جمعہ، 11 نومبر، 2022

ایسے تھے نصرت ظہیر: محمد اکرام


 اردو کے عظیم المرتبت مزاح نگار نصرت ظہیر کا تعلق اصلاً سہارنپور سے تھا، جہاں کی خاک میں وہ مدفون ہوئے۔ جب کہ گذشتہ 40 برسوں سے وہ دارالحکومت دہلی میں مقیم تھے، مگر آخری ایام میں جب ان کی طبیعت مسلسل خراب چل رہی تھی تو اپنے آبائی وطن سہارنپور میں رہنے کو ترجیح دی کیونکہ یہاں سے ان کے بچپن کی بہت سی یادیں وابستہ تھیں۔ وہیں کی خاک سے اٹھ کر وہ خورشید بنے تھے اس لیے شاید اس خورشید کو وہیں غروب ہونا تھا۔

نصرت ظہیر کی وفات کی خبر اچانک آئی مگر حیرت اس لیے نہیں ہوئی کہ وہ طویل عرصے سے مسلسل بیمار چل رہے تھے۔ کسی بھی وقت رحلت کی خبر آسکتی تھی،و ہ کہتے بھی رہتے تھے کہ اب گنتی کے چند دن باقی ہیں۔ چنانچہ کچھ ہی دنوں بعد وہ اس دارِ فانی کوالوداع کہہ گئے۔ ان کے ساتھ ہم لوگوں کی بہت طویل مصاحبت رہی، اس لیے اس بات کا ملال رہا کہ ہم لوگ ان کے جنازے میں شریک نہ ہوسکے، کیونکہ ان کی تدفین دہلی کے بجائے سہارنپور میں ہورہی تھی۔ وفات سے کچھ دنوں قبل قومی اردو کونسل کے نمبر پر نصرت ظہیر کا اس وقت ٹیلی فون آیا جب ہم اپنے ساتھیوں کے ساتھ لنچ کررہے تھے۔ ان کی آواز سن کر ہی محسوس ہوا کہ ان کی طبیعت شاید زیادہ خراب ہے۔ زبان میں اتنی لکنت تھی کہ کوئی بھی بات واضح طور پر سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ پھر بھی اتنا تو سمجھ میں آگیا کہ حقانی القاسمی سے بات کرنا چاہتے ہیں، ان کے ساتھ نصرت صاحب نے باقاعدہ عبدالحئی اور دیگر لوگوں کے احوال بھی اپنی لڑکھڑاتی آواز میں دریافت کیے، جب کہ عبدالحئی اس وقت قومی اردو کونسل کو خیرباد کہہ کر متھلا یونیورسٹی دربھنگہ   میں بہ حیثیت ایسوسی ایٹ پروفیسر جوائن کرچکے تھے۔ حیرت تو یہ ہوئی کہ انھوں یہ بھی دریافت کیا کہ آپ کون بول رہے ہیں، اسی درمیان فون ڈس کنیکٹ ہوگیا۔ اتنی دیر کی گفتگو کے باوجود میں نصرت ظہیر صاحب کی آواز کوپہچان نہ سکا۔

نصرت ظہیر کا نام میں نے پہلی بار 1995میں جامعہ سلفیہ ریوڑی تالاب بنارس میں دورانِ تعلیم سنا تھا۔نصرت ظہیر اس وقت روزنامہ ’قومی آواز‘ کے  ضمیمے میں کالم لکھا کرتے تھے۔ قومی آواز کا یہ ضمیمہ  اتنا مشہور تھا کہ ملک بھر کے قارئین ہمیشہ اس کے منتظر رہتے۔ نصرت صاحب سے میری باضابطہ ملاقات سہ ماہی ’استعارہ‘ دہلی کے دفتر میں ہوئی۔   غالباً نصرت صاحب صلاح الدین پرویز کے کسی پروجیکٹ پر کام کررہے تھے۔ اس لیے کبھی کبھار خود ہی آجاتے اور کبھی کسی بچے کو بھیج دیتے۔ نصرت ظہیر صاحب کو ہم نے کبھی بھی استعارہ کے دفتر میں دیگر لوگوں کے ساتھ چائے اور قہقہے لگاتے نہیں دیکھا، ممکن ہے ان کے پاس اتنا وقت نہ رہتا ہو کہ اس طرح کی محفلوں میں شریک ہوں۔ان سب کے باوجود استعارہ میں کام کرنے والوں کے چہروں حتیٰ کہ نام سے بھی ان کی آشنائی تھی۔ یہ بات میں یقین سے اس لیے بھی کہہ سکتا ہوں کہ مارچ 2010 کا واقعہ ہے ایک بار نصرت ظہیر کا میرے نمبر پر فون آیا۔ انھوں نے کہا میں قومی اردو کونسل، جسولہ، نئی دہلی سے نصرت ظہیر بول رہا ہوں،  تم آکر مجھ سے ملاقات کرو۔  اس وقت کونسل کے عملے سے شناسائی تو دور، مجھے اس کے راستے کا بھی علم نہیں تھا۔ کونسل پہنچنے کے بعد سب سے پہلے میری ملاقات ہادی رہبر سے ہوئی،  ہادی رہبر کو میں پہلے سے جانتا تھا لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ قومی اردو کونسل کے دفتر میں ملازمت کررہے ہیں۔ بہرحال ہادی رہبر مجھے نصرت ظہیر کے پاس لے گئے جہاں وہ آبگینہ عارف سے محو گفتگو تھے۔ نصرت صاحب سے آمنے سامنے یہ میری پہلی گفتگو تھی۔ انھوں نے مجھے شعبۂ ادارت کے جملہ اسٹاف سے متعارف کرایا اور پھر میں واپس اپنے کمرے آگیا... کچھ دنوں بعد میں بھی قومی اردو کونسل کے شعبۂ ادارت سے وابستہ ہوگیا جہاں ہم تقریبا 5  سالوں تک ایک ساتھ کام کرتے رہے۔

قومی اردو کونسل میں نصرت ظہیر کی بہ حیثیت اعزازی مدیر وابستگی سے اردو ادب میں ایک نئی بحث چھڑ گئی۔ چہار جانب چہ می گوئیاں ہونے لگیں کہ ’مخمور سعیدی (وفات: مارچ 2010) جیسے تجربہ کار، باصلاحیت اور پروقار شخصیت کی جگہ نصرت ظہیر کیسے پرکرسکتا ہے۔ لگتا ہے یہ کسی بارسوخ شخص کی پیروی سے یہاں تک پہنچا ہے۔‘ دفتر سے باہر نصرت ظہیر کے بارے میں کیا کیا باتیں ہورہی ہیں اس سے وہ بخو بی واقف تھے، لیکن نصرت ظہیر ہار ماننے والے کب تھے، آخر ان کا بھی بہ حیثیت صحافی ایک طویل تجربہ تھا۔ اس بیچ انھوں نے اپنی زندگی میں بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے تھے اور ان سب کا جرأت اور حوصلہ مندی کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے یہاں تک پہنچے تھے۔ اس طرح کے چیلنجز کا سامنا کرنے کا نام ہی نصرت ظہیر تھا۔ انھوں نے بھی عزم مصمم کرلیا کہ بھلے ہی میں مخمور سعیدی جیسا نہ بن سکوں، لیکن میں کچھ ایسے نئے تجربے ضرور کروں گا جن سے اِن رسالوں کے معیار و وقار میں اضافے کے ساتھ انھیں ایک نئی شناخت بھی حاصل ہو۔ اس کا پہلا ثبوت ’اردو دنیا‘ اگست 2011 کی صورت میں سامنے آیا، جب یہ رسالہ بلیک اینڈ وائٹ سے بہترین آرٹ پیپر اور خوبصورت تصاویر سے مزین  فور کلر میں شائع ہونا شروع ہوا۔ سچ تو یہ ہے کہ نصرت ظہیر نے اس رسالے کی تقدیر و تصویر دونوں ہی بدل ڈالی۔  نصرت ظہیر کی ایک اور کامیاب کوشش کا نتیجہ ہے ’بچوں کی دنیا‘۔ بچوں کے لیے اپنے زمانے کے مشہور رسالے کھلونا، غنچہ وغیرہ کے بند ہوجانے کی وجہ سے اس جیسے رسالے کی ضرورت خاص طور پر محسوس کی جا رہی تھی۔ اس کے تعلق سے ان کے ذہن میں کئی قسم کے آئیڈیاز بھی تھے، جس کا ذکر وہ اس وقت کے ڈائرکٹر ڈاکٹر حمیداللہ بھٹ سے وقتاً فوقتاً کرتے بھی رہتے تھے،حمید اللہ بھٹ زبانی طور پر اس رسالے کی منظوری دے بھی چکے تھے، لیکن اس کی اشاعت ان کے بعد پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین کی ڈائرکٹرشپ میں شروع ہوئی۔ اس کا پہلا شمارہ جون 2012  میں آیا۔ اس رسالے کو بچوں کے مزاج اور معیار کے مطابق بنانے میں نصرت ظہیر نے اپنی پوری توانائی صرف کرڈالی، رات دن وہ اسی میگزین کے بارے میں سوچتے رہتے۔  ان کی محنت کا ثمرہ تھا کہ چند ہی مہینوں میں اس رسالے نے سرکولیشن کے اعتبار سے ایک نیا ریکارڈ بنا ڈالا۔  قومی اردو کونسل کا ایک اور رسالہ ہے سہ ماہی ’فکر و تحقیق‘ ، جس میں خالص تحقیقی مضامین شائع ہوتے ہیں۔  نصرت ظہیر نے اس رسالے کو بھی اپنی استطاعت سے بہتربنانے کی کوشش کی۔ قومی اردو کونسل سے دیوناگری رسم الخط میں شائع ہونے والے ’اردو درپن‘ کی اعزازی ادارت بھی انھوں نے سنبھالی یہ اور بات کہ اس وقت وہ قومی اردو کونسل کے بجائے راشٹریہ سہارا میں کام کررہے تھے۔  ’اردو درپن‘ میں نصرت ظہیر کی کاوش کو دیکھتے ہوئے قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر حمیداللہ بھٹ نے انھیں مخمور سعیدی کے انتقال کے بعدملازمت کی پیشکش کی جسے انھوں نے بہ خوشی قبول کرلیا۔

