیکن یہ ان کا طرزِ عام نہیں۔ انھوں نے اپنی مزاح نگاری کی عمارت کو صورتِ واقعہ کی اساس پر استوار کیا ہے،وہ کسی مضحک کیفیت کو ابھارنے کے لیے صورتِ واقعہ کو ایک خاص سلیقے سے اس طرح ترتیب دیتے ہیں کہ وہ کسی شعوری کاوش کا نتیجہ نہیں معلوم ہوتی۔ بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حالات وواقعات کی تہہ سے مزاح کے سوتے از خود پھوٹ رہے ہیں۔ہاسٹل میں پڑھنا، سویرے جب کل آنکھ میری کھلی، مرید پور کا پیر، سنیما کا عشق، میں ایک میاں ہوں، مرحوم کی یاد میں، انجام بخیر،یبل اور میں،یہ تمام کے تمام مضامین واقعات کی فن کارانہ ترتیب ہی کا نتیجہ ہیں۔ہاسٹل میں پڑھنا، میں ایک طالب علم کی ناآسودہ خواہش اور بزرگوں کے محتاط رویے پر روشنی ڈالی گئی ہے۔متمول گھرانے کا یہ طالب علم بہت کم نمبروں سے پاس ہوجاتا ہے، والدین کی آرزو ہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرے۔ چنانچہ اس کا داخلہ لاہور یونیورسٹی میں ہوجاتا ہے،لیکن اس کے چاہنے کے باوجود اسے ہاسٹل میں رہنے کی اجازت نہیں ملتی، نتیجہ کے طور پر اس کے ذہن میں تصادم جنم لیتا ہے۔ پطرس نے طالب علم کی ذہنی کشمکش اور نفسی کیفیت کی جو تصویر کھینچی ہے و ہ نہایت عمدہ اور پرلطف ہے۔ طالب علم ہاسٹل میں رہنے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے نت نئے حربے استعمال کرتا ہے۔ والدین کو رضامند کرنے کے لیے طرح طرح کے دلائل پیش کرتا ہے، لیکن سب لاحاصل اور بے سود۔جب وہ سات سال تک متواترامتحان میں ناکام ہوتا ہے تو اس کے والدین کچھ اس کی تعلیم سے مایوس اور کچھ اس کے کیرئیر سے ناامید ہوکر اسے ہاسٹل میں رہنے کی اجازت دیدیتے ہیں۔لیکن سوئے اتفاق وہ اس سال پاس ہوجاتا ہے اور اس طرح اس کی ہاسٹل میں رہنے کی خواہش دل کی دل ہی میں رہ جاتی ہے۔
’’سویرے جو کل آنکھ میری کھلی ‘‘میں وہی طالب علم نہایت عیش کوش اور تساہل شعار نظر آتا ہے۔ سوکر دس بجے اٹھنا اس کا معمول ہے۔ امتحان جب سر پر آجاتا ہے تو وہ مطالعہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ نظام الاوقات میں تبدیلی لاتا ہے۔ کتابوں کو آراستہ کرتا ہے اور صبح کو جگادینے کی ذمہ داری اپنے پڑوسی لالہ کے سپرد کرتا ہے۔ لالہ جی علی الصباح اسے جگابھی دیتے ہیں لیکن اس کی ازلی تساہل پسندی اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ پھر لمبی تان کر سوجاتا ہے۔ دن میں لالہ جی کے استفسار پر بہانے بنادیتا ہے کہ نماز میں مشغول تھا۔ یہاں مزاح نگار نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انسانی عادات جب جڑ پکڑ لیتی ہیں تو بہت طاقتور ہوجاتی ہیں۔ خارجی پابندیوں سے اس کی اصلاح نہیں کی جاسکتی۔ اور اگر اس کا کبھی موقع بھی آجائے تو وہ اپنے فطری بہاؤ کے لیے بہانے تراش لیتی ہیں۔پطرس نے باتوں ہی باتوں میں انسانی نفسیات کے ایک اہم نکتے کو پیش کردیا ہے۔انھوں نے طالب علم کے جاگنے اور لحاف کے ناک سے کان اور پھر کان سے سر تک سرکنے کا جو منظر پیش کیاہے اس کی کیفیت کو صرف محسوس کیا جاسکتا ہے۔مثلاً:
’’صبح لالہ جی کی پہلی دستک کے ساتھ جھٹ آنکھ کھل گئی۔ نہایت خندہ پیشانی کے ساتھ لحاف کی ایک کھڑکی میں سے منہ نکالا، ان کو گڈ مارننگ کہا اور نہایت بے دردانہ لہجے میں کھانسا۔ لالہ جی مطمئن ہوکر باہر چلے گئے، ہم نے اپنی ہمت اور اولوالعزمی کو بہت سراہا کہ ہم آج فوراً ہی جاگ اٹھے تھے۔دل سے کہا ’دل بھیا ! صبح اٹھنا تومحض ذراسی بات ہے ‘ہم تو یونہی اس سے ڈرا کرتے تھے۔ دل نے کہا اور کیا ’’تمہارے تو یونہی اوسان خطا ہوجایا کرتے تھے۔‘‘ہم نے کہا ’’سچ کہتے ہویعنی ہم سستی اور کسالت کو خود اپنے قریب نہ آنے دیں تو ان کی کیا مجال ہے کہ ہمارے قریب سے گزر جائیں ..... ناک کو ذرا سی سردی محسوس ہوئی تو اس کو ذرا یوں ہی لحاف کی اوٹ میں کردیا اور پھر سوچنے لگے ’’خوب ہم آج کیا وقت پر جاگے ہیں بس ذرا اس کی عادت ہوجائے تو آئندہ قرآن مجید کی تلاوت اورفجرکی نماز بھی شروع کردیں گے۔ آخر مذہب سب سے مقدم ہے۔ ہم بھی کیا روز روز الحاد کی طرف مائل ہوتے جارہے ہیں۔ نہ خدا کاڈر نہ رسول کا خوف۔ سمجھتے ہیں کہ بس اپنی محنت سے امتحان پاس کرلیں گے۔اکبر بے چارہ یہ کہتا کہتا مرگیا لیکن ہمارے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ لحاف کانوں پر سرک آیا..... تو گویا آج ہم لوگوں سے پہلے جاگے ہیں ..... بہت ہی پہلے.....یعنی کالج شروع ہونے سے بھی چار گھنٹے پہلے کی بات ہے۔خداوندا! یہ کالج والے بھی کس قدر سست ہیں۔ ہر ایک مستعد انسان کو چھ بجے تک قطعی جاگ اٹھنا چاہئے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کالج سات بجے کیوں نہ شروع ہوجایا کرے۔
(لحاف سر پر ) بات یہ ہے کہ تہذیبِ جدید ہماری تمام اعلیٰ قوتوں کی بیخ کنی کررہی ہے .....‘‘
اقتباس قدرے طویل ہوگیا۔لیکن اپنی بات کی وضاحت اور طالب علم کی ذہنی اور نفسی کیفیات اور اس کی حرکا ت وسکنا ت کا لطف دکھانے کے لیے یہ ضروری تھا۔ اس اقتباس میں خود کلامی کی تکنیک سے جو کام لیا گیا ہے وہ کردار کی داخلی کیفیت کو ابھارنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ مزیدبرآں اس میں شعور کی رو کی تکنیک کی جھلکیاں بھی دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔ یہی صورتِ حال ان کے تمام مضامین میں پائی جاتی ہے۔ 
مزاح نگاری کے لیے صورتِ واقعہ پر فن کارانہ گرفت ناگزیر ہے۔ پطرس اس فن سے بہ خوبی واقف ہیں۔ وہ واقعہ میں دل چسپی پیدا کر نے کے لیے ایک مخصوص فضا کی تخلیق کرتے ہیں جس کے تحت قاری کے اندر توقعات اور تجسس جنم لیتے ہیں۔پھر ایسا ہوتا ہے کہ مزاح نگار کا قلم خط مستقیم پر چلتے چلتے اچانک ایک نیا موڑ اختیار کرلیتا ہے اور مضمون کا خاتمہ بڑا ہی اتفاقی اور ناگہانی ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قاری کی قائم کردہ توقعات ٹوٹ کر بکھر جاتی ہیں۔ توقعات کے قائم ہونے اور اس کے ریزہ ریزہ ہوکر بکھرنے سے ایک ایسی مضحک صورتِ حال جنم لیتی ہے جو قاری کو ابتسام پر مجبور کرتی ہے۔یہ کیفیت مرید پور کا پیر، ہاسٹل میں پڑھنا، یبل اور میں،میں نمایاں طور پر ابھری ہے۔مرید پور کا پیر، ایک خودساختہ اور نقال لیڈر کی پر لطف داستان ہے۔ یہ لیڈر عملی زندگی سے دور ہے، اس کے پاس اپنی کوئی فکر نہیں، وہ فن خطابت سے بھی نابلد ہے۔ مانگے تانگے کے الفاظ اور جملوں سے وہ اپنی تقریر کا تانا بانا بنتا ہے۔ لیکن عین موقع پر اس کا ذہن ماؤف ہوجاتا ہے۔ الفاظ اور جملے یاد نہیں آتے۔ بوکھلاہٹ میں دورانِ خطاب اس کی زبان سے جو فقرے ادا ہوتے ہیں وہ انتہائی بے ربط اور مضحکہ خیز ہوتے ہیں۔ یہاں مزاح نگار نے لیڈر موصوف کی مضحک صورتِ حال کو منظر عام پر لاکر مزاح کا رنگ پیدا کیا ہے۔ انھوں نے اس عمل کی جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ خیالی اور عملی زندگی میں بہت فرق ہے نیز یہ بھی کہ لیڈری کے لیے کچھ خلقی صفات ہوتی ہیں جو سب کو ودیعت نہیں ہوتیں۔
پطرس کی مزاح نگاری میں موضوعات کی عمومیت کا بھی بڑا دخل ہے۔ انھوں نے اپنے مضمون کے لیے کسی وقتی یا ہنگامی مسائل کا انتخاب نہیں کیا۔ بلکہ ایسے موضوعات لیے جن سے روز ہی ہم دوچار ہوتے ہیں۔ پطرس کا مشاہدہ وسیع اور عمیق ہے۔ انھوں نے ایک حقیقی فن کار کی طرح زندگی کے معمولی سے معمولی پہلوؤں کو بھی بڑی باریک بینی اور خلوص اور ہمدردی کے ساتھ دیکھا، اس کی ناہمواریوں کو محسوس کیا اور اپنے جادو نگار قلم سے انھیں منظر عام پر لایا۔ مذکورہ مضامین کے موضوعات بھی عمومی نوعیت کے حامل ہیں۔ طالب علم کی زندگی اور لیڈروں کی مضحکہ خیزیاں بلاتخصیص وقت اور مقام دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جو ہمہ دم تازہ اور نیا ہے۔ ’سنیما کا عشق‘ میں بھی ایک ایسے ہی موضوع کو برتا گیا ہے۔ اس میں پطرس نے اپنے دوست مرزا صاحب کی غفلت شعاری اور تساہل پسندی کو بے نقاب کیا ہے۔ ہر چند مزاح نگار نے کوشش کی کہ مرزا صاحب کے رویے میں فرق آجائے لیکن سب بے سود اور وہ جب بھی سنیما گئے تو لیٹ ہی پہنچے۔ ’مرحوم کی یاد میں‘ یہی مرزا اپنی عیاری اور ہشیاری سے اپنی شناخت کرواتے ہیں اور وہ اپنے دوست کے ہاتھوں ایک از کاررفتہ سائیکل بیج کر رقم اینٹھ لیتے ہیں۔ظاہر ہے یہ واقعات ایسے ہیں جو آئے دن ہمارے مشاہدے میں آتے رہتے ہیں۔ دھوکہ بازی، عیاری، مکاری، غفلت شعاری کا چلن کم از کم ہمارے معاشرے میں تو عام ہے۔ پطرس نے انھیں ایک واقعہ کی صورت عطاکی ہے۔
’یبل اور میں ‘ اور ’ میں ایک میاں ہوں‘ میں مزاح نگار نے عورت اور مرد کی نفسیات پر روشنی ڈالی ہے اور مضمون کی صورت میں ایک ایسا آئینہ پیش کردیا ہے جس میں عورتیں اور مرد اپنے ذاتی خصائص اور داخلی کیفیات کا عکس دیکھ سکتے ہیں۔ یبل اور واحد متکلم دونوں ایک ہی یونیورسٹی کے طالب ہوتے ہیں۔ دونوں کتابیں خریدتے ہیں خود پڑھتے اور ایک دوسرے کو پڑھواتے ہیں۔ بعد ازاں اس پر رائے زنی کرتے ہیں۔ اس رائے زنی میں دونوں کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کی آواز زیادہ بلند اور زیادہ پائیدار ہو۔ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی یہ خواہش ان کی صنفی برتری کے احساس کی زائیدہ ہوتی ہے۔ ’مَیں‘ ایک بار بیمار پڑجاتا ہے۔ یبل جب اُس کی عیادت کو آتی ہے تو وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہے کہ اس نے تمام کتابوں پر بغیر پڑھے ہی تبصرہ کیا تھا۔ ’یبل‘ زیر لب مسکراتی ہے۔ اس کی مسکراہٹوں میں بھی ایک راز پوشیدہ ہے۔ اس رازکی نقاب کشائی اس وقت ہوتی ہے جب واحد متکلم کتاب کھولتا ہے تو اس کے اوراق جڑے ہوئے پاتا ہے۔اس کامطلب یہ ہے کہ یبل بھی اسی غلطی کا ارتکاب کرتی رہی تھی۔اس مضمون کو ایسے مبصروں کے طنز پر محمول کیا ہے جو بغیر کتاب پڑھے ہی رائے زنی کے عادی ہیں۔ لیکن یہ خیال درست نہیں اور طنز ومزاح کے فرق کو ملحوظ نہ رکھنے کے نتیجے میں ہے۔ اس مضمون میں کہیں بھی طنز کی نشتریت اور لہجے کی تلخی کا اندازہ نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے برعکس پطرس کے لہجے میں ہمدردی اور انسیت کی جھلک ملتی ہے جو اسے خالص مزاح کے زمرے میں لے جاتی ہے۔پطرس کے معرکہ آرا مضمون ’کتے ‘ کے سلسلے میں بھی اسی طرح کا خیال ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ پطرس نے کتوں کے ہنگامے کو مشاعروں سے موازنہ کرکے مشاعرہ کا مذاق اڑایاہے۔ لیکن وزیر آغا نے اس خیال کی بھی تردید کی ہے وہ لکھتے ہیں ’’ پطرس کے مضمون کتے کے بارے میں بعض لوگو ں کا خیال ہے کہ مشاعروں کو کتے کے ہنگامے سے تشبیہ دے کر پطرس نے مشاعرے پر طنز کی ہے۔یہ بات درست نہیں۔ اول تو پطرس کا سارا لہجہ ہی ہمدردی اور توازن سے مملو ہے۔ دوسرے اس میں نشتریت کا عمل ناپید ہے۔ تیسرے طنز کا طرۂ امتیاز کہ طنز نگار خود کو اس ناہمواری سے بلند وبالاتر تصور کرتا ہے جسے وہ نشانۂ طنز بناتا ہے..... اس تشبیہ میں موجود نہیں۔ پطرس کا یہ کہنا کہ ہم نے کھڑکی میں سے کئی بار آرڈر آرڈ ر پکارا لیکن ایسے موقعے پر پردھان کی بھی کوئی نہیں سنتا اس بات پر دال ہے کہ مصنف نے اس موازنے میں اپنی ذات کوشامل کرکے طنز کو پوری طرح کند کردیا ہے۔
پطرس نے کوئی مثالی کردار ایسا پیدا نہیں کیا جو میاں خوجی،آزاد، یااسی قسم کے کرداروں کا ثانی قراردیا جاسکے۔ ہاں انھوں نے واحد متکلم کا ایک کردار ضرور پیش کیا ہے جو اپنی ناہمواریوں اور خامیوں کی وجہ سے ظرافت کا سامان پیدا کرتا ہے۔ لیکن اسے زندہ جاوید ہرگز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سچ تو یہ ہے کہ پطرس کے یہاں کردار نگاری ایک ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ اور وہ اپنی تمام تر توجہ واقعہ نگاری پر صرف کرتے ہیں۔
پطرس بلاشبہ ایک بلند پایہ مزاح نگار ہیں۔ ان کی مزاح نگاری اکتسابی نہیں بلکہ عطیۂ غیبی ہے۔ ان کا مشاہدہ وسیع اور عمیق ہے۔ وہ انسانی نفسیات کے بھی بڑے راز داں ہیں۔ ہماری کمزوریاں ان کی نظروں میں مترشح ہوتی ہیں۔ لیکن وہ ان پر طنز کا وار نہیں کرتے بلکہ انھیں تراش خراش کر ایک آئینہ کی شکل میں ہمارے سامنے پیش کردیتے ہیں جس میں ہم خود اپنی حماقتوں کے عکس دیکھ کر قہقہے لگاتے ہیں۔ وہ اپنے مزاح کے لیے کسی وقتی یا ہنگامی موضوعات کا انتخاب نہیں کرتے بلکہ روز مرہ کے مسائل کولے کر اپنی فن کارانہ مہارت سے انھیں زندہ جاوید بنادیتے ہیں۔ ان کی ظرافت لفظوں کی ظرافت نہیں بلکہ واقعات کی ظرافت ہے۔ ان کے یہاں مزاح کے سوتے واقعات کی سرزمین ہی سے پھوٹتے ہیں اور اہلِ ذوق کی تشنگی کو سیراب کرتے ہیں۔فضا آفرینی کا سلیقہ انھیں خوب آتا ہے اور اس سے وہ مضمون میں دل چسپی پیدا کرنے میں بڑا کام لیتے ہیں۔ پطر س کی زبان سادہ اور پرکار ہوتی ہے۔ جملے مختصر اور جامع ہوتے ہیں۔ ان میں شگفتگی اور سلاست بھی ہوتی ہے۔ وہ خواہ مخواہ اَدق اصطلاحی الفاظ کا استعمال کرکے اپنی علمیت کی دھونس نہیں جماتے بلکہ سیدھے سادے اور روز مرہ کے الفاظ میں ہی پتے کی بات کہہ جاتے ہیں۔ رشید احمد صدیقی نے پطرس بخاری کے سلسلے میں بجا طور پر کہا ہے کہ ’’ اگر ہم ذہن میں کسی ایسی محفل کا نقشہ جمائیں جہاں تمام ملکوں کے مشاہیر اپنے اپنے شعروادب کا تعارف کرانے کے لیے جمع ہوں تو اردو کی طرف سے بہ اتفاق آرا کس کو اپنا نمائندہ منتخب کریں گے ؟یقیناًبخاری کو۔ بخاری نے اس قسم کے انتخاب کے معیار کو اتنا اونچا کردیا ہے کہ نمائندوں کا حلقہ مختصر ہوتے ہوتے معدوم ہونے لگا ہے۔یہ بات وثوق سے ایسے شخص کے بارے میں کہہ رہا ہوں جس نے اردو میں سب سے کم سرمایہ چھوڑا ہے لیکن کتنا اونچا مقام پایا ہے۔‘‘

Masood Jami
Jami Enclave, C-1, Jamia Nagar
Ranchi - (Jharkhand)
Mob: 9504969822







قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

22/2/19

ارو زبان میں سائنسی صحافت (صورتِ حال، تقاضے اور امکانات) مضمون نگار:۔ غلام نبی کمار





ارو زبان میں سائنسی صحافت
(صورتِ حال، تقاضے اور امکانات)


غلام نبی کمار
ہندوستانی اخبارات و جرائدمیں مختلف موضوعات کا خزینہ ہوتا ہے۔بعض اخبارات میں موضوعات مختص رکھے جاتے ہیں۔ان اخبارات میں قومی اور بین الاقوامی سیاسی خبریں،انسانی زندگی سے متعلق تمام خبریں، سیاست، تہذیب وتمدن، اداریے،تعلیم،ملازمت،پیدائش و موت، تقریب یوم پیدائش، جرائم، کارٹون، اشتہارات، مضامین، سیاسی، سماجی اورمعاشی خبریں،ادبی و مذہبی مضامین،طب،سائنس،ٹکنالوجی،فلموں اور کھیلوں کی خبریں،شہروں اور مختلف اضلاع کی سرگرمیاں،زرعی خبریں، سمینار، جلسے، موسم کے حالات، تجارت اور صنعت و حرفت کی خبریں وغیرہ شائع ہوتی ہیں۔غرض کہ اخبارات میں زندگی کے تمام شعبوں اور گوشوں کا ذکر ملتا ہے۔لیکن اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ اردو صحافت وہ چاہے اخباری صحافت ہو یا مجلاتی صحافت،میں سائنسی موضوعات کی کمی شدت سے محسوس کی جاتی رہی ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ اردو صحافت سائنسی مضامین سے یکسر خالی ہے۔سائنسی موضوع کوعلمِ ریاضی کی طرح خشک موضوع سمجھا جاتا ہے اس لیے شاید سائنسی موضوع میں کم دلچسپی کی یہ بھی ایک وجہ رہی ہو۔تاہم اخبارات میں شاذ و نادر ہی سہی سائنسی مضامین شائع کیے جاتے ہیں۔سائنسی مضامین جن ہندوستانی اخبارات میں نظر سے گزرتے رہتے ہیں ان میں انقلاب،راشٹریہ سہارا،کشمیر عظمیٰ،میرا وطن، قومی تنظیم، ہمارا سماج، نیا نظریہ، اخبار مشرق، سیاست، منصف، صحافی دکن، اودھ نامہ، آگ، صحافت، تاثیر، سیاسی تقدیر وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ راقم الحروف کے مشاہدے میں آیا ہے کہ بیرونی ممالک میں سائنس کے حوالے سے جو تحقیق ہوتی رہی ہے اُ س کی رپورٹیں بعد میں اُن ممالک کے سفارت خانوں کے توسط سے یو این آئی،آر این آئی اور دیگر نیوز ایجنسیوں کے ذریعے ہندوستانی اردو اخبارات میں ترجمے کے ساتھ شائع ہوتی آئی ہیں۔اس کے علاوہ ماحول،صحت، جغرافیۂ طبعی، غذا، امراض، آلودگی، شکاریات، جنگلاتی وسائل، توانائی، آب و ہوا، آبی ذخائر، سائنسی ایجادات، کیمیات، طبعیات، حیاتیات، نباتات، ریاضی، قدرتی فلسفہ اور دوسری کارآمد سائنسی معلومات وغیرہ سے متعلق مضامین بھی اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔اب بعض اخبارات نے دیگر موضوعات کی طرح سائنسی موضوع کے لیے بھی اخبار کا ایک صفحہ مختص کر لیا ہے۔ 
اردو میں سائنسی صحافت کے حوالے سے بات کی جائے تو یہاں بھی صورتِ حال زیادہ بہتر نہیں ہے۔البتہ کچھ مخصوص رسالے سائنس کے حوالے سے شائع ہوتے ہیں جن سے سائنسی صحافت کو فروغ ملا اور سائنسی میدان سے تعلق رکھنے والے ادیبوں اور قلم کاروں کو سائنس کے مختلف النوع موضوعات پر لکھنے کی ترغیب ملی۔اس قسم کے رسائل و جرائد میں انجمن ترقی اردو (ہند)دہلی کا ماہ نامہ سائنس،سائنس کی دنیا،اسلم پرویز کی ادارت میں شائع ہورہا رسالہ سائنس،ہمدرد صحت،رسالہ ہندوستانی، رسالہ خدنگِ نظر، روحانی سائنس، سائنس کی کائنات، رسالہ طبعی سائنس،رسالہ خاتون،رسالہ کمیکل سوسائٹی، طبیہ کالج میگزین،رسالہ حیوانیات(شعبہ حیوانیات علی گڑھ مسلم یونی ورٹی)،سائنس اور کائنات ٹائمز،سائنس اور کائنات،آیات وغیرہ شامل ہیں۔
ہندوستان کے وہ قدیم اردو رسائل جن میں سب سے پہلے سائنسی مضامین شائع کیے جاتے تھے اور ترجیح دی جاتی تھی اس میں پندرہ روزہ رسالہ’ فوائدالناظرین‘ بھی قابل ذکر ہے جس کے ایڈیٹر دہلی کالج کے استاذ اورعلم ریاضی کے امام ماسٹر رام چندر تھے۔’فوائد الناظرین ‘ میں علمی،تاریخی اور سائنسی مضامین شائع ہوتے تھے۔اس میں سلسلہ مضامین طبیعات،بیان پن چکی کا،علم ہئیت، بیانات حیوانات کا،انسان کی عقل کا بیان،حال جانوروں عجیب کا،معرفت طبعی،مقناطیس بنانے کی ترکیب، حال ستارہ مشتری کا،مریخ ستاروں کا بیان،وجود کیڑوں کا پانی میں وغیرہ جیسے عنوانات کے تحت مضامین کی اشاعت ہوتی رہتی تھی۔رسالہ’’ خیرخواہ ہند اور محب ہند‘‘کو بھی ابتدائی رسائل میں سائنسی صحافت کے حوالے سے اولیت حاصل ہے۔ اس کے ایڈیٹر ماسٹر رام چندر ہی تھے۔ ’محب ہند‘ میں بھی سیاسی، تاریخی اور سائنسی معلومات کے علاوہ ہم عصر شعرا اور اساتذہ کا منتخب کلام ملتا ہے۔
اردو کی ادبی صحافت ہویا سائنسی صحافت سرسید احمد خاں کے نام کے بغیر نامکمل ہے۔سرسید احمد خان کا نام اردو کی سائنسی صحافت کے بنیاد گزاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے ’تہذیب الاخلاق‘ کے ذریعے سائنس جیسے سنجیدہ اور بہت ہی مفید موضوع کو عام کیا۔یہ رسالہ دسمبر 1870کو جاری ہوا۔ ’تہذیب الاخلاق ‘میں علمی، مذہبی، اخلاقی، تمدنی،سائنسی نیز دیگر مضامین کے شائع ہونے سے اردو صحافت میں انقلاب پیدا ہوا۔اس رسالے میں سائنسی علوم و فنون پر مضامین کو اہمیت کے ساتھ جگہ دی گئی اور اس موضوع پر لکھنے والوں میں شمس العلماء مولوی ذکاء اللہ،عنایت اللہ،محمد ابوالحسن وغیرہ شامل تھے۔یکم ربیع الثانی سنہ 1312ھ کے شمارے میں عنایت اللہ کا سائنسی موضوع پرلکھا گیا ایک مضمون بعنوان ’نیچرل سینٹر کے عجائبات‘ کے تحت شائع ہوا۔جس کاایک اقتباس پیش خدمت ہے:
’’ہم اپنی دور بینوں کے ذریعہ سے جو اب کمال کے درجے کو پہنچ گئی ہیں چاند کی مفصل کیفیت اپنی آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں اور اس کا ایسا امتحان کر سکتے ہیں جیسے زمین پر کسی دور کی چیز کو دیکھیں۔اس لیے ہم ایک خاص حد تک اس کی طبعی کیفیت کو بخوبی معلوم کر سکتے ہیں۔‘‘1
’تہذیب الاخلاق‘ کے سائنسی موضوعات اور مواد کے حوالے سے پروفیسر شافع قدوائی لکھتے ہیں:
’’تہذیب الاخلاق کا اجرا مسلمانوں کی جدید سائنس کی جانب بے رغبتی کو ختم کرنے کے لیے ہوا اور اس نے سائنسی اصولوں اور نئی دریافتوں سے متعارف کروایا۔ اس کا سائنسی دریافتوں پر اصرار لمبے وقفے تک مسلمانوں میں سائنس و ٹکنالوجی کے تئیں رغبت پیدا کرنے میں مدد گار ثابت ہوا۔ تہذیب الاخلاق کے مطابق سائنسی علوم سے روشناسی تعلیمی،تہذیبی اور دانشوری کو نئی زندگی عطا کرنے میں مرکزی کردار کی حیثیت رکھتی ہے۔‘‘2
سرسید کی کاوشوں اور سائنس کے تئیں ان کی عملی جستجو سے تہذیب الاخلاق باضابطہ طور پر پہلا رسالہ بنا جس میں سائنسی تعلیم اور سائنس سے متعلق کئی اہم موضوعات پر مضامین شائع ہونے لگے۔ہندوستان کے سربرآوردہ اردو شاعر اور معروف سائنسی صحافی پنڈت گلزارزتشی دہلوی اپنے ایک تحریر کردہ مضمون ’اردو سائنسی صحافت ایک سرسری جائزہ‘ میں سرسیدکی سائنسی صحافتی خدمات کا اعتراف نہایت ہی نفیس اور شائستہ الفاظ میں کرتے ہیں:
’’آخر ’مردے از غیب بروں آمد‘ کی مِصداق سرسید احمد خاں‘ اس بسیط صحرائے ادب میں نخلستانِ سائنس کی دریافت کو نکل کھڑے ہوئے اور انھوں نے اس ضمن میں اُس دور کے حالات و وسائل اور اقدار و روایات، عقیدے اور نظریوں کے موجود ہجوم میں اور توہم پرستی کے دور میں ایک سائنٹفک سوسائٹی قائم کی۔کچھ کتابیں سائنسی علوم پر تصنیف و تالیف کرائیں۔کچھ تراجم ہوئے،چند سائنسی مضامین لکھے گئے اور ا ن کے رسالے ’تہذیب الاخلاق‘ میں سائنسی موضوعات و علوم پر کچھ قلم آزمائی کی گئی۔اس طرح سید احمد خاں نے اردو والوں کو ایک نئی ڈگر پر ڈالا اور سائنسی تحریروں پر کچھ توجہ کرنے کی بسم اللہ ہوئی۔‘‘3
گلزار دہلوی نے اس مضمون میں ماقبل آزادی اور بعد از آزادہندوستان کی سائنسی صحافت کے بارے میں ہرممکن تحقیقی جانکاری فراہم کردی ہے جو کسی بھی محقق کے لیے بہت معاون و مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔انھوں نے دونوں وقتوں میں ہندوستان میں سائنسی صحافت کی صورتِ حال سے مکمل طور پر آگہی دلائی ہے۔انھوں نے لکھا ہے کہ 1917سے لے کر1947تک سائنسی صحافت کے تعلق سے نظام حیدر آباد کے ایماء پر دارالترجمہ اور دارالاشاعت‘حیدر آباد فرخندہ باد سے ایک منظم، اعلیٰ پیمانے اور بلند معیار کی ایک اہم پہل ہوئی۔جہاں زبان و فلسفہ کے علمی و ادبی،عالی دماغ جمع کیے گئے،وہیں اِس کے ساتھ ساتھ سائنسی علوم و کتب کا ترجمہ اور اصطلاحاتِ سائنس کا ترجمہ بڑے پیمانے پر عمل پذیر ہوا۔کیمیا، طبیعات، نباتات، ادویات، نجوم، ہیئت، ریاضی، حساب و ہندسہ، جغرافیہ، علم الارض، علم الحیوانات، انجینئرنگ وغیرہ بے شمار علوم کے نصابی ترجمے کیے گئے اوراصطلاح سازی ہوئی۔آٹھویں سے ایم۔اے تک بلکہ پی۔ایچ۔ڈی تک اردو ذریعہ تعلیم کا کامیاب ترجمہ کیا گیا۔ یہاں تک کہ مختلف اخبارات ا ور رسائل میں سائنسی مضامین لکھے جانے کی روایت کا آغاز ہوا اور ملک کو اور اردو معاشرے کو اردو سائنسی صحافت اور اردو سائنسی ذریعۂ تعلیم و مطالعہ کی طرف راغب کیا گیا۔ 
ماسٹر رام چندر،سرسید اور نظام حیدر آباد کے بعد سائنسی صحافت کو فروغ دینے میں بابائے اردو مولوی عبدالحق کی خدمات کو بھی قطعی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی کے ساتھ مشترکہ اور غیر منقسم ہندوستان میں پہلے اورنگ آباد اور حیدر آباد اورپھر1938-1939سے 1947تک انجمن ترقی اردو (ہند) دلّی سے اردو میں سائنس کا کام کیا اور ایک خالص سائنسی رسالہ’سائنس‘ شائع کیا۔جس کے ذریعے بہت عرصے تک سائنسی مضامین شائع کیے گئے اور دیگر سائنسی علمی و ادبی سرگرمیوں کی اشاعت و تشہیرہوتی رہی۔ آزاد ہندوستان میں اردو سائنسی صحافت کی باقاعدہ شروعات مجلہ ’سائنس کی دنیا‘سے ہوئی۔جس کا پہلا شمارہ 20 / جون 1975میں شائع ہوا اورراشٹر پتی بھون میں اس وقت کے صدر جمہوریہ ہند کے بدست اس کا اجراء عمل میں آیا۔ ’سائنس کی دنیا‘سہ ماہی رسالہ ہے جس کے پہلے مدیر پنڈت زتشی گلزار دہلوی تھے۔یہ ایک سائنسی رسالہ ہے جس میں اردو داں عوام و طلبہ کے لیے مفید عوامی اور دلچسپ سائنسی معلومات،سائنس و تکنیکی ترقیاں،نئی نئی ایجادوں، عام طالب علموں اور جستجو کاروں کے لیے بہترین مضامین شائع ہوتے ہیں۔سائنسی خبریں،عوام کی سائنس،سائنسی مشغلے،جرائم اور سائنس،سائنسی کہانیاں، سائنسی ادارے وغیرہ اس کے موضوعات ہوتے ہیں۔ اس کے لکھنے والوں میں بہترین سائنس داں،دانشور،ماہر تعلیم،ریسرچ کرنے والے اور سائنسی فکر کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ یہ مجلہ آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ شائع ہوتا ہے۔
ماہنامہ’سائنس‘دہلی سے اسلم پرویز کی ادارت میں شائع ہوتا ہے۔اس رسالے نے جو سائنسی خدمات انجام دی ہیں وہ ناقابل فراموش ہے۔ڈاکٹر اسلم پرویز اس سائنسی جریدے کے بانی و مدیر ہیں اور یہ رسالہ انہی کی فکر اور سوچ کا نتیجہ ہے جو اتنے برسوں تک بغیر کسی سرکاری معاونت کے شائع ہورہا ہے۔اس جریدے میں ہر قسم کے سائنسی مضامین شائع ہوتے ہیں۔اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اردو سائنسی صحافتی سرگرمی کو برقراررکھنے اور اسے جاودانی عطا کرنے میں ماہنامہ’سائنس‘ایک اہم رول ادا کر رہا ہے۔ڈاکٹر محمداسلم پرویز نے’سائنس‘کے پچیس سال مکمل ہوتے ہی ڈاکٹر محمد کاظم کی کتاب ’اشاریہ ماہنامہ سائنس‘ کے اجرا کے موقعے پر غالب اکادمی، دہلی میں رسالے کے اغراض و مقاصد کے حوالے سے کہا تھا کہ یہ ایک ماہنامہ ہی نہیں بلکہ اردو میں سائنس کو فروغ دینے کی ایک اہم تحریک ہے جس کا مقصد مکمل علم اور دین کی دعوت دینا ہے۔اُنھوں نے مسلمانوں کی سائنسی علوم سے دوری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ قرآن کی چند آیتوں ہی کو مکمل اسلام سمجھے ہوئے ہیں۔ جب کہ قرآن مسلمانوں کو کائنات میں غوروفکر کی دعوت دیتا ہے۔جب قانون دین میں شامل ہے تو قانونِ فطرت علم دین سے الگ کیسے ہوسکتا ہے؟۔ڈاکٹر عزیر اسرائیل نے ’اشاریہ ماہنامہ سائنس‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد کاظم کا اقتباس نقل کیا ہے جس سے قارئین ’سائنس‘کے موضوعات و مشمولات سے آگاہ ہوسکتے ہیں:
’’سائنس اور ماحولیات سے متعلق ایسے کون سے موضوعات ہیں جن پر یہاں مضامین شامل اشاعت نہیں ہوئے۔بلکہ روزمرہ میں پیش آنے والی بیماریوں کی وجوہات اور ان کا علاج، ہمارے ماحول کا بدلتا مزاج اور اس کے اثرات، سائنس خبرنامہ، سائنس کوئز، ستاروں کی دنیا، روشنی کی باتیں، روشنی کا جھکاؤ، روشنی کی واپسی، روشنی کی نظر بندی، زمین کے اسرار، سفیران سائنس، عظیم ایجادات، سمندری حیات، مچھلیوں کی دلچسپ باتیں، جانوروں کی دلچسپ کہانیاں،جانوروں کی عادات و اطوار،بلیک ہول،قرآن اورسائنس، نفسیاتی مسائل ورک شاپ، وزن کے مسائل، انسانی حس اور اس کا اظہار، مشینوں کی بغاوت، صفر سے سو تک، علم کیمیا کیا ہے؟علم نجوم، غذا میں چکنائی، غذا کی اہمیت، ہمارا جسم، طب، ریاضیات، پانی، زراعت، معلومات عامہ، کمپیوٹر، مقناطیسیت، کیا آپ جانتے ہیں؟کب کیوں اور کیسے؟سوال و جواب اور اس طرح کے بہت سارے موضوعات اور مسائل پر نہ صرف ایک سے زیادہ مضامین اور اندراجات موجود ہیں بلکہ وقفے وقفے سے ان موضوعات پر سلسلہ وار مضامین شائع ہوتے رہیں گے۔‘‘4
اس اقتباس سے اردو کے عہد ساز ماہنامہ ’سائنس‘ کے مزاج و منہاج کا اندازہ بہ خوبی لگایا جا سکتا ہے۔مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ اِس رسالے کی سائنسی صحافتی خدمات کو تاریخ کے سنہرے پنوں میں مرقوم و محفوظ کیا جا سکتا ہے۔اردو میں اس کے علاوہ متعدد ادبی و نیم ادبی رسالے ہیں جن میں بسا اوقات سائنسی مضامین وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہے ہیں۔ان میں ماہنامہ آجکل،اردو دنیا، بچوں کی دنیا،ماہنامہ امنگ،نیا کھلونا،تعمیر فکر،ذہن جدید وغیرہ خاص طور پرقابل ذکر ہیں۔ ماہنامہ’آجکل‘ ایک معیاری اور مستند رسالہ مانا جاتا ہے۔اس میں سائنسی مضامین کے شائع ہونے کی روایت سے متعلق مشہور محمد خلیل ایک مضمون’آجکل میں سائنسی ادب‘کے حوالے سے یوں رقمطراز ہیں:
’’ اس مشہور رسالہ کے بارے میں مجھے سب سے پہلے مرحوم چچا جان(پروفیسر محمد شفیع عالمی شہرت یافتہ جغرافیہ داں) نے بتایا اور اس میں مجھے سائنس پر لکھنے کی توجہ دلائی۔ اُس زمانہ میں اردو کے کئی رسالے کھلونا، پیام تعلیم، گل بوٹے کئی اور بچوں کے مشہور رسالے تھے۔ جب کہ ’آجکل‘،’ یوجنا‘، ’نیا دور‘، ’سب رس‘، کتاب نما‘، ’قومی راج‘بڑوں کے لیے تھے۔ لیکن اُن میں کبھی کبھی کوئی مضمون سائنس پر بھی ہوتا تھا۔ اس طرح سائنس کے مواد کو آجکل اردو نے شروع سے ترجیح دی ہے۔اسی زمانہ میں مدیر شہباز صاحب کی ادارت میں اکتوبر۔نومبر 1978کا خصوصی شمارہ ’جنگلی جانوروں‘پر شائع ہوا تھا جو رمیش بیدی،ڈاکٹر سالم علی، نند کشور وکرم، ریحان احمد عباسی اور کئی دوسری شخصیات کے مضامین سے آراستہ تھا۔جسے اردو قارئین نے بے حد سراہا تھا۔‘‘ 5
محمد خلیل کے مضمون سے لیا گیا درج بالا اقتباس اس بات کا ثبوت ہے کہ آجکل میں بھی سائنسی مضامین کی اشاعت کی روایت رہی ہے۔یہ بھی کہ آجکل میں ایک اہم سائنسی موضوع جنگلی جانوروں کے بعنوان خصوصی شمارہ بھی شائع ہوا تھا۔آجکل کے ڈائمنڈ جوبلی نمبر میں محمد خلیل کا مضمون ’آجکل میں سائنسی ادب‘ میں مذکورہ خصوصی شمارے کے تقریبا تمام مضامین کا بے حد عمدگی اور شائستگی سے تجزیہ کیا گیا ہے۔ 
جس کثرت سے اردو اخبارات اور رسائل و جرائد میں دیگر علمی و ادبی اور سیاسی و سماجی موضوعات پر مضامین شائع ہوتے ہیں یا بحث و مباحثے ہوتے ہیں،برعکس اس کے سائنسی میدان میں فی الوقت تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔ سائنس،ٹکنالوجی، انجینئرنگ، ریاضی،کیمیا، خلائی سائنس، نیوکلیر اینرجی،بعض مہلک بیماریوں اور آلودگیوں وغیرہ سے متعلق ہمارے یہاں کتب کی عدم دستیابی پریشانی کا ایک بڑا سبب ہے۔اس لیے ہندوستان کے سائنس دانوں اور سائنسی علوم کے ماہرین کو اس ضمن میں پیش قدمی کرنی چاہیے تاکہ اس شعبے میں موجود خلا کو دور کیا جا سکے۔ راقم الحروف نے اس مضمون میں جن سائنسی رسائل کا نام لیا ہے۔ ان میں بیشترکی مدتِ اشاعت زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکی۔ 
اردو کی سائنسی صحافت کا اہم اور قابلِ ذکر پڑاؤ برقی صحافت کا ہے۔جس میں ریڈیواور ٹیلی ویژن ایک ناقابلِ فراموش کردار ادا کر رہا ہے۔ان دونوں نشریاتی اداروں کے ذریعے مختلف موضوعات پراردو کے سائنسی پروگرام ٹیلی کاسٹ کیے جاتے ہیں۔جس سے سائنس کی معلومات سماج کے ہر فرد تک بذریعہ ٹی۔وی اور ریڈیو کے مختلف چینلوں اور اسٹیشنوں کی وساطت سے پہنچ جاتی ہے۔ان دونوں کے توسط سے صحت، معاش، زراعت، ٹکنالوجی اور سائنس کے مختلف شعبہ ہائے جات سے متعلق آگہی اور معلومات کی ترسیل عام و خاص دونوں طبقوں تک بہ آسانی ہوجاتی ہے۔مزیدان دونوں مذکورہ نشریاتی اداروں سے ڈاکٹرآن لائن،کرشی درشن،ڈسکوری چینل، ماہرین کے مختلف سائنسی موضوعات پر لیکچرس، صحت اور امراض سے متعلق مختلف پروگرامزوغیرہ براڈ کاسٹ کیے جاتے ہیں۔یہ تمام پروگرام اردو میں بھی ہوتے ہیں اور دوسری زبانوں میں بھی۔اس طرح ان تمام کے ذریعے سائنسی پیغامات اور سائنسی جانکاری کی کامیاب ترسیل ممکن ہوپاتی ہے۔
اردو کے جن سائنسی صحافیوں نے سائنسی معلومات کو عام کیا اور اپنی زندگی سائنس کی تشہیر و تبلیغ میں گزار دی اور اس کی ترقی و ترویج کے لیے اپنی زندگی وقف کردی ان میں ماسٹر رام چندر،سرسید احمد خاں،مولانا ابولکلام آزاد، گلزار دہلوی، ڈاکٹر اسلم پرویز، محمد خلیل، منظو الامین، پروفیسر عبد المعز شمس، ڈاکٹر عبید الرحمان، اسعد فیصل فاروقی، احمد علی برقی اعظمی (سائنسی نظمیں)،انیس الحسن صدیقی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ 
حوالہ جات
(1) بحوالہ:علی گڑھ کے جرائد کا تاریخی اور صحافتی مطالعہ از اسعد فیصل فاروقی، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی،طبع دوم 2017، ص 39
(2) ایضاً
(3) اردو صحافت از مرتب انوار دہلوی،مشمولہ اردو کی سائنسی صحافت از گلزار زتشی دہلوی،اردو اکادمی دہلی،طبع چہارم 2009، ص285
(4) بحوالہ:اردو ریسرچ جرنل،جلد 3،شمارہ 10،جنوری تا جون 2017،ص 67
(5) بحوالہ ماہنامہ آجکل،ڈائمنڈ جوبلی نمبر،جلد 75، شمارہ12، جولائی 2017،ص24۔

Ghulam Nabi Kumar
Kumar Mohalla, Charari Sharief, Budgam-191112 (J&K)
Mob: 7053562468






قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...