بدھ، 9 نومبر، 2022

تحریک آزادی اور اردو فکشن: مسرت


 1857کی ناکام بغاوت نے ہندوستانیوں کے دلوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا اور انگریزوں نے مکمل طور پر ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔ان حالات سے ادب بھی اچھوتانہیں رہا۔ جنگ آزادی میں اردو فکشن نے بھی مثبت کردار ادا کیا۔ اردو ناول نگاروں کے یہاں بھی آزادی کی تڑپ دکھائی دیتی ہے۔ اردوافسانوں کے ساتھ ساتھ اردو ناولوں میں بھی آزادی کی کسک اور ظالم و جابر حکومت کے خلاف شدید غم و غصہ اور احتجاج نظر آتا ہے۔

 اردو افسانوں اور اردو ناولوں میں تحریک آزادی کے زیر اثر ناول نگار ہندوستانیوں کے شعور کو بیدار کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اردو ناولوں میں چند ایک ایسے ناول ہیں جو اردو کا شاہکار کہے جا سکتے ہیں۔ افسانوں کے ذریعے بیشتر ادیبوں نے اپنے خیالات کا اظہار تحریک آزادی کے جذبے سے مغلوب ہوکر کیا ہے۔ آزادی سے قبل بھی چند ایک افسانے اور ناول منظر عام پر آئے جن میں قوم کے تئیں بیداری اور غلامی کی زنجیروں سے آزادی کا جذبہ موجود رہا۔پریم چند کی کہانیوں کا مجموعہ’سوز وطن‘(1908)میں حب الوطنی کی جھلک نظر آتی ہے۔ سوز وطن پانچ کہانیوں پر مشتمل افسانوی مجموعہ ہے جس میں ’ دنیا کا سب سے انمول رتن‘،’شیخ مخمور‘،’میرا وطن ہے‘،’صلہ ماتم‘،’عشق دنیا‘اور ’ حب وطن‘شامل ہیں۔’سوز وطن‘ کے بیشترافسانوں میں بغاوت اور حب الوطنی کا جذبہ کارفرما ہے۔ ’یہی میرا وطن ہے‘میں ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو اپنے دیس سے دور دوسرے ملک میں طویل مدت تک رہا ہے اور اب اپنے وطن واپس آیا ہے۔

عشق دنیا‘اور ’حب الوطنی‘ میں بھی یہی جذبہ کارفرماہے۔سوز وطن کی تمام کہانیوں میں وطن کے تئیں عقیدت اور احترام کا جذبہ نظر آتا ہے۔ ان کے نزدیک وطن سے محبت ہی سچی عقیدت کی نشانی ہے۔یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

جوان مرد کی آواز مدہم ہوگئی۔ اعضا ڈھیلے ہوگئے۔ خون اس کثرت سے بہا کہ اب خود بخود بند ہو گیا۔ رہ رہ کر ایک آدھ قطرہ ٹپک پڑتا تھا۔ آخر کار سارا جسم بیدم ہو گیا۔ قلب کی حرکت بند ہو گئی۔ اور آنکھیں مند گئیں۔ دلفگار نے سمجھا اب کام تمام ہو گیا کہ مرنے والے نے آہستہ سے کہا۔ ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ اور اس کے سینے سے آخری قطرہ خون نکل پڑا۔

ایک سچے محب وطن اور دیس بھگت نے حب الوطنی کا حق ادا کر دیا۔ دلفگار اس نظارے سے بیحد متاثر ہوا۔ اور اس کے دل نے کہا بیشک دنیا میں اس قطرہ خون سے بیش قیمت شے نہیں ہو سکتی۔ اس نے فوراً اس رشک لعل رمّانی کو ہاتھ میں لے لیا۔اور اس دلیر راجپوت کی بسالت پر عش عش کرتا ہوا عازم وطن ہوا۔اور وہی سختیاں جھیلتا ہوا بالاآخر ایک مدت دراز میں ملکہ اقلیم خوبی اور در صدف محبوبی کے در دولت پر جا پہونچا۔ اور پیغام دیا کہ دلفگار سرخرو و کامگار لوٹا ہے اور دربار گہر بار میں حاضر ہونا چاہتا ہے۔ دلفریب نے اسے فوراً حاضر ہونے کا حکم دیا۔

ایک دوسرا اقتباس ملاحظہ کریں:

’’وہ آخری قطرہ خون جو وطن کی حفاظت میں گرے، دنیا کی سب سے بیش قیمت شے ہے۔‘‘

)افسانہ:دنیا کا سب سے انمول رتن(

اس افسانے میں حب الوطنی کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔وطن پر مر مٹنے والا ہی دراصل سچا محب وطن اور قوم پرست ہوتا ہے۔       

پریم چند نے افسانوں کے ساتھ ساتھ ناولوں میں بھی حب وطن کے جذبے کو پیش کیا ہے۔ گئودان، میدان عمل اور گوشۂ عافیت میں انھوںنے تحریک آزادی کے جذبے کو اول مقام پررکھا ہے۔ پریم چند کا زمانہ بیسویں صدی کا ابتدائی زمانہ تھا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب بہت سی سیاسی تحریکات جنم لے چکی تھیں۔ پریم چند نے اپنے ناولوں میں سیاسی مکر و فریب، محنت کش عوام، مزدور طبقہ اور معاشی طور پر پست طبقات کے لوگوں کی نشان دہی کی ہے۔ پریم چند کی ناول نگاری سے متاثر ہوکر ستیہ پال آنند لکھتے ہیں:

’’پریم چند نے تحریک آزادی کے تین ادوار دیکھے۔ انھوں نے بیسویں صدی کے پہلے برس یعنی 1901میں لکھنا شروع کیا اور1936میں اپنی موت کے آخری دن تک باقاعدگی سے لکھتے رہے۔ اس لمبے عرصے میںانھوں نے تیرہ ناول اور لگ بھگ تین سو افسانے لکھے۔ ان میں سے کئی افسانے اب تک اردو میں شائع نہیں ہوئے۔36برس کے اس سفر میں پریم چند نے جو لکھا اس کا اگر بنظر غور مطالعہ کیا جائے تو اس عہد کی سماجی، سیاسی اور معاشی زندگی کی صحیح تصویر مل سکتی ہے۔ ہماری آزادی کی تحریک کے یہ تین ادوار سماجی، سیاسی اور معاشی زندگی کا ایک اہم حصہ ہیں۔

)تحریک آزادی میں اردو کا حصہ، مرتبناشر نقوی،1988، ہریانہ اردو اکادمی پنچکولہ، بالی گرافر پریس، فرید آباد، ہریانہ(

پریم چند کی ناول نگاری کا زمانہ سیاسی انتشار اور سماجی سطح پر بہت سی تبدیلیوں کا زمانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ان کے بیشتر ناولوں کے کردار آزادی کی حمایت کرتے ہیں اور آزادی کے گیت گاتے ہیں۔ ترقی پسند تحریک کی ابتدا کے بعد پریم چند کا دور ختم ہو گیا۔انجمن ترقی پسند مصنفین کا قیام 1935میں ہوا اس کے ایک سال بعد پریم چند اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ اس زمانے میں تحریک آزادی کی لڑائی اپنے عروج پر تھی۔ اس دور میں بہت سے ادیبوں اور فکشن نگاروں نے اپنی نگارشات میں تحریک آزادی کے جذبے کو فروغ دیا۔ اس دور کے ناول نگاروں میں سجاد ظہیر، کرشن چندر،عصمت چغتائی، مرزاسعید، اپندر ناتھ اشک، عزیز احمد، رشید اختر ندوی، رشید جہاں، فضل حق قریشی، اشرف صبوحی، انصار ناصری وغیرہ کے نام ابھر کر سامنے آئے۔ان تمام فکشن نگاروں کے یہاں ذہنی خلفشار، معاشی بحران، طبقاتی کشمکش نظر آتی ہے۔ ذہنی الجھنوں کے ساتھ ساتھ بہت سے نئے موضوعات کے ارد گرد ان کے ناول گھومتے ہیں۔عصمت چغتائی کے ناول’ٹیڑھی لکیر‘میں بھی اس نوع کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ کرشن چندر کے ناول’شکست‘،سجاد ظہیر کے ناول ’لندن کی ایک رات‘اور عزیز احمد کے ناول ’گریز‘میں دبا دبا احتجاج اور سیاسی رسا کشی واضح انداز میں سامنے آتی ہے۔

عصمت چغتائی کے ناول ’ٹیڑھی لکیر ‘ میں حب الوطنی کا جذبہ موجود ہے۔اس ناول میں بہت سی عبارتیں وطن پرستی کو ظاہر کرتی ہیں۔ ایک نسائی کردار کو بٹلر سے عشق ہوگیا ہے لیکن اسے انگریزوں سے نفرت بھی تھی۔

’’تم ان عمارتوں کے لیے خود سے لڑ رہے ہو، پر ہمیں بھی بارود کی جگہ جھونک رہے ہو۔‘‘اس نے انتہائی زہریلے انداز سے کہا کہ بٹلر جو پرشوق نگاہوں سے تصویروں کو دیکھ رہا تھا کھسیانہ ہو گیا اور اس کا منہ اتر گیا۔(ناولٹیڑھی لکیر(

کرشن چندر نے گو کہ فطرت کی منظر کشی کی ہے لیکن تحریک آزادی کے جذبے سے مملو ان کے ایک دو افسانے بھی منظر عام پر آئے۔ترقی پسند تحریک کے زیر اثر طبقاتی کشمکش ، استحصال اور غلامی کے خلاف بغاوت، عدم مساوات جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔ آزادی کے متوالوں نے اس ضمن میں بھی اپنے انمٹ نقوش چھوڑے۔ ان افسانہ نگاروں کے یہاں فکر و شعور اور کمال فن کے اعلیٰ نمونے نظر آتے ہیں۔ ’دو فرلانگ لمبی سڑک‘ کرشن چندر کا اہم افسانہ ہے۔یہ افسانہ طنزیہ لہجے میں لکھا گیا ہے۔ اس افسانے میں پورے ملک کی مجموعی سیاست اور حالات کی منظر کشی کی گئی ہے اورمعاشرے کی صورت حال کا بیان واضح انداز میں سامنے آیاہے۔حیات اللہ انصاری کا افسانہ’آخری کوشش‘ان کا نمائندہ افسانہ قرار دیا جا سکتا ہے۔احمد علی کے افسانے’ہماری گلی‘،اور ’میراکمرہ‘ سعادت حسن منٹو کا ’نیا قانون‘ اہمیت کے حامل افسانے قرار دیے جا سکتے ہیں۔

احمد ندیم قاسمی، غلام عباس، ابراہیم جلیس، اختر اورینوی، حسن عسکری، بلونت سنگھ، اپندر ناتھ اشک اور خواجہ احمد عباس کے نام افسانہ نگاری کے میدان میں نظر آتے ہیں۔سعادت حسن منٹو کے اہم افسانوں میں شرابی، سوراج کے لیے، اور’نیا قانون‘میں تحریک آزادی کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔’نیا قانون‘ اس دور میں لکھا گیا جب ہمارا ملک انگریزوں کے زیر اقتدار تھا۔ منگو کوچوان جو اس افسانے کا اہم کردار ہے اس کو انگریزی حکومت سے چڑ تھی اور وہ چاہتا تھا کہ اس کا ملک انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہو جائے۔ منگو کوچوان اگرچہ پڑھا لکھا نہیں ہے پھر بھی وہ انگریزوں کی غلامی سے ہندوستان کو آزاد دیکھنا چاہتا ہے۔اس کو ایک دن معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں نیا قانون آنے والا ہے جس سے ہمارا ملک انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہو جائے گا۔’نیا قانون‘کا اقتباس ملاحظہ کریں:

اور جب ایک روز استاد منگو نے کچہری سے اپنے تانگے پر دو سواریاں لادیں اور ان کی گفتگو سے اسے پتہ چلا کہ ہندستان میں جدید آئین کا نفاذ ہونے والا ہے تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔

دو مارواڑی جو کچہری میں اپنے دیوانی مقدمے کے سلسلے میں آئے تھے گھر جاتے ہوئے جدید آئین یعنی انڈیا ایکٹ کے متعلق آپس میں بات چیت کر رہے تھے، ’’سنا ہے کہ پہلی اپریل سے ہندوستان میں نیا قانون چلے گا... یا ہر چیز بدل جائے گی؟‘‘

’’ہر چیز تو نہیں بدلے گی۔ مگر کہتے ہیں کہ بہت کچھ بدل جائے گا اور ہندستانیوں کو آزادی مل جائے گی؟‘‘

دوسرا اقتباس ملاحظہ کریں:

’’وہ بے حد مسرور تھا، خاص کر اس وقت اس کے دل کو بہت ٹھنڈک پہنچتی جب وہ خیال کرتا کہ گوروں... سفید چوہوں (وہ ان کو اسی نام سے یاد کیا کرتا تھا) کی تھوتھنیاں نئے قانون کے آتے ہی بلوں میں ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں گی۔‘‘

اس گفتگو نے استاد منگو کے دل میں جدید آئین کی اہمیت اور بھی بڑھا دی۔ وہ اس کو ایسی ’چیز‘ سمجھنے لگا جو بہت چمکتی ہو۔ ’نیا قانون...!‘ وہ دن میں کئی بار سوچتا، یعنی کوئی ’نئی چیز!‘ اور ہر بار اس کی نظروں کے سامنے اپنے گھوڑے کا وہ ساز آ جاتا۔ جو اس نے دو برس ہوئے چودھری خدا بخش سے اچھی طرح ٹھونک بجا کر خریدا تھا۔ اس ساز پر جب وہ نیا تھا۔ جگہ جگہ لوہے کی نِکل چڑھی ہوئی کیلیں چمکتی تھیں اور جہاں جہاں پیتل کا کام تھا وہ تو سونے کی طرح دمکتا تھا۔ اس لحاظ سے بھی ’نئے قانون‘ کا درخشاں و تاباں ہونا ضروری تھا۔(افسانہنیاقانون(

منٹو کے خیالات دوسرے ادیبوں اور شاعروں کے برعکس تھے۔ ان کے افسانوں میں جہاں طوائف اور کوٹھے والیاں اہم کردار ہیں وہیں انھوں نے حب الوطنی کے لیے جدو جہد کو افسانوں میں ظاہر کیا ہے۔منٹو کی کہانیوں کو نکارا گیا، ان پر مقدمہ چلایا گیا لیکن انھوں نے افسانوں کو اپنے جذبات کے لیے منتخب کیا۔ ان کے بیشتر افسانے زوال اقدار کا نوحہ پیش کرتے ہیں۔انسانیت اور ہمدردی کے ملے جلے جذبات سے مملو ان کا افسانہ’ سوراج کے لیے‘بے چین کر دینے والی کہانی ہے۔’’رات کی رانی اور چمیلی کی ملی جلی سوندھی سوندھی خوشبو، شام کی ہلکی پھلکی ہوا میں تیر رہی تھی، بہت سہانا سماں تھا، بابا جی کی آواز آج اور بھی میٹھی تھی۔ غلام علی اور نگار کی شادی پر اپنی دلی مسرت کا اظہار کرنے کے بعد انھوں نے کہایہ دونوں بچے اب زیادہ تندہی اور خلوص سے اپنے ملک اور قوم کی خدمت کریں گے۔ کیونکہ شادی کا صحیح مقصد مرد اور عورت کی پرخلوص دوستی ہے۔ ایک دوسرے کے دوست بن کر غلام علی اور نگار یکجہتی سے سوراج کے لیے کوشش کرسکتے ہیں۔ یورپ میں ایسی کئی شادیاں ہوتی ہیں جن کا مطلب دوستی اور صرف دوستی ہوتا ہے۔ ایسے لوگ قابل احترام ہیں جو اپنی زندگی سے شہوت نکال پھینکتے ہیں۔‘‘

دوسرا اقتباس ملاحظہ کریں:

’’جلیانوالہ باغ کی خنک فضا دیر تک تالیوں کے بے پناہ شور سے گونجتی رہی۔ شہزادہ غلام علی جذباتی ہوگیا۔ اس کے کشمیری چہرے پر سرخیاں دوڑنے لگیں۔ جذبات کی اسی دوڑ میں اس نے نگار کو بلند آواز میں مخاطب کیا، ’’نگار! تم ایک غلام بچے کی ماں بنو... کیا تمہیں یہ گوارا ہوگا؟‘‘ نگار جو کچھ شادی ہونے پر اور کچھ بابا جی کی تقریر سن کر بوکھلائی ہوئی تھی، یہ کڑک سوال سن کر اور بھی بوکھلا گئی۔ صرف اتنا کہہ سکی، ’’جی...؟ جی نہیں۔‘‘(افسانہسوراج کے لیے)

مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اردو فکشن نے عوام کو بیدار کرنے اور ان کو متحرک رکھنے میں اہم رول ادا کیا جس کی وجہ سے ہندوستانی عوام میں تحریک آزادی کے لیے جوش و جذبہ پیدا ہوا اور ان کے خیالات میں پختگی آئی۔

Musarrat

Batla House, Jamia Nagar

New Delhi - 110025

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں