29/10/24

آندھرا پردیش میں دکنی تحقیق اور تدریس،روایت اور معاصر صورت حال، مضمون نگار: ستار ساحر

 اردو دنیا، اکتوبر2024

اردو ادب کے وزن و وقار‘ اعتبار اور رنگ و نکھار کا شاندار قصر دکنی شعر و ادب کی بنیاد پر تعمیر ہوا ہے۔ ہمارے جن بزرگوں نے دکنی ادب سے دلچسپی لی، ان کا زاویہ تحقیقی رہا اور اس میں کوئی دورائے نہیں کہ انہی کی مسلسل محنتوں اور کاوشوں کے نتیجے میں آج دکنیات کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ تاہم یہ بات بھی کافی اہمیت رکھتی ہے کہ دکنی شعر وادب کا تنقیدی نقطۂ نظر سے مطالعہ ابھی حال حال کی بات ہے، حق تو یہ ہے کہ ابھی حق ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ دکنیات کا تجزیاتی مطالعہ اور دیگر پہلوؤں سے جائزہ جس قدر گیرائی اور گہرائی کا حامل ہوگا۔ دکنی شعر وادب کی اہمیت فزوں تر ہوتی جائے گی۔

دکن میں نویں صدی ہجری ہی سے بزرگانِ دین کی آمد کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ان کے تحریر کردہ چھوٹے چھوٹے مذہبی رسائل اور نظمیں دکنی زبان کے اولین نمونے قرار پائے۔ ایسے بزرگوں میں جنھوں نے نویں، دسویں اور گیارہویں صدی ہجری میں دکن کا رخ کیا، بالخصوص حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ‘ شیخ بہاء الدین باجنؒ‘ میراں جی شمس العشاق، برہان الدین جانم، امین الدین اعلیٰ، سید میراں حسینیؒ، شاہ علی جیوگام دھنی وغیرہ قابل ذکر ہیں حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ اور میراں جی شمس العشاق ؒ کے خانوادوں نے خانقاہی تعلیم اور مذہبی فکر کو دکنی زبان میں عام کیا۔ اس کام کو ان بزرگوں کی اولاد و خلفا اور مریدوں نے بھی آگے بڑھایا اس طرح دکنی زبان میں تصوف، اخلاقیات اور دینی علوم کا ایک بڑا سرمایہ جمع ہوگیا جس کی اہمیت اور افادیت سے انکار ممکن نہیں ہے۔ یہ سرمایہ دکنی نظم و نثر کی شکل میں ملتا ہے جو دکنی زبان کے فروغ کا باعث بنا۔

خانوادۂ شہ میریہ، آندھراپردیش کا عالم و فاضل گھرانہ ہے۔ شہ میری اولیا ایک طرف مشہور زمانہ صوفی حضرت مخدوم جہانیان جہاں گشت کی اولاد سے ہیں تودوسری طرف حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کے خاندان سے نسبی رشتہ رکھتے ہیں۔ حضرت سید جمال الدین بخاری ملتان سے ہندوستان آئے اور گلبرگہ پہنچ کر آپ نے حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ کی پڑپوتی سے عقد کیا۔ حضرت سید جمال الدین بخاری کے پوتے سید کمال الدین بخاری اول گلبرگہ سے بیجاپور ہوتے ہوئے آندھرپردیش کے شہر کرنول سے گزر کر کڈپہ پہنچے اور یہاں سے رائچوٹی کا رخ کیا اور وہیں پر مستقل قیام فرمایا۔ آپ کا وصال گرم کنڈہ (ظفر آباد) میں ہوا اور آپ کا مزار گرم کنڈہ میں مرجع خلائق ہے۔ خانوادۂ شہ میریہ حضرت سید جمال الدین بادشاہ بخاری،  رائچوٹی کے بڑے فرزند حضرت شاہ میر بادشاہ بخاری (اول) تلپول، کدری تعلقہ کے اسم گرامی سے منسوب ہے جن کا تذکرہ نصیر الدین ہاشمی نے اپنی معرکۃ الآرا تصنیف ’دکن میں اردو‘ میں کیا ہے۔ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

’’اس دور کے صوفی اور شاعر شاہ میر ہیں۔ آپ کا نام سید محمد حسین تھا۔ حضرت مخدوم جہانیان جہاں گشت بخاری کی اولاد میں شامل تھے۔ 1018 ہجری میں تولد ہوئے یعنی آپ کا بچپن بیجاپور کی عادل شاہی حکومت کا آخری دور ہے کئی انقلاب آپ کی نظر سے گزرے1186 ہجری میں آپ کا انتقال ہوا۔ آپ کو اپنے والد سے بیعت اور خلافت حاصل تھی آپ کے مریدوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ایک سو پانچ سال کی عمر ہوئی۔ آپ کا مزار تلپول، ضلع اننت پور (آندھرا) میں واقع ہے۔ 5جمادی الثانی کو ہر سال آپ کا عرس ہوتا ہے۔

شاہ میر کی نظم و نثر کی کئی ایک تصانیف ہمدست ہوتی ہیں جن میں سے اسرار التوحید، رسالۂ عینیت و غیریت، رسالۂ قادریہ، عقائدِ صوفیہ اور دیوان قابل تذکرہ ہیں۔‘‘(ص:377)

’اسرار التوحید‘ دکنی اردو میں علم تصوف کی مختصر اور جامع کتاب ہے۔ ان کی ایک اور تصنیف ’انتباہ الطالبین‘ بھی ہے۔

حضرت شاہ کمال (ثانی، جامیِ دکن) کے دیوان ’مخزن العرفان‘ کو اسی خانوادہ کے جواں سال سجادہ نشین سید شاہ میر قادری شہ میری نے 2010 میں مع فرہنگ ترتیب دیا ہے جو 680 صفحات پر مشتمل ہے۔

گرم کنڈہ (تاریخی نام ظفر آباد) ضلع انا میا، آندھرا پردیش کے ایک اردو استاد شاعرو محقق ڈاکٹر نقی اللہ خان نقی نے بعنوان ’حضرت شاہ کمال  (جامیِ دکن) کے دیوان مخزن العرفان کا ادبی، لسانی اور تحقیقی مطالعہ، 2018 میں جامعہ سری وینکٹیشورا، تروپتی میں ڈاکٹر محمد نثار احمد کی نگرانی میں پی ایچ۔ڈی کا مقالہ پیش کرکے ڈگری حاصل کی۔ اس مقالے میں موصوف نے ’مخزن العرفان‘ کی ادبی اہمیت و افادیت واضح کی ہے۔

قاری جی۔ ہدایت اللہ لطیفی رشادی نے خانوادۂ شہ میریہ کے صوفی شاعر ’ حضرت شاہ کمالؒ (جامیِ دکن) : حیات اور کارنامے‘ عنوان سے پروفیسر سید عبدالستار ساحر کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کا مقالہ 2019  میں سری وینکٹیشورا یونیورسٹی‘، تروپتی میں داخل کیا۔ جس پر انھیں جامعہ نے پی ایچ ڈی کی سند تفویض کی۔ پانچ ابواب پر مشتمل اس مقالے میں انھوں نے جامیِ دکن کی حمد، مناجات، نعوت، سلام، مراثی، مثنویات، قصائد، رباعیات، غزلیات و دیگر کلام پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ خاص کر ان کی تصانیف کی فہرست سازی کرتے ہوئے ان کے دیوان مخزن العرفان سے متعلق یہ رائے پیش کی ہے کہ یہ دکنی اردو میں ہے علم و ادب اور فن کے اعتبار سے اسے دکنی ادب کا ایک عظیم شہکار قرار دیا جاسکتا ہے۔

شاہ کمال کا ابتدائی زمانہ ولی دکنی کا آخری زمانہ تھا اور آپ کے معاصر و قریب العہد سراج دکنی، سید محمد خاکی، عارف الدین خان عاجز، عبدالولی عزلت، شاہ قدرت اللہ بلیغ اورنگ آبادی اور غلام علی آزاد بلگرامی رہے ہیں۔

شہر کڈپہ (آندھراپردیش) کے متوطن ڈاکٹر راہی فدائی کی تحقیقی و تنقیدی تصانیف ادبی اہمیت کی حامل ہیں مثلا باقیات ایک جہاں، اکتساب نظر، مسلکِ باقیات، کڈپہ میں اردو، جوئے شیر، مدرسۂ باقیات الصالحات کے علمی و ادبی کارنامے، ویلور تاریخ کے آئینے میں، قلم رو، فکر اور علاقہ کڈپہ کے نایاب تاریخی کتبے وغیرہ۔

’اکتساب نظر‘ تحقیقی مضامین کا انتہائی قابل قدر مجموعہ ہے۔ جس میں ہاشمی بیجا پوری کی مثنوی،  یوسف زلیخا، کا ایک نو دریافت مخطوطہ‘ وشارم میں اردو، اختر کڈپوی ان کی مثنوی در مدح ٹیپو سلطان اور جنگ آزادی اور علمائے جنوب مضامین خاصی اہمیت کے حامل ہیں۔ ’قلم رو فکر‘ میں موصوف نے یہ ثابت کیاہے کہ ’’فرہنگ آنند راج کے مؤلف آنند راج نہیں بلکہ منشی محمد پاشاہ متوطن وجیا نگرم ہیں، جنھوں نے اپنے حکمران مہاراجہ آنند گجپتی راج کے نام اسے منسوب کیا۔ مولانا نے نصرتی کے ایک اور فارسی قصیدے کو دریافت کرکے ہماری زبان شمارۂ اکتوبر 1995 میں شائع کیا۔

’کڈپہ میں اردو‘ راہی فدائی کی مایہ ناز تصنیف ہے۔ جس میں موصوف نے شہر کڈپہ کی تین سو سالہ ادبی تاریخ کو سمیٹ کر اس کتاب کی شکل میں محفوظ کردیا ہے۔ اس کتاب کا پہلا اڈیشن 1992 میں شائع ہوا تھا، اور دوسرا 2012 میں زیور طبع سے آراستہ ہوا۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ موصوف نے اپنی تحقیقی بصیرت کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ قدیم ترین اردو دکنی تصنیف محمد ابن رضا کی مثنوی ’ قصیدہ بردہ‘ ہے وہ لکھتے ہیں:

’’دنیا کی مختلف زبانوں میں اس قصیدے کے ترجمے ہوئے مگر اس کو دکنی زبان میں ترجمہ کرنے کا شرف محمد ابن رضا کو عطا ہوا۔ راقم الحروف کی تحقیق کے مطابق قصیدہ بردہ کا یہی اولین اردو ترجمہ ہے تاحال اس کے صرف دو نسخے دستیاب ہوئے ہیں۔ ایک کتب خانۂ سالار جنگ، حیدرآباد کا مخزونہ ہے اور دوسرا انڈیا آفیس لائبریری لندن میں محفوظ ہے۔‘‘

 (کڈپہ میں اردو، ص:15,16)

’قصیدۂ بردہ شریف‘ کے دکنی اشعار اور کڈپہ کی اہم تاریخی مسجدوں کے کتبوں پر ترقیم فارسی اشعار کی روشنی میں موصوف نے محمد ابن رضا کے اصل نام ‘ تخلص اور قصیدہ کے سنہ تصنیف وغیرہ سے متعلق اہم معلومات فراہم کی ہیں جو تحقیق کے میدان میں مولانا کی لگن اور ان کے انہماک پر دال ہے۔

نواب عبدالحمید خان میانہ (کڈپہ) کے درباری شاعر محمد حیدر المتخلص بہ ابن جعفر نے اپنے شاگرد رشید عبدالکریم عرف کرمو میاں کی فرمائش پر ابن نشاطی کی مثنوی ’پھول بن‘ (1066ھ) میں 341 اشعار کا اضافہ کیا تھا مولانا کے الفاظ میں ابن جعفر نے ابن نشاطی کے اختتامی شعر        ؎

عدالت کار کہ، اپنی سیس پر تاج

فراغت سوں کرتا رہا راج

کے بعد بطورِ تکملہ تین سو اکتالیس اشعار میں شادی بیاہ کی تفصیل جیسے مقامی رسم و رواج تہذیب و تمدن اس وقت کے زیورات، اشیائے خوردونوش‘ رنگا رنگ ملبوسات وغیرہ کی مکمل تصویر بڑی عمدگی اور نہایت خوب صورتی کے ساتھ پیش کی ہے۔ ابن جعفر کے کلام کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں فنی چابکدستی اور کمال سادگی نمایاں ہے۔‘‘(ص۔24,25)

دکنی میں قدیم اردو کی تصانیف کا سراغ لگا کر جس طرح بابائے اردو مولوی عبدالحق نے اردو کے ماضی میں تقریباً 200 برس کا بے نظیر اضافہ کیا۔ ڈاکٹر راہی فدائی نے ’کڈپہ میں اردو‘ لکھ کر علاقائی ادب بلکہ دکنی ادب کی تاریخ میں بڑا پائیدار اور بیش بہا اضافہ کیا ہے۔

ڈاکٹر وحید پاشاہ کوثر کا تعلق شہر کرنول، آندھرا پردیش سے ہے موصوف کو ابتدأ سے ہی دکنیات سے کافی دلچسپی رہی ہے۔ ان کی ایک اہم تصنیف ’دکنی کلیات حضرت شاہ فی الحال قادریؒ کی تنقیدی تدوین ہے۔ موصوف نے کلیات کی تدوین سے متعلق کتب خانۂ سالار جنگ، کتب خانۂ ادارہ ادبیات اردو اور کتب خانۂ آصفیہ، حیدرآباد کے علاوہ حضرت سید اقبال پاشاہ قادری کے ذاتی کتب خانے سے استفادہ کیا ہے دراصل اسی کتب خانے میں انھیں حضرت فی الحال قادری کی فارسی مثنویات ’نکات العارفین‘ اور ’مراق السالکین‘ دستیاب ہوئیں اور دوسرے ذرائع سے ممکنہ معلومات حاصل کرکے اور مخطوطات سے مدد لے کر انھوں نے کلیات کی تدوین کی۔ وحید کوثر نے شاہ فی الحال قادری کے صوفیانہ خیالات کا بھرپور جائزہ لیا ہے دکنی میں ان کے دیوان اور مثنویوں، بودنامہ (اول)، بود نامہ (دوم) اور ارشاد نامہ کے بارے میں بتلایا کہ یہ مثنویاں حضرت فی الحال کے صوفیانہ رجحانات کا اظہار ہیں۔ وحید کوثر اپنے تحقیقی و تنقیدی مضامین کے مجموعے ’اسلوب و افکار‘ (2017) میں رقمطراز ہیں:

’’شاہ فی الحال کا دور آصف جاہی حکومت کا ابتدائی زمانہ ہے۔ اس لحاظ سے شاہ فی الحال جدید دکنی کے پہلے دور کے شعرامیں شمار ہوتے ہیں۔ ماحول میں جو عام بول چال کی زبان تھی اس پر دکنی اثرات کا ابھی غلبہ بنا ہوا تھا گھروں اور بازاروں میں اس کا چلن عام تھا۔‘‘ (ص۔28)

’شعر اور شعور‘ (2018) وجدی سے یسیر تک، (2011)کلیاتِ تصوف(2015)،  شاہ فی الفور قادری جان عارفان (2018) اور تین جلدوں پر مشتمل مثنوی جنگ ابرار (2022) جو 600 صفحات پر مشتمل ہے۔ وحید کوثر کی گراں قدر تصانیف ہیں۔ ’جنگ ابرار‘ گویا دکنی اردو کی آخری طویل رزمیہ مثنوی ہے اس کے مصنف سید محی الدین حسینی قادری محی ہیں یہ مثنوی دس ہزار چھ سو ستائیس (10,627) دکنی اشعار پر مشتمل ہے۔ اس میں صرف 27 عربی اشعار بھی ہیں۔ اس طرح کل 10654 اشعار ہیں اور اس کا صرف ایک نسخہ اس وقت سید صادق پاشاہ حسینی القادری کی تحویل میں ہے۔ مثنوی کی بحر متقارب مثمن مقصور یعنی فعولن فعولن فعولن فعل‘ مثنوی کی مقررہ 7 بحروں میں سے ایک ہے۔

اردو زبان اور شعر و ادب کے پیش نظر آندھراپردیش کے ایک اہم اور معروف شہر تروپتی کو ایک سنگلاخ زمین کہنا چاہیے لیکن یہاں کی ایک موقر سری وینکٹیشورا یونیورسٹی میں 1959 میں شعبہ اردو کا قیام نعمت غیر مترقبہ کے مصداق ہے۔ شعبۂ اردو سے پی ایچ۔ڈی سند یافتہ طلبہ و طالبات اور ان کے عنوانات کی فہرست کافی طویل اور وزن و وقار کی حامل ہے تاہم دکنی تحقیق کا جہاں تک تعلق ہے بیشتر اہم موضوعات پر تحقیقی مقالوں کو پیش کرنے اور ان میں بعض مقالوں کی کتابی شکل میں اشاعت حیرت انگیز ہے۔ خانوادۂ شہ میریہ سے متعلق تحقیقی مقالوں کا تذکرہ کیا جاچکا ہے۔ ڈاکٹر شہزادی بیگم نے 1995 میں پروفیسر سلیمان اطہر جاوید کی نگرانی میں ’اردو مثنوی کا ارتقا: دبستانِ گولکنڈہ میں‘ تحقیقی مقالہ پیش کرکے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔

ڈاکٹر محمد نعیم الرحمن نے برصغیر کے مشہور و معروف نقاد پروفیسر سلیمان اطہر جاوید کی رہنمائی میں اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ بعنوان ’جدید دکنی شاعری‘ 1996 میں سری وینکٹیشورا یونیورسٹی، تروپتی میں داخل کرکے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اس مقالے میں جدید دکنی کے ممتاز شاعروں علی صائب میاں، سلیمان خطیب، سرور ڈندا، گلی نلگنڈوی کی شاعری پر نقد و تبصرہ کیا گیا ہے علاوہ ازیں موصوف نے اپنے مقالے میں دیگر جدید دکنی شعرا جیسے زعیم صاحب میاں، نذیر دہقانی، اعجاز حسین کھٹا‘ بگڑ رائچوری، گلیم میدکی، معین نظامی، صبغت اللہ بمباٹ، حمایت اللہ، اشرف خوندمیری، ڈھکن رائچوری، حفیظ خان اور قیسی قمر نگری کی حیات اور جدید دکنی شاعری کے بارے میں اہم معلومات ان کی شاعری کے نمونوں اور امتیازات کے ساتھ فراہم کی ہیں۔

ڈاکٹر سی ممتاز بیگم نے 2002 میں ڈاکٹر سید عبدالستار ساحر کی زیر سرپرستی ’دکنی مثنویوں میں کردار نگاری ‘ عنوان کے تحت اپنا تحقیقی مقالہ جامعہ سری وینکٹیشورا میں داخل کیا اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

یہ مقالہ دکن میں صنف مثنوی اور اس کے ایک خاص پہلو کا بسیط منظر نامہ ہے۔ جس کی اشاعت سے دکنی شعر وادب میں قابل ذکر اضافہ ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر سید ریاض بخاری نے 2014 میں پروفیسر سید عبدالستار ساحر کی نگرانی میں بعنوان ’خانوادۂ شہ میریہ کی ادبی خدمات‘ تحقیقی مقالہ سری وینکٹیشورا یونیورسٹی میں پیش کرکے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔

اس مقالے کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شہ میری اولیا کے دکنی کلام کے ساتھ ساتھ ان کی دکنی نثر کے بیشتر نمونے شائقین دکنی شعرو  ادب کے مطالعے کے لیے دستیاب ہیں۔

آندھراپردیش میں کل 13 جامعات (تکنیکی اور سائنسی سے قطع نظر) ہیں، ان میں سے چار جامعات میں ایم اے اردو کی تعلیم دی جاتی ہے اور صرف جامعہ سری وینکٹیشورا میں تحقیق کی سہولت ہے۔ اس کی وجہ باقی تین جامعات میں مستقل اساتذہ کی غیر موجودگی ہے، شعبۂ اردو جامعہ سری وینکٹیشورا کا قیام 1959 میں عمل میں آیا تھا اور دیگر جامعات ڈاکٹر عبدالحق اردو یونیورسٹی کرنول، یوگی ویمنا یونیورسٹی، کڈپہ اور آچاریہ ناگارجنا یونیورسٹی، گنٹور میں اردو شعبہ جات کا آغاز بالترتیب 2016، 2017، اور 2023 میں ہوا۔ مسرت کی بات یہ ہے کہ مذکورہ چاروں جامعات کے نصاب میں دکنیات کا پرچہ شامل ہے اور دکنی شعر وادب کی تدریس کا سلسلہ جاری ہے۔

کرنول اور گنٹور کی یونیورسٹیوں کے اردو شعبوں میں قدیم دکنی کے ساتھ ساتھ جدید دکنی شعر و ادب بھی نصاب کا اہم حصہ ہے۔ جس کو عصر حاضر کی دکنی زبان کی نمائندگی کہا جاسکتا ہے۔

جغرافیائی اعتبار سے موجودہ ریاست آندھراپردیش کا ساحلی علاقہ اردو شعر و ادب کے فروغ اور اردو تہذیب نیز تصنیفی و تالیفی اعتبار سے خطہ رائل سیما سے نسبتاً بہت کم زرخیز کہا جاسکتا ہے یہاں ادبی سرگرمیاں حال حال کی بات ہے تاہم خطہ رائل سیما سے دکنی تحقیق اور تدریس کی روایت اور معاصر صورت حال کا ایک دلکش منظر نامہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے بالخصوص کرنول اور کڈپہ کے حوالے سے دکنی تحقیق و تدریس کی روایت بہت قدیم ہے۔ یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ریاست آندھراپردیش کے ادیبوں، شاعروں،  اساتذہ اور ماہرین تعلیم نیز محبان شعروادب نے دکنی شعر وادب کے تحفظ اور اس کی اہمیت و افادیت کی وضاحت میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے اور وقتاً فوقتاً دکنیات سے متعلق عنوانات پر سمیناروں، کانفرنسوں اور مذاکروں سے اردو کے بنیادی ادب کو مضبوط و مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کو نئی نسلوں تک پہنچانے کا پر خلوص اہتمام کیا ہے۔

 

Prof. Sattar Sahir

Ex. Head Dept of Urdu

Jamia Sri Venkateshwar

Tirupathi- 517502 (AP)

ssahir717@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

اکبر الہ آبادی کی شاعری میں مشرق کا تصور، مضمون نگار: امیرحسن

  اردو دنیا، جنوری 2025 تجھے ہم شاعروں میں کیوں نا اکبر معتبر سمجھیں بیاں ایسا کہ دل مانے زباں ایسی کہ سب سمجھیں اکبر الہ آبادی دنیائ...