اردو شاعری میں صوفیانہ افکار اور سماجی ہم آہنگی کا میلان مضمون نگار: شیخ عقیل احمد







اردو شاعری میں صوفیانہ افکار اور سماجی ہم آہنگی کا میلان
شیخ عقیل احمد

نظامِ کائنات کا انحصار ہم آہنگی پر ہے اور اس کی بقا کا دارومدار بھی وحدت پر ہے۔ جس دن ہم آہنگی کا خاتمہ ہوگا قیامت آجائے گی۔ قیامت اسی ہم آہنگی کے خاتمے کا نام ہے۔ دیکھا جائے تو کائنات رفتہ رفتہ قیامت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ گلوبل وارمنگ کا خطرہ اور ماحولیاتی توازن کا بگڑ جانا اس کا ثبوت ہے کہ کائنات کی ہم آہنگی متاثر ہو رہی ہے۔ اسی لیے گلوبل وارمنگ کو کائنات کی بقا کے لیے خطرہ تصور کیا جا رہا ہے اور ایسے منصوبے تیار کیے جا رہے ہیں کہ کائناتی توازن برقرار رہے۔ اربابِ تصوف کائنات کے اسرار سے آشنا تھے اسی لیے وہ بھی اس نہج پر سوچتے تھے۔ انھوں نے فطری توازن کی قندیلیں روشن کیں اور کائنات کی ہر شے میں وحدت کا جلوہ دیکھا۔ انھیں کائنات کے ہر ذرّے میں خدا کا نور نظر آیا۔ مطالعۂ فطرت سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدرت نے اس میں کس قدر توازن رکھا ہے۔ قرآن پاک کی سورۂ رحمن میں ایسے اشارات ملتے ہیں جو کائناتی ہم آہنگی کی طرف انسانوں کی توجہ مبذول کراتے ہیں۔ اربابِ تصوف نے کائناتی مظاہر کا گہرا مطالعہ کیا ہے اسی لیے ان کے ذہن میں فطری ہم آہنگی روشن ہے۔
خدا تعالیٰ نے موجوداتِ کائنات کے درمیان جو ہم آہنگی پیدا کی ہے اس کی فلسفیانہ وضاحت مشہور فلسفی لائبنیز نے اس وقت کی جب اس نے ذہن و جسم کے درمیان پائی جانے والی ہم آہنگی کو ثابت کرنے کے لیے "Pre-Established harmony"کے نظریے کو پیش کیا۔ اس نے اپنے فلسفے کی بنیاد جو ہر کے تصور پر رکھی۔ ڈیکارڈ اور اسپنوز ا کی طرح اس کا بھی خیال تھا کہ جو ہر مطلقاً آزاد اور خود مُکتفی ہوتا ہے، لیکن لائبنیزکا یہ بھی ماننا تھا کہ جوہروں کی ایک لامتناہی تعداد ہے جنھیں اس نے ’’موناد ‘‘ کا نام دیا تھا۔ مونا دد ر اصل ایک قسم کے مراکز قوت ہیں اور توانائی ان میں سے ہمہ وقت پھوٹتی رہتی ہے۔ اس کے مطابق موناد، خود مکتفی اکائیاں ہیں اور ہر موناد دوسرے سے مطلق آزاد ہوتا ہے۔ ان میں ایک بھی موناد ایسا نہیں جو کسی دوسرے موناد کے مماثل ہو۔ اس نے یہ بھی کہا کہ موناد بے روزن ہوتے ہیں اس لیے ان میں سے کوئی شے نہ اندر آ سکتی ہے اور نہ باہر جا سکتی ہے۔ موناد ایک دوسرے پر عمل کی قوت سے بھی عاری ہوتے ہیں۔ ہر موناد اپنے میں ایک ایسی خوردبینی کائنات سموئے ہوتا ہے جو ساری کائنات کو اپنے خاص زاویۂ نگاہ سے منعکس کرتی ہے ۔ مونادوں کے درمیان ایک خاص نظام پایا جاتا ہے۔ اس نظام کے مطابق ادنیٰ ترین موناد ’’بے شعور موناد ‘‘ کہلاتے ہیں جو غیر نامیاتی دنیا کے ترجمان ہوتے ہیں۔ ان مونادوں کے اُوپر کے درجے میں ’’ذی شعور موناد ‘‘ ہوتے ہیں جو نامیاتی دنیا کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس سے اوپر کے درجے میں ’’خود آگاہ موناد ‘‘ ہوتے ہیںجو ذی عقل موجودات کے نمائندے ہیں اور سب سے اوپر خدا ہے جو مونادوں کا موناد ہے یعنی مونادِ اعلیٰ۔ مونادوں کے سلسلے میں لائبنیز نے جو جانکاری دی اس پر یہ سوال اٹھایا گیا کہ اگر موناد بے روزن اور مطلقاً آزاد اور خود مُکتفی اکائیاں ہیں تو نفسی موناد اور جسمی موناد میں کیسے رشتہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ لائبنیز نے اس مسئلے کا حل "Pre-Established harmony" کا نظریہ پیش کر کے یہ نتیجہ نکالا کہ مونادِ اعلیٰ یعنی خدا تعالیٰ نے ابتدا ئے آفرینش میں ہی ذہن و جسم کے درمیان ایک ہم آہنگ مطابقت پیدا کر دی تھی۔ لائبنیز کہتا ہے کہ جس طرح کوئی خیال سوچنے والے کے ذہن سے ابھرتا ہے اسی طرح خدا کے حکم سے ہر موناد عالمِ ظہور میں آیا۔ خدا نے ان مونادوں کو اس طرح خلق کیا ہے کہ ان میں سے کسی میں بھی اگر کوئی تغیر ہوتا ہے تو دوسرے موناد میں بھی اسی کی مطابقت سے لازمی طور پر تغیر پیدا ہو جاتا ہے۔ یعنی خدا تعالیٰ نے تمام مونادوں کو اس طرح ترتیب دیا ہے کہ یہ ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے عمل کرتے ہیں اور عمل کے نتیجے میں ہونے والے تغیرات ایک دوسرے سے پوری طرح موافقت رکھتے ہیں۔
ہیگل، بریڈلے، بواز نکے، رائیس ، کروچے اور جنٹائل وغیرہ کائنات کے بارے میں بنیادی طور پر اس بات پر متفق تھے کہ کائنات کا مبدا روح و عقل ہے اور اس بات پر بھی متفق تھے کہ تمام کائنات میں ایک عضویاتی وحدت (Organic Unity) موجود ہے اور اس وحدت میں پوری مقصدیت اور معنویت ہے۔ کائنات کے صدر الصدور میں اور قلب انسانی میں ایک طرح کا ’’آہنگ فی البطن ‘‘ (Self Harmony) ہے۔ مادیت کی اس تنظیم کے پس پشت ایک روحانی ترتیب، ایک آہنگ و توازن پایا جاتا ہے۔
فطرت میں جو ہم آہنگی پائی جاتی ہے، اس کی وضاحت علامہ اقبال نے اپنے ایک شعر میں اس طرح کی ہے ۔
فطرت کا سرودِ ازلی اس کے شب و روز
آہنگ میں یکتا صفتِ سورۂ رحمن
دنیا کی تمام مقدس یا آسمانی کتابوں میں بھی اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک خاص نظام کے تحت اس کائنات کی تخلیق کی اور تخلیق کردہ موجودات میں ہم آہنگی پیدا کی۔ مثلاً چاند، سورج اور زمین اپنے اپنے مدار میں ایک دوسرے کا طواف ایک نظام کے تحت کرتے ہیں جس کی وجہ سے صبح ہوتی ہے، دن ہوتا ہے، شام ہوتی ہے پھر رات ہوتی ہے اور یوں ہی وقت گزرتا رہتا ہے یعنی ان تینوں سیاروں میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور ان میں ہونے والے تغیرات کے اثرات بلا واسطہ یا بالواسطہ طور پر بے شمار چیزوں پر پڑتے ہیں مثلاً ان میں ہونے والے تغیرات اورمقام (Location) کے اثرات انسانی زندگی پر بھی پڑتے ہیں۔ ان سیاروں کی گردش سے اوقات میں تبدیلی آتی ہے اور اوقات کی تبدیلی سے موسم بدلتے ہیں اور پھر موسموں کی تبدیلی سے پھل، پھول اور غلوں کے بے شمار اقسام کی پیدا وار ہوتی ہے۔ الغرض آسمان ، زمین اور سمندر میں پائی جانے والی ایسی کوئی چیز نہیں ہے جس کا رشتہ دوسری چیزوں سے نہ ہو اور ان میں ہونے والے تغیرات کے اثرات ایک دوسرے پر نہ پڑتے ہوں۔
ہمارا ملک ہندوستان وحدت و ہم آہنگی کی عظیم ترین مثال اور مظہر ہے۔ یہاں کی سر زمین میں   ہم آہنگی کی سب سے حسین تعبیریں نظر آتی ہیں۔ یہاں بدھ ، جین اور بے شمار صوفی سنت پیدا ہوئے جنھوں نے خدا کی ذات ، خدا کے پیغامات اور اس کائنات کی حقیقت کی وضاحت اور تشہیر اپنے اپنے عقیدے کے مطابق کی لیکن ان سب کا مقصد ایک ہی رہا ہے۔ انھی صوفیوں ، سنتوں، رشیوں اور منیوں کے پیغامات کا اثر تھا کہ ہندوستان کو گلستاں اور ہندوستانیوں کو کبھی مختلف رنگوں کے پھولوں سے تو کبھی بلبلوں سے تعبیر کیا گیا کیوں کہ بلبلوں کی طرح تمام ہندوستانی بھی محبت کے ہی ترانے گاتے تھے۔ مذہبی روادری، باہمی محبت اور آپسی اتحاد ہمارے ملک کی بہت بڑی خوبی اور سب سے بڑی طاقت بھی تھی جس کی وجہ سے استحصالی قوتیں خوف زدہ تھیں۔ لارڈ میکالے نے فروری 1835 میں برطانوی پارلیامنٹ میں کہا تھا:
’’اس ملک میں اخلاقی قدروں اور لوگوں کی صلاحیتوں کی ایسی دولت پائی جاتی ہے جس کو ختم کر کے اور اس کے روحانی ورثے کو تہس نہس کر کے ہی ہم اس پر پورا قبضہ جما سکتے ہیں۔ اس لیے میری تجویز ہے کہ اس کے پرانے طریقۂ تعلیم اور تمدن کو بالکل بدل دیا جائے تاکہ ہندوستانی ہر غیر ملکی اور انگریزی چیز کو اپنی چیزوں سے اچھا سمجھنے لگیں۔ اسی صورت میں وہ خود اعتمادی اور اپنے کلچر سے محروم ہو کر ہر طرح سے ہمارے تابع اور محکوم بن سکتے ہیں۔ ‘‘
(ڈی۔ سی۔ منجوداس، آئی ۔ ایف ۔ایس ، (48-49-p, Social Harmony and Economic Development) اسی لیے علامہ اقبال نے کہا تھا :
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دورِ زماں ہمارا
سماجی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری ہندوستان میں ہمیشہ رہی ہے اور ہم یہاں کے مختلف النوع کلچر اور تہذیبی ورثے پر فخر کرتے رہے ہیں لیکن آج پورے ملک میں پھیلی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی، علیٰحدگی پسندی، علاقائیت اور لسانی تعصب نے ملک کی یکجہتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مذہب کی آڑ میں اپنے ذاتی مفاد کے لیے تخریبی طاقتیں ملک میں انتشار اور بد امنی پیدا کر رہی ہیں۔ آزادی کے بعد کی سماجی صورتِ حال کا اگر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ مذہبی اور فرقہ وارانہ کشیدگی حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ عدم رواداری کی وجہ سے ہماری جمہوریت کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ ہماری گنگا جمنی تہذیب فنا ہو رہی ہے۔ اس صورت حال کے معاشی حالات پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں دنیا کے عظیم مذاہب کے پیرو بے شمار زبانوں کے بولنے والے اور مختلف رسم و رواج کے ماننے والے جغرافیائی اور لسانی اختلافات کے باوجود سیکڑوں برسوں سے مل جل کر رہتے آئے ہیں اور یہ صرف اسی لیے کہ ہمارے ملک کے دانشوروں اور مفکروں نے ہمیشہ مل جل کر رہنے کا درس دیا ہے۔
ہندوستان شروع سے صوفیوں، سنتوں، رشیوں اور منیوں کا گہوارا رہا ہے جن کی تعلیمات نے ہمیں انسان دوستی کا درس دیا ہے۔ ایک ہی خدا ہے جس نے اس کائنات کو خلق کیا اور ہم سب اسی کی مخلوق ہیں۔ قرآن شریف اور مقدس ویدوں کا تقابلی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ دونوں مذاہب کے درمیان کافی مماثلت ہے ، سورۂ النساء، پارہ چھ، میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ سے پہلے بھی بہت سے رسول کھلی کھلی نشانیاں، صحیفے اور روشنی بخشنے والی کتابوں کے ساتھ دنیا میں بھیجے گئے ہیں۔ ویدوں میں بھی کہا گیا ہے کہ جب جب دھرم کا ناش ہوگا تب تب ہم (یعنی خدا ) انسانوں کے روپ میں اس دھرتی پر آئیں گے۔ قرآن میں آگے کہا گیا ہے کہ وہ رسول بھی (وحی سے مشرف ہیں ) جن کا ذکر آپ سے کیا ہے اور وہ رسول بھی (وحی سے مشرف ہیں ) جن کا ذکر آپ سے نہیں کیا ہے۔ ارشادات کی روشنی میں متعدد صوفیوں، عالموں اور دانشوروں نے وید کو سماوی کتاب مانا ہے۔ اس سلسلے میں حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں جو اپنے زمانے کے جید عالم دین، صوفی اور درویش تھے، لکھا ہے :
’’اہلِ ہند کی قدیم کتابوں سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ بنی نوعِ انسان کی پیدائش کی ابتدا میں ان کی دنیاوی زندگی کے سدھار کے لیے اور حیات بعد الممات کی درستی کے لیے اللہ پاک نے اپنی مہربانی سے وید نامی کتاب برہما فرشتے کی وساطت سے نازل فرمائی جو ایجادِ عالم سے متعلق کارکن ہے۔ اس کے چار دفتر ہیں جو احکامِ امر و نہی اور اخبار ِ ماضی و مستقبل ہیں۔ ‘‘
[بحوالہ علامہ اخلاق دہلوی، وید دھرم اور اسلام، ص۔9,19]
چاروں ویدوں میں پہلا رِگ وید ہے جس میں زیادہ تر شلوک حمدِ باری پر مشتمل ہیں۔ اس میں دوزخ کے عذاب، جنت کی نعمتوں، توحید اور آخرت کے تصور کا ایسا ہی ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں موجود ہے۔ رِگ وید میں پیغمبر اسلام حضور ﷺ سے متعلق پیش گوئیاں بھی ہیں۔ اس میں مصر، شام، بابل اور فلسطین کے محاربات کا بھی کہیںکہیں ذکر ہے۔ طوفانِ نوح اور آتشِ نمرود کا بھی ذکر ہے۔ دوسرایجُر وید ہے جس کا آخری حصہ علم الٰہیات پر مبنی ہے۔ تیسرا سام وید ہے۔ اس میں بھی حضور ﷺ سے متعلق پیش گوئیاں موجود ہیں۔ چوتھا اَتھَر وید ہے جسے علمِ الہٰی بھی کہتے ہیں اس میں توحید اور صفات الہٰی کا ذکر ہے اور آخرت کا بھی ذکر ہے۔ اس میں بھی حضور ﷺ سے متعلق پیش گوئیاں ہیں۔ ان ویدوں کو مرتب کرنے والے منی بیاس دیوجی نے مبشراتِ نبی آخر الزماں کے متعلق ان ویدوں میں جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ اپنی ایک کتاب رام پوتھی میں (چھٹی کا نڈ، بارہویں اسکڈ ) میں قلم بند کیا ہے جس کا ترجمہ تلسی داس جی نے پوربی بھاشا میں کیا ہے ۔ اس کا اردو ترجمہ پیش کیا جاتا ہے۔
’’یہاں میں کوئی بات رکھوں گا نہیں (چھپاؤں گا نہیں ) جو وید پر ان میں لکھا ہے وہی سچ سچ کہوں گا۔ دس ہزار برس تک مرتبۂ رسالت کی تکمیل ہو جائے گی۔ بعد میں یہ مرتبہ کوئی نہیں پائے گا۔ عرب دیش میں ایک ستارہ جگمگائے گا۔ وہ سر زمین بھی اچھی شان کی ہوگی۔ اَن ہونی باتیں (معجزات ) اس سے ظاہر ہوں گی۔ وہ اللہ کا دوست اور سخی داتا کہلائے گا۔ سمت بکرما کے سمّتوں کے مطابق (ساتویں صدی میں ہوگا )۔ نہایت اندھیری رات میں چار سو رجوں کے مثل چمکے گا ۔‘‘
[بحوالہ علامہ اخلاق دہلوی، ویدک دھرم اور اسلام، ص۔20]
ویدوں میں موجودوہ تمام باتیں جو قرآن سے ملتی ہیں اور اس کے علاوہ حضور ﷺ سے متعلق جو پیش گوئیاں کی گئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وید بھی قرآن شریف کی طرح آسمانی کتاب ہیں۔
حضرت مرزا مظہر جانِ جاناں نے فرمایا ہے کہ ویدک دھرم باضابطہ دین رہا ہے جو منسوخ ہو گیا ہے۔ حضرت امیر خسرو ؒ نے بھی ویدک دھرم کا گہرا مطالعہ کیا تھا اور سابقہ مذاہب سے اس کا موازنہ کر کے ان پر ویدک دھرم کو ترجیح دی تھی۔ ایک شعر میں انھوں نے فرمایا ہے :
نیست ہند وارچہ دین دار چوما
ہست او لیکن بے قرار چوما
یعنی ہندو اگرچہ ہمارے جیسے دین دار تو نہیں ہیں مگر ہماری طرح جستجو کے حق میں بے قرار ہیں۔ انھوں نے ویدک دھرم کی اہمیت کو ظاہر کرنے کے لیے اپنی مثنوی ’’نہ سپہر ‘‘ میںپندرہ شعر بطور موازنہ شامل کیے ہیں جو بصیرت افروز ہیں۔ مفسرِ قرآن حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے ایک جگہ لکھا ہے :
’’اہلِ ہند کے اصولِ دین اکثر تو قرآن و سنت کے مطابق ہیں اور جہاں اختلاف ہے وہ شیطان کی کارستانی کا نتیجہ ہے۔ ‘‘ مشہور مؤرخ اور عالمِ دین سید صباح الدین عبد الرحمن اور ڈاکٹر سید محمود کے مطابق حضرت محمد ﷺ نے فرمایا ہے کہ مجھے ہندوستان کی طرف سے ربّانی خوشبو آتی ہے اور حضرت علی ؑ نے فرمایا کہ یہ سب سے پاکیزہ اور خوشبو دار مقام ہے، کیوں کہ یہاں حضرت آدم ؑ اترے اور یہاں کے درختوں میں جنت کی خوشبو کا اثر ہے۔ ان حضرات کا خیال ہے کہ ربّانی خوشبواور جنت کی خوشبو کے معنی یہ ہیں کہ یہاں کوئی کتاب ضرور اتری ہے۔ علامہ اقبال نے بھی کہا ہے کہ :
