اردو کے فروغ میں مدارس اسلامیہ کے کردار پر تقریری مسابقے اور سپوزیم کا انعقاد، طلبہ مدارس کے درمیان بیت بازی مقابلہ

 


وانمباڑی کتاب میلے کا تیسرا دن: 

وانمباڑی : قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام جنوبی ہند کے اہم تعلیمی و ثقافتی شہر وانمباڑی میں جاری پچیسواں قومی اردو کتاب میلہ نہایت کامیابی کے ساتھ جاری و ساری ہے ، ساتھ ہی روزانہ مختلف علمی، ادبی و ثقافتی پروگراموں کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے ۔ میلے کے تیسرے دن تمل ناڈو کے مدارسِ عربیہ کے طلبہ کے درمیان 'اردو زبان و ادب کے فروغ میں عربی مدارس کا کردار' کے عنوان سے مسابقے کا انعقاد ہوا۔ اس مسابقے میں وانمباڑی ، پرنام بٹ، میل وشارم ، عمر آباد وغیرہ کے درجنوں مدارس کے طلبہ نے حصہ لیا اور انھوں نے اردو زبان و ادب سے مدارسِ اسلامیہ کی قدیم وابستگی اور فضلائے مدارس کی اردو میں علمی، درسی ، ادبی و ثقافتی خدمات کے مختلف پہلوؤں پر تقریریں کیں۔اس مسابقے میں اول، دوم و سوم پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو بالترتیب پانچ ہزار، چار ہزار اور تین ہزار جبکہ تین مساہمین کو ہزار ہزار روپے نقد اور سند توصیفی سے نوازا گیا۔ مسابقے میں حکم کے فرائض ڈاکٹر راہی فدائی اور  مولانا ڈاکٹر شیخ سعید احمد نے انجام دیے۔

دوسرے اور تیسرے سیشن میں اسی موضوع پر سمپوزیم کا اہتمام کیا گیا، جس میں وانمباڑی، بنگلور اور عمرآباد وغیرہ کے مختلف علما نے فروغ اردو میں مدارس کے کردار پر خطاب کیا ۔ انھوں نے کہا کہ ماضی سے لے کر آج تک اردو زبان کی لسانی و ادبی خدمات انجام دینے والے بے شمار بڑے ادبا مدارس کے فضلا یا ان کے فیض یافتہ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مدارس میں چوں کہ ذریعۂ تعلیم اردو ہوتی ہے اس لیے لازمی طور پر ان کے لیے اردو بولنا اور لکھنا ضروری ہوتا ہے اور اسی وجہ سے آسام، بنگال ،‌کرناٹک اور دیگر غیر اردو خطوں میں بھی اردو جاننے والے کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ مقررین نے اردو زبان کے فروغ کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ ہمارے متعدد قدیم علما نے اردو زبان کے فروغ کو مذہبی فریضہ قرار دیا ہے کیوں کہ ادب و شاعری کے علاوہ اسلامی علوم کا بہت بڑا ذخیرہ اردو زبان میں جمع ہے ، اس وجہ سے بھی مدارس کے حلقوں میں اردو پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ مدارس سے شائع ہونے والے رسائل، طلبہ کی تحریری و تقریری انجمنیں، ان کے وال میگزینس اور اردو خطاطی جیسے امور پر بھی خاص  توجہ دی جاتی ہے، جن کا سرا براہ راست اردو کی اشاعت سے جڑا ہوا ہے۔ انھوں نے اردو زبان کے سیکولر کردار پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ اردو زبان کی غیر معمولی کشش ، تازگی اور شادابی سے پوری دنیا فائدہ اٹھا رہی ہے اور یہ ہر طبقے لیے اپنے اندر یکساں دلچسپی کا سامان رکھتی ہے۔ انھوں نے اردو کو نئے علوم و فنون اور جدید معیشت و ترقی ، سائنس و ٹکنالوجی سے بھی جوڑنے کی‌وکالت کی، کیوں کہ کوئی بھی زبان محض شعر و ادب کی زبان کے طور پر زمانے کی تبدیلیوں کا ساتھ نہیں دے سکتی۔

دوسرے سیشن کی صدارت وی ایم ای سوسائٹی کے صدر جناب مودا احمد باشاہ نے کی جبکہ مقررین میں ڈاکٹر مقصود عمران رشادی، مولانا سید عبدالرحمن معدنی، مولانا گلزار احمد باقوی، جناب پریاکپم احمد سلیم شامل تھے۔ تیسرے سیشن کی صدارت وی ایم ای سوسائٹی کے ٹرسٹی وی اے‌ایس‌ نوراللہ نے کی ، جبکہ مقررین میں مولانا افتخار احمد، مولانا اعزاز علی قاسمی، قاری امتیاز احمد اور ڈاکٹر بشیرالحق قریشی شامل تھے۔ 

چوتھے سیشن میں طلبۂ مدارس کے درمیان بیت بازی کے مقابلے کا انعقاد کیا گیا، جس میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو انعام و اکرام سے نوازا گیا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں