26/12/25

تقابلی ادب کے اساسی تصورات،مضمون نگار: ارشاد نیازی

 اردو دنیا،جولائی 2025

تقابلی ادب، ادب کا ایک سائنسی طریقۂ کار اور ڈسپلن ہے۔ اس ڈسپلن کے دو اہم اجزا ہیں، ’ایک تقابل اور دوسرا تجزیہ‘۔ یہ خود کسی دبستان اور نظریے کا حصہ نہیں ہے، بلکہ اس کا عمل دخل تمام دبستانِ فکرو نظر میں یکساں طور پر حاوی ہے۔وہ اس لیے کہ کسی فن یا فن پارہ اور فنکار پر دورانِ بحث مطالعہ کرنے والا تخلیق اور تخلیق کار کاجب تجزیہ کرکے قدروقیمت متعین کرتا ہے تو فطری طور پر وہ تقابلی مطالعے کے عمل سے بھی گزرتا ہے۔کہنا چاہیے کہ مطالعہ کیسا بھی ہو ،کسی بھی طرح کے تنقیدی نظریات ہوںتقابلی مطالعے کی ایک زمین یا حصہ داری اس میں ضرور ہوتی ہے۔

تقابلی ادب، ادب کی تفہیم اور پرکھ کا ایک اہم منظر نامہ ہے،جو زمانۂ موجود کی سب سے بڑی ضرورت بن کر سامنے آیا‘۔ یہاں  پہلے تو کسی ایک ہی زبان کے حدود میںدو یا دو سے زیادہ شاعروں،ادیبوں اور میلانات واوصاف کا تقابل کیاجاتا ہے۔جیسے اردو میں خواجہ میردرداورشاہ نیاز احمد بریلوی کی صوفیانہ شاعری کا تقابلی مطالعہ وغیرہ۔لیکن اس طرح کے مطالعے کواگرہم نے حرزِجاںبنا لیا تو یہ ہماری اپنی کم مائیگی یا احساسِ کمتری ہوگی کہ ہم ایک ہی زبان اور ادب سے متعلق ہوکر رہ گئے یا اسے اپنی چار دیواری تک محدود کر دیا،جو کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تقابلی مطالعے کو وسعت دی جائے یعنی اپنی زبان کے دائرے سے نکل کر دوسری زبانوں کے فن، تکنیک، موضوع اوراصناف کے حوالے سے بھی تقابلی مطالعہ کیاجائے۔جیسے اردو۔ہندی غزل کا تقابلی مطالعہ یا ہندی اور اردو افسانوں پر تقسیمِ ملک کے اثرات وغیرہ۔ تیسری صورت مطالعہ کی یہ ہے کہ ایک ملک کی سرحد سے پرَے دوسرے ملک کی زبان اور ادب کے ساتھ علم و احساس کے دوسرے شعبوں کا بھی تقابلی مطالعہ کیا جائے ۔

جاننے والے جانتے ہیں کہ تقابلی مطالعے کی روایت زیادہ پرانی نہیں ہے۔لیکن اتنی نئی بھی نہیں ہے کہ اسے گلوبل ویلج کے تصور کے ساتھ منہا کرکے دیکھا جائے۔وہ اس لیے آپ کوئی سی اور کتنی بھی چھوٹی لکیر کھینچیں‘ اس کی عمر ڈیڑھ۔دو سو سال تو ہو ہی جاتی ہے۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ گلوبل ویلج کے تصور کے ساتھ آرہی تبدیلوں کو تقابلی مطالعے کے ماہرین نے شدت سے محسوس کیا کہ دنیا کے مختلف ممالک کے اختصاصات اور ترجیحات بدل چکے ہیں۔ایسے میں اثرونفوذ اور تطابق و تخالف کا اثر انداز ہونا لازم ہے۔

سوال یہ ہے کہ اختصاص و ترجیحات،تطابق و تخالف اور اثر و نفوذ کے ساتھ فنکاروں،فن پاروں، اثرات و خصوصیات مرتبے اور درجات کی ضرورت کیا ہے؟ جواب یہ ہونا چاہیے کہ جب جب علمی، تہذیبی، مذہبی،  معاشیاتی یا قدرتی سبب سے ہجرت ہوتی ہے، تب تب Contactualityبھی قائم ہوتی ہے۔یہی قربت تقابلی ادب کے مطالعہ کی بنیاد ہے۔نئے رشتوں اور تعلقات کے قائم ہونے کے ساتھ خوبیوں،خامیوں اور مماثلتوںکی بحث بھی ممکن ہوجاتی ہے۔ ادبی تعلقات اور آپسی رشتوں کا مطالعہ تقابلی ادب کی بنیاد کے پتھروں میںسے ایک ہے۔ یہ مطالعہ فنونِ لطیفہ،تاریخ، سماجیات، سائنس، مذہب، مذہبی معاملات، فلم، لوک ادب، بین تہذیبی اور Marginalised people وغیرہ کے ساتھ علوم کے مختلف شعبوں کے آپسی رشتوں کا بھی مطالعہ ہے۔ اس طرح کا مطالعہ ایک طرح سے فکری تاریخ کا بھی مطالعہ ہوتا ہے،جس کے مرکز میں خاص نقطہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کس طرح ادب کے توسط سے ایک سے دوسری جگہ پہنچتے ہیںاور ادب کو متاثر کرتے ہیں۔ساتھ ہی ایک ادب کے عناصر اور اقدار و روایات کاکس طرح سے دوسرے ادب میں استقبال کیا جاتا ہے۔اسی Acceptance  کے جذبے میں اس کے حسن کا جذبہ کارفرما ہے اور عزت بھی مضمر ہے۔ وہ اس لیے کہ خود سے باہر دوسروں کو سمجھنے کے لیے قرأت سے زیادہ اور زیادہ عزت دینے کا کیا جذبہ اور طریقہ ہوسکتا ہے۔ دو زبانوں،تہذیبوں اور ملکوں کے ادب کو جب ایک ساتھ رکھ کر پڑھا جائے تو Textuality Co-کی صورت تو بن ہی جاتی ہے، نیز قرأت سے ہم آہنگی کی جو روشنی پھیلتی ہے،اس سے روشن خیالی ذہن و دل میں در آتی ہے۔ اس طرح کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مختلف ممالک اور تہذیب و ثقافت سے وابستہ مصنفین، انصاف، انسانیت، استحصال، نابرابری، رنگ و نسل، بھید بھاؤاور تعصب وغیرہ انسانی برتاؤ کی گہرائی اور گیرائی کے اختصاص کو کس زاوئے سے دیکھتے اور پرکھتے ہیں۔لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ دو مختلف زبانوں کی تخلیقات کی اساس میں سماجی ترغیبات اور معاشرتی ترقی کے نشیب و فراز کے ساتھ تاریخ کا پورا علم ہونا ضروری ہے۔ساتھ ہی ساتھ ادبیاتِ عالم میں جو فنی،فکری، موضوعاتی، لسانی اور اسلوبیاتی اشتراک و امتزاج ہے ان کی بازیافت بھی لازم ہے۔

