31/12/25

ناول کی موت اور اس کا پنر جنم،مضمون نگار: نرمل ورما: ترجمہ: رضوان الدین فاروقی

اردو دنیا،اگست 2025

عرصے سے یہ افواہ سنتے آئے ہیں کہ ناول نے اپنا چولا اتار دیا ہے، لیکن ہزاروں کی تعداد میں ناول لکھے جاتے ہیں۔ شاید ہی کسی صنف کو ختم ہونے میں اتنا وقت لگا ہو جتنا ناول کو۔حالانکہ اس کی موت کی پیشین گوئیاں وقت وقت پر ہوتی رہتی ہیں مگر فینِکس کی مانند ہر بار وہ اپنی موت کی راکھ جھاڑ کر پھر سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شاید افواہ سچ ہے اور ناول سچ مچ مرگیا ہے، جیسا ہم اسے ابھی تک سمجھتے آئے تھے۔ ڈکنس، فلابیئر، ٹالسٹائی، دوستوئفسکی کی خون سے سنی محبت، نفرت، حسد اور دنیاوی خواہشات میں لتھڑ ی گاتھائیں جنھیں آج تک ہم ناول کا نام دیتے آئے تھے، ہمارے عہد تک آتے آتے وہ ایک تاریک گلی میں گم ہوگئی ہیں۔ اپنے پیچھے ایک بھی ایسا سراغ نہیں چھوڑ گئی ہیں، جنھیں پکڑ کر ناول کے پرانے وقار کو اجاگر کیا جاسکے۔ اب ہم جن کتابوں کو ناول کے بہانے پڑھتے ہیں، کیا وہ اس کی لاش کی محض  بھٹکتی روحیں ہیں؟

  دیکھا جائے تو ناول ہمیشہ سے تکلیف میں تھا اور جتنا زیادہ وہ پھلتا پھولتا گیا، اس کے اندر پوشیدہ تکلیف بھی بڑھتی گئی۔ وہ خود شناسی کی تکلیف تھی، جس نے اٹھارہویںاور انیسویں صدی کے یورپی ذہن کو ایک مخصوص اور غیر معمولی ذہنی کیفیت میں ڈالا تھا۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا کہ انسان صرف ایک فرد میں بدل جائے اور سماج ایک ایسی بھیڑ میں، جس کا اپنا کوئی چہرہ نہیں۔ انسان کا ایک فرد میں سکڑ جانا اور دوسری طرف سماج کا ایک حد تک پھیل جانا، جہاں لافردیت ہی اس کی روایت ہو۔ ناول کی تکلیف ان دو پاٹوں کے درمیان پھنسے انسان کی بدحواسی، بے مقصدیت اور اکیلے پن کو ظاہر کرتی تھی۔

انسان کیا ہے؟ یہ ابدی سوال ہے اور رزمیہ، شاعری، ڈرامہ جیسی لازوال اصناف میں اس سوال کو کئی سطحوں پر ابھارا گیا تھا، لیکن فرد کیا ہے؟ اس سوال سے براہ راست سامنا پہلے پہل ناول نے کیا تھا۔ فرد جو چاہے کسی بھی طبقے، معاشرے، مذہب یا خاندان کا رکن کیوں نہ ہو، لیکن جس کی صداقت اس کی رکنیت (بلانگنگ) میں نہیں اسی کے ہونے (Being) میں پنہاں ہوتی ہے۔ فرد جو خود کو ’ظاہر ‘ کرتا ہے اور ظاہر کرنے کے دوران ہی اپنے ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ پہلے اس کے سرٹیفکیٹ میں دوسروں کے دستخط ہوتے تھے، وہ اس کے ہونے کے گواہ تھے۔ ماں باپ، ذات فرقہ اور سب سے بڑھ کر خدا، وہ سب تھے اس لیے وہ تھا،ان کے بنا کچھ نہیں تھا، محض صفرتھا۔ سماج میں فرد کا تصور ہی ایک انوکھا واقعہ یا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ حادثہ تھا کیونکہ اس کے ہونے کے ثبوت میں صرف اس کا ’میں ‘ تھااور خدا اور انصاف اور اصول کی عدالت میں ’میں ‘ کی شناخت خود ’میں‘ کیسے کرسکتا ہے؟ اس لیے فرد کے وجود پر شروع سے ہی شک کی پرچھائیں پڑ چکی تھی۔ ناول نے پہلی بار ایسے فرد کی گواہی لینے کی کوشش کی تھی جو اپنے لیے اس دنیا میں کسی کو گواہ نہیں بنا سکتا تھا۔ برہنہ اور معصوم فرد، مکمل طور سے آزاد اور مکمل طور سے مشکوک بے شمار امکانات میں کھلاہوا اور ہر امکان کو آخر ی انتہا تک پہنچانے کی ذمہ داری ڈھوتا ہوا۔ وہ کچھ بھی ہوسکتا تھا سادھو سنت، قاتل، شیطان۔ دوستوئفسکی کا یہ قول ہے کہ اگر خدا نہیں ہے تو انسان کچھ بھی کرسکتا ہے، نہ صرف فرد کے جوکھم بھرے سنسار کو پیش کرتا ہے بلکہ اس سنسار کی نہ ختم ہونے والی لاقانونیت کو بھی پیش کرتا ہے، جسے ناول نے اپنی صنف کے دائرے میں پہلی بار سمیٹا تھا۔ ناول کی تکلیف بہت کچھ فرد کی پیدائش ہونے کے وقت ہونے والے درد زہ سے جڑی ہوئی تھی۔ 

