اردو دنیا،اگست 2025
خدائے سخن ، اور اردو غزل کی آبرو میر تقی میرنے اردو شاعری
کو ہر اعتبار سے کمال بخشا ہے یہی وجہ ہے کہ غالب ہوں یا ذوق، ناسخ ہوں یا حسرت
سبھی نے میر کی استادی تسلیم کی ہے۔ اس لیے اردو کے طالب علم کے لیے میرسے واقفیت
ضروری ہے۔
میرتقی میر کواوران کی مشکل ترین زندگی کوجاننے سے طلبہ میں
شعروادب کا شعورپیداہوگا اورنامساعد حالات میں بھی عظمت وبلندی پانے کاجذبہ
اورحوصلہ پیدا ہوگا۔ میر کا کلام بلاشبہ زندگی کو موزونیت و موسیقیت سے
سرشارکرتاہے۔ہم کلام ِمیرکا جائزہ کئی زاویوں سے لے سکتے ہیں۔ مثال کے طورپر شعری
وسائل ،زبان و بیان اور مضامین و مفاہیم وغیرہ۔
میر تقی میرکا اصل نام محمد تقی تھا۔میر تخلص تھا۔میر تقی میرکی
پیدائش 28 مئی 1723 کو اکبر آباد میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام محمد علی تھا اوروہ
علی متقی کے نام سے مشہور تھے،کتب فروش تھے۔ بقول میران کے والد درویش صفت ،گوشہ
نشین اوراپنے زمانہ کے معروف تقویٰ شعار انسان تھے۔اگرچہ اس دورکے کسی تذکرے میںمیرکے
والدکی کوئی تفصیل نہیںملتی۔ ان کے اجداد حجاز سے ہندوستان وارد ہوئے تھے۔ پہلے
پہل حیدرآباد پھراحمد آباد میں قیام کیااور پھر اکبرآباد میں مقیم ہو گئے۔میر
نے ابتدائی تعلیم والد کے دوست اور اپنے منہ بولے چچا ’سید امان للہ درویش‘ سے
حاصل کی ،جن سے میر بے حد مانوس تھے ،کہاجاتا ہے کہ میراپنے استاذ کے ساتھ’احسان
اللہ‘ نامی درویش سے ملنے گئے تو انھوںنے میر اور ان کے استاذسے گفتگو کے بعدان کی
ذہانت کو محسوس کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر تربیت صحیح رْخ پر ہوئی، تو اس کی شہرت آسمان
تک پہنچ جائے گی۔‘‘ بہرحال رفتہ رفتہ حرف اورلفظ سے قربت بڑھنے لگی۔ اْردو اور
فارسی پڑھنے میں لطف آنے لگا۔ چند ہی برس گزرے ہوں گے کہ میر کو فارسی اور اردو
پر کمال درجہ دسترس اور درک حاصل ہو گیا۔لیکن محض نو برس کی عمرمیں استاذ کا
انتقال ہوگیا۔تب والدنے میر کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری اپنے سرلے لی۔ 1732-33
کا زمانہ تھا، میر ابھی دس گیارہ برس کے ہی تھے کے والدکاسایۂ عاطفت بھی سرسے اٹھ
گیا۔مشفق استاذ کی وفات کا صدمہ اوروالدکی وفات کے قلق نے میر کے ذہن ودماغ پر غم
کے دیر پا اثرات مرتب کیے۔ میر کی شاعری میں اس کا ذکر جا بجا ملتا ہے۔سولہ یاسترہ
برس کی عمرسے ہی میر اردوشاعری کی طرف مائل ہوگئے اورجب نکات الشعرا مرتب کررہے
تھے تو ان کی عمرمحض تیس برس تھی۔
میرکے والد محمد علی متّقی نے دوشادیاںکی تھیں۔ پہلی شادی
استاذالاساتذہ ’سراج الدین علی خان آرزو‘ (1689۔26جنوری1756) کی بڑی بہن سے کی۔
ان سے حافظ محمد حسن نام کے ایک بیٹے تھے۔ یہ میرکے بڑے اور سوتیلے بھائی تھے۔
دوسری بیوی سے تین بچّے پیدا ہوئے۔ دو لڑکے اور ایک لڑکی۔ میرکاگھراناایک متوسط
گھرانا تھا۔ دولت وثروت سے دْور اور غْربت سے بہت قریب۔ وہ زمانہ ایسا پر آشوب، سیاسی
ہیجان وخلفشار، ریشہ دوانیوںکا دور تھامغلیہ سلطنت تیزی سے روبہ زوال تھی۔ گویا میرنے