وحدت کی لے سنی تھی دنیا نے جس مکاں سے
میرِ عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے، میرا وطن وہی ہے
علامہ اقبال نے ہندو رشیوں اور منیوں کی کتابیں پڑھی تھیں، ویدوں کا بھی مطالعہ کیا تھا اسی لیے انھوں نے ویدک دھرم، رام چندر جی اور کرشن بھگوان کی عظمت کو تسلیم کیا ہے اور ویدوں کے کئی شلوکوں کا منظوم ترجمہ بھی کیا ہے اور شری رام چندر کو ’’رام ‘‘ کے عنوان سے خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک نظم بھی لکھی ہے۔ انھوں نے رِگ وید کے ایک مشہور منتر ’’گایتری منتر (یعنی نغمۂ وحدت ) کا منظوم ترجمہ ’’آفتاب ‘‘ کے عنوان سے کیا ہے، جس پر انھوں نے شذرہ بھی لکھا تھا جو ’’بانگِ درا ‘‘ کے بعض نسخوں میں موجود ہے۔ اس میں انھوں نے کہا  ہے کہ سنسکرت کے لفظ سوتر کا ہم معنیٰ لفظ اردو زبان میں نہ ملنے کی مجبوری سے لفظ ’’آفتاب ‘‘ کو سوتر کا مترادف قرار دیا ہے۔ مراد اس سے آفتاب مافوق المحسوسات ہے یعنی ذاتِ پاک وحدہ لاشریک ، جسے قرآن کریم میں ’’اللہ نور ُ السمٰواتِ وَ الاَرض‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ابن عربی کا قول ہے کہ اللہ ایک نور ہے جس سے تمام چیزیں نظر آتی ہیں۔
اقبال نے ویدانتی فلسفے کا تذکرہ کرتے ہوئے دیباچۂ اسرارِ خودی میں لکھا ہے کہ :
’’بنی انسان کی ذہنی تاریخ میں سری کرشن کا نام ہمیشہ ادب و احترام سے لیا جائے گا اسی عظیم الشان انسان نے ایک نہایت دلفریب پیرائے میں اپنے ملک و قوم کی فلسفیانہ روایات کی تنقید کی اور اس حقیقت کو آشکار کیا کہ ترک عمل سے مراد ترک کلی نہیں ہے کیوں کہ عمل اقتضائے فطرت ہے اور اسی سے زندگی کا استحکام ہے بلکہ ترک عمل سے مراد یہ ہے کہ عمل اور اس کے نتائج سے متعلق دل بستگی نہ ہو۔‘‘
[بحوالہ میکش اکبر آبادی، نقدِ اقبال ، ص۔96]
عہدِ وسطیٰ میں مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور رواداری پائی جاتی تھی۔ اس زمانے میں متعدد صوفی شاعر، سنت جن میں نانک، کبیر، خسرو ، تکارام وغیرہ خاص تھے، ان تمام لوگوں نے محبت اور یگانگت کا درس دیا۔ سنت کبیر نے ذات پات، رنگ اور مذہب کی بنا پر تفریق کے خلاف آواز بلند کی۔ انھوں نے ملّاؤں اور پنڈتوں کو اپنے طنز کا نشانہ بنایا۔ ایک دوہے میں انھوں نے کہا ہے :
پنڈت کہے موہے رام پیارا تُرک کہے رحیٰما
دونوں لڑ لڑ مر گئے موا پر رام کو کوئی نہ جانا
گرونانک نے ایک ایسے مسلک کی بنیاد ڈالی جس میں دونوں مذاہب ویدک دھرم اور اسلام کی خوبیوں کو شامل کیا۔ انھوں نے ملک کے کونے کونے میں گھوم کر صوفیوں اور رِشیوں، منیوں سے ملاقات کی، ان سب کی تعلیمات اور کلام کو جمع کیا اور انھیں سِکھ دھرم کی کتاب ’’آدی گرنتھ ‘‘ کا روپ دیا۔ بابا فرید شکر گنج کی تعلیمات آج بھی آدی گرنتھ میں شامل ہیں۔ اس دور کے تمام صوفیوں نے مذہبی رواداری، امن اور باہمی میل جول کی تبلیغ کی۔ ہندوؤں کو ان کی مذہبی کتابوں اور مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں راہِ راست پر چلنے کا درس دیا۔ فرقہ وارانہ منافرت کی جگہ اعلیٰ اخلاقی قدروں کی تعلیم دی اور یہ کہا کہ خدا کا جلوہ ذرّے ذرّے میں موجود ہے۔ خواجہ معین الدین چشتی  ؒ، خواجہ نظام الدین اولیا اور بابا فرید گنج شکر جیسے صوفیائے کرام نے ہندوستان کی شاندار تہذیب میں صوفیانہ وسیع المشربی کو داخل کیا، جس سے مذہبی رواداری اور سماجی ہم آہنگی قائم ہوئی۔ حضرت امیر خسرو نے ہماری مشترکہ تہذیب میں صوفیانہ افکار کو پھیلانے کے ساتھ ساتھ اردو اور ہندی زبانوں کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ انھوں نے اپنی شاعری کو بیک وقت فارسی، اردو اور ہندی کے الفاظ سے آراستہ کیا۔ طبلے کے علاوہ موسیقی کے کئی راگ ایجاد کیے۔ قوالی کو رواج دیا اسی لیے ہندو اور مسلمان دونوں ان سے محبت اور عقیدت رکھتے ہیں۔ ان صوفیوں کے علاوہ راما نوج، شنکر آچاریہ، تیاگ راج اور راما نند جیسے شاعروں اور سنتوں کی خدمات کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
رابندر ناتھ ٹیگور نے بھی مذہبی رواداری، آپسی میل محبت کا درس دیا ہے۔ انھوں نے ’’اتحادِ زندگی‘‘ (Oneness) کے تصور کو اپنی فکر کی بنیاد بنایا ۔ ان کا احساس تھا کہ انسان اور فطرت (Nature)کے درمیان ایک قریبی رشتہ ہے۔ اس کا اظہار انھوں نے اپنی ایک نظم میں بھی کیا ہے :
My heart is full, full of joy, no one is out side, all are within my heart.
ایک دوسری نظم میں وہ کہتے ہیں :
Come brothers, come, plunge into this stream of life, to be carried away with the world current in company with the sun, moon and stars.
ٹیگور کی نظموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف انسان اور فطرت کے گہرے اتحاد کو شدت سے محسوس کرتے تھے بلکہ انسان اور خالق کائنات کے درمیان بھی گہرے اتحاد کو محسوس کرتے تھے۔ ان کا اعتقاد تھا کہ کل کائنات ایک اکائی ہے کیوں کہ خدا بھی ایک ہے۔ کبیر کی تعلیمات اور ان کے فلسفے کا اثر بھی ان کی شاعری پر پڑا تھا جس کی وجہ سے انھوں نے مذہبی انتہا پسندی کے روییّ کی مخالفت کی۔
’’بال سنگیت ‘‘ (Baul songs) میں پائی جانے والی سادگی نے بھی سماجی منافرت ختم کرنے میں اہم کردار نبھایا تھا۔ بال سنگیت دراصل بنگال کے گاؤں گاؤں میں گھوم گھوم کر گایا جانے والا وہ علاقائی سنگیت ہے جو انسانی ہمدردی اور آپسی محبت کا درس دیتا ہے۔ اس سنگیت سے جو پیغام ملتا ہے اس کے مطابق خدا انسان کے دل میں رہتا ہے اس لیے انسانوں سے نفرت کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
صوفیوں اور سنتوں کے نظریات اور افکار کو عوام تک پہنچانے میں شاعروں نے بھی اہم کردار نبھایا ہے۔ دراصل شاعری وہ ذریعۂ اظہار ہے کہ کوئی بھی فلسفہ یا صوفیانہ فکر شاعر کے دل سے نکل کر قاری اور سامع کے دل تک پہنچتی ہے۔ شیخ محی الدین ابن عربی نے انسان اور کائنات کے درمیان جو رشتہ ہے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کائنات عین واحد ہے اور اس عینیت کا اثبات وہ یا تو کائنات کے وجود کے انکار سے کرتے ہیں یا پھر خدائے واحد کے اقرار سے کرتے ہیں۔ کائنات کے وجود کی نفی کرتے ہوئے انھوں نے پہلے یہ کہا کہ ’’کائنات جیسی کہ وہ ہے اسے غیر حقیقی اور واہمہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ ‘‘ آگے انھوں نے کہا کہ وجود اگر ہے تو صرف خدا کا ہے۔ کائنات اور اس کی کثرت اگر موجود ہے تو وہ اسی خدا کی پرچھائیں ہے۔
ابن عربی کے انھی خیالات کا عکس غالب کے ہاں نظر آتا ہے۔  ان کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے ۔
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
غالب نے اس دنیا کو بازیچۂ اطفال قرار دے کر صوفیوں کے اس نظریے کی تائید کی ہے جس کی رو سے دنیا کی حقیقت فریبِ نظر کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ غالب نے اسی خیال کی مزید وضاحت مندرجۂ ذیل اشعار میں کی ہے :
ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسدؔ
عالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے
ہاں کھائیو مت فریبِ ہستی
ہر چند کہیں کہ ہے، نہیں ہے
یعنی تمام دنیا وہم و خیال کے جال کا ایک حلقہ ہے اس لیے ہستی کو ہستی نہیں بلکہ نیستی سمجھنا چاہیے اور ہستی کے فریب میں نہیں آنا چاہیے کیوں کہ ہستی کے فریب میں پھنس کر انسان حقیقت سے دور ہو جاتا ہے۔ اسی نظریے کی تائید کرتے ہوئے فانی نے بھی کہا ہے۔
جلوۂ غیب شہود ہے پھر بھی غیب کے جلوے غیب میں ہیں
نظارہ نظر میں شامل ہے نظارے میں شامل کوئی نہیں
تجلیاتِ وہم ہیں مشاہداتِ آب و گِل
کرشمۂ حیات ہے خیال وہ بھی خواب کا
فانی نے مزید کہا ہے کہ ہستی تو صرف ایک ہے یعنی حقیقی ہستی۔ باطل ہستی کچھ نہیں :
ہستی ہی نہیں جو باطل ہو پھر فرقِ مجاز و حقیقت کیا
یہ عرض حقیقت ہے وہ حقیقت ہستیِ باطل کوئی نہیں
اک حق کے سوا کوئی ہستی ہی نہ تھی یارب
یوں میرے سر آنکھوں پر تمیئز حق و باطل
صوفی اپنی ہستی کی نفی کو عین تصوف سمجھتے ہیں۔ لیکن اصغر نے اس کو کس خوبی سے ادا کیا ہے :
اصغر حریمِ عشق میں ہستی ہی جرم ہے
رکھنا کبھی نہ پاؤں یہاں سر لیے ہوئے
صبا اکبر آبادی بھی غالب کی طرح صوفیوں کے اس نظریے سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں :
کب تک نجات پائیں گے وہم و یقیں سے ہم
الجھے ہوئے ہیں آج بھی دنیا و دیں سے ہم
غالب پھر یاد آتے ہیں :
جز نام نہیں صورتِ عالم مجھے منظور
جز وہم نہیں ہستی اشیا مرے آگے
ہے غیبِ غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں
شاعر کہتا ہے کہ انسان جسے شہود یعنی حق سمجھتا ہے وہ دراصل غیب الغیب ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے انسان خواب میں اپنے آپ کو بیدار سمجھتا ہے اپنی تمام حرکات و سکنات کو حقیقت سمجھتا ہے لیکن حقیقت میں وہ خوابِ غفلت میں ہوتا ہے۔ دورانِ سلوک صوفیوں کو موجوداتِ عالم میں جب حق ہی حق نظر آئے تو اس مقام کو شہود اور غیبِ غیب کو مرتبۂ احدیت کہتے ہیں۔ واضح رہے کہ مرتبۂ احدیت انسانی عقل و ادراک سے ماورا ہے :
تھک تھک کے ہر مقام پہ دو چار رہ گئے
تیرا پتہ نہ پائیں تو ناچار کیا کریں
اسی خیال کا اظہار فانی نے اس طرح کیا ہے:
مجھے بلا کے یہاں آپ چھپ گیا کوئی
وہ میہماں ہوں جسے میزباں نہیں ملتا
دراصل خدا غیب الغیب ہے اس کا پتہ کہیں نہیں ملتا۔ اسی لیے مقاماتِ سلوک و معرفت کی جستجو میں ہمیشہ کوشاں رہنے کے باوجود سالک کی رسائی منزلِ مقصود تک نہیں ہو پاتی اور وہ سلوک کے مختلف مقامات میں پھنس کر رہ جاتا ہے۔ اسی لیے غالب نے کہا ہے :
کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہے
پردہ چھوڑا ہے وہ، اس نے کہ اٹھائے نہ بنے
یعنی خدا نے عالمِ امکاں پر رنگا رنگی اور کثرت کے ایسے پردے ڈال دیے ہیں کہ انھیں اٹھا کر حقیقت کو دریافت نہیں کیا سکتا ہے۔
مظاہر کائنات اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے خالقِ ہستی کا مکمل آئینہ نہیں ہیں۔
کثرت آرائی وحدت ہے پرستاری وہم
کر دیا کافر ان اصنامِ خیالی نے مجھے
وجود ایک ہے اور کائنات کی ہر وہ شے جو اس کے ماسوا ہے دراصل اسی وجودِ واحد کا ایک مظہر ہے، لیکن عینیت کا یہ باطنی مشاہدہ کوئی مستقل تجربہ نہیں ہے اس لیے ابن عربی نے ایک نئے تجربے ’’فرق بعد الجمع ‘‘ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اگر کوئی چاہے تو یہ کہہ سکتا ہے کہ جو کچھ حقیقی طور پر موجود ہے وہی خدا ہے اور اگر کوئی چاہے تو اسی کو کائنات بھی کہہ سکتا ہے۔ ‘‘ خدا ایک ہے لیکن اس کا جلوہ دنیا کے ہر ذرّے میں موجود ہے یعنی وحدت ، کثرت میں جلوہ گر ہے۔ غالب اس نظریے کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وحدت کی حقیقت کو سمجھے بغیر کثرت کو یقینی سمجھنا وہم ہے اس لیے کہا کہ کثرتِ اصنامِ خیالی نے مجھے کافر بنا دیا۔ غالب کا خیال ہے کہ خدا کی ذات باہمہ اور بے ہمہ کے مصداق ہے۔ اس لیے ایک دوسرے شعر میںکہتے ہیں کہ  :
ہر چند ہر ایک شے میں تُو ہے
پر تجھ سی کوئی شے نہیں ہے
یعنی خدا کا جلوہ ہر شے میں موجود ہونے کے باوجود بھی خدا جیسی کوئی چیز عالمِ جسمانی میں نہیں ہے۔
جز نام نہیں صورتِ عالم مجھے منظور
جز وہم نہیں ہستیِ اشیا مرے آگے
صوفیوں کا خیال یہ ہے کہ عالم اور اشیائے عالم اور اشخاص موجود نہیں ہیں بلکہ اعیان ثابتہ ہیں اور خدا کا علم ازلی اور ابدی ہے۔ کائنات اور خدا کے درمیان جو رشتہ ہے اس سلسلے میں شیخ اکبر کہتے ہیں کہ یہ کائنات بھی عین واحد ہے۔ اس لیے اس عینیت کا اثبات یا تو وہ ’’ کائنات کے وجود ‘‘ کی نفی یعنی انکار سے کرتے ہیں یا خدا کے اثبات سے۔ کائنات کے وجود سے انکار کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں :
’’کائنات جیسی کہ وہ ہے، اسے محض نام نہاد، غیر حقیقی اور واہمہ ہی کہا جا سکتا ہے، جو معروضی طور پر غیر موجود ہے۔ وجود صرف خدا ہی کا ہے۔ یہ کائنات اور اس کی کثرت اگر موجود ہے تو اس کی حیثیت اسی ’وحدت تامہ ‘ کے شیون کی سی ہے۔ پہلی صورت میں شیخ کہتے ہیں کہ کائنات خارج میں معدوم ہے۔ آپ کا قول ہے کہ : ’’ الاعیان ماشمت رائحۃ من الوجود ‘ (یعنی اعیان ثابتہ نے وجود خارجی کی بوتک نہیں سونگھی۔)
[فلسفے کے بنیادی مسائل، قاضی قیصر الاسلام، ص: 441]
دوسری صورت میں وہ کہتے ہیں کہ  :
’’عالم ہی خدا ہے۔ یہ اسی ذات واحد کی تجلی ہے جس میں اس وحدت مطلقہ نے اپنے تئیں ظہور کیا اور ان تجلیات میں یہ وحدت کلی طور پر گم ہو گئی ہے۔ ان تجلیات کے ماورا وحدت کا الگ تھلک اپنا کوئی وجود نہیں، یعنی ما بعد ہذا الاالعدم المحض۔ (ان تجلیات کے ماورا عدم محض کے علاوہ کچھ نہیں)۔ لہٰذا سالک کے لیے اس عالم سے ماورا خدا کی جستجو فضول ہے۔ ‘‘
اب عربی کے مطابق خدا یا وجود مطلق ان ہی صفات کا عین ہے اور یہی صفات خود کو تجلیات میں منکشف کرتی رہتی ہیں۔ اس لیے اگر یہ کہا جائے کہ جو کچھ حقیقی طور پر موجود ہے وہی خدا ہے یا جو کچھ حقیقی طور پر موجود ہے وہی کائنات بھی ہے۔ ابن عربی کے اس نظریے سے متاثر ہو کر غالب نے اپنی ایک غزل کے مقطعے میں ہستی اور عدم کے وجود سے پہلے انکار کیا ہے پھر سوال کیا ہے کہ اگر یہ دونوں نہیں ہیں تو خود غالب کی ہستی کیا ہے ؟
ہستی ہے، نہ کچھ عدم ہے غالب
آخر تو کیا ہے، ہے نہیں ہے
خدا اور کائنات کے متعلق شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ غالب نے حقیقت کو دریافت کر لیا ہے۔
دہر جز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں
ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خودبیں
اس شعر میں وحدت الوجود کے اُس نظریے کو پیش کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ کائنات جسے عالمِ کثرت سے تعبیر کیا جاتا ہے اصل میں خدائے واحد کا مظہر ہے اسے بنائے جانے کا مقصد ظہورِ حسنِ مطلق ہے یعنی خدا نے یہ دنیا اس لیے بنائی کہ وہ خود کو اس دنیا کے آئینے میں دیکھ سکھے اور ساتھ ہی اسے پہچانا جا سکے۔
صبا اکبر آبادی کے اس شعر میں اسی نظریے کو پیش کیا گیا ہے :
دنیا کو دیکھ کر انھیں کیا دیکھتے صبا
گم ہو گیا صفات میں احساس، ذات کا
اسی خیال کو فارسی کے ایک شعر میں اس طرح کہا گیا ہے ۔
جلوہ و نظارہ پنداری کہ از یک گوہر است
خویش را در پردۂ خلقے تماشا کردہ ای
اس نظریے کی وضاحت مندرجۂ ذیل اشعار سے بھی ہوتی ہے۔ جس طرح آفتاب کی شعاعوں سے ذرّے جیسی بے جان شے میں حرکت اور روشنی پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح خدا کی ذات کے پر تو کی بدولت تمام موجوداتِ عالم ظاہر ہوئے ہیں یعنی خدا کی تجلی ہی موجوداتِ عالم کا سبب ہے:
ہے تجلی تری سامانِ وجود
ذرّہ بے پر تو خورشید نہیں
ہے کائنات کو حرکت تیرے ذوق سے
پر تو سے آفتاب کے ذرّے میں جان ہے
جگر مراد آبادی نے اسی مضمون کو انتہائی ندرت سے بیان کیا ہے۔ جگر کا شعر ہے :
ایک ذرے کا اگر نور نمایاں ہو جائے
آدمی کثرتِ انوار سے حیراں ہو جائے
غالب نے ایک دوسرے شعر میں کہا ہے :
آرائشِ جمال سے فارغ نہیں ہنوز
پیشِ نظر ہے آئینہ دائم نقاب میں
یعنی خدا تعالیٰ اس دنیا کو خوبصورت بنانے کا کام مسلسل کر رہا ہے تاکہ اس میں وہ اپنا جلوہ دیکھ سکے دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ دنیا خدا کا مظہر ہے۔ غالب نے دراصل اس شعر میں شیخ ابن عربی  ؒ کے اس نظریے کو بھی پیش کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’یہ عالم ہر آن فیضان وجود حاصل کر رہا ہے۔ ‘‘ حضرت شاہ نیاز ؒ نے بھی اس نظریے کو ایک شعر میں اس طرح بیان کیا ہے۔
از تقاضائے حبِ جلوہ گری
آمد اندر حصارِ شیشہ پری
صوفیائے کرام کے مطابق یہ نظریہ اس حدیثِ قدسی سے ماخوذ ہے۔ ’’ کنت کنز مخفیا فاحبت ان اعرف فخلقت الخلق ‘‘ یعنی میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں اس لیے مخلوق کو پیدا کیا۔ اس سلسلے میں ابن عربی کا نقطۂ نظریہ ہے :
’’وجود ایک یا واحد ہے اور بس صرف یہی موجود ہے۔ یہی وجود واحد خدا ہے، اللہ ہے، ذات حق ہے، حقیقت مطلقہ ہے جو اپنے مختلف ناموں سے معروف ہے۔ ہر وہ شئے جو اس کے علاوہ یا اس کے ماسوا ہے، محض اسی وجود واحد کا ایک مظہر ہے۔ گویا یہ کائنات ، یہ سارے کا سارا عالمِ فطرت اسی خدا کا عین ہے۔ کائنات کی اللہ سے عینیت کو ہم اس کی ذات و صفات کے تناظر میں ہی مدرک کرتے ہیں۔ یعنی جوہر کی عینیت کی بنا پر۔ گویا یہ تمام کائنات اسی وجود مطلق کی ’تجلی ‘ ہے یا پھر یوں کہیے کہ یہ تمام عالم ظواہر اسی ’وجودتامہ ‘ کے صدور کی ایک صورت ہے۔ ‘‘
[فلسفے کی بنیادی مسائل، قاضی قیصر الاسلام ، ص :439]
اس نظریے کی وضاحت کے لیے غالب نے مختلف قسم کے الگ الگ رنگوں کے پھولوں کو مثال کے طور پر پیش کیا ہے :
ہے رنگِ لالہ و گل و نسریں جدا جدا
ہر رنگ میں بہار کا اِثبات چاہیے
یعنی موجوداتِ کائنات اپنے رنگ روپ کے اعتبار سے مختلف ہیں لیکن ان سب میں خدا کا جلوہ موجود ہے۔
صوفیانہ نظریے کے مطابق خدا واحد ہونے کے باوجود ہر ذرّے میں موجود ہے۔ یعنی قطرے میں دریا اور جُز میں کُل ہے جسے دیکھنا بچوں کا کھیل نہیں ہے بلکہ اسے دیکھنے کے لیے دیدۂ بینا یعنی عارف کی آنکھ درکار ہے۔ غالب کہتے ہیں :
قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جُزو میں کُل
کھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینا نہ ہوا
ویدانت اور بدھ مت کی نفیِ خودی (مکتی، نروان ) کے نظریے کے مطابق جس طرح سمندر کُل اور قطرہ اس کا جز ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ واحد ہونے کے باوجود بھی اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے بے کراں ہے اور انسان اس کا جز ہے۔ قطرہ (یعنی جز ) سمندر میں مل کر کُل (یعنی سمندر ) بن جاتا ہے جو سعادت کا وسیلہ ہے۔ اسی طرح انسان بھی جو جز ہے فنا ہو کر کُل یعنی خدا تعالیٰ سے مل کر کُل بن جاتا ہے۔ اس حقیقت کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ فنا ہی کائنات کی تمام اشیا کی شیرازہ بندی کی ضمانت ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ صرف فنا کے ذریعے ہی روح سے مادے کا وصال ہو سکتا ہے۔ افلاطون کا بھی یہی خیال ہے کہ اشیاے عالم اپنی اصل کی طرف بازگشت کرتی ہیں۔ افلاطون وہ پہلا فلسفی تھا جس نے روح کے تصور کو روحانی جوہر کی حیثیت سے روشناس کرایا۔ اس کا خیال تھا کہ انسانی روح کائنات کی روح کی ہی ایک قسم ہے جو ابدی اور لافانی جوہر ہے اور اس کی فطری جگہ عالمِ مثال ہے جہاں اس نے پہلی بار بغیر جسم کے وجود پایا۔ انسان چونکہ ان سب سے افضل اور ان تمام مظاہرِ صفات میں سب سے اکمل ہے اسی لیے سب سے زیادہ مرتبۂ لا تعین سے جدائی کی شکایت کرتا ہے اور وصال کے لیے ہمیشہ بے قرار رہتا ہے۔ رومی کا شعر ہے :
 بشنو ازنے چوں حکایت می کند
وز جدائی ہا شکایت می کند
غالب نے اس نظریے کو مندرجۂ ذیل اشعار میں یوں بیان کیا ہے۔
عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
نظر میں ہے ہماری جادۂ راہِ فنا غالب
کہ یہ شیرازہ ہے عالم کے اجزائے پریشان کا
رونقِ ہستی ہے عشقِ خانہ ویراں ساز ہے
انجمن بے شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں
عالم تعینات میں آکر ذات نے مظاہر کائنات کی صورت اختیار کر لی اور یہ مانا گیا کہ تمام مظاہر بالطبع اسی سابق مرتبۂ لاتعین کی جانب بازگشت کرنے کی آرزو رکھتے ہیں ، فانی  نے اسے عشق کا نام دیا ہے:
حسن ہے ذات تری عشق صفت ہے میری
ہوں تو میں شمع مگر بھیس ہے پروانے کا
اصغر نے اسی خیال کو اس طرح ادا کیا ہے :
کار فرما ہے فقط حسن کا نیرنگِ کمال
چاہے وہ شمع بنے چاہے وہ پروانہ بنے
غالب نے اس نظریے کی مزید وضاحت مندرجۂ ذیل شعر میں اس طرح کی ہے۔
ہے مشتمل وجودِ صور پر وجودِ بحر
یاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں
یعنی قطرہ، موج اور حباب وغیرہ سمندر کا ہی حصہ ہیں لیکن سمندر سے الگ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجوداتِ عالم کی ہستی وجودِ واجب میں مضمر ہے۔ اسی سلسلے کے مندرجۂ ذیل اشعار بھی قابلِ غور ہیں۔
دلِ ہر قطرہ ہے سازِ انا البحر
ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا
قطرہ اپنا بھی حقیقت میں ہے دریا لیکن
ہم کو تقلیدِ تنک ظرفی منصور نہیں
پانی کا قطرہ جو سمندر کا ایک ادنیٰ ساجُز ہے، اس کے دل سے یہ آواز نکلتی ہے کہ وہ بھی سمندر کا حصہ ہے اور سمندرمیں مِل کر سمندر ہو جانے کا دعویٰ پیش کرتا ہے۔ اس لیے انسان بھی یہ دعویٰ پیش کر سکتا ہے کہ وہ خدا کا قائمقام ہے کیوں کہ انسان بھی خدا کا جز ہے۔ دوسرے شعر میں غالب نے کہا ہے کہ وہ منصور کی نقل میں ’’انا الحق ‘‘ کہنے سے گریز کرتے ہیں لیکن دل میں انا الحق ہی کہتے ہیں کیوں کہ صحیح معنوں میں قطرہ دریا ہی ہے یعنی انسان حقیقت میں خدا کا پر تو ہے۔
اسی خیال کو فانی نے اس طرح ادا کیا ہے :
ہے اتصالِ قطرہ و دریا پہ منحصر
وہ آبروئے قطرہ کہ دریا کہیں جسے
اس جگہ کو حاصل ہے اعتبار ساحل کا
حد جہاں پہ قطرے کی مل گئی ہے دریا سے
فانی نے اسی نظریے کو صحرا اور ذرّے کی مثال دے کر بھی سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا خیال ہے صحرا کی سعی بروئے کارآتی ہے تو ذرّے کی ہستی موہوم نمایاں ہونے لگتی ہے اور جب ذرّہ اعتبار بہم پہنچا لیتا ہے تو صحرا میں جذب ہو کر خود صحرا بن جاتا ہے۔
صحرا کا اجتہاد ہے ذرّے کی ہر نمود
ذرّے کا اعتبار ہے صحرا کہیں جسے
غالب نے ایک شعر میں کہا ہے کہ وہ ہستی پاکر خدا کی ذات سے الگ ہو گئے اس لیے اس ہستی سے نیستی اچھی ہے۔ اس کے لیے دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ دنیا کے وجود میں آنے سے پہلے خدا تھااور اگر دنیا وجود میں نہ آتی تو بھی خدا کا وجود ہوتا۔ اس لیے انھیں اگر پیدا نہ کیا گیا ہوتا تو وہ خدا ہوتے :
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
ماہرین ِ تصوف کے مطابق تصوف کی فنا، ویدانت اور بدھ مت کی فنا سے مختلف ہے۔ میکش اکبر آبادی نے تصوف کی فنا سے بحث کرتے ہوئے ’’ لوائح جامی ‘‘ کے حوالے سے ’’نقدِ اقبال ‘‘ میں لکھا ہے :
’’فنا کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کے باطن پر خدا کی ہستی کے ظہور کا غلبہ ہو تو سوائے خدا کے کسی شے کا علم و شعور باقی نہ رہے اور فنا ء الفنایہ ہے کہ اس بے شعوری کا بھی شعور نہ رہے۔ ‘‘
[نقدِ اقبال، ص۔117]
اس نظریے کی روشنی میں آتش کا یہ شعر ملاحظہ کیجیے :
دکھلا کے جلوہ آنکھوں نے اک شمعِ نور کا
گل کر دیا چراغ ہمارے شعور کا
ابن عربی خدا اور انسان کے درمیان قرب و معیت کی نسبت کے لیے قرآن کی یہ آیت پیش کرتے ہیں: ’’نحن اقرب الیہ من حبل الورید‘‘ (ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔]  اور اس آیت کی تاویل ابن عربی اس طرح کرتے ہیں کہ خدا خود بندے کے وجود میں موجود ہے اپنے اس نظریے کی تائید میں وہ ایک حدیث بھی پیش کرتے ہیں : ’’ خلق الادم علی صورتہ ‘‘ (یعنی خدا نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا )۔ ابن عربی یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ انسان صفاتِ ربانی کا مجسمہ ہے۔ مظاہرِ اسمائے الہٰیہ میں انسان کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہوئے انھوں نے اپنی کتاب فصوص الحکم میں تمام عالم کو انسانِ کبیر سے اور شانِ الوہیت کو روح سے تشبیہ دے کر فرمایا ہے کہ انسان جب تک اس دنیا میں پیدا نہیں ہوا تھا اس وقت تک عالم بے جان جسم کی مانند تھا کیوں کہ اس میں حاکمانہ شان نہیں تھی۔ جب انسان پیدا ہوا تو عالم کے جسم میں جان آ گئی اور وہ مکمل انسان ہو گیا۔ یعنی خدا تعالیٰ کی حاکمانہ شان صرف انسانوں میں ہی منعکس ہوتی ہے۔ آتش نے اس تصور کی ترجمانی اس شعر میں کی ہے۔
ظہورِ آدم خاکی سے یہ ہم کو یقیں آیا
تماشا انجمن کا دیکھنے خلوت نشیں آیا
علامہ اقبال نے ذاتِ خداوندی کے اپنے اسما و صفات میں متعین ہو کر اس عالمِ شہود میں ظہور کرنے کی توجیہ یہ پیش کی ہے ذاتِ باری تعالیٰ خود گوہر زندگی کی جستجو میں مضطرب رہتی ہے کیوں کہ یہ گوہر نایاب اسی ایک بحرِ عظیم کا قطرۂ سیمابی ہے۔ اقبال نے اس گوہر نایاب کو کائنات اصغر سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے کہ انسان پر حقیقتِ الوہی کے اسرار و رموز خود بخود منکشف ہوتے چلے جاتے ہیں اور اسے پیہم یہ احساس ہوتا رہتا ہے کہ واجب الوجود اور انسان کی روح کے درمیان جو پردہ تھا وہ ہٹ گیا :
نمود اس کی نمود تیری، نمود تیری نمود اس کی
خدا کو تو بے حجاب کر دے، خدا تجھے بے حجاب کر دے
الغرض صوفیانہ افکار کے مطابق اس دنیا میں کہیں بھی کوئی بھی شے ایسی نہیں ہے جس میں خدا کا جلوہ موجود نہ ہو تو پھر مذہب ، نسل ، علاقائیت اور زبان کو بنیاد بنا کر سماج میں منافرت پھیلانے والوں کے دام میں ہم کیسے پھنس جاتے ہیں ۔
"Pre-Established harmony" کے متعلق لائبنیز کے فلسفے ، ویدک دھرم اور دین اسلام کے متعلق اہلِ علم حضرات کے خیالات اور صوفیوں کے افکار کا جو جائزہ اوپر پیش کیا گیا اس کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ جو ہم آہنگی فطرت کے نظام میں ہے وہی ہم آہنگی سماجی سطح پر بھی ہونی چاہیے کیوں کہ سماج نظامِ فطرت سے الگ کوئی چیز نہیں ہے۔

پتہ :
شیخ عقیل احمد
Reader
Deptt. of Urdu
Satyawati College, Delhi University,
Delhi


 سہ ماہی ’ فکر و تحقیق، جنوری تا مارچ 2010 




کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں