22/12/25

اردو اور فارسی کے استاد شاعر کاہش جونپوری،مضمون نگار: محمد صادق اختر

 اردو دنیا،جون 2025

گیا ایک قدیم اور معروف شہر ہے اس کی تاریخی حیثیت مسلم ہے۔ یہی وہ شہر ہے جہاں گوتم بدھ کو علم کی روشنی حاصل ہوئی اور وہ سدھارتھ سے گوتم بدھ ہوگئے۔ یہی وہ شہر ہے جس کے متعلق ایک قوم کا عقیدہ ہے کہ اگرآپ مرنے کے بعد نجات اور عیش و آرام والی اچھی زندگی کے خواہاں ہیں تو یہاں آکر نذرانہ عقیدت پیش کرنا ضروری ہے۔ انھیں خصوصیات اور امتیازات کی وجہ سے لوگ اس خطے کی طرف کھنچے چلے آئے اور اسے اپنی علمی اور عملی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ اس خطے میں ہندؤں اور بدھ مذہب کے ماننے والوں کے علاوہ مسلمان بھی بڑی تعداد میں آکر آباد ہوئے اور اپنی علمی، ادبی اور دینی سرگرمی کا اسے مرکز بنایا۔ فارسی زبان و ادب کی ترقی اور اس کی اشاعت میں بھی اس خطے کا ایک اہم رول رہا ہے، بے شمار شعرا، ادبا اور نثرنگاروں نے اپنی علمی جولانیاں دکھائی ہیں جو نہ صرف گیا، بلکہ بہار اور ہندوستان کے لیے بھی قابل فخر ہیں۔ انھیں شخصیات میں حضرت مولوی اولاد علی کاہش بھی ہیں، آپ کا اصل وطن جونپور ہے، لیکن مادی ضرورتوں کے ساتھ گیا کی علمی و روحانی کشش انھیں اس شہر میں کھینچ لائی۔ گیا آنے کے بعد انھوں نے یہاں کی عدالت میں ملازمت اختیار کی اور وہیں مقیم ہوگئے، دوران اقامت انھوں نے وہیں شادی بھی کی اور اولاد بھی ہوئے، وہ فارسی اور اردو دونوں زبان میں شاعری کرتے تھے۔ کاہش صاحب نے خود اپنے دیوان میں اپنا مختصر تعارف پیش کیا ہے اس کی تفصیل ان کے دیوان سے نقل کی جاتی ہے        ؎

’’ہیچمدان... سید اولادعلی الکاظمی الجونفوری بن سید محمد عوض مرحوم...متخلص کاہش‘‘

اس عبارت سے یہ واضح ہوا کہ ان کا نام سید اولاد علی اور وطن جونپور ہے، انھوں نے اپنا تخلص کاہش اختیارکیا تھا۔

سید اقبال احمد اپنی کتاب  تاریخ شیراز ہند جونپور کے صفحہ 263 و 64پر حضرت کاہش کے متعلق لکھتے ہیں:

آپ کا نام حکیم اولاد علی، کاہش تخلص نواسہ شاہ عنایت مخدوم کے تھے، آپ 1217 ہجری   مطابق 1802میں پیدا ہوئے اور جب سن تمیز کو پہنچے تو پڑھنے میں لگائے گئے۔ اولا مختصرات عربیہ اپنے بزرگوں سے پڑھا بعدہ لکھنو گئے اور علمائے فرنگی محل سے کافی فیض حاصل کیا اور علم طب حکیم مسیح الزماں سے پڑھا اور مطب میں بیٹھے۔ ہرقسم کا تجربہ تھوڑے عرصے میں حاصل کرکے حکیم حاذق بن گئے آپ کو شاعری سے بھی شوق تھا۔ کلام فارسی کی مشق و اصلاح مرزا قتیل سے اور اردو کلام کی مشق و اصلاح حضرت شیخ ہمدانی مصحفی سے کیا۔ آپ شاعر نازک خیال اور خوش گو تھے بعد تکمیل کمالات آپ جاہ و منصب کے حصول میں کوشاں ہوئے۔اولا ضلع گیا میں عہدہ پیشکاری عدالت دیوانی مقرر ہوئے بعدہ سر رشتہ داری کے عہدہ پر مامور ہوئے چند سال ملازمت کرکے ترک کردیا اور گوشہ قناعت میں بیٹھے۔

اس سے معلوم ہوا کہ حصول علم کے لیے وہ لکھنؤ گئے تھے اور اعلی تعلیم انھوں نے وہیں سے حاصل کی، اور یہ بھی معلوم ہے کہ اس وقت لکھنو شہر اہل علم، ادیبوں اور شاعروں کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ وہاں نامور شعرا، معروف ادبا، ماہرین فن شاعری اور نکتہ دان زبان و ادب کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی، چنانچہ یہ بعید نہیں کہ کاہش صاحب نے اس ادبی ماحول، شعر و شاعری کے حلقوں اور محفلوں سے اپنے ذوق شاعری کی آبیاری نہ کی ہواور اسے جلا نہ بخشی ہو۔

سید احمد اللہ ندوی اپنی کتاب ’تذکرہ مسلم شعرائے بہار‘ میں لکھتے ہیں:

