21/8/20

عہداکبری میں علوم و فنون اور تہذیب و ثقافت کی صورتِ حال مضمون نگار: محمد مبارک حسین

 


ہندوستان ایک قدیم تہذیبی ملک ہے جو ہزارہا سال کے تمدنی آثار رکھتا ہے۔ یہاں اہل عرب کی آمد اسلام سے بہت قبل سے جاری ہے اور ہندوستان کے لوگ بھی عرب اور وسط ایشیا کے ملکوں میں صدیوں سے آناجانا کر رہے ہیں۔ موجودہ ہندوستانیوں کے خون میں جس طرح بیرون ملک سے آنے والوں کا خون شامل ہے، اسی طرح دوسرے ممالک میں بھی ہندوستانیوں کی آمد ورفت اور اختلاط کے سبب وہاں کی مٹی میں ہندوستانی مٹی کی سوندھی مہک شامل ہوچکی ہے۔ ہندوستان میں بسنے والے سبھی مذاہب کے لوگوں نے ایک دوسرے کے مذہب کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے ایک دوسرے کی مذہبی کتابوںکو پڑھا ہے، ان کے تراجم کیے ہیںاور اشاعت کی ہے۔ محمود غزنوی کی فوج کے ساتھ آنے والے فلسفی و مؤرخ ابوریحان البیرونی نے ’کتاب الہند ‘ لکھ کر ہندوستانی تہذیب وتمدن اور یہاں کے علوم وفنون سے دنیاکو آگاہ کرنے کا پہلا کام کیا تھا۔ حالانکہ اسی دور میں بغداد کے عباسی خلفا بھی ہندوستانی کتابوں کے تراجم کرا رہے تھے اور انھوں نے ہندوستان کے علم نجوم وطب سے استفادے کی کوشش کی تھی۔ پروفیسر حکیم سید ظل الرحمن رقم طراز ہیں:

’’عربوں نے بلاد روم کی فتح کے وقت وہاں کے علوم و معارف اور کتابوں کے ساتھ وہ حشر نہیں کیا، جو ہسپانیوں نے فتح اندلس کے وقت، یا تاتاریوں نے بغداداور وسط ایشیا کے دوسرے اسلامی ملکوںکی تاراجی کے بعد عربی کتابوں کے ساتھ کیا۔ چنانچہ ہارون رشید (786-808) کے زمانے میں عموریہ اور انقرہ کی فتح کے بعد جب کتابوں کے ذخیرے ہاتھ آئے تو عربوں نے ان کی پوری حفاظت کی۔ طب، فلسفہ اور فلکیات کی نادر اور نفیس کتابیں بغداد لائی گئیں۔ یوحنا بن ماسویہ (وفات 243ھ/857) جیسے وحید عصر کی تولیت میں ان کتابوں کو دیا۔ اس نے ان کے تراجم کے اہتمامات کیے، اور متوکل کے عہد تک اس کی خدمت کا سلسلہ جاری رہا۔ ہارون کے زمانے میں ہندوستانی طبیب منکہ نے سنسکرت سے فارسی اور عربی میں ترجمے کیے۔ اسی طرح ابن دھن جو بیمارستان برامکہ سے وابستہ تھا متعدد کتابوں کا مترجم ہے۔ ‘‘ 

( طبی تقدمے، ص، 137، پروفیسر سید ظل الرحمن، مسلم یونیور سٹی پریس، علی گڑھ2000)

ہندوستان میںمغل حکمراں جلال الدین محمد اکبر کو علم پروری کے لیے جاناجاتاہے مگر اس نے علمی کتابیں کم اور آرٹ کی کتابوں کی طرف زیادہ توجہ دی تھی۔ اکبر نے مہابھارت کا ترجمہ ’رزم نامہ‘ کے نام سے کرایاتھا۔ یہ قدیم  داستان کوروؤں اور پانڈوؤں کے درمیان کی لڑائی ہے، جو پشتہاپشت سے عوامی زبان پر رائج ہے اور یہ جنگ ضرب المثل کے طور پر بیان کی جاتی ہے۔ جنگ کے دوران شری کرشن نے ارجن کی رتھ بانی کی خدمت انجام دی تھی اور اس بیچ انھوں نے انھیں بہت سی نصیحتیں کی تھیں جن کا مجموعہ ’بھگوت گیتا‘ ہے اس کتاب کا فارسی ترجمہ فیضی نے کیا تھا۔ مہابھارت کو ایک مقدس کتاب مانا جاتا ہے اور اکبر چونکہ مذہبی رواداری کا قائل تھا۔ لہذا اس نے اس کتاب کا ترجمہ کرایا ہوگا۔ اس نے جن کتابوں کے تراجم سنسکرت سے فارسی میں کرائے تھے ان میں مہابھارت، رامائن اور اپنیشد،سنگھاسن بتیسی، حیات الحیوان، اتھروید، انجیل، لیلا وتی، کلیلہ ودمنہ، تاریخ کشمیر، تزک بابری، معجم البلدان، جامع رشیدی، بحرالاثمار، ہربنس، بھی شامل تھیں۔اس سلسلے میں شیخ محمد اکرام تحریر کرتے ہیں:

’’اکبر نے ادبیات کی سرپرستی کی، سنسکرت، عربی، ترکی، یونانی سے فارسی میں کتابیں ترجمہ کرائیں، سنسکرت سے جو کتابیں ترجمہ ہوئیں، ان میں رامائن، مہابھارت، بھاگوت گیتا،اتھروید اور ریاضی کی کتاب لیلا وتی مشہور ہیں۔‘‘

(رود کوثر، ص164، شیخ محمد اکرام، تاج کمپنی ترکمان گیٹ، دہلی 2004)

اکبر کے دربار میں رباعیات بھی خوب لکھی گئیں مگر اس دور میں غزل کا رنگ زیادہ چڑھا۔باکمال اساتذہ کی تقلید،تکمیل فن کی خاطر کی جاتی تھی۔چنانچہ غزل ہو یا قصیدہ با کمال شعرا کے یہاں ان کے پیش رو اساتذہ کے رنگ میں اس قسم کی تقلید کے بہت سے نمونے ملیں گے،نظیری اور فیضی دونوں کے کلام میں گذشتہ اساتذہ کے رنگ بھی ملتے ہیں۔ان میں جوش بیان بھی ہے اور مضامین کی طرفگی بھی،استعارات کی جدت بھی،تشبیہات کی لطافت بھی،شوخی بھی،ندرت بھی،نئی نئی ترکبیں بھی،مضمون آفرینی بھی جن سے اس دور کے تغزل میں بڑی تابناکی پیدا ہو گئی۔یہ دونوں اساتذۂ فن تھے، اس لیے ان میں یہ ساری خوبیاں آسانی سے مل جائیں گی لیکن اس کے علاوہ اس دور کے دوسرے شعرا کے کلام میں بھی بہت ساری خوبیاں ملتی ہیں۔مجموعی طور سے اس دور کی غزلیں صاف،سلیس اور دلنشیں انداز میں لکھی گئی ہیں۔ اس دور میں تاریخ گوئی کا بھی رواج عام تھا،رفیعی معمائی نے ایک رباعی کہی تھی جس سے 26 تاریخیں نکلتی ہیں، خواجہ حسین مروی نے شہزادہ سلیم کی ولادت کے موقع پر ایک طویل قصیدہ کہا جس کے پہلے مصرع سے اکبر کی تاریخ جلوس اور دوسرے مصرع سے سلیم کی تاریخ ولادت نکلتی ہے۔

اس عہد میں بات بات پر قطعۂ تاریخ کہے جاتے تھے۔ولادت،شادی بیاہ، وفات، فتح، سفر، کتاب کی تالیف کے موقع پر پھڑکتی ہوئی تاریخ کہہ کر ادبی دنیا میں برابر داد طلب کی جاتی رہی۔ نیز یہ عہد فارسی زبان و ادب کے لیے ایک ایسا عہد گزرا ہے جہاں قلم و سخن کا ذکر اگر مختصراً بھی کیا جائے تو ایک ذخیرہ تیار ہو جائے گا۔

ہندوستان کی تاریخ میں عہداکبری کئی اعتبار سے نہایت اہم دور کہلاتا ہے۔ انھوںنے اپنے جانشینوں کے لیے علوم وفنون کی وسیع پیمانے پر سرپرستی کی اور وہ روایات قائم کیں جنھوں نے مغلیہ تہذیب وتمّدن کو آب وتاب بخشی۔ اکبر کے دربار  میں عبدالقادر بدایونی، فیضی، ابوالفضل اور نظام الدین جیسے اہل علم رہتے تھے۔ اس بادشاہ کا دور حکومت ہندوستان میں فارسی ادب کی ترقی کا دور تھا مگر اسی کے ساتھ اس زمانے میں سنسکرت کے فروغ کے لیے بھی کام ہوا۔ ’آئین اکبری‘ میںاکبر کے راج دربار کے 59 شعرا کے نام ملتے ہیں، ان کے علاوہ سنسکرت کے علما بھی تھے اور بہت سے علماء فارسی و سنسکرت دونوں زبانوں میں مہارت رکھتے تھے۔ اکبر کے زمانے میں ہی عبدالرحیم  خانخاناں بھی تھا جو سنسکرت کا بڑا عالم اور اہل علم کی سرپرستی کرتا تھا۔ وہ ہندی کے معروف شاعروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہندی کے مشہور شاعر راجہ بیربل، مان سنگھ، بھگوان داس وغیرہ اکبر کے دربار سے وابستہ تھے۔ تلسی داس اور سور داس مغل  دور کے دو ایسے عالم تھے جو اپنی تخلیقات سے ہندی ادب کی تاریخ میں امر ہوگئے۔

اکبربادشاہ کے زمانے میں جتنا متنوع علمی وادبی کام ہوا وہ کسی اور عہد میں نہیں ہوا۔ علم وادب کے علاوہ مصوری،خطّاطی اور دوسرے فنون میں اس زمانے میں اتنی ترقی ہوئی کہ اس کو بجا طور پر دور متوسط کا سنہرا زمانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔اکبرنے نہ صرف فن مصوری کو اختیار کیا بلکہ اسے ایک مستقل ادارے میں تبدیل کردیا۔ اور اس نے ایرانی مصوروں کے اردگردفن کاروں کا ایک نیا گروہ تیار کرلیا جو انھیں فنکاروں کے ترتیب یافتہ تھے جن کے ذریعے اکبر نے مصوری کے ایک اسکول کی بناڈالی جس میں ’حمزہ نامہ‘کی تصویریں بنانے کا کام شروع ہوا۔ حمزہ نامہ کے بارے میں ابوالفضل نے لکھا ہے :

’’ داستان امیر حمزہ بارہ جلدوں میں تقسیم کی گئی تھی، اس کتاب میں ایک ہزار چارسوحیرت انگیز تصویریں بنائی گئیں، جن سے ناظرین استعجاب میں مبتلا ہوگئے۔  ‘‘

(آئین اکبری، جلداوّل، ص195، شیخ ابوالفضل، ( بتصحیح سر سید احمد خان ) سر سید اکیڈمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی2005)

 اکبر کے زمانے میں جو نقاش کام کررہے تھے ان میں زیادہ تر کشمیری، گجراتی اور پنجابی ہندو تھے جو اپنے علاقائی اور موروثی رسم ورواج ساتھ لائے تھے، چنانچہ ملک کے مختلف طرز جو ملک کے مختلف حصوں میں مثلاً مالوہ، گجرات، راجستھان، گوالیار اور کشمیر میں پنپ رہے تھے۔ اب اکبر کے اسکول میں بنائی گئی تصویروں میں جھلکنا شروع ہوگئے۔اکبر کے اسکول کے مصوروں نے اپنا الگ ہی طرز اپنایا ہواتھا جس میں سب سے زیادہ مشہور بساون ہے جس کا طرز فارسی طرز،رسوم اور رنگوں سے بالکل ہی الگ تھا۔ ابوالفضل بساون کی تعریف میں رقمطراز ہے :

’’بساون در طراحی وچھرہ کشای ورنگ آمیزی مانند نگاری ودیگر کار ھای این فن یگانہ زمان شد وبساون ازدیدہ وران شناسا او را بر دسونت ترجیح دھند۔  ‘‘ ( ایضاً، ص194)

اکبر کے عہد کا سب سے مشہور یاد گار شہر فتح پور سیکری ہے جس کی تعمیرات کی تکمیل میں پورے 15 برس صرف ہوئے، اس محل کی دیواروں پر جو نقاشی ملتی ہے وہ ایرانی اور ہندوستانی نقاشوں نے مل کر کی جس سے اس محل کی سجاوٹ ظاہر ہوتی ہے۔معروف مؤرخ ابوالفضل جو بادشاہ اکبر کے بہت قریب تھا اپنی کتاب آئین اکبری میں بادشاہ کی نقاشی سے لگاؤ کی تعریف ان الفاظ میں کرتاہے۔

’’خدیو عالم از آغاز آگھی بدین کا ردل نھاد ورواج ورونق آن طلبگار شد‘‘(ایضاً، ص83)

اکبر کے عہد میں ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کو بہت ترقی ملی خاص طور پر اس کے عہد میں موسیقی کو ہندو مسلم اتحاد کا ایک اہم ذریعہ تصور کیا جاتا تھا۔اس زمانے میں ہندوستانی موسیقی کے ان نظری اصولوں کو بخوبی سمجھاجانے لگا جن کا ذکر سنسکرت تحریروں میںموجود ہے۔ابوالفضل نے آئین ِ اکبری میں ان اصولوں کو اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس نے موسیقی کے 36 استادوں کے نام دیے ہیں جو اکبر کی ملازمت میں تھے، ان میں مغنی اور سازندے دونوں شامل ہیں۔ ان میں سب سے اہم نام ’تان سین‘کا ہے۔

عہد اکبری میں منجملہ دیگر علوم وفنون کے فنون لطیفہ بھی بام عروج پر پہنچے ہوئے تھے آج بھی بہت سی عمارتیں اس کی فنکارانہ عظمت کا ثبوت دیتی ہیں اور اس کی عظیم الشان ومستحکم شہنشاہی پر شاہد ہیں۔

اکبر غیر متعصب بادشاہ تھا، اس کی شروع سے یہی کوشش رہی کہ وہ ہندو اور مسلمانوں کے درمیان قدیم نفاق اور حسد کو مٹاکر ایک قوم کی شکل دے۔ اپنی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے اس نے ہر ممکن کوشش کی۔ اکبر نے سابق مسلم حکمرانوں کے برخلاف اپنی رعایا کے ساتھ ہمدردی اور انسانیت کا سلوک کیا۔ اکبر کو یہاں کی ہر چیز سے محبت تھی، وہ ہندوستان کو اپنا ملک اور یہاں کے لوگوں کو اپنا دوست سمجھتاتھا، جذبۂ ملی اس کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہواتھا اور یہی جذبہ وہ اپنی رعایا میں پیدا کرنا چاہتاتھا۔  اس جذبے کو پیدا کرنے کے لیے اس نے ہندوؤں کے ساتھ میل جول بڑھایا، ان کے خاندانوں میں شادیاں کرکے ان کے ساتھ ازدواجی رشتے قائم کیے۔ اکبر نے صرف خود ہی راجپوت شہزادیوں سے شادی نہیں کی۔ بلکہ اپنے بیٹے سلیم کی شادی بھی راجپوت خاندان میں کی، اس طرح اس نے ہندو اورمسلمانوں کے درمیان رشتے ناطے قائم کرنے کی ایک نئی راہ کھولی، انھیںا پنے دربار میں اعلیٰ مناصب عطا کیے اور ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جیسا کہ دیگر امرا کے ساتھ کرتا تھا۔

