18/1/22

امیر خسرو دہلوی کی نقد نگاری (دیباچہ غرۃ الکلام کے حوالے سے) - مضمون نگار: نیلوفر حفیظ

 



ابوالحسن یمین الدین بن سیف الدین محمود معروف بہ امیرخسرودہلوی کشورہند کی ان عظیم اورعبقری شخصیات میں سے ایک ہیں جن کی علمی وادبی خدمات کی شہرت، آفاقیت اور ہمہ گیریت نے ازروزاول تاعصرحاضر ہزاروں اذہان وقلوب کو اپنے سحروسرورمیں گرفتار کرکے انھیں اپنا شیفتہ و دیوانہ بنا رکھا ہے۔ خالق کائنات نے اس بزرگ شخصیت کی ذات گرامی میں بیک وقت متعدد اعلیٰ خصوصیات کو ودیعت کر دیاتھا انھوں نے اپنے پر افادی اور آفاقی، ادبی وعلمی کارناموں  سے نہ صرف یہ کہ اپنے عہد کی فکرکوبے پناہ متاثر کیا تھا بلکہ آئندہ ادوارکے دانشوروں کے لیے بھی بیش قیمت سرمایہ فکر چھوڑ گئے تاکہ آنے والی نسلیں ہمیشہ ان کے افکار وخیالات سے مستفیض ہوتی رہیں اوراپنے لیے آگے کی راہیں استوار کرتی رہیں، ان کا استدلالی طرزبیان، محققانہ چابک دستی،فلسفیانہ انداز فکر، انتقادی گہرائی، انشا پردازانہ سلیس بیانی اور شاعرانہ طرزکلامی میں حددرجہ جاذبیت، دلکشی اور سحر انگیزی کی کیفیت پائی جاتی ہے ان کی متنوع اور رنگا رنگ شخصیت کی جامعیت، معنویت اور عظمت کا اعتراف صرف ہندو ایران کے دانشوروں ہی نے نہیں کیاہے بلکہ دنیا بھر کے بڑے بڑے مورخین، منتقدین، مفکرین اورمحققین کی جانب سے بھی ان کوان کے آفاقی کارناموں کے سبب ہمیشہ خراج تحسین پیش کیاجاتارہاہے۔

امیر خسرودہلوی ہندوستان کی تاریخ میں فارسی ادب کے ایک عظیم اور قدآور شاعرکی حیثیت سے زیادہ مشہوراورمقبول رہے ہیں اور انھیں فارسی زبان وادب سے تعلق رکھنے والے محققین، مورخین اور تذکرہ نویسندگان نے خصوصی طور پر فارسی ادب کے ایک برجستہ اور عالی مرتبہ شاعر ہی کے حوالے سے متعارف وروشناس کرانے پر زیادہ توجہ صرف کی ہے اس کے علاوہ انھیں ہندی یا ہندوی زبان کے الفاظ،محاورے اور کہاوتوں کو اجاگر کرکے انھیں اردو زبان وادب کا اولین معمار اور ہندوی زبان کا نقاش اول ثابت کرنے کے سلسلے میں بھی دانشوروں نے کماحقہ توجہ صرف کی ہے اور اس صداقت کا اعتراف کرنے میں بھی کسی شک و شبہے کی گنجائش نہیں ہے کہ ان کے کلام میں ہندوستانی رنگ وآہنگ کا بڑا حسین اور دلکش امتزاج دیکھنے کوملتا ہے اوران کے فارسی کلام کے مجموعوں میں مخلوط ہندوی کلام بھی بڑی وافر تعداد میں تاریخ کی کتابوں کی زینت بنا ہوا ہے، اس حقیقت کوبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ امیر خسرو کے شعری کارنامے ان کے منثور کارناموں کے مقابلے میں زیادہ آب وتاب اور وقعت وقیمت رکھتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے منظوم آثار کی بازیافت کی طرف اکثر مصنفین اور محققین کی توجہ زیادہ مبذول رہی ہے،مگریہاں اس حقیقت سے بھی چشم پوشی اختیار نہیں کی جانی چاہیے کہ امیر خسرو نے ایک نثر نویس کی حیثیت سے بھی کچھ کم وقیع اور گراں قدر کارنامے انجام نہیں دیے ہیں۔ ان کی شاعری ہی کی طرح ان کی منثور تصانیف بھی ان کے انفرادی رنگ اور جداگانہ آہنگ کاجیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ نثر میں ان کی تین کتابیں بیدون کسی اختلاف کے امیر خسرو کی بہترین اور معرکۃ الآرا تصانیف قرار دی جاتی ہیں۔ ان منثور کتابوں میں ان کی سب سے اہم اور پہلی کتاب کا نام ’خزائن الفتوح‘ ہے ان کی بقیہ دو کتابیں ’اعجاز خسروی‘ یا ’رسائل الاعجاز‘اور ’افضل الفوائد‘ ہیں ۔ان نثری کتابوں کے علاوہ انھوں نے اپنے شعری مجموعوں کے منثور دیباچے بھی تحریر کیے ہیں جو ان کے ایک بہترین نثر نویس ہونے کی دلیل ہیں۔

اس بات سے بھی شاید کم ہی لوگ واقف ہیں کہ خسرو ایک بہترین شاعر، موسیقی دان، تاریخ نویس، سیاست داں اور انشاپرداز ہونے کے ساتھ ساتھ فارسی زبان وادب کے ایک بہترین ناقد بھی رہے ہیں۔ گو کہ ان کی شخصیت کی ہمہ گیری کے سبب ان کو فارسی ادب کے ناقد کی حیثیت سے بہت زیادہ شہرت اور قبول عام حاصل نہیں ہو سکا۔ان کی ذات عالی کے لازوال ہنر وکمالات کے سحر میں گرفتار ہونے کے سبب دانشوران ادب ان کے ناقدانہ رنگ اور انتقادی رحجانات کی طرف اپنی بہت زیادہ توجہ مبذول نہیں کر سکے ہیں اوراس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے بے پناہ افادی انتقادی نکات جو فارسی شعرو ادب سے خس وخاشاک کو دور کرنے میں نہایت اہم اور ضروری تصور کیے جاتے ہیں، ان کو وہ قدرو منزلت حاصل نہیں ہو سکی جس کے وہ مستحق تھے جب کہ سچ تو یہ ہے کہ خسرو سے قبل کسی بھی مفکر یا دانشور نے اپنی تحریروں میں فن شعر سے متعلق اتنے جالب اور عمدہ نکات دنیا کے سامنے پیش نہیں کیے تھے۔ ان کے بے پناہ افادی اور پرارزش انتقادی نکات وجہات اوراصول وضوابط کوان کی منثور تحریروں بالخصوص ان کی شاعری کے مجموعوں کے منثور دیباچوں میں بآسانی دیکھا جا سکتا ہے خاص طور پران کی شاعری کا دیباچہ ’غرۃ الکمال‘ میں ان کی ناقدانہ بصیرت وادراک تو اپنی پوری آب وتاب اور حدت وشدت کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔ اس دیباچے میں انھوں نے شعر وشاعری اور شاعر کے متعلق جو معیار ومیزان لازم قرار دیے ہیں وہ نہ صرف ان کے دور میں اہم اور لائق تقلید رہے ہیں بلکہ عصر حاضر کے جدید ناقدین ادب کے لیے بھی کچھ کم اہمیت وارزش کے حامل قرارنہیں دیے جا سکتے ہیں امیر خسرو کی بے پناہ انتقادی صلاحیتوں کا اعتراف بھلے ہی عہد وسطیٰ کے مفکرین کی طرف نہ کیا جا سکا ہو لیکن جدید محققین اور ناقدین نے امیرخسرو کے اس پہلو پر کماحقہ توجہ صرف کرنے کی اپنی پوری کوشش کی ہے اور یہ  ثابت کرنے میں بھی کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ہے کہ بحیثیت ادبی ناقد کے بھی خسرو کا مقام ومرتبہ بہت بلندوارفع ہے۔

غرۃ الکمال‘امیر خسرو دہلوی کے اشعارکا تیسرا سب سے بڑااورپرارزش شعری مجموعہ ہے اس سے قبل وہ ’تحفۃ الصغر‘ اور’وسط الحیات‘ کے نام سے اپنے اشعار کے دو بہترین دیوان ترتیب دے چکے تھے۔ اپنے اس تیسرے شعری مجموعے یعنی ’غرۃ الکمال‘ میں انھوں نے اپنی عمر کے چونتیسویں سال سے لے کر تینتالیسویں سال تک کے کلام کو مدون ومنظم کر کے پیش کیاہے۔ اس شعری مجموعے میں کم وبیش ان کے نوے سے زائد قصائد اور ترجیعات ہیں اورتقریباً نوچھوٹی بڑی مثنویاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس دیوان میں متعدد رباعیات اور قطعات وغیرہ کو بھی یکجا کیا گیا ہے لیکن اس مضمون مختصرمیں ان کی شاعری سے متعلق گفتگو کرنامیرامقصد نہیں ہے بلکہ اس دیوان کا منثور دیباچہ مورد بحث ہے جو انھوں نے اپنے اس دیوان کو ترتیب دینے کے بعد تحریر کیا تھا ’غرۃ الکمال‘ کے دیباچے میں خسرو نے عربی اور فارسی شاعری کے اضافی محاسن ومعائب، خوب وبد اورحسن وقبح کلام کے متعلق بڑی دلچسپ اور جالب بحث شامل کی ہے جو ادبی نقد کے نقطہ نظر سے خصوصی اہمیت وافادیت کی حامل قراردی جاتی ہے۔ خسرو ہندوایران کے پہلے ایسے دانشوراعظم ہیں جس نے پہلی بارادبی نقد کے متعلق باقاعدہ اور باضابطہ طور پر اپنی آرا کو واضح انداز میں قارئین کے سامنے پیش کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے اورادبی نقد سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ہے۔ یہ بات بھی حتمی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ خسرو سے قبل نہ صرف ہندوستان بلکہ ایران میں بھی کوئی اور کتاب، رسالہ یا باضابطہ تحریرنظر نہیں آتی ہے جس میں خالص فن شعر کے متعلق آزادانہ اور بے باکانہ طور پر اپنی رائے کااظہار کیا گیا ہو یہ افتخاراور انفرادیت صرف اور صرف امیر خسروکو ہی حاصل ہے کہ انھوں نے سب سے پہلے فارسی زبان کے اولین ادبی ناقد کی حیثیت سے فارسی شعروشاعری میں پائے جانے والے بہت ہی قیمتی اور پر افادی ادبی نکات اور فکر کن جہات کو اہل نظر کے سامنے باقاعدہ اور باضابطہ طور پر پیش کیا اور دیگر ادبی اصناف کی طرح اس صنف میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کی ان کے بیان کردہ یہ انتقادی نکات ان کے زمانے سے لے کر عصر حاضر تک یکساں اہمیت وافادیت کے حامل قرار دیے جاتے رہے ہیں۔

امیر خسرو کو نہ صرف کشورہندوستان میں بلکہ خود ایران میں بھی فارسی زبان کے فن نقد کے پہلے اورسب سے بڑے فارسی زبان کے ادبی ناقد ہونے کا شرف حاصل رہاہے انھوں نے اپنے اس معروف دیوان یعنی ’غرۃ الکمال‘ کے دیباچے میں شعروشاعری کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے اس کو شعرو ادب کاایک بیش قیمت اور گرانقدر خزانہ قرار دیا ہے مصنف نے اس دیباچے میں شعر کی مختلف اقسام کے بارے میں بھی تفصیلی طور پر بتایا ہے اور بہت سے علمی نکات سے متعلق بڑی سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے اس دیباچے کی بے پناہ افادیت اور اہمیت کے سبب یہ ابتدائی دور ہی سے دانشوروں کی توجہ اوردلچسپی کا مرکز رہا ہے اور خسرو کے پیش کردہ تنقیدی نکات بھلے ہی ابتدائی دور میں لوگوں کے لیے بہت زیادہ دلچسپی اورکشش کا باعث نہ رہے ہوں لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ان کے اس تنقیدی سرمایے کی اہمیت اور ضرورت کو بڑی شدت کے ساتھ محسوس کیا گیا اور باریک بینی کے ساتھ ان نکات کا نہ صرف مطالعہ ومحاسبہ کیا گیا بلکہ ان کو تراجم کی مدد سے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی بھی کو شش کی گئی ہے تاکہ نہ صرف فارسی بلکہ دیگر زبانوں کے ادب کی نوک پلک کو مزید سنوار کر اس کو رعنائی وتابندگی عطا کی جا سکے اور دانشوروں کی جانب سے ان تنقیدی نکات کی افادیت وارزش کا جس جوش وخروش کے ساتھ استقبال کیا گیاہے اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ خسرو نے ایک ایسا عظیم کارنامہ انجام دیاہے جو ہمیشہ ادب کے لیے نافع اوربیش قیمت ثابت ہوگا۔ مولوی حافظ سید نظامی اس کلیات کے دیباچے کی گوناگوں صفات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

’’دیباچہ خود حضرت سلطان الشعرا امیرخسرو طوطی ہند علیہ الرحمتہ نے اپنے دیوان غرۃ الکمال کانثر فارسی تحریر کیا ہے فارسی علم وادب کا عجیب وغریب گنجینہ اور علمی رموز ونکات کا نادر ونایاب خزینہ ہے۔‘‘

( دیباچہ غرۃ الکمال، امیر خسرو مرتب مولوی حافظ سیدسین علی نظامی، مطبع قیصریہ دہلی،ص 1)

غرۃ الکمال‘کا دیباچہ حمد باری تعالیٰ سے شروع ہوتا ہے اوراس کے بعد نعت رسول سے صفحات کو زیب زینت دی گئی ہے اس کے بعد انھوں نے شعر وشاعری سے متعلق اپنے بیش قیمت اور پرارزش نظریات وافکار کو بیان کیا ہے۔ دیوان کے اس دیباچے کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ امیر خسرو نظم اور نثر دونوں ہی کی افادیت اور اہمیت کے قائل ہیں اور منظوم ومنثور دونوں ہی میں ادبی آثار کے پیش کرنے کو سماج و معاشرے کی فلاح کا وسیلہ تصور کرتے ہیں البتہ اتنا ضرور ہے کہ وہ اثر آفرینی، زیبائی اور دلپذیری کے اعتبار سے نثر کے مقابلے نظم کو زیادہ فوقیت اور ترجیح دیتے ہیں اور نظم کی موزونیت اور سحر انگیزی پر وہ ہزارووں منثور جملے قربان کر دینے کو تیار نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نثر کتنی ہی بہترین اور اعلیٰ درجے کی کیوں نہ ہو لیکن نظم کے ہم مرتبہ قرار نہیں دی جا سکتی ہے۔ اب میں یہاں ’غرۃ الکمال‘ سے ایک اقتباس نقل کر رہی ہوں جس میں اس دانشور اعظم نے بتایا ہے کہ نظم حکمت کے میزان کے لیے خالص سونے کی مانند ہوتی ہے اگر نظم کو توڑا جائے تو وہ نثر ہو جاتی ہے لیکن اگر نثر کو توڑا جائے تو وہ بے معنی، بے ہنگم اور بے وقعت ہو جاتی ہے۔ خوانندہ کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت وارزش باقی نہیں رہتی ہے اور وہ سامع کے ذوق پر سخت گراں گزرتی ہے البتہ نظم کو اگر ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیا جائے تو اس کی اہمیت اپنی جگہ مسلم رہتی ہے یعنی وہ قابل فہم ہوتی ہے۔

اس دیوان کے دیباچے کے مطالعے سے ایک اور اہم بات جو نگاہ وفکر کو بے ساختہ اپنی طرف متوجہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ خسرو کے مطابق عربی زبان، فارسی زبان کی بہ نسبت زیادہ وسعت اور کشادگی رکھتی ہے اس میں اپنے خیالات واحساسات کے اظہار کے لیے الفاظ کا ایک وافر ذخیرہ موجودہے جبکہ فارسی زبان الفاظ کے اس خزانے کا براہ راست مقابلہ کرنے سے قاصر ہے کیونکہ عربی کے مقابلے اس زبان میں ذخیرۂ الفاظ بہت کم نظرآتاہے لیکن اگر فارسی شاعری کے حوالے سے بات کی جائے توخسرو عربی کے مقابلے فارسی زبان کی شاعری کو زیادہ ترجیح وتوفق دیتے نظر آتے ہیں اور اس کا سبب وہ یہ بتاتے ہیں کہ اس زبان کے اہل زبان نے اپنے کلام میں وزن اوربحورکا خصوصی طور پر اہتمام والتزام کیا ہے جبکہ اس کے برعکس اہل عرب کے یہاں زحافات کی اجازت کے سبب شعرکا وزن درست نہیں رہ پاتا ہے اوریہی وجہ ہے کہ بعض اوقات عربی زبان کا اعلیٰ سے اعلیٰ اور عمدہ ترین شعر بھی پست اور ناموزوں محسوس ہونے لگتا ہے وہ مزید یہ بھی کہتے ہیں کہ ایرانیوں نے شعروشاعری میں محض قافیے پر اکتفا نہ کرتے ہوئے قافیہ کے ساتھ ساتھ ردیف کوبھی ایجاد کیا ہے جس کے سبب فارسی شعرکی اثر آفرینی، دلکشی اوردلپذیری میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے اور اتنا طول وطویل وقت گزر جانے کے بعد عربی زبان کو یہ بات ابھی تک میسرنہیں ہو سکی ہے کہ وہ اپنی شاعری میں فارسی اشعار کی سی حلاوت وعذوبت پیدا کر سکے، یہاں یہ بات بھی نظر میں رکھنا ضروری ہے کہ امیر خسرو مذہبی اعتبار سے عربی زبان کو بڑا اعلیٰ، معتبر اورپاکیزہ تصورکرتے ہیں اوراس کو اس دنیا کی بہترین زبان قرار دیتے  ہیںلیکن اگر شعری نقطہ نظرسے بات کی جائے تو وہ فارسی زبان کا مرتبہ عربی زبان سے کہیں زیادہ بلنداور اعلیٰ تصورکرتے ہیں اور اس کی حمایت میں مختلف تاویلات بھی پیش کرتے ہیں۔

امیر خسرو نے اپنے اس دیوان کے دیباچے میں اس اہم اور بے حد ضروری نکتے پر بھی سیر حاصل گفتگو کی ہے کہ شعرگوئی معمولی اورعام سا فن نہیں ہے شعر گوئی میں ملکہ حاصل کرنے کے لیے شاعر کوبہت سے سخت اصول وضوابط اورقواعد وبندشوں کے التزام کی ضرورت ہوتی ہے، شعری آئین وضوابط کی پاسداری کے عوض ہی کسی شاعر کے کلام کو ہمہ گیری، شہرت اور آفاقیت حاصل ہوسکتی ہے، ان کے نزدیک ہر کس وناکس شعر کہنے پر قادر نہیں ہوسکتا ہے اس فن کی تنگیوں، گہرائیوں اورمشکلوں سے وہی لوگ عہدہ بر آ ہو سکتے ہیں جو غیر معمولی فہم وفراست اور ذہانت ولیاقت کے مالک ہوں اور جن کا ذہن ارد گرد کی اشیا کی حقیقت تک رسائی پانے میں ذرا بھی دیرنہ لگائے وہ دور رس نگاہ کے مالک ہوںاوران کی فکرونظر دیگر لوگوں کے مقابلے میں زیادہ واضح اور دقیق ہواوریہ خصوصیات ہرفن کارکو حاصل نہیں ہو سکتی ہیں۔

امیر خسرو نے اپنے اس دیباچے میں شاعروں کے متعلق درجات بھی قائم کیے ہیں انھوں نے تین درجوں کا ذکر کیا ہے جن کی مدد سے شاعر کے درست مرتبے اور مقام کا تعین کرنے میں مدد ملتی ہے ان کے مطابق عام طور پر ہمارے اطراف وجوانب میں تین قسم کے شاعروں کو دیکھا جا سکتاہے یا ان کے تین درجے کیے جا سکتے ہیں اس میں سب سے پہلا درجہ ’استاد تمام‘ دوسرا ’استاد نیم تمام‘ تیسرااورآخری درجہ ’سارق‘ کا ہوتا ہے۔                                                                                        

1 استاد تمام:   یعنی وہ شاعر جو کسی خاص طرزیا صنف کا بنیاد گزار ہو یعنی جس نے شاعری کی دنیا میں اپناکوئی مخصوص طرز یا روش ایجاد کی ہو اس پہلے درجے میں حکیم سنائی، انوری، ظہیرفاریابی اور نظامی گنجوی وغیرہ جیسے بزرگ فارسی شاعروں کا نام لیا جا سکتا ہے جن کا اپنا جداگانہ رنگ اور انفرادی آہنگ ہے۔

2  استاد نیم تمام :    یہ شاعر کا دوسرا درجہ ہوتا ہے اس میں شاعر خود تو کسی طرز تازہ کا موجد نہیں ہوتا ہے لیکن وہ کسی مخصوص طرز اور روش کی تقلید وپیروی کرتا ہے اور اسی تقلید میں اپناایک خصوصی مقام اور انفرادی مرتبہ حاصل کر لیتا ہے اور مقلد ہوتے ہوئے بھی فن شعر میںشہرت وناموری حاصل کرلیتاہے۔

3 سارق:    اس درجے میں خسروان شعرا کو رکھتے ہیں جو نہ تو براہ راست کسی طرزتازہ کے موجد ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی شاعرکی تقلید اختیار کرتے ہوئے کمال حاصل کر نے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ اس تیسرے درجے میں نااہل شاعر دوسرے شاعروں کے مضامین کو چراکر اپنا بنا لیتے ہیں سرقہ وتوارد پر ان کی شاعری کی تمام تر بنیاد ہوتی ہے، امیر خسرو سارق شعرا کو سخت ناپسندیدہ تصور کرتے ہیں اوران کو لائق مذمت قرار دیتے ہیں اس کے علاوہ انھوں نے اپنے اس منثوردیباچے میں ایک عالی اور استاد شاعر بننے کے سلسلے میں بھی کئی ضروری بلکہ لازمی شرائط کو بیان کیا ہے اور شاعر کے لیے ان کا التزام بے حد ضروری قرار دیا ہے ان کے مطابق کوئی بھی شاعر اس وقت تک ایک بہترین اور برجستہ شاعرنہیں بن سکتا ہے جب تک کہ اس میں مندرجہ ذیل چار خصوصیات نہ پائی جاتی ہوں:

1        ایک عالی مرتبہ اور آفاقی شاعر ہونے کے لیے پہلی سب سے ضروری شرط یہ ہے کہ شاعر اپنی شاعری کا پرچم ایسے طرز پر نصب کرے جو اس کی اپنی ایجاد کردہ ہو یعنی وہ صرف اندھی تقلید وپیروی پر اکتفا نہ کرے بلکہ اپنا ایک انفرادی رنگ اختیار کرے اورطرز تازہ کے ذریعے عوام وخواص کو اپنا گرویدہ بنا لے اورجہان شاعری میں اپنی مخصوص روش قائم کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کرے تاکہ لوگوں پر اس کی کہی ہوئی باتوں کا خاطر خواہ اثر ہواورقاری شاعر کی عنایت کردہ عینک کی مدد سے گردوپیش کا معائنہ ومحاسبہ کرنے پر مجبور ہو جائے۔

2        ایک استاد اور بزرگ شاعر ہونے کے سلسلے میں انھوں نے دوسری لازمی شرط یہ بتائی ہے کہ شاعر کا ہمہ کلام شیریں، سہل اور سلیس ہو شاعر نے شعر کو واعظوں اور ناصحوںکی طرز پر نہ کہا ہو یعنی شاعر کا کلام شاعروں کی نہج وروش ہی کے مطابق ہونا چاہیے ایسا نہ ہو کہ خالق شعر پند ونصائح کے دفتر قارئین کے سامنے کھول کر رکھ دے جو اذہان کو لطف وانبساط سے ہمکنار کرنے کے بجائے انتشاراور بیزاری کی کیفیت پیدا کر دے اور ان کے قلوب کو مشوش اور ملول بنا دے اس قسم کے شاعر بہت زیادہ شہرت اور مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے ہیں اور نہ ہی ایک شاعرکی حیثیت سے ان کو معاشرے میں کوئی شناخت حاصل ہو پاتی ہے۔

3        امیر خسرو کے مطابق ایک بہترین شاعرہونے کے لیے تیسری اہم اور بنیادی شرط یہ ہے کہ اس کی شاعری زبان وبیان کی لغزشوں اور اغلاط سے پاک ہو یعنی شاعر اس بات کی شعوری کوشش کرے کہ زبان وبیان کی اغلاط اس کے سخن کی رنگینی اور رعنائی کو ضائع نہ کردیں اور نہ ہی وہ سخن کے لفظی ومعنوی حسن کو نظرانداز کرتے ہوئے شعر کہے کیونکہ اگر وہ محتاط نہیں رہے گا تو اس کی کہی ہوئی بات کو عوام وخواص کے درمیان میں کوئی خاص اعتبار واہمیت حاصل نہیں کر سکے گی۔

4        آفاقی شاعر کے لیے چوتھی اورآخری شرط جوامیر خسرو کی طرف سے ضروری قراردی گئی ہے وہ یہ ہے کہ شاعر ادبی خیانت کرنے والا ہرگز بھی نہ ہو یعنی ایک عظیم المرتبت اور قد آور شاعر کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ایک ایسے درزی کی طرح ہرگز بھی کام کرنے کی کوشش نہ کرے جو دیگر لوگوں کا کپڑا چوری کر کے اپنے لیے ایک قبا تیار کر لیتا ہے یعنی اگر شاعر دیگر شعرا کے مضمون چرا کر اپنے کلام کی پیوند کاری کرنے کی کوشش کرتاہے تو وہ کبھی بھی ایک اچھا شاعر قرار نہیں دیا جاسکتا ہے شاعری میں دوسرے شاعر کے مضامین کی چوری کرنا انتہائی ناپسندیدہ اور غیراخلاقی فعل ہے جس سے بچنے کی خصوصی کوشش کرنا چاہیے۔

خسرو دہلوی نے صرف ایک استاد شاعر ہی کی خصوصیات پر روشنی نہیں ڈالی ہے بلکہ ایک شاگرد دیانت دارکے لیے بھی کچھ ضروری شرائط اورحد بندیاں قائم کی ہیں ان کے مطابق جس طرح ایک شاعر میں کچھ خصوصیات کا ہونا لازم ہے اسی طرح ایک شاگرد میں بھی کچھ صفات کا ہوناضروری ہے جن کے بغیر ایک اچھا شاگرد نہیں بنا جا سکتا اورجب کوئی اچھا شاگرد ہی نہ بن سکے تو پھر اس کے اچھا شاعر ہونے کی امید بھی نہیں کی جا سکتی ہے وہ خصوصی طور پر اس بات کی ہدایت کرتے ہیں کہ وہ شخص جو اپنے شعری سفر کا آغاز کررہا ہے وہ مندرجہ بالا نکات پر اپنی پوری سنجیدگی اور متانت کے ساتھ غور وفکر کرے اوران پر عمل پیرابھی ہو، تاکہ شاعر اور اس کے کلام کو مقبولیت اور ہر دل عزیزی حاصل ہو سکے، خسرو نے شاگرد کے بھی تین درجے بیان کیے ہیں جن کی تفصیل ذیل میں دی جارہی ہے۔

1 شاگرد اشارت: خسرو کے مطابق ایک شاگرد کے لیے سب سے پہلی اور اہم چیز یہ ہے کہ وہ اپنے استاد کی اصلاح کوبغورسنے اوراس کے بتائے ہوئے نکات کی روشنی میں اپنے کلام کواغلاط، لغزشوں اورخامیوں سے پاک کرنے کی طرف پوری ادبی سنجیدگی کے ساتھ متوجہ اور راغب ہواس کے علاوہ شاگرد کلام کی دشواریوں اور مشکلوں سے پوری طرح واقفیت رکھتا ہو یعنی وہ یہ نہ سمجھے کہ شعر گوئی کوئی سہل یا آسان کام ہے اور اس کو جیسے مرضی چاہے انجام دیا جا سکتا ہے۔

2 شاگرد عبارت: خسرو کا کہنا ہے کہ ایک شاگرد کو اپنی کامیابی اورکامرانی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ کسی صاحب ہنر وکمال کی پیروی اورتقلید اختیار کرنے کی کوشش توکرے لیکن اپنی انفرادیت کو بھی نظر انداز نہ کرے کیونکہ بغیر کسی استاد شاعر کی روش کی پیروی اورتقلید کے اس میں عمدہ شاعرانہ خصوصیات پیدا نہیں ہوسکتی ہیں ایک ہوش مند شاعرہمیشہ کسی ماہرفن سے اصلاح لینا ضروری سمجھتا ہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے کیونکہ ایسا کیے بغیر کوئی شاگرد کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔

3 شاگرد غارت گر: خسرو کا مانناہے کہ ایک اچھے اور ذی فہم شاگرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے استاد کے اشعار کی نقب زنی کرے یعنی شاگرد کو چاہیے کہ وہ سیندھ لگا کر بیٹھا رہے اور جیسے ہی کوئی مناسب موقع پائے اپنے استاد کے سرمایے کو، مراد اس کے کلام کو چرا کر اپنا بنا لینے کا کوئی موقع ضائع نہ کرے کیونکہ یہ اس کا حق ہے اور وہ اس طرف سے غفلت اختیار نہ کرے تاکہ اس کو شعر گوئی میں نمایاں اور انفرادی مقام حاصل ہو سکے۔                           

امیرخسرو صرف دوسرے شاعروں کے کلام کے متعلق ہی شعروشاعری کے اصول وضوابط متعین نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ ایک ہوش مند، دیانتداراور ذی فہم ادبی ناقد کی حیثیت سے اپنے کلام کے متعلق بھی اپنی بیش قیمت آرا  رقم کرتے ہیں ان کو اپنی فارسی دانی اور شعرگوئی میں اپنے اعلیٰ درجے اور بلند مرتبے کا بخوبی احساس تھا وہ اس حقیقت سے بھی با خبر تھے کہ معاصرین میں کوئی ان کا مد مقابل نہیں ہے اور یہی وہ احساس ہے جو کہ ایران کے بزرگ ترین شاعرنظامی گنجوی سے براہ راست نبرد آزما ہونے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے حالانکہ خسرو نے اکثر وبیشتر مقامات پرخود کو نظامی کے مقلدین میںشمار کیا ہے با این ہمہ وہ اپنے کلام کی عظمت واہمیت کو نظامی کے کلام پر ترجیح وتفوق دیتے ہوئے کہتے ہیں       ؎

کوکبہ خسرویم شد بلند

زلزلہ در گور نظامی فکند

نظامی سے ہم سری کرنے والا ہمارا یہ شاعراپنی تمام تر شعری عظمت کے باوجود بھی خود کو مرتبہ استادی کے اہل نہیں پاتا اور اپنے کلام میں موجود اغلاط ولغزشوں کا اعتراف کرتا ہے اور اپنے آپ کو شاگرد یا طالب علم کے مرتبے پر رکھنا زیادہ پسند کرتا ہے اور خود کو غزل گوئی میں سعدی شیرازی، مثنوی نگاری میں نظامی گنجوی، قصائد میں کمال اسماعیل اصفہانی، پندوموعظت میں حکیم سنائی اور خاقانی شیروانی وغیرہ جیسے عظیم ایرانی شاعروں کا مقلد تصور کرتا ہے یہ ان کی ادبی دیانت داری اور حقیقت پسندی ہی ہے جس کی وجہ سے وہ ببانگ دہل اپنی شاعری میں موجود لغزشوں اور کوتاہیوںکا اعتراف کرتے ہیں اور خود کو اس زبان وادب کا ایک بہت ہی معمولی اورادنیٰ سا طالب علم سمجھتے ہیںاوربارہا اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ سخن وری کے میدان میں ان کو کبھی بھی دعوی یکتائی نہیں رہا ہے بلکہ وہ تو اس مرحلے میں خود کو ہر مقام پر ناتمام اور نامکمل پاتے ہیں ملاحظہ کیجیے ان کا ایک شعر جس میں وہ اپنی ناتمامی کا اقرار بڑے ہی پرشکوہ انداز میں کرتے ہوئے کہتے ہیں         ؎

نہ دھم از انصاف خود اینجا تمام

نا تمامم  ناتمامم نا تمام

یہ امیر خسروکی بے پناہ ادبی دیانت اور صداقت ہی توہے کہ جس کے سبب وہ اپنے کلام کے متعلق بھی بے لاگ رائے دیتے ہیں حالانکہ خود اپنے کلام کے متعلق غیرجانبدارانہ رائے پیش کرنا ایک دشوار ترین امر ہے لیکن خسرو ایک ناقد صادق کی طرح اپنے کلام پر اظہار نظر کر تے ہیں اور اپنے مخالفین یا معترضین کو اس بات کا موقع نہیں دیتے کہ وہ ان کے کلام پر ایراد وگرفت کرکے انھیں بدنام کرنے کی کوشش کریں اس سلسلے میں علامہ شبلی نعمانی جیسے بڑے ناقد ان کی اس ناقدانہ صداقت ودیانت داری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:                                                                                

’’امیر کے حالات شاعری میں یہ سب سے عجیب تر واقعہ ہے کہ وہ اپنے کلام پر آپ ریویو کرتے ہیں اور ایسی بے لاگ رائے دیتے ہیں کہ ان کا دشمن سے دشمن بھی ایسی آزادانہ رائے نہیں دے سکتا۔‘‘

(شعرالعجم حصہ دوم، علامہ شبلی نعمانی، معارف پریس، شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ،  2010، ص119)

امیر خسرو نے اپنے اس دیباچے میں نقد شعر کے ساتھ ساتھ فہم شعر کے متعلق بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور فہم شعر کے لیے بھی کئی اہم اور ضروری اصول وقواعد مقرر کیے ہیں جن کے بغیر سامع ایک اچھے شعر کی نہ توداد وتحسین دے سکتا ہے اور نہ ہی کسی عمدہ شعر سے لطف وانبساط حاصل کر سکتا ہے کیونکہ شعر وشاعری کے تقاضوں کو پورا کرنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں ہے انھوں نے دیباچے میں’صاحب طبع‘ اور ’طبع وقاد‘ کی صفت شاعر اور قاری دونوں ہی کے لیے استعمال کی ہے یعنی خسرو کی نظر میں شعر گوئی اور شعر فہمی دونوں کے لیے طبع موزوں اور مناسبت مزاج کوضروری قرار دیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ شاعراور قاری دونوں ہی کا اعلیٰ صلاحیتوں اور نیک صفات کا حامل ہونا ضروری ہے کیونکہ ان کے بغیرشعروشاعری کا اصل مقصد حاصل نہیں ہوسکتا ہے، انھوں نے نا اہلوں کی شدید مذمت کی ہے اور ان کو شعر وادب کی خوبصورت سلطنت کے لیے رہزن کی مانند قرار دیا ہے۔

مختصراً یہ کہا جا سکتاہے کہ امیر خسرو کا فن نقد سے متعلق جوگہرا شعور اور ادراک ہمیں ان کی اس کلیات کے اس منثور دیباچے میں نظر آتاہے وہ عصر حاضر میں اس فن کے اتنا زیادہ ترقی کر لینے کے باجود بھی ناقدین ادب کے لیے مورد استفادہ اور قابل تقلید ہے ان کی تحریروں کے مطالعے سے اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا نظریہ نقد فن اپنے ابتدائی مراحل میں بھی بہت زیادہ روشن، واضح اور پختہ تھا، ان کے ذہن میں شعرو شاعری کی نقد و تنقید سے متعلق جو بھی نکات وجہات تھے وہ بہت مستحکم اور بالیدہ تھے جن کا ان کی طرف سے برملا اظہار بھی کیا گیا ہے ان کا نظریہ نقد فنی تقاضوں اور مطالبات کو بھی نظر انداز نہیں کرتا اور اعلیٰ حکمت و حقائق سے لے کر اپنے گر دوپیش کے سیاسی و تہذیبی وقائع تک کو بھی کائناتی اور تقدیری معاملات کے پس منظر میں اپنے نازک اور باریک خیالات و عمدہ احساسات کا جزو بنا لیتاہے ان کی یہ ناقدانہ قابلیت اور انتقادی بصیرت بلا شبہ ان کی شخصیت کا ایک ایسا پہلو ہے جس کی نمووپرداخت اس شخصیت عالی نے محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً اپنے خون جگر سے کی ہے اور یہی سبب ہے کہ آج صدیاں گزر جانے کے بعد بھی ان کے افکار ونکات میں کسی قسم کی کوئی کہنگی وفرسودگی کا معمولی سا شائبہ بھی نہیں گزرتا ہے اور دورِ حاضر کے فارسی ادب کے ناقدین کے لیے بھی ان کے یہ انتقادی نکات اتنے ہی مورد تفکر اور سزاوار تقلید ہیں جتنے کہ خود ان کے اپنے عہد میں رہے تھے۔    


 

Dr. Neelofar Hafeez

Asst Professor, Depf of Persian

and Arabi, Allahabad University

Allahabad - 211002 (UP)

Mob.: 7500984444

 

 


14/1/22

علامہ شبلی نعمانی کے نظریہ تعلیم کی انفرادیت - مضمون نگار : آفتاب عالم اعظمی

 



غدر کی تباہی اور ہولناکی سے ہندوستانی مسلمانوں نے ماضی کی عظمت رفتہ کو نہ صرف یاد کیا بلکہ ان کو اپنے حال ومستقبل کے بارے میں ازسرِ نو سوچنے اور جائزہ لینے کا موقع فراہم کردیا۔ان ہی حالات میں چند تاریخ ساز شخصیات قوم میں پیدا ہوئیں جنھوں نے احسا س کمتری کے شکار مسلمانوں میں تعلیمی بیداری کی ایک نئی روح پھونکی اور قوم مسلم کو ذلت ورسوائی سے نکال کر ان کی زندگی کو وہ وقار بخشا جو کسی حکیم کے نسخہ کیمیا سے کم نہ تھا۔

ان میں سر سید احمد خان،مولانا محمد قاسم نانوتوی، اور علامہ شبلی نعمانی (4 جون 1857- 18 نومبر 1914)کی شخصیت بڑی نمایاں رہی ہے ان سبھی مفکرین تعلیم نے مسلمانوں کی ترقی وکامیابی کا راز تعلیم کو بتایا اور ہر ایک نے اپنے اپنے طریقے سے ان کے روشن مستقبل کا حل بھی پیش کیا۔سرسید نے مسلمانوں کے لیے جدید تعلیم کی وکالت کی اورہندستانی مسلمانوں میںجدید تعلیم کو عام کرنے کے لیے اپنی زندگی وقف کردی اور مشن کے طور پر کام کیا۔ اس کے بہتر نتائج آئے جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔مسلمانوں کا ایک طبقہ قدیم اور دینی تعلیم کا حامی تھا جس کی قیادت مولانا محمدقاسم نانوتوی اور دیگر علما کررہے تھے وہ دارالعلوم دیو بندکی شکل میں ملت کے سامنے ہے لیکن شبلی نعمانی ایک ایسے مفکر تعلیم تھے جنھوں نے مسلمانوں کی ترقی وکامیابی کے لیے قدیم وجدید تعلیم کو یکساں طور پر مفید اور کارآمد بتایا ہے۔ مولانا سید سلیمان ندوی ’حیات شبلی‘ کے دیباچے میں لکھتے ہیں :

’’ (مولانا شبلی) قدیم وجدید کے ایسے سنگم بنے جس میں دونوں دریاؤں کے دھارے آکر مل گئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہمارے قدیم اورمذہبی علوم کے عالم بھی تھے اور جدید علوم کے بہت سے آرا وخیالات سے واقف بھی تھے۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ ہی محقق فن بھی تھے،ادیب بھی تھے،شاعر بھی تھے،انشا پرداز بھی تھے،خطیب بھی تھے،مورخ بھی تھے، متکلم بھی تھے، مفکر بھی تھے،مصلح بھی تھے،سیاسی بھی تھے، ماہر تعلیم بھی تھے اور نئے زمانے کے اقتضا آت اور مطالبات کے مقابلہ میں بہت سی باتوں میں انقلابی بھی تھے۔1

شبلی نعمانی نے نہ توسرسید کی جدید تعلیم کی مخالفت کی اور نہ ہی دار العلوم دیوبند کی۔ صرف قدیم ودینی تعلیم کی موافقت کی بلکہ دونوں طرح کی تعلیم کے حمایتی تھے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے شبلی نعمانی نے ندوۃ العلما لکھنؤ کا رخ کیا اور ارباب ندوۃ العلما کو نصاب میں اصلاح کا مشورہ دیا لیکن ان کا یہ مشورہ قابل اعتنا نہ سمجھا گیا لیکن جب وہ 1905 میں معتمد تعلیم کی حیثیت سے ندوۃ العلما میں تشریف لائے تو سب سے پہلا کا م جو انھوں نے شروع کیا وہ اصلاح نصاب کا تھا اور ایسا نصاب تعلیم مرتب کیا جو قدیم وجدید تعلیم کا سنگم ہے۔ شبلی نعمانی لکھتے ہیں :

’’ ہم نے بارہا کہا ہے اور اب پھر کہتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کے لیے نہ صرف انگریزی مدرسوں کی تعلیم کافی ہے نہ قدیم عربی مدرسوں کی،ہمارے درد کا علاج ایک معجون مرکب میں ہے جس کا ایک جز مشرقی اور دوسرا مغربی ہے۔‘‘2

شبلی نعمانی کوتعلیم وتربیت پرنصاب تعلیم تیار کرنے کا  بڑا تجربہ تھا۔قیام علی گڑھ میں سرسید کی فرمائش پر ’تاریخ بدئ الاسلام‘ مرتب کی جو وہاں کے نصاب میں شامل کی گئی۔ الہ آباد یونیورسٹی کی درخواست پر فارسی امتحانات کے لیے بی اے تک کا نصاب تیار کیا اور اس درمیان ریاست حیدر آباد کی مشرقی یونیورسٹی کے نصاب کا جائزہ بھی لیا اور اصلاح کے لیے چند نکات پر مشتمل اپنی سفارشات پیش کی۔ جدید تعلیم کے لیے خود انھوں نے ایک اسکول 2جون1883 کو’ نیشنل اسکول‘ کے نام سے قائم کیا۔

شبلی نعمانی کم وبیش 24 سال تک تعلیم وتربیت سے منسلک رہے۔ 1883 تا 1898 علی گڑھ کالج میں پروفیسر کے عہدہ پر تدریسی خدمت انجام دی اور 1905 تا 1913 ندوۃ العلما لکھنؤ میں معتمد تعلیم کی حیثیت سے فائز رہے۔ اس طویل مدت میں درس وتدریس کے ساتھ ساتھ انھوں نے تعلیم وتربیت کو بہتر کرنے کے لیے عملی جد و جہد کی اور تعلیم وتربیت اور نصاب تعلیم پر مختلف زاویے سے تحقیقی اور علمی بحث کا آغاز کیا۔اس کی اہمیت وافادیت پر متعدد مضامین لکھ کر اپنے نظریہ تعلیم وطریقہ تعلیم کی وضاحت کی۔ شبلی نعمانی کا پہلا تعلیمی و علمی مقالہ ’مسلمانوں کی گذشتہ تعلیم‘ ہے جس کو انھوں نے 27دسمبر 1887 کو لکھنؤ کی مسلم ایجوکیشنل کانفرنس میں پیش کیااور فن کی تعلیم پر زور دیا۔ اس مقالے کی اہمیت وافادیت عہد نو میں اتنی ہی مسلم ہے جتنی ایک صدی قبل تھی۔ تعلیم وتربیت کے نظام کا معائنہ کرنے کے لیے شبلی نعمانی نے بلاد اسلامیہ، روم، مصر،  شام اور قسطنطنیہ وغیرہ کے ممالک کا سفر کیا اوروہاں کے تعلیمی نظام کا مشاہدہ کیا۔خاص طور سے قسطنطنیہ کے تعلیمی نظام کا ذکرسرسید کو ایک خط میں کیا:

’’ افسوس ہے کہ عربی تعلیم کا پیمانہ یہاں بہت ہی چھوٹا ہے اور جو قدیم طریقہ تعلیم تھا،  اس میں یورپ کا ذرا بھی پر تو نہیں۔جدید تعلیم وسعت کے ساتھ ہے لیکن دونوں کے حدود جدا رکھے گئے ہیں اور جب تک یہ دونوں ڈانڈہ نہ ملیں گے اصلی ترقی نہ ہو سکے گی،یہی کمی تو ہمارے ملک میں ہے جس کا رونا ہے۔‘‘3

شبلی نعمانی اگرچہ جدید تعلیم کو پسند کرتے تھے لیکن وہ قدیم تعلیم کے سخت حامی بھی تھے ان کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو اپنی قومیت ومذہبیت کی شناخت کو زندہ اور قائم رکھنے کے لیے قدیم تعلیم انتہائی ضروری ہے لیکن وہ اس کے نقائص سے بھی بخوبی واقف تھے اور کسی حال میں اسے قبول کرنے کے لیے راضی نہ تھے۔وہ علما کے جمود سے نالاں تھے وہ ایسے علما تیار کرنا چاہتے تھے جو دینی معلومات کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی فن میںماہر ہو اور تقاضائے زمانہ کے ساتھ ساتھ جدید علوم سے بھی باخبر اور واقف ہو بلکہ اس کو فن پر دسترس حاصل ہو ۔

شبلی نعمانی نے مرد و خواتین کو وہ تمام علوم حاصل کرنے کی وکالت کی ہے اور پردے کا اہتمام ضروری بتایا ہے لیکن مخلوط تعلیم کے سخت مخالفت بھی تھے بلکہ ان کا خیال تھا کہ ان کی تعلیم کا کیمپس بھی علاحدہ ہو۔تعلیم کے معاملے میں لڑکے اور لڑکیوں میں کسی طرح کی تفریق کے خلاف تھے اور یہاں تک کہ نصاب بھی دونوں کے لیے یکساں ہو۔ دونوں کے لیے الگ الگ نصاب اور کورس کے سخت مخالف تھے۔شبلی نعمانی نے ایک خطاب میں فرمایا:

’’عورتوں کو اس حد تک تعلیم دی جاسکتی ہے جس حد تک مردوں کو،اس لیے مجھے اس خیال سے اتفاق نہیں کہ لڑکیوں کے لیے الگ کورس ہو اور لڑکوں کے لیے الگ، میرے خیال میں دونوں کا نصاب تعلیم یکساں ہونا چاہیے۔ 5

شبلی نعمانی نے دونوں طرح کے ادارے اور وہاں کے نصاب تعلیم کا جائزہ لیا اور خامیوں کو دور کرنے کے لیے نہ صرف اصلاح کا مشورہ دیا بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کے زوال کا اصل سبب بھی دریافت کیا اور بتایا کہ جدید تعلیم کا نقص یہ ہے کہ اس میں مذہبی اور قدیم تعلیم کا فقدان ہے اور قدیم تعلیم میں کمی یہ ہے کہ اس میں عصری علوم داخل نصاب نہیں جومعاشی ضرورت کو پورا کرسکے۔ ان اسکولوں  میں مذہبی علوم پڑھائے جانے کو ضروری خیال کرتے ہیں۔ شبلی نعمانی لکھتے ہیں:

’’انگریزی تعلیم یافتہ لوگوں سے ہم کو مذہبی خدمات یعنی امامت،وعظ، افتا کا کام لینا نہیں ہے بلکہ غرض یہ ہے کہ وہ خود بقدر ضرورت مسائل اسلام اور تاریخ اسلام سے واقف ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔کالجوں میں صرف کتابی تعلیم سے مذہبی اثر نہیں پیدا ہو سکتا بلکہ اس بات کی ضرورت ہے کہ طلبہ کے چاروں طرف مذہبی عظمت کی تصویر نظر آئے۔ دینیات کے نتائج امتحان کوانگریزی تعلیم کے نتائج کی طرح لازمی قرار دیا جائے۔‘‘6

 شبلی نعمانی نے قدیم وجدید تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پر بھی بہت زور دیا ہے۔ان کا خیا ل ہے کہ اگر ہم ہر جگہ اسلامی مدارس قائم نہیں کر سکتے تو بورڈنگ ہاؤس ضرور قائم کریں۔طلبہ کو اپنی نگرانی اور تربیت میں رکھیں کیوں کہ ان کی تربیت سے بہت کچھ مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔تربیت سے طلبہ میں ایک طرح کی خود اعتمادی پیدا ہوگی جس کے اثرات سے ہم ایک بہتر معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔اس کا عملی تجربہ بذات خود ندوۃ العلما لکھنؤ کے معتمدی کے دوران کیا۔اس تربیت کے نتیجے میں سید سلیمان ندوی،عبد السلام ندوی اور عبد الباری ندوی جیسی شہرہ آفاق شخصیت کی پود تیارہوئی جو اپنے آپ میں بحر العلو م کی حیثیت رکھتے تھے۔شبلی نعمانی کے ان ہی شاگردوں نے ان کے باقی ماندہ تعلیمی وعلمی کام اور مشن کو آگے بڑھایا اوران ہی کی محنت اور لگن سے شبلی نعمانی کی شخصیت ہند وپاک اور بلاد اسلامیہ میں بلند مقام حاصل کر سکی۔

شبلی نعمانی ہر علاحدہ علاحدہ  مدرسہ اور کالج میں طلبہ کے لیے یکساں یونیفارم کے بھی قائل تھے اور ان کو خاص خاص موقعوں پر پہننا ضروری سمجھتے تھے ان کا خیال تھا کہ اس سے طلبہ میں سلیقہ مندی،نفاست، اور انفرادی شناخت قائم ہوتی ہے نیز اس سے طلبہ میں مساوات اور قومیت کی روح ابھر کے سامنے آتی ہے۔ مختلف مدارس کے معائنہ کے بعدشبلی نعمانی لکھتے ہیں:

’’ہمارے قومی کالج میں جو چیز سب سے زیادہ ضروری اور نہایت ضروری ہے وہ یہ کہ تمام طالب علموں کا لباس،وضع،خوراک،مکان،فرنیچر، کلیۃً ایک کردیا جائے اور جو مختلف سطحیں آج کالج میں قائم ہیں بالکل مٹادی جائیں، اگر یہ نہیں تو کالج میں قومیت کی روح نہیں۔‘‘7

شبلی نعمانی نے نصاب میں انگریزی،ہندی اور سنسکرت، زبان بھی شامل کرنے کی حمایت کی ہے۔

مسلمانوں میں بھی طبقاتی عدم مساوات کافی بڑھا ہوا تھا جس سے صرف خاص خاص لوگ ہی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو پاتے تھے۔مفکرین تعلیم میںشبلی نعمانی ہی ایک ایسے شخص تھے جنھوں نے بلاتفریق مذہب وملت، امیر وغریب سب کے لیے یکساں تعلیم کی آواز بلند کی اور تعلیم کو اس کا بنیادی حق قرار دیا۔اس کی حمایت میں شبلی نعمانی لکھتے ہیں:

’’ہمارے نزدیک دنیوی تعلیم (انگریزی تعلیم)کو اس قدر پھیلانا چاہئے کہ بچہ بچہ تعلیم یافتہ ہو جائے لیکن ساتھ ہی ہم کو مذہب کی حفاظت پر بھی اپنی تمام قوت صرف کردینی چاہیے۔‘‘8

ندوۃ العما لکھنؤ میں قیام کے دوران شبلی نعمانی نے قدیم وجدید تعلیم میں یکسانیت اور امتزاج پیدا کیا۔ نصاب تعلیم میں جو کتابیں یا مضامین قابل اصلاح تھیں اس کی اصلاح تقاضائے حال کے مطابق کی۔جدید عربی، انگریزی،سنسکرت، اور ہندی زبان پر عبور حاصل کرنے کے لیے نئے نئے شعبہ جات قائم کیے۔طلبہ کی اصلاح وتربیت کے لیے بورڈنگ ہاؤس کا نظام بنایا۔فن پر مکمل دسترس حاصل کرنے کے لیے لکچر کا اہتمام کیا۔ متعدد مضامین اور مقالات کے ذریعے مسلمانوں کو دونوں طرح کی تعلیم کے حصول کی طرف راغب کیا اور یہ بتایا کہ مسلمانوں کی ترقی وکامیابی کا راز ان ہی دونوں تعلیم میں ہے۔ان میں سے اگر کسی ایک کی طرف سے بھی عدم توجہی برتی جائے گی تو وہ تباہ کن ہوگی اوراس سے نہ صرف ان کے عقائد متزلزل ہو ں گے بلکہ وہ تقاضائے حال کا مقابلہ کرنے میں ناکام ثابت ہوں گے۔

’’میں نہایت مضبوطی سے اس پر قائم ہوں،مسلمان مغربی علوم میں گوترقی کے کسی رتبے تک پہنچ جائیں لیکن جب تک ان میں مشرقی تعلیم کا اثر نہ ہو ان کی ترقی مسلمانوں کی ترقی نہیں کہی جاسکتی‘‘9

ارباب ندوۃ العلما لکھنؤ کے درمیان اختلافات بڑھ جانے کے سبب شبلی نعمانی کو معتمد تعلیم کے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔اس کے بعدوہ اپنے آبائی وطن اعظم گڑھ آگئے اورخود کے قائم کردہ’نیشنل اسکول‘کی سرپرستی کی جو اس وقت تک ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ مدرسۃ الاصلاح جس کی سرپرستی ان کو پہلے سے حاصل تھی۔

مختصر یہ کہ تعلیم وتربیت بشمول طریقہ تدریس اور نصاب تعلیم سے متعلق کوئی ایسا شعبہ نہیں جس میں شبلی نعمانی نے اپنی ذاتی رائے نہ دی ہو اور اصلاح کی جدو جہد نہ کی ہو،چاہے وہ علی گڑھ میں سر سید کے رفیق رہے ہوں یا وہ ندوۃ العلما لکھنؤ میں معتمد تعلیم کے عہدے پر فائز رہے ہوں۔وہ ایک طویل مدت تک درس وتدریس سے وابستہ رہے ہیں۔اس دوران انھوں نے تعلیم وتربیت کے مختلف مراحل کا مشاہدہ کیااور کالج و مدارس کے نصاب تعلیم کا مختلف زاویے سے جائزہ لیا ہے اور اس اہم موضوع پر علمی مباحث کا آغاز کیا۔ تحقیق وتجزیہ کے بعد تعلیم وتربیت اورطریقہ تعلیم کی افادیت ونقائص کی نشاندہی کی اور اپنے مضامین اور مقالات کے ذریعے اصلاح کی تجاویز پیش کی۔قوم کی بھلائی وترقی کے لیے نیشنل اسکول،مدرسۃ الاصلاح اور دارالمصنّفین کی شکل میں تعلیم وتربیت کی ایک ایسی عمارت تعمیر کردی جہاں شبلی نعمانی کے نظریہ تعلیم کی انفرادیت اس کی بقا تک قائم رہے گی۔

حوالہ جات

1      حیات شبلی؍سید سلیمان ندوی؍دار المصنّفین شبلی اکیڈمی،اعظم گڑھ، 2015، ص 39-40

2      مقالات شبلی جلد 3؍مرتب سید سلیمان ندوی؍مطبع معارف،اعظم گڑھ1955، ص 163

3      مکاتیب شبلی جلد ۱ول؍مرتب سید سلیمان ندوی، دارلمصنّفین شبلی اکیڈمی،اعظم گڑھ 2010، ص 16

4      خطبات شبلی مرتب سید سلیمان ندوی، دار المصنّفین شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ 2008، ص 87

5      ایضاً، ص 167

6      مقالات شبلی جلد 3 مرتب سید سلیمان ندوی، مطبع معارف،اعظم گڑھ 1955، ص 141

7      سفر نامہ روم ومصر وشام؍شبلی نعمانی ،دارلمصنّفین شبلی اکیڈمی،اعظم گڑھ2015، ص 62

8      مقالات شبلی جلد8، مرتب سید سلیمان ندوی،مطبع معارف،اعظم گڑھ 1972، ص 4

9      سفر نامہ روم ومصر وشام؍شبلی نعمانی، دارلمصنّفین شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ 2015، ص 165

 

Aftab Alam Azmi

M M K Degree College

Mangrawan

Azamgarh - 276205 (UP)

Mob.: 9452411642

 

ماہنامہ اردو دنیا،نومبر 2021

 


اکبر اور کمال اکبر - مضمون نگار: محمد فیصل خان

 



 

اکبرالہ آبادی (16 نومبر 1846- 15 فروری 1921) کی شاعری ان کے عہد وماحول کی آئینہ دار ہے، اکبر نے اس عہد میں آنکھ کھولی جو زمانہ سیاسی سماجی، اقتصادی، تہذیبی اور ثقافتی لحاظ سے بڑے انتشار کا تھا۔یہ وہی دور ہے جب انگریزوں نے ہندوستان پر پوری طرح قبضہ جمالیا تھا اور آہستہ آہستہ اپنے اقتدار کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کوشاں تھے، ایسی کرب ناک صورتِ حال میں ہندوستانی عوام خود کو بے کس اور لاچار محسوس کررہے تھے، جس کی وجہ سے انھیں مختلف قسم سے تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغربی تہذیب ہندوستانیوں کے اوپر تھوپی جانے لگی اور مشرقی تہذیب سے لوگوں کو بیزار کیا جانے لگا،اس سے ہندوستانیوں کے عادات و اطوار میں تبدیلی رونما ہونے لگی۔گویا یہ نئی اور پرانی دونوں تہذیبوں کے آپس میں ٹکراجانے کا دور تھا، لوگ تیزی کے ساتھ مغربیت کو اپنا رہے تھے اور مشرقیت سے ان کی بے اعتنائی بڑھتی جارہی تھی۔

بقول کلیم الدین احمد:

’’یہ وہ زمانہ تھا جب دو مختلف تمدنوں میں زبردست تصادم ہوا تھا اور اس تصادم کا نتیجہ یہ تھا کہ اسلامی تمدن کے شیرازے بکھرنے لگے تھے اور انگریزی تمدن اپنی دل فریبی کا سکّہ لوگوں پر جما رہا تھا۔اپنے محاسن فراموش ہو چلے تھے اور حسنِ غیر ہی بھلا معلوم ہوتا تھا۔‘‘

(اردو شاعری پر ایک نظر،حصہ دوم ص75)

ایسے نازک اور پر خطر دور میں سر سید احمد خاں اور راجا رام موہن رائے نے عوام کی اصلاح کے لیے جو کوششیں کیں انھیں ہر گز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اسی زمانے میں ہمارے شاعروں نے بھی مختلف انداز کو اپناتے ہوئے قوم کی اصلاح کا ذمہ اٹھایا۔ان میں خصوصی طور پر الطاف حسین حالی، علامہ اقبال اور اکبرالہ آبادی قابل ذکر ہیں جنھوں نے معاشرتی اور سماجی خامیوں کی نہ صرف نشان دہی کی بلکہ ان کی اصلاح کی بھر پور کوششیں بھی کیں۔مذکورہ تینوں شاعروں کا مقصد تو ایک ہی تھا لیکن طریقۂ کار ایک دوسرے سے جدا گانہ اور مختلف تھا، حالی نے اپنی نظموں کے ذریعے پندونصائح کے انبار لگائے اور واعظانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے قوم کی اصلاح کرنی چاہی، اس سے ہٹ کر اقبال نے اپنی نظموں اور غزلوں کے ذریعے خودی کا درس دیتے ہوئے زمانے کی آنکھ سے آنکھ ملانے کی ہمت،طاقت اور قوت لوگوں میں پیدا کرنے کی کوشش کی،ان دونوں شاعروں کے برعکس اکبرالہ آبادی نے قوم کی درستگی کے لیے بالکل نئی راہ چن لی، اور طنزومزاح کا لحاف اپنی شاعری پر ڈالتے ہوئے، معاشرے کی برائیوں کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی،اورمغرب کی اندھی تقلید کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے قوم کی اصلاح کا بیڑا اٹھا لیا اور نئی تہذیب کے بجائے پرانی تہذیب کے پارکھ بنے       ؎

مسلمانو بتاؤ تو تمھیں اپنی خبر کچھ ہے

تمہارے کیا مدارج رہ گئے ان پر نظر کچھ ہے

اگر کچھ ہے تو سوچو دل میں بھی اس کا اثر کچھ ہے

حریفوں کی تعّلی باعثِ سوزِ جگر کچھ ہے

تمھیں معلوم ہے کچھ رہ گئے ہو کیا سے کیا ہو کر

کدھر آنکلے ہو راہِ ترقی سے جدا ہو کر

اکبر الہ آبادی کے ذہن ودل میں یہ چیز پیوست ہو چکی تھی کہ ہم اپنی روایتی چیزوں کو مضبوطی سے پکڑے رہیں،اور اس کے برخلاف ہر چیز کو جوانھیں نئی فکر اور نئی قدروں کی طرف ابھارے اسے قبول نہ کریں۔وہ بھی شبلی کی طرح اپنی روایتی چیزوں کے قائل ہیں اور کسی بھی جدید چیزوں کو اپنانے کے لیے تیار نہیں،اکبر چھوٹی سے چھوٹی اور معمولی سے معمولی باتوں کو نظر انداز نہیں کرتے اسی لیے ان کی شاعری اپنے زمانے کی جیتی جاگتی تصویر ہے،اور اپنے عہد کی کش مکش کو پوری طرح اجاگرکرتی ہے۔

اکبر الہ آبادی کی پیدائش 16نومبر1846 کو الہ آباد کی تحصیل بارہ میں ہوئی۔اکبر کے والد کا نام’تفضل حسین‘ تھا۔اکبر کی پیدائش کے بعد ان کا خاندان بِہار چلا گیا اور یہیںسے اکبر کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔دینی تعلیم  کے علاوہ عربی،فارسی اور اردو زبان بہت جلد سیکھ لی، ریاضی اپنے والد سے  پڑھی گویا ریاضی کی مہارت وراثت میں ملی۔

اکبر کے دادا ’سید فضل الدین‘ 1855 میں بہار سے واپس الہ آباد آئے تو ان کے ساتھ خاندان کے باقی افراد بھی آگئے اور یہیں ان کا مستقل قیام رہا۔اکبر دس سال کے تھے کہ ان کا داخلہ جمنامشن اسکول میں کرادیا گیا جہاں انھوں نے دلچسپی سے پڑھائی شروع ہی کی تھی کہ غدر کے المناک سانحے نے قدغن لگادیا، اس کے بعد اکبر کے والد نے ان کواپنے ایک دوست کے ذریعے سے عدالتی اور قانونی تعلیم دلائی۔اکبر کی پہلی شادی سترہ سال کی عمر میں ہوئی لیکن بعض وجوہات کی بنا پر1876 میں دوسری شادی ’فاطمہ صغریٰ‘ سے کرلی جو ان کی زندگی میں نمایاں تبدیلی کا باعث بنی۔

اکبر نے 1866 میں وکالت کا امتحان پاس کرکے باقاعدہ وکالت شروع کی،اس کے بعد دن رات محنت کرکے اکبر نے اپنی انگریزی لیاقت میں اضافہ کیا اور قانونی نقطوں کو سمجھنے اور بیان کرنے کے قابل ہوگئے۔ 1873 میں ہائی کورٹ میں ملازمت شروع کردی اب ان کی شہرت دوردراز علاقوں تک پھیل گئی۔1880 میں منصف کی حیثیت سے مرزا پور رہے پھر سر سید کے توسط سے ان کا تبادلہ علی گڑھ ہو گیا۔1892 میں ترقی کرکے سیشن جج ہوگئے یہ پہلے ہندوستانی تھے جو اس عہدے پر پہنچے جس کی بنا پر اسی سال انھیں’خان بہادر‘کے خطاب سے سرفراز کیا گیا۔اکبرکو ہائی کورٹ کا جج بنانے کی بھی بات کی گئی تھی مگرصحت کی خرابی اور کمزور بینائی کے سبب انھوں نے یہ عہدہ قبول کرنے سے انکار کردیا اور1903 میںہی قبل از وقت پنشن لے کر ملازمت تر ک کردی اور 9ستمبر1921 کو بروز جمعہ چند روزعلالت کے بعد اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔

اکبر الہ آبادی کو بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا، گیارہ برس کی عمر میں واقعۂ غدر سے اپنی شاعری کی شروعات کی اور کلام پر اصلاح استاد ’غلام حسین وحید‘ سے لی جو ’آتش‘کے شاگرد تھے۔ اکبر نے اپنی 76سالہ زندگی میںمختلف نشیب وفراز کا سامنا کرتے ہوئے طنز ومزاح کے ذریعے قوم کو صحیح راہ پر لانے کی کوشش کی اور عمر کے آخری لمحے تک یہی جذبہ باقی رہا۔جس کی نظیر چار جلدوں میں موجوداکبر کے کلیات میں بخوبی دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کلیات میں موجود کلام نے آج ایک صدی گزر جانے کے باوجود اکبر کو اسی آب وتاب کے ساتھ ہمارے درمیان  زندہ رکھا ہے اور آگے بھی اسی آن بان وشان کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے وہ بیان کرنے کی کوشش کی جو ان کے دل پر گزری،ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ جگ بیتی نہیں بلکہ آپ بیتی ہے         ؎

شعر اکبر میں کوئی کشف وکرامات نہیں

دل پہ گزری نہ ہو جو ایسی کوئی بات نہیں

اکبر نے شاعری شروع کرتے ہی اپنی آنکھوں سے ہندوستان کی شکست وریخت دیکھی تھی،یہی سبب ہے کہ انگریزوں اور ان کی تہذیب دونوں کے تئیں ان کی شاعری میں نفرت دیکھنے کو ملتی ہے لیکن اس نفرت کو انھوں نے طنزومزاح کے پیرائے میں اشاروں اور کنایوں میں بیان کیا۔

اکبر کی شاعری میں اپنی قوم سے،اپنی تہذیب سے،اپنے وطن سے،محبت کا اثرپوری طرح کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا نظر آتا ہے۔یہی جذبہ اکبرکوقوم پرست بھی بناتا ہے،آج سے ایک صدی قبل ہی اکبر نے اس طرف اشارہ کردیا تھا کہ اگر مغربی تہذیب اور کلچر کو اپنایا گیا تو ہمیں بہت سی نئی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔جیسے آج نئی نئی بیماریوں کا چلن اور کثرتِ اموات وغیرہ،جس کی سب سے بڑی وجہ ہوٹلوں کا کھانا ہے۔آج ہم نے اپنے کھانے پینے،چلنے پھرنے،اٹھنے بیٹھے،پہننے اوڑھنے یعنی اپنی تہذیب اور ثقافت میں جو تبدیلیاں پیدا کر لی ہیں یہ اسی کا نتیجہ ہے،اس کی مثال اکبر کے اس شعر سے بخوبی سمجھی جا سکتی ہے       ؎

ہوئے اس قدر مہذب کبھی گھر کا منہ نہ دیکھا

کٹی عمر ہوٹلوں میں مرے اسپتال جاکر

طنز ومزاح میں ایک احتجاجی عنصر ہوتا ہے، اس میں اشاروں اور کنایوں میں گہری مار ہوتی ہے،جسے کاری ضرب کہتے ہیں، اکبرکی شاعری میں جو طنز ومزاح کے پہلو ہیں ان سے صرف لطف اندوزی یا پھر حظ حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ اس کے ذریعے انھوں نے قوم وملت کی اصلاح کی ہے۔ اور انگریزی تہذیب، نئی تعلیم کے ذریعے رونما ہونے والی تبدیلیوں اور فرنگیوں کے ذریعے کیے جانے والے ظلم وستم وبربریت کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ نئی نسل کی ترقی اور آزادی کا جب چرچا شروع ہوا تو انگریزوں کی دیکھا دیکھی ہندوستانی عورتوں نے بھی بے پردگی اختیار کرنی شروع کی اور یہ بات اکبرکو بہت ناگوار گزری اور انھوں نے طنز وظرافت کاسہارا لیتے ہوئے لطیف پیرائے میں قوم کی عورتوںکو سیدھے راستے پر لانے کی کوشش کی،اس لیے کہ اکبر کواپنے اخلاق وتمدن سے گہری دلچسپی تھی،ایسا بالکل بھی نہیں کہ وہ سنجیدہ نہیں تھے پھر بھی وہ طنز ومزاح کا لحاف ڈالے ہنستے ہیں تاکہ رو نہ پڑیں            ؎

بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں

اکبر زمیں میں غیرتِ قومی سے گڑگیا

پوچھا جو میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا

کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑگیا

اکبرتعلیم نسواں کے خلاف نہیں تھے بلکہ وہ مغربی تہذیب اور اس کی عریانیت کے مخالف تھے۔ اکبر عورتوں کی تعلیم اور آزادی دونوں کے قائل تھے مگر وہ اپنی تہذیب کے دائرے میں رہ کر ہو،اکبرکا ماننا ہے کہ اگر مکمل آزادی مل جائے گی تو اس کے ساتھ مختلف قسم کی برائیاں بھی جنم لیں گی          ؎

تعلیم لڑکیوں کی ضروری تو ہے مگر

خاتونِ خانہ ہوں وہ سبھا کی پری نہ ہوں

اکبر نئی نسل کی اپنی تہذیب سے بے راہ روی،نوجوانوں کی بے پرواہی اور عدالتوں کی بے جا آزادی کو بالخصوص اپنے طنز کا نشانہ بناتے رہے، یہی اصول اکبر نے اپنے گھر والوں کے لیے بھی روارکھا۔ مغربی تہذیب سے اس قدر بے اعتنائی کے باوجود اکبرنے جب اپنے بیٹے ’عشرت حسین‘ کو تعلیم کے لیے یورپ بھیجا تو لوگوں نے اس کی مخالفت کی، اس لیے لوگوں کا ماننا تھا کہ اکبر کے اصول صرف قوم کے لیے ہیں اپنے گھروالوں کے لیے نہیں۔مگر ایسا بالکل نہیں تھا بلکہ’عشرت حسین‘کو روانہ کرتے ہوئے اکبر نے ان سے بہت سے عہدوپیمان لیے کیونکہ اس وقت انگلستان جانے والے ہندوستانی نوجوانوں کے بارے میں یہ خیال عام تھا کہ وہ کوئی نہ کوئی یوروپین لیڈی ضرورلاتا ہے۔اکبرکو بھی اپنے بیٹے سے اس کے متعلق کھٹکا تھا۔چنانچہ ایک مرتبہ عشرت حسین کا خط آنے میں کچھ تاخیر ہوگئی تو اکبر نے یہ قطعہ لکھ کر کے بھیج دیا جس کے مصرعے پیشِ خدمت ہیں          ؎

عشرتی گھر کی محبت کا مزا بھول گئے

کھاکے لندن کی ہوا عہد وفا بھول گئے

پہنچے ہوٹل میں تو پھر عید کی پرواہ نہ رہی

کیک کو چکھ کے سوئیوں کا مزا بھول گئے

بھُولے ماں باپ کو اغیار کے چرنوں میں وہاں

سایۂ کفر پڑا نورِ خدا بھول گئے

اکبر کی شاعرانہ صلاحیت کے تو سبھی قائل ہیں،ان کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ یہ معمولی اور ہلکے پھلکے الفاظ کو بھی بڑے معنیٰ خیز انداز میں استعمال کرتے ہیں اور ایسے الفاظ کو جو اکبرسے پہلے شاعری میں استعمال نہیں ہوتے تھے، اکبر نے انھیں زندگی بخشی اور نئے نئے معنیٰ ومفاہیم کے لیے استعمال کیا۔ جیسے جمّن،کلّو،ٹٹّو وغیرہ۔اس کے علاوہ انگریزی الفاظ کا استعمال کرنا اکبر کو بہت پسند تھا،انگریزی حکومت سے نفرت کے باوجود انھیں کی زبان استعمال کرتے اور طنز ومزاح میں اس سے سہارا لیتے اور عوام کے دلوں میں مغربیت سے نفرت کا جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے۔اکبر کا کہنا تھا کہ ہمارے سماج میں پیدا ہونے والی خرابیوں کی اصل جڑ مغربی تہذیب ہے جس کی چمک نے ہماری تہذیب کی روشنی کو ماند کردیاہے      ؎

حرف پڑھنا پڑا ہے ٹائپ کا

پانی پینا پڑا ہے پائپ کا

اکبر نے اپنی پوری زندگی سر سید کے کاموں کی مخالفت کی، اور اپنی شاعری کے ذریعے طنز کے تیر چلاتے رہے،اس کی وجہ یہ تھی کہ سر سید مسلمانوں کی ترقی کو مغربی تہذیب اور کلچر میں دیکھتے تھے جبکہ اکبرکا خیال تھا کہ اس نئی ثقافت نے ہمارے اندر برائیاں پیدا کی ہیں۔لیکن سر سید کے انتقال پر اکبر نے ان کے تخلیقی اورتعمیری دونوں طرح کے کاموں کو سراہا اور یہ بتانے کی کوشش کی کہ جو اختلافات سر سید کے ساتھ تھے وہ بس نظریاتی تھے۔دل سے وہ ان کا بہت احترام کرتے تھے اس کا بیّن ثبوت اکبرکی وہ شاعری ہے جو انھوں نے سر سید کی رحلت فرمانے کے بعد خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہی ہے۔

ہماری باتیں ہی باتیں ہیںسید کام کرتا ہے

نہ بھولو فرق جو ہے کہنے والے کرنے والے میں

کہا جو چاہے کوئی میں تو کہتا ہوں کہ اے اکبر

خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں

ایک دوسری جگہ اکبرکہتے ہیں       ؎

بعد سید کے میں کالج کا کروں کیا درشن

اب محبت نہ رہی اس بتِ بے پیر کے ساتھ

اکبر الہ آبادی کی شاعری میں آزادی کا جذبہ بھی ہے اور وہ تحریک آزادی میں بھی حصہ لینے کے خواہاں تھے لیکن ضعیفی کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا،پھر بھی گاندھی جی کے آتے ہی آزادی کی تحریک میں جو ولولہ پیدا ہوا تھا اس کا احساس اکبر کو ہو گیا تھا اور وہ ان سے بہت متاثر بھی تھے،گاندھی جی سے متعلق وہ انقلاب زمانہ کی بات کرتے ہیں۔اس بنا پر ہم اکبرکو مجاہدِ آزادی کے طور پر بھی دیکھ سکتے ہیں انہوں نے گاندھی جی کے مشن کو آگے بڑھایا اور گاندھی جی سے متعلق ایک معرکۃ الآرانظم ’گاندھی نامہ‘ لکھی جو قابل ذکر ہے۔

بقول صغریٰ مہدی:

’’گاندھی جی نے عدم تعاون اور سودیشی کی تحریکیں چلائیں۔یہ زمانہ اکبر کی زندگی کا آخری زمانہ تھا۔وہ بہت بوڑھے اور کمزور ہو چکے تھے۔اکثر بیمار بھی رہتے تھے،مگر انگریزوں کے خلاف ہندوستانی اب اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ان کا مقابلہ کر رہے ہیں۔اس بات سے اکبر بہت خوش تھے۔ انھوں نے اس زمانے کی سیاست کے بارے میں، گاندھی جی کے بارے میں بہت سے اشعار کہے ہیں۔‘‘(حوالہ’ اکبر الہ آبادی‘، ص49)

اکبر کی شاعری میں ہمیں ان چیزوں پر طنز ملتا ہے جو آج ہماری زندگی کے لیے بے حد ضروری اور انتہائی کار آمد ثابت ہو رہی ہیں،اس بات کے سبب بعض نقادوں اور ادیبوں کا ماننا ہے کہ اکبر کی اہمیت اب وہ نہیں رہی جو پہلے تھی،جس طرح وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سی چیزیں فضول اور بے معنیٰ ہو جاتی ہیں اسی طرح آج اکبر کا طنز بھی اپنی جاذبیت کھو چکا ہے کیونکہ اب وقت کا تقاضا وہ نہیں رہا،ان کی شاعری محض لطف اندوزی کے سوا اور کچھ نہیں،کیونکہ انھوں نے ترقی یافتہ چیزوں پر نکتہ چینی کی ہے اور ان کو ہماری تہذیب،تمدن اور ثقافت کے لیے مضر بتایا ہے،لیکن میرا ماننا ایسا بالکل بھی نہیں ہے بلکہ اکبر نے مغربیت کی مخالفت کے باوجود ہنستے ہنساتے بہت سی ایسی باریک باتوں کی طرف اشارے کردیے ہیں جس کی طرف ہماری نگاہیں بڑی مشکل سے پہنچتی ہیں۔ مثال کے طور پر آج ہم سب اپنی قوم کی تعلیم کے مسئلے کو بڑی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ہم سبھی کی یہ کوشش ہے کہ ہر بچہ اور قوم کا ہر فرد تعلیم یافتہ ہو اور ترقی کی سیڑھیوں پر چڑھے۔اس بات کی طرف اکبر نے تقریباً ڈیڑھ صدی قبل ہی ایک لطیفے کے ذریعے ہماری توجہ مبذول کرنے کی کوشش کی اور’فرضی لطیفہ‘کے نام سے ایک شاہ کار نظم تخلیق کی جس کے چند مصرعے پیش خدمت ہیں         ؎                 

خدا حافظ مسلمانوں کا اکبر

مجھے تو ان کی خوشحالی سے ہے یاس

یہ عشق شاہد مقصود کے ہیں

نہ جائیں گے ولیکن سعی کے پاس

سناؤں تم کو اک فرضی لطیفہ

کیا ہے جس کو میں نے زیب قرطاس

کہا مجنوں سے یہ لیلیٰ کی ماں نے

کہ بیٹا تو اگر کرلے ایم۔اے پاس

تو فوراً بیاہ دوں لیلیٰ کو تجھ سے

بلا دقت میں بن جاؤں تری ساس

کہا مجنوں نے یہ اچھی سنائی

کُجا عاشق کُجا کالج کی بکواس

اس نظم کے ذریعے سے اکبر نے ہمیں تعلیم کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی ہے۔اس سے ہم ان کی وسعتِ نظری کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں پھر بھی یہ بات قابل ذکر ہے کہ اکبر مغرب کے مخالف ہونے کے باوجود ان کی ملازمت کرتے رہے جو ایک تضاد کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔یہ پہلو قابل ذکر بھی ہے،اور قابل غور بھی،مگر ان سب باتوں کے باوجود اکبرایک اہم شاعر کی حیثیت سے ہمارے درمیان ہمیشہ یاد کیے جائیں گے۔اکبر کی شاعری ایک مختصر سی بات نہیں بلکہ یہ ایک تنگ رستہ ہے جس سے گزر کر ہم وسیع میدانوں میں پہنچ جاتے ہیں اور یہی ان کی انفرادیت کا سبب بھی ہے۔

کتابیات

1      آل احمد سرور:تنقید کیا ہے، مکتبہ جامعہ نئی دہلی لمیٹڈ، 2011

2      اسیم کاویانی: اکبرالہ آبادی اپنی شکست کی آواز، دار پبلی کیشنز 2021

3      ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا: اکبر الہ آبادی تحقیقی وتنقیدی مطالعہ، سنگ میل پبلی کیشنز لاہور2003

4      صغریٰ مہدی:   اکبر الہ آبادی    ترقی اردو بیورو نئی دہلی    1983

5      صغریٰ مہدی: اکبر کی شاعری کا تنقیدی مطالعہ، مکتبہ جامعہ نئی دہلی1981

6      عشرت حسین سید: حیاتِ اکبر الہ آبادی، کلیم پریس کراچی 1951

7      کلیم الدین احمد: اردو شاعری پر ایک نظر(دو جلدیں)، دی آزاد پریس سبزی باغ پٹنہ، 1966(تیسرا ایڈیشن)

 

Mo Faisal Khan

Flat No. 404 fourth floor

Ho. No. 448/237, Nagariya Radha gram

Scheme Mallahi Tola Thakurganj

Lucknow  - 226003 (MS)

Mobile No: 9918998144

Email ID: fk.nadwa123@gmail.com




تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...