23/2/21

اسلوب کی شعریات اور ادبی تنقید - مضمون نگار: محمد لطیف شاہ

 



لفظ اسلوب انگریزی زبان کے لفظ(Style) کا اردو مترادف ہے۔جس کے لیے یونانی میں(Stylus)،  عربی اور جدید فارسی میں ’سبک‘، سنسکرت میں ’ریتی‘ اور ہندی میں ’شیلی‘ جیسے الفاظ مستعمل ہیں، جس کے مشتقات،  تعبیرات و تشریحات،مبادیات اور انسلاکات سے متعلق بیش بہا مدلولات پیش کیے گیٔ ہیں۔تاہم ہنوز کوئی ایسی تعریف سامنے نہیں آئی ہے۔جو حرفِ آخر کی سند حاصل کر سکے۔بہر حال لغوی اعتبار سے کہا جاسکتا ہے کہ اسلوب سے مراد طرزِ تحریر،طر یقہ اظہار،اندازِ بیان، ڈھنگ، طور طریقہ، زبان وبیان،لب ولہجہ،رنگ،رنگِ سخن،وغیرہ  ہیں۔اوراصطلاحی معنوںمیں زبان اور ادب کے فنی اقدار(یعنی اصوات،حروف،الفاظ، جملوں، تشبیہ، استعارہ، علامت وغیرہ )کے منفرد استعمال کا نام اسلوب ہے۔ مختلف لغات اور فرہنگ کے علاوہ بے شمار علماے ادب، دانشوروں،مفکروں،ماہرین لسانیات اورنقادوں نے اسلوب کی جتنی بھی تعریفیں کی ہیں ان کوہم واضح طور پر دو زمروں (Paradigms)میں رکھ سکتے ہیں ایک ادبی تنقید اور دوسرالسانیاتی تنقید۔یہاں ہماری مراد ادبی تنقید کے حوالے سے اسلوب کی تفہیم و تعبیر کو زیر بحث لانا ہے۔

ادبی تنقید میں مطالعۂ اسلوب کا سفر تاثر سے شروع ہو کر ذاتی پسندوناپسند سے گزر کر جمالیاتی اقدار کو آغازـ؍ بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔یعنی ایک قاری یا ناقد کسی فن پارے کو پڑھ کرجتنا محظوظ ہوتا ہے وہ اسی طرح کا فیصلہ بھی صادر کرتا ہے۔علاوہ ازیں ادبی ضائقہ کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے، ظاہر سی بات ہے کہ ہر کسی قاری کا ادبی ذائقہ ایک جیسا نہیں ہوسکتا ہے۔وجہ یہی ہے کہ ایک ہی صنف کسی کے لیے اعلیٰ اور کسی کے لیے ادنیٰ معلوم ہوتی ہے۔ایسی مثالوں کی ہمارے ادب میں کوئی کمی نہیں ہے۔مثال کے طور پر غزل ہی کو لیجیے جہاں یہ رشید احمد صدیقی کی نظر میں اردو شاعری کی آبرو ہے تو وہی عظمت اللہ خان غزل کی گردن اڑانے کی بات کرتے ہیں،جہاںیہ فراق گورکھپوری کے نزدیک مختلف پھولوں کی مالا ہے تو وہیں الطاف حسین حالی کے نزدیک غزل شاعری کا ناپاک دفتر ہے،جہاں یہ آل احمد سرور کی نظر میں نقاب پوش آرٹ اور چاول پر قل ھواللہ لکھنے کا آرٹ ہے تو وہیں کلیم الدین احمد اس کو نیم وحشی صنفِ سخن قرار دیتے ہے وغیرہ۔صنفِ غزل سے متعلق یہ مختلف اور متضاد آراء دراصل ذاتی پسندوناپسند کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آئی ہیں۔ان میں کسی بھی نظریے کو پیش کرتے ہوئے معروضی اور سائنٹفک اصول و ضوابط کو ملحوظِ خاطر نہیںرکھا گیا ہے۔گویا یہ آرا اپنے اندر سرِ دست جمالیاتی تاثر رکھتی ہیں جو ادبی تنقید کا خاصہ بھی ہے

اسلوب کی بحث نے دراصل (ادبی دائرے میں) فرانسیسی کے مشہور و معروف مصنف  بفون (Buffon)  کے اس جملے سے کافی زور پکڑا کہ ـ"Le style,c'estl' homme  meme." جس کا انگریزی میں ترجمہ"Style is the man himself" کیا گیا ہے۔یعنی اسلوب کے مطالعے سے ہم مصنف کی شخصیت کو پہچان سکتے ہیں۔بہ الفاظِ دیگر ’’اسلوب ہی کسی شخص کے مزاج، ذوق، مشاہدہ، تجربہ اور خصائص و نقائص کی آماجگاہ ہے‘‘کیونکہ بفون کے مطابق جب اسلوب ہی بذاتِ خود آدمی؍شخص ہے،  تو مذکورہ عوامل کا اس میں ہونا پھر لازم بنتا ہے۔ جب کہ قطعی طور پر ایسا ہونا ممکن نہیں ہے۔کیونکہ پیرایۂ بیان یا طرزِ اظہار شعوری بھی ہوتا ہے اور غیر شعوری بھی، اور کسی بھی شعوری اظہارِ بیان میں مصنف کی ذات بہت کم ملتی ہے اور انانیت زیادہ جس کی مثال میں قاضی عبدالودود کا یہ واقعہ پیش کیا جاسکتا ہے کہ شاد عظیم آبادی کی خودنوشت پڑھنے کے بعد انھوں نے شاد کو جھوٹوں کا بادشاہ کہا ہے۔کیونکہ پیرایہ بیان میں انھیں وہ شاد نہیں ملا جنھیں وہ حقیقت میں جانتے تھے۔غرض مصنف کی شخصیت کے کچھ نقوش اسلوب میں ضروری پائے جاتے ہیں لیکن مکمل مصنف نہیں۔کیونکہ اس میں اور بھی بہت کچھ ہوتاہے ملاحظ ہوپروفیسر گوپی چند نارنگ کا یہ بیان:

’’پیرایۂ بیان کی آزادی کا استعمال شعوری بھی ہوتا ہے اور غیر شعوری بھی،اس میں ذوق،مزاج،ذاتی پسند وناپسند، صنف یا ہیئت کے تقاضوں وقاری کی نوعیت کے تصّور کو بھی دخل ہوسکتا ہے۔یعنی تخلیقی اظہار کے جملہ ممکنہ امکانات جو وجود میں آچکے ہیں اور وہ جو وقوع پذیر ہوسکتے ہیں،ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا (جس کا اختیار مصنف کو ہے) دراصل اسلوب ہے۔‘‘1

یعنی اسلوب کی تشکیل میں جہاں مصنف کی ذات اہمیت رکھتی ہے، تو وہیں اس تشکیل شدہ صنف کے فنی لوازمات بھی اہمیت کے حامل ہیں۔نیز ان قارئین کے تصورات کا بھی عمل دخل رہتا ہے جن کے لیے کسی بھی فن پارے یا تخلیق کو معرضِ وجود میں لایا جاتا ہے۔یہ بات بھی بدیہی ہے کہ کسی بھی تحریر کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے،جس کی ترسیل و ابلاغ کے لیے لکھنے والا زبان کی تراش و خراش،کاٹ چھانٹ اور انجذاب و انحراف سے کام لیتا ہے۔اس طرح اس عمل سے ایک منفرد انداز، طریقۂ کار اور پیرایۂ اظہارقائم ہوتا ہے،جس سے ادبی اصطلاح میں اسلوب کا نام دیا جاتا ہے،اور اس پورے عمل کو شعریاتِ اسلوب کا نام دیا جاتا ہے۔

مغرب ومشرق کے حوالے سے اسلوب پر پیش کی گئی تعریفوںپر ایک سرسری نظر ڈالتے چلیں تاکہ اسلوب سے متعلق مزید معلومات حاصل ہوکراس بات کا بھی صحیح اندازہ ہو سکے کہ یہ لوگ اسلوب کو کن معنوں میں لیتے ہیں۔

اردو ادب کے ممتاز ومعروف ادیب اور ناقد آل احمد سرور اسلوب سے متعلق پہلے تین نکات کوبیان کرتے ہیںـ! بیان کا طریقہ، حسنِ بیان اور انفرادیت کا حسن اور آگے چل کر واضح الفاظ میں اسلوب کی تعریف کرتے ہوئے یہ فیصلہ سناتے ہیں کہ ’’اسلوب واضح خیال کا موزوں اور اسی لیے منفرد اظہار ہے‘‘،بڑی حد تک جامع ہے۔‘‘

اردو زبان و ادب کے اور ایک ناقدڈاکٹر علی رفاد فتیحی نے اپنی کتاب ’ساخت اور اسلوب:نظریہ وتجزیہ‘ میں اسلوب اور اس کی ساخت کے بارے میں طویل گفتگو کی ہے۔اور کچھ مغربی ماہرین اسلوبیات کے نظریات کو بھی مختصر طور پر پیش کیا ہے۔اسلوب کی تعریف کے حوالے سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ:

’’امر واقعہ ہے کہ اسلوب کی دلکشی،فنکار کی شخصیت اور مذاق و میلان سے ہمکنار ہو کر نئی معنویت اور اہمیت حاصل کر لیتی ہے۔اور اس میں نیا نکھار،نئی توانائی اور نئی تابناکی پیدا ہو جاتی ہے۔اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلوب ادیب کی شخصیت کا مظہر بھی ہے۔ ابلاغِ خیال کا وسیلہ بھی اور ادب کا اہم تقاضا بھی۔‘‘2

اسلوب سے مراد ذاتی تجربات و مشاہدات اور علمیت سے زبان کا وسیلہ لے کر اپنے خیالات و احساسات کو موثر انداز میں پیش کرنا ہے۔نیز اس میں انتخاب، اجنبیت، تناسب خوبی الفاظ اور فنی اقدار کا بھی عمل دخل رہتا ہے۔ اس نظریہ کے حوالے سے  ایک انگریزی ناقد ہولن ولز (Hulon Willis)کا بیان بھی اہمیت رکھتا ہے۔جس میں وہ کہتے ہیں کہ جملوں کی ساخت اور الفاظ کی چست بندی سے ہی اسلوب وجود میں آتا ہے۔ جس میں مصنف کی ذہنی تربیت اور انتخابِ الفاظ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ملاحظ ہوں ان کے یہ الفاظ:

"Sentence structure and diction make style,and just as sentence can be composed instead of issued of thoughtlessly from the writer's mind,so words can be chosen in a very real sense,style is choice"

’’جملے کی ساخت اورمعمول ہی اسلوب بناتے ہے۔ الفاظ کی چست بندی اور مصنف کی ذہنی ترتیب و انتخاب سے ہی اسلوب وجود میں آتا ہے۔نہ کہ مصنف کے بنا سوچے سمجھے خیالات سے۔لہٰذا صحیح معنوں میں الفاظ کا انتخاب ہی اسلوب ہے۔‘‘

اسلوب کوئی خارجی یا اضافی شے نہیں ہے۔نا یہ آورد والا کوئی معاملہ ہے،بلکہ یہ ذہنِ انسانی میں ایک جزولاینفک کی طرح ابتدا سے ہی موجود ہوتا ہے، اور ہر عمل میں کارفرما رہتا ہے۔اسی طرح یہ زبان کے وجود کا بھی حصّہ ہے۔جو کسی بھی صورت میں زبان سے الگ نہیں کیا جاسکتا ہے۔وجہ یہی ہے کہ ابتدا میں کسی بھی ادیب یا شاعر کا ذہن زبان کی باریکیوں سے زیادہ روشناس نہیں ہوتا ہے،اور اکثر بیشتر اسلوب میں بھی زیادہ جاذبیت اور نکھار و ندرت نہیں ہوتی ہے۔جیسے جیسے مصنف کا ذہن اصناف کے فنی لوازمات،زبان کی باریکیوں اور الفاظ کے ذخیرے سے واقفیت حاصل کرتا ہے تو اس کے اسلوب میں بھی نکھار،انوکھاپن،جدّت اور ندرت جیسی خصوصیات کامیابی کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہیں۔بہ الفاظِ دیگر اسے یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ مثلاً: سیکھنے کے عمل میں جب مصنف عہدِ طفلی میں ہوتا ہے تو اس سے یہ پتا نہیں ہوتا ہے کہ مسرت، انبساط، نشاط، سسرور، عشرت،عیش،وغیرہ قریب المعنی الفاظ ہیں لیکن جیسے ہی یہ اس امر سے واقف ہوتا ہے تو وہ ان کے استعمال میں بھی طرح طرح کی بوقلمونی طبعِ فطرت سے ہی اجاگر کرتا ہے۔یوں ایک ہی خیال کو پیش کرنے میں مصنف الفاظ کی تکرارسے دامن بچا کر مختلف قریب المعنی الفاظ کے استعمال میں مکمل دسترس حاصل کرتا ہے۔اس میں مصنف کے تجربات،مشاہدات اورعلمیت کا بھی عمل دخل ہوتا ہے۔اس حوالے سے ڈاکٹر سلیم آغا قزلباش کا یہ عمدہ خیال ملاحظ فرمایئے:

’’یہ(اسلوب)ایک ارتقائی عمل سے عبارت ہے، جیسے جیسے تجربات،مشاہدات اور مطالعے میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسلوب میں بھی اسی نسبت سے گہرائی نکھار اور جاذبیت در آتی ہے،بلکہ ایک لحاظ سے اسلوب کا سفر،سفرِ حیات سے مماثل ہے۔‘‘4

زبان کے منفرد استعمال سے بھی ہم اسلوب کی تخصیص کرتے ہیں جس میں انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کی درجہ بندی کی جاسکتی ہے۔ہر کسی شاعر یا ادیب،دور،عہد،تحریک،دبستان، وغیرہ کے استعمال زبان کا عمل مختلف ہوتاہے جو اپنے اندرمتنوع ومختلف خصائص بھی رکھتا ہے۔ان خصوصیت کی وجہ سے ہم اسلوب کی تخصیص بھی کرتے ہیں۔ غرض زبان اور اس کے منفرد استعمال سے بھی اسلوب وجود میں آتا ہے۔اس زمرے میں پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ لکھتے ہیں:

’’اسلوب سے زبان کے برتے جانے کا انداز یا زبان کا مخصوص و منفرد استعمال مراد ہے،لیکن زبان سے اسلوب مرادلے جانے کی مثالیں بھی ملتی ہیں،مثلاً حکیم آغا جان عیش نے غالب کی مشکل پسندی سے تنگ آکر جب یہ کہا تھا کہا         ؎

زبانِ میر سمجھے اور کلامِ مرزا سمجھے

مگر ان کا کہا یہ آپ سمجھیں یاخدا سمجھے

تو ’زبان ِمیر‘ سے ان کی مراد میر تقی میر کا اسلوب تھا جو غالب کے مشکل اور پیچیدہ اسلوب کے مقابلے میں سہل اور آسان اسلوب تھا۔‘‘5

 اسلوب کی تشکیل میں جہاں زبان اور شخصیت کو اہمیت حاصل ہے۔تو وہیں ترسیل و ابلاغ کو بھی دائرہ اہمیت سے مستثنیٰ نہیں رکھا جاسکتا ہے۔کیونکہ کوئی واقعہ، حادثہ، سانحہ وغیرہ دیکھنے سے ایک شاعر یا ادیب( جو زیادہ حساس ہوتے ہیں )کے اذہان پر ایک کیفیت طاری ہوتی ہے۔جس کے ردِ عمل میں یہ سوچتے ہیں کہ کیا کہا جائے۔یہ کہنا یا بولنا یا لکھناجس سے ہم سب بخوبی واقف ہیں، ترسیل و ابلاغ کا بنیادی مقصد ہوتا ہے۔جس کے ساتھ ساتھ مصنف کے ذہن میں اور ایک پہلو اساسی اہمیت رکھتا ہے جس سے ہم مختصر الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ پہلو کہنے کو کس طرح کہا جائے! کا ہے۔یہی وہ عمل ہے جو اجتناب،انتخاب،موثر اور انفراد کے پہلوؤں کو سینے سے لگاتا ہے۔غرض خارج و داخل کا حسین امتزاج اور زبان و جمالیاتی پہلوؤں کی رنگارنگی اسلوب کی تشکیل میں اہم اور کلیدی رول ادا کرتے ہیں۔

اسلوب ادب کے حوالے سے کسی بھی صنف کی خارجی ہیئت اور فنی لوازمات کو نظر انداز کر کے کوئی وجود نہیں رکھتا ہے۔ایک اسلوب کی تشکیل میں ہیئت اور فنی اقدار جسم میں خون کی مانند کام انجام دیتے ہیں۔جو اسلوب کی شکل و صورت اور انفرادیت میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔جس کو اس طرح بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک شاعر جب شعر کہتا ہے تو تب تک اس کی شاعری کو کسی صنفِ سخن کے زمرے میں نہیں رکھا جاسکتا ہے جب تک کہ انہوں نے کسی صنفِ سخن کی ہیئت اور فنی لوازمات کو ملحوظِ خاطر نہ رکھا ہو۔جب شاعر کا منشا غزل کہنے کا ہو گا تو وہ غزل کے فنی لوازمات کو ضرور ذہن میں رکھے گا مثلاً،قافیہ،ردیف،وزن،بحر وغیرہ اس طرح اگر یہ اپنے خیالات،احساسات اور جذبات کو اور کسی صنفِ سخن کی شکل دینا چاہتا ہے تو اسی صنفِ سخن کی ہیئت کو خاطر میں لائے گا۔کیونکہ ادب کی بیشتر اصناف کی زمرہ بندی ہیئت کے اعتبار سے ہوتی ہے۔مثلاً غزل، مثنوی، رباعی، مسدس، وغیرہ اصنافِ نثر میں ناول،افسانہ،ڈراما،وغیرہ اس کے ساتھ ساتھ ایک مصنف تحریر رقم کرتے ہوئے کس انداز سے اپنی اپچ کو بروئے کار لاتا ہے یہ سب مل کر ان کے اسلوب کی انفرادیت کو قائم کرتے ہیں۔اور کسی بھی اسلوب کی تشکیل میں ہیئت،فنی لوازمات اور ان کا استعمال خودبخود ساتھ ساتھ اپنی شمولیت یقینی اور ضروری بناتے ہیں۔جس کا پرتو ہمیں متن یا فن پارے میں دیکھنے کو ملتا ہے۔

ایک وسیع تر تناظر میں ہائے زندگی تمام تر شعبہ ہائے زندگی میں اسلوب کی شمولیت ناگزیر ہے۔اور ہر دور میں تغّیر کی دھار سے گزر کر اسلوب بھی متغائر ہوتا ہے۔مثلاً بول چال کا ڈھنگ،رہن سہن کا طریقہ،سوچنے کا طریقہ، رسوم و راج کا طریقہ،سج دھج کا انداز،کھانے پینے کا طور طریقہ،لب و لہجہ کا انداز وغیرہ ان تمام اسالیب کو سماجی اسلوب(Social Style) میں شامل کیا جاتا ہے۔اور مختلف علاقوں،لوگوں اور ادوار سے منسلک کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے نکولس کوپلینڈ (Nikolas Coupland) نے اپنی کتاب "Style Language Variation and Identity" میں وضاحت کے ساتھ بحث کی ہیں ان کے خیال میں تہذیب و تمدّن کے تمام تر جہات میں اسلوب ایک اہم کردار ادا کرتا ہے اس لیے اسلوب کی ایک سماجی معنویت بھی ہے:

"It(style) has a social meaning.The same is tru e for styles in all other life-domains.Culture resonances of time place and people attach to styles of dress and personal appearance in general, to styles in the making of material goods, to styles of social and institutional practice, perhapes even to styles of thinking."

’’اسلوب کی ایک سماجی معنویت بھی ہے۔جس کی اہمیت تمام تر شعبہ حیات میں بھی ہے۔ایک مخصوص ثقافتی تناظرمیں لوگوں کے رہن سہن،کھانے پینے،عادات واطوار،کام کاج اور سماجی وثقافتی انسلاکات میں!یہاں تک کہ سوچنے کے عمل میں بھی اسلو ب کی جلوہ گری کار فرما رہتی ہے۔‘‘

الغرض ادبی تنقید (Literary Criticism)   کے زمرے میں اسلوب کی تشکیل میں کسی مصنف، عہد، دور، اور ہیئت کو اہمیت حاصل ہے جن کے توسط سے ایک فن پارہ وجود میں آتا ہے۔نیز یہ کہ اسلوب سے مراد منفرد اظہارِ بیان یا پیرایہ ہے،اسلوب شاعر یا ادیب کی شخصیت کا غماز ہوتا ہے،اسلوب کی پرورش میں جمالیاتی حظ اور فنی اقدار کوبھی بڑی اہمیت حاصل ہے۔یہاں اسلوب کا تصّور زیادہ تر داخلی تاثرات اور ذاتی پسند و ناپسند پر منحصرہوتا ہے۔اور ایک ہی صنف کو کافر،عطر،آبرو،بدبو وغیرہ کہنے کی کمی بھی نہیں دکھائی دیتی ہے۔بہر حال مطالعۂ اسلوب کے سلسلے میں ادبی تنقید سے جڑے بیشتر مفروضات؍مبادیات کو صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا ہے۔

حواشی

1          بحوالہ پروفیسر گوپی چند نارنگ، ادبی تنقید اور اسلوبیات، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 1989، ص 15

2          بحوالہ:ڈاکٹر علی رفاد فتیحی: ساخت اور اسلوب: نظریہ و تجزیہ، بک کار پوریشن،دہلی، 2016، ص 132

3          Structure,Style and usage Rhetorical and Reaoning,third  edt, 1973, Holt, Rinehort and Winston.inc. P 209

4          بحوالہ:ڈاکٹر سلیم آغا قزلباش: جدید افسانے کے رجحانات، اشاعت اوّل، انجمن ترقی اردو،کراچی،2000،ص 531

5          بحوالہ:پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ:زبان، اسلوب اور اسلوبیات، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، 2011، ص 18

6          (Nikolas Coupland, Style (Language, Variation, and Identity), Cambridge University Press, 2007, P 1

 

Mohd Lateef Shah

Research Scholar, Dept of Urdu

Kashmir University

Kashmir - 190006 (J&K)

Mob.: 9797130907

  

 


22/2/21

حنیف ترین: تیری یاد کی ہنستی رم جھم ہر سو گونجتی رہتی ہے - مضمون نگار: محمد اسلام خان

 




ڈاکٹرحنیف ترین کو بہت قریب سے مجھے دیکھنے اورسمجھنے کاموقع ملا۔ ان کے دل میں انسانیت کے لیے بہت جگہ تھی، وہ لوگوں کے درد پرتڑپ اٹھتے اور اس کے ازالے کی ہر ممکن کوشش کرتے۔ ان کی یہی دردمندی اور خلوص ان کی شاعری میں بھی ہے۔ ڈاکٹر حنیف ترین مجھے اپنے چھوٹے بھائی کی طرح عزیزرکھتے اور میری چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کا خیال رکھتے۔ ان کی محبتیں اورشفقتیں مجھے ہمیشہ حاصل رہیں۔اس لیے ان کی ’لوح تربت‘ پر محبت اور عقیدت کے پھول نچھاور کرناضروری خیال کرتا ہوں۔

ڈاکٹر حنیف ترین ایک سال سے زیادہ عرصے سے کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا تھے، مگر شعروسخن سے تعلق خاطر اور خوداعتمادی کے سبب ایسا محسوس ہوتا کہ وہ اس کو مات دے دیں گے اور صحت یاب ہوکر جلدی ہی دہلی لوٹ آئیں گے۔ آپریشن کے بعد تبدیلیِ آب و ہوا کی غرض سے وہ کشمیرچلے گئے تھے۔لیکن وہ وہاں بھی مجھے نہیں بھولے۔ مرض کی شدت کی وجہ سے بات چیت ضرور کم ہوگئی تھی لیکن جب بھی وہ آرام محسوس کرتے، فون کرتے اور مجھے یہ احساس دلاتے کہ وہ ٹھیک ہوجائیں گے ۔ لیکن جب مرض شدت اختیار کرجاتا توان کی حالت دیدنی ہوتی۔مگر اس کے باوجود بھی وہ اپنوں کو نہیں بھولتے۔ ایک دن تو انھوں نے اسپتال سے ہی مجھے فون کیا لیکن شدید نقاہت کی وجہ سے صرف’کیسے ہو‘کہہ کر فون رکھ دیا۔ ان کی تکلیف کی شدت کو محسوس کرکے میرا دل ملول ہوگیااوراس کیفیت سے نکلنے میں مجھے بہت وقت لگا۔

کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے مجھے ہمیشہ یہ خدشہ لاحق رہتا کہ ڈاکٹرحنیف ترین سے متعلق کوئی منحوس خبرنہ آجائے، مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے۔ 3دسمبر کو بیماری نے ان پرجان لیواحملہ کیا اور پھر اس کے بعد وہ جاں برنہ ہوسکے۔عینی شاہدین کے مطابق جسم سے جان کا رشتہ منقطع ہونے کے باوجود ان کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ رقصاں تھی اور ان کا پیکر خاکی خاموش تھا اور اس طرح سماجی انصاف اورفلاح وبہبود کے لیے ہمیشہ کوشاں رہنے والے ڈاکٹر حنیف ترین کی روح کوقرار آگیا۔

3 دسمبر کو علی الصباح ان کے بیٹے یاسرخان نے ڈاکٹر حنیف ترین کی موت کی اطلاع دی تواس روح فرسا خبر سے میری ذات میں ایک اندھیرا سا چھا گیا اور مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ میراوجود منجمد ہوگیاہے۔میں اس کیفیت سے بہت دیر تک دوچار رہا۔ حنیف ترین کی شفقت سے محرومی اورجدائی کے احساس نے مجھے نڈھال کردیااور دل میںبار بار یہ خیال آ رہاتھا کہ کاش کوئی اس منحوس خبر کی تردید کردے۔ میرتقی میر کا یہ شعر اس کیفیت کاصحیح ترجمان معلوم ہوتا ہے         ؎

قافلہ قافلہ جاتے ہیں چلے کیا کیا لوگ

میر غفلت زدہ حیران سے کیا بیٹھے ہیں

دہلی جیسے بھاگم بھاگ اورمصروف ترین شہر میںحنیف ترین کی شخصیت میرے لیے ایک شجرسایہ دار کی حیثیت رکھتی تھی، لیکن موت نے میرے سر سے ان کا سایہ چھین لیا۔ مفادپرستی اور حرص وہوس کے اس ماحول میں ڈاکٹر حنیف ترین جیسی بے غرض اور بے لوث شخصیت کا ملنا بہت مشکل ہے۔ ڈاکٹر حنیف ترین کی موت سے حلقہ احباب میں ایک خاموشی ہے۔ مگرجب حالات بدلیں گے اور محفلیں دوبارہ آراستہ ہوں گی، کیا ڈاکٹرحنیف ترین کی وہ کھنک دار شعری آواز ہمیں سننے کو ملے گی!

ڈاکٹرحنیف ترین سے میرے تعلقات دس برسوں پر محیط ہیں۔ان سے میری پہلی ملاقات غالباً 2010 میںاس وقت ہوئی تھی، جب وہ اپنے شعری مجموعہ ’لالہ صحرائی‘کی اشاعت میں مصروف تھے۔ ان کے والہانہ انداز اور خلوص کی وجہ سے میں پہلی ملاقات میں ہی اُن کا گرویدہ ہوگیا۔ ان کی شخصیت اور ان کے اخلاق وکردار کا عکس میرے دل و دماغ پر نقش ہوگیا۔ رفتہ رفتہ میرے تعلقات بڑھتے گئے اور اس طرح مجھے ان کی ذاتی زندگی کو بھی بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔اسی ربط خاص کی وجہ سے میں نے ان پرلکھے گئے مضامین کویکجا کرنے کاارادہ کیا، جو ابھی حال ہی میں’تنقید بھی، تحسین بھی‘ کے نام سے شائع ہوئے ہیں۔ یہ کام ان کی زندگی میں شروع ہواتھااور زیادہ ترموادموصوف کی زندگی میں ہی جمع بھی کر لیے گئے تھے کہ اسی دوران وہ علیل ہوکر کشمیر چلے گئے۔ٹیلی فون پر ان سے باتیںہوتی رہیں، خبر خیریت ملتی رہی ۔ مگران کی ناگہانی وفات کے بعد بہ عجلت تمام کتاب کی اشاعت کویقینی بنانے کی سعی کی گئی۔کاش یہ کتاب ان کی زندگی میں آجاتی تو انھیں بے انتہا مسرت ہوتی!

ڈاکٹر حنیف ترین مجھ سے بھائی کی طرح محبت کرتے تھے لیکن اس کے باوجود کبھی کبھی ان کے مزاج کی گرمی اور میرے دماغ کی تندی جب یکجا ہوجاتی تو سماں ہی کچھ اور ہوتا۔ وہ ناراض ہوتے تو میں بھی بگڑ جاتا۔کبھی کبھی تلخی اس قدر بڑھ جاتی کہ بیچ بچاؤ کے لیے ان کے بیٹے کو آناپڑتا۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد جب ان کا غصہ زائل ہوتا تو وہ پھر پہلے ہی کی طرح شفقت سے پیش آتے اور محبت و اپنائیت کا اظہار کرتے، جو ان کے مزاج کا حصہ تھی۔ اب اس بات کو یادکرتاہوں تو مجھے اپنے اس عمل پرندامت ہوتی ہے کہ ٹوٹ کر چاہنے والے ایک انسان پر میں اس قدر کیسے برہم ہوسکتاتھا!جب کہ ان کی خفگی میں بھی ایک اپنائیت ہوتی تھی اور میں غصے کی شدت کی وجہ سے ان کی محبت کی تپش کو محسوس نہیں کرپاتا تھا۔ اب جبکہ وہ ہمارے درمیان نہیںہیں تو ان کی محبت وشفقت کامجھے شدید احساس ہوتا ہے۔مجھ میں اور ڈاکٹر حنیف ترین میں مزاج کے اعتبار سے بڑی حدتک یکسانیت اور مماثلت تھی۔وہ بھی لاگ لپٹ کے عادی نہیں تھے اور میں بھی دوٹوک انداز میں بات کرنا پسند کرتا ہوں۔وہ بہت خوددارانسان تھے اورعزت نفس کو کوئی للکارے مجھے بھی قطعی برداشت نہیں۔ ایک بار ان کے کسی دوست نے مجھے فون کیا اورسخت لہجے میں بات کی، جواباً میں نے بھی ان کو سخت سست کہا۔ جب میری ملاقات ڈاکٹر حنیف ترین سے ہوئی تو وہ میرے اس عمل پربجائے ناراض ہونے کے ،خوشی کااظہار کیا اور مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ مجھے ایساہی آدمی پسندہے، تم نے ٹھیک کیا۔ ان کی ہمت کیسے ہوئی تمھیں سخت سست کہنے کی۔

 ڈاکٹر حنیف ترین کامجھ سے بے حدلگاؤ تھامگریہ معاملہ کوئی میرے ساتھ ہی خاص نہیں تھا،وہ ٹوٹ کر چاہنے والے اور محبت کرنے والے انسان تھے، جس سے بھی ان کی رسم و راہ ہوجاتی، اس کے لیے وہ دل نکال کر رکھ دیتے۔ بغض و کینہ ان کی شخصیت سے کوسوںدورتھے۔ اگروقتی طور پروہ کسی سے ناراض بھی ہوجاتے تو بہت جلداس کو بھلا کردوست بھی بن جاتے۔ میری اس بات کی تائید ان سے قریب رہنے والے لوگ کریں گے ۔

حنیف ترین ایک علمی وادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔شروع سے ہی ادب کی طرف ان کا میلان تھا اوراسی وجہ سے غیرادبی اورغیرتخلیقی شعبے سے وابستگی کے باوجود ادب سے ان کا بہت گہرا اور مضبوط رشتہ رہا، اس رشتے میں کسی طرح کی منفعت اور نہ ہی کسی طرح کا مفاد ان کے پیش نظر تھا۔ وہ اپنے مصروف ترین پیشے سے وابستہ ہوتے ہوئے بھی شعر وادب کے لیے خاصا وقت نکال لیتے تھے بلکہ یوں کہاجائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ وہ اکثراپنے تخلیقی عمل میں اپنے پروفیشن تک کوبھی فراموش کر جاتے تھے۔انہوں نے اپنے پیشے کی وجہ سے بہت سے ملکوں کا سفربھی کیااور بہت سے علاقوں سے ان کا ذہنی اورجذباتی رشتہ رہا اوران علاقوں کی تہذیب وثقافت، زبان وادب سے بھی ان کی آشنائی رہی۔ وہاں کے شب و روز میں وہ شامل رہے۔ مختلف علاقوں کے لوگوںکے جذبات و احساسات کو انھوں نے قریب سے محسوس کیا۔اس طرح وہ زندگی کے مختلف تجربات ومشاہدات سے گزرے اوریہی تجربات و مشاہدات ان کی شاعری کی اساس بنے۔

حنیف ترین نے نظمیہ اور غزلیہ دونوں طرح کی شاعری کی ہے اور دونوں میں دور جدید کے مسائل اور متعلقات کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا اور اس میں انہوں نے اپنے قاری کو مکمل ذہنی اور جذباتی طورپر شریک کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔

حنیف ترین کی بیشتر نظمیں احتجاج کے ساتھ انسان دوستی کی بہترین مثال ہیں، کیونکہ بنیادی طور پر وہ امن پسند اور انسانیت پرست ہیں، اسی لیے انسانیت کے خلاف جہاں بھی بربریت کا ننگاناچ ہوتاہے، ان کی شعری زبان خاموش نہیں رہتی بلکہ بلند آواز میں احتجاج کرنے لگتی ہے۔

حنیف ترین نے غزلیں بھی کہی ہیں۔ ان کا پہلا مجموعہ کلام ’رباب صحرا‘ غزلوں پر ہی مشتمل تھا اور اس میں انہوں نے غزلیہ شاعری کے عمدہ نمونے پیش کیے ہیں،مگر وہ صرف روایتی غزلیہ شاعری میں ہی محصورنہیں رہے بلکہ انھوں نے ’کشت غزل نما‘کے ذریعے ’غزل نما‘کا بھی تجربہ کیا۔یہاں بھی انھوں نے اپنی جدتِ طبع کے جوہر دکھائے ہیں۔

حنیف ترین نے صحرائے عرب کی تمازتوں میں بھی اپنی زندگی کے شب و روز گزارے ہیں اور ان تمازتوں نے ان کے جذبات میں شدت پیداکی ہے اور ان کے ایمانی جذبے کو بھی متحرک اور رواں کیا ہے۔اسی لیے ان کی شاعری میں اسلامی تلمیحات اورعربی استعارات کثرت سے ملتے ہیں۔ ان کا شعری مجموعہ ’میں نے زلزال کو لفظوں میں اُتر کر دیکھا‘اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔

ڈاکٹر حنیف ترین نے جس عہد اور ماحول میں آنکھیں کھولی تھیں وہ یقینا ادبی ماحول تھا اور انھیں بچپن ہی سے ادب سے لگاؤتھا۔ ان کے حلقہ احباب میں زیادہ تر ادب نواز تھے اور ان کے خانوادے میں بھی علم وادب سے جڑی ہوئی اہم شخصیات تھیں۔یہ تمام عوامل شعروادب سے لگاؤ اور تخلیقی عمل کامحرک بنے۔

ڈاکٹرحنیف ترین کی پیدائش اترپردیش کے مردم خیزخطہ سنبھل میں ہوئی۔ ان کی بنیادی تعلیم جماعت اسلامی ہند کے معروف ادارہ ’درس گاہ اسلامی، رام پور ‘سے ہوئی۔ پھر علی گڑھ منٹوسرکل اسکول سے انھوں نے ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور پھر مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے انھوں نے کشمیر کا رخ کیا اوریہاں سے میڈیکل کی اعلیٰ ترین ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد علی گڑھ سے ایم ڈی کیا۔ 1983میں ملازمت کے لیے سعودی عرب چلے گئے اورتقریباًتین دہائی کے بعد وہیں کے شمال سرحدی علاقہ ’عرعر‘کے ’پرائمری ہیلتھ کئیر‘میں بطورڈائریکٹر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔

ڈاکٹرحنیف ترین کے ادبی سفر کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔وہ کشمیرمیں اپنے زمانۂ طالب علمی میں ہی ’آل انڈیاریڈیو‘ کے پروگراموں میں شرکت کرنے لگے تھے۔اپنے کلام سے وہ سامعین کو اپنی طرف متوجہ کرنے میںنہ صرف کامیاب ہوئے بلکہ ان سے داد و تحسین بھی حاصل کی۔ سامعین کے پیار نے انھیں حوصلہ بخشا اور پھر باقاعدہ شاعری کی طرف متوجہ ہوگئے۔ سعودی عرب کے قیام کے دوران پاکستان کے معیاری اور مؤقررسائل وجرائد میں ان کی تخلیقات اہتمام کے ساتھ شائع ہونے لگیں،جس کی وجہ سے بہت سے لوگ ان کوپاکستانی سمجھتے رہے لیکن ان کی تخلیقات کی اشاعت کا سلسلہ صرف پاکستان اورہندوستان نہیں بلکہ پوری دنیا کے اردو رسائل وجرائد میں جاری رہا اور کثرت اشاعت اورکلام کی خوبی نے ایک بڑے حلقے کو ان کا گرویدہ بنادیا۔

حنیف ترین اردوزبان کے شیدائی تھے۔ اردو کی ترقی و ترویج کے لیے وہ ہمیشہ کوشاں رہے۔سعودی میں قیام کے دوران وہ ہفتہ وار اورماہانہ نشستوں کااہتمام کیا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ انھوںنے ’عرعر‘ میں اردو کی کوچنگ بھی شروع کررکھی تھی، جس کے لیے وہ اپنے ذاتی اخراجات پراردو کتابوں اوراسٹیشنری کاانتظام کرتے اور اردو سے نابلد لوگوں کواردوزبان سکھانے اور پڑھانے کے لیے استادمقرر کررکھے تھے اورانھیں معقول اعزازیہ بھی دیتے رہے۔ سعودی عرب سے ہندوستان منتقل ہونے کے بعد بھی اردوسے محبت کایہ سلسلہ جاری رہا۔ انھوں نے دہلی میں اردو زبان وادب کے فروغ کے لیے بہت سی محفلیں اور مشاعرے منعقدکیے۔

حنیف ترین نے کئی تصنیفات بطوریادگارچھوڑی ہیں جن میں رباب صحرا (1992) ، کتاب صحرا (1995)، کشت غزل نما (1999)،   زمین لاپتہ رہی (2001) ،  ابابیلیں نہیں آئیں(2004) ، میں نے زلزال کو لفظوں میں اُتر کردیکھا (2006) ، روئے شمیم سے نزہت عشق کی بہتی ہے(2011)، لالۂ صحرائی (2014) ،   پس منظر میں منظر بھیگاکرتے ہیں(2016) ،  دلت کویتاجاگ اٹھی(2018)، ستیہ میوجیتے (2018) ،  دلت آکروش (2019)، بعیداعن الوطن(2012)،  لم تنزل ابابیل (2013)، دی ٹرتھ آف ٹیررزم (2006) کافی اہم ہیں۔ اس کے علاوہ کئی کتابیں طباعت کے مرحلے میں ہیں۔

ڈاکٹر حنیف ترین کو میں نے اوروں سے بہت مختلف اور منفرد پایا۔ جب ہم حنیف ترین کی تحریروں کو ان کی شخصیت سے جوڑکردیکھتے ہیں تو ان میں کوئی تضاد نظر نہیں آتا،حالانکہ زیادہ تر ادیبوںکی زندگیاں تضادات کا مجموعہ ہوتی ہیں۔ مگر ڈاکٹرحنیف ترین کی شخصیت اس تضادسے پاک ہے۔سچی بات تویہ ہے کہ حنیف ترین کے تخلیقی اور شعری محاسن اپنی جگہ، وہ انسان دوستی، انصاف پسندی اور کردار کی بلندی کے لیے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے       ؎

جانے والے کبھی نہیں آتے

جانے والوں کی یاد آتی ہے

n

Mohd Islam Khan

D-64, 3rd Floor, Near Firdaus Masjid,

Behid Taj ApartmentShaheen Bagh,

Jamia Nagar, New Delhi - 110025

Mob.: 9910100445,  islamk22@gmail.com



وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی (آہ! ظفر احمد صدیقی) - مضمون نگار: محمد اختر

 



ظفر احمد صدیقی کا شمارعہد حاضر کے اہم محققین اوردانش وروں میں ہوتا ہے۔ عربی، فارسی ادبیات اوراردو زبان وادب پر انھیں یکساں قدرت حاصل تھی۔عالم باعمل تھے، گفتگو کا انداز سلجھاہوا،مدلل اورمنطقی تھا۔دوران گفتگو انھیں بھٹکتے /اٹکتے ہوئے شاذ ہی کبھی دیکھا گیا ہو۔ان کی گفتگودریا کی مانند رواں دواں ہوتی تھی۔حافظہ بلا کا تھا اورمطالعہ کافی وسیع  یہی سبب ہے کہ شمس الرحمن فاروقی جیسے قدآورعالم بھی عربی وفارسی علوم سے متعلق معاملات میں ان سے صلاح ومشورہ کیا کرتے تھے۔فاروقی صاحب کو ظفر صاحب سے قلبی لگائو تھا۔محبت وشفقت سے اکثر انھیں ’مولوی‘ اورکبھی کبھی ’ظفر‘ کہہ کرپکاراکرتے تھے۔یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ ان کی وفات کے صرف چار دن بعد، ظفر صاحب بھی اس دار فانی کو خیربادکہہ گئے۔ایک ماہ سے تقریباً جواہر لال نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ میں ایڈمٹ تھے۔ 29دسمبر 2020 کو دوپہر میں وہیں انتقال ہوا اور 30 دسمبر بروز بدھوار یونیورسٹی قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔

ظفر احمد صدیقی کا تعلق مشرقی یوپی کے ایک قصبہ گھوسی، مئو کے محلہ ملک ٹولہ سے تھا۔یہیں پر 10 اگست 1955 میں پیدا ہوئے، ندوۃ العلما لکھنؤ اور مظاہر علوم سہارنپور سے مذہبی علوم اورمشرقی فنو ن کی تعلیم حاصل کی۔ فراغت کے بعد اپنا مستقل مسکن بنارس شہر کو بنایا۔ درس وتدریس اورمذہبی علوم سے ذ  ہنی مناسبت تھی۔اس لیے جامعہ اسلامیہ، ریوڑی تالاب، بنارس سے منسلک ہوگئے اورقرآن وحدیث کے موضوعات پر درس دینے لگے،لیکن طلب علم کی پیاس ابھی تک بجھی نہ تھی۔اس لیے شعبۂ اردو،بنارس ہندو یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ بی۔ اے اورایم۔اے (اردو)امتیازی نمبرات سے پاس ہوئے۔اس کے بعد پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا۔موضوع: ’’شبلی کی علمی وادبی خدمات ‘‘طے پایا اورحکم چند نیّر نگراں مقرر ہوئے،لیکن تحقیقی وتنقیدی مزاج حنیف احمدنقوی (مرحوم)سے میل کھاتا تھا۔اس لیے موضوع سے متعلق صلاح ومشورہ زیادہ تر وہ نقوی مرحوم سے ہی کیاکرتے تھے۔بعد میںیہ محبت عقیدت میں بدل گئی اورظفراحمد صاحب کا شمار نقوی مرحوم کے لائق شاگردوںمیں ہونے لگا۔جلد بازی سے انھیں خدا واسطے کابیر تھا۔ اس لیے اپنے شاگردوں کو بھی مطالعے کی ترغیب اورعجلت پسندی سے بچنے کا مشورہ دیا کرتے تھے۔

شبلی کے محقق اورناقد کی حیثیت سے علمی وادبی حلقوںمیں ان کا پہلا تعارف تھا۔ ارباب دارالمصنفین نے ابتداًان کی تنقید کا برا مانا، لیکن تھوڑے ہی دنوںکے بعد ان کی شرافت، سنجیدگی اورعلمی دیو قامتی کے وہ بھی مرید ہوگئے۔ظفراحمد صدیقی کے علمی اکتسابات پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر قاضی جمال حسین لکھتے ہیںکہ :

’’پروفیسر ظفراحمد صدیقی کے علمی اکتسابات،سنجیدہ علمی حلقوںمیں تعارف کے محتاج نہیں۔ علامہ شبلی پر ان کا تحقیقی کام اورنظم طباطبائی کی شرح دیوان غالب پر ان کے عالمانہ حواشی،حوالے کی حیثیت رکھتے ہیں۔علمی دیانت اور اصابت رائے، ان کی تحریروں کی اہم خصوصیات ہیں۔ عربی اورفارسی ادب کے براہ راست مطالعے کی وجہ سے زبان وبیان کے وسائل پر انھیں غیر معمولی قدرت حاصل ہے۔‘‘

(ظفراحمدصدیقی،قصیدہ:اصل،ہیئت اورحدود(تاثرات،از:قاضی جمال حسین) ص7، شعبۂ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ2020)

شبلی شناسی‘ کے علاوہ ظفر احمد صدیقی کا خاص میدان کلاسیکی متون ہیں،جن کی درس وتدریس میں انھیں ایک خاص ملکہ حاصل تھا۔قصیدہ،مثنوی،مرثیہ اورکلاسیکی غزلیات کے علاوہ غالب اوراقبال کے اردو اورفارسی کلام کے وہ شناور تھے۔دوران تدریس ان کی گفتگو کا انداز ساحرانہ ہوتا تھا۔ ان کی گفتگو بہت ہی مربوط،منظم،سلیس اوررواں ہوتی تھی۔ اشعار کی باریکیوںاورشعری محاسن کو ظفر صاحب اس طرح بیان فرماتے تھے کہ طلبا کے ذہن پر نقش ہوجاتا تھا۔بعض ذہین طلبا کو آج بھی ان کے پڑھائے ہوئے اسباق حرف بہ حرف یاد ہیں۔ظفراحمد صدیقی علامہ اقبال کے اس مصرعے کا عملی نمونہ تھے۔ ع: ’نرم دم گفتگو،گرم دم جستجو

ظفراحمد صدیقی عربی وفارسی تہذیب کے پروردہ اوراس کی تہذیب اورتصورات سے کما حقہ واقف تھے۔ نیز اس کا عکس بھی ان کی تحریروںمیںبڑی حدتک نمایاں ہے۔دوسری طرف استقامت اورریاضت ان کی سرشت میں شامل تھی۔یہی وجہ ہے کہ انھوںنے جس موضوع پر قلم اٹھایا، اس کا حق اداکردیا۔تحقیق وتنقید جیسے خارزا ر میدان میں بھی، ان کے قلم کی جولانی قابل دید ہے۔ان کا انداز بیان، مدلل، جامع اورعارفانہ ہے۔استدلالی اسلوب، سلاست اورروانی ان کی نثر کے خاص جوہر ہیں۔ دقیق سے دقیق مسائل کو بھی وہ دلائل اورشگفتہ بیانی سے آسان فہم بنا دیا کرتے تھے۔ان کی علمی وادبی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے شمس الرحمٰن فاروقی رقم طراز ہیں کہ:

’’عربی فارسی پڑھ لیناآسان ہے،لیکن عربی فارسی تہذیب اورتصورات کو ذہن میںجذب کرلینا اوران کو اردو تنقید میں استعمال کرنا کہ انمل اوربے جوڑ نہ معلوم ہو اوراس عظیم تسلسل کا احساس واضح ہوجو مشرقی ادبیات کا سرمایہ ہے۔یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں … ظفراحمد صدیقی کی تحریریں عربی فارسی تہذیب سے پوری طرح بہرہ ور ہیں،لیکن انھوںنے ان علوم کو تنگ نظری کی کوٹھری میں نہیں،بلکہ تاریخی تسلسل کی خو ش گوار روشنی میں حاصل کیا ہے۔اسی طرح ان کا طریقۂ کار بھی ادعائی نہیں،بلکہ تجزیاتی ہے۔‘‘

ظفراحمدصدیقی، تنقیدی معروضات (سرنوشت، از:شمس الرحمن فاروقی) ص4،اسرارکریمی پریس،الہ آباد، دسمبر1983

سودا، نصرتی، ذوق، غالب، مومن، محسن کاکوروی کے قصائد ہوں یا غزلیات یا کوئی اوردوسری صنف / موضوع، ظفراحمد صدیقی ہمیشہ سنجیدہ اورعلمی انداز میں رواں گفتگو کرتے تھے۔نکتہ سنجی اورسخن فہمی میں وہ کامل تھے۔

ظفراحمدصدیقی کاایک بڑااوراہم علمی کارنامہ ’شرح دیوان اردوے غالب‘ از :سیدعلی حیدرنظم طباطبائی کی از سرنو ترتیب وتدوین ہے۔یہ شرح پہلی مرتبہ مطبع مفید الاسلام، حیدرآباد سے سنہ 1900میں شائع ہوئی تھی۔نیز غالب کے پورے کلام /متداول دیوان کی مکمل شرح ہے۔

نظم طباطبائی عربی وفارسی کے متبحر عالم تھے۔علم بیان وبدیع پر ان کی گرفت مضبوط تھی۔مذہبی علوم میں بھی انھیں درک حاصل تھا۔شعری روایت اور اشعار کی باریکیوں پر گہری نظر رکھتے تھے۔غالب اورکلام غالب سے انھیں بڑی انسیت تھی۔ لہٰذا انھوںنے غالب کے متداول دیوان کی شرح لکھنے کا ارادہ کیا اورکامران رہے۔اس میدان میں نظم طباطبائی کو کئی اعتبارسے اولیت حاصل ہے،جس کا تفصیل سے ظفر احمد صاحب نے اس کتاب کے مقدمہ میں ذکر کیا ہے۔

ظفر احمد صدیقی نے اس شرح کا بالاستیعاب مطالعہ کیا اوردوسرے شارحین کی شرحوں کو سامنے رکھتے ہوئے تسامحات کی نشان دہی کے علاوہ گراں قدر حواشی کااضافہ کیا۔طباطبائی کی اولیت،نکتہ سنجی اورسخن فہمی پر روشنی ڈالتے ہوئے ظفراحمد صدیقی لکھتے ہیںکہ:

’’طباطبائی پہلے شخص ہیں،جنھوںنے غالب کے متداول دیوان کی مکمل شرح لکھی ہے۔اس اولیت کے علاوہ کئی اورپہلوئوں کے لحاظ سے بھی یہ شرح اہمیت کی حامل ہے۔ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ا س کے مصنف عربی وفارسی کے متبحر عالم اوران دونوں زبانوںکی شعری روایت اوراصول نقد سے پوری طرح واقف تھے۔اس کے ساتھ ہی نکتہ سنجی وسخن فہمی سے بھی انھیں بہرۂ وافر ملا تھا۔ اس لیے انھوںنے مشرقی شعر یات کو ذہن میں رکھ کر یہ شرح تصنیف کی ہے۔نیز مختلف اشعار کی شرح کے دوران سخن فہمی کے عمدہ نمونے پیش کیے ہیں۔ یہاں یہ وضاحت بے محل نہ ہوگی کہ مشرقی شعریات سے واقفیت اوراس کے اطلاق وانطباق میں وہ بسا اوقات حالی وشبلی سے آگے نکل گئے ہیں۔‘‘

(ظفراحمدصدیقی(ترتیب وتدوین)شرح دیوان اردوئے غالب، از: نظم طباطبائی،ص33، مکتبہ جامعہ، لمیٹڈ، نئی دہلی، 2012)

پروفیسرخالد محمود صاحب کے الفاظ مستعارلیے جائیں تو کہا جاسکتا ہے کہ ظفراحمد صدیقی نے نظم طباطبائی کے جن امتیازات کا اوپر ذکر کیا ہے۔ وہ تمام بدرجۂ احسن موصوف کے اندر موجودتھیں،تو مبالغہ نہ ہوگا!یہی وجہ ہے کہ انھوں نے یہ بڑاکارنامہ انجام دیا اور’شرح دیوان اردوے غالب‘، از:نظم طباطبائی کی ترتیب وتدوین کابیڑااٹھایا۔

ظفراحمدصدیقی نے تقریباًپچاس صفحات پر مشتمل ایک طویل مقدمہ تحریر فرمایا ہے،جس میں اس شرح کی خوبیوں اور خامیوں پر تفصیل سے بحث کی ہے۔نظم طباطبائی کی ذہانت،علمیت،شعرفہمی،معنی شناسی اورشرح نگاری کے طریقۂ کار اورجہاں جہاں اختلاف کیا ہے،اس کی وجوہات اوراپنے نظریے کی وضاحت بھی مقدمہ میں کردی ہے،تاکہ کسی طرح کا اشکال باقی نہ رہے۔

املا میں مرتب نے غالب کی ترجیحات کو مقدم رکھا ہے اورجدید روش املا /کتابت کی پیروی کی ہے۔نیز املائے غالب کے بارے میں رشیدحسن خاں کی تحریروں کو قابل اعتبار سمجھا ہے۔ ’شرح دیوان اردوے غالب‘ از: نظم طباطبائی کے پہلے ایڈیشن میں عبارتوں میں پیراگراف کا خیال نہیں رکھاگیا تھا۔ظفراحمد صاحب نے عبارتوںکو مضمون کے اعتبارسے تقسیم کیا اورکئی کئی صفحات پر مشتمل عبارت کو بھی ٹکڑوںمیں بانٹا،تاکہ جدید اصول وضوابط کے مطابق عبارت کی ترتیب ہوجائے۔ا س حوالے سے ظفراحمد صدیقی لکھتے ہیں کہ:

’’شرح طباطبائی میں اشعار کی طرح نثری اقتباسات بھی جا بہ جانقل ہوئے ہیں،لیکن اس زمانے کے دستو ر کے مطابق پوری کتاب میں کہیں بھی جلد وصفحہ،فصل وباب یا موضوع کا حوالہ مذکور نہیں۔اصول تدوین کے مطابق ان تمام اقتباسات کا اصل ماخذ میں سراغ لگا کر مکمل حوالہ درج کردیا گیا ہے۔اگراقتباس اوراصل ماخذ میں تفصیل واختصاریا کسی اور طرح کا فرق ہے تو اس کی نشان دہی کردی گئی ہے۔

شرح طباطبائی میں مختلف مناسبتوں سے آیات قرآنی اوراحادیث نبوی اورروایات سیرت وتاریخ کے اقتباسات بھی نقل ہوئے ہیں۔ان سب کی باقاعدہ تخریج کردی گئی ہے۔بعض اقوال جو حدیث کے طور پر منقول ہیں،لیکن حدیث نہیں ہیں،ا ن کی حیثیت بھی متعین کردی گئی ہے۔‘‘

(ظفراحمدصدیقی(ترتیب وتدوین)شرح دیوان اردوے غالب،از: نظم طباطبائی،ص64-65)

اشعار، اقتباسات، قرآنی آیات، احادیث اور سیر وتواریخ کے حوالوں کی تخریج،اصل مآخذ کی نشان دہی اور حواشی میں ان کی وضاحت جس باریکی سے ظفر احمد صدیقی نے کی ہے۔یہ ان ہی کا حصہ تھا۔نیزحسب ضرورت دیوان غالب کی دوسری مختلف شرحوں کو بھی سامنے رکھا، تاکہ تجزیہ وتقابل کے ذریعے درست نتائج برآمد ہوسکیں۔ ان کا یہ کارنامہ عظیم ہے۔

ظفراحمدصدیقی تقریباً چالیس برس تک درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ رہے ہیں، لیکن کبھی اس کی حرمت پر آنچ نہ آنے دی۔اقبال، غالب وغیرہ کے علاوہ قصیدے کی تدریس سے انھیں خاص شغف تھا۔ ویسے ’قصیدہ: اصل،ہیئت اورحدود‘کے عنوان سے ان کا ایک مضمون نیا دور، لکھنؤ (اگست1979) میں شائع ہوا تھا۔ علمی اورادبی حلقوںمیں اس مضمون کی خاطرخواہ پذیرائی بھی ہوئی تھی۔اس کے بعد ظفراحمد صاحب اس موضوع اوراس کے متعلقات پر مسلسل غوروفکر کرتے اورلکھتے رہے، جس کی شہادت ’’قصیدہ :اصل،ہیئت اور حدود‘‘ نامی کتاب ہے۔یہ کتاب شعبۂ اردوعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ کی نگرانی میں2020میں شائع ہوئی۔ اس کتاب کی عمدگی پرروشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر قاضی جمال حسین لکھتے ہیں کہ:

’’قصیدے کے موضوع پر ظفر احمدصدیقی کی پیش نظر کتاب زبان وبیان کی صحت کے ساتھ ہی معیاری تحقیق کی عمدہ کاوش بھی ہے۔اس کتاب میں مصنف نے قصیدہ کے بنیادی مآخذ سے بحث کی ہے اوراس صنف کی روایت کا عالمانہ اسلوب میں تحقیقی جائزہ لیا ہے۔ قصیدے کی صنفی خصوصیات…اردو کے منتخب قصائد کی تشریح وتعبیر نے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ کردیا ہے۔‘‘

(ظفراحمدصدیقی، قصیدہ: اصل، ہیئت اور حدود (تاثرات، از: قاضی جمال حسین)ص7)

ظفراحمد صدیقی کی یہ کتاب اساتذہ اورطلبا کے لیے کئی اعتبار سے مفید ہے۔انھوںنے نہ صرف قصیدے کی تعریف، تاریخ اوربنیادی مآخذ پر تحقیقی گفتگو کی ہے، بلکہ بعض منتخب قصائد کے متون کی تشریح وتعبیر بھی کی ہے۔ نیز بعض قصیدہ شناسوں کے علمی کارنامے کا بیان بھی اس کتاب میں موجود ہے۔اشاعت ثانی میں سودا کے ’قصیدہ لامیہ ‘کی شرح کے اضافے کا ارادہ بھی رکھتے تھے،لیکن مرگِ ناگہانی نے موقع نہ دیا۔اردوقصائد سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ کتاب گراں قدر اور ظفر احمد صاحب  کا آخری تحفہ ہے!

ظفراحمدصدیقی کی شخصیت معاصرین میں کئی اعتبار سے ممتاز ہے۔ وہ عالم بے بدل،متین وحلیم اورنفاست پسند تھے۔تحقیق وتنقید کے دوران تغافل اورتساہلی کو ناقابل معافی جرم سمجھتے تھے۔ان کے علمی وادبی اکتسابات کے اعتراف کے لیے کئی کتابیں درکار ہیں۔ان کا اس طرح اچانک رخصت ہوجانا،اردو زبان وادب کا بڑا خسارہ ہے۔فارسی وعربی ادبیات کے ایسے غواص اب خال ہی خال نظرآتے ہیں۔ع:خدارحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را!

n

Dr. Mohd Akhtar

Dept of Urdu, Vasanta College for Women

Rajghat

Varanasi - 221001 (UP)

Email.: akhtarvcr@gmail.com

Mob.: 9793857521

 


 

ماہنامہ اردو دنیا، فروری 2021


تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...