منگل، 22 نومبر، 2022

اردو میں سائنسی ادب اور عصری تقاضے: محمد افروز عالم


 تقریباً دوسو سال پہلے دہلی کالج میں اردو تعلیم کا ذریعہ تھی اور تمام عصری سائنسی مضامین اردو میں پڑھائے جاتے تھے۔جیسا کہ مولوی عبدالحق نے اپنی کتاب مرحوم دہلی کالج میں ذکر کیا ہے کہ 1825 میں دہلی کالج نے ایک غیر مذہبی تعلیمی ادارے کے طور پر کام کرنا شروع کیا جو جدیداور سائنسی علم فراہم کرنے کے لیے قائم کیاگیا۔ مشہور مستشرقین جیسے ایلویس اشپرنگر اور فیلکس بوٹروس دہلی کالج سے وابستہ رہے تھے اور انھوںنے سائنسی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کرنے کی ترغیب دی۔ انھوں نے بڑی تعداد میں سائنسی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کروایا اور ان کتابوں کو نصاب کا حصہ بنایا گیا کیوں کہ دہلی کالج میں ذریعہ تعلیم اردو تھا۔یہ سب کچھ 1835 کے بعد بدل گیا۔ جیسا کہ مولوی عبدالحق نے ذکر کیاہے۔

ابتدائی طور پر 1800 میں کلکتہ میں قائم شدہ فورٹ ولیم کالج کے ادیبوں اور اساتذہ نے اردو میں سائنسی اور تکنیکی موضوعات پر کتابیں لکھنا شروع کیں، لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چل سکا۔ دہلی کالج کے بعد، 1918 میں قائم کی گئی عثمانیہ یونیورسٹی، حیدرآباد دکن، ایک ایسا ادارہ تھا جہاں انجینئرنگ اور طب سمیت تمام اعلیٰ تعلیم کے لیے اردو ذریعہ تعلیم تھی۔ عثمانیہ یونیورسٹی اور کچھ دوسرے اداروں کو، جنھیں سابقہ ریاست حیدرآباد دکن کے حکمرانوں نے قائم کیا تھا، یہ اعزاز حاصل ہے کہ انھوں نے ہزاروں اصطلاحات کا اردو میں ترجمہ کیا اور سائنسی، فنی اور تکنیکی موضوعات پر ہزاروں کتابیں شائع کیں۔ سائنسی اصطلاحات، سائنس اور ٹکنالوجی پر اردو میں ہزاروں کتابیں دستیاب تھیں۔ اس طرح کے کاموں کی مکمل فہرست سازی میں کئی جلدیں لگیں گی۔ لیکن ایک مختصر فہرست، جس میں ایسی سیکڑوں کتابوں کا تذکرہ ہے، ابواللیث صدیقی نے اپنی کتاب ’اردو میں سائنسی ادب‘ میں دی۔

خواجہ حمید الدین شاہد کے مطابق اردو میں سائنسی کام کی ابتدائی مثال بھوگ بال ہے، جسے شہاب الدین قریشی نے 1505 اور 1543 کے درمیان حیدرآباد دکن میں لکھا تھا۔ یہ ایک مثنوی تھی جس میں بعض امراض کے طبی نسخے شامل تھے۔ یہ نسخہ حیدرآباد دکن کے سالارجنگ میوزیم میں محفوظ ہے۔ 19ویں صدی میں، حیدرآباد دکن کے حکمرانوں نے، جنھیں شمس الامرا کہا جاتا ہے، نے اردو میں لکھی گئی سائنسی کتابوں کی اشاعت کا اہتمام کیا۔

بعد میں اودھ کے حکمرانوں نے 1850 کی دہائی میں اودھ کے سقوط تک اردو میں لکھی اور شائع ہونے والی سائنسی کتابوں کی طباعت کی سرپرستی کی۔ سرسید احمد خان کی سائنٹفک سوسائٹی سے اردو میں کتابیں شائع ہوئیں۔ رڑکی انجینئرنگ کالج برصغیر کے قدیم ترین تکنیکی اور انجینئرنگ اداروں میں سے ایک ہے۔برطانوی حکومت کی طرف سے 1840 کی دہائی میں قائم کیاگیا۔ اس نے اردو میں سائنس پڑھانے اور سائنس اور انجینئرنگ پر اردو میں کتابیں لکھنے اور شائع کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