بدترین خلفشارِ زمانہ میں آنکھیں کھولیں۔ یوں کہہ سکتے ہیں کے میر کی پیدائش اس
وقت ہوئی جب برّصغیر میں سلطنتِ مغلیہ زوال کی طرف اور انگریزاقتدار کی جانب
گامزمن تھے۔
میر کا عہد
میر کے دور میں سیاسی اوراقتصادی انحطاط کے باوجود، ادبی
اورتہذیبی اعتبار سے دہلی ہی ہندوستان کا واحد مرکز تھی۔یہاں کی زبان اور ثقافت
کومستندسمجھاجاتا تھا۔ میر کا عہد بڑے ہنگامے اور اتھل پتھل کا دور تھا۔ مغلیہ
سلطنت کمزور ہوتی جارہی تھی اور ہندوستان کی دور دراز ریاستیں خود مختار ہورہی تھیں۔
شہنشاہ کا اقتدار مسلسل سمٹتا جارہا تھا۔ سلطنت کے ساتھ ساتھ مغل فوج بھی کمزور
ہونے لگی اور۔ 1739 میں نادر شاہ درانی کے
حملوں کا مقابلہ نہ کر سکی۔ رہی سہی کسر مرہٹوں کے ہنگاموں، احمد شاہ ابدالی کے حملوں اور سکھوں کی یورش نے
پوری کر دی۔ دہلی کے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ حالانکہ میر سے پہلے ولی دکنی کے دیوان نے دہلی
کی ادبی فضا کو یکسر تبدیل کر دیا تھا۔میر سے پہلے جن شعرا کے نام ملتے ہیں ان میںسے
بعض اردواور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہتے تھے اور چند ایسے بھی تھے جو صرف
اردو میں شعر کہتے تھے۔ابتدائی اردو شاعری جوتقریباپچیس تیس برسوںپرمحیط ہے اس دور
میں ایہام کو بہت اہمیت حاصل تھی۔ ایہام اور تہ دار اشعار کہنے کوہی کمالِ شاعری
تصورکیاجاتا تھا لیکن میرنے خود کو اس روش تک محدودنہیںرکھا،گرچہ فرماتے ہیں ؎
کیا جانوں دل کو کھینچیںہیں کیوں شعر میرکے
کچھ طرز ایسی بھی نہیں ایہام بھی نہیں
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ میرتقی میرنے ایہام گوئی کی
مخالفت کی ہویاان کے دیوان میں ایہام زدہ اشعارنہ ہوں بلکہ میرکے دیوان میںبہت سے
اشعارایسے ہیں جس میں اعلی درجے کا ایہام موجودہے البتہ اس دور کے شعرا ایہام گوئی
کوہی شاعری کی معراج سمجھتے تھے بلکہ یہ کہنازیادہ مناسب ہوگاکہ ایہام گوئی کوہی
شاعری سمجھتے تھے۔ میر نے خود کو شعری رویوںاوراس کی لطافتوںسے سرشاررکھتے ہوئے
سادگی،سلاست اور روانی کے ساتھ تمام ترشعری وسائل کو بروئے کارلاتے ہوئے عمدہ ترین
شعری رویہ اپنایا۔ میرنے اپنے آپ کو ایہام تک مقید ومحصور نہیں رکھا۔
دہلی کے حالات ابتر
ہونے کی وجہ سے لوگ دہلی چھوڑ کر لکھنؤ یا حیدر آباد کا رخ کرنے لگے۔ میر نے بھی
دہلی سے ترک سکونت کر کے لکھنؤ میں بودوباش اختیار کی۔ ان تمام عوامل نے انسانی
زندگی کے تمام شعبوں کو متاثر کیا۔ میر کی شاعری میں دہلی اور دل کی بربادی کو بڑی
آب و تاب سے بیان کیا گیا ہے۔ انھوں نے
اپنے کلام میںغمِ عشق اورغم ِروزگارکی ترجمانی نہایت موثراندازمیںکی ہے۔ اسی لیے میر
کی شاعری کو دل اور دلی کا مرثیہ کہا جاتا ہے ؎
میردریا ہے
سنے شعرزبانی اس کی
اللہ اللہ رے طبیعت
کی روانی اس کی
ایک ہے عہد میں
اپنے وہ پراگندہ مزاج
اپنی آنکھوںمیںنہ آیا کوئی ثانی اس کی
مرثیے دل کے کئی
کہہ کے دیے لوگو ںکو
شہر دلی میںہے سب پاس نشانی اس کی
