بدھ، 2 نومبر، 2022

تنویر احمد علوی بحیثیت شاعر: عمران احمد


 تنویر احمد علوی کا شمار اردو کے معروف و مشہور محققین میں ہوتا ہے۔ان کی تحقیقی بصیرت اور محققانہ کاوشوں کو اردو ادب میں بڑی قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انھوں نے ترتیب متن جیسے اہم موضوع پر کام کرکے بہت سے ادبی سرمائے کی بازیافت کی ہے۔ تنویراحمد علوی نے تحقیقی کاوشوں کے ساتھ ادب کی دوسری اصناف میں بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔وہ تنقید کے ساتھ ساتھ تاریخ و ترجمے سے گہری دلچسپی رکھتے تھے۔علوی صاحب تحقیق اورتدوین کے علاوہ ایک کامیاب شاعر کی حیثیت سے بھی جانے جاتے ہیں۔

تنویر احمد علوی اترپردیش کے ضلع مظفر نگرکے قصبہ کیرانہ کے محّلہ انصاریان میں 23جولائی1923کو پیدا ہوئے۔  تنویر احمدعلوی کے والدکا نام حکیم صدیق احمد علوی اوروالدہ کا نام صغرا بیگم تھا۔بچپن ہی میں والدین کا انتقال ہو گیا تھا۔علوی صاحب  کی پرورش اور تعلیم و تربیت میں چچا منشی شفیق احمدنے نمایاں کردار ادا کیا۔ ابتدائی تعلیم کا آغازکیرانہ سے ہوا، اس کے بعد 1936 میں عربی و فارسی کی تعلیم کے لیے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا۔1942 میں فن طب کی تعلیم کے لیے پٹیالہ آئے۔ انھوں نے B.A. اور M.A کی تعلیم آگرہ یونی ورسٹی سے حاصل کی۔اس کے بعد انھوں نے  1960 میںعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ’ ذوق سوانح اور انتقاد‘ جیسے اہم موضوع پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔  1970 میںعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے انھیں اپنی تاریخ کی پہلی ڈبل ڈاکٹریٹ (آرٹس زمرے میں) کی ڈگری عطا کی۔یہ ڈگری علوی صاحب کے لیے کسی بڑے اعزازسے کم نہ تھی۔ہریانہ اردو اکادمی نے علوی صاحب کی تحقیقی و ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کل ہند سطح کے سب سے بڑے قومی ایوارڈ ’حالی ایوارڈ‘ برائے سال 1989-90 سے نوازا۔اس کے ایک سال بعد اردو اکادمی دہلی نے تحقیق و تنقید ایوارڈ ’ازراہِ علم‘سے نوازکر علوی صاحب کی قدر دانی کی۔ اردو اکادمی دہلی نے علوی صاحب کی مجموعی خدمات کے اعتراف میں ’بہادر شاہ ظفر ایوارڈ‘2004 سے سرفراز کیا۔ بالآخر 20فروری2013 کی شام وہ اس دنیائے فانی سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہو گئے۔ تنویر احمدعلوی کی ادبی زندگی کاآغاز دارلعلوم دیو بند سے ہوا۔انھوںنے اپنے ادبی سفر کا آغاز شعر و شاعری سے کیا۔وہ بچپن ہی سے شعر و سخن سے گہری دلچسپی رکھتے تھے۔وہ کیرانہ میں منعقد ہونے والے مشاعروںمیں ضرور حصہ لیتے تھے۔ جب آپ دیوبند پہنچے تو اردو زبان و ادب سے گہرالگائو پیدا ہوااور یہ دلچسپی روز بروز بڑھتی گئی۔ بچپن میںآپ کواپنے خرچ کے لیے جو پیسے ملتے اس سے کتابیں خرید لاتے اور بڑے انہماک سے مطالعہ کرنے کے بعد اسے صندوق میں رکھ دیتے تھے۔ اس تعلق سے وہ لکھتے ہیں

’’مجھے جیب خرچ کے لیے جو پیسے ملتے تھے ان سے میں غزلیہ شاعری کے چھوٹے چھوٹے مجموعے خرید لیتا تھا اور اس صندوقچی میں انھیں سینت کر رکھتا تھا۔ جواب کھلونوں سے خالی ہوگئی تھی،میں ان دنوں میں قرآن پاک پڑھتا تھا اور اردو کی لکھائی پڑھائی سے کوئی واسطہ نہ تھا لیکن اپنا جمع کیا ہوا یہ شعری سرمایہ مجھے بہت عزیز تھااور بہت اچھالگتا تھا‘‘ (لمحوں کی خوشبو ص 7 (

درج بالا اقتباس سے پتا چلتا ہے کہ انھیں شعر و شاعری سے  کس قدر لگائو تھا۔وہ طالب علمی کے زمانے میں شعرا کے کلام کو سنتے اور نقل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔میلاد، شادی اور دوسرے اہم موقعوں پر یاد کیے گئے کلام کو سناتے اور اسی طرز پر خود لکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ وہ راشد الخیری اور خواجہ حسن نظامی کے کلام سے بے حد متاثر تھے۔ ان کا یہ تجسس اتنا بڑھا کہ ایک دن خود سے شعر کہنے کا شوق پیدا ہوا۔ ایک دن انھوں نے چند شعر کہہ بھی ڈالے۔ اس کے بعد ان سے شعر کہنے کی فرمائش کی جانے لگی۔اس طرح علوی صاحب کے شعری سفر کا آغاز ہوا۔علوی صاحب کی ایک فارسی غزل ’الہام فطرت‘ ہفتہ وار رسالہ ’دین دنیا‘ میں شائع ہوئی۔ یہ رسالہ اس وقت دہلی سے شائع ہوتا تھا۔ علوی صاحب کی ادبی دنیا سے یہ پہلی تعارفی تخلیق تھی۔انھوں نے یہ غزل اپنے استاد مولوی مسعود کی تقلید میں لکھی تھی۔علوی صاحب اپنی شاعری کے بارے میں لکھتے ہیں :

 مشرقی امتحانات کی تیاری کے زمانے میں اپنے استاد مولوی مسعود صاحب کی دیکھا دیکھی خود میں نے اپنے طور پر شعر کہے،اس بار فارسی میں ایک غزل لکھی ’الہام فطرت‘ کے عنوان سے میری ایک شعری تخلیق ’دین دنیا‘ہفتہ وار دہلی میں شائع ہوئی تھی اور میرا اس وقت کی ادبی دنیا سے پہلا تعارف تھا۔‘‘(لمحوں کی خوشبو ص 9(

 تنویر احمد علوی جب پٹیالے میں فن طب کی تعلیم حاصل کر رہے تھے، اس زمانے میں ان کے شعری ذوق میں بے حد اضافہ ہوا۔علوی صاحب جب پٹیالے میں زیر تعلیم تھے، اس وقت وہاںکے ایک مشاعرے میں نظم ’رقاصہ‘ پیش کی جسے بے حد پسند کیا گیاتھا۔اسی زمانے میںانھوں نے ایک اور نظم ’زندگی کے لیے‘کے عنوان سے لکھی۔اس نظم کو علوی صاحب کی ادبی فکر میں ایک نیا ابتدائی نقش اور نقطۂ ہجرت یا  Point of Departure کہا جا سکتا ہے۔ اس نظم پر چاند بہاری لال بھٹناگرجو آپ کے عزیز دوستوں میں تھے، انھوںنے ایک تبصرہ لکھ کر علوی صاحب کے پاس بھیجا تھا۔ انھوں نے اس خط میںعلوی صاحب کی شعری خوبیوں کی خوب پذیرائی کی تھی۔تنویر احمد علوی، ساحر لدھیانوی کے شعری کلام سے بہت متاثر تھے۔سا حر لدھیانوی کا انداز شعر گوئی علوی صاحب کو نہ صرف پسند تھا بلکہ وہ ان کی تقلید کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔1947 میں تقسیمِ ملک کے وقت فسادات رونما ہوئے۔ان فسادات نے اہل قلم کو لکھنے کے لیے مضطرب کردیا۔علوی صاحب نے ان فسادات پرساحر لدھیانوی کی طرز پر ’ آگ کا بدن‘، ’بے آواز چیخ‘ اور ’ ننگے ہتھیار ‘ جیسی نظمیں تحریر کی ہیں۔