سائنسی کتابوں کے مصنفین او ردیگر جو ماہرین تھے اور سائنسی علم رکھتے تھے، انھوںنے پوری توانائی مغربی کتابیں بالخصوص علوم کی کتابوں کی تالیف اور ترجمے میں صرف کردی۔ اس دور کے کام اردو زبان کی عظمت اور بتدریج ترقی کی عکاسی کرتے ہیں۔ اودھ کے بادشاہوں، دہلی کالج، سائنٹفک سوسائٹی، علی گڑھ، انجمن پنجاب اور روڑکی کالج آف انجینئرنگ نے اردو زبان کی تاریخ میں عظیم انقلاب برپا کیا۔ حیدرآباد دکن سے تعلق رکھنے والے اردو کے عاشق اور دولت مند شہزادے محمد فخرالدین خان کی سرپرستی میں ریاضی، کیمیا، طب اور مغربی نظام طب کی کتابوں کی ایک بڑی تعداد (جن کی کل تعداد 30 تھی) 1832سے 1860 کے درمیان شائع ہوئی۔

اودھ کے بادشاہوں کی سرپرستی میں علم کی مغربی شاخ کی کتابوں کے تراجم کی دوسری کوشش کی گئی۔ 1833 سے 1853 کے عرصے کے درمیان سائنسی علوم کی کتابیں مرتب کی گئیں۔ اسی طرح 1841 سے 1851 کے درمیان دہلی کالج میں تیسری منظم کوشش کی گئی۔ یہ کالج واقعی مشرق و مغرب کاسنگم تھا۔ اس کی نمایاں اور امتیازی خصوصیات یہ تھیں کہ علم کی مغربی شاخوں کی تدریس کا ذریعہ اردو تھا۔ دہلی کالج کے شعبہ تالیف و ترجمہ نے بہت سی سائنسی کتابیں مختلف سائز میں شائع کیں۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کالج نے اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے میں اہم اور امتیازی کردار ادا کیا۔ 1873 سے 1877 کے درمیان مغرب کی بہت سی سائنسی کتابوں کا ترجمہ کیاگیا۔ رڑکی کالج آف انجینئرنگ نے 1856 سے 1888 کے درمیان اردو میں بڑی تعداد میں نصابی کتابیں شائع کیں۔ انجمن پنجاب نے بھی سائنسی کتابوں کے اردو ترجمے میں باوقار کردار ادا کیا۔

اردو ذریعہ تعلیم کے حوالے سے محمد شریف نظامی (2013، ص 143-166) لکھتے ہیں:

’’گلکرسٹ ( ایک انگریز) نے سب سے پہلے اردو کو فورٹ ولیم کالج کلکتہ میں 1800 میں اپنایا اور اس میں متعدد قابل قدر تصانیف مکمل کروائیں۔ 1918 میں عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد (دکن) میں اسے بطور ذریعہ تعلیم اپنایاگیا۔ سائنس، انجینئرنگ، آرٹس اور جملہ علوم، ایم اے، ایم ایس سی کی سطح تک، اردو میں ہی پڑھائے جاتے رہے۔ اس کے بعد 1927 میں میڈیکل کی تعلیم بھی اردو میں شروع ہوگئی اور 1948 تک کامیابی سے جاری رہا۔ انجینئرنگ کالج رڑکی میں 1935 میں ذریعہ تعلیم اردو ہی تھی۔ اسی طرح آگرہ میڈیکل کالج میں 1938 کے دوران، اردو اور انگریزی دونوں بطور ذریعہ تعلیم رائج تھیں۔ جامعہ ملیہ دہلی میں نصف صدی تک تمام علوم اردو میں پڑھائے جاتے رہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے ایک میڈیکل گریجویٹ کو ملٹری ہسپتال کا کمانڈنٹ آفیسر بنایا گیا اور اس کا اردو میں طب پڑھنا آڑے نہ آیا۔ 1935 میں برٹش میڈیکل کالج کونسل نے یہاں کے فارغ شدہ میڈیکل گریجویٹس کو برطانیہ میں براہ راست ایف آرسی ایس کا امتحان دینے کی اجازت دی۔ ان سب سے بڑھ کر چشم کُشا امر یہ ہے کہ 1807 میں کلکتہ میڈیکل اسکول میں انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی تعلیم دی جاتی تھی۔ 1818 میں لندن میں علوم مشرقیہ کا ادارہ قائم کیاگیا۔ جس میں اٹھارہ اردو تصانیف کی گئیں۔ 1855 میں یونیورسٹی کالج لندن، 1859 میں آکسفورڈ یونیورسٹی اور 1860 میں کیمبرج یونیورسٹی میں اردو کی تعلیم و تدریس شروع کی گئی۔ متعدد حضرات نے لندن یونیورسٹی سے اردو میں پی ایچ ڈی کی ڈگریاں بھی حاصل کیں۔ اسی طرح پروفیسر رالف  رسل نے اردو کو برطانیہ میں مقبول بنانے کے لیے اس کے استاد شعرا پر کتب تحریر کیں۔ ملکہ وکٹوریہ اردو کی خوبیوں سے متاثر ہوکر اس کی اتنی شائق ہوگئی تھیں کہ اسے سیکھنا شروع کردیا۔ وہ بعض اوقات اپنی ڈائری بھی اردو میں تحریر کیا کرتی تھیں۔‘‘

لہٰذا بعض اداروں نے اردو کو ذریعہ تعلیم کی حیثیت سے اختیار کرکے اردو کی لسانی اہمیت اور افادیت کے اعتراف کے لیے میدان ہموار کردیا۔ یہ ان اداروں کی بہت بڑی خدمتِ اردو تھی۔ اگر یہ ادارے وہ علمی و فنی خدمات انجام نہ دیتے تب بھی اردو ذریعہ تعلیم کے ادارے کی حیثیت سے مسلمانوں کی تعلیمی تاریخ میں ان کا نام سنہرے حرفوں میں لکھا جاتا۔ ان میں سے پہلا نام دہلی کالج کا تھا۔

مولوی عبدالحق کی تحقیق کے مطابق مدرسہ غازی الدین کی ابتدا1792میں ہوئی۔ 1825 میں یہ مدرسہ کالج میں تبدیل ہوگیا اور دہلی کالج کے نام سے مشہور ہوا۔ مسٹرٹیلر کی سفارش پر دہلی کالج قائم کیاگیا اور وہی اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ یہاں انگریزی زبان کی حیثیت ثانوی تھی۔ لیکن اہلِ دہلی کے اشتیاق کے پیش نظر انگریزی کی جماعتیں علیحدہ بھی قائم کی گئیں۔ دہلی کالج کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس نے اردو کے ذریعہ مغربی سائنس علم ہئیت، ریاضی، نیچرل سائنس، فلسفہ وغیرہ کی تعلیم کا انتظام کیا اور شمالی ہندستان میں سب سے پہلے مشرق اور مغرب کے صحت مند عناصر کو سمونے کی کوشش کی۔ دہلی کالج کی خدمات کے بارے میں ڈاکٹر صفیہ بانو (1978، ص 56) لکھتی ہیں:

’’اس کالج نے نہ صرف اردو زبان میں تعلیم کی شاندار روایات قائم کیں بلکہ ایک اور نئی شش جہت پیدا کی۔ تعلیم میں مادری زبان کی اہمیت، مشرق و مغرب کا امتزاج اور آزاد نقطۂ نظر کا اولین احساس اسی کالج نے پیدا کیا۔ رواجی تصورات سے نجات دلا کر ماضی کا تنقیدی شعور، حال کا نیا احساس اور مستقبل کی پذیرائی کی۔ اس کی اولیات میں تنقید شعروادب، ترجمہ و تاریخ، سیرت و سوانح، مضمون نگاری اور صحافت کو اہمیت حاصل ہے ‘‘۔

صدیق الرحمن قدوائی (1961، ص 46) لکھتے ہیں:

’’1835 میں ایک مبارک کام یہ بھی ہوا کہ اردو زبان کی تعلیم و تکمیل کے لیے ورناکیولر سوسائٹی کا قیام عمل میں آیا۔ مغربی علوم کو اردو زبان میں منتقل کرنے کے لیے قواعد و ضوابط بنائے گئے اور مشہورمستشرق ڈاکٹر اسپرنگر کو اس کانگراں مقرر کیا گیا‘‘۔

ماسٹر رام چندر، ڈپٹی نذیر احمد، مولانا محمد حسین آزاد، مولوی ذکاء اللہ، پیارے لال آشوب، صہبائی، کریم الدین جیسے مشہور و معروف بزرگ اسی کالج کے طالب علم تھے، جنھوں نے نہ صرف اردو زبان کو نئے فکر و نظر عطا کیے بلکہ اپنی گراں قدر تصانیف سے اردو زبان میں گنج گراں مایہ کا اضافہ کیا۔

حیدرآباد دکن کے امرا میں نواب سالارجنگ بہادر اور ان کے خاندان کی تعلیمی خدمات بھی کافی اہم ہیں۔ 1856 میں ان کی ڈیوڑھی واقع ’پتھر گٹی‘ میں مدرسہ دارالعلوم جامعہ عثمانیہ کی ابتدا ہوئی۔ پہلے سال ہی وہاں طلبا کی تعداد 130 ہوگئی۔ چند سالوں میں مدرسہ نے جامعہ کی صورت اختیار کرلی۔ درسِ نظامیہ کی طرز پر وہاں تعلیم اعلیٰ درجات تک دی جانے لگی۔ قیام جامعہ کے وقت سے ہی اس میں سائنس اور فنون کے شعبوں میں تعلیم دی جانے لگی۔ اس کے علاوہ دینیات کا شعبہ علیحدہ تھا۔ تعلیمی شعبے ریاضی، انگریزی، تاریخ اسلام، تاریخ یورپ، معاشیات، فلسفہ و منطق، طبیعات، کمسٹری، عربی، فارسی، اردو، سنسکرت، مرہٹی پر مشتمل تھے۔ جامعہ عثمانیہ کے دارالترجمہ کی ایک خاص اہمیت ہے جو تعلیمی لحاظ سے جامعہ عثمانیہ کا طرۂ امتیاز تھا۔ اس بارے میں عرشیہ شفقت رضوی (1974، ص 123) لکھتی ہیں:

’’جامعہ عثمانیہ نے ایک قلیل مدت میں ثابت کردیا کہ اردو ذریعہ تعلیم سے فارغ التحصیل طلبا کارگزاری کے اعتبار سے دنیاکی کسی یونیورسٹی سے پیچھے نہیں اور یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرکے جب وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے دنیا کے کسی ملک میں بھی جاتے ہیں تو زبان ان کے مقصد میں رکاوٹ ثابت نہ ہوئی۔ اردو میں پڑھنے والوں نے دنیا کی کسی یونیورسٹی سے اعلیٰ ڈگریاںحاصل کرکے وہاں کے معیار کی بلندی کا لوہا منوالیا۔‘‘

برصغیر میں طب مغرب (ایلوپتھی ) کی تعلیم و تربیت کا سب سے پہلا ادارہ مدرسہ طبابت حیدرآباد تھا۔ اس کا آغاز 1845 میں آصف جاہ رابع (ناصر الدولہ ) کے دور میں حیدرآباد دکن میں ہوا تھا۔ اس کے نگراں اور کئی اساتذہ انگریز تھے۔ ڈاکٹر میکلین جارج اسمتھ، ڈاکٹر ونڈو وغیرہ بعد میں اسی مدرسے کے مستفیدین میں سے مقامی حضرات بھی یہ خدمت سر انجام دینے لگے تھے۔ اس مدرسے کی خصوصیت کے حوالے سے حکیم سید محمود احمد برکاتی (1974-75، ص 265) لکھتے ہیں:

’’ایک اہم خصوصیت اس مدرسے کی یہ تھی کہ اس میں ذریعہ تعلیم اردو تھی۔ انگریز اساتذہ بھی اردو میں درس دیتے تھے ۔‘‘

اس مدرسے کی طرف سے اسکول میگزین کے طور پر اردو میں ایک رسالہ بھی 1855 کے اواخر سے شائع ہونا شروع ہوا تھا جس کا نام رسالہ طبابت تھا۔ اس کے مدیر جارج اسمتھ تھے۔ یہ رسالہ اردو کا سائنس کے حوالے سے پہلا جریدہ تھا۔اس مدرسہ نے جنوبی ہندوستان میں بڑا نام او رمقام پیدا کیا اور ایلوپتھی پر چھوٹی بڑی کتابیں لکھیں۔

اردو زبان میں سائنسی تراجم کا سلسلہ جاری رہا اور 1862 میں سرسید احمد خان کی ’سائنٹفک سوسائٹی ‘ میں بھی  شروع ہوگیا تھا۔ اس سوسائٹی کے تحت اردو زبان میں سائنسی اور معلوماتی مضامین نہ صرف انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیے جاتے تھے بلکہ نشستوں اور اجلاسوں کے دوران حاضرین کے سامنے پیش بھی کیے جاتے تھے۔ اردو زبان میں اصطلاح سازی سے متعلق پہلی باضابطہ کتاب’وضعِ اصطلاحات‘ 1921 میں شائع ہوئی تھی۔ جامعہ عثمانیہ، حیدرآباد دکن میں تمام علوم کی تدریس اردو زبان میں کی جاتی تھی۔ جب کہ اس جامعہ کا ایک وسیع شعبہ تصنیف و تالیف یعنی دارالتصنیف بھی تھا جہاں اس مقصد کے لیے ہمہ وقت سائنسی و علمی تراجم کا کام جاری رہتا تھا۔ اس شعبے کے لیے نظامِ دکن اپنی طرف سے ہر سال کئی لاکھ روپے دیا کرتے تھے۔ موجودہ وقت کے لحاظ سے یہ رقم دو یا تین ارب روپے سالانہ بنتی ہے۔ جامعہ عثمانیہ کے دیگر شعبہ جات کے لیے مختص رقم اس کے علاوہ تھی۔

جامعہ عثمانیہ ہی کے تحت سائنسی و معلوماتی اصطلاحات کے اردو تراجم کا سلسلہ بھی باقاعدگی سے کیا جاتا تھا، تاکہ انھیں درس و تدریس میں استعمال کیاجاسکے۔  ہندوستان کی آزادی تک تقریباً پانچ لاکھ سائنسی و علمی اصطلاحات کا اردو ترجمہ کیاجاچکا تھا۔ ہندوستان میں صرف انھیں مکمل طور پر رائج کرنے کا مرحلہ باقی رہ گیاتھا۔

ڈاکٹر محمود علی سڈنی اپنی کتاب ’فلسفہ سائنس اور کائنات ‘ کے دیباچہ میں لکھتے ہیں:

’’ایک زمانے میں جامعہ عثمانیہ میں ایم۔ اے، ایم ایس سی کے علاوہ انجینئرنگ اور میڈیکل کالج میں ذریعہ تعلیم اردو زبان تھی۔ ایم بی بی ایس کی پانچ سالہ تعلیم اردو زبان میں دی جاتی تھی اور امتحانوں کے سارے پرچے بھی اسی زبان میںلکھے جاتے تھے۔ اردو زبان اس وقت بھی علمی زبان بن چکی تھی۔ عالم گیر جنگ دوم کے بعد تقریباً چار سو طلبا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے یورپ اور امریکہ کی جامعات میں بھیجے گئے تھے۔ ان ملکوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں کسی کو ذرا سی بھی دقت نہیں ہوئی اور سب نے اعلیٰ ترین ڈگریاں حاصل کیں۔‘‘ (ص، 9)

اردو زبان کا سب سے پہلا سائنسی جریدہ، سہ ماہی ’سائنس‘ تھا، جسے ’انجمن ترقی اردو ہند‘ نے جنوری 1928 میں شائع کرنا شروع کیا۔

1843 میں ماسٹر رام چندر کی کوششوں سے Vernacular Translation society کا قیام عمل میں آیا۔ 1845میں انھوں نے ’فوائد الناظرین‘ کے نام سے ایک پندرہ روزہ اخبار شائع کیا جس میں سائنسی اور تاریخی خبریں ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ ستمبر 1847 میں ماسٹر رام چندر نے ایک ماہنامہ رسالہ خیر خواہ ہند جاری کیا۔ جسے نام بدل کر محب ہند کردیاگیا۔ اس میں سوانح، تاریخ، جغرافیہ، ریاضی، طبیعات سے متعلق مضامین شائع ہوتے تھے۔

ماسٹر رام چندر نے اردو زبان کو اپنا ذریعہ اظہار بنایا تھا اور اسے علمی اورسائنسی مزاج عطا کیاتھا۔ اردو میں سائنس اور ریاضی پر کئی کتابوں ترجمہ کیا۔ مثلاً رگھوناتھ کا رسالہ علم طبیعات، دیارام کا آسمانی سائنس، چندر لال کا ارض النجوم، دیوی پرساد کی تلخیص الحساب، درگا پرساد کی علم الحساب، مکند لال کی علم کیمیا، ورون لال کی منطق قیاسی، جادو چندر چکرورتی کی علم ریاضی قابل ذکر ہیں۔

اس دور کے دیگر ناموں میں منشی ذکاء اللہ اہم ہیں جو کہ دہلی کالج کی ورنا کلر سوسائٹی کے روح رواں تھے۔ انھوں نے سائنس اور ریاضی کی تقریباً 160کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا نیز اردو زبان میں معلوماتی مواد کے ترجمے کی بنیاد ڈالی۔

عصری تقاضے

گزشتہ چند دہائیوں میں بہت سے ادارے سامنے آئے ہیں جو اردو میں معلوماتی ادب اور سائنس و سماجی علوم کی مقبول کتابیں شائع کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ کتابیں عام معلوماتی اور سائنسی و سماجی علوم کے تصورات کو مثالوں، تصویروں اور واقعات کے ذریعے عام فہم زبان میں پیش کرتی ہیں۔ ان اداروں میں قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان (NCPUL)، نئی دہلی سرفہرست ہے۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، وزارتِ تعلیم، حکومت ہند کا ایک خود مختار ادارہ ہے۔ جس کا بنیادی مقصد اردو زبان و ادب کا فروغ اور اس کے دائرہ کار کو وسیع کرنا ہے۔ عصری علوم کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کرنا اور اشاعت کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ اردو کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے جدید ٹکنالوجی اور ذرائع معلومات کی مدد سے عصری علوم کی کتابیں و یب سائٹس پر بھی فراہم کی جارہی ہیں۔ قومی کونسل ادبی و اردو میں معلوماتی کتابوں کی اشاعت کے ساتھ ساتھ رسائل و جرائد بھی شائع کرتی ہے۔ ان رسائل و جرائد میں تحقیقی و معلوماتی ادب کے ساتھ ساتھ معلوماتی سائنسی و سماجی علوم و تعلیم و تربیت کے مضامین بھی شائع کیے جاتے ہیں۔ یہ اردو میں شائع ہونے کی وجہ سے عوام میں اور علمی حلقوں میں کافی مقبول ہیں۔ مثال کے طور پر اردودنیا، خواتین کی دنیا، بچوں کی دنیا، فکر و تحقیق وغیرہ۔

اس کے علاوہ نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (NCERT)، نئی دہلی بھی اردو میں نصابی و درسی کتابیں شائع کررہی ہے۔ جس سے نہ صرف طلبا کو آسانی ہورہی ہے بلکہ اردو میں معلوماتی ادب میں بھی اضافہ ہورہاہے۔ مثلاً سائنس اور سماجی علوم کی کتابیں ہر جماعت کے لیے اردو میں شائع کی جارہی ہیں۔ جس سے اردو اصطلاحات کو بھی فروغ مل رہا ہے۔ اردو اساتذہ کی رہنمائی کے لیے مختلف جماعتوں کے لیے رہنما کتب کے علاوہ اردو زبان میں دیگر مضامین کی درسی کتب کے تراجم کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں دارالمصنفین اعظم گڑھ بھی مختلف موضوعات پر تنقیدی و تحقیقی تصانیف کی اشاعت سرگرم ہے۔ موجودہ وقت میں سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس او ر تعلیم میں ان کے استعمال سے اردو میں معلوماتی ادب کی فراہمی بہت حد تک آسان ہوگئی ہے۔ مثال کے طور پر مختلف تعلیمی ویب سائٹس، فیس بُک، ٹوئیٹر، آرکُٹ، یو ٹیوب، پوڈکاسٹ وغیرہ کے ذریعہ عام معلومات کی فراہمی بھی آسان ہوئی ہے جس سے اردو ذریعہ تعلیم کو بھی فائدہ حاصل ہورہا ہے۔

وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا، ہر عہد کی نئی معلومات کو بیان کرنا اور علمی سطح پر خود کو مفید بنانا زبان کی بقا کی ضمانت ہے۔ زبان کی ترقی و ترویج میں ادب اور علم ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ عام طور پر جو زبانیں علمی کہی جاتی ہیں ان میں علوم کی اشاعت میں ایک تسلسل پایا جاتاہے۔ ہمارے بزرگوں نے ابتدا ہی سے یہ کوشش کی ہے کہ اردو کو اس لائق بنایا جائے کہ اس میں ہر طرح کے خیال کا اظہارہوسکے اور وہ محض شعر و ادب کی زبان بن کر نہ رہ جائے۔ اردو کو تعلیم کی زبان بنانے کے سلسلے میں چند اداروں اور شخصیتوں کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ دلّی کالج، جامعہ عثمانیہ، ماسٹر رام چندر، ورناکلر سوسائٹی، سرسید کی سائنٹفک سوسائٹی، دارالترجمہ وغیرہ اہم تھے۔ اس دور میں بھی کئی سرکاری وغیر سرکاری ادارے اردو میں نئے علوم کو عام کرنے کی گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کا ڈائریکٹوریٹ آف ٹرانسلیشن اینڈ پبلی کیشنز مختلف علمی موضوعات پر درسی و نصابی کتابوں کے ساتھ ساتھ معلوماتی کتابوں کی اشاعت کا اہتمام بھی کر رہا ہے۔ تعلیم و تربیت کے متعلق عصری علوم کی تقریباً 17کتابوں کی اشاعت ہوچکی ہے۔ دیگر مضامین میں بھی کئی کتابیں شائع ہوئی ہیںجن میں سائنسی کتابیں بھی شامل ہیں۔

یہاں اردو ذریعہ تعلیم سے سائنسی علوم کے مختلف کورسز چلائے جارہے ہیں۔ شعبہ کمپیوٹر سائنس اور انفارمیشن ٹکنالوجی میں بی ٹیک، ایم ٹیک اور پی ایچ ڈی کے کورسز اردو میڈیم میں بحسن و خوبی چلائے جارہے ہیں۔ ساتھ ہی شعبہ ریاضی، طبیعیات، کیمیا، نباتات اور حیوانیات کے مختلف کورسز بھی اردو میڈیم میں چلائے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈپلوما انجینئرنگ پالی ٹکنک اور آئی ٹی آئی کے الگ الگ شعبوں میں بھی کئی کورسز چلائے جارہے ہیں۔ جس سے فارغ التحصیل طلبا ملک کے الگ الگ حصوں، ریاستوں، کمپنیوں اور سرکاری نوکریوں میں بھی منتخب ہورہے ہیں۔

ڈی ایل ایڈ اور بی ایڈ جیسے کورسز میں ریاضی، کیمیا، طبیعیاتی سائنس اور حیاتیاتی سائنس کے طلبا و طالبات بڑی تعداد میں کامیاب ہوکر ملک کے الگ الگ حصوں کے اسکولوں میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کورسز میں پڑھائے جارہے نصاب کے مطابق یونیورسٹی ان سائنسی مضامین کے لیے اردو میں مواد اور نصابی کتاب بھی تیار کر رہی ہے۔ ساتھ ہی اس طرح کے کورسز میں زیر تعلیم طلبا کو درکار اردو کتابوں کی ضرورت کو ملک کے دوسرے اہم ادارے بھی پورا کررہے ہیں۔

حوالہ جات

  1. مولوی عبدالحق، مرحوم دہلی کالج، انجمن ترقی اردو (ہند)، دہلی، 1989
  2. ابواللیث صدیقی، اردو میں سائنسی ادب کا اشاریہ، مقتدرہ قومی زبان، کراچی، 1981
  3. خواجہ حمید الدین شاہد، اردو میں سائنسی ادب قدیم ترین کارنامے، سب رس، کتاب گھر، حیدرآباد، 1957
  4. خواجہ حمید الدین شاہد، شمس الامراء کے سائنسی کارنامے، ادارہ ادبیات اردو، حیدرآباد
  5. محمد شریف نظامی، اردو ذریعہ تعلیم، معارف مجلۂ تحقیق، جولائی- دسمبر 2013، ص 143-166
  6. ڈاکٹر صفیہ بانو، انجمن پنجاب، کفایت اکیڈمی، اردوبازار، کراچی، 1978
  7. صدیق الرحمن قدوائی، ماسٹر رام چندر، ادبی پرنٹنگ پریس، بمبئی، 1961
  8. عرشیہ شفقت رضوی، جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن، برصغیر پاک و ہند کے علمی، ادبی اور تعلیمی ادارے، مجلہ علم و آگہی، گورنمنٹ نیشنل کالج، کراچی، 1974
  9. سید محمود احمد برکاتی، مدرسہ طبابت حیدرآباد، برصغیر پاک وہند کے علمی، ادبی او رتعلیمی ادارے، مجلہ علم و آگہی، گورنمنٹ نیشنل کالج، کراچی، 1974
  10. ڈاکٹر محمود علی سڈنی، فلسفہ سائنس اور کائنات، لاہور، 1995
  11. ڈاکٹر عبدالمعز شمس، کاروانِ سائنس، علی گڑھ، 2019
  12. مجیب الاسلام، دارالترجمہ عثمانیہ کی علمی اور ادبی خدمات اور اردو زبان پر اس کے اثرات، دہلی، 1987
  13. مشتاق صدف، اردو نصاب تعلیم اور چند اہم ادارے (ساہتیہ اکادمی، قومی اردو کونسل اور نیشنل بک ٹرسٹ کے حوالے سے)،  اردو دنیا، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،نئی دہلی، ستمبر 2012، ص 26-27
  14. https://www.rekhta.org/ebooks
  15. https://www.urducouncil.nic.in
  16. https://www.ncert.nic.in
  17. https://www.manuu.edu.in
  18. https://nbtindia.gov.in
  19. https://sahitya-akademi.gov.in
  20. https://www.researchgate.net

Dr. Md. Afroz Alam

Assistant Professor, MANUU

College of Teacher Education

Cahndanpatti, Laheriasarai

Darbhanga - 846002 (Bihar)

Mob.: 8885472844

Email: afrozmanuu@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں