2/12/24

ولی اور ریختہ گوئی: ادبی و تاریخی مباحث، مضمون نگار: خالد علوی


2024فکر و تحقیق، جولائی۔ستمبر


تلخیص

ولی اردو شاعری کی تاریخ میں اولین رجحان ساز شاعر ہیں۔ اگرچہ ان کی پیدائش اردو کے مراکز سے بہت دور ہوئی لیکن ان کی شخصیت اور متاثرکن شاعری نے شمالی ہند کے تمام شعرا کی رہنمائی کی۔  میں نے اپنے مقالے میں کوشش کی ہے کہ ان غلط فہمیوں کا بھی ازالہ کیا جائے جو شعوری یا لا شعوری طور پر ولی سے منسوب ہو گئی ہیں۔ مثلاًیہ بات بہت بار کہی گئی اور تمام تذکروں میں مرقوم ہے کہ ولی کو سعد اللہ گلشن نے ہدایت دی اور رہنمائی کی  اور ایک شعر بھی سعداللہ گلشن سے منسوب کیا گیا جو انھوں نے بطور نمونہ ولی کو دیا تھا۔میں نے اس روایت کی تکذیب کی اور ثابت کیا کہ  وہ شعر ولی کا ہی ہے اور ولی کے کلام میں موجود ہے۔  دوسرا مسئلہ ولی کے عروض سے ناواقف ہونے کا ہے ان کے کچھ اشعار کو بھی خارج از بحر بتایا گیا۔ میں نے ثابت کیا کہ ولی کو نہ صرف اردو / عربی عروض سے واقفیت تھی بلکہ ہندی ماترک چھند کے بھی عالم تھے۔ انھوں نے بعض الفاظ کا عوامی یا دکنی تلفظ نظم کیا ہے جس کی وجہ سے شمالی ہند کے میرزایان کو خارج از بحر معلوم ہوتے ہیں۔ آخر میں میں نے ولی کی اولیتوں پر اظہار خیال لیا ہے۔

کلیدی الفاظ

ولی،  شمالی ہند، قائم، سعداللہ گلشن، دہلی، میر تقی میر، صفا بدایونی، اورنگ آباد، ریختہ، حاتم، دیوان زادہ، شاکر ناجی، ایہام گوئی، خطاطی،اولیتیں، تلمیحات،

————

ولی کو بجا طور پر نظم اردو کاباوا آدم کہا گیا ہے۔ ولی کو شمالی ہند کے شعرا نے بظاہر تو بہت احترام دیا لیکن ولی کی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جو ادبی سیاست سے محفوظ رہ گیا ہو۔ ولی کا نام، تاریخ پیدائش، جائے وفات، سعداللہ گلشن سے ان کا ارتباط، شمالی ہند کے شعرا پر ان کا اثر، غرض کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جس پر کوئی حرف آخر دستیاب ہو۔

شمس الرحمن فاروقی کی اطلاع کے مطابق ولی کے انتقال کو تین سو سال گزر جانے کے بعد بھی ولی کے دیوان کے ایک سو بتیس قلمی نسخے اور ایک سو تینتیس قلمی بیاضیں موجود ہیں۔ یہ ولی کی بے پناہ مقبولیت کا ثبوت ہے۔ اسی مقبولیت نے شمالی ہند کے بعض بلکہ اکثر اکابرین کے دل میں ایک ڈھکا چھپا تعصب بھی پیدا کردیا تھا۔ ولی سے قبل شمالی ہند میں نہ اردو غزل کی مقبولیت کا یہ عالم تھا نہ کسی شاعر کو یہ شہرت نصیب ہوئی تھی جو ولی کے کلام اور ان کے حصے میں آئی۔ ظاہر ہے احساس برتری سے مارے دلی والوں کو یہ بات آسانی سے گلے نہیں اتر سکتی تھی کہ ایک ملک غیر کا باشندہ، ان کے لیے شمع ہدایت بنے جس کی مادری زبان بھی اردو فارسی نہ ہو۔

ولی کا نام مختلف تذکروں میں شاہ ولی اللہ، شمس الدین ولی، ولی محمد اور محمدولی دیا گیا ہے۔ تاریخ پیدائش 1665 سے 1668 تک مانی گئی ہے۔ تاریخ وفات کے سلسلے میں بھی حتمی طو رپر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ 1707 سے 1768 تک متعدد تاریخ ہائے وفات کا مختلف تذکروں میں ذکر کیا گیا ہے۔

تذکرہ نویسوں نے ولی کے نام کی مختلف شکلیں پیش کی ہیں۔ قائم نے شاہ ولی اللہ ولی لکھا ہے۔ فتح علی گردیزی، شفیق اورنگ آبادی، ثناء اللہ فانی اسے ’ولی محمد‘ لکھتے ہیں۔ ’طبقات الشعرا‘ نے صرف ولی لکھا ہے۔ صہبائی نے ’انتخابِ دواوین‘ میں شمس ولی اللہ گجراتی لکھا ہے۔ قاضی نورالدین حسین خاں ’مخزن شعرا‘ میں محمد ولی نام اور ولی تخلص قرار دیتے ہیں۔ حمید اورنگ آبادی نے ’گلشن گفتار‘ میں ولی محمد آبادی لکھا ہے۔ ’تذکرہ عشقی‘ میں وجیہ الدین عشقی نے ولی بہ موسوم شاہ ولی اللہ لکھا ہے۔ قدرت اللہ قاسم نے ’مجموعہ نغز‘ میں محمد ولی اور ’طبقات سخن‘ میں مبتلا میرٹھی نے شاہ ولی اللہ لکھا ہے۔

ظہیرالدین مدنی نے ولی کے جدامجد شاہ وجیہ الدین علوی کی خاندانی دستاویز کے حوالے سے ولی کا نام محمد ولی اللہ قرار دیا ہے۔ مدنی صاحب نے بہت سی خاندانی دستاویزوں کا حوالہ بھی دیا ہے۔

جمیل جالبی نے ولی کے عزیز ترین دوست سید ابوالمعالی کے بیٹے سید محمد نقی کے نقل کردہ ’دیوان ولی‘ کی بنیاد پر ولی محمد قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ جمیل جالبی ’دیوان ولی‘ کے ایک قلمی نسخے مرقومہ 1725 اور ’گلشن گفتار‘ کا حوالہ بھی اپنی بات کے ثبوت میں دیا ہے۔

شمس الرحمن فاروقی صاحب نے اپنے ایک مضمون میں محمد ولی اور عبدالحق صاحب نے اپنے مرتبہ ’کلیات ولی‘ میں شمس الدین لکھا ہے۔

ولی کے نام کے علاوہ ولی کا سال وفات بھی ایک سیاسی موضوع ہے۔ سال پیدائش 1664 سے 1667 تک مان لیا گیا ہے۔ اس پر زیادہ مباحثہ نہیں ہے، لیکن سال وفات سے متعلقہ کچھ دوسرے مسائل بھی ہیں جو براہِ راست سال وفات سے طے کیے جاتے ہیں۔ ظہیرالدین مدنی نے ولی کی تاریخ وفات کا تعین 4 شعبان 1118ھ کیا ہے جو 31 اکتوبر 1707 کے مطابق ہے۔ ظہیرالدین مدنی نے سال وفات کی بنیاد ایک فارسی قطعہ پر رکھی ہے جو مولوی عبدالحق نے بمبئی کی جامع مسجد سے برآمد کیا تھا۔ فاروقی صاحب اس قطعے پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ کوئی اور ولی بھی ہوسکتے ہیں لیکن وہ خدا بخش لائبریری میں موجود کلیات ولی کی بنیاد پر ولی کا سال  وفات 1707 ہی مانتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس نسخے میں ولی کا تمام کلام موجود ہے۔ اس لیے قیاس کیا جاسکتا ہے کہ ولی کی موت کے آس پاس ہی مرتب ہوا ہوگا۔ نسخے پر 26 ربیع الاوَّل 1120 ہجری (مطابق 15 جولائی 1708) پڑی ہوئی ہے۔

جمیل جالبی کو ولی کا سال وفات 1707 تسلیم کرنے میں تامل ہے۔ ان کا یقین ہے کہ 1707 کے بعد تک ولی کے زندہ رہنے کا ثبوت ملتا ہے۔ وہ ثبوت کیا ہیں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

(2)     جمیل جالبی کہتے ہیں کہ یہ بات مصدقہ ہے کہ ولی جواں سال نہیں بلکہ عمر طبعی کو پہنچ کر مرے۔ ان کے مرشد، استاد اور دوست 1707 کے پچیس تیس سال بعد تک زندہ رہے۔ قائم کی اطلاع کے مطابق ولی 1707میں دہلی آئے اور شاہ گلشن سے ملاقات کی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ صرف سال میں اپنا رنگ بدل کر دیوان بھی مکمل کردیتے۔ 1707 کے بعد ولی کے زندہ رہنے کے ثبوت میں مصحفی کے تذکرہ ہندی کا ثبوت بھی دیا جاتا ہے جس کے مطابق ولی کا دیوان 1719 میں دہلی پہنچا۔ اگر ولی کا انتقال 1707 میں ہی ہوگیا تھا تو دیوان اتنی تاخیر سے دہلی کیوں پہنچا۔

ولی اور فراقی کی چشمک سے بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ولی نے فراقی کے ایک مصرعے کی تضمین بھی کی تھی۔ اگر ولی کا انتقال 1707 میں مانا جائے تو اس وقت فراقی کی عمر بہت کم تھی۔ فراقی کا سنہ پیدائش 1685 عیسوی ہے۔ اگر ولی نے فراقی سے متعلق اشعار دو ایک سال قبل بھی کہے ہوں تو قرین قیاس نہیں وہ سترہ اٹھارہ سال کے لڑکے کے مصرعے پر تضمین کہیں گے اور مجادلہ بھی کریں گے     ؎

ولی مصرع فراقی کا پڑھوں، تب کہ وہ ظالم

کمر سوں کھینچتا خنجر، چڑھاتا آستیں آوے

یہ شعر ولی اور فراقی کی چشمک کے ذیل میں نقل کیا جاتا رہا ہے     ؎

ترے اشعار ایسے نئیں فراقی

کہ جس پر رشک آوے گا ولی کوں

فراقی نے اپنی مثنوی ’مراۃ الحشر‘(1720) میں نصرتی اور حسن شوقی جیسے شعرا کا ذکر بطور مرحوم کیا ہے۔ لیکن ولی کا ذکر نہیں کیا۔ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ولی اس وقت تک زندہ تھے۔ وجدی 1731 میں اپنی مثنوی ’مخزنِ عشق‘ میں ولی کا ذکر مرحوم شعرا کے ساتھ کرتا ہے     ؎   

ولی کے وصف جے بولوں سو تھوڑا

کہاں اوس کے تلازم کوں ہے جوڑا

کہاں لگ شاعراں کے یوں گنوں نانو

خدا کی مغفرت ان پر اچھو چھاؤں

جمیل جالبی نے ’دیوانِ ولی‘ کے ایک قلمی نسخے کا بھی حوالہ دیا ہے جو 1725 کا مرقومہ ہے اس ولی محمد کے نام کے ساتھ مرحوم لکھا  ہوا ہے۔ اس طرح معلوم ہوتاہے کہ ولی کا انتقال 1720 کے بعد اور 1725 سے قبل ہوا۔ پروفیسر عبدالحق نے اپنے مرتبہ ’کلیات ولی‘ میں 1720 کو مرجح مانا ہے۔

بظاہر یہی صحیح معلوم ہوتا ہے کہ ولی کا انتقال 1720 کے بعد اور 1725 سے قبل ہوا۔

ولی کے دہلی کے سفر کے سلسلے میں بھی کافی متنازعہ بیانات ہیں۔ قائم کی اطلاع کے مطابق ولی نے دہلی کا سفر اور اورنگ زیب کے چوالیسویں سال جلوس میں کیا۔ اورنگ زیب کا انتقال 1707 میں ہوا جب وہ 49 سال حکومت کرچکا تھا۔ اس طرح چوالیسویں سال 1702 میں ہونا چاہیے۔ کچھ تذکروں میں ولی اور سید ابوالمعالی کا دہلی کا سفر 1112-13 ہجری میں ہوا۔ اس طرح بھی سنہ 1702 ہی ہوتا ہے لیکن نہ جانے کیوں عام طو رسے ولی کے دہلی کا سفر 1700 مانا گیا ہے۔ جمیل جالبی کے مطابق ولی 1700 میں ابوالمعالی کے ہمراہ دہلی کے سفر پر روانہ ہوا۔ کئی تذکروں کے مطابق ولی نے دو بار دہلی کا سفر کیا۔ دراصل دوسرے سفر کی غلط فہمی مصحفی کے ایک بیان سے پیدا ہوئی۔ مصحفی نے ’تذکرۂ ہندی‘ میں کہ ولی کا دیوان محمد شاہ کے جلوس کے دوسرے سال میں دلی پہنچا۔ اگرچہ مصحفی نے شاہ حاتم کا حوالہ دیا ہے لیکن مصحفی کی بات کا یہ مطلب عام طور سے لیا گیا کہ ولی دوسری بار بھی دلی گیا تھا۔ دلی کے دوسرے سفر کی تائید میں یہ شعر بھی پیش کیا گیا      ؎

دل ولی کا لے لیا دلی نے چھین

جا کہو کوئی محمد شاہ ہوں

یہ شعر ولی کی کلیات میں موجود نہیں ہے بلکہ مضمون کا ہے۔ تذکرہ ’گلشن گفتار‘ اور ’چمنستانِ شعرا‘ میںاس کی قرأت یہ ہے      ؎

اس گدا کا دل لیا دلی نے چھین

جا کہو کوئی محمد شاہ سوں

اب ولی کے دوسرے سفر دہلی کی بات غلط ثابت ہوچکی ہے۔

ولی کا اوّلین سفر اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ میراور قائم نے اپنے تذکروں میں اس سفر میں شاہ گلشن سے ولی کی ملاقات اور شاہ گلشن کی ریختہ سے متعلق رہنمائی کا ذکر کیا ہے۔ قائم سے ایک شعر بھی شاہ گلشن سے منسوب کیا ہے جو بطور ہدایت نامہ شاہ گلشن نے ولی کو سنایا تھا۔ قائم اور میر کے تذکروں میں یہ احوال مختصر ہے۔ لیکن قائم کے تذکرے ’مخزن نکات‘ کا محسن لکھنوی کا ترجمہ کردہ ’مخزن نکات‘ اردو میں کچھ زیادہ تفصیل دی گئی ہے۔ محسن نے اپنے ترجمے میں کافی اضافے بھی کیے ہیں۔

’ولی تخلص، شاہ ولی اللہ نام شاعر معروف و مشہور صاحب دیوان مولدان کا بلدہ گجرات، حضرت شاہ وجیہ الدین گجراتی کہ اولیا مشاہیر اس بلاد کے ہیں، انھوں نے اپنی فرزندی میں لیا تھا۔ یہ  امر بھی موجب افتخار اور شہرت کا تھا۔ چوالیس برس کے سِن میں ہمراہ میر ابوالمعالی کہ ان پر عاشق تھے۔ عہد حضرت عالمگیر میں بادشاہ غازی تھا کہ شاہجہاں آباد میں تشریف لائے۔ شعر فارسی کہا کرتے تھے اور شعرائے فارسی گو میں کچھ شمار نہ تھا۔ جب ملازمت حضرت شاہ گلشن قدس سرہٗ کی حاصل ہوئی، شاہ ممدوح نے فرمایا کہ شعر ریختہ کہا کرو اور یہ مطلع خود موزوں فرما کے عنایت فرمایا۔ مطلع یہ ہے      ؎

خوبی اعجاز حسن یار گر انشا کروں

بے تکلف صفحہ کاغذ ید بیضا کروں

ان کے ارشاد فرمانے سے یہ برکت ہوئی کہ ولی نے ایسا ریختہ کہا کہ سب معاصرین کو جائے حسد ہوئی اور ولی نے زبان دکن کو ترک کرکے، جو زبان اس وقت شاہجہاں آباد میں رائج تھی اس میں ریختہ کہنا شروع کیا۔ ایسا ریختہ فصاحت و بلاغت سے کہا کہ صدہا شخص کو ریختہ گوئی کی ہوس ہوئی اور ایسے مشہور ہوئے کہ موجود ریختہ ولی مشہور ہیں اور حقیقت میں جو زبان شعرا طبقہ دوم کی ہے ان میں ولی اس طرز کے موجد ہیں۔‘‘ (مخطوطہ رام پور، ص 62، بحوالہ اردو شعرا کے تذکرے)

دراصل ولی کو شاہ گلشن کا مشورہ اور اس پر ولی کا فوری عمل درآمد اور پھر چہار دانگ میں مشہور ہوجانا، شمالی ہند کے شعرا اور ناقدین کے احساس برتری کا نتیجہ ہے۔ شاہ گلشن کے آبا، احمد آباد کے ساکن تھے۔ اکبر کے عہد میں ان کا خاندان برہانپور ہجرت کرگیا۔ شاہ گلشن  اپنی زندگی میں کم ازکم ایک بار احمد آباد گئے۔ ولی کے برہانپور کے سفر کی روداد بھی دستیاب ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ شاہ گلشن نے یہ مشورہ احمد آباد یا برہانپور میں کیوںنہیں دیا جب کہ اندازہ ہے کہ ولی کی ملاقات شاہ گلشن سے برہانپور میں ضرور ہوئی ہوگی۔ بعد میں شاہ گلشن نے دہلی کو اپنا وطن بنا لیا۔

لیکن رائج کہانی کے مطابق ولی دہلی آئے اور شاہ گلشن سے ملاقا ت کی۔ شاہ گلشن سے ریختہ گوئی کا مشورہ دیا اور فارسی مضامین پر بھی ہاتھ صاف کرنے کی ہدایت کی۔ بقول میر یہ بھی کہا کہ تم سے کون محاسبہ کرنے والا ہے۔ اس کہانی کی بنیاد سعداللہ گلشن سے منسوب جس شعر پر رکھی ہوئی ہے وہ شعر سعداللہ گلشن کا نہیں بلکہ ولی کا ہی شعر ہے اور ولی کی کلیات، مرتبہ عبدالحق میں ص 257 پر موجود ہے یہ مطلع       ؎

خوبی اعجاز حسن یار گر انشا کروں

بے تکلف صفحہ کاغذ ید بیضا کروں

اسی غزل کے دو شعر مزید دیکھیے جو خاص ولی کے رنگ میں ہیں       ؎

جیوں نسیم اب لگ سبک روئی مجھے حاصل نہیں

کس طرح اس غنچہ بند قبا کوں وا کروں

کیا کہوں اس قد کی خوبی سرو عریاں کے حضور

خود بخود رسوا ہے اس کو پھر کے کیا رسوا کروں

قائم نے نہ صرف یہ شعر سعداللہ گلشن سے منسوب کیا بلکہ یہ بھی لکھا کہ سعداللہ گلشن کی ہدایت سے قبل ولی ریختہ میں شاعری نہیں کرتے تھے بلکہ ابوالمعالی کی تعریف میں ایک دو فارسی شعر کہہ لیا کرتے تھے۔

ولی کی آمد دہلی کے وقت قائم اور میر پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ اس لیے ہم مان سکتے ہیں کہ دونوں نے سنی سنائی باتوں پر یقین کیا ہے۔ قائم کا تذکرہ ولی کی آمد کے کم ازکم پچاس سال بعد مکمل ہوا۔ اگر یہ غیریقینی بات فرض کرلی جائے کہ قائم نے ولی کا ترجمہ تذکرہ شروع کرتے ہی لکچر دیا تھا تب بھی ولی کی آمد اور تذکرے میں ان کے ذکر میں پینتالیس سال کا فصل ہے۔ اس وقت نہ سعداللہ گلشن حیات تھے نہ ولی۔ ظاہر ہے کہ یہ روایت دہلی شہر میں مشہور ہوگی جو قائم نے تذکرے کی زینت بنا دی۔ قائم کے مطابق اس وقت تک فارسی میں ایک دو شعر کہہ لیتے تھے۔ میاں گلشن جس کی برکت سے ان پر ریختہ کے دروازے وا ہوگئے۔

اگر اس وقت تک ولی ریختہ میں شاعری نہ کرتے تھے تو ان کے سفر دہلی کا مقصد کیا تھا؟ ولی کی شاعرانہ چشمکوں سے ہمیں معلوم ہے کہ ولی دہلی آنے سے بہت قبل ریختہ میں شاعری کررہے تھے۔ ولی نے ایسے کئی شعرا سے مقابلہ آرائی کی جن کا انتقال 1700 سے کافی پہلے ہوچکا تھا۔ ناصر علی سرہندی، فارسی کے بڑے شاعر تھے جن کا انتقال 1696 میں ہوا۔ ولی نے ایک شعر میں ناصر کو چیلنج کیا ہے      ؎

پڑے سن کر اچھل جیوں مصرع برق

اگر مصرع لکھوں ناصر علی کوں

یہ بات قرین قیاس نہیں ہے کہ میاں گلشن کے مشورے سے ولی کی شاعری کی زبان تبدیل ہوگئی اور ولی کو راتوں رات بے پناہ شہرت حاصل ہوگئی۔ حالانکہ اس روایت بلکہ افواہ پر اکثر محققین بھی یقین کرتے ہیں۔ اس روایت کو تذکرہ نگاروں نے جزوی اختلاف کے ساتھ بیان کیا ہے۔ میر سمجھتے ہیں شاہ گلشن نے ولی کو مشورہ دیا کہ ریختہ میں فارسی شاعری کے مضامین نظم کرو۔ تم سے کون محاسبہ کرے گا۔ قدرت اللہ قاسم کے مطابق شاہ گلشن نے دکنی لہجہ چھوڑ کر دہلی کی اردوئے معلی کو اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ محمد حسین آزاد نے حسب معمول اور حسب عادت اس کہانی میں مزید گڑ شکر ملایا۔ آزاد نے لکھا کہ اس زمانے تک اردو میں متفرق شعر ہوتے تھے۔ ولی اللہ کی برکت نے اسے وہ زور بخشا کہ آج کی شاعری نظم فارسی سے ایک قدم پیچھے نہیں۔ تمام بحریں فارسی کی اردو میں لائے۔ شعر کو غزل اور غزل کو قافیہ ردیف سے سجایا۔ آزاد بھی قائم کی بات دہرا رہے ہیں کہ اس زمانے اردو میں غزلیں نہیں ہوتی تھیں بلکہ متفرق اشعار ہوتے تھے۔ ظاہر ہے آزاد کے مطابق ولی غزل نہیں کہتے تھے؟

آزاد نے اپنی عادت کے مطابق ولی کو شاہ گلشن کا شاگرد ہی نہیں قرار دیا بلکہ یہ بھی فرمایا کہ ان کی علمی تحصیل کا حال اندھیرے میں ہے کیونکہ اس عہد کی خاندانی تعلیم اور بزرگوں کی صحبت میں ایک تاثیر تھی کہ تھوڑی نوشت خواند کی لیاقت بھی استعداد کا پردہ نہ کھلنے دیتی تھی۔ چنانچہ ان کے اشعار سے معلوم ہوگا کہ وہ قواعد و عروض کی زبان عربی سے ناواقف تھے۔ پھر بھی کلام کہتا ہے کہ ان کی فارسی کی استعداد درست تھی۔

یہ آزاد کا خاص انداز ہے۔ بظاہر تعریف لیکن دراصل بخیے ادھیڑتے ہیں۔ وہ ولی کی فارسی استعداد سے تو انکار نہیں کرسکتے تھے کیونکہ قائم ہی لکھ گئے تھے کہ فارسی میں شعر کہتے تھے، لیکن آزاد یہ کہنا نہیں بھولے کہ قواعد و عروض اور عربی سے ناواقف تھے۔ اگر ولی کا کلام دیکھیں تو عربی کے اتنے حوالے ان کی شاعری میں ملتے ہیں جتنے شاید مکمل اردو شاعری کی تاریخ میں نہیں ملیں گے۔ آزاد آگے یہ بھی لکھتے ہیں کہ ولی علم میں درجہ فضیلت نہ رکھتے تھے یہ سب کچھ علما کی صحبت کی برکت ہے۔ اس کے بعد سعداللہ گلشن کے مشورے سے دیوان مرتب کرنے کی وہی کہانی دہرائی ہے جو سو سال سے سنائی جارہی تھی۔ آزاد نے اپنے مخصوص انداز میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ولی کے پاس جو بھی کچھ ہے  وہ سعداللہ گلشن کا عطا کیا ہوا ہے۔ ورنہ نہ ان کے پاس علم تھا، قواعد و عروض کی واقفیت بھی نہ تھی۔ میاں گلشن سے ملاقات سے  قبل متفرق شعر کہہ لیتے ہوں تو کہہ لیتے ہوں، غزل کہنا ولی کے بس سے باہر تھا۔

رام بابو سکسینہ نے بھی ’تاریخ ادب اردو‘ میں گذشتہ تذکروں کی کہانی ہی دہرائی ہے۔ وہ ولی کے نام، مولد اور سال وفات پر بحث کرتے ہیں اور ’تذکرہ شعرائے دکن‘ کے حوالے سے سال وفات 1742 قرار دیتے ہیں جو ثابت ہوچکا ہے کہ غلط ہے۔

ولی کے ضمن میں میر کی ایمانداری اس وقت مشکوک ہوجاتی ہے جب وہ اپنے تذکرے میں ’ولی شاعریست از شیطان مشہور تر‘  لکھتے ہیں۔ میر کے موجودہ تذکرے میں یہ جملے موجود نہیں ہیں لیکن یہ بات پایۂ ثبوت تک پہنچ چکی ہے کہ میر کے تذکرے ’نکات الشعرا‘ کے بہت سے نسخے معدوم ہوگئے ہیں جن کی فرمان فتح پوری نے نشاندہی کی ہے۔ قاضی فائق کا تذکرہ ’مخزن شعرا‘ اس لحاظ سے قابل ذکر ہے جس میں پہلی بار ولی کے گجراتی یا دکنی ہونے کی بحث کی گئی ہے۔

صفا بدایونی کا تذکرہ ’شمیم سخن’ بھی اہم تذکرہ ہے۔ اس تذکرے سے بہت سی ایسی باتوں کا علم ہوتا ہے جو بعد میں آزاد اور حالی سے منسوب ہوئیں۔ صفا بدایونی نے  ولی کے کلام کی پختگی ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انھیں ریختہ کا موجد کہا جاسکتا ہے۔ نورالحسن نے ’طور کلیم‘ میں ولی سے متاثر شعرا شاکر ناجی، حاتم اور آبر وکی لسانی خدمات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔

امر الہ آبادی، ڈاکٹر صادق اور شمس الرحمن فاروقی ولی اور سعداللہ گلشن کی ملاقات پر تو یقین کرتے ہیں لیکن یہاں گلشن کی ہدایت اور ولی کی فوری عمل درآمد پر یقین نہیں کرتے۔ فاروقی صاحب کا خیال ہے کہ دہلی کے مرزایان کو یہ بات برداشت نہیں تھی کہ کوئی علاقہ غیر کا باسی ان کی شاعری کے لیے مشعل راہ بنے اسی لیے اس کہانی کو ہوا دی گئی۔ ڈاکٹر صادق اس کو دہلی کے نقادوں کی اختراع کہتے ہیں جنھوں نے دکن کے مقابلے میں اپنے شہر کو اہمیت دینے کی کوشش میں یہ نظریہ پیش کیا۔

کسی تخلیق  کار کے لیے ممکن نہیںہے کہ وہ یکایک اپنی تخلیقی زبان کو مکمل طور سے تبدیل کردے۔ ولی کی شاعری دراصل ان کے علاقے کے سامعین یا قارئین کے لیے تھی، دہلی والوں کے لیے نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ دہلی والو ںکے لیے مینارہ نور بنی۔ ولی کی زبان، اورنگ آباد اور اس کے نواح کی زبان ہے۔ محمد تغلق کا دارالسلطنت تبدیل کرنا اور وہ بھی اس طرح کہ دہلی میں ایک انسان بھی موجود نہ رہے۔ یقینا دیوگری کے علاقے میں ایک لسانی انقلاب کا باعث رہا ہوگا۔ سارا دہلی اس علاقے میں منتقل ہوا تو زبان بھی ساتھ ہی گئی ہوگی۔

ولی کی زبان کو سمجھنے کے لیے اورنگ آباد کے نواحی علاقوں کی سماجیات کو سمجھنا ضروری ہے۔ اورنگ آباد کو اورنگ زیب کے زمانے میں غیرمعمولی اہمیت حاصل ہوگئی تھی۔ اورنگ زیب نے اپنی زندگی کے پچیس سال اسی علاقے میں گزارے۔ اورنگ آباد کو شاہجہاں کے عہد میں ہی دکنی صوبے کے صدر مقام کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔ دکنی زبان ان ہی سیاسی وجوہات کی بنا پر پس پشت جاپڑی تھی۔ شمالی ہند کے لاتعداد شہری اور لاکھوں خوجی اس علاقے میں مقیم تھے جن کی زبان دہلوی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ دکن میں ایک نئی لسانی شکل تخلیق ہورہی تھی۔ ولی کی خوبی یہ ہے کہ زیرتعمیر لسانی سانچوں کو شاعری کے لیے بہتر ترین ذریعہ سمجھا۔ ولی کی دہلی آمد کا مطلب دہلی والوں سے زبان کا علم حاصل کرنا اور ریختہ کی ابجد سیکھنا نہیں تھا بلکہ دہلی والوں کو اردو شاعری کا بہترین نمونہ دکھانا تھا     ؎

دیکھو اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا

ولی کی تخلیقی ہنرمندی کا راز اس دوراندیشی میں پنہاں ہے کہ اس نے آئندہ زبانوں کی آہٹوں کو بہت پہلے سن لیا۔ سعداللہ گلشن جیسے بزرگ سے ولی کی عقیدت ہوسکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ولی اور سعداللہ گلشن کی ملاقات پہلے بھی برہانپور میں ہوچکی تھی۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہاں سعداللہ گلشن نے بھی برہانپور میں یہ ہدایت نہ فرمائی بلکہ دہلی کی ملاقات کے لیے رکھ چھوڑا اور یہ ہدایت بھی کسی دہلی کے شاعر کو نہیں دی۔ دراصل دکن کی روایتی شاعری کا منبع عورت تھی۔ اسی شعری روایت اور نئے لسانی شعور سے ولی کی غزل کا خمیر اٹھا جس نے اردو شاعری کے روبرو ایک قابل تقلید نمونہ پیش کیا۔

ولی اور ریختہ گوئی

ولی کی ریختہ گوئی کے اثرات بہت ہمہ گیر ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ریختہ گوئی کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ مرزا مظہر جانجاناں نے اردو میں غزل کہی تو ان کے شاگر دخاص عبدالحئی تاباں نے کہا حضور یہ زبان آپ کے قابل نہیں ہے۔ بازاروں اور سڑکوں کی دوکان ہے۔ آپ تو فارسی میں ہی کہا کیجیے۔ اس ماحول میں ولی کے کلام نے خوداعتمادی  پیدا کی اور ریختہ گوئی کے لیے سازگار ماحول بنایا۔ ایسے شعرا کی فہرست بہت طویل ہے جنھوں نے ولی کے چراغ سے اپنا چراغ جلایا  لیکن اعتراف بہت کم لوگوں نے کیا۔ نورالحسن ہاشمی نے منعم اور مبتلا کی خاص طور سے نشاندہی کی ہے۔ مبتلا کا قلمی نسخہ لکھنؤ یونیورسٹی کی لائبریری میں موجود ہے۔ منعم، قائم چاندپوری کے بڑے بھائی تھے ان کا ذکر میر حسن نے اپنے تذکرے سے بھی برادر بزرگ میاں محمد قائم کے بطور کیا ہے۔ ان کا دیوان ضائع ہوگیا ہے۔

حاتم نے ’دیوان زادہ‘ میں اعتراف کیا کہ وہ ریختہ میں ولی کے مقلد ہیں       ؎

حاتم بھی اپنے دل کی تسلی کو کم نہیں

گرچہ ولی ولی ہے جہاں میں سخن کے بیج

دلی کے اکثر شعرا نے ولی کے اثرات تو قبول کیے لیکن ولی سے ہمسری کا دعویٰ بھی کیا۔

آبرو شعر ہے ترا اعجاز

جوں ولی کا سخن کرامت ہے

 

(آبرو)

شاکر ناجی تو ولی کو للکارتے نظر آتے ہیں       ؎

جو قبرستاں میں کوئی شعر ناجی کاپڑھے جاکر

کفن کو چاک کر کر آفریں کہتا ولی نکلے

ایسی للکاروں اور عدم اعتراف کے باوجود دہلی کی اردو غزل ولی کے اثرات سے آزاد نہیں ہے۔ ناجی کا ہی ایک اور شعر ہے     ؎

ناجی کے حرف حرف میں عرفاں ہے جلوہ گر

استاد بیت بیت مصور ولی کی ہے

فائز نے بھی ولی کی متعدد زمینوں میں غزلیں کہیں۔

ولی کا مطلع ہے       ؎

وہ نازنیں ادائیں اعجاز ہے سراپا

خوبی میں گل رخاں سوں ممتاز ہے سراپا

فائز کی اسی کا مطلع ہے    ؎

خوباں کے بیچ جانا ممتاز ہے سراپا

انداز دلبری میں اعجاز ہے سراپا

فائز نے ولی کے دونوں قوافی ہی نظم کردیے ہیں۔

آبرو کے ایک شاگرد عبدالوہاب یکرو کا ذکر غزل کی تاریخ میں بہت کم ملتا ہے بلکہ نہیں ملتا۔ پروفیسر عبدالحق نے ’کلیاتِ ولی‘ کے دیباچے میں یکرو کے کلام پر ولی کے واضح اثرات کی نشاندہی کی ہے۔

ولی کے کلام میں یقینا کچھ ایسے معجزاتی اشعار تو موجود ہیں ہی جن کا جواب آج تک ممکن نہیں ہوسکا جیسے     ؎

ولی اس گوہر کان حیا کی کیا کہوں خوبی

مرے گھر اس طرح آوے ہے جیوں سینے میں راز آوے

زندگی دم عیش ہے لیکن

فائدہ کیا اگر مدام نہیں

دشمن دیں کا دین دشمن ہے

راہ زن کا چراغ دشمن ہے

دروادی حقیقت، جن نے قدم رکھا ہے

اول قدم ہے اس کا عشق مجاز کرنا

تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا

جادو ہیں ترے نین غزالاں سوں کہوں گا

پک نقطہ ترے صفحہ رخ پر نہیں بے جا

اس مکھ کو ترے صفحہ قرآں سوں کہوں گا

تجھ لب کی اگر یاد میں تصنیف کروں شعر

ہر شعر منیں لذت شہد و شکر آوے

کیا مجھ عشق نے ظالم کوں آب آہستہ آہستہ

کہ آتش گل کوں کرتی ہے گلاب آہستہ آہستہ

ادا و ناز سوں آتا ہے وہ روشن جبیں گھرسوں

کہ جیوں مشرق سے نکلے آفتاب آہستہ آہستہ

عجب کچھ لطف رکھتا ہے شب خلوت میں گل روسوں

خطاب آہستہ آہستہ جواب آہستہ آہستہ

ممکن ہے آج کے قاری کو بعض اشعار میں وہ شکوہ نظر نہ آئے لیکن جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ولی کے روبرو ایسی شاعری کی کوئی نظیر موجود نہیں تھی تو ان اشعار کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔

ولی کی اولیت یہی نہیں ہے کہ اس نے شمال اور جنوبی ہند کی لسانی روایت کو ہم آہنگ کرکے آئندہ شعرا کے لیے ایک ہموار راہ کی تعمیر کی بلکہ اپنی غزل میں صنعت تلمیح، غربی فارسی الفاظ کے ملغوبے سے ایک نئی زبان تشکیل بھی دی۔ مصرعوں میں معکوسی دروبست کا التزام کرکے نیا آہنگ پیدا کیا۔ دو غزلوں کے اشعار دیکھیے جن میں تکرار و تواتر سے ایک خوشگوار کیفیت کی بنا ڈالی      ؎

مج کوں ہے دارلامن پیو کا نقش چرن

پیو کا نقش چرن مج کوں ہے دارالامن

پیو کا شیریں بچن مج کوں ہے آبِ حیات

مج کوں ہے آبِ حیات پیو کا شیریں لحن

دستۂ گل ہے سجن سن یو سخن اے ولی

سن یو سخن اے ولی، دستہ گل ہے سجن

ولی کی غزل ہمیشہ سے ہی ہمارے نقادوں کا تختہ مشق رہی ہے۔ جمیل جالبی نے ولی کی غزل میں شائستگی اور علمیت تلاش کی جب کہ نصرتی کے یہاں، ندیدہ پن اور بھوک ہے۔ ولی کے یہاں ایک مردانہ آواز بھی جمیل جالبی کو سنائی دی۔ وزیرآغا کو ولی کی شاعری میں بت پرستی دکھائی دی۔ سید عبداللہ کو ولی کے کلام میں جذب و سرور اور شوق و نشاط کی لہر دوڑتی نظر آئی۔ سیدعبداللہ کا یہ بھی خیال ہے کہ ولی کی شاعری میں فلسفیانہ مضامین نہیں ہیں۔ کائنات کے اسرار اور زندگی کے رموز سے متعلق بہت کم مواد ملتا ہے۔ سید عبداللہ نے یہ بھی فارمولا دیا کہ جن اشعار میں غم انگیزی، مہجوری اور حسرت ہے وہ الحاقی کلام ہے۔ اس کلام کو ولی کے دیوان سے خارج کیا جانا چاہیے۔ اب وہ اشعار بھی دیکھتے چلیں، جن میں مردانگی اور بت پرستی وغیرہ نظر آئی ہے    ؎

نہ جانوں خط ترا کس بے خطا پر

چلا ہے آج فوج شام لے کر

لب پہ دلبر کے جلوہ گر ہے جو خال

حوض کوثر پہ جیوں کھڑا ہے بلال

مجھ مکھ کی پرستش میں گئی عمر مری ساری

اے بت کی پجن ہاری اس بت کو پجاتی جا

ولی کے عشق پر بہت خیال آرائیاں کی گئی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ولی کی شاعری سے جس عشق کی تصویر ہمارے روبرو آتی ہے یہ عشق کا وہی تصور ہے جو صدیوں سے فارسی شاعری کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے۔ اس عشق میں ہندی اور دکنی شاعری سے مستعار عورت بھی ہے فارسی شاعری کا تھوڑا بہت ہم جنسی رجحان بھی ہے۔

ایہام گوئی: ولی کے کلام میں پہلی بار ہمیں ایہام گوئی بھی ملتی ہے۔ ایہام گوئی پر بہت بحث و مباحثہ ہوچکا ہے لیکن اس طرف کسی کی نظر نہیں گئی کہ اردو میں ایہام گوئی کے موجد ولی ہیں۔ ولی کا دیوان دہلی آنے کے بعد دہلی کے شعرا نے ایہام گوئی کو اپنایا۔ یہاں یہ مقصد نہیں ہے کہ ایہام گوئی کی تجلیل کی جائے یا ایہام گوئی کو کسی طاق بلند پر جگہ دی جائے لیکن ابتدا کا سہرا ولی کے سر ہے     ؎

خودی سے اولاً خالی ہو اے دل

اگر اس شمع روشن کی لگن ہے

طمع مال کی سربسر عیب ہے

خیالات گنج جہاں سر سے ٹال

مجھ کو پہنچی ہے آرسی سے یہ بات

صاف دل وقت کا سکندر ہے

بھروسا نہیں دولت تیز کا

عجب نئیں کہ تا ظہر آوے زوال

جودھا جگت کے کیوں نہ ڈریں تجھ سے اے صنم

ترکش میں تجھ نین کے ہیں ارجن کے بان آج

کیا وفادار ہیں کہ ملنے میں

دل سوں سب رام رام کرتے ہیں

گرچہ لچھمن ترا ہے رام ولے

اسے سجن تو کسی کا رام نہیں

اے ولی  گل بدن کو باغ میں دیکھ

دل صد چاک باغ باغ ہوا

غزل میں خطاطی کی اصطلاحات: ولی نے غزل میں اپنے محبوب کی ایسی محاکاتی صورت گری کی ہے کہ آج تک اردو شاعری میں مثال ناپید ہے۔ ان کے ذہن کی دراکی ملاحظہ کیجیے کہ تشبیہات و استعارات کی تلاش میں کہاں کہاں پہنچتا ہے۔ اس سلسلے میں ولی نے کوئی حدبندی تسلیم نہیں کی اور ہندوستانی ثقافت اور تمدن کا ہر رنگ غزل میں سجا دیا۔ ایسے لاتعداد ہندی الفاظ، جو اس زمانے کے تلفظ کے ساتھ عصری ہندی میں بھی مفقود ہیں وہ ولی نے بے محابا استعمال کیے     ؎

ہوئے ہیں رام پیتم کے نین آہستہ آہستہ

کہ جیوں پھاندے میں آتے ہیں ہرن آہستہ آہستہ

کشن کی گوپیاں کی نہیں ہے یہ نسل

رہیں سب گوپیاں، وہ نقل یہ اصل

رات دن انچھوا میں اپنے شاستر کرتا ہے تر

اے برہمن دیکھ تجھ کو بید خواں مجنوں ہوا

اس کے خد و خال کی پوچھو خبر

پوچھتا ہندو ہے باتاں بید کی

زلف تیری ہے موج جمنا کی

پاس تل اس کے جوں سناسی ہے

کوچہ یار عین کاسی ہے

جوگی دل وہاں کا باسی ہے

اے صنم تجھ جبین اُپر یہ خال

ہندوئے ہر دوار باسی ہے

محبوب کے چہرے کو مصحف کہنا قدیم روایت ہے۔ ولی نے مصحف پر ہی قناعت نہیں کی بلکہ مشہور خطاط کو بھی اس عمل میں شامل کرلیا۔ چہرے کی تصویر کشی میں مسطر اور بیاض تک کا ذکر آگیا      ؎

کاف کوفی ہے تج کمر کی بیج

تج دہن نے کہ میم معنی ہے

ہر شعر سوں ولی کے عزیزاں بیاض میں

مسطر کے خط کو رشتہ سلک گہر کرو

ایک شعر میں میر علی یاقوت رقم کا حوالہ دیا ہے     ؎

یاقوت کو ہے قوت ترے خط کی محبت

ہے دل میں غبار اس کے سبب میر علی کوں

اس ایک شعر میں بھی ولی سے یاقوت، قوت، خط، غبار (خط غبار) اور میرعلی کا ذکر کردیا ہے۔

کہیں کہیں ولی نے اپنے تخلص سے بھی خوب فائدہ اٹھایا ہے     ؎

باغ ارم سوں بہتر موہن تری گلی ہے

ساکن تری گلی کا ہر آن میں ولی ہے

حج کوں کہا سجن نے لاؤں گا بندگی میں

زمرے میں شاعراں کے ہر چند تو ولی ہے

خاموش گر رہا ہے ولی تو عجب نہیں

غواص کا ہمیشہ خموشی کمال ہے

ولی ہر کوتی نہیں ہے قابل فیض اللہ

عارفاں کو حق نے بخشا ہے جہاں میں یو متاع

ولی کو نہیں آرزو مال کی

خدا دوست نئیں دیکھتے زر طرف

ولی کا اجتہاد یہ ہے کہ فارسی شاعری کی روایت کے علی الرغم غزل کا محبوب سنسکرت اور ہندی کے محبوب کی طرح مونث بھی ہے۔ ہندی شاعری اور دکنی شاعری نے ولی کے ذہن کو ایسی وسعت عطا کردی تھی، اگرچہ اتنی تفریق کا التزام رکھا گیا ہے کہ سنسکرت اور ہندی شاعری میں اظہار عشق عورت کی طرف ہے۔ یہاں یہ حق ولی نے اپنے لیے ہی محفوظ رکھا ہے     ؎

مت آتش غفلت سوں میرے کوں جلاتی جا

مشتاق درس کا ہوں یک درس دکھاتی جا

مت غصے کے شعلوں سوں جلتے کو جلاتی جا

ٹک مہر کے پانی سوں یہ آگ بجھاتی جا

تجھ نین کے شہ سوار سوں لڑ کون سکے گا

بن نیند ان انکھیاں کو پکڑ کون سکے گا

سرج ہے شعلہ، تری اگن کا جو کہ فلک پر جھلک لیا ہے

نمک نے اپنے نمک کو کھو کر ترے نمک سوں نمک لیا ہے

ولی کی غزل سے لاتعداد حوالے دیے جاسکتے ہیں۔ جہاں وہ عورت کی خوبصورتی، نزاکت اور دلبری کا ذکر کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صادق نے لکھا ہے کہ ولی اپنے جذبہ عشق میں مذکر اور مونث۔ دونوں جنسوں میں برابر دلچسپی لیتا ہے، محبت اس کے لیے نہایت دلچسپ مشغلہ ہے۔

دراصل وہ ولی نہیں ہے جو دونوں جنسوں میں دلچسپی لیتا ہے بلکہ ولی کی غزل کا عاشق ہے۔ اس بدعت کی ابتدا تذکروں سے ہوئی جہاں دہلی کے تمام تذکرہ نگاروں نے ابوالمعالی کو بطور معشوق پیش کیا۔ اس عہد میں دہلی کا ماحول یہی تھا۔ ہم جنسیت عروج پر تھی۔ ’مرقع دہلی‘ میں درگاہ قلی خاں نے لاتعداد امردوں کا تعارف کرایا ہے۔ دو اہم تذکرہ نگاروں میر اور قائم کی اپنی غزل میں ہم جنسیت کے لاتعداد اشعار موجود ہیں لیکن کسی نے اپنی ہم جنس پرستی تسلیم نہیں کی۔ ہم جنسیت کے اشعار تو سعدی اور حافظ کی غزل میں بھی مل جاتے ہیں۔

اے دل عشاق بہ دام توصید

ما بتو مشغول، تو بہ عمرو زید

 

(سعدی)

حافظ نے ’بخال ہندوش بخشم ثمرقند و بخارا را‘ کہہ کر انتہا کردی۔ ولی جو فارسی شاعری سے اتنا ہی اکتساب فیض کرتے ہیں جتنا ہندوستانی تہذیب اور ہندی شاعری سے خوشہ چینی کرتے ہیں۔ تو یہ رنگ ان کے یہاں بھی نظر آتا ہے۔ ولی کی غزل میں جہاں مرد یامردانہ اوصاف نظر آتے ہیں، وہ ہر جگہ امردپسندی نہیں ہے۔ بلکہ اپنے دوستوں کے لیے بھی تحسینی اشعار کہے ہیں     ؎

خوش لباسی کی کیا کروں تعریف

وضع میں میرزا ہے امرت لعل

خوباں حیا سوں غرق عرق ہوں کیا عجب

جس وقت جلوہ گر ہو جمال گو بند لال

کر اس دعا ورد زبان اے ولی مدام

لطف خدا ہو شامل حالِ گو بند لال

کیوں نہ ہووے عشق سوں آباد سب ہندوستاں

حسن کی دہلی کا صوبہ ہے محمد یارخاں

پیچ و تاب بیدلاں اس وقت پر بے جا نہیں

لٹ پٹی دستار سوں آتا ہے وہ نازک میاں

شبنم عرق کا جب اڑا افلاک کا تارا ہوا

مجھ نین کے یعقوب کی نظارہ بازی پیر تھی

جگ کے دل اے برہمن کانپتے ہیں مثل بید

جب سے یہ ہندوئے خال دشمن ایماں ہوا

ولی کی غزل کا محبوب، خواہ مذکر ہو یا مونث ایک خاص چھب کے ساتھ نظر آتا ہے اور جھلک دکھا کر غائب ہوجاتا ہے۔ ولی کی عشقیہ شاعری میں تنوع ہے، دلکشی ہے لیکن دنیا کے دیگر تجربات کی طرح صرف ایک تجربہ ہے۔ جب محبوب غزل سے رخصت  لیتا ہے تو ولی اس کا تعاقب نہیں کرتے بلکہ دوسرے مکروہات دنیوی کی طرف رجوع کرلیتے ہیں۔ زندگی کی تمام محرومیاں، معصومیاں، راحتیں، لذتیں اور کلفتیں ولی کے تجربات کا حصہ ہیں، انھیں یہ عرفان  بہت پہلے ہوگیا تھا کہ اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا     ؎

مفلسی سب بہار کھوتی ہے

مرد کا اعتبار کھوتی ہے

ہر طرف ہنگامہ اجلاف ہے

مت کسو سوں مل اگر اشراف ہے

مجھ کو شفیع محشر و دین پناہ بس ہے

شرمندگی ہماری عذر گناہ بس ہے

جسے عشق کا تیر کاری لگے

اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے

آرسی دیکھ کر نہ ہو مغرور

خودنمائی نہ کر خدا سوں ڈر

ولی کی شاعری میں دین و دنیا کے تمام کوائف ہیں لیکن یہ ولی کا اسلوب ہے کہ وہ ہر عمل، ہر لمحے کو معشوق کے ذریعے سمجھنے کی سعی کرتے ہیں      ؎

اے ولی غیر آستانہ یار

جبہ سائی نہ کر خدا سوں ڈر

دل چلا ہے عشق کا ہو جوہری

لب ترے لعل بدخشاں بوجھ کر

کر چاک گریباں کوں گلاں صحن چمن میں

آئے ہیں ترے شوق میں پردے سوں نکل کر

بنائی ہے جہاں میں لیلۃ القدر

سیاہی تجھ زلف کی دام لے کر

عجب نہیں جو کرے دل میں شیخ کے تاثیر

اگر مقدمہ عشق کو کروں تحریر

ہوں گرچہ خاکسار روئے از رہ ادب

دامن کو ترے ہاتھ لگایا نہیں ہنوز

ولی کی غزل میں ہندی شاعری کا ایک اثر صاف نظر آتا ہے کہ وہ نکھ شکھ ورنن کرتے ہیں۔ ان کی غزل میں زلف، پیشانی، بھوں، آنکھ، لب، منھ، چال اور قدم تک عضو عضو نظر آتا ہے جس کی فارسی شاعری میں بھی کوئی روایت نہیں۔ سیدعبداللہ نے ’جمال دوست حسن پرست ولی‘ میں لکھا ہے کہ ولی کے پچاس ہزار ساجن تھے۔ ولی کے سارے بزرگوں نے تو اس کو ہم جنس پرست ثابت کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ولی کی غزل میں صرف ایک ہی محبوب ہے جو نت نئے روپ بھر کر ولی سے خوش فعلیاں کرتا ہے   ؎

مہ جبیں پر لگائے کیوں ٹیکا

ماہ میں کام کیا ہے دیوے کا

دو چشم ہوئی چار ہوئی شوق کے دو ابروسیں

ولے نہیں دو دورنگی ہوا دوچار ہنور

تجھ زلف نے جو دائرے باندھے صفا رخسار پر

دیکھتے نہیں اس شان کا کوئی صاحب

نہ جانے کیا بلا لاوے گی اس کے کان سو لگ کر

بلائے جان مشتاقاں کہ جس کا ناتوں بالی ہے

چیتے کو کہاں دی ہے یہ باریک میانی

پائی ہے کہاں غنچے نے یہ تنگ دہانی

چلنے میں اسے چنچل باتی کو لجاوے توں

بیتاب کرے جگ کوں جب ناز سوں آوے توں

اس رین اندھری میں مت بھول پڑوں تس سوں

ٹک پاؤں کے جھانجھر کی آواز سناتی جا

گستاخ ہو کے منہدی ترے قدم لگی ہے

کس رنگ سوں کہوں میں اس بے ادب کی شوخی

ولی کی غزل میں اس کے محبوب کی جتنی واضح شکل نظر آتی ہے اردو شاعری میں فقیدالمثال ہے۔ حد یہ ہے کہ محبوب کے تمام زیورات کی تصویرکشی بھی کردی گئی ہے۔ آپ چاہیں تو اشعار کی مدد سے محبوب کی تصویر کینوس پر اتار لیں      ؎

دونوں بھواں سیانی ٹیکہ نہیں زری کا

ہے قوس کے برج میں جھنکار مشتری کا

مہ جبیں پر لگائے کیوں ٹیکا

ماہ میں کام کیا ہے دِیوے کا

ہنسلی تجھ گلے میں دیکھ کہتے ہیں

چاند سیں مکھ کا ہے یو ہالا

موہن ادھر رنگیں بدل کھایان مسی لائے ہیں

لب پر شفق اور شام کو ایک ٹھار کر دکھلائے ہیں

محبوب کا مزاج، انداز گفتگو بھی ولی کی غزل سے معلوم ہوتا ہے     ؎

گریباں صبر کا مت چاک کر اے خاطر مسکیں

سنے گا بات وہ شیریں بچن آہستہ آہستہ

مکھ سوں تیرے بچن مبارک سن

گل کے گوہر ہوا سراپا آپ

ترکش ایس جبیں سوں نکال اے شکربچن

عشاق پر غضب ہے یہ ناز و ادا نہیں

محبوب شیریں بچن تو ہے ہی، ہندی اور فارسی کے مخلوط اظہار کی بھی ترغیب دیتا ہے۔ ولی کی غزل میں محبوب کے استعمال کے زیورات کی تفصیل تو ہے ہی ان تمام شہروں کا ذکر بھی ہے جہاں ولی کا گزر ہوا یا کسی وجہ سے ان شہروں کو اہمیت حاصل ہے۔ اقبال کی غزل میںلندن، داغ کی غزل میں کلکتہ، غالب کے ایک قطعہ میں کلکتہ، مجاز کی نظم میں لکھنؤ کا ہلکا سا اشارہ ملتا ہے، لیکن ولی نے تو نہ صرف ہندوستان کے متعدد شہرو ںکا جغرافیہ بیان کردیا ہے بلکہ بیجاپور کے گڑ کا بھی ذکر کردیا ہے      ؎

کروں کیوں سنگ دل کے دل کو تسخیر

زبردستی میں بیجاپور کا گڑ ہے

ہندوستانی موسیقی کے تمام راگ، تمام ندیاں، پھول،  زیورات، تیوہار ولی کی غزل میں خصوصی طور پر مل جاتے ہیں۔ آزاد نے ’آبِ حیات‘ میں اور بعد میں کئی بزرگوں نے ولی کے بعض اشعار کو عروضی اعتبار سے درست نہ ہونے کی بات کہی ہے جو صحیح نہیں ہے۔ دراصل ولی نے متعدد الفاظ کا دکنی یا عوامی تلفظ مرحج رکھا ہے  ؎

عبث غافل ہوا ہے دل فکر کرپیو کے پانے کا

صفا کر آرسی دل کی سکندر ہو زمانے کا

مصرعہ اولی میں فکر کے کاف (ک) کو متحرک پڑھا جائے گا       ؎

بنائی ہے جہاں میں لیلۃ القدر

سیاہی تجھ زلف کی دام لے کر

مصرعہ ثانی میں زلف کے لام کی پیش کے ساتھ قرأت کی جائے گی     ؎

اے عزیزاں تجھے نہیں برداشت

سنگ دل کا فراق بہاری سے

مصرعہ ثانی میں بھاری کا قدیم املا لکھا گیا ہے    ؎

عاشق کے مار نے کو درکار نہیں ہے خنجر

تیری دوچشم جادو مست شراب بس ہے

مصرعہ اولیٰ میں درکار کی الف کے بغیر قرأت کی جائے گی۔

ولی اس معنی میں اولین عوامی شاعر ہے کہ اس نے عوامی گفتگو اور عوامی ترجیحات کو شاعری بنایا ہے۔ مگر ولی کے کاتبوں نے بھی کم ظلم نہیں ڈھائے ہیں۔ ولی کا نایاب دیوان مرتبہ گارساں دتاسی (1838) میرے روبرو ہے۔ اس میں بھی متعدد اشعار کو خارج ازبحر کردیاگیا ہے۔ ولی کی کچھ غزلوں میں ہندی بحور کا بھی استعمال کیا ہے جس سے ولی کے ہندی چھندوں سے بخوبی آگہی پر روشنی پڑتی ہے۔ ہندی بحر میں کچھ اشعار دیکھیے    ؎

پریت کی جو کتھا پہنے اسے گھر بار کرنا کیا

ہوئی جوگن جو کوئی پی کی اسے سنسار کرنا کیا

کفنی پہنا کے مجھ کوں لباسی کیا پیا

یک جیو ایک دل میں دوباسی کیا  پیا

شاعری کے متعلق ولی کا ذہن بالکل صاف ہے۔ اس نے شاعری کے بارے میں بالعموم اور اپنی سخن گوئی کے بارے میں بالخصوص خیال آرائی کی ہے۔ غالب کی طرح وہ بھی یقین کرتا ہے کہ شاعری معنی آفرینی ہے    ؎

اے ولی سخن تیرا گوہر معانی ہے

نور معنی ہے آفتاب سخن

لفظ رنگیں ہے مطلع رنگیں

ولی کی غزل کی بے حد کامیاب خوبی یہ ہے کہ غزل کو مخصوص مضامین اور علائم سے آزاد کرکے اتنی وسعت دی کہ ہندوستانی تہذیب، شمالی اور جنوبی ہند کا لسانی اختلاط کی زبان میں ہر طرح کے مضامین کے لیے دروازے وا کیے     ؎

راہ مضمون تازہ بند نہیں

تا قیامت کھلا ہے باب سخن

ولی کی اولیتیں

ولی کی شخصیت اور شاعری سے متعد د اولیتیں وابستہ ہیں۔ ولی نے اپنی بے پناہ مقبولیت کے باوجود صرف اپنے علاقے کی مقبولیت اور لسانی ارتکاز پر قناعت نہیں کی بلکہ برہانپور اور دہلی کے سفر کیے اور ان علاقو ںکے لسانی مد و جزر کا مشاہدہ بھی کیا، فارسی روایات کا مطالعہ کیا اور اپنے ذہن و دل میں جذب کیا۔ ہندوستانی تہذیب بالخصوص سنسکرت اور ہندی شاعری کے صنم کدوں کو غزل کے حریم میں استادہ کردیا۔ دکن اور شمالی ہند کی زبانوں کو اس طرح باہم مخلوط کردیا کہ دہلی کے وہ بزرگ جنھوں نے ولی کے سفر دہلی کے کچھ عرصے بعد ’بہ موافق محاورہ شاہجہان آباد‘ کی تحریک چلائی وہ بھی ولی کی شاعری پر انگشت نمائی نہ کرسکے۔

ولی نے فارسی شاعری اور دکنی شاعری کی تمام صالح روایات کو اپنی شاعری میں جذب کیا اور ان تمام آوازوں کو ہندی شاعری کی مالا میں پرو کر توسیع بھی کی۔ ولی کی شاعری میں تمام کہنہ روایات کی روح بھی کارفرما ہے اور یہ شاعری کے آئندہ امکانات کی بھی بشارت دے رہی ہے۔ ولی نے فارسی کے اساتذہ، سعدی، حافظ، خسرو اور فیضی کے علاوہ دکن کے قلی قطب شاہ، شوقی، نصرتی، شاہی وغیرہ کی زمینوں میں غزلیں کہہ کر ان کو خراجِ عقیدت بھی پیش کیا اور ہندی بحور ماترک چھند کو پہلی بار اردو میں متعارف کرایا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے ابھی تک ولی کے افکار پر اتنی توجہ نہیں کی جتنی وہ ہم سے متقاضی ہے۔

آج بھی جب کبھی ہم ولی کے شعری حیرت کدے میں سفر کرتے ہیں تو ایسے جذبے اور احساسات سے ہمارا سابقہ پڑتا ہے جو ابھی تک اظہار کی گرفت میںنہیں آئے تھے      ؎

ہے ترا حسن ہمیشہ یکساں

جنت سوں بہار کیوں کہ جاوے

اے نور جان دیدہ ترے انتظار میں

مدت ہوئی پلک سوں پلک آشنا نہیں

حسن تھا پردہ تجرید میں سب سوں آزاد

طالب عشق ہوا صورت انسان میں آ

جو ہوا راز عشق سے آگاہ

وہ زمانے کا فخر رازی ہے

لب پہ دل میر کے جلوہ گر ہے جو خال

حوض کوثر پہ جیوں کھڑا ہے بلال

زندگی جام عیش ہے لیکن

فائدہ کیا اگر مدام نہیں

بھروسا نہیں دولت تیز کا

عجب نئیں کہ تا ظہر آوے زوال

دکن میں جو لسانی طرح صوفیا کے ملفوظات نے ڈالی تھی وہ قلی قطب شاہ کے عہد میں اس معیار تک پہنچ گئی کہ اس زبان میں دیوان مرتب کیا جاسکے لیکن یہ روایت دکنی اعتبار سے خود مکتفی تھی اس کا دوسرے علاقوں سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ کافی حد تک دہلی سے گریزاں تھی۔ مغلوں نے اکبر تا اورنگ زیب دکن پر جس طرح لشکر کشی کی اس کا یہ ردعمل فطری تھا، لیکن یہ گریز بہت عرصہ قائم نہ رسکا اور دکن سیاسی اعتبار سے کمزور ہوگیا تو لسانی روایت کو بھی دہلی کی زبان سے ہم آہنگ ہونے میں دیر نہ لگی اور اس کا سہرہ ولی کے سر بندھا، ولی کی شعری زبان اس ذو تہذیبی اختلاط کا پہلا کارنامہ ہے۔ دوسری اہم وجہ اورنگ زیب کا عرصے تک دکن میں قیام تھا جس کے اثرات اتنے ہمہ گیر تھے کہ اورنگ آباد کی زبان سن کر ایسا لگتا تھا کہ شمالی ہند کے کسی شہر کی زبان ہے۔

یہ بات عام طور پر تسلیم کی جاتی ہے کہ بیجاپور اور گولکنڈہ کی حکومتوں کے زوال کے بعد دکنی زبان پس پشت جانے لگی، دکن میں دہلوی زبان کا رواج عام ہورہا تھا اور دکن کی زبان پر بھی فارسی زبان کے اثرات غالب آرہے تھے۔ ولی کا امتیاز یہ ہے کہ اس نے اس زبان میں ہندی کی آمیزش کی اور ایک لازوال شعری زبان کا ملغوبہ تیار کیا۔ ولی نے فارسی محاوروں کو بعینہ قبول نہ کرکے اس کا ترجمہ شعر میں داخل کیا جس کا نقش ثانی غالب کے بعض اشعار اور خطوط میں نظر آتا ہے۔ جناب ظہیر مدنی نے اپنی کتاب ’ولی گجراتی‘ میں ایسے فارسی محاوروں کی طویل فہرست دی جن کا ترجمہ ولی نے نظم کیا ہے۔

دِل بستن بہ چیزے: کسی چیز سے دل باندھنا۔

ولی جن نے نہ باندھیا دل کوں اپنے نونہالاں سے

نہ پایا ان نے پھل ہرگز جہاں میں زندگانی کا

شیوہ گرفتن: طریقہ اختیار کرنا،  دامن کسے گرفتن: کسی کے ساتھ چمٹ جانا، شیوہ گرفتن: طریقہ اختیار کرنا، دنبال چیزے گرفتن: کسی چیز کا پیچھا کرنا، آب کردن: منفعل کرنا، نماز کردن: نماز ادا کرنا، رام شدن: تابع ہونا، سبز شدن: بات کی رسائی ہونا، گوش کردن: سننا، قلم شدن: کٹنا، ساز کردن: کسی سے نباہ کرنا، جفا کشیدن: ظلم سہنا، چشم داشتن: امید رکھنا۔

کرے تا تجھ پری رو سے طلب یک بوسہ شیریں

لیا ہے اس سبب دل نے مرے شیوہ گدائی کا

جہاں جاتا ہوں، وہاں آتا ہے سائے کی نمن پیچھے

ترے برہا نے اے ظالم لیا دنبال عاشق کا

اے ولی دل کوں آب کرتی ہے

نگہ چشم شرم گیں کی ادا

اے قبلہ رو ہمیشہ محراب میں بھواں کی

کرتی ہیں تری پلکاں مل کر نماز گویا

رام تجھ امر کا ہوا ہے ولی

گر ہے انصاف اس سے رم مت کر

فصاحت کیا کہوں اس خوش دہن کی

کسی کا وہاں نہیں ہوتا سخن سبز

شاہد غزل ولی کی لے جا اسے سنا دے

اس واسطے بجا ہے مطرب سوں ساز کرنا

یہ محض چند مثالیں ہیں ورنہ ولی کا کلام فارسی تراکیب کے تراجم سے گلزار ہے۔

ولی کی ایہام گوئی کی مثالیں گذشتہ صفحات میں دی جاچکی ہیں۔ ولی کے متصوفانہ اشعار کی خوبی یہ ہے کہ فارسی میں تو عارفانہ اور فلسفیانہ کلام کی لاتعداد مثالیں موجود تھیں۔ دکنی میں قلی قطب شاہ نے اپنے کلام میں وحدت الوجود کے مسائل کو پیش کیا ہے۔ ولی کا صوفیانہ شاعری کا امتیاز یہ ہے کہ ولی نے شراب حقیقت کو اپنی غزل کا موضوع بنایا جو اس وقت تک دہلی کی غزل کا بھی موضوع نہ بن سکا تھا۔ تصوف کی پہلی منزل عشق ہے جس کا ہر رنگ ولی کی غزل میں موجود ہے       ؎

اے ولی غیر عشق حرف دگر

پختہ مغزاں کے نزد خامی ہے

ان نے پایا ہے منزل مقصود

عشق جس کا ہے ہادی و رہبر

عشق کر اے دل سدا تجرید کی

عاشقی ہے ابتدا توحید کی

ڈھونڈتا ہوں عارف و سالک ولی

اس بجز کئی رہنما نئیں الغیاث

اے ولی ترک علائق دل کوں لذت بخش ہے

جیوں ہے دنیا دار کو فکر سرو ساماں لذیذ

فارسی اردو غزل ہی تراکیب سازی کی روایت بہت قدیم ہے۔ حافظ کے کلام میں جابجا خوبصورت ترکیبیں نظر آتی ہیں لیکن اردو غزل میں نت نئی تراکیب وضع کرنے کا سہرا ولی کے ہی سر ہے۔ ولی کی تراکیب دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ولی کا ذہن تازہ کاری کی جستجو میں کہاں کہاں پہنچتا ہے۔

حوض دل، مینائے شراب بزم حسن      ؎

مثل مینائے شراب بزم حسن

 حوض دل جو عکس سوں روشن ہوا

تشنۂ سبزی خط خوباں

والی عالم خیال ہوا

گوہر کان حیا        ؎

ولی اس گوہرِ کان حیا کی کیا کہوں خوبی

مرے گھر ا س طرح آتا ہے جیوں سینے میں راز آوے

گلی داغ الم       ؎

اے عزیزاں سیر گلشن ہے گل داغ الم

صحبت احباب ہے معنی میں باغ زندگی

یہاں چند مثالیں دی گئی ہیں، ورنہ ولی کے کلام میں خوبصورت تراکیب کی کہکشاں موجود ہے۔ مطرب نغمہ راز، مورد انوار آگہی، بہار گلشن خوبی، آتشیں نشتر، عقیق جگری، پنجہ خورشید، صفحہ سیا، موج آب یاقوت، مصرع زنجیر جنوں، گوہر بحرِ نکتہ دانی، صحیفہ سیما وغیرہ۔

ولی نے جذبات کے اظہار کے لیے ان الفاظ کا انتخاب کیا جن کے ذریعے بہتر طریقے سے مافی الضمیر کی ادائیگی ہوسکے، خواہ نئے الفاظ ہی تراشنے پڑیں۔ اسی لیے اکثر الفاظ شعر میں نگینے کی طرح معلوم ہوتے ہیں۔ ولی کے استعمال کردہ بعض الفاظ ایسے بھی ہیں جن کو قواعد کی رو سے غلط ٹھہرایا جاسکتا ہے، مثلاً       ؎

ہر جنس کا معما بوجھا گیا ہے اما

تجھ راز کا معما جگ میں رہا ہے ان حل

کیا مدہوش مجھ دل کو انیندی نین ساقی نے

عجب رکھتا ہے کیفیت زمانہ نیم خوابی کا

ناصرکاظمی نے جب اپنی غزل میں گھاس استعمال کیا تو عسکری صاحب نے تغزل کے منافی قرار دیا۔ ولی کے یہاں تو ایسے لاتعداد الفاظ ہیں جو غزل کی روایات کے برخلاف ہی نہیں بلکہ متصادم ہیں۔ ولی سے قبل کس کی غزل میں پان اور گڑ کا ذکر ہوا ہوگا      ؎

کرتا ہوں جاں سپاری، کتھئی ہیں ہاتھ جس کے

کرنے کو دل کا چونا آتا ہے پان کھاکر

اے فکر لب قند سوں تجھ لب کی ہیں باتاں لذیذ

حرف تیز اس کے ہیں جیسے حلوہ سوہاں لذیذ

موہن ادھر رنگیں بدل کھا پان مِسی لائے ہیں

لب پر شفق اور شام کوں ایک ٹھار کر دکھلائے ہیں

ولی کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ فارسی اور عربی تلمیحات کے ساتھ ہندوستانی تلمیحات بھی بے محابا استعمال کی ہیں، جیحوں اور نیل جیسی ندیو ںکے ساتھ نربدا اور گنگا ندیو ںکا بھی ذکر کیا ہے۔ رستم و سہراب کے علاوہ ارجن، کرشن اور گوپیوں کو بھی۔ مدینہ اور مکہ کے ساتھ ہر دوار کوعید کے ساتھ دیوالی اور ہولی کو بھی جگہ دی ہے۔ ولی نے شعوری طور پر کوشش کی کہ فارسی اور ہندی شاعری کے مابین ایک رشتہ قائم ہو    ؎

جو دھا جگت کے کیوں نہ ڈریں تجھ سے اے صنم

ترکش میں تجھ نین کے ہیں ارجن کے بان آج

بھگت جوگی ہوا ہے دیکھ تجھ کوں

سرج جوگی ملک جوگی کی مڑ ہے

کوچہ یار عین کا سی ہے

جوگی دل وہاں کا باسی ہے

ترے غم سوں تپتی ہے چھاتی مری

ہوئے اشک سوں دو نین نربدا

زلف تیری ہے موج جمنا کی

پاس تل اس کے جیوں سناسی ہے

یہی نہیں ولی نے فارسی اور ہندی الفاظ کے امتزاج سے نئی اور دلچسپ تراکیب وضع کی ہیں جیسے رنگ پان، نین ساقی، نقش چرن، وغیرہ۔

مطالعہ ولی کے سلسلے میں اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ تمام اجتہادات ولی نے شعوری طور پر کسی مقصد کے لیے کیے ہیں۔ ان کو بجا طور پر یہ احساس تھا کہ اردو کے شعری کینوس پر ایسی خوش رنگ شعری تصویریں بنا رہے ہیں جن کی تب و تاب سدا قائم و دائم رہے گی۔ اسی لیے ان کی غزلوں میں شاعرانہ تعلی کے لاتعداد اشعار بھی نظر آتے ہیں      ؎

ولی شعر میرا سراسر ہے درد

خط و خال کی بات ہے خال خال

ولی تو بحر معنی کا ہے غواص

ہر اک مصرع ترا موتی کی لڑ ہے

ولی دیواں میں میرے تودۂ دفتر کی حاجت نئیں

کہ مجھ دیوان میں ہر شعر سو دفتر برابر ہے

اے ولی مجھ سخن کو وہ بوجھے

جس کو حق نے دیا ہے فکر رساں

ولی رکھتا ہوں سینے میں ہزاروں گوہر معنی

دکھاؤں اپنے جوہر کوں اگر کئی جوہری آوے

 

Khalid Alvi

Bungalow No.: 8, Lane No.: 6

(Rashid Alvi House)

Anupam Garde, Sainik Farms

New Delhi- 110068

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

اکبر الہ آبادی کی شاعری میں مشرق کا تصور، مضمون نگار: امیرحسن

  اردو دنیا، جنوری 2025 تجھے ہم شاعروں میں کیوں نا اکبر معتبر سمجھیں بیاں ایسا کہ دل مانے زباں ایسی کہ سب سمجھیں اکبر الہ آبادی دنیائ...