اکبر نے صرف ہندو راجپوتوں کو اپنا دوست نہیں بنایا بلکہ ان کے رسم ورواج اور ان کے تہواروں مثلاً ہولی، دیوالی، دسہرہ، رکشا بندھن، بیساکھی وغیرہ کو بھی اپنے دربار کی تقریبات کا حصّہ بنایا۔ ان تہواروں کو وہ اتنی ہی شان وشوکت سے مناتا جتنی دھوم دھام سے وہ عید الفطر، عید الاضحی اور نوروز مناتاتھا۔ دربار میں ان جشنوں کے منعقد ہونے کی وجہ سے ہندو امرا کے درمیان برابری اور دوستی پیدا ہوگئی۔ جب مسلم ہندوؤں کے تہوار میں شریک ہونے لگے تو ہندو بھی مسلمانوں کی عیدوں میں شامل ہونے لگے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔

اس کے علاوہ اکبر نے معاشرے میں پھیلی ہوئی دیگربرائیوں کو دور کرنے کی بھی فکر کی۔ قدیم زمانے سے ہندوستانی معاشرے میں چند نازیبا اور ظالمانہ رسم ورواج رائج تھے جن پر یہاں کی عوام عمل پیرا تھی۔ اکبر کو اپنی رعایا کی بھلائی کی بڑی فکر تھی۔ لہٰذا اس نے ان ظالمانہ رواجوں کے خلاف سخت قوانین عائد کیے۔ اکبر نے سب سے پہلے ہندوؤں کی قدیم رسم ’ستی‘ کے خلاف آواز بلند کی اور حکم نافذ کیا کہ کسی بھی عورت کو اس کی مرضی کے بغیر ستی ہونے پر مجبور نہ کیا جائے۔

اکبر کا عہد علوم وفنون کی ترقی کا عظیم الشان دور ہے، تہذیب وثقافت میں ہم آہنگی، مساوات و برابری کی اہمیت پر زور دیاجاتاتھا، اکبر مذہبی رواداری اور ہندو مسلم اتحاد کا علمبردار ہونے کے ساتھ علوم وفنون کی سرپرستی اور تہذیب و ثقافت کی یکسانیت کا داعی تھا۔ بلاشبہ انہی خصوصیات نے اسے تاریخ کے اوراق میں اکبر اعظم کا خطاب دلایا ہے۔

کتابیات

.1        منتخب التواریخ،جلد دوم و سوم،  ملا عبدالقادر بدایونی، مترجم علیم اشرف خان، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی2012

.2         مغلیہ سلطنت کا عروج وزوال: آر، پی، ترپاٹھی، مترجم، ریاض احمد،  قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

.3         ادبیات فارسی میں ہندوؤں کا حصّہ:  ڈاکٹر سید عبداللہ،( باہتمام انیس احمد) انجمن ترقی اردو نئی دہلی،1992

.4         آئین اکبری شیخ، ابوالفضل، ( بتصحیح سر سید احمد خان ) سر سید اکادمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی2005

.5         تاریخ ہندوستان، پروفیسر وید ویاس (مترجم سید عبدالقادر) نوجیون پریس میکلیگن روڈ، لاہور

.6         ہندوستان پر مغلیہ حکومت۔مفتی شوکت علی فہمی، دین دنیا پبلشنگ کمپنی، دہلی

.7         ہندوستان شاہان مغلیہ کے عہد میں: مولانا سید محمد میاں صاحب، مکتبہ برہان، اردو بازار جامع مسجد دہلی

.8         بزم تیموریہ، جلد اوّل، سید صباح الدین عبدالرحمن۔ دارالمصنّفین شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ، یوپی، ہند،276001


 Dr. Mohd Mubarak Husain

Dept of Persian, Aligarh Muslim University

Aligarh- 202001 (UP)

 

 

 

 

 

 



ڈاکٹر سیدہ جعفر کے تنقیدی و تحقیقی کارنامے مضمون نگار: رشدہ شاہین

 



سیّدہ جعفرحیدر آباد کی ایک مایہ ناز علمی و ادبی شخصیت ہیں۔اُن کا شمار ہندوستان کی دانشور خواتین میں ہوتا ہے۔ وہ ایک اعلیٰ پایہ کی استاد، انشا پرداز، محقق اور نقاد ہیں۔ 

سیدہ جعفر کا تعلق تنقید کے کسی مخصوص دبستان سے نہیں تھا۔ انھوں نے کسی نظریاتی یاموضوعاتی دائرے کو اپنے پاؤں کی زنجیر نہیں بننے دیا بلکہ عملی تنقید کرتے ہوئے صحت مند ادب پر زور دیا۔ انھوں نے تحقیق و تنقید کے تعلق سے بہت سے کام کیے لیکن ان کا اصل میدان تحقیق ہی تھا۔ انھوں نے جس متن کی بھی تدوین کی ہے، اس کے طویل مقدمے سے واضح ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی طرف سے تمام مآخذ کو دیکھ کر ہی قلم اٹھایا۔ انھوں نے تنقید میں اپنی بصیرت اور شعور کا مکمل ثبوت دیا ہے۔سیدہ جعفر نے ’تنقید‘ پر کوئی مستقل کتاب تصنیف نہیں کی ہے۔ تاہم ان کے مضامین میں ان کے تنقیدی نظریات اور زاویۂ نگاہ کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے جو اردو زبان و ادب کی نقاد خواتین میں انھیں منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ ان کے تنقیدی مضامین کے چار مجموعے، فن کی جانچ، تنقید اور اندازِ نظر، مہک اور محک دکنی ادب کا تنقیدی مطالعہ شائع ہو چکے ہیں۔ انھوں نے تنقید کے تعلق سے اپنا نقطئہ نظر واضح کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’تنقید کے بارے میں میرا نقطئہ نظر یہ رہا ہے کہ وہی تنقید بھر پور اور وزن رکھنے والی ہو سکتی ہے جس میں اس پس منظر کا عطر کھنچ آئے جس میں کسی فن پارے کی تخلیق ہوئی ہو لیکن محض تاریخی پس منظر میں انسانی عمل اور رد عمل کے نتائج کا اظہار جامع تنقید نہیں۔اس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں اس فن پارے کے شعری محاسن اور فنی نکات پر بھی نظر رکھنی ہوگی اور اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ فنکار کی تخلیقات میں اس کی شخصیت کی مہک، اس کے نظریات کا اظہار اور اس کی ذات کی جلوہ گری کس طرح ہوئی ہے اور اس کے پیچھے فنکار کے نفسیاتی محرکات اور نجی تجربات زندگی کے گوناگوں اثرات کس طرح کار فرما ہیں۔‘‘

(فن کی جانچ: سیدہ جعفر،نیشنل فائن پرنٹنگ پریس چار کمان، حیدرآباد،  1965، ص، 3)

تحقیق اور تنقید تو ان کے مستقل اور پسندیدہ میدان تھے۔ڈاکٹر سیدہ جعفر کی تنقیدنگاری کا انداز تجزیاتی ہے۔ وہ تہذیبی تناظر کو بھی پیش نظر رکھتی ہیں اور فنی نزاکتوں پر بھی روشنی ڈالنا ضروری سمجھتی ہیں۔ وہ موضوع کے ساتھ انصاف کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس لیے موضوع کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کرنا ضروری سمجھتی تھیں۔ ان کی تنقیدمیں فقرہ بازی یا سطحیت سے کام نہیں لیا گیاہے۔

ڈاکٹر سیدہ جعفرکی تنقید ان کے وسیع مطالعے کی ترجمان ہیں۔ ’تنقید اور انداز نظر‘ اور ’مہک اور محک‘ کے مضامین میں مغربی مصنّفین کے متعدد حوالے ہماری نظر سے گزرے ہیں جن کا مقصد محض قاری کو مرعوب کرنا نہیں ہے۔ ان کا مقصد موضوع کے کسی مخصوص گوشے کی وضاحت ہے۔

ڈاکٹر سیدہ جعفر کے تنقیدی محاکمے متوازن اور سنجیدہ ہوتے ہیں وہ تنقید میں جذباتیت کو راہ نہیں دینا چاہتیں اور افراط و تفریط سے بچنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کے فیصلے جذباتی نہیں ہوتے، وہ اپنے موضوع کا غائرمطالعہ کرتی ہیں۔ان کی نظرصرف محاسن یا صرف معائب پر نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر سیدہ جعفر تنقید کو قصیدہ خوانی یا ہجوگوئی تصور نہیں کرتیں بلکہ بے لاگ تبصرہ فرماتی تھیں۔

’فن کی جانچ‘ سیدہ جعفر کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔ اس مجموعے میں کل بارہ مضامین شامل ہیں لیکن کچھ مضامین ایسے بھی ہیں، جو تحقیقی نوعیت کے ہیں۔اس ضمن میں ’تذکروں کی تنقیدی اہمیت‘ اور ’کچھ مضمون نگاری کے بارے میں‘ کو پیش کیا جا سکتا ہے۔آخرالذکر ان کے تحقیقی مقالہ ’اردو میں مضمون نگاری‘ کے تعلق سے ہے۔اس مضمون میں انھوں نے واضح کیا ہے کہ اردو کے پہلے مضمون نگار ماسٹر رام چندر تھے۔1846کے آس پاس ان کے مضامین منظر عام پر آئے۔سر سید احمد خاں اور ان کے رفقا (حالی، محسن الملک، چراغ علی اور وقارالملک) نے 1857کی ناکامی کے بعد اپنے مضامین کو ذہنی بیداری اور سماجی شعور کو عام کرنے کا ذریعہ بنایا۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو اردو میں مضمون نگاری کا آغاز 1846کے آس پاس ہوا۔ سیدہ جعفر نے ماسٹر رام چندر کو اردو کا پہلا مضمون نگار ثابت کیا ہے۔سر سید اور ماسٹر رام چندر کے درمیان مضمون نگاری کا فاصلہ تقریباً دس سا ل کا ہے۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ ماسٹررام چندراردو کے پہلے مضمون نگار ہیں لیکن سر سید اور ان کے رفقا نے اس کی توسیع میں بلاشبہ غیرمعمولی کردار ادا کیا۔البتہ جب زمانی فاصلہ اتنا کم ہو تو ایسے میں بہت سی باریکیوں سے آگاہی ہونی چاہیے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو سیدہ جعفر نے جس محنت اور تجزیے سے یہ ثابت کیا ہے کہ اردو کے پہلے مضمو ن نگار ماسٹر رام چندر ہیں، یہ ان کا ایک گرانقدر کارنامہ ہے۔یہ تبھی ممکن ہو سکاہے، جب انھوں نے ان مضامین کا تنقیدی جائزہ لیا ہوگا۔مذکورہ بالامضمون میں سیدہ جعفر نے سرسری تاریخ بیان کی ہے، جو ماسٹر رام چندر سے شروع ہوتی ہے اور آل احمد سرور پر ختم ہو جاتی ہے۔

’تذکروں کی تنقیدی اہمیت‘ میں سیدہ جعفر نے لکھا ہے کہ جس طرح سے اردو نے دوسری اصناف ادب میں عربی اور فارسی روایات اور پیرایٔہ بیان کو اپنایا ہے، اسی طرح سے ادبی جانچ پڑتال کی کسوٹیاں بھی عربی اور فارسی سے لی ہیں۔کیونکہ اردو میں تذکرہ نویسی کا رواج فارسی کے اثر سے ہوا ہے اور فارسی تذکروں کے تتبع میں اردو دانوں نے تذکرہ نویسی کا فن اختیار کیاہے۔سیدہ جعفر نے ایک طرح سے تذکرے کی روایت کو سرسری طور پر پیش کیا ہے۔اس کے بعد اردو تذکروں کا تنقیدی جائزہ لیا ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح سے ان تذکروں نے اردو تنقید کو فروغ دیاہے۔انھوں نے لکھا ہے:

’’تذکروں کی تنقیدی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ تذکرہ نویسی میں تنقید نگاری کا ہیولا بنتا ہوا نظر آتا ہے۔شعرا کے کلام پر رائے دینا اور انتخاب کلام پیش کرنا یا معاصر ین سے ان کا مقابلہ کرنا، یا فارسی شعرا سے اردو شعرا کا موازنہ کرنا، بغیر تنقیدی صلاحیت کے کیسے ممکن تھا۔تذکروں کا ایک تنقیدی پہلو یہ بھی تھا کہ میر، میر حسن، قائم، شیفتہ اور مصحفی وغیرہ نے جہاں ضرورت محسوس کی تھی کلام پر اصلاحیں بھی دی تھیں۔اصلاح کلام دراصل فنی اور عملی تنقید ہی کا ایک پر تو ہے۔اصلاح ایک طرح سے اصولی تنقید اور عملی تنقید کا بڑا اچھا امتزاج ہوتا ہے۔ تذکروں میں جو اصلاحیں ملتی ہیں ان کی نوعیت زیادہ تر صوری اور لسانی ہے، لیکن معنوی پہلو بھی ان کے پیش نظررہا ہے۔‘‘(فن کی جانچ، سیدہ جعفر ،ص69-70)

’اردو مضمون کا ارتقا 1950 تک‘ کے موضوع پر سیّدہ جعفر نے عبدالقادر سروری کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا ہے ۔ڈگری انھیں 1959 میںحاصل ہوئی۔یہ مقالہ کافی ضخیم تھا لیکن اس کو مختصر کر کے کتابی شکل دے دی گئی۔مقالے میں کئی قسموں کے مضامین شامل کیے گئے ہیں جیسے سماجی، سیاسی، تاریخی، تنقیدی، تحقیقی، رومانی وٖغیرہ۔ مقالے میں کئی ایسے مضامین دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں تک دوسروں کو رسائی حاصل نہ ہو سکی۔’ماسٹر رام چندر اور اردو نثر کے ارتقا میں ان کا حصہ‘ یہ کتاب1960 میں منظر عام پر آئی۔یہ ان کی پہلی مطبوعہ کتاب ہے۔اردو مضمون کا ارتقا لکھتے وقت سیّدہ جعفر کو ماسٹر رام چندر سے متعلق کئی اہم معلومات فراہم ہوئیں، جن کو پی ایچ ڈی کے مقالے میں سمیٹنا مشکل تھا ۔اسی لیے انہوں نے یہ کتاب لکھ کر الگ سے ان کے کارناموں پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ اس کتاب سے پہلے ماسٹر رام چندر کے حالات و واقعات تذکروں میںدھندلے سے ملتے تھے لیکن سیّدہ جعفر نے طویل بحث کر کے اردو دنیا کو ان سے روشناس کروایا۔ اس کتاب میں مصنفہ نے بحث کر کے یہ ثابت کیا کہ آیا سرسیّد جن کو آج تک مضمون نگاری کا امام سمجھاجا تا تھا درست ہے یا نہیں اور آخرمیںبتایاکہ اس صنف کے اوّلین نقوش ماسٹر رام چندر کے ہاں ملتے ہیں۔

’ڈاکٹر زور‘ سیّدہ جعفر کی ایک غیر تدوینی تحقیقی کتاب ہے۔ اس میں انھوں نے ڈاکٹر زور کے حالات و واقعات کے ساتھ ساتھ ان کی تصانیف پر بھی روشنی ڈالی ہے۔اس میں انھوں نے چند اہم گوشوں کی طرف نشاندہی کی ہے۔ 

’من سمجھاون‘ سیّدہ جعفر کی ایک اور تحقیقی کاوش ہے۔ یہ تامل ناڈو کے ایک مشہور شاعرشاہ تراب کی طویل نظم ہے جوترجمہ شدہ ہے۔اس سے پہلے شاہ تراب کی زندگی اور ان کی تصانیف کے بارے میں بہت کم جانکاری ملتی تھی لیکن مصنفہ نے ان کے تقریباً ہر ایک پہلو پر روشنی ڈالی ہے۔ مثلاً اس کتاب کے علاوہ ان کی چھ اور کتابوں، غزلوں اور چھ مخطوطات کی تفصیل بیان کی ہے۔

’دکنی رباعیات‘ سیّدہ جعفر کی تحقیقی تصنیف ہے۔ رباعی اور اس کے فن پرقلم اٹھاناکافی مشکل کام ہوتا ہے۔ سیّدہ جعفر نے محنت شاقہ سے اس پر طویل گفتگو کی ہے۔ انھوں نے اس میںدکنی شعرا کی رباعیاںجمع کر کے ایک اہم فریضہ انجام دیاہے۔یہ کتاب تحقیق وتدوین دونوں کے ضمن میںآتی ہے۔ 

’سکھ انجن‘ ابوالحسن بیجاپوری کی نظم ہے۔سیّدہ جعفر کی تحقیقی کاوش سے پہلے اس نظم کا ذکر کہیں نہیں ملتا تھا لیکن انھوں نے اس کتاب کو مرتب کر کے اہم مقام حاصل کیا ہے۔اس کتاب میں انھوں نے ان کی زندگی کے اہم اور غیر اہم پہلوئوں پر روشنی ڈالی ہے۔یہ کتاب 1968میں منظر عام پر آئی۔ یہ ایک صوفیانہ نظم ہے اس میں صوفیانہ موضوع پر تنقید اور اس کے بعدلسانی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔

’یادگار مہدی‘ اور’دکنی نثر کا انتخاب‘ بھی سیّدہ جعفر کی یادگار تصانیف ہیں۔اول الذکر ان کے جد اعلیٰ نواب مہدی نواز جنگ کے کارناموں پر مشتمل ہے اور مؤخر الذکر دکن کے نثری ادب پر محیط ہے ،جو بہمنی دور سے لے کر عہد عالمگیر تک کے تمام اہم شعرا اور ادیبوںکی تخلیقات پر مشتمل ہے۔اس میں اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ تاریخ ادب کے ابتدائی تین سو سال کا نمائندہ انتخاب پیش کیا جائے اور بہمنی دور اور اس کے بعد وجود میں آنے والی سلطنتوں کی تخلیقات کی مکمل نمائندگی ہو جائے۔

’یوسف زلیخا‘ بھی ان کی اہم تحقیق ہے۔یہ احمد گجراتی کی مثنوی ہے۔سیّدہ جعفر نے اس مثنوی کو دبستان گولکنڈہ کی پہلی مثنوی قرار دیا ہے۔کیونکہ اس سے پہلے وجہی کی قطب مشتری کو گولکنڈہ کی پہلی مثنوی تسلیم کیا جاتا تھا لیکن سیدہ جعفر نے اختلاف کر کے یوسف زلیخا کو اولیت دی ہے۔ انھوں  نے اس میں مثنوی کے مصنف احمد گجراتی کے نام،تاریخ پیدائش،وطن، مذہب، شاعر کا پیشہ غرض زندگی کے اہم گوشوں پر روشنی ڈالی ہے۔

’کلیات محمد قلی قطب شاہ‘ سیّدہ جعفر کا ایک اور تحقیقی کارنامہ ہے۔کلیات محمد قلی قطب شاہ کو محی الدین قادری زور نے پہلے مرتب کیا تھا بعد میںسیّدہ جعفرنے اضافہ کر کے اس کو دوبارہ شائع کیا ہے۔سیّدہ جعفر نے ڈاکٹر زور کی بہت مدح سرائی بھی کی ہے لیکن یہ کہنے میں بھی وہ نہیںہچکچاتیں کہ اس میں بھاگ متی کا واقعہ اختلافی ہے۔ ڈاکٹر زور نے یہ کلیات اگر چہ پہلے مرتب کیا لیکن ان کی رسائی وہاں تک نہیں ہوئی جہاں تک سیدہ جعفر پہنچ گئیں۔ سیدہ جعفر نے مزید اضافہ کر کے محمد قلی قطب شاہ کی دو غزلیں اور بارہ نظمیں پہلی بار شائع کیں۔ اس تدوین کا مقدمہ281 صفحات پر مشتمل ہے۔مقدمہ سے ایک اہم بات ثابت ہوتی ہے کہ مسعود حسین خان نے محمد قلی قطب شاہ کی مشہور ترین غزل ’پیا باج پیالہ پیا جائے نا‘ کو قدیم اردو جلد دوم ص 402 میںغواصی سے منسوب کیا ہے۔اگر سیدہ جعفر نے اس کلیات کو مرتب نہ کیا ہوتا تو نہ مقدمہ کی نوبت پیش آتی اور نہ ہی مسعود حسین خاںکی غلط فہمی کی اصلاح ہو پاتی ۔

مقیمی کی مثنوی ’چندر بدن اور مہیار‘ سیّدہ جعفر نے ترتیب دے کر ہندی میں تفصیل کے ساتھ اس کا مقصد بیان کیا ہے۔مقیم اور مقیمی کو ایک ہی شخص تصور کیا جاتا تھا لیکن سیّدہ جعفر نے ثابت کیا کہ یہ دو الگ الگ شخص ہیں۔ اس میں مثنوی کے مصنف مقیمی کے حالات زندگی کوبھی پیش کیا ہے۔ 

’ماہ پیکر‘ جنیدی کی مثنوی ہے اس کے مرتب ہونے سے سیدہ جعفر کی ادبی کاوش میں اور اضافہ ہوگیا۔عبداللہ قطب شاہ کے دور میں لکھی گئی یہ مثنوی غیر مطبوعہ تھی ڈاکٹر سیّدہ جعفر نے اسے مرتب کر کے شائع کیا ۔

’اردو ادب کی تاریخ1700 تک‘ (پانچ جلدیں) یہ کتاب سیّدہ جعفر نے گیان چند جین کے اشتراک سے لکھی ہے۔اصل میں ترقی اردو بیورو نے یہ کام ان دو مصنفوں کو سونپا تھا ۔سیدہ جعفر نے 1700صفحات لکھے ہیں جب کہ گیان چند جین نے 400صفحات لکھے ہیں۔

آخر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اردو تنقید کا ذکر ہو یا تحقیق کا، سیدہ جعفر کا ذکر دونوں صورتوں میں ہوگا۔ انھوں نے جو کچھ کیا ہے، علمی حلقوں میں اس کا اعتراف بھی کیا گیا ہے، اور آگے بھی کیا جاتا رہے گا۔جب بھی دکن کے محققین یا ناقدین کا شمار کیا جائے گا، سیدہ جعفر کا شمار ان اہم لوگوں میں ہوگا جنھوں نے اردو تحقیق و تنقید میں گرانقدر اضافہ کیا ہے۔ ان کی خدمات سے آنے والی نسلیں مستفید ہو تی ہیں۔


Rushda Shaheen

Research Scholar, Dept of Urdu

Room no 101, LH9,South Campus

University of Hyderabad- 500046   (Telengana)

Mob. No: 8125931503, 8707317633

Mail Id:- rushdashaheen25@gmail.com


ماہنامہ اردو دنیا، جولائی 2020

20/8/20

اردو شاعری میں برسات مضمون: عمرانہ خاتون


 اُردو شاعری میں دیگر موضوعات کے علاوہ موسم برسات کے موضوع پر بھی شاعروں نے اظہارِ خیال کرکے اپنی فنّی دسترس اور تخلیقی قوتوں کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ رنگا رنگی اور تنوع اس جہان کی اہم خصوصیت ہے۔ مالکِ کائنات نے دُنیا کی پیدائش کے وقت سے ہی اسے اختلاف اور امتیاز کی دولت عطا کردی۔ اس اختلاف میں دُنیا کا حُسن بھی پوشیدہ ہے اور یہ انسانی ضروریات کی تکمیل کا ذریعہ بھی ہے۔ انسانوں میں مختلف رنگوں، زبانوں اور تہذیب وتمدّن کی پیروی کرنے والے افراد موجود ہیں۔ اسی طرح جب ہم موسموں پر نظر ڈالتے ہیں تو ان میں بھی اختلاف نظر آتا ہے۔ کبھی سردی کبھی گرمی، کبھی موسم خزاں اور کبھی موسم بہار۔ ان موسموں میں موسم برسات کی اپنی ہی خصوصیت ہے۔ برسات کا موسم ماحول میں نمایاں اور اہم تبدیلی لانے کا باعث ہوتا ہے۔ زندگی میں پانی کی ضرورت اور اہمیت سے کون انکار کرسکتا ہے؟ برسات کا موسم تو ہمارے گرد وپیش کے منظر کو یکسر تبدیل کردیتا ہے۔ آسمان سے پانی کا برسنا صرف خدا کے وجود کو ہی ثابت نہیں کرتا بلکہ اِس میں انسانوں کے لیے بے شمار نشانیاں بھی موجود ہیں۔ 

بھارت جیسے زرعی ملک میں مونسون کی آمد کسانوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دیتی ہے۔ ہماری زراعت کا دارومدار زیادہ تر بارش پر ہے۔ ملک میں پائی جانے والی پانی کی کمی کو بھی دور کرنے میں بارش معاون ثابت ہوتی ہے اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ بعض دفعہ شدت کی بارش شہری علاقوں میں نقصان کا باعث بھی بن جاتی ہے۔ بہرحال مجموعی طور پر اطمینان بخش بارش پر عوام کی جانب سے اظہار مسرت کیا جاتا ہے اور اسے ملک کی معیشت کے لیے نیک شگون تصور کیا جاتا ہے۔ 

برسات کے موسم پر جن شاعروں نے اپنی نظم گوئی کے ذریعے قارئین کو متاثر کیا اُن میں ایک اہم نام الطاف حسین حالی کا ہے۔ انھوں نے ’برکھارُت‘ عنوان کے تحت اس موضوع پر شہرۂ آفاق نظم تخلیق کی۔ ملک میں موسم برسات کے منظر کو ’برکھارُت ‘خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔ حالی کا خیال ہے کہ برسات نہ صرف گرمی کی شدّت کو کم کرتی ہے بلکہ یہ سردی کا بھی پیام لاتی ہے۔ 

گرمی کی تپش بجُھانے والی 

سردی کا پیام لانے والی 

بارش سے پہلے گرمی کے ماحول کی تصویر کشی کرتے ہوئے کہتے ہیں    ؎

گرمی سے تڑپ رہے تھے جاندار 

اور دھوپ میں تپ رہے تھے کہسار 

تھی لُوٹ سی پڑ رہی چمن میں

اور آگ سی لگ رہی تھی بن میں

طوفان تھے آندھیوں کے برپا

اٹھتا تھا بگولے پر بگولا 

بچوں کا ہوا تھا حال بے حال

کملائے ہوئے تھے پھول سے گال 

آنکھوں میں تھا اُن کا پیاس سے دم

تھے پانی کو دیکھ کر کرتے مم مم

لیکن اچانک آسمان پر بادلوں کی آمدسے منظر کیسے تبدیل ہوجاتا ہے اس کو بیان کرتے ہوئے شاعر کہتا ہے        ؎

کل شام تلک تو تھے یہی طور

پر رات سے ہے سماں ہی کچھ اور

برسات کا بج رہا ہے ڈنکا

اک شور ہے آسماں پر برپا

ہے ابر کی فوج آگے آگے

اور پیچھے ہیں دَل کے دَل ہوا کے

ہے چرخ پہ چھاؤنی سی چھائی 

ایک آتی ہے فوج اک جاتی

گھنگھور گھٹائیں چھارہی ہیں 

جنّت کی ہوائیں آرہی ہیں

بارش کے پانی نے چاروں طرف جل تھل کردیا ہے۔ اس کیفیت کو شاعر یوں بیان کرتا ہے   ؎

پانی سے بھرے ہوئے ہیں جل تھل 

ہے گونج رہا تمام جنگل 

کرتے ہیں پپیہے پیہو پیہو

اور مور چنگھاڑتے ہیں ہر سو

کوئل کی ہے کوک جی لبھاتی 

گویا کہ ہے دل میں بیٹھی جاتی 

مینڈک جو ہیں بولنے پہ آتے

سنسار کو سرپہ ہیں اٹھاتے 

حالی کی اس نظم میں ہندوستانی رنگ غالب ہے۔ شاعر کا خیال ہے کہ بادلوں کے برسنے سے فطری مسرّت کا اظہار مسجدوں، مندروں، شوالوں اور گوردواروں میں یکساں کیا جاتا ہے   ؎ 

ابر آیا ہے گھر کے آسماں پر 

کلمے ہیں خوشی کے ہر زباں پر

مسجد میں ورد اہل تقویٰ 

یا ربِّ لنا ولا علینا

مندر میں ہے ہر کوئی یہ کہتا 

کرپا ہوئی تیری میگھ راجا

کرتے ہیں گرو گرو گرنتھی 

گاتے ہیں بھجن کبیر پنتھی

اس نظم میں حالی نے برسات سے قبل کی صورتِ حال اور بارش کے بعد آنے والی تبدیلی کو خوبصورت انداز سے پیش کیا ہے۔ 

محمد حسین آزاد نے اپنی نظم ’ابر کرم‘ میں منظر نگاری کا اعلیٰ نمونہ پیش کرتے ہوئے بارش کے پانی کی مختلف کیفیات کو اشعار کا جامہ پہنایا ہے   ؎ 

وہ ٹہنیوں میں پانی کے قطرے ڈھلک رہے 

وہ کیا ریاں بھری ہوئی تھالے چھلک رہے 

آب رواں کا نالیوں میں لہر مارنا 

اور روئے سبز زار کا دھو کر سنوارنا 

گرنا وہ آبشار کی چادر کا زور سے

اور گونجنا وہ باغ کا پانی کے شور سے 

 اسماعیل میرٹھی بھی اپنی نظم گوئی خصوصاً ادبِ اطفال کے لیے اپنے اہم رول کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ’بارش کا پہلا قطرہ‘ ان کی مقبول نظم ہے۔ نظم کا اسلوب علامتی ہے۔ نظم کی ابتدا سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر قوم میں حوصلہ اور ولولہ پیدا کرنے کا آرزو مند ہے گھنگھور بادلوں کے باوجود بارش کی بوندیں اس بات کے لیے خود کو تیار نہیں کرپارہی تھیں کہ پہلے کون جائے گا۔ زمین کی تپش سے جل جانے کا خوف ہر بوند کو تھا مگر ان بوندوں میں ایک بوند ایسی بھی تھی جس نے آگے بڑھنے اور اپنے ساتھیوں کی ہمت اور حوصلہ بڑھانے میں نمایاں رول ادا کیا        ؎ 

اک قطرہ کہ تھا بڑا دلاور 

ہمت کے محیط کا شناور

فیاض وجواد ونیک بخت 

بھڑکی اس کی رگِ حمیت

بولا پکار کر کہ آؤ 

میرے پیچھے قدم بڑھاؤ

1857کے بعد ملک کے حالات کے پس منظر میں اس نظم کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اشعا ر کا مفہوم جلدی سمجھ میں آجاتا ہے۔ بارش کی پہلی بوند کے حوصلے نے دوسروں کے اندر بھی نیا جوش بھردیا اور وہ برسنے کے لیے تیار ہوگئے   ؎

دیکھی جرأت جو اس سَکھی کی

دوچار نے اور پیروی کی

پھر ایک کے بعد ایک لپکا

قطرہ قطرہ زمیں پہ ٹپکا

آخر قطروں کا بندھ گیا تار

بارش ہونے لگی موسلا دھار

پانی پانی ہوا بیاباں 

سیراب ہوئے چمن خیاباں 

گہرائی سے دیکھا جائے تو اسماعیل میرٹھی کی نظم بارش کا پہلا قطرہ، اتحاد واتفاق کا بھی درس دیتی ہے       ؎

اے صاحبو قوم کی خبر لو

قطروں کا سا اتفاق کرلو 

قطروں میں سے ہوگی نہر جاری 

چل نکلیں گی کشتیاں تمھاری

علاّمہ اقبال کی نظمیں بھی فطرت کی تصویر کشی کے اعلیٰ نمونے پیش کرتی ہیں۔ اقبال کی شاعری میں خوبصورت تشبیہوں اور استعاروں کا برمحل استعمال بھی ہمیں کافی متاثر کرتا ہے۔ علاّمہ کی نظم ’ابرِ کوہسار‘ فطرت کی بھر پور ترجمانی کرتی ہے۔ شاعر کا تمثیلی اسلوب بھی قابل تعریف ہے۔ بادل کو جاندار کی شکل میں پیش کرکے اس کی زبان سے اپنی خوبیوں کو بیان کرنا قابل تعریف ہے۔ شاعر کا خیال ہے کہ بارش کے طفیل ہی کسانوں کے کھیت اور میدان ہرے بھرے ہوتے ہیں       ؎

مُجھ کو قدرت نے سکھایا ہے دُر افشاں ہونا

ناقۂ شاہدِ رحمت کا حُدی خواں ہونا

غم زدائے دل افسردۂ دہقاں ہونا

رونقِ بزمِ جوانانِ گلستاں ہونا 

نظم کے تیسرے بند میں اس حقیقت کو بیان کرتے ہیں کہ بادل کچھ مقامات پر برستا ہے اور کہیں خاموشی سے گزر جاتا ہے۔ بغیر برسے گزر جانے سے لوگ مایوس ہوجاتے ہیں لیکن جہاں برستا ہے وہاں کی نہر کو بھنورکی بالیاں پہناتا ہے   ؎

دور سے دیدۂ امید کو ترساتا ہوں

کسی بستی سے جو خاموش گزر جاتاہوں

سیر کرتا ہوا جس دم لبِ جو آتا ہوں

بالیاں نہر کو گر داب کی پہناتا ہوں

اقبال کہتے ہیں کہ بارش کے سبب ہی کسانوں کے جھونپڑوں میں محلوں جیسی خوشی پیدا ہوجاتی ہے   ؎

فیض سے میرے نمونے ہیں شبستانوں کے

جھونپڑے دامنِ کہسار میں دہقانوں کے 

علاّمہ اقبال کی نظم ’ابر‘ بھی شاعر کے بلند تخیل اور محاکاتی شاعری کی اعلیٰ مثال ہے      ؎ 

شاعر نے گھٹاکے اُٹھنے اور پھر برسنے کی تصویر کھینچ دی ہے   ؎

جو پھول مہر کی گرمی سے سو چلے  تھے  اُٹھے 

زمیں کی گود میں جو پڑکے سورہے تھے اُٹھے

ہوا کے زور سے ابھرا ‘بڑھا‘ اڑا بادل

اُٹھی وہ اور گھٹا لو! برس پڑا بادل

نظیر اکبرآبادی کی حیثیت عوامی شاعر کے طور پر تسلیم شدہ ہے۔ ان کی شاعری ہندوستانی تہذیب وتمدن کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔ برسات کی بہاریں نظیر کی پُرکشش نظم ہے۔ پوری نظم برسات کی طرح پر بہار کہی جاسکتی ہے۔ سبزہ کی لہلہاہٹ ہے۔ باغات ہرے بھرے ہیں۔ ہوا کے دوش پر مست بادل چھارہے ہیں۔ پانی کے باعث چاروں طرف جل تھل ہے۔ سبزہ نہارہا ہے۔ ہرے سبزے کو نظیر بچھونے سے تشبیہ دیتے ہیں          ؎

ہیں اس ہوا میں کیا کیا برسات کی بہاریں

سبزوں کی لہلہاہٹ باغات کی بہاریں

بُوندوں کی جھمجھماہٹ  قطرات کی بہاریں

ہر بات کے تماشے ہر گھات کی بہاریں

کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں 

ان کی نظم ’برسات‘ میں ان کا ظریفانہ رنگ بھی نمایاں ہے   ؎ 

برسات کا جہاں میں لشکر پھسل پڑا

بادل بھی ہر طرف ہَوا پر پھسل پڑا

جھڑیوں کا مینہ بھی آکے برابر پھسل پڑا 

چھتہ کسی کا شور مچاکر پھسل پڑا

کوٹھا  جھکا اٹاری گری در پھسل پڑا

نظیر کو مقامی موسموں سے محبّت ہے۔ موسموں کی دلفریبی اور رعنائیوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ وہ قارئین کی ضیافتِ طبع کا سامان بھی مہیّا کرتے ہیں۔ درج ذیل اشعار اس کا ثبوت ہیں        ؎ 

کوچے میں کوئی اور کوئی بازار میں گرا 

کوئی گلی میں گرکے ہے کیچڑ میں لوٹتا 

رستے کے بیچ پاؤں کسی کا رپٹ گیا

اس سب جگہ کے گرنے سے آیا جو بچ بچا

وہ اپنے گھر صحن میں آکر پھسل پڑا 

نظیر کی منظر کشی میں حقیقت نگاری غالب ہے۔ نظیر نے وہی کچھ بیان کیا جو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ نظیر کی منظر نگاری میں انسانی جذبات کی بھی عکاسی کی گئی ہے    ؎

جو خوش ہیں وہ خوشی میں کاٹے ہیں رات ساری 

جو غم میں ہیں انھوں پر گذرے ہے رات بھاری 

سینوں سے لگ رہی ہیں جو ہیں پیا کی پیاری 

چھاتی پھٹے ہے ان کی جو ہیں برِہ کی ماری 

کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہاریں 

جوش ملیح آبادی اپنے انقلابی اور رومانی خیالات کے لیے اردو ادب میں مخصوص شناخت کے حامل ہیں۔ ان کے کلام میں رندانہ سرمستی کا عنصر بھی قابل توجہ ہے۔ جوش کو مناظرِ فطرت سے ازلی تعلق ہے ’رُوح عصر‘ میں اس موضوع پر بہت سی یادگار نظمیں موجود ہیں۔ اِسی طرح شعری مجموعہ ’شعلہ وشبنم‘ میں بھی منظر نگاری کے اعلیٰ نمونے موجود ہیں۔ اپنی نظم ’برسات کی پہلی گھٹا‘ میں جوش نے موسم کی مختلف تبدیلیوں اور کیفیات کو بیان کرکے انسانی ذہن پر ان کے اثرات کا کامیاب احاطہ کیا ہے    ؎ 

کیا جوانی ہے فضا میں مرحبا صد مرحبا

چل رہی ہے روح کو چھوتی ہوئی ٹھنڈی ہوا 

آرہی ہے دور سے کافر پپیہے کی صدا 

حسن اٹھا ہے خاک سے انگڑائیاں لیتا ہوا

جھوم کر برسی ہے کیا برسات کی پہلی گھٹا

نظم میں ارمانوں اور آرزوؤں کا جوش، کسانوں کا کاندھوں پر ہل دھرے ہنستے ہوئے جانا، چرواہے کا جنگل میں مست ہونا، گھاس کا زندہ ہوجانا، پھولوں کا سکون سے چمن میں سانس لینا، ہر طرف جل تھل ہوجانا وغیرہ شاعر کی توجہ اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ گھٹا پر بھی جوش کی نظم رنگین اور مرصع ہے۔

 نظم کا آغاز اس مصرعے سے ہوتا ہے   ؎ 

اُٹھی گھٹا وہ رنگ وبو کا کارواں لیے ہوئے

جوش کی نظم ’برسات ہے برسات‘ بھی کافی مشہور ہے     ؎

آدیکھ تو ساون کے برستے ہوئے لمحات 

ہوجائے گا کل خاک یہ مجموعۂ ذرّات 

کرتا نہیں کیوں عشق وجوانی کی مدارات 

برسات ہے، برسات ہے، برسات ہے برسات 

اگرچہ جوش کے رومانی آہنگ نے نظم کی فطری منظر نگاری کو متاثر کیا ہے۔ پھر بھی جوش کا مختلف موسموں خصوصاً برسات سے والہانہ عشق اشعار سے صاف ظاہر ہورہا ہے۔ اپنی نظم ’ساون کے مہینے‘ میں بھی ساون کی فطری کیفیات کو اشعار کا جامہ پہنایا ہے۔ 

حفیظ جالندھری کی نظم ’برسات‘ بارش کے دوران لڑکیوں کی جانب سے آموں کی شاخوں پر جھولے ڈال کر گیت گاکر خوشی منانے کا احاطہ کرتی ہے۔    ؎

آموں کے نیچے ڈالے ہیں جھولے 

پیکروں نے 

سیمیں تنوں نے 

ہلکی صدائیں سادہ ادائیں 

خود مسکرانا 

خود منہ چرانا 

داغ کے شاگرد جو ش ملسیانی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ آپ کے کلام میں داغ کا پرتو دیکھنے کو ملتا ہے ’برسات‘ ’برسات آگئی ہے‘ اور ’بادل آئے‘ موسمِ برسات کے زیر عنوان کہی گئیں ان کی مشہور نظمیں ہیں۔ کتنے سادہ اور متاثر کن انداز سے موسم برسات کی تصویر کھینچی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں     ؎

کالی گھٹا اُٹھی ہے ہر سمت چھاگئی ہے

ٹھنڈی ہوا چمن کی جُھولا جھلاگئی ہے

بجلی کڑک کڑک کر سب کو جگاگئی ہے

لے جاگ او پپیہے برسات آگئی ہے

رنگینیاں عطا کیں ہر پھول کو خدا نے

 ہر شے کو زندگی دی امرت بھری ہوا نے 

ہر گھر کو روشنی دی چھائی ہوئی گھٹا نے 

لے جاگ او پپیہے برسات آگئی ہے

برسات نظم میں برسات کی گھٹاؤں کی منظر کشی کی تعریف کئے بغیر نہیں رہا جاسکتا   ؎

ہوتی ہیں نورِ پیکر برسات کی گھٹائیں 

رکھتی ہیں خاص منظر برسات کی گھٹائیں 

کتنی ہیں رُوح پرور برسات کی گھٹائیں

تم بھی تو دیکھو اُٹھ کر برسات کی گھٹائیں

کیا جھومتی ہیں سرپر برسات کی گھٹائیں

بادل آئے نظم میں بادل کی فیاضی کا ذکر کس شان سے کرتے ہیں   ؎

رحمت خاص کا اعلان پھر اس زور کے ساتھ 

آسماں سر پہ اُٹھاتے ہوئے بادل آئے

واہ کیا جوش کرم ہے کہ خزانہ اپنا 

دونوں ہاتھوں سے لٹاتے ہوئے بادل آئے 

کرپال سنگھ بیدار کی نظم گوئی کو ناقدین معنوی نزاکتوں، شعری لطافتوں اور فنّی رعنائیوں کی عکّاس قرار دیتے ہیں۔ ’آغازِ بہار‘ نظم شاعر کی قادر الکلامی کا ثبوت بھی فراہم کرتی اور فطرت کی عکاسی کا حق بھی ادا کررہی ہے۔ کہتے ہیں   ؎

وُسعت آفاق پر ایک کیف سا چھانے لگا 

عرش سے کوئی شراب ناب برسانے لگا 

بھاپ بن کر اُڑ چلا کُہسار کے دل کا بخار

وُسعت گردُوں پہ ابرِ سیمگُوں چھانے لگا 

مضطرب جلووں سے روشن ہوگیا قصرِ خیال 

پردۂ ہستی میں کوئی برق چمکانے لگا 

آگ دے نکلی دل شاعر کے داغوں کی بہار 

دیکھیے کیا گل کھلائے اِن چراغوں کی بہار

موسم برسات کے موضوع پر ذیل کے متفرق اشعار بھی مختلف زاویوں سے روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کا مطالعہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں     ؎ 

اُداس رہتا ہے محلے میں بارش کا پانی آج کل 

سُنا ہے کاغذ کی کشتی بنانے والے اب بڑے ہوگئے 

ہم سے پوچھو مزاج بارش کا 

ہم جو کچّے مکان والے ہیں 

یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو

بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی 

مگر مجھ کو لوٹا دو بچپن کا ساون 

وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی 


بارش ہوئی تو تیری خوشبو کے قافلے 

ایسے اڑے کہ شہر گلابوں سے بھر گیا


چڑیا پوری بھیگ چکی ہے 

اور درخت بھی پتہ پتہ ٹپک رہا ہے

گھونسلہ کب کا بکھر چکا ہے 

ان مثالوں کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ اردو شاعروں نے موسم برسات پر جو نظمیں کہی ہیں ان میں نہ صرف فطرت کی بہترین عکاسی موجودہے بلکہ موسم برسات کے مختلف مناظر بھی دلکش انداز سے پیش کیے گئے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان نظموں میں شاعرانہ مصوری کا کمال بھی موجود ہے اور برسات کی تمام کیفیات کی جھلک بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اردو شاعروں کی یہ شعری نگارشات نہ صرف ادبی نقطۂ نگاہ سے اہمیت کی حامل ہیں بلکہ محاکاتی شاعری میں بھی قابل قدر اضافہ کہا جاسکتا ہے۔ 


Imrana Khatoon

Research Scholar, Dept of Persian, Urdu & Arabic

Rbi. University, Patiala - 148023 (Punjab)

ماہنامہ اردو دنیا، جولائی 2020


تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...