31/12/25

شیخ عبدالقدوس گنگوہی کی مکتوب نگاری،مضمون نگار:محمد اشفاق عالم

اردو دنیا،اگست 2025

متصوفانہ ادب میں مکتوب نگاری کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس کے ذریعے متعدد شاہکار تخلیقات وجود میں آئیں، جو اردو اور فارسی کی ادبی روایت میں ایک قیمتی اضافہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ شیخ عبد القدوس گنگوہی  کی ’مکتوبات قدوسیہ ‘ اسی ادبی روایت کا اہم ترین اور سنہری حصہ ہے۔

شیخ عبدالقدوس گنگوہی کا شمار سلسلہ چشتیہ کے عظیم صوفیائے کرام میں ہوتا ہے۔ عبدالقدوس گنگوہی کی ولادت 852ھ مطابق1450 ردولی میں ہوئی، شیخ صاحب کے والد شیخ اسماعیل خود ایک ذی علم انسان تھے۔ اس لیے انھوں نے بچپن ہی سے اپنے فرزند کی تعلیم و تربیت کی طرف خصوصی توجہ فرمائی۔ پھر مختلف علما سے استفادہ کیا۔ بعدازاں تصوف کی طرف مائل ہوئے اور شیخ عبد الحق ردولوی کے مزار کی جاروب کشی اختیار کرلی۔ شیخ صاحب شیخ عبد الحق ردولوی کے باطنی خلیفہ ہیں۔حصولِ خلافت کے بعد شیخ عبدالقدوس ردولی ہی میں مقیم رہے مگر جب ردولی کے حالات زیادہ خراب ہو گئے تو عمر خاں شیرانی حاکمِ شاہ آباد کے اصرار پر 896ھ مطابق 1491 میں مع اہل و عیال شاہ آباد منتقل ہو گئے اور تقریباً تیس سالوں تک شاہ آباد میں ارشاد و تلقین کا بازار گرم رکھا۔ لیکن سلطان محمد بابر نے ہندوستان پر حملہ کیا اور سلطان ابراہیم کو شکست دے کر تخت سلطنت پر خود جلوہ افروز ہوا۔ افغان سرداروں کی کثرت کی وجہ سے شاہ آباد ویران ہونا شروع ہوا ،یہ منظر دیکھ شیخ صاحب نے گنگوہ کا رخ کیا اور آخر وقت تک وہیں مقیم رہے۔

(شیخ عبدالقدوس گنگوہی اور ان کی تعلیمات: اعجاز الحق قدوسی، ص 145)

ان کی عمر کا زیادہ ترحصہ ریاضتوں، مجاہدوں، عباداتِ الٰہی اور مریدوں کی اصلاح و تربیت میں گزرامگر ان تمام مشغولیات کے باوجود انھوں نے اپنی غیر معمولی علمی صلاحیتوں کی وجہ سے متعدد کتابیں بھی تصنیف فرمائیں۔ان کی مشہور تصانیف میں درج ذیل کتابوں کا ذکر ملتا ہے۔(1)  شرح عوارف المعارف (2)  رسالۂ قدّوسی (3)  رشدنامہ (4) انوار العیون (5) مظہر العجائب (6) رسالہ قرۃ العین (7) مکتوبات قدّوسیہ وغیرہ۔

مکتوبات قدوسیہ

مکتوب نگاری دراصل ایک انسان کے اپنے احساسات، افکار اور تجربات کو الفاظ کے قالب میں ڈھال کر کسی مخصوص فرد تک پہنچانے کا فن ہے۔ مکتوبات ایک دور کی تہذیب، معاشرت اور فکری روش کا آئینہ ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مکتوب نگاری ادب کی ان قدیم ترین اصناف میں شمار ہوتی ہے جنھوں نے انسانی جذبات کو زمان و مکان کی قید سے آزاد کر کے دائمی رنگ عطا کیا ہے۔

ہر مکتوب کا رنگ، لب و لہجہ اور اس کی معنویت جداگانہ ہوتی ہے۔ چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ چاہے وہ کسی بزرگ کا مکتوب ہو یا کسی عاشق کا، کسی مصلح کا خط ہو یا کسی شاعر کا، ہر مکتوب میں ایک منفرد دنیا سانس لیتی ہے۔ جب اہلِ قلم نے اس فن کو اپنایا، تو مکتوب ایک ادبی صنف کی صورت اختیار کر گیا۔ اس میں اسلوب کی لطافت، خیالات کی تہ داری اور جذبات کی پاکیزگی نے اسے محض پیغام رسانی سے بلند کر کے فنِ اظہار کا اعلیٰ نمونہ بنا دیا۔

سرمایہ ادب و تصوف میں حضرت شیخ عبد القدوس گنگوہی کے مکاتیب کو خاص اہمیت حاصل ہے ،یہ مکاتیب نہ صرف فارسی ادب میں اسلوب نگارش ،طرز ادا ،فصاحت و بلاغت اور بلند ترین انشا پردازی کا ایک شاہ کار ہیں بلکہ تصوف کے اہم رموز و نکات ،علمی مسائل کی توضیحات ، عقائد و اعمال کی تشریحات ،ترویج دین ،اشاعت اسلام اور رشد و ہدایت کے اہم ابواب پر مشتمل ہیں ۔یہ مکتوبات جہاں حضرت شیخ کی علمیت، تبحر اور روحانی افکار و خیالات کے آئینہ دار ہیں، وہیں حضرت شیخ کی پرخلوص جد و جہد اور سلسلہ چشتیہ صابریہ کی ترقی اور فروغ کے لیے ان کی کوششوں کا اندازہ ان خطوط سے ہوتا ہے۔یہ مکتوبات حضرت شیخ کی علمی اور عملی زندگی کے مختلف پہلووں کو ہمارے سامنے اس طرح لاتے ہیں کہ ایک قاری کے سامنے حضرت شیخ کی شخصیت پوری طرح سے آجاتی ہے۔

ان مکتوبات کو آپ کے مرید و خلیفہ شیخ بڈھن بن رکن الدین جون پوری مشہور بہ میاں خان ابن قوام الملک نے جمع کیا تھا جو پہلی مرتبہ نواب سکندر علی خاں والی ریاست مالیر کوٹلہ کی فرمائش پر مطبع احمدی دہلی سے ’مکتوبات قدوسیہ‘ کے نام سے شائع ہوئے ہیں۔یہ مجموعہ ایک سو ترانوے مکتوبات پر مشتمل ہے اور اس کے علاوہ آخر میں چھ خط جو حضرت شیخ کے بڑے صاحبزادے شیخ حمید کے کتب خانے سے برآمد ہوئے تھے بطور ضمیمہ شامل کیے گئے ہیں ۔یہ خطوط اس دور کے سلاطین، امرا، صوفیا، علما، عمال حکومت، صاحبزادوں، بھائیوں، خلفا و مریدوں اور دوستوں کے نام ہیں ۔

(ایضاً، ص 434)

مکاتیب قدوسیہ کا وہ قلمی نسخہ جو جامع مکاتیب شیخ بڈھن کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے،کتب خانہ سالار جنگ حیدر اآباد دکن میں موجود ہے۔ اس نسخے کے آخری صفحات غائب ہیں، اس کے سرورق پر فدوی عالم گیر بادشاہ کی مہریں ہیں جن سے خیال ہوتا ہے کہ یہ نسخہ شاہی کتب خانے میں رہا ہے۔

شیخ عبد القدوس کے خطوط کا اسلوب نہایت سادہ، رواں، مگر گہرا اور روح پرور ہوتا ہے۔ ان کے جملوں میں تصنع اور بناوٹ کی بجائے اخلاص، درد مندی اور فکری گیرائی نظر آتی ہے۔ ہر مکتوب ایک مستقل نصیحت، ایک روحانی پیغام اور ایک تربیتی نسخہ ہوتا ہے۔ ان کا انداز خطاب نہایت مشفقانہ، مگر پُر اثر ہوتا ہے۔ مخاطب سے قرب اور تعلق کی شدت ہر سطر میں جھلکتی ہے۔شیخ صاحب نے ایک بار اپنے ایک مریدخاص کو ایک طویل مکتوب لکھا اور انھیں ایمان و عمل صالح کی طرف اس اندازمیں متوجہ فرمایا:

’’کاش کہ طائر روح علوی جو گلشن وحدت سے پرواز کرکے اس جہان میں آیا ہے۔آنکھ کھول کر عجائب و غرائب خداوندی اور کمالات و جمالات بے نہایت اور بے غایت کو دیکھتا اور اپنی اور حق تعالی کی حقیقت کو پہنچانتا اور صدہزار اشتیاق اور صدہزارآتش عشق کے ساتھ آفاق سے گزر کر دوست تک رسائی حاصل کرتاجس کا دوسرا نام ایمان اور عمل صالح ہے۔‘‘

(مکتوباتِ قدوسیہ، شیخ عبدالقدوس گنگوہی، ترجمہ: مولانا واحد بخش سیال چشتی، الفیصل،  ص 83)

چنانچہ انھوں نے ایک بار سکندر لودھی کو ایک طویل مکتوب ارسال کیا اور اس کو مخلوق خدا بالخصوص علماو صلحا کے ساتھ حسن سلوک و تیمار داری اور غم خواری کی نصیحت فرمائی۔ اس مکتوب کا ایک اقتباس یہاں پر دیا جارہا ہے ،لکھتے ہیں:

’’شغل جہاں داری (انتظام سلطنت ) نہایت اعلی و اشرف شغل ہے اور تمام اولیا و اتقیا ،علماو صلحا، مجاہدین فی سبیل اللہ کا جامع شغل عدل ہے کیونکہ ایک ساعت کا عدل دوسروں کی ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر و افضل ہے۔ دین کی بقا اور سلطنت کا استحکام بادشاہ وقت کی ذمہ داری ہے ۔‘‘ (ایضاً، ص 146)

مغل ہندوستان پر حملہ آور ہوئے اور ابراہیم لودھی کو شکست ہوئی، چنانچہ ہندوستان میں اب مغلیہ دور کا آغاز ہوا اور ظہیرالدین محمد بابر تخت سلطنت پر جلوہ افروز ہوا۔ اس وقت بھی شیخ عبد القدوس نے بادشاہ کومکتوب لکھ کر نصیحت کی اورشیخ صاحب کا یہ مکتوب بھی ادبی اعتبار سے اہم ہے۔ ذیل میں اس کاایک اقتباس پیش کیا جا رہا ہے:

 ’’آپ کو لازم پکڑنا چاہیے کہ حق تعالی کی نعمت کے شکرانے میں خلق خدا کے ساتھ اس قدر عدل و انصاف کیا جائے کہ کوئی شخص دوسرے پر ظلم نہ کرسکے اور ساری رعایا اور ساری افواج شریعت کی پابندی میں کمربستہ ہوجائے، نماز جماعت کے ساتھ ادا کریں، علم اور علما کی صحبت اختیار کریں، ہر شہر اور ہر بازار میں ہر شخص محتسب بن جائے تاکہ ہر کوچہ و بازار جمال شرع محمدؐ سے منور ہوجائے اور سارا ملک خلفائے راشدین کے عہد کی طرح اسلام کی شعاعوں سے روشن ہوجائے۔ دین اسلام کو فروغ حاصل ہو...ہر علاقے میں نیک اور پاک باز عہدہ دار تعینات کیے جائیں، واجبات شرع کے مطابق وصول کیے جائیں تاکہ دین و دنیا یکجا ہوکر اسلام کا حسن بالاکریں۔‘‘(ایضاً، ص 764)

شیخ عبد القدوس کے خطوط میں عقیدے، عمل، تزکیۂ نفس، اخلاص، ریاضت، محبتِ الٰہی اور پیرویِ سنت جیسے موضوعات بار بار آتے ہیں۔ وہ اپنے مریدین کو کمالِ صبر، رضا، توکل اور فنا فی اللہ کی منزل کی طرف مائل کرتے ہیں۔ ان کے مکاتیب میں نہ صرف صوفیانہ اصطلاحات کا ذکر ملتا ہے، بلکہ قرآن و حدیث کی روشنی میں دلائل بھی پیش کیے جاتے ہیں، جس سے ان کی دینی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔واحد بخش سیال لکھتے ہیں کہ:

 ’’حضرت اقدس کے مکتوبات بھی حقائق و معارف لدنی، اسرار و رموز کون و مکانی سے لبریز ہیں اور حددرجہ ذوق و شوق، سوز و گداز، ہجر وفراق، آہ و بکا اور نالہ و فریاد میں ڈوبے ہوئے ہیں۔چونکہ حضرت اقدس کے یہ خطوط آپ کی بلند ترین خلفاو مریدین کے سوالات کے جواب میں لکھے گئے ہیں، اگر چہ عام سطح سے ذرا اوپر ہیں لیکن متلاشیان راہ حقیقت کے لیے مشعل راہ کا کام دیتے ہیں ۔‘‘(ایضاً، ص 54)

شیخ عبد القدوس گنگوہی کے خطوط میں صوفیانہ ادبی اسلوب کی وہ تمام خصوصیات موجود ہیں جن کی وجہ سے انھیں فارسی مکتوب نگاری کی تاریخ میں بلند مقام حاصل ہے۔ ڈاکٹر مسکین علی حجازی لکھتے ہیں :

’’مکتوب نگاری کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ اسلوب تحریر ،الفاظ کا انتخاب، جملوں کی ساخت سب کا موضوع کے ساتھ تعلق ہو۔ ایک موضوع ایسا ہے جس کا مقصد قارئین میں انبساط پیدا کرنا ہے۔ دوسرا موضوع ایسا ہوسکتا ہے جس کا مقصد قارئین کے احساسات کو جھنجھوڑ نا ہے۔ دونوں موضوع مختلف اسالیب بیان کے متقاضی ہیں ۔مکتوب کی پچاس فی صد کامیابی کا انحصار اس کے اسلوب بیان پر ہوتا ہے۔ ‘‘

(اردو مکتوب نگاری: سرسید اور ان کے رفقا کے خصوصی حوالے سے: تبسم شاداب، ص 24)

ان کی نثر میں ایک فکری شیرینی، تاثر کی شدت اور جذبات کی لطافت پائی جاتی ہے۔ بعض خطوط تو ایسے معلوم ہوتے ہیں گویا نثر میں لکھی گئی شاعری ہیں۔ ان کے مکتوبات میں فارسی الفاظ کا برمحل استعمال، فکری ربط، اور بلاغت و بیان کی مہارت واضح نظر آتی ہے۔ بعض مکتوبات میں تشبیہات و استعارات بھی نظر آتے ہیں، جو ان کے ذوقِ ادب کی دلیل ہیں۔ان مکتوبات کی ایک نمایاں خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان میں جابجا فارسی اور ہندوی اشعار کا ایسا برمحل استعمال کیا گیا ہے، جس سے بڑی سے بڑی بات کو نہایت خوبصورت، دل نشیں اور کم ترین الفاظ میں اس طرح بیان کر دیا گیا ہے کہ وہ قاری کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتی ہے       ؎

کے نہ دہد نشاں ز آب و گل من

حل می نشود دریں جہاں مشکل من

کز ہیبتِ آن دو راہ، خوں شد دل من

تا خود بکدام راہ بود منزل من

’’میری آب و گل یعنی وجود کی حقیقت کوئی مجھے نشان دہی نہیں کرتا اس جہاں میں میری مشکل حل نہیں ہوتی۔ ان دو راستو ں کی ہیبت سے یعنی دوزخ و بہشت یا سعادت و شقاوت کی ہیبت سے میرا دل خون ہوگیا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ کس راہ پر میری منزل ہوگی۔‘‘ (مکتوباتِ قدوسیہ: شیخ عبدالقدوس گنگوہی، ترجمہ: مولانا واحد بخش سیال چشتی، ص 56)

شیخ عبد القدوس خود بھی فارسی اور ہندی شاعری پر کامل دسترس رکھتے تھے۔ اسی لیے ان کی تصانیف اور مکاتیب میں اشعار کثرت سے ملتے ہیں۔ شیخ صاحب کو قدرت کی جانب سے ایک والہانہ طبیعت عطا ہوئی تھی۔ عشق آپ کے خمیر میں شامل تھا۔ جذباتِ عشق و محبت کو جہاں کہیں بھی آپ نے اپنے اشعار میں سمویا ہے، وہیں اثر و تاثیر کے اعتبار سے اشعار کو ایک نئی کیفیت عطا کی ہے۔آپ نے فکرِ رَسَا کے ذریعے تصوف کے مشکل مسائل اور دقیق نکات کو اپنی شاعری میں حسن و دلکشی کے سانچے میں اس طرح ڈھالاہے کہ پڑھنے والاایک خاص لطف و سرور محسوس کرتا ہے۔ آپ کے کلام میں بھرپور رچاؤ، لذت، کیفیت، سادگی، دل نشینی، سوز و گداز اور اثر آفرینی پائی جاتی ہے۔ آپ کی شاعری کا اخلاقی لب و لہجہ بہت بلند ہے، جس میں آفاقیت، بلندی اور عظمت پوری طرح محسوس کی جا سکتی ہے۔ سوز عشق الٰہی اور دردمحبت سے بے قرار ہوکر فرماتے ہیں        ؎

در شور عشقِ جاناں غمہائے ہردو عالم

دردے ست درد مارا در جام سر عالم

در شوق دوست یارب جاں برکنم بہردم

تاجانِ جاں نیابم باجان و دل بنالم

از جان و دل گزشتم برسرِّ جاں برفتم

دیدیم سِرّ ح را حق س جملہ عالم

بابائے اردو ڈاکٹر عبد الحق صاحب نے اپنی مشہور کتاب ’اردو کی ابتدائی نشو و نما میں صوفیائے کرام کا حصہ ‘ میں شیخ صاحب کے چند دوہے نقل کیے ہیں جنھیں ہم یہاں بجنسہ درج کرتے ہیں        ؎

یہ جگ ناہیں باج پی بوجھ برہم گیانی

سوپانی، سوبلبلا سوئی سردر جان

ایکی اوہو، ایکی ماس، ایکی سردر ایکی ہانس

گُر مکھ بوجھ برہم گیان تین ترلوک ایک جان

شیخ عبد القدوس گنگوہی کے مکتوبات ادبی اور فنی اعتبار سے فارسی زبان میں شاہکار ہیں۔ مگران کے مکتوبات پر بہت کم توجہ دی گئی ہے جب کہ اعجاز الحق قدوسی نے اپنی کتاب ’اقبال کے محبوب صوفیہ‘ میں بھی شیخ عبدالقدوس گنگوہی کو شامل کیا ہے۔ 

قصہ مختصر یہ ہے کہ شیخ عبد القدوس گنگوہی کے مکتوبات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک بلند پایہ صوفی، صاحبِ کشف و بصیرت رہنمااور فارسی ادب کے کہنہ مشق ادیب تھے۔ان کے مکتوبات میں جو فکری گہرائی، روحانی حرارت اور اسلوب کی لطافت پائی جاتی ہے، وہ انھیں فارسی مکتوب نگاری کی تاریخ میں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔ ان کے مکاتیب کا دائرۂ اثر صرف مخاطب تک محدود نہیں رہتا بلکہ آج بھی پڑھنے والوں کے دلوں کو جھنجھوڑ دیتا ہے، ذہنوں کو جلا بخشتا ہے اور روح کو تازگی عطا کرتا ہے۔شیخ عبدالقدوس  کی نثر ہو یا نظم، دونوں میں ایک والہانہ عشق، فکری ربط، سوز و گداز اور جمالیاتی حسن جھلکتا ہے۔ ان کے ہاں مکتوب، شاعری اور تعلیم، تینوں فنون باہم آمیختہ ہو کر ایک مکمل روحانی و فکری تجربہ بن جاتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کے مکتوبات پر مزید علمی و تحقیقی کام کیا جائے، تاکہ اردو و فارسی ادب اور اسلامی روحانی ورثے کے اس قیمتی خزانے سے نئی نسلیں زیادہ سے زیادہ مستفید ہو سکیں۔

 

Md. Ashfaque Alam

Research Scholar, Dept of Urdu

Jamia Millia Islamia

New Delhi- 110025

Mob.: 8810297963

ashfaquenadvi92@gmail.com


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

وکست بھارت وژن اور مشن،مضمون نگار: عارفہ بشریٰ

اردو دنیا،ستمبر 2025 ہندوستان صرف ایک جغرافیائی قطعۂ ارضی کا نام نہیں، ایک منفردتاریخ اور قابل فخر تہذیب کا نام ہے۔ کم و بیش پانچ ہزار برسو...