اس لیے کہ تقابلی مطالعہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح ایک ادب ،دوسرے ادب سے خوشہ چینی کرتا ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کس طرح یونانی افکار اور ادب نے ساری دنیا کو متاثر کیا اور کس طرح یونانی ادب لاطینی ادب سے مربوط ہے۔سب جانتے ہیں کہ دنیا جب علم کی روشنی سے محروم تھی، ہندوستان کا علم و ادب روشنی بن کر سارے عالم میں پھیلا اور ہندوستانی علم وادب نے ایرانی اور مشرق وسطیٰ کے ادب پر اثر ڈالا۔معلوم یہ ہوا کہ ہر قوم و ملّت کے ادب نے دوسری قوم و ملت کے ادب میں کم و بیش اثر و نفوذ کیا ہے۔ فرانس کا عہد نشاۃ ثانیہ یونان اور رومی ادب سے خالی نہیں ہے۔ رومی ناقدین کے الفاظ و اصطلاحات اکثر یونانی تنقید سے ماخوذ تھے۔رومیوں کے وسیلے سے یونانی نقادوں کے الفاظ و اصطلاحات اور تعبیرات فرانسیسی نقادوں تک عہد نشاۃثانیہ میں پہنچے۔ ان کے علاوہ مشرق میں سریانیوں اور عربوں کے یہاں بھی ان کے الفاظ اور اصطلاحات کا ایک حصہ نقل اور ترجمہ ہوکر ہمارے ادیبوںاور نقادوں میں رائج الفاظ اور اصطلاحات بن گئے ہیں۔  اسلام کے سیاسی تسلط و غلبہ نے ایران کے شاعروں اور ادیبوں کے لیے عربی ادب کی تنقید کے دروازے کھول دیے۔ سترہویں صدی کے وسط سے مشرق کے علمی ذخیرے یوروپ کی توجہ کا مرکز بنے اور مستشرقین نے اسلامی ادب کے ایک بڑے ذخیرے کو مغربی زبانوں میں منتقل کیا۔ یہی نہیں، کلیلہ و دمنہ کا ترجمہ فارسی میں ہوا اور پھر اس ترجمے کو عربی میں منتقل کیا گیا۔ آج یہ حال ہے کہ اس کو اسلوب کی سند کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ خود عربوں کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح انھوں نے غیر ملکی علمی سرمائے سے استفادہ کیا۔جاحظ کے قول کے مطابق عربوں نے علم بلاغت ہندوستان سے سیکھا۔‘‘Paul Hazard  نے اپنی کتاب’تقابلی ادب‘ میں لکھا ہے کہ فرانس نے انگریزی اور جرمن ادب کا مطالعہ کرکے اس سے اپنا فکری و ادبی افق روشن کیا اور اس میں وسعت و عظمت پیدا کرلی۔

تقابلی ادب کے مطالعے کے دو اسکول ہیں ایک فرانسیسی اور جرمن اسکول۔ دوسرا امریکی اسکول کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان دونوں اسکولوں کے ادبی تصورات یکساں نہیں ہیں۔ فرانسیسی اور جرمن اسکول میں ادبی تاریخ اور روایتوں کو مطالعے کی بنیاد بنایا جاتا ہے۔ ادبی تاریخ کے مطالعہ کے دوران یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک ادب کس طرح دوسرے ادب کو متاثر کرتا ہے یا اثر انداز ہوتا ہے۔ اثر و نفوذ یا قبولیت، مطالعہ فرانسیسی اسکول کے تقابلی ادب کا جوہر ہے ، جس نے کافی وقت تک تقابلی ادب کے مطالعے کو متاثر کیا۔سب جانتے ہیں کہ اثر و نفوذمطالعے کے شعبے میں  Affinity، Legacy، Analogy (ربط و تعلق، میراث، مطابقت و مشابہت) کے کردار کی پرکھ کی جاتی ہے۔ یعنی کس طرح ایرانی ادب ہندوستانی ادب پر اثر انداز ہوا اور کس طرح یونانی ادب نے دنیا کے دوسرے ممالک کے ادب کو متاثر کیا۔قدیم ماخذات سے ان تہذیبی و ثقافتی لین دین، تطابق و تخالف کا اندازہ ہوتا ہے، جو برسوں سے ایک ملک سے دوسرے ملک اور ایک قوم سے دوسری قوم تک جاری تھا اور جس نے ادب کو متاثر کیا۔ اس گروہ کے لوگ ادبی شہ پاروں اور ادبی تحریکات و تخلیقات کی توضیح و تفسیر میں تاریخ کی مدد لیتے ہیں اور ان کے ارتقا میں مختلف قوموں کے ارتقائی منازل اور ان کے اثرات سے بحث کر کے نتائج اخذ کرتے ہیں۔

دوسرا اسکول امریکی اسکول ہے۔ امریکی اسکول نے تقابلی ادب کے شعبے کو جو وسعت بخشی ہے، وہ قابل تعریف ہے۔ ادب کا تقابلی مطالعہ تو ٹھیک ہے بنیاد میں تو ادب ہی ہے۔وہ اس لیے کہ ادب کوئی گرین ہاؤس میں پیدا نہیں ہوتاہے۔ ادب تخلیقِ انسانی ہے۔ انسان چونکہ سماج میں رہتا ہے اس لیے سماجی، معاشی، نفسیاتی اور سیاسی سبھی تاثرات اس پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے ادب کے تقابلی مطالعے میںان کے ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتاہے۔ ساتھ ہی امریکی اسکول میں تقابلی ادب کے مطالعے کے دوران ان ادبیات کے اندرونی ڈھانچے، تحریکات، ادبی روایات و تصورات، فن پاروں کی جمالیاتی اور اسلوبیاتی خصوصیات کو موضوع بنایا جاتا ہے۔ بائزکھ اسٹرامین نے امریکی ادب کی اس خصوصیت کی نشان دہی کی ہے۔ اسٹرامین کی اس فکر کی موافقت ’کوئی بیرنگٹن ‘Main Current in American Thoughtاور آرتھرالوجوائے کی تصنیفThe Great Chain Bein: Study  of the History of an Ideaسے بھی ہوتی ہے۔اس گروہ کے نظریے کے مطابق تقابلی مطالعے میں وہ انسانی نفس سے متعلق جذبات ہیں، جو وجدانی طور پر شعرو ادب میں ظاہر ہوتے ہیں اور انسانی نفس کی گہرائیوں میں جنم لیتے ہیں،مگر ادیب اپنی صلاحیت سے ان کو ادبی شکل عطا کرتا ہے۔ اس کا ذوق انسانی قلب اور نفس کی ترجمانی کرتا ہے۔یہ عالمِ وجدانی کا عطیہ ہے، جو فکر و فن کو متاثر کرتا ہے۔ 

امریکہ کو تقابلی ادب کی تلاش اس لیے بھی کرنی پڑی کیونکہ دوسری جنگ عظیم کے آس پاس یوروپی دانشوروں نے اپنے ملک کی Dictatorshipوالی حکومت اور تاناشاہی سیاستدانوں کی ظالمانہ اور سفاک حکمتِ عملی سے ہجرت کرکے امریکہ میں پناہ لی تھی۔ فطری طور پر ان کے ساتھ ان کا ادب بھی آیا۔ان کے ادب کو مقام اور ان کا مطالعہ، تقابلی مطالعے کے توسط سے ہی ممکن تھا۔اس کے لیے American Comparative Literature Association (ACLA) بنایا گیا۔ ACLAمیں ایک قانون بنایا گیا کہ دس سال میں ایک رپورٹ تیار کی جائے،جس کا ایک معیار متعین کیا جائے۔اس کے بعد 1990کی دہائی میں معیار کی جگہ Status Report کا استعمال کیا جانے لگا۔ شاید اسی لیے اس اسکول کے ماہرین تقابلی مطالعے کو شعریات و جمالیات کا ڈسپلن نہیں بلکہ ایک تاریخی ڈسپلن مانتے ہیں۔اس کا تعلق سچائی سے ہے۔ اسے مختلف ممالک کے مصنفین، حقیقت پسندانہ آگہی اور عزم و خیال سے بھی اسے متعلق جانتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ امریکی دانشور ہنری ریمارک کی تعریف نے اسے Interdisciplinary  بنادیا۔

تقابلی ادب جہاں ادبی مطالعے کے لیے روشنی فراہم کرتا ہے اور اس سے Perspective میں وسعت آتی ہے۔وہیں یہ مطالعہ ملک کی سرحدوں کو توڑتا ہوا مختلف قوموں اور ان کے تہذیبی اثرات اور تحریکات کی تلاش کرتا ہے اور انسان کے دوسرے علمی کاموں کے ساتھ ادب کے تعلقات کو جانچتا اور پرکھتاہے،جس سے ہمارے ذہن میں وسعت آتی ہے اور عالمی ادب کے درمیان ربط پیدا ہوتا  ہے۔اس کا بنیادی مقصد جوڑنا،دوریاںکم کرنااورعالمی برادری کا جذبہ پیدا کرنا ہے نیز زبانوں کے اختلافات کو کم کرنابھی اس کا فن ہے۔زبانوں،نظریوں اور تہذیبوں کے توسط سے تطابق و تخالف کا جو رشتہ قائم ہوتا ہے اس کی بنیاد پر مستقبل کی تعمیر کرنااس کا خاص مطمح نظر ہے۔تقابلی ادب کا مقصد اثر اور شعور کو وسعت دے کر انسان کو انسانی سطح پر لانا،انسانیت کو فروغ دینا ہے۔جاننے والے جانتے ہیں کی دنیا کے غیر معمولی حسن،نادرات و عجائبات اور اقدار و روایات وغیرہ کا تعارف تقابلی ادب سے ہی ممکن ہوسکا ہے۔

اس مطالعے کے دوران بہت سے ایسے گوشے سامنے آتے ہیں،جن کا احساس عام حالات میں کسی کو نہیں ہوسکتا ہے۔ تقابلی مطالعے کے ادبی، فکری، لسانی، موضوعاتی اور اسلوبیاتی رجحانات کے اس لین دین، تطابق و تخالف سے جہاں ادب کو ترقی ملتی ہے،وہاں بہت سے نئے الفاظ، اصطلاحات، محاورات، کہاوتیں اور ضرب الامثال وغیرہ ایک ادب سے دوسرے ادب میں منتقل ہوکر اس کے Canvasکو وسیع کرتے ہیں اور قاری بیک وقت دو ادب اور تہذیب و ثقافت سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ یہی نہیں تقابلی ادب کے مطالعے سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر کئی ادبی ثقافتوں کے بین Othernessکے احساس کو کم کر کے باہمی اتفاق Togethernessکے احساس کو فروغ دے کر بین الاقوامی تہذیب و ثقافت اور بین الاقوامی ہم آہنگی کو مضبوط کیا جاسکتا ہے۔

ہندوستان ایک کثیر مذہبی، تہذیبی اور لسانی ملک ہے۔ ہندوستان اپنی شناخت کے لیے کثرت میں وحدت کا تصور عام ہے۔اس تصوّر پر غور کریں تو اندازہ ہوگا کہ صرف اپنی زبان ،اپنے ادب اور صوبائی پہچان کی بنیاد پر کوئی بھی پورے ہندوستان کو جاننے اور پہچاننے کا دعویٰ نہیں کر سکتا ہے۔ ہمیں معلوم نہیں کہ اپنی زمین کے اندر جو جڑیں ہیں ان کی رسائی کہاں تک ہے۔ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ ہماری زمیں پر قبضہ کرکے کہاں سے کہاں تک پہنچی ہوئی ہیںاورکہاں کہاں سے آب حیات مجتمع کر رہی ہیں۔لازم ہے کہ ہم اپنی زمین سے آگے خود کو اور ادب کو جاننے پہچاننے کی کوشش کریں۔تقابلی مطالعہ کا ڈسپلن روح کے اس عظیم الشان تسلسل میں ہمارا سب سے بڑا معاون ہے۔

ہندوستانی پس منظر میں تقابلی ادب کی اساسی فکر یہی ہے کہ مختلف ہندوستانی زبانوں کے درمیان مختلف رنگ وروپ کے باوجود ان سبھی میں معنوی یکسانیت موجود ہے۔ اسی کے پیش ِنظر تقابلی ادب کے ذریعہ ہندوستانی ادب میں پوشیدہ ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی اساسی یکجہتی کو نمایاں کرنے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عہد، رجحان اور ادب کے فطری تفاعل کی بنیاد پر پورے ہندوستانی ادب کی پرکھ ہونی چاہیے۔ یہ کام کسی ایک زبان کو اساس بنا کر کیا جاسکتا ہے، جس کا ادب زیادہ سے زیادہ تہذیبوں کی عکاسی کرتا رہا ہے۔ وہ اس لیے کہ اس سے نہ صرف تقابلی ادب کے مطالعے کی تاریخ تیار ہوگی بلکہ ہندوستانیت کی شناخت، قومی امتیازات،سماجی، تہذیبی، سیاسی اور فلسفیانہ و مفکرانہ ادب کی سطح پر Communication میں آسانی ہوگی۔ اردو زبان اس کے لیے زیادہ موزوں ہوسکتی ہے کیونکہ اس کا دائرہ کار آغاز سے ہی وسیع رہا ہے۔ اردو ادب کو مرکز میں رکھ کر دوسری ہندوستانی زبانوں کے ادب کے تقابلی مطالعے کے ذریعہ ہندوستانی تہذیبی وثقافتی ہم آہنگی کو اجاگر کیا جاسکتا ہے۔اس سے قومی ادب،بین الاقوامی ادب اور عام ادب  General Literatureکی جو تعقلی وراثت Intelletcual Heritageہے اس سے تنقید کو منسلک کرنے میںتقابلی ادب ایک اہم رول ادا کر سکتا ہے اور ادبی ثقافت کے میدان میں صوبائی اور علاقائی سرحدوںکو مسمار کرکے غیر ملکی جینوفوبیا Geneo Fobiaسے بھی نجات دلا سکتا ہے۔ تقابلی ادب میں زیرِمطالعہ ادب کے امتیازات اور ان کے مابین پائے جانے والے مشترک Inter Commonality بین متونیتInter Textuality کو پہچاننے کی جو طاقت ہے اس سے ہمیں اپنے ادب اور پرائے ادب کو سمجھنے کے لیے Bifocal Vision) ملتی ہے اور اس طرح مختلف ادبی رجحانات میں بین ثقافتی احساس یا بین ثقافتی سمجھ پیدا کرکے قاری یا سامع کو مہذب بنانے کی جو پوشیدہ صلاحیت ہے اس کا ہم زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔1

یعنی تقابلی ادب کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ملکی اور عالمی ادب کے اتحاد کے ذریعے انسانوں میں اتحاد بڑھے اور لسانی سطح پر اختلاف کی وجہ سے جو ملکی اور عالمی سطح پر ٹکراؤ کی صورت پیدا ہوگئی ہے اسے کم کیا جائے۔ اس طرح تقابلی مطالعہ ہمارے محدود علم میں اضافہ و توسیع کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔لیکن ’’ہر تقابلی مطالعہ کی بنیاد ظاہر ہے ترجمے پر ہوگی۔فنونِ لطیفہ کے دوسرے شعبوں مثلاً رقص،موسیقی اور مصوری کی طرح ادب نے کوئی عالمگیر زبان ایجاد نہیں کی اور زبان، ادب کا وسیلۂ اظہار ہے اور ہر اہم زبان سے واقفیت اور وہ بھی اتنی اور ایسی واقفیت کہ اس کے ادب سے بہرمندہ ہوا جا سکے،کسی ایک فرد کے لیے ممکن نہیں۔ اس لیے تراجم پر انحصار لازم ہے۔‘‘ 2 مگر اس کے لیے ہمیں ’’ سب سے پہلے اچھا عالم نہیں ،اچھا مطالعہ کنندہ بننا چاہیے۔‘‘

اردو کے بعض ناقدین کا خیال ہے کہ دو غیر زبانوں کے فنکاروں یا فن پاروں کا موازنہ و مقابلہ صحیح نہیں ہے۔ان ناقدین کا کہنا ہے کہ ادب کی روح زبان ہے اور زبان،تہذیب و ثقافت کی آئینہ دار ہوتی ہے۔مثلاً غزل کے خیال کو منتقل کیا جاسکتا ہے مگر اس کے سوز و گداز اور کیفیت کو دوسری زبان میں منتقل کرنا ممکن نہیں۔اس سلسلے میں پروفیسر محمد حسن لکھتے ہیں:

’’تراجم اکثر ناقابل اعتبار اور ناقص ہوتے ہیں، خاص طور پر تخلیقی ادب اور اس میں بھی شاعری کے تراجم نہ تو صحت مضمون کی ضمانت کرتے ہیں نہ حسن اسلوب کی۔ ترجمہ کیسا ہی اچھا کیوں نہ ہو اصل کا بدل نہیں ہوسکتا۔زیادہ سے زیادہ وہ کسی ادب پارے کے ذریعہ ادا ہونے والے مضامین،احساسات و افکار ہی کو پیش کر سکتا ہے۔ جبکہ ادب کا معاملہ الفاظ کے ذریعے کیفیات کی ترسیل کا ہے اور ان کیفیات کا تعلق الفاظ کے پیچھے کارفرمالہروں سے ہے ،جو مختلف رنگ و آہنگ بکھیرتی ہیں اور ہرزبان کی مخصوص روایات اور تلازموں میں رچی بسی ہوتی ہیں، مترجم ان لہروں کو گرفت میں نہیں لے سکتا۔‘‘3

یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے،لیکن اس رائے سے مکمل اتفاق نہیں کیا جاسکتا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر زبان اور اس کی تعلیقات کی اپنی تہذیب اور اپنے امکانات ہوتے ہیں، جس میں ترجمے کے توسط سے داخل ہونا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ اس لیے کہ مترجم ایک ایک لفظ کو اپنی گرفت میں لینے کے باوجود اس روح کی یافت نہیں کرپاتا، جو اس میں مضمر ہے جبکہ ترجمہ صرف لفظوں تک رسائی کا عمل نہیں ہے بلکہ روح کی یافت ہے ،جو اجنبی پن کو ختم کرتا ہے۔ مترجم جب تک مصنف کے جذبات و احساسات اور خیالات تک رسائی نہیں حاصل کر لیتا اور تخلیق کے کرب کو نہیں پالیتا، جس سے تخلیق کار گذرا ہے، تب تک وہ انصاف نہیں کر سکتاہے۔ یہ سوال پھر بھی ذہن میں رہتا ہے کہ مترجم اس ناقابل ادراک حالت سے اس طرح گزر سکتا ہے، جس طرح تخلیق کار گذرا ہے؟ جی ہاںکچھ ایسے مترجم بھی ہوئے ہیں اور ہیں، جنھوں نے اپنے ترجمے سے تخلیق کی روح کی یافت کرکے مصنف کو عالمی سطح پر متعارف کرادیا۔میری مراد فیٹززر الڈ سے ہے ،جنھوں نے 1859میں عمر خیام کی 75 رباعیوں کا ترجمہ کیا تھا،اس ترجمے کا شمار دنیا کے اہم ترجموں میں ہوتا ہے۔

اگر کوئی شخص دونوں زبانوں سے اچھی طرح واقف ہے تو وہ شعر کے مفہوم کو اسی سوز و گداز کے ساتھ دوسری زبان میں منتقل کر سکتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ صرف خیال ہی لطف اندوزی اور اہمیت کا حامل نہیںہوتا ہے۔اگر اس میں ادبی توانائی اور خیال ارفع و اعلیٰ ہوتو وہ تمام زبانوں کو متاثر کر سکتا ہے۔اس لیے کہ قوموں،ملکوںاور خطوں کی تقسیم کے باوجودانسانی جذبات کی دنیا میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔لوگوں کے لباس، اشیائے خورد و نوش،آداب معاشرت،رسم و رواج،مذہبی تصوّرات اور طریقۂ غور و فکر میں زبردست اختلافات کے باوجوددل کی دنیا میں تقریباً ایک ہی طرح کا ہیجان پیدا ہوتا ہے۔خوشی سے انبساط کا حاصل ہونا،غم سے دل کا بجھ جانا،وصل میں مسرت اور ہجر میں تکلیف... حسن سے لگاؤ اور بد صورتی سے نفرت۔یہ امتیازی باتیں ایسی ہیں، جن سے کوئی ملک اور قوم خالی نہیں ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ تاریخی، جغرافیائی، سماجی اور تہذیبی حالات کے تقاضوں سے ان کے مدارج میں فرق آتا ہے اور طریقۂ اظہار مختلف نظر آتے ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ مختلف علاقوں کے بسنے والوں سے ان اعلیٰ انسانی قدروں کو، جنھیں علما نے حسن،خیر اور حق سے تعبیر کیا ہے اور ایک دوسرے سے بالکل متضاد تسلیم کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر طرح کے اختلاف کے باوجود مختلف علاقوں کے بسنے والے بنیادی انسانی خصوصیات کے سلسلے میں ایک ہی طرح کے ردّ عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کا دوسرا نام ’آفاقیت‘ ہے۔ ارسطو نے اعلیٰ شاعری کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے،  جس چیز پر سب سے زیادہ زور دیا ہے ،وہ یہی آفاقیت ہے۔ دنیا کی اعلیٰ شاعری میں اس کی وجہ سے یکسانیت، وحدت اور مماثلت پیدا ہوتی ہے۔جہاں تک انسانی جذبات اور محسوسات کا تعلق ہے، ان میں زیادہ تر انسان فطری طور پر ایک دوسرے کے قریب ہوں گے۔ اگر ایسا نہ ہوتو پھر ایک ملک کے انسان دوسرے ملک کے انسانوں سے بالکل الگ ہوجائیں اور ان کے درمیان کسی قسم کا رشتہ قائم ہی نہ ہوسکے گا۔ اس کا دوسرا نتیجہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک علاقے کے ادب میں زندگی کے جو قانون پیش کیے گئے ہیں، دوسرے علاقے کے لوگوں کے لیے بالکل گونگے کا خواب ہوں گے اور کسی قسم کاجذباتی ردّ عمل نہ پیدا کر سکیں،لیکن جب ہم ساری دنیا کے اعلیٰ ادب پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپنی بنیاد میں سب کہیں نہ کہیں فن کی ایک منزل پر پہنچ کر یکساں ہوجاتے ہیں اور جذبات کی حدوں کے اندر بھی اچھی خاصی مشابہت پیدا کر لیتے ہیں۔اگر ایسا نہ ہوتا توہومر،ورجل، غالب، انیس، والمیکی، ویاس، کالی داس، فردوسی، شیکسپیئر، ملٹن، کبیروغیرہ کو صرف اپنے علاقوں اور اپنے ہم مذہبوں میں خصوصیت اور اہمیت حاصل ہوتی،لیکن ایسا نہیں ہے۔ بلکہ بنیادی اخلاقی تصورات کے لحاظ سے اور فطرتِ انسانی کے پیشِ نظر ہندوستان کا بسنے والا ہومر  میں اور جرمن کا بسنے والا کالی داس میں غیر معمولی دلچسپی لیتا ہے اور شاعری کے اعلیٰ درجہ پر اپنی بلندیٔ فکر اور تفسیرِ جذبات کی وجہ سے یہ سارے شعرا اپنی قومی خصوصیت کو برقرار رکھتے ہوئے بھی عالمگیراور آفاقی ہوجاتے ہیں۔‘‘4

 وہ اس لیے کہ مختلف ممالک میں بسنے والے لوگوں میں ذات پات مذہب وغیرہ کے اختلاف کے باوجود ان کے ذہن و دل میں یکسانیت اور ان میں کچھ مشترکہ خصوصیت پائی جاتی ہیں... دنیا کی تمام زبانوں کے ادب پر نظر ڈالنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عالمی ادب میں دوڑتی ہوئی انسانیت کی روح اوراس میں یکسانیت اس بات کی علامت ہے کہ احساسات علاقائی اختلاف وعصبیت سے ماورا ہوتی ہے۔‘‘5

حواشی

.1       لسانی ہم آہنگی اور اردو زبان:عبدالرشید صدیقی، ص4

.2       مشرق و مغرب میں تنقیدی تصوّرات کی تاریخ: محمد حسن ،ص364

.3       مشرق و مغرب میں تنقیدی تصوّرات کی تاریخ: محمد حسن، ص364

.4       انیس اور فردوسی کا تقابلی مطالعہ: سید فدا حسین، ص1,2

.5تلناتمک شودھ اور سمیکشا:پی۔ادیشور راؤ ،ص2

Dr. Irshad Niazi

Dept of Urdu, Dehli University

Delhi- 110007 (UP)

Mob.: 9650467303

niaziirshad@yahoo.com

 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...