تنویر احمد علوی جب 1940 میںدارالعلوم دیو بند سے فارسی کی تعلیم مکمل کر کے گھر آئے تو انھوں نے فرصت کے اوقات میں احسان دانش کے شعری مجموعے ’نوائے کارگر‘، ’نفیر فطرت‘ اور ’جادئہ نو‘ کا بغور مطالعہ کیا۔ان تینوں مجموعوں کو انھوں نے بڑے انہماک سے پڑھا، ساتھ ہی انھوں نے کچھ نظمیں بھی انھیں کی طرز پر تحریر کیں۔ علوی صاحب لکھتے ہیں :

’’ان شعری مجموعوں کو میں نے بے حد شوق اور دلچسپی کے ساتھ پڑھا بار بار دیکھایہاں تک کہ ان میں شامل بعض نظموں کے انداز پر خود بھی شعر کہے اور ایک دو نظمیں لکھیں،یہ میری شاعری کی پرانی بیاضوں میں کافی دنوں تک نقل ہوتی رہیں۔‘‘(لمحوں کی خوشبو ص 8 (

تنویر احمد علوی نے ابتدائی دور میںعرش ملسیانی اور ساغر نظامی کے شعری طریقۂ کار کے اثر کو بھی قبول کیا۔ انھوں نے سہارنپور کے ایک مشاعرے میں اپنی ایک نظم’آئین اسٹائن ‘ کوپڑھا تھا۔ اس مشاعرے میں جگن ناتھ آزاداور گلزار دہلوی موجود تھے۔ان شعرا کی جانب سے علوی صاحب اور ان کے کلام کی خوب پذیرائی ہوئی۔ البتہ کسی رسالے میں شائع ہونے والی پہلی اردو نظم ’نذرِشباب‘ تھی جو نگارمیں شائع ہوئی تھی۔اس نظم کو نیاز فتح پوری نے بہت پسند کیا تھا۔ پٹیالے میں قیام کے دوران آپ نے جو نظمیں کہیں ان پر مشتمل دو شعری مجموعے انھوں نے ترتیب دیے۔پہلا مجموعہ ’تارِ رباب اور دوسرا ’نقش و نوا‘ہے۔ دونوں مجموعوں کو انھوں نے احسان دانش کی شاعری سے معنون کیا تھا۔لیکن ان دونوں  مجموعوں کوکبھی شائع نہیں کیا۔البتہ ’ زندگی کے لیے‘، ’آئین اسٹائن‘ اور ’ نذر شباب‘ جیسی اہم نظموں کو بعد کے مجموعے میں شامل کیا۔ پٹیالے سے واپسی کے بعد انھوں نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں ریسرچ کے لیے داخلہ لیا۔ اس درمیان وہ تحقیق و تدوین کے کاموں میںمصروف ہو گئے۔ دوران تحقیق مصروفیات کی وجہ سے شعرو سخن پر توجہ نہ دے پائے۔ان کاشاعری سے اس درمیان برائے نام ہی واسطہ رہا ہے۔وہ ان حالات و واقعات کے تعلق سے لکھتے ہیں :

’’شعر و سخن سے میری دلچسپیاں جاڑے کے عالم خواب کی طرح کافی زمانے تک میرے ذہن سے چھوٹی رہیں لیکن سچ یہ ہے کہ اپنے ادبی سفر کے سلسلے میں میری بنیادی وفاداری شعر و سخن ہی سے رہی۔میں نے علمی و تحقیقی کام میں بھی شعر و شعور کے تنقیدی تاریخی اور تہذہبی مطالعہ کو پیش نظر رکھا۔میری زبان اور طرز بیان پر شاعرانہ دلچسپیوں کا گہرا اثر شروع سے آخر تک رہا۔‘‘

)لمحوں کی خوشبو ص 16(

درج بالا اقتباس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ریسرچ کے زمانے میں علوی صاحب کی جتنی دلچسپی تحقیق و تدوین سے تھی اتنی شعر و شاعری سے نہ تھی۔ علوی صاحب ریسرچ کے بعدجب پاکستان کے سفر پر گئے تو ان میں ایک بار پھر شعر گوئی کی تحریک پیدا ہوئی۔علوی صاحب میں یہ تحریک ہندی اور سنسکرت شاعری اور پراکرتوں کے مطالعے سے پیدا ہوئی۔ علوی صاحب نے ہندی کے وسیلے سے کہا تھا کہ میری سب سے خوبصورت یاد گار شعری تخلیق ’پریہ سندیش ‘ہے۔وہ کیرانہ میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں حفیظ میرٹھی کے ساتھ شرکت فرماتے اور اپنی نظمیں پیش کرتے تھے۔البتہ دوسرے مقامات پر ہونے والے آل انڈیا مشاعروں میں شرکت کرنے کا موقع بہت کم ملا۔ دہلی اور سہارنپور میں منعقد ہونے والے مشاعرے میں صدرِ مشاعرہ جگن ناتھ آزاد اور ناظم گلزار دہلوی کے علاوہ دیگر شرکا سے داد و تحسین ملی۔ علوی صاحب دہلی کے مشاعروں کے تعلق سے لکھتے ہیں:

’’دہلی کے دو مشاعروں میں بھی شرکت کا موقع ملا،جہاں میں عرش ملسیانی اور ساغر نظامی کے ساتھ گیا تھامشاعروں کا رنگ ڈھنگ دیکھ کر ہی میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ مجھے شاعر کی حیثیت سے اپنے ادبی مستقبل بالخصوص مشاعروں کی داد کی طرف سے خوش فہمی کا شکار نہیںہوناچاہیے۔ اگرچہ عرش ملسیانی مرحوم میری شاعری کو پسند کرتے تھے۔اور انھوں نے ایک بار میرا اور صادقین صدق کا تعارف شاعر ان ِ فرداPoets of tomorrow کے طور پر آل انڈیا ریڈیو سے کرانا چاہا تھا۔‘‘ (لمحوں کی خوشبو ص12 (

تنویر احمد علوی کے دو شعری مجموعے منظر عام پر آئے۔پہلا مجموعہ’لمحوں کی خوشبو‘ہے جس کی اشاعت 1988 میںہوئی۔دوسرا شعری مجموعہ’ رقص لمحات‘ہے جسے 1998 میں شائع کیا گیا۔ وہ شاعری میں تنویر ؔ تخلص کرتے تھے۔پہلے شعری مجموعے میں نظموں کے انتخاب کے علاوہ چند غزلیات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ان غزلیات کو ’عناصر اربعہ‘کی حیثیت حاصل ہے۔ان غزلوں میں کچھ فارسی غزلیات(گل خوشبو ) کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ پہلے مجموعے میں شامل چند اہم نظموں میں پہلی نظم ’نذر شباب‘ ہے۔دوسری نظموں میں ’قلو پطرہ، فراق، کرئہ ارض،سائنس داں،عوام اور کائنات،گوتم بدھ،اجنتا اور ایلورا،زلیخا اور سالومی وغیرہ اہم ہیں۔مجموعہ ’ لمحوں کی خوشبو ‘ میںعلوی صاحب کا ایک خود نوشت نامہ بھی ہے۔ اسی مجموعے میں شامل ایک نظم کتاب کے نام کی مناسبت سے ’ لمحوں کی خوشبو‘کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ علوی صاحب اپنے اس مجموعے کو متعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’اس مجموعے میں زیادہ تر نظمیں ہیں اور نظم نگاری ہی شروع سے آخر تک میری شعری دلچسپیوں کا مرکز بنی رہی۔چند غزلیں بھی ہیں جن میں فارسی کی بھی دو تین غزلیں موجود ہیں اور غزلوں میں دو چار ایسی بھی ہیں جو سلیم احمد مرحوم کی وفات حسرت آیات کے بعد لکھی گئیں اور جو اس یار عزیز کے لیے میری طرف سے ایک نذرانہ خلوص ہے۔آخر میں چند نظمیں فارسی زبان میں ہیں جنھیں ’گل خوشبو‘کے عنوان سے پیش کیا گیا ہے۔اردو کی طرح فارسی میں کہے گئے بہت سے اشعار کا یہ انتخاب بھی مختصر ہے اور متعدد نظمیں اور بہت سے قطعات اس میں شامل نہیں ہیں۔‘‘(لمحوں کی خوشبو ص 21 (

درج بالا اقتباس سے یہ پتا چلتا ہے کہ مجموعہ ’ لمحوں کی خوشبو‘ میں نظموں کے علاوہ چند غزلیات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ علوی صاحب ابتدا میں غزل کہتے تھے لیکن بہت جلد وہ نظموں کی طرف رجوع ہوئے۔اس کی وجہ ان کا مطالعہ، تجسس اور اس عہد کے خارجی حقائق کا تجربہ تھا۔علوی صاحب اپنی غزلوں اور نظموں کی وجہ سے مشہور ہو ئے۔ تنویر احمد علوی نے اپنے محب جناب سلیم احمد کی وفات پرچند اشعارلکھے تھے۔ ملاحظہ ہوں          ؎

یہی تو حادثہ ناگہاں سا لگتا ہے

یقین تھا جو کبھی اب گماں سا لگتا ہے

لبوں سے جس کے سدا پھول جھڑتے رہتے تھے

یہی وہ شخص ہے جو بے زباں سا لگتا ہے

 تنویر احمد علوی کے دوسرے شعری مجموعے کا نام ’رقص لمحات‘ ہے۔ اس میں پہلے اردو غزلیں اور پھر نظموں کو شامل کیا گیا ہے۔ اسی مجموعے میں نظموں کے مقابلے غزلوں کی تعداد زیادہ ہے۔اس مجموعے کی پہلی نظم ’صدائیں‘ہے۔ دوسری اہم نظموں میں زوال آدم،اہرام، دیوار چین،کونارک اور آخر میں بعنوان اسلام اور راج گھاٹ وغیرہ اہم ہیں۔  اس مجموعے کا پیش لفظ پروفیسر قمر رئیس نے لکھا ہے جس میں انھوں نے علوی صاحب کی شعری خصوصیات کا بھرپور جائزہ لیا ہے۔ علوی صاحب ان شاعروں میں شمار کیے جاتے ہیں جن کی غزلیں بہ یک وقت ان کے مشاہدے اور عملی تجربے کی عکاسی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ انھوںنے اپنے مطالعے کے ذریعے زندگی کے ہر موڑپر کچھ  نئے تجربے کیے ہیں۔اس کا اندازہ قاری کو ان کے مجموعے پر ایک نظر ڈالنے ہی سے ہو جاتا ہے۔

’’ان کی غزل نئی عصری حسیّت کی بھی نمائندگی کرتی ہے اور تخلیقی شعریت کی بھی جو ان کے ادبی شعور سے عبارت ہے۔بہت ہی کم غزلیں ایسی ہیں جو دوسروں کی سر زمینوں میں لکھے ہوں اور جہاں ایسا ہوا بھی ہے غالباًان کی شعوری یا نیم شعوری کوشش یہ رہی ہے کہ وہ پیروی سے بچتے ہوئے آگے بڑھیں اور اس معنی میں ان کے قدموں کے نیچے ان کی اپنی زمین ہو۔ان کی بیشتر غزلوں پر ان کے ذاتی تجربے اور ذہنی تجربے کی پر چھائیں کہیں واضح اور کہیں نیم واضح صورت میں ملتی ہیںان میں تلخ مسکراہٹیں بھی شامل ہیںاور شیریں آنسو بھی۔‘‘(رقص لمحات ص 21(

تنویر احمد علوی کی غزلوں کے موضوعات میں بڑی وسعت نظر آتی ہے۔انھوں نے اپنے مطالعے اور تجربے کی روشنی میں زندگی کے گونا گوں پہلوئوں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔علوی صاحب کو تاریخ سے بے حد دلچسپی تھی۔  تاریخ انسانی تہذیب کا اثاثہ ہے۔ ان میں چاہے جو تاریخی شخصیات و مقامات ہوں،انھوں نے ان سب کو بنیاد بناکر غزلوں کی تخلیق کی ہے۔ ان کے اشعار ہر طرح کے موضوعات کا احا طہ کرتے ہیں۔ ایک طرف وہ اگر خوبصورت شے کے دلدادہ تھے تو دوسری طرف انھوں نے سماجی و معاشرتی پہلو پر بھی نظر ڈالی ہے۔ان کے اشعار میں خاص کر مسلم معاشرے کی تعلیمی زبوںحالی کا عکس نظر آتا ہے۔قوم و ملّت کے تئیں ہمدردانہ رویہ طالب علمی کے زمانے سے ہی رہا ہے۔علوی صاحب نوجوان طبقے سے مخاطب ہو کر کہتے تھے کہ انھیں غم و ویاس کے دائرے سے باہر نکل کر منزل کو دیکھنا چاہیے جس کے ذریعے انسان سماج و معاشرے کے ساتھ ساتھ خود اپنی زندگی کے چراغ کو روشن کر سکے۔چند شعر ملا حظہ ہوں          ؎

کچھ عجب حالت ہے راہ منزل مقصود کی

جتنا جتنا میں بڑھا میرا سفر بڑھتا گیا

یہ کائنات یہ تنظیم ثابت و سیار

فقط زمیں و زماں کے سوا کچھ اور بھی ہیں

مُسکرائیں جس طرح تارے، نقاب ابر سے

سرو کی آغوش سے، جس طرح اُبھر ے ماہتاب

تنویر احمد علوی کی نظموں کے مطالعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے زیادہ تر موضوعاتی نظمیں لکھی ہیں۔ حیات وکائنات سے متعلق مختلف موضوعات پران کی نظمیںان کے جذبات کی ترجمانی کرتی ہیں۔علوی صاحب نے جہاں ایک طرف عوام و کائنات سے متعلق نظمیں لکھی ہیں تو وہیں دوسری جانب انھوں نے عظیم شخصیتوں اور تاریخی مقامات سے متعلق نظمیں بھی لکھی ہیں۔ان نظموں میں گوتم بدھ، زلیخا ،قلو پطرہ،آئین اسٹائین، سالومی، اجنتا، ایلورا اور راج گھاٹ وغیرہ اہم ہیں۔اس کے علاوہ انھوں نے دیگر اہم موضوعات پر بھی نظمیں لکھی ہیں۔ انھوں نے ’سائنس داں،کسبی اور باندی، U.N.O پر نظمیں لکھ کراہل ادب سے انھیں متعارف کرانے کی کوشش کی ہے۔تنویر احمد علوی نے اپنی نظم ’کرئہ ارض ‘ میں مناظر فطرت اور مظاہر قدرت کو بڑے فنکارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ انھوں نے اپنے خیال و تصور کو اشعار کی کڑی میں پرو کر پیش کیاہے۔ملا حظہ فرمائیں          ؎

رنگ بھردے جس طرح پھولوں میں نقاش سحر

بخش دے پہلی کرن جیسے افق کو آب و تاب

نرم ہلکوروں سے جیسے کھِلکھلا اُٹھیں کنول

اور ٹکرا کر کنول سے جس طرح ٹوٹے حباب

پھول افسانہ بھی افسوں بھی ہے لیکن تنویر

چشم خوں بستہ نیاطرز سخن مانگے ہے

درج بالا اشعار میںتنویر احمدعلوی نے منا ظر فطرت کے گونا گوں پہلوئوں کا حاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔انھوں نے اپنی اس نظم میں کائنات کے مختلف حصوں کی ترجمانی کی ہے۔ اس نظم میں صحرائوں کے خوب صورت نظارے، سمندرکی لہریں،چمن کے گل چیں،اندھیری راتوں میں ستاروں کا جگنوئوںکی طرح چمکنا، جنگلوں میں پپیہے کی آواز اور نظام شمسی کے تحت دن رات کا ہونا وغیرہ کو خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے۔علوی صاحب نے نظم ’ قلو پطرہ ‘ کو چھوٹی بحر میں لکھا ہے۔ اس بحر میں انھوں نے اپنی فنکارانہ بصیرت کے ذریعے نظم کے کردار کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔علوی صاحب کی بیشتر نظمیں تو ضیحی طور کی ہوتی ہیںلیکن کچھ نظمیں اس سے ہٹ کر بھی تخلیق کی گئی ہیں۔ ان کی نظم ’فراق‘ اس پایے کی نظم ہے جس میں شاعر نے نظم کو روانی اور بے ساختگی کے ساتھ پیش کیا ہے۔اس نظم میں آٹھ بندوں کے بعد’بنسری بجتی رہی ‘کی تکرار ہوتی ہے۔بنسر ی بجنے سے مرادشاعر نے زندگی کو رواں دواں رہنے کے طور پر استعمال کیا ہے۔

تنویر احمد علوی کی نظم ’اجنتا اور ایلورا‘کا عنوان لافانی ہے۔اس نظم کے ذریعے اجنتا اور ایلورا کے فنون لطیفہ سے واقفیت حاصل ہوتی ہے۔اجنتا اور ایلورا میں پتھروں کو تراش کر انسانی مجسمے بنائے گئے ہیں جو اس عہد کی انسانی تہذیب کی عکاسی کرتے ہیں۔ علوی صاحب نے بہت سی نظموں کی تخلیق مختلف تصویروں کو دیکھ کرکی ہے۔ وہ اپنی شعری خصوصیات کے حوالے سے لکھتے ہیں :

’’لمحوں کی خوشبو،بساط شب،ملکۂ کوہسارمری، زلیخا  اور  سالومی اسی ذہنی زندگی اور تخلیقی حسیّت کے پرتوں کو پیش کرنے والی نظمیں ہیں۔میری شعری تخلیقات کے سلسلے میں ایک دل چسپ بات یہ ہے کہ میں نے بعض نظمیں تصویروں کو دیکھ کرلکھی ہیں۔’قلو پطرہ‘ بنسری بجتی  رہی،کھا جوراہو، زلیخا، مدارج حیات،فطرت سے دریوزہ کائنات اور سالومی،بنیادی طور پر ان کی تصویروں ہی کا تحریری عکس ہیںجنھیں میں نے اپنے تاثرات، مطالعہ اور مشاہدہ کی روشنی میں پیش کیا ہے۔‘‘ (لمحوں کی خوشبو ص 16 (

تنویر احمد علوی اپنے پہلے مجموعے میں شامل نظم ’سالومی‘کے بڑے دلدادہ تھے۔انھوں نے اس نظم کی شعری سطح، موضوع،کردار کے مطالعے کو اپنے طور پر سمجھنے اور اس کی بازیافت کرنے کی کوشش کی ہے۔ علوی صاحب کو اس نظم سے جذباتی لگائو تھا۔دراصل اس نظم کا محرک ایک تصویر اور روایت کی تاریخ پر مبنی ہے۔اس نظم کی تاریخی روایت سے اہل ادب بخوبی واقف ہوں گے۔ اس نظم کا واقعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے۔سر زمین فلسطین کی ایک شہزادی سالومی کے واقعے کو اشعار میں پروکر پیش کیا گیاہے۔سالومی کا واقعہ مقدس کتاب انجیل میںبھی پایا جاتا ہے۔ نظم ’سالومی ‘88 بندوں پر مشتمل ہے اور ہر بند میں چار مصرعوں کا اہتما م کیا گیاہے۔نظم کے ابتدائی بندوں میں علوی صاحب نے سالومی کے حسن و جمال ا ور اس کی خوبصورتی کا حال پیش کیا ہے۔انھوں نے نظم میں مختلف تشبیہات و استعارات کے حوالے سے اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے:

اور وہ زُلفوں کے ریشمی سائے

حلقہ در حلقہ دام پھیلائے

اپنی رعنائیوں سے نکھری ہوئی

جیسے پھولوں پہ رات بکھری ہوئی

کُنج گل میں بہار آتی ہوئی

بوئے زلفِ نگاہ آتی ہوئی

خوشبوئوں میں وہ رنگ ملتے ہوئے

پھول شاخ ادا میں کھلتے ہوئے

درج بالا اشعار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نظم سالومی کے ابتدائی بندوں میں اس کے حسن و جمال کی تصویر کشی کی گئی ہے۔اس کے بعد جیسے جیسے اس کی عمر میں تبدیلیاں آتی گئیں، ان پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔اس نظم میں یوحنا اور سالومی کے جذبات عشق کا ذکر ملتا ہے۔

تنویر احمد علوی ایک ایسے شاعرتھے جن کا شعر و سخن میں کوئی استاد نہ تھا۔وہ اپنے کلام میں کسی سے اصلاح نہ لیتے تھے بلکہ خود ہی تنقید کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔وہ اپنے کلام کو بار بارپڑھتے اور ان کی اصلاح خود ہی کرتے۔ ان کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہتی تھی کہ وہ اپنے اشعارکو خوب سے خوب تر بنائیں۔علوی صاحب نے اپنی شعری تخلیقات کے تعارف اور ادبی شناخت کے لیے کبھی کوئی کوشش نہیں کی ہے۔ان کا خیال تھا کہ یہی نظمیں ان کی شناخت بنیں گی۔علوی صاحب اپنی شعری خصوصیات کے تعلق سے لکھتے ہیں:

’’اپنی شاعری اور شعری تخلیقات کو میں نے ہمیشہ خود ہی تنقید ی نگاہ سے دیکھا ہے۔ شعر وسخن میں میرا کوئی استاد نہیں۔ اپنے بہت سے شعروں اور نظموں میں جتنی تبدیلیاں میں نے کی ہیں اس سے زیادہ کا تصور میرے لیے تو ذرا مشکل ہے،بعض شعر اور متعدد نظمیں تو زبان قلم سے صفحہ قرطاس پر آنے کے بعد حک و اصلاح کے عمل سے اتنی بار گزری ہیں کہ ابتدا  اور انتہا کے مابین نہ جانے کتنے ذہنی فاصلے اور واردے حائل ہو گئے۔میرے یہاں شعر گوئی کوزہ گری اور بت تراشی کے عمل سے مشابہ ہے محض آمد سخن سے نہیں۔‘‘(لمحوں کی خوشبو ص 17(

تنویر احمد علوی نے جہاں ایک طرف شعر کے لیے ضروری لوازمات کی طرف اشارہ کیا ہے تو  دوسری جانب انھوں نے شاعر کے لیے بھی چند اہم نکات کی جانب توجہ مبذول کرایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شاعرمیں بھی ایک طرح کا کمٹ منٹ ہوتا ہے۔شاعر کو شعر و ادب کے تقاضوں سے غفلت نہیں برتنی چاہیے ورنہ شعر کے مقاصد کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ موضوع زبان و بیان،ردیف و قافیہ،تشبیہ و استعارے اور بحرو وزن کے استعمال میں چابکدستی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ تنویر احمد علوی شاعر کی خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ شعر کہتے وقت شاعر کو محو تماشائے دماغ رہنا ہوتا ہے۔اس لیے کہ جسے شاعری کہتے ہیں وہ ذاتی مشاہدہ کاپر تو‘داخلی تجربے کا عکس‘تخیل کی رنگ آمیزیوںکا مرقع اور جذبات کی پر کشش لہرغرض سبھی کچھ ہے شعر کا حسن ذہن اور زندگی کے رشتوں کی ترجمانی کرتا ہے۔ وہ تجربے کی زبان بھی ہے اور زبان کا تجربہ بھی‘ جسے تخلیقی حسیّت کی نمود کہا جاتا ہے۔معلوم کو محسوس اور تصور کو تاثر بنائے بغیر ممکن نہیں۔اس کے بعد ہی تجربے کی صحت اور جذبے کی صداقت شعری سچائی کی شکل اختیار کرتی ہے۔اچھا پیرایہ اظہار کلاسکیت میں بھی موجود ہے‘ترقی پسندی میں بھی اور جدیدیت میں بھی‘لفظ ومعنی کی مضمر قوت کی بازیافت اور احساس و ادراک کی شدّت کے بغیر اچھی شاعری نہیں کی جا سکتی۔‘‘ (لمحوں کی خوشبو ص 7 1(

درج بالا اقتباس میں علوی صاحب نے جن نکات کی طرف نشاندہی کی ہے وہ ان تمام لوازمات کو اپنی شعری تخلیقات میں بروئے کار لاتے تھے۔وہ اپنی کاوشوں کو ہمیشہ نقادکی نگاہ سے دیکھتے اور حتی الامکان اسے درست کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے۔وہ جب شعری تخلیق کے قلم کو زور دیتے تو ابتدا سے انتہا تک پہنچنے میں نہ جانے کتنے فاصلوں کو طے کرتے ہوئے اختتام پر پہنچتے تھے۔وہ ایک ایک مصرعے کا سنگ تراش کی مانند مشاہدہ کرتے تھے۔ تنویر احمد علوی اپنی تحقیق،تنقید،تاریخ و تصوف اور دوسرے علوم میں اپنی عبقریت کے لیے معروف ہیں لیکن بنیادی طور پر سب سے پہلے ایک شاعر ہیں۔اس بات کی تصدیق ان کی شعری تخلیق کے ذریعے بھی ہوتی ہے۔ان کی شعری تخلیقات یقیناََ قابل تحسین ہیں مگر ان کی شاعرانہ عظمت ادب میں دب کر رہ گئی ہے۔

Dr. Imran Ahmad

Lecturer, District Institute of Education and Training (DIET) - 271845

Bahrich

Mob.: 9652559916

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں