2/1/26

طبقۂ اولیٰ ملوک فارس،مضمون نگار:محمد صہیب

اردو دنیا،ستمبر 2025

کیومرث

کل علمائے فارس اس امر پر اتفاق کر رہے ہیں کہ کیومرث ہی آدم علیہ السلام ہیں اور ان کا لڑکا منشا نامی تھا اور منشا کا سیامک اور سیامک سے افروال پیدا ہوا اور سیامک کے افروال کے علاوہ چار لڑکے اور چار لڑکیاں اور تھیں، لیکن کیومرث کا نسلی سلسلہ صرف افروال سے چلا اور باقیوں کے اعقاب منقطع ہوگئے، جن کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔ افروال بن سیامک کی صلب سے اوشہنک بیشداد (ہوشنگ) پیدا ہوا۔ افروال کیومرث کے ملک کا وارث ہوا اور اس نے اقالیم سبعہ پر حکومت کی۔

طبری بہ روایت ابن کلبی کہتا ہے کہ اوشہنک بن عامر ]عابر1[ ابن شالخ ہے اور پھر وہی کہتا ہے کہ اہل فارس کا یہ دعویٰ اور خیال ہے کہ اوشہنک دو سو برس بعد آدم علیہ السلام کے ہوا اور نوح علیہ السلام بعد آدم علیہ السلام کے دو سو برس بعد ]کذا[ ہوئے۔ اسی بنا پر اہل فارس نے اوشہنک اور نوح کو ایک شخص قرار دیا ہے لیکن اس نے ]طبری نے[ اس سے اختلاف اور اس کا انکار کیا ہے کیونکہ اوشہنک کی شہرت اس غلط واقعے کے مخالف ہے۔

بعض علمائے فارس یہ کہتے ہیں کہ اوشہنک پیشداد مہلائل ہے اور اس کا باپ افروال قینان ہے اور سیامک انوش اور منشا شیث2 اور کیومرث آدم علیہ السلام ہیں۔

بعض علمائے فارس یہ بیان کرتے ہیں کہ کیومرث کومر بن یافث بن نوحؑ کو کہتے ہیں۔ یہ نہایت معمر اور مُسن تھا، اپنے باپ سے علاحدہ ہوکر جبل دنباوند (ملک طبرستان) میں آکر مقیم ہوا اور اس کا مالک بن بیٹھا۔ بعد ازاں فارس پر قبضہ حاصل کیااور ایک عظیم الشان بادشاہ ہوا، اس نے بہ حالت حیات اپنے لڑکوں کو اطراف وجوانب کی طرف بھیجا اور انھوں نے بابل کو لے لیا۔ کیومرث ہی نے سب سے پہلے شہر اور قلعے بنوائے اور گھوڑوں کو سواری کے لیے پسند کیا۔ یہ آدم کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، اس نے لوگوں کو اس امر پر آمادہ کیا کہ وہ اس کو اس نام سے پکاریں۔ اہل فارس اس کے لڑکے ماذاے کی اولاد سے ہیں۔ ابتدائے زمانہ سے اسی کی اولاد کی کیانیہ اور کسرویہ میں حکومت رہی تا آنکہ حکومت فارس کا خاتمہ ہوا۔

ہوشنگ

اہل فارس یہ روایت کرتے ہیں کہ اوشہنک ہی مہلایل ہے اور اس نے ہند پر قبضہ حاصل کیا تھا اس کے بعد طہمورث بن انوجہان بن انکہد بن اسکہد بن اوشہنک بادشاہ ہوا۔ بعضوں نے بجائے اسکہد کے فیشداد  لکھ دیا ہے اور درحقیقت یہ کل اسما عجمی ہیں، اسی وجہ سے اور نیز اصولاً روایت منقطع ہونے کے سبب سے ہم ان کی صحت کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

طہمورث

ابن کلبی لکھتا ہے کہ طہمورث3 بابل کا پہلا بادشاہ ہے اور اس نے  ہفت اقلیم پر حکومت کی اور یہ نہایت نیک طینتی سے حکومت کرتا تھا اور منصف تھا۔ اسی کے 10 4جلوس میں بیوراسپ ظاہر ہوا اور اس نے مذہب صابیہ کی بنیاد ڈالی۔

جمشید

علمائے فارس کہتے ہیں کہ طہمورث کے بعد جمشید5 تخت نشین ہوا۔ اس کے معنی ہیں: شجاع یاشعاع شمس۔ یہ طہمورث کا حقیقی بھائی تھا، یہ بھی  ہفت اقلیم کا بادشاہ تھا اور نہایت نیک سیرت اور عادل تھا۔ پھر بعد چندے ظالم اور جابر ہوگیا، اس کی موت سے ایک برس پہلے بیوراسپ نے اس پر خروج کیا اور گرفتار کر کے آرے سے چیر ڈالا اور بعضے یہ کہتے ہیں کہ جمشید نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا، اس وجہ سے پہلے اس پر اس کے بھائی استو6نے خروج کیا لیکن ناکامیاب رہا، تب بیوراسپ اٹھا اور اس نے جمشید کی حکومت کا قلع قمع کر دیا اور سات سو برس تک حکومت کرتا رہا۔ ابن کلبی نے بھی ایسا ہی لکھا ہے۔

ضحاک

طبری کہتا ہے کہ بیوراسپ7 کو ازدہاک کہتے ہیں، جس کو عرب ضحاک کے نام سے موسوم کرتے ہیں، یہ وہی شخص ہے جس کا ذکر ابونواس شاعر کے اس شعر میں ہے        ؎

وکان منا الضحاک تعبدہ الـ

جامل و الجن فی محاربہا

(ضحاک ہم میں سے تھا، جس کی عبادت اونٹ والے (یعنی رؤسا) اور جن (یعنی بدوی) اپنی محرابوں میں کرتے تھے۔)8

اور پھر طبری ہی روایت کرتا ہے کہ عجم کا یہ خیال ہے کہ جمشید نے اپنی بہن کا عقد اپنے خاندان میں سے کسی کے ساتھ کر دیا تھااور اس کو یمن کا حاکم مقرر کیا تھا، اس سے ضحاک پیدا ہوا، چنانچہ اہل یمن ضحاک کا نسب یوں بیان کرتے ہیں :’’ضحاک بن علوان بن عبیدہ بن عویج۔‘‘ اس نے اپنے بھائی سنان بن علوان کو مصر کا بادشاہ کر کے بھیجا تھا، جو ابراہیم علیہ السلام کا فرعون تھا، اور اہل فارس ضحاک کا نسب اس طرح لکھتے ہیں: ’’بیوراسپ (ضحاک) بن رتیکان بن ویدوشتک بن فارس بن افروال۔‘‘ اور بعضے اس کی مخالفت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس نے  ہفت اقلیم پر بادشاہت کی، یہ ساحر اور کافر تھا، اس نے اپنے باپ کو مار ڈالا اور یہ اکثر بابل میں رہتا تھا۔

ہشام کی روایت ہے کہ ضحاک کے بعد جمشید بادشاہ ہوا، یہی ابراہیم علیہ السلام کا نمرود ہے اور اہل فارس کا نواں بادشاہ ہے، جبل دنباوند میں پیدا ہوا تھا۔

ضحاک نہایت مستعد اور بہادر تھا، جب اس نے ہند پر فوج کشی کی اور خود لڑائی پر گیا تو افریدون نے اس کے زمانۂ عدم موجودگی میں اس کے ملک پر قبضہ کر لیا اور بہ وقت مراجعت ضحاک اور افریدون میں لڑائی ہوئی۔ ضحاک کا ادبار9 آگیا تھا، وہ ان لڑائیوں میں افریدون کے ہاتھ گرفتار ہوکر جبل دنباوند میں قید کر دیا گیا اور اس کی گرفتاری اور اس پر فتح یابی کے دن کو عید کا دن مقرر کیا، لیکن اہل فارس یہ بیان کرتے ہیں کہ شاہی خاندان جس میں حکومت چلی آ رہی تھی وہ اوشہنک اور جمشید کا تھا اور ضحاک یعنی بیوراسپ نے ان پر خروج کیا اور فتح یاب ہوا۔ اس نے بابل آباد کیا اور نبطیوں سے اپنی فوج تیار کی اور اہل عالم پر بہ زور سحر غالب آیا۔

افریدون

اصفہان کا ایک شخص عالی (کابی حداد) نامی اس کی مخالفت پر اٹھ کھڑا ہوا، اس کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا، جس پر اس نے جراب لٹکا کر جھنڈا10 بنایا اور لوگوں کو ضحاک کے برخلاف ابھار کر اس سے لڑا، جب ضحاک میدان جنگ سے بھاگا تو اس کی رائے سے بنی جمشید میں سے افریدون کو تخت نشین کیا۔ افریدون نے تخت پر بیٹھتے ہی ضحاک کا تعاقب کیا اور اس کو گرفتار کر کے قتل کر ڈالا۔

افریدون زمانۂ نوح علیہ السلام میں تھا، شاید اسی وجہ سے یہ کہا جاتا ہے کہ افریدون ہی نوح علیہ السلام تھے۔ لیکن تحقیق یہ ہے، جس کو ہشام بن کلبی نے نسابین فارس سے نقل کیا ہے کہ افریدون جمشید کی اولاد سے ہے، ان دونوں میں نو پشتوں کا فرق ہے، اس نے دو سو برس سلطنت کی اور ضحاک کی کل مظالم اور غصب کی ہوئی چیزیں ان کے مالکوں کو واپس کر دیں۔

اولاد افریدون اور تقسیم سلطنت

افریدون نے اپنی حالت حیات ہی میں ملک کو اپنے تین لڑکوں میں تقسیم کر دیا۔ بڑے لڑکے سرم (سلم) کو روم، شام اور مغرب دیا، طوج (تور) کو ترک اور چین دیا، ایرج کو عراق، ہند اور حجاز دیا11۔ افریدون کے مرنے کے بعد سرم (سلم) اور طوج (تور) نے مل کر ایرج کو لڑکر مار ڈالا اور اس کے ملک کو آپس میں تقسیم کر لیا۔ اہل فارس یہ خیال کرتے ہیں کہ افریدون اور اس کے اوپر کی دس پشتیں ’’اشکیان‘‘ کے لقب سے یاد کی جاتی تھیں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایرج کے دو بیٹے وندان اور اسطوبہ اور ایک لڑکی خورک نامی تھی، جو ]وندان اور اسطوبہ[ بعد مرگ افریدون اپنے باپ ایرج کے ساتھ مارے گئے، اسی روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ افریدون نے پانچ سو برس حکومت کی اور اسی نے ثمود اور نبط کے آثار سواد سے محو کیے۔

کَے‘ لقب کی ابتدا

ابتداً اسی ]افریدون[ نے اپنے کو’کَے‘ کے لقب سے ملقب کیا اور کَے افریدون کے نام سے مشہور ہوا۔ ’کَے‘ کے معنی ہیں تنزیہ (یعنی مخلص اور متصل روحانیات سے) اور بعضوں نے اس کے معنی اور بھی بہت کچھ بیان کیے ہیں۔

منوشہر

چند دنوں کے بعد منوشہر (منوچہر) بن منشحر بن ایرج نے زور پکڑا، یہ افریدون کی نسل سے تھا، اس کی ماں اسحاق علیہ السلام کی اولاد سے تھی، اس نے سن شعور کو پہنچ کر اپنے چچوں ]چچاؤں[ سے لڑائی کی اور ان کو مار کر بادشاہ بن بیٹھا اور بابل کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ فارس کو دین ابراہیمی کی طرف مائل کیا۔

پھر افراسیاب بادشاہ ترک نے اس پر چڑھائی کی اور بابل کو اس سے چھین لیا اور طبرستان تک اس کا تعاقب کرتا چلا گیا۔ جب طبرستان بھی منوشہر (منوچہر) کو پناہ نہ دے سکا تو وہ طبرستان چھوڑ کر عراق کی طرف چلا گیا اور افراسیاب نے طبرستان پر قبضہ کر لیا۔

افراسیاب

افراسیاب کی نسبت یہ کہا جاتا ہے کہ یہ طوج (تور) بن افریدون کی نسل سے تھا، جس وقت منوشہر نے طوج (تور) کو قتل کیا اور اس کے خاندان پر تباہی آئی اس وقت یہ چھپ کر بلاد ترک میں چلا گیا اور وہیں اس نے نشو ونما پائی اور انھیں کے ملک سے خروج کیا؛ اسی وجہ سے افراسیاب ان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ طبری کہتا ہے کہ جب منوشہر بن منشحور مر گیا تو افراسیاب بن اشک بن رستم بن ترک نے بابل پر قبضہ کر لیا اور مملکت فارس کو تہ وبالا کر دیا۔

زومر

اس کے بعد زومر (زوایازاب) بن طہمارست (طہماسپ) اور بہ روایت دیگر راسپ بن طہمارست نے افراسیاب پر خروج کیا۔ زومر بن طہمارست نو واسطے سے منوچہر کی طرف نسباً منسوب کیا جاتا ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ طہمارست اپنے باپ سے علاحدہ ہو کر بلاد ترک میں چلا گیا تھا اور وہیں اس نے عقد کر لیا تھا، جس سے زومر پیدا ہوا اور سن شعور کو پہنچ کر افراسیاب کی مخالفت پر اٹھا اور لڑ کر اس کو سلطنت فارس سے نکال دیا اور افراسیاب ترکستان کو چلا گیا۔ زومر نے اس فتح یابی کے دن کو ’عید مہرجان‘ کے نام سے مشہور کیا۔

منوشہر کے مرنے کے بارہ برس کے بعد زومر کا فارس پر قبضہ اور تسلط ہوا۔ یہ نہایت نیک سیرت، صلح پسند اور امن دوست تھا۔ اس نے بابل کی بگڑی ہوئی حالت اور افراسیاب کی خراب کی ہوئی آبادی کو ازسر نو بارونق بنایا، اس نے سواد میں نہر زاب نکالی اور اس کے کنارے پر شہر بسایا اور اس کا نام ’زواہی‘ رکھا، ہر طرح کے درخت، پھول، پھل کے لگائے، طرح طرح کے کھانے ایجاد کیے، غنیمت کو اہل لشکر پر تقسیم کیا۔

کرشاسپ

کرشاسپ12 (گرشاسپ) طوج بن افریدون کی اولاد سے اور بہ روایت دیگر اولاد منوشہر سے ہے اور اس کا نائب تھا۔ اہل فارس میں یہ ایک عظیم الشان شخص گذرا ہے، لیکن بادشاہ نہیں ہوا اور بادشاہت زومر بن طہمارست کرتا تھا۔ زومر اپنی حکومت کے تیسرے سال مر گیا۔ اس کے زمانے میں بنی اسرائیل تیہ سے نکلے تھے اور یوشع نے اریحا کو فتح کیا تھا۔ اس کے مرنے کے بعد ملوک فارس کے دوسرے طبقے کی حکومت کا سلسلہ چلا جن کا پہلا بادشاہ کیقباد ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ اس طبقے کا زمانۂ حکومت دوہزار چار سو ستر برس رہا، جیسا کہ بیہقی اور اصفہانی نے تحریر کیا ہے، اور ان کے بادشاہوں میں سے صرف انہی نو بادشاہوں کو ذکر کیا ہے جن کو طبری نے لکھا ہے۔ واللہ وارث الارض ومن علیہا۔ ]اللہ تعالیٰ زمین اور اس پر بسنے والوں کا مالک ہے۔[

حواشی و ماخذ

1        عربی نسخوں میں ’عابَر‘ ہے۔ دارالفکر 2:182، دارالکتب العلمیہ2:178۔  ]م۔ص[

2          امام غزالیؒ لکھتے ہیں کہ آدم علیہ السلام نے شیث علیہ السلام کو امورِ دین کا والی مقرر کیا تھا اور کیومرث کو دنیاوی حکومت کا افسر بنایا تھا۔ واللہ اعلم۔  ]مترجم[

3           طہمورث نہایت نیک مزاج تھا، یہ اپنے دادا کی چال چلا، روزہ رکھنے کا حکم دیا، فارسی میں کتابت کی اور امرِ الٰہی کا  پٖابند تھا، چالیس برس بعد مرگیا۔  ]مترجم[

4        عربی متون میں ’1جلوس‘ ہے۔ دارالفکر 2:183، دارالکتب العلمیہ 2:178 ۔  ]م۔ص[

5        جمشید نے ریشم کیڑوں سے نکالا، کاتب اور دربان مقرر کیے، نوروز کو عید کا دن ٹھہرایا۔  ]مترجم[

6        دارالفکر 183:2/دارالکتب العلمیہ178:2کے نسخوں میں ’استویر‘ ہے۔  ]م۔ص[

7          بیوراسپ جمشید کا عامل تھا، اس نے اپنے زمانۂ حکومت میں ٹیکس، محصول مغنی، ملاحی نکالے، سولی دینا، ہاتھ پاؤں کا کاٹنا اسی کی ایجاد ہے۔ اس نے ہزار برس حکومت کی۔ اس کے اواخرِ عہدِ حکومت میں ابراہیم علیہ السلام تھے۔ سواد پر نمرود اس کا عامل تھا۔  ]مترجم[

8          اصل نسخے میں شعر کا ترجمہ حاشیے میں ہے۔  ]م۔ص[

9          ادبار =  بدنصیبی، نحوست، شکست وغیرہ۔  ]م۔ص[

10      اس جھنڈے کو ’دُرَفش کاویان‘ کہتے ہیں، اہلِ فارس اس کی بہت تعظیم کرتے تھے۔ جنگ قادسیہ میں یہ جھنڈا مسلمانوں نے چھین لیا تھا۔  ]مترجم[

 11     پیش نظر عربی نسخوں میں افریدون کے لڑکوں کے درمیان تقسیمِ سلطنت سے متعلق عبارت یہ ہے  :  فکانت الروم وناحیۃ المغرب لسرم، والترک والصین والعراق لإیرج... (روم اور اطرافِ مغرب سرم کے حصے میں آئے اور ترک، چین اور عراق ایرج کو ملے...) نسخۂ دارالفکر 184:2،  نسخۂ دارالکتب العلمیہ179:2۔ اس موقع پر مترجم علاّم نے اردو میں جو مفہوم ومعنی پیش کیا ہے وہ عربی عبارت سے بالکل مختلف ہے۔ مترجم نے لکھا ہے کہ ’طوج کو ترک اور چین دیا گیا‘ جب کہ عربی متن اس سلسلے میں بالکل خاموش ہے کہ طوج کے حصے میں کیا آیا۔ اسی طرح مترجم کے مطابق ایرج کو عراق کے علاوہ ہند اور حجاز بھی دیے گئے، اس کی بھی صراحت نہیں ہے۔ بہرحال حاشیے میں جو عربی عبارت نقل کی گئی ہے اس کے مطابق ترجمہ نہیں ہے۔ غالباً مترجم نے کسی دوسرے ماخذ سے یہاں اضافہ کیا ہے۔  ]م۔ص[

12      کرشاسپ کی نسبت بعض مورخین لکھتے ہیں کہ یہ زوا کا نائب تھا اور بابل میں رہتا تھا، اس نے بغاوت کرکے اس سے ملک نکال لیا یا تقسیم کرلیا، بیس برس تک حاکم رہا۔ [مترجم]

 

ماخذ: تاریخ ابن خلدون (جلد دوم)، مصنف: عبدالرحمن ابن خلدون، مترجم: حکیم احمد حسین عثمانی الہ آبادی، مرتب: محمد صہیب، پہلی اشاعت: 2018، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی


’امرائو جان ادا‘ اور مشترکہ تہذیبی عناصر،مضمون نگار:ساجد ذکی فہمی

اردو دنیا،ستمبر 2025

بحیثیت ناول نگار  مرزا محمد ہادی رسوا (1857۔ 21اکتوبر 1931)کا شمار ان مصنّفین میں ہوتا ہے جنھوں نے ناول کی تاریخ میں انقلاب برپا کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ وہ بیک وقت ناول نگار، شاعر، مترجم، ریاضی داںہونے کے ساتھ ساتھ علم طب، علم کیمیا، علم ہیئت، منطق اور علم نجوم میں بھی درک رکھتے تھے۔ اس مختصر مضمون میں ہمیں ان کی جملہ تصانیف و تخلیقات یا علوم و فنون سے سروکار نہیں بلکہ ان کے شہرۂ آفاق ناول ’امرائو جان ادا‘ میں موجود مشترکہ تہذیبی عناصر کا جائزہ لینا مقصود ہے۔

مرزا رسوا کی علمیت اور ان کی تخلیقی ذہانت سے انکار ممکن نہیں۔ وہ نہایت ذہین و فطین شخصیت کے مالک تھے۔ انھیں زبان پر مہارت حاصل تھی۔ ’امرائو جان ادا‘  (1899) کے علاوہ انھوں نے چار طبع زاد ناول ’افشائے راز‘، ’شریف زادہ‘ ، ’ذات شریف‘ اور ’خونی شہزادہ‘ تحریر کیے، لیکن جو شہرت اور مقبولیت ’امرائو جان ادا‘ کے حصے میں آئی وہ ان کے دیگر ناولوں کو نصیب نہ ہوسکی۔ ناول میں رسوا نے ایک طوائف کی زندگی کو مرکز بنا کر لکھنوی تہذیب کی عکاسی اس انداز سے کی ہے کہ یہ شہر جیتا جاگتا اور سانس لیتا ہوا ہمارے سامنے آجاتا ہے۔ بالفاظ دیگر ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ خانم جان کا کوٹھا ایسا مرکز ہے جہاں شریف النفس، رذیل، نواب، ڈاکو، بوڑھے، جوان، کم سن، مولوی حتیٰ کہ باپ اور بیٹے بھی اپنا کردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جانب رسوا نے  ناول میں لکھنؤ کی معاشرت ، سماجی زندگی، تہذیب، ثقافت، رسم و رواج، رہن سہن اور نشست و برخاست وغیرہ کا بھی پورا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا ہے۔

اس عہد کے تاریخی و تہذیبی حالات پر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ دلّی کی تباہی کے بعد اہل فن کی نگاہ میں لکھنؤ ہی علم و ادب کا مرکز ٹھہرا، لہٰذا  باکمالوں اور اہل فن نے دلّی سے نکل کر لکھنؤ کی راہ لی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لکھنؤ ہر فن کے استاد کا مرکز بن گیا۔ علاوہ ازیں حکومت کی سرپرستی اور دولت کی فراوانی نے لکھنؤ کو تہذیبی اور مذہبی اعتبار سے کافی ثروت مند بنا دیا تھا۔ لوگ بے فکری کی زندگی گزار رہے تھے۔ مغل حکومت سے علیحدہ ہونے کے بعد لکھنؤ والوں نے دہلوی تہذیب سے الگ اپنی ایک تہذیب یا ثقافت کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ خواہ وہ آداب مجلس اور نشست و برخاست کے طریقے ہوں یا طعام و لباس اور پوشاک و زیورات کے۔ دوسری جانب نوابان اودھ برعکس مغلوں کے اثنا عشری کے پابند تھے۔ لہٰذا مذہبی معاملات میں انھوں نے جس تصرف سے کام لیا وہ خود شیعیت کی تاریخ میں معدوم دکھائی دیتی ہیں۔ ان تمام باتوں نے مل کر لکھنؤ کی تہذیب و ثقافت میں ایسی چمک اور جاذبیت پیدا کردی تھی جو اس سے قبل ہندوستان میں کبھی دیکھی نہیں گئی۔ رسوا کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے ’امرائو جان ادا‘ میں اس مشترکہ تہذیب کا ایسا مرقع پیش کیا ہے جو اس سے پہلے ہمیں رتن ناتھ سرشار کے ’فسانۂ آزاد‘میں دکھائی دیتا ہے۔ محمد حسن اس ضمن میں رقم طراز ہیں:

’’سرشار کے فسانۂ آزاد کے طرز پر مرزا محمد ہادی رسوا امرائو جان ادا کی کہانی کو لکھنوی تہذیب کے پس منظر میں سجاتے ہیں۔ پھر لکھنوی تہذیب کا بھی وہ دور جو اقدار کی تبدیلیوں سے دو چار تھا۔ امرائو جان ادا اس پس منظر کا ایک لازمی جز ہے۔ ڈاکوئوںکی شورہ پشتی، پرانے نوابوں کی طوائف نوازیاں، عشق و عاشقی کے چرچے اور سب سے بڑھ کر اس دور کی معاشرت کی جیتی جاگتی تصویریں امرائو جان ادا میں ہر صفحے میں بکھری ہوئی ہیں۔ یہ جادو ایسا موثر ہے کہ سرشار کے فسانۂ آزاد کے بعد امرائو جان ادا کو لکھنؤ کی تہذیبی زندگی کا سب سے کامیاب مرقع کہا جاسکتا ہے۔‘‘1

ناول کے آغاز میں مشاعرے کا ایک منظر پیش کیا گیا ہے۔ یہ بات ہم سبھی جانتے ہیں کہ مشاعرہ ہماری مشترکہ تہذیب کا ایک اہم جز رہا ہے۔ ہندوستان بالخصوص دلّی اور لکھنؤ میں بادشاہ، نواب، امرا اور رئوسااس کا خاص اہتمام کیا کرتے تھے۔ دلّی کی تباہی کے بعد لکھنؤ چونکہ مرجع خلائق بنا ہوا تھا اس لیے شعرا جوق در جوق لکھنؤ کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے۔ ناول میں منشی احمد حسین صاحب جو اطراف دلّی سے آکر لکھنؤ میں آباد ہوئے تھے، اپنے کمرے میں اکثر شعری نشستوں کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ یہاں احباب اپنے اشعار سناتے اور داد و تحسین وصول کرتے۔ مشاعروں میں داد دینے کاطریقہ بالکل روایتی ہوا کرتا تھا۔ آج بھی لوگ اسی طرز پر قائم ہیں۔ مثال کے طور پر امرائو جان ایک غزل پڑھتی ہیں جس پر حاضرین داد دیتے ہیں۔ داد دینے کے لیے جن الفاظ کا سہارا لیا گیا ہے وہ ملاحظہ فرمائیں:

’’حضار جلسہ:واہ واسبحان اللہ کیا کہنا۔

رسوا: کیا شعر کہا ہے۔

خان صاحب:یہ بھی خوب کہا۔

احباب:  غزل از مطلع تا مقطع ایک رنگ ہے۔

آغا صاحب :نشست الفاظ توملاحظہ ہو۔

پنڈت صاحب: کیا دُر فشانی کی ہے۔‘‘  2

مندرجہ بالا اقتباس میں جس طرح شعر کی تعریف کی گئی ہے اس سے شعر کی خوبی یا خامی کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ اور اس قسم کے الفاظ مشاعرے کی تہذیب کا حصہ ہیں۔دوسری اہم بات یہ کہ ابتدا سے ہی مشاعروں میں حصہ لینے والے ہندو اور مسلمان دونوں ہوا کرتے تھے۔ مذہبی اعتبار سے شعرا میں تخصیص نہیں برتی جاتی تھی۔ ہندو اپنی شاعری میں قرآنی تعلیمات اور تلمیحات کا بے جھجک ذکر کرتے تو مسلمان بھی ہندوئوں کے عقائد اور ان کی رسومیات کا برملا اظہار کیا کرتے تھے۔منشی احمد حسین صاحب کے کمرے میں منعقد ہونے والے اس مشاعرے میں بھی ایک پنڈت جی موجود ہیں۔ ان کی موجودگی ہندوستان کی اس مشترکہ تہذیب کی طرف اشارہ کرتی ہے جو ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان صدیوں کے میل جول سے پیدا ہوئی تھی۔

شعر و شاعری کے ساتھ گیت سنگیت بھی ہماری گنگا جمنی تہذیب کی پہچان رہے ہیں۔ امیر خسرو، سورداس، تان سین اور ان جیسے نہ جانے کتنے اشخاص کے نام لیے جاسکتے ہیں جنھوں نے اس فن کو ترقی دینے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مغلوں کے عہد میں اس فن نے کافی ترقی کی۔ نوابانِ اودھ بھی فن موسیقی سے گہرا شغف رکھتے تھے۔ لکھنؤ میں جب دولت کی فراوانی کی وجہ سے زنان بازاری کا زور بڑھا اور ہر گلی کوچے سے ناچنے اور گانے کی صدائیں بلند ہونا شروع ہوئیں تو لوگ اس فن کی طرف زیادہ سرعت کے ساتھ متوجہ ہوئے۔ طوائفوں کے کوٹھے میں چونکہ ناچ گانے کا خاص اہتمام کیا جاتا تھا۔ اس لیے طوائفوں کا اس فن میں کامل ہونا ضروری خیال کیا گیا۔ ناول میں خانم جو کوٹھے کی نائکہ ہے وہ بھی اس فن میں مہارت  رکھتی ہیں۔ایک جگہ غلط درس دینے پر سنگیت کے استاد کی کس طرح گرفت کرتی ہیں ملاحظہ فرمائیں:

’’ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ میں (امرائو جان) سوہا گا رہی ہوں ۔ خانم بھی موجود ہیں میں نے استاد جی سے پوچھا، گندھار اس میں کومل ہے یا ات کومل۔

استاد جی:  ات کومل

خانم:  خاں صاحب ماشاء اللہ یہ میرے سامنے؟

استاد:ک یوں؟

خانم:  اور پھر آپ مجھی سے پوچھتے ہیں کیوں۔ سوہا میں گندھار ات کومل ہے؟ بھلا آپ تو کہیے۔

استاد:  کہنے لگے۔ گندھار کومل لگا گئے۔

خانم:  بس آپ ہی قائل ہوجیے۔ خود آپ کومل کہیں اور چھوکری کو بہکاتے ہیں یا مجھے کستے ہیں؟ خاں صاحب میں کچھ عطائی نہیں۔ خاک چاٹ کے کہتی ہوں گلے سے نہ ادا ہو مگر ان کانوں نے کیا نہیں سنا۔ میں بھی ایسے ویسے گھرانے کی شاگرد نہیں ہوں۔ ‘‘ 3

مندرجہ بالا اقتباس میں جس قسم کے گیت ، سُر یا تال کی بات ہو رہی ہے وہ خالص ہندوستانی تہذیب کے مظہر ہیں۔

امرائو جان ادا میں رسوا نے طوائفوں کے بہت سے رواج و رسومیات کا ذکر کیا ہے۔ ان ہی میں سے ایک رسم کو ’مسّی‘ کہا جاتا ہے۔ یہ رسم اس وقت ادا کی جاتی ہے جب کوئی طوائف ناچ، گانے، سُر اور تال غرض کہ ہر اعتبار سے کامل ہوجاتی تھی۔ اس رسم کے ادا کیے جانے کے بعد اس طوائف کو کسی مرد کے ساتھ منسلک کر کے اس کا کمرہ علیحدہ کردیا جاتا۔ یعنی اب اس کے کمرے میں باقاعدگی کے ساتھ مردوں کا آنا جانا شروع ہوجاتا تھا۔ اس رسم کی ادائیگی کے وقت ناچ گانے، کھانے پکانے اور تحفے تحائف بھی پیش کرنے کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ طوائفوں میں اس رسم کو بڑی دھوم دھام سے منانے کا رواج تھا۔ خانم کی بیٹی بسم اللہ جان کی جب مسّی ہوئی اس وقت کا ایک منظر امرائو جان کی زبانی ملاحظہ فرمائیں:

’’بسم اللہ کی مسّی بڑے دھوم سے ہوئی۔۔۔۔۔۔ دلارام کی بارہ دری اس جلسے کے لیے سجائی گئی تھی۔ اندر سے باہر تک روشنی تھی شہر کی رنڈیاں، ڈوم ڈھاڑی، کشمیری بھانڈ سب تو تھے ہی، دور دور سے ڈیرہ دار طوائفیں بلائی گئی تھیں۔ بڑے بڑے نامی گویے دلی تک سے آئے تھے۔ سات دن سات رات گانے بجانے کی صحبت رہی۔‘‘ 4

مذکورہ اقتباس میں ’مسّی‘ تو خالص ہندوستانی رسم ہے ہی اس کے ساتھ بارہ دری کا لفظ بھی ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ بارہ دری دراصل لکھنوی ثقافت کی پہچان ہے۔ لکھنؤ میں چھوٹی بڑی کئی بارہ دریاں موجود تھیں۔ یہ ایک ہال کی مانند ہوا کرتی تھیں۔ اس میں بارہ دروازے ہوتے تھے۔ اسی مناسبت سے اسے بارہ دری کہا جاتا تھا۔ گرمیوں کے موسم میں ان بارہ دریوں میں لوگ آرام بھی کیا کرتے تھے۔ علاوہ ازیں مختلف قسم کے جلسے اور مذہبی رسومات کے لیے بھی ان بارہ دریوں کو استعمال کیا جاتا تھا۔ ان بارہ دریوں کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس میں مذہبی تفاوت کا کوئی دخل نہیں تھا۔

کسی ملک یا خطے کی تہذیب، تمدن اور ثقافت کو سمجھنے کے لیے لباس وزیورات سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں۔ ابتدا سے ہی ہندوستانی عورتوں میں خواہ وہ مسلمان ہوں یا ہندو، زیورات کے استعمال کا رواج کثرت سے رہا ہے۔ مانگ کا ٹیکا، گلے کا ہار، کان کی بالی، ناک کی نتھیا، چوڑی، کنگن، کمر بند، انگوٹھی، دستانہ، پائل ، گھنگرو یا پازیب وغیرہ ہندو اور مسلمان دونوں اپنی حیثیت کے مطابق استعمال کرتے آئے ہیں۔ دولت کی فراوانی کی وجہ سے لکھنؤ والوں نے لباس اور زیوارات کے استعمال میں مزید مرصع سازی سے کام لیا۔ رسوا ایک جگہ خانم جان کا حلیہ بیان کرتے ہوئے لباس اور زیورات کا ذکر اس طرح کرتے ہیں۔

’’۔۔۔۔۔ کیا شاندار بڑھیا تھی۔۔۔۔۔ ایسی بھاری بھرکم جامہ زیب عورت دیکھی نہ سنی۔۔۔۔۔ململ کا دوپٹہ سفید کیسا باریک چنا ہوا کہ شاید و باید، اودے مشروع کا پئجامہ بڑے بڑے پائنچے، ہاتھوں میں موٹے موٹے سونے کے کڑے کلائیوں میں پھنسے ہوئے، کانوں میں سادی دو انتیاں لاکھ لاکھ بنائو دیتی تھیں۔ ‘‘ 5

اب ایک اقتباس میں مولوی صاحب کا حلیہ ملاحظہ فرمائیں:

’’۔۔۔ مولوی صاحب کا نورانی چہرہ سفید کترواں داڑھی۔ صوفیانہ لباس، ہاتھ میں عمدہ فیروزے اور عقیق کی انگوٹھیاں، خاک پاک کی تسبیح، اس میں سجدہ گاہ بندھی ہوئی، ہرولی کی جریب، چاندی کی شام بہت ہی نفیس۔ ڈیڑھ خمّہ حقہ۔ افیون کی ڈبیہ پیالی۔‘‘ 6

درج بالا اقتباس میں مولوی صاحب کا جس طرح حلیہ بیان کیا گیا ہے وہ بھی خاص لکھنوی تہذیب کی دین ہے۔ اس کے علاوہ خاک پاک کی تسبیح اور اس میں سجدہ گاہ کا بندھا ہونا ان کے شیعہ عقائد کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پچھلے صفحات میں عرض کیا گیا تھا کہ لکھنؤ میں شیعیت کا غلبہ تھا اور رسوا خود بھی شیعہ تھے اس لیے ’’امرائو جان ادا‘‘ میں ہمیں جگہ جگہ ان عقائد اور رسومات کا ذکر ملتا ہے جو براہ راست شیعہ عقائد سے تعلق رکھتے ہیں۔ افیون کی ڈبیہ سے رسوا یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ جب مولوی حضرات تک افیون کے عادی تھے تو عوام الناس کا ذکر ہی کیا۔

زیورات اور لباس کے علاوہ کھانے پینے کی اشیا سے بھی کسی ملک کی ثقافت کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ مغل جب ہندوستان میں وارد ہوئے اور یہاں بود و باش اختیار کی تو مقامی لوگ ان نئے پکوانوں سے آشنا ہوئے جو وہ اپنے ساتھ لے کر آئے تھے۔ اسی طرح یہاں کھائی اور بنائی جانے والی چیزوں نے بھی مغلوں کو متاثر کیا۔ اس میل جول کا نتیجہ یہ ہوا کہ مختلف قسم کے نئے پکوانوں کا تجربہ کیا گیا۔ لکھنؤ والوں نے دسترخوان پر سجائی جانے والی اشیا میں جس جدت طرازی اور مرصع سازی سے کام لیا تاریخ میں اس کی مثال اگر نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔ دراصل اس کے پیچھے دلّی کی تہذیب سے خود کو بہتر اورمنفرد ثابت کرنے کا عمل کارفرما تھا۔ عبدالحلیم شرر نے اپنی کتاب ’گذشتہ لکھنؤ‘ میں اس پر تفصیلی بحث کی ہے۔ رسوا نے اس ناول میں ایک جگہ دستراخوان پر چنے گئے انواع و اقسام کے کھانوں کا ذکر اس طرح کیا ہے:

’’دسترخوان پر کئی قسم کے کھانے پلائو، بورانی، مزعفر، متنجن، سفیدہ ، شیربرنج، باقر خانیاں، کئی طرح کے سالن، کباب، اچار، مربّے، مٹھائیاں، دہی، بالائی، غرض کے ہر قسم کی نعمت موجود تھی۔‘‘ 7

اس قسم کے کھانوں کا ذکر رسوا نے کئی جگہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ناول میں بہت سے برتنوں کے استعمال کو بھی دکھایا گیا ہے۔ مثال کے طور پر کنول، پیچوان، پان دان، پیک دان، سلپچی، تسلہ، رکاب اور لوٹا وغیرہ۔ ان سے بھی مشترکہ تہذیبی وراثت پر روشنی پڑتی ہے۔

عرب جب ہندوستان میں وارد ہوئے تو ان کے یہاں ایک سے زائد شادیوں کا رواج تھا۔ اس کے برعکس ہندوئوں کے یہاں شادی ایک ہی بار کی جاتی تھی۔ ان کا عقیدہ تھا کہ یہ شادی سات جنموں تک برقرار رہے گی۔ یعنی کسی صورت بھی شوہر اور بیوی کو علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہی وجہ تھی کہ ہندوئوں کے یہاں شادی کے وقت پرکرتی کو گواہ بنایا جاتا ہے۔ ہندوئوں کے ساتھ طویل مدت تک رہنے کی وجہ سے مسلمانوں کے اندر بھی یہ چیزیں آہستہ آہستہ سرایت کرگئیں۔ مذہبی اعتبار سے اگرچہ مسلمانوں میں ایک سے زائد شادیوں کی اجازت باقی رہی لیکن سماجی طورپر اسے بُرا سمجھا جانے لگا۔ یہی وجہ تھی کہ ہندوئوں کی طرح مسلمان عورتیں بھی شوہر یا اپنے سسرال کے ہاتھوں ہزارہاتکالیف برداشت کرنے کے بعد بھی علیحدگی اختیار کرنا گوارا نہیں کرتیں۔ آپ اسے بھلے ہی ان کی شریف النفسی سے تعبیر کریں لیکن یہ ہماری مشترکہ تہذیبی وراثت کا نتیجہ ہے۔ رسوا ایسے ہی تعلیم یافتہ اور مہذب گھرانے کی عورتوں کا نقشہ کھینچتے ہوئے امرائو جان ادا کی زبانی کہلواتے ہیں:

’’۔۔۔ کیا تمھیں اتنی سمجھ نہیں ہے کہ وہ بے چاریاں جو تمام عمر چاردیواریوں میں قیدرہتی ہیں ، ہزارہا قسم کی مصیبتیں اٹھاتی ہیں۔ اچھے وقت کے تو سب ساتھی ہوتے ہیں مگر برے وقت میں بے چاریاں ساتھ دیتی ہیں۔

۔۔۔گھر کی عورت کیسی ہی خوبصورت، خوب سیرت اور خوش سلیقہ کیوں نہ ہو، بے وقوف مرد بازاریوں پر جو ان سے صورت اور دوسری صفتوں میں بدرجہا بدتر ہیں، فریفتہ ہو کر انھیں عارضی طورسے یا مدت العمر کے لیے ترک کردیتے ہیں۔ اس لیے ان کو گمان کیا بلکہ یقین ہے کہ یہ کسی نہ کسی قسم کا جادو ٹونا ایسا کردیتی ہیں جس سے مرد کی عقل میں فتور آجاتا ہے۔ یہ بھی ان کی ایک قسم کی نیکی ہے اس لیے کہ وہ اس حال میں اپنے مردوں کو الزام نہیں دیتیں بلکہ بدکار عورتوں کو ہی مجرم ٹھہراتی ہیں۔ اس سے زیادہ ان کی محبت کی اور کیا دلیل ہوسکتی ہے۔‘‘  8

درج بالا اقتباس میں عورتوں کے جذبۂ ایثار اور محبت کی جو بات کی گئی ہے وہ برصغیر کی عورتوں کے لیے ہی مخصوص ہے۔ ہندوئوں کے یہاں پتی چونکہ پرمیشور کا درجہ رکھتا ہے اس لیے اس کے خلاف کچھ کہنا یا اس کو لعن طعن کرنا ہندو عورتوں کے لیے زیبا نہیں۔ اس قسم کے واقعات ناولوں کے علاوہ خود ہمارے سماج میں بھی دیکھنے کو مل جاتے ہیں جہاں بیوی سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کیے رہتی ہے۔ یہ رویہ ہندوئوں اور مسلمانوں دونوں کے یہاں یکساں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ صدیوں تک ساتھ رہنے کی وجہ سے دونوں کے بہت سے عقائد اس طرح گھل مل گئے ہیں کہ اب ان کو الگ الگ خانوں میں بانٹنا ممکن نہیں۔

لکھنؤ کا ذکر آئے اور میلوں ٹھلوں کی بات نہ ہو تو لکھنؤ کا پورا نقشہ ابھر کر سامنے آہی نہیں سکتا۔ محرم اور چہلم کے جلوس، میلوں ٹھیلوں کا منظر، خوانچے والوں کی پکار، اوباش قسم کے لڑکوں کی دھما چوکڑی، انواع و اقسام کے کھانے، کرتب بازیاں، مختلف قسم کی پالیاں اور نہ جانے کتنی ہی چیزیں  تھیں جنھوں نے لکھنؤ کو قابل دید بنا رکھا تھا ۔ سرشار نے ’فسانۂ آزاد‘ میں اور عبدالحلیم شرر نے ’گذشتہ لکھنؤ‘ میں ان تمام چیزوں کو مفصل بیان کیا ہے۔ رسوا نے بھی اپنے ناولوں میں لکھنؤ کے میلوں اور محرم و چہلم کا ذکر بڑے پُرتپاک انداز میں کیا ہے۔ عیش باغ کا میلہ جو نہایت دھوم دھام سے منایا جاتا تھا اس کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں:

’’میلے میں وہ بھیڑیں تھیں کہ اگر تھالی پھینکو تو سر ہی سر جائے۔ جابجا کھلونے والوں ، مٹھائی والوں کی دکانیں ، خوانچہ والے، میوہ فروش، ہار والے، تنبولی، ساقنیں غرض کہ جو کچھ میلوں میں ہوتا ہے سب کچھ تھا۔۔۔۔۔۔ ایک صاحب ہیں کہ وہ اپنے تنزیب کے انگرکھے اور اودی صدری ، نکہ دار ٹوپی، چست گھٹنے اور مخملی چڑھویں جوتے پر اترائے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ کوئی صاحب ہیں صندلی رنگا ہوا دوپٹہ سر سے آڑا باندھے ہوئے رنڈیوں کو گھور تے پھرتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔ ایک صاحب سات آٹھ برس کی لڑکی کو سرخ کپڑے پہنا کے لائے ہیں۔ کندھے پر چڑھائے ہوئے ہیں۔ ناک میں ننھی سی نتھنی ہے، اونچی چوٹی گندھی ہوئی ، لال شالباف کا موباف پڑا ہے، ہاتھوں میں چاندی کی چوڑیاں ہیں۔ معصوم کے دونوں ہاتھ زور سے پکڑے ہیں۔ کلائیاں دکھی جاتی ہیں۔ کوئی چوڑیاں اتار نہ لے۔

لیجیے دوسرے صاحب ایک اور ان کے یار غار بھی ساتھ ہیں۔ فرمایشی گالیاں چل رہی ہیں۔۔۔۔۔۔ معمولی گالی گلوج کے بعد ملاقات سلام بندگی، مزاج پرسی بے تکلف دوستوں میں ہوا کرتی ہے۔ اے پان تو کھلوا، لطف تو یہ کہ آپ مسلمان یار ہندو۔‘‘ 9

اس اقتباس میں تنزیب کے انگرکھے، اودی صدری، نکہ دار ٹوپی، مخملی چڑھویں جوتے، دوستوں میں بے تکلف گالیاں اور پان کا کثرت سے استعمال ہندوستانی تہذیب کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ مندرجہ بالا اقتباس میں جو منظر بیان کیا گیا ہے اس میں ہندوئوں اور مسلمانوں کے درمیان کوئی تخصیص دکھائی نہیں دیتی ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے جلسے جلوس اور میلوں ٹھیلوں میں برابر شریک ہواکرتے تھے۔ رسوا نے بھی اس جانب اشارہ کیا ہے کہ پان کھانے والا مسلمان تو پان کھلانے والا ہندو۔ یعنی یہاں کوئی بھید بھائو اور مذہبی رشہ کشی نہ تھی۔

مختصر یہ کہ مرزا محمد ہادی رسوا نے اپنے ناول ’امرائو جان ادا‘ میں خانم جان کے کوٹھے کو مرکز بنا کر اودھ کی مشترکہ تہذیب کی بہترین عکاسی کی ہے۔ لکھنؤ کے محرم، چہلم، میلے ٹھیلے، تیج تہوار، بازار، مختلف قسم کے لباس اور زیورات، انواع و اقسام کے کھانے، رسم و رواج اور عقائد و رسومات، شرفا کی گفتگو، طوائفوں کا ناز و انداز، رذیلوں کی ہنگامہ آرائی، ڈاکوئوں کی شورہ پشتی، مصاحبوں کی عیاری اور بانکوں کے عشق وغیرہ کا مفصل ذکر اس ناول میں موجود ہے۔ علاوہ ازیں امرائو جان اور رام دئی کی دوستی یا منشی احمد حسین صاحب کے گھر مشاعرے میں پنڈت جی، آغا صاحب، رسوا اور امرائو جان میں بے تکلفی کا منظر ہماری مشترکہ تہذیبی وراثت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ رسوا نے ’امرائو جان ادا‘ میں اودھ کی تہذیب کی عکاسی کی ہے لیکن بغور اس تہذیب کا مطالعہ کریں تو اندازہ ہوگا کہ یہ بھی دراصل ہماری مشترکہ تہذیبی روایت کا ہی حصہ ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ رسوا نے ناول ’امراؤ جان ادا‘ میں اودھ کے زیر سایہ پورے ہندوستان کی مشترکہ تہذیب و ثقافت کی عکاسی کی ہے اور اس میں وہ پوری طرح کامیاب دکھائی دیتے ہیں۔

حواشی

1        امرائو جان ادا، مرزا محمد ہادی رسوا، تعارف: محمد حسن، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، دہلی، 1997

2          امرائو جان ادا، مرزا محمد ہادی رسوا، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، دہلی، 1997، ص20 اور 22

3          ایضاً، 1997، ص 60

4          ایضاً، ص 72

5          ایضاً، ص 54

6          ایضاً، ص 63

7          ایضاً، ص 188

8          ایضاً، ص224

9        ایضاً، ص 138-39

 

Dr. Sajid Zaki Fahmi

Assistant Professor, Department of Urdu

Hiralal Bhakat College, Nalhati

Birbhum (West Bengal)

Mob.: 9990121625

sajidzakifahmi@gmail.com


اردو دنیا،ستمبر 2025


 

اردو افسانے کے بدلتے رحجانات،مضمون نگار:محمد محمود عالم

 اردو دنیا،ستمبر 2025

اردو میں افسانہ بیسویں صدی کی پہلی دہائی سے ظہور میں آیا اور بیک وقت دو متوازی رحجانات کے ساتھ آیا، یعنی ایک رومانیت اور تخیل پرستی کا رجحان اور دوسرا حقیقت پسندی اور اصلاح پسندی کا رجحان۔ ایک طرف سجاد حیدر یلدرم اور نیاز فتح پوری کے رومانوی اور تخیلی اسکول سے تعلق رکھنے والے افسانہ نگار ہیں تو دوسری طرف پریم چند اسکول کی حقیقت پسندی کا تتبع کرنے والے فنکار اور یہ سچ ہے کہ دور آغاز میں اردو افسانہ کے رومانی میلان کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ رومانی افسانہ نگاروں نے حسن و عشق کو مرکز توجہ بنائے رکھا اور خوابوں اور ماورائی تصورات کی بنیاد پر اپنے افسانوں کا تانا بانا تیار کرتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں رومانی کیف و کشش کی فراوانی تھی، لیکن اس کے اثرات مجموعی طور پر محدود رہے۔ ’خارستان و گلستان‘ کے خالق سجاد حیدر یلدرم ’طوق آدم‘ کے خالق سلطان حیدر جوش، ’کیوپڈو سائیکی‘ کے خالق نیاز فتح پوری، ’سمن پوش‘ کے خالق محمد علی ردولوی نے اردو افسانے کے جس رومانی اسلوب کی روایت کی تشکیل کی اس میں عورت، فطرت اور حسن و محبت ہی کے عناصر کو تفوق حاصل تھا۔ ہرچند کہ سجاد حیدر یلدرم نے جو افسانے لکھے ان میں صرف داستانوی رنگ ہی نہیں بلکہ زندگی کے متعدد مسائل نے بھی جگہ پائی ہے۔ انسانی نفسیات اور جنس جیسے مسئلہ پر بھی یلدرم نے لکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس کا ذکر شمس الرحمن فاروقی کے یہاں ان لفظوں میں ہوا ہے  :

’’ان کی تاریخی اہمیت کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ انھوں نے کئی میدانوں میں اپنے نقوش چھوڑے ہیں۔ افسانے میں وہ پریم چند سے پہلے ’ادب لطیف‘کہی جانے والی نثر میں نیاز فتح پوری پر مقدم ہیں اور مزاح میں ان کا اثر پطرس کے یہاں جابجا نظر آتا ہے۔‘‘

(افسانے کی حمایت میں، ص 185و ص186)

یلدرم کی دنیا اپنے داخلی تنوع کے باوجود بہرحال رومان و محبت ہی کی دنیا رہی اور ماورائیت کے حصار سے باہر نہ آسکی اور عقلیت آشنا اور حقیقت پسندانہ نہیں بن سکی۔ اردو افسانے کا یہ خالی، مگر ضروری گوشہ جس فنکار کے قلم سے پر ہو سکا، وہ منشی پریم چند ہیں۔پریم چند نے اردو افسانہ کو عقلیت اور مقصدیت کی نئی جہت سے آشنا کیا، اپنے عہد کے ماحول و معاشرت کو بڑی کامیابی کے ساتھ افسانے میں انگیز کیا۔

 پریم چند کی روایت کو پریم چند کے عہد میں اور اس کے بعد جن افسانہ نگاروں نے آگے بڑھایا، ان میں علی عباس حسینی، راشد الخیری، اعظم کریوی، سدرشن، سہیل عظیم آبادی، حیات اللہ انصاری، اپندر ناتھ اشک، حامد اللہ انسر، عظیم بیگ چغتائی، کرشن چندر، احمد علی، راجندر سنگھ بیدی، بلونت سنگھ، اختر اورینوی، احمد ندیم قاسمی وغیرہ کے اسمائے گرامی بطور خاص اہم ہیں۔

اردو افسانے کے آغاز یہ دور کا دو متوازی رحجان ہی نہیں بلکہ ادبی و سیاسی تحریکات و میلانات کے ساتھ اس میں آنے والی فکری و فنی تبدیلیاں یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ آج کا جدید افسانہ کسی حادثہ کی طرح سامنے نہیں آیا بلکہ اس نے ایک طویل اور پرپیچ سفر طے کیا ہے۔ 1930 سے پہلے اردو فن پاروں پر انگریزی کا اثر بہت نمایاں تھا۔ کئی ایک مشہور ادیب انگریزی، فرانسیسی، روسی اور ترکی ادب کے شہپاروں کو اردو کے پیکر میں ڈھال کر پیش کرنے لگے تھے۔ایسے ادیبوں میں سجاد حیدر یلدرم، جلیل احمد قدوائی، منصور علی، نیاز فتح پوری، سید بشیر الدین، خواجہ منصور حسن، عبدالمجید سالک، ظفر علی خاں اور محمد مجیب کے نام اہم ہیں۔

1932 میں اردو ادب اور خاص طور پر اردو افسانہ ایک نئے موڑ سے آشنا ہوا۔ انگریزوں کی استحصالی پالیسیوں کے نتیجے میںابھرنے والی بے چینی اور بے اطمینانی، غیر ملکی حکمرانوں سے نفرت اور غلامی کا طوق اتار پھینکنے کے عزم نے ادیبوں کے احساسات پر تاز یانے کا کام کیا۔ نتیجتاً ایک نئی تحریک ’ترقی پسند تحریک‘ کے نام سے وجود میں آئی، اس تحریک کا شعوری طور پر آغاز 1932میں ’انگارے‘ سے ہوا۔ احمد علی کے مرتبہ اس افسانوی مجموعہ کے بیشتر افسانوں میں نظریاتی اعتبار سے مارکسی ازم اور موضوعاتی اعتبار سے فرائڈ کے نظریے کے اثرات نمایاں ہیں۔

انگارے‘ کا شائع ہونا تھا کہ ادبی دنیا کے ساتھ موجودہ معاشرے میں بھی ایک ہنگامہ برپا ہوگیا۔ ’انگارے‘ کے افسانوں کا موضوع دراصل حقیقی زندگی کا جرأت مندانہ اظہار تھا۔ زندگی کی قدروں کی پامالی، رجعت پسندی، قدامت پسندی، سیاسی اور اخلاقی قدروںکی پامالی جیسے موضوعات ان افسانہ نگاروں کو بغاوت پر آمادہ کرنے کاسبب بنے فکرو خیال میں حقیقت پسندی کی شدید آنچ کے ساتھ ساتھ جنسی زندگی اور تلذذ کے جذبہ کی شمولیت کہیں کہیں اتنی بڑھ گئی کہ افسانے کی عبارتیں اور فقرے ابتذال، رکاکت اور عامیانہ پن کی صورت اختیار کر گئے اور غالباً یہی وجہ تھی کہ ’انگارے‘ کے خلاف شدید رد عمل ہوا ، حکومت وقت نے دفعہ 295 الف تعزیرات ہند کے تحت 25مارچ1933 کے سرکاری گزٹ میں ایک اعلان کے ذریعہ ’انگارے‘ کو ضبط کر لیا۔

ترقی پسند تحریک کی اس بنیاد نے جو بالواسطہ طور سے ’انگارے‘ کے ذریعے رکھی گئی تھی،رفتہ رفتہ ملک کی دوسری زبانوں کو بھی متاثر کیا، لیکن اس کا سب سے زیادہ اثراردو زبان پر پڑا۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس تحریک کے راہ نمائوں میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو خود اردو زبان میں لکھتے تھے۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اردو شاعروں اور ادیبوں کا ایک پورا قافلہ اس تحریک میں شامل ہو گیا۔ یہاں تک کہ منشی پریم چند کا افسانہ ’کفن‘ جب 1935 میں شائع ہوا تو ترقی پسند افسانہ نگاروں کے لئے ایک نئی اساس بن گیا۔

اپریل1936میں ترقی پسند ادیبوں کی پہلی کانفرنس لکھنؤ میں ہوئی تو اس کی صدارت منشی پریم چند نے کی اور اپنی صدارتی تقریر میں ترقی پسند نظریے کی بڑی تفصیل سے وضاحت کی اور اس بات پر زور دیا کہ :

’’ہماری کسوٹی پر وہ ادب پورا اترے گا جس میں تفکر ہو، آزادی ہو، آزادی کاجذبہ ہو، حسن کا جوہر ہو، تعمیر کی روح ہو، زندگی کی حقیقتوں کی روشنی ہو، جو ہم میں حرکت، ہنگامہ اور بے چینی پیدا کرے، سلائے نہیں کیونکہ اب سونا موت کی علامت ہوگی۔‘‘

(رسالہ ’زمانہ‘کانپور، اپریل 1936)

پریم چند کی بھر پور کوششوں اور سجاد ظہیر اور ان کے ساتھیوں کی مسلسل تگ ودوکا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت سے نوجوان شاعر اور ادیب اس تحریک میں شامل ہو گئے۔ ان میں کرشن چند، بیدی، مجاز و مخدوم، احتشام حسین، احمد ندیم قاسمی، کیفی اعظمی کے نام قابل ذکر ہیں۔

اس دور میں صرف مرد افسانہ نگاروں نے ہی نہیں بلکہ خواتین افسانہ نگاروں نے بھی چونکا دینے والی کہانیاں لکھیں۔عصمت چغتائی، ممتاز شیریں، قرۃ العین حیدر، ہاجرہ مسرور، خدیجہ مستور، تسنیم سلیم چھتاری، صدیقہ بیگم سیوہاروی، سرلا دیوی وغیرہ نے ترقی پسند افسانے کو خوب خوب آگے بڑھایا۔ ان میں کچھ کہانیاں بحث کا موضوع بھی بنیں کیونکہ کچھ تو بات نئی تھی، کچھ کہنے کا ڈھنگ نیا تھا۔  اس دور میں صرف روایتی طرز کی نہیں بلکہ ایسی کہانیاں بھی لکھیں جن میں پلاٹ نہیں تھے صرف کردار تھے، ایسی کہانیاں بھی تخلیق کی گئیں جو صرف چند لمحوں کے تاثر کی عکاسی کرتی تھیں۔ایک کردار کو لے کر بھی کہانیاں لکھی گئیں اور ایک چھوٹے واقعہ کی بنیاد پر بھی کہانیوں کے تانے بانے بنے گئے۔ طویل کہانیاں بھی لکھی گئیں اور منی کہانیاں بھی۔ رپور تا ژ بھی لکھے گئے اور قصبائی اور تاثراتی کہانیاں بھی تخلیق کی گئیں۔جن میں جوائس اور ورجیناوو لف سے متاثر ہوکر شعور کی روکی تکنیک اپنائی گئی۔ڈاکٹر محمد حسن نے جدید افسانے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے :

’’نیا افسانہ زیادہ تر شہروں کی تشنج زدہ زندگی اور اس کے کرب و محرومی کی داستان ہے۔ اس انسان کی داستان جسے شوق کی بلندی اور ہمتوں کی پستی کا تجربہ ہے جس کی روح میں کرب ہے، خلا ہے،   بے نام دکھ ہے۔‘‘ (جدید اردو ادب، محمد حسن)

حصول آزادی کے ساتھ بر صغیر کی تقسیم نے بھی کئی برسوں تک اردو افسانے کو شدت سے متاثر کیا۔برصغیر کی تقسیم کے بعد رونما ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات  اور ہجرت پر لکھنے والے افسانہ نگاروں میں کرشن چندر، خوا  جہ احمد عباس، منٹو، بیدی، احمد ندیم قاسمی، بلونت سنگھ، عصمت، حیات اللہ انصاری، سہیل عظیم آبادی، عزیز احمد، انتظار حسین، کلام حیدری، خدیجہ مستور، شکیلہ اختر، جوگندرپال اور ممتاز مفتی اہم ہیں۔تقسیم ملک کے بعد کے افسانے ایک طرح سے ماضی کی یاد ہیں جہاں انسانی قدروں کی مٹنے کی داستانیں ہیں اور انسان کے ایک دم وحشی ہوجانے کی تصویریں یا ایسے کتبوں کی تحریریں جنھیںافسانہ نگاروں نے اپنے اپنے ماضی کے مقبروں پر نصب کر دیے ہیں۔

اس کے بعد علاقائی تہذیبوں کی تصویر کشی کا ایک رحجان ابھرا۔ احمد ندیم قاسمی، بلونت سنگھ اور اشفاق احمد نے پنجاب کے دیہات میں رہنے والے سیدھے سادے، لیکن بانکے لوگوں کی زندگی کی عکاسی کی ہے توانور عظیم اور سہیل عظیم آبادی نے اپنے افسانوں میں صوبہ بہار کی زندگی کے بڑے نفیس خاکے ابھارے ہیں۔ غیاث احمد نے متوسط طبقے کے مسلم گھرانوں کی بڑی حقیقی تصویریں پیش کی ہیں۔ جیلانی بانو اورواجدہ تبسم نے دکن میں رہنے والوں اور اس علاقے کی تہذیب کے بڑے خوبصورت نقش کھینچے ہیں اور اس طرح اردو افسانے نے پنجاب، بہار، دکن اور دوسرے علاقوں کو ایک دوسرے کے اتنا قریب لادیا ہے کہ ہم اردو افسانے کو قومی یک جہتی کا ترجمان کہہ سکتے ہیں۔ کچھ افسانہ نگار ایسے بھی ہیں جنھوں نے دوسری کہانیوں کے علاوہ اپنے پروفیشن کے بارے میں کچھ بہت اچھی کہانیاں لکھی ہیں۔ ان میں ممتاز مفتی اور رام لعل اہم ہیں جنھوں نے اساتذہ اور ریلوے کرم چاریوں کے احوال پر کہانیاں لکھیں۔

آزادی کے بعد اردو افسانے میں ایک اور رحجان آیا جو مخصوص تہذیبی اقدار اور جاگیر دارانہ نظام کے خاتمہ سے تعلق رکھتا ہے۔جاگیر دارانہ نظام کی زوال آمادہ قدروں سے متعلق ردعمل جن افسانہ نگاروں نے پیش کیا ان میںسہیل عظیم آبادی(الائو، بھابی جان)، قاضی عبدالستار(پیتل کا گھنٹہ)، رضو باجی، قرۃالعین حیدر(پت جھڑ کی آواز، ہائوسنگ سوسائٹی، نظارہ، درمیان )، جیلانی بانو(موم کی مریم،نروان، فصل گل جو یاد آئی) کا ذکر ناگزیر ہے۔

1960 کے بعد جدیدیت کے تحت علامتی اور تجریدی افسانہ لکھنے کا رحجان تیز ہوا۔اردو میں سب سے پہلے جن لوگوں نے علامتی افسانہ لکھنے میں دلچسپی دکھائی ان میں احمد علی کا نام سر فہرست ہے۔ ’قید خانہ‘ اور ’موت سے پہلے‘ اردو کے پہلے کامیاب افسانے ہیں جن میں علامتی فضا موجود ہے۔ کرشن چندر کے افسانے ’دو فرلانگ، لمبی سڑک‘ اور ’غالیچہ‘ اور ممتاز شیریں کے افسانے ’دیپک راگ‘ اور’میگھ ملہار‘ بھی علامتی افسانے کے اچھے نمونے کہے جا سکتے ہیں۔سعادت حسن منٹو کا افسانہ ’پھندنے‘ بھی ایک اچھا علامتی افسانہ ہے، جس میں کردار کا تجزیہ علامتوں اور استعاروں کے ذریعہ کیا گیا ہے۔ اس رحجان کو پروان چڑھانے والوں میں امجد الطاف، جمیلہ ہاشمی، صادق حسین، آمنہ ابوالحسن، بانو قدسیہ خانم مرزا، خالدہ اصغر، بلراج مین را، انتظار حسین، سریندر پرکاش، رتن سنگھ، جوگندر پال، غیاث احمد گدی، انور سجاد، کلام حیدری، اقبال مجید، منیر احمد شیخ، مشتاق اعجاز راہی، احمد دائود، سلیم احمد اہم ہیں، لیکن ادب کے چند قاریوں کو علامتی اور تجریدی کہانیاں لکھنے والوں سے شکایت رہی کہ یہ کہانیاں کہانیوں کے معیار کو برقرار نہیں رکھ پاتی ہیں، بقول طیب انصاری:

’’جدیدیت اگر رحجان ہے تو یہ رحجان ادب میں صحت مندی کی علامت نہیں ہے اور اگر تحریک ہے تو اس بات کا ثبوت کہ ہمارے فنکار انتشار ذہن کا شکار ہیں۔ جدید افسانے یا تجریدی افسانے اپنے اظہار میں نا کام ہیں اور ان کا المیہ یہ ہے کہ ان افسانوں کا کوئی قاری نہیں ہے۔‘‘

(جدید افسانہ: ہیئت اور مسائل، طیب انصاری، مشمولہ شاعر، بمبئی، افسانہ نمبر1981، ص74)

 لیکن ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی نے اپنے قاریوں کو سمجھاتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ :

’’علامتوں میں سوچنا انسان کا پہلا فکری عمل رہا ہے۔ مشاہدہ اور تجربہ سے زیادہ علامت کی بنیاد فکر اور وجدان پر ہوتی ہے کہ انسان نے تہذیب کے بچپنے سے ہی علامتوں میں سوچنا شروع کر دیا تھا، جب ادب باقاعدہ طور پر معرضِ وجود میں نہیں آیا تھا اس انداز فکر کی زندہ مثالیں اساطیر ہیں۔ مجرد خیال کو مجسم پیکر میں دیکھنے کی کوشش ہی اساطیر کی تخلیق کا سبب تھا اور علامت بھی ایسی ہی کوشش کا نتیجہ ہوا کرتی ہے۔ ‘‘

(ماہنامہ نشانات، مالیگائوں، نومبر 1974، ص7تا9)

1970-75کے بعد آنے والے افسانہ نگاروں نے اپنے فنی رویے کا دوبارہ جائزہ لیا اور متوازن راہ اختیار کی۔ افسانوں میں حسب ضرورت نئی تکنیکوں کو بھی استعمال کیا گیا اور بیانیہ افسانہ لکھنے پر زور دیا گیا۔ علامتی افسانے بھی لکھے گئے، لیکن انھیں علامتی افسانوں کو کامیابی ملی جن میںکسی نہ کسی سطح پر کہانی پن موجود تھا۔ اس دور کے افسانہ نگاروں میں سلام بن رزاق، حسین الحق، شوکت حیات، انور خاں، عبدالصمد، رضوان احمد، شفق، مشرف عالم ذوقی، پیغام آفاقی، وغیرہ کے نام اہم ہیں۔

آٹھویں دہائی سے اردو افسانہ ایک نئے دور یعنی پس جدیدیت کے دور میں داخل ہوا۔ یہ دور استحصال، معاشی ناہمواری، عدم استحکام، بے سمتی، شہروں کے پھیلائو، آبادی میں بے طرح اضافہ سے پیدا شدہ مسائل، ذہنی تنائو، کھوکھلے اقدار، غربت، فرقہ واریت کے شباب کا دور تھا، جس سے پیدا شدہ مسائل نے یکسر پورے منظر نامہ کو بدل دیا تھا، چنانچہ اس کے زیر اثر افسانے کے موضوعات میں بھی کافی تبدیلیاں ہوئیں۔ نئے افسانہ نگار عہد نو کے تقاضوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ آج کا فنکار موجودہ حالات سے بیزار ہے، لیکن اس میں نئی سمتوں کی تلاش کا حوصلہ ہے وہ صرف انسانی زندگی کی نفسیاتی الجھنوں اور بے چینیوںکا ذکر ہی نہیں کرتا بلکہ اس کے خلاف احتجاج بھی کرتا ہے۔ اب نیا افسانہ نگارصرف واقعات و حادثات تک محدود نہ ہو کر انسان کے اندر چھپے ہوئے ازلی و ابدی شیطان کی نشاندہی اور انسان نما شیطان کے اندر چھپی ہوئی خود غرضی، دشمنی، منافقت اور کدورت کوبھی بے نقاب کر رہا ہے اور آنے والے خطرات کی طرف بھی ہماری توجہ مبذول کرا رہا ہے۔

 ہم عصر افسانہ صحیح معنوں میں جدید افسانے سے اپنی الگ شناخت متعین کرتا ہے اور مسائل کو نئے انداز سے پیش کرتا ہے۔ ہم عصر افسانہ نگارفکر و عمل دونوں اعتبار سے آزاد ہے اور اپنے نظریات خود وضع کرتا ہے اس لیے آج کے افسانوں میں نئے تجربات اور ہیئت و تکنیک پرتوجہ دی جارہی ہے۔ اب جو کہانیاں لکھی جا رہی ہیں ان کے پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ یہ جدید ترکہانیاں اپنے ماحول اور معاشرے سے دوبارہ رشتہ بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ:

’’اردو افسانہ نگاروں کو حیات و کائنات کا غائر مطالعہ کر کے اپنی زندگی، مشاہدے اور بصیرت کا ثبوت فراہم کرنا ابھی باقی ہے اور یہ کام شاید کل کا افسانہ نگار کرے گا۔‘‘ (شاعر، بمبئی، ہم عصر اردو ادب نمبر1977، ص 221)

مختصر یہ کہ اردو افسانے کے لکھنے والوںکا یقینا، ایک دور تھا جب رومانویت کی فضا سے نکل کر ترقی پسند تحریک کے افق پر اُبھرے اور کئی دہائیوں تک اپنی چمک دمک دکھاتے رہے، پھر وہ وقت گزر گیا اور جدیدیت کو عروج ملا اور اس کا عروج مابعد جدیدیت کی نذر ہوا۔یہ ساری باتیں اپنی جگہ، لیکن یہ سچ ہے کہ ترقی پسندی کا آفتاب، وہ آفتاب تھا جو ڈوب گیا ، مگر شفق چھوڑ گیا۔ ردّعمل کے طور پر ہی سہی جماعت کے مقابلے میں فرد کو دکھانے کا شعور اسی سے ملا اور سانچے میں توڑ پھوڑ کرنے کے بعد، پھر اسے پرانی ہیئت پر لانے اور پلاٹ سے انحراف کے بعد پھر پلاٹ کی طرف آنے اور کہانی کی واپسی کو قبول کرنے کے حوالے سے لا محالہ طور پر ترقی پسند افسانے کے توسیعی اثرات کا یا استعارے کی زبان میں یوں کہا جائے کہ ڈوب جانے کے بعد بھی اس کے چھوڑے ہوئے شفق کے اُجالوں کا انکار نہیں ہو سکتا اور اردو افسانے کے بدلتے رحجانات اس کے اثر و نفوذ سے یکسر بیگانہ نہیں مانے جا سکتے۔ یہ چراغ سے چراغ جلنے کا عمل ہے اور ہمیں افسانے کے بدلتے میلانات کی معنویت کا معترف بناتا ہے جو آج بھی جاری ہے۔

 

Dr. Mod Mahmood Alam

At. P.O: Sigori

Patna- 801110 (Bihar)

Mob.: 8083837666

mahmood808383@gmail.com


تازہ اشاعت

طبقۂ اولیٰ ملوک فارس،مضمون نگار:محمد صہیب

اردو دنیا،ستمبر 2025 کیومرث کل علمائے فارس اس امر پر اتفاق کر رہے ہیں کہ کیومرث ہی آدم علیہ السلام ہیں اور ان کا لڑکا منشا نامی تھا اور من...