فرد کے جس وجود کو ناول نے اپنا مرکزی نقطہ بنا یا تھا، اسی چیز نے ناول کو مروجہ بیانیوں والی برادری کی دیگر تمام اصناف سے الگ بھی کردیا۔ رزمیہ،داستان، لوک کتھائیں، قصے کہانیاںاوپر سے دیکھنے پر لگتا ہے کہ ناول انھیں مروجہ بیانیوں کی جدید اور تصحیح شدہ شکل ہے۔ اس غلط فہمی کی وجہ شاید یہ ہے کہ ناول اور ان مروجہ بیانیوں میں اگر ایک چیز یکساں ہوتی ہے تو وہ ہے کہانی۔ یہ تمام مروجہ بیانیوں والی اصناف کسی نہ کسی روپ میں کوئی قصہ یا کہانی سناتی ہیں، لیکن کیا ناول صرف کہانی سنانے کا ذریعہ ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو ناول جیسی مخصوص صنف کو دریافت کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ انسان کی کہانی کو بیان کرنے کے لیے کیا قدیم دور سے چلے آرہے بیانیے کافی نہیں تھے؟ کیونکہ قصہ گو کی محفوظ کائنات میں جو انسان بستا تھا، ناول کا انسان اس کائنات کی حدود سے کہیں دور جا پڑا تھا۔ قدیم کہانیوں والے اسالیب میں ہمیں کتنے کردار یاد رہتے ہیں؟ ایک راجا تھا کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے؛ کون سا راجا؟ یہ غیر متعلق ہے...کیونکہ راجا اوررانی اور راکشس اور پرندے ہمارے قدیم لینڈ اسکیپ کی آرکی ٹائپ یادوں کو ظاہرکرتے ہیں وہ آفاقی ہیں، اٹل ہیں؛ کہانی شروع ہوتے ہی وہ کٹھ پتلیوں کی طرح ناچنے لگتے ہیں۔

لیکن مادام بواری ؟ ہم اس کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ ناول پڑھنے کے بعد جو یاد رہ جاتا ہے وہ مادام بواری کی کہانی نہیں، جو ہزار عورتوں کی کہانی ہوسکتی ہے، بلکہ وہ ہزار واقعات، جن کی انوکھی اور غیر متوقع آمیزش سے ایک مادام بواری کا جنم ہوا تھا، ایک آزاد عورت جس کے سامنے اپنے عزائم اور خواب تھے۔ ناول سے پہلے کی مروجہ بیانیوں والی اصناف میں کرداروں پر واقعات رونما ہوتے ہیں، لیکن ناول میں شخصی کردار اپنی خواہشات اور عزائم سے کسی نہ کسی شکل میں ان واقعات میں اپنی مداخلت کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں وہ ناکام ہوں، شکست کھائیں، واقعات کے رتھ تلے کچل جائیں، یہ بات دوسری ہے۔ بلکہ یہی بات ناول کو کہانی کہنے کا خالص ذریعہ نہیں ہے۔ ڈان کیہوٹے اور مادام بوواری کے خوابوں اور کائناتی واقعات کی طاقت کے درمیان ایک تناؤ بھری جنگ برابر چلتی رہتی ہے، ایک منطقی جنگ۔ اسی لیے ناول کی ہیئت قدیم بیانیوں والی اصناف سے الگ ہے۔ اسی لیے وہ ناقدین، جو ناول کو غیر ملکی صنف سمجھ کر ہندوستانی ناول کی گلوخلاصی روایتی بیانیوں، لوک کتھاؤں اور قصوں کے اصول کو دوبارہ زندہ کرنے کی صورت میں دیکھتے ہیں، لیکن ہندوستانی معاشرے کے الٹ پھیر میں جو فرد آج شکل اختیار کررہا ہے کیا مروجہ بیانیوں والے اسالیب اس کے مشکل اور جد وجہد بھری دنیا کے خدشات کو خود میں سمیٹ پائیں گے، مجھے اس میں شک ہے۔ کیا یہ محض اتفاق تھا کہ ہزاری پرساد جی اپنے قصہ گوئی والے اسلوب میں جدید زندگی پر کوئی ناول لکھتے ہوئے ہمیشہ جھجکتے رہے۔ غیر ملکی بوجھ سے چھٹکارا بدقسمتی سے ہمیشہ روایت میں ہی نہیں ملتا جب تک خود روایتی اسالیب کو نئے دباؤ کے تحت از سر نو تشکیل اور تبدیل نہیں کیا جاتا۔ ناول کے ’ہندوستانی کرن ‘ کے مسئلے کو ناول میں پہلے کی سہج اور نسبتاً سہل حالت میں لوٹ کر نہیں سلجھایا جاسکتا۔

لیکن رزمیہ ؟ وہ تو سب سے قدیم بیانیاتی صنف ہے۔ کچھ ناولوں کو پڑھتے ہوئے ہمیں بار بار ہومر یا والمیکی یاد آتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہیگل نے ناول کو ’جدید متوسط طبقے کا رزمیہ‘ کے روپ میں واضح کیا تھا۔ ( ہیگل کی اس تعریف کی تقلید کرتے ہوئے لیکن بدقسمتی سے ان کے تئیں اظہار تشکر نہ کرتے ہوئے ڈاکٹر نامور سنگھ نے ہندوستانی ناول کو’ کسانوں کی زندگی کا رزمیہ‘ مانا ہے۔ یہ تعریف کتنی گمراہ کن ہے، میں اس بحث میں نہیں جانا چاہوں گا۔ صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ جب ہیگل کے سامنے متوسط طبقے کی ترقی کا پورا مستقبل روشن تھا، وہاں ہندوستانی کسان کی وہ تاریکی مارکس کے لفظوں میں کہیں تو تاریک مستقبل ڈاکٹر نامور سنگھ نہیں دیکھ پاتے جہاں زمین سے ہٹ کر ہندوستانی کسان کی طبقاتی ثقافت، یعنی اس کی کسانی ہی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ پریم چند نے اپنے آخری ناول اور کہانیوں میں کسان کی افسوسناک نوآبادیاتی اداسی کو ظاہر کیا تھا لیکن موجودہ صورتحال میں اس اداسی کے لیے کوئی گنجائش نہیں بچی رہ گئی ہے۔ اگر تجارتی صنعت کاری کی مار ہندوستانی کسان پر اتنی ہی بے دردی سے پڑتی رہی جس کا برا خواب مارکس نے دیکھا تھا تو اگلے کچھ برسوں میں ہمیں اپنے دیہاتوں میں سرمایہ دار کسان جوکسان یا Peasantنہیں ہیں، وہاں کھیتی کرنے والے مزدور ملیں گے، کسان نہیں۔ )جائس کایولیسس تو اپنی ساخت میں اوڈیسی کے برابر ہی چلتا ہے۔ دونوں اصناف کی یہ یکسانیت غیر فطری بھی نہیں ہے۔ ایسے ناول ہیں جو رزمیہ کے پیمانے پر مختلف اشخاص کی پوری زندگی کو ایک عظیم گرافٹی آرٹ کی طرح اپنے صفحے پر کندہ کرتے ہیں۔ یہ بے وجہ نہیں ہے کہ ’کرامازوف برادران‘ یا ’جنگ اور امن ‘ یا اگر بیسویں صدی میں تخلیق کیے گئے مارسل پروست کے ’رمیمبرینس  آف تھنگس پاسٹ‘ کو ہی لے لیں، انھیں پڑھتے ہوئے ہمیں بے ساختہ ہی قدیم عہد میں تخلیق کیے گئے رزمیوں یا آئس لینڈی ساگا گرنتھوں کی یادآجاتی ہے۔ پیدائش سے وفات تک انسان کی مکمل زندگی کی گاتھائیں، زندگی کا عظیم سمندر، جس میں ہر اٹھتی لہر اور مرتے ہوئے مدو جزر سے وجودکے سمندر کو ناپا جاتا ہے۔ یہ ناول رزمیہ کی یادضرور دلاتے ہیں، لیکن دراصل رزمیہ کے امکانات کو چھوتے چھوتے رک جاتے ہیں، کچھ چھوٹے پڑ جاتے ہیں اس لیے نہیں کہ ٹالسٹائی یا پروست کی حقیقت نگاری کی گرفت کہیں ڈھیلی ہوجاتی ہے یا ان کی انتھک تخلیقی توانائی کہیں درمیان میں ماند پڑجاتی ہے، بلکہ اس لیے کہ جس مکمل انسان کی عظیم کائنات کو ایپک ایک وقت میں پیش کرتے تھے، وہ جدید معاشرے تک آتے آتے شکستہ شخصیات میں ہی اتنے بھیانک طریقے سے بکھر گیا ہے کہ ناول اسے صرف ناسٹیلجیا کے لمحوں میں یاد کرسکتا ہے یا کبھی نادر لمحوں میں گرفت میں لے پاتا ہے باقی وقت اسے اپنا ماتھا ان دیواروں پر پھوڑنا پڑتا ہے، جو نہ صرف ہر شخص کو اپنے معاشرے سے الگ کرتی ہیں، بلکہ خود اس کی ذات میں پھانس کی طرح چبھی رہتی ہیں۔ ایلڈس ہکسلے (Aldous Huxley) نے اپنے ایک بہت دلچسپ مضمون ’رزمیہ اور مکمل حقیقت‘ میں اس بات کو بیان کیا تھا۔ ہومر کے رزمیوں میں کیسے انسان کا ہرلمحہ اس کی زندگی کے بہاؤ میں مکمل بن جاتا ہے۔ کوئی واقعہ اچانک نہیں ہے، وہ ایک مکمل پیٹرن میں معنی اختیار کرتا ہے؛ وہ ایک طرح کا الوہی اورپہلے سے طے شدہ پیٹرن ہے، ہر چیز ویسے ہی ہوگی، جیسے اسے ہونا ہے فطری اصولوں کی طرح ضروری اور بامعنی جس میں مقدس اور کائناتی، مذہبی اور دنیاوی حدود ایک دوسرے میں گھل مل جاتی ہیں۔

ناولوں میں ایسا کیوں ممکن نہیں ہوپاتا؟ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ناول خالص طور سے سیکولر صنف ہے، جس میں مافوق الفطری معجزات اور تقدیر کی پیشین گوئیوں کو خارج کردیا گیاہے۔ وہاں سب کچھ فرد کے خود ساختہ و من مانے فیصلوں پر منحصر ہے، اس لیے سب کچھ حادثاتی اور اور اتفاقی ہے۔ بڑے سے بڑے ناول کو پڑھتے ہوئے کیوں یہ تکلیف من کو کچوکے لگاتی رہتی ہے کہ واقعات بالکل دوسرے طریقے سے وقوع پذیر ہوسکتے تھے کہ ان کے پیچھے ایسی کوئی الوہی یا فطری منظوری نہیں، جو انھیں کسی دوسری ترتیب میں پرونے سے روک سکتی ہو۔ کیوں یہ شک من کو کھٹکتا رہتا ہے کہ اگر اینا کیرینیناچاہتی، تو اپنی زندگی کے واقعات کے پہیے مخالف سمت میں موڑ سکتی تھی، ان کی ترتیب کو بدل سکتی تھی اور اس طرح خود کو خودکشی کے بھیانک انجام سے بچا سکتی تھی؟ یہ نہیں کہ ناول میں اس کی موت حقیقی اور ضروری معلوم نہیں ہوتی۔ یہی تو سب سے بڑی ستم ظریفی ہے ناول میں جو چیز سب سے زیادہ ضروری اور فطری معلوم ہوتی ہے زندگی کے مکمل بہاؤمیں وہی چیز اچانک اتفاقی (Contingent)اور مشکوک سی بن جاتی ہے۔ میری میکارتھی(Mary McCarthy) نے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ اگر اینا کیرینینا وِرانسکی سے اسٹیشن پر نہ ملتی جو سراسر اتفاق تھا تو اس کی زندگی پہلے کی طرح اپنی لگی بندھی پٹر ی پر چلتی رہتی۔ یہ خوفناک سچائی ہے۔ ایک حادثاتی واقعہ پوری زندگی کی تقدیر کو بدل سکتا ہے۔ یہ بات مادام بواری پر لاگو نہیں ہوتی، اپنے حالات سے چھٹکارا پانے کے لیے کسی بھی عاشق کے ساتھ بھاگ سکتی تھی، اس نگاہ سے اینا کا کردا ر مادام بواری سے کہیں زیادہ آزاد ہے اور اس کا عشق جتنا اتفاقی ہے اتنا ہی تباہ کن بھی۔رزمیہ کے واقعات او ر کرداروں کی تقدیر کی ناگزیری میں کہیںنہ کہیں فطرت کی حمایت اور ستائش شامل  ہے جو اسے یقینی اور منظم بناتا ہے۔ لیکن ناول کی اہمیت ایک فرد واحد کے ٹھٹھرتے غیر محفوظ فیصلوں پر منحصر ہے، جسے باہر کی کوئی طاقت، سماج، فطرت، اور خدا اپنا تحفظ دے کر جائز نہیں کرا سکتے۔ ناول کے واقعات فنی طور سے اہم ہونے کے باوجود کسی طرح کی قانونی حیثیت یا فطری تواتر حاصل نہیں کرپاتے۔ کیا ناول نگاری کی کائنات کی اس انارکی اور لاقانونیت کو دیکھ کر ہی ٹالسٹائی نے آخری برسوں میں اپنے عظیم ناولوں کو اتنی بے رحمی سے رد نہیں کردیا تھا؟

فرد کی اس خود مختار اور غیر منظم کائنات کی خوفناک دلیل کو کافکاآخری انتہا تک لے گئے، جہاں انسان کو مجرم تو بتا دیا جاتا ہے لیکن کوئی ایسا قانون یا عدالت نہیں، جس کے سامنے ہم یہ معلوم کرسکیں کہ آخر اس نے کون سا ایسا کام کیا ہے، جس کا الزام اس پر مڑھا جارہا ہے۔ دوستوئفسکی کی انارکی یا لاقانونیت کی دنیا - جس میں انسان سب کچھ کرسکتا ہے - کافکا تک آتے آتے اپنا ایک چکر پورا کرلیتا ہے، جس میں فرد کی یہی سب کچھ کرنے کی آزادی ہی اس کا سب سے بڑا گناہ اور جرم بن جاتا ہے۔ ان کا آخری ناول ’کاسل‘ ایک لامتناہی اور اذیت ناک کھوج ہے، کسی ایسے اعلیٰ ترین افسر (خدا؟) کو پانے کی تلاش جس کے قوانین، اصول یا احکام کے تحت انسان زندگی کے حکم کے تحت اپنی زندگی کی معنویت کو ظاہر کرسکے۔ ایک ایسا خدائی پیغام جو ہمیں حتمی اور واضح طورسے بتا سکے کہ اس کرۂ ارض پر انسان کا فرض اور مشغلہ کیا ہے؟ کافکا آخری ناول نگار تھے جو ناول کی دیگر اخلاقی اور سیکولر حدود کو لانگھ کر اصول اور فرض کی جائز دنیا میں جانا چاہتے تھے اور لانگھنے کی اس ناممکن کوشش میں دونوں دنیاؤں کی سرحد پر ہی ختم ہوگئے تھے۔ کیا ان کا خاتمہ ایک عجیب ڈھنگ سے ہمیں والٹر بینجامن کی موت کی یاد نہیں دلاتا جو نازی یورپ کی ناانصافی سے نجات پانے کے لیے جمہوریت کے مذہب سے بھرپور نظام میں جانا چاہتے تھے اور جنھوں نے شدید مایوسی میں مذہب اور لامذہب کی آخری سرحد پر ہی خود کشی کرلی تھی؟

یہ وہ لمحہ تھا، جب پہلے پہل یورپ میںناول یا زیادہ حق بیانی سے کہیں تو یورپی ناول کی موت کی افواہ اڑنے لگی تھی۔ دھیان سے دیکھیں تو مغربی ثقافت کا یہ لمحہ ٹھیک وہی تھا جب پہلی دفعہ یورپی معاشرے میں فرد کی موت کی گفتگو بھی شروع ہونے لگی تھی۔ ایک فرد جو تنہا اور غیر محفوظ ہونے کے باوجود اپنے جذبات اور خیالات میں آزاد تھا، راج شاہی اور عوامی طبقے سے الگ اپنی مخصوص اکائی پہچانتا تھا: خود غرض لیکن خوددار انسان جس کی شبیہ کو یورپ کے رومانوی ادب میں کئی قلم کاروں نے تخلیق کیا تھا۔ لیکن انیسویں صدی کے آخری مرحلے میں جس صنعتی شہری ثقافت کا طلوع ہوا، اس نے ایک ایسی بھیڑ کو جنم دیا، جس کی چھوٹی بازارو دلچسپیوں کو دیکھ کر فلابیئر اتنے غضبناک ہوئے تھے؛ عوام کے نام پر جس بے چہرہ، بے چشم اور عدم دلچسپی والے انسانوں کی بھیڑ نے بَھیڑوں کی طرح یورپی شہر کو گھیرا تھا، اس سے بچنے کے لیے فلابیئر نے اپنے سونے کمرے میں خالص فن کی سادھنا میں ہی زندگی کی معنویت کھوجنی چاہی تھی۔ پہلی بار فنکار کی آزاد اور خود مختار شخصیت پر خطرے کا سایہ منڈرانے لگا تھا۔ خود فرد کا رومانوی اور روشن کردار ایک اوسط آدمی کی سپاٹ اور سطحی اور خود کار دنیا میں اپنا شخصی اختصاص کھونے لگا تھا۔

  پہلی جنگ عظیم کے بعد فرد کا یہ بحران اتنا گہرا ہوچکا تھا کہ ہسپانوی مفکر اور فلسفی جوز اورٹیگا گیسیٹ (Jose Ortegay Gasset) نے اپنی کتاب ’ دی ریوولٹ آف دی ماسیز ‘ میں پہلی بار یورپ کے فرد کو ’بھیڑ کے انسان ( ماس مین) میں تبدیل ہوتے دیکھا تھا، اور یہ بھیانک تبدیلی تھی کیونکہ بھیڑ کا انسان رینے سینس کے انوکھے اور مخصوص ثروت مند انسان اور انیسویں صدی کے رومانوی ہیرو کی انوکھی خصوصیت سے خارج ہوکر انسان کے سب سے اوسط، نچلے، خود کش اور بے حس ورژن میں بدل گیا تھا۔ ایک بے ضمیر انسان، جس نے اپنی شخصیت کو ایک بے سہارا بوجھ سمجھ کر بھیڑ کی غیر انسانی حکومت کے حوالے کردیا تھا۔ آزادی کا درد اور سوچ اب اسے نہیں جھنجوڑتے تھے، ایک سوچ سے عاری انسان، جو اپنی آخر ی انتہا میں ہمیں کامیو کے ’ آؤٹ سائڈر‘ کی یاد دلاتا ہے، کھانے پینے والا آدمی، جو اپنی ماں کی موت کے دوسرے دن ہی سوئمنگ پول میں تیرنے جاتا ہے، اپنی محبوبہ کے ساتھ سوتا ہے اور جسے ٹھیک سے یاد بھی نہیں رہتا کہ اس کی ماں کی موت کب ہوئی تھی، کل یا پرسوں؟ ذرا تصور کیجیے دوستوئفسکی کے ’نوٹس آف دی انڈرگراؤنڈ‘ کے پریشان حال، بدحواس، نفرت، محبت، مایوسی میں ڈوبے اور اخلاقی و غیر اخلاقی سوالوں کے دلدل میں چھٹپٹاٹا آؤٹ سائڈر کامیوکے اجنبی تک آتے آتے کیسے ایک اداس، روزمرہ کے کاموں میں غرق اور احساس سے عاری روبوٹ میں تبدیل ہوگیا ہے؟ کامیو کا ہیرو اس لیے اجنبی نہیں ہے کہ سماج سے الگ اپنے احساسات یا آدرشوں میں مخصوص ہے-انیسویں صدی کے نہلسٹ، باغی آؤٹ سائڈر کی طرح- بلکہ اس لیے کہ اس کا رویہ خالص طور سے آج کے ’ بھیڑ والے انسان‘ کا فطری کردار ہے، ہم سب کا کردار۔ لیکن جہاں ہم اپنے احساس کے خالی پن اور روحانی دیوالیے پن کو اپنے دکھاوٹی سروکاروں اور دنیاوی اخلاقیات کی کائی تلے چھپائے رہتے ہیں۔ کامیو کا ہیرو ہمیں اس لیے اجبنی لگتا ہے کیونکہ اس نے اس کائی کو اپنے اوپر سے اتار کر خود کو جوں کا توں پیش کردیا ہے؛ ایک اوسط اور عام شخص کی طرح۔ دوستوئفسکی کا ہیرو اپنی روح کے انڈرگراؤنڈ اندھیرے میں آؤٹ سائڈ ر تھا، کامیو کا اجنبی اوپری سطح کی روشنی میں گھومتا پھرتا شہر کی بھیڑ کا ایک ایسا ٹپکل جاندار ہے جو اپنے اوسط پن کی انتہا کی وجہ سے خوفناک معلوم ہوتا ہے۔ پہلا دوسروں کی اوسط دنیا سے الگ نکل کر اپنی روح کی بے شمار پرتوں کو چھیلتا ہے، دوسرا بھیڑ کے لامتناہی جم غفیرکے درمیان ایک اوسط اکائی ہے، جس کی روح صفر کی اتھاہ پرتوں کے نیچے دبی ہے۔ لگتا ہے، جیسے ان دو ناولوں کے درمیان یورپی انسان نے فردیت کے انتہائی بوجھ سے لافردیت کے انتہائی ہلکے پن تک ہی تکلیف دہ سفر کیا ہے۔ ناول صنف، جس کی پیدائش ہی فرد کے مخصوص تصور سے وابستہ تھی، اگر ہمارے وقت کی انتہائی لافردیت تک آتے آتے خود کو اتنا تھکا، کمزور اور امید سے عاری پائے، تو یہ حیرت کی بات ہوگی؟

یورپ کے فرد کی یہ تبدیلی،یعنی  ’سب کچھ‘ سے ’کچھ نہیں‘ تک کا سفر کیاناگزیر تھا؟ اس سوال کو تھوڑا سا بدل کر ایسے بھی پوچھ سکتے ہیں کہ جس سماج میں فرد کا تصور انسان کی خود مختاری اور خودغرض انا (ایگو) سے شروع ہوتا ہے، اس کا انجام اگر اناکی خودکشی میں ہو، ایک شکستہ اور کھوکھلی انا، تو کیا یہ غیر فطری بات ہوگی؟ ایک ایسی ثقافت میں جہاں روح اور انا، ایگو اور سیلف کے بیچ کوئی واضح فرق نہ ہو، جہاں ایک دوسرے کے ساتھ الجھایا جاتا رہا ہو، وہاں انسان اپنی انا کا قبضہ کرکے اپنی روح کے بوجھ سے نجات پانے کے لیے اپنے سیلف کو ہی ختم کرڈالنا چاہتا ہے۔ بیسویں صدی کے بہترین ناولوں میں اس کھوئے ہوئے سیلف، اس معدوم روح کو پانے کی چھٹپٹاہٹ ضرور نظر آتی ہے۔ اس کے بنا کوئی بھی فرد اپنی شناخت، اپنی پہچان اور اس کرۂ ارض پر اپنے ہونے کا مقصد بیان نہیں کرسکتا۔ سال بیلو (Saul Bellow) کے کردار ہرجوگ کی کامِک ٹریجک جدوجہد یہی ہے کہ بیسویں صدی کی صنعتی دنیا میں اپنی اصلی پہچان، اپنے صحیح رول، اپنی روح کے نقشے کو متعین کرسکے کیونکہ وہ جس دنیا میں رہتا ہے، وہاں لوگوں کی بے انتہا بھیڑ تو ہے، بے شمار اناؤں کی کلبلاتی جماعت، لیکن خود فرد کا سیلف، اس کا اپنی روح سے تعلق اتنا دھندلا اور مشتبہ بن گیا ہے کہ یہ پتا لگانا بھی ناممکن ہوگیا ہے کہ اس کا اپنا خود کتنا اس کا اپنا ہے، کتنا دوسروں سے ادھار لیا ہوا یا دوسروں کے ذریعے کنٹرول کیا ہوا۔ ہرجوگ اندھی گلی کے جس آخری موڑ پر پہنچ گئے ہیں، وہاں اگر ایک طرف ہمیں یورپی ناول کا ڈیڈ اینڈ دکھائی دیتا ہے، تو دوسری طرف وہ کنجی بھی مل جاتی ہے، جو انسان کے تاریک ذہن، انا کی پرتوں تلے دبے ضمیر کا تالا کھول سکے، جس کے دروازے ایک دوسری دنیا کی طرف کھلتے ہیں۔

کیسی ہے یہ دنیا، جویورپی ناول کی انا پرست دنیا سے پلٹ کر ہمیں ایک ایسے من سے متعارف کراتی ہے، جہاں انا کی خوفناک اور جارح سلطنت کی حدود ختم ہوجاتی ہیں، ایک ایسے سیلف کے دروازے کھولتی ہے، جس کے اندر فرد کا من اِڈ، ایگو اور سپرایگو جیسے تاریک تہہ خانوں میں بٹا ہوا نہیں ہے، بلکہ جہاں نفس، روح،اور جسم ایک مکمل فطرت کے منی ایچروں میں خود انسان کے اندر غیر منقسم طور سے موجود ہے۔ کیا ہم اسے ’ ہندوستانی من‘ کی دنیا کہہ سکتے ہیں؟ مجھے نہیں معلوم، لیکن واقعی یہ وہ دنیا نہیں ہے، جس کی تصویر ہمیں آج تک یورپی ناولوں میں دستیاب ہوتی رہی ہے۔پھر کیسی ہے یہ دنیا، جس کے اندر اس من کی روایت بسی ہے، جس کے ریشوں سے اس من کا ٹیکسچر بنا ہے؟ یورپی ناول کی انا پرست دنیا سے نکل کر اگر ہمیں اس انوکھے من اور انسان کی روح میں داخل ہونے کا موقع مل سکے تو ہمیں یک دم لگے گا کہ جیسے ہم اکائیوں کی دنیا سے نکل کر تعلقات کی دنیا میں چلے آئے ہیں۔ یہاں سب حیوان و انسان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، ایک دوسرے پر منحصر ہیں، نہ صرف وہ جاندار جن میں روح ہوتی ہے، بلکہ وہ چیزیں بھی جو اوپر سے بے جان نظر آتی ہیں۔ اس آپس میں گتھی ہوئی دنیا میں چیزیں آدمیوں سے جڑی ہیں، آدمی درختوں سے، درخت جانوروں سے، جانور پودوں سے اور پودے آسمان سے، بارش سے، ہوا سے۔ ایک زندہ، جاندار، ہر لمحہ سانس لیتی، دھڑکتی ہوئی دنیا، خود میں مکمل دنیا جس کے اندر انسان بھی ہے۔ لیکن اہم بات یہ ہے کہ انسان کائنات کے مرکز میں نہیں ہے، سب سے اوپر نہیں ہے، سب چیزوں کا معیار نہیں ہے؛ وہ صرف متعلقہ ہے اور اپنے معاملے وہ خود مختار اکائی نہیں ہے جسے اب تک ہم فرد مانتے آئے تھے، بلکہ وہ ویسے ہی مکمل ہے جیسے دوسرے جاندار اپنے رشتوں میں مکمل ہیں۔ جس طرح انسان فطرت کا مقصد نہیں ہے اسی طرح انسان کا مقصد فرد ہونا نہیں ہے، ہم وسائل اور امکانات کی دنیا سے نکل کر کلیت کی دنیا میں آجاتے ہیں۔ انسان کی کلیت کایہ نادر نمونہ ہمیں مارکیز کے ناول ’ تنہائی کے سو سال‘ میں ملتا ہے، اس لیے وہ یورپ کے فرد پر مرکوز یا فرد سے خالی ناول سے اتنا منفرد معلوم ہوتا ہے۔ یورپی انسان کی حرارت، جو فرد کی علیحدگی اور اکیلے پن کی وجہ سے ناول کی دل دہلا دینے والی تکلیف بن کر ظاہر ہوئی تھی، رشتوں کے اس مفروضے میں خود بخود ختم ہوجاتی ہے۔ ہیگل نے جہاں فرد کی شناخت دوسروں کے خلاف واضح کی تھی، وہیں اس کے برعکس رشتوں کی دنیا میں وویکانند بالکل دوسرے زواویے سے فرد کو آنکتے ہیں؛  فردکی زندگی کلیت کی زندگی میں بسی ہے، اس کا سکھ سب کے سکھ میں پنہاںہے، سب کے بنا فرد کا مفروضہ ناممکن ہیں۔ یہ ایک ایسا دائمی سچ ہے، جس کی بنیاد پر پوری دنیا ٹکی ہے۔ اس لامتناہی کلیت کی طرف دھیرے دھیرے آگے بڑھنا، اس کے تئیں گہری ہمدردی اور برابری محسوس کرنا، اس کے سکھ میں سکھی اور اس کے دکھ میں دکھی محسوس کرنا یہی فرد کا واحد فریضہ ہے۔ یہ صرف اس کا فرض ہی نہیں ہے، بلکہ اس کی خلاف ورزی میں اس کی موت ہے۔‘‘

وویکانند نے فرد کی موت کے بارے میں جو تنبیہ انیسویں صدی کے آخر میں کی تھی وہ ہماری صدی کی ڈھلتی گھڑیوں میں ایک نمایاں اور سفاک حقیقت بن کر ہمارے سامنے کھڑی ہوگئی ہے۔ آج کے ناول کو اس موت کا سامنا کرنا ہے اور یہ کسی آسان شارٹ کٹ سے نہیں کرسکتا، نہ ہندوستان کے پرانے بیانیاتی اسالیب میں جاکر اسے پیش کیا جاسکتا ہے، نہ ہی اسے انیسویں صدی میں تخلیق شدہ ناول کے چوکھٹوں میں ہی بند کیا جاسکتا ہے، فرد جہاں سب سے اوپر تھا، اس کا سامنا صرف انسا ن کی باطنی شخصیت، اس کے سیلف کو دوبارہ بیان کرنے کے مشکل عمل میں ہی ممکن ہوسکے گا۔ دوسرے لفظوں میں، ہم جس نئے ناول کی قیاس آرائی کرتے ہیں، وہ مغرب کے حقیقت پسند، وکٹورین ناول سے تو مختلف ہوگا ہی، لیکن وہ روایتی معنوں میں ہندوستانی من کا ناول ہی ہوگا، یہ کہنا ناممکن ہے، جبکہ ہم اس من کو ہی ثقافتی طور پر ثقافت کے خطرے کے تناظر میں دوبارہ نہیں جانچتے۔ ظاہر ہے، ناول کی یہ قیاس آرائی فرد کے شکستہ ایگو کی خلاف ورزی کرکے، اسے ویسی کلیت میں دیکھنے سے شروع ہوگی، جس میں وہ برابری اور ہمدردی کی حساس سطح پر دوبارہ اپنا رشتہ آس پاس پھیلی ہوئی کائنات سے جوڑ سکے، خود اس کے درمیان زندہ رہنے کی بھولی ہوئی مریادا کو یاد رکھ سکے، اس یاد کا ایک ایسے تخلیقی اسپیس میں اظہار کرسکے، جو یاد بھی ہے، تاریخ بھی، جادو بھی، مایا اور حقیقت کی لیلابھی، مرداور فطرت کے بیچ ایک نئے پران کی تخلیق جو ہمیں ایک طرف بار بار اپنی پرانی بیانیاتی اصناف کی یاد دلائے گی- رزمیہ، لوک کتھائیں، پری کہانی، اندرجال - تو دوسری طرف اس میں ہمیں مغربی ناول کے وہ بہترین اور نادر لمحات بھی یاد آتے رہیں گے، جب فرد نے اپنے اندرون کی اندھیری گپھا سے باہر کلیت سے سامنا کیا تھا۔ وہ خواب جو کرامازوف برادران میں دِمتری نے ذہنی اذیت کے ناقابل برداشت لمحے میں دیکھا تھا، دوستوں، میں نے ایک خواب دیکھا ہے، ایک جملہ جو ایک کوندھ میں انسان کی مکمل، مظلوم تاریخ روشن کرجاتا ہے یا پھر اسے سیدھے سادے کسان کی روح میں جس کے اندر ٹالسٹائی اور پریم چند نے مکمل سچ سے سامنا کیا تھا، یا اندر کا وہ تاریک سورج، جس کی روشنی میں لارینس نے بیسویں صدی کی مشینی تہذیب کے مکمل مصنوعی فکری تصورات کو بھید کر پوری کائنات سے خون کا رشتہ جوڑا تھا۔ مغربی ناول میں کلیت کی یہ جھلکیں بہت نایاب ہیں، لیکن ان سے سامنا کیے بنا نہ تو ہم فرد کی تکلیف سمجھ پائیں گے، نہ اس کی خلاف ورزی کرکے نئے ناول کی راہ کھوج پائیں گے۔

ناول مغرب کی صنف بھلے ہی ہو مگر فرد کی تکلیف ایک فرد کی حیثیت سے ہر جگہ ایک جیسی ہے۔ یورپی ناول کے چوکھٹوں سے آزاد ہوکر ہم جس ناول کے پنر جنم کا تصور کرتے ہیں، اس میں انسان کے جسم پر ان تمام زخموں کے نشانات ہوں گے، جنھیں فرد نے اپنے پچھلے جنم میں جھیلا ہے، لیکن اب ان کی تکلیف کسی دوسرے کے ذریعے یا خلاف نہ ہو فطرت کے اس پورے وجود سے جڑی ہوگی، جس کے سکھ میں سکھی اور جس کے دکھ میں دکھی ہوا جاتا ہے۔ یہاں دیکھنا، ہونا، محسوس کرنا، الگ الگ حصوں میں بٹا ہوا نہیں ہے، جو ہمیں فرانس کے نئے ناول میں ملتا ہے، جس کی تشریح راب گریے نے کی ہے۔ راب گریے کے لیے ’نیا ناول نگار ‘وہ ہے جو چیزوں کو صرف دیکھتا ہے، ایک غیر جانبدار ناظر کی طرح، جس میں وہ اپنے جذبات کے ذریعے کوئی مداخلت نہیں کرتا۔ اس کے برعکس جس ناول کا تصور ہم کررہے ہیں، وہاں مداخلت کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ کیونکہ وہاں قلم کار دیکھنے والا سبجیکٹ نہیں ہے اور دنیا دکھائی دینے والی آبجیکٹ نہیں ہے بلکہ دونوں ایک دوسرے کے بیچ میں ہیں۔ آدمی دنیا کے بیچ میں ہے،جانداروں میں ایک جاندار، جانوروں میں ایک جانور، وہ دوسروں کو دیکھتا ہے، تو دوسرے بھی اسے دیکھتے ہیں، کچھ اسی انداز میں جیسے کبھی پال کلی (Paul Klee)  نے کہا تھا،’’ جب کبھی میں جنگل میں گھومتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ جہاں میں پیڑوں کو دیکھ رہا ہوں، وہاں پیڑ مجھے دیکھ رہے ہیں۔‘‘

یہ بالکل مختلف دنیا ہے، جہاں کوئی مرکز نہیں ہے کیونکہ سب مرکز میں ہیں۔ ایک معجزاتی، جادوئی دنیا، جس کا جادو صرف اس چھوٹے سے سچ میں پنہاں ہے کہ زندگی کی روح کو سیکولر اور مذہبی میں نہیں بانٹا جاسکتا ؛ جو ہے وہ مقدس ہے۔ دوستوئفسکی نے کہا تھا کہ، ’’اگر خدا نہیں ہے، تو انسان سب کچھ کرسکتا ہے،ا?ج ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر فرد نہیں ہے، تو انسان سب کچھ ہوسکتا ہے، درخت، پتھر، دھوپ اورکیڑے مکوڑوں کی حیاتیاتی دنیا میں ایک جاندار۔آفاقی پاکیزگی کے درمیان ایک مقدس روح۔ ناول،'A Bright Book of Lief' (ڈی ایچ لارینس) ہاں کیوں نہیں، لیکن ہندوستانی یا یورپی کتاب نہیں،بلکہ زندگی کی ایک مکمل کتاب۔

 

Rizwanuddin Farooqui

Bhopal (MP)

Mob.: 7000815183

rugenious@gmail.com

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

تازہ اشاعت

وکست بھارت وژن اور مشن،مضمون نگار: عارفہ بشریٰ

اردو دنیا،ستمبر 2025 ہندوستان صرف ایک جغرافیائی قطعۂ ارضی کا نام نہیں، ایک منفردتاریخ اور قابل فخر تہذیب کا نام ہے۔ کم و بیش پانچ ہزار برسو...