اردو دنیا،جون 2025
بیسویں
صدی میں اردو نظم نگاری کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو چند اہم اور نمایاںنظم
نگاروں میں ایک بڑا نام اختر الایمان کا ہے۔جدید شعرا میں ان کی حیثیت بلند قامت
بھی ہے اور خود آگہی کی معراج بھی۔ ان کی شاعری ان کے اپنے جذبات و احساسات کا مینی
فیسٹو ہے جس کے سہارے وہ اپنی شاعری کی
تزئین کاری کرتے ہیں۔ مجھے یہ کہنے میں ذرا بھی تامل نہیں کہ وہ اپنی تخلیقات
اور ذات کے اظہار کے حوالے سے معاصر زندگی کے آشوب کو اپنے وجود میں جذب کرنے کا
ہنر جانتے ہیں جس کا اظہار انھوںنے اپنے شعری مجموعہ’بنت لمحات‘ میں اس طرح کیاہے:
’’اگرچہ میری شاعری میری ذات کا اظہار ہے۔ پھر بھی اسے کہنے کے لیے
اس کے پس منظر محرکات اور ان وجوہ کا جاننا ضروری ہے جن کا یہ شاعری ردِ عمل ہے۔اس
کی اخلاقی وجہ یہ ہے کہ اس جدید علم اور صنعتی انقلاب نے ہماری پرانی قدریں ہم سے
چھین لی ہیں۔‘‘1
اختر
الایمان بنیادی طور پر احساسات اور کیفیات کے شاعر ہیں۔ ان کی نظمیں دردمندی، کسک،
اضمحلال اور کرب کی ترجمان ہیں۔نئے زمانے کے مسائل کی گہرائی کے سلسلے میں جس
فکرمندی کے ساتھ وجوہات کی تہہ تک جاتے ہیں،وہ ان کی عبقریت پر دال ہے۔ نئے زمانے
کے آدمی کا کرب اُن کی شاعری کی شناخت ہے۔بقول فراق گورکھپوریــ:
’’نئے شاعروںیں سب سے گھائل آواز اختر الایمان کی ہے۔اس میں جو
چلبلاپن، تلخی اور تیز دھار ہے وہ خود بتادے گی کہ آج کے حساس نوجوانوںکا المیہ کیاہے۔‘‘2
قبل
اس کے کہ اختر الایمان کی نظم نگاری کے فکری وفنی اختصاص پرگفتگو کی جائے، مناسب
معلوم ہوتاہے کہ ان کے شعری مجموعے سے بھی متعارف ہواجائے۔یوں اختر الایمان نے اپنی
شاعری کا آغاز کالج کے زمانے سے ہی کردیاتھا اور ان کی نظمیں رسالوں میں شائع ہوتی
رہیں، لیکن ان کا پہلا شعری مجموعہ 1943 میں ’گرداب‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس
مجموعے کی اشاعت کے چند ہی وقفے بعد ’تاریک سیارہ‘ 1966 میں یکے بعد دیگرے’سب رنگ‘
اور’یادیں‘ شائع ہوئے۔ 1969 میں’بنت لمحات‘ اور 1977 میں ’آہنگ‘ کی اشاعت ہوئی۔
ان تمام شعری مجموعوںکی کلیات 1984 میں’سروساماں‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ اس کے بعد
بھی ان کے دو شعری مجموعے ’زمیں زمیں‘ 1990 میں اور ان کے انتقال کے بعد ایک شعری
مجموعہ ’زمستان سرد مہری کا‘ شائع ہوا۔
