9/9/25

ڈاکٹر تابش مہدی، مضمون نگار: ابوالبشر

 اردو دنیا، اپریل 2025

ڈاکٹر تابش مہدی اردو زبان و ادب کا نمائندہ اورایک معتبر حوالہ تھے۔ انھوںنے زندگی کا ہر لمحہ علم وادب کے فروغ میں وقف کردیا۔ تابش مہدی کی زندگی موجودہ علم کے شیدائیوں اورآنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ادبی کاوش کی بدولت ان کو بہت سے انعام و اعزاز سے نوازا گیا۔

تابش مہدی ایک علمی و ادبی گھرانے میں 3 جولائی 1951کو پید اہوئے ۔ جائے پیدائش یوپی کا مشہور ضلع پرتاپ گڑھ ہے۔ اصل نام مہدی حسن اور پیار سے تابش کہتے تھے۔ والد رفیع الدین جو موضع رام دیو پٹی بڈھورہ ضلع پرتاپ گڑھ کے ساکن تھے ۔ زراعت ان کا پیشہ تھا۔ تابش مہدی کی ولادت نانیہال میں ہوئی اور وہیں پرورش و پرداخت بھی ہوئی۔ ان کی شہرت قلمی نام ’تابش مہدی‘ سے ہوئی۔ ابتدائی تعلیم نانیہال ہی میں گھریلو ماحول میں ہوئی۔اس سلسلے کی وضاحت کرتے ہوئے شجاع الدین نے اپنی کتاب میں اس طرح لکھا ہے:

’’تابش صاحب کی ننھال کسی حد تک فارغ البال اور علم و عمل سے آشنا تھی۔ ان کے نانا حضرت صوفی میاں محمد ثابت علیؒ موضع ناجیہ پور ضلع پرتاپ گڑھ کے ساکن تھے۔ انھیں اپنے عہد کے مشہور بزرگ و مجاہد حضرت مولانا سید محمد امین نصیر آبادیؒ سے شرف ارادت حاصل تھا ۔انھیں کے یہاں تابش نے اپنے دنیا میں آنے کا اعلان کیا اور وہیں شعور کی ابتدائی منزلیں بھی طے کیں۔‘‘

(تابش مہدی ایک سفر مسلسل،ڈاکٹر شجاع الدین فاروقی، مولانا مبین الدین فاروقی اکادمی ،حمزہ کالونی ،نیو سرسید نگر ،علی گڑھ یوپی، 2013، ص18)

 تابش مہدی نے 1964میں ڈسٹرک بورڈ پرتاپ گڑھ سے جونیئر پرائمری اسکول کا امتحان پاس کیا، 1965میں مدرسہ سبحانیہ الہ آباد سے تجوید اور قرأت سیکھی۔ بعدازاں تعلیم انھوں نے تعلیم القرآن حسن پور، مرادآباد میں حاصل کی۔ 1970 میں انھوں نے عربی اور فارسی بورڈ الہ آباد سے مولوی (عربی)، 1978 میںمنشی (فارسی)اور 1980 میں کامل (فارسی) کا امتحان پاس کیا۔ 1989 میں انھوںنے آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے (اردو)کی سند حاصل کی ، بالآخر 1997 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے اردو تنقید میں پی ایچ-ڈی کی سند حاصل کی۔

تابش مہدی ہمیشہ اپنے مشفق اساتذہ سے ملتے رہتے اور ان کی عزت کرتے۔ اسی طرح وہ اپنے شاگردوں کو بھی عزیز رکھتے اور شاگردوں نے بھی ان کی اسی طرح عزت کی۔ تابش مہدی کے اہم اساتذہ میں مشہور شاعر اور  طنز و مزاح کے اکبر ثانی شہباز امروہوی، بلالی علی آبادی یہ بھی اپنے وقت کے اہم شاعر اور بلندپایہ استاد تھے، آرزو لکھنٔوی کے شاگرد سروش مچھلی شہری جو کہ تابش مہدی کے لائق و فائق استاد تھے، ابو الوفا عارف شاہ جہاں پوری اور شاعر عامر عثمانی دیوبندی شامل ہیں۔اپنے ان اساتذہ کا ہمیشہ ذکر خیر کرتے۔ ان کا سکھایا ہوا درس اور نصیحتوں کو گرہ سے باندھ رکھاتھا۔

تابش مہدی کا نکاح 18 مئی 1979میں دیوبند کے مشہور خطاط اشتیاق احمد عثمانی کی پوتی اور ممتاز احمد عثمانی کی بیٹی رضیہ عثمانی سے ہوا۔ شریک حیات سے ان کی سات اولادیں ہیں۔دو فرزند ’شاہ دانش فاروق فلاحی ، شاہ اجمل فاروق ندوی کے علاوہ چار بیٹیاں جن میں ثمینہ تابش صالحاتی،طوبیٰ کوثر صالحاتی ،یمنٰی کلثوم اور نعمٰی کلثوم ہیں۔

تابش مہدی نے اپنی تدریسی و عملی زندگی کا آغاز 1971 سے کر دیا تھا۔ معاشی حالات نے باقاعدگی سے اسکولی تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں دیا۔ اسی وجہ سے وہ معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے کم عمری میں تگ ودو میںمنہمک ہوگئے۔ انھوں نے پرتاپ گڑھ کے کالج ’ابوالکلام آزاد‘ سے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز کیااور 1971 سے 1973 تک منسلک رہے۔ جنوری 1974 سے جون 1978 تک دارالعلوم امروہہ میں تعلیمی خدمات انجام دیں۔ اس کے بعد دیوبند میں منسلک رہے دیوبند کے بعد آپ نے جامعۃ الفلاح، بلریاگنج، اعظم گڑھ میں مدرسی اختیار کی۔آپ کی وفات 74سال کی عمر میں 22 جنوری 2025 کو صبح 10 بجے دہلی کے میکس ہاسپٹل میں ہوئی جہاں یہ گردے اور دل کی بیماریوںکے علاج کے لیے ایڈمٹ تھے،انا للہ وانا الیہ راجعون۔

تابش مہدی تدریسی خدمات کے ساتھ ساتھ صحافتی اداروں سے وابستہ رہے جن کا مختصراً ذکر بھی ضروری ہے۔ مختلف اوقات میںپندرہ روزہ ’پیغام حق‘ پرتاپ گڑھ سے نکلتا تھا اس سے منسلک رہے۔ دیوبند سے پندرہ روزہ ’اجتماع‘ نکلتاتھا اس سے جڑے۔ ماہنامہ ’الایمان ‘ جو دیوبند سے ہی نکلتا تھا اس کے مدیر تھے۔ ماہنامہ ’گل گڑھ‘ یہ سہسوان (بدایوں) سے جاری ہوتا تھا اس کے ایڈیٹر رہے۔ ماہنامہ ’ذکریٰ‘ جو رامپور سے شائع ہوتا تھا اس سے آپ منسلک رہے۔ ماہنامہ ’تجلّی‘ یہ دیوبند سے جاری ہوا اس سے بھی وابستہ تھے۔ دہلی سے جاری ہونے والا ’زندگی نو‘ سے جڑے۔ دہلی اردو اکیڈمی سے شائع ہونے والا رسالہ ’ایوان اردو‘ کے معاون مدیر بھی رہے۔ اپریل 2002 اورجنوری 2005 سے بالترتیب ماہنامہ ’پیش رفت‘ (دہلی) کے رکن مجلس ادارت اور سہ ماہی ’کاروانِ ادب‘ (لکھنٔو)کے مشیر اعزازی اورمجلس ادارت کے رکن تھے۔ یہ تابش مہدی کی صحافی سچائی تھی جو مختصراً بیان کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں اور ادبی اداروں سے جو وابستگی تھی اس کاذکر نہ کرنا نا انصافی ہوگا ۔

تابش مہدی 1991 سے 3جولائی 2009 تک مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز ، نئی دہلی میں بطور ایڈیٹر اپنی خدمات انجام دیں۔آپ مادرِ علمی ابوالکلام آزاد انٹر کالج (پرتاپ گڑھ)اور ادارۂ ادب اسلامی ہند کے رکن اساسی بھی تھے۔ عالمی رابطہ ادب اسلامی (ہند) اور دارالدعوۃ ایجوکیشنل فاؤنڈیشن (دہلی) کے ممبر، ادبیات عالیہ اکادمی لکھنٔو کے چیئرمین ،ادارۂ ادب اسلامی ہند کے سابق نائب صدر ،سہ ماہی ’کاروانِ ادب لکھنٔو‘ کے رکن ادارت بھی تھے۔ یہ تمام ذمہ داریاں تابش مہدی کو مفت میں تفویض نہیںکی گئی تھیںبلکہ ان کی اہلیت و صلاحیت اورکارکردگی کو دیکھتے ہوئے دی گئیں تھیں جس پر آپ کھرے اترے۔ انھوں نے اپنی تمام زندگی اردو ادب کے لیے صرف کردی، چاہے وہ شاعری کے حوالے سے یا نثر، یعنی اپنی تنقیدی و تحقیقی خدمات کے حوالے سے ہی ہو۔ تابش مہدی کی تصنیفی کاوش میں 55 کتابیں ہیں جن میں 13 شاعری کے مجموعے ہیں۔ شاعری کے مجموعے میں ان کے 6 نعتوں اور منقبتوں کے مجموعے ہیں جو کہ ایک بہترین کارنامہ ہے۔

