سوشل میڈیا اور اردو افسانہ مضمون نگار: محمد علیم اسماعیل



سوشل میڈیا اور اردو افسانہ

محمد علیم اسماعیل
اردو افسانے کی ترویج و ترقی میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ سوشل میڈیا پر اردو افسانے کی اشاعت بڑی تیز رفتاری سے ہو رہی ہے۔افسانہ عہد حاضر کی سب سے مقبول صنف بن گیا ہے۔ آج جتنا افسانہ لکھا جا رہا ہے اور پڑھا جا رہا شاید ہی کوئی دوسری صنف اتنی لکھی اور پڑھی جا رہی ہو۔دوسری اصناف ادب کے مقابلے میں افسانے کی عمر بہت کم ہے۔ اس صنف کا باقاعدہ آغاز بیسویں صدی سے ہوا۔ اردو کے اولین افسانہ نگاروں میں پریم چند کا نام سب سے اہم ہے۔ ان کا پہلا افسانہ ’دنیا کا سب سے انمول رتن‘ 1908میں رسالہ ’زمانہ‘ کانپور سے شائع ہوا تھا۔ جس طرح اُردو ادب میں افسانے نے بڑی تیزی سے ترقی کی ہے ٹھیک اسی رفتار سے انٹرنیٹ پر بھی اپنی جگہ بنائی ہے۔جس میں فیس بک، واٹس ایپ، یوٹیوب، ایپس اور مختلف ویب سائٹس قابل ذکر ہیں۔
فیس بک اور اردو افسانہ
فیس بک ایک آن لائن امریکی ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطہ کی کمپنی ہے۔ اس کی ویب سائٹ کو 4 فروری 2004 کو مارک زوکربرگ نے اپنے ہاورڈ یونیورسٹی کے ساتھیوں ادوارڈو سورین، اینڈریو میکولم، دوسٹن ماسکوفٹ اور کرس ہیوزس کے ساتھ مل کر لانچ کیا تھا۔ عہد حاضر میں سوشل میڈیا کے مختلف وسیلوں میں سے فیس بک ایک اہم وسیلہ ہے جس پر افسانے کی بڑی دھوم ہے۔ یہاں افسانے کی مقبولیت آسمان چھورہی ہے۔ افسانوی میلے لگ رہے ہیں اور افسانہ نگاروں کی ایک بڑی تعداد اس سے فیض یاب ہو رہی ہے۔ویسے تو فیس بک پر بہت سے گروپس موجود ہیں جو افسانے کی ترویج و ترقی میں دن رات کوشاں ہیں لیکن ان سب میں نمایاں گروپ جو آج ہمیں نظر آتا ہے وہ ’عالمی افسانہ فورم‘ ہے۔ عالمی افسانہ فورم ایک تنقیدی فورم ہے۔افسانے کی ترویج و اشاعت کرنا، افسانہ نگاروں کو عالمی سطح پر ایک دوسرے سے اور عام قارئین سے متعارف کرانا، افسانوں پر تنقید، تجزیے اور تبصرے کرنا، سینئر افسانہ نگاروں کے ساتھ نئے افسانہ نگاروں کی بھی بھرپور نمائندگی کرنا، منتخب افسانے مختلف رسائل، ویب سائٹس پر شائع کرنا اور یوٹیوب پر پیش کرنا، افسانہ نگاری کے متعلق مضامین اور مقالات پیش کرنا ہے وغیرہ اس کے مقاصد ہیں۔ یہاں گروپ کے اراکین کے افسانوں کے ساتھ ساتھ اردو کے شاہکار افسانے بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ افسانوں پر بے لاگ تنقید ہوتی ہے۔ تنقید نگار کو پوری آزادی ہوتی ہے جبکہ قلمکار کو اپنے افسانے پر کچھ بولنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں اچھے تنقید نگار اور اچھے اساتذہ موجود ہیں لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بے لاگ تنقید کے نام پر نئے افسانہ نگاروں کی حوصلہ شکنی اور دل آزاری بھی ہو جاتی ہے۔ ’منصف‘ یہ ایک تنقیدی گروپ ہے۔ ’تنقید نہیں اصلاح‘ یہی اس گروپ کا منشور اور موقف ہے۔ اردو ادب کی نئی پیڑھی تیار کرنا، نئے قلمکاروں ا ور افسانہ نگاروں کی،جو بے جا تنقید کی وجہ سے دل برداشتہ ہو بیٹھے ہیں، حوصلہ افزائی کرنا، مختلف یونٹس کا انعقاد کرنا، اساتذہ کی جانب سے نتائج کا اعلان ہونے کے بعد انعامات تقسیم کرنا اس گروپ کے مقاصد ہیں۔ یہاں گروپ کے اراکین کے افسانوں کے علاوہ عالمی ادب کے افسانے اور اردو کے شاہکار افسانے بھی پوسٹ کیے جاتے ہیں۔ نئے افسانہ نگاروں کے لیے یہ ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔گروپ ’انہماک‘ ساؤتھ افریقہ سے شائع ہونے والے اردو کے پہلے عالمی ادبی جریدے کی ذیلی شاخ ہے۔ اس کا مقصد مائکرو فکشن کو اردو ادب میں اپنی الگ پہچان دلانا اور افسانے کی ترویج و اشاعت کرنا ہے۔ یہاں افسانوی مقابلے اور یونٹس منعقد کیے جاتے ہیں۔ بہترین تخلیقات پر قلمکاروں کو انعامات سے سرفراز کیا جاتا ہے۔ گروپ کی منتخب تخلیقات کو ’انہماک‘جریدے میں اور کتابی صورت میں شائع کیا جاتا ہے۔ فیس بک پر گروپوں کی اس بھیڑ میں ایک گروپ ’کہانی گھر‘ بھی ہے۔ افسانے کا فروغ  اور افسانے کو عام کرنا اس کا مقصد ہے۔ اس گروپ پر افسانے اور فن افسانہ نگاری پر مضامین کے علاوہ کچھ بھی پوسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہاں اردو افسانوں کا ایک خزانہ موجود ہے۔ اب تک تین ہزار سے زائد افسانے اپ لوڈ ہو چکے ہیں۔ جن میں ترقی پسند، جدید اور نئے افسانے شامل ہیں۔ یہ کام ابھی اور تیز رفتاری سے جاری ہے۔ ”بزم یاران اردو ادب“ کے نام سے ایک گروپ کام کر رہا ہے۔ اردو ادب کی ترویج، ادب کے تئیں دلچسپی پیدا کرنا اور نئی نسل کی حوصلہ افزائی کرنا اس گروپ کے مقاصد ہیں۔ یہاں افسانوی ایونٹ(Event) منعقد ہوتے ہیں۔ افسانوں پر مضامین پوسٹ کیے جاتے ہیں۔ افسانے و افسانچے کے علاوہ دیگر نثری تخلیقات بھی پوسٹ کی جاتی ہیں۔ ’حروف ادب اکیڈمی‘ لاس انجلیس، امریکہ کا بھی ایک گروپ سرگرم ہے۔ جس کا نام ”حرف ادب“ ہے۔ جہاں افسانوی نشستوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ بہترین افسانوں پر انعامات بھی دیے جاتے ہیں۔ منتخب افسانے کتابی شکل میں اور حروف ادب میگزین میں شائع کیے جاتے ہیں۔ منتخب افسانوں کی آڈیو ریکارڈنگ انٹرنیشنل ریڈیو پر نشر کی جاتی ہیں۔اسی کے ساتھ ساتھ ’اردو افسانہ فورم‘، ’ترویج افسانہ فورم‘، ’عالمی افسانوی ادب‘، ’عالمی افسانوی کارواں‘ گروپس بھی افسانے کی ترویج و اشاعت میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ انہی گروپوں میں ایک نام ’گرداب‘ بھی ہے۔ جس پر علامتی و تجریدی افسانے پیش کیے جاتے ہیں۔ علامتی و تجریدی افسانوں کی تحریک ا ور فروغ اس گروپ کا مقصد ہے۔ گروپ ’عالمی ادب کے اردو تراجم‘ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے جہاں اردو میں ترجمہ شدہ عالمی ادب کے افسانے پیش کیے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ انحراف، ادبی کہکشاں، مہاراشٹر فکشن کلب اور کچھ فیس بک پیج بھی افسانے کی ترقی میں کوشاں ہیں جن میں راقم الحروف کا فیس بک پیج ’اردو افسانہ‘ بھی شامل ہے۔ان گروپوں پر افسانے لگائے جاتے ہیں اور ان پر تنقید ہوتی ہے۔ اردو کے شاہکار افسانے اور عالمی ادب کے تراجم شدہ افسانے پیش کیے جاتے ہیں۔ ہر سال عالمی افسانوی میلے، جشنِ افسانہ ایونٹ، بزمِ افسانہ ایونٹ، افسانوی مقابلے، مختلف افسانوی ایونٹس اور آن لائن نشستوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جس میں قلم کاروں سے افسانے لیے جاتے ہیں۔ افسانوں کے موضوع کے لحاظ سے بینر بنا کر اسے گروپ کی وال پر پیش کیا جاتا ہے۔ ایک دن میں ایک ہی افسانہ لگایا جاتا ہے۔ دن بھر اسی افسانے پر بات ہوتی ہے۔ افسانے کا تجزیہ ہوتا ہے، تبصرہ ہوتا ہے اور اس پر تنقید ہوتی ہے۔ افسانے کی خوبیوں کی پذیرائی ہوتی ہے اور خامیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ معروف و غیر معروف سبھی افسانہ نگاروں کو موقع ملتا ہے۔مختلف گروپس کی انتظامیہ میں وحید قمر، عامر صدیقی، صدف اقبال، ابرار مجیب، علی نثار، ڈاکٹر ریاض توحیدی، سید تحسین گیلانی، طاہر انجم صدیقی، مجاہد سلیم، شاہد محمود گادری، شمسہ نجم، فوزیہ قریشی اور فرحین جمال وغیرہ شامل ہیں جو ہر وقت فعال اور سرگرم رہتے ہیں، اور گروپ کے اراکین کو بھی متحرک رکھتے ہیں۔ جو افسانے کے شائقین ان گروپوں میں شامل نہیں ہیں وہ گروپ کو اس کے نام سے سرچ کر کے شامل ہونے کے لیے ایڈمن کو درخواست بھیج سکتے ہیں۔
 واٹس ایپ اور اردو افسانہ
 واٹس  ایپ ایپلی کیشن اسمارٹ فونز کے لیے ایک فوری پیغام رسانی کی خدمت انجام دیتا ہے۔ اس کے ذریعے ایک دوسرے کو ٹیکسٹ پیغامات کے علاوہ تصاویر، ویڈیو اور صوتی پیغامات بھی بھیج سکتے ہیں۔ یہ ایپلی کیشن اینڈروائیڈ، بلیک بیری، ایپل آئی او ایس، نوکیا، سمبئین اور مائیکروسافٹ ونڈوز فون کے لیے بھی دستیاب ہے۔واٹس ایپ کی بنیاد، جین کوم اور ان کے ساتھی برائن ایکٹن نے 2014 میں رکھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ واٹس  ایپ کی بنیاد رکھنے سے پہلے دونوں دوستوں نے فیس بک میں ملازمت کے لیے درخواست دی تھی، جس کو منظور نہیں کیا گیا تھا۔ بعد میں 19/ فروری2014 کو فیس بک نے واٹس ایپ کو 19 ارب ڈالر میں خریدا۔ واٹس ایپ اس وقت دنیا کی سب سے مقبول موبائل انٹرنیٹ میسیجنگ سروس ہے۔ فروری 2016 میں واٹس ایپ نے اعلان کیا تھا کہ اس کے فعال صارفین کی تعداد ایک ارب سے تجاوز کر چکی ہے، یعنی 2016 میں دنیا کا ہر ساتواں انسان واٹس ایپ استعمال کرتا تھا۔ یقینا یہ تعداد آج اس سے زیادہ ہی ہو گی۔ واٹس ایپ سے مواد کی ترسیل و وصولیابی بہت آسان ہو گئی ہے۔ یہ کم وقت میں کم خرچ (ڈاٹا) پر تیز اور بہتر ترسیل کرتا ہے۔ محض مواد کی منتقلی کی رفتار ہی اس کے جواز کے لیے کافی ہے۔ اس کے ذریعے پیغامات کی دو طرفہ ترسیل ہوتی ہے۔ فیس بک کی طرح واٹس ایپ پر بھی بہت سے گروپس افسانے کو عام کرنے میں لگے ہیں۔ ان گروپس میں افسانے، افسانچے اور مضامین شیئر کیے جاتے ہیں۔ افسانوں پر تنقید وتجزیے کا عمل ہوتا ہے۔ یوں تو واٹس ایپ پر کئی گروپ بنتے اور مٹتے رہتے ہیں لیکن افسانے کی ترویج و اشاعت میں کوشاں چند سرگرم گروپس اس طرح ہیں۔قلمدان (فرحان دل)، ادبی کہکشاں (مجاہد سلیم)، اردو افسانہ و افسانچہ (محمد علیم اسماعیل)، نوجوان قلمکار (موسیٰ رضا)، اردو چینل (ڈاکٹر قمر صدیقی)، ہمارے مختصر افسانے (بشیر تیلگامی)، جہانِ افسانچہ (ڈاکٹر نخشب مسعود اور ڈاکٹر ایم اے حق)، اردو فکشن (اعظم ایوبی)، بزم علم و ادب (عمران عاکف خان)، اردو اسکالرز (غلام نبی کمار)، نگینہ (اختر معراج)، اردو پوئٹری اینڈ لٹریچر (سالک جمیل براڑ)، انجمن محبان ادب(پروفیسر مبین نذیر)، اردو زبان و ادب(منظر علی خان) وغیرہ۔
نوٹ:  قوسین میں مذکورہ گروپس کے بانی اور ایڈمن کے نام درج ہیں۔
یوٹیوب اور اردو افسانہ
یوٹیوب، ویڈیو پیش کرنے والی ایک ویب سائٹ ہے، جہاں صارفین اپنی ویڈیو پیش کر سکتے ہیں۔ یہ گوگل کے ماتحت ادارہ ہے۔ یوٹیوب پر صارفین کی جانب سے مواد انفرادی طور سے پیش کیا جاتا ہے۔ اس پرصارفین اپنے کھاتے بناتے ہیں۔ صارفین کے یہ کھاتے ’چینلز‘ کہلاتے ہیں۔یوٹیوب پر ویڈیوز کا ایک بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ اس کے صارفین کی تعداد ایک ارب سے زیادہ ہے۔ یہاں ہر منٹ، تین سو گھنٹے کا ڈاٹا اپ لوڈ ہوتا ہے اور ایک دن میں تقریباً 5 /ارب ویڈیوز دیکھے جاتے ہیں۔ یوٹیوب پر پہلی ویڈیو 23 اپریل 2005 کو اس کے شریک بانی جاوید کریم نے اپلوڈ کی تھی۔یوٹیوب افسانے کی ترویج و اشاعت کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ یہاں ہم افسانوں کو سننے کے ساتھ ساتھ دیکھ بھی سکتے ہیں۔ حالانکہ زیادہ تر افسانے ایک تصویر کے ساتھ صرف آڈیو شکل میں پیش کیے گئے ہیں، لیکن کچھ افسانے ایسے بھی ہیں جنھیں سننے کے ساتھ ساتھ دیکھ بھی سکتے ہیں۔افسانے کے شوقین افراد اور نئے سیکھنے والوں کے لیے یہ ایک بہترین ذریعہ ہے۔انسان جب کوئی تحریر پڑھتا ہے تو دماغ اس کی تصویر بناتا جاتا ہے لیکن ویڈیو دیکھتے وقت دماغ کو امیج بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی اس لیے ذہن میں تھکاوٹ بھی پیدا نہیں ہوتی اور تازگی برقرار رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تین گھنٹے فلم دیکھنے کے بعد بھی لوگ تھیٹر سے تھکے ہارے نہیں نکلتے بلکہ ہنستے ہنستے نکلتے ہیں جبکہ مسلسل تین گھنٹے پڑھنے سے ذہنی تھکاوٹ کاآنا لازمی ہے۔ یوٹیوب چینل ’ریڈیو مرچی‘ پر ’ایک پرانی کہانی‘ عنوان کے تحت سعادت حسن منٹو اور دیگر افسانہ نگاروں کے افسانے محترمہ آرجے صائمہ کی بہترین آواز میں موجود ہیں۔ یہاں درست تلفظ، بہترین لب و لہجہ اور مناسب اتار چڑھاؤ کے ساتھ افسانوں کی ویڈیوز اپلوڈ کی گئی ہیں۔ یہاں مکالموں کی درست ادائیگی اور منظر نگاری کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔افسانے میں اگر بارش کا موسم دکھایا گیا ہے تو بارش ہونے کی آواز، بادل گرجنے کی آواز، مختلف حرکت و عمل اور چیزوں کی آواز، لڑکیاں ہنس رہی ہیں تو ان کی کھلکھلاہٹ اور پرندوں کی چہچہاہٹ وغیرہ بیک گراؤنڈ ساؤنڈ کے ساتھ نہایت ہی مؤثر و دلکش انداز میں افسانے پیش کیے گئے ہیں۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کا یوٹیوب چینل ’اردو کونسل‘ پر پریم چند کے افسانوں کے آڈیوز موجود ہیں۔ اس کے علاوہ افسانوی تکنیک پر گفتگو کے ویڈیوز بھی شامل کیے گئے ہیں۔یوٹیوب چینل ’عابد علی بیگ‘ پر عابد علی کی خوبصورت، جادو بھری؛ سریلی آواز میں افسانے سنائے گئے ہیں۔ یہاں پر بھی افسانوں کی پیشکش، سرور بخش اور متاثر کرنے والی ہے۔یوٹیوب چینل ’جشن ادب‘ پر آرجے صائمہ کے پڑھے گئے افسانوں کی ویڈیوز اپلوڈ کی گئی ہیں۔اس کے علاوہ اور بہت سے چینل سرگرم ہیں جو افسانوں کی آڈیو- ویڈیو تیار کر کے اپنے چینل پر شیئر کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً:  اردو میٹرو، بک لَوَرس، این وائی کے اینڈ بکس، اردو ناولز، نوجوان تخلیق کار، صبا جی لائبریری، ارشد منیم شارٹ اسٹوری، افسانے دیوانے، ادبی دنیا، نادر اردو آڈیو، اردو چینل، ڈاکٹر نگہت نسیم، تسنیم منٹو، آئی اسٹوریز، زندگی نامہ، سکھ جیت بادشاہ، روما رضوی وغیرہ۔ بہت سے ادیب اور ادب نواز حضرات انفرادی طور سے بھی افسانے پیش کرتے رہتے ہیں۔ سرچ کرنے میں آسانی ہو اس لیے چند چیلنز کے نام انگریزی میں درج کیے جارہے ہیں:
Radio Mirchi, Urdu Council, Abid Ali Baig, Urdu Metro, Afsanay Deewanay, Urdu Novels,
Nadir URDU Audio, Adbi Duniya, Urdu Studio, UrduChannel, Zindagi Nama, Book Lovers
Dr. Nighat Nasim, Tasnim Minto, I stories, Saba G Library Arshad Muneem Story, Sukhjit Badshah, Jashn-e-Adab, Roma Rizvi etc.
روزبروز یوٹیوب چینلز تیار ہو رہے ہیں اور کلاسیکل افسانوں کے ساتھ ساتھ نئے افسانے بھی اپ لوڈ ہو رہے ہیں۔ اس طرح یوٹیوب پر افسانے کی ترویج و ترقی بڑی تیزی سے ہو رہی ہے۔یوٹیوب کے سرچ آپشن میں ’Urdu Afsana‘یا’اردو افسانہ‘ لکھ کر تلاش کریں تو آڈیو- ویڈیو افسانے کے بہت سارے رزلٹ سامنے آجاتے ہیں۔
ایپلی کیشن اور اردو افسانہ:
کتابوں سے کہانیاں پڑھنے والوں کی تعداد دن بہ دن قلیل ہوتی جا رہی ہے، خاص طور پر نئی نسل کتاب بینی سے دور ہوتی جارہی ہے۔ کبھی کبھی تو ایسا بھی لگتا ہے کہ کتابوں سے محبت کی یہ آخری صدی ہے۔ کہانی انسان کی پسندیدہ صنف ہے۔ کہانیاں سننے، سنانے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں،لیکن آج کل کہانیاں پڑھنے اور سننے کے ساتھ ساتھ دیکھنے کا چلن زیادہ بڑھ رہا ہے۔ افسانوں کے آڈیو- ویڈیو البم ریلیز ہو رہے ہیں۔ فلم، شارٹ فلم، ٹی وی پروگرام اور حقیقی کہانیوں پر مبنی سیریل جیسے کرائم پٹرول اور ساودھان انڈیا وغیرہ۔ ان سب میں کہانیاں ہی ہوتی ہیں۔ 2012 میں ’کہانی ندی‘ کے عنوان سے ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کے تین افسانے اور تین افسانچوں کا ایک آڈیو البم ریلیز ہوا تھا، جس کو خاصا پسند کیا گیا۔ اس میں موجود تمام افسانے ان ہی کی آواز میں ریکارڈ ہوئے تھے۔
ریختہ‘ کی ویب سائٹ پر تو نئی پرانی بے شمار کہانیاں موجود ہیں۔ اور اب صوتی کہانیاں بھی اپلوڈ ہو رہی ہیں۔ قومی اردو کونسل برائے فروغ اردو زبان کی ویب سائٹ پر کتابی شکل میں کلاسیکل افسانے مل جاتے ہیں، اردو آڈیو لائبریری میں پریم چند کے افسانوں کی آڈیوز دستیاب ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ یہی صوتی کہانیاں  قومی اردو کونسل کے ایپلی کیشن  پر بھی مل جاتی ہیں۔ گوگل پلے اسٹور اور ایپل ایپ اسٹور سے موبائل ایپلی کیشن حاصل کیے جاتے ہیں۔گوگل پلے اینڈروئیڈ اختراعات کے سافٹ ویئرس کا ایک آن لائن اسٹور ہے، جو گوگل کے ماتحت ہے۔ پہلے اس کا نام اینڈروئیڈ مارکیٹ تھا، مارچ 2012 کو نام بدل کر گوگل پلے کر دیا۔ گوگل پلے اسٹور پر افسانے پڑھنے سے متعلق بہت سے ایپس موجود ہیں، جن میں افسانے، اردو افسانے، بہترین افسانے، منٹو کے افسانے، دلچسپ افسانے، اشفاق احمد کے افسانے، غلام عباس کے افسانے، ممتاز مفتی کے افسانے، پریم چند کے افسانے، کلاسک افسانے اور کہانیاں، قرۃ العین حیدر کے ناولز وغیرہ ایپس مل جاتے ہیں۔ انہی کے ساتھ ساتھ پلے اسٹور میں آڈیو کہانیوں کے لیے بھی ایپس دستیاب ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں بہت سے پبلشرز کتابوں کو صوتی شکل میں بھی پیش کر رہے ہیں۔ گوگل پلے اسٹور پر آڈیو بکس کے ایپس میں ”کنڈل“ اور ”اسٹوری ٹیل“ کافی مشہور ہیں،جس میں انگریزی اور ہندی کے ساتھ ساتھ اردو کہانیاں بھی موجود ہیں۔مبشر اکبر اپنے مضمون ”صوتی کتابیں اور کہانیاں مطالعہ کا متبادل بن رہی ہیں“ میں لکھتے ہیں:
ان ایپس میں ایک امیزون کی ’کنڈل‘ ہے جبکہ گوگل کی بھی اپنی کچھ ایپس ہیں لیکن ان میں ایک مشہور نام ’اسٹوری ٹیل‘ ایپ کا ہے۔ ہرچند کہ پلے اسٹور کی سرچ میں یہ کافی نیچے ملتی ہے لیکن ان کے پاس انگریزی کے علاوہ ہندی اور اردو کا بہت بڑا خزانہ ہے۔ ان کی ویب سائٹ جو ہماری توجہ کا مرکز بن گئی، پر اردو کے سلسلے میں خاصا اہتمام کیا گیا ہے۔ وہ اس لحاظ سے کہ یہاں مجتبیٰ حسین کی حیدرآباد کے تعلق سے شگفتہ بیانی کو صوتی کتاب کے قالب میں ڈھالا گیا ہے تو قرۃالعین حیدر کی ’بڑے آدمی‘ کو بھی آواز عطا کی گئی ہے۔ ان کے علاوہ یہاں پر میرباقرعلی کا قصہ ہے، احمد ندیم قاسمی کا مشہور افسانہ ’وحشی‘ ہے، ضمیر الدین احمد کی تخلیقات ہیں اور امتیاز علی تاج کے چچا چھکن بھی موجود ہیں۔ عصمت چغتائی کی منتخب کہانیاں بھی یہاں لوڈ کی گئی ہیں اور سعادت حسن منٹو کے تقسیم وطن کے پس منظر میں لکھے گئے افسانوں کو بھی آواز عطا کی گئی ہے۔ اس ویب سائٹ پر چند ایک ناول بھی اپلوڈ ہیں جن میں مرزا محمد ہادی رسوا کا مشہور زمانہ ناول ’امراؤ جان‘ بھی ہے۔ اردو کے سیکشن میں مکمل کتاب کے طور پر منٹو، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی، قرۃالعین حیدر، مجتبیٰ حسین، نیر مسعود اور دیگر کی تخلیقات موجود ہیں جبکہ نقوش کا طنز و مزاح نمبر بھی اس ویب سائٹ پر صوتی شکل میں اپ لوڈ کیا گیا ہے۔ اسٹوری ٹیل ہرچند کہ پلے اسٹور میں مفت میں دستیاب ہے لیکن اس پر کچھ کتابیں سننے کے لیے فیس بھی رکھی گئی ہے جو کہ بہت زیادہ نہیں ہے۔
زمانہ بڑی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ نئی نئی چیزیں ایجاد ہو رہی ہیں۔ لوگ ان چیزوں سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ وقت تبدیلی کا مظہر ہے۔ اور تبدیلی زندگی کی علامت ہے۔ یہ ایک مستقل عمل ہے جو ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ زیادہ دور نہیں جاتے اکبر بادشاہ کے زمانے کی ہی بات کرتے ہیں، اس وقت  اگر کوئی ویڈیو کالنگ کی بات کرتا اور کہتا کہ دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے پر موجود دوا شخاص ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے بات کریں گے تو اسے پاگل خانے بھیج دیا جاتا۔ٹیکنالوجی کے اس دور میں اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ادب بھی جدید ٹیکنالوجی سے متاثر ہوگا اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آنے والا وقت آڈیو -ویڈیو کتابوں کا ہے۔
ویب سائٹ اور اردو افسانہ:
اخبار کی زندگی ایک دن کی،رسالے کی زندگی ایک مہینے کی اور کتاب کی زندگی سو سال کی ہوتی ہے لیکن آن لائن لوڈ کی گئی تخلیقات حیات ابدی حاصل کر لیتی ہیں۔فیس بک،یوٹیوب،اپلیکیشن اور ویب سائٹ پر پیش کی گئی تخلیقات ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتی ہیں۔ جس سے آنے والی نسلیں فیض یاب ہو سکتی ہیں۔ ویب سائٹ کی اگر بات کی جائے تو ایسی بے شمار ویب سائٹس موجود ہیں جہاں افسانے پیش کیے جاتے ہیں۔ ویب سائٹ ایک انٹرنیٹ سروس ہے جو صارفین کی درخواست پر صفحات ویب کی توثیق کرتی ہے۔ ویب سائٹس سے افسانے پڑھنے والوں کی تعداد بھی کافی بڑی ہے۔ریختہ اردو کی سب سے بڑی معیاری اور حوالہ جاتی ویب سائٹ ہے۔ اس ویب سائٹ کے بانی سنجیو صراف ہیں۔ انھوں نے جنوری 2013 میں اسے لانچ کیاتھا۔ یہاں ای بکس کا ایک خزانہ موجود ہے۔ جس میں نئے پرانے بے شمار قیمتی افسانوی مجموعے موجود ہیں۔ اس ویب سائٹ پر روزانہ تقریباً 58 ہزار صفحات دیکھے جاتے ہیں۔ یہاں تخلیقات اردو کے علاوہ دیوناگری اور رومن رسم الخط میں بھی پیش کی گئی ہیں۔بزم اردو لائبریری، مفت اردو کتابیں اور اردو کی برقی کتابیں ان تینوں ویب سائٹس پر افسانوی مجموعے اور دیگر کتابیں بڑی خوبصورتی سے یونی کوڈ فارمیٹ میں لوڈ کی گئی ہیں۔ یہاں ہم کتابوں کو آن لائن پڑھنے کے ساتھ ساتھ ڈاؤن لوڈ بھی کر سکتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ کاپی پیسٹ کی سہولت بھی مہیا کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اردو چینل، اردو فکشن، اسٹوری ٹیل، اور فسوں کار، قومی اردو کونسل، شعر و سخن، جہانِ اردو، اودھ نامہ، ورلڈ اردو ایسوسی ایشن، اردو ڈاٹ ان، اردو یوتھ فورم، عالمی پرواز، قندیل، اردو ویب ڈیجیٹل لائبریری، اردو نوٹس، کتابستان، اردو لائف، اردو پوائنٹ اور پنجند، وغیرہ ویب سائٹس پر بے شمار افسانے دستیاب ہیں۔ایسی ویب سائٹس بھی موجود ہیں جہاں آڈیو- ویڈیو افسانے بھی لوڈ ہوئے ہیں جن میں ریختہ، قومی اردو کونسل اور اسٹوری ٹیل کی ویب سائٹس نمایاں نظر آتی ہیں۔ ویب سائٹ پر موجود افسانے گوگل سے بہ آسانی سرچ کیے جاسکتے ہیں۔

Mohd Alim Ismail (Teacher)
Behind police station, Ward No. 15
At, Post, taluka-Nandura (443404)
Dist-Buldana - 443404 (Maharashtra)
Mob. No. 8275047415
 ماہنامہ اردو دنیا، فروری 2020

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں