بدھ، 2 نومبر، 2022

سیوان میں اردو ادب کا ارتقائی سفر:ارشاد احمد


 زمانہ ٔ  قدیم سے ہی اردو غزل مقبول ترین صنف ِشاعری رہی ہے۔ اس کی مقبولیت اور ہر دل عزیزی کی مثال اس سے زیادہ اور کیا ہو سکتی ہے کہ ہر متبدی شاعر اپنی شاعری کی ابتدا غزل سے ہی کرتا ہے۔ قدیم شعرا نے اس صنف کو محدود زوایۂ نظر سے دیکھا اور برتا۔ لیکن جدید شعرا نے اس میں ہر طرح کے مضامین کو شامل کر کے اسے حسن و عشق،گل و بلبل،عشوہ و غمزہ اور صنف نازک کی ناز و ادا جیسے روایتی اور یک رخی موضوعات سے آزاد کرایا ہے اور مختلف رنگوں اور موضوعات پر اشعار کہہ کر اپنی شاعری کے ایسے کمالات دکھائے کہ نئی نسل کے ساتھ ساتھ دوسری زبانوں میں بھی یہ صنف کافی مقبول ہونے لگی ہے۔ دورِ جدید میں شاید ہی کوئی ایسا شاعر ہوگا جس نے اس صنف میں طبع آزمائی نہ کی ہو۔ اردو کی طرح ہندی، پنجابی، میتھلی، بھوجپوری اور دیگر علاقائی زبانوں میں بھی غزلوں کے مجموعے کثیر تعداد میں شائع ہو رہے ہیں اور مقبول و معروف بھی ہو رہے ہیں۔ یہ صنفِ غزل کے حسن کا کمال ہے۔                                                                              

علاقائی سطح پر ریاست بہار کو اردو زبان و ادب کے فروغ کے معاملے میں ابتدا سے ہی خصوصی اہمیت حاصل رہی ہے۔  بہار کے شعر و ادب کا سب سے بڑا اختصاص یہ ہے کہ یہ طفیلی نہیں بلکہ مقامی اور اصلی ہے۔ بالخصوص شاعری کے معاملے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کسی غیر کی رہینِ منت نہیں رہی ہے۔ ’بہار میں اردو زبان و ادب کا ارتقا‘ میں اختراور نیوی نے مختلف حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ ’’بہار کا اردو ادب خالص بہار کا ہے جس سے ساری دنیا کے ادیبوں نے اکتساب فیض کیا ہے۔‘‘

سیوان ضلع بہار کا ایک مردم خیز، ادب نواز اور ادب ساز خطہ رہا ہے۔ عظیم آباد میں شعر و ادب کے آغاز کے ساتھ ہی سیوان میں بھی شاعری اورنثر نگاری کی ابتدا ہو گئی تھی۔ سیوان کی ادبی تاریخ کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہاں کے متعدد شعراء عظیم آباد، کو لکاتا، ڈھاکہ،لاہور، دہلی اور ممبئی جیسے دور دراز ادبی مراکز میں آباد تھے۔ جب یہ قلم کار سیوان آتے تھے تو یہاں کی مقامی ادبی محفلوں کو رونق بخشتے تھے۔ اس کے بر عکس متعدد شعرا ایسے تھے جو ہندوستان کے دیگر خطوںسے آکر سیوان میں سکونت گزیں ہوئے اور مقامی شعرا کے ساتھ مل کر ان میں خود اعتمادی پیدا کی، نیزان کے خلاق و ذہن کو تخلیقی اڑان سے ہموار کیا۔ اس مضمون میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ دونوں طرح کے شاعروں کا تعارف ہو جائے۔

سیوان میں قدیم غزل گوئی کو درج ذیل تین ادوار میں منقسم کیا جا سکتا ہے۔  (1) ابتداتا آزادی (2)  آزادی کے بعد 2000تک اور (3) 2000سے دورِ حاضر تک۔ اس مضمون میں اوّل الذکر دو ادوار کا تذکرہ ہے۔سیوان کے قدیم اردو غزل گو شعرا میں برق رانی پوری،امیر حسن رانی پوری، مظہر حسن مظہر،یوسف سیوانی، شام عنایت پوری، قسیم سیوانی، یکتا سیوانی، بسمل سیوانی، شیدا رانی پوری اور علی بہادر خاںبہار وغیرہ شامل ہیں۔ دورِ اوّل کے مذکورہ بالا شعرا نے اردو غزل گوئی کو کوئی خاص مقام و مرتبہ تو نہیں عطا کیا لیکن یہ بات و ثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ اردو غزل کے فروغ میں اہم رول ادا کیا۔ چونکہ صوبہ بہار کے شعر و ادب پر کسی خاص دبستانِ ادب اور تحریکِ ادب کا اثر نہیں تھا، اس لیے مذکورہ شعراء کی شاعری میں کوئی خاص رحجان،رنگ اور اسلوب نظر نہیں آتا۔ بیشتر شعراء نے غزل کو اپنے اپنے طور پر برتا ہے اوراپنے خلاقانہ ذہن سے الگ الگ رنگ،طرز اور اسلوب اختیار کیاہے۔

سیوان میں ابتدائی دور کے شعرا میں غیاث الدین احمد المتخلص بہ برق کا نام اردو غزل گوئی میں اہم اور نمایاں ہے۔  حکومت ِفرنگ میں مختلف عہدوں پر مامور رہتے ہوئے معیاری اور پر کشش غزلیں لکھی ہیں۔ غزلوں کا انداز اور مضامین روایتی ہیںاور ان میں حسن و عشق کی جلوہ گری ہے۔  زبان و بیان شستہ اور رواں ہے      ؎

