28/10/24

مضمون اور اس کا فن، ماخذ: اردو ادب میں مضمون کا ارتقا، مصنفہ: سیدہ جعفر

 اردو دنیا،اکتوبر 2024

مضمون کا آغاز

مضمون یا ’’اسّے‘‘(Essay) اپنی اصطلاحی شکل اور اپنے لفظی پیکر کے اعتبار سے مغرب کی دین ہے اور مغرب میں نثر کی ایک ممیز ادبی صنف تصور کیا جاتا ہے۔ فرانس میں مانیتں Montaigne(1571) نے اس کاآغازکیا تھا۔ اس صنف کی صورت گری اور تشکیل و نشوو نماکے مختلف محرکات رہے ہیں۔ زندگی کی بڑھتی ہوئی مصروفیت اور ہیئت اجتماعی کے مختلف شعبوں کی روز افزوں گہما گہمی نے طویل ادبی کارنامو ںکے مطالعے کی فرصت چھین لی۔ ’فرصت کا روبار شوق‘ کی کمی نے ’ذوق نظارہ جمال‘ کے نئے معیار اور نئے سانچوں کو متعارف کروایا۔ میقاتی رسالے اور اخبارات کی ترویج نے ’اسّے ‘ یا مضمون کی مانگ بڑھادی۔ قاری اب طویل وبسیط کارناموں کے بجائے اسّے  ادب پاروں کا متمنی تھا جن میں ایجاز و اختصار ، ادبی ذوق کی تسکین کے سامان ، فکر انگیزی اور زندگی کی مزاج شناسی موجود ہو اور مضمون یا اسّے  میں ان کی پذیرائی کے امکانات موجود تھے جس نے اس ادبی صنف کو مقبولیت عطا کی اور صنفی اہمیت تسلیم کروائی۔

مانیتں (Montaigne) ، Miechael De Montaigne (1533-1592)نے پہلے پہل اسّے نئے قسم کی تحریریں پیش کیں وہ عالمی انشائیہ کا موجد ہے ۔سیاسی زندگی سے سبکدوش ہونے کے بعد اس نے اپنے تجربات اور تاثرات نوٹس (Notes) کی شکل میں قلمبند کرنے شروع کیے جس وقت مانیتں یہ نوٹس لکھ رہا تھا اسے یہ گمان بھی نہیں گزرا تھا کہ وہ ادبیات عام میں نثر کی ایک نئی صنف متعارف کروارہا ہے۔ مانیتںنے اپنے ان نوٹس کو’ اے سیز (Essays) کے نام سے شائع کروایا اور یہ اتنے مقبول ہوئے کہ یورپ اور انگلستان میں ان کے چرچے ہونے لگے۔ اور مانتیں کے تتبع میں انگریزی اور دوسری زبانوں سے ’اسّے ‘لکھے جانے لگے۔

مضمون  کی اصطلاح

اسّے‘ کی اصطلاح اب ایک متعین صنف ادب کے لیے استعمال ہوتی ہے اس کا ماخذ ایک فرانسسی لفظ Assayہے جس کے معنیٰ سعی اور کوشش کے ہیں ۔ یہ قدیم فرانسسی لفظ Essaiسے ماخوذ ہے جس کا لاطینی ماخذ Exgagium(تولنا) ہے Exagereکوشش کرنا اور جانچنا کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔

(دی کنگ سائز آکسفورڈ ڈکشنری آف کرنٹ انگلش، ص 386)

انگریزی میں یہ لفظ املا کے تغیر کے ساتھ فرانسسی ہی سے لیا گیا ہے چاسر Chacer نے لفظ Assay استعمال کیا ہے لیکن تجربے اور جائزے کے معنیٰ ہیں۔ گائلز کے پاس یہ لفظ کوشش اور جدوجہد کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے لفظ ’اسّے‘ بطور فعل بھی برتا گیا ہے اور اس لفظ کے معنیٰ تجربہ کرنے کے ہیں۔ شیکسپیئر کی تخلیقات میں یہ لفظ Assayکی صورت میں فعل کے طور پر آیا ہے۔

اصطلاح کا استعمال

ابتدائی دور میں اسّے کی اصطلاح اسّے مضامین کے لیے استعمال ہوتی تھی جو بقول ارل آف برکن ہیڈ (Earl of Birken Head) اس اصطلاح کے ’مستحق‘ نہ تھے یعنی جن پر پوری طرح اس کا اطلاق نہیں ہوتا تھا جان لاک (John Lock)نے 1690 میں اس اصطلاح کو اپنی ضخیم فلسفیانہ کتاب کے لیے تجویز کیا تھا اور اس کا نام’ این اسّے کنسرنگ ہیومن انڈر اسٹانڈنگ 

(An Essay Concerning Human Understanding) رکھا۔ لیکن قاری کو شبہ ہوتا ہے کہ اس نے اپنے اٹھارہ سالہ گہرے مطالعے کے نتائج کو محض ایک جائزہ کہا تھا یا سنجیدہ مسائل میں الجھے رہنے والے ذہن کے لیے تفریح کی چیز سجھ کر اس کے لیے یہ نا م منتخب کیا تھا کیونکہ اسی سال اس نے دو سیاسی رسالے تصنیف کیے اور ان رسالوں کا نام اس نے’ ٹِری ٹائز آن سیول گورنمنٹ‘ (Trestise On Civil Government) رکھا۔ اٹھارویں صدی کے اکثر مصنفین نے جان لاک کی پیش کردہ مثال کی تقلید کی اور ’ایس اے‘کے نام پر اسّے  نثر پارے کا استعمال کیاجس میں کوئی قصہ بیان نہ کیا گیاہے۔جان ڈرائی ڈن (John Dryden) نے ادبی جمالیات( Literary Aesthtics) پر لکھے ہوئے سلسلے کے لیے یہ نام تجویز کیا ۔ پوپ (Pope)نے معاشرت پر تنقید کے مجمع کو’’ این اسّے آن مین‘‘( An essay on Man)کہا۔

مضمون بطور صنف ادب

مضمون یا اسّے کسی خاص موضوع کے بارے میں انشاپردازکے خیالات اور جذبات کے رد عمل کا پرتو ہوتا ہے ۔ یہ ایک ایسا ادب پارہ ہوتاہے جس میں بیک وقت فکر انگیزی خیال کی اعتمادی تاثرات کی دلفریب ترجمانی اسلوب کا نکھار اور تصور کی لطافت سب ہی عناصر سموئے ہوئے ملتے ہیں۔ مضمون ہمارے ذہن کو ایک خاص ذوق آگہی بخشتا اور ہمارے جذبات میں ایک انبساط پر ور تازگی اور تابناکی پیدا کرتا ہے ۔ خواہ اس کا موضوع ’ آرائش خم کا کل‘ ہو یا ـ’اندیشہ ہائے دور دراز‘ کی قبیل کا۔ مضمون کی صنف میں بڑی لچکداری اور اس کے موضوعات میں خاصی گہرائی اور وسعت ہے ۔ اس صنف ادب کے وسیلے سے بہت سے کام لیے گئے ہیں۔ کبھی یہ صنف سماجی اور ذہنی بیداری کے حربے کے طور پر استعمال ہوئی ہے تو کبھی اصلاحی اور افادی مقصد کی اشاعت کے لیے ۔ کبھی انسانی جذبات کی حسین اور رنگین مرقع کشی کے لیے۔ مضمون یا اسّے کے ذریعے سے مزاح اور ظرافت کی پھلجڑیاں بھی چھوڑی گئی ہیں اور طنز کے تیر بھی برسائے گئے ہیں لیکن ہر صورت میں مضمون کی صنف سے اس کا یہ مقصد وابستہ رہا ہے کہ وہ انسانی جذبات اور خیالات کی عکاسی کرے۔

مضمون کی ماہیت

مضمون کی ماہیت اس کی ٹکنک اور اس کے فنی خد و خال کے بارے میں بھی مختلف ادیبوں اورنقادوںنے مختلف تصورات اوراصول پیش کیے ہیں۔جی ای ہڈسن ( G.E Hudson) اپنی کتاب انگلش لٹریچر (English Literature) میں اسّے کی تعریف کرتے ہوئے لکھتا ہے:

’’اسّے  الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتا جو بغیر کسی مقصد کے باہم جوڑ دیے گئے ہوں ۔ اسّے  قصداً سوچا سمجھا اور آسان لیکن مربوط اصولوں کی مدد سے مناسب اندازمیں اس شخص، چیزیا خیال کے متعلق ایک جائزہ ہوتا ہے جو مضمون نگار کو دلچسپ اور اہم معلوم ہو‘‘۔

(جی ای ہڈسن۔ انگلش لٹریچر، باب چہارم، ص 227)

اوپر کے اقتباس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہڈسن کے خیال میں مضمون یا اسّے کو ایک خاص مقصد کی نمائندگی کرنی چاہیے ۔ اور یہ کہ اس کے کچھ مربوط اور منظم اصول بھی ہوں جن کی روشنی میں وہ کسی خاص شخص چیز یا خیال کا جائزہ لے سکے لیکن ایچ واکر(Hugh Walker) اس تصورسے اختلاف کرتاہے۔ اس نے اپنی کتاب انگلش اسیز اینڈ ایسیسٹس  (English Essays and Essayists) میں لکھا ہے کہ اسّے  (مضمون) ایک ایسی صنف ہوتی ہے جو باقاعدہ اور سخت اصولوں میں جکڑی ہوئی نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک آزاد قسم کی تحریر ہوتی ہے ۔ واکرنے اپنے اس خیال کی تائید میں ڈاکٹر جانسنکا قول بھی نقل کیا ہے ۔ لکھتاہے:

’’اسّے (مضمون)کیاہے اس سوال کے متعلق دو تصورات ہیں ایک تو یہ کہ وہ مختصر مضمون ہوتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ اسّے آزاد تحریر ہوتی ہے۔ موخر الذکر ڈاکٹر جانسن کا تصور ہے جو نہ صرف ایک عظیم انشا پرداز بلکہ خود ایک ممتاز ایسیسٹ بھی تھا۔ اس نے اسّے کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے کہ ’اسّے ‘ ذہن کی آزاد پیداوار اور ایک غیر تحلیل شدہ چیز ہوتی ہے نہ کہ باقاعدہ اور باضابطہ تحریر۔‘‘

(ایچ واکر۔ انگلش ایسیز اینڈ ایسیسٹس ۔باب اول، ص 1)

مضمون کی تعریف

’’آکسفورڈ ڈکشنری نے ان دونوں تعریفوں کو جوڑ کر اسّے کی فنی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ بتایا گیا کہ اسّے معقول طول کی ایک ایسی تصویر ہوتی ہے جس میں تکمیل کا احساس تشنہ رہ جائے ‘‘ یعنی یہ کہ کسی خاص موضوع پر انشا پرداز کے جذبات اور تاثرات ’اسّے ‘ کو ظاہر کرتا ہے ۔ اشیا کی نوعیت کے متعلق فیصلے صادر کرتا اور کوئی قطعی رائے دینا ’اسّے ‘ کے فرائض میں داخل نہیں۔‘‘ (دی آکسفورڈ انگلش ڈکشنری، ص 327)

مرے (Mure)بھی اسی خیال کاحامی ہے۔ نقادوں اور انشا پردازوں نے اسّے کی مختلف تعریفیں کی ہیں۔  ان تعریفوں میں اتنا اختلاف اور ایسی رنگا رنگی ہے کہ’ کثرت تعبیر‘نے اسّے کو’ خواب پریشاں‘ بنادیا ہے۔

’’ارل آف برکن ہیڈ (Earl of Birken Head)  نے آکسفورڈ ڈکشنری واکر اور جی ای ہڈسن کی تعریفوں کے برخلاف ہنڈرڈ بسٹ انگلش ایسیزمیں  (Hundred Best English Essaya) یہ بتایا ہے کہ اسّے آرٹ کا ایک ایسا طریقہ عمل ہے جو محض اس لیے ہوتا ہے کہ انشا پردازی اپنی یادگار باقی رکھے اور اس عمل میں ایسیسٹ کو ایسی ہی مسرت حاصل ہوتی ہے جیسی کسی دوسرے شخص کو اس کے باغ گھوڑوں اور دوستوں سے حاصل ہوسکتی ہے۔‘‘ (باب اول، ص 1)

ارل آف برکن ہیڈ نے اسّے کا جو تصور پیش کیا ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس صنف کا مقصد محض مسرت بخشنا اور دلچسپی عطا کرناہے ۔ مصنفین اور نقادوں نے اسّے کی تعریف کے بارے میںاتنے متنوع خیالات کااظہارکیاہے کہ بقول ہنری ہڈس  (Henry Hudson) اگر ہم ان کے ذریعے سے اسّے کی صنف کو سمجھنے کی کوشش کریں تو تصورات کے اس اختلاف اورانشا میں اسّے کی ماہیت گم ہوتی نظر آتی ہے ۔

(ولیم ہنری ہڈسن۔انٹرو ڈکشن ٹو دی اسٹیڈی آف لٹریچر، ص331)

اس کا سبب ہڈ سن نے یہ بتایا ہے کہ اسّے  کے مواد اس کے موضوعات اس کے مقاصد اور اسا لیب میں اتنی ہمہ گیری اور بو قلمونی ہے کہ نقاد کے لیے یہ بہت مشکل ہوتا ہے ۔ کہ چند اصولوں اور ضوابط میں اس کے وسیع تصور کا احاطہ کرسکے۔

(انٹروڈکشن ٹو دی اسٹڈی آف لٹریچر،ص 331)

اپنی کتاب انٹروڈکشن ٹو دی اسٹڈی آف لٹریچر (Introduction to the Study of Literature)  میں ہڈسن نے اسّے  کی صنف کے بارے میں اپنے اس تصور کی وضاحت کی ہے ۔ ادب میں شاید ہی کوئی صنف اتنی متنوع اقدار کی حامل اور مابہ النزاع ہوگی جتنی کہ اسّے کی صنف ہے۔ (Usage) نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اسّے  کے لیے نثر کی بھی قید نہیں۔ (ایچ واکر: انگلش ایسیز اینڈ ایٹس، باب اول، ص 3)

یہ خیال غالباً اس لیے ظاہر کیا گیا ہے کہ انگریزی ادب میں لفظ اسّے  نثر سے پہلے نظم کے لیے استعمال ہوا ہے۔ انگریزی کے اولین مضمون نگار بیکن (Bacon)کے مضامین سے پہلے اسّے کا لفظ نظم کے لیے استعمال ہواتھا۔ مثال کے طور پر ہم اسّے آف اے پر نٹس ان دی ڈی وائن آرٹ آف پوئٹرک (Essay of a Prentice in the Devine Art of Poetric) کولے سکتے ہیں۔ اس کے بعد بھی اسّے کا لفظ نظموں کے لیے استعمال ہوتا رہا ۔ اٹھارھویں صدی میں اسّے آن کرئی ٹیسیزم (Essay on Criticism)اور انیسویں صدی میں اسّے آن مین (Essay on Man) اس کی عمدہ مثالیںہیں۔

’’بعض نقادوں کے خیال میں اسّے  یا مضمون ایک نہایت سہل اور سطحی صنف ادب ہے ۔ کریبل (Crable)کہتا ہے کہ اسّے لکھنا ان مصنفین کے لیے موزوں ہے جن کے پاس گہری معلومات اور ادب کا ذاتی جوہر موجود نہیں ہوتا۔

(ولیم ہنری ہڈسن۔این انٹرو ڈکشن ٹودی اسٹڈی آف لٹریچر،ص 34)

کریبل کے بر خلاف سان بیو (San Bue) اسّے کو ادب کی مشکل ترین صنف سمجھتا ہے اور اسّے نہایت محو کن اور خوشگوار اور ادب پارہ تصور کرتا ہے ۔ اس کے خیال میں اسّے کچھ سطحیت برداشت نہیں کر سکتا ۔ ایک اور نقاد اسمتھ (Smith)نے ارل آف برکن ہیڈ کی طرح اسّے کے خالص ادب ہونے پر زور دیا ہے ۔

 مندرجہ بالا تعریفوں سے زیادہ ایڈمنڈگوس (Edmund Gosse) کی یہ تعریف جامع اور قابل قبول معلوم ہوتی ہے جس میں اس نے ان تمام تصورات کا نچوڑ اور حاصل پیش کردیا ہے۔ لکھتا ہے۔ ’’اسّے معقول طریقے کا ایک نثری خاکہ ہوتا ہے جس میں قواعد اور ضوابط کی پابندی سے آزاد ہو کر سرسری انداز میں کسی شئے یا موضوع پر مختلف زاویوں سے روشنی ڈالتے ہوئے ذاتی خیالات اور احساسات کو دلنشیں پیرائے میں بیان کیا جاتا ہے۔‘‘

(اعجاز حسن: نئے ادبی رجحانات، ص 247)

مضمون کا طول

انسا ئیکلو پیڈیا آف برٹانکیکا میں اسّے  اور اس کے طول کے متعلق یہ لکھا ہے کہ یہ اوسط طول کا کمپوزیشن ہوتا ہے۔

(انسائیکلو پیڈیا۔انسا ئیکلوپیڈیا ایڈیشن 14، جلد8، ص 716)

ایچ واکر) (Hugh Walkerکاطول مختصرہونا ضروری نہیں سمجھتا۔اس کاکہناہے کہ ادب میںطویل انشائیے لکھے گئے ہیں جیسے جان لاک(John Locke) کا اسّے کنسرننگ ہیومن انڈر اسٹینڈنگ(An Essay Concerning Human Understanding) لیکن جی ای ہڈسن (G.E Hudson)لکھتا ہے کہ یہ دونوں تصانیف اسّے  کے طول کی سرحدوں سے آگے بڑھ گئی ہیں۔ جس طرح اسّے کی تعریف کے بارے میں ادیبوں اور نقادوں میں اختلاف رائے ہے اسی طرح اسّے  کے طول کے متعلق بھی نقاد متفق نہیںہیں۔ اسّے کی وسعت پر روشنی ڈالتے ہوئے انگلش لٹریچر میں ای وی ڈان) (E.V Don لکھتا ہے کہ اسّے کا موڈ اور اس کا موضوع اس کے طول کا تعین کرتا ہے ۔ اس نے طویل اسّے میں فرانسس بیکن (Francis Bacon 1561-1626) کے اسّے آف اڈورسٹی(Essay of Adversity)کا حوالہ دیاہے جو چارسو الفاظ پر مشتمل ہے۔ اور اس نے ڈی کوئنسی(De Quency)کے اسّے  مرڈر ایز اے فائن آرٹ (Murder As A Fine Art) کا تذکرہ کیا ہے جو 24ہزار الفاظ میں لکھا گیا ہے ۔ اور یہ بتانا چاہا ہے کہ اسّے کے طول کو ہم اصول اور قوانین کے ذریعہ سے مقرر نہیں کرسکتے۔ بلکہ اسّے کا مواد اور اس خاص موضوع پر مضمون نگار کے روشنی ڈالنے کا انداز اس کے طول کو گھٹاتااور بڑھاتا رہتا ہے۔  (ای وی ڈان: انگلش لٹریچر، باب 5، ص 167)

مضمون کا موضوع

اسّے کی تعریف اور اس کے طول کی بحث کے برخلاف مضمون یا اسّے  کے موضوع کے متعلق نقادوں اور انشا پردازوں نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے ان میں بڑی حد تک اتفاق رائے پایا جاتا ہے ۔ ڈبلیو ایچ ہڈسن اسّے  کے موضوع کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے۔ اسّے کا موضوع غیر محدود ہوتا ہے۔ایچ واکر (H.Walker)نے بھی  اسّے کے موضوع کو غیرمحدود اور وسیع بنایا ہے اور لکھا ہے۔ ’ ’ستاروں سے لے کر خاک کے ذروں اور امیبا سے لے کرانسان تک کوئی موضوع ایسا نہیں ہے جو کسی اسّے کا موضوع بحث نہ بن سکتا ہو‘‘۔ (A loose salley of mind unirregular undigested piece)نے بتایا ہے اس کو عدم تکمیل کا احساس اسّے  یا مضمون کے موضوع پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی۔ مضمون نگار مواد اورعنوان کے انتخاب میں آزاد ہوتا ہے اور وہ چھوٹی سے چھوٹی یا عظیم سے عظیم حقیقت کو اپنے مضمون میں پیش کرسکتا ہے اس طرح دنیا کی کوئی بھی چیز مضمون کا موضوع بن سکتی ہے۔

 اسمتھ کا خیال ہے کہ :

’’دنیا ہر طرف موضوعات برسارہی ہے صرف انسان کو ہم آہنگ ہونے کی دیر ہے ۔‘‘

(اعجاز حسین: نئے ادبی رجحانات، ص 248)

مضمون کی قسمیں

مضمون یا اسّے کی مختلف قسموں اور اس کی جماعت بندی کے طریقوں کی وضاحت کرتے ہوئے ارک مک کالون Eric Mc Collon لکھتا ہے ۔

اسّے کی کئی قسمیں ہیں جن میں بڑا تنوع پایا جاتاہے۔ ان میں سب سے اہم یہ قسمیں ہیں:

-1      ادبی مضامین: اس میںانگریزی کے تمام عظیم ترین اسّے لکھنے والوںکی تحریریں شامل ہیں۔  بیکن، ایڈیسن، لیمپ ، ہیزلٹ اور لی ہنٹ کے مضامین سے لے کرحالیہ انشا پردازوں رابرٹ لینڈ ، جی کے چسٹرٹن اور میکس بیولر کے مضامین تک شامل ہیں ۔ ادبی انشائیہ نگار اس صنف کو اپنے ذاتی خیالات اور فلسفہ حیات سمجھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

.2       تنقیدی مضامین : اس عنوان کے تحت اشیا اور موضوعات کے  مطالعے آسکتے ہیں جیسے مکالمے کا مضمو ن جو لارڈ کلائیو پر لکھا گیا ہے۔ 

(ارک میک کالون۔اے ریفرنس کورس آن اسّے۔ رپورٹ اینڈ پرسی رائٹینگ، ص 26)

آگے چل کر ارک مک کالون نے صحافتی مضامین، سائنٹفک مضامین واقعاتی اور تاریخی مضامین وغیرہ کا ذکر کیا ہے ۔ مصنف نے مضامین کی جو تقسیم کی ہے اس میں مضمون کی تمام اہم قسمیں آگئی ہیں۔ مضمون میں چونکہ سماجی ، سیاسی ، تاریخی اخلاقی اور فلسفیانہ موضوعات پر روشنی ڈالی جاتی ہے اس لحاظ سے انھیں ارک مک کالون نے زمرو ںمیں تقسیم کیا ہے ۔ مرتب مقالہ نے باب آٹھ اور نو میں مضامین کی اسی طرح تقسیم کی ہے Hugh Walkerنے اس قسم کے مختلف موضوعات پر لکھے ہوئے مضامین کو ایک زمرے میں رکھا ہے ۔ اس طرح واکر نے مضامین کی صرف دو قسمیں بتائی ہیں۔ موخر الذکر کو وہ’ بہترین Par excellence’پاراگسی لنس‘ کہتا ہے اور اول الذکر کو’ عام‘ موضوعات سے متعلق تعبیرکرتا ہے۔

مضمون کی خصوصیات

ہمارے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی خصوصیات ہیں جو اسّے  یا مضمون کو دوسری تحریروں سے ممتاز بناتی ہیں۔ اسّے  یا مضمون کے اقتضا اور اس کی خصوصیات کی وضاحت کرتے ہوئے Virginia woolf ورجینیاو ولف لکھتی ہیں:

’’اسّے میں جو اصول کارفرما دکھائی دیتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ مسرت میںاضافہ کرے اسّے کو اسی مقصد کی تکمیل کرنی چاہیے ۔  اسّے اپنے پہلے لفظ ہی سے ہم پرایسا جادو کرے جو اس کے آخری لفظ ہی پرٹوٹے۔‘‘

(ورجینیا وولف۔ ماڈرن اسّے  (مضمون) کامن ریڈر، ص 267)

اس سے واضح ہوتا ہے کہ دلچسپی پیدا کرنا اور قائم کرنا اسّے کا پہلا فرض ہے ۔ مختلف اصناف ادب میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے مختلف عناصر سے کام لیا جاتا ہے۔ افسانہ اور ناول میں کہانی، نظم میں غنائیت اور اسّے  میں دلچسپی۔ دلچسپی کا فقدا ن اسّے کی موت ہے ۔ مضمون نگار دلچسپی قائم رکھنے کے لیے مختلف وسیلوں اور مختلف طریقوں سے کام لیتا ہے۔ کہیں اسلوب بیان کی دلکشی، کہیں خیالات و جذبات کی ندرت اور کہیں مزاح اور طنز کے ذریعے سے وہ قاری کی توجہ اپنی طرف مبذول رکھتا ہے۔

اسّے کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ ادیب کی شخصیت اس کے مذاق، جذبات اور تاثرات اور اس کے نظریہ حیات کی ترجمانی کرے اور اسّے  کے آئینے میں مضمون نگار کی ذات اس کے فن شعور اور ادبی مزاج کا عکس نمایاں طور پر دکھائی دے۔  اسّے  کی ان ہی خصوصیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مانیتس Montiagne نے جو اسّے  کا باوا آدم سمجھا جاتا ہے لکھا ہے ’’میں اسّے  میں اپنی تصویر کھینچتا ہوں‘‘ اس بات کو پریچڈ Prichard ’ شخصیت کا اظہار‘کہتا ہے ۔ شخصیت کے اظہار کی وضاحت کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے اس سے کسی فن کار کی ذات بے نقاب ہوتی ہے۔ پریچڈ اپنی کتاب گریٹ ایسیز آف آل نیشنز Great Essays of All Nations میں لکھتا ہے :

’’اسّے اپنی اس خصوصیت میں شاعری سے مشابہ ہے۔  (ایف ایچ پریچڈ۔ گریٹ ایسیز آف آل نیشنس، ص 4)

   ڈبلیو ہڈسن کا کہنا ہے کہ اسّے  لازمی طور پر شخصی جذبات و خیالات کا اظہار ہوتا ہے اس کی دانست میں مضمون یا اسّے کا مرکزی تصور یہ ہے کہ وہ بحث کے دوران مضمون نگار کے ذہن اور اس کے کردار کو راست طور پر نمایاں کردے۔ الیگزنڈر اسمتھAlexender Smits نے بھی اسّے  میں داخلیت کی اہمیت پر زور دیا ہے ۔ ورجینیا وولف بھی ہڈسن اور اسمتھ کی ہم خیال ہے ۔

مضمون،مقالہ اور انشائیہ کا فرق

انگریزی ادب میں اسّے  رسمی اور غیر رسمی یعنی فارمل او ران فارمل ہوتا ہے۔ موخر الذکر کو Parexcellence کا نام دیا گیا ہے ۔ اردو میں مقالہ، مضمون انشائیہ اپنے ادبی مزاج اور بعض وقت موضوع کے اعتبار سے ایک دوسرے سے ممیز کیے گئے ہیں۔ وزیرآغا لکھتے ہیں کہ انشائیہ اس نثری صنف کا نام ہے جس میں انشائیہ نگار اسلوب کی تازگی اور نئے انداز فکر کا مظاہرہ کرتے ہوئے تخلیقی مفاہیم کو کچھ اس طرح گرفت میں لیتا ہے کہ انسانی شعور اپنے مدار سے ایک قدم آگے آکر نئے مدار کو وجود میں لانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ وزیر آغا نے انشائیہ کے خد و خال میں ورجینیا وولف لیوئس رابرٹ لینڈ اور بریسٹلے گارڈ وغیرہ کو انگریزی کے نمائندہ انشائیہ نگار بتاتے ہوئے انشائیہ اور مقالے کا فرق اس طرح واضح کیا ہے کہ مقالے کی نسبت انشائیے کا ڈھانچہ کہیں زیادہ لچکیلا elasticalہوتاہے اس میں مقالے کی سنگلاخ کیفیت موجود نہیں ہوتی۔

(ایف ایچ پریچڈ گریٹ ایسیز آف آل نیشن، ص 4)

 اکبر حمیدی انشائیے کے بارے میں اپنی کتاب ’جدید اردو انشائیے‘ میں لکھتے ہیں۔ انشائیہ میں پند و عظمت اور رشد و ہدایت کا رنگ غالب نہیں ہوتا۔ موزے تنگ کے الفاظ میں ’ادب کو پوسٹر نہیں بننا چاہیے‘۔  ادب میں سب سے زیادہ اہمیت اس لطف و مسرت کو حاصل ہوتی ہے جو ہم کسی ادب کے ذریعے اکتساب کرتے ہیں اور جس میں مقصدیت جاری و ساری ہوتی ہے۔ آگے چل کر تحریر کیا ہے:

’’انشائیہ نگار ان سب کو جتنے بڑے انداز میں جتنی زیادہ دلکشی سے جتنے زیادہ موثر اسلوب میں جتنے زیادہ نئے پن کے ساتھ کہے گا وہ اتنا ہی بڑا انشائیہ نگار کہلائے گا۔‘‘

(اکبر حمیدی: جدید اردو انشائیہ، ص 9، اکاری ادبیات پاکستان 1991)

 

ماخذ: اردو ادب میں مضمون کا ارتقا، مصنفہ: سیدہ جعفر، پہلی اشاعت: 2019، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

اکبر الہ آبادی کی شاعری میں مشرق کا تصور، مضمون نگار: امیرحسن

  اردو دنیا، جنوری 2025 تجھے ہم شاعروں میں کیوں نا اکبر معتبر سمجھیں بیاں ایسا کہ دل مانے زباں ایسی کہ سب سمجھیں اکبر الہ آبادی دنیائ...