28/10/24

زبان اور زمینی صورت حال از شمیم طارق

 اردو دنیا، اکتوبر2024

س: زبانوں کی موت کی وجوہات کیا ہیں؟

ج: زبان اور بولیوں کی موت کی کئی وجوہ ہیں۔ بڑی وجہ یہ ہے کہ جب کسی زبان کو ایک طبقہ ’ان کا‘ اور ایک طبقہ صرف ’اپناسمجھنے‘ لگتا ہے یا عوام کی روزمرہ کی زندگی سے زبانوں اوربولیوں کا رشتہ ٹوٹ جاتاہے تو وہ مرجاتی ہیں۔ ایک زبان کو جب دوسری خاص طور سے ارباب اقتدار اور اکثریت کی زبان کی ’شیلی‘ سمجھ لیاجاتا ہے تب بھی یہی ہوتا ہے۔ زبانوں اور بولیوں کا تعلق معاشرے سے ہے، معاشرے سے ان کا تعلق باقی نہ رہے توان کا وہی حشر ہوتاہے جو پانی سے باہرمچھلی کا۔

س: زبان کو زندہ رکھنے کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے؟

ج: زبان کو زندہ رکھنے کے لیے اس کا معاشرے سے جڑارہنا اور زندہ زبانوں اور نفع بخش علوم کے الفاظ کا قبول کرتے رہنا ضروری ہے۔ اپنی شرط پر دوسری زبانوں کے الفاظ قبول نہ کرنے سے زبانیں سمٹنے اور مرنے لگتی ہیں۔

س: زبان کا تہذیب و ثقافت سے کیا رشتہ ہے؟

ج: ہر زبان کی صورت گری کسی خاص تہذیب و ثقافت کے ہی حوالے سے ہوتی ہے۔ ایسا نہ ہوتاتوانگریزی میںBig Pigکا اور اردو میں             ؎

رب کا شکر ادا کر بھائی

جس نے ہماری گائے بنائی

کا تصور نہ ہوتا۔ روسی، فرانسیسی ، انگریزی اور ہندوستان کی مختلف بولیوں کے ادب اور انداز بیان میں بھی اتنا فرق نہ ہوتا۔

س: کیا زبانوں کی موت سے انسانی وراثت کے تحفظ کا مسئلہ بھی جڑا ہوا ہے؟

ج: جی ہاں ! ایک زبان کا مرنا ایک تہذیب کا مرنا ہے۔ کسی بھی زبان یا بولی کے ختم ہونے سے انسانی وراثت کے تحفظ کا مسئلہ پیدا ہوتاہے۔ وہ زبان ہی ہے جو ثقافت و معاشرت کے ہر پہلو کو محفوظ رکھتی ہے۔

س: کیا کسی زبان میں خواندگی، سائنسی، سماجی مواد کی کمی سے زبان پر منفی اثرات پڑتے ہیں؟

ج: جی ہاں خواندگی کی شرح میں کمی یا سماجی و سائنسی علوم میں  دوری کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ اردو میں اُمّی شعرا کی ایک روایت ہے ، دوسری زبانوں کے بولنے والوں میں بھیTradition Oral کی  اہمیت ہے مگر بدلتے معاشرے اور مقبول ہوتے نئے نئے موضوعات کا حق ادا کرنا  بہتر خواندگی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ مثال کے طور پر مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیپ فیک فائدہ بخش بھی ہو سکتے ہیں اور نقصان دہ بھی مگر دونوں صورتوں میں یہ خواندگی کے ساتھ ہی مشروط ہیں۔ اب تو خواندگی میں  (Computer Literacy) بھی شامل ہے۔

س: اردو کا مستقبل کیا ہے؟

ج: اردو خالص ہندوستانی زبان ہے اور ہندوستان میں جو کچھ ہے وہ سب کچھ اردو میں ہے۔ اردو تحریر و تقریر میں  اس کا اظہار بھی کیا جا تارہا ہے۔ بعض ناواقف یہ کہتے نہیں تھکتے کہ اردو رسم الخط بدیسی ہے مگر وہ اس پر غور نہیںکرتے کہ اردو رسم الخط میں بعض حروف دوسری یا بدیسی زبانوں کے ضرور ہیں مگر ان کو اس درجہ ’ہندوستانیایا‘ جاچکا ہے کہ اب وہ ہندوستان  میں ہی بولے اور سمجھے جا سکتے ہیں مثلاً حرف ب عربی میں ہے مگر بھ کی آواز صرف اردو میں ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو بھابھی، بھار دواج، بھارگو۔۔۔ کیسے بولا جاتا۔ فارسی کامرغ اردو میں مرغااور مرغی بن گیا ہے ورنہ انڈاکہاں سے آتا؟ موجودہ دور میں اردو زبان کو ایک طرف توان سے خطرہ ہے جواس کو اور اس کے رسم الخط کو  ہندوستانی ہی تسلیم نہیں کرتے اور دوسری طرف ان سے بھی خطرہ ہے جو اردو شعبوں سے دور رہ کر اردو کی خدمت کرنے والوں کو حلیف نہیں حریف سمجھتے اور ان کے خلاف طرح طرح ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ ار دو کو ایک خطرہ ان سے بھی ہے جو مدارس، عصری دانش کدوں اور روزمرہ کے کاموں میں استعمال ہونے والی اردو کو خانوں میں تقسیم کرتے ہیں۔

س: زبان کی سطح پر جو بگاڑ پیدا ہورہا ہے اس کو روکنے کے لیے کون سی ترکیبیں استعمال کی جاسکتی ہیں؟

ج:  اردو کے مستقبل کا انحصار اردو بولنے والوں کے مستقبل اور غیرت پر ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ بے حسی اور بے غیرتی یا تمام الزامات دوسروں کے سر منڈھ کر خود کو بے قصور ثابت کرنے کی روش نے بھی اردو کے مستقبل پرسوالیہ نشان لگایا ہے۔

سب سے بڑی ضرورت تو یہ ہے کہ لفظوں کے تخلیقی استعمال سے معنی میں رونما ہونے والے فرق کو سمجھا جائے۔ غالب، شبلی، آزاد ، پریم چند، راجندر سنگھ بیدی اور ظ انصاری. یا پھر مشتاق یوسفی  ’خامہ بگوش‘ کی نثر کا بار بار مطالعہ کیا جائے۔واقعہ اورسانحہ کے فرق کو ذہن میں رکھاجائے۔ اچھی زبان بولنے اور لکھنے والوں کی مجلسوں میں شرکت کی جائے ایسے لوگوں کو مدعو کیا جائے جو زبان کی صحت کا خیال رکھتے  ہوئے صاف وسلیس زبان بولتے اور لکھتے ہیں۔

س: کیا کلاسیکیت، جدیدیت وغیرہ پر گفتگو سے زبان کو کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے؟

ج:  زبان کے سفراور دنیا میں ادبی رجحانات کے مقبول ونا مقبول ہونے کے بارے میں معلومات تو ضروری ہے اس لیے کلاسیکیت اور جدیدیت کے بارے میں جانکاری بھی بے فیض نہیں ہے۔ اس سے زبان کے بارے میں بھی علم ہوتا ہے کہ کلاسیکی ادب میں لفظ کو کس طرح استعمال کیا جاتا تھا اور جدیدیت نے ان میں کیا تغیرات پیدا کیے یا غلط العام اور غلط العوام میں کیا فرق ہے۔

س: آپ کے علاقے میںکتنے اردو میڈیم اسکول ہیں اور ان میں اساتذہ کی تعدا دکتنی ہے؟

ج: میں بھی (مہاراشٹر) سے تعلق رکھتا ہوں۔ یہاں پرائمری سے ڈاکٹریٹ تک کی اردو تعلیم کا انتظام ہے۔ امید ہے کہ حکومت کی نئی تعلیمی پالیسی کے تحت اردو میںتکنیکی اور پیشہ ورانہ کور سیز بھی شروع کیے جائیں گے مگر میں اردو اسکولوں اور اردو شعبوں کے معیار میں بہتری چاہتا ہوں۔

س: آپ کے علاقے میں کتنی لائبریریاں ہیں اور وہاں کون کون سے اخبارات و رسائل آتے ہیں؟

ج: لا ئبریریاں تو بہت تھیں۔ پہلے ان لائبریریوںسے اردو کو ’ٹاٹ باہر‘ کیا گیا پھر اردو لائبریریاں بند ہونا شروع ہوئیں۔ اس کے لیے حکومت اور میونسپل کارپوریشن ہی ذمے دار نہیں ہے۔ ملّی اداروں میں بھی اردو  کے گلے پر کند چھری رکھی گئی۔

س: آپ کے علاقے میں اردو سے جڑی ہوئی کتنی شخصیات ہیں، جن کی خدمات کا اعتراف علاقائی اور قومی سطح پر نہیں کیا گیا ہے؟

ج: کالی داس گپتا رضا ، علی سردار جعفری ، ظ انصاری۔۔۔ وغیرہ کے علمی ادبی کاموں کا کم زیادہ اعتراف ہوا مگر ڈاکٹر صفدرآہ، مانک ٹالا۔۔۔ وغیرہ کونظر انداز کیا جاتا رہا۔ اس خاکسار شمیم طارق کو توکوئی نہیں پوچھتا۔  ادیبوں کے مقدر اورمرتبے کا فیصلہ وہ کر رہے ہیں جن کے نامہ اعمال میں سازش،سفارش،گزارش اور خوشامد کے علاوہ کچھ ہے ہی نہیں۔اردو زبان وادب میں دلوں کو فتح کرنے کی طاقت آج بھی ہے مگر سازش کرنے والوں نے اس زبان کی زمینی صورت حال کوبگاڑا ہے۔

س : آپ کے ذہن میں فروغ اردو کے لیے کیا تجاویز اور مشورے ہیں؟

ج: گھر، محلے، شہر میں اچھے اردو پروگرام کیے جانے چاہئیں۔ ایک واقعہ میں سناؤں جس ادارے میں ڈائرکٹر کی حیثیت سے میں کام کرتا تھا، مہاراشٹر کے گورنر صاحب تشریف لائے۔ انھوں نے انگریزی میں تقریر کی۔ بچوں نے اردو میں گیت پیش کیے۔ گیت سن کر وہ اردو بولنے لگے۔ انھوں نے پوچھا ایسے اردو پروگرام ٹی وی پر کیو ںنہیں پیش کیے جاتے۔ اسی ادارے میں ایک سالانہ پروگرام ہوتا تھا۔ ایک صاحب اور ان کی بیگم نے پروگرام دیکھا تو اپنی بچی کو لے کر آئے کہ اس کو نویں یا دسویں کلاس میں داخلہ دیجیے، حالانکہ وہ کسی دوسرے اسکول کی نویں یا دسویں جماعت میں پڑھ رہی تھی۔

س: اردو رسم الخط کی بقا کے لیے کیا کوششیں کی جاسکتی ہی؟

ج:  اردو کی کتابیں نہیں بکتی تھیں مگر جب قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے میلہ لگانا اور کتابوں سے بھری گاڑی گھمانا شروع کیا تو کتابیں فروخت ہونے لگیں۔ 3 دن ،7دن یا 11 دن کے کیمپ لگائے جائیں تو اردو رسم الخط کو بڑے طبقے میں مقبول بنایا جا سکتا ہے۔ ہر عمر اور صلاحیت کے لوگ اردو رسم الخط سیکھ سکتے ہیں۔ وہ بھی سیکھ سکتے ہیں جو اردو اور اردو رسم الخط نہیں جانتے مگر اردو کی ادبی تقریبات کی صدارت کرتے ہیں۔

س: دوسری علاقائی زبانوں میں اردو کے فروغ کی کیا کیا صورتیں ہوسکتی ہیں؟

ج: ہندوستان کی علاقائی زبانیں اردو کے معاملے میں فراخ دل ہیں۔ بنگلہ، مراٹھی ، کنڑ،تیلگو،تمل کے بارے میں تو ہمیں علم ہے کہ یہ زبانیں اردو کے الفاظ کو استعمال کرتی ہیں۔ اردو رسم الخط سیکھنے میںبھی قباحت محسوس نہیں کرتے۔ موجودہ ہندی کئی ریاستوں میںبولی جاتی ہے پہلے اردو ہندی میں بلاوجہ کی رقابت پیدا کر دی گئی تھی۔ اب یہ رقابت رفاقت میں بدلتی جارہی ہے۔ بنارس  ہندو یونورسٹی کے اردو اور ہندی شعبوں نے مل کر’ اردو اور ہندی کی ساجھی وراثت‘کے عنوان پر دو روزہ سمینار منعقد کیا تھا۔ یہ سلسلہ آگے بڑھ رہا ہے۔

س: کیا آپ کے اہل خانہ اردو جانتے ہیں؟

ج: بیٹی، بیٹا ،بہو، پوتیاں سب انگریزی میڈیم کی ہیں مگر سب اردو بولتی ہیں۔ بیٹے کو اردو رسم الخط پڑھنے میں دشواری ہوتی ہے مگر وہ بھی اردو ہی بولتا ہے۔

س: آپ کے بعد کیا آپ کے گھر میں اردو زندہ رہے گی؟

ج: ان شاء اللہ میرے مرنے کے بعد بھی بچے اردو سے اپنارشتہ باقی رکھیں گے۔ اردو میرے گھر میں بولی بھی جائے گی اور پڑھی بھی جائے گی۔

س: غیراردو حلقے میں فروغ اردو کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے؟

ج: غیر اردو داں حلقے میں اردو کو متعارف کرانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم انہیں یہ تاثر دیںکہ اردو ہندوستانی زبان ہے۔ اردو ہندوستان کی اکھنڈتا کی قائل ہے۔ یہ انتشار کا نہیں اتحاد کا درس دیتی ہے۔اس کے پروگرام ایسے ہوں کہ لوگ ان میں باربار شریک ہونے کی خواہش ظاہر کریں۔

س: ملکی سطح پر غیرسرکاری تنظیموں سے اردو کی ترویج و اشاعت کے سلسلے میں کس طرح سے مدد لی جاسکتی ہے؟

ج:  اچھے پروگرام ہوں گے تو امداد کرنے والے سامنے آئیں گے۔ ایسے افراد اور تنظیمیں ہیںجو پروگرام میں مدد دیتے ہیں مگر اب ہم شاید امداد حاصل کرنے کے بھی اہل نہیں رہ گئے ہیں جوشہرت پسند امداد دیتے ہیں وہ اسٹیج پر قبضہ کرتے ہیں اور اس سے فائدہ کے بجائے نقصان ہوتا ہے۔

س: سینٹرل اسکولوں اور نوودیالیہ میں اردو کی تعلیم کا کوئی معقول انتظام ہے؟

ج: نوودے ودّیالوں،سینٹرل اورکانوینٹ اسکولوں میں اردو معقول تعلیم کے انتظام کو ترس رہی ہے۔ اگر کہیں ہے بھی تو اس کو معقول اور معیاری بنائے جانے کی ضرورت ہے۔

زبان کے ارتقا اور اشاعت و مقبولیت میں اپنے پرائے کی تمیز کی ہی نہیں جانی چا ہیے۔یہ تمیز کرکے گروہ بندی تو کی جا سکتی ہے، کوئی تعمیری مقصد نہیں حاصل کیا جا سکتا۔ میںاردو میں لکھتا ہوں، کیا برا کرتا ہوں!جو لکھتا ہوں وہ پسند ہی کیاجاتا ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میں نے کئی ایسے ادبی کام کیے ہیں جو دوسروں نے بھاری پتھر سمجھ کر چھوڑدیے تھے۔ مجھے یقین ہے کہ نیک نیتی، محنت و تربیت اور فیض رسانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ اسی لیے نقصان اٹھا کر بھی میںاردو کی خدمت کر رہا ہوں۔ جن کی سرشت میں ’شر‘ ہے، وہ شوشے چھوڑتے رہتے ہیں مگر منہ کی بھی کھاتے ہیں۔ شکر ہے کہ میں ان میں نہیں جو لاکھ ڈیڑھ تنخواہ یا لاکھ پچاس ہزار پنشن لیتے رہنے کے باوجود کچھ نہیں کر سکے۔ آج ان کی حیثیت نشان عبرت کی ہے۔

ہندوستان میں اردو کو جو نقصان پہنچا ہے یا پہنچ رہا ہے اس کے پس پردہ تعصب،لسانی پالیسی اور زبان کی بنیاد پر ریاستوں کی تشکیل پر تو ہماری نظر ہے مگر ہم اردو والے اپنی کوتاہیوں پر کبھی نظرنہیں کرتے۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں کے اردو شعبوں میں اردو کے فروغ کی عملی تدابیر پر شاید ہی کبھی غور کیا جاتا ہے۔ آج عالم یہ ہے کہ ایک طبقے یا جماعت کو یہ احساس بلکہ دعویٰ تو ہے کہ وہ اردو میں ڈگری یافتہ ہے مگر بیشتر کو یہ احساس نہیں ہے کہ اردو میں ڈگری یافتہ ہونے کے باوجود وہ اسمٰعیل میرٹھی کی یا پریم چند کی یا فکر تونسوی کی طرح زبان لکھنے اور بولنے پر قادر نہیں ہیں۔ عام لوگ ’مصلّی‘ س سے اور قبرستان میں قبروں کے کتبے دیوناگری میں لکھنے لگے ہیں۔ ’ریختہ‘ والوں نے یہ احساس دلایا کہ اردو بولنے اور سیکھنے کی خواہش یا اردو کاگلیمر ان میں بھی ہے جو اردو رسم الخط نہیں پڑھ سکتے مگر اردو کے دوچار برگزیدہ استاذ اور تخلیق کار کے علاوہ بیشتر اسی کوشش میں رہے کہ اردو زبان، تہذیب، ادب اور روایت کو ان کے حوالے سے سمجھا جائے حالانکہ ان کا املا، جملہ غلط ہے اور وہ من جملہ بھی غلط ہیں۔ اچھی صحبتیں اور مجلسیں اجڑ گئیں، معیاری تقریبات کم ہی منعقد ہوتی ہیں جہاں کچھ سیکھنے کا موقع ملے۔ ایسے میں معاشرے سے اردو زبان وادب کا تعلق کیسے برقرار رہے گا؟ معاشرے سے زبان وادب کا تعلق برقرار نہ رہ سکے تو برا نتیجہ ہی برآمد ہوتا ہے۔ اردو کی خوش نصیبی یہ ہے کہ اس کو عوام نے زندہ رکھا ہے۔ نقصان پہنچایا ہے تو ان خود پسندوں نے جن کا کھلے عام یا ڈھکے چھپے دعویٰ ہے کہ اردو  ان سے ہے وہ اردو سے نہیں۔ میں ایک ادارے سے ڈائرکٹر کے طور پر وابستہ تھا۔ وہاں ایک اور صاحب تھے اور انتظامیہ نے ان کو سر پر بٹھارکھا تھا۔ انھوں نے اس ادارے کے اردو کردار کو ختم کردیا۔ میں احتجاجاً پہلے ہی اس سے الگ ہوگیا تھا ان کو باقاعدہ مورد الزام ٹھہراکرنکالا گیا۔

 

Shamim Tariq

Flat No: 27, 4th Floor, Marzban

Mansion Byculla

fruit Market

Mumbai- 400024 (MS)

 

23/10/24

فرید پربتی کا شعری کردار، مضمون نگار: نذیر احمد کمار

 اردو دنیا، ستمبر 2024

یہ کلیہ اپنی جگہ درست ہے کہ شعر و ادب کی دنیا میں بھی تعین قدر کے پیمانے ماحول اور مزاج کے تابع رہتے ہیں کبھی نظریات کی شاعری گراں قدر سمجھی جاتی ہے تو کبھی شاعری میں جذبہ و احساس کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے مگر اس سے یہ نتیجہ اخذ کرلینا صیح نہیں کہ نظریات کی شاعری جذبہ و احساس سے بالکل عاری ہوتی ہے اگر ایسا ہوتا تو فریدپربتی کانام اردو شاعری کا ایک خوبصورت نام قرار نہیں پاتا۔فرید پربتی نے اس وقت لکھنا شروع کیا جب جموں وکشمیر میں جدیدیت کا رجحان سر چڑھ کر بول رہا تھا۔

فرید پربتی کی شاعری میں دل موہ لینے والی کیفیت ہے تو اس کا سبب یہی ہے کہ ان کا شعری کردار تخلیقی سطح سے کبھی نیچے نہیں اترا اگر ایسا ہوتا تو ان کی شاعری تخلیقی حسن کا استعارہ نہیں بن پاتی۔ ان کی ہمہ جہت شخصیت کا دائرہ وسیع ہے۔ کبھی وہ شاعر بن کر ابھرتے ہیںتو کبھی محقق و نقاد کی صورت اختیار کرتے ہیں۔کبھی عروض و اصلاح کے شناور بن کر، تو کبھی خالص رباعی گوشاعر بن کر سامنے آتے ہیں غرض جس میدان میں قدم رکھا، اس میں امتیازی شاخت قائم کی۔

فرید پربتی بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں یا پھر رباعی کے، ان کے جتنے بھی شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں وہ  ان کے شعری کردار کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں جن میں ’ابر تر،آب نیساں، اثبات، فریدنامہ اور گفتگو چاند سے ‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان کے شعری کردار کو ذہن میں رکھنے سے پہلے شاعری کے بارے میں ’فرید نامہ ‘ کے دیباچے میں ان کی رائے ضرور دیکھیں،لکھتے ہیں:

’’شاعری کا منظر نامہ دلکش بھی ہے اور پیچیدہ بھی، اُفق شعر پر متعدد رنگ ایک دوسرے کو کاٹتے ہوئے گزر تے ہیں اور ہر رنگ کو اصرار ہے کہ وہی سب سے زیادہ سچا اور موزوں رنگ ہے۔ میرے نزدیک شاعری اظہار ذات کا ایک وسیلہ ہے۔ یہ اپنے اصل مفہوم کے لحاظ سے زمان و مکان کی حدودو قیود سے یکسر بالا تر ہوتی ہے۔شاعری جدید ہے نہ قدیم بلکہ صرف شاعری، متنوع اظہار کے سانچوں کے باوجود یہ اپنی اصلیت کی دفاع کرتی ہے۔‘‘1

غرض فرید پربتی کے شعری کردار کو محض اظہار ذات کی شاعری قرار دینا ان کی شاعری کے معنیاتی امکانات کو محدود کرنے کے مترادف ہوگا۔ فرید پربتی اردو شاعری کی روایات، اجتہادات اور عصری مقتضیات کا گہرا شعور  رکھنے والے ایک ہمہ جہت شاعر ہیں رباعی ہوں یاغزل، وہ طرز فکر اور پیرایہ بیان دونوں کے اعتبار سے انفرادیت رکھتے ہیں۔ فرید پربتی کے مجموعہ ’خبر تحیر‘کے شروع میں عتیق اللہ رقمطراز ہیں:

’’فرید پربتی‘ خواہ غزل کو اپنا ذریعہ اظہار بنائیںکہ رباعی یا کسی اور صنف کو‘ان کی سج دھج ہمیشہ دوسروں سے مختلف ہوتی ہے۔ فرید پربتی کی صلاحیت حس بے حد شدید ہے، وہ چیزوں سے پرے جھانکنے کی کوشش نہیں کرتے، ان کے اندراُترنے کی سعی بھی کرتے ہیں تاکہ جہان اندر جہان کی کیفیات کو اپنے تجربے کا حصہ بنا سکیں۔‘‘2

اب چند مثالیں ملاحظہ ہوں      ؎

خواب ہیں سارے نئے آنکھ پُرانی میری

ہے تضادات سے بھر پور کہانی میری

اسی مکاں میں گھٹن ہو رہی ہے اب محسوس

یہی مکان بہت ہی کشادہ تھا پہلے

تمنا اپنی ان پر آشکارا کررہا ہوں میں

جو پہلے کر چکا ہوں اب دوبارہ کررہا ہوں میں

میں کھل کر کہہ نہیں سکتا نیاز عشق کی باتیں

فقط ان کی طرف بس اک اشارہ کررہا ہوں میں

رگ و پے میں سرایت کرگیا وہ

مجھی کو مجھ سے رخصت کر گیا وہ

یوں تو فرید پربتی روایتی شاعری کے پرستار ہیں پھر بھی نہ تو وہ دوسروں کے خیالات کو نئے سانچوں میں ڈھالنے میں یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی اپنے آپ کو دہراتے ہیں ان کی یہ کوشش رہتی ہے کہ نت نئے خیالات، تشبیہات اور استعارے استعمال کریں اور روایتی شاعری میں نئی روح پھونک دیں۔ان کے شعری مجموعوں کے مطالعے کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ شاعری کی لفظیات کو گھسے پٹے انداز میں استعمال کرنے کے بجائے نئے نئے پیکر تراشنے کی کوشش کرتے  تھے۔ زبان و بیان اور عروض و آہنگ پر عبور حاصل تھا۔ جذبات کو فنی قیود کے باوجود برتنے کا بھر پور حوصلہ رکھتے تھے چند مثالیں         ؎

سلگتے خواب خریدے ہیں نیند کے بدلے

یہ کاروبار پرانا نیا نیا سا لگا

ہم کہ محروم ہیں چراغ سے بھی

وہ کہ سورج کے بادشاہ ہوئے

کاغذی ناؤ یہ کیا پار اُتارے گی فرید

خود کو نادان تماشا نہ بنا پانی پر

 

اس جگہ تم نے مجھ کو چھوڑ دیا

جس جگہ سبز ہے نہ پانی ہے

اب سلامت مکان ہے نہ مکیں

کیا یہی تیری پاسبانی ہے

فرید پربتی کی شاعری اظہار ذات کی شاعری ہے اُن کی غزلیں اور رباعیاں اپنے مخصوص لہجے اور منفرد اسلوب کی وجہ سے دور سے پہچانی جاسکتی ہیں ۔فرید کا تعلق اگر چہ جدید نسل سے ہے مگر اُن کی شاعری میں قدیم و جدید کا ایک خوبصورت امتزاج پیدا ہوگیا ہے جو بہت کم شاعروں کو نصیب ہوتا ہے ۔مثال کے طور پر        ؎

تنہا ہوں چار سمت ہے یلغار تیر گی

میں اک چراغ ہوں تہہ داماں نہ رکھ مجھے

 

دے رہا تھا کوئی رہ رہ کے صدا یاد آیا

رات چلتی تھی بہت تیز ہوا یاد آیا

فرید پربتی نے صنف رباعی کے بارے میں طالب علمی کے زمانے سے ہی غور کرنا شروع کردیا تھااس صنف کی طرف جیسا کہ خود کہا ہے انھیں مائل کرنے میں سب سے زیادہ ہاتھ غلام رسول نازکی کا ہے ۔کم و بیش 300 رباعیاں لکھی ہیں اور اس صنف کو ان موضوعات سے باہر نکالنے کی کوشش کی ہے جن کی وجہ سے یہ صنف کافی محدود ہو کر رہ گئی تھی۔مجموعہ ’اثبات ‘کے شروع میں شمس الرحمن فارقی لکھتے ہیں:

’’فرید پربتی نے ان دنوں کثرت سے رباعیاں کہی ہیں ،میرا خیال ہے کہ وہ رباعی کے فن کی رعایتیں ملحوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو رباعیاں میںنے دیکھیں ان میں کہیں کہیں نئے رنگ اور آہنگ اور نئے احساس کی چمک نظر آئی۔‘‘3

یہ بات قابل ذکر ہے کہ رباعی کی ظاہری ہیئت بس اتنی ہے کہ چار مصرعے ہوں اور ان میں سے تین یا چاروں مصرعے ہم قافیہ ہوں، مگردراصل رباعی ایک مختصر اور مکمل ڈراما ہوتا ہے۔ اس میں نہ صرف وحدتِ فکر ،تسلسل بیاں اور فنی ارتکاز کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ ایک مکمل ڈرامے کی طرح ہی پلاٹ ،مرکزی خیال، آغاز، تسلسل، نقطہ عروج اور انجام ہونے چاہئیں، اُن سب چیزوں کے علاوہ یہ چاروں مصرعے رباعی کے مخصوص وزن یا اوزان میں ہونے چاہئیں۔ رباعی کے لیے چوبیس اوزان مقرر کیے گئے ہیں جن کو بعد میں خواجہ امام حسن قطان نے دو دائروں ’دائرہ اخرم‘اور ’دائرہ اخرب ‘میں تقسیم کیا ہے۔ یہاں پر اس چیز کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ اگر پہلا،دوسرا،اور چوتھا یا چاروں مصرعے ہم قافیہ ہوں اور ان میں وحدت ِفکر، تسلسل ِخیال، فنی ارتکاز بھی ہو مگر مخصوص چوبیس اوزان نہ ہوں تو وہ رباعی نہیں زیادہ سے زیادہ قطعہ کہلائے گا۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ فرید کی رباعیاں اس صنف کے تقاضوں کو پورا کرتی ہیں،شمس الرحمن فارقی لکھتے ہیں۔ ’’فرید پربتی کی رباعیوں میں گہرائی بھی ہے اور گیرائی بھی ہے انھوں نے تقریباً تمام اوزان میں رباعیاں کہی ہیں۔‘‘4 اتنا ہی نہیں کہ فرید پربتی نے تمام اوزان میں رباعیاں کہی ہیں بلکہ موضوعات کی بات کریں تو جہاںان کی رباعیوں میں روایتی موضوعات مثلاً اخلاقیات، تصوف، وعظ و پند ملتے ہیں وہیں موجودہ دور کے تقاضوں کو بھی شاعرانہ ہنر مندی سے برتا ہے۔ چند مثالیں          ؎

تکتا ہوں ہر اک چیز کو ہٹ کر تب سے

آپ اپنے سے رہتا ہوں کٹ کر تب سے

اندازہ ہوا جب سے دنیا ہے وسیع

بیٹھا ہوں پروں میں سمٹ کر تب سے

 

گاؤں کی ہے اور نہ ہے شہری ہوا

آوارہ ہے من موجی ہے یہ لہری ہوا

رُک جا کہ شجر میرے گریں گے سارے

مت کہہ کہ سنے گی نہیں کچھ بہری ہوا

 

ٹوٹی ہوئی دیوار نظر آتی ہے

سائے سے بے زار نظر آتی ہے

اے زیست کے سائے میں اچھلنے والو

کاندھوں پہ مجھے بار نظر آتی ہے

یوں تو کشمیر میں اردو شاعری کے آثار باضابطہ طور پر اس وقت سے مل رہے ہیں جس وقت شمالی ہندمیں اردو کے آثار ملتے ہیں تاہم رباعی کا سراغ کہیں نہیں ملتا ۔بہت عرصے دیر تک غلام رسول نازکی کے چو مصرعوں کو ہی رباعی سمجھتے تھے جو رباعی کے قریب تو تھے لیکن رباعی کی مخصوص بحر سے خالی ۔کشمیر کا پہلا رباعی گو شاعر شہہ زور کاشمیری کو مانتے ہیں لیکن مسعو د سامون اور فرید پربتی نے اس صنف کو سنجیدگی سے لیا ۔فرید پربتی کی خاصیت یہ ہے کہ ان کے یہاں شہر آشوب سے لے کر واردات ِ قلبی کے مضامین پائے جاتے ہیں ۔بقول حقانی القاسمی:

’’فرید پربتی اپنے شعری طریق اور تخلیقی اظہار میں وحید و فرید ہیں۔ انھیں شعری روایت کی جمالیات کی آگہی ہے اور انسانی اقدار و روایات کا عرفان بھی ہے۔ درد و غم ان کے تخلیقی وجدان کا ایک اٹوٹ حصّہ بن گئے ہیں۔ اس لیے ان کی شاعری میں وہ ساری آوازیں مل جاتی ہیں جو کسی ٹوٹے  ہوئے زخمی دل سے آہ کی صورت اُبھرتی ہیں۔‘‘5

مجموعی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ فرید پربتی نہ صرف غزل بلکہ رباعی کے بھی منجھے ہوئے شاعر ہیں، وہ کشمیر میں رہتے ہوئے یہاں کے سیاسی و سماجی منظر نامے کا ایک حصہ ہوتے ہوئے بھی خود کو صرف کشمیر تک محدود رکھنا پسند نہیں کیا۔ اس کے برعکس وہ اپنی شناخت پورے ملک بلکہ وسیع تر کائنات اور اس کے لامحدود افکار سے قائم کرتے نظر آتے ہیں ۔اس لحاظ سے ان کے یہاں ایک آفاقی شعری تناظر کی بھی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ بقول حامدی کاشمیری ’’فرید نہ صرف نئی شعری فضا کے زائیدہ ہیں بلکہ اپنے اشعار کی رخشندگی سے اس فضا کی تابناکی میں اضافہ کر رہے ہیں۔‘‘6

حوالہ جات

1        فرید پربتی: فرید نامہ،عفیف پرنٹرس،دہلی،2003،ص12

2        فرید پربتی: خبر تحیر،رباعیوں کا مجموعہ، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس،دہلی،2007،ص2

3        فرید پربتی ،اثبات، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس، دہلی، 1998، ص2

4        بحوالہ تنقید رباعی، فرید پربتی، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس، دہلی، 2011،ص156

5        فرید پربتی (شعر، شعور اور شعریات)، مرتبہ،سلیم سالک، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس، دہلی،2006،ص28

6        ایضاً، ص 6

 

Nazeer Ahmad Kumar

Research Scholar, Dept Urdu

Kashmir University

Srinagar-190006 (J&K)

اردو افسانہ اور ماحولیاتی تنقید، مضمون نگار: محمد فرید

 اردو دنیا، ستمبر 2024

ادب کی اصطلاح میں ماحولیاتی تنقید تھیوری کی نئی صورت حال کے بمقابل ایک طرز مطالعہ کے طور پر خاص طور پرابھر کر آئی جو ’بشر مرکوزیت‘ کے برعکس ’زمینی اخلاقیات‘ سے تعلق رکھتی ہے۔ ’زمینی اخلاقیات‘ میں فطرت کا احترام اور ماحول کی حفاظت پر خاص توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ ماحولیاتی تنقیدی دبستان میں فطرت کی عکاسی کرتی تخلیقات، رومانی شاعری، چرند و پرند کی کہانیوں، سائنسی بیانیہ وغیرہ کو زیر بحث لایا جاتا ہے اور اس بات پر روشنی ڈالی جاتی ہے کہ کرۂ ارض پر موجود بنی نوع انسان اور دیگر انواع ( مثلاً حیوانات، نباتات، جمادات، سمندر، ہوا، پانی، چاند، سورج وغیرہ) برابر کے شہری ہیں۔ ماحولیاتی نقاد انسان اور فطرت کے مابین تعلقات اور انسانی زندگی میں ماحولیات کی اہمیت و افادیت پر زور دیتے ہیں اور ادب میں ماحولیات کی ترجمانی کس طرح کی گئی ہے، فطری مناظر، بارش، ندی، نالے، دریا، سمندر، پہاڑ، ہوا، کھیت کھلیان اور چرند پرند وغیرہ کو فکشن یا شاعری میں کس طور سے پیش کیا گیا ہے، ان کی حفاظت کوئی تدبیر پیش کی گئی ہے یا محض انھیں تشبیہ اور استعارے کے طور پر ہی استعمال میں لایا گیا ہے، ساتھ ہی اس امر کی بھی کھوج کرتے ہیں کہ انسان ماحولیاتی توازن کو کس حد تک اہمیت دیتا ہے اور اس کی حفاظت کے لیے کن اقدامات کی نشاندہی کرتا ہے۔

فطرت سے انسان کا گہرا رشتہ ہے۔ پھولوں کا کھلنا، چڑیوں کا چہچہانا، جانوروں کا چلنا پھرنا، جنگلوں کا پیڑ پودوں سے گھرا رہنا، سمندروں کا اٹکھیلیاں کرنا، سبز کھیتوں کا لہلہانا، سورج سے امید بھری کرنوں کا ابھرنا اور چاندنی راتوں میں تھکن کو دور کرتے گیت گنگنانا سب فطرت سے تعلق رکھتے ہیں اور یہی فطری اشیا انسان کے دل کو سکون و اطمینان بخشتی ہیں لیکن انسان جیسے جیسے ترقی کی منازل طے کررہا ہے فطرت سے اس کا رشتہ کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ترقی کے زعم میں وہ اس خوبصورت ماحولیاتی زندگی کو بھول کر مصنوعی زندگی بسر کر رہا ہے۔ آج ترقی کے اس دور میں جنگلات کی بڑے پیمانے پر کٹائی، سمندروں کو پاٹ کر زمین کی بازیابی، موسمیاتی تبدیلیاں، کارخانوں ،گاڑیوں سے نکلتے زہریلے دھوئیں اور زہریلا پانی (جسے بغیر کسی جانچ کے سمندروں اور دریائوں میں بہایا جا رہا ہے جس سے آبی حیات کو بھی خطرات پہنچ رہے ہیں)، زرعی ادویات کے استعمال سے ابھرتے نقصانات اور جنگی و ایٹمی ہتھیاروں کی صنعت کاری کے پھیلائو وغیرہ نے ماحول کو آلودہ اور انسانی زندگی کو خطرات سے پُر کر دیا ہے۔

ادب میں ماحولیاتی تنقید کی ابتدا اس وقت عمل میں آئی جب دور حاضر کے حساس تخلیق کاروں نے فطرت کی بحالی پر زور دیتے ہوئے ماحولیات کی اہمیت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور آلودگی سے پر ماحول کو صاف شفاف کرنے کے لیے خیالات و افکار پیش کیے۔اس سلسلے میں سب سے پہلے ایلڈ ولیوپولڈ کی کتاب A Sand Country Almance  (1949) کا تذکرہ ملتا ہے۔ یہ کتاب ’بشر مرکوزیت‘سے ہٹ کر ’زمینی اخلاقیات‘ سے تعلق رکھتی ہے۔اس کے بعد ولیم روئیکرٹ کا مضمون  Literature and Ecology: an Experiment in Ecocriticism  ماحولیاتی تنقیدی اصطلاح کے طور پر منظر عام پر آیا۔ انھوں نے اپنے مضمون میں ادب کی ’ماحولیاتی شعریات‘ کی تلاش کی اور ہماری زبان اور ادب کو تخلیقی توانائی محفوظ کرنے کا ذریعہ بتایا ہے ۔ بقول ولیم روئیکرٹ:

’’ادب میں بسنے والی توانائی قابل تجدید ہوتی ہے۔ سورج سے خارج ہونے والی توانائی کے برعکس ادب کی محفوظ توانائی ختم یا منتشر نہیں ہوتی بلکہ دوسرے متون میں منقلب ہو جاتی ہے۔‘‘  1

ماحولیاتی تنقید کے ابتدائی دبستان میں انسانی ثقافت اور فطرت کے درمیان رشتوں کا مطالعہ کیا گیا ہے اور فطری و طبعی دنیا کے آپسی حقوق پر بحث کرکے دونوں کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ اس ابتدائی دور میں ماحولیاتی نقاد کا بنیادی مقصد ادب میں ماحولیاتی موجودگی کی تلاش ، ماحولیاتی بحران کو پرکھنا اور اس کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ اسی لیے اس دور کو ’سبز انتقاد‘، ’ماحولیاتی شعریات‘ اور ’سبز ثقافتی مطالعات‘ وغیرہ ناموں سے منسوب کیا گیا۔

مغربی فلسفی شیرل گلاٹفیلٹی ماحولیاتی تنقید کا تعارف یوں بیان کرتے ہیں:

’’سادہ لفظوں میں ماحولیاتی تنقید ادب اور طبعی ماحول کے مابین رشتوں کے مطالعے کا نام ہے۔ جیسے تانیثی تنقید ایک صنفی شعور کے تناظر میں ادب اور زبان کا جائزہ لیتی ہے اور مارکسی تنقید پیداوار اور معاشی طبقات کی روشنی میں ادبی متن کو مرکز بناتی ہے، اسی طرح ماحولیاتی تنقید ادبی مطالعات کے لیے ایک زمین مرکوز منہاج اختیار کرتی ہے۔‘‘  2

ادب میں فطرت کا استعمال اکثر رومانی شعور کے طور پر ہی کیا جاتا رہا اور اس کے جزئیات و حسن کی تعریف بیان کی جاتی رہی لیکن ماحولیاتی تنقید میں رومانی شعور کے برعکس ’زمین مرکز‘ کو خیال میں رکھتے ہوئے فطرت کو اس کی موجودہ صورت حال میں دیکھنے کی سعی کی گئی اور اس میں رونما ہوتی تبدیلیوں اور ان تبدیلیوں کے اثرات انسان ، چرند ، پرند کو کس طرح نقصان پہنچا رہے ہیں اس پر روشنی ڈالی گئی اوراس مطالعے کو ماحولیاتی شعور کا نام دیا گیا اور ساتھ ہی ماحولیاتی تنقید کے زیر اثر ایک ایسا ادبی نظریہ بھی ابھر کر سامنے آیا جسے’ایکوفیمینزم‘ کے نام سے موسوم کیا گیا۔اس ادبی نظریے میں ’ماحولیات مادریت‘ کو زیر بحث لایا گیا اور یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی کہ مرد اور عورت انسانی لحاظ سے برابر اور جسمانی و جذباتی لحاظ سے مختلف ہیں اور دونوں کے معاملات و حقوق بھی مختلف مزاج رکھتے ہیں۔

اردو ادب میںماحولیاتی تنقید کی ابتدا مغربی ادب کے مقابلے بڑی تاخیر سے عمل میں آئی۔ اس سے قبل علی گڑھ تحریک، رومانی تحریک، ترقی پسند تحریک، جدیدیت اور مابعد جدیدیت وغیرہ نے ادب میں اپنا مقام بنایالیکن یہ تمام تحریکات کسی مخصوص نظریے و رجحان کے ساتھ ادب میں متعارف ہوئیں جن کے موضوعات بھی بشر سے تعلق رکھتے تھے۔ جنگوں اور ایٹمی ہتھیاروں اور مشینوں سے انسان کی زندگی میں کیا کیا تغیرات رونما ہوئے ان کا بیان کرنا ہی ان تحریکات کا خاص مقصد تھا جبکہ ماحولیاتی تنقید تحریک ورجحان کے برخلاف ادبی نظریے و مطالعے کے طور پر ابھری جس کی ابتدا 20ویں صدی کے اواخر اور 21 ویں صدی کے اوائل میں بڑھتی آبادی، صنعت کاری،صنعتی انقلاب، ایٹمی ہتھیار اور سائنس و ٹکنالوجی کی نئی نئی ایجادات،مشینوں کے بے دریغ استعمال سے انسان اور فطرت پر کیا اثرات رونما ہوئے اس کی ترجمانی منظر عام پر آئی۔ ماحول کو درپیش مسائل، ماحولیاتی بحران اور ماحولیاتی آلودگیوں کا ذکر اس سے اثرانداز ہوتی انسانی زندگی کا تذکرہ اردو ادب میں مغربی ادب سے فروغ پایا۔ جس میں اورنگ زیب نیازی کی ایک ترجمہ شدہ کتاب اردو ادب میں ماحولیاتی تنقیدی دبستان کے روپ میں ملتی ہے۔ اس کتاب میں ماحولیاتی مضامین کا ترجمہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ نسترن احسن فتیحی کی کتاب ’ایکوفیمینزم اور عصری تانیثی اردو افسانہ‘ میں ماحولیاتی مادریت کی عکاسی اور ماحولیاتی مادریت کے زیر اثر تخلیق کردہ افسانوں کو پیش کیا گیا ہے، لیکن اگر ہم غور کریں تو ادب کی تمام اصناف میں ماحولیاتی تنقید کے آثار ابتدا سے دیکھنے کو ملتے ہیں چاہے وہ فکشن ہو یا شاعری، ہمارے سنجیدہ تخلیق کاروں نے ابتدا سے ہی اپنے اطراف کا مکمل جائزہ لیا ہے اور نہ صرف انسانی زندگی کو موضوع بنایا بلکہ موسمیاتی تبدیلی، جنگلوں کی کٹائی اور  چرند و پرند کی کیفیات وغیرہ تمام کو اپنی تخلیقات کا حصہ بنایا ہے۔

اردو افسانوں کے اولین دور کا جائزہ لیں تو منشی پریم چند، سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی، احمد ندیم قاسمی، احمد علی، قرۃالعین حیدر، حجاب امتیاز علی، بلونت سنگھ، سجاد حیدر یلدرم، حسن منظر، خالدہ حسین، انتظارحسین، فہیم اعظمی وغیرہ نے اپنے افسانوں میں فطرت کا ذکر بڑی خوش اسلوبی سے کیا ہے اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے اثر انداز ہوتی زندگی کا بخوبی نقشہ پیش کیا ہے۔ ان افسانہ نگاروں نے فرد کے مسائل و رجحانات کو مدّنظر رکھ کر افسانے تخلیق کیے لیکن دیہی زندگی کی منظر نگاری میں ان افسانہ نگاروں نے ماحولیات کی بھی عمدہ تصویر کشی کی ہے۔ پریم چند کے زیادہ ترافسانے او رناول دیہی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں جہاں کم سہولیات میں زندگی بسر کرتے فرد کی مکمل ترجمانی ملتی ہے۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں دیہات کے مسائل، کسانوں کی کیفیت، آپسی رنجشوں سے ہونے والے نقصانات، چرند وپرند کے انسانی زندگی میں ادا کرتے اہم کردار وغیرہ تمام پہلوئوں کا احاطہ کیا ہے۔ ان کے افسانہ ’دو بیل‘ کے مرکزی کردار دو بیلوں کے اپنے مالک سے جذباتی وابستگی مظاہر فطرت اور انسانی رشتوں کی قربت کا منظرنامہ بیان کرتے ہیں۔ احمد ندیم قاسمی کا افسانہ ’آبلے‘، بلونت سنگھ کا ’ گرنتھی‘، پریم چند کا ’راہِ نجات، پوس کی رات‘، منٹو کا ’بارش‘، انتظار حسین کا ’ انجنہاری کی گھریا،اجنبی پرندے‘،احمد علی کا ’قید خانہ‘ اور سید محمد اشرف کا ـــ’ڈار سے بچھڑے‘ وغیرہ میں انسان اور فطرت کی بدلتی تصویروں، پہاڑوں، ندیوں، چشموں، آبشار، کھیت کھلیان، رسم و رواج اور مقامیت کی بہترین منظرنگاری ملتی ہے۔

احمد علی کا افسانہ ’مہاوٹوں کی ایک رات‘ جس میں ایک غریب ماں ٹوٹی پھوٹی ٹپکتی جھونپڑی میں زوروشور سے برستی بارشوں سے پریشان اپنے اچھے دنوں کو یاد کرتی ہے اور مہاوٹوں کی اس رات کو برا کہتی ہے جس نے  اس کے جسم کو برف سے اکڑادیا ہے۔ بوڑھی عورت کہتی ہے:

’’ چھت ہے کہ کڑیاں رہ گئیں ہیں اور اس پر بارش! یا اللہ کیا مہاوٹیں اب کے ایسی برسیں گی کہ گویا ان کو پھر برسنا ہی نہیں۔ اب تو روک دو۔ کہاں جائوں، کیا کروں۔ اس سے تو موت ہی آجائے! ۔‘‘  3

احمد علی غریب بوڑھی کے کردار کے ذریعے اس کے اچھے دنوں کی یاد تازہ کرتے ہوئے فطرت کے حسن کا منظر یوں بیان کرتے ہیں:

’’ایک باغ درختوں سے گھرا ہوا، جن کے کاہی پتوں پر تاروں کی چمک شبنم اور تارے چمکا رہی ہے۔ واہ واہ، کیا خوش نما پھل ہیں۔ آم ،منھ لال،کلیجہ بال۔ ماں کا بغدد بچہ، سیب کیسے خوبصورت ہیں۔ اندھیرے اندھیرے، درختوں میں سرخ اور گلابی اور پستئی لٹکے ہوئے ہیں۔ ڈالیوں سمیت جھکے ہوئے ہیں۔‘‘ 4

احمد علی کا یہ افسانہ حالانکہ ماحولیاتی تنقید کو موضوع بنا کر نہیں لکھا گیا ہے لیکن افسانہ نگار نے افسانہ تخلیق کرتے وقت ماحول کی خوبصورتی کا بغور جائزہ لیا ہے اور اس کی انسانی زندگی میں ماحول کی اہمیت واضح کی ہے۔ بیدی کا افسانہ ’دس منٹ بارش میں‘ قدرت کی اس نعمت کو واضح کرتا ہے جو زندگی کا اہم عنصر ہے۔ بارش گرمی سے جھلستے بدن کو سکون دیتی ہے، سوکھے پڑے ندی نالوں کو سیراب کرتی ہے کھیت کھلیان کو لہرا کر کسانوں کی محنت کو انجام تک پہنچاتی ہے۔بارش کے تعلق سے بیدی لکھتے ہیں:

’’بارش میں ایشور کی دیا سے کوئی نرم و گرم کپڑے زیب تن کرتا ہے تو کوئی عریاں ہو جاتا ہے۔ کسی کی آمدنی دوگنی ہو جاتی ہے، تو کسی کی کھپریل ٹوٹ جاتی ہے۔ کوئی شب سمور گزارتا ہے، کوئی شب تنور۔ ‘‘5

اس طرح قرۃ العین حیدر کے افسانے کا یہ اقتباس دیکھیں جس میں فطرت کی خوبصورتی اور چرند و پرند کی موجودگی سے انسانی ذہن کس قدر مطمئن اور دلی سکون حاصل کرتا ہے۔وہ اپنے افسانے ’میں نے لاکھوں کے بول سہے‘ میں لکھتی ہیں:

’’ہمارے یہاں چاروں طرف گلہریاں تھیں۔ جنگلی طوطے، خرگوش اور جھرمٹ کے سارے پرند لیچیوں کی ٹہنیوں  پر اکھٹے ہو کر شور مچا رہے تھے۔ وادی کے نشیب میں گذر کر پہاڑی کے صنوبروں میں گھِرے ہوئے ایک چھوٹے سے پرانے سرخ رنگ کی چھت والے گھر کے سامنے پہنچے۔ ایسا گھر جو ہمیں اکثر کرسمس کارڈوں پر سفید برف سے ڈھکا ہوا نظر آتا ہے اور ایسا ہی کوئی پرانا، سرخ چھت اور شیشے کے برآمدوں اور سبز لکڑی کی جالیوں والا درختوں کے جھنڈ میں چھپا ہوا گھر اچانک نظر آکر جانے کیوں یک لخت بڑا اچھا معلوم ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہمیں ساری عمر صرف اسی جگہ پہنچنے کا انتظار رہا ہے۔‘‘  6

دور حاضر کے افسانہ نگاروں نے بدلتی ہوئی صورت حال پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے معاشی، اقتصادی، سماجی، تہذیبی نظام کے مسائل کے ساتھ ساتھ ماحولیات کا بھی بغور مشاہدہ کیا اور نہ صرف ماحولیاتی تغیرات کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا بلکہ ان مسائل کا حل بھی اپنی تخلیقات میں پیش کیا۔دور حاضرکے افسانوں میں شہرکاری،پاورفل ٹرانسمیٹر کے ریڈی ایشن اور اس سے پھیلتے ماحولیاتی توازن کے انتشار، درختوں کی بڑے پیمانے پر کٹائی، ماحول کو قدرت سے دور کرکے مصنوعی اشیا کی ایجادات، ماحولیاتی بحران اور آلودگیوں کی عکاسی ملتی ہے۔آج انسانی زندگی اس قدر خطرات سے پر ہوچکی ہے کہ کب کیا ہوجائے اس کا ڈر ہر کسی کو ستائے رہتا ہے۔ گلوبلائزیشن کے اس دور میں مشینوں والی زندگی بسر کرتے کرتے انسان زہر آلودہ ماحول کا شکار ہو گیا ہے۔ جہاں اس کا سانس لینا بھی محال ہے۔ مشینی زندگی کی اس بے حس دنیا میں خود فرد بھی مشین کا ایک اوزار بن کر رہ گیا ہے اور ہر طرح کے جذبات و احساسات سے عاری مصنوعی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ شہروں میں بڑھتی آبادی نے گائوں کو ویرانی بخشی اور محبت و الفت کے ماحول میں نفرت ، حسد اور احساسِ برتری و احساس کمتری جیسے عناصر شامل کر دیے۔

سائنس و ٹکنالوجی کے اس عہد میں نئی نئی مشینوں کی ایجاد نے گھریلو صنعتوں پر گہرا اثر ڈالا اور ایسے فنکاروں کا استحصال بڑھا جو گھر بیٹھے اپنے ہنر سے چھوٹی چھوٹی صنعت کاری و گھریلو دستکاری سے اپنا اور اپنوں کا پیٹ بھرتے تھے۔ آج کے بے مروّت اور بے حس دور نے ان کی محنت و مشقت کو نظراندازکر کے مصنوعی اشیا اور مشینوں و کیمکل سے تیار کردہ اشیا (جو مضر صحت ہے) کو زیادہ اہمیت دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان غربا و مفلسوں نے اپنے ہنر کی بے قدری کی وجہ سے نسل در نسل گھریلوں صنعتوں میں دلچسپی کم کر کے بے لطف شہری زندگی کی روزگاری کو فوقیت دی۔آج کا حساس فنکار اپنے گردوپیش کا مشاہدہ کرتے ہوئے شہروں سے نفرت اور گائوں دیہات کی بے حد سکونی والی زندگی کو یاد کرتا ہے اور اس کے ختم ہونے پر فکرمند نظر آتا ہے۔ نسترن احسن فتیحی دور حاضر کے افسانہ نگاروں کے اسلوب پر یوں رقم طراز ہیں:

’’اب تو خلا کو آلودہ کرنے میں سائنس دانوں نے کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے۔ یہاں ٹھہر کر ایک اور اہم پہلو پر غور کرنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ ان افسانہ نگاروں نے فطرت کے ایک وسیع و عریض منظر کو اپنی تخلیقات کا اہم ساختیہ بنایا ہے۔ ماحولیاتی مفکرین فطرت کے ایک وسیع و عریض منظر کو جس میں زندگی کے گہرے رازوں کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے یا جس میں تقدیر کے المیے کو پیش کیا گیا ہے ایسے فکشن میں ماحولیاتی آلودگی اظہار کا ایک گہرا ساختیہ بن جاتا ہے۔‘‘ 7

نسترن احسن فتیحی نے ماحولیاتی تنقید میں ’ایکوفیمینزم (ماحولیاتی تانیثیت)‘ پر خاص توجہ مرکوز کی اور اپنی کتاب میں ان خواتین کے افسانے پیش کیے جو ماحول اور ماحولیات سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان خواتین افسانہ نگاروں میںسبین علی، غزال ضیغم،سلمیٰ جیلانی، ڈاکٹر نگہت نسیم ، کوثر جمال، انجم قدوائی، نسیم سید،شاہین کاظمی، نورالعین ساحرہ، ناہید اختر، نسترن احسن فتیحی، عینی علی، ترنم ریاض، نگار عظیم، عذرا نقوی، افشاں ملک، مہرافروز، صادقہ نواب سحر وغیرہ  شامل ہیں۔ انھوں نے اپنی تخلیقات میں ماحولیات و فطرت کو نئے استعارے کے طور پر برت کر دور حاضر کی تبدیلیوں اور تباہیوں کا ذکر کیا ہے اور انسان کی ہوسناکی و ترقی کے ماحول پر پڑنے والے اثرات کو اپنے افسانے نسل (نسترن احسن فتیحی)، بوگن ویلیا کی اوٹ سے (عذرا نقوی)، کتن والی (سبین علی)، اسنومین(نور العین ساحرہ)، بیل فلاور(نگہت نسیم)، پانچواں موسم (شاہین کاظمی)، ایکوریم (نگار عظیم) اور عشق پیچاں (سلمیٰ جیلانی)  وغیرہ میں بڑی خوش اسلوبی سے بیان کیا ہے۔

حواشی

1        ولیم روئیکرٹ[William Rueckert]ــ’’Litrature and Ecology:An Experiment in Ecocriticism‘‘،مشمولہ The Ecocriticism Reader:Landmark in Litrary Ecology، مرتبہ شیرل گلاٹفیلٹی، ص 123-105

2        ماحولیاتی تنقید: نظریہ اور عمل،ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی، اردو سائنس بورڈ،پاکستان ،2019، ص15-16

3        انگارے، سجاد ظہیر ،مشمولہ مہاوٹوں کی ایک رات،نظامی پریس وکٹوریہ اسٹریٹ،لکھنؤ،ص 81

4        انگارے ،سجاد ظہیر ،مشمولہ مہاوٹوں کی ایک رات،نظامی پریس وکٹوریہ اسٹریٹ،لکھنؤ،ص82

5        دانہ و دوام،راجیندر سنگھ بیدی ،مشمولہ دس منٹ پارش میں،مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ،نئی دہلی،1980،ص 159

6        شیشے کے گھر،قرۃ العین حیدر،مشمولہ میں نے لاکھوں کے بول سہے،سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور،2004،ص57

7        ایکوفیمینزم اور عصری تانیثی اردو افسانہ، نسترن احسن فتیحی، ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، دہلی،2016، ص279-80

 

Mo Fareed

House No: 28-A, Street No.: 1

Sangam Vihar, Wazirabad

Delhi- 110084

Mob.: 78603242

fareed786sp@gmail.com

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...