شعری مجموعوں کے نام نقش اول (1971)، لمحات حرم (1975)، سرور حجاز (1977)، تعبیر (1989)، سلسبیل (2000)، کنکر بولتے ہیں (2005)، صبح صادق (2008)، طوبیٰ (2012)، غزل نامہ (2011)، مشک غزالاں (2014) ، رحمت تام (2018)، غزل خوانی نہیں جاتی (2020)، دانائے سبل (2023)

ڈاکٹر تابش مہدی کثیر الجہات شخصیت کے مالک اور اعلیٰ درجے کے شاعر، ناقد، محقق، اسلامی اسکالر بھی تھے۔آپ انتہائی ملنسار، دوستوں کے سچے دوست اور نئے نئے دوست بنانے، ان سے تعلقات استوار رکھنے میںماہر تھے۔ مہدی کو شاعری کے ساتھ ساتھ علم عروض و قوافی میں مہارت حاصل تھی۔آپ ان صدہا شخصیات میں سے ایک تھے جو اپنے نامساعد حالات میں بھی اپنی تعلیمی راہ میں رکاوٹ نہ پید اکرسکے اور معاشی مجبوریاں بھی تعلیمی ترقی میں خلل نہ پید اکرسکیں۔ وہ ایسے لوگوں میں سے تھے جو ذوق و شوق اور عزم جواں لیے ہوئے شاہ راہ علم پر سرپٹ دوڑتے ہوئے منزل مقصود پر بآسانی بھلے ہی نہ پہنچ پائے لیکن سنگلاخ زمینوں کو ہموار کرتے ہوئے بالواسطہ طریقوں سے منزل مقصود کو ضرور پا لیتے ہیں۔

تابش مہدی محض ناقد، محقق، تاریخ نگارہی نہیں تھے بلکہ شاعر اور مستند عالم بھی تھے۔ عربی، فارسی،ہندی اور اردو زبان پر ان کو دسترس حاصل تھا۔ پوربی، اودھی اور بھوج پوری ان کے گھر کی غلام تھی، فلسفہ کاانھوں نے مطالعہ بھی کیا، مذہبی تاریخ، اسرائیلیات اور بائبل سے خاصی واقفیت بھی تھی۔ غزلیہ شاعری اور نعتیہ مجموعے سے ان کی دینی علمیت اور اس کی گہرائیوں کے عکس ان میں صاف نظر آتے ہیں۔ ان کے مجموعے کلام کا مختصراً جائزہ لینا ضروری ہے۔

کنکر بولتے ہیں:یہ شعری مجموعہ ہے جو فریوائی اکادمی، شاہین باغ،جامعہ نگر نئی دہلی سے 2005 میں شائع ہوا۔ اس مجموعے کی تقدیم ڈاکٹر عبد الرحمن فریوائی نے لکھی۔ اس میں ایک مضمون شامل ہے جس کا عنوان ’دیر تک زندہ رہنے والی شاعری‘ جو مخمور سعیدی کا لکھاہوا ہے۔ تقدیم میں ڈاکٹر عبدالرحمن نے ان کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’ڈاکٹر تابش مہدی ہمارے عہد کے ایک ممتازو نامور ادیب، صاحب بصیرت و معتبر نقاد، ذہین و ژرف بیں محقق اور کہنہ مشق، خوش فکر اور قادرالکلام شاعر ہیں۔ و ہ جہاں ایک اچھے اور بڑے ادیب، شاعری، تنقید نگار اور محقق کی حیثیت سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں، وہیں اعلیٰ انسانی و اخلاقی قدروں کے نقیب و ترجمان کی حیثیت سے بھی ان کی اپنی ایک پہچان ہے۔ وہ اپنے فکر و فن کی یکسانی اور عقیدہ و عمل کی پختگی کی وجہ سے تمام حلقوں میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ان کا یہ شعر ان کی زندگی کے اسی رُخ کی نشان دہی کرتا ہے            ؎

اب عظمت و توقیر جبیں جان لی میں نے

اب اور کسی در پہ مرا سر نہ ملے گا

(کنکرے بولتے ہیں،مجموعہ شاعری ص11، تقدیم)

تابش مہدی شاعری میں اپنا ایک منفرد لب و لہجہ اور مقام رکھتے تھے۔ انھوں نے سیدھے سادے لفظوں سے بڑے گہرے معانی ومفاہیم پید اکرنے کی کوشش کی اور ان کو اس ہنر میں مہارت بھی حاصل تھی۔ اسی کے ساتھ مخمور سعیدی کا مضمون جو اسی مجموعے میں شامل ہے ۔ مخمور سعیدی کی رائے تابش مہدی کے متعلق پیش نظر ہے:

’’ڈاکٹر تابش مہدی بہ طور شاعر بھی اور بہ حیثیت انسان بھی بہت سی خوبیوں کے مالک ہیں۔ ان کی شخصیت اور شاعری دونوں اسلامی اقدار کے سایے میں پروان چڑھی ہیں اور انھیں اقدار کے گہرے شعور نے ان کے فکر و خیال کو انسان دوستی کے سانچے میں ڈھالا ہے۔‘‘

صبح صادق : یہ تابش مہدی کا نعتیہ مجموعہ ہے جس میں حمد، نعت اورمنقبت ہے۔ ویسے بھی ان کے تمام شعری مجموعوں میں سے چھ نعتوں کا مجموعہ ہے۔ اس مجموعہ سے ان کی نعت گوئی کا اندازہ ہوگا۔ یہ مجموعہ ادبیات عالیہ اکادمی، ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگرنئی دہلی 2008 میں شائع ہوا تھا۔ اس مجموعے میں’ حرف چند ‘ کے علاوہ بھی چار مضامین شامل ہیں۔ ’زائرِ حرم ثانی: تابش مہدی‘، ’ایک صحیح العقیدہ نعت گو‘، ’حرفِ تحسین‘، ’نمودِ صبح ِ صادق‘ اہم ہیں۔ حرف چند میں تابش مہدی نے اپنی نعت گوئی اور نعت کے سلسلے میں چند باتیں تحریر کیں ہیں:

’’صبح صادق، میری نعتیہ و منقبتی شاعری کا تیسرا مجموعہ ہے۔ اس سلسلے کا پہلا مجموعہ’لمحاتِ حرم ‘کے نام سے دسمبر 1975میں انجمن دائرۃ الفکر، دارالعلوم امروہہ کے اہتمام سے شائع ہوا تھا۔ اس مجموعے کو میرے اساتذہ کرام طوطیِ ہند حضرت مولانا وفا عارف شاہ جہاں پوری ؒ، حسان الہند علامہ بلالی علی آبادیؒ اور سلطانِ سخن علامہ شہباز صدیقی امروہویؒ کی دعائیں حاصل تھیں۔‘‘

(صبح صادق، تابش مہدی، ادبیات عالیہ اکادمی، ابو الفصل انکلیو ،جامعہ نگر نئی دہلی2008، ص6)

تابش مہدی کے قلم نے نظم و نثر دونوں میں کمالات دکھائے ہیں۔جب اخبارات، رسائل، سمیناروں اور ادبی محفلوں میں شریک ہو کر کسی شاعر یا ادیب کے کلام یا نثری کاوشوں کا جائزہ پیش کرتے  تو وہ ناقد، محقق کے روپ میں نظر آتے۔ تابش مہدی ہر شکل و صورت میںبھاری بھرکم و موثر نظر آتے تھے اسی وجہ سے ان کو ملک و بیرون ملک میں مدعو بھی کیا جایاتھا۔ آپ کی شہرت و مقبولیت شاعر کی حیثیت سے ہے لیکن شعری سرمایے کے بالمقابل ان کی نثری کاوشیں بڑی اہمیت کی حامل ہے۔اب ان کی نثری کاوشوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

اردو تنقید کا سفر -جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تناظر میں: یہ تابش مہدی کا باقاعدہ تنقیدی و تحقیقی کارنامہ ہے۔ 320 صفحات پر مشتمل یہ کتاب فخر الدین علی احمد میموریل کمیٹی کے مالی تعاون سے 1999میں شائع ہوئی تھی۔  اس کتاب کو آپ نے چار ابواب میں تقسیم کیا۔ پہلے باب میں اردو تنقید کی طویل تاریخ اور نقادوں کاتذکرہ شامل کیا ہے۔اس میں تنقید کے معنی و مفہوم، تنقید اور تنقید نگار، تنقید کے نظریے ،اردو تنقید کا قدیم دبستان، مارکسی، سماجی، سائنٹیفک، ترقی پسند تنقید،نفسیاتی تنقید، جمالیاتی تنقید، ہئیتی تنقید، اسلوبیاتی تنقید، تاثراتی تنقید، تشریحی اور توضیحی تنقید، اردو تنقید کی روایت، تذکروں میں تنقید کی روایت، تذکرۂ نکات الشعرا، تذکرۂ ریختہ گویاں، مخزن نکات، تذکرہ شعرا اردو، تذکرہ ہندی، مجموعہ نغز، گلشن بے خار، آب حیات، حالی کی تنقید نگاری، شبلی کی تنقید نگاری، عبد الحق کی تنقید نگاری وغیرہ اہم ہیں۔

دوسرے باب میں جامعہ کا عام ادبی ماحول اور اردو تنقید کے ابتدائی نقوش 1947 سے پہلے، اس باب میں23 علمی وادبی ہستیوں اور مختلف قسم کی علمی کتابوں سے اردو ادب کے دامن کو مالا مال کردیا۔

باب سوم کا عنوان ہے ’جامعہ میں اردو تنقید کی روایت1947 کے بعد(پہلاد ور)‘ اس میں سید عابد حسین ، ذاکر حسین ، محمد مجیب عبد اللطیف اعظمی اور مسعود حسین خاں کو نقاد قرار دیا گیا ہے۔اس کے مطالعے سے قاری کو اندازہ ہوگا کہ کس کو نقاد مانا ہے اور کس کو نہیں۔

چوتھا باب ’جامعہ میں ہم عصر تنقید (دوسرا دور)‘ اس باب میں وہاں کے شعبۂ اردو سے تعلق رکھنے والے چودہ اساتذہ کے نام بحیثیت نقاد لیا گیا ہے ۔تنویر احمد علوی، شمس الرحمن محسنی، گوپی چند نارنگ، محمد ذاکر، مشیر الحق، منظر اعظمی، حنیف کیفی، عظیم الشان صدیقی، انور صدیقی، مظفر حنفی، شمیم حنفی، عنوان چشتی، صغریٰ مہدی اور قاضی عبید الرحمن ہاشمی وغیرہ شامل ہیں۔

تابش مہدی نے تمام اصحاب کے ناموں کی ترتیب، تاریخ پیدائش کے اعتبار سے رکھی جو مشکل کام تھا۔  اس میں 90 مضامین قدیم و جدید شعرا و ادبا پر ہے ان کے کلام اور تحریروں پرنقدو تبصرہ کیا گیا جن میں کچھ پر سرسری انداز اور کچھ پر ضرورت کے حساب سے تفصیل سے لکھا۔ اس کتاب کا پیش لفظ جو پروفیسر قاضی عبید الرحمن ہاشمی نے تحریر کیا ہے انھوں نے ان کے بارے میں جو لکھا ہے وہ یہ ہے ۔

’’جامعہ ملیہ اسلامیہ کے حوالے سے ادبی تنقید کا تذکرہ بعض اوقات حیرت میں ڈال سکتا ہے، لیکن موجودہ کتاب کے مطالعے کے دوران نہ صرف جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تنقید کی روایت اور اس کے سفر سے واقفیت حاصل ہوتی ہے بلکہ مختلف ادوار میں یہاں موجود اساتذہ کی انفرادی کوششوں پر بھی بھرپور اور غیر جانب دارانہ روشنی پڑتی ہے… عام طور سے سہل الحصول اور پیش پا افتادہ موضوعات سے ہی سروکار رکھتے ہیں۔ تابش مہدی نے بڑی جرأ ت کا مظاہرہ کیا۔ انھوںنے بھاری پتھر کو صرف چوم کر چھوڑ دینے کے بجائے اس کے علمی، اخلاقی اور ادبی تفاضوں کو بڑی عمدگی سے پورا کیاہے۔ حد یہ ہے کہ زبان و بیان اور املا و انشا کے ادنیٰ تسامحات سے بھی ان کایہ کارنامہ پاک ہے۔‘‘

(اردو تنقید کا سفر -جامعہ ملیہ اسلامیہ کے تناظر میں ، ڈاکٹر تابش مہدی ، ادبیات عالیہ اکادمی ، نئی دہلی 1999،ص10)

تابش مہدی اچھے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین نثر نگار بھی تھے۔وہ خوبصورت اور موثر زبان لکھنا جانتے تھے۔ ان کا اسلوب بیان متاثر کن تھا اوران کی تحریریں اس چیز کی شاہد ہیں۔ آپ ادب اسلامی کے عالم اور ترقی پسند تحریک و جدیدیت کے زبردست ناقد و مخالف تھے۔ لیکن ان تحریکوں کے مثبت پہلوؤں کی ہمیشہ تعریف کرتے تھے۔ ان کو مختلف اکادمیوں کی طرف سے اعزازات و انعامات سے نوازا گیا یہاں چند کا ذکر ضروری ہے۔

حضرت حسان ایوارڈ، کل ہند حمد و نعت اکادمی، دہلی2005، نشان اردو، اردو اکادمی نیپال2013، راسخ عظیم آبادی ایوارڈ، بہار اردو اکیڈمی، 2013، ایوارڈ برائے خدمات اردو، اردو اکادمی دہلی 2015، علامہ اقبال عالمی ایوارڈ برائے شعر و ادب، اردو ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن آف انڈیا،2021۔

 

Abul Bashar

Dept of Urdu, Aligarh Muslim University

Aligarh- 202001 (UP)

Mob.: 9358693234

babashar91@gmail.com

8/9/25

تابش مہدی تعبیر سے غزل خوانی نہیں جاتی تک، مضمون نگار: منور حسن کمال

 اردو دنیا، اپریل 2025


تابش مہدی ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے، وہ ایک طرف اپنی کلاسیکی اور جدیدیت آمیز نکھری شاعری کے سبب معروف تھے اور دور دراز یہاں تک کہ غیرممالک کے عالمی مشاعروں میں مدعو کیے جاتے تھے اور اپنے سادگی سے مترنم آواز سے مشاعروں کی فضا بدل دیتے تھے وہیں ایک عمدہ نثر نگار اور ناقد کے طور پر بھی اپنی خصوصی شناخت رکھتے تھے۔ پچاس سے زیادہ ان کی تصنیفات و تالیفات اس امر پر دال ہیں۔ شاعری کے طور پر تو وہ معروف تھے ہی، لیکن جب انھو ںنے جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی سے جامعہ کے تناظر میں ’اردو تنقید کا سفر‘ پر پرمغز مقالہ لکھ کر جامعہ سے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی تو ان کی تصنیف کے چہار دانگ عالم میں چرچے شروع ہوگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ تنقید کے میدان کے شہسوار بھی کہلانے لگے۔

اپنے چھوٹے چھوٹے اور سادہ جملوں سے انھوں نے نثرنگاری کے بھی وافر مقدار میں نمونے پیش کیے ہیں۔ وہ نہایت خلیق، نستعلیق، وضع دار اور ایک علم دوست انسان کے طور پر بھی امروہہ دیوبند اور دہلوی تہذیب کا ایک کامل نمونہ تھے۔ وہ اگر چہ 22 جنوری 2025 کی صبح اس دارفانی سے دار بقا کی طرف کوچ کرگئے لیکن اپنے پیچھے کثیر تصانیف کے ساتھ ساتھ شاگردوں کی ایک بڑی تعداد بھی چھوڑ گئے جس میں شاعری کے ساتھ نثرنگاری میں بھی انھوں نے اپنے ساتھیوں اور شاگردوں کی خوب رہ نمائی کی اور ان کا رشتہ قلم و کاغذ سے ایسا جوڑا کہ ان میں سے اکثر آج شہرت بلندیوں پر ہیں، لیکن ایسے شاگردوں کی تعداد کم ہی ہے جو انھیں اپنا نثری اور شاعری دونوں میدانوں میں ایک استاذ کے طور پر متعارف کراتے ہیں، ورنہ بہت بڑی تعداد ایسے شاعروں، نثرنگاروں اور ناقدوں کی ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ ہم ان سے صرف مشورہ لیتے تھے۔

راقم آج تک یہ بات سمجھنے سے خود کو کمزور پاتا ہے کہ کیا مشورہ لیے بغیر کسی سے کچھ سیکھا جاسکتا ہے؟ ان کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ اپنے خردوں کے مضامین اور غزلیں کہیں شائع دیکھتے تو انھیں خود کال کرتے اور اپنی جانب سے دعاؤں کے ساتھ نہایت خوشی کا اظہار کرتے اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے کہ مسلسل لکھتے رہیے اور مشقِ سخن جاری رکھیے، اس سے قلم رواں رہتا ہے۔ شاعری کے لیے ان کا کہنا تھا کہ اس میں استقلال آنا چاہیے اور چلتے پھرتے اپنے اشعار گنگناتے رہیے اور شاعری کو جزوقتی نہیں ہمہ وقتی اپنائیے، تبھی آپ شاعری میں کوئی نام پیدا کرسکیں گے۔ یہ باتیں انھوں نے راقم سے بھی ایک سے زیادہ مرتبہ کہی ہیں کہ شاعری کو مکمل وقت دیں اور اساتذہ کے کم ازکم ایک ہزار اشعار یاد رکھیں۔ ان کے انتقال سے نہ صرف ادبی دنیا میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے، بلکہ اردو دنیا ایک ہمہ جہت شاعر (نعت، غزل اور نظم) نثر نگار اور نقد کی دنیا کی بے مثال شخصیت سے بھی محروم ہوگئی ہے۔

تابش مہدی نے اپنے اساتذہ پر بہت کھل کر لکھا ہے اور ان کے احترام و عقیدت کے اپنی تحریرو ںمیں ایسے موتی بکھیرے ہیں،  جن سے ان کے علمی شعور اور فنی پختگی کا بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے۔  ان کے اساتذہ میں علامہ ہلالی علی آبادی، مولانا عمر عثمانی اور علامہ شہباز امروہوی نہایت باکمال، نامور اور فکر و فن کی دنیا میں باوقار اور اپنی شاعری اور نثرنگاری کے باوصف اعلیٰ مرتبہ پر فائز ہیں۔ اپنے اساتذہ سے متعلق تابش مہدی نے علامہ شہباز امروہوی کی سلطان سخن اور مجتہد فکر و فن سے تعبیر کیا ہے، وہیں مولانا عامر عثمانی کو اپنا علمی و فکری رہنما تسلیم کیا ہے۔

دیوبند میں مشہور ماہنامہ تجلی (مدیر اعلیٰ: مولانا عامر عثمانی اور پندرہ روزہ اجتماع دیوبند سے وابستگی کے دوران تابش مہدی: تابش عامری تھے، اس پر بعض حضرا ت کے اعتراض کے بعد انھوں نے اپنے نام ’مہدی حسن‘ سے ’مہدی‘ اخذ کرکے تابش مہدی لکھنا شروع کیا اور اس نام سے ہی وہ شہرت پائی جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں علامہ شہباز امروہوی اپنے ایک خط میں تابش مہدی کو لکھتے ہیں:

’’آپ اگر اپنے نام کے ساتھ ’عامری‘ لکھتے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی کو اس پر اعتراض کیوں ہے؟ لیکن آپ نے اپنا نام جو تابش مہدی لکھا ہے، وہ میرے نزدیک مہدی تابش زیادہ صحیح ہے، یعنی اصلی نام پہلے اور تخلص پیچھے۔‘‘ (ایضاً، ص 138)

شاید یہی وہ پہلی آخری بات ہے جس سے تابش مہدی نے علامہ شہباز امروہوی کی بات سے اختلاف کیا ہے، ورنہ پوری کتاب ’عرفان شہباز‘ میں جو تابش مہدی کے شہباز صاحب سے متعلق مختلف اوقات میں لکھے گئے مضامین کا مجموعہ ہے، کہیں کوئی بات ایسی نظر نہیں آئی کہ انھوں نے علامہ شہباز کی کسی بات سے یک سر مو بھی اختلاف کیا ہے۔ وہ ان کی بہت زیادہ قدر و منزلت کرتے تھے اور اکثر ملاقاتوں میں ان سے متعلق علمی و فنی موضوعات پر قصے بھی سناتے رہتے تھے، جو میرے خیال سے انھیں علامہ شہبااز سے محبت و مودت کے سبب ازبر تھے۔

جہاں تک تابش مہدی کے شعری رویوں اور ان کی ابتدائی شاعری سے متعلق بات ہے توانھوں نے اپنے ایک انٹرویو میںاس پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ لکھتے ہیں:

’’میں نے شاعری کب شروع کی؟ اس کی صحیح تاریخ تو مجھے نہیں معلوم۔ البتہ یہ بات مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں تیسری کلاس کا طالب علم تھا، بیت بازی کے بین المکاتب مقابلے میں میں نے شرکت کی۔ ایک بار جب کوئی شعر میرے ذہن میں نہیں آیا تو میں نے اپنی طرف سے جوڑ گانٹھ کر شعر بنا کر پیش کردیا تھا، جسے ججوں نے تسلیم کرلیا تھا۔ ان مقابلوں میں عام طور سے پڑھے لکھے اور سخن شناس اساتذہ اپنے اپنے اسکولوں کے طلبا کو لے کر شریک ہوگئے تھے۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ میرا وہ شعر شعریت اور شعر کی جملہ باریکیوں سے لیس نہ رہا ہو، لیکن یہ بات بہرحال ماننی پڑے گی کہ وہ شعر موزوں رہا ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں یہیں سے میری شاعری کی بنیاد پڑی۔‘‘

(تابش مہدی: پہچان اور پرکھ، ترتیب و تدوین: امتیازوحید، بالمشابہ، قاری عبدالعزیز اظہر، عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی، مطبوعہ 2015، ص 282)

تابش مہدی اعلیٰ ادبی اقدار کے شاعر تھے۔ ان کے مجموعہ کلام ’تعبیر‘ پر راقم نے ڈرتے اور جھجکتے ہوئے لکھاتھا۔ اگر ان کی غزلوں کا محاسبہ کیا جائے تو دوچار شعر بھی ایسے نہیں نکلیں گے کہ فنی اعتبار سے ان پر کوئی کلام کیا جاسکے۔ ’تعبیر‘ کے مطالعے کے دوران دو تین جگہو ںکی راقم نے نشاندہی کی، لیکن اس پر وہ چراغ پا ہونے کی بجائے خوش ہی ہوئے اور اس تبصرے کو اپنی کتابوں میں جگہ دی۔

دونوں شعر درج ذیل ہیں           ؎

جہاد کرنے چلا ہوں میں تیرے دشمن سے

مرے خدا مجھے ہارون جیسا بھائی دے

اتنا تم مجبور نہ سمجھو، ہم اتنے مجبور نہیں

جس دن میداں میں اتریں گے لاکھوں سر لے جائیں گے

پہلے شعر کے دوسرے مصرع میں ’ہارون‘ اور دوسرے شعر میں ’اتریں گے‘ توجہ طلب ہے۔ اب یہ تو علم عروض کے ماہرین  ہی بتائیں گے کہ یہ شکست ناروا کی کون سی قسم ہے۔ بظاہر کوئی ایسی خامی نہیں ہے جس پر انگشت نمائی کی جائے، چونکہ اس قسم کے سقم سے غالب و اقبال کی شاعری بھی مبرا نہیں ہے اور یہ بھی الگ بات ہے کہ اس سقم سے آج کی بڑی قدآور شخصیتیں بھی نہیں بچ پائی ہیں۔ راقم نے یہ بھی لکھا کہ چونکہ وہ میرے استاد ہیں اور یہ درس بھی انہی کا دیا ہوا ہے کہ ’کبھی کسی کی رعایت نہ کرنا چاہے میں ہی کیوں نہ ہوں‘ اس لیے میں نے تذکرہ کردیا تھا۔‘‘

(تابش مہدی: پہچان اور پرکھ، ص 119,120)

تعبیر ان کے شعری مجموعہ 1989 میں منظرعام پر آیا تھا۔ اس زمانے میں جگہ جگہ فسادات ہوتے تھے اور ان کا اثر علاقائی سطح پر اس دور کے معاشرے پر نظر آتے تھے۔ تو شاعر جو حالات کا نباض ہوتا ہے، اور اس سے بے خبر کیسے رہ سکتاتھا۔ تابش مہدی نے اس زمانے میں بڑے تاریخی، تہذیبی اور معاشرتی رنگ کے اشعار کہے تھے۔ چند اشعار ملاحظہ کریں          ؎

یہ بات تو تاریخ میں ملتی نہیں صاحب

تسبیح و مصلی تو ہے تلوار نہیں ہے

(تعبیر، ص 23)

مصلحت اندیشیِ ایام سے ہوکر الگ

جنگ کی خاطر تمھیں تیار ہونا چاہیے

(تعبیر، ص 61)

پیکر مصلحت ہے ہر ایک آدمی

کسی سے ملیے، کسے رہ نما کیجیے

(تعبیر، ص 26)

ہر آدمی اوڑھے ہے تقدس کا لبادہ

لگتا ہے یہاں کوئی گنہگار نہیں ہے

(تعبیر، ص 32)

تابش مہدی کا ایک مجموعہ کلام ’کنکر بولتے ہیں‘ ہے۔ غزل سے متعلق تابش مہدی کا نظریۂ فن اس طرح سامنے آتا ہے کہ اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے غزل کو نئی وسعتیں دینے کی سعی کی ہے۔ ’نقد غزل‘ جوان کی ایک اہم کتاب ہے، اس میں ایک جگہ رقم طراز ہیں:

’’غزل میں نئے اور نادر مضامین کی دریافت ایک دشوار کام ہے۔ غزل کے فارم میں دو چار شعر موزوں کرلینا بہت آسان ہے، لیکن کوئی نادر اور اچھوتا مضمون پیش کرکے قاری کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔‘‘ (نقد غزل، ص 38)

تابش مہدی کے ہاں بعض اشعار ایسے بھی ملتے ہیں جن سے ان کی فکری جولانیاں تو نمایاں ہوتی ہیں، ایک ہی قافیہ میں الگ الگ مضمون بھی پیش کیا ہے۔ ’کنکر بولتے ہیں‘ ان کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے، جس سے دو شعر یہاں نقل کیے جاتے ہیں اور دونوں کو بہ انداز دگر پڑھیں اور لطف لیں          ؎

چھین لی جس نے زندگی میری

وہ حقیقت میں میرا بھائی ہے

بھائی بھائی کو کیوں لڑاتے ہو

آخرکار بھائی، بھائی ہے

یہاں الطاف حسین حالی کے اس نظریے کی تائید ہوتی ہے کہ ’’شاعری ایک ہی چیز کی کبھی ایک حیثیت سے ترغیب دیتی ہے اور کبھی دوسری حیثیت سے اس سے نفرت دلاتی ہے، مگر کبھی وہ ان حیثیتوں کی تصریح نہیں کرتی، جن پر اس کے مختلف بیانات مبنی ہوتے ہیں۔‘‘ اب ایک مرتبہ پھر درج بالا اشعار پڑھیے تو لطف دوبالا ہوجائے گا۔ ساتھ ہی درج ذیل شعر بھی پڑھیں اور لفظ ’پڑوسی‘ کے کردار کا مشاہدہ کریں          ؎

پڑوسی کے بچے بلکتے رہے

پڑوسی کے گھر جشن ہوتا رہا

بہت سے ناقدین فن اس بات پر متفق ہیں کہ تابش مہدی  کی شاعری مقصدی شاعری ہے، جس نظریے کا علم انھوں نے بلند کیا ہے اس کے بلا تامل اظہار بھی کیا ہے۔ تابش مہدی فن کی جن بلندیوں پر پہنچے ہیں اس میں ان کے اساتذہ کا دخل تو ہے ہی، جس کا انھوں نے برملا اظہار بھی کیا ہے (گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے) لیکن اسے رب کریم کا خصوصی فیضان بھی کہا جائے تو کوئی غلط بات نہ ہوگی۔

رباعیات کے اپنے عہد کے ایک بڑے شاعر ناوک حمزہ پوری کے مطابق ’’تابش مہدی حساس دل اور بیدار مغز لے کر پیدا ہوئے ہیں۔ اپنے شاندار ماضی پر ان کی گہری نظر ہے۔ حال پر ان کی کڑی نگاہ ہے، ان کا مطالعہ وسیع اور مشاہدہ گہرا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے سینے میں ایک دردمند دل ہے۔‘‘

(تابش مہدی: پہچان اور پرکھ، ص 86)

اس حوالے سے جب تابش مہدی کی شاعری کا جائزہ لیتے ہیں تو ا س طرح کے اشعار ذہن و دل کو سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں           ؎

مری نظر میں ادب ہی نہیں وہ اے تابش

جو میری قوم کے بچوں کو بے حیائی دے

اے رئیسِ محلہ خبر ہے تجھے

کس لیے تیرا ہم سایہ مغموم ہے

خوشبوئیں گھر سے باہر نکلنے نہ دو

ہر نظر اس گلی کی ہوس ناک ہے

ادب نوازوں نے نظیراکبرآبادی کی مشہور نظم ’آدمی نامہ‘ ضرور پڑھی ہوگی اور آدمی کے مختلف رنگ و روپ کا مطالعہ کیا ہوگا۔ نظیر اکبرآبادی کی اپنی سوچ و فکر ہے اور انھوں نے اپنے انداز میں آدمی کی شخصیت کا نقشہ کھینچا ہے        ؎

دنیا میں بادشہ ہے سو ہے وہ بھی آدمی

اور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

زردار و بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

نعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی

ٹکڑے جو مانگتا ہے سو ہے وہ  بھی آدمی

اور تابش مہدی نے آدمی، آدمیت اورانسان کے جوہر اصلی کی طرف اپنے مفکرانہ لہجے میں گفتگو کی ہے، بلکہ درج ذیل اشعار میں آپ دیکھیں گے کہ آخری دو شعر ’نعت رنگ‘ ہیں  ۔

پہلے یہ شعر دیکھیں            ؎

آدمی تم بھی ہو اور ہم بھی مگر

آدمیت سے ہر شخص محروم ہے

آدمی، آدمی ہیں برابر مگر

سوچتا ہی نہیں یہ کوئی آدمی

اور یہ نعت رنگ دیکھیں            ؎

آدمی کو آدمیت سے شناسا کردیا

اللہ اللہ وہ بھی تھا کس درجہ اچھا آدمی

آدمی کے کارناموں کو بھلا سکتا ہے کون

کر گیا روشن جہاں کو ایک تنہا آدمی

ڈاکٹر عبادت بریلوی نے کہا تھا  :

’’غزل کی رفتار زمانے سے ہم آہنگی، بدلتے ہوئے رجحانات کی ترجمانی، معاشی و معاشرتی حالات کی عکاسی اور غور و فکر کی آئینہ دار اس حقیقت پر دلالت کرتی ہے کہ غزل میں باوجود محدود ہونے کے ایک وسعت ہے اور ہر حال میں بدلتے ہوئے حالات سے مطابقت اور مناسبت پیدا کرسکتی ہے۔‘‘

(ڈاکٹر عبادت بریلوی: غزل اور مطالعہ غزل، ص 254)

تابش مہدی کے ہاں غزل کے یہ بدلتے ہوئے رجحانات بڑی شدت سے محسو س کیے جاسکتے ہیں ۔ اس لیے وہ کہتے ہیں          ؎

اک کارزارِ جہد مسلسل ہے زندگی

سرسوں ہتھیلیوں پہ جماتا نہیں کوئی

نہایت مختصر ہے زندگانی

نہایت مختصر سامان رکھیے

تابش مہدی کا ایک مجموعہ کلام ’غزل نامہ‘ ہے، جس میں غزل کا حسن تجسیم ہر شعر میں اپنے جلوے بکھیرتا ہے اور کندن بدن نظر آتا ہے۔ غزل کی تاریخ، اس کی ارتقائی شکلیں اور تدریجی جہانِ معنی دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ غزل نامہ میں حسنِ ترتیب اپنے پورے شباب پر ہے۔ اس کی تمام غزلوں میں ایک ایسی روحانی فضا نظر آتی ہے ،جو اپنے جلو میں ایک عجیب سا سرور بخش اور پاکیزہ تخیل رکھتی ہے۔ اس میں مذہبی اقدار کی تجدید بھی نظر آتی ہے اور ایک حد تک تحدید بھی۔ غزل کی ماہیت اور فکری معنویت اپنی پوری جلوہ سامانیوں کے باوصف نمایاں ہے۔ ساتھ ہی فکری اور نظری احتیاط کا دامن بھی انھوں نے نہیں چھوڑا ہے۔ ہمارے سرمایۂ غزل میں اس طرح کی شاعری نایاب نہ سہی کم یاب ضرور ہے۔ درج ذیل اشعار میرے خیال کی تصویب ضرور کریں گے        ؎

سوزِ غم حیات ہماری غزل میں ہے

اک روحِ کائنات ہماری غزل میں ہے

جس پہ تیری روایت نہیں منکشف

وہ نہ شاعر، نہ فنکار ہے اے غزل

بقراط و جالینوس بھی موجود ہیں یہاں

روحِ جنید و شبلی و حسان غزل میں

تیرے اک اک شعر میں ہے فلسفہ

تیرا لہجہ کائناتی ہے غزل

غزل سے بدگمانی توبہ توبہ

روایت غیرفانی ہے غزل کی

غزل کے یہ محض حوالے نہیں ہیں، بلکہ اس کے کائناتی اور بنیادی ستون ہیں، جن کے ادبی تناظر اپنی انتہاؤں کو چھوٹے نظر آتے ہیں۔ غزل کے مزاج آشنا یہ  بات بڑی اچھی طرح جانتے ہیں کہ غزل ندرتِ خیال، لطافتِ بیان اور نزاکتِ ہنر کا جیتا جاگتا ایسا شاہکار ہے جہاں اشتہاریت ممنوع ہے، اس لیے کہ جہاں اس میں اشتہاریت پیدا ہوئی، وہیں وہ ابتذال کی کسی نہ کسی حد کی پابندی سے گریزاں ہوجاتی ہے اور اپنے فطری دائرہ کار سے باہر ہوجاتی ہے       ؎

تیری تصویر ہے مستقل سامنے

تیرے پیکر پہ میری نظر ہے غزل

تابش مہدی کا آخری مجموعہ کلام ’غزل خوانی نہیں جاتی‘ ہے۔ یہ شعری مجموعہ ان کے سفرِ غزل کا چھٹا پڑاؤ ہے۔ ان کے شاعری کے پچاس سالہ تجربات و مشاہدات کا عکس بھی اس میں نمایاں ہے۔ اس میں اگر ایک طرف اگر زلف و رخ کے قصیدے اپنے خصوصی پیکر میں نظر آتے ہیں تو وہیں ان کے اشعار کی روحانی فضائیں بھی خوشگوار جھونکو ںکی طرح دھنشی رنگ میں نظر آتی ہیں۔  قندیل حسن بدر نے بڑا خوب صورت شعر کہا ہے      ؎

کورے کاغذ پہ بھی کاڑھے ہیں شجر، پھول، ثمر

شعر کہنا ہے تو کچھ ذائقہ کچھ ڈھنگ تراش

اس شعر کی روشنی میں ’غزل خوانی نہیں جاتی‘ کے چند اشعار نذر قارئین کرکے اپنی بات ختم کرتا ہوں         ؎

جب مجھ پہ عدو نے کی یلغار کبھی جاناں

تیری ہی محبت کو تلوار کیا ہے میںنے

جانِ حیات! نشانِ غزل! حسن آرزو!

دیکھا تجھے تو مجھ کو ثبوتِ خدا ملا

اک تصادم مستقل رہتا ہے حسن و عشق میں

آپ بیتی لب پہ لانے سے بھی شرماتا ہوں میں

غزل کا حسن ہی دار و مدار ہے لیکن

نظر نہ آیا کوئی آج تک غزل کی طرح

ملی اک پارسا کی جب سے صحبت

یہ دامن پاک ہوتا جارہا ہے

تابش مہدی اپنی فطری ذہانت اور ذکاوت کے باوصف اپنے عہد کے شاعروں میں ممتاز و ممیز رہے ہیں اور رہیں گے بلکہ جب ان کی غزلیہ شاعری کا باریک بینی اور ژرف نگاہی کے ساتھ مزید گہرائی سے مطالعہ کیا جائے گا تو گنجینۂ معانی کے کئی طلسمی دروازے کھلیں گے اور نئے اکتشافات سامنے آئیں گے۔ انھوں نے کہا تھا          ؎

فلک کے اوج پہ یا تم زمین پر رہنا

جہاں بھی رہنا مقام اپنا دیکھ کر رہنا

 

Dr. Munawwar Hasan Kamal

N-93, Fourth Floor, Abul Fazal Enclave

Jamia Nagar, New Delhi - 110025

Mob.: 9873819521

Email.: mh2kamal@gmail.com

 

جن کتابوں نے مجھے متاثر کیا، مضمون نگار: رفیع الدین ناصر

 اردو دنیا، اپریل 2025

کتابیں انسانی ذہن پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ دل و دماغ کو متاثر کرتی ہیں۔ ادب کی مختلف اصناف نے انسانی سوچ میں کافی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ تخیلی ادب نے اردو قاری کو بہترین زبان و بیان سے روشناس کرایا۔ مختلف حالات و واقعات کو کہانیوں، افسانوں ، ناولوں، نظموں و غزلوں کی شکل میں قاری کو واقف کرایا وہیں ادب نے حقائق کو قاری کے سامنے پیش کر کے حالات حاضرہ کے چڑھاؤ اُتار سے واقف کرایا۔ ان حقائق میں ہمارے ماحول میں ہونے والی تبدیلیاں، ہماری صحت پر اثرات، اس کے تحفظ کے اقدامات اور بہترین زندگی جینے کے طریقے قاری کو بتلائے۔ چونکہ اردو ادب کا دامن بہت وسیع ہے اور اردو قلمکاروں نے تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کر کے اردو قاری کو جینے کے طریقے بتلائے۔ اردو ادب میں سائنسی ادیبوں کی ان خدمات کی جتنی پذیرائی کی جائے کم ہے۔ اگر ہم صحتمند رہیں گے تب ہی تو ہم زندگی کے دیگر امور صحیح طریقے سے انجام دے سکتے ہیں۔ اپنی زبان و بیان کی صحیح خدمت کرسکتے ہیں۔ بہترین غزلیں، بہترین افسانے، بہترین ناول لکھ سکتے ہیں اور سائنس کی ان جدید ایجادوں کی مدد سے دنیا کے کونے کونے میں آسانی سے پہنچا سکتے ہیں۔ یہ سائنسی علوم ہی ہیں جن سے انسانوں کو بہترین زندگی گزارنے کے گر آئے۔ اس لیے اردو قاری کو سائنسی علوم سے واقف ہونا ضروری ہے۔ اسی بات کو مدنظر رکھ کر ملک کے نامور ماہرین سائنس نے اردو زبان میں جدید سائنسی تحقیقات کے ساتھ حفظان صحت اور دیگر سائنسی علوم کو اردو زبان میں پیش کیا تاکہ اردو قاری ان جدید سائنسی علوم سے واقف ہوکر صحت مند زندگی گزارے اور جدید دور میں ملک و قوم کی ترقی میں اپنا تعاون پیش کرے۔

اگر ہم اردو سائنسی ادب پر نظر ڈالیں تو اس میں ہمیں صوبۂ مہاراشٹر کا گراں قدر تعاون نظر آتا ہے۔ اسی لیے آج کا ہمارا مطمح نظر مہاراشٹر میں چھپی بے شمار اردو سائنسی کتابوں میں سے وہ کتابیں ہیں جنھوں نے ہم کو متاثر کیا۔

ریاست مہاراشٹر مراٹھواڑہ ، ودربھ، خاندیش، کوکن اور ممبئی ڈویژن پر مشتمل ہے۔ مراٹھواڑہ آزادی سے قبل نظام کے زیرتسلط رہا، اس لیے یہاں پر اردو کی آبیاری بہت معیاری ہوئی۔ آج بھی مراٹھواڑہ کے تمام اضلاع میں نہ صرف اردو اسکولوں کی کثیر تعداد موجود ہے بلکہ اردو میڈیم کے جونیئر کالج بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ جن سے ہر سال کئی طلبا کامیاب ہوکر میڈیکل ، انجینئرنگ اور دیگر کورسیس میں داخلہ لے کر اعلیٰ درجوں میں کامیابیاں حاصل کر کے معیاری زندگی گزار رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں پر تخلیق کیا جانے والا ادب بہت احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ مراٹھواڑہ کے سائنسی ماہرین نے اردو قاری کو اپنے رشحات قلم سے زندگی سے جڑے تمام سائنسی علوم سے واقف کرایا اور اردو دنیا کے قاری کو بہت متاثر کیا۔

سائنسی قلمکار کی حیثیت سے مراٹھواڑہ میں دورحاضر میں بہت احترام سے لیا جانے والا نام کیپٹن ڈاکٹر ایم ایم شیخ کا ہے جو مولاناآزاد کالج اورنگ آباد کے سابق صدر شعبہ حیوانات اور سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر رفیق زکریا سینٹر فار ہائر لرننگ رہ چکے ہیں۔ آپ نے علاقے کے تمام سائنسی و ادبی قلمکاروں کی بھرپور رہنمائی کی ہے اور یہ فیض ابھی بھی جاری ہے۔ اسی میں سے ایک راقم الحروف بھی ہے۔ آپ نے آل انڈیا ریڈیو اورنگ آباد کے توسط سے انتہائی اعلیٰ معلومات بہم پہنچائی جن کو سن کر سامعین متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ ان ریڈیو تقاریر کو انھوں نے جب کتابی شکل میں شائع کیا تو اس نے نہ صرف اردو قاری کو متاثر کیا بلکہ آنے والی نسلوں کے یہاں رہبری کا کام انجام دیا۔ آپ کی سب سے پہلی کتاب ’سائنسی شعاعیں‘ ہے جو مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی ممبئی کے مالی تعاون سے 2001میں منظرعام پر آئی۔ اس کے پیش لفظ میں پروفیسر مجید بیدار رقمطراز ہیں کہ ’’سائنسی شعاعیں کوئی مربوط کتاب نہیں بلکہ کیپٹن ڈاکٹر ایم ایم شیخ کے لکھے ہوئے ایسے مضامین کا مجموعہ ہے جو وقت بہ وقت مختلف موضوعات کو پیش نظر رکھ کر لکھے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں تنوع پیدا ہوگیا ہے۔‘‘ کتاب ’سائنسی شعاعیں‘ میں مصنف کیپٹن ڈاکٹر ایم ایم شیخ نے کل 22مضامین کو پیش کیا۔ ہر ایک مضمون معلومات سے پُر ہے۔ تمام مضامین اچھوتے اور آج کے اس جدید دور میں بھی معلومات کا خزانہ معلوم ہوتے ہیں۔ آج بھی جب کتاب کا مطالعہ ہوتا ہے تو پڑھنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس میں موجود چند اہم عناوین ہیں : کروموزومس یا مجرمین، جانوروں میں چند دلچسپ حقائق ، پرندوں میں سیلانی کیفیت، پرندوں کی اجتماعی خودکشی، کیا جانور بھی باتیں کرتے ہیں وغیرہ۔ اس کتاب کے بعد کیپٹن ڈاکٹر ایم ایم شیخ کی دوسری کتاب ’ریشم سازی‘ 2016میں منظرعام پر آئی۔ اس کتاب میں فاضل مصنف نے ریشم کی صنعت کی تکنیکی معلومات آسان زبان میں بہم پہنچائی۔ مصنف نے مختلف تصاویر کی مدد سے ریشم کے کپڑے کے دورحیات سے لے کر اس صنعت سے حاصل ہونے والی تمام مصنوعات کو سمجھایا۔ ہم ریشم کے استعمال کو صرف کپڑے کی صنعت تک ہی محدود رکھتے ہیں جبکہ ریشم کے دھاگے کا استعمال  پیراشوٹ، رسیاں، کارتوس کے بیگ ، ٹیلی فون انڈسٹری میں وافر مقدار میں کیا جاتا ہے۔ اس کتاب کے منظرعام پر آتے ہی کشمیر اور بنگلور کے سینٹرل سلک بورڈ نے کثیر مقدار میں کتابیں خرید لیں اور کئی نوجوانوں نے کامیابی سے ریشم سازی کو شروع کیا اور دوسروں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوئے۔ کتاب ’قرآن اور تخلیق انسانی‘ ڈاکٹر کیپٹن ایم ایم شیخ کی تیسری شاہکار تصنیف ہے۔ جس میں فاضل مصنف نے26عناوین کے تحت اس موضوع پر علمی اور سائنسی معلومات فراہم کی ہیں۔ انسانی علم جنینیات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ساتھ ہی حضرت آدمؑ ، حضرت حواؑ اور حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش کو مختصراً بتلایا۔ اس کتاب میں قدرے تفصیل سے انسانی جسم کے مطالعے کو بیان کیا۔ قرآن کریم کا استدلال اور تخلیق انسانی سے بحث کی گئی ہے اور اس ضمن میں قرآن کریم کا سائنسی اعجاز سائنسدانوں کی نظر میں مورئیس بوکاٹے، ڈاکٹر کیتھ مور، ڈاکٹر عبدالمجید زندانی کے بیانات کو لکھا گیا ہے۔ پوری کتاب معلومات کا خزانہ ہے جس کو پڑھنے کے بعد ذہن متاثر ہوتا ہے۔

 شہر اورنگ آباد کی قلمکار محترمہ رفعت النسا نے اردو قاری کے لیے سائنسی کتابیں تحریر کیں۔ ان کی کتاب ’ماحول اور قابل بقا ترقی‘ عام اردو قاری کو ماحول کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ترقی کے گُر بتلاتی ہے۔ کتاب ماحول اس کے تحفظ اور قابل بقا ترقی کے تعلق سے مختلف معلوماتی مضامین کا احاطہ کرتی ہے جو قاری کو متاثر کرتے ہیں۔ محترمہ شائستہ محمدی نے اردو قاری کے لیے عام معلومات پر مبنی کتاب ’نباتی سائنس‘ شائع کر کے نہ صرف طلبا بلکہ عام اردو قاری کو نباتات کے فوائد سے واقف کرایا جو اردو قاری کے ذہنوں کو متاثر کرتی ہے۔ اسی شہر کے نوجوان قلمکار جو اردو زبان کے اُستاد ہیں انھوں نے علم ماحول جیسے موضوع پر خامہ فرسائی کر کے مختلف اکیڈمیوں کے اعزاز حاصل کیے بلکہ عام اردو قاری کے ذہنوں کو متاثر کر کے انھیں ماحول کی اہمیت سے انتہائی سادہ زبان میں واقف کرایا۔ شہر اورنگ آباد کے قلمکاروں نے اردو زبان میں سائنسی معلومات فراہم کر کے گویا اردو زبان کا حق ادا کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے کا ایک اور معتبر نام پروفیسر خواجہ عبدالنعیم ہے جنھوں نے ’مسالہ جات‘ جیسی کتاب تحریر کر کے اردو قاری کو مختلف مسالوں کی اہمیت سے واقف کرایا۔ مسالوں کی کاشت کے طریقے بتلائے۔ ہر ایک مسالے کے درخت کو رنگین تصویر کی مدد سے پیش کیا جس سے کتاب کی اہمیت میں بہت اضافہ ہوا ۔ جس نے اردو قاری کو بہت متاثر کیا۔

مراٹھواڑہ کے دیگر اضلاع کے قلمکاروں نے بھی سائنس کے توسط سے اردو کی آبیاری کی کامیاب کوشش کی۔ اس سلسلے میں ناندیڑ سے تعلق رکھنے والے جناب سید اختر علی کا نام اردو سائنسی دنیا میں بہت احترام سے لیا جاتا ہے۔ آپ درس و تدریس سے وابستہ رہے اور اب مکمل طور سے سائنس کے توسط سے اردو کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ اب تک آپ کی بچوں اور بڑوں کی کل دس سے زائد سائنسی کتابیں منظرعام پر آکر پذیرائی حاصل کرچکی ہیں۔ حال ہی میں آپ کی شائع شدہ کتاب ’رومن اعداد‘ معلومات کا خزانہ ہے جس میں ابتدا سے آج تک رومن اعداد کی تاریخ ان کا استعمال اور موجودہ دور میں ان کے استعمال پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ اس کو پڑھ کر قاری سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ رومن اعداد کا استعمال اس طرح بھی کیا جاسکتا ہے۔ بچوں کے لیے آپ کی آٹھ سے زائد سائنسی کتابیں شائع ہوئی ہیں جو مختلف سائنسی ایجادیں، سائنسی سمجھ ، فہم ، ادراک اور معلومات کا احاطہ کرتی ہیں۔ اس کے مطالعے کے بعد بچے اور بڑے دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ جناب سید اختر علی پابندی سے اردو زبان میں انتہائی معیاری اور معلوماتی مضامین شائع کرتے رہتے ہیں جس کو پڑھ کر اردو قاری کا ذہن بہت متاثر ہوتا ہے۔ اسی طرح ضلع پربھنی سے تعلق رکھنے والے جناب عزیزاحمدہاشمی بھی پابندی سے سائنسی مضامین منظرعام پر لاتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں ان کی کتاب ’سائنسی کوئز‘ منظرعام پر عام ہوئی۔ یہ کتاب سائنس کے مختلف علوم کا احاطہ سوال و جواب کی شکل میں کرتی ہے۔ اس سے بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کو بھی سائنس کی بنیادی معلومات سے آگہی ہوتی ہے جو ایک متاثر کن بات ہے۔

مہاراشٹر کی سائنسی نسائی قلمکاروں میں شاہ تاج خان صاحبہ (پونا) کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔ آپ بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے سائنسی مضامین پابندی سے لکھتی رہتی ہیں۔ حال میں آپ کی کتاب ’پکنک‘ منظرعام پر آکر دادوتحسین حاصل کرچکی ہے۔ ’پکنک‘ دراصل سائنسی کہانیوں کا مجموعہ ہے جن میں فاضل مصنفہ نے ادبِ اطفال کو سائنسی حوالوں سے بہت خوبصورت انداز میں پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب قاری کو متاثر کرتی ہے۔ اس کی قدردانی ملک کی مختلف اکیڈمیوں نے کی اور انھیں اعزازات سے نوازا۔

ممبئی اور اس کے اطراف و اکناف کے سائنسی قلمکاروں نے بھی سائنس کے توسط سے اردو کی بہت خدمت کی۔ پروفیسر سیداقبال نے مقامی روزنامہ کے لیے ’سائنس اور سماج‘ کے عنوان سے مسلسل مضامین لکھے ، اِن مضامین میں سے کل 50چنندہ مضامین کا انتخاب کر کے جناب سید خالد نے کتابی شکل میں شائع کیا۔ کتاب سماج اور اس سے جڑے سائنسی مفروضوں کا ہلکے پھلکے انداز میں احاطہ کرتی ہے۔ ہر مضمون اپنی جگہ مکمل ، دلچسپ اور معلومات سے پُر ہے جس کو پڑھ کر قاری بہت متاثر ہوتا ہے۔ ممبئی سے قریب بھیونڈی کو اردو کا گڑھ مانا جاتا ہے یہاں کے قلمکاروں نے اردو ادب کے ساتھ ساتھ سائنس کی بھی خاطرخواہ خدمت کی ہے۔ یہاں کی بہت مشہور شخصیت ڈاکٹر ریحان انصاری (مرحوم) جو سائنسی سرگرمی میں پیش پیش رہتے تھے اُن کی کتاب ’شعورصحت‘ منظرعام پر آکر بہت پذیرائی حاصل کرچکی ہے۔ ڈاکٹر ریحان انصاری چونکہ پیشے سے ڈاکٹر تھے اس لیے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کو انھوں نے اردو قاری کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے اپنی تحریروں کے ذریعے بھرپور کوشش کی۔ 33مختلف عناوین پر مشتمل اس کتاب میں ڈاکٹرریحان انصاری نے انسانی صحت سے جڑے کئی مسائل اور اُن کے تدارک کو انتہائی سادہ زبان میں اردو قاری کے لیے پیش کیا ۔ جابہ جا مناسب اور صاف ستھری تصاویر کے اضافے کی وجہ سے اس کتاب کی اہمیت میں بہت اضافہ ہوا۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد اردو قاری یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اردو زبان میں بھی اس معیار کا معلوماتی مواد دستیاب ہے جو ایک متاثرکن بات ہے۔ اسی شہر کے ایک اور مصنف ہیں جناب عبدالملک مومن جو سائنس کے معلم رہ چکے ہیں اور سائنس کے متعلق خامہ فرسائی کرتے رہتے ہیں۔ ان کی کتاب ’پانی اور ہمارا ماحول‘ بچوں اور بڑوں دونوں میں یکساں مقبول ہوئی۔ کیونکہ اس کتاب میں عبدالملک مومن صاحب نے 18چھوٹے چھوٹے مضامین کے توسط سے پانی اور اس سے وابستہ ہماری زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ زبان سادہ ہونے سے قاری کو متاثر کرتی ہے۔ بہترین تصاویر کی پیشکشی سے بچوں کے ذہنوں پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں جس سے پانی کے تحفظ کے تعلق سے انسان سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ بھیونڈی سے کچھ دور موجود شولاپور کے نوجوان مصنف جناب جنیدعبدالقیوم شیخ نے بچوں کے لیے سائنسی کتابیں لکھ کر اپنے علاقے میں ایک نیا رجحان پیدا کیا۔ ان کی کتابوں میں سے ایک کتاب ’انسانی جسم کے اہم اندرونی اعضا‘ انسانی جسم کی معلومات کا خزانہ ہے۔ مصنف نے مختلف تصاویر کی مدد سے انسانی جسم کے اندرونی اعضا کی ساخت ، افعال اور بہترین کارکردگی کے نسخے بہترین انداز میں سمجھائے ، جس کو پڑھ کر انسان سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارا جسم کس طریقے سے بنایا ہے۔ شیخ جنید کی دوسری کتاب ’مسلم سائنس دانوں کی خدمات‘ اردو قاری کو سائنس دانوں کے تعلق سے معلومات فراہم کرتی ہے۔ خالصتاً بچوں کے لیے جناب شیخ جنید نے منرولیف کی تحریر کردہ کتاب کو اردو قالب میں بعنوان ’سائنس برائے لطف‘ پیش کر کے سائنسی ادبِ اطفال میں اپنا مقام پیدا کرلیا۔ اس میں موجود چھوٹی چھوٹی قلمی تصویریں بچوں کو سائنسی گتھیاں سمجھنے میں آسانی پیدا کرتی ہیں۔

مہاراشٹر کا دوسرا اہم زرخیز اردو سائنسی قلمکاروں کا علاقہ ناگپور ہے۔ ناگپور اور اس سے متصل کامٹی کے اردو سائنسی قلمکاروں نے سائنسی دنیا میں گراں قدر اضافہ کیا ہے۔ چونکہ اس خطے میں اردو اسکول اور جونیئر کالجس کافی تعداد میں ہیں اس لیے یہاں پر اردو قاری کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ ان کی سائنسی معلومات میں اضافے کی خاطر یہاں کے سائنسی قلمکاروں نے بہت محنت کی۔ اس میں سب سے پہلا نام  ڈاکٹر محمد رفیق اے ایس کا ہے۔ جنھوں نے سائنس کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے خامہ فرسائی کر کے کثیر تعداد میں کتابیں شائع کیں۔ ان کی حال ہی میں شائع شدہ کتاب ’مچھر سے لاحق بیماریاں‘ معلومات سے پُر کتاب ہے جس میں ڈاکٹررفیق نے ملیریا، ڈینگو اور چکن گنیا جیسی بیماریوں کی نہ صرف تفصیلات پیش کیں بلکہ ان سے حفاظت کے طریقے بھی بتلائے۔ 350 صفحات پر مشتمل یہ کتاب مختلف تصاویر سے پُر ہے جس کی وجہ سے قاری کو متن سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس میں ڈاکٹری اصطلاحات کو آسان زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قاری جب اس کا مطالعہ کرتا ہے تو اُسے دلچسپی پیدا ہوتی ہے اور وہ پوری کتاب مکمل کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھ سکتا۔ ویسے تو ڈاکٹررفیق اے ایس کی اب تک 20 سے زائد سائنسی کتابیں منظرعام پر آکر شہرت حاصل کرچکی ہیں۔ کچھ کتابوں کے تو کئی ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی نے ان کی اب تک پانچ کتابیں شائع کیں جس کے کئی ایڈیشن چھپ چکے ہیں ، جن میں بطورِخاص پیٹ کے کیڑے، منشیات، ماحولیات ایک مطالعہ، ہمارا ماحول قابل ذکر ہیں۔ ڈاکٹر رفیق نے ماحول کے تعلق سے کئی کتابیں شائع کیں اور اردو قاری کو اپنے اطراف کے ماحول سے واقف کرایا نیز اس کے تحفظ کے گر بتلائے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی مختلف اکیڈمیوں نے انھیں اعزاز سے نوازا۔ اسی وجہ سے ناگپور سے شائع ہونے والے رسالہ ’الفاظ ہند‘ کے مدیر جناب ریحان کوثر نے ڈاکٹر رفیق پر مارچ۔اپریل 2023 کا خصوصی شمارہ شائع کیا۔ یہ خصوصی شمارہ ڈاکٹر رفیق کی اردو سائنسی خدمات کا اعتراف ہے۔ ناگپور کی ہی ایک دوسری اہم شخصیت ڈاکٹر محمد ابوالکلام ہے جنھوں نے بچوں کے لیے اب تک چھ سائنسی کتابیں تحریر کیں ۔ یہ کتابیں کہانیوں اور ناولوں کی شکل میں موجود ہیں۔ اُن کا ماحولیات کے موضوع پر بچوں کا تحریرکردہ ناول ’غبار‘ منظرعام پر آکر نہ صرف بچوں کے لیے بلکہ بڑوں کے دلوں میں بھی اپنی جگہ بنا چکا ہے۔ اس ناول میں مصنف نے ناگپور کے براہِ راست آلودگی سے متاثر ہونے والے علاقوں کا تذکرہ کیا جس کو فاضل مصنف نے دلچسپ اور تجسس سے پُر انداز میں کہانی کی شکل میں پیش کر کے اردو قاری کو بہت متاثر کیا۔ ان کی دیگر کتابیں بھی اسی طرح دلچسپی اور تجسس سے پُر ہے۔ کامٹی سے تعلق رکھنے والے مرحوم ڈاکٹرجاویداحمد نے اپنی حیات میں اردو زبان میں سائنسی مواد فراہم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ ان کی کتاب ’سائنس ہمارے آس پاس‘ مختلف سائنسی مضامین کا مرقع ہے جس میں ڈاکٹرجاوید نے 27 مختلف عناوین کے تحت قاری کی جدید تحقیقات اور نئی نئی سائنسی باتوں سے واقف کرایا۔ یہ مضمون تجسس سے پُر اور معلومات کا خزانہ ہے جو اردو قاری کو متاثر کرتا ہے۔ اس میں موجود تصاویر قاری کو سائنسی مفروضے سمجھنے میں آسانی پیدا کرتی ہیں۔

سائنس دراصل ایسا وسیع سمندر ہے جو معلومات سے پُر ہے۔ ان معلومات کا تعلق براہِ راست ہماری زندگی اور ہماری صحت سے ہے اس لیے یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ قدرت میں پنہاں رازوں کو ہم جانیں، سمجھیں اور اُن پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ مہاراشٹر کے کئی سائنسی قلمکاروں نے ان معلومات کو اردو قاری تک پہنچانے کے لیے اپنی بساط بھر کوشش کی۔ ان تمام کا احاطہ ان صفحات میں کرنا ممکن نہیں۔ لیکن جن کتابوں نے بہت متاثر کیا اُن کا تذکرہ ضروری تھا تاکہ اردو قارئین بھی مہاراشٹر کی اردو سائنسی خدمات کو جانیں اور جن کتابوں کا تذکرہ کیا گیا ہے اُس کو حاصل کریں اور اپنے اور اپنی نسلوں تک ان معلومات کو پہنچائیں تاکہ ہم ملک کی ترقی میں قدم سے قدم ملاکر چل سکیں۔

 

Dr. Rafiuddin Naser 

(National Awardee Teacher)

Head Department at Botany,

Maulana Azad College  of Arts

Science and Commerce

Dr. Rafiq Zakaria Campus,  Rauza Bagh, Aurangabad-431001 (MS)

Mobile : 9422211634

Emial : rafiuddinnaser@rediffmail.com

 

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...