1734-35 کا زمانہ تھا جب میر نے شاہ جہاں آباد، دہلی
کا رْخ کیا۔ یہاں میر کی ملاقات نواب صمصام الدولہ کے بھتیجے، خواجہ محمد باسط سے
ہوئی۔ صمصام الدولہ کا اصل نام، خواجہ عاصم تھا اور وہ قمر الدّین خاں آصف جاہ
اوّل کے دربار سے وابستہ تھے۔ خود صمصام الدولہ کے والد، خواجہ قاسم بھی شاہی
دربار سے وابستہ رہ چکے تھے اور وہ زمانہ تھا، فرخ سیر بادشاہ کا جس نے اْنھیں
’خان دوراں بہادر‘ کا خطاب عطا کیا۔ باپ کے انتقال کے بعد خواجہ عاصم بھی دربار ہی
سے وابستہ ہوئے اور بادشاہ کی قربت حاصل ہونے لگی۔ جب محمد شاہ بادشاہ کا زمانہ آیا،
تو خواجہ عاصم ’امیر الامراء‘، ’بخشی گری‘ اور ’صمصام الدولہ‘ کہلائے جانے لگے۔وہ
شعر وشاعری کا ذوق رکھتے تھے۔ محمد باسط نے اپنے چچا سے میر کا تعارف کرواتے ہوئے
کہا کہ ’’یہ میر محمد علی متّقی کے صاحب زادے ہیں۔ میر متّقی کا حال ہی میں انتقال
ہوگیا ہے۔‘‘ صمصام الدّولہ کویہ خبر سن کر انتہائی رنج ہوا اورانھوںنے میر کے لیے
ایک روپیہ روز کا وظیفہ مقررکردیا۔ اس وظیفے کی وجہ سے میرکوکچھ ذہنی و مالی
آسودگی نصیب ہوئی۔ اسی اثنا میں چار، پانچ برس گزر گئے۔1739میںنادرشاہ نے دہلی
پرحملہ کردیا۔ صمصام الدّولہ نے مقابلہ کیا، مگر نادر شاہ کے سامنے دیر تک ٹھہرنا
مشکل تھا۔بہرحال صمصام الدولہ نادر شاہی قتل و غارت گری میں مارے گئے اورذریعہ
معاش بند ہوگیا۔ میر کوواپس آگرہ جانا پڑا۔وہ اکبر آباد کہ جہاں میراوران کے
متعلقین کثیرتعدادمیں موجودتھے ، اب گویا اَنجان سے نظر آنے لگے۔ یہ بات میر جیسے
حساس طبع شخص کے لیے کسی تازیانے سے کم نہ تھی۔ چنانچہ میرکو اکبر آباد میں ایک
پل بھی اطمینان حاصل نہ ہو سکا۔ آگرہ ان کوپہلے کی طرح راس نہیںآیابلکہ پہلے سے
بھی بڑا عذاب بن گیا۔کہا جاتا ہے کہ وہاں ان کو اپنی ایک شریف زادی عزیزہ سے عشق ہو
گیا تھا جسے گھر والے اورمتعلقین نے سخت نا پسند کیا اورایک بارپھرمیر کو آگرہ
چھوڑکر دلّی کے لیے رخت سفرباندھناپڑا۔ اس بارمیر نے خان آرزوکی سرپرستی اورشاگردی
اختیارکی۔دلّی میں اْس زمانے کے مستند شاعر، امام المتاخرین،زبان وادب کے پارکھی،مسلم
الثبوت محقق، تذکرہ نویس، مارہرہ لسانیات، لغوی(اہل لغت،لغت نویس) استاذ الاساتذہ
سراج الدین علی خان آرزو (1689۔ 26 جنوری 1756) جنھیںعلم و فضل میں کمال حاصل تھا
اورجن کی زبان و بیان اور قواعد پر مہارت و قدرت کا زمانہ معترف تھا۔ جو رشتے میں
میرکے سوتیلے ماموں ہوتے تھے،خان آرزو کوبجاطورپراس دورمیں ادبا اور شعرا
استاذالاساتذہ اورعلم وادب کامینار تصور کرتے تھے۔یہ کہنا غلط نہیںکہ میرتقی میر
کوزندگی میں جوکچھ انھیں ملا اس میں خان آرزو کے توسط کو بڑا دخل تھا گرچہ
چندمتعصبین اس کے اعتراف میںبددیانت واقع ہوئے ہیں۔ بہرحال ان دنوں بادشاہ، احمد
شاہ کی حکومت تھی۔ دلّی کی دنیا اکبر
آباد کے مقابلے میں بے حد وسیع تھی اور خان آرزو کے دَم سے شعر و سْخن کی خوب
خوب محفلیں بھی آراستہ ہوتیں۔ میر کو یہ ساری فضائیں بہت راس آئیں۔ کہا جاتا ہے کہ ایک روز خان آرزو نے میر سے
کہا کہ ’’آج مرزا سودا اپنا یہ مطلع بہت شان کے ساتھ پڑھ گئے ؎
چمن میں صبح جو اس جنگجو کا نام لیا
صبا نے تیغ کا آبِ رواں سے کام لیا
میر نے اس کے
جواب میں فی البدیہہ یہ مطلع پڑھا
؎
ہمارے آگے ترا جب کِسو نے نام لیا
دلِ ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
یہ سن کر خان آرزو خوشی سے کھل اٹھے اور بے ساختہ چشم
بددور کہا۔ لیکن میرکی زندگی ایک اور امتحان سے دوچار ہونے والی تھی، اسی دوران میر
کے سوتیلے بھائی نے اپنے ماموں کو ایک خط لکھاکہ میر کی کسی بھی طرح کی کوئی مدد
نہ کی جائے۔ خان آرزو نے ان کی مدد سے
ہاتھ کھینچ لیے۔ لیکن میر نے اپنے کلام کو موزوں کرنے میں ان کی لغت اور لفظیات سے
بھرپور استفادہ کیا ہے۔ میر کی فارسی تحریریں اس کی گواہ ہیں کہ انھوں نے فارسی کی
حد تک جو سیکھا ہے وہ سب خان آرزوکا فیضان ہے۔خان آرزو کی مرتبہ لغت ’چراغ ہدایت‘
اورمیرکی فارسی تحریروںکے مطالعہ سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ لغت میں
خان آرزو نے تحقیق کے بعد جن الفاظ و محاورات کویکجاکیاہے تقریبا وہ تمام تر اہل
زبان سے تحقیق شدہ ہیں۔ بقول نثاراحمدفاروقی ’’غور سے مطالعہ کرنے پر اندازہ ہوا
کہ’ذکر میر‘ کا پہلا تہائی حصہ میر نے اس طرح لکھا ہے کہ ایک ہی صفحے کے محاورے
اپنی کتاب کے ایک پیراگراف میں استعمال کر لیے ہیں اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ
خان آرزو کی کتاب’چراغ ہدا یت‘ ان کے سامنے کھلی ہوئی رکھی ہو‘‘۔بہرحال ’ نکات
الشعراء‘ میں میر نے ان کو اپنا استادو پیرمرشدِ بندہ‘‘ کہاہے۔’ ذکر میر‘ میں میر
نے جعفر علی عظیم آبادی (جن کی تفصیل نہیں ملتی اورنثاراحمد فاروقی نے انھیںمجہول
قراردیاہے )اور امروہہ کے سعادت علی خان کے کہنے پراردوشاعری اختیار کی۔ میرپہلے
فارسی میں شاعری کرتے تھے۔ میر کے مطابق خان آرزو کا سلوک ان کے ساتھ اچھا نہیں
تھا اور وہ اس کے لیے اپنے سوتیلے بھائی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ وہ ان کے سلوک سے
بہت دل بر داشتہ تھے۔
مولانا محمدحسین آزادکے مطابق میر عوام میں خان آرزوکے
بھانجے مشہورتھے۔ میر نے اپنے اس عشق کا تذکرہ اپنی مثنوی خواب و خیال میں کیا
ہے۔میر کے مطابق ان واقعات وحالات اور
زندگی کے ان تلخ تجربات نے ان پر گہرا اثر ڈالااور ان پر جنوں کی کیفیت طاری ہو گئی۔کچھ
عرصہ علاج کے بعدافاقہ توضرور ہوا مگر ان تمام پریشانیوں کا ان کے دماغ پر دِیر
پااثر قائم رہا۔میر کی زندگی بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ ہنگامہ خیزیوں کا شکار رہی۔
سکون و راحت کا کوئی طویل عرصہ ان کو نصیب نہیں ہوا ؎
مجھ کو شاعر نہ کہو میرکہ صاحب میں نے
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا
میر نے خان آرزو کے گھر کو خیر باد کہنے کے بعد اعتماد
الدولہ قمرالدین کے نواسے رعایت خان کی مصاحبت اختیار کی اور اس کے بعد جاوید خاں
خواجہ سراکی سرکار سے متعلق ہوئے۔اسد یار خاں بخشی نے میر کا حال بتا کر گھوڑے
رکھنے اور ’تکلیف نوکری‘ سے معافی دلادی۔ راجہ ناگر مل کی رفاقت میں انھوں نے بہت
سے مقامات اور معرکے دیکھے۔ ان مربیوں کے حالات بگڑنے کے بعد وہ کچھ عرصہ گوشہ نشین
رہے۔ 1748کا سال تھا کہ جب میرکی وابستگی رعایت خاں کے دربار سے ہوئی۔ رعایت خاں،
جو عظیم اللہ خاں کے بیٹے اور اعتماد الدولہ قمر الدین خاں کے بہنوئی تھے، شعر و
سْخن کے دل دادہ تھے اور میر کی بے حد تکریم کرتے تھے۔
جب نادر شاہ اور احمد شاہ کی خونریزیوں نے دہلی کو اجاڑ دیا
اور لکھنو آباد ہوا تو نواب آصف الدولہ نے انھیں لکھنؤ بلا لیا۔میر کا زمانہ
شورشوں اور فتنہ و فساد کا زمانہ تھا۔ ہر طرف تنگدستی و مشکلات برداشت کرنے کے بعد
بالآخر میر 1782 میںگوشہ عافیت کی تلاش میں
لکھنؤ روانہ ہوگئے۔ روانگی کے وقت سفرکے اخراجات تک نہیںتھے۔ سفر کی صعوبتوں کے
بعد لکھنؤ پہنچے۔ وہاں ان کی شاعری کی دھوم مچ گئی۔ نواب آصف الدولہ نے ماہوار
وظیفہ مقرر کر دیا،اور میر آرام سے زندگی بسر کرنے لگے۔میر کا لکھنؤ میںباضابطہ
قیام 1781 سے ان کی وفات یعنی 1810تک رہا۔میرتقریبا 29برس لکھنؤ میں رہے۔ لیکن تند
مزاجی کی وجہ سے کسی بات پر ناراض ہو کر دربار سے الگ ہو گئے۔عجیب بات یہ بھی ہے
کہ میر نے قیام لکھنؤکے بارے میںکوئی تفصیل نہیںلکھی ہے اورنہ اس عہد کے کسی اہم یا
غیر اہم تذکرہ نگارصاحب علم وفضل نے ان کے بارے مفصل تذکرہ کیاہے۔ البتہ یہ معلوم
ہے کہ میریہاں خوش نہ تھے۔ بہرحال مشہور زمانہ کتاب’آبِ حیات‘ کے تیسرے دور میںمولانا
محمد حسین آزاد صفحہ 205 پر لکھتے ہیں :
’’جب
لکھنؤ چلے تو ساری گاڑی کا کرایہ بھی پاس نہ تھا۔ ناچار ایک شخص کے ساتھ شریک
ہوگئے اوردلّی کو خدا حافظ کہا۔ تھوڑی دور
آگے چل کر اس شخص نے کچھ بات کی۔ یہ اُس کی طرف سے منہ پھیر کر ہو بیٹھے۔ کچھ دیر
کے بعد پھر اس نے بات کی۔میر صاحب چیں بجبیں ہوکر بولے کہ صاحب قبلہ آپ نے کرایہ
دیا ہے۔بے شک گاڑی میں بیٹھئے۔ مگر باتوں سے کیا تعلق! اس نے کہا۔ حضرت کیا مضائقہ
ہے۔ راہ کا شغل ہے باتوں میں ذرا جی بہلتا ہے۔ میر صاحب بگڑ کر بولے کہ خیر آپ کا
شغل ہے۔ میری زبان خراب ہوتی ہے۔ لکھنؤ میں پہنچ کر جیسا مسافروں کا دستور ہے۔ایک
سرائے میں اُترے۔ معلوم ہوا کہ آج یہاں مشاعرہ ہے، رہ نہ سکے۔ اسی وقت غزل لکھی
اور مشاعرے میں جاکر شامل ہوئے۔ اِن کی وضع قدیمانہ۔ کھڑکی دار پگڑی، پچاس گز کے
گھیر کا جامہ، ایک پورا تھان پستولیے کا کمر سے بندھا، ایک رومال پڑی دار تہہ کیا
ہوا اُس میں آویزاں، مشروع کا پاجامہ، جس کے عرض کے پائیچے، ناگ پھنی کی انی دار
جوتی جس کی ڈیڑھ بالشت اونچی نوک، کمر میں ایک طرف سیف یعنی سیدھی تلوار، دوسری
طرف کٹار، ہاتھ میں جریب، غرض جب داخل محفل ہوئے تو وہ شہر لکھنؤ ، نئے انداز ،
نئی تراشیں، بانکے ٹیڑھے جوان جمع، انہیں دیکھ کر سب ہنسنے لگے، میر صاحب بیچارے
غریب الوطن، زمانے کے ہاتھ سے پہلے ہی دل شکستہ تھے اور بھی تنگ دل ہوئے اور ایک
طرف بیٹھ گئے۔شمع ان کے سامنے آئی، تو پھر سب کی نظر پڑی۔ بعض اشخاص نے سوچا!
حضور کا وطن کہاں ہے؟ میر صاحب نے یہ قطعہ فی البدیہہ کہہ کر غزل طرحی میں داخل کیا ؎
کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو
ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے
دِلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
جس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے
سب کو حال معلوم ہوا۔ بہت معذرت طلب کی، میر صاحب سے عفوِ
تقصیر چاہی۔ کمال کے طالب تھے۔ صبح ہوتے ہوتے شہر میں مشہور ہو گیا کہ میر صاحب
تشریف لائے۔ رفتہ رفتہ نواب آصف الدولہ مرحوم نے سنا اور وظیفہ دو سو روپے مہینہ
کر دیا۔‘‘
(آب حیات:شمس العلماء مولوی محمدحسین آزاد مرحوم
،مطبوعہ 1917 اسلامیہ سٹیم پریس لاہور)
واضح رہے کہ گرچہ مذکورہ بالا قطعہ میرسے منسوب و مشہورہے لیکن
اہل تحقیق اس بات پرمتفق ہیں کہ یہ اشعارمیرکے نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میرکے کسی
متدون ومتدا ول دواوین یاکسی قلمی نسخے میں یہ اشعارموجودنہیںہیں۔گرچہ نثاراحمد
فاروقی نے قدیم قلمی بیاضو ں سے اس قطعہ کومیرکا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
تمام حالات وواقعات نہ صرف میرکی شخصیت پراثر انداز ہوئے
بلکہ میرکی شاعری کوبھی متاثرکیا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میںسوزوگداز،دردوغم
اورحزن وملال کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر نظر آتاہے۔ میرکے یہاں پر امیداورحوصلہ
افزا خیالات کا اظہاربھی بہ حسن تمام ہواہے۔ ان کے معاصرین میں مرزا رفیع سودا،
خواجہ میر درد، میر سوز،اشرف علی خاں فغاں،ظہور الدین حاتم، قیام الدین قائم ،غلام
علی ہمدانی مصحفی اورقلندر بخش جرات وغیر ہ اہم ہیں۔ میر تقی میر اردو اور فارسی
کے قادرالکلام شاعر تھے۔ انھوں نے اپنے عہد کی اہم اور مروجہ اصناف مثلا غزل، قصیدہ،
مثنوی، نعت، مرثیہ، منقبت، سلام، قطعہ، رباعی، مستزاد، ہجویات، واسوخت، مخمس، ترکیب
بند میں طبع آزمائی کی لیکن ان کا تخلیقی جوہر سب سے زیادہ صنف غزل میں نمایاں
ہے۔لہجے کا دھیماپن، سوز و گداز، سادگی،برجستگی اور سہل ممتنع ان کی غزلوں کے نمایاں
اوصاف ہیں۔اس بنا پر انہیں غزل کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔رنج و غم کی تصویریں ان کے
کلام میں جابجا نظر آتی ہیں۔ وہ غم عشق اور غم روزگار دونوں کو صبر وسکون کے ساتھ
برداشت کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ دردناک بات بھی وہ پرسکون اور پرامید لہجے میں کہہ
جاتے ہیں ؎
سرہانے میرکے کوئی نہ بولو
ابھی ٹک روتے روتے سوگیاہے
میر نے عنفوان شباب میں ہی اس قدر شہرت حاصل کرلی تھی کہ
اْس وقت کے بزرگ اور نوجوان شعرا بھی میر کے لہجے کو اپنانے کی کوشش کرنے لگے
تھے۔ان کے اشعاراتنے مشہورہوگئے تھے کے لوگ انہیںگاتے پھرتے نظرآتے۔موضوعات کا
تنوع،رنگا رنگی،حسن بیان کی کیفیت،بے ساختگی،روانی،فطری انداز بیان، برجستگی اور
عمدگی میر کی شاعری کاخاصہ ہیں۔ تجنیس، ترجیع، تشبیہ، فصاحت و بلاغت کلام میر کو
ان کے معاصرین سے ممتاز کرتی ہیں۔ میر تشبیہات و استعارات کے ذریعے ایسا پیکر
تراشتے ہیں جس میں زندگی کی حرارت محسوس ہوتی ہے۔ انھوں نے شاعری کو درد اور درد
کو شاعری بنایا ہے۔ان کی شاعری داخلی ، شخصی نشتریت ،احساس و حساسیت سے بھری ہے ،
میر کی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے اپنی سحر بیانی سے آپ بیتی کو جگ بیتی بنا دیا
ہے۔میرکاکلام تکلف و تصنع اور آورد سے تقریبا پاک دکھائی دیتاہے۔ میر نے فارسی
تراکیب کواس طرح اردوکے قالب میںڈھالاہے کہ وہ نہایت موزوں اور مناسب معلوم ہوتی ہیں۔دلی
کی ٹکسالی زبان اور عوامی بول چال کا اثر میر کے کلام پر چاہے جتنا بھی ہو لیکن
فارسی تراکیب کا اردوکے پیرائے میں اس کثرت سے استعمال اس سے قبل کی اردوشاعری میں
خال خال ہی نظر آتا ہے۔ اردو شاعری اور خاص طور پر اردو غزل کو میر نے ایسا
منفردرنگ و آہنگ عطا کیا کہ میر اور اردو غزل لازم و ملزوم قرار پا ئے۔میرکی
مقبولیت، فنکاری،طرزادااورانداز کی تقلید وپیروی ان کے لہجے کو اپنانا، ان کے
انداز میں شعر کہنا، ان کی لفظیات کو برتنے کی ہرعہد کے شعراء کی ایک کثیرتعداد نے
کوشش کی لیکن میر کاانداز کسی کو نصیب نہ ہو سکا۔
جہاں تک میر کو ’خدائے سخن‘ کہنے کی بات ہے تو یہ بات ذہن
نشیں رہے کہ’خدائے سخن‘کا مطلب سب سے اچھا شاعر‘‘ یا ’سب سے بڑا شاعر‘ نہیںہوتا
’خدائے سخن‘ کے معنی کا تعلق میر کے اُس مفروضہ سے ہے کہ ’’اِس وقت شاعر صرف ڈھائی
ہیں، ایک تو خود میں، ایک مرزا رفیع اور آدھے خواجہ میر درد۔ اور جب کسی نے میر
سوز کا نام لیا تومیر نے چیں بہ جبیں ہوکر کہا، ’’خیر پونے تین سہی، لیکن شریفوں میں
ہم نے ایسے تخلص نہیں سنے۔‘‘لیکن میر نے درد کو آدھا شاعر اس وجہ سے نہیں کہا کہ
ان کے خیال میں درد خراب شاعر تھے یا ان میں
شاعرانہ صفات نصف تھیں۔ میر کی مراد یہ تھی کہ جہاں خود ان کو اور سودا کو غزل کے
علاوہ قصیدہ اور مثنوی میں بھی دخل ہے، درد صرف غزل گو ہیں، لہٰذا وہ آدھے شاعر ہیں
اور میر سوز چونکہ ایک معمولی درجے کے غزل گو ہیں اس لیے وہ پاؤ شاعر ہیں۔’خدائے
سخن‘ تو مرزا دبیر کے صاحب زادے مرزا اوج کو بھی کہا جاتا ہے۔ مرزا اوج بہت بڑے
عروضی تھے لیکن شاعر معمولی درجے کے تھے۔ لہٰذا ’خدائے سخن‘ کہلانے سے کچھ نہیں
ہوتا۔اگر اس اصطلاح کے معنی ’سب سے اچھا شاعر‘
یا ’سب سے بڑا شاعر‘ ہوتے تو لکھنؤ والے میر انیس کا لحاظ کرتے ہوئے، مرزا
اوج کو اس دھڑلے سے خدائے سخن نہ کہتے۔ مرزا اوج کو ’خدائے سخن‘ اس لیے کہا گیا کہ
اردو زبان میں اُن سے بڑا عروضی کوئی پیدا نہ ہوا۔ خدا عام انسانوں پر اپنا قانون
نافذ کرتاہے اور عروضی اپنی بساط بھر اصول فن اور شعر گوئی کے قوانین وضع کرتا یا
ان قوانین کی تشریح کرتا ہے، لہٰذا سب سے بڑے عروضی کو ’خدائے سخن‘ کہنا کوئی ایسی
نامناسب بات نہیں ہے۔
استاد شعرا کے درمیان وہ شاعر جو غزل، قصیدہ اور مثنوی تین
اصناف میں طبع آزمائی نہ کرتا ہو، وہ مکمل شاعر کہلانے کا حق دار نہیں تھا۔‘‘میر
کسی صنف کے پابند نہیں ہیں۔ غزل، قصیدہ، مثنوی، مرثیہ، رباعی ان سب میں انھوں نے
خاصاکلام چھوڑا ہے اور اگر شہر آشوب اور
واسوخت اور ہجو کو الگ اصناف مانئے تو آٹھ اصناف میں میر کا کلام خاصی
مقدار میں موجود ہے۔ واسوخت کی ایجاد کا سہرا بھی میر کے سر ہے۔ انھوں نے ایک بحر
بھی تقریباً ایجاد کی۔ میر کا قصیدہ اتنا کمزور بھی نہیں ہے، جتنا کمزور اسے مشہور
کیا جاتاہے۔ میر کی مثنوی بہرحال ایک مستقل صنف سخن ہے۔ اصناف کی کثرت کے اعتبار
سے کوئی شاعر میر کا مدمقابل نہیں۔اس لیے میرکوخدائے سخن کہاجاتاہے نہ کہ ان کو سب
سے بڑا شاعر۔ ہرشاعر کی عظمت الگ الگ اعتبار سے اپنی جگہ مسلم ہے۔ لہٰذا ایسے شاعر
کو جو اپنے عہد اوربعدکے ادوارکا ممتاز ترین شاعر ہو ا،اس کو ’خدائے سخن‘ کہا جائے
تو کیا غلط ہوگا؟ ‘ جہاں بھی میرکو خدائے سخن کہاگیاہے وہ اسی معنی میں ہے۔
(مزیدتفصیل کے لیے شمس الرحمن فاروقی کامضمون ’خدائے
سخن، میر کہ غالب؟‘ملاحظہ کریں۔ )
میر تقی میر کا امتیاز خدائے سخن اور شہنشاہِ تغزل ہونے کے
ساتھ ساتھ اولین تذکرہ نگار اور خودنوشت سوانح نگار کی حیثیت سے بھی مسلم ہے۔ اردو
کے چھ دیوان، مثنوی ’دریائے عشق‘، ایک دیوان فارسی، نثر ’دریائے عشق‘ فارسی، ’ذکرِ
میر‘، ’فیضِ میر‘ اور ’نکات الشعرا‘ ان کی یادگار تصانیف ہیں۔ کلیاتِ میر پہلی بار
فورٹ ولیم کالج سے 1811 میں شائع ہوئی۔ میر نے جو کچھ شعر کی شکل میں یادگار چھوڑا
ہے، وہ موجودہ اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ہے۔ ان کے اشعار پڑھنے کے
بعد ہمیں ایسا بالکل نہیں لگتا کہ یہ اشعار آج سے تقریباً تین سو سال قبل کہے گئے
تھے، بلکہ جب بھی ہم ان کے اشعار کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ ہمیں تازہ اور ہمارے
عہد کے ہی معلوم ہوتے ہیں۔ شاعر و ادیب اپنے عہد کے نباض ہوتے ہیں اور دوسروں کی
بہ نسبت زیادہ حساس بھی۔ وہ سماج میں موجود خامیوں، خوبیوں اور کمزوریوں کو بہتر طور
سے جانتے ہیں۔ ان کا کلام ہمارے دل کی آواز و ترجمان بن کر ہمارے درد کا مداوا
ثابت ہوتا ہے۔
میر کا غم حوصلہ شکن نہیںبلکہ امید افزااورحوصلہ افزاہے۔ میر
کو زندگی کے تلخ تھپیڑوں نے بددماغی کی حدتک نازک مزاج بنادیا تھا۔ان کی شاعری
سوزو گداز ، خودکلامی ،ہلکی موسیقی، مترنم لہجہ،تشبیہ و استعارہ کے ساتھ تمام تر
شعری اوصاف نے میر کو خدائے سخن ،سرتاج شعرائے اردو اور شہنشاہ غزل بنادیا۔
حوالہ جاتی کتب
.1 اٹھارہویں
صدی میں ہندوستانی معاشرت (میرکاعہد)‘، ڈاکٹرمحمدعمر ،مکتبہ جامعہ لمیٹڈ 1973
.2 اردو میں
فن ِسوانح نگاری کا ارتقا (1914-1915)‘‘ ، ڈاکٹرممتاز فاخرہ،رونق پبلشگ ہاؤس دہلی
.3 تلاشِ میر
نثار احمد فاروقی ،مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، جامعہ نگر،نئی دہلی، نومبر1974
.4 ذکرمیر:
میرتقی میر، ترجمہ نثاراحمد فاروقی، انجمن ترقی اردو (ہند) دلی
.5 شعرشور
انگیز: شمس الرحمن فاروقی، قومی کونسل برائے فروغِ اردوزبان
.6 میرتقی
میر کی جمالیات ،شکیل الرحمن،نرالی دنیا پبلیکیشنز دریاگنج دہلی 11002 اشاعت 2011
.7 میر کی
شعری لسانیات ،قاضی افضال حسین،عرشیہ پبلیکیشنز دہلی
.8 مقدمہ
شعروشاعری ازمولانا الطاف حسین حالی
Dr. Mohammad Adam
Assistant Professor, Dept of
Urdu
Jamia Millia Islamia
New Delhi- 110025
Mob. 9871716440
adam904@gmail.com

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں