28/3/22

بلراج مین را کے افسانوں کی فکری و فنی جہتیں - مضمون نگار : اقلیمیہ حبیب

 



بلراج مین را کا شمار اردو کے ممتاز افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنی تخلیق کے توسط سے جدید افسانے کو نئی فکر اور انوکھے طرز اسلوب سے مالا مال کیا۔ افسانہ نگاری کے علاوہ ان کا بڑا کارنامہ رسالہ’شعور ‘ کی ادارت ہے، جس نے قلیل عرصے میں اپنی منفرد شناخت قائم کی تھی۔وہیں منٹو کی تمام تحریروں کو ’دستاویز ‘کے نام سے یکجا کرکے بحیثیت مرتب بھی مشہور ہوئے۔

بلراج مین را کا افسانوی مجموعہ’مقتل‘ محض 37 کہانیوں پر مشتمل ہے۔لیکن یہ کہانیاں وہ گوہر نایاب ہیں جن پر اردو ادب کو ہمیشہ فخر و ناز رہے گا۔دراصل انھوں نے اپنے افسانوں کے موضوعات کے لیے ان تجربات و احساسات کا انتخاب کیا جن سے واقعی ان کا گہرا رشتہ رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں شہری زندگی (بالخصوص دہلی)، وہاں کے رہن سہن، چوڑی اور چکنی سڑکیں، بڑی بڑی عمارتیں،ٹی ہاؤس، بس اسٹاپ،ہسپتا ل،ڈاکٹر،نرس اور بجلی کے کھمبوں کا ذکر کثرت سے ملتا ہے۔شمیم حنفی رقمطراز ہیں:

’’... مین را کا ادراک شہری ہے۔وہ ہمیں جس فرد کی آپ بیتی سناتاہے یا جس کی ذاتی ڈائری کے ورق ہمارے سامنے لاتاہے اس کے تمام ترتجربوں کا کلیدی حوالہ شہری تمدن ہے۔پورٹریٹ ان بلیک اینڈ بلڈ،ساحل کی ذلت، ریپ، بس اسٹاپ، واردات، وہ، شہر کی رات، غرض یہ کہ آپ ایک کے بعد ایک ورق الٹتے جائیے، اس تصویر کا کوئی نہ کوئی رخ سامنے آتا جائے گا۔‘‘   1

مین را کے افسانوں کے موضوعات شہر اور اسی شہر کے افراد ہیں۔لیکن وہ افراد کے خارج سے زیادہ ان کے باطن کو اپنا موضوع بناتے ہیں۔خود کو پانے کی جستجو،جبر کے خلاف احتجاج،کم تری کا احساس اوران مانوس اجنبی کیفیات کا اظہار جوہمارے ہیں لیکن جن سے ہم واقف نہیںان جیسے مختلف احساسات وکیفیات مین را کے افسانے میں الگ الگ پیکر میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ کبھی علامتی پیکر میں توکبھی ٹوٹی پھوٹی منتشر شکل میں یاکبھی آدھی ادھوری کہانی بن کر۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بعض کہانیاں اتنی مبہم ہوجاتی ہیں کہ قاری کی گرفت میں بآ سانی نہیں آپاتیں۔

مین را کے بیشتر افسانے علامتی ہیں۔ وہ علامتی افسانہ لکھنے میں اپنے معاصرین میں سب سے زیادہ کامیاب ہیں۔ اس ضمن میںکمپوزیشن سیریز، وہ، ایک مہمل کہانی، پورٹریٹ ان بلیک اینڈ بلڈ، ریپ، مقتل اور ساحل کی ذات خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ وہ اپنے افسانوں کے لیے علامات کا انتخاب اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی زندگی ہی سے کرتے ہیں۔ ان کے علامتی افسانے تہہ در تہہ معنویت سے لبر یز ہو تے ہیں اورکئی ابعاد رکھتے ہیں۔ ان کے علامتی افسانوں سے متعلق عہد ساز نقاد گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں:

’’مین را اپنی علامتوں کا انتخاب سامنے کی چیزوں سے کرتا ہے، اور پھر اپنے ذہنی تجسس کی سان پر چڑھا کر ان میں تہہ داری پیدا کرتا ہے۔ اس کے افسانے جدید انسان کے فکری سفر، اس کی ذہنی تنہائی اور اس کے تجارتی قدروں کے معاشرے سے کٹ کر علاحدہ رہ جانے اور استحصالی طاقتوں کے خلاف شدید احتجاج کی روداد پیش کرتے ہیں۔‘‘   2

بلراج مین راکاافسانہ ’وہ‘ شاہکار کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ ایک ایساعلامتی افسانہ ہے جس کی پوری کہانی ماچس کی تلاش پر موقوف ہے۔اس افسانے میں ایک ایسے شخص کا قصہ ہے جس کی آنکھ رات میں بے وقت کھل جاتی ہے اور وہ سگریٹ جلانے کی غرض سے ماچس تلاش کرنا شروع کرتا ہے۔ لیکن اسے کہیں ماچس نہیںملتی۔ وہ پورے کمرے میں ماچس تلاش کر نے کے بعد دسمبر کی سرد رات میں باہر نکل جاتا ہے اور ماچس کی تلاش جاری رکھتا ہے لیکن ماچس نہیں ملتی۔ آوارگی کے الزام میں اسے پولیس اسٹیشن جانا پڑتا ہے۔ وہاں ماچس موجودہوتی ہے لیکن اسے لے نہیں پاتا۔پولیس اسٹیشن سے لوٹتے وقت اسے ایک ایساشخص ملتا ہے جو اسی کی طرح ماچس کی تلاش میں بھٹک رہا ہوتاہے۔اور وہ پوچھتا ہے:

’’آپ کے پاس ماچس ہے؟

ماچس؟

آپ کے پاس ماچس نہیں ہے؟

ماچس کے لیے تو میں.....

وہ اس کی بات سنے بنا ہی آگے بڑھ گیا۔

آگے،جدھر سے وہ خود آیا تھا۔

اس نے قدم بڑھایا۔

آگے،جدھر سے وہ آیاتھا۔‘‘ 3

دراصل انھوں نے ’ماچس‘کو بطور علامت استعمال کیا ہے۔’ماچس ‘وجود کو سمجھنے کی تڑپ، باطنی اضطراب یا زندگی کی معنویت کی تلاش کی علامت ہے۔اور افسانے کا ’وہ‘جدید دور کا ہروہ فرد ہے جو اس نا مسا عد حالات میں اپنے باطن سے یا اپنی زندگی کی معنویت سے غافل ہے، جو بس ایک مشینی زندگی گزار رہا ہے لیکن جب اس معنویت کا احساس دل میں ابھرتا ہے تو اسے پانے کی ایسی تڑپ پیدا ہو جاتی ہے کہ انسان وقت، راستہ، مصیبت، تکلیف سب سے بے خبر ہوجاتا ہے اور کسی طرح بھی اسے پانے میں ہمہ تن مصروف ہوجاتا ہے۔افسانے کا یہ اقتباس دیکھیے:

’’آج یہ بے وقت نیند کیسے کھل گئی؟      

میں وقت سے بے خبر تھا،

ایک بار آنکھ کھل جائے،پھر آنکھ نہیں لگتی!

ماچس کہاں ملے گی؟‘‘  4

بعض اوقات غفلت کی نیند سے بیدار ہونے کے باوجود معاشرے کے چاروں طرف پھیلی ہوئی بے حسی انسان کے حوصلے کو پست کردیتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ’وہ‘ یہ جان کر بہت حیران ہو تا ہے کہ ماچس جیسی معمولی چیز کسی کے پاس بھی نہیں یا اگر ہے بھی تو اس کی معنویت سے بے خبر ہے۔ افسانے کے آخر میں دوسرے فرد کو بھی ماچس کی تلاش میں بھٹکتے دیکھ کر اسے اطمینان محسوس ہوتا ہے کہ اس کی طرح کوئی اور بھی ہے جو اس کی تلاش میں سرگرداںہے۔

بلراج مین را احتجاج پسند افسانہ نگار ہیں۔ان کے افسانے ایک انقلاب پسند باغی کے افسانے ہیں۔انھوں نے صرف اپنی تخلیقات ہی نہیں بلکہ اپنی ذاتی زندگی میں بھی کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیاہے۔ ابو الکلام قاسمی لکھتے ہیں:

’’ ان کی لغت میں سمجھوتہ کا لفظ نہیں ہے۔ صرف یہی سبب ہے کہ اپنے قاری کے محدود حلقے کا علم رکھتے ہوئے بھی اظہار اور ہیئت کی سطح پروہ کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ‘‘  5

مین را نے غیر معمولی تخلیقی صلاحیت رکھنے کے باوجود صرف 37؍ افسانے تخلیق کیے۔یہ بھی ایک طرح سے ان کا احتجاجی رویہ ہی ہے۔ جس میں ہمارے معاشرے کی مفادپرستی، منافقت، شہرت وزرکی ہوس، دوسروں پر فوقیت لے جانے کی حسرت، ادبی گروہ بندی، علم کا فقدان  اوربے عملی کا دخل ہے۔

مین را کا احتجاجی رویہ، ان کا غصّہ اورجھنجھلاہٹ ان کے کئی افسانوں میں نظر آتا ہے۔آخری کمپوزیشن، بیزاری، کوئی روشنی، کوئی روشنی،ہوس کی اولاد اس کی عمدہ مثال ہیں۔ قاضی جمال حسین مین را کی کہانی سے متعلق کہتے ہیں:

’’.....مین را کی کہانیوں میں جو زہرہ گداز حدت اور تیزابیت تھی اس کا تقاضا بھی یہی تھا کہ وہ کہانیاں کم ہی لکھتے۔ ہڈیوں میں سرایت کرجانے والی یہ تیز ابیت بہت دیر تک باقی بھی نہیں رکھی جا سکتی۔یہی شدت اور ارتکا زمین را کا امتیاز ہے جو محدود سرمایے کے باوجود معاصرین میں ان کے قد کو بہت نمایاں کر دیتا ہے۔‘‘  6

افسانہ’آخری کمپوزیشن‘ میں ظلم و استبداد کے سامنے کبھی سرنہ خم کرنے والا باغیانہ رویہ نظر آتا ہے۔یہ کہانی تیسری دنیا کی انقلابی حرارتوں کا رزمیہ ہے۔اور ساتھ ہی ساتھ لفظ کو پورے ایقان واعتماد کے ساتھ استعمال کرنے کا حوصلہ بھی۔ایک ادیب کے لیے لفظ ہی سب سے بڑی قوت اور ہتھیار ہے، جس کا تحفظ ان کا پہلا فریضہ ہے۔ جسے افسانہ نگار نے علامتی انداز میں بیان کیا ہے۔

مین را کا افسانہ’کوئی روشنی،کوئی روشنی‘ انفرادیت کا حامل ہے۔یہ افسانہ جدید دور کے انسان کا المیہ ہے۔ افسانے کا کردار ’گیان‘جدید دور کے مشینی وصنعتی جبر کا شکار ہے۔دہشت اورکر ب کی فضا میں سانس لیتا ہوا ایک ایسا شخص ہے جو اس جاںسوز عہد میں’خود‘ کو پانے کی جستجو میں سرگردا ںہے۔اور یہی اس کی تمام تر الجھنوں کا سبب ہے۔

گیان اسی جستجو میں اپنے شہر سے دور کسی گائوں میں گوشہ نشینی اختیار کرلیتا ہے اور آخر کار موت کے دامن میں ہمیشہ کے لیے پناہ گزیں ہو جاتا ہے۔ گیان کی طرح افسانہ ’بیزاری‘کا جیت اور موہن معاشرے کے ستائے ہوئے کردار ہیں دونوں کو یہ احساس ہوتا ہے کہ زمانہ ا نہیں حقیر نظروں سے دیکھ رہا ہے۔یہی احساس بیگانگی یا اس کے پس پردہ اپنی زندگی میں ناکامی کا احساس ا نہیں خودکشی کے لیے مجبور کرتا ہے۔ خودکشی، زندگی کے تئیں ایک منفی رویہ ہے۔لیکن اس کے پیچھے ان کا یہ رد عمل ان کی حساس طبیعت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ دنیا میں ذلت ورسوائی کی زندگی نہیں گزارنا چاہتے ہیں۔

مین را کے افسانوں میں ’سفر‘کی بڑی اہمیت ہے۔ انھوں نے اپنے بہت سارے افسانوں میں سفر کے وسیلے سے مختلف ومتنوع افکار وخیالات اورذہنی کیفیات کا اظہار کیا ہے۔ افسانہ ’بس اسٹاپ‘، ’واردات‘، ’شہر کی رات‘ اس کی عمدہ مثال ہیں۔

بس اسٹاپ‘ ایک شخص (میں) کا بس کے لیے انتظار اور اس دوران اس کے ذہن میں ابھرنے والے مختلف خیالات کے اظہار پر مبنی ہے۔ایک شخص جون کی تپتی دوپہر میں بھولے بھٹکے ایک ایسے بس اسٹاپ پر پہنچ جاتا ہے جہاں دور دور تک سناٹا چھایا ہوتاہے۔نہ کوئی دوسری سواری،نہ کوئی آدم زاد،نہ پینے کے لیے پانی،نہ سرچھپانے کے لیے کوئی سایہ۔ وہ تھا، سڑک تھی، دھوپ تھی اور بجلی کا کھمبا تھا۔وہ بس اسٹاپ پربس آنے کے ایک گھنٹہ پہلے ہی پہنچ گیا تھا۔اس بس کے لیے ایک گھنٹے کا انتظار اس کے لیے اتنا جان لیواہوتا ہے کہ اسے ہر ایک لمحہ کے گزرنے کا احساس ہوتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اب وہ پل بھر میں بکھر جائے گا۔ ’’ہم نشچت سمے تک بس کا انتظار بھی نہیں کر سکتے... ہماری زندگی کس قدر ناپائیدار ہے۔‘‘وہ بس کے انتظار میںاتنے جان لیوا تجربہ سے پہلی بار گزر رہا تھا۔اس انتظار کے دوران اس کا ذہن ماضی کی ان یادوں کی طرف مراجعت کرتا ہے جب وہ جوان تھا۔

مین را نے اس افسانے میں کردارکے شعور اور لاشعور کی کیفیا ت کو بڑے سلجھے ہوئے انداز میں پیش کیا ہے۔ بس اور بس اسٹاپ کو علامت بناکر زندگی کے ایک اہم پہلو سے روشناس کرایا ہے۔ یہ بس اسٹاپ وہ دنیا یا پناہ گاہ ہے جہاں ہم سب رہتے ہیں اور’بس‘ زندگی کی خواہش ہے۔یہ دنیا بھی کبھی ایک جیسی نہیں رہتی ہے۔ ہم بدلتے وقت اورحالات میں زندگی گزار نے کے لیے مجبور ہیں۔ کبھی کبھی ہماری زندگی میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہماری کوئی خواہش زبان تک آتی بھی نہیں اور پوری ہوجاتی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی خواہش کو پورا کرنے کے لیے زندگی کی آخری سانس بھی کم پڑجاتی ہے۔اس طرح مین را نے اس افسانے میںزندگی اور بدلتے زمانے کے حقائق کو بڑی کامیابی کے ساتھ علامتی انداز میں پیش کیا ہے۔

 زندگی اور کائنات دو ایسی کتابیں ہیں جن سے ہم ہر لمحہ کچھ نہ کچھ سیکھتے ہیں۔صرف دیکھنے اورمحسوس کرنے کی وہ قوت ہونی چاہیے جن کے ذریعے ہم سبق حاصل کر سکتے ہیں۔یہ قوت کم وبیش ہر انسان میں ہوتی ہے لیکن ہرکسی کو اس قوت کا اندازہ نہیں ہوتا۔کسی کے لیے زندگی کا ہر قدم ایک نیا افسانہ بن جاتا ہے اور کسی کے سامنے پوری زندگی محض ایک کورا کاغذ۔مین را وہ فن کار ہیں جو اپنے مشاہدات وتجربات سے زندگی کی چھوٹی سی چھوٹی حقیقت کو افسانے کے پیکرمیں ڈھالنے کا ہنر جانتے ہیں۔ افسانہ ’واردات‘ اور ’شہر کی رات‘ ایسی ہی کہانیاں ہیں۔ جن کے ذریعے شہر کی زندگی اور یہاں کے افراد کا مزاج اور ماحول پتہ چلتا ہے۔ ’شہر کی رات‘ جیسا کہ عنوان سے ہی پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے ایک شخص کے ذریعے شہر کی رات اور اس کی خاموشی کی عکاسی کی ہے۔افسانہ ’واردات‘ ایک عورت کے اس نئے اور انجانے تجربے کا بیان ہے جو اسے دورانِ سفر حاصل ہوتاہے۔ اس کے بغل میںایک انجان آدمی غنودگی کے عالم میں بیٹھا ہوتا ہے اور اس کا سر اس عورت کے کاندھے سے مس ہوتا رہتا ہے۔ اس طرح اس کے سرسے مس ہوجانا اس عورت کو عجیب کیفیت سے دوچار کرتا ہے۔اس کہانی کا انجام عورت کے اس جملے سے ہوتا ہے ’’میرے کندھے پر اس کی نیند کا بوجھ میرا پہلا سکھ تھا۔‘‘

مین را کے افسانے میں سفر کی طرح ’جنس‘کی بھی بڑی اہمیت ہے۔انھوں نے جنسی مسائل کو کئی افسانوں کا موضوع بنایا ہے۔و ہ جنسی مسائل کا اظہاربڑی بے باکی، شدومد اور جزئیات کے ساتھ کرتے ہیں۔ ’بھاگوتی‘ مین را کا پہلا افسانہ ہے۔جو بیانیہ تکنیک میں لکھا گیا ہے۔ بنیادی طورپر اس کاموضوع جنس نہیں ہے۔ لیکن اس کا جنس سے تعلق ضرور ہے۔یہ ایک ایسی درد مند اورحساس عورت (بھاگوتی)کی کہانی ہے جو اسقاط حمل کا طریقہ بخوبی جانتی ہے اور یہی اس کا ذریعہ معاش ہے۔یہ ایک ایسا کا م ہے جس کو ہمار ا سماج پسند نہیں کرتا اور حقارت کی نظروں سے دیکھتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی یہی کام سماج میں رہنے والے انسان کوذات سے بچاتا ہے۔ بھاگوتی کو اپنے کام سے کسی طرح کی شرمندگی کا احساس نہیں ہوتا۔ لیکن کبھی کبھی اس کام سے اس کادل افسردہ ہوجاتا ہے۔ ایک دن جب خود اس کی بیٹی، جسے بھاگوتی نے یہ گر سکھا یا تھا اور جو مستقبل میں اس کے سکھ اور آرام کی ایک کرن تھی،اس گناہ کی زد میں آجاتی ہے اور وہ بھی یہی راہ اپنانے جاتی ہے لیکن بھاگوتی اسے یہ گناہ کرنے سے روک لیتی ہے۔

مین را کا ایک منفرد افسانہ ’ہوس کی اولاد ‘ہے۔ اس افسانے میں تین کردار راہی، کرشن اور ہربنس ہیں۔ مرکزی کردار راہی ہے اور اسی کے خیالات پر اس افسانے کا وجود قائم ہے۔راہی دوسروں سے الگ ایک باغی ذہن کا مالک ہے۔ جس کے اندر تصنع اور مکروفریب نہیں ہے۔ ہر آدمی کی طرح صرف باتیں نہیں بناتا بلکہ جو باتیں کرتا ہے اس پر عمل بھی کرتا ہے اور اپنے خیالات پر استوار کی گئی دنیا میں رہتا ہے۔راہی کی نظر میں ہمارا معاشرہ ایک بیمار معاشرہ ہے۔ جہاں ہر طرف مکروفریب اورخود غرضی کابازار گرم ہے۔وہ ایسے انسان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو جنسی آسود گی کے لیے شادی کا ڈھونگ رچاتے ہیں اور باپ بنتے ہیں۔اس کی نظر میں افزائش نسل ایک مقدس جذبہ ہے۔ مثلاً یہ اقتباس دیکھیے:

’’مجھ میں ہو س ہے۔اس ہوس کو مٹانے کے لیے میں شادی کا ڈھونگ رچاتا ہوں کیونکہ ہوس کی پیاس بجھانے کا کوئی اور ذریعہ نہیں، اور اگر ہے بھی تو مجھ میں ہمت نہیں  اور پھر میں باپ بن جاتا ہوں۔کر رہا تھا میں اپنی ہوس کا مداوا مگر بن گیا باپ۔اب وہ بچہ میری اولاد ہے۔ نہیں صاحب، میں آپ سے اتفاق نہیں کرتا ..... اولاد،یعنی افزائش ِ نسل بڑا مقدس جذبہ ہے جسے ہوس سے کوئی علاقہ نہیں۔‘‘7

افسانے کا مرکزی کرداررا ہی زندگی کی خوشی ڈولی اور پریماسے حاصل کرلیتا ہے لیکن شادی تب ہی کرتا ہے جب افزائش نسل کا مقدس جذبہ اس کے دل ودماغ میں ابھرتا ہے۔مین را نے اپنے اس افسانے میں افزائش نسل اور مباشرت کے مابین فرق کو خوبصورتی کے ساتھ واضح کیا ہے۔اس طرح ’حسن کی حیات‘، ’غم کا موسم‘، ’جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے‘ جنس سے متعلق افسانے ہیں لیکن معنوی سطح پر ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ بلراج مین راکبھی کبھی جنس کے اظہار میں جزئیات سے اتنا کام لیتے ہیں کہ اسے خامی تصور  کیاجا سکتا ہے۔ جس کی مثال ان کا افسانہ ’’جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے‘‘ ہے۔لیکن اس خامی سے انہیں شایداس لیے منسوب نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ’ان کی لغت میں سمجھوتہ کا لفظ نہیں ہے‘۔

 مین را کے افسانے صرف موضوعات ہی نہیں بلکہ اسلوب اور زبان وبیان کے اعتبار سے بھی منفرد ہیں۔ ان کے اسلوب کی سب سے بڑی خوبی الفاظ پر مکمل گرفت اور جملوں کااختصار ہے۔ایسا لگتا ہے کہ وہ ماہر نباض کی طرح لفظوں کے ہر نبض سے واقف ہیں اور صرف واقف ہی نہیں بلکہ اس کو برتنے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ ایسے بہت سارے خیالات،احساسات اورکیفیات ہوتے ہیں جسے ہم محسوس تو کر سکتے ہیںمگر لفظوں میں بیان نہیں کر سکتے،بالخصوص باطنی کیفیات۔مین را کے افسانے خارجی سے زیادہ باطنی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن ان باطنی دنیا کے اظہار کے لیے انہیں لفظوں کی دنیا کی خاک چھاننا نہیں پڑتا بلکہ ان کی کہانی کا Themeاپنا مناسب اور موزوںاسلوب کے ساتھ سامنے آتا ہے۔مثال کے طور پر افسانہ ’کمپوزیشن سریز‘ کا جو موضوع ہے اسے کسی دوسرے اسلوب میں نہیں لکھا جا سکتا۔ اگر اسے دوسرے اسلوب میں لکھاجائے تو وہ کہانی کہانی ہی نہیںرہے گی۔یا ’بھاگوتی‘ کی کہانی ’کمپوزیشن سریز‘ کے اسلوب میں نہیں لکھا جا سکتا۔ان کا اسلوب موضوع کا تقاضا ہے۔وہ کسی موضوع پر کسی اسلوب کو زبردستی ڈالنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔

مین را کے زیادہ تر افسانے تین یا چار صفحات پر مشتمل ہوتے ہیںلیکن ان کے مختصر سے مختصر افسانے میں بھی اتنی تہہ داری اور گہری معنویت ہوتی ہے کہ جس کو کوئی دوسرا افسانہ نگار سو صفحات میں بھی بیان کرنے سے قاصر ہوگا۔ اس کی اصل وجہ ان کا شعری اسلوب ہے۔ ان کے جملے مصرعوں کی طرح ہوتے ہیں۔ان کے منتشر اوربے ربط جملے اپنے اندر ایک جہان معنی لیے ہوتے ہیں۔ مہدی جعفر ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’زبان کے لحاظ سے بلراج مین را بڑی احتیاط برتتے ہیں۔ زبان جامع ہوتی ہے اور اس میں ٹھہراؤ ہوتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے جملے تسلسل سے ملتے ہیں اور کہیں کہیں اتنے لمبے کہ پورے پیراگراف میں ایک جملہ نظر آتا ہے۔ الفاظ کی تکرار اور جملوں یا عبارت کا بار بار دہرانا فنی طور پر ان کے افسانوں کی تشکیل میں معاون ہیں۔ ‘‘   8

گویا  لفظوں کی تکرار سے وہ اپنے افسانے میں شعری حسن وتاثر پیدا کرتے ہیں۔ان کے جملوں کے درمیان وقفے میں خاموش گفتگو کا حسن ہوتا ہے جو کچھ نہ کہہ کر بھی بہت کچھ کہہ جاتے ہیں۔اس ضمن میں کمپوزیشن ایک، کمپوزیشن پانچ، آخری کمپوزیشن، وہ، میرانام میں ہے اورساحل کی ذلت وغیرہ اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔

مین را کے افسانے میں پلاٹ یا واقعے کی وہ تر تیب نہیں ملتی جو روایتی افسانوں کا خاصہ ہے۔ ان کے افسانے بے ربط اورمنتشر ہوتے ہیں۔ لیکن احساس وکیفیات کی سطح پر باہم مربوط ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ وہ تضاد کے ذریعے افسانے کے حسن کو دوبالا کرتے ہیں۔ وہ روشنی اور تاریکی دونوں سے کام لیتے ہیں۔ محسوسات کے باریک سے باریک تضاد پر مضبوط گرفت رکھتے ہیں۔

مین را حقیقت پسند افسانہ نگار ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ ان ہی تجربوں اور افکار کو اپنے افسانے کا حصہ بنایا ہے جسے بہت قریب سے دیکھا اور اپنے اندر محسوس کیا ہے۔ اس لیے ان کے افسا نے کے کردار،موضوع اور مقام حقیقی وارضی ہیں۔ان کے افسانوں کے بیشتر کردار بے نام ہوتے ہیں۔اس نئی دنیا اورنئے تمدن میں اضطراب، تنہائی، اضمحلال،روحانی وجذباتی خلا جن کا مقدر ہے۔ وہ ایک انجانی شے کوپانے کی جستجو میں سرگرداں ہیں۔جس کی تلاش میں وہ گلی گلی اور شہر شہر بھٹک رہے ہیں۔ان کے باطن کی دنیا میں اورروح میں کہرام برپا ہے۔اسی دنیا اور کہرام سے آگہی مین را کا مقصد ہے اور جس پر ان کے فن کی بنیاد ہے۔

مین را کے افسانوں کے کردا ربھلے ہی بے نام ہیں اور افسانے ’میں‘ اور ’وہ‘کے صیغے میں آتے ہیں۔لیکن یہ بے نام کردار ہمارے اسی معاشرے کا ایک معمولی آدمی ہے، جو جدید دور کے فر د کی نمائندگی کرتا ہے۔مین رانے اپنے افسانوں کے ذریعے انسانی وجود سے وابستہ نہایت لطیف اور پیچیدہ حقیقتوںکا انکشاف کیا ہے۔ ان کے کردارزندگی کی رنگینیوں میں ڈوبے نظر نہیں آتے بلکہ زندگی کی بدصورت اور تلخ حقیقت کے ساتھ ہمارے سامنے آتے ہیں۔ یہ کردار زندگی کے تئیں ہماری بصیرت میں اضافہ کرتے ہیں۔

بلرا ج مین را کے افسانے فکر وفن کے اعتبار سے انفرادیت کے حامل ہیں۔انھوں نے اپنے افسانے کے ذریعے قارئین کوان گم گشتہ حقائق سے روشناس کرایا ہے جہاںدوسروں کی نگاہ بھی نہیں پڑتی۔گرچہ ان کی تخلیقات اپنے ہم عصروں کے مقابلے میں کم ہیں لیکن انھوں نے اپنے مخصوص علامتی،استعاراتی اور امیجری انداز میں افسانے لکھ کر جدید اردو افسانے کے دامن کو مالا مال کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مختلف تکنیک اور مخصوص اسلوب اور زبان وبیان کے ذریعے عصر حاضر کے مختلف موضوعات ومسائل کو افسانوی پیکر میں ڈھالا ہے۔

حواشی

1      چھلاوا،شمیم حنفی، بحوالہ سرخ وسیاہ، بلراج مین را، ترتیب وتعارف، سرور الہدیٰ، ص509

2      گوپی چند نارنگ، اردو افسانہ روایت اور مسائل، ص508

3      وہ‘ بلراج مین را،مقتل، ص52

4      وہ‘ بلراج مین را، مقتل،ص46

5      ابوالکلام قاسمی، منٹو کے بعد اردو افسانوں کی صورت حال، تحریک (سلور جبلی)،ص137

6      مین را کی کہانی، امکانات کا نیا افق، بحوالہ سرخ وسیاہ، ترتیب وتعارف سرور الہدیٰ، ص537

7      ہوس کی اولاد، بلراج مین را، مقتل، ص210

8      مہدی جعفر، نئی افسانوی تقلیب، ص133






25/3/22

قیصر شمیم :شخص اور شاعر - مضمون نگار: صوفیہ محمود

 



          سر زمین بنگال میں ضلع ہگلی کے انگس نامی محلے کے ایک غریب گھرانے میں تاریخ 2؍اپریل 1936 ، ایک تابندہ ستارہ طلوع ہوا جسے اردو دنیا قیصر شمیم کے نام سے جانتی ہے جبکہ ان کا اصل نام عبدالقیوم خاں تھا ۔ انھوں نے عمید انگسی کے نام سے اپنا ادبی سفر شروع کیا تھا۔موصوف پانچ کتابوں کے خالق ہیں۔انھوں نے کم و بیش تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی جن میں غزل،نظم،گیت،دوہا،رباعیات،قطعات،حمد، نعت،تضمین وغیرہ شامل ہیں وہیں دوسری طرف تنقیدی مضامین اور تراجم وغیرہ کو بھی انھوں نے اپنی توجہ کا مرکز بنایا جو ان کی اردو کے ساتھ ہی ساتھ دوسری زبانوں مثلاًبنگلہ،ہندی اور انگریزی پر مکمل دسترس کا ثبوت ہے۔

          مو صوف کے والد مرحوم جناب عبدالرحیم خاں ایک کارخانے میں ملازم تھے ۔قلیل آمدنی کے سبب قیصر شمیم کو کم عمری سے ہی چھوٹی   موٹی ملازمت سے جڑنا پڑا۔انھوں نے اپنے تعلیمی سفر کا آغاز انگلش بوائز پرائمری اسکول سے کیا  اوراپنی ابتدائی تعلیم چاپدانی میونسپل پرائمری اسکول سے مکمل کی۔1946 کے فرقہ وارانہ فسادات کے زمانے میں آپ پریسی ڈنسی مسلم ہائی اسکول میں درجہ ششم کے طالب علم تھے ۔ناسا ز گار حالات کے سبب کچھ دنوں کے لیے تعلیم ترک کرنا پڑی پھر شیام نگر 24پرگنہ کے گرولیہ ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔ ابھی درجہ نہم  ہی میں تھے کہ گھر کی مالی مشکلات کے سبب اسکول چھوڑنا پڑااوربہ حالت مجبوری میں کلکتہ کے ایک چھوٹے سے مدرسے میںدرس و تدریس کے پیشے سے منسلک ہوگئے۔ ملازمت سے جڑنے کے باوجود تعلیم سے قلبی لگاؤ ہمیشہ رہا چنانچہ 1952 میں ہگلی ہائی مدرسہ میں داخلہ لیا اور یہیں سے میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈیویژن سے1953 میں پاس ہی نہیں کیابلکہ مغربی بنگال ہائی مدرسہ ایجوکیشن بورڈ میں دوسری پوزیشن حاصل کرکے ایک ریکارڈ بھی بنا لیا۔پھر مولانا آزاد کالج سے آئی ۔ا ے فرسٹ ڈیویژ ن 1955 میں پاس کیا اور کلکتہ یونیورسٹی سے 1963 میں بی۔اے اور 1965 میں ایم۔اے (فرسٹ کلاس )کیا۔

          بقول قیصر شمیم:

’’مجھے یاد ہے کہ جوٹ مل کے جس علاقے میں میں پیدا ہوا تھا وہاں جی ٹی روڈ کے ایک طرف مزدوروں کی بستی تھی جس میں مرغیوں کے ڈربوں جیسے چھوٹے چھوٹے گھر تھے ان میں اکثریت بانس اور مٹی سے بنے ہوئے ایسے گھروں کی تھی جو بیشتر اوقات بوسیدہ رہا کرتے تھے۔میاں بیوی،بیٹے بیٹیاں، پورا خاندان ایک ہی گھر میں ٹھسا پڑا رہتا تھااورگھٹ گھٹ کر اسی طرح زندگی گزارتا تھا۔‘‘

(پہاڑ کانٹتے ہوئے،قیصر شمیم،ص۔14)

          قیصر شمیم ہوڑہ مسلم ہائی اسکول میں 1957 سے 1968 تک بحیثیت استاد اپنے فرائض بخوبی انجام دینے کے بعد 16؍اپریل 1968 سے سی۔ایم۔او۔ ہائی اسکول کلکتہ میں درس و تدریس سے منسلک ہوگئے۔عارضی طور پر خضر پور کالج (ایوننگ)میں بحیثیت لیکچرار بھی رہے ، مو صوف مولانا آزاد کالج اور کلکتہ یونیورسٹی کی طرح عالیہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں بھی جزوقتی لیکچرر رہ چکے تھے۔

          ان کی ادبی زندگی کا آغاز 1950 میں افسانہ نگاری سے ہوا لیکن انھیں شہرت بحیثیت شاعر نصیب ہوئی ۔نظم و غزل دونوں اصناف پر انھیں عبور حاصل تھا ۔ان کا رجحان ہمیشہ ترقی پسندانہ رہا ۔مگر کچھ ہی عرصہ کے بعد ان پر ’جدیدیت ‘ کارنگ بھی غالب آگیا تھا۔قیصر شمیم صاحب کو بچپن ہی سے شعر و شاعری کا شوق تھا۔شروع شروع میں انگس کی نسبت سے عمید انگسی کے قلمی نام سے لکھتے تھے لیکن 1957 کے بعد مظہر امام کے مشورے سے قیصر شمیم کے قلمی نام سے لکھنے لگے اور قیصر تخلص کیا۔

وہی  پیاس  کا  منظر  وہی  لہو  قیصر

ہنوزپھرتی ہے کوفے کی نہر آنکھوں میں

          ان کی ابتدائی زندگی مشترکہ تہذیب و کلچرمیں گزری جن کا ان کی شخصیت پر بھر پور اثر ہے۔ان کی شہرت ہندو پاک کے ساتھ ہی بنگلہ دیش تک پھیلی ہوئی ہے۔موصوف غزل،نظم،اور گیت پر یکساں قدرت رکھتے ہیں۔شاعری میں انھوں نے پہلے علامہ مہدی لکھنوی کے شاگرد مولوی شمس الہدیٰ مظفر پوری سے اصلاح لی پھر پروفیسر عباس علی بیخود سے مشورہ سخن کرنے لگے ۔بعد از یونیورسٹی کے زمانے میں چند غزلوں پر پروفیسر پرویز شاہدی سے بھی مشورہ سخن لیا۔

          موصوف کو اردو،ہندی،انگلش اور بنگلہ زبان میں دسترس حاصل تھی۔اس لیے ان کی نظموں میں گہرائی وگیرائی ملتی ہے۔نظموں کے عنوان سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ پیچیدہ موضوع سے لبریز ہیں۔ان کی نظمیں نہ ترقی پسندی سے انحراف کرتی ہیں اور نہ ہی جدیدیت سے، بلکہ دونوں کا ملا جلا امتزاج ان کی نظموں میں دیکھا جاتا ہے۔جیسے سجدہ،پہاڑ کٹنے تک،نئے کوہ کاف کی کھوج،زیر دیوار،مجھے چھوڑو،دردآنسو مسکان،مجھے دکھ ہے،بنتی کے دو بول،عید مناؤ،نیا سال،ایک سوال،سر راہے،یہ وہ سر زمیں ہے، اپمان،آدمی اور آئینہ،وہ شام،کیا تم پرچھائیںتھے،یہ سپنا کب پورا ہوگا، میرا ساتھ کہاں تک دو گے، مگر قدرشناسی،قلم کا سپاہی ،ہمارے اپنے لہو کا حصہ،خود کشی کرنے والے کے نام،نیلسن منڈیلا کے نام، ایک صبح، ملن، خلیج، آج کا انسان،آئینہ آب،تاش کے پتے،گمشدگی بے وجودی،انتظار،ایک دن اور ملا،امل کانتی وغیرہ اہم ہیں۔قیصر شمیم کی شاعری کا آغاز اس وقت ہوا جب وہ پانچویں جماعت کے طالب علم تھے،کیسے ہوا؟اس کی تفصیل انھیں کی زبانی ملاحظہ فرمائیں:

’’مجھے یاد ہے کہ 1946 میں جس دن سالانہ امتحان کے نتائج سنائے  جانے والے تھے۔میں پانچویں جماعت کی حیثیت سے کلاس روم میں اپنے ہم سبق لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر ہیڈ ماسٹر صاحب کے آنے اور ان سے اپنا نتیجہ سننے کا انتظار کر رہا تھاجیسے جیسے وقت گزرتا جاتا تھامیری گھبراہٹ اور پریشانی بڑھتی جاتی تھی۔خوف تھا کہ ناکام ہونے پر گھر میں بہت سخت سزا ملے گی ۔اسی عالم میں خاموشی کے ساتھ اللہ سے دعا کرنے لگا،یا اللہ مجھ پر رحم کراس بار کسی طرح کامیاب کردے یا اللہ،کامیاب ہوجاؤںگا تو روزانہ قرآن کی تلاوت کروں گا،پنج گانہ نمازیں پڑھوں گا،رمضان میں روزے بھی رکھوں گا ،یا اللہ اب جی لگاکرپڑھوں گا، پڑھنے سے جی نہیں چراؤں گا،صرف اس بار مجھے کامیاب کر دے اللہ۔میں اسی طرح دعا مانگنے میں کھویا ہوا تھا کہ ہیڈ ماسٹر صاحب کمرے میں آگئے چاروں طرف سناٹا چھا گیا اور نتائج سنائے جانے لگے ،تھوڑی ہی دیر میں جب ہیڈ ماسٹر صاحب کی زبان سے میرے رول نمبر کے ساتھ پاس لفظ ادا ہوا تو بے حد خوشی ہوئی کہ اللہ نے میری سن لی لیکن اس کے بعد حیرت کے ساتھ خوشی کی ایک دوسری لہر میرے دل میں پیدا ہوئی ،میں نے دیکھا کہ ڈسک پر میری کاپی کھلی پڑی تھی،جس پر پنسل سے ایک نظم کی صورت میں وہی تمام باتیں درج تھیں جو میں دل ہی دل میں اللہ سے دعا کرتے ہوئے کہہ چکا تھا ۔ اسے دیکھ کر مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ میں شاعری کر سکتا ہوں ۔کاش وہ نظم میرے پاس محفوظ ہوتی تواسے اشاعت کے لیے کہیں نہ کہیں ضرور دیتاکہ وہ نظم جیسی بھی تھی میری نظم نگاری کا نقطہ آغاز تھی۔‘‘

          (پہاڑ کاٹتے ہوئے،قیصر شمیم،ص۔13۔14)

          قیصر شمیم کی پوری عمر مغربی بنگال کی سرزمین پر اردو ادب بالخصوص شاعری کی ریاضت میں گزری ہے۔ان کی تحریر کردہ کتابوں میں ساعتوں کا سمندر(1971)،تری دھارا(1994)،سانس کی دھار (1997)، پہاڑ کاٹتے ہوئے(1998) اور زمین چیختی ہے(2021) اہمیت کی حامل ہیں۔یہ صرف قیصر شمیم کے شعری مجموعے ہی نہیں بلکہ ایک شاعر کی زندگی کی رودادہیں۔ان کا شمار دور جدید کے ان شعرا میں ہوتا ہے جو قاری کو فکر و عمل کی دعوت دیتے ہیں۔ان کی شاعری نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے جو گہرائی و گیرائی سے مزین ہے۔انھوں نے اپنی شاعری میں ذات کے علاوہ سماج و معاشرہ  اورکائنات کے اسرار و رموز سے بھی اپنا رشتہ استوار کیا ہے موصوف اپنی شاعری کے متعلق کچھ اس طرح کا خیال رکھتے ہیں ملاحظہ فرمائیں:

’’میری شاعری نہ آباؤاجد اد کا ورثہ ہے نہ استاد کا عطیہ ،شاعری میراپیشہ بھی نہیں ہے اورسنڈے پینٹرزکی اتوار کا مشغلہ بھی نہیں میرے نزدیک شاعری’ساعتوں کے سمندر ‘میں ڈوبتے ابھرتے ہوئے ہاتھ پاؤں مارتے رہنے کے عمل سے ملتا جلتا ایک عمل ہے لیکن سخت تراور لطیف۔‘‘

(ساعتوں کا سمندر،قیصرشمیم،ص۔6)

          قیصر شمیم کا پہلا شعری مجموعہ’ــ ساعتوں کا سمندرـــ ‘1971 میں اردو اور دیوناگری رسم الخط میں شائع ہوا تھا۔اس میں غزلوں کے ساتھ سولہ نظمیں بھی ہیں۔’ــ ساعتوں کا سمندر‘ میں نظموں کی ایک مخصوص فضاہے۔مصنف نے ان نظموں میں ایمائیت کے پہلو بہ پہلو اپنی آواز کی صداقت کو  بلند آہنگ عطا کیا ہے۔

          قیصر شمیم کا دوسرا شعری مجمو عہ ’تری دھارا ‘ہے جو دیوناگری رسم الخط میں (1994 ) ڈاکٹر ہزی کنور کی وساطت سے منظر عام پر آیا اس میں 45 نظموں کے علاوہ گیت اور غزلیں بھی شامل ہیں۔ان نظموں اور گیتوں کا معیار اعلی ہے،یہ گیت نہ صرف موسیقی ریز اور فکر آسا ہیں بلکہ شاعری کی دردمندی ہر لفظ میں نگینے کی طرح جڑی ہوئی ہے۔گیت کے یہ ٹکڑے دیکھیں:

کیسے عید مناؤں ساجن

کیسے عید مناؤں

ساتھ تمھارا چھوٹ گیا ہے

بن کے قسمت بگڑگئی ہے

میری دنیا اجڑ گئی ہے

اب روؤں یا گاؤںساجن

کیسے عید مناؤں

          (پہاڑ کاٹتے ہو یٗ ،قیصرشمیم،ص۔155)

          سانس کی دھار‘قیصر شمیم کا تیسرا شعری مجمو عہ ہے جو 1997 میں     منظر عام پر آیا ،یہ مجمو عہ اردو رسم الخط میں ہے۔’سانس کی دھار‘ موصوف کا ایک ایسا شعری مجموعہ ہے جس کے مطالعہ سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف شاعری کے تمام فن و علوم سے واقفیت رکھتے ہیں۔ایک اہم اور بڑے شاعر کے تمام امکانات ان کے یہاں موجود ہیں۔’سانس کی دھار‘ میں ایک سو غزلیں ہیں جن کا انتخاب 1951 سے 1996 تک کے کلام سے دستیاب کیا گیا ہے،یعنی مصنف نے اپنے تخلیقی سفر کی مختلف روداد کو غزل کے پیرایے میں سمودیا ہے۔اس میں ان کے تجربات ،حیات و کائنات کے معاملات اور ان کے قلبی واردات کی داستان ان کی غزل کی مبادیات ہیں۔ان کی شاعری میں نبض زیست کی دھڑکنیں ہیں،جذبات میں خلوص اور بیان میں سنجیدگی ہے ان کی شاعری ان کی شخصیت کی غماز ہے۔

          قیصر شمیم ادب کے اس روشن و تابندہ ستارے کا نام ہے جو آسمان ادب میں کسی تعارف کا محتا ج نہیں ہے۔ان کا شمار بین الاقوامی سطح پر ہوتا ہے۔ملک کے بیشتر رسائل و جرائد کے علاوہ بیرونی ممالک میں بھی ان کا کلام شائع ہوتا رہا ہے ۔2006 انجمن اردو فروغ برطانیہ لندن میں موصوف کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا تھا۔ڈاکٹرشارب ردولوی کی کتاب ’گل صد رنگ‘  میںملک کے پانچ سو شعرائ کی غزلوں میں موصوف کی بھی دو غزلیں شامل ہیں۔ایودھیا گوئل کی کتاب’نئے موڑ‘ میں بھی موصوف کی دو غزلیں شامل ہیں۔اس کے علاوہ ماہنامہ ’تحریک ‘ سے شائع شدہ شاعری کا انتخاب ’شہزادہ‘ میں بھی ان کا کلام شامل ہے۔جمشید پور سے شائع ہونے والے ’انتھالوجی گلوب‘ میں مع تعارف ان کی غزلیں شامل ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر مظفر حنفی مرحوم کی غزلوں کا انتخاب ’روح غزل ‘ میں بھی قیصر شمیم کی غزلیں شامل ہیں۔

          قیصر شمیم متعدد اعزازات و انعام سے بھی نوازے جا چکے ہیں: جن میں مغربی بنگال اردو اکیڈمی کا مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی ایوارڈ (1996)، بنگلہ رسالہ’ابھینواگرنی،سنیہہ لتا چودھری میڈل(1997)، ’سانس کی دھار‘پر مغربی بنگال اردو اکیڈمی کاانعام(1997)،’پہاڑ کاٹتے ہوئے‘پرمغربی بنگال اردو اکیڈمی کا انعام(1998)،بھارتیہ بھاشا پریشد کلکتہ کا سلور جبلی اعزاز(1999)وغیرہ اہم ہے۔      

 ہوں آپ زمانے میں سرفراز زیادہ

اللہ کرے اور بھی اعزاز زیادہ

          قیصر شمیم کاا فسانوی سفر1951 سے 1960 پر محیط ہے ۔ابتدائی دنوں میں انھوں نے رومانی افسانے لکھے لیکن بعد کے افسانے معاشرتی اور نفسیاتی نوعیت سے لبریز تھے ۔ان کا پہلا افسانہ’وہ لڑکی‘ کے عنوان سے1951 میںدہلی کے ہفتہ وار ’پارس‘ میں شائع ہوا تھا۔ماہنامہ’ صبح نو‘ میں بھی ان کے افسانے’ٹوٹ گئی پتوار‘اور ’دھندلے آئینے‘ شائع ہوئے تھے۔ان کا افسانہ ’’بر‘‘اتنا مشہور ہوا کہ ماہنامہ’پگڈنڈی‘ امرتسر،صبح نو کے علاوہ دوماہی ’چراغ راہ‘ میں بھی شائع ہوا ۔

          قیصر شمیم بحیثیت مترجم بھی اپنا ایک الگ مقام رکھتے ہیں۔انھوں نے بنگلہ ،ہندی،اور انگریزی زبان سے ادب کے قیمتی اثاثوں کو اتنی آسان اور سہل زبان میں اردو میں منتقل کیا ہے کہ ترجمہ کے بجائے ان کی تصانیف معلوم ہوتے ہیں۔ان کے ترجمہ شدہ مضامین روزنامہ ’آبشار‘، ماہنامہ ’نکہت(الہ آباد)،آج کل( دہلی)،پگڈ نڈی (امرتسر)، اجالا (کلکتہ)، اور انگریزی ہفت روزہ  (Struggle)وغیرہ میں تسلسل کے ساتھ شائع ہوتے رہے ہیں۔بحیثیت مترجم انھوںنے ’’آزاد ہند‘‘،’اقدار‘،اور ’’ہوڑہ ٹائمز‘‘وغیرہ اخبارات میں بھی اپنے صحافتی فرائض انجام دیئے تھے۔قیصر شمیم صاحب کی شاعری ان کی روح کے کرب و تذبذب کی ترجمانی کرتی ہے جس کا بخوبی اندازہ ان کے درج ذیل شعر سے کیا جاسکتا ہے ملاحظہ فرمائیں:

مرے قلم سے ٹپکتا ہے میرے دل کا لہو

مری نگاہ  میں ہیں ماہ و سال کے پیکر

          جناب قیصر شمیم ایک خوش مزاج ،ملنسار انسان دوست اور باوقار شخصیت کے مالک تھے ۔اس ناچیز کو ادبی محفلوں میں ان سے ملنے کا موقع میسر ہوا ،موصوف ہمیشہ نیک مشوروں سے نوازتے تھے۔ان کے گزر جانے سے سر زمیں بنگالہ کی ادبی محفلوں میں اداسی طاری ہوگئی ہے۔ادب سے ان کی بے لوث محبت ،ان کی ادبی کاوشیں ہمیشہ ہم سب کے دلوں میں زندہ و پابندہ رہیں گی اور ادب کے طالب علموں کو ان کی ادبی کاوشیں ہمیشہ فیض یاب کرتی رہیں گی۔ قیصر شمیم کی ذات ارض بنگالہ کی آبرو ہے جو علم و ادب کے چراغوں کو ہمیشہ روشن کرتی رہے گی۔

کتابیات

1۔ساعتوں کا سمندر،قیصرشمیم،سپرنا پبلی کیشنز،شیب پورہوڑہ،1971

2۔تری دھارا،قیصر شمیم،سپرنا پبلی کیشنز،شیب  پورہوڑہ،1994

3۔سانس کی دھار،قیصر شمیم،عرفان گرافکس،شیب پور ہوڑہ،1997

4۔پہاڑ کانٹتے ہوئے،قیصر شمیم،عرفان گرافکس،شیب پور ہوڑہ،1998

5۔اور زمین چیختی ہے،قیصر شمیم،عرفان گرافکس،شیب پور ہوڑہ،2021



 

Ms. Sufia Mahmood

Research Scholar

Dept. of Arabic, Persian, Urdu

Bhasha Bhawan

Vishwabharti University

Shantiniketan-731235 (W.B)






رضیہ سجاد ظہیربحیثیت خاکہ نگار - مضمون نگار : ڈاکٹر بی بی رضا خاتون

 



’’نوع انسان کا دلکش ترین مرکز مطالعہ ہمیشہ سے انسان رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔‘‘ ادب کی دو اصناف سوانح اور خاکے ہمیں انسان سے متعارف کراتی ہیں۔ خاکہ شخصیت کی عکاسی کا نام ہے۔ اچھا خاکہ دراصل کسی شخصیت کا معروضی مطالعہ ہے۔۱؎ عموماً  مختلف شعبۂ حیات میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے کامیاب اور نامور لوگوں کے خاکے لکھے جاتے ہیں۔ کامیابی کو ناپنے کا ہمارا پیمانہ دولت اور شہرت ہے۔ کیا ایک معمولی اور عام آدمی کا بھی خاکہ لکھا جاسکتا ہے؟ جواب ہے ہاں۔ مولوی عبد الحق نے نام دیومالی اور رشید احمد صدیقی نے ’’کندن‘‘ چپراسی کا خاکہ لکھ کر اس کلیشے کو توڑا کہ کسی عظیم علمی یا ادبی شخصیت کا ہی نہیں بلکہ معمولی انسان کا بھی خاکہ لکھا جاسکتا ہے۔ رضیہ سجاد ظہیر کے خاکوں میں زیادہ تر عام اور معمولی انسان ہیں، لیکن مصنفہ کی ذوقِ نظر ان میں کچھ ایسی خوبیاں اور ایسے گُر ڈھونڈ نکالتی ہے جو انھیں بے حد خاص بناتے ہیں۔ عام انسان کے حوالے سے ’’آبِ گم‘‘ میں مشتاق احمد یوسفی نے بہت خوبصورت بات لکھی ہے:

’’ان میں جو کردار مرکزی، ثانوی یا محض ضمنی حیثیت سے ابھرتے ہیں، وہ سب کے سب اصطلاحاً بہت ’’عام‘‘ اور سماجی رتبے کے لحاظ سے بالکل ’’معمولی‘‘ ہیں، اسی لیے خاص التفات اور تامّل چاہتے ہیں۔ میں نے زندگی کو ایسے ہی لوگوں کے حوالے سے دیکھا، سمجھا، پرکھا اور چاہا ہے۔ اسے اپنی بدنصیبی ہی کہنا چاہئے کہ جن ’’بڑے‘‘ اور ’’کامیاب‘‘ لوگوں کو قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا، انھیں بحیثیت انسان بالکل ادھورا، گرہ دار اور ایک رُخا پایا۔ کسی دانا کا قول ہے کہ جس کثیر تعداد میں قادرِ مطلق نے عام آدمی بنائے ہیں، اِس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں بنانے میں اُسے خاص لطف آتا ہے، و گر نہ  اتنے سارے کیوں بناتا۔ اور قرن ہا قرن سے کیوں بناتا چلا جاتا۔ جب ہمیں بھی یہ اتنے ہی اچھے اور پیارے لگنے لگیں تو جاننا چاہئے کہ ہم نے آپ کو پہچان لیا۔‘‘

(آب گم، ص 23)

رضیہ سجاد ظہیر کے خاکوں میں سے اکثر کردار ایسے ہیں جنھیں ہم زبانِ عام میں عام آدمی کہتے ہیں۔ ان خاکوں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہر عام انسان میں کوئی نہ کوئی خاص بات ضرور ہوتی ہے، لیکن اسے دیکھنے اور سمجھنے کے لیے بصارت کے ساتھ ساتھ بصیرت درکار ہے جو رضیہ سجاد ظہیر میں بدرجۂ اتم موجود ہے۔ ان کی انسان دوستی ، روشن خیالی ،وسیع النظری،‘ انسان کو دولت، شہرت، طبقے، مذہب اور سماجی رتبے سے پرے دیکھتی ہے۔ وہ انسانیت اور اعلیٰ اقدار کو افضل تصور کرتی ہیں۔

رضیہ سجاد ظہیر کے خاکے نہایت سادہ اور دلکش ہوتے ہیں۔ تکلف اور تصنع سے پرے یہ خاکے انسان کی ان بنیادی خصوصیات اور اوصاف کو پیش کرتے ہیں جو ایک انسان کو صحیح معنوںمیں انسان بناتے ہیں۔ خاکوں میں اصحابِ خاکے سے ان کا خلوص اور وابستگی ان خاکوں کو موثر بناتی ہے۔

شرافت، نیک نفسی، قلندرانہ صفت، بے نیازی، وفاداری، جذبۂ ایثار، اپنے کام سے بے انتہا شغف، استغنائ (قناعت)،بے لوث محبت، احساسِ ذمہ داری، ، وسیع النظری، فراخ دلی، دوسروں کے دکھ درد کا احساس، دردِ دل، احترامِ انسانیت جیسے اوصاف کے حامل ان کے خاکے انسان دوستی کے آفاقی تصور کو پیش کرتے ہیں۔

رضیہ سجاد ظہیر کی دو تصانیف ’’اللہ دے بندہ لے‘‘ اور ’’زرد گلاب‘‘ ایسی ہیں جن میں افسانے اور خاکے دونوں شامل ہیں۔دراصل رضیہ سجاد ظہیر کے خاکوں اور افسانوں میں فرق کرنا بڑا مشکل ہے۔ اکثر افسانوں میں ایک مرکزی اور نمایاں کردار ہوتا ہے اسی کے اردگرد کہانی گھومتی ہے جس پر خاکے کا گمان ہوتاہے اور خاکوں میں افسانوی رنگ پایا جاتا ہے۔

’’اللہ دے بندہ لے‘‘ میں بادشاہ، نیچ، نگوڑی چلی آوے ہے، رئیس بھائی، سورج مل، اللہ دے بندہ لے، اب پہنچا نو، راکھی والے پنڈت جی، لاوارث، تلی تال سے چینا مال تک، انتظار ختم ہوا انتظار باقی ہے وغیرہ ایسی تحریریں جو خاکہ کی تعریف پر پوری اترتی ہیں اور ان کا دوسرا افسانوں اور خاکوں کا مجموعہ ’’زرد گلاب‘‘ ہے جس میں لنگڑی ممانی، ستون، ایک یاد وغیرہ خاکے شامل ہیں۔

رضیہ سجاد ظہیر عام طور پر عام انسان کہلانے والی شخصیتوں کی منفرد اور نمایاں خصوصیات کو اس خوبی سے بیان کرتی ہیں کہ ان کی مکمل اور متحرک تصویریں آنکھوں کے سامنے آجاتی ہیں۔ ان کرداروں کی وضع قطع، رکھ رکھاؤ، عادات و اطوار، سیرت و افکار کی عکاسی قاری کو متاثر کرتی ہے اور اس تاثر ہی میں خاکہ کی کامیابی کا راز مضمرہوتا ہے۔

’’اللہ دے بندہ لے‘‘ کا پہلا خاکہ ’’بادشاہ‘‘ ہے۔ اس خاکے کوپڑھتے ہوئے رشید احمد صدیقی کے خاکے ’’کندن‘‘ اور مولوی عبد الحق کے خاکے ’’نام دیو مالی‘‘ کی یاد آجاتی ہے۔ اوصاف حمیدہ کا تعلق کسی مذہب، ذات یا طبقے سے نہیں ہے بلکہ یہ کسی بھی انسان میں ہو سکتی ہیں۔ کسی بھی سماج میں زندگی کے نظام کو برقرار رکھنے میں ہر چھوٹے اور بڑے کام کی اتنی ہی اہمیت ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہندوستانی سماج میں جس طرح طبقاتی نظام قائم کیا گیا ہے، جسے اعلیٰ طبقہ اور نچلا طبقہ کہا جاتا ہے اسی طرح پیشوں کے اعتبار سے بھی سماج کو اعلیٰ اور ادنیٰ طبقوں میں بانٹا گیا ہے۔ لیکن اعلیٰ انسانی قدروں کی حامل رضیہ سجاد ظہیر انسان کو بحیثیت انسان پرکھتی ہیں اور جنھوں نے انھیں متاثر کیا کسی تفریق کے بغیر انھیں اپنے خاکوں کا موضوع بنایا۔ اُن کی اچھائیوں، ایمانداری، دردمندی، قناعت پسندی، خود اعتمادی، ہنر مندی اور انسان دوستی جیسے اوصاف کو اپنے خاکوں میں اجاگر کیا ہے۔

بادشاہ عرف بابو لال کی قلندرانہ صفت، استغنا، خود اعتمادی اور ہنر مندی اسے ایک دلچسپ کردار بناتی ہے۔ وہ ہر فن مولا ہے، کرسیاں بھی بن دیتا ہے، مستری کا کام بھی کرتا ہے، پلمبر کاکام بھی۔ اسی طرح کے مختلف چھوٹے بڑے کام بخوبی انجام دیتا ہے۔ اپنے کام کو نہایت ایمانداری، انہماک اور دلجمعی سے انجام دیتا ہے اور اپنی اجرت سے ایک پیسہ بھی بڑھ کر نہیں لیتا اور کوئی دینے لگے تو کہتا ہے کہ اللہ نے مجھے بہت دیا ہے کہاں رکھوں گا۔ بازار میں سڑک کے کنارے ایک چھوٹی سی دکان ہے اور اسی سے متصل ایک جھونپڑی جو اس کی کل کائنات ہے۔ اس کے گھر میں کوئی اور نہیں ہے سوائے ایک پالتو بلی کے۔ اس کا ایک عزیز رشتے دار کی طرح خیال رکھتا ہے۔ اسے اپنا کام کر کے طمانیت کا احساس ہوتا ہے۔ قناعت سے جو ذہنی آسودگی ملتی ہے وہ امیری غریبی سے پرے انسان کو قلبی سکون عطا کرتی ہے۔ مصنفہ لکھی ہیں:

’’بابو لال تم واقعی بادشاہ ہو۔ بھلا بادشاہوں کو بھی یہ نیند کہاں میسر؟ یہ تو اسی کا حصہ ہے جس کے دل میں قناعت کا نور ہو، سر میں ہنر اور محنت کا غرور، پھر وہ چاہے چیتھڑوں میں لیٹا ہو مگر وہ بادشاہ نہیںتو پھر کون بادشاہ ہے۔‘‘

بابو لال کی زبان میں لکنت ہے۔ وہ ہکلاتا ہے، لیکن لکنت ِزبان کا اس کی خود اعتمادی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ وہ کہتا ہے کہ میرا دماغ زیادہ تیز چلتا ہے۔ زبان اس رفتار کا ساتھ دینے سے قاصر ہے اسی لیے لڑکھڑا جاتی ہے۔ بابو لال بظاہر انپڑھ سا معمولی انسان ہے لیکن اس کی فکر بڑی ہے۔ مذہبی تعصب اور نفرت سے بیزار انسانیت کا پرستار ہے۔ مصنفہ جب اس سے اس کے مذہب کے بارے میں سوال کرتی ہیں تو وہ کہتا ہے:

’’میرا نام ہے بابو لال۔ بابو لال کے معنی سمجھتی ہو؟ ب ب بابو کا بیٹا۔ تم کو جئے ہند تو کیا تھا م م مسلمان ہوتا تو سلام کرتا۔ ہندو ہوتا تو نمسکار۔ م م میں نے کہا دونوں کو گ گ گولی مارو، جئے ہند س س سب سے اچھا…۔‘‘

رضیہ سجاد ظہیر نے جن لوگوں کے خاکے لکھے ہیں ان میں زیادہ تر وہ شخصیات ہیں جنھیں وہ بچپن سے جانتی تھیں اور یہ شخصیات ان کی یادداشت کا حصہ بن گئی تھیں۔ گویا ان میں بہت سے خاکے ان کے بچپن کی یادوں کی لفظی تصویریں ہیں، جس میں عقیدت، احترام، محبت، دوستی جیسے جذبات کارفرما ہیں۔ انھوں نے ان خاکوں میں اپنی قوتِ تخلیق اور فنی بصیرت سے جان ڈال دی ہے۔

اس نوعیت کے خاکوں میں راکھی والے پنڈت جی، رئیس بھائی، سورج مل، اللہ دے بندہ لے (فخرو)، لنگڑی ممانی، نگوڑی چلی آوے ہے (جِلّو خالہ)، ایک یاد (ابراہیم)، ستوں (امیر خاں) وغیرہ ہیں۔ آس پاس کی دنیا کے یہ وہ کردار ہیں جن کی شخصیت کے کسی نہ کسی پہلو نے رضیہ سجاد ظہیر کو اس قدر متاثر کیا اور وہ ان کے ذہن و دل میں ایسے بس گئے کہ ان کے لاشعور کا حصہ بنے رہے۔ جب انھوں نے کاغذ قلم کو اپنا ذریعۂ اظہار بنایا تو بچپن کی یادوں کے گلیاروں میں بسنے والے ان کرداروں کو صفحۂ قرطاس کی زینت بنایا۔

راکھی والے پنڈت جی کے خاکے میں رضیہ سجاد ظہیر نے اپنے گھر کے ماحول اور اس میں پائی جانے والی مذہبی ہم آہنگی و رواداری کے بے حد حسین منظر پیش کیے ہیں۔ وہ گنگا جمنی تہذیب کی پروردہ تھیں۔ ان کے گھر میں راکھی کا تیوہار بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا تھا۔ اصل میں ان کے والد کی بہن کا جوانی میں انتقال ہو گیا تھا۔ مصنفہ کہتی ہیں:

’’اس لیے ابا کو بہنیں بنانے کا بڑا چاؤ تھا۔ ان کی دو ہندو بہنیں بھی تھیں جو راکھی کے دن خاص کر آیا کرتی تھیں۔‘‘

اس دن ان کے گھر میں بڑی چہل پہل ہوا کرتی تھی۔ بہنوں کو تحفے کے طور پر دئیے جانے والی تھال صبح ہی سے سجائے جاتے، جن میں ریشمی بنارسی کپڑے اور ان کے بچوں کے کھلونے اور چوڑیاں، جھنڈولے ناریل، سندور، مہندی اور سوکھے میوے وغیرہ رکھے جاتے تھے۔ پنڈت جی مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لیے راکھیاں لے کر آجاتے تھے۔اورانھیں بھی نذرانے کے طور پر بہت سارا سامان دیا جاتا تھا۔سماجی رشتوں کے تانے بانوں سے بُنا گیا یہ کہ خاکہ پنڈت جی کے حوالے سے اس دور کے انسانوں کی بے تعصبی، احترام مذاہب کے ذریعے احترام انسانیت کی فلاسفی سے روشناس کراتا ہے۔

حساب میں کچے رئیس بھائی کا خاکہ نہایت مختصر ہے۔ اس میں ان کی حساب کے مضمون میں کم فہمی کو شگفتہ اندازپیش کیا ہے۔ دن رات کی محنت کے باوجود میٹرک میں حساب کے پرچے میں کامیابی حاصل نہ کر سکے۔ نوکری کی تلاش میں بمبئی چلے گئے اور وہاں سے ماسٹر صاحب جو مصنفہ کے والد ہیں ان کے نام خط لکھا کہ انھیں سو روپئے ماہانہ تنخواہ کی نوکری مل گئی ہے اور خط میں یہ بھی اطلاع دی کہ ان کی تنخواہ میں پانچ روپیہ سالانہ ترقی ہوگی اور یہ آٹھ سو تک جائے گی۔ تو انھوں نے کہا کہ جب آٹھ سو روپئے ہو جائے گا تو اجمیر آپ سے ملنے آؤں گا اور بی بی (مصنفہ جو اس وقت بچی تھیں) کے لیے گڑیا اور کھلونے لاؤں گا۔ اس کردار میں Common Sense کی کمی ہے اور حساب میں کمزوری سے لطیف مزاح پیدا کیا ہے۔ وہ یہ بھول گئے کہ پانچ سو روپئے سالانہ کی ترقی میں آٹھ سو روپئے تنخواہ ہونے تک کتنے برس بیت جائیں گے اور یہ چھوٹی سی بچی، بچی نہیں رہے گی۔

سورج مل مصنفہ کے والد کے کالج میں چپراسی ہے، گھر کا کام بھی کرتاہے۔ اس میں راجپوتانہ شان اور وضع داری باقی ہے۔ وہ اپنے فرض کو نبھاتے ہوئے اپنی جان کی بازی لگا دیتا ہے۔ سورج مل، اس معمولی سے کردار میں خاکہ نگار نے زندگی کو پیش کیا ہے۔ مصنفہ بچپن میں ان سے کہانیاں سنا کرتی تھیں۔ وہ راجپوتوں کی بہادری، عورتوں کی عزت کرنے کا انداز، وعدہ وفائی اور دوستی کے قصے سنایا کرتے تھے۔ خاکہ نگار نے اپنے بچپن کے ایک واقعے کے ذریعے ان کے کردار ان اوصاف کو نمایاں کیا ہے۔ سورج مل نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر مصنفہ کے خاندان کی جان بچائی اور ان کی ماں کی پردہ داری کا مان رکھا۔

ایک موقع پر جب خاکہ نگار کی والدہ پردے کے اندر بگھی پر جارہی تھیں تو اس کا پہیہ الگ ہو گیا اور ان کی والدہ بھی گھبراہٹ میں گاڑی کا دروازہ کھول کر کودنا چاہتی تھیں کہ سورج مل کے بوڑھے مگر مضبوط ہاتھوں نے ان کو روک دیا پھر، چشم زدن میں انھوں نے نکلے ہوئے پہیہ کی جگہ اپنا کندھا لگا دیا اور گاڑی سیدھی کھڑی ہو گئی۔ وہ لکھتی ہیں کہ:

’’پھر وہ وہیں گاڑی کے نیچے سے چیخ چیخ کر اماں سے کہنے لگے کہ اترنے اور بے پردہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ عزت دنیا میں سب سے بڑی چیز ہے۔‘‘

بظاہر یہ ایک معمولی سا واقعہ ہے لیکن اس میں دوستی اور وفاداری کی کتنی عظیم مثال پیش کی گئی ہے۔

’’اللہ دے بندہ لے‘‘ ایک دلچسپ خاکہ ہے۔ فخرو ایک گھریلو ملازم ہے اور مصنفہ کے ماموں وکیل صاحب کے گھر کام کرتا ہے۔ اپنی ذمہ داری بخوبی نبھا تا ہے دوسرے بھلائی کے کام بھی کرتا ہے لیکن نماز پڑھنے سے جی چراتا ہے۔ جب بھی مالک اسے نماز پڑھنے کو کہتے ہیں وہ ایسا جواب تیار رکھتا ہے یا ایسی تاویلات بیان کرتا ہے کہ کہنے والے سر پکڑ کر پیٹھ جائیں۔ اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ اس کے پاس ایک جوڑی جوتے (بوٹ) ہوں وہ اپنی تنخواہ سے اتنے قیمتی جوتے نہیں خرید سکتا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہتا ہے اور جب مالک یہ کہتے کہ چل مسجد میں نماز پڑھ کر دعا مانگوگے تو ضرور قبول ہوگی تو وہ حجت کرنے لگتا کہ اللہ تعالیٰ تو ہر جگہ اور ہر وقت موجود ہے۔ اپنے علم کے مطابق دلائل دینے کی کوشش کرتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے کنویں سے دعا کی، حضرت یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ سے دعا کی … تو اللہ تعالی تو ہر جگہ سے کی گئی دعا سنتے ہیں اور قبول کرتے ہیں۔ جب بھی نماز کے لیے کہا جاتا وہ سرے سے انکار بھی نہیں کرتا لیکن باتیں اور بہانے بنا کر ٹال دیتا ہے۔

خیر خیر کر کے ایک دن اس کی دعائیں رنگ لائیں اور وکیل صاحب کے ایک دوست جن کا مقدمہ انھوں نے جیتا تھا فخرو کو مہنگے جوتے تحفے کے طور پر دے دیے۔ وہ جوتے پہن کر دوست کے ہمراہ مسجد کے پاس سے گزر رہا تھا کہ مالک نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ آج تو تمھیں ہر حال میں نماز ادا کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ تمھاری اتنی بڑی اور دیرینہ خواہش پوری ہوگئی۔ اس دن اس کے پاس کوئی معقول بہانہ نہیں تھا لہٰذا وہ نماز کے لیے مسجد میں داخل ہو گیا۔ نماز ادا کی اور جب واپس ہو رہا تھا تو دیکھا کہ اس کے نئے قیمتی جوتے چوری ہوگئے ہیں۔ بہت آزردہ ہوا۔ ایک دن جب مولوی صاحب وعظ کے لیے کھڑے ہوئے تو اس نے اجازت مانگی کہ مجھے کچھ کہنا ہے مولوی صاحب نے اجازت دے دی۔

’’فخرو لوگوں کو مخاطب کر کے بولا، ’’بھلے آدمیوں، نرسوں یہاں سے میرا نیا بوٹ چوری ہو گیا۔ نمازیوں کے سوا تو کوئی یہاں آتا نہ ہے سو کسی نمازی نے ہی لیا ہووے گا۔ خیر، پر میں نے سوچا کہ جس مسجد میں جوتا گیا سو ہوئیں گے پالش کی ڈبیہ اور برش بھی چلا جاوے سو وہ میں لیتا آیا ہوں اور آپ نمازیوں کو بخش دوں ہوں۔ اللہ سے دعا مانگوں گا کہ ایک بار دیا تھا سو دوسری بار بھی دیوے اور وِس کی کریمی سے کچھ دور نہ ہے۔ دیوے گا اور پھر دیوے گا۔ ضرور دیوے گا۔‘‘

(اللہ دے بندہ لے، ص130)

فخرو نماز پابندی سے نہیں پڑھتا لیکن اُسے خدا کی ذات پر کامل یقین ہے کہ وہ دعا مانگے گا تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور عطا کرے گا۔ بین السطور میں یہ سوال اٹھاتا ہے کہ جو نمازیں پابندی سے ادا کرتے ہیں انھیں اللہ تعالیٰ پر یقین کیوں نہیں ہے۔ وہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لیے چوری جیسا گناہ کرتے ہیں۔

رضیہ سجاد ظہیر اپنے خاکوں میں شخصیت کے حوالے سے کسی نہ کسی اخلاقی اور سماجی پہلو کو اجاگر کرتی ہیں،جیسے خاکہ لاوارث میں انھوں نے اپنی ٹیچر مس گنگولی کی زندگی میں تنہائی کے کرب اور گمنام موت کے ذریعے سماج کی اس تلخ حقیقت کو پیش کیا ہے جہاں اولاد عمر رسیدہ والدین کو اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتی۔ اولڈ ایج ہوم یا پھر اکیلا پن ا ن کی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔

اب پہچانو‘، ایک بھکارن کا خاکہ ہے جس سے مصنفہ کا ہر دن کا آمنا سامنا ہوتا ہے۔ مصنفہ اپنے تجربات اور مشاہدات بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیںکہ وہ صاف صفائی سے نہیں رہتی، دیکھنے والوں کو اس سے کراہت محسوس ہوتی ہے۔ وہ نہایت ڈھیٹ ہے کسی کے پیچھے پڑ جائے تو کچھ لیے بغیر پیچھا نہیں چھوڑتی۔ دکانداروں سے سامان مانگ کر، گڑگڑاکر یا ہٹ دھرمی سے لے لیتی ہے۔ کوئی اسے خیرات نہ دے تو اسے جی بھر کے گالیاں دیتی ہے، کوستی ہے۔ اس کی یہ تمام حرکتیں مصنفہ کے دل میں اس کے لیے نفرت سی پیدا کرتی ہیں۔ ریڈیو پر جب جنگ کی خبریں نشر ہوتیں تو وہ بہت دھیان سے خبریں سنتی تھی۔ جنگ کے زمانے میں عوام سے امداد کی گزارشیں کی جانے لگیں۔ چندہ اکھٹا کرنے کے لیے ایک دن خواتین کے ایک بہت بڑے اجتماع کاانعقاد عمل میں آیا۔ جہاں دولت مند خواتین سینکڑوں، ہزاروں روپیوں کا چندہ دے کر داد و تحسین وصول کر رہی تھیں۔ وہیں یہ بھکارن اپنا زندگی بھر کا سرمایہ جسے وہ گٹھری میں باندھ کر رکھتی تھی وہ چندے کے طو رپر دے جاتی ہے۔ اسے کوئی نہیں جانتا، اس کے لیے کسی نے تالیاں نہیں بجائیں، کوئی ستائشی الفاظ اس کے لیے نہیں کہے گئے۔ نام و نمود سے بے پرواہ اس کی یہ بے نیازی قاری کو متاثر کرتی ہے۔

اس واقعہ نے مصنفہ کو جھنجھوڑ دیا کہ ہم لوگوں کے ظاہر کو دیکھ کر ان کے بارے میںرائے قائم کر لیتے ہیں جبکہ انسان کی باطن کی پاکیزگی، کشادہ دلی، سخاوت اور دردمندی کو سمجھنے کے لیے اس کی روح تک رسائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کبھی کبھی ایک واقعہ، ایک قدم، غلط فہمیوں، تنگ نظری، حقیقت سے عدم واقفیت کے سبب بنی دیوار کو مسمار کر دیتا ہے تو حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے ،انسانی فطرت کی گرہیں کھلتی چلی جاتی ہیں، کسی کو جاننے اور پہچاننے کا فرق واضح ہو کر سامنے آتا ہے۔

 اس طرح اس کے جذبے سے اس کی شخصیت کی عظمت کا احساس ہوتا ہے۔ بظاہر ایک بالکل معمولی بھکارن جسے سماج میں کوئی اہمیت حاصل نہیں لیکن اس میں جو جذبہ پیوست ہے اس کو خاکہ نگار نے بڑے پر اثر انداز میں پیش کیا ہے۔

لنگڑی ممانی زرد گلاب کا سب سے عمدہ خاکہ ہے۔ ممانی پورے خاندان اور محلے میں ایک باوقار اور مخلص انسان کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ اس کردار کی وضع داری، خودداری، دردمندی، چھوٹوں سے شفقت اور محبت، نوجوانوں سے رعب و تمکنت اور بزرگوں سے اپنائیت اور خلوص قاری کو متاثر کرتا ہے۔ ایک رشتے کو دل سے مان لینے کے بعد پوری زندگی اس رشتے کی نذر کر دینا اس کردار کو بے مثال بنا دیتا ہے۔ ان کی شادی تیرہ برس کی عمر میں ہو رہی تھی بارات لے کر آتے ہوئے راستے میں ایک حادثے میں دولہے کا انتقال ہو گیا۔ شادی کا گھرماتم خانہ بن گیا۔ مصنفہ لکھتی ہیں:

’’اس واقعہ کے بعد، بہت سے لوگوں نے یہاں تک کہ ان کے ماں باپ نے بھی اشاروں میں ان سے کہا اور اوروں سے بھی کہلوایا کہ ان کا رشتہ کہیں اور کر دیا جائے کیونکہ وہ تو کنواری ہی تھیں۔ نکاح تک تو ہوا نہیں تھا، شادی اور رخصتی کو کون کہے۔ پر انھوں نے جو ’نہ‘ کی تو پھر ’ہاں‘ کہنے کا نام نہیں لیا۔‘‘ (زرد گلاب، ص 49)

خواتین سے متعلق رضیہ سجاد ظہیر کے خاکوں کی زبان میں نسوانی لب و لہجے کو واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ یو پی کے مغربی اضلاع کے متوسط طبقے کی گھریلو زندگی اور وہاں کی زبان اور لہجے کی انفرادیت سے مصنفہ گہری واقفیت رکھتی ہیں۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں رضیہ سجاد ظہیر کا لڑکپن گزرا۔ انھوں نے اس پوری فضا کو اس کردار کے ذریعہ سمیٹ لیا ہے۔ دراصل یہ محض ایک دلچسپ اور پُر لطف خاکہ نہیں بلکہ اس میں ایسے فرد کے جذبات کی عکاسی کی گئی ہے جو غم و الم کے ماحول میں بھی اپنے کو دوسروں کی خوشی کے لیے وقف کر دیتا ہے۔ ایسا ہی ایک خاکہ جلو خالہ کا ہے جسے مصنفہ نے صاحبِ خاکہ کے تکیہ کلام’’نگوڑی چلی آوے ہے‘‘ کو عنوان بنا کر پیش کیا ہے۔ یہ زندگی سے بھرپور ایک ایسی خاتون کا خاکہ ہے جو ہر دم ہنستی مسکراتی رہتی ہے۔ ان کا نام تو جلیل فاطمہ ہے لیکن انھیں بڑے بزرگ جِلّو، اور چھوٹے جِلّو خالہ، جلو آپا، جلو ممانی اور جلو پھوپی وغیرہ کہتے ہیں۔ یہ نہایت خوش مزاج اور زندہ دل کردار ہے۔ بات بے بات کھلکھلاکر ہنسا کرتیں ہیں۔ اس بے اختیار ہنسی پر کوئی ناراض ہوتا یا شکایت کرتا تو کہتیں کہ’’ہنسی تو نگوڑی چلی آوے ہے۔‘‘

اس بے اختیار ہنسنے کی عادت کے سبب ان کے شوہر نے انھیں طلاق دے دی، لیکن ان کی عادت نہ بدلنی تھی نہ بدلی۔ اُس واقعے کو اس طرح بیان کرتی ہیں:

’’میں نے اندر سے کُرتا لاکے تیرے خالو کو پکڑ ادیا، پھر پیڑھی پر بیٹھی اور اتّتے لوئی بنا کے چنگیر بناؤں تھی کہ کیا دیکھوں ہوں، اے کر مردوا آنگن بھر میں ناچتا پھر رہا ہے۔ ایسا ایسا اچھل رہا ہے کہ جیسے وہ سرکل آیا تھا نہ وِ س میں ایک آدمی نہ تھا جسے سب کوئی جوکر کئے رئے تھے۔ اور میں کمبخت ہنسنے لگی۔ بس اور لگا چیخنے۔ اور تم ہنسو …… ایں …… اماں نے لقمہ دیا۔

تو بھنو اب تو ہی انصاف سے بتا۔ نگوڑی ہنسی تو چلی آوے ہے۔ جب آنگن بھر میں کوئی ناچتا پھرے گا تو ہنسی نہ آوے گی۔ وہ تو کہو خیریت گزری کہ چولہے میں نہ جا پڑا۔ تو پھر اسی بات پر اس نے مجھے طلاق دے دی۔‘‘

(زرد گلاب، ص 52)

فطرتاً زندہ دل اور ہنس مکھ انسان زندگی کے بڑے سے بڑے غم کو اپنی مسکراہٹوں میں آنسوؤں کے سمندر اپنے بے لاگ قہقہوں میں چھپانے کا ہنر جانتے ہیں۔ خود ہنس کر آس پاس والوں کو ہنسانا اور ان کا غم غلط کرنا اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں۔

’’انتظار ختم ہوا، انتظار باقی ہے‘‘ سجاد ظہیر کا خاکہ ہے۔ سجاد ظہیر کی اچانک موت کا صدمہ اور زندگی بھر کبھی نہ ختم ہونے والا انتظار اس خاکے کو رنجیدہ بناتے ہیں۔ اس میں رضیہ سجاد ظہیر نے سجاد ظہیر کے معمولاتِ زندگی، عادات و اطوار، منکسر المزاجی، انسان دوستی، خوش اخلاقی، وسیع النظری اور سادہ لوحی کو بیان کیا ہے۔ ان کی شخصی زندگی کے حوالے سے لکھتی ہیں:

’’میں ان کی کچھ ایسی صفات کا ذکر کرنا چاہتی ہوں جو بادی النظر میں بالکل معمولی بات لگتی ہیں لیکن جن سے ہی دراصل ان کی عظیم شخصیت مرکب تھی۔ مثلاً اچھے کھانے کے حد درجہ شوقین ہوتے ہوئے بھی مجھے یاد نہیں کہ انھوں نے کبھی بھی بدمزہ کھانے پر نکتہ چینی کی ہو۔‘‘

(اللہ دے بندہ لے، ص 149)

ان کی خوش مزاجی کے حوالے سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

’’انھیں جوش ملیح آبادی کی ایک رباعی کے یہ دو مصرعے بہت پسند تھے:

یا احمق بے پناہ، یا مردِ حکیم

یہ دو ہی خوشی سے جی سکتے ہیں

اور اس میں کیا شک ہے کہ وہ جب تک جیئے خوب جیئے، خوشی سے جیئے، مطمئن جیئے۔ انھوں نے زندگی کی ہر خوبصورت چیز سے پیار کیا۔ حق کے لیے جستجوئے مسلسل کی۔ اپنے ضمیر کے خلاف کبھی کچھ نہیں کیا۔ کسی سے حسد، کسی سے دشمنی نہیں کی۔ انھیں وہ قلب مطمئنہ حاصل تھا جو ذہنی مسرت کی بنیاد اور روحانی عظمت کا سرچشمہ ہے۔ جدید ادب میں جو کبھی کبھار مایوسی کا ایک مریضانہ عنصر ملتا ہے۔ اس کو دیکھ کر وہ اکثر حیران رہ جایا کرتے تھے کیوں کہ خود انھوں نے زندگی اور زندگی میں نیکی کی قوت پر اعتماد کبھی نہیں کھویا۔‘‘ (اللہ دے بندہ لے، ص 171)

ان کے دیگر خاکوں میں’’ ایک یاد ‘‘ کا ابراہیم، ایک کم عمر یتیم لڑکا زندگی کی تلخیوں سے جوجھتا ہوا تھوڑی سی تفریح کے ذریعے راحت و فرحت حاصل کرنا چاہتا ہے۔’’ تلی تال سے چینا مال تک‘‘ کا ڈانڈی چلانے والا مزدور زندگی کی حقیقتوں اور سماج کے دوہرے رویّے سے واقفیت حاصل کر چکا ہے اور اس کا یہ خیال ہے کہ انسان جس کرب سے خود نہیں گزرتا اس کو سہی طور پر بیان بھی نہیں کر سکتا۔ ’’نیچ‘‘ کی شاملہ کی رام اوتار کے لیے محبت اس منزل پر پہنچ گئی ہے جہاں انسان اپنے بجائے دوسرے کی خوشی کو ترجیح دیتا ہے۔ ان خاکوں کے ذریعے مصنفہ نے ذات پات، اونچ نیچ جیسی تمام سماجی برائیوں پر کاری ضرب لگائی ہے۔ ان کی انسان دوستی، روشن خیالی، سماج میں مساوات قائم کرنے کی آرزومندی ان کے ترقی پسند خیالات کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ انسانیت اور اخلاق انسان کو بلند درجے پر رکھتے ہیں۔ عام کہے جانے والے انسانوں کو انھوں نے کیسے خاص پایا اور ایک عام اور معمولی انسان پر بھی خاکہ لکھنا کیوں ضروری ہے اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے وہ لکھتی ہیں:

’’یہ کیفیت مخصوص ان کرداروں میں ہوتی ہے جو دیکھنے میں اتنے اہم کبھی نہ لگے ہوں گے۔ نہ وہ کوئی بڑے شہنشاہ یا حاکم ہیں یا سیاست داں، نہ مصور، نہ شاعر، نہ ادیب! وہ زندگی کے وسیع صحرا کا ایک ذرہ ہیں۔ حیات کے بے پایاں سمندر کا ایک قطرہ ہیں۔ مگر یہ کون نہیں جانتا کہ ان قطروں کے بغیر نہ تو سمندر ہے اور نہ ان ذروں کے بغیر صحرا۔ یہ وہ چھوٹی چھوٹی حقیقتیں ہیں جن کو ملا کر زندگی کی عظیم حقیقت کا بے پایاں کینوس تیار ہوتا ہے۔‘‘

 (زرد گلاب، ص 106-107)

رضیہ سجاد ظہیر کے خاکے مختصر مگر جامع ہیں۔ تاثراتی نوعیت ان خاکوں میں وہ شخصیت کے تمام پہلوؤں کو پیش کرنے کے بجائے کسی ایک نمایاں پہلو کو پیش کرتی ہے جو اس شخصیت کی پہچان بن جاتے ہیں۔



 

Dr. Bibi Raza Khatoon

Assistant Professor

Dept. of Urdu

MANUU

Hyderabad-500 032 (T.S)

                  




تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...