اختر الایمان کی نظموں کے موضوعات بوقلمونی اور رنگارنگی کے مظہر ہیں اور فلسفیانہ طبیعت کا اشاریہ بھی۔ ان کی نظمیہ شاعری کی سب سے بڑی شناخت یہ ہے کہ انھوںنے اپنی ذاتی محرومیوں اور مایوسیوں کی نوحہ خوانی نہیں کی بلکہ تمام کائنات کے غم کوبھی اپنی ذات میں جذب کرلیاہے اور یہی غم ان کی زندگی کے ادراک اور گہری بصیرتوں کے انکشاف کا وسیلہ بن گیاہے۔اس سلسلے میں ان کی نظم ’نقشِ پا‘ کو پیش کیا جاسکتا ہے۔ اس نظم میں سنجیدگی بھی ہے اور فلسفیانہ خیالات کی ترجمانی بھی۔ دیکھیے یہ اشعار ؎
یہ
نیم خواب گھاس پر اُداس اُداس نقشِ پا
کچل
رہا ہے شبنمی لباس کی حیات کو
وہ
موتیوںکی بارشیں فضا میں جذب ہوگئیں
جو
خاک دانِ تیرہ پر برس رہی تھیں رات کو
یہ
رہروانِ زندگی خبر نہیں کہاں گئے
وہ
کون سا جہان ہے، ازل نہیں ابد نہیں
دراز
سے درازتر ہیں حلقہ ہائے روز و شب
یہ
کس مقام پر ہوں میں کہ بندشوںکی حد نہیں
……
کوئی
نیا افق نہیں جہاں نظر نہ آسکیں
یہ
زرد زرد صورتیں یہ ہڈیوں کے جوڑ سے
ہوا
کے بازوؤں میں کاش اتنی تاب آسکے
دکھا
سکیں وہ عہدِ نو ہی زندگی کے موڑ سے؟
پوری
نظم شاعر کے رجائی طبیعت کا ترجمان ہے جو نیک اعمال اور نئے ماحول کا اشاریہ بن
جاتی ہے۔ بقول میراجی :
’’اختر کی پہلی نظم جو میں نے دیکھی وہ ’نقشِ پا‘ تھی۔اس سے شاعر
کا تصورکچھ اس طرح بندھا تھا جیسے کوئی شخص کھڑے کھڑے زمین پر دیکھ رہاہو یا اگر
چل رہا ہو توآنکھیں جھکائے آہستہ آہستہ بڑھ رہا ہو۔‘‘
پانچ
بندوںپر مشتمل اس نظم میںلہجے کی انفرادیت اور لفظیاتی نظام دونوںکوہنرمندانہ طریقے
سے اُجاگر کیاگیاہے۔ افسردگی کا بیان ہے لیکن نظم کے آخری شعر میں ایک پیغام ہے۔
رجائیت و امید کی لہریں ٹھاٹھیں مار رہی ہیں’دکھا سکیں وہ عہدِ نو ہی زندگی کی موڑ
سے؟
اخترالایمان
کی ایک مشہور نظم’بنت لمحات‘ہے جس کے متعلق وہ لکھتے ہیں:
’’یہ کھردری تشبیہات سے پُر، انتشار آمیز شاعری، اس خلوص اور
جذبۂ محبت کے تحت وجود میں آئی ہے جو مجھے انسان سے ہے۔‘‘3
اس
نظم میں عشق کے تجربے کو نہایت ہی لطیف، دل نواز اور نرم گداز انداز میں پیش کیاگیاہے۔عاشق
اور معشوق دونوں اپنی اپنی فعالیت کا ثبوت دیتے ہیں۔ عاشق اپنی دروں بینی کے توسط
سے خود شناسی کی منزل کی طرف گامزن ہے، تو دوسری طرف محبوبہ بھی کئی گاؤںکی الھڑ
دوشیزہ نہیں بلکہ شہر کی ایک پڑھی لکھی مہذب خاتون ہے جو محبت کے جذبے کی لطافتوں
سے ناآشنا نہیں۔ساتھ ہی احساسِ ذات کی لذت اور اس کی مسیحائی کا احساس بھی اس کے یہاں
بہ درجۂ اتم موجود ہے۔اسی طرح اختر الایمان کی دوسری نظموں میں ’پرانی فصیل‘ ایک
علامتی نظم ہے۔یہ نظم قدیم وجدید تہذیب کی علامت بن کر ہماری معاشرتی زندگی کی
افسوس ناک صورتِ حال سے فنکار کی بیزاری کا اشاریہ بن جاتی ہے جو دو بدلتے ہوئے
معاشروں اور تہذیبی تصادم سے پیدا ہوتی ہے۔پروفیسر شکیل الرحمن نے علامیہ کے متعلق
اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کیاہے:
’’اختر الایمان یوں تو علامیہ کی شاعری کومشکل، بہت مشکل بتاتے ہیں
اور ہے بھی بہت مشکل کام۔ کہتے ہیں، علامیہ کی شاعری پڑھتے وقت بہت محتاط رہنے کی
ضرورت ہے۔یہ ان لوگوںکے مزاج کو راس نہیں آتی جن کے لیے شاعری کوئی سنجیدہ چیز نہیں
اور جو اسے رواروی میںپڑھنا چاہتے ہیں۔‘‘4
اختر
الایمان نے ’پرانی فصیل‘ کے توسط سے زندگی کے تاریک گوشوں کی نقاب کشائی کا فریضہ
انجام دیاہے۔نظم کے ابتدائی حصے سے ہی علامت اپنا کام بحسن و خوبی انجام دے رہی
ہے۔ پڑھنے والا بھی مرکزی علامت کے توسط سے شاعر کے تجربوںمیں شامل ہوجاتاہے۔ اپنی
باتوںکو تقویت بخشنے کے لیے نظم ’پرانی فصیل‘ کے دو بند نقل کرتاہوں ؎
مِری
تنہائیاں مانوس ہیں تاریک راتوں سے
مِرے
رخنوںمیں ہے اُلجھا ہوا اوقات کا دامن
مِرے
سائے میں حال و ماضی رُک کر سانس لیتے ہیں
زمانہ
جب گزرتا ہے بدل لیتا ہے پیراہن
……
یہاں
سرگوشیاں کرتی ہیں ویرانی سے ویرانی
فسردہ
شمع امید و تمنا تو نہیں دیتی
یہاںکی
تیرہ بختی پر کوئی رونے نہیں آتا
یہاںجو
چیز ہے ساکت کوئی کروٹ نہیں لیتی
جیساکہ
میں نے اوپر ذکر کیاہے کہ اخترالایمان کی نظموں کا موضوع احساس ہے۔وہ ہر بات کو
احساس کے توسط سے بیان کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کے ہاں احساس کے بیان میں کسی
قسم کی قنوطیت، ناامیدی، مایوسی، رنج وغم کا شائبہ تک نہیں۔یہ ایک ایسا جذبہ ہے
جسے فرانسیسی زبان میں Spleer سے موسوم کیا
جاتا ہے۔ یہ نظم اس بحرانی دور کا مکمل اشاریہ ہے جب پرانی تہذیب اپنی معنویت
کھوچکی تھی۔قدروں کا انہدام ہورہاتھا۔ نئی تہذیب نے انسان کو جس بحران اور انتشار
میںمبتلا کردیاتھا اور اس کے نتیجے میں جو ہولناک مناظر سامنے تھے، اسی کا کرب آگیں
بیان ہے۔نظم کا اختتام اس بند پر ہوتاہے
؎
غرض
ایک دور آتاہے کبھی، اک دور جاتاہے
مگر
میں دو اندھیروں میں ابھی تک ایستادہ ہوں
مِرے
تاریک پہلو میں بہت افعی خراماں ہیں
نہ
توشہ ہوں نہ راہی ہوں نہ منزل ہوں نہ جادہ ہوں
اختر
الایمان کی ایسی نظموںمیںتنہائی، محرومی...، نئی صبح وغیرہ میں اسی قسم کے احساسات
وکیفیات نمایاں ہیں۔ یہ سلسلہ پہلے مجموعہ
’گرداب‘ سے شروع ہوکر ’تاریک سیارہ‘ تک پہنچتا ہے۔ لب ولہجے میں تلخی ہے لیکن یہ
تلخی حقائق اور زندگی کی سچائیوںکا منظرنامہ پیش کرتی ہے جس میں معاشرے کی بربادی،
سوزِ دروںکی دھیمی دھیمی آنچ میں سلگ رہی ہے۔ اسی قبیلے کی نظموں میں ’لغزش‘ بھی
ہے جس میں شاعر تلخی سے فرار کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ ہے لیکن انجام اطمینان
بخش نظر نہیں آتا۔
اختر
الایمان کی ابتدائی دور کی نظموں میں ’پگڈنڈی‘ ایک کامیاب ترین علامتی نظم ہے۔شعری
اسلوب اور علامتی طریقۂ کار کے اعتبار سے یہ نظم اقبال کی نظم ’ہمالہ‘، ’فلسفۂ
غم‘ اور ’ساقی نامہ‘ کی یاد دلاتی ہے۔اقبالؔ کی نظم ’ساقی نامہ‘کے ابتدائی اشعار
کو سامنے رکھ کر اختر الایمان کی نظم’پگڈنڈی‘ کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں ؎
انگڑائی
لیتی، بل کھاتی، ویرانوں سے آبادی سے
ٹکراتی،
کتراتی، مڑتی، خشکی پر گرداب بناتی
اٹھلاتی،
شرماتی، ڈرتی، مستقبل کے خواب دکھاتی
سایوںمیں
سستاتی، مڑتی بڑھ جاتی ہے آزادی سے
یہ
اشعار اختر الایمان کی شاعری میں پیکرتراشی کی عمدہ مثال ہے۔ بصری اور حرکی پیکروںکی
آمیزش نے ایک ولولہ انگیز ڈرامائی کیفیت پیدا کردیا ہے۔ ان کی فنکارانہ ہنرمندی یہ
ہے کہ علامتوں کی مجرد صورت کورومانی اور حقیقی وجود عطا کردیاہے۔
اخترالایمان
کی ایک مشہور نظم ’ایک لڑکا‘ خمیرِ انسانیت کے علامیہ کے روپ میں تو ہے لیکن تخلیقی
قوت کا اشاریہ بھی ہے۔ اس نظم میںضمیر انسانیت کا پہلو ایک تیکھے انداز میں پیش کیاگیاہے۔
اس نظم کی پوری ساخت طنزیہ اسلوب اور
علامتی طرزِ اظہار کی تہہ داری سے مزین ہے۔ اس نظم کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں ؎
دیارِ
شرق کی آبادیوں کے اونچے ٹیلوں پر
کبھی
آموں کے باغوں میں کبھی کھیتوںکی مینڈوں پر
کبھی
جھیلوں کے پانی میں کبھی بستی کی گلیوںمیں
کبھی
کچھ نیم عریاںکم سنوںکی رنگ رلیوںمیں
——ــــــــــ
خدائے
عز وجل کی نعمتوںکا معترف ہوں میں
مجھے
اقرار ہے اس نے زمیںکو ایسا پھیلایا
کہ
جیسے بستر کمخواب ہو، دیبا ؤ مخمل ہو
مجھے
اقرار ہے یہ خیمہ افلاک کا سایہ
اسی
کی بخششیں ہیں، اس نے سورج،چاند تاروںکو
فضاؤں
میں سنوارا، اک حد فاصل مقرر کی
——ــــــــــــــــــــ
یہ
لڑکا پوچھتا ہے جب تو میں جھلا کے کہتا ہوں
وہ
آشفتہ مزاج، اندوہ پرور، اضطراب آسا
جسے
تم پوچھتے رہتے ہو کب کا مرچکا ظالم
اسے
خود اپنے ہاتھوں سے کفن دے کر فریبوں کا
اسی
کی آرزوؤں کی لحد میں پھینک آیا ہوں
اس
نظم میں دیہاتی ماحول میںایک کمسن لڑکے کے خد وخال کوبہت ہی ہنرمندی سے بیان کیاگیا
ہے۔ بقول پروفیسر زاہدہ زیدی:
’’……جو باتیں ذہن پر خاص طور سے اپنا نقش چھوڑتی ہیں، وہ اس بچے کی
فطرت سے ہم آہنگی، جوش، ولولہ، بے ساختگی،تجسس،
تحیر،تخیل کی فراوانی، ہوا میں تیرتا، خوابوںمیں بادل کی طرح اُڑتا، رسم و رواج
اور مصلحت اندیشی سے مکمل بے نیازی، آزادی کا احساس اور ایک رواں دواں کیفیت ہے
اور یہ سب (عین مین)تخلیقی قوت کے اجزائے ترکیبی ہیں۔اس لیے لڑکے کا یہ متحرک وجود
انسانیت سے زیادہ تخلیقی قوت کی بالیدگی کانقش ذہن پر مرتب کرتاہے۔‘‘5
اختر
الایمان کی نظمیہ شاعری کے تجزیے سے اس نکتے کا انکشاف ہوجاتاہے کہ ان کی شاعری میں
انسانی معاشرے کی عصری صورتِ حال کی کسک اور سفاک حقیقت کو بہت ہی فنکارانہ طور پر
اجاگر کیاگیاہے جس میں دردمندی کی جھلک بھی ہے اور طنز بے نشتر بھی۔ مجھے یہ کہنے
میں ذرا بھی تامل نہیں ہے کہ اختر الایمان نے جدید اردو نظم؛گہرے وجودی تجربے،
فلسفیانہ تفکر، پیچیدہ بصیرت، زندگی کے فہم و ادراک سے آشنا کیا۔ انھوںنے شعری
تجربے اور اپنی بصیرتوںکے اظہار پر کسی طرح کی لسانی، نظریاتی یا فکری پابندی عائد
نہیں کی۔ انھوںنے ہمیشہ اپنے ذہن و دماغ کو مذہب سے، تاریخ سے،سیاسی نظریوں اور
مفروضوںسے، منافقت و مصالحت سے، استحصالی رویوں اور غلامانہ رواجوںسے پاک رکھا اور
یہی ساری صفات و کمالات ان کے ادبی و شعری سفر کا اثاثہ ہیں۔
جہاں
تک زبان و بیان کا معاملہ ہے، ہم کہہ سکتے ہیںکہ اختر الایمان کے یہاں علامتوںکا ایک
فنکارانہ استعمال ہے تو دوسری طرف طنزیہ طریقِ کار ان کے اسلوب کی بنیادی شناخت
ہے۔ان کے اسلوب میں لچک بھی ہے جس کے نتیجے میں ہر رنگ کے اسلوب کو ڈھال لینے کا
ہنر جانتے ہیں۔ بقول پروفیسر شمیم حنفی:
’’اخترالایمان کا ایک امتیاز اپنے ہم عصروں میںیہ بھی ہے کہ
انھوںنے شعری تجربے کے ادراک اور بصیرت کے اظہار پر کسی طرح کی لسانی، نظریاتی اور
فکری روک نہیں لگائی۔ یہ کسی معینہ دائرے میں گردش کرتی ہوئی شاعری کے برعکس چھوٹے
بڑے مختلف دائروںسے رہائی کی شاعری ہے۔‘‘6
حوالہ
جات
1 مقدمہ’بنت
لمحات‘،ص6
2 فراق گورکھپوری،مجموعہ’گرداب‘
کا مقدمہ
3 پیش لفظ’بنت
لمحات‘
4 ’اختر الایمان:جمالیاتی
لجنڈ‘ از شکیل الرحمن، ص115
5 بحوالہ
مضمون’اختر الایمان کی شاعری کا فکری و فنی ارتقا: دس نمائندہ نظموںکے تناظر میں‘،
مشمولہ: ’رموزِ فکر و فن‘ زاہدہ زیدی، ص173
6 مضمون’اختر الایمان
کی شاعری‘،مشمولہ:’خیال کی مسافت‘از شمیم حنفی، ص235
Dr. Md. Wasim
Reza
,Head, Deptt. of Urdu, Rameshwar College
B.R.A. Bihar
University
Muzaffarpur-842001
(Bihar)
Mob. : 9955545128
Email :
drwasimreza@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں