24/3/23

ہندوستان میں اردوزبان کا مستقبل: درخشاں تاجور


 اردو زبان و ادب کے متعلق پروفیسر آل احمد سرور کا یہ بیان حیاتِ جاوداں کی حیثیت رکھتا ہے کہ:

’’اردو ادب کا لہلہاتا ہوا باغ تنہا ایک باغبان کی محنت کا ثمرہ نہیں اس کی آبیاری مختلف جماعتوں، مذاہب اور ممالک نے مل کر کی ہے اس کی تعمیر میں بہتوں نے اپنا خون پسینہ ایک کیا ہے۔ فقیروں اور درویشوں نے اس پر برکت کا ہاتھ رکھا ہے۔ بادشاہوں نے اسے منھ لگایا ہے۔ سپاہیوں نے زبانِ تیغ اور تیغ زبان دونوں کے جوہر دکھائے ہیں پھر بھی یہ جمہورکی زبان اور جمہور کا ادب ہے۔‘‘ 

(بحوالہ’ اُردوزبان و قواعد ‘(حصہ دوم) از شفیع صدیقی مکتبہ جامعہ نئی دہلی، 2008،ص 1

ان کا یہ مقولہ جس وقت میں نے پڑھا تھا وہ میری طالب علمی کا زمانہ تھا اس وقت نہ تو مجھے جمہوریت کا مطلب معلوم تھا اور نہ ہی میں اردو زبان و ادب کی تاریخ سے پوری طرح واقف تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ جیسے جیسے اس زبان سے میری رغبت بڑھی مجھے پروفیسر آل احمد سرور کے اس بیان کی معنویت کا احساس بھی ہوا اور اردو زبان کی اہمیت اور قدرو قیمت معلوم ہوئی۔ رفتہ رفتہ میں بھی اس خوبصورت زبان کی زلفِ گرہ گیر کی اسیر ہوگئی اور اب میں بھی آنند نرائن ملاکے لفظوں میں دعوے کے ساتھ یہ کہہ سکتی ہوں کہ           ؎

بزمِ ادب ہند کے ہر گل میں ہے خوشبو

ملا گل اردو کی مہک اور ہی کچھ ہے

یہ وہ زبان ہے کہ جو ہمیں تہذیب یافتہ بھی بناتی ہے اور شائستگی کا ہنر بھی سکھاتی ہے فراق گورکھپوری جو اس زبان کے عاشقوں میں سے تھے اکثر کہا کرتے تھے کہ ’’ اردو اس لیے بھی پڑھو کہ افسر بننے کے بعد افسر دکھائی دو ‘‘ 

(ماہنامہ اردو دنیا، اگست 2004، ص 5)

اردو کا اپنا ایک شاندار ماضی بھی ہے یہی وہ زبان ہے جس نے ہندوستان کی پوری جنگ آزادی کی تاریخ اپنے آپ میں سمو کر رکھا ہے۔ یہ زبان تحریکِ آزادی کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلی ہے ملک کے سیاسی افق پر ابھرنے والی ہر تحریک کی موا فقت میں نظمیںکہہ کر اسے کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اپنا تعاون دیا ہے۔ آزادی کے متوالوں کو ’انقلاب زندہ باد‘ کا ولولہ انگیز نعرہ اسی زبان نے دیا ہے           ؎

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

(بسمل عظیم آبادی)

نہیں پالا پڑا قاتل تجھے ہم سخت جانوں سے

ذرا ہم بھی تو دیکھیں تیری جلاّدی کہاں تک ہے

(محمد علی جوہر)

جیسے اشعار سے سرفروشانِ وطن کے حوصلوں کو توانائی اسی زبان نے بخشی ہے۔ عباس بیگ بریلوی عباس اسی زبان کے شاعر تھے جن کے شعر        ؎

اختر جھپک گئے ترے خالوں کے سامنے

گوروں کے پاؤں اٹھ گئے کالوں کے سامنے

کو انگریزوں نے بغاوت پر محمول کیا تھا اور انھیں پھانسی دے دی تھی۔

(1857 کے مجاہد شعرا از مولانا امداد صابری، مکتبہ شاہراہ دہلی، لکھنؤ 1959، ص 304)

بدرالاسلام بدایونی مشہور بھی اسی زبان کا شاعر تھا جسے ایک نظم کے کہنے پر سزائے موت دے دی گئی جس کا ایک مصرعہ تھا  ع

سر کمپنی کا کٹ کے پکاؤ آنے آنے میں

انھیں انگریزوں نے گولی مار کر شہید کیا تھا۔

(1857کے مجاہد شعرا از مولانا امداد صابری ص 337)

اسی زبان کے صحافی مولوی محمد باقر بھی تھے، جنھیں 1857 کی جنگِ آزادی میں انگریزوں کی مخالفت میں خبریں شائع کرنے کے جرم میں جامِ شہادت نوش کرنا پڑا تھا اور اپنی ساری جائداد سے ہاتھ دھونا پڑاتھا۔

(تحریکِ آزادی میں اردو کا حصہ از ڈاکٹر معین الدین عقیل ترقی اُردو کراچی 1976، ص 80)

بہادری پریس قائم کرنے والے سید قطب شاہ بریلوی بھی اسی زبان کے صحافی تھے جن کے پریس سے ہندوستا ن کی پہلی جنگ آزادی کو فروغ دینے کے لیے بڑی تعداد میں لٹریچر شائع ہوتا تھا انگریزوں نے ان کی بھی ساری جائداد ضبط کر لی تھی اور انھیں بہ عبور دریائے شور کی سزا دی تھی۔

(’اوراقِ زرّیں از ڈاکٹر درخشاں تاجور ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی 2017، ص75 تا 80)

یہ تو فقط چند ادبا و شعرا تھے جنھوں نے ہندوستانیوں کے ذہن ودل میں انگریزوں کے خلاف نفرت و عداوت کی چنگاریاں بھڑکا کر انھیں غیر ملکی غاصبوں کے خلاف سینہ سپر کرنے میں نہ صرف اپنا تعاون دیا بلکہ اپنا تن من دھن سب کچھ اس ملک پر خندہ پیشانی سے نچھاور کردیا۔۔ انگریز اردو کے قلمکاروں سے جو ملک میں ان کے خلاف بے اطمینانی کے جذبات بھڑکا رہے تھے حد درجہ خائف تھے اور سراسیمگی کی حالت میں انھوں نے اس زبان کا بہت سا شعری و ادبی سرمایہ ضبط بھی کیا آج بھی بہت سا مواد نیشنل اوراسٹیٹ آرکائیوز میں محفوظ ہے اور جو ہندوستان کی جنگِ آزادی میں دیے گئے اردو کے شاندار اور مثالی کردار کی گواہی دے رہا ہے۔

یہ زبان ہمارے ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی امین ہے سیکولر زم اس زبان کی خمیر میں ہے۔ یہ زبان صوفیوں اور درویشوں کی گود میں کھیلی ہے۔ خانقاہوں میں اس نے پرورش پائی ہے لہٰذا مذہبی رواداری تو اس کی روح میں سرایت کی ہوئی ہے۔ اس زبان نے ہر دور میں دلوں میں محبت کے دیپ اور اتحاد و یکجہتی کی قندیلیں جلانے کا مقدس فریضہ بھی بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیا ہے۔ غلام ہندوستا ن رہا ہو یا آزاد ہندوستان اس زبان نے اقبال کے لفظوں میں اہل وطن کو یہی پیغام دیا ہے کہ         ؎

وا نہ کرنا فرقہ بندی کے لیے اپنی زبان

چھپ کے ہے بیٹھا ہوا ہنگامۂ محشر یہاں

وصل کے اسباب پیدا ہوں تری تحریر سے

دیکھ کوئی دل نہ دُکھ جائے تری تحریر سے

ہندو مسلم اتحاد کے جذبات کو توانائی بخشنے کے لیے اردو میں دیے گئے سرسید احمد خاں کے اس بیان کا کیا کوئی مول ہے جس میں انھوں نے اہل وطن کو مخاطب کر کے یہ کہا تھا کہ

’’اے میرے دوستو! میں نے بار بار کہا ہے اور پھر کہتا ہوں کہ ہندوستان ایک دولہن کی مانند ہے اگر وہ دونوں آپس میں نفاق رکھیں گے تو وہ پیاری دولہن بھینگی ہو جاوے گی اور ایک دوسرے کو برباد کردیں گے تو وہ کانڑ ی ہو جاوے گی... اب تم کو اختیار ہے کہ اس دولہن کو بھینگا بناؤ کہ کانڑا۔‘‘ 

(مکمل مجموعہ لکچرو اسپیچنر ، مرتبہ جناب مولانا محمد امام الدین گجراتی مصطفائی پریس لاہور 1900، ص270)

لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہماری مشترکہ تہذیب کی علامت اس زبان کو صرف مسلمانوں سے جوڑ کر اس کی توہین کی جاتی ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں نے اسے اپناکر اسے سیکولر سانچے میں ڈھالنے میں معاونت کی ہے۔ فراخ حوصلگی اس زبان کی پہچان ہے تو دوسرے مذاہب کے عقائد کا احترام اس کا سرمایۂ افتخار۔ مذہبی رواداری کی جو مثالیں اس زبان نے پیش کی ہیں اس کی نظیر شاید ہی دنیا کی کوئی دوسری زبان پیش کر سکے اس کے ہندو شعرانے اگر عید، محرم، پیغمبرانِ اسلام اور شہیدانِ کربلا پر عقید ت مندانہ نظمیں کہی ہیں تو اس کے مسلم شعرا نے ہولی، دیوالی مذہبی کتابوں اور دیوی دیوتاؤں پر نظمیں کہہ کر اپنی وسیع المشربی کا ثبوت پیش کیا ہے۔ اس کے گیسوئے سخن کو سنوارنے میں جتنا حصّہ مسلمانوں نے لیا ہے اس سے کہیں زیادہ حصہ دوسرے مذاہب کے پیروکاروں نے لیاہے۔ رام نرائن موزوں، دیا شنکر نسیم، رتن ناتھ سرشار، درگاسہائے سرورجہاں آبادی،برج نرائن چکبست، تلوک چند محروم‘  پنڈت دتا تریہ کیفی بالمکند عرش ملسیانی، لبھورام جوش ملسیانی، آنند نرائن ملاّ، فراق گورکھپوری، منشی پریم چند، جگن ناتھ آزاد، نریش کمار شاد، کرشن چندر، راجندرسنگھ بیدی، پروفیسر گوپی چند نارنگ، مہندر پرتاپ چاند جیسی قدآور شخصیات نے اردو زبان و ادب کے لیے جو خدمات انجام دی ہیں وہ اس زبان کا ایسا روشن باب ہے جسے اردو زبان کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔

یہ اس زبان کی خوش نصیبی ہے کہ اردو کو صرف ایک طبقے سے جوڑنے کے خلاف غیر مسلم ادبا اورشعرا نے زبردست احتجاج کیا ہے آنند نرائن ملاّ نے اپنے کرب کو اپنے ایک شعر میں ان الفاظ میں ڈھالا           ؎

لب مادر نے ملاّ لوریاں جس میں سنائی تھیں

وہ دن آیا اب اس کو بھی غیروں کی زباں سمجھ

پروفیسر کنہیا لال کپور نے اردو کو صرف مسلمانوں کی زبان کہنے والوں کی مذمت کچھ اس انداز میں کی ہے

’’ ایک وہ زمانہ تھا کہ اردو کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا تھا۔ پھر نہ جانے کس کی نظر کھا گئی کہ اس سے نظر بچا کر نکل جانے میں ہی خیریت سمجھی جانے لگی۔ ان دنوں ارباب وطن اس سے یو ں بدکتے ہیں جیسے یہ کوئی خطرناک چیز ہو۔ ہندوستان میں اردو کی یہ حالت اس لیے ہوئی کہ اردو کے دشمنوں اور نادان دوستوں نے اسے مسلمانوں کی زبان بنا دیا۔یہ خوبصورت زبان ہندوستانی اور اسلامی تہذیب کے امتزاج سے وجود میں آئی یہ مشترکہ تہذیب کی نشانی تھی اس کی سرپرستی ہر مذہب کے لوگوں نے کی آزادی کے بعد یہ فرقہ پرستوں کی بھینٹ چڑھ گئی۔‘‘

(ماہنامہ ’’اردو دنیا‘‘ نئی دہلی، اگست 2004 ،ص 16)

اقبال اشہر نے اپنے اشعار میں ایسے لوگوں کو کچھ اس انداز میں مخاطب کیا کہ          ؎

کیوں مجھ کو بناتے ہو تعصب کا نشانہ

میں نے تو کبھی خود کو مسلماں نہیں مانا

دیکھا تھا کبھی میں نے بھی خوشیوں کا زمانہ

اپنے ہی وطن میں ہوں مگر آج اکیلی

خوش آئند بات یہ ہے کہ اب لوگوں کو یہ احساس ہونے بھی لگا ہے کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان نہیں ہے۔ 14 فروری 2004 کو قومی اردو کونسل کے سنگ بنیاد کی تقریب میں مرلی منوہر جوشی کے اس بیان کی پذیرائی اردو داں حلقے میں خوب ہوئی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ

’’اردو مسلمانوں کی نہیں ہندوستان کی زبان ہے۔ کوئی بھی زبان کسی خاص مذہبی فرقے کی نہیں ہو سکتی۔ اردو زبان ہندوستانی تہذیب اور اس کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے۔‘‘  (بحوالہ ماہنامہ اردو دنیا، نئی دہلی اپریل 2004، ص7)

یہ سوچ ہی غلط ہے کہ زبان کسی مذہب یا فرقے کی ہوتی ہے زبان اس کی ہوتی ہے جو اسے سیکھتا ہے۔ نازش پرتاپ گڈھی نے کیا خوب کہا ہے          ؎

ہر اک زبان کو یارو سلام کرتے چلو

گروہ کی ہے نہ فرقے کی اور نہ مذہب کی

اس صداقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ اردو کے غیر مسلم شعرا و ادبا نے نہ صرف اس زبان پر ناز کیا ہے بلکہ انھوں نے اس زبان کی محبت میں اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کیا ہے۔ گوپال متل نے اگر یہ دعویٰ کیا کہ           ؎

ہم بھی اردو پہ ناز کرتے ہیں

یہ ہماری زبان ہے پیارے

تو پنڈت نرائن پانڈے اور جے بہادر سنگھ نے اس زبان کی محبت میں اپنی جانیں قربان کردیں۔ پنڈت نرائن پانڈے اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دلانے کے لیے بھوک ہڑتال پر کانپور کے کلکٹر کے روبرو بیٹھے تھے جہاں 20 مارچ 1967 کو ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ اس کے کچھ ہی دن بعد اردو کا ایک اور عاشق جے بہادر سنگھ 31مارچ کو لکھنؤ میں قانون ساز اسمبلی کے سامنے جاں بحق ہو گیا۔ اردو کے ان بے لوث عاشقوں نے اردو زبان کے لیے جو قربانی دی اس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔

ناانصافیوں کے باوجود اردو مٹنے کے آثار نہیں۔ اس کا مستقبل تاریک نہیں بلکہ روشن ہے۔ انٹرنیٹ اور ٹکنالوجی نے اس زبان کی ترویج و اشاعت میں اہم رول ادا کیا ہے۔ اردو کی نئی بستیاں بھی ا ٓباد ہورہی ہیں بیرونِ ممالک میں بھی بڑے پیمانے پر اردو اخبار اور رسالے نکل رہے ہیں اور کالجوں یونیورسٹیوں میں اردو بہ حیثیت مضمون پڑھائی بھی جارہی ہے۔ سمینار اور مشاعرے کا انعقاد بھی ہورہا ہے جو زبان کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ مختلف اکادمیاں اور این سی یوپی ایل بھی اردو کے فروغ کے لیے کام کررہی ہیں اردو سیکھنے کے لیے کتابیں شائع ہورہی ہیں۔کسی شاعر نے کہا ہے          ؎

سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں

ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں

فضاؤں کو اردو کی خوشبو سے معطر کرنے کے لیے اردو کے چاہنے والوں کو آگے آنا ہوگا۔انھیں انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی اس کی بقا کے لیے کوشش کرنی ہوگی جس سے تہذیب و ثقافت کی یہ زبان رہ سکے اور ہمارے اسلاف کی یہ امانت نئی نسلوں تک پہنچ سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سمینار اور مذاکرے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بچوں کو اردو سے قریب لانے کے لیے ان کے لیے تحریری اور تقریری مقابلوں کا انعقاد کرنا بھی اردو کے فروغ کی سمت میں ایک مثبت قدم ہوگا۔ اردو کو سادہ اور عام فہم بنا کر بھی اسے مقبولِ عام بنایا جا سکتا ہے۔ ابتدائی اور ثانوی اسکولوں میں اردو کی تعلیم کا انتظام کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔ مختلف بورڈ میں اردو ایک مضمون کی حیثیت سے تو شامل ہے لیکن اردو پڑھانے کا انتظام کہیں نہیں ہے۔ ابتدائی درجات میں اس زبان کی تعلیم کا نظم نہ ہونے کی وجہ سے ایک پوری نسل اردو رسم الخط کی شناخت سے محروم ہو چکی ہے۔ اس سلسلے میں بھی کارگر اقدامات کیے جانے کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم امید کی شمع روشن رکھیں اور آشا کے دیے کو بجھنے نہ دیں۔ مسلسل کوشش اور جدو جہد ہی اس زبان کو پھلنے اور پھولنے کے مواقع فراہم کر سکتی ہے بقول منظور ہاشمی          ؎

یقین ہو تو کوئی راستہ نکلتا ہے

ہوا کی اوٹ بھی لے کر چراغ جلتا ہے

اردو کے چراغ کی لومدھم ضرور ہوئی ہے لیکن ابھی بجھی نہیں ہے۔ اس تھرتھراتی ہوئی لو کو جلا بخشنا ہماری اور آپ کی ذمے داری ہے۔ شکیل اعظمی کے اس شعر کے ساتھ اپنی بات ختم کرنا چاہوں گی             ؎

ہار ہو جاتی ہے جب مان لیا جاتا ہے

جیت تب ہوتی ہے جب ٹھان لیا جاتا ہے

n

Dr. Darakhshan Tajwar

Kainat, B/34, Tewari Pur

Aawas Vikas Colony

Gorakhpur- 273001 (UP)

Mob.: 7007281376

22/3/23

قومی اردو کونسل کے طبِ یونانی پینل کی میٹنگ،اہم کتابوں کی اشاعت پر غور و خوض



 


نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،نئی دہلی فروغِ اردو کے ساتھ اردو سے جڑے تہذیبی و علمی  ورثے کے فروغ و تحفظ کے لیے بھی سرگرم ہے۔ انسانی بیماریوں کے علاج کے قدیم و مفید ترین طریقوں پر مشتمل طبِ یونانی کا بیشتر علمی سرمایہ اردو زبان میں ہے اور اس شعبے میں نئی نئی دریافتیں بھی سامنے آرہی ہیں ، کونسل اس سرمایے کے تحفظ کے ساتھ طب یونانی کے نئے پہلووں پر باقاعدہ ایک پینل کی رہنمائی میں کام کر رہی ہے، چنانچہ اب تک اس موضوع اور اس کے متعلقات پر درجنوں اہم کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ اس حوالے سے جاری علمی و اشاعتی سرگرمیوں کا جائزہ لینے اور نئے موضوعات پر غور و خوض کے لیے آج کونسل کے طب یونانی پینل کی میٹنگ کا انعقاد ہوا، جس کی صدارت پینل کے صدر محترم ڈاکٹر خالد صدیقی نے کی۔ اس موقعے پر انھوں نے طب یونانی کے فروغ میں کونسل کے کردار کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ڈائرکٹر صاحب اور متعلقہ ذمے داران کی توجہ کی بدولت اب تک بہت سی قیمتی کتابیں یہاں سے شائع ہوچکی ہیں اور ہمیں خوشی ہے کہ پینل کے ذریعے کئی اہم علمی و اشاعتی منصوبوں پر کام ہورہا ہے جو عنقریب منظر عام پر آجائے گا۔  قبل ازیں کونسل کے ریسرچ آفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ نے پینل کے تمام ممبران کا خیر مقدم کیا اور پینل کے زیر نگرانی چل رہے منصوبوں کی صورتِ حال سے انھیں واقف کروایا۔ انھوں نے بتایا کہ تشریح البدن (تین جلدیں) شائع ہوچکی ہے جبکہ جراحت، امراض نسواں و قبالہ، کلیات ادویہ اورامراض اطفال جیسی کتابوں پر کام جاری ہے،ان میں سے بیشتر کتابیں تقریباً آخری مرحلے میں ہیں ۔ پینل کے ممبران نے ان کتابوں کی موجودہ سٹیٹس کا جائزہ لیا اور قابل ترمیم امور کی نشان دہی کے ساتھ ان کی جلد اشاعت پر زور دیا۔ انھوں نے طب یونانی اور میڈیکل سائنس کے شعبے میں ہونے والی نئی تبدیلیوں/ترقیات پر نظر رکھنے اور ان کی روشنی میں نئی علمی و تحقیقی کتابوں کی تیاری پر بھی توجہ دلائی۔ میٹنگ میں پینل کے ممبران ڈاکٹر محمد آفتاب، ڈاکٹر محمد اکرم اور کونسل کی ریسرچ اسسٹنٹ ذیشان فاطمہ وغیرہ بھی شریک رہے۔

جدید ٹکنالوجی میں مہارت و اختصاص پیدا کرنا وقت کی ناگزیر ضرورت :پروفیسر شیخ عقیل احمد


 نئی دہلی: موجودہ دور انفارمیشن ٹکنالوجی کا دور ہے جس میں ہر آن نئی  ترقیات ہورہی ہیں اور دنیا برق رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، ایسے میں نہ صرف ہمیں جدید ٹکنالوجی میں مہارت حاصل کرنی ہوگی، بلکہ وقت کی رفتار کے ساتھ چلنے کے لیے بھی خود کو تیار کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر پروفیسر شیخ عقیل احمد نے کونسل کے زیر اہتمام چلنے والے کمپیوٹر سینٹرز کے فائنل امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے درمیان انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر میں منعقدہ تقسیمِ اسناد کی تقریب میں افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے کہا کہ قومی اردو کونسل کا شروع سے یہ مقصد رہا ہے کہ اردو طلبہ و طالبات کو عصری ٹکنالوجی کی تعلیم سے بھی آراستہ کیا جائے اور اسی مقصد کی تکمیل کے لیے پورے ہندوستان میں ہم نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الیکٹرونکس اینڈ انفارمیشن ٹکنالوجی،چنڈی گڑھ(نائلیٹ) کے اشتراک سے سیکڑوں کمپیوٹر سینٹرز چلاتے ہیں،جہاں اردو سکھانے کے ساتھ کمپیوٹر اپلی کیشن، ملٹی لنگول ڈی ٹی پی، بزنس اکاؤنٹنگ اور دیگر متعدد اہم کورسز کروائے جاتے ہیں،ہمارے سبھی کورسز سرکار سے منظور شدہ ہیں اور نئے تعلیمی سیشن میں کچھ نئے کورسز بھی متعارف کروائے گئے ہیں، یہ سارے پروفیشنل کورسز ہیں جن کی تکمیل کے بعد سرکاری و غیر سرکاری شعبوں میں نوکری کے علاوہ ہمارے طلبہ اپنے طورپر بھی آئی ٹی سیکٹر میں اپنا کریئر بنانے کے اہل ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جن طلبہ و طالبات نے امتحان میں اعلیٰ نمبرات سے کامیابی حاصل کی میں انھیں،ان کے سینٹر کے ذمے داران اور گارجین کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور مجھے امید ہے کہ آپ مستقبل میں اپنی صلاحیتوں کا مفید استعمال کرکے اپنے خاندان اور معاشرہ و ملک کی گراں قدر خدمت انجام دیں گے اور جو امتیازی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکے، انھیں بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے، وہ بھی ہمارے اچھے طالب علم ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ہمارے سبھی طلبہ و طالبات کا مستقبل روشن و تابناک ہوگا۔  