نصرت ظہیر کی شخصیت کے حوالے سے یہ مضمون میں مشاہدے کی بنیاد پر لکھ رہا ہوں۔ میں چاہوں گا کہ نصرت ظہیر کی شخصیت کے ان پہلوؤں کا بھی احاطہ کیا جائے جن سے عام طور پر قارئین واقف نہیں ہیں۔ کوشش یہ بھی ہوگی کہ بیانیے کا انداز مثبت ہو کہ اس سے ان کی شخصیت مجروح نہ ہو۔ نصرت ظہیر کے مذہب کو لے کر عام لوگوں کے خیالات منفی تھے کیونکہ وہ مذہب کو بھی مزاح کے پہلو سے دیکھتے تھے۔  اس تعلق سے نصرت ظہیر کے بارے میں میری ذاتی رائے یہ ہے کہ گرچہ وہ بہ ظاہر مذہب کے تعلق سے آزاد خیال تھے مگر وہ دین اسلام کے پیروکار تھے۔ وہ آخری پیغمبر حضرت محمدؐ کو دنیا کی معزز ترین ہستی سمجھتے تھے۔ اس کی وجہ بھی نصرت ظہیر صاحب بتاتے تھے کہ ’’میں چند برس پہلے عمرہ کے لیے گیا تھا۔ جب میں خانہ کعبہ میں نماز پڑھنے کے لیے گیا تو مجھے حضور کی زندگی کے ان چھوئے پہلو جو انھوں نے ابتدائے اسلام میں انجام دیے تھے، مثلاً اپنے ہاتھوں اس مسجد کی بنیاد رکھی تھی اور حجر اسود کو اس کی جگہ پر نصب کیا تھا وغیرہ، ایسا لگ رہا تھا کہ یہ چیزیں میری نظروں کے سامنے انجام پارہی ہیں،  مجھے اسی وقت سے حضور کی شخصیت میں ایک اعلیٰ و برتر انسان کی صفات نظر آئیں۔‘‘البتہ وہ عام گفتگو میں ہمیشہ یہ جملے استعمال کرتے کہ یار اللہ میاں کیا کرتے ہیں، وہ ہیں بھی یا نہیں ،ممکن ہے کہ یہ بات بھی وہ مزاح کے پہلو میں کہتے رہے ہوں۔ خیر میری نظر میں نصرت صاحب مذہب اسلام کے سچے  پیروکار تھے، اس کی تصدیق اس واقعے سے بخوبی ہوجاتی ہے کہ ایک بار رمضان کا مہینہ تھا، ہم لوگ روزے کی حالت میں دفتر پہنچے تو نصرت صاحب مخاطب ہوئے، یار! میں روزے سے ہوں، تم لوگ مجھے فینی مہیا کرا دو تو بہت اچھا ہوگا کیونکہ جہاں میں رہتا ہوں وہاں یہ سب چیزیں نہیں ملتی ہیں۔ اس جملے سے میں حیران تھا کہ نصرت ظہیر اور روزہ...!

عام دنوں کے مقابلے جمعہ کے روز نصرت ظہیر زیادہ تر تاخیر سے دفتر آتے تھے۔ کبھی کبھی تو ہوتا کہ سارے لوگ جمعہ کی نماز پڑھ کر آتے تو دیکھتے کہ نصرت صاحب دفتر میں موجود ہیں۔ کئی بار تو تفریحا ہم میں سے بعض لوگ پوچھتے کہ سر! آپ نے جمعہ کی نماز پڑھ لی؟ پھر وہ کہتے’’ تم لوگوں کو پتہ نہیں ہم نے نمازیں بہت پڑھی ہیں، اور ویسے بھی تمھارے اللہ میاں تو ہماری سنتے نہیں۔‘‘ پھر ہمیں میں سے کوئی کہتا ’’سر! اللہ میاں تو ساری کائنات کے ہیں پھر ہم تم کی تفریق کہاں سے آگئی‘‘۔ اس طرح کے جملے ہم لوگ نصرت صاحب سے ہمیشہ سنتے اور محظوظ ہوتے رہتے۔

نصرت ظہیر وفات سے کچھ برس قبل جب انڈریوز گنج سے شفٹ ہوکر شاہین باغ آگئے، تو مذہب اسلام کو مزاح نہیں بلکہ ایک مکمل دین کی حیثیت سے جاننے لگے تھے۔ شاید اس کی وجہ ماحول کا اثر ہو کیونکہ نصرت ظہیر نے شاہین باغ شفٹ ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یار ہم ایسے علاقے میں ہیں جہاں ہمیں مذہب کے بہت سارے امور کی انجام دہی کے ساتھ اپنی بچیوں کی شادی میں بھی دشواریاں پیش آرہی ہیں، اس لیے ہم نے یہاں سے منتقل ہوکر شاہین باغ بسنے کا ارادہ کرلیا ہے۔ خدا کے فضل سے شاہین باغ شفٹ ہونے کے کچھ ہی دنوں بعد ان کی دو بیٹیوں کی شادی بھی ہوگئی۔ خدا پر ان کا یقین بھی اس وقت کامل ہوگیا جب ہولی فیملی میں ان کی ناک کا آپریشن ہوا۔ اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد جب وہ گھر آئے تو ہم لوگ ان کی تیمار داری کے لیے گئے،  آپریشن کے واقعے کو بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’جب مجھے ڈاکٹر نے بستر پر سلاتے ہوئے ناک پر بیہوشی کا ماسک لگایا  تو اچانک میری نظر اوپر کو گئی اور میں نے خدا کو یاد کرتے ہوئے کہا  اللہ پاک مجھے تو ہی نئی زندگی دے سکتا ہے۔‘‘ اللہ کے فضل سے نصرت ظہیر صاحب صحت یاب ہوگئے۔

 عملی زندگی میں نصرت ظہیر اسم با مسمیٰ تھے۔یہی وجہ ہے کہ مجبوروں کی مدد، شکست خوردہ لوگوں کے حمایتی،  دوستوں کے دوست، قول کے سچے، ارادے کے پکے بن کر آپ نے اپنی زندگی گزاری۔کینہ، بغض، حسد، نفرت، عداوت جیسے الفاظ تو شاید ان کی ڈکشنری میں تھے ہی نہیں۔ ہم میں سے اگر کسی کے ساتھ ناانصافی ہوتے ہوئے دیکھتے تو اپنی طاقت، جرأت اور حوصلے سے بڑھ کر حمایت میں کھڑے ہوجاتے۔ اگر کوئی اپنے حدود پار کرنے کی کوشش کرتا تو اس کو اس کی حدیں یاد دلانے میں بھی پیچھے نہ ہٹتے۔ نصرت ظہیر کے اندر سب سے بڑی خوبی جو مجھے نظر آئی وہ یہ کہ ان کے قول و فعل میں کوئی تضاد نہیں تھا، ان کے ظاہر و باطن میں تفریق نہیں تھی، انسان دوستی ہی ان کا شیوہ تھا اور وہ ہمیشہ اپنی تحریر و تقریر میں اسے نبھاتے بھی نظر آتے۔  نصرت ظہیر کے ظاہر و باطن کے حوالے سے ایک مضمون حقانی القاسمی نے ’ایک چہرے والا آدمی‘ کے عنوان سے تحریر کیا تھا جس میں انھوں نے بڑی اچھی بات لکھی ہے

’’نصرت ظہیر کو میں نے نزدیک سے دیکھا ہے اور دور سے بھی، مگر دونوں میں کوئی دوری نظر نہیںآئی۔ جب کہ اکثر شخصیات میںیہ دوری نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کی شخصیت نہ نیم دروں نیم بروں ہے اور نہ ہی دولخت۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں سے میری جتنی والہانہ شیفتگی ہے اتنی ہی ان کی شخصیت سے بھی ہے۔‘‘

(ماہنامہ شگوفہ ، حیدرآباد ، نصرت ظہیر نمبر، ایڈیٹر ڈاکٹر سید مصطفی کمال،ص 64)

دوستوں سے دوستی نبھانا تو نصرت ظہیر کا طرۂ امتیاز تھا لیکن اگر کبھی کسی کے ذریعے ان کی انا کو ٹھیس پہنچتی تو اس سے آر پار کی لڑائی سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کچھ ادبی معرکہ آرائیاں بہت مشہور  ہیں۔

نصرت ظہیر بھی ایک انسان تھے اور انسان غلطیوں کا مجسمہ ہے۔ اگر اس سے خطائیں نہیں ہوں گی تو پھر وہ انسانیت کے دائرے سے خارج ہوجائے گا۔ بہ حیثیت انسان  نصرت ظہیر میں جو مجھے سب سے بڑی کمی دیکھنے کو ملی وہ ہے ان کے لہجے کی کرختگی، اس لہجے کی وجہ سے ان کو زندگی کے ہر موڑ پر ڈھیروں نقصان اٹھانے پڑے۔ اکثر وہ کہتے بھی تھے کہ میں نہیں چاہتا کہ کسی سے تلخ کلامی کروں مگر پتہ نہیں کیسے یہ عمل مجھ سے سرزد ہوجاتا ہے۔  لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اگر نصرت ظہیر کسی سے تلخ کلامی سے پیش آتے تو کچھ ہی دیر کے بعد فوراً اس سے معافی بھی مانگ لیتے، کہتے کہ یار پتہ نہیں کیسے مجھ سے یہ غلطی ہوگئی، معاف کردینا۔ معافی مانگنے کو بہت سے لوگ اپنے لیے کسر شان سمجھتے ہیں لیکن نصرت صاحب  اس کو حسین عمل سمجھتے تھے۔ یہ نصرت ظہیر کی ایسی خوبی تھی جس کی تعریف و تحسین ضروری ہے۔

نصرت ظہیر کو اپنی صلاحیت اور علمی لیاقت پر کبھی غرور نہیں رہا،  اگر ان کو کبھی کوئی عبارت سمجھ میں نہیں آتی ، یا کسی شعر کی بہتر تشریح نہیں معلوم ہے یا کسی مشکل لفظ کے معنی یا ا س کے تلفظ کا معاملہ ہو تو اکثر وہ ہم میں سے کسی سے بھی پوچھ لیتے اور اگر کسی نے اس کا جواب ان کی سوچ سے بہتر دے دیا تو وہ بہت خوش ہوکر اسے شاباشی بھی دیتے اور یہ کہتے کہ علم اس سمندر کے مانند  ہے جس کی وسعت اور گہرائی کی کوئی حد نہیں، سچ میں علم کامطلب ایک دوسرے سے اخذ و اکتساب  ہے۔   میرے نزدیک نصرت ظہیر کی یہ ایسی خوبیاں ہیں جو عام طور پر آج کے دور میں کم ہی لوگوں میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔

نصرت ظہیر کا آبائی وطن سہارنپور (یوپی) ہے، مگر ان کی ولادت 9 مارچ 1951 کو سکندر آباد، ضلع بلند شہر، یوپی میں ہوئی۔ کچھ دنوں سہارنپور میں رہے اور پھر دہلی منتقل ہوگئے جہاں انھوں نے ایک کالم نگار، صحافی، طنز و مزاح نگار اور مترجم کی حیثیت سے اپنی منفرد شناخت بنائی۔

 میں اور ہم‘ کے عنوان سے انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ضلع بلند شہر (اترپردیش) کی تحصیل سکندر آباد کے محلہ بھاٹیہ واڑہ میں  ایک غریب خاندان میں پیدا ہوا ،مغربی اترپردیش کے شہر سہارنپور میں آنکھ کھولی، مگر احتیاطاً ہوش نہ سنبھالا کہ والد صاحب کافی غصہ والے آدمی تھے۔ پھر  محمد علی جوہر لائبریری، مسجد خانی باغ نخاسہ، میونسپل اسکول محلہ انصاریان   و محلہ شاہ بہول اور مدرسہ مخزن العلوم کے لائق ترین مولوی صاحبان اور اساتذہ کرام کی قمچیوں کے سائے میں الف ب ت پڑھی، مگر عقل نہ آئی۔ چنانچہ بالغ ہونے کے لیے اسلامیہ انٹرکالج سے رجوع کیا، جہاں نورانی صورت اور روشن دماغ استادوں نے علم کی پیاس بڑھائی... کسی طرح گریجویشن کیا، میکینکل کاموں اور الیکٹرانکس کا شوق ہوا تو آئی ٹی آئی اور ریڈیو انسٹی ٹیوٹ میں تربیت حاصل کرکے شوق کو روزگار بنا لیا۔ ابھی معاملہ کچھ آگے بڑھا ہی تھا کہ نہ جانے کس طرف سے اردو صحافت نے آکر آغوش میںلے لیا اور کسی امربیل کی طرح پورے وجود سے لپٹ گئی۔ شاید یہی دیکھ کر شاعری نے دھڑ سے اپنے دروازے بند کرلیے اور ایک شاعر، سابق شاعر بن گیا۔ اسی کے عشرے کی پہلی تاریخ سے زندگی کا دوسراسفر دہلی میں شروع کیا۔ روزنامہ ملاپ، تیج، سرووتم ریڈرس ڈائجسٹ اور ریڈیو وغیرہ میں جم کر کام کیا، جون 1987 میں وقت کے ہاتھوں نے کان پکڑ کر روزنامہ قومی آواز، نئی دہلی کے دفتر میں رپورٹر بنا کر بٹھا دیا اور ابھی وہاں کام کرتے ہوئے چند مہینے ہی ہوئے تھے کہ طنز و مزاح کے میدان میں قدم رکھ دیا۔‘‘  (میں اور ہم، مشمولہ شگوفہ نصرت ظہیر نمبر، ص 10)

نصرت ظہیر کی مشہور کتابوں میں تحت اللفظ (1992)، بقلم خود  (1996) ، خراٹوں کا مشاعرہ (2002) ، ابن بطوطہ کا دوسرا سفر (1993) ،تہاڑ میں میرے شب و روز (2005) (ترجمہ انگلش سے اردو)،  ہم امیر لوگ (2019) (ترجمہ انگلش سے اردو)، غالب اَرتھ وتّا، رچنا تمکتا ایوم شونیتا (ترجمہ:اردو سے ہندی)، دریں اثنا (2019) (شعری مجموعہ) وغیرہ شامل ہیں۔

نصرت ظہیر کاشمار مجتبیٰ حسین کے بعد موجودہ عہد کے ان طنز و مزاح نگاروں میں ہوتا ہے جن میں دلیپ سنگھ، فیاض احمد فیضی، نریندر لوتھر، شفیقہ فرحت، اسد رضا اورپرویزیداللہ مہدی وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ نصرت ظہیر نے نثر و نظم دونوں صنف میں طبع آزمائی کی ہے۔ نصرت ظہیر سہل نگار ادیب تھے، حتی الامکان مقفیٰ اور مسجع جملوں سے پرہیز کرتے تھے۔ ان کی تحریریں ہر خاص و عام کو بآسانی سمجھ میں آجاتی تھیں۔  نصرت ظہیر کی تحریروں میں ایک خاص بات اور بھی ہے کہ مغربی یوپی کی بولیاں اور اصطلاحات بھی ان کی تحریروں میں موجود ہیں۔ اس تعلق سے پروفیسر ظفر الدین صاحب نے بڑی اچھی باتیں لکھی ہیں:

’’نصرت ظہیر کے مضامین میں مغربی اترپردیش کی لفظیات، محاورے، بول چال کے الفاظ، مختلف پیشوں سے جڑی ہوئی اصطاحات، رسوم و رواج، کھانے کی اشیا، برتنو ںکے نام، مختلف مواقع پر استعمال ہونے والی اشیا و ساز و سامان کے نام بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ یہ عام قاری کے لیے معلومات میں اضافے کا سبب ہیں تو اس علاقے سے تعلق رکھنے والوں کو یاد ماضی سمیٹنے اور سنوارنے کا سامانہ فراہم کرتے ہیں۔‘‘

(ماہنامہ شگوفہ، نصرت ظہیر نمبر، 26)

نصرت ظہیر نے سماج کو درپیش تقریباً تمام مسائل پر قلم اٹھایا ہے۔  ان پسندیدہ موضوع سیاست رہا ہے جس پر انھوں نے کافی کچھ لکھا۔ ان کے مزید پسندیدہ موضوعات وکیل، ڈاکٹر، پروفیسر،مولوی، منشی، صحافی، حساب، اسکول، کالج، روزہ،  شاعر، وغیرہ ہیں۔ انتقال سے چار پانچ سال قبل روزنامہ ’انقلاب‘ میں ’نمی دانم‘ کے نام سے ایک کالم شروع کیا جس میں زیادہ تر ان کے موضوعات، سیاست اور جامعات کے اساتذہ ہوتے تھے۔ جامعات کے اساتذہ کو ان کا فرض منصبی یاد دلانے کے ساتھ ان میں پائی جانے والی کوتاہیوں، کمیوں اور خامیوں کو بھی اجاگر کیا ہے۔ کئی جگہ ریسرچ کرنے والے طلبا کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے جو اپنا ریسرچ ورک خود نہ کرکے دوسروں سے کراتے ہیں یا ٹیکنالوجی کے مختلف ذرائع سے کٹ پیسٹ پر بھروسہ کرلیتے ہیں۔ اس تعلق سے روزنامہ ’انقلاب‘ میں ان کا پورا ایک مضمون شائع ہوا تھا۔

نصرت ظہیر کے طنز و مزاح میں مجھے جو خاص بات نظر آئی وہ یہ کہ جس موضوع پر بھی انھوںنے لکھا، اس میں انھوں نے درمیان کا راستہ اختیار کیا یعنی طنز میں اس قدرشدت  نہ ہو کہ اس میں اصلاح کا پہلو کم اور برائی زیادہ ہو اور  مزاح بھی اس درجے کا نہ ہو کہ اس میں ہنسی کے بجائے پھکڑ پن ظاہر ہو۔ اسی لیے انھوں نے ظرافت کا پہلو اختیار کیا کیونکہ ظریفانہ انداز میں کہی گئی بات قاری کو گدگداتی ہے اور اس کا اثر ذہن و دماغ پر بہت دیر تک قائم رہتا ہے۔ 

نصرت ظہیر کی کتابوں تحت اللفظ، بقلم خود، ابن بطوطہ کا دوسرا سفر، خراٹوں کا مشاعرہ، نمی دانم میں اسی ظریفانہ پیرائے میں لکھے گئے مضامین ہیں جنھیں پڑھ کر قاری نہ غصہ کرتا ہے، نہ جھنجھلاتا ہے اور نہ ہی کسی جملے پر کھلکھلا کرہنستا ہے بلکہ وہ اندر ہی اندر خوشی اور تازگی محسوس کرتا ہے جو ایک صحت مند انسان کے لیے ضروری بھی ہے۔  ان کی ایک ’بقلم خود‘ ہے جس میں 28 مضامین شامل ہیں۔ ویسے تو ہر مضمون پڑھنے کے لائق ہے لیکن مجھے جو مضمون خاص طور پرپسند آیا وہ ہے ’مسئلہ تذکیر و تانیث‘اس کے اقتباسات آپ بھی ملاحظہ کریں:

’’بچپن میں غلطی سے ایک مرتبہ ہم نے اسکول کی کلاس میں ماسٹر صاحب سے پوچھ لیا کہ جناب طوطا مذکر ہے یا مونث؟ اس کی سزا یہ ملی کہ ماسٹر صاحب نے ہمیں زور سے گھور کر دیکھا اور بنچ پر کھڑا کردیا۔ جب پیریئڈ ختم ہوا تو پاس آئے اور ہمارا کان پکڑ کر بولے...

’’اگر طوطا بول رہا ہو تو مذکر ہے اور بول رہی ہو تو مونث! سمجھے؟ اب بیٹھ جاؤ اور گرامر یاد کرو۔‘‘

اس روز ہم تمام دن سوچتے  رہے کہ یا اللہ! یہ کیسے پتہ چلے گا کہ طوطا بول رہا ہے یا بول رہی ہے۔‘‘

(بقلم خود، نومبر1996، اسکائی پبلی کیشنز، ص 80)

ایک اور اقتباس دیکھیں:

’’... ایک دن گھر پر گرامر کا سبق یاد کرتے کرتے ہم گھر میں آئی ہوئی دور کے رشتے کی ایک بزرگ خالہ سے پوچھ بیٹھے

’’خالہ اماں آپ مذکر ہیں یا مونث؟‘‘

یہ سنتے ہی خالہ اماں نے ہماری کمر پر دو ہتڑ جما دئیے اور بولیں

’’ہٹ موئے... دو بالشت کا چھوکرا اور بوڑھی بیوہ سے مذاق کرتا ہے؟ آتو سہی، ابھی تیری ہڈی پسلی ایک کرتی ہوں۔‘‘

’’وہ دن اور آج کا دن ہم نے دوبارہ کبھی کسی سے اس کی جنس معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی۔‘‘(ایضاً، ص 80)

وفات سے ایک سال قبل نصرت ظہیر کا 2019 میں ایک شعری مجموعہ ’دریں اثنا‘ کے نام سے منظر عام پر آیا۔ میں نے نصرت ظہیر کو کئی موقعوں پر اشعار گنگناتے تو سنا تھا مگر میرے علم میں یہ قطعی نہیں تھا کہ یہ شاعر بھی ہیں۔ کبھی کبھی  دوست  احباب کی صحبتوں کا اثر بھی انسان پر پڑتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اپنے دوستوں شجاع خاور، فرحت احساس وغیرہ کی رفاقت سے ان کو شاعری کی تحریک ملی ہو۔ اس مجموعے میں انھوں نے اپنے مضامین ہی کی طرح سماج کو درپیش تمام مسائل کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے اس میں نظمیں بھی ہیں، غزلیں بھی اور کچھ شعرا کی غزلوں کی پیروڈیاں بھی۔

صحافت سے نصرت ظہیر کا بہت پرانا رشتہ رہا، بلکہ انھوں نے صحافت سے ہی اپنے کیریئر کا آغاز کیا تھا۔  وہ یکم جنوری1981سے ستمبر 1984 تک روزنامہ ’ملاپ‘ نئی دہلی میں سب ایڈیٹر رہے، ستمبر 1984 سے جولائی 1986 تک روزنامہ ’تیج‘ دہلی میں میگزین ایڈیٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ جون 1987 سے مارچ 2008تک روزنامہ ’قومی آواز‘ نئی دہلی میں چیف رپورٹر اور اسپیشل کارسپونڈنٹ کے طور پر کام کیا۔  بعد میں یہ راشٹریہ سہارا سے جڑ گئے جہاں ہفت روزہ’عالمی سہارا‘ کی ذمے داری ان کے سپرد تھی۔ اس ہفت روزہ سے ان کی رفاقت بہت مختصر رہی اس کے باوجود انھوں نے’عالمی سہارا‘ کو ایک نئی پہچان دلائی اور اس کو بہتر سے بہتر بنانے میں اپنا پورا تعاون دیا۔  یہاں سے استعفیٰ کے بعد 2010 میں قومی اردو کونسل کے شعبۂ ادارت سے بہ حیثیت اعزازی مدیر وابستہ ہوگئے جہاں ان کی نگرانی میں سہ ماہی ’فکر و تحقیق‘ (اعزازی مدیر جولائی -اگست 2010 تا اکتوبر-دسمبر 2011)، ماہنامہ ’اردو دنیا‘ (جون 2010 تا اگست 2015)، ماہنامہ ’بچوں کی دنیا‘ (جون 2012 تا اگست 2015)  جیسے رسالے شائع ہوتے تھے۔  روز نامہ ’انقلاب‘ میں ان کا ہفتہ واری کالم ’نمی دانم ‘ بھی بہت مشہور ہوا۔ قارئین ہر ہفتے اس کا بے صبری سے انتظار کرتے۔ آخری وقت تک یہ کالم انقلاب میں شائع ہوتا رہا۔ ملازمت کے دوران ہی نصرت ظہیر نے ’ادب ساز‘ کے نام سے ایک ضخیم ادبی رسالہ جاری کیا جو بہت مختصر عرصے میں مقبول ترین رسالہ بن گیا۔  اس کا پہلا شمارہ جون 2006 میں شائع ہوا۔ اس شمارے میں سید محمد اشرف اور حمایت علی شاعر پر دو گوشے تھے۔ ان گوشوں کے علاوہ ساحر لدھیانوی،ستیہ پال آنند،شجاع خاور، منشا یاد، مظہر امام، حامد سراج، واجدہ تبسم،  ساجدہ زیدی پر بھی گوشے شائع ہوئے۔ ساحر لدھیانوی (شمارہ 12,13,14 جولائی، 2019 تا مارچ 2010) کا گوشہ اس قدر مشہور ہوا کہ یہ شمارہ حوالہ جاتی بن گیا۔

نصرت ظہیر کی دور درشن، آل انڈیا ریڈیو سے بھی وابستگی رہی۔ دور درشن کے لیے تو انھوں نے ایک مزاحیہ سیریل بھی بنایا تھا۔

نصرت ظہیر مترجم کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے کئی مشہور مصنّفین کی کتابوں کے ترجمے کیے۔ بہترین ترجمے کے لیے ساہتیہ اکادمی جیسے موقر ادارے نے ان کو ایوارڈ برائے ترجمہ سے بھی نوازا تھا۔ بہ حیثیت مترجم ان کی پہلی کتاب ہے ’تہاڑ میں میرے شب و روز‘  جو مشہور صحافی افتخار گیلانی کی کتاب 'My Days in Prison' کا اردو ترجمہ ہے۔ اسی کتاب پر انھیں 2008 میں ساہتیہ اکادمی نے ایوارڈ برائے ترجمہ سے نوازا تھا۔ ترجمے کی دوسری کتاب ’ہم امیر لوگ‘ ہے جو 2019میں منظر عام پر آئی تھی۔ یہ نین تارا سہگل کی 'Rich Like us' کا ترجمہ ہے۔ ان کی آخری ترجمہ کردہ کتاب پروفیسر گوپی چند نارنگ کی ’غالب، معنیٰ آفرینی، جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات‘  ہے  جس کا انھوں نے ’غالب ارتھ وتّا، رچنا تمکتا ایوم شونیتا‘ کے نام سے اردو سے ہندی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔

اردو زبان و ادب میں ان کی خدمات کا اعتراف بھی کیا گیا۔ ماہنامہ شگوفہ حیدرآباد کے ایڈیٹر ڈاکٹر سید مصطفی کمال  نے نصرت ظہیر کی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے ماہنامہ شگوفہ کا پورا شمارہ ان کے معنون کیا۔ اس شمارے میں اردو زبان و ادب کی موقر شخصیات پروفیسر محمد حسن، موہن چراغی، ڈاکٹر قمر رئیس، شجاع خاور، پروفیسر نثار احمد فاروقی، پروفیسر گوپی چند نارنگ، پدم شری مجتبیٰ حسین، اسیم کاویانی، فیاض احمد فیضی، حقانی القاسمی، ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی، اسد رضا،ظفر عدیم، ڈاکٹر شیخ عقیل احمد، سرا ج نقوی اور فاروق ارگلی کے مضامین ہیں۔اردو زبان و ادب کے ممتاز ادیب اور ناقد پروفیسر محمد حسن نے نصرت صاحب کی ادبی خدمات کا اعتراف اپنے مضمون  ’چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا...‘ میں ان الفاظ میں کیا  ہے:

’’...نصرت ظہیر نے رسمی اور روایتی لطیفوں کا سہارا لیا نہ ادبیت کا۔ بڑی ہی واقعاتی یا نیم واقعاتی نیم تاثراتی قسم کے نثر کے میدان میں قدم رکھا اور پھر بھی دلچسپی اور دل بستگی قائم کی اور آنسوؤں کو قہقہوں میں نہ سہی کم سے کم مسکراہٹوں میں سموتے چلے گئے۔ (یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس کے لیے بڑا دل گردہ چاہیے) اور اس بے تکلفی کے ساتھ کہ پڑھنے والے یہ طے نہ کرپائیں کہ کہاں نثر ختم ہوتی ہے اور کہاں مسکراہٹ شروع ہوتی ہے۔‘‘

(ماہنامہ شگوفہ (نصرت ظہیر نمبر)، جلد 46، شمارہ 4، اپریل 2013، ص 30)

مشہور ناقد اور محقق پروفیسر گوپی چند نارنگ نصرت ظہیر صاحب سے بے حد محبت کرتے اور دل وجان سے انھیں چاہتے تھے۔ ساہتیہ اکادمی سے نصرت صاحب کی برسوں وابستگی رہی ہے۔ نارنگ صاحب نے اپنے مضمون ’نصرت ظہیر آدمی خوب ہے‘ میں نصرت ظہیر کو ایک جن بتایا ہے اور نصرت ظہیر کی کثیر تعداد میں کالم نگاری کی داد بھی دی ہے

’’نصرت ظہیر آدمی نہیں جن ہیں۔ ان کے دو نہیں شاید چار ہاتھ ہیں۔ دن رات لکھتے ہیں اور قلم برداشتہ لکھتے ہیں۔ کہتے ہیں ’نمی دانم‘ لیکن جانتے یہ خوب ہیں کہ اخبار جو صبح سے شام تک ردّی کے ڈھیر پر چلا جاتا ہے، اس کا قاری کیا پڑھنا چاہتا ہے۔‘‘ (ایضاً، ص 38)

نئی نسل کے ممتاز ناقد اور نصرت ظہیر کی کالم نگاری کے مداح حقانی القاسمی کا مضمون ’ایک چہرے والا آدمی‘ ایک ایسا مضمون ہے جو نصرت ظہیر کی شخصیت کے ان گوشوں کو وا کرتا ہے جن کا علم عام قاری کو نہیں ہے۔ حقانی القاسمی نے نصرت ظہیر  کو ایک اعلیٰ اور عمدہ کالم نگار اور مزاح نگار قرار دیا ہے اور نصرت ظہیر کی ادبی خدمات کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے

’’ان کی تحریریں ذہن کو شاداب اور شگفتہ رکھتی ہیں اور عصری آگہی کے دروازے بھی کھولتی ہیں۔ گول مول اور نمی دانم میری مطالعاتی ترجیحات میں شامل ہیں کہ ان کے یہاں جو پولیٹیکل آئرنی ملتی ہے وہ کہیں اور نہیں ملتی۔ ان کے سیاسی طنزیے دو ٹوک ہوتے ہیں وہ اشارے کنائے میں طنز نہیں کرتے وہ براہِ راست وار کرتے ہیں۔‘‘ (ایضاً، ص 64-65)

یہ اقتباسات نصرت ظہیر کی شخصیت فہمی کے لیے ضروری تھے کہ ان سے وہ قاری جو نصرت ظہیر کو نہیں جانتے یا کم جانتے ہیں، وہ ان کی شخصیت اور ادبی قدر و قیمت سے واقف ہوسکیں۔ رسائل و جرائد میں گوشے تو سیکڑوں شخصیات پر شائع ہوچکے ہیں، مگر فی زمانہ زیادہ تر شخصیات کے گوشے تعریف و تحسین اور ذاتی مفاد تک ہی محدود رہتے رہیں۔ نصرت ظہیر پر جن شخصیات نے خامہ فرسائی کی مجھے ایسا نہیں لگتا کہ ان میں سے کسی کو بھی نصرت ظہیر سے کسی صلہ و ستائش کی ضرورت رہی ہوگی۔  ستائش ایک اچھے تخلیق کار کی بہرحال ہونی چاہیے، نصرت ظہیر صاحب اس کے حق دار تھے۔ شگوفہ کا خصوصی شمارہ نصرت ظہیر پر ریسرچ کرنے والوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ 

نصرت نے اردو زبان و ادب کی جتنی خدمات کی ہیں ان کا اعتراف ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلیں نصرت ظہیر صاحب کی ادبی خدمات سے کما حقہ واقف ہوسکیں۔

Mohd Ikram

89/6A, Street No.: 1

Ghaffar Manzil, Jamia Nagar, Okhla

New Delhi - 110025

Mob.: 9873818237

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں