29/11/24

سائبر پنک لٹریچر( مشینی دور کا نیا ادبی رجحان)، مضمون نگار: خواجہ محمد اکرام الدین

 اردو دنیا، نومبر 2024

اکیسویں صدی کی تیسری دہائی نے تخلیقی ادب کو ایک نیا رجحان دیا ہے۔ یہ دراصل ٹیکنالوجی کے بڑھتے دائرۂ اثر اور بازاری دنیا سے کارپوریٹ دنیا میں  صارفیت کی اجارہ داری اور انسانی ذہن کے دوش بدوش مصنوعی ذہانت کی بالادستی نے انسانی معاشرے کو ایسے مقام پر لاکھڑا کیا ہے جسے ہم انسان اور مشین کے انضمام کا دور کہہ سکتے ہیں۔ آن لائن دنیا میں انسانی اور ڈیجیٹل تعاملات یا اشتراک اور برقی لین دین کی وجہ سے انسان اور مشین کے درمیان ایک حیرت انگیز طور پر  فرق مٹ رہا ہے۔ ایسے اقتصادی اور ثقافتی ماحول میں ادب کا تخلیقی رویہ کئی جہتوں سے تبدیل ہوا ہے۔

اس نئے رجحان کی افہام و تفہیم سے قبل یہ پیش نظر رہے کہ اد ب خواہ کسی بھی دور کا ہو اس میں معاصر عہد کا عکس کسی نہ کسی طور پر موجود ہوتا ہے اور بہت نمایاں طور پر موجود ہوتا ہے، کیونکہ ادب خلا میںپید ا نہیں ہوتا ادب کی تخلیق ہم عصر معاشرے کے مزاج، اس کے  تقاضے، مطالبات اور رجحانات پر ہوتی ہے  کیونکہ مصنف یا تخلیق کار اپنے سماج اور معاشرے سے ہی سے مواد حاصل کرتا ہے۔ لہٰذاجیسا معاشرہ ہوگا ویسا ہی ادب تخلیق ہوگا۔ ماورائی اور تخیلاتی د نیا سے زندگی  کی اصل تصویر کشی، انسان اور انسانی زندگی کی تفہیم و تعبیر کی گتھیوں کو سلجھانے کی کاوشوں  تک کا سفر، ادب  کے تخلیقی رویوں کو ظاہر کرتا ہے۔ تخلیقی سطح پر یہ تمام تبدیلیاں   فطری بھی معلوم ہوتی ہیں۔

لیکن اس کو سمجھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ادب کیا ہے اور تخلیق کیا ہے ؟ ادب کے  بارے میں کہا جاتاہے کہ تحریر کی اعلیٰ شکل جس میں احساسات و تجربات، مشاہدات، تفکرات اورتخیلات کو جمالیاتی انداز میں پیش کیا گیا ہو وہ ادب ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ’شعر وادب تفسیر زندگی بھی ہے اورتصویر زندگی بھی‘۔ ایک  لسانی حقیقت یہ بھی ہے کہ زبان کسی خاص خطے کی نمائندہ  ہوتی ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ اس مخصوص خطے کا ادب اپنے مخصوص علاقے کے تہذیب و تمدن کا ہی عکاس ہوتا ہے۔ اس کلیے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ادب میں علاقے اور خطے کے تہذیب و تمدن کی پیشکش  لازمی ہے۔ اس  لحاظ سے دیکھیں تو اکیسویں صدی کے تخلیقی   ادب میں ایک نمایاں تبدیلی  یہ آئی ہے کہ اس میں گلوبل دنیا کی عکاسی او ر ترجمانی اس طرح ہورہی ہے کہ اس میں کسی مخصوص خطے کے بجائے عالمی گاؤں کی ترجمانی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

ٹیکنالوجی کا غلبہ اور کارپوریٹ ورلڈ کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ  ادب کو بھی متاثر کررہا ہے۔ سائنس فکشن کی تیزی سے مقبولیت در اصل تفریحی ادب کی تخلیق کے ذریعے حصولِ زر اہم مقصد بن گیا ہے اور اب سائبر پنک لٹریچر نے ایک نیا ادبی رجحان اور رویہ  پیش کیا ہے۔ ادب انسانی ذہن کی تخلیق ہے جو معاشرتی بیانیہ ہے۔ ہر دور میں انسانی ذہن معاشرتی ترقی اور نشیب و فراز کے تحت اثر پذیر ہوتا ہے۔ نتیجتاً ادبی رویے اور رجحانات بھی بدلتے رہتے ہیں۔عصر حاضر میں ادب کے بدلتے تخلیقی رویے  دراصل ہم عصر معاشرتی اور ثقافتی تبدیلیوں کا اشاریہ ہیں۔

موجودہ دور برقی وسائل کی ان  ترقیوں کا دور ہے جو وہم و گمان سے بھی پرے ہے، جس تیزی سے ٹیکنالوجی ہمیں حیرت زدہ کررہی ہے، اسی تیزی سے ہماری زندگی کو بھی متاثر کررہی ہے۔ ادب میں تنقیدی نظریات ادب کی پرکھ کے لیے ہیں اور تخلیقی رجحانات معاشرتی ترقی کا اشاریہ ہیں، اس لیے بدلتے دور کے تمام تخلیقی رجحانات ورویے کو سمجھے بغیر ادب کی قدرو قیمت کا تعین مشکل امر ہے۔ آج کے سائبر دور نے ادبی تخلیق کو ایک نئی سمت دی ہے۔ بالکل ایک نیا رجحان عالمی ادب میں سامنے آرہاہے۔ اسے ’سائبر  پنک لٹریچر‘ کہا جاتا ہے۔

اردو ادب کے سرمائے کو اگر دیکھیں تو آج کی جو اصطلاح سامنے آرہی ہے وہ تو موجود نہیں، لیکن اردو میں ایسے تخلیقی سرمایے موجود ہیں جو آج کے سائبر پنک لٹریچر کے دائرے میں آتے ہیں۔ ( اردو میں اس تخلیقی رجحان اور  اس سرمایے پر آگے گفتگو ہوگی)

سائبر پنک لٹریچر

سائبر پنک لٹریچر جدید دنیا کی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ممکنہ نتائج پر غور کرنے کا ایک تخلیقی زاویہ ہے۔ سائبر پنک کی اصطلاح ’سائبرنیٹک‘  اور ’پنک‘ کے مجموعے سے بنی ہے۔ ’سائبرنیٹک‘ کا تعلق کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی سے ہے، جب کہ ’پنک‘ ایک ثقافتی تحریک کی نمائندگی کرتا ہے جو عام طور پر سماجی اصولوں اور روایات کے خلاف ہوتی ہے۔ سائبر پنک کی کہانیوں میں ایک طرف انتہائی ترقی یافتہ ٹیکنالوجی دکھائی جاتی ہے، جب کہ دوسری طرف سماجی ناانصافی اور اخلاقی بحران کی صورت حال بیان کی جاتی ہے۔ (ماخوذ: برقی وسائل کے حوالے  )

یہ ایک نئی  ادبی صنف ہے یا تخلیقی رجحان ہے جو مستقبل کی ٹکنالوجی، ڈیجیٹل کلچر اور سائبرنیٹکس (Cybernetics) کے مسائل کو موضوع بناتا ہے۔ سائبرنیٹکس کے لغوی معنی  ’’مشینوں اور جانداروں دونوں میں مواصلات اور خودکار کنٹرول سسٹم کا سائنس ہے۔‘‘(بحوالہ آن لائن انگلش ارود ڈکشنری)  اور ادبی اصطلاح میں سائبرنیٹکس ایک نئی اصطلاح ہے جس کے تحت  معنی بین العلومیت ، بین موضوعاتی تحریر و تخلیق کا تجربہ کیا جاتاہے جومتعدد سیاق وسباق کا حامل بھی ہوتا ہے جیسے ماحولیاتی، تکنیکی، حیاتیاتی، علمی اور سماجی نظام اور برقی وسائل کی عملی سرگرمیاں اس میں مطالعے میں خصوصی طور پر شامل ہوتی ہیں۔ ڈیجیٹل عہد میں ایک بڑی تبدیلی یہ بھی آئی ہے کہ فیڈ بیک نظام میں آؤٹ پُٹ بھی اِن پٹ  ہوجاتا ہے۔ ایسا ادبی رجحان  عام طور پر ایک ڈیستووپیائی دنیا (Dystopian) میں ترتیب دیا جاتا ہے جہاں ترقی یافتہ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ کے دور میں انسانی حالت کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ کیمبرج  ڈکشنری کے مطابق  ڈیسٹوپیئن کا مفہوم ہے ’’ایک بہت برا یا غیر منصفانہ معاشرہ جس میں بہت زیادہ مصائب ہوتے ہیں، خاص طور پر مستقبل میں ایک خیالی معاشرے کا تصور جو خوفناک حد تک منعکس  ہو۔‘‘  اور ووکیبلری ڈاٹ کام کے مطابق ’’یوٹوپین ایک ایسے معاشرے کی وضاحت کرتا ہے جس پر کامل ہونے کا تصور کیا جاتا ہے۔ ڈسٹوپین اس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ ایک ایسے خیالی معاشرے کی وضاحت کرتا ہے جو انتہائی  غیر انسانی اور ممکن حد تک ناخوشگوار ہے۔‘‘ اس طرح  ڈیسٹووپیائی دنیا (Dystopian) کی یہ کہانیاں ایک ایسی دنیا میں ترتیب دی جاتی ہیں جہاں معاشرتی اور سیاسی صورت حال بہت خراب ہوتی ہے۔ایک ڈیسٹوپیئن معاشرہ وہ ہوتا ہے جو ناپسندیدہ یا خوفناک ہوتا ہے، جس میں اکثر وسیع پیمانے پر مصائب، جبر اور ایک کامل معاشرے کا وہم ہوتا ہے۔ یہ یوٹوپیا کے برعکس ہے، جو ایک مثالی معاشرہ ہے جہاں سب کچھ کامل ہے۔

سائبر پنک لٹریچر ایک ذیلی صنف ہے جو سائنس فکشن میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ یہ صنف ٹیکنالوجی اور سائبرنیٹکس کے عناصر کو انسانیت اور سماجی مسائل کے تناظر میں بیان کرتی ہے۔ سائبر پنک لٹریچر عام طور پر مستقبل کی دنیا کی تصویریں پیش کرتا ہے جہاں ٹیکنالوجی انسانی زندگی کے ہر پہلو میں رچ بس چکی ہوتی ہے۔

سائبر پنک لٹریچر فکشن کی صنف ہے جو مستقبل میں ٹیکنالوجی، کمپیوٹرنیٹ ورکنگ، مصنوعی ذہانت اور سائبرنیٹکس کی ترقی کے ساتھ ہونے والی سماجی، سیاسی اور اقتصادی تبدیلیوں کو موضوع بناتی ہے۔ یہ لٹریچر عام طور پر ایک ڈیسٹوپیائی مستقبل کی تصویر کشی کرتا ہے جہاں اعلیٰ ٹیکنالوجی اور معاشرتی زوال ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں۔

نئی صدی کا  نیا ادبی رجحان ’سائبر پنک  لٹریچر‘ مذکورہ معاشرتی عناصر میں ان شناختوں کی حدود کو تلاش کرتا ہے اور ان کی دوبارہ وضاحت کرتا ہے۔اس کے کردار تضادات اور پیچیدگیوں کی تجسیم ہے جو ایک ایسے دور میں موجود ہے جہاں حقیقت اور نقل، انسان اور مشین، خود اور غیر کے درمیان فرق ممکنہ حد تک موہوم ہے۔ سائبر پنک ادب میں خصوصی طور پر ان خطوط پرا دب کی تشکیل ہوتی ہے۔لیکن سائبر پنک لٹریچر نہ صرف تفریح فراہم کرتا ہے بلکہ یہ قارئین کو ٹیکنالوجی اور مستقبل کے بارے میں گہرے سوالات پر غور کرنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔

سائبر پنک لٹریچر کے موضوعات

انسان اور مشین کا انضمام، ڈیجیٹل کلچر اور شناخت، ٹیکنالوجی کا استحصال، کارپوریٹ کنٹرول (اقتصادی اجارہ داری)، معاشرتی اور اقتصادی عدم مساوات وغیرہ ہیں۔

سائبر پنک لٹریچر کی خصوصیات

ٹیکنالوجی کا غلبہ: سائبر پنک کہانیوں میں انتہائی جدید اور ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کا غلبہ ہوتا ہے۔

اینٹی ہیرو کردار: ان کہانیوں کے مرکزی کردار اکثر روایتی ہیرو سے مختلف ہوتے ہیں اور انھیں اینٹی ہیرو کہا جاتا ہے۔

انسانیت کا  بیانیہ : سائبر پنک لٹریچر میں انسانی حالت، شناخت اور ٹیکنالوجی کے ساتھ انسانی تعلقات کا گہرا تجزیہ کیا جاتا ہے۔

سائبر پنک کے مشہور مصنفین

ولیم گبسن: ’نیو رومانسر‘ (Neuromancer) ان کی مشہور ترین کتاب ہے جو سائبر پنک لٹریچر کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔’بروس اسٹرلنگ‘ کی کتابیں بھی سائبر پنک موضوعات سے متعلق ہیں اور ان کے مضامین میں اس صنف کی تاریخ اور فلسفہ بھی شامل ہے۔ 

اردو ادب کے تخلیقی سرمایے پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوگا کہ اردو میں اس نئے ادبی رجحان کے تحت ابھی تک کوئی تحریر سامنے نہیں آئی ہے، مگر اردو کے  افسانوی ادب میں پہلے ہی سے ایسی تخلیقات موجود ہیں جن کواس دائرے میں لا سکتے ہیں۔ایسی تخلیقات میں تقلیب، جسم اور ماورائی دنیا کی مہمات اور کسی  قدر مستقبل کی دنیا کی تعبیر  و تفہیم کو دیکھا جاسکتا ہے، لیکن مجھے امید ہے کہ جس طرح ارود ادب نئے ہمیشہ نے رجحانات کا استقبال کیا ہے، اس سمت میں بھی پہل ہوگی اور نئے رجحان   کے زیر اثرایسی تخلیقات سامنے آئیں گی۔

 

Dr. Khwaja Md Ekramuddin

Professor, Centre of Indian Languages

School of Language

Literature and Culture Studies, JNU

New Delhi- 110067

Mob.: 9717977743

khwajaekram@gmail.com

25/11/24

اردو زبان و ادب پر فارسی کے اثرات، مضمون نگار: علی زاہد ملک

 اردو دنیا، اکتوبر 2024

ہندوستان کی مقامی زبانوں اور فارسی کے امتزاج سے نئی زبان یعنی اردو کا وجود عمل میں آیالیکن فارسی کے اثرات نہ صرف زبان تک محدود رہے بلکہ اِس نے انسانی زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا۔ مثلاً ہندوستانی ناموں کے بجائے ایرانی ناموں کا رواج عام ہونے لگا، کھانے پینے کی اشیا کے نام، رشتوں کے نام،  متعدد جگہوں کے نام، پھولوںا ور پھلوں کے نام، اعضائے بدن، اسمائے بلاد و رجال،سواری او ر سفر میں کام آنے والی اشیا کے اسما، ہندوستانی پیشہ و پیشہ وروں، عہدوں، عدلیہ و قانونی اصطلاحات، موسیقی، تعمیراتی، معماری، تحریری اور کتابی اصطلاحات وغیرہ بھی ایرانی طرز پر استعمال ہونے لگیں۔پروفیسر نذیر احمد1 نے اپنے مقالے میں ہندوستانی نام جو فارسی سے مستعار ہیں، پر نہ صرف تفصیلی بحث کی ہے بلکہ ان اسما کی ایک طویل فہرست بھی پیش کی ہے۔ذیل میں چند اسما بطور نمونہ پیش کیے جاتے ہیں:

پرویز، دلنواز، آفتاب، ماہتاب، شاہنواز،شہریار، اورنگزیب،جمشید، خورشید،فیروز، شیر خان،بہادر شاہ، دریا خان، خسرو، منیژہ، ناہید، نسرین، زینب، صغریٰ ، نوشین، شاہین، زرینہ، فرزانہ، نورجہاں،دردانہ، فاطمہ، آذرمیدخت، پروین، نسیم، وغیرہ۔

اسی طرح اردو میں انسانی اعضائے بدن کے اسما بھی فارسی سے مستعار ہیں۔ مثلاً: پیشانی، ناخن، خون، سینہ، دل ، پلک، بازو، خون، پنجہ، گردن، کمر، سر، زبان ، حلق ، آبرو، مژگان وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

غذا اور خوراک وغیرہ کے اسما: گوشت، سبزی، نان، چپاتی، قیمہ، کوفتہ، دسترخوان، نہاری، یخنی، شیر ، بریانی، دم پخت، حلیم، قورمہ، دوپیازہ، زردہ، پلائو، فالودہ وغیرہ۔

رشتے و رشتے داروں کے نام: داماد، باجی، بابا، برادر، زوجہ، شوہر، پھوپھی زاد، خالہ،خالو،برادر نسبتی،  ہمشیرہ چچا زاد، خالہ زاد وغیرہ۔

ہندوستانی خطابات:  سالار جنگ، بہادر جنگ، آصف جنگ، شمشیر جنگ، خان بہادر، رائے بہادر، اور یاور جنگ وغیرہ۔

ہندوستانی لباس وغیرہ کے متعلقات: عمامہ، پاجامہ، زیر جامہ،چارجامہ، پوشاک، جراب، موزہ، شیروانی،کف، شلوار، قمیص،ازاربند،سینہ بند، عبا، قبا، مخمل، پشمینہ، دامن، عرض، خیمہ،زربفت وغیرہ۔

ہندوستانی پھلوں کے نام : سیب، انار، انگور، امرود، ناشپاتی، خوبانی، شریفہ، بادام، خربوزہ، تربوزہ، ہندوانہ، توت، شہتوت، کشمش وغیرہ۔

ہندوستانی پیشہ وروں کے متعلقات: حلوائی، درزی، حجام، نانبائی،باورچی، قصاب، گورکن، کتاب فروش، سبزی فروش، ملاح، حلال خور، زرگر، شتربان، گاڑی بان، پیلبان، قصاب،خانساماںبزاز وغیرہ۔

کھیتی اور زراعت کے متعلق: زمیندار، زمینداری، کاشتکاری، کاشتکار،گندم، زاید، ربیع، فصل وغیرہ۔

جگہوں کے نام: احمد آباد، حسن آباد، حیدر آباد، فیروزآباد، شاہجہاں آباد، الہ آباد، غازی آباد، فرخ آباد، فیض آباد، محمود آباد،شمس آباد،احمد پور، شاہجہاں پور، حسن پور، جونپور، مرزا پور، کانپور، محمد پور وغیرہ۔

گھر وغیرہ کے متعلقات: نعمت خانہ، غریب خانہ، دروازہ، دہلیز، برآمدہ، غسل خانہ، پاخانہ، چبوترہ، کرسی، تخت، چارپائی،دالان ،طاق، باورچی خانہ وغیرہ۔

زیور اور خوشبو کی چیزوں کے نام:  بازو بند، کمر بند، پا بند، گلوبند، ہار، دست بند، انگشتری، پازیب، عطر، مشک نافہ، عنبر، زعفران وغیرہ۔

عدالتی اور قانونی اصطلاحات: کاتب، گواہ، ملزم ، شہادت، گواہی، الزام، وکیل، مؤکل، وکالت، وکالت نامہ، بیعنامہ، رہن نامہ،عدالت، قانون، مدعی، مدعا علیہ، منصفی، دیوانی،سزا، جرمانہ، ثبوت، حاضر ، حاضری، دستاویز وغیرہ۔

تحریر و کتابت کی اصطلاحات: قلم، دوات، سیاہی، روشنائی، کتاب ، کاغذ، خط، املا، دستخط، سرورق، پشت، دیباچہ، مقدمہ، باب، سرخی، کتابت، جلد، متن ، حاشیہ، فصل، سطر، طالب علم، استاد، درس مشق، وغیرہ۔

سواری اور سفر کے سلسلے کے الفاظ: رکاب، رکابدار، زین، نعل، نعل بندی، راہ، میل، سوار، سواری، دور، نزدیک، راہ گیر،پیادہ، لگام وغیرہ۔

ہندوستانی گالیوں کے کلمات:  بدمعاش، حرام زادہ، بے شرم، آوارہ، بے حیا، کمینہ، بدذات، بیہودہ، احمق، بد بخت بد نصیب، بے شعوروغیرہ۔

تحسین کے کلمات:  شاباش، زندہ باد، سبحان اللہ وغیرہ۔

اردو زبان میں فارسی کے اِس قدر کثیر التعداد الفاظ سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ کس قدر اِس زبان نے اردو کو متاثر کیا  ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اردو کی شاید ہی کوئی ایسی تحریر ہو گی جو فارسی الفاظ کی آمیزش سے خالی ہو۔ یہاں یہ بات بھی ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ اردو زبان و ادب پر خالص فارسی کا ہی اثر نہیں ہوا بلکہ فارسی کی بدولت عربی اور ترکی الفاظ بھی اردو میں شامل ہو گئے۔ لیکن اِس حقیقت سے ہرگز انکار نہیں کیا جا سکتاکہ اردو کو سب سے زیادہ فارسی زبان نے ہی متاثر کیا۔ اِس ضمن میں ڈاکٹر عصمت جاوید اپنی کتاب ’اُردو پر فارسی کے لسانی اثرات‘ کے مقدمہ میں یوں رقمطراز ہیں:

’’اگر چہ دنیا کی دیگر مخلوط زبانوں کی طرح اردو میں بھی کئی زبانوں کے الفاظ پائے جاتے ہیں... لیکن اِس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ اردو نے ایک زبان اور صرف ایک زبان کا سب سے زیادہ اثر قبول کیا ہے اور وہ زبان ہے فارسی۔ یہ وہ فارسی ہے جو عربی سے اپنا خزانہ بھر چکی تھی۔ اِس لیے اردو نے جہاں خود اِس زبان سے بیشتر الفاظ قبول کیے وہیں اِس کے راستے سے کچھ ترکی اور اکثر و بیشتر عربی الفاظ بھی اردو میںداخل ہو گئے... فارسی سے ہماری مراد ’’فارسی بحت یا فارسی باستان ‘‘ سے نہیں بلکہ اُس اسلامی فارسی سے ہے جس پر عربی کی گہری چھاپ ہے‘‘ 2

فارسی نے صرف اردو زبان پر ہی نہیں بلکہ اردو ادب پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ اردو کی تمام اصناف سخن یا تو براہِ راست فارسی سے مستعار ہیں یا اگر عرب کی تخلیق ہیں تب بھی فارسی کے ذریعے ہی اردو میں داخل ہوئیں۔مثلاً قصیدہ ، غزل، مثنوی اور رباعی وغیرہ کا اردو ادب میں اچھا خاصا رواج ہے لیکن یہ اصناف بھی فارسی کے توسل سے ہی اردو میں داخل ہوئیں۔ اِن اصناف کا طرز تحریر ، تشبیہات و استعارات بلکہ اکثر و بیشتر اصطلاحات بھی فارسی سے ماخوذ ہیں۔ اردو ادب کی تاریخ میں امیر خسرو دہلوی کو اردو شاعری کا بابائے آدم سمجھا جاتا ہے۔ ان کے یہاں فارسی تشبیہات و استعارات کے علاوہ متعدد غزلیات کے پورے پورے مصرعے فارسی زبان میں پائے جاتے ہیں۔ ذیل میں چند اشعار بطورِ نمونہ پیش کیے جاتے ہیں۔3

زرگر پسرے چو ماہ پارا

کچھ گھڑیے، سنوریے پکارا

نقدِ دلِ من گرفت و بشکست

پھر کچھ نہ گھڑا نہ کچھ سنوارا

خسرو کی ایک اور غزل جو آج بھی اپنی شہرت کا لوہا منوائے ہوئے ہے،اِس طرز کی بہترین نمائندگی کرتی ہے۔ چند اشعار بطور نمونہ پیش کیے جاتے ہیں۔4

ز حال مسکین مکن تغافل دو راہ نیناں بلائے بتیاں

چو تاب ہجراں ندارم ای جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں

یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم ببرد تسکیں

کسے پڑی ہے کہ جا سناوے پیارے پی سے ہماری بتیاں

شبان ہجران دراز چون زلف و روز وصلت جو عمر کوتاہ

سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوںتو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

چو شمع سوزاں چوذرہ حیراں ہمیشہ گریاں بعیش آں مہ

نہ نیند نیناں نہ انگ چیناں نہ آپ آوے نہ بھیجے پتیاں

بحق آں مہ کہ روز محشر بداد مارا فریب خسرو

پست من کی دو راہے راکھوں جو چاے پائوں پیا کی کھتیاں

 اسی طرح اگر اردو کے کسی بھی شاعر کا کلام دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے نہایت ہی خوش اسلوبی کے ساتھ فارسی شعرا کی پیروی کی ہے۔ نمونے کے طورپر اردو کے مشہور شاعر مرزا غالب کی ایک غزل کے چند اشعار پیش کیے جاتے ہیںجس کے تقریباً ہر مصرعے میں فارسی اصطلاحات اور تشبیہات و استعارات کی چاشنی محسوس ہوتی ہے۔5

مدت ہوئی ہے یار کو مہمان کیے ہوئے

جوشِ قدح سے بزمِ چراغاں کیے ہوئے

کرتا ہوں جمع پھر جگر لخت لخت کو

عرصہ ہوا ہے دعوتِ مژگان کیے ہوئے

پھر وضعِ احتیاط سے رکنے لگا ہے دم

برسوں ہوئے ہیں چاکِ گریبان کیے ہوئے

پھر گرم نالہ ہائے شرر بارہے نفس

مدت ہوئی ہے سیرِ چراغاں کیے ہوئے

پھر پرسشِ جراحت دل کو چلا ہے عشق

سامانِ صد ہزار نمکداں کیے ہوئے

پھر بھر رہا ہوں خامہ مژگاں بہ خونِ دل

ساز چمن طرازی دامان کیے ہوئے

باہم دگر ہوئے ہیں دل و دیدہ پھر رقیب

نظارہ و خیال کا سامان کیے ہوئے

پھر شوق کر رہا ہے خریدار کی طلب

عرض متاع عقل و دل و جان کیے ہوئے

مانگے ہے پھر کسی کو لبِ بام پر ہوس

زلفِ سیاہ رخ پہ پریشان کیے ہوئے

پھر جی میں ہے کہ در پہ کسی کے پڑے رہیں

سر زیرِ بار منتِ درباں کیے ہوئے

مذکورہ غزل کے علاوہ دیوان غالب میں فارسی الفاظ ، اصطلاحات، تراکیب، تشبیہات و استعارات سے بھرا پڑا ہے۔ نمونے کے طورپر ذیل میں چند اشعار پیش کیے جاتے ہیں۔

غالب کے علاوہ میر تقی میر، مصحفی، حالی، اور علامہ اقبال وغیرہ کی شاعری میں بھی فارسی الفاظ بلکہ تراکیب، اصطلاحات، تشبیہات و استعارات کی بھرمار ہے۔ اردو شعرا نے فارسی شعرا کی پیروی کرتے ہوئے اِن کی ہی اصطلاحات کو اپنی شاعری میں استعمال کیا مثلاً  کاغذین جامہ یا کاغذین پیرہن عجز و انکساری کی علامت ہے۔ یہ وہ لباس ہوتا ہے جسے فریادی پہن کر بادشاہ کے سامنے پیش ہوتے ہیں اور بادشاہ اِن کی خستہ حالی پر ترس کھا کر انھیں کچھ نوازتا ہے لیکن شاعری میں فریادی سے مراد عاشق اور بادشاہ سے مراد معشوق ہوتا ہے۔ یہاں عاشق کی حالت زار کو دیکھ کر محبوب ترس کھاتا ہے اور اسے وصل کی دولت سے مالا مال کرتا ہے ۔ فارسی شاعری میں کاغذین جامہ یا پیرہن کی اصطلاح بہت معروف ہے، جسے خاقانی شیروانی ، کمال اسماعیل اور حافظ شیرازی نے اپنے اشعار میں نہایت ہی خوش اسلوبی سے بیان کیا ہے۔ خاقانی اورحافظ شیرازی کا ایک ایک شعر نمونے کے طورپر پیش کیا جاتا ہے، جس میں اس اصطلاح کا استعمال ہوا ہے        ؎

حاسدانم چون ھدف بین کاغذین جامہ کہ من

تیر شحنہ از پی امن شبان آوردہ ام

خاقانی

کاغذین جامہ بہ خونابہ بشویم کہ فلک

رہ نمونیم بپای علم داد نکرد

حافظ

اردو شعرا نے بھی اس اصطلاح کو اپنے اشعار میں نہایت خوبی کے ساتھ استعمال کیا ہے ۔ اِس ضمن میں غالب کے دو اشعار بطور نمونہ پیش کیے جاتے ہیں جن میں فارسی شعرا کی پیروی کرتے ہوئے اِس اصطلاح کو نہایت ہی خوبی کے ساتھ استعمال کیاہے:6

نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا

کاغذی ہے پیرہن، ہر پیکر تصویر کا

پہنے ہے پیرہن کاغذ ابر نیساں

یہ تنک مایہ ہے فریادی عبرشِ ایثار

اردو شاعری میں اس طرح کی مثالیں اکثر وبیشتر شعرا کے کلام میں ملتی ہیں۔شاعری کے علاوہ اردو نثر پر بھی فارسی زبان کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔فارسی نثر میں مسجع و مقفیٰ عبارت کے ابتدائی نقوش خواجہ عبداللہ انصاری اور سعدی شیرازی کی نثری تصانیف میں ملتے ہیں۔اِس طرز تحریر پر بعد کے نثر نگاروں نے بھی طبع آزمائی کی جو اِن کے لیے مشعل راہ ثابت ہوا ۔آگے چل کراردو کے ادیبوں نے بھی اس روش کی پیروی کی جس کی بدولت اردو نثر میں بھی اس کے نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔مثلاً ملا وجہی کی تصنیف ’سب رس‘ اردو کی پہلی داستان جو مسجع و مقفیٰ عبارت کی بہترین مثال ہے۔اِس اسلوب نگارش سے ہٹ کر اردو نثر کی متعدد ایسی عبارتیں بھی ملتی ہیں جن میں اردو کے بجائے فارسی الفاظ کا زیادہ استعمال کیا گیا ہے۔ اردو نثر کے کئی شہ پاروں کے شروع یا آخر میں اردو کے چند الفاظ کا استعمال ہوا ہے اور بقیہ عبارت میں فارسی الفاظ کا استعمال ہوا ہے۔ اِس قسم کی تحریروں میں میر تقی میر کی ایک نثری عبارت کا کچھ حصہ بطور نمونہ پیش کیا جاتا ہے جس میں اکثر و بیشتر فارسی الفاظ کا استعمال ہوا ہے:7

’’ضمیر منیر پر آئینہ داران معنی کے مبرہن ہو کہ محض عنایت حق تعالٰے کی ہے جو طوطی ناطقہ شیرین سخن ہو، پس یہ چند مصرعے کہ از قبیل ریختہ در ریختہ خامہ رو زبان انہی سے صفحہ کاغذ پر تحریر پائے، لازم ہے کہ تحویل سخن سامعہ سنجان روزگار کرون تا زبانی ان اشخاص کے ہمیشہ مورد تحسین و آفرین رہوں‘‘

اسی طرح غالب کے خطوط میں بھی جہاں ایک طرف فارسی الفاظ کی بوچھاڑ ہے تو وہیں اِن کے بیشتر خطوط میں فارسی اشعار بھی پائے جاتے ہیں۔ اشعار سے قطع نظر ایک خط کی چند سطور بطور نمونہ پیش کی جاتی ہیں، جن میں نہ صرف فارسی الفاظ کا استعمال کثرت سے ہوا ہے، بلکہ مقفیٰ نثر کی چاشنی بھی محسوس ہوتی ہے:8

’’ اب روئے سخن حضرت صاحب عالم کی طرف ہے خدمت خدام مخدوم خادم نواز میں بعد تسلیم معروض ہے۔ تفقد نامہٗ نامی میں صورت عز و شرف نظر آئی۔ اللہ اللہ تم نے میری نظر میں میری آبرو بڑھائی۔ حضرت کی قدردانی کی کیا بات ہے۔ آپ کا التفات موجب مباہات ہے۔ یہ بات بطریق طی لسان زبان پر آئی ہے ورنہ قدردانی کیسی یہ قدر افزائی ہے۔ نظیری علیہ الرحمہّ کا شعر ایک کاغذ پر لکھ کر میرے گلے میں ڈال دیجیے اور زمرہٗ شعرا میں سے مجھ کو نکال دیجیے۔‘‘

اسی طرح مرزا مظہر جان جاناں کی خدمت میں انشاء  اللہ خان انشا کی ایک درخواست سے اقتباس نقل کیا جاتا ہے جس میں فارسی الفاظ کا استعمال کثرت سے ملتاہے :9

’’ ابتدائے سن صبا سے اوائل ریعان اور اوائل ریعان سے الی الآن اشتیاق مالایطاقِ تقبیل عتبہ عالیہ نہ بحدے تھا کہ سلک تحریر میں منتظم ہو سکے لہذا بے واسطہ و وسیلہ حاضر ہوا ہوں۔‘‘

مذکورہ اقتباسات کی روشنی میں بہ آسانی یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ فارسی نے نہ صرف اردو زبان کو بلکہ ارد و ادب کے ہر شعبہ کو  متاثر کیا ہے۔ خواہ وہ نظم ہو یا نثر کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جو فارسی سے متاثر نہ ہوا ہو۔ممکن ہے ڈاکٹر قاری سید کلیم اللہ حسینی صاحب کے پیش نظر بھی یہی وجوہات رہی ہوں جن کی بنا پر اُنہوں نے اپنی کتاب زبان فارسی کا اثر زبان اردو پر، اپنے خیالات کا اظہار اس طرح کیا ہے :10

’’فارسی نے اردو پر اپنا اتنا گہرا اثر ڈالا کہ اِس کو بالکل ہی مغلوب کر لیا اور دونوں ایک دوسرے میں ضم ہو گئے اور اردو کی صرف و نحو اور قواعد کی کتابیں بھی فارسی طرز پر لکھی گئیں‘‘

 حواشی

1        فارسی اور ہندوستان ،ڈاکٹر نذیر احمد،خدا بخش خطبات 1974، ص 9-16

2        مقدمہ اردو پر فارسی کے اثرات، ڈاکٹر عصمت جاوید، مہاراشٹر پرنٹنگ اسکول سداشیو پیٹھ۔ پونا، 1987، ص 10

3        خسرو شناسی،مرتبین، ظ۔انصاری، ابو الفیض سحر، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی،1975، ص216

4        خسرو شناسی،مرتبین، ظ۔انصاری، ابو الفیض سحر، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی،1975، ص 245

5        دیوان غالب،مرتبہ غلام رسول مہر،علی پرنٹنگ پریس لاہور۔ 1967، ص 289-90

6        دیوان غالب، مرتبہ غلام رسول مہر،علی پرنٹنگ پریس لاہور۔ 1967، ص 20

7        زبان فارسی کا اثر زبان اردو پر،ڈاکٹر قاری سید کلیم اللہ حسینی ، 1954، ص 27

8        ادبی خطوط غالب: جناب مرزا محمد عسکری صاحب،  نظامی پریس وکٹوریہ اسٹریٹ ، 1929، ص 32

9        زبان فارسی کا اثر زبان اردو پر،ڈاکٹر قاری سید کلیم اللہ حسینی ، 1954، ص 27

10      ایضاً، ص 6-7

 

Ali Zahid Malik

Research Scholar, Dept of Prsian

Aligarh Muslim University

Aligarh - 202002 (UP)

Mob.: 9797552503

zahidamu93@gmail.com

 

 

ابن قتیبہ کا تصور ادب، مضمون نگار: محمد شہباز عالم

 اردو دنیا، اکتوبر 2024

ابن قتیبہ (وفات:889) صرف ایک مؤرخ، فقیہ اور ادیب ہی نہیں تھے، بلکہ ان کے نظریات نے اسلامی علوم و فنون پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان کی تصانیف جیسے’عیون الاخبار‘ اور ’ادب الکاتب‘ نے ادب کو ایک اخلاقی، تعلیمی اور سماجی فریضے کے طور پر پیش کیا۔ ادب، ابن قتیبہ کے نزدیک، نہ صرف جمالیاتی پہلوؤں کا مظہر تھا، بلکہ یہ ایک ایسا وسیلہ تھا جس کے ذریعے اخلاقی و معاشرتی اقدار کو فروغ دیا جاتا تھا۔

ابن قتیبہ کی پیدائش 828میں عراق کے شہر کوفہ میں ہوئی، جو اس وقت اسلامی علوم و فنون کا ایک اہم مرکز تھا۔ ان کے والد قاضی تھے، اور اس علمی ماحول نے ابن قتیبہ کی ابتدائی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے اپنے والد اور دیگر اساتذہ سے علم حاصل کیا اور عربی زبان، ادب، نحو، فقہ، اور حدیث کے علوم میں مہارت حاصل کی۔

ابن قتیبہ کی زندگی کا بیشتر حصہ بغداد میں گزرا، جو عباسی خلافت کا علمی مرکز تھا۔ بغداد میں ابن قتیبہ نے نہ صرف علمی حلقوں میں شہرت حاصل کی، بلکہ وہ یہاں مختلف علمی اور تعلیمی اداروں سے بھی وابستہ رہے۔ بغداد میں قیام کے دوران ان کی ادبی، فقہی اور تاریخی تصانیف نے اسلامی علوم میں نئی جہتوں کو متعارف کروایا۔

ابن قتیبہ کی اہم تصانیف میں ’عیون الاخبار‘، ’ادب الکاتب‘ اور ’تاویل مختلف الحدیث‘ شامل ہیں۔ ’عیون الاخبار‘ ایک ایسی کتاب ہے جس میں ادب، تاریخ، اور اخلاقیات کا امتزاج ملتا ہے، جبکہ ’ادب الکاتب‘ نے اسلامی ادب میں ایک نئی روح پھونکی اوراہل قلم کے لیے ایک عملی رہنما کتاب ثابت ہوئی۔

اسلامی کلاسیکی دور میں ’ادب‘ کی اصطلاح بہت وسیع اور جامع تھی۔ ادب کا مطلب صرف فنون لطیفہ یا زبان و بیان کی مہارت تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس کا دائرہ اخلاقیات، سماجی آداب اور معاشرتی اصولوں تک پھیلا ہوا تھا۔ اسلامی معاشرتی نظام میں ادب کا ایک اہم مقصد لوگوں کو اخلاقی تربیت دینا اور ان کی شخصیت کو معاشرتی معیار کے مطابق ڈھالنا تھا۔ ابن قتیبہ اس تصور کے ایک اہم ترجمان تھے۔

ابن قتیبہ کے نزدیک ادب کا مقصد محض زبان و بیان کی خوبیوں کو اجاگر کرنا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسا ذریعہ تھا جس کے ذریعے انسانوں کی اخلاقی اصلاح ممکن تھی۔ انھوں نے ادب کو سماجی، سیاسی اور اخلاقی مسائل کے حل کے لیے ایک موثر وسیلہ سمجھا۔ ان کی کتب میں اخلاقی نصائح اور معاشرتی اصلاح کے پہلوؤں کو نمایاںطور پر بیان کیا گیا ہے۔

ابن قتیبہ کے نزدیک ادب کا ایک اہم پہلو اس کی اخلاقی حیثیت تھی۔ ادب کے ذریعے معاشرتی اصلاح ممکن تھی اور لوگ اپنی زندگیوں میں اعلیٰ اخلاقی اصولوں کو اپنانے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ ادب کو وہ محض ایک تفریحی سرگرمی کے بجائے ایک اصلاحی آلہ سمجھتے تھے۔

عیون الاخبار‘ ابن قتیبہ کی اہم تصانیف میں سے ایک ہے جو ادب اور تاریخ کا ایک حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ اس کتاب میں تاریخی واقعات کے ساتھ ساتھ اخلاقی نصائح اور حکمت آموز حکایات شامل ہیں۔ ابن قتیبہ نے اس کتاب میں مختلف سیاسی، سماجی اور اخلاقی موضوعات پر روشنی ڈالی ہے۔ ان کے نزدیک تاریخ کو ایک ایسی اخلاقی تعلیم کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس سے لوگ عبرت حاصل کر سکیں۔

ادب الکاتب‘ ابن قتیبہ کی دوسری اہم تصنیف ہے جو لکھنے والوں کے لیے ایک رہنما کتاب ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے زبان کی درستگی، فصاحت اور بیان کی خوبصورتی پر زور دیا ہے۔ ابن قتیبہ کے نزدیک ایک قلم کار کا کام صرف الفاظ کے انتخاب میں مہارت کا مظاہرہ نہیں تھا، بلکہ اخلاقی اصولوں کی پاسداری بھی ضروری تھی۔ ان کے نزدیک قلم کار کو اپنے علمی کام میں صداقت اور اخلاقی معیارات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

تاویل مختلف الحدیث‘ ابن قتیبہ کی ایک اور اہم تصنیف ہے جس میں انھوں نے حدیث کے مختلف پہلوؤں پر بحث کی ہے۔ اس کتاب میں ابن قتیبہ نے اسلامی علوم میں تنقیدی فکر کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ علم کے حصول کے ساتھ ساتھ اس کی درستگی اور تحقیق پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

ابن قتیبہ کے نزدیک ادب کا ایک اہم مقصد معاشرتی اصلاح تھا۔ ان کی تصانیف میں یہ پہلو نمایاں طور پر سامنے آتا ہے کہ ادب کے ذریعے نہ صرف لوگوں کی تفریح کی جائے، بلکہ ان کی اصلاح بھی کی جائے۔ ’عیون الاخبار‘ اور ’ادب الکاتب‘ میں انھوں نے مختلف تاریخی واقعات اور حکایات کے ذریعے لوگوں کو اخلاقی اور سماجی اصلاح کے اصول بتائے ہیں۔

ابن قتیبہ کے نزدیک تعلیمی نظام میں ادب کا کردار نہایت اہم تھا۔ ان کے نزدیک ادب ایک ایسا فریم ورک تھا جس کے ذریعے تعلیمی اور اخلاقی اصولوں کی تربیت دی جا سکتی تھی۔ ابن قتیبہ نے اس بات پر زور دیا کہ علم کا مقصد صرف ذہنی مشقت نہیں، بلکہ اخلاقی تربیت بھی ہے۔

ابن قتیبہ کی علمی اور ادبی خدمات کا سب سے اہم پہلو ان کا عربی نثر پر گہرا اثر ہے۔ ان کی تصانیف نے عربی ادب کو ایک نیا رخ دیا، خاص طور پر نثر کی روایت کو مضبوط کیا۔ عربی ادب کے عہدِ زریں میں ان کی تصانیف کو بے حد سراہا گیا اور ان کے کاموں نے بعد میں آنے والے مصنفین، ادبااور دانشوروں کو متاثر کیا۔ ابن قتیبہ نے ادب کو صرف جمالیات تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے سماجی، اخلاقی اور تعلیمی اصلاح کا ذریعہ بنایا۔ ان کا اسلوب سادہ، عام فہم اور پراثر تھا، جس نے انہیں عوام میں بھی مقبول کیا۔

ان کی تحریریں ادب کے مختلف شعبوں پر محیط تھیں، جس میں تاریخ، فقہ، اخلاقیات، اور تعلیم شامل تھے۔ ان کی تصانیف نے اسلامی دنیا میں علمی مکالمے کی روایت کو فروغ دیا، اور ان کے ادبی و فکری کاموں کو علمی دنیا میں ایک مستقل مقام ملا۔ ’ادب الکاتب‘ میں ان کے بیان کردہ اصولوں نے نہ صرف اس زمانے کے لکھنے والوں کو متاثر کیا، بلکہ آج کے دور میں بھی ان کے نظریات کو ادب کی تعلیم و تدریس میں ایک بنیاد کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

ابن قتیبہ کی فکر اور نظریات آج کے جدید دور میں بھی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں جتنی کہ ان کے اپنے وقت میں تھی۔ موجودہ دور میں، جہاں ادب، تاریخ، اور فلسفہ کی فکری بنیادیں تبدیلیوں کا سامنا کر رہی ہیں، ابن قتیبہ کے تصورِ ادب کی اخلاقی اور سماجی حیثیت کا احیا اہمیت رکھتا ہے۔ ان کی تحریریں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ادب اور علم کا اصل مقصد انسانیت کی اخلاقی تربیت ہے اور معاشرتی بھلائی کے لیے اسے ایک ذریعہ بنایا جانا چاہیے۔

ابن قتیبہ کا زور ہمیشہ علمی اصولوں کے ساتھ ساتھ اخلاقی معیارات پر بھی رہا ہے۔ آج کے دور میں جب ادب کو صرف تفریح کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، ابن قتیبہ کی فکر ہمیں اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ ادب کی ایک سماجی اور تعلیمی ذمے داری بھی ہے۔ ان کی تصانیف ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ معاشرتی فلاح و بہبود کے لیے ادب کو استعمال کیا جانا چاہیے اور یہ کہ ادب کا مقصد لوگوں کو اخلاقی تعلیم دینا بھی ہے۔

ابن قتیبہ کے نظریات موجودہ علمی و ادبی معاشرے میں بھی بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ علمی و ادبی دنیا میں جب سماجی اور اخلاقی مسائل پر غور کیا جاتا ہے تو ابن قتیبہ کے نظریات کو رہنما کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے نزدیک ادب کو صرف زبان کی ترقی کے لیے نہیں، بلکہ سماجی ترقی کے لیے بھی ایک اہم وسیلہ سمجھا جانا چاہیے۔

آج کے تعلیمی نظام میں ابن قتیبہ کی فکر کو اپنانا اور اسے علمی معاشروں میں نافذ کرنا تعلیمی نظام کی بہتری کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کے تصورات اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں کہ تعلیمی نصاب میں ادب کی اخلاقی اور تعلیمی اہمیت کو مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے، تاکہ طلبانہ صرف علمی مہارت حاصل کریں، بلکہ اخلاقی طور پر بھی مضبوط ہوں۔

جدید دنیا میں، جہاں ادب کے مختلف پہلوؤں پر زور دیا جاتا ہے، ابن قتیبہ کی فکر ہمیں ادب کے ساتھ اخلاقیات کے گہرے تعلق کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ انھوں نے ادب کو ایک ایسی قوت کے طور پر پیش کیا جو معاشرتی اقدار کو فروغ دینے اور سماجی تبدیلیاں لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ آج کے دور میں، جب ادب کو ایک ثقافتی اور سیاسی آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، ابن قتیبہ کا تصور ادب ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ادب کو اخلاقیات اور سماجی فلاح کے لیے بھی بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

ابن قتیبہ کے نزدیک ادب کی تعلیم ایک ایسا عمل ہے جو فرد کی شخصیت کو نکھارتا ہے اور اسے معاشرتی و اخلاقی معیارات کے مطابق ڈھالتا ہے۔ آج کے دور میں بھی، جب کہ دنیا مختلف سماجی اور سیاسی مسائل کا سامنا کر رہی ہے، ابن قتیبہ کی فکر ایک رہنما کے طور پر سامنے آتی ہے اور ہمیں ادب کی اخلاقی اور تعلیمی ذمے داریوں کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

آج کے دور میں بھی ابن قتیبہ کی فکر اور نظریات ادب کے میدان میں ایک رہنما اصول کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ ادب کا مقصد نہ صرف تفریح فراہم کرنا ہے، بلکہ معاشرتی اصلاح اور اخلاقی تربیت کرنا بھی ہے۔ ابن قتیبہ کا تصورِ ادب آج کے جدید دور میں بھی ایک ایسی روشنی فراہم کرتا ہے جو ہمیں ادب کے اصل مقصد کو سمجھنے اور اس کے ذریعے معاشرتی بھلائی کو فروغ دینے میں معاون بن سکتی ہے۔

ابن قتیبہ کے ادب اور اخلاقیات پر مبنی نظریات آج بھی اسی طرح اہمیت رکھتے ہیں جیسا کہ ان کے اپنے وقت میں تھے۔ ان کی تحریریں اور نظریات علمی و ادبی دنیا میں ادب کے مقام و مرتبے کو نہ صرف واضح کرتے ہیں، بلکہ اس کے ذریعے معاشرتی اور اخلاقی فلاح و بہبود کو بھی فروغ دینے کی ترغیب دیتے ہیں۔

حوالہ جات

1        عبداللہ ابن قتیبہ: عیون الاخبار، بیروت: دارالکتب العلمیہ، 1986

2        عبداللہ ابن قتیبہ: ادب الکاتب، تحقیق: محمد التنجی، بیروت، دارالفکر، 1996

3        عبداللہ ابن قتیبہ: تاویل مختلف الحدیث  القاہرۃ: دارالکتب العلمیۃ 2006

4.       Kennedy, Hugh: The Early Abbasid Caliphate: A Political History, London: Croom Helm, 1981.

5.       Lecomte, Gérard. "Ibn Qutaybah.": Encyclopaedia of Islam, Second Edition, edited by P. Bearman, Th. Bianquis, C.E. Bosworth, E. van Donzel, and W.P. Heinrichs. Leiden: Brill, 1986.

6        محمد عابد:  اسلامی فکر میں ادب کا مقام، دارالعلم، کراچی 2010

7.       Rosenthal, Franz: Knowledge Triumphant: The Concept of Knowledge in Medieval Islam,  Leiden: Brill, 1970.

8.       Lyons, Jonathan: The House of Wisdom: How the Arabs Transformed Western Civilization, New York: Bloomsbury Press, 2009.

9.       Ashtiany, Julia, et al., editors. :Abbasid Belles Lettres (The Cambridge History of Arabic Literature)., Cambridge University Press, 1990

 

Mohammad Shahbaz Alam

Dept of Arabic

Sitalkuchi College, Sitalkuchi

Cooch Behar- 736158 (West Bengal)

Mob.: 9064502370

shahbazslkc@gmail.com

 

 

 

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...