نائلیٹ چنڈی گڑھ کے ایگزیکیٹیو ڈائرکٹر  جناب سبھانشو تیواری نے بھی کامیاب طلبہ و طالبات کو مبارکباد پیش کی ،ساتھ ہی انھوں نے نائلیٹ کے نئے پر گراموں اور کورسز کے بارے میں بھی بتایا اور کہا کہ موجودہ دور انفارمیشن ٹکنالوجی کا دور ہے، جس میں اختصاص اور مہارت حاصل کرنا ضروری ہے۔ آپ کو ٹکنالوجی کے کسی ایک شعبے میں مہارت حاصل کرنی چاہیے، تاکہ وقت کی ضروریات پوری کرسکیں اور اپنا کریئر بھی بناسکیں ۔انھوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں کلاؤڈ کمپیوٹنگ ، سائبر سکیوریٹی وغیرہ پر آپ کی نظر ہونی چاہیے اور اپنی دلچسپی کے مطابق میدان عمل منتخب کرنا چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ آئی ٹی سیکٹر میں ملازمت کیسے حاصل کی جاسکتی ہے اور متعلقہ ادارے کو اپنی صلاحیتوں اور قوت کار سے کیسے مطمئن کرسکتے ہیں۔

اس موقعے پر الامین انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹکنالوجی اوکھلا ، بچوں کا گھر دریا گنج ، ڈاکٹر ذاکرحسین سینئر سکینڈری سکول جعفرآباد ، مدرسہ زینت القرآن ، صوفیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر سوسائٹی ، گروکل سماج وکاس سنستھا ، مائناریٹی ویلفئر فاؤنڈیشن دریا گنج ، نیو مون سوشل ویلفئر سوسائٹی مصطفی آباد ، چاند ایجوکیشنل اینڈ کلچرل سوسائٹی وزیر آباد ، نیشنل لٹرل ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر سوسائٹی بھاگیرتھ وہار، اینجلس ایجوکیشنل اینڈ ویلفئر سوسائٹی چاندنی چوک ، فیڈریشن فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ جعفرآباد، بنیادی وکاس سماج سیوی سنستھان اور زید کمپیوٹر سینٹر شاہین باغ کے اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو پروفیسر شیخ عقیل احمد، نائلیٹ کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر جناب سبھانشو تیواری اور دیگر مہمانوں کے ہاتھوں سرٹیفکٹ دیے گیے۔ ان کے علاوہ الامین انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹکنالوجی اوکھلا کی طالبہ مریم منتشا نے پوری دہلی میں اول، اسی ادارے کے طالب علم ساجد عالم نے پوری دہلی میں دوم اور مائناریٹی ویلفیئر فاؤنڈیشن دریاگنج کی طالبہ فرحین نے پوری دہلی میں سوم پوزیشن حاصل کی، انھیں سرٹیفکٹ کے علاوہ کونسل کی طرف سے خصوصی انعام سے بھی نوازا گیا۔ اس موقعے پر مختلف کمپیوٹر سینٹرز کے ذمے داران ، اساتذہ اور کامیاب طلبہ و طالبات نے بھی اظہار خیال کیا اور شرکا سے اپنے تجربات شیئر کیے۔ پروگرام کی نظامت کا فریضہ کونسل کے ریسرچ آفیسر جناب انتخاب احمد نے بحسن و خوبی انجام دیا، انھی کے اظہارِ تشکر کے ساتھ اس تقریب کا اختتام عمل میں آیا۔ اس موقعے پر کونسل کے اسٹاف کے علاوہ دہلی کے تمام کمپیوٹر سینٹرز کے طلبہ و طالبات اور ان کے سربراہوں و اساتذہ نے بطور خاص شرکت کی۔

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...