22/12/25

بلراج مین را بطور افسانہ نگار: فکری جہات و ابعاد ،مضمون نگار: نثار احمد

 اردو دنیا،جون 2025

بیسویں صدی کے نصف آخر میں جن افسانہ نگاروں نے اپنے منفرد اسلوب سے افسانہ نگاری میں اہم مقام حاصل کیا ان میں بلراج مین را کا نام سب سے منفرد اور اہمیت کا حامل ہے۔ انھوں نے جب افسانہ لکھنا شروع کیا تب ترقی پسند تحریک اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی اور جدیدیت کا شباب ڈھلنے کو تھا۔ مین را  نے اپنے وقت کے حاوی تخلیقی رجحانوں کی ذرہ برابر بھی پرواہ نہیں کی، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ مین را کا کینوس اتنا وسیع تھا جس میں تخلیقیت کا حاوی رجحان ایک کونے میں سمٹ کر رہ گیا۔  اس کی سب سے بنیادی وجہ شاید یہ تھی کہ ان کے یہاں شعور لاشعور کبھی کوئی مسئلہ ہی نہیں رہا، مین را کے افسانے اسی شعور اور لاشعور کے درمیان کی ایک کڑی ہیں جو انھیں بے سمتی کی جانب لے جاتے ہیں اور یہی بے سمتی مین را کی کہانیوں کا حسن بن جاتی ہے۔ 

جدیدیت اپنے پورے تام جھام کے ساتھ عہد شباب پر تھی۔ موضوع، مواد، ہیت پرستی اور ادب کے سمت و رفتار کو طے کرنے اور پرکھنے کے پیمانے پر خوب بحثیں ہو رہی تھیں۔  اقبال فیض اور فراق سے لے کر پریم چند، کرشن چندر جیسے ادیبوں کو ادب کے ایک مکھوٹے میں بند کر ایک ہیولیٰ عطا کر دیا گیا۔ مین را اس وقت بھی اپنے منفرد طرز تحریر سے اس مکھوٹے سے آزاد رہنے کے لیے کوشاں تھے۔ جدیدیت کے اس عہد میں وہ نمایاں قلم کار کی حیثیت سے نکل کر سامنے آئے اور مختصر افسانوں سے اپنی الگ شناخت قائم کی۔

مین را نے بہت کم افسانے لکھے۔ کل 37 افسانے ان کے فکشن اثاثے ہیں۔  مین را نے اتنا کم کیوں لکھا؟  تحریر کی روانی کے باوجود وہ اتنا محدود کیوں رہا؟ شمیم حنفی لکھتے ہیں:

’’مین را کا قلم بہت  تندی اور تیزی کے ساتھ ایک عرصے تک چلتا رہا پھر اس نے اچانک لکھنا بند کر دیا، مگر اس کے اظہار کا سلسلہ اس کے بعد بھی جاری رہا اور اب تک جاری ہے اس سلسلے پر احمد مشتاق کے اس قول کا اطلاق کیا جا سکتا ہے کہ خاموشی بھی ایک طرز اظہار ہے۔ مین را کے ہم عصروں میں بیان کے ساتھ ساتھ خاموشی کا یہ عنصر بہت نمایاں ہے۔‘‘1

بلراج مین را کی یہ خاموشی ان کا ادبی حوالہ بن گئی۔ مین را اپنی اس خاموشی کی وجہ سے بہت با معنیٰ دکھائی دیتے ہیں ان کے افسانوں میں یہ خاموشی جا بجا موجود ہے۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں کنفیوژن کی فضا ہموار کی، قاری کے لیے یہ فیصلہ کرنا دشوار ہو جاتا ہے کہ افسانہ اپنی ابتدا سے انتہا تک کن کن نکات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ اسی وجہ سے تربیت یافتہ قارئین کی ایک بڑی تعداد ان سے منسلک نہ رہ سکی حالانکہ اس کا انھیں کبھی کوئی گلہ بھی نہیں رہا اور  اپنے اسی تخلیقی شان کی بنیاد پر وہ ممتاز بھی ہوئے۔ انھوں نے جتنے افسانے لکھے سب ان کے اندرون کا اظہار تھے خارجیت پسندی کو انھوں نے ذرا بھی قابل اعتنا نہیں سمجھا۔ اپنے اندرون کے اظہار کے لیے انھیں کبھی کسی روایتی طور طریقے کی ضرورت نہیں پڑی اور نہ ہی کسی تحریک سے وابستگی رہی ، نا ہی انھوں نے داخلیت کے اظہار کے لیے کبھی کسی اصول کی پابندی کی، ان کے لیے ان کا تخلیقی وجدان ہی سب کچھ تھا۔ ترقی پسندی یا جدیدیت سے ہاں اور نا کے درمیان کا واسطہ رہا،  انھوں نے کبھی کسی کو اپنے حد میں شمولیت کی اجازت نہیں دی، بقول شمیم حنفی :

ترقی پسندی اور جدیدیت دونوں کے سلسلے میں جو انتہا پسندانہ رویہ عام ہوا وہ ترقی پسندوں اور جدیدیت نوازوں کے غیر متوازن اور اڑیل موقف کی بنیاد پر ( ہوا ) اپنے زیادہ تر معاصرین کے برخلاف مین را نے نہ تو کسی کو اپنی اسپیس میں مداخلت کی اجازت دی نہ دوسروں کی اسپیس کو اپنے لیے عبور کرنے کی کوشش کی، اس لیے نہ تو وہ کسی منزل کا پابند رہا نہ کسی ایک رستے کا ۔‘‘2

مین را کے افسانے آفاقی نوعیت کے نہیں ہیں لیکن وہ اپنے ہمصروں میں ممتاز ہے۔ ان کے افسانے شعور لاشعور کے درمیان کی ایک کڑی ہیں۔ انھوں نے اپنی تحریر میں کہی اور ان کہی کے درمیان کی فضا اس حدت کے ساتھ پیدا کی ہے کہ قاری کی نظر عبارت سے آگے نکل جاتی ہے اور ذہن سابقہ عبارت میں مقید رہ جاتا ہے۔ ان کے افسانے کی نشتریت تحریر کا تیکھا پن عام اور روزمرہ کی کہانی کو فکشن کے روپ میں ڈھال دیتے ہیں۔ مین را  کا ذہنی شعور اتنا بالیدہ ہے کہ کہانی کہنے کے ڈھنگ میں اور کہانی سنانے کے طور طریقے میں کس طرح تفریق کی جا سکتی ہے اسے خوب آتا ہے اس کے افسانے یہ کا اقتباس ملاحظہ کیجیے :

وہ کانپ رہا تھا، اور کانپتے قدموں سے دھیمے دھیمے بڑھ رہا تھا وقت سے بے خبر ، لیمپ پوسٹوں سے بے خبر، ایک بار پھر اس کے قدم رک گئے ۔

اس کی نظروں کے سامنے خطرے کا نشان تھا

سامنے پل تھا...

صاحب!  یہ شخص پل کے پاس کھڑا تھا، کہتا ہے ماڈل ٹاؤن میں رہتا ہوں اور ماچس کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔

کیوں بے؟

اگر آپ اجازت دیں تو آپ کی ماچس استعمال کر لوں؟ مجھے اپنا سگریٹ سلگانا ہے۔ ‘‘3

اس کے علاوہ ان کے دیگر افسانے بھی اسی منفرد نوعیت کے حامل ہیں۔ ان کے بعض افسانے تو قصے اور کہانی پن کے اعتبار سے اتنے قریب ہیں کہ اسلوب اور بیانیہ کا فرق ہی دونوں کے درمیان حد فاصل کا کام کرتا ہے۔’ وہ‘ اور ’مقتل‘ کی کہانی تقریباً ایک جیسی ہے۔  دونوں میں کرداروں کا سفر ہے اس کے باوجود دونوں نہ صرف پلاٹ اور اسٹرکچر کے اعتبار سے الگ ہیں بلکہ دونوں مین را کی شاہکار کہانیاں ہیں۔

کہانی بننے، کہنے اور لکھنے کے لیے مین را کو کبھی تیشہ طلبی کی ضرورت نہیں پڑی، ان کے ذاتی تجربات ہی ان کے افسانوں کا موضوع ہیں۔ جن سے ان کا گہرا رشتہ رہا ہے۔ شہری زندگی بالخصوص دہلی کی رہن سہن، سڑک، کافی ہاؤس، ٹی ہاؤس، کناٹ پلیس، ماڈل ٹاؤن، نرس، ڈاکٹر ،ہاسپٹل، بس اسٹاپ اور بڑی بڑی عمارتیں ان کی کہانیوں کے کلیدی موضوعات ہیں۔ مین را کا ادراک شہری زندگی ہے ان کی کہانیوں کو پڑھتے ہوئے قاری خود اس کا ایک کردار بن جاتا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ کل رات کی ہی تو کہانی ہے جو صاف اور شستہ زبان میں لکھ دی گئی ہے۔یہ خود اس کے اپنے شہر کی کہانی ہے اسی لیے شہر ان کی تحریر میں کلیدی حوالہ بن کر سامنے آتا ہے۔ شہری زندگی کے حوالے سے بہت سے ذاتی تجربات تھے جو مین را کی شخصیت پر گہرا اثر مرتب کر گئے۔ مین را نے اپنے بارے میں کہا تھا کہ یہ کہانیاں میرے اندرون کا اظہار ہیں۔ ظاہر ہے  انسان اپنی زندگی میں کتنے ہی واقعات و حادثات اور تجربات سے گزرتا ہے، اور یہی واقعات و حادثات اور تجربات ادبی سرمایوں کی بنا قرار پاتے ہیں۔

مین را نے انسانی جذبوں اور قدروں کو آفاقیت بخش دی ان کی کہانی میں ایک شخص ماچس کی تلی کے لیے پریشان ہوتا ہے جسے سگریٹ کی شدید طلب ہے۔ ان کی کہانیوں میں نرس ہے، ہاسپٹل ہے۔ ان کی کہانیوں میں بس سٹاپ پر کھڑا ایک بیروزگار نوجوان ہے اور ان کی کہانیوں میں خودکشی ہے۔ ایک تخلیق کار جب انہی تجربات سے گزر کر آیا تو وہ مین را کہلایا۔ ظاہر ہے ان سب کی ظاہری طور پر کوئی وجہ نہیں ہے۔ تخلیق کار نے زندگی کے اس رخ کو اسی طرح کیوں دیکھا؟ اس کے کیا اسباب ہو سکتے ہیں؟ ادب میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، ان کے ریزن تلاش کرنا بے معنیٰ ہے۔ کردار کی خودکشی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں مین را کہتے ہیں:

خودکشی زندگی کی ایک لاجک ہے جن کہانیوں میں وہ خود کشیاں ہیں وہ ان  کی کہانیوں کے کرداروں کا Legendتھا ۔‘‘4

مین را کے افسانوں میں موضوعاتی تنوع کے ساتھ ایک بکھراؤ نظر آتا ہے جس میں کہانی کے حصے وسیع کینوس میں دکھائی دیتے ہیں لیکن یہی بکھراؤ ان کی کہانیوں کا محور بن جاتا ہے۔ علامت و تجریدیت کے حوالے سے مین را کا نام ممتاز دکھائی دیتا ہے۔مین را اپنے عہد کے ممتاز علامتی افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں ان کے زیادہ تر افسانے علامتی نوعیت کے ہیں جس وقت مین را اپنے تخلیقی وفور کو ہوا دے رہے تھے اور بطور علامتی افسانہ نگار اپنے تخلیقی جہان کو وسعت بخش رہے تھے اسی عہد میں علامت و تجریدیت کے حوالے سے ایک نام ابھرکر سامنے آیا وہ نیر مسعود کا تھا۔ نیر مسعود نے اپنے خواب کی معدوم ہوتی دنیا کو اپنی تخلیقی بافت کا حصہ بنایا جبکہ مین را کے افسانے ان کا حال تھا انھیں اپنے ماضی سے بہت زیادہ سروکار نہیں تھا ، اس ضمن میں مین را کے کچھ مشہور افسانے جیسے ’کمپوزیشن سیریز‘ وہ ’پورٹریٹ ان بلیک اینڈ وائٹ’ریپ‘ اور’ مقتل‘ کے نام لیے جاسکتے ہیں۔ 

مین را کے افسانوں میں احتجاج کا رنگ بھی صاف نظر آتا ہے۔ کوئی تخلیق اپنے آپ میں رنگین یا سادہ نہیں ہوتی، ترش اور تند و تیز نہیں ہوتی، بلراج کے  افسانوں میں جو سرعت اور تیزابیت ہے وہ دراصل ان کی ذات کا حصہ ہے،  جو علامتی طور پر کہانیوں میں در آئی ہیں۔ وہ ادب اور زندگی میں کسی بھی طرح کے سمجھوتے کے قائل نہیں تھے، ان کی حساسیت اور فتانت نے ان کے افسانوں کو احتجاجی رنگ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔  انھوں نے سریندر پرکاش سے متعلق کہا تھا کہ ’’انھیں عالمی مسائل سے ذرا سی دلچسپی نہیں ہے جس سے ایک ادیب کو واقف ہونا چاہیے۔‘‘ مین را کا یہی انداز ان کے افسانوں کو راستگی کا پابند بناتا ہے یہ راستگی بھی اپنے وقت کے حاوی رجحانوں سے ایک طرح کا احتجاج ہے۔  اپنی شرطوں پر افسانے تخلیق کرنا اپنے ڈھنگ سے کہانیاں بننا  یہ ان کے احتجاجی ذہن و دماغ کا ایک حصہ ہے جس میں غم ہے ،غصہ ہے، استفسار ہے، سوال ہے، جھنجھلاہٹ ہے اکتاہٹ اور یاس و بے بسی ہے۔ شاید اسی احتجاجی رویے نے ان کی تخلیقی جہان کو محدود کر دیا۔

 مین را کا افسانوی جہان 37 کہانیوں پر مشتمل ہے۔ ان کا پہلا افسانہ بھاگوتی تھا جو رسالہ ساقی میں شائع ہوا، اس وقت ساقی اور پھر بعد میں  رسالہ شب خون میں شائع ہونا تخلیق کار کے مستحکم ہونے کی ضمانت تھی اس کے با وجود انھوں نے صرف 37 افسانے ہی کیوں لکھے اس پر انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا:

’’میں کہانیاں کہاں بھیجوں؟ آپ ایک پرچہ بتائیے جس میں چھپنے کا میں عادی تھا۔ سویرا یا جس معیار کا پرچہ میں نے نکالا، آج کل میں 1942 میں میری کہانی چھپی تھی اس زمانے میں عرش ملسیانی تھے انھوں نے مجھے خط بھیجا تھا اور ان کا خط لاہور میں ملا تھا۔میں یہاں آیا تو ان سے مل کر میں نے کہا ’’ آپ میری کہانی چھاپ نہیں سکتے ہیں میں بالکل دوسری طرح کی کہانیاں لکھنے والا ہوں، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی میرا لفظ ادھر سے ادھر کر دے۔ ‘‘5

افق، وہ، کمپوزیشن،شہر کی رات، مقتل، بھاگوتی، دھنپتی، کوئی کوئی روشنی، یک مہمل کی کہانی، آتما رام،  پورٹریٹ ان بلیک اینڈ وائٹ، ہوس کی اولاد، بس اسٹاپ، جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے اور ساحل کی ذلت ان کے نمائندہ افسانے ہیں ان میں سے بیشتر افسانے علامتی اور تجریدی نوعیت کے ہیں۔ افسانہ ’وہ‘ شہری زندگی سے مستعار کردار اس کہانی کا مرکز ہے جسے سکون کی تلاش ہے۔ سگریٹ سکون کا استعارہ ہے جس کے لیے اسے ماچس کی ضرورت ہوتی ہے۔ سکون جو ضرورت سے بڑھ کر ہے اس کی تلاش میں کردار اپنے شعور تک کھو دیتا ہے جو لاشعوری طور پر جا بجا بھٹکتا ہے۔ دراصل حزن اضمحلال اور پریشانی اس ذات کا اندرون ہے جو سگریٹ اور ماچس کی تلی کی صورت میں کہانی میں در آیا ہے ضرورت کی تکمیل نہ ہونے کی صورت میں اس پر لاشعوریت کی جو کیفیت طاری ہوتی ہے یہ صورتحال اسی شہری زندگی کا استعارہ ہے۔

مین را کا ایک نمائندہ افسانہ ’جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے‘  ہے اس میں زندگی کی  اکتاہٹ اور بے بسی دکھائی پڑتی ہے۔ اندوہ زندگانی سے بازیابی کی ایک صورت موت بھی ہو سکتی ہے اس افسانے میں اسی مضمون کو باندھا گیا ہے۔ ادب میں گرچہ یہ مضمون نیا نہیں ہے لیکن جس کینوس پر مین را نے اس مضمون کو باندھا ہے آپ مین را کی حقیقت پسندی کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتے۔

’’حضور!

مجھے ان فضول و بے معنی سلسلے میں واقعی کچھ کہنا ہے۔

میں نے سوچا تھا کہ مر جاؤں گا اور پوری دنیا سے رشتہ ٹوٹ جائے گا مگر ایسا نہ ہوا اور اتفاقا مجھے اپنی بات کہنے کا موقع مل گیا۔

جی ہاں!  میں نے خود کشی کرنے کی کوشش کی ہے میں اس الزام کو بخوشی قبول کرتا ہوں میں سمجھتا ہوں کہ میری ہاں الزام کو ہر لحاظ سے جرم ثابت کرتی ہے اور اب مجھے کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے۔ ‘‘6

انھوں نے کمپوزیشن سیریز کے تحت کئی کامیاب افسانے لکھے ہیں اس میں ایک افسانہ کمپوزیشن تین ہے۔ کمپوزیشن تین ایک ایسے نوجوان کی کہانی ہے جو قابل اور تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہے جب کہیں سے امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں پڑتی تو انسان کسی طرح چھوٹی چھوٹی چیزوں پر قناعت کرنے کا عادی ہو جاتا ہے لیکن اس کے اندر ایک کسک ہوتی ہے جو اسے ہمیشہ ملعون و مطعون گردانتی ہے۔ مین را کا یہ افسانہ یاسیت اور حرماں نصیبی کی شاندار ترجمانی کرتا ہے۔

بلراج مین را سطحی افسانہ نگار نہیں تھے۔ عالمی ادب کے نمائندہ ادیبوں سے انھوں نے کسب فیض کیا تھا وہ اپنے وقت کے حاوی اور روایتی اسلوب سے ہٹ کر افسانے تخلیق کرنے والوں میں تھے۔ انھوں نے دسو ئیسکی  اور آسٹن چین جیسے مغربی ادیبوں اور نقادوں کو خوب پڑھا تھا جس کا اثر ان کے افسانوں میں صاف دکھائی پڑتا ہے۔ اچانک ہی انھیں احساس ہوا کہ ہمارے ادیب اس خول سے باہر نہیں نہیں نکل پا رہے ہیں جو تحریکات و رجحانات کے زیر اثر ادب میں در آیا تھا جسے مین را نے خود فریبی کے عظیم سرکس سے تعبیر کیا تھا تو انھوں نے تخلیقیت سے کنارہ کشی اختیار کر لی جسے مین را کی ادبی قناعت پسندی بھی کہہ سکتے ہیں، لیکن صحیح معنوں میں یہ قناعت پسندی نہیں تھی بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ انھوں نے اپنے وقت کے روایتی طور طریقوں کو یکسر نکار دیا۔ مین را نے اپنے احساسات کا ایک بڑا ذخیرہ اپنی ذات تک ہی محدود رکھا اسے کسی اور پر وا نہیں ہونے دیا۔ مین را کے تندئیِ کلام سے کبھی کبھار اس کا اظہار ہو جاتا تھا۔ شاید وہ بہت کچھ کہنا چاہتے تھے، بہت کچھ لکھنا چاہتے تھے لیکن خاموش رہے اسی خاموشی نے ان کے اس مختصر سے ادبی سرمائے کو بہت بامعنی بنا دیا ادب میں ایسی بامعنی خاموشی بہت کم لوگوں کے حصے میں آئی ہے۔

حواشی

.1       بلراج مین را ایک نا تمام سفر ، مصنف: ڈاکٹر سرور الہدیٰ، ص 15

.2       ایضاً ، ص 19

.3       مقتل

.4       بلراج مین را ایک نا تمام سفر، ص 289

5        ایضاً، ص 99

.6       سرخ و سیاہ، ص 272


Nisar Ahmad

Room No: 117, Chandrabhaga Hostel

Jawaharlal Nehru University

New Delhi- 110067

Mob.: 8800973643

nisar.qasmijmi@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

اردو ناولوں میں منفی کرداروں کی اہمیت و افادیت،مضمون نگار: محمد ابرار

  اردو دنیا،جون 2025 حیات انسانی متنوع جہات کی حامل ہے۔ آدمی شروع سے ہی مختلف مدارج و مراحل سے گزرتا رہا ہے۔ اپنی روزمرہ کی زندگی میں حالات...