عربی، فارسی اور اردو زبان میں ید طولی حاصل تھا۔ بیشک اس کا ثبوت ان کی اردو اور فارسی کی شاعری ہے اور اسی طرح عربی کے وہ مصرعے جو ان کی فارسی شاعری میں صنعت تلمیح کے طور پر استعمال ہوئے ہیں وہ ان کی ان تینوں زبانوں میں مہارت کے ثبوت دیتے ہیں۔

تذکرہ نگاروں کے مطابق وہ کافی دنوں تک شہر گیا میں رہے پھر وطن اصلی جونپور کو لوٹ گئے اور وہیں انتقال کیا، ان کو شاعری میں کمال دسترس تھا اس کے متعلق سید احمد اللہ ندوی کاہش صاحب کے ایک تعلق والے کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ جونپور میں ایک مجلس مشاعرہ نہایت تزک و احتشام سے منعقد ہوئی، لکھنو سے جناب انیس مرحوم کے پوتے تشریف لائے، جناب کاہش اور دوسرے چوٹی کے شعرا جمع ہوئے۔ جناب انیس مرحوم کے پوتے نے چند اشعار تعلّی کے پڑھے۔ ان اشعار کو سن کر کاہش صاحب کی رگ حمیت پھڑک اٹھی اور برجستہ اسی مجلس میں بیٹھے بیٹھے ڈیڑھ سو اشعار مثنوی کی بحر میں لکھ کر اسی مشاعرہ میں پڑھ کر سنایا، جس کے بعد مجلس میں سناٹا چھاگیا جن میں چند شعر یہ ہیں         ؎

رکتی ہے کب کسی سے مری طبع نکتہ گیر

مونس ہوں، یاانیس ہوں، یاانس یا دبیر

جولانی  پر جو آئے مری طبع نکتہ گیر

نیزوں اڑے یہ اشہب خامہ، بسان تیر

جولانی پہ اگر فرس طبع بھڑ پڑے

چکر وہ دوں کہ ابلق ایام گرپڑے

حضرت کاہش ایک استاد شاعر تھے حضرت عطا حسین فانی صاحب کے مطابق گیا میں ان کے کافی شاگرد موجود تھے، اس کا ذکر سید احمد اللہ ندوی نے بھی اپنی کتاب تذکرہ مسلم شعرا بہار میں کیا ہے اور ان کے چند شاگردوں کی فہرست بھی دی ہے۔ معلوم نہیں جونپور میں بھی ان کے شاگرد تھے یا نہیں، کسی جگہ بھی اس کا تذکرہ نہیں ملا۔

حضرت کاہش ایک اچھے اور حاذق طبیب بھی تھے، طب کی تعلیم انھوں نے حکیم مسیح الزماں صاحب سے حاصل کی تھی۔ اقبال جونپوری کے مطابق انھوں نے مطب میں ہر قسم کا تجربہ حاصل کیا اور اس فن میں مہارت حاصل کی۔

تذکرہ نگاروں کے بیان سے یہ تو معلوم ہوگیا کہ انھوں نے طب کی تعلیم حاصل کی تھی اور اس میں ہرقسم کا تجربہ بھی حاصل کیا تھا لیکن انھوں نے اس فن کو پیشے کی حیثیت سے اختیار کیا یا نہیں یا عارضی طور پر بھی اپنا مطب قائم کیاتھا یا نہیں اس کا ذکر نہیں ملتا ہے۔اسے پیشے کے طور پر اختیار نہ کرنے کی وجہ کیاتھی اس کا بھی سبب نہیں معلوم ہوا جب کہ اس زمانہ میں طب ایک معزز پیشہ سمجھاجاتا تھا۔

فیاض احمد علیگ صاحب نے اپنے ایک مضمون میں جو مضامین ڈاٹ کام پر ’جونپور کے چندطبیب شعرا‘ کے عنوان سے اگست 2018 میں شائع ہوا ہے۔ اس کے مطابق ’’وہ بہار کے ضلع گیا میں دیوانی عدالت میں پیش کار رہے اور اس کے بعد ترقی کرکے سررشتہ دار کے عہدہ پر مامور ہوئے لیکن چند سالوں بعد ہی یہ ملازمت بھی چھوڑ دی اور گوشہ نشیں ہوکر تجرد کی زندگی گزاری۔‘‘ حالانکہ دوسرے تذکروں سے پتہ چلتاہے کہ انھوں نے تجرد کی زندگی نہیں گزاری بلکہ زن و فرزند رکھتے تھے۔  کیفیت العارفین و نسبت العاشقین کے ضمیمہ میں سید حسین الدین احمد نے واضح طور پر گیا میںان کے شادی کرنے کا ذکر کیا ہے اور ان کے ایک پوتے حافظ سید ارادت الحق صاحب مرحوم کا بھی ذکر کیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ صاحب عیال تھے زن و فرزند رکھتے تھے لیکن ایک سوال جس کی تفصیل نہیں ملتی وہ یہ کہ کیا جب وہ جونپور واپس گئے تو بچوں کو ساتھ لے کر گئے یا یہیں گیا میں ہی چھوڑ دیا، اگر اہل و عیال ساتھ میں جونپور ہجرت کرکے نہیں گئے وہ تنہا گئے اس اعتبار سے فیاض احمد علیگ صاحب کا کہنا درست ہے کہ ملازمت ترک کرنے کے بعد وہ گوشہ نشیں ہوگئے اور تجرد کی زندگی گزاری۔ لیکن سید حسین الدین احمد صاحب نے کیفیت العارفین و نسبت العاشقین کے ضمیمہ میں ایک نوٹ لکھاہے کہ ’’اب آپ کے خاندان میں یہاں کوئی نہیں شاید جونپور میں ہوں‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ کے اہل و عیال بھی جونپور منتقل ہو گئے تھے۔

سید احمد اللہ ندوی کے مطابق کاہش کے پوتے حافظ ارادۃ الحق صاحب نے کاہش کا تذکرہ لکھا تھا اور ان کی اردو کی غزلیں جمع کی تھیں، مگر اب ان کا اردو کلام نایاب ہے۔ معلوم ہوتا ہے شاید تذکرہ میں ہی غزلوں کو جمع کیا تھا اسی لیے تذکرہ اور غزلیں دونوں ہی  معدوم ہوگئیں۔

دوسری بات جیسا کہ سید احمد اللہ ندوی اور دوسرے تذکرہ نگار حضرات ذکر کررہے ہیں کہ ان کا دیوان اردو ضائع ہوگیا لیکن یہ معلوم نہیں کہ یہ دیوان انھوں نے خود ترتیب دی تھی یا یہ وہی اشعار کا مجموعہ ہے جسے ان کے پوتے سید ارادۃالحق صاحب نے جمع کیا تھا یا کسی تیسرے فرد نے جمع کیا تھا۔

کاہش صاحب نے اپنے فارسی دیوان کے خاتمہ میں ذکر کیا ہے ’تمام شد دیوان دوئم فارسی‘ (فارسی کا دوسرا دیوان مکمل ہوا)اس عبارت سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید فارسی کادیوان اول بھی تھا لیکن اس کا ذکر کہیں نہیں ملا،اس لیے ایسا لگتا ہے کہ اردو کے دیوان کو دیوان اول کہا ہے ا ور فارسی کے دیوان کو دیوان دوم۔

 سید حسین الدین احمد صاحب کی عبارت سے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے وہ لکھتے ہیں کہ ’’ ان کا اردو کا کلام میرے پاس نہیں ہے فارسی کا دوسرا دیوان ہے۔‘‘

کاہش صاحب کی دیگر تصانیف میں ایک کتاب منتخب العروض ہے نام سے معلوم ہوتا ہے اس کتاب میں  اشعار اور اس کے عروض وغیرہ کے موضوع پر بحث کی گئی ہے، شاید کاہش صاحب کو یہ ذوق اپنے استاد مرزا قتیل صاحب سے ہی حاصل ہوا ہو کیونکہ قتیل صاحب کی بھی کئی کتابیں فن عروض، علم بیان اور معانی پر ہیں۔

کیفیت العارفین و نسبت العاشقین‘ کی اطلاع کے مطابق کاہش صاحب کے اہل خاندان تصوف و عرفان سے وابستگی رکھتے تھے اور کچھ افراد سلسلہ قادریہ رشیدیہ میں بیعت بھی تھے۔ چنانچہ انھوں نے بھی اصلاح باطنی کے لیے اپنے بزرگوں کے طریقے کو اختیار کیا اور جونپور میں ہی سلسلسہ قادریہ رشیدیہ میں بیعت ہوگئے۔ لیکن جب وہ گیا آئے اور سید شاہ عطا حسین صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا اور ان کے کمالات سے آشنا ہوئے تو بے دریغ خود کو ان کے حوالے کردیا اور ان سے اصلاح کا تعلق قائم کرکے سلسلہ ابوالعلائیہ میں بیعت ہوگئے۔

کاہش صاحب نے فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں شاعری کی۔ شاعروں اور ادیبوں کے حلقے میں ان کی شناخت ایک ماہر اور استاد شاعر کی حیثیت سے تھی۔ محققین اور نقاد انھیں ’ایک نازک خیال،خوشگو‘ اور اسی طرح ’اردو و فارسی زبان وادب پر کامل دسترس رکھنے والا شاعر ‘ مانتے ہیں۔

کاہش صاحب کا قلمی دیوان جس کا ذکر تذکروں میں دیوان دوم کے نام سے ہوا ہے خانقاہ منعمیہ ابوالعلائیہ گیا میں موجود ہے، بعض بعض جگہوں پر کرم خوردہ ہونے کے باوجود کسی حد تک اچھی حالت میں ہے۔

اس کے بارے میںکتاب ’نذر خدا بخش‘ میں جسے محققین نے خدا بخش کے کارنامے کو لوگوں کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے لکھا ہے اس میں ایک مضمون بہار کے اندر فارسی آثار کے متعلق بھی ہے جس میں ان محققین نے بھی حضرت کاہش کے اس دیوان کے موجود ہونے کا ذکر کیا ہے لیکن اس کے علاوہ ان کی دوسری تصانیف کی موجودگی کے متعلق کچھ بھی نہیں لکھا ہے۔

اس دیوان کے ہر صفحے پر کم از کم چھ اور زیادہ سے زیادہ نو ابیات ہیں۔ اس کے صفحات بڑے ہیں، نستعلیق رسم الخط میں لکھے ہوئے ہیں اور لائنیں سیاہ اور جلی ہیں، شاید کسی ماہر کاتب نے کتابت کی ہے۔ کچھ اوراق کرم خوردہ ہیں اور بوسیدہ بھی ہوچکے ہیں۔ اس کا آغاز اس شعر سے ہوتا ہے      ؎

از قامت بالای تو دل شد تہ و بالا

العظمۃ للہ تبارک و تعالی

’’تیری بلندقامتی سے میرا دل تہ و بالا ہوگیا، ساری عظمت اللہ تبارک و تعالی کے لیے ہی ہے۔‘‘

خون دل یاقوت نماید لب لعلت

دندان تو بی آب کند لولوی لالا

’’تیرے لبوں کی سرخی یاقوت کے دل کو بھی خون کرتی ہے اور تیرے دانتوں کی چمک کے سامنے موتیوں کی رونق بھی پھیکی ہے۔‘‘

آمد پی نظارہ ام آن بت  بہ لب بام

ای شوق جنوں سلمک اللہ تعالی

’’اس بت کی دیدار کے لیے میں لب بام آیاہوں،اے شوق جنون اللہ ہی تیرا محافظ ہے۔‘‘

بہ ربود رخ و ابروت ای جان دل کاہش

اقررت لمن زین بدرا وہلالا

’’تیرے رخ اور ابرو نے کاہش کے دل پر قبضہ جمالیا ہے، میں اس ذات کی عظمت کا اقرار کرتا ہوں جس نے بدر جیسی صورت اور ہلال جیسی ابرو بنائی۔‘‘

اور اس عبارت پر یہ دیوان ختم ہوتا ہے:

’’تمام شد دیوان دوم فارسی از نتایج طبع بندہ ہیچمدان احقرالعباد کمترین خلایق اعجزالناس المرجوا الی اللہ الغنی القوی المدعوا بالسید اولاد علی الکاظمی الجونفوری ابن سید محمد عوض مرحوم غفراللہ لہما و ستر عیوبہما متخلص بہ کاہش در سنہ 1271ہجری ماہ ربیع الثانی تاریخ سیوم مطابق سیوم جنوری 1854موافق ہیجدہم ماہ پوس 1261فصلی روز سہ شنبہ در قصبہ گیا متعلقہ ضلع بہار نوشتہ شد. و این کمترین از تلامذہ جناب فیض مآب غواص بحورتکمیل جناب مرزا محمد حسن قتیل کہ باتفاق آب و دانہ در این قصبہ رسیدہ و بہ عہدہ پیشکاری عدالت دیوانی ضلع بہارممتاز گردیدہ و بہ ہمان زمان تالیف دیوان ہذا نمود۔‘‘

فارسی کا دوسرا دیوان جو بندہ سید اولاد علی کاظمی جونپوری ابن سید محمد عوض مرحوم،کاہش تخلص کی شاعرانہ کاوش کا نتیجہ ہے سنہ 1217 ہجری ربیع الثانی کی تیسری تاریخ مطابق سنہ 1854عیسوی جنوری کی تین تاریخ سہ شنبہ کے روزقصبہ گیا ضلع بہار میںتکمیل کو پہنچا، بندہ حقیر مرزا محمد قتیل کے شاگردوں میں ہے۔اور یہ اتفاق ہے کہ آب و دانہ کی تلاش میں اس قصبہ میں پہنچا اورعدالت میں پیشکاری کے عہدے پر فائز ہوا۔

اس مذکورہ عبارت سے کچھ بنیادی اطلاعات جیسے اس دیوان کی تکمیل کی تاریخ اور کس جگہ تکمیل کو پہنچی وغیرہ کے بارے میں معلوم ہوا۔ اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ مرزا محمد حسین قتیل کے شاگرد تھے اور تلاش آب و دانہ انھیں گیا لے آئی۔  اس کے بارے میں غور کرنے پر یہی معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ لکھنؤ تعلیم حاصل کرنے گئے تھے اسی دوران ان کی ملاقات مرزا قتیل صاحب سے ہوئی اور استادی و شاگردی کا رشتہ قائم ہوگیا یا تعلیم کی تکمیل کے بعد، یا پھر غائبانہ طور پر۔

لیکن کاہش صاحب کے اس دعویٰ کی تفصیل کہ وہ مرزا قتیل کے شاگرد ہیںکسی تذکرہ میںنہیںملتی۔  کاہش جونپوری صاحب کی ولادت سنہ 1802 میں ہوئی  اور مرزا قتیل صاحب کا انتقال 1817-18 میں ہوا ہے۔ اس لحاظ سے مرزا قتیل کی وفات کے وقت کاہش صاحب کی عمر 16 سال کی ہوتی ہے۔اور عموما عمرکا وہ مرحلہ شاعری کی ابجد کا ہوتاہے۔لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انھوں نے اس عمر میں کس طرح ان کی شاگردی اختیار کی اور کیسے اصلاح لی، تذکرے اس کی تفصیل سے خالی ہیں۔ لیکن کاہش صاحب کے تذکرے میںہے کہ وہ اعلیٰ تعلیم کی تحصیل کے لیے لکھنؤ گئے تھے اور اس وقت مرزا قتیل کا قیام لکھنؤ ہی میں تھا اور اودھ میں ان کی شاعری کی دھوم تھی، ان کے شاگردوں کا ایک بڑا حلقہ تھا۔ چنانچہ یہ ممکن ہے کہ کاہش صاحب نے لکھنؤ میں مرزا قتیل صاحب کی شہرت سنی، ان کی فارسی دانی سے واقف ہوئے اور دوران تعلیم ہی ان کی شاگردی اختیار کرلی۔

دوسری بات یہ کہ جس وقت مرزا قتیل اور مرزا غالب کے شاگردوں میں چپقلش کا آغاز ہوا اس وقت کاہش صاحب کی عمر تقریبا 25-26 سال ہوگی لیکن اپنے استاد کی دفاع میںکاہش صاحب کا کچھ بھی حصہ نظر نہیںآتا۔

کاہش صاحب کی شاعری داخلی کیفیات سے لبریز ہے۔ کوئی غزل ایسی نہیں ہے جس میں انھوں نے اپنے زخم خوردہ جگر ، اپنے دل بیتاب، محبوب کی بیوفائی اور اس کی جفاؤں کا تذکرہ نہ کیا ہو۔ ان کا پسندیدہ مضمون محبوب کی جفا، اس کا ظلم و ستم، اس کی بے رخی و بے پروائی، اس کی ناز و ادا اورعاشق کی دیوانگی وبے خودی  وغیرہ ہے۔

ان کی شاعری میں وہی مضامین عشق و محبت اور اس کی نیرنگیاں نظر آتی ہیں۔ تصوف اور اس کی کیفیات بھی دکھتی ہیں۔ یہ سب گرچہ پامال مضامین ہیں لیکن انھوں نے اس کے بیان میں نئے نئے پیرایے ایجاد کیے ہیں۔ اس کے اندر ایسی تنوع اور جدت پیدا کی ہے کہ پڑھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔ ایک ہی مضمون کو مختلف طریقے سے بیان کیا ہے اس کے لیے مختلف تعبیرات کا استعمال کیا ہے جس سے قاری محسوس کرتا ہے کہ کوئی نیا مضمون ہے۔ اس جدت نے انھیں ایک استاد شاعر کی حیثیت سے روشناس کرایا ہے۔

ان کی ایک غزل کے چند ابیات نقل کیے جارہے ہیں         ؎

دریغ یکدم آب از گلوی تشنہ مدار

اگر بدست تو شمشیر آبداری ہست

’’ میرے پیاسے حلق کو پانی سے محروم مت کرو ،خواہ آبدار تلوار کے ذریعے ہی ہو۔‘‘

بہ روی نو خط ساقی نظر فگن کاہش

شراب کہنہ بہ پیما کہ نوبہاری است

’’نوخیزساقی کے چہرے پر اے کاہش نظر ڈالو اور پرانی شراب لاؤ کہ موسم بہار کاآغاز ہے۔‘‘

  اس بیت کے مضمون کو دیکھیے کتنی معنویت اور کتنی گہرائی ہے۔ کہتے ہیں پیاس سے حلق میں کانٹے پڑ رہے ہیں اس تشنگی کو دور کرنے کے لیے پانی کی ضرورت ہے اور معشوق کی فطرت میں جفا ہے عاشق کو تڑپتا دیکھنے میں اسے مزہ آتا ہے، چنانچہ عاشق اس سے درخواست کرتا ہے کہ پانی نہ سہی تمھارے پاس آبدار تلوار تو ہے اس سے تو دریغ مت کرو، کم سے کم اس پیاس کو دور کرنے کے لیے میرے اوپر آبدار تلوار ہی استعمال کرلو شاید اس سے میری پیاس بجھ جائے اور تم کو بھی میرا تڑپنا مزہ دے گا۔

آپ نے چونکہ اردو شاعری کی اصلاح کے لیے غلام ہمدانی مصحفی کی شاگردی اختیار کی تھی چنانچہ ان کے مطالب و مضامین اور ان کے انداز کا اپنے فارسی کے اشعار میں بھی تتبع کیا ہے خود ایک غزل کے مقطع میں اس کا اظہار بھی فرمایا ہے         ؎

می شود لعل لبت این قدر شراب آلود

تو بہ آن باد گران خوردہ یقین من است

’’تیرے لعل جیسے لب اس قدر شراب آلود ہیں، مجھے یقین ہے کہ تم نے اس قیمتی بادہ سے ضرور لذت اندوزی کی ہے۔‘‘

باغ تازہ نشد خاطر فشردہ من

گل خزان زدہ گویا دل حزین من است

’’میرے دل کا باغ مرجھایا ہو ہے، میرا غمگین دل گویا خزان زدہ گل ہے۔‘‘

تصوف میں عشق کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔عشق ہی تصوف کی معراج ہے۔ کاہش صاحب چونکہ ایک صوفی ہیں اور تصوف سے ان کا گہرا تعلق ہے اس لیے بھی ان کی شاعری میں جابجا عشق کے تذکرے ملتے ہیں۔

حسن  و عشق کے بیان کے جتنے بھی پیرایے ہوسکتے تھے سب انھوں نے اختیار کیا اور یہ مصحفی کی شاگردی کا اثر ہے جو ان کے اشعار میں نظر آرہا ہے۔ ان کی فارسی شاعری کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی شاعری کا محور حسن و عشق کے معاملات ہیں خواہ وہ مجازی ہوں یا حقیقی۔ چونکہ غزل کا موضوع ہی داخلی کیفیات کا بیان ہے چنانچہ انھوں نے اپنے اشعار میں اس کو بہت اچھی طرح برتا ہے        ؎

بہ کشا دہن تنگ کہ راہ عدم این است

بردار پردہ از رخ کہ باغ ارم این است

’’تنگ دہانی کو کشادہ کرو کہ یہ راہ عدم معلوم ہوتاہے، اپنے رخ سے پردہ ہٹاؤ کہ تمھارا چہرہ جنت کا باغ ہے۔‘‘

دیوانگی و بیخودی و بادیہ گردی

در رہگذر عشق نخستین قدم این است

’’دیوانگی، بی خودی اور بادیہ پیمایی، عشق کے رہگذر میں یہ پہلا قدم ہے۔‘‘

جزسکہ داغ تو اگر نقد روان نیست

درکشور عشاق رواج درم این است

’’اگر تیرے کھوٹے سکہ کے علاوہ کوئی اور سکہ نہیں چلتا ہے، توکیا عاشقوں کے ملک میں یہی درہم رائج ہے۔‘‘

——

عمریست کہ آوارگی قافلہ عشق

مارا زدیاری بہ دیار دیگر انداخت

’’قافلہ عشق کی آوارگی نے ایک مدت تک ، مجھے ایک دیار سے دوسرے دیار تک بھٹکایا ہے۔‘‘

کس کس طرح سے معشوق اپنی اداؤں اور ناز و انداز سے عاشق کو  پریشان کرتا ہے یہاں تک کہ اپنی اداؤں سے شب وصل کو بھی قیامت بنا دیتا ہے۔ 

پریشان کرہ کاکل بہ رخ انداختی رفتی

شب وصل مرا دصبح قیامت ساختی رفتی

’’چہرے پر زلفیں بکھیرے ہوئے جارہے ہو، وصل ِمرادکی رات کو قیامت کی صبح بناکر جارہے ہو۔‘‘

متاع نقد دل را ساختم بازیچہ طفلان

زمن ای جانِ جان نرد محبت باختی رفتی

’’دل کے متاع نقد کو میں نے بچوں کا کھیل بنادیا، اے جانِ جان تم مجھ سے محبت کی بازی ہارکر جارہے ہو۔‘‘

کاہش صاحب کی شاعری کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی شاعری اعلی معیار کی ہے۔ اس آخری دور میں جب اردو نے فارسی کی جگہ لے لی تھی اور فارسی جاننے والوں کی تعداد میں کافی کمی آگئی تھی فارسی میں اس طرح کی معیاری شاعری فارسی زبان کا اصحاب علم و دانش کے دلوں اور ذہنوں میں رچے بسے ہونے کا ثبوت ہے۔

کاہش صاحب گیا میں ہی رہے ان کے کام کا میدان گیا تھا اسی لیے ان کے آثار بھی گیا میں محفوظ ہیں، گرچہ وہ جونپور واپس چلے گئے لیکن وہاں کے لوگ ان کے کارنامے سے واقف نہ ہوسکے اور نہ وہاں کے لوگوں کو ان کے آثار سے واقفیت ہوئی اسی لیے ہمیں وہاں کے مصنّفین کے مضامین میں ان کے آثار کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں ملتی ہے۔ ڈاکٹر فیاض احمد علیگ کے مضمون سے جو انھوں نے مضامین ڈاٹ کام میں ’جونپور کے چند طبیب شعرا‘ کے عنوان سے شائع کیا ہے۔ اس میں لکھتے ہیں کہ ’’ان کی مذکورہ تصانیف نایاب ہوچکی ہیں اور اب کوئی بھی دستیاب نہیں ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے ان کا دیوان فارسی جو ضخیم ہے وہ گیا میں محفوظ ہے گرچہ کچھ جگہوں پر کرم خوردہ ہے اور کاغذ بھی بوسیدہ ہے۔ دوسری بات یہ کہ فیاض صاحب نے ان کے فارسی دیوان کو بھی مطبوعہ شمار کیا ہے جب کہ ایسا نہیں ہے فارسی دیوان مخطوطہ ہے۔

اسی طرح اقبال جونپوری صاحب کی کتاب میں بھی ان کے احوال ملتے ہیں لیکن آثارکے متعلق تفصیل نہیں ملتے۔ ان حضرات نے چند اردو ابیات نقل کیے ہیں۔

سبھی تذکرہ نگاروں نے ان کی فارسی اور اردو کی تصانیف میں رسالہ فارسی، رسالہ مکتوبات، منتخب العروض، ایک دیوان فارسی اور دو دیوان اردو کا ذکر کیا ہے۔

کاہش صاحب کا انتقال 1864 میں جونپور میں ہوا۔ کاہش صاحب نے اٹھارہ سو ستاون کے بعد گیا چھوڑا ہے گویا آپ کے جونپور جانے کے  چند ہی سالوں بعد آپ کا انتقال ہوگیا۔

کاہش صاحب کی دوغزلیں اور ایک قطعہ پیش خدمت ہے         ؎

زلعل شکرین آموختم شیرین مقالی را

بفکر آن گہ دریافتم نازک خیالی را

’’اس شیریں محبوب سے میں نے شیریںمقالی سیکھی، اس کے خیال میںمحویت نے میرے اشعار میں نازک خیالی پیدا کی ۔‘‘

سحرگہ در قفس بلبل صفیر خونچکان میزد

بیان می کرد شاید قصہ فرسودہ حالی را

’’وقت سحر قفس میں جب بلبل غم انگیز فریاد کرتی ہے تو (ایسا محسوس ہوتا ہے) شاید وہ اپنی بدحالی کی داستان سنا رہی ہے۔‘‘

بحال دیدہ خونبار مارا گریہ می آید

کہ در ہر فصل پیدا کرد ابر برشگالی را

’’خون رونے والی آنکھوںکی حالت پرمیری اشک فشانی نے ہر موسم کو، موسم برسات بنادیا ہے۔‘‘

بخاطر می نشاند مطلع خورشید را گردون

شناسد فکر عالی پایہ مضمون عالی را

’’جیسے فلک، خورشید کے طلوع کی جگہ کو دل میں بٹھاتا ہے، اسی طرح فکر عالی کے حامل بھی عالی مضامین کے مرتبہ کو پہچان لیتے ہیں۔‘‘

شراب خون دل بیرون چکید از دیدہ گریان

نگہدارم چرا زیر بغل مینای خالی را

’’جب خون دل شراب کی شکل میں اشک کے ذریعے آنکھو ں سے بہہ گیا، پھرکیوں خالی مینا (دل)کو بغل میں لیے پھر رہاہوں۔‘‘

شنیدم از لب گور تونگر این صدا کاہش

کہ بنشین بر بساط خاک و برچین فرش قالی را

’’کاہش میں نے ایک مالدار کی قبر سے یہ آواز سنی(وہ کہہ رہاتھا)، کہ خاک پر بیٹھو اور قالین کا فرش لپیٹ دو۔‘‘

یہ ایک طویل غزل ہے اس میں انھوں نے مختلف مضامین کا احاطہ کیا ہے، عرفانی مضامین بھی ہیں دنیا کی بے ثباتی کا ذکر بھی ہے،عشق اور غم عشق جیسے مضامین بھی ہیں، جیسے       ؎

بہ خلوت گاہ دل جای مدہ شکل خیالی را

تجلی گاہ شمع طور کن این بزم خالی را

ان ابیات میں انھوں نے کتنے اچھوتے انداز میں دنیا کی بے ثباتی و ناپایداری کا نقشہ کھینچا ہے       ؎

نمی آید بہ کار اہل دولت کیسہ پرزر

بزیر خاک برد آخر سکندر دست خالی را

شنیدم از لب گور تونگر این صدا کاہش

کہ بنشین بر بساط خاک و برچین فرش قالی را

اس کے علاوہ بھی ان کے اشعار میں بہت سے دقیق خیالات اور نادر افکار ملتے ہیں۔

بلبل کی صدا جو قید میں زندگی گزار رہی ہے۔ شاعر اس کی سریلی آواز سے صرف لطف اندوز نہیں ہورہا ہے بلکہ اس صدا میں جو درد، جو نالہ و فریاد پوشیدہ ہے اسے بھی سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح جب شاعر حال دل کو کاغذ پر لکھتا ہے تو خامہ فرسائی کی جو آواز آتی ہے اسے بھی وہ فقط ایک مہمل صدا نہیں سمجھتا ہے بلکہ اسے وہ زنجیر کی صدا معلوم ہوتی ہے جو شوریدہ حالی کو بیان کر رہی ہے۔ یعنی لکھ کر اپنی حالت بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن قلم اسے تحریر کے ساتھ ساتھ آواز بھی دے رہا ہے      ؎

سحرگہ در قفس بلبل صفیر خونچکان میزد

بیان می کرد شاید قصہ فرسودہ حالی را

زنال خامہ ہردم نالہ زنجیر برخیزد

بکاغذ گر نویسم قصہ شوریدہ حالی را

بحال دیدہ خونبار مارا گریہ می آید

کہ در ہر فصل پیدا کرد ابر برشگالی را

اس بیت میں کس قدر دقیق خیال کو بیان کرر ہے ہیں کہ آسمان پر جو بادل نظر آرہے ہیں یہ میرے آنسوؤں کی وجہ سے ہے اور بارش کا سبب بھی میرا رونا ہی ہے۔

خودکو پند و نصیحت دے رہے ہیں کہ نالہ و فریاد کا طریقہ ان دلوں سے سیکھو جو کہ عشق میں بیمار ہیں          ؎

بیاموز از دل بیمار عاشق طرز نالیدن

رہاکن ای درای کاروان بیہودہ نالی را

ایک اورغزل ملاحظہ کیجیے اور معنی کی بلندی اور خیال پردازی دیکھیے       ؎

امید بوی تو از بہار بود مرا

وگرنہ با گل و گلشن چہ کار بور مرا

’’بادبہاری سے مجھے تیری خوشبو کی امید تھی،ورنہ مجھے گل و گلشن سے کیا کام‘‘

شبی کہ زلف و رخت را بخواب می دیدم

خیال گردش لیل و نہار بود مرا

’’رات جب   میں نے خواب میں تیرے زلف اور چہرے کا دیدار کیا، تو مجھے شب و روزکی گردش کا خیال آنے لگا۔‘‘

نوازشی عجیبی داشت برمن بیمار

اجل بہ شام غمت غمگسار بود مرا

’’مجھ بیمار پر اس کی عجیب نوازش تھی، تیرے غم کی شام میں موت میری غمگسار بن کر آئی۔‘‘

جزاینکہ حسرت و غم بردم گرجہان کاہش

باین دیار ندانم چہ کار بود مرا

’’کاہش ،اگر اس جہاں میں سوائے حسرت و غم کے کچھ حاصل نہیں ہوا، تو اس دیار میں میرا کیا کام تھا، آج تک نہ جان سکا۔‘‘

کاہش صاحب نے صرف غرل میں ہی نہیں بلکہ قطعات، رباعیات، ترجیع بند اور ترکیب بند میںبھی طبع آزمائی کی ہے۔

ایک قطعہ بطور مثال ملاحظہ کیجیے         ؎

برسر قیس حزین صاحب محمل می گفت

دارم ارمان ہمان آنچہ تو حسرت داری

’’غمزدہ قیس کے سرہانے محمل نشیں کہہ رہی تھی، میری بھی وہی آرزو ہے جو تیری حسرت ہے۔‘‘

نگہی کن بہ من خستہ دلم بیتاب است

جای لیلی بہ فدای تو چہ حالت داری

’’مجھ خستہ دل پر ایک نگاہ تو ڈال لو میرا دل بیتاب ہے، میں لیلیٰ کے بجائے تجھ پر فدا ہوں، تمہاری کیا حالت ہے۔‘‘

شمع سان بہر تو سوزد دل کاہش ہرشب

بزم اغیار شود قابل صحبت داری

’’کاہش کادل ہر شب شمع کی طرح تیرے لیے تڑپتا ہے، (لیکن تم تو)غیروں کی محفل کواپنی صحبت سے رونق بخشتے ہو۔‘‘

ماخذ

  •         سید اقبال اقبال: تاریخ سلاطین شرقی اور صوفیائے جونپور، جلد 1، ادارہ شیراز پبلشنگ ہاؤس، جونپور، یوپی  1988
  •         سید اقبال احمد، تاریخ شیراز ہند جونپور، ادارہ شیراز پبلشنگ ہاو?س، جونپور، یوپی  1963
  •         سید اولاد علی کاہش، دیوان کاہش، مخطوطہ، خانقاہ منعمیہ ابولعلائیہ، گیا، بہار
  •          سید عطا حسین فانی، کیفیت العارفین و نسبت العاشقین، مطبع منعمیہ ابوالعلائیہ، گیا، بہار
  •          سید حسین الدین احمد، ضمیمہ کیفیت العارفین و نسبت العاشقین، مطبع منعمیہ ابوالعلائیہ، گیا، بہار
  •         سید احمداللہ ندوی، تذکرہ مسلم شعرای بہار، جلد چہارم، انٹرنیشنل پریس، کراچی، پاکستان، 1969
  •          سید اقبال احمد، تاریخ شیراز ہند جونپورکا مختصر تعارف، ادارہ شیرازہند پبلشنگ ہاؤس، جونپور، یوپی  1963
  •          ریاض الدین، ریاض گیاوی، تذکرہ سخنوران وطن، تذکرہ شعرائے گیا، ریاض پبلشنگ ہاؤس، چوک روڈ گیا، بہار 1984
  •         غلام ہمدانی مصحفی، تذکرہ ہندی، جامع برقی پریس، دہلی، 1933
  •          مشاہیر بہار، جلد دوم، خدابخش اوررینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ، 2001
  •          قاضی عبدالودود: فارسی شعر و ادب چند مطالعہ، خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ، 1995
  •         عبدالغفور نساخ، سخن شعرا،اترپردیش،اردو اکادمی، لکھنؤ، 1982
  •         سید عزیزالدین بلخی احمدمتخلص بہ ’راز‘، تاریخ شعرائے بہار،جلداول، قومی پریس لمیٹڈ، بانکی پور، پٹنہ،1931

Dr. Md Sadique Akhtar

Guest Faculty in Persian

School of Arab and Asian Studies

Department of Asian Languages

English and Foreign Languages University

Hyderabad- (Telangana)

Mob.: 9818148553

sadique111@gmail.com


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...