26/12/23

منظور احمد منظور: دلچسپ نثر نگار، باکمال شاعر: رؤف خیر

 

پورے ایک سو سال پہلے 10؍مارچ 1923 کو حیدرآباد دکن کی سرزمین پر آنکھ کھولنے والے جناب منظور احمد منظور کو ادبی دنیا نے تقریباً بھلا ہی دیا۔ دکن کی مایہ ناز شخصیات کو منظور صاحب نے بڑے قریب سے دیکھا ان کے ساتھ کام کیا ان سے باضابطہ انٹر ویو لیے اور اُن پر سیر حاصل مضامین لکھے جو حیدرآباد کے مشہور و ممتاز رسائل میں شائع ہوئے جیسے سب رس ، شاداب، پونم، مبصر، روزنامہ منصف، روزنامہ ملاپ، روزنامہ سیاست، ماہ نامہ رفتار زمانہ، ماہ نامہ صبا، ماہ نامہ آندھرا پردیش وغیرہ بیشتر مضامین آل انڈیا ریڈیو کی فرمائش پر بھی لکھے گئے تھے۔ دکن کا نام روشن کرنے والی بیشتر شخصیات سے منظور احمد منظور کے قریبی تعلقات رہے، اس طرح انھوں نے ان شخصیات کے بارے میں جو کچھ لکھا تجربات و مشاہدات کی روشنی میں لکھا ۔ان پر یہ مصرع گویا ہر اعتبار سے صادق آتا ہے    ؎

ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی

ہم اگر منظور احمد منظور سے ملتے ہیں تو گو یا اُن تمام نامور ہستیوں سے ملتے ہیں جن سے منظور صاحب مل چکے ہیں اور ان کے حوالے سے ایک دور کی تہذیب اور ایک دور کے نابغۂ روز گار ادیبوں، شاعروں سے ہمیں تعارف حاصل ہوتا ہے۔ منظور صاحب نے ماشاء اللہ کیسی کیسی جلیل القدر ہستیوں کی آنکھیں دیکھی ہیں جیسے نازش دکن امجد حیدرآبادی، مہارا جا کشن پرشاد، صفی اورنگ آبادی، ڈاکٹر محی الدین قادری زور، پروفیسر سید علی اکبر، ڈاکٹر راجند ر پرشاد، ڈاکٹر مختار احمد انصاری،  معمارِ دکن جناب ولی قادری، پروفیسر تقی علی مرزا، پروفیسر عبدالعظیم اور پروفیسر اکبر الدین صدیقی ۔

جن مشہور و ممتاز شخصیات کے بارے میں ہم نے صرف سن رکھا ہے انھیں منظور صاحب نے ہماری آنکھوں کے سامنے لاکھڑا کردیا اور ان کے مختلف پہلوئوں پر بھرپور روشنی ڈال کر بتایا کہ کیسی کیسی بے پناہ شخصیات سے ان کا رابطہ رہا۔ اس طرح ہمیں منظور احمد منظور کی آنکھوں میں ان تمام ہستیوں کی شبیہ دکھائی دیتی ہے   ؎

اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں

اپنے دور کے ہر قابلِ ذکر ادیب وشاعر سے منظور صاحب واقف تھے اور اردو کے بیشتر اہل ِ ذوق منظور صاحب کی ادبی تگ و دو کی داد دیا کرتے تھے۔

فرماں روا ے دکن نظام سابع میر عثمان علی خان کے استاد فصاحت جنگ جلیل نور خاں بازار میں جلیل منزل میں سکونت پذیر تھے انہی کے ہم سائے جناب منظور احمد تھے۔ گھر کے بالکل روبرو بڑی دل نواز شخصیت حسن الدین احمد آئی اے ایس کا عزیز ولا ہے۔

سید سلیمان ندوی نے اپنے رسالہ معارف (فروری 1933) میں امجد حیدرآباد ی کو حکیم الشعرا کا خطاب دیا تھا۔ جوش ملیح آبادی جیسے خود پرست شاعر نے بھی رباعیات کے فن میں امجد حیدرآبادی کی انفرادیت کو تسلیم کیا۔ بقول منظور صاحب نواب بہادر یار جنگ کی اچانک موت پر ایک ٹاکیز میں تعزیتی جلسہ منعقد ہوا تھا جس میں امجد  حیدرآبادی نے ایک دردناک رباعی سنا کر حاضرین کو متاثر کیا        ؎

دل شاد نہیں تو ناشاد سہی

لب پہ نغمہ نہیں تو فریاد سہی

ہم سے دامن چھڑا کے جانے والے

جاجا تو نہیں تو تری یاد سہی

منظور صاحب نے لکھا کہ انھیں قوالی کی کئی ایسی محفلیں یاد ہیں جن میں قوالوں نے امجد حیدرآبادی کی موجودگی ہی میں امجد کا کلام سناکر سماں باند ھ دیا تھا۔ 29؍مارچ 1961 کو اس دارِ فانی سے کوچ کرجانے والے قلندر مزاج امجد حیدرآبادی کا کلام منظور صاحب نے ان کی زبانی کئی بار سنا۔

مارچ 1953 میں گورنمنٹ ہائی سکول چوک حیدرآباد کے طلبہ کے ترجمان ’نورس‘ کے لیے منظور صاحب نے امجد کا کلام حاصل کرکے شائع کیا جو نورس کے لیے اعزاز تھا۔منظور صاحب نے لکھا کہ امجد نے انھیں دو رباعیاں عنایت کی تھیں        ؎

کچھ کیے جائو لے کے نام خدا

کچھ نہ کرنا بڑی خرابی ہے

کامیابی کچھ اور چیز نہیں

کام کرنا ہی کامیابی ہے

لب پر کس شخص کے دم ِ سرد نہیں

کس کا چہرہ ہے آج جو زرد نہیں

ہر فرد ہے درد مند فرداً فرداً

لیکن کوئی کسی کا ہمدرد نہیں

)ہمارے خیال میں پہلا قطعہ ہے جو رباعی کے نام سے شائع ہوگیا۔ (

منظور احمد منظور نے اپنے قلم سے امجد حیدرآبادی کا دل پذیر خاکہ بھی کھینچا ہے۔

مہاراجا کشن پرشاد شاد کو اپنی موٹر میں راستے سے گزرتے ہوئے 1938 میں سکے لٹاتے بھی منظور احمد منظور نے دیکھا جب وہ آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے۔ منظور صاحب نے کشن پرشاد شاد کی اردو فارسی شاعری کے علاوہ ان کے مکاتیب کے حوالے سے بھی دادِ تحقیق دی۔ کشن پرشاد شاد نے کچھ ناول بھی لکھے۔ ان کا پہلا ناول ’مطلع ِ خورشید‘ تھا۔ اس کے علاوہ سفر نامے بھی لکھے۔

حیدرآباد کے مشہور و معروف شاعر صفی اورنگ آبادی کو بھی منظور صاحب نے قریب سے دیکھا اور ان کا ایک حسب ِ حال شعر بھی درج کیا          ؎

ہوا ہوں جب سے مفلس اپنے آنسو آپ پیتا ہوں

کروں کیا اے صفی عادت بری ہوتی ہے پینے کی

صفی کی شاعری کے حوالے سے لکھا ہوا منظور صاحب کا مضمون ’یادگار ِ صفی‘ مرتبہ خواجہ حمید الدین شاہد میں شامل ہے، جو 1956 میں منظر عام پر آیا تھا جسے اس کتاب میں بھی شامل کر لیا گیا ہے۔

ڈاکٹر محی الدین قادری زور کے ساتھ منظور احمد منظور کو گہرا لگائوتھا۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے بی اے اور ایم اے کے دوران 1944 سے 1947 تک ان کے طالب علم رہے پھر جب درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے تو ڈاکٹر زور سے تعلقات مزید استوار ہوئے۔ منظور صاحب ایم اے تو تھے ہی بڑی آسانی سے پی ایچ ڈی بھی کرسکتے تھے مگر نہ تو ڈاکٹر زور نے رہنمائی کی اور نہ کسی اور ہستی نے ان کے ڈاکٹر بننے کی راہ ہموار کی حالانکہ اپنی تحقیقی کاوشوں میں اُن سے بے انتہا مدد لی۔ ایک محترمہ کے چشم ِ کرم کے امیدوار بے چارے منظور احمد منظور رات دن ایک کرکے اس کے لیے کئی کتب خانے چھان کر قیمتی ادبی و تاریخی مواد و مسالہ جمع کرکے پیش کیا کرتے تھے جو موصوفہ کے نام سے کتابی صورت میں آتا رہا۔ ایک اور ادبی ہستی کی محبت کا چراغ منظور صاحب کے دل کے طاق کی ’زینت ‘ بنا رہا مگر موصوف کی زبان پر کبھی ’حرف ِ شوق ‘نہ آسکا تاآں کہ انھوں نے اپنے شعری سرماے کا نام ہی ’حرف ِ شوق‘ رکھا جو مکتبۂ شعرو حکمت کے زیرِ اہتمام دسمبر 1971 میں منظر عام پر آیا اس پر ہم آگے گفتگو کریں گے۔ فی الحال ’مضامین محمد منظور احمد‘ کا جائزہ مقصود ہے جو منظور صاحب کے چند ایک مضامین، انٹرویوز اور ان کی مختصر سوانح پر مشتمل ہے ۔جس میں امریکہ کا یادگار سفرنامہ بھی شامل ہے۔

آل انڈیا ریڈیو حیدرآباد کے لیے بھی منظور صاحب نے مضامین لکھے جیسے معاشرے میں ادیب کی ذمہ داریاں، کہاوتیں، ہندو ستانی قومیت کے رہبر ڈاکٹر راجندر پرشاد، ڈاکٹر مختار احمد انصاری، زندگی غالب کی نظر میں۔

راجند ر پرشاد ملک کے پہلے صدر 1950 سے 1957 تک رہے۔ وہ گاندھی جی کے بے حد قریب تھے۔ منظور صاحب نے راجندر پرشاد کے بارے میں وہی لکھا جو ریڈیو نشریے کے لیے مناسب تھا۔ اس کے علاوہ چمپارن ضلع میں دورے کے موقع پر انگریز آفیسر اِرون Irwinنے 1917میں ایک سازش کے تحت گاندھی جی کی دعوت کی تھی اور اپنے خانساماں بطخ میاں انصاری کو حکم دے رکھا تھا کہ گاندھی جی کو زہر ملا ہوا دودھ پیش کرے مگر بطخ میاں نے گاندھی جی کے ساتھ دعوت میں شریک راجندر پرشاد کو بتادیا کہ دودھ میں زہر ملا ہوا ہے اس طرح بطخ میاں انصاری نے مہاتما گاندھی کی جان بچائی جس کے عینی گواہ راجندر پرشاد تھے۔ انگریز آفیسر نے نتیجتاً بطخ میاں کو سخت سزادی Siswa Ajgariمیں ان کا مکان قرق کیا اور ان کو شہر بدر کردیا۔ صدر جمہوریہ بننے کے بعد اُسی چمپارن میں جب راجندر پرشاد نے بطخ میاں انصاری کو کس مپرسی کی حالت میں دیکھا تو فوری وہاں کے کلکٹر کو ہدایات دیں کہ گاندھی جی کی جان بچانے والے بطخ میاں انصاری کو کچھ زمین الاٹ کی جائے تاکہ وہ چین سے زندگی گزار سکیں۔ مگر افسوس راجندرپرشاد کی ہمدردانہ ہدایات پر عمل کبھی نہیں ہوا اور بطخ میاں بے یارو مدد گار ہی دنیا سے چل بسے۔

انجینئرنگ میں اعلی قابلیت اور ممتاز حیثیت والے ولی قادری ایکزیکٹیو انجینئر سے منظور صاحب نے 1979 میں انٹرویو لیا جنھوں نے قبل ازوقت وظیفہ حاصل کرکے قوم اور ملت کی خدمت کے جذبے کے تحت خانگی طور پر اپنا ادارہ قائم کیا جس کے تحت کئی تعمیراتی پروجیکٹ روبہ عمل لائے گئے۔ سول انجینئرنگ کنسل ٹینسی ولی قادری اینڈ اسوسئیٹس کے نام سے قائم کردہ ادارے کے تحت کئی سینئرانجینئر س، جونیر انجینئرس، ڈرافٹس مین، ٹریسر، بلوپرنٹ آپریٹرس ،کمپیوٹر پروگرامرس، کلرکس، منیجر وغیرہ کام کرتے تھے۔ ولی قادری نے کئی انگریزی شعرا کی نظموں کا منظوم اردو ترجمہ بھی کیا جن میں سے چند حسن الدین احمد کی کتاب ’سازِ مغرب‘ میں شامل بھی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ طبع زاد نظمیں غزلیں بھی ولی قادری صاحب کہتے تھے۔ ان کا مشورہ تھا ۔’’نام کی خاطر نہیں بلکہ کام کی خاطر کام کرو‘‘۔

پروفیسر تقی علی مرزا سے ایک ملاقات‘کے تحت جناب منظور نے ان سے سیر حاصل مصاحبہ کیا۔ اس مصاحبے میں طلبہ کی انگریزی میں صلاحیتوں کے فروغ کے تعلق سے گفتگو کی گئی۔ تقی علی مرزا نے یہ انکشاف بھی فرمایا کہ عثمانیہ نیورسٹی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہاں جرنلزم میں ڈپلوما کی تعلیم کا انتظام 1956 میں شروع کیا گیا تھا ۔تقی علی مرزا نے کئی مشاہیر کا ذکر کیا اس طرح منظور صاحب کے توسط سے کئی علمی ادبی شاہ کاروں اور قلم کاروں سے قاری کا تعارف ہوجاتا ہے۔ انگریزی میں تقی علی مرزا کے مضامین شائع ہوتے رہے ہیں۔

( ناچیز رئوف خیر اور اعظم راہی نے بھی مشترکہ طور پر پروفیسر تقی علی مرزا سے عزیز احمد کے حوالے سے انٹرویو کیا تھا جو ان کے استاد رہے۔ یہ انٹرویو نا چیز کی کتاب ’حق گوئی و بے باکی‘ میں شامل ہے)۔

ادارئہ ادبیاتِ اردو کے روحِ رواں پروفیسر محمد اکبر الدین صدیقی صاحب سے بھی منظور صاحب نے بھرپور انٹرویو کیا جو بجائے خود ان کے تمام کارناموں کی دستاویز ہے۔ اس انٹرویو کے ذریعے اکبر الدین صدیقی کی بے لوث خدمات پرروشنی پڑتی ہے۔ پتہ چلا کہ منظور صاحب آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے تو گورنمنٹ سٹی ہائی سکول حیدرآباد میں اکبرالدین صدیقی ان کے استاد تھے۔ اکبر الدین صدیقی نے کئی کتابیں مرتب کیں۔ ان کی مرتبہ کتابیں ادارئہ ادبیات اردو کے تحت ہونے والے امتحانات کے نصاب میں شامل رہے ہیں۔

حیدرآباد کی سڑکوں پر پیدل چلنے والے، نظام ٹرسٹ کے رسالہ ’مبصر‘ کے مدیر، اردو مجلس کے رسالہ ’مجلس‘ کے ایڈیٹر ، ’اقبال ریو یو‘ اور ’شگوفہ‘ کے معاون کی حیثیت سے بے لوث خدمات انجام دینے والے جناب منظور احمد منظور کو ہم نے بار ہا دیکھا ہے۔ بڑے زندہ دل اور بذلہ سنج منظور صاحب کی گفتگو بہت دل چسپ ہوا کرتی تھی۔ آندھرا (تلنگانہ ) کے ادیبوں، شاعروں کی ڈائرکٹری کے لیے بھی وہ سرگرداں رہے۔ انھوں نے بتایا تھا کہ 31؍ مارچ 1978 کو وہ ڈگری کالج سے لکچرر کی حیثیت سے وظیفے پر علاحدہ ہوئے جس کی وجہ سے وظیفے میں کافی نقصان ہوا ۔ پھر پچپن سال کی بجائے اٹھاون سال وظیفے کی عمر قرار دیے جانے کی وجہ سے جان میں جان آئی۔ تاہم ان کے وظیفے کی رقم معقول نہیں کہی جاسکتی تھی۔ اپنی شیروانی کے دونوں جیبوں میں مختلف روشنائیوں کے چار چار قلم لگائے میلوں پیدل سفر کرنے والے صاحب ِ قلم منظور احمد کی بے لوث و بے انتہا خدمات کے جاننے والے کم کم ہی رہ گئے ہیں۔

منظور صاحب نے انٹرویو لیتے ہوئے بیشتر ہستیوں سے دریافت کیا کہ آیا وہ اپنی سوانح لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، سبھوں نے نفی میں جواب دیا ۔ خود منظور صاحب نے اتنے کارنامے انجام دیے کہ سوانح کے لیے اچھا خاصا مواد جمع ہو سکتا تھا، مگر انہوں نے اپنی کتاب ’مضامین ِ منظور احمد‘کے آخری چھے صفحات میں اپنی زندگی کی پوری روداد بیان کردی۔ پیدائش 10؍مارچ 1923 پھر تعلیم، تعلیم کے بعد پیشہ درس و تدریس کا انتخاب ، مختلف اداروں میں خدمات، وظیفے پر سبک دوشی رسائل و جرائد میں تخلیقات کی اشاعت اور آل انڈیا ریڈیو کی فرمائش پر بعض مضامین کا لکھنا۔ منظور صاحب کی ایک غزل کا محترمہ بلقیس علاء الدین نے انگریزی میں ترجمہ کیا جو مدراس کے ماہ نامہ Poetمیں تعارف کے ساتھ نومبر 1971میں شائع ہوا۔

1978 میں سرکاری ملازمت سے سبکدوشی کے فوراً بعد اپنے بھائی ڈاکٹر مظفر حسین اور ان کی بیوی ڈاکٹر ثریا حسین کی دعوت پر انہی کے ساتھ حیدرآباد سے 30؍ ا گسٹ 1978کو وہ امریکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ منظور صاحب نے ’میرا ایک یاد گار سفر‘ کے عنوان سے اس سفر کی دلچسپ روداد تحریر فرمائی جو ان کے مضامین کا ’بیت الغزل‘ ہے۔ انھوں نے جو کچھ دیکھا اور محسوس کیا اسے لفظوں کا پیر ہن عطا کیا۔ لکھتے ہیں :

’’امریکہ پرقدرت واقعی بے حد مہربان ہے۔ یہاں اگر ایک طرف دل کش قدرتی مناظر کی فراوانی ہے تو دوسری طرف سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں امریکی قوم کی حیرت انگیز ترقی سیاحوں کو دعوت ِ غور و فکر دیتی ہے۔‘‘

ہمارے لیے یہ ایک اعزاز کی بات ہی ہے کہ ہم نے مخدوم محی الدین، خورشید احمد جامی، سلیمان اریب، شاذتمکنت جیسے ہندو پاک کے شہرت یافتہ شاعروں کے ساتھ جناب منظور احمد منظور کو مشاعروں میں داد وصول کرتے دیکھا۔ منظور صاحب کم گو تھے مشاعروں میں دو دو چار چار اشعار پر مشتمل دو چار غزلیں ہی سنایا کرتے تھے۔ ان کا شعری مجموعہ ’حرف ِ شوق‘ دسمبر 1971 میں مکتبہ شعرو حکمت کے زیر اہتمام منظر عام پر آیا۔ اس مجموعے کے پیش لفظ میں پروفیسر عبد القادر سروری نے تحریر فرمایا:

’’ایسا اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگوں کی طبیعت کے ثمر دیر میں آتے ہیں اور یہ دیر رس ثمر بڑے خوش گوار ہوتے ہیں یہی واقعہ منظور صاحب کی صورت میں بھی پیش آیا۔ جب وہ شعر کہنے لگے تو پختہ کار شاعر بن کر ہمارے سامنے آئے اور نہ صرف مجھے بلکہ اکثر لوگوں کو اچنبھے میں ڈال دیا۔‘‘

مخترمہ ڈاکٹر رفیعہ سلطانہ صدر شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ نے منظور صاحب کے بارے میں جو ’رائے‘ دی وہ منظور صاحب کی شخصیت کی کامیاب عکاسی کرتی ہے۔ لکھتی ہیں:

وہ (منظوراحمد ) ’چاہنے‘ اور ’چاہے جانے‘ کی شدید خواہش کے باوجود اس کا کھل کر اظہار نہیں کرپا تے۔ منظور صاحب کا شعر          ؎

دل یہ کہتا ہے مرا کچھ توکہو

مصلحت کہتی ہے خاموش رہو

ان کی شاعری پوری فضا کو اپنے میں سموئے ہوئے ہے۔ پھر ان کے یہاں محبت بھی خالص ’افلاطونی‘ ہے جو محبوب کے ’قرب‘ سے نہیں ، محبوب کے ’خیال‘ سے وجود میں آتی ہے چنانچہ ان کے کلام میں تجربے کی گہرائی اورا حساس کی گرمی کم ہے۔‘‘

منظور صاحب کے ’حرفِ شوق‘ سے گزر کر ڈاکٹر رفیعہ سلطانہ جیسی صاحب نظر کی وقیع رائے پر ایمان لانا ہی پڑتا ہے۔ انھوں نے دو جملوں میں ان کے شعر اور شخصیت کا جامع جائزہ پیش کردیا۔ ڈاکٹر مغنی تبسم نے نکتہ پیدا کیا کہ ’’منظور صاحب کی شاعری عشقیہ سے زیادہ عاشقانہ ہے۔‘‘

 جناب منظور احمد نے ’حرف ِ شوق سے پہلے‘ کے عنوان کے تحت لکھا کہ اس مجموعے کی ساری غزلیں سات سال کے عرصے میں ہوئی ہیں ۔ گویا 1964 سے 1971 کے دورانیے میں کہی ہوئی غزلوں پر ’حرف ِ شوق‘ مشتمل ہے جس میں جملہ 72غزلیں ہی ہیں۔

منظور صاحب نے نظم و نثر میں خود کو منوانے کی کوشش کی۔ ان کے مضامین کے حوالے سے گفتگو ہو چکی اب چند اشعار کے ذریعے ان کے فکر و فن کا جائزہ پیش ہے۔ ان کی باخبری کی داد دیجیے‘          ؎

ہر دو ر میں انعام لیے بے بصری نے

موتی ہی لٹائے ہیں یہاں دیدہ وری نے

الزام کسی پر نہیں بربادی دل کا

وارفتہ کیا تھا ہمیں وحشت اثری نے

کہیں کہیں منظور صاحب نے بڑی فنی مہارت سے الفاظ برت کر چونکایا بھی ہے         ؎

بعد مدت نور کا تڑکا ہوا

ظلمتوں کا آج منہ کالا ہوا

اُس طرف ساقی کی خست تھی غضب

اس طرف تھا حوصلہ بڑھتا ہوا

منظور صاحب بیشتر محفلوں میں اپنی یہ پسندیدہ غزل سناکر رنگ جماتے تھے اور جم کر پڑھتے تھے         ؎

دل یہ کہتا ہے مرا کچھ تو کہو

مصلحت کہتی ہے خاموش رہو

اُس بُت شوخ کے پتھر دل کو

پیارسے جیت سکو تو جیتو

یوں نہ اترے گا خمارِ ہستی

اور اک جامِ مئے تلخ پیو

نت نئے فتنوں میں جب گھرتاہوں

خلق کہتی ہے جیو۔ اور۔ جیو

دیکھو پھر تم کو پکارے ہے کوئی

کہیں منظور کی آواز نہ ہو

منظور صاحب نے بعض مشہور فلمی گانوں کی’طرح‘ میں بھی غزلیں کہی ہیں جو اُن کی اپنی زندگی کی ترجمان ہیں        ؎

مجھ کو کسی کے پیارنے مارا ہے دوستو

وہ جس کا پیار جان سے پیارا ہے دوستو

رازِ دل ہم سے کہا جاتا نہیں

کچھ خیال اس کو بھی کیوں آتا نہیں

گھٹا جب آسماں پر گھر کے آئی ،آپ کیوں روئے

سیاہی شب کی جب ہر سمت چھائی ،آپ کیوں روئے

روایتی اسلوب کے علاوہ جدید انداز میں بھی منظور احمد منظور نے بعض شعر کہے جیسے ایک شعر ہے      ؎    

سائے کی طرح جو مرے ہم راہ چلا ہے

وہ شخص بھی اب میرا پتہ پوچھ رہا ہے

مختصر یہ کہ نثر کے ساتھ ساتھ غزل کے ذریعے بھی منظور صاحب نے اہلِ ذوق سے داد پائی اور تقریباً نوے 90برس کی عمر میں چپکے سے گزر گئے۔

 

ماخذ

  1. مضامین محمد منظور احمد، ادبی مرکز، اعجاز پر نٹنگ پریس چھتہ بازار حیدرآباد،نومبر 1986
  2. حرفِ شوق ،مکتبۂ شعرو حکمت حیدرآباد اشاعت دسمبر 1971
  3. Saviour of Gandhi ji - Bataq Miyan Ansari (Telugu) by Syed Naseer Ahmad - English Translation by BVK Purna Nandam    Azad House of publication- Undavalli- 522501

 

 

Dr. Raoof Khair

Moti Mahal, Golconda

Hyderabad- 500008 (Telangana)

Cell : 9440945645

Email : raoofkhair@gmail.com

عرفان عباسی کی یاد میں: محمد اویس سنبھلی

 

نامورمحقق،مشہور مصنف ومؤلف،ممتاز تذکرہ نگار اورمبصر عرفان عباسی 13اگست 1924 کو گڑھی بھلول، ضلع با رہ بنکی کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے پردادا مولانا عبدالرزاق صاحب، دادا مولانا عبدالرحمن مرحوم اور والد مولانا نعمان صاحب کا شمار علوم دینیہ پر عبور رکھنے والی شخصیات میں ہوتا تھا۔ مولانا نعمان صاحب شعر و ادب کا بھی پاکیزہ ذوق رکھتے اورسوز تخلص کرتے تھے۔عرفان عباسی کی ابتدائی تعلیم مکتب میں ہوئی  اور تکمیل پنجاب یونیورسٹی سے۔ اس کے بعد انھوں نے ’ہومیوپیتھک طریقہ علاج ‘ میں ڈپلوما کیا۔ 1947 کے آس پاس یوپی سول سکریٹریٹ میں ملازمت اختیار کی۔ 1984 میں ملازمت سے سبک دوش ہوئے۔4جنوری 2012 کو آخری سانس لی۔ 5جنوری کی صبح 10 بجے کے قریب عیش باغ قبرستان میں تدفین ہوئی۔ان کا قلم اور کاغذ سے جو رشتہ تھا،وہ تار نفس ٹوٹنے تک قائم رہا اور اپنے نامۂ اعمال میں مطبوعہ و غیر مطبوعہ کم و بیش 75 کتابیں درج کرائیں، جن میں آپ،آپ تھے، آپ ہیں، انتخاب کلام سلام مچھلی شہری، انتخاب کلام ناطق لکھنوی، تذکرہ شعرائے اتر پردیش،تذکرہ شعرائے ریختی، جنگ آزادی اورقومی یک جہتی،دبستان امیر مینائی، نثر نگاران اردو، ہمارے بزرگ اور قومی یک جہتی، اتر پردیش کے شاگردان آرزو لکھنوی، اردو ادب میں کون کیا؟، اردو شاعری میں بھارتیتا،اردو شاعری میں ہندوستانیت، اردو کے ان پڑھ شاعر،اشاریہ شعرائے لکھنؤ،انتخاب کلام شوق بہرائچی،تذکرہ سخن وران اتر پردیش،تذکرہ شاعرات لکھنؤ،دبستان لکھنؤ کے ہندو شاعر،سخن وران اتر پردیش، طنز و مزاح کے منتخب شعرا، لکھنؤ کی ادبی و ثقافتی انجمنیں شامل ہیں۔ان میں بعض کتابیں دو جلد وں پر مشتمل ہیں تو بعض33 جلدوں پر، یہ تعداد محمد اطہر مسعود خاں نے گنوائی ہے،کچھ اور کی خبر عرفان عباسی کے مسودوں کو کمپوز کرنے والے منیر صاحب دے سکتے ہیں۔

 اپریل2008 کی کوئی تاریخ تھی کہ میرا ایک مضمون حق سنبھلی صاحب کے تعلق سے لکھنؤ کے کئی اخبارات میں ایک دور روز کے وقفے سے شائع ہوا۔یہ حق سنبھلی کے انتقال پر لکھا گیا محض ایک تاثراتی مضمون تھا۔ روزنامہ آگ،لکھنؤ کے علاوہ سبھی اخبارات نے مکمل مضمون شائع کیا تھا۔آگ کے ایڈیٹر محترم احمد ابراہیم علوی نے مضمون کو ایڈٹ کرکے مراسلہ بنا دیا تھا،لیکن حقیقت یہ ہے کہ دیگر اخبارات کے مقابلے یہ مراسلہ زیادہ پڑھا گیا اور اسی کے حوالے سے کئی فون بھی آئے۔ جناب عرفان عباسی نے بھی اس مراسلے کے حوالے سے فون کیا تھا یہ ان سے میری پہلی علیک سلیک تھی۔اس سے قبل میں ان کے نام اور کام، دونوں سے بالکل ناواقف تھا۔فون پر ہوئی گفتگو میں چند رسمی باتوں کے علاوہ، سب سے زیادہ زور اس بات پر تھا کہ کسی وقت گھر تشریف لائیں، تفصیل سے گفتگو تبھی ہوسکے گی۔اس واقعے کے تقریباً ایک ہفتہ بعد منوباغ، نیا گائوں، لکھنؤ میں واقع ان کے درِ دولت پر پہنچا۔ دروازے پراردو میں’عرفان عباسی‘ نام کی تختی لگی ہوئی تھی۔ گھنٹی بجائی، ایک خاتون [ بعد میں معلوم ہوا کہ عرفان صاحب کی صاحب زادی محترمہ اسما رفعت حسین تھیں] نے دروازہ کھولا،میں نے عرفان عباسی صاحب سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ انھوں نے نام پوچھا اور دروازہ بندکر کے اندر چلی گئیں۔ دو منٹ بعد ایک دوسرا دروازہ کھلا اورانتہائی کمزور سی ایک آواز آئی۔ ’’اِدھر آجائیں‘‘!میںنے دیکھا کہ ایک بزرگ دروازے پر کھڑے ہیں،ضعیف و لاغر، چہرے پر نقاہت کے آثار، سر کے بال، داڑھی بالکل سفید، چھوٹی چھوٹی آنکھیں، الغرض بڑھاپا تھا کہ بہر طور نمایاں تھا۔یہ عرفان عباسی سے میری پہلی ملاقات تھی۔وہ باہری کمرے سے دوسرے کمرے کی طرف جانے لگے تو میں بھی ان کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا چاروں طرف کتابوں کا انبار ہے۔ اس انبار کے بیچ میں ایک تخت اوراس کے قریب دو صوفے آمنے سامنے پڑے ہیں۔عرفان صاحب اپنے تخت پر چڑھ کر بیٹھ گئے اور میںان کے تخت کے قریب صوفے پربیٹھ گیا۔ انھوں نے اپنے سرہانے رکھی چند کتابوں کے درمیان سے مذکورہ بالا مراسلے کی کٹنگ نکالی۔ حق صاحب سے متعلق کچھ اور باتیں مجھ سے دریافت کرکے اخبار کی اسی کٹنگ پر لکھ لیں۔اس کے بعد انھوں نے اپنے بہت سے مکمل اور نامکمل کام گنوانا شروع کیے۔اس ملاقات میں ڈاکٹر سعادت علی صدیقی مرحوم کے تعلق سے بھی بہت سی باتیں ہوئیں۔ ایک گھنٹے سے کچھ زیادہ وقت ان کے پاس گزارنے کے بعد میں نے وہاں سے رخصت لی۔

 کل ملا کر اس ملاقات کا مجھ پر اچھا تاثر پڑا،لہٰذا اس کے بعد ہر اتوار کو ان سے ملاقات کی ایک پابندی سی ہوگئی۔بہت سے دوسرے لوگوں سے ان کے یہاں ملاقاتیں ہوئیں۔اسرار قریشی اور ان کے والد بزرگوار محترم معراج ساحل سے بھی پہلی مرتبہ وہیں ملاقات ہوئی۔اسرار قریشی اس زمانے میں ’اردوشعر و ادب کے ارتقا میں لکھنؤ کے ہندو شعرا کا حصہ‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کررہے تھے۔ عرفان عباسی کے پاس کتابوں کے علاوہ اہم رسائل و جرائد کا بڑا ذخیرہ تھا۔ 1955سے 2000 تک کی ماہنامہ نیادورکی فائلیں ان کے پاس محفوظ تھیں۔ وہ کتابوں کو بہت سلیقے سے رکھتے تھے۔کون سی کتاب کہاں رکھی ہے، یہ ان کو معلوم رہتا تھا۔اسی کمرے میں بیٹھ کر 1960 میں انھوں نے تذکرہ نگاری کا آغاز کیا۔جب کہ اس سے قبل ان کی ایک کتاب’جنگ آزادی اور قومی یکجہتی‘ کے نام سے 1959 میں شائع ہوچکی تھی۔ اس سلسلے کی دوسری کتاب ’ہمارے بزرگ اور قومی یکجہتی‘ کے نام سے 1963 میں شائع ہوئی۔ لکھنؤ اسکول سے متعلق 50مرحوم شعرا کے خاکے و تذکرے 1978میں ’آپ‘ عنوان سے کتابی شکل میںشائع ہوئے۔ 1981 میں ’آپ ہیں‘ اور ’آپ تھے‘ کے عنوان سے دو کتابیں منظرعام پر آئیں۔ 1982 میں تذکرہ شعرائے اترپریش کا سلسلہ اشاعت شروع ہوا۔ یہ1930 کے بعد وفات پانے والے شعرا کا ایک طویل تذکرہ ہے،جس کی ہرجلد میں 50شعرا کا تذکرہ بڑے اہتمام سے کیا گیا ہے۔ تذکرہ شعرائے اترپردیش عرفان عباسی کا بڑا کارنامہ ہے۔ بقول ڈاکٹر اطہرمسعود خاں:

’’اترپردیش میں شروع سے اب تک ہزاروں شاعر گزرچکے ہیں اور ہزاروں اب بھی موجود ہیں لیکن ان سب شاعروں کے حالاتِ زندگی جمع کرکے عرفان عباسی صاحب نے ایک بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔یہ وہ عظیم کام تھا،جو کئی اداروں اور ادبی انجمنوں کے کرنے کا تھا لیکن عباسی صاحب نے تن تنہا اس بارِ عظیم کو اٹھایا اور فن تذکرہ نگاری کو نہایت خوش اسلوبی سے ایک بلند اور باعزت مقام تک پہنچا دیا۔‘‘

(بحوالہ: مضمون’تذکرہ نگاری اور عرفان عباسی‘ از ڈاکٹر اطہرمسعود خاں، روزنامہ آگ، لکھنؤ ص4،4جنوری2018)

تذکرہ شرائے اترپردیش کی چھٹی جلدمیں عرفان عباسی کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے علی جواد زیدی نے لکھا کہ’’عرفان عباسی کا یہ تحقیقی کارنامہ دور حاضر کی ادبی تاریخ کا باوقار مواد ہے‘‘۔

 تذکرہ نگاری کے حوالے سے عرفان عباسی کا نام لائق تحسین ہے لیکن افسوس عرفان عباسی کی تذکرہ نگاری اور’ تذکرہ شعرائے اترپردیش‘ کی ادبی حلقوں میں جس طرح پذیرائی ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہوئی۔ یونیورسٹیوں میں ہونے والی تحقیق میں ابھی تک شاید کسی نے اس کو موضوع تحقیق نہیں بنایا ہے۔

عرفان عباسی سکریٹریٹ میں تھے، تیز دم تھے۔ ’تذکرہ شعرائے اترپردیش ‘انہیں حکومت کی جانب سے ملا ہوا ایک پروجیکٹ تھا۔ جس کو بعد میں انہوں نے ذاتی طور پر چھپوانا شروع کردیا۔ اترپردیش اردو اکادمی، فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان جیسے اداروں نے اس کی اشاعت میں مالی تعاون دیا۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، دہلی نے عرفان عباسی کی صحت کا خیال کرتے ہوئے دو-دو مسودات ایک سال میں منظور کیے۔

جسمانی طور پر عرفان عباسی صرف ہڈیوں کا ایک ڈھانچا نظر آتے تھے،لیکن اپنی تمام بیماریوں کے باوجود انھوں نے ’تذکرہ شعرائے اترپردیش‘ کی 27جلدیں شائع کی اور 28 تا 32 جلدیں مکمل ہونے کے باوجود غیر مطبوعہ ہیں کہ ان کی وفات ہوگئی۔حالانکہ تذکرے کو ایک صوبے تک محدود رکھنے کے باوجود یہ کام تنہا کسی ایک شخص کے بس کا نہیں تھا۔بقول پروفیسر شارب ردولوی :

’’ایسے کاموں کو تنہا انجام دینے کا بیڑا اٹھانے کے لیے جس دیوانگی کی ضرورت ہے وہ بلا شبہ عرفان عباسی صاحب میں موجود ہے۔ انھوں نے اب تک جس لگن، محنت اور تندہی سے اس کام کو انجام دیا ہے وہ یقینا انھیں کا حصہ ہے۔‘‘

’تذکرہ شعرائے اترپردیش‘ کااشاریہ ڈاکٹر اطہر مسعود خاں نے تیار کیاہے۔ اس اشاریے میں عرفان عباسی کی کل 70 تصنیفات کے نام مع سنہ اشاعت درج ہیں۔ عرفان صاحب کی کتابوں کی کمپوزنگ منیر صاحب کیا کرتے تھے۔ منیر صاحب نے خود بتایا کہ ان کے کئی مسودات کمپوز شدہ آج بھی ان کے کمپیوٹر میں موجود ہیں۔ میں نے بارہا ان سے اِس خواہش کا اظہار کیا کہ آپ کمپوزنگ کے پیسے لے لیں اور مسودات ہمیں دے دیں، تاکہ ان کی یہ کتابیں بھی،جو قوم کی امانت ہیں، چھپ سکیں، انہوں نے وعدہ تو بارہا کیا لیکن اب تک وعدہ وفا نہ کیا،کہ شاید اس میں ان کے اپنے اصول آڑے آتے ہوں۔  خدا کرے یہ مسودات ان کے پاس اب بھی محفوظ ہوں اور مستقبل میں کسی وقت عرفان عباسی کے نام سے ہی شائع ہوکر منظر عام پر آئیں۔

 کسی بھی شخصیت کو سمجھنے، جانچنے یا محسوس کرنے کے کئی طریقے ہوتے ہیں۔ اس شخص سے قربت، میل ملاقات، گزرتے وقت کے ساتھ اس کا عمل اور رویہ ایسی چیزیں ہیں، جن کی بنیاد پر شخصیت کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

میرے ساتھ طویل عرصے تک عرفان عباسی کا رویہ مشفقانہ ہی رہا۔میں جب بھی سنبھل جانے کا ذکر ان سے کرتا تو موصوف شعرا کے ناموں کی ایک فہرست تھما دیا کرتے کہ ان شاعروں کے بارے میں کچھ معلومات اگر حاصل ہوسکے تو اچھا ہے۔یہ معاملہ صرف میرے ساتھ نہیں تھا،بلکہ ہر آنے والے کو وہ اس طرح کی ایک ’پرچی‘پکڑا دیا کرتے تھے نیزاس سلسلے میں وہ پوسٹ کارڈ کے ذریعے بھی لوگوں سے معلومات حاصل کرتے رہتے تھے۔لوگ بھی ان سے خوب تعاون کرتے تھے۔

 میرا اپنا پرنٹنگ پریس ہونے کی وجہ سے ان سے ایک رشتہ کاروباری بھی ہوگیا تھا۔حالانکہ اس کاروباری رشتے کی عمر بہت کم رہی۔ ’تذکرہ شعرائے اترپردیش‘ کی کئی جلدیں میرے پریس میں چھپیں۔ لیکن عرفان عباسی کا مزاج تھا کہ بہت دنوں تک کسی سے خوش یا مطمئن نہیں رہ سکتے تھے۔مخمور کاکوروی سے وہ تعلق خاطر کا اظہار کیا کرتے تھے۔ مخمور صاحب بھی اردو اکادمی کے ان کے کام بہت دلچسپی سے کرایا کرتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد مخمور کاکوروی نے کتابوں کی طباعت کا کام اس طرح شروع کردیا کہ وہ اردواکادمی یا فخرالدین علی احمد میموریل کمیٹی،لکھنؤ سے منظور ہونے والی کتابوں کی طباعت کی ذمے داری لے لیا کرتے تھے اور کتاب کمپوز کراکے کسی پریس میں چھپوا کر تیار کرالیتے۔ اردواکادمی کے شعبہ نشر و اشاعت کی ذمے داری چونکہ ان کے سپرد تھی، اس لیے پریس والوں سے ان کے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے۔ عرفان عباسی کی کئی کتابیں انھوں نے الگ الگ پریس میں چھپوائیں۔ کچھ دن تک تو عرفان عباسی ان کی محنت، لگن اور کتابوں کی طباعت میں ان کی دلچسپی کے گن گاتے رہے، لیکن بہت جلد ان کی یہ رائے تبدیل ہوگئی اور پھر تو وہ ان کے تعلق سے ایسی ایسی باتیں کہہ جاتے تھے کہ بات ذاتیات تک پہنچ جاتی تھی۔اس سلسلے کے کئی تجربات سے مجھے بھی گزرنا پڑا۔ ڈاکٹر اسرار قریشی جس زمانے میںپی ایچ ڈی کررہے تھے، عرفان عباسی صاحب نے اپنے ذخیرۂ کتب سے ان کا بہت تعاون کیا، اسرار قریشی نے شکریہ کے طور پر ان کے خاکوں کا ایک انتخاب مرتب کرکے شائع کردیا۔کچھ عرصہ گزرا کہ اسرار قریشی اردو ٹیچنگ اینڈ ریسرچ سینٹر میں کسی پروجیکٹ کے تحت کام کرنے لگے اور اس مصروفیت کے سبب عرفان صاحب سے ملاقات کا سلسلہ تھم سا گیا۔ بس عرفان صاحب نے ہر آنے والے سے انھیں’احسان فراموش‘ کہنا شروع کردیا۔

 ڈاکٹر محمدحیات الدین نے عرفان عباسی کی تحریروں کا ایک انتخاب ’لکھنؤ کی ادبی انجمنیں‘ کے نام سے شائع کیا۔ اس کتاب کی کافی پذیرائی ہوئی۔قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے تعاون سے ڈاکٹر حیات الدین نے یہ کتاب 2008 میںشائع کی۔ اس کتاب پر بحیثیت مرتب انھیں کا نام درج ہے۔ ان سب معاملات میں ہمارے دوست رضوان احمد فاروقی پیش پیش تھے۔ کتاب چھپی، پسند بھی کی گئی لیکن ڈاکٹر حیات الدین کو اس کاانعام جن’جملوں‘ کا استعمال کرکے دیا گیا، وہ ہرگزمناسب نہیں تھے۔یہ عرفان عباسی کا عمل تھا،جس پر میں نے اپنا اختلاف بھی درج کرادیا تھااور ایک عمل ڈاکٹر حیات الدین کا تھا کہ ان سب باتوں کے باوجود وہ جب بھی لکھنؤ آتے تو عرفان عباسی صاحب سے ضرور ملاقات کرتے تھے۔ حیات الدین بھائی انتہائی شریف النفس انسان ہیں اورایک شریف النفس انسان کو اپنی حدود و قیود کا علم ہوتا ہے کہ کون سی بات کب، کہاں اور کیسے کہنی ہے۔

اس واقعے کے بعد میں اپنے بارے میں بھی کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں رہا۔ جو انسان میرے سامنے اپنے ایک محسن کو اچھے الفاظ میں یاد نہ کرتا ہو، وہ میرے بارے میں کیوں کر کوئی اچھی رائے پیش کرے گا۔ مجھے ان کی یہ اور اس طرح چند دوسری باتیں اچھی نہیں لگتی تھیں۔ یہی سبب رہا کہ میں نے بھی اس کے بعد وہاں جاناآنا کم کردیا،نتیجتاً انھوں نے میرے بارے میں بھی حسب عادت رضوان فاروقی سے بہت کچھ کہا۔ لیکن مجھے برا اس لیے نہیں لگا کہ یہ ان کا خاص مزاج تھا،جسے میں نے ان کی بشری کمزوری سمجھ کر قبول کرلیا تھا۔

 مجھے ان کی صحبت میں وقت گزارنے کی وجہ سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ انھوں نے اپنی ذاتی لائبریری کے دروازے میرے لیے کھول دیے تھے۔ کبھی کسی کتاب کے لیے انکار نہیں کیا۔ ’تذکرہ شعرائے اترپردیش‘ کی ابتدائی چندجلدیں انھوں نے مجھے عنایت کی تھیں، دو میرے پریس میں چھپی تھیں اوردو مخمور کاکوروی صاحب نے مجھے دیں۔

 عرفان عباسی صاحب دل کے پرانے مریض تھے۔ اس بیمار دل پر غم کے پہاڑ بھی ٹوٹ چکے تھے۔ چھوٹے بھائی سلمان عباسی اور اکلوتے بیٹے شعیب عباسی کی جدائی کا غم ہمیشہ تازہ ہی رہا۔سلمان عباسی کو وہ بہت یاد کرتے تھے۔ بیمار دل کی کہانی ہر ایک کو سناکر شاید اپنا غم ہلکا کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔اس سلسلے کی سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ دل کا ایک دورہ ایسا پڑا کہ اس کے اثر کو کم کرنے کے لیے ڈاکٹر نے بہت ہارڈ انجکشن دیا۔ اس انجکشن کے بعد سے رات کی نیند ہمیشہ کے لیے اڑ گئی۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ میں نے کبھی انھیں آرام کرتے نہیں دیکھا۔ ’تذکرہ شعرائے اترپریش‘ ان کا جنون تھا۔ پوری توانائی سے وہ اس کام میں لگے رہتے تھے۔ابتدائی 5-6جلدوں میں انھوں نے بڑی محنت سے خاکے لکھے ہیں، لیکن اس کے بعد کی جلدوں میں وہ محنت نظر نہیں آتی اور تحقیق میں کئی آنچ کی کمی کو ان کا قاری بھی محسوس کرتا ہے۔بایں ہمہ ان کی دیوانگی نے ہزاروں کی تعداد میں شعرا کے احوال اورمنتخب شعری نگارشات کوہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا ہے،جو ایک بڑا کارنامہ ہے۔

 عرفان عباسی کی شخصیت میں بہت سی خوبیاں اور ہنر مندیاں تھیں۔ ہر کسی سے شفقت و شائستگی سے پیش آنا ان کا خاص وصف تھا۔ کم گو تھے اورانتہائی شائستہ انداز سے گفتگو کیا کرتے تھے۔ ہاں! خوبیوں کے ساتھ ان میں خامیاں اور کوتاہیاں بھی تھیں۔ انسان مجسم اچھا ہی اچھا نہیں ہوسکتا،کچھ بشری الجھنیں بھی رہتی ہیں۔ وہ اپنے بیمار دل کے ساتھ اترپردیش کے شاعروں کے احوال و آثارصفحۂ قرطاس پر پوری توانائی کے ساتھ رقم کرتے رہے۔ دماغ تو آخری وقت تک توانا رہا لیکن دل نے ساتھ چھوڑ دیا۔ آج وہ بھی تذکرے کا حصہ بن گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے اور ان کی علمی وادبی خدمات کو شرف قبولیت بخشے۔ آمین۔


Mohd Ovais Sambhli

178/157 Barood Khana,

Opp. Noorul Islam School, Golaganj,

Lucknow - 226 018 (UP)

Mob.: 9794593055 / 7905636448

15/12/23

پروفیسر صاحب علی کی یاد میں:ڈاکٹر محمد زبیر

عروس البلادممبئی روزِ اول سے ہی اردو زبان وادب کا مرکز رہاہے۔یہاں ادیبوں اور قلم کاروں کا ایک بڑا حلقہ ہردور میں اردو زبان وادب کی ترویج وترقی میں کوشاں رہاہے۔یہ ادیب اور اہلِ قلم کسی ادبی تحریک یا ادارے سے منسلک ہوتے اور اپنی ادبی وشعری کاوشوں سے اردو زبان وادب کو ثروت مند بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے۔ممبئی میں اردو زبان کی ترویج وترقی میں ادبی تحریکوں کے علاوہ جن تعلیمی اداروںنے اہم رول ادا کیا ہے، ان میں انجمنِ اسلام، اسماعیل یوسف کالج، سینٹ زیویرس کالج، مہاراشٹرا کالج، رضوی کالج، برہانی کالج اور شعبۂ اردو ممبئی یونیورسٹی کے نام اہمیت کے حامل ہیں۔ شعبۂ اردو ممبئی یونیورسٹی اس لحاظ سے ممتازہے کہ یہاں پرا ردو میں ایم  اے اورپی ایچ ڈی کی اعلیٰ تعلیم کے علاوہ دیگر پیشہ ورانہ کورسیز کا معقول انتظام ہے۔ اس شعبے کو ابتدائی دنوںسے ہی ایسے اساتذہ ملے ہیں جن کی علمی وادبی صلاحیتوں کا ایک زمانہ معترف رہاہے۔ ان اساتذہ میں پروفیسر عبدالستار دلوی کانام سرِ فہرست ہے۔ 1982میں جب شعبۂ اردو ممبئی یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا تو پروفیسر عبدالستاردلوی صدرِشعبہ مقررہوئے۔ علاوہ ازیں پروفیسر رفیعہ شبنم عابدی، پروفیسر یونس آگاسکر، ڈاکٹر خورشید نعمانی، پروفیسر جینا بڑے اورپروفیسر صاحب علی جیسی علمی وادبی شخصیات کا تعلق اسی شعبے سے رہاہے۔ان میں پروفیسر صاحب علی بحیثیت ادیب اورناظم طلبا خاص وعام میں بڑے مقبول ومعروف ہوئے۔
پروفیسر صاحب علی ضلع بستی اترپردیش کے ایک زمین دار خاندان کے چشم وچراغ تھے۔ان کے والدکانام فتح محمدتھا جن کی کل چھ اولادیں تھیں جن میں صرف صاحب علی ہی اولاد نرینہ تھے۔ صاحب علی کے والد فتح محمد ادبی ذوق رکھتے تھے اوربطورِخاص شاعری کے دلدادہ تھے۔ ’بے چین بستوی‘ تخلص فرماتے تھے۔ ان کا ایک شعری مجموعہ( نعتیہ کلام) بھی شائع ہوچکا ہے۔صاحب علی کی پیدائش یکم فروری 1963ضلع بستی (موجودہ ضلع سدھارتھ نگر) کے ایک قصبہ یوسف جوت میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم یوسف جوت سے متصل ٹنڈواں نامی قصبے کے ایک مدرسے میں پائی۔ اس کے بعد پی آئی سی انٹر کالج ڈومریا گنج سے انٹرمیڈیٹ اور اے پی  این ڈگری کالج بستی سے بی اے آنرز میںڈگری حاصل کی۔ مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے سرسید کے خوابوں کی دانش گاہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ ہوئے۔ یہاں ایم۔اے کے دوران صاحب علی نے قرۃالعین حیدر، شہریار، ثریا حسین، قاضی عبدالستار،  نورالحسن نقوی،انصاراللہ نظر،منظر عباس، اصغر عباس، قاضی افضال حسین اور قاضی جمال حسین جیسے اساتذۂ فن سے نہ صرف کسب فیض کیابلکہ علی گڑھ کی علمی وادبی فضا اور خوشگوار ماحول نے ان کی مثبت کردار سازی میں اہم رول بھی ادا کیا۔

ایم اے اردو میںامتیازی نمبروںسے کامیاب ہونے کے بعد صاحب علی نے اردو صحافت کے نامور محقق اور ممتاز مبلغ پروفیسر نادر علی خاں کی نگرانی میں ’گلدستۂ پیام یار‘ پر ایم فل اور ’ریاض خیرآبادی کی صحافت‘ پر ڈاکٹریٹ کانہایت وقیع مقالہ لکھا، یہ دونوں مقالے شائع ہوکر علمی وادبی حلقوں میں مقبول ہوچکے ہیں۔ صاحب علی کی یہ کتابیں حوالہ جاتی حیثیت رکھتی ہیں۔

تعلیم سے فراغت کے بعد پروفیسر صاحب علی، درس وتدریس جیسے مقدس پیشے سے وابستہ ہوگئے اور ممبئی کو اپنا مسکن بنالیا۔ممبئی جیسے شہر میں مختصر اور محددو آمدنی کے باوجودڈاکٹر صاحب علی کااس عظمت وتقدس کے پیشے کو برقرار رکھناان کی تعمیری اور صالح فکر کا غماز ہے۔طلبا اور خاص وعام کے لیے وہ ایک شفیق استاد اور سلیم الطبع انسان تھے۔درس وتدریس کے ساتھ طلبا کی رہنمائی اور ہمہ جہت ترقی کے لیے بھی کوشاں رہتے تھے۔ وہ اپنے طلبا کو تعلیم کے ساتھ زندگی جینے کا سلیقہ بھی سکھاتے تھے۔ علی گڑھ کے علمی وادبی ماحول نے ڈاکٹرصاحب علی کی کردار سازی میں اگرچہ بنیادی رول ادا کیا ہے لیکن ان کی تدریسی صلاحیتوں کو جلا ممبئی نے بخشا ہے۔اس شہر نے انھیں نہ صرف عزت اورشہرت سے نوازا بلکہ ان کی فنکارانہ،پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی کو بنانے اورسنوارنے میں ان کا بھرپور ساتھ دیا۔گویا شہر ممبئی پروفیسر صاحب کے لیے فالِ نیک کی حیثیت رکھتاہے۔

پروفیسر صاحب علی ابتدا میں برہانی کالج سے وابستہ ہوئے۔بعدازاں 1996 میں ممبئی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں لیکچررکی حیثیت سے ان کا تقرر ہوا۔ ترقی کے مدارج طے کرتے ہوئے پہلے ریڈر،پھر پروفیسر بنے۔ کرشن چندر کے نام سے منسوب پروفیسر چیئر پر بحیثیت پروفیسر تاحیات برقرار رہے۔ یہاں انھوںنے اپنی زندگی کے اہم ترین چوبیس برس گزارے۔ جن میں تقریباً نو سال صدرِ شعبہ بھی رہے۔ پروفیسر صاحب علی ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے انھوں میں اپنے تحقیقی و تنقیدی جوہر دکھانے کے ساتھ ساتھ اپنی عملی زندگی میں بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ چونکہ ان کی شخصیت کی تعمیر و تشکیل اسی نہج پر ہوئی تھی جس میں تعمیری رجحانات کو فوقیت حاصل تھی اس لیے اس کا اظہار ان کی پیشہ ورانہ زندگی میں بھی نظر آتا ہے۔ انھوں نے شعبۂ اردو ممبئی یونیورسٹی کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا۔سمپوزیم، مذاکرے، مباحثے اور چھوٹی موٹی نشستوں کے علاوہ ہر سال کم ازکم دو قومی سمینار برپا کرتے تھے۔ مخطوطہ شناسی پر دواہم ورکشاپ کا انعقاد بھی اہم کارنامہ ہے۔ سال 2013 میں ’منٹو‘ اور 2018 میں ’اکیسویں صدی میں اردو فکشن ‘پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد بھی کیا، جس میںہندوستان کی نامور یونیورسٹیوں کے علاوہ ڈھاکہ، جرمنی، موریشس اور نیپال کے مندوبین شامل تھے۔ پروفیسر صاحب علی نے اردو اور غیر اردو کی اہم اوربڑی شخصیات کو شعبے میں مدعو کیا۔ ان کی شخصیت میں بلا کی کشش تھی، لہٰذا انھوں نے جب بھی کسی اہم شخصیت کو شعبۂ اردو میں مدعو کیا، اس نے ان کی دعوت کو قبول کیا۔

شعبۂ اردو ممبئی یونیورسٹی سے وابستگی کے دورانیے میں صاحب علی نے جس اہم کارنامے کو انجام دیے ہیں۔ ان میںشعبے کی ترقی اور مختلف النوع سرگرمیوں کے علاوہ ان کی قلمی خدمات بھی اہمیت کی حامل ہیں۔اس دور میں ان کی تقریباً درجن بھر کتابیں معرضِ وجود میں آئیں، جوان کاعلمی وادبی شناخت نامہ بھی ہیں۔’مبادیات عروض‘ (1996)ان کی اولین کتاب ہے،جس میں علم عروض کو آسان اور عام فہم زبان میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ’گلدستہ پیام یار‘ایم فل کے لیے لکھا گیا تحقیقی مقالہ ہے، ’ اردو فکشن ایک مطالعہ‘ (2004)، ’پھول اور بچے‘ (2005) (مراٹھی سے اردو ترجمہ)، ’کوؤں کا اسکول‘ (2006) (مراٹھی سے اردو ترجمہ)،’قرۃ العین حیدر شخصیت اور فن‘ (2008)، ’اردو افسانو ں کا تجزیاتی مطالعہ‘،’ترقی پسند تحریک اور بمبئی‘ (2010)، ’رانی کیتکی کی کہانی‘ (2011)، ’بمبئی کے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتگان‘ (2013)، ’عربی اور اردو کے لسانی و ادبی روابط‘ (2013)، اردو تنقید مقصود ومنہاج(2018)،’ریاض خیرآبادی کی صحافت ‘(2020)وغیرہ۔

پروفیسر صاحب علی نے شعبۂ اردو ممبئی یونیورسٹی کے تمام کاموں کو بخوبی انجام دیتے ہوئے اپنی دیگر ادبی سرگرمیوں کو تاحیات جاری رکھا۔ سلیکشن کمیٹی،بورڈ آف اسٹڈیز کی میٹنگ اور دوسرے ادبی پروگرام میں جذبۂ بے نیازی کے ساتھ شامل ہوتے رہے اور اپنے منصفانہ و معتدل رویے کے سبب باشعور اورتعلیم یافتہ لوگوں میں ہمیشہ قدرکی نگاہ سے دیکھے گئے۔پروفیسرصاحب علی کایہ معتدل رویہ ان کی زندگی کے ہر شعبے میں نظر آتا ہے۔ شعبۂ اردو ممبئی یونیورسٹی سے شائع ہونے والااکیڈمک ریسرچ اینڈ ریفریڈجرنل ’اردو نامہ‘پروفیسر صاحب علی کی سعی بلیغ کا نادر کارنامہ ہے۔یہ اپنی علمی وفکری ترجیحات کے سبب ایک معیاری اور معتبر جریدے کی حیثیت رکھتاہے۔اس کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر صاحب علی رقم طرازہیں:

اردو نامہ‘ کسی فردِ واحد کی ترجیحات کا ترجمان نہیں بلکہ یہ اردو زبان وادب میں جاری وساری فکری وعلمی ترجیحات ورویوں کا نمائندہ ہے۔ہمیں کسی تحریک، ادبی رویے یا مباحث سے پرہیز نہیں۔البتہ ہم یہ ضرور خیال کرتے ہیں بحث کی سطح بلند، پیرایۂ اظہار معیاری اور گفتگو عالمانہ ہو۔ اسی طرح ’اردو نامہ‘ میں ہم ہر اس تحریر کے استقبال کو تیارہیں جو علم کی وسعت اور سلیقۂ اظہار سے عبارت ہو۔‘‘

) اداریہ’ اردو نامہ‘از پروفیسر صاحب علی،اپریل 2013،ص 7, 8(

پروفیسر صاحب علی ہندوستان کی کئی اہم یونیورسٹیوںکے علاوہ این  سی ای آر ٹی، این سی  پی یو ایل اور یوجی سی کی کئی اہم کمیٹوں کے ممبر بھی تھے۔علاوہ ازیں وہ ہندوستان کے بڑے ادبی ایوارڈ ’سرسوتی سمان‘ اور مدھیہ پردیش کے سب سے بڑے ایوارڈ ’اقبال سمان ‘ کے جیوری ممبران میںبھی شامل تھے۔سرسوتی سمان ابھی تک اردو میں صرف شمس الرحمن فاروقی اور نیر مسعود کے حصے میں آیا ہے۔ صاحب علی ہندوستان کی چوبیس زبانو ں کے سب سے بڑے ادارے ساہتیہ اکیڈمی منسٹری آف کلچر دہلی، اردو بورڈ کے ممبر بھی تھے۔

پروفیسر صاحب علی کا حلقۂ احباب انتہائی وسیع تھا۔ جب تک وہ ممبئی میں تھے ہر کس و ناکس سے، چاہے وہ طالب علم ہو،یا ان کا ہم عصر یا کوئی عام انسان ہو، خوش اخلاقی کے ساتھ ملتے تھے۔جہاں تک میرے مشاہدے کا تعلق ہے میں نے انھیں علم دوست، غریب پرور اور نادار طلبا پر زیادہ مہربان پایا۔ ان کے اندر صلہ رحمی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔

پروفیسر صاحب علی کو ہم سے جدا ہوئے تقریباً ساڑھے تین سال کا عرصہ گزرچکاہے لیکن ابھی بھی ان کی باتیں ذہن ودل پراس طرح اثر انداز ہیں،گویا وہ ہم سے ہم کلام ہیں۔ دراصل ان کی شخصیت اس قدر دل نشیں تھی کہ ان سے بچھڑنے کا تصور بھی تکلیف دہ تھا۔باپ جیسے مشفق اور مہربان استادکم ہی شاگردوں کو نصیب ہوتے ہیں۔ پروفیسر صاحب علی سے میری اولین ملاقات ایم فل میں داخلے کی نسبت سے اکتوبر 2010 میں ہوئی تھی۔ ایم فل میں داخلے کے بعد میں شعبۂ اردو ممبئی یونیورسٹی سے وابستہ ہوگیا اور میری یہ وابستگی ایک عرصے تک قائم رہی۔ پروفیسر صاحب علی کی نگرانی میںایک پوسٹ ڈاکٹریٹ، بیس پی ایچ ڈی کی تھیسس اور تقریباً پینتالیس ایم فل کے مقالے لکھے گئے۔ جن میں مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے ان کی نگرانی میں تین مقالے تحریرکیے۔اول ’اثر انصاری شخصیت اور شاعری‘ (ایم فل ڈگری کے لیے لکھاگیا Dissertation ہے)۔ دوم ’ممبئی میں اردو تحقیق ابتدا تا 1960 تحقیقی وتنقیدی جائزہ ‘ اس پر ممبئی یونیورسٹی نے ناچیز کو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی ہے۔بعد ازاں ایک یوجی سی میجر ریسرچ پروجیکٹ (Development of Urdu Language  Historical and Critical Study)  A Literature in Maharashtra:  and  پر کام کیا۔یہ مقالہ ان کی وفات کے چند مہینے قبل ہی مکمل کرکے جمع کیا تھا۔

پروفیسر صاحب علی کی زندگی جہد و عمل کا نمونہ تھی۔ وہ اپنے کلیگ اور ساتھیوں سے شعبے کی ترقی اور اپنے منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا کرتے اور مشورے کے بعد ہی اسے عملی جامہ پہناتے۔یوں تو شعبۂ اردو ابتدا سے ہی ایک فعال اور متحرک شعبہ رہا ہے لیکن پروفیسر صاحب علی کے زمانے میں شعبۂ اردو ممبئی یونیورسٹی نے جس قدر ترقی کی وہ اپنی مثال آپ ہے۔شعبۂ اردو میں جدید ترین وسائل سے آراستہ کمپیوٹر لیب انہی کی محنت شاقہ کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے شعبے کو کئی اہم کورسیز فراہم کرائے۔ ان میں پی جی ڈپلوما اِن ماس کمیونی کیشن اینڈاردو جرنلزم اور ڈپلوما ان اردو کمپیوٹر اپلی کیشن ملٹی لینگول ڈی ٹی پی وغیرہ کے نام خصوصیت کے ساتھ لیے جاسکتے ہیں۔یہ روزگار اساس کورسیز طلبا کے لیے بڑے کارآمد اور سود مند ثابت ہوئے۔ شاہد لطیف(ایڈیٹر انقلاب ممبئی)،شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز) اور سرفراز آرزو (روزنامہ ہندوستان، ممبئی ) جیسے ماہر صحافی کی رہنمائی کے سبب شعبے نے جزنلزم کے میدان میں خاصی ترقی کی۔ شعبۂ اردو کی لائبریری کو مستحکم اور منفرد بنانے میں استادِ محترم کا بڑاہاتھ ہے۔ یہاں اردوادب کی ہزاروں کتابیں دستیاب ہیں جن سے طلبا فیض یاب ہورہے ہیں۔ شعبۂ اردو کو ممتاز اورمعیاری بنانے کے لیے انھوں نے ہر ممکن کوششیں کیں۔ایک علاحدہ اور پرشکوہ شعبہ جو اساتذہ اور طلبا کی تمام ضروریات کا احاطہ کرتا ہو، ان کی اس تجویزکو ’اردو بھون‘ کے نام سے یونیورسٹی انتظامیہ نے منظوری بھی دے دی اور حکومت مہاراشٹر نے اردو بھون کے لیے پانچ کروڑ روپے دینے کا اعلان بھی کردیا لیکن بہ وجوہ پروفیسر صاحب علی کا یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔

شعبۂ اردو ممبئی یونیورسٹی کے فروغ میں پروفیسر صاحب علی کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ مستقبل قریب میںجب بھی شعبۂ اردوممبئی یونیورسٹی کی تاریخ مرتب ہوگی،اُس میں پروفیسر صاحب علی کانام نمایاں ہوگا۔ مجموعی طورپر اگر ہم دیکھیں تو صاحب علی کی پوری حیات اردو کے لیے وقف تھی۔انھوں نے اردو کے فروغ کے لیے جوکارنامے انجام دیے ہیں اورطلبا کی رہنمائی میں جس طرح دلچسپی لی ہے وہ صرف انہی کاحصہ ہے۔ لہٰذا ان کی شخصیت کو مینارۂ نور سے تعبیر کیا جاسکتاہے۔

 

Dr. Mohammad Zubair

Coordinator MANUU

LSC. MS College of Arts,Comm,

Science & BMS, Kausa Mumbra

Thane-400612 (Maharashtra)

Mob: 9022951081

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...