 دشت و ویرانہ کبھی  اور کبھی صحرا مجھ کو

وحشتِ دل نے دکھایا ہے نہ کیا کیا مجھ کو

دیر میں اس کا ہے جلوہ، تو حرم کیا جائوں

شیخ کو کعبہ  مبارک  ہو  کلیسا  مجھ کو

بے ردا بام پہ شب کو مرا دل بر بیٹھے

چادرِ ابر میں چھپ کر مہہ انور بیٹھے

کیوں بگڑتے ہو،مکر جاتے ہو جھٹلاتے ہو

ساتھ دشمن کے تمھیں دیکھا ہے اکثر بیٹھے

مثنوی رنجیت رانی رمبھا (مطبوعہ (1974 کے خالق مولوی شمس الحق المتخلص بہ حسن کا شمار سیوان کے استاد غزل گو شعرا میں ہوتا ہے۔ آپ کا مشغلہ درس و تدریس تھا۔ اس کے علاوہ آپ سیوان کی تاریخی’بڑی مسجد‘‘ میں امامت و خطیب کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔  عربی، فارسی اور اردو کی استعداد اچھی تھی۔ آپ کی غزلوں کا اسلوب روایتی ہے لیکن مضامین جدا ہیں۔ انداز بے تکلف اور رواں ہے۔ خیالات پاکیزہ اور نیک ہیں۔ غزلوں میں اثر آفرینی ہے۔ اس لیے قارئین پسند کرتے ہیں۔ آپ کے حلقہ تلامذہ میں درجنوں شاعر شامل ہیں   ؎

اٹھ چلے بالیںسے جب وہ مجھ کوبے جاں چھوڑ کر

منتظر  ہم موت کے بیٹھے  ہیں  درماں  چھوڑ کر

باغباں ! کیوں تو نے اس کو بے سبب پھنکوا دیا

آشیاں جھاڑوں پہ تھا، تیرا گلستاں چھوڑ کر

ان دنوں حال زبوں ہے ترے دیوانے کا

مرحلہ طے  ہوا غم خواروں کے سمجھانے کا

شمع  رونے لگی،پروانے لگے  سر  دھننے

ابھی  آغاز  ہوا  تھا  مرے  افسانے کا

مستند ذرائع کے مطابق مرزا دبیر کے حلقۂ تلامذہ میں ملک گیر سطح پر متعدد شعرا کے علاوہ سیوان (بہار) کے حسن کھجوئی،فقیر حسن عظیم،دوست محمد فہیم،سید مظہر حسن مظہراور شمیم کھجوئی شامل ہیں۔ان معروف و مستند شعرا نے رثائی ادب میں کارہاے نمایاں انجام دیے ہیں،جن کا تذکرہ متعدد کتابوں میں مل جاتا ہے۔ لیکن ان شعرا کی غزلیں بجز مظہر حسن، تلاشِ بسیار کے باوجود میری نظروں سے اوجھل ہیں۔ تذکرہ شعراے سارن کے مولف سمیع بہواروی نے سید مظہر حسن مظہر کے حالات زندگی کے ساتھ ساتھ نمونۂ کلام بھی لکھے ہیں۔ دفترِ ابتر ان کے مختصر شعری مجموعے کا نام ہے۔ وہ مشہور و معروف شاعر علامہ جمیل مظہری کے والد تھے۔انھوں نے مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ معیاری غزلیں بھی کہی ہیں۔ غزلوں کا انداز روایتی ہے اور مضامین عشقیہ ہیں       ؎

 

جس دل میں تو نہ ہو مجھے اس دل سے کیا غرض

لیلیٰ نہ  ہو  تو  قیس کو  محمل  سے کیا  غرض

مظہر  اب  ان کے پاس کسی حال میں  رہے

دل دے چکے تو آپ کو  پھر دل سے کیا غرض

سیوان کے قدیم شاعروں میں یوسف سیوانی حضرتِ ظریف لکھنوی کے شاگرد تھے اور اکبر الہٰ آبادی سے خاصے متاثر تھے۔ آپ نے اکبر کے رنگ میں شاعری کی ہے۔ آپ نے مزاحیہ غزلوں کے ساتھ ساتھ سنجیدہ اور نعتیہ غزلیں بھی کہی ہیں۔ انور سیوانی نے آپ کے کلام کا مجموعہ ’آئینۂ ظرافت‘ کے نام سے ترتیب دیا تھا، لیکن شائع نہیں ہو سکا۔ اس مخطوطے کو ڈاکٹر التفات امجدی نے دوبارہ مرتب کر کے 2012میں شائع کرایا۔ غزل کے چند اشعار پیش خدمت ہیں    ؎

شاد ہیں بدھو  میاں رسمِ بزرگاں  چھوڑ کر

عید کے دن کیک کھاتے ہیں سویاّں چھوڑ کر

کیا کروں مجبور ہوں مشکل ہے اب ہونا گزر

گھر میں کھا لیتا ہوں جاکر درپہ مہماں چھوڑ کر

رنگ  اکبر کا  ظرافت  میں کرو  تم  اختیار

فحش گوئی  عادتِ بے  ہودہ طفلاں چھوڑ کر

بابو شیام کشور شری واستو شام کا اصل وطن ضلع سارن ہے لیکن سیوان میں وکالت کا پیشہ کرتے تھے۔ اس لیے مستقلاً سیوان میں سکونت پذیر رہے۔ سیوان اور سارن کے سارے تذکروں میں آپ کا ذکر موجود ہے۔ آپ قادرالکلام شاعر تھے اور سیوان کی ادبی محفلوں میں باقاعدگی سے شرکت کرکے رونق بخشتے تھے۔ شاعری میں کوئی اپنا رنگ اورا سلوب تو نہیں پیدا کر سکے،لیکن ہم عصر شعری رحجانات اور روایت کا خیال رکھا اور اسی طرح کی شاعری کی۔ دیکھیں چند اشعار   ؎

یہ لے جاں ہے اپنی، یہ ایمان اپنا

چڑھاوے کا تیرے ہے سامان اپنا

محبت،   محبت،   محبت،   محبت

یہ مصرع ہے گویا  کہ دیوان اپنا

دکھا  روئے  انور کہ ہو  صبح  محشر

اندھیرا   پڑا   ہے   شبستان   اپنا

سیوان کے رؤسا میں شمار محمد قاسم ابن گلزار حسین المتخلص بہ قسیم  سیوانی ایک قادر الکلا م، مستند و معروف شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی کارکن بھی تھے۔ وہ عرصۂ دراز تک حکومتِ فرنگ میں اعزازی مجسٹریٹ(1927-1936)  کے عہدے پر فائز رہے۔ 14فروری 1934سے 13فروری1937تک بہار قانون ساز اسمبلی کے ممبر رہے۔ آپ کی شاعری کا مذاق صاف ستھرا تھا۔ سیوان کی ادبی محفلوں میں اپنا کلام سناتے تھے اور داد تحسین پاتے تھے۔ دولت اور شہرت کے باوجود کلام کی اشاعت کے تئیں سنجیدہ نہیں تھے۔ شاعری میں عشرت لکھنوی سے اصلاح لی         ؎

دوست دشمن نے سمجھ کر اس قدربے داد کی

حسرتیں روئیں، تمنائوں نے بھی فریاد کی

  پوچھتے  حالت ہو تم کیا  عاشقِ  نا شاد  کی

خاک میں  جب مل گیا تب آہ ! تم نے یاد کی

 نور الہدیٰ یکتا  کا شمار سیوان کے استاد شعرا میں ہوتا ہے۔ یکتا نے غزل گوئی کے ساتھ ساتھ متعد د نثری رسالے بھی لکھے ہیں۔ آپ نے بچوں کے لیے درسی کتابیں ترتیب دی ہیں۔ بچوں کا ایک رسالہ’ المفید‘ شائع کیا لیکن اس رسالے نے بہت جلد دم توڑ دیا۔ ڈاکٹر مفتاح الہدیٰ نے آپ کے کلام اور حالاتِ زندگی پر محیط ایک کتاب ’یکتا سیوانی احوال و تدوین کلام‘ کے نام سے2011میں شائع کرائی۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ ان کی تخلیقات ضائع ہونے سے بچ گئیں۔ یکتا غزل گوئی کے میدان میں تاحیات سرگرم رہے اور ادبی محفلوں کی آبیاری کرتے رہے۔  آپ نے نظمیہ پیرایے میںلمبی لمبی غزلیں کہی ہیں جن میںدلی جذبات و کیفیات کی فراوانی ہے۔ آپ کی غزلوں کی زبان شستہ اور رواں ہے۔اسلوب دلکش اور دل پذیر ہے        ؎

شرم کرتے ہیں نہ کچھ آپ حیا کرتے ہیں

برسرِ عام  رقیبوں  سے  ملا کرتے  ہیں

نالہ کرتے ہیں نہ ہم آہ و بکا کرتے ہیں

    درد  اٹھتے ہی جگر  تھام لیا کرتے  ہیں

حضرت عشق کے مکتب  میں جناب یکتا

پانچواں باب گلستاں کا پڑھا کرتے ہیں

سیوان کے ایک مذہبی خاندان کے چشم و چراغ پنڈت بندیشوری دت دوبے کا تخلص بسمل  تھا۔ آپ کو ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں شعر کہنے کا ملکہ حاصل تھا۔ آپ کا مشغلہ وکالت تھا۔اردو ادب سے گہرا لگائو تھا۔ سیوان کی شعری محفلوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے تھے۔ بعض اوقات اپنے دولت کدے پر بھی شعری نشست کا اہتمام کرتے تھے۔ آپ کی غزل گوئی کا رنگ اور لہجہ ہم عصر شعرا سے الگ تھا۔آپ کو غزل کی ہیئت اور اسلوب میں نئے نئے تجربات کرنے کاشرف حاصل ہے۔ آپ کا لہجہ نرم اور تجربا ت نئے ہیں   ؎

 

خیال  گیسوئے  جاناں  بندھا  ہے  کچھ  ایسا

کہ دیکھتا ہوں میں راتوں کوروز خواب میں سانپ

نہیں ہے زلف سے کالوں کو نسبت اے بسمل

لکھا کرے کوئی شاعر تو کیا کتاب میں سانپ

جگر مراد آبادی کے شاگردِرشید، شیدا رانی پوری کا شمار سیوان کے قادرالکلام شعرا میں ہوتا ہے۔ معاشی پریشانیوں میں مبتلا رہنے کے باوجود اردو غزل گوئی کے میدان میں فعال اور سرگرم رہے۔ آپ نے روزگار کی تلاش میں مختلف مقامات کی سیر کی اور جہاں بھی گئے اپنے مزاج کے موافق ماحول تلاش لیا۔ غزل میں جگر کا رنگ اور طرز اپنایا۔ زباں و بیاں آسان اور سلیس ہے۔ آپ کی غزلوں میں اثر آفرینی کے عنا صر بہ درجۂ اتم موجود ہیں        ؎

 ساقیا! کیسی کشش ہے  ترے پیمانے  میں

شیخ مسجد سے چلے آتے ہیں مے خانے میں

نام ہوتا ہے  ترے نام پہ مر  جانے میں

زندگی ہوتی ہے دنیا سے گزر جانے میں

ہے گدائی میں بھی شیدا کو خیال شاہی

گنج مل جاتا ہے مسکین کو ویرانے میں

سیوان کے معروف غزل گو شعرا میں اہم مقام و مرتبے کے حامل علی بہادر خاں کا تخلص بہارتھا۔ مولوی عبد العلیم آسی کے شاگرداور حلقۂ ارادت میں شامل تھے۔ فن ِغزل گوئی پر کامل دستگاہ حاصل تھی۔آپ مشاعروں میں اپنے خاص انداز اور طرزِ اداکے لیے جانے جاتے تھے۔ ہم عہد شعرا کی طرح آپ کی غزلوں کا رنگ، لہجہ اور اسلوب روایتی ہیں۔ ہم عصر رسالوں میں آپ کے کلام شائع ہوتے تھے         ؎

بلبل ناداں پڑی تھی کیا تجھے فریاد کی

کیا خبر اس کی نہ تھی بن آئے گی صیاد کی

شوق کہتا ہے کہ پہنچوں جلد کوئے یار میں

چرخ کہتا  ہے  تمنا کر  عدم  آباد  کی

حور سے واصل ہے جنت میں بہار شاد کام

دھوم  ہے فردوس  میں ہر  سو  مبارکباد  کی

عباس علی جذب کی پیدائش1916میں موضع گوپال پور ضلع سیوان کے ایک مذہبی خاندان میں ہوئی۔مدرسہ سلیمانیہ اور مدرسہ عباسیہ،پٹنہ سے تحصیلِ علم کے بعد حسین گنج ہائی اسکول میں اردو و فارسی کے استاذ کے طور پر بحالی ہو گئی۔ لیکن ملازمت کا سلسلہ دراز نہ ہو سکا۔ اسکول سے مستعفی ہونے کے بعد گوشۂ تنہائی اختیار کر لی۔ اسی قعرِ گمنامی میں 1971میں انتقال کیا۔ جذب ایک کہنہ مشق اور پختہ کار شاعر تھے۔وہ کلاسیکی روایتوں کے زائیدہ و پروردہ تھے۔عام طور پر شعری نشستوں  کے علاوہ محفلِ مسالمہ و مقاصدہ میں بھی شریک ہوتے تھے اور بزم ِ رثائی میں مرثیہ خوانی بھی کرتے تھے۔ ان کے قصیدوں کا مجموعہ ’قصائدِ جذب‘ 1993میں شائع ہو چکا ہے۔ 2019میں ان کا دوسرا مجموعۂ کلام ’برق و باراں‘کی اشاعت ہوئی۔ ان دونوں کتابوں کے مرتب ڈاکٹر سیدحسن عباس ہیں۔ ان کے مطالعے سے یہ پتا چلتا ہے کہ وہ مرزا غالب کے طرزِ سخن سے زیادہ متاثر تھے۔ کہیں کہیں اقبال کا بھی رنگ پایا جاتا ہے۔ وہ غزلوں کی صالح روایات اور بلند اقدار کے حامل تخلیق کار ہیں   ؎

زباں کو نا شناس شیوۂ دشنام رہنے دو

وفا تجھ سے کیا ہوگی وفا کا نام رہنے دو

جناب شیخ جو حوران نادیدہ پر مرتے ہیں

گر اپنی بزم میں ان کو کوئی گلفام رہنے دو

سیوان میں غزل گوئی کا دوسرا دور آزادی کے بعد شروع ہوا۔ اس دور کے بعض شعرا کی تخلیقی ثروت مندی اور فکر و فن کی بلندی سے سیوان میں غزل گوئی کو ایک اعتبار حاصل ہوا۔ ان شعرا کی غزلوں کی وجہ سے پوری اردو دنیا با لخصوص بہار کے ادبی منظرنامے میں سیوان کے شعرااپنا نام اور کارنامے درج کرانے میں کامیاب ہوئے۔ ان میں سے متعدد شعرا کی غزلیںاور ان کے مجموعے زیورِ طبع سے آراستہ بھی ہوئے۔ اس دور کے کامیاب شاعروں میں افسرماہ پوری، انور بہمن بروی، جمیل مظہری، حمید تمنائی،  زاہد فیروز پوری، طالب درویشی رضا مظہری، کوثر سیوانی، مجنوں قطبی، معین افغانی اور صفی فیروز پوری جیسے با کمال، بلند اقبال،فکر رسا اور فکر طبع شعرا کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔

افسر ماہ پوری استحصال زدہ فن کار ہیں۔ گھریلو حالات اس طرح بگڑے کہ دیار غیر کی ہجرت میںعافیت سمجھی اور اپنی شرافت،نکو کاری اور صلح جو مزاج کے باعث اکثر فریب کھاتے رہے۔ افسر ماہ پوری کو جو مقام و مرتبہ اردو غزل گوئی میں ملنا چاہیے تھا وہ نہیں ملا۔’ غبار ماہ‘  اور ’دیارِ ماہ‘ کے نام سے ان کی غزلوں کے دومجموعے شائع ہوئے جن کی کافی پذیرائی ہوئی۔ آپ کو نثر نگاری میں بھی کمال حاصل تھا۔ چند نثری تخلیقات بھی شائع ہو چکی ہیں۔ آپ نے کراچی (پاکستان) میں آخری سانس لی۔ آپ کی غزلوں میں احساسات و جذبات کی حقیقی ترجمانی ملتی ہے۔غزلیں پر لطف اور اثرانگیز ہیں         ؎

وہ اک بلا ہے مصیبت ہے کیا کیا جائے

ہمیں اسی سے محبت ہے  کیا کیا جائے

ہم اس کے در پہ گدا بن کے جا نہیں سکتے

یہ اپنی  اپنی  طبیعت  ہے کیا کیا جائے

مرا بھی حوصلہ بڑھتا ہے داد سے افسر

یہ اہلِ فن کی ضرورت ہے کیا کیا جائے

انور بہمن بروی کا اصل نام محمد انوار الاسلام ہے۔ طالب علمی کے زمانے میں ہی شعر و ادب سے شغف پیدا ہو گیا۔ ناکام از دواجی زندگی کی تلخ سچائیوںنے  یاس آمیزحقیقت نگاری کی ترغیب دی۔ انور  کی غزلوں میں زندگی کے سلگتے مسائل فنکارا نہ تجربات کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے بعض ہم عصر شعرا کی طرح زبان وبیان کے تخلیقی استعمال کی جستجو اور شعری طریقِ کار کے نت نئے اندازاوراسلوب کو برتنے سے زیادہ انسانی رشتوں کی المناک شکستگی اور پامالی پر توجہ دیتے ہیں۔آپ کی غزلیں زیست کی کربناکیوں کا عمدہ بیانیہ ہیں۔ڈاکٹر صابر علی سیوانی نے آپ کی غزلوں، قطعات اور سوانحی کوائف پر مشتمل کتاب ’انوارِ سخن ‘ کے نام سے 2004میں شائع کرائی۔ ڈاکٹر انور پاشا نے آپ کی شاعری کا اعتراف ان لفظوں میں کیا ہے۔

’’ڈاکٹر انور بہمن بروی کی شاعری پہلی نظر میں ہی ان کی کہنہ مشقی کی غمازی کرتی ہے۔وہ شاعری کو صداقت نگاری کا مصداق تصورکرتے ہیں۔زمانے کی زہرناکیوں، انسانی اقدار کا زوال،بدلتا تہذیبی و اخلاقی مزاج اور پر آشوب سماجی سیاسی صورتحال جب بندش الفاظ میں ڈھل کرغزل کی شکل میں نمو پذیر ہوتی ہیںتو قاری کے فکرو احساس کو مرتعش کیے بغیر نہیں رہتیں۔‘‘

)انوارِ سخن، مرتب، ڈاکٹر صابر علی سیوانی، ص05(

 دل کی بستی سے نہ تم اپنے نکالو مجھ کو

اتنا چاہو نہ میرے چاہنے والو مجھ کو

ٹوٹ بھی جائوں تو آئینہ ہی کہلائوں گا

یوں نہ پتھر کی طرح راہ میں ڈالو مجھ کو

ٹوٹ جائے گا یہ احساس کی ایک ٹھوکر سے

کچی  مٹی  کا گھروندا  ہے بچا  لو  مجھ  کو

اس سے پہلے کے بچھڑ جائوں میں تم سے انور

  ان  خلائوں  سے کسی طرح  نکالو  مجھ کو

 علامہ جمیل مظہری عالمی شہرت یافتہ قلم کار ہیں۔ آپ کونثر اور نظم دونوں اصناف پر کامل قدرت حاصل تھی۔ لیکن شاعری سے ہی حیاتِ دوام ملی۔ جمیل مظہری کی شاعری لطیف احساس اور بلندیِ فکر سے عبارت ہے۔ آپ کی شاعری میں محبت کی شرینی بھی ہے اور ہجر کی چاشنی بھی۔ جمیل مظہری کے شعری سرمایے میں اگر’ نقش جمیل‘ عرفان جمیل ‘ وجدان جمیل اور مثنوی آب و سراب کو یکجا کر دیا جائے تو غزلوں کے مقابلے میں نظموں کا پلڑا بھاری ہوگا۔ ان کی غزلیں زیادہ تر فکر ِجمیل میں ہی ملتی ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں        ؎

نظر کو  پاک کیا  فکر کو  بلند  کیا

دلوں کو تیری محبت نے درد مند کیا

پڑھو کتابِ وفا ہے جمیل کا چہرہ

بنا دیا ہے محبت نے ترجماں اس کو

ہم نے کچھ پھول کھلائے ہیں بڑی محنت سے

   اس طرف  بھی کبھی  اے  باد  صبا  ہو  لینا

 پروفیسر حمید تمنائی اردو شاعری علی الخصوص اردو غزل کا ایک معتبر نام ہے۔ابتدائی دو ر کی شاعری پر جعفر علی خاں اثر سے مشورہ سخن لیا اور بعد میں تمناّ عمادی پھلواروی سے شرف ِتلمذ حاصل کیا۔ انہی کی نسبت سے اپنے نام کے آگے تمنائی کا لا حقہ جوڑ لیا۔ سیوان میں آل انڈیا سطح کے مشاعروں کے انعقاد کا آغاز آپ کی ہی دین ہے۔ سیوان کے دیگر ادبی پروگراموں میں بھی کلیدی رول نبھاتے تھے۔ آپ نے چاردرجن سے زیادہ شعراء کی فنی و فکری آبیاری کی ہے۔ آپ کے شاگردوں میں پربھو نرائن ودیارتھی بھی شامل تھے جو تقریباً چالیس کتابوں کے مصنف و مؤلف ہیںاور سیوان میں بہار سرکار کے اعلیٰ افسر(اے ڈی ایم) رہے ہیں۔ حمید تمنائی کی غزلوں میں پاکیزہ خیالات، نادر تشبیہات اور حقیقی احساسات کا پرتو ہے۔ صدق جذبات کی پیش کش نے آپ کی شاعری کو پر کشش اور پر لطف بنا دیا ہے۔ ’ لمعات‘ اور’متاع شائیگاں‘ آپ کے مجموعۂ کلام ہیں۔ آپ کے صاحبزادے ضیاء الحمید نے بتایا کہ ’’کلیاتِ پروفیسر حمید تمنائی ‘‘ زیرِ اشاعت ہے۔ ان کے علاوہ’سخن وران سارن‘ کی تالیف کی اور ’لذات مسکیں‘کا فارسی سے اردو میں ترجمہ کیا۔ احمد جمال پاشا اپنے مضمون ’پروفیسر حمید ایک رنگا رنگ شخصیت‘ میں رقم طراز ہیں

’’حمید تمنائی ایک قادرالکلام اور مسلم الثبوت استاد ہیں، جنھوں نے ہر صنف ِشاعری میں طبع آزمائی کی ہے۔ ان کی غزلوں میںایک کیفیت تغزل اور استادانہ فنکاری ہے۔ شیخ سے چھیڑ چھاڑ، خودداری،عشق و عاشقی، صبر و رضا، بے ثباتیِ عالم، اتحادِ وطن، عزائمِ پیغام عمل، حالِ زار، بے وفائی، حقیقتِ فطرت اور ساقی ان کے موضوعات ہیں۔‘‘

)نذرِ حمیداحمد جمال پاشا،ص29(

تباہی  و بربادی  جو پھیلی ہے زمانے  میں

حقیقت میں  یہ شیخ و برہمن کی آزمائش ہے

ہے شباب عشق بلبل بعد از تکمیل گل

حسن کا انجام ہی توعشق کاآغاز ہے

حسن کی  تزئین کو کیا  حاجت  مشاطگی

حسن تو خود حسن ِفطرت کا حسیں انداز ہے

ہیں افق پہ مہر عالم تاب کی ضوپا شیاں

اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے

برستی  ہے کالی گھٹا  خوب  برسے

نہیں جیت پائے گی اس چشم تر سے

سیوان کے اوّل تذکرہ نگار محمد حفیظ اللہ المتخلص بہ زاہد موضع فیروز پور(آندر) سیوان کے مکیںتھے۔ حمید تمنائی کے ساتھ مل کر’ سُخن وران سارن ‘ (مطبوعہ 1972) کی تالیف کی۔ ادبی صحافت میں بھی پیش پیش رہے۔ زاہد کی غزل گوئی کا مذاق صاف ستھرا ہے۔ طرز ِادا سلیس اور رواں ہے۔ جذبات نیک اور انداز عاجزانہ ہے         ؎

گرائی جا ئیں گی ہم پر ستم کی بجلیاں کب تک

دل نازک پہ یوں ہوتی رہیں گی سختیاں کب تک

مری  نغمہ  سرائی  پر  لگا کر  مہر  پابندی

کرو گے اس طرح آخر مری رسوائیاں کب تک

بری حالت ہے اب ضبط الم سے اپنی اے زاہد

گراتے جائیںگے وہ بجلیوںپربجلیاںکب تک

موضع درویش پور(سیوان ) کے باشندے ابو الحسن صدیقی کا قلمی نام طالب درویشی تھا۔ سیوان میں کوثر سیوانی اور کولکاتا میں قیصر شمیم کی شاگردی کا شرف حاصل ہے۔ عرصۂ دراز تک کولکاتا میں ٹیکس کلکٹر کے عہدے پر فائز رہے۔ طالب درویشی خوش فکر اور خوش خیال شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ آپ نے کثیر تعداد میں قوالیاں لکھی ہیں جن کی اس زمانے میں بہت زیادہ مانگ تھی۔ان کے کلام کا مجموعہ’ افکار طالب‘ اوران کی شخصیت و فن پر محیط ’طالب درویشیشاعری اور شخصیت‘ کے نام سے دو کتابیں شائع ہو چکی ہیں         ؎

سلسلہ رکھیے آنے جانے کا

در کھلا ہے غریب خانے کا

چھوڑ کر ہاتھ اس کا مجبوراً

ساتھ  دینا پڑا  زمانے کا

خار میں رہ کے بھی گلوں جیسا

حوصلہ  رکھیے مسکرانے  کا

درد کا کیا علاج ہے طالب

درد ہے نام آنے جانے کا

جمیل مظہری کے برادرِ خرد رضا مظہری کی بیشتر زندگی کولکاتا میں گزری۔ وہیں مدرسہ عالیہ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیے۔ آپ نے غزل گوئی کے ساتھ ساتھ نثری خدمات بھی انجام دی ہیں۔ وحشت کلکتوی کے سایۂ عاطفت میں شاعری کا آغاز ہوا۔ ہم عصر مقتدر رسائل و جرائدمیں آپ کا کلام شائع ہوتا تھا۔ رضا مظہری ایک تجربہ پسند غزل گو ہیں۔ جہاں تک ممکن ہوتا ہے وہ اپنی غزلوں کی روایتی زبان کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح ان کے اشعار خوبصورت بن جاتے ہیں۔  موصوف کا شعری مجموعہ’خاروخس ‘کی اشاعت ہو چکی ہے۔ مغربی بنگال اردو اکادمی نے آپ پر ایک فردنامہ بھی شائع کیا ہے       ؎

اک نئی سمت پہ چلیے تو سہی

راستہ اپنا  بدلیے  تو سہی

نئے احساس قدیم اندازے

اپنے پیمانے بدلیے تو سہی

میں مٹ کے خاک ہوا بھی مگر خودی کی قسم

کسی کی  راہ گزر  کا  غبار  ہو نہ  سکا

سیوان میں کوثر سیوانی کا شمار سنجیدہ اوراستاد شاعروں میں ہوتا ہے۔ آپ کے شاگردوں کا حلقہ وسیع تھا۔ آپ شاعری میں داغ اسکول کے پروردہ تھے۔ آپ ابراحسنی گنو ری کے تلامذہ میں شامل تھے۔ کوثر سیوانی نے دیگر اضاف میں بھی طبع آزمائی کی ہے لیکن سب سے زیادہ غزل گوئی پر تو جہ دی ہے۔ آپ کی غزلیں حقیقی جذبات واحسات کی آئینہ دار ہیں۔ آپ نے عشقیہ غزلیں کہنے سے گریز کیا ہے۔ کوثر سیوانی کے یہاں جابجا طنز کا رنگ نمایاں ہے۔ لیکن ان میں نشترزنی نہیں ہے بلکہ دھیماپن ہے۔’’ عکسِ تخیل‘‘ آپ کا پہلا شعری مجموعہ ہے۔ بعد از مرگ ڈاکٹرظفر کمالی نے آپ کی شاعری اور حالات زندگی پر مشتمل ایک کتاب ’جنوں کی آگہی‘کی اشاعت کرائی۔ آپ کی غزلیں ہندوستان کے مقتدر رسالوں میں شائع ہوتی تھیں           ؎

دھن  کا ارمان کم سے کم رکھیے

دل پریشان کم  سے کم  رکھیے

لوگ کیا کیا نہ کہتے  رہتے ہیں

بات پر  کان کم  سے کم رکھیے

خود نمائی  میں جگ ہنسائی ہے

ظاہری  شان کم  سے کم رکھیے

کم  نگاہوں  کے روبرو  کوثر

اپنی  پہچان کم  سے کم   رکھیے

مجنوں قطبی کا اصل نام عبد المعید تھا۔ آپ کا پیشہ درس و تدریس تھا۔ شعر و ادب کا شوق طالب علمی کے زمانے میں پیدا ہو گیا۔ ابتدائی شاعری پر یکتا سیوانی سے اصلاح لی۔ سیوان کی ادبی محفلوں میں شرکت کی وجہ سے شاعری میں مزید نکھار پیدا ہوا۔ سیوان اور دیگر شہروں میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں بھی شریک ہوتے تھے۔ مجنوں کے کلام میں تجربات کی پختگی، خیالات کی طرفگی اور متصوفانہ رنگ و آہنگ کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ ’پرواز ِتخیل‘ کے نام سے ایک شعری مجموعہ شائع ہو چکا ہے    ؎

تو ہی میرا ساز ہے تو ہی مری آواز ہے

یہ محبت  کا کر شمہ ‘ عشق کا  اعجاز  ہے

ضبط کرتا ہوں تو جل اٹھتا ہے ہر تا رِ حیات

آہ کرتا  ہوں تو  ہر سانس  شرر  ہوتی ہے

وہ ایک قطرہ ہے قطرے کی ہے حقیقت کیا

کبھی بھی بحر کا نگراں حباب ہو نہ سکا

دل سے نکل کے چلتی ہے سایے میں عرش کے

اللہ  رے  رسائی کہاں  تک ہے  آہ  کی

معین افغانی کا تعلق سیوان کے باکمال اور مستند شعرا  میں ہوتا ہے۔ آپ ریلوے میں ملازم تھے۔ سیوان کے ادبی حلقوں میں احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ ادبی محفلوں کے لیے آپ کی حیثیت لازم و ملزوم کی تھی۔ آپ نے غزلوں کے علاوہ سلام، منقبت، نوحے اور مرثیے بھی لکھے ہیں اور اپنی شاعرانہ انفرادیت کا لوہا منوایا ہے۔ آپ نے غزلوں میں شعری تلمیحات کا استعمال بر محل اور موزوں کیا ہے۔ غزلوں کی لفظیات عام فہم ہے، لیکن خیالات نادر اور فکر بلند ہے    ؎

ابتدا  اک نہر شیریں  انتہا  اندھا کنواں

تم ابھی واقف نہیں ہو عشق کے انجام سے

یہ کیا ضرور کہ موسیٰ کی یاد تازہ ہو

نہیں ہے تاب نظارہ تو پھر نظر نہ ملا

نفرتوں کو  نگل  گیا  وہ  شخص

گرتے گرتے سنبھل گیا وہ شخص

بعد مرنے کے سب کہیں گے معین

ایک  مصیبت  تھا ٹل گیا  وہ  شخص

سیوان کے غزلیہ افق کو منور کرنے والے اور مجموعی طور پر غزلیہ شاعری کی چمن بندی میں اہم کردار نبھانے والے شاعروں میں ایک اہم نام صفی فیروز پوری کا ہے۔ آپ نے لمبی عمر پائی تھی اور تمام عمر میدانِ شعر و ادب میں بر سرِ پیکار رہے۔ آپ کی تخلیقی ثروت مندی قابل رشک ہے۔ تار نفس ‘ آشیان غزل ‘ صفی کی غزلیں اور کلیات صفی (زیرِطبع) آپ کی غزلوں کے مجموعے ہیں۔ صفی کی غزلوں میں گردشِ لیل و نہار کے پرتو ہیں، انسانی رشتوں اور روپوں کی حقیقی ترجمانی ہے اور ناکام زندگی سے مرتب ہونے والے اثرات کا نگارخانہ ہے       ؎

نہیں ہے اعتبار اپنے پرائے کا یہاں کوئی

کہ ہر اک دوستی میں دشمنی معلوم  ہوتی ہے

کون کہتا ہے کہ حالات سے ڈر جائوں گا

میں کوئی وقت نہیں ہوں کہ گذر جائوں گا

 سیوان سے تعلق رکھنے والی قدیم شاعرات میںبی بی سیدہ،شمع سیوانی،اور کماری رشمی  جیسوال مشہور و معروف ہیں۔ ان خواتین نے معیاری،پر کشش اور قابلِ توجہ شاعری کی۔بی بی سیدہ نے تاریخ گوئی میں درجۂ کمال حاصل کیااور رسالہ تہذیب نسواں(لاہور) کی مستقل تاریخ گو شاعرہ بن گئیں۔لیکن غزل کے میدان میں پچھلی صف میںکھڑی نظر آتی ہیں۔شمع سیوانی اور نو ر قاسمی کا شمار سیوان کے رؤسا میں ہوتا ہے۔دربار کے نام سے موسوم ان کا گھرانہ علم و ادب کا قدیم مرکز تھا۔دربار کے وسیع و عریض صحن میں ملک گیر سطح کا مشاعرہ منعقد ہوتا تھا۔نور قاسمی کے بھائی ڈاکٹر مظفر حسین قاسمی اسی مقام سے ’الحق‘ رسالہ نکالتے تھے۔جب تک حمید تمنائی کی بود و باش دربار کے کیمپس میں رہی،وہاں شعرا و ادبا کا جمگھٹا لگا رہتا تھا۔پروفیسر صاحب کے حلقۂ تلامذہ میںچار درجن سے زیادہ شعرا تھے جو ان سے شعر وادب کے رموز و نکات سیکھتے تھے۔ایسے ہی علمی و ادبی ماحول میںشمع اور نور قاسمی کی ادبی وفکری ذہن سازی ہوئی۔نذرِ حمید(مرتبہ۔ احمد جمال پاشا) میں ڈاکٹرمظفر حسین قاسمی نے یہ اعتراف کیا ہے کہ’’حمید تمنائی کی بلیغ نظراور بہتر تربیت نے شمع اور نور کو قادرالکلام شاعرات کی صف میں لا کھڑا کیا۔‘‘

زہے نصیب کہ  ٹوٹا حجابِ  آزادی

الٹ  گیا  سرِ محفل  نقابِ  آزادی

 صلیب و دار پہ لکھا گیا ہے درسِ جنوں

ہوا ہے جب کہیں کامل نصابِ آزادی

شمع سیوانی

   تڑپ  کے  دل  شرارے  سلام کرتے  ہیں

    امڈ  کے آنکھوں کے  تارے سلام کرتے ہیں

   جو  کا ئنات  تھی  اے  نور   اپنی  ا لفت  کی

وہی  لطیف   اشارے   سلام  کرتے   ہیں

نور قاسمی

رشمی جیسوال نے طالب علمی کے زمانے میں ہی شعر کہنا شروع کر دیا تھا۔استاد شاعر قمر سیوانی سے شاعری کی مبادیات سیکھیں اور مقامی مشاعروں میں شامل ہونے لگیں۔رشمی کی غزلوں میںخالص تغزل کا رنگ پایا جاتا ہے۔محبت کے لطیف جذبات کی ترجمانی نہایت چابکدستی سے کرتی ہیں۔ اتپل(دیو ناگری رسم الخط کا تذکرہ) میں ان کی دو غزلیں شائع ہوئی ہیں۔چند اشعار      ؎

تیری نظروں سے گروں گی تو کدھر جاؤںگی

تیری پلکوں کا میںگوہر ہوں بکھر جاؤں گی

پیکرِ عزم  ہوں  تم  دیکھنا رشمی   ایک  دن

شعلۂ درد سے ہنس ہنس کے گزر جاؤں گی

 اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ سیوان ضلعے میں اردو غزل گوئی کا سفر مضبوط اور منضبط ہے۔قدیم شعرا کی غزلوں میںہم عصر  روایت کی پاسداری بھی ہے اور جدت سے یاری بھی۔ہم عصر رحجانات کا بیانیہ بھی ہے تو تلمیحات و تاریخ نگاری کا آئینہ بھی۔ احساس ِمحبت کی حسین اور باریک ترجمانی بھی ہے توحالاتِ حاضرہ کی نفیس عکاسی بھی۔ تمثیلات و ترکیبات کے بر محل استعمال کا طریقہ ہے تو رموز و علائم کو موزوں برتنے کا سلیقہ بھی۔قدیم شاعروں نے اپنی ذات کے اندرونی حالات و کیفیات کو بھی شعر کے قالب میں ڈھالنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ان میں سے بیشتر کا مزاج قلندرانہ تھا اور تشہیری کار سازیوں سے دور رہتے ہوئے گیسوئے غزل کو سنوارتے تھے۔ان میں سے چند شعرا ایسے تھے جن کا شمار سیوان کے متمول اشخاص میں ہوتا تھااور ان کے پاس اشاعت کے تمام وسائل موجود تھے۔ لیکن ان شعرا نے بھی اپنے کلام کی طباعت میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔یہ اس وقت کے ماحول اور مزاج کا بھی اثرہو سکتا ہے۔ آج ان شعراء کی بیشتر تخلیقات یا تو ضائع ہو گئی ہیں یاان کے نا اہل ورثا کے گھروں میں دیمک کی خوراک بن گئی ہیں۔

کتابیات

  •         بہار میں اردو زبان و ادب کا ارتقااختر اورینوی، ترقی اردو بیورو،نئی دہلی۔1989
  •       تذکرہ شعراے سارن: سمیع بہواروی،  عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی 2012
  •        مثنوی رنجیت رانی رمبھا: مرتب،امر امیری،اقتدار کتاب گھر،کولکاتا،  1974
  •          آئینۂ ظرافت، یوسف سیوانی: مرتب،ڈاکٹر التفات امجدی، دارالاشاعت، خانقاہِ امجدیہ، سیوان۔2012
  •         یکتا سیوانی احوال و تدوین کلام: ڈاکٹر مفتاح الہدیٰ،  عرشیہ پبلی کیشنز دہلی 2011
  •          اتپل (ہندی تذکرہ) پربھو نرائن ودیا رتھی، ساہتیہ سنگم،سیوان۔ 1999
  •         مژگاں، جلد18-19شمارہ50-54نوشاد مومن، علیم الدین اسٹریٹ،کولکاتا، 2017
  •          انوارِ سخن: مرتب، ڈاکٹر صابر علی سیوانی، بزمِ قلم، چوکی مخدوم،2004
  •          علامہ جمیل مظہری (مونوگراف) جہاں گیر کاظمی، مغربی بنگال اردو اکادمی،کولکا تا، 2017
  •       نذرِ حمید: مرتبہ، احمد جمال پاشا، کبیر وچار منچ، سیوان1983
  •       رضا مظہری (مونوگراف) ظہیر انور،مغربی بنگال اردو اکادمی، کولکا تا،2018
  •       تارِ نفس: صفی فیروز پوری،نشیمن، فیروز پور، سیوان2000
  •       طالب درویشی: شاعری اور شخصیت، صفی فیروزپوری، نشیمن، فیروزپور، سیوان۔2017
  •       سدسیہ پریچئے:بہار ودھان پریشد،بہار ودھان سبھا سچیوالیہ، پٹنہ 2002


Dr. Irshad Ahmad

1731, Amna Manzil, Islamia Nagar

Distt.: Seewan - 841226

Mob.: 9771443219

 

 

 

 

 

 

 

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں