13/1/26

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025

الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو کی، جس میں انھوں نے شعر کی ضرورت، ماہیت،تاثیر،عظمت،شرائط،خوبیوں اور شعر کے دیگر امور پر مفصل اور مدلل روشنی ڈالی۔ میرے اس مضمون میںتنقید کے تین اہم اور لازمی شرائط تخیل، مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ حالی کے نزدیک یہ تینوں شرطیں شاعر کو غیرشاعر سے ممتاز کرتی ہیں۔

تخیل

حالی نے تخیل کو شاعری کی سب سے اہم اور بنیادی شرط قرار دیا ہے۔ تخیل کا ملکہ وہبی اور عطائی ہے، اسے مشق سے حاصل نہیںکیا جاسکتا۔یہ ملکہ جس قدر اعلی درجے کا ہوگا،شاعری بھی اسی مرتبے کی ہوگی۔ یہ ملکہ اگرکسی شخص میں نہ ہو، تو وہ حقیقی شاعر نہیں بن سکتا۔حالی کے نزدیک تخیل ایسی طاقت ہے جوشاعر کو وقت اور زمانے کی قید سے آزاد کرتی ہے اور ماضی و استقبال کو زمانۂ حال میں کھینچ لاتی ہے۔نیز تخیل کے زورپرشاعرجنت،دوزخ اورحشرونشر کو ایسے اسلوب میں بیان کرتاہے،گویا اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔یا فرضی اور معدوم چیزوںکوجیسے جن،پری،عنقا اور آب حیواںکو ایسے صفات سے متصف کر کے بیان کرتا ہے کہ ان کی تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جاتی ہے۔ حالی تخیل کی ماہیت کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وہ ایک ایسی قوت ہے کہ معلومات کا ذخیرہ جو تجربے یا مشاہدے کے ذریعے ذہن میں پہلے سے مہیا ہوتا ہے، یہ اس کو مکرر ترتیب دے کرایک نئی صورت بخشتی ہے اورپھر اس کوالفاظ کے ایسے دلکش پیرایے میںجلوہ گر کر تی ہے،جو معمولی پیرایے سے بالکل یا کسی قدر الگ ہوتا ہے۔1

حالی نے تخیل کی جو تشریح کی ہے، وہ کولرج کے خیالات سے ماخوذ ہے،لیکن حالی کی تشریح میں ’تخیل‘ اور ’فینسی‘ آپس میں گڈ مڈ ہوگئے۔ حالی سے تخیل کی تشریح میں سہو،در اصل کولرج کے نظریات سے براہ راست واقفیت نہ ہونے کے سبب ہواہے۔فینسی ’’وہ طاقت ہے جو شاعر کو وقت اور زمانے کی قید سے آزاد کرتی ہے‘‘ اور تخیل ’’وہ قوت ہے جو معلومات کے ذخیرے کو مکرر ترتیب دے کر اسے ایک نئی صورت بخشتی ہے‘‘ حالی دونوں کے مابین فرق کو واضح نہ کر سکے، یا جن انگریزی دانوں نے انھیں کولرج کے نظریات سے متعارف کرایا تھا۔وہ خود سمجھ نہ سکے،یاحالی کوسمجھانہ سکے۔ فینسی اور تخیل کے حوالے سے ممتاز حسین لکھتے ہیں:

اس میں شبہ نہیںکہ فینسی بڑے بڑے کرتب دکھاتی ہے۔حشر و نشر کا نقشہ کھینچ دیتی ہے۔قبر کی کہانی سناتی ہے۔طرح طرح کے غل غپاڑے کرتی ہے۔ لفظوں کے رشتے سے شعر کہتی ہے۔لب و لہجے کی نقل اتارتی ہے۔ضلع جگت پھبتی کستی ہے۔لیکن جس حد تک کہ وہ قوتِ ارادہ اور شعور سے متعین نہیں ہوتی ہے،وہ قوتِ ارادہ اور شعور پر اثر انداز بھی نہیں ہو سکتی ہے۔ فینسی کی شاعری تفریح طبع کا بہت سا سامان مہیا کرتی ہے۔ لیکن اخلاق کو بدلنے یا مذاق سخن کے بدلنے میں کوئی کردار ادا نہیں کرتی ہے۔یہ کام تخییلی شاعری انجام دیتی ہے،جو شعور اور ارادے سے متعین ہوکر شعور اور ارادے پر اثر انداز ہوتی ہے۔2

فینسی اور تخیل کے مابین فرق کو نہ سمجھنے کے سبب ہی حالی سے تخیل کی تشریح میں تضادہواہے۔ایک جگہ لکھتے ہیںکہ تخیل ایسی قوت ہے جو جن،پر ی،عنقا اورآب حیوان جیسی فرضی اور معدوم چیزوں کو بھی ایسے طریقے سے پیش کر دیتی ہے کہ اس کی تصویر آنکھوں کے سامنے پھر جاتی ہے۔ دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ تخیل وہ قوت ہے جو تجربے اور مشاہدے کے ذریعے ذہن میںپہلے سے موجود چیزوں کو مکرر ترتیب دے کر ایک نئی صورت بخشتی ہے۔جب کہ جِن،پری،عنقااور آب حیواں اور انسانی تجربہ آپس میں ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔پھر کیسے دونوں ایک ہی چیز کی تعریف پر صادق آئیں گی؟ اسی طرح حالی تخیل کی تعریف میں ایک دوسرے جزو کا اضافہ کرتے ہیں۔ تخیل ایسی قوت ہے جو تجربے اور مشاہدے کو الفاظ کے ایسے دلکش پیرائے میں جلوہ گر کرتی ہے،جو معمولی پیرایوں سے بالکل یا کسی قدر مختلف ہوتی ہے۔اس سے حالی نے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا ہے کہ تخیل کی کارفرمائی خیال اور لفظ دونوں میں ہوتی ہے۔یہاں پر حالی تخیل کے تحت فینسی کے دونوں پہلوؤں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔فینسی جہاں خیالات میں تصرف کرتی ہے،وہیں الفاظ میں بھی تصرف کرتی ہے۔جس سے بیان میں ایک قسم کا نرالا اور انوکھا پن پیدا ہوتا ہے۔ اوریہ نرالاپن لفظوں کے لغوی اور استعاراتی معنوں میں الٹ پھیر سے ہوتا ہے۔

حالی نے تخیل کے ذیل میں جن مثالوں کو پیش کیا ہے۔ اس کے پیش نظر ان کے نقادوں کا ماننا ہے کہ حالی سے تخیل اور فینسی میں جس طرح فرق نہ کرنے کے باعث سہو ہوا ہے اسی طرح ان سے حقیقی اور جھوٹی وٹ (Wit) کے مابین تفریق نہ کر نے کے باعث ایسا خلط مبحث ہوا ہے جس سے شعر کے صحیح مذاق کی ترسیل نہیںہو سکی ہے:

’’حالی اگر ایک طرف تخیل اور فینسی کے فرق کو سمجھنے سے قاصر رہے اور تخیل کا نام لے کرفینسی کی تعرف کرتے رہے، اسی طرح وہ سچی وٹ اور جھوٹی وٹ کے فرق کو بھی نہ سمجھ سکے۔اور جھوٹی وٹ کے شعری طریق استدراک کی تشریح علمی طریقہ استدراک کے انداز میں کی۔ اس سے ایسا خلط مبحث ان کے مقالے میں پیدا ہواکہ اس کی وجہ سے صحیح مذاق شعر کی رہنمائی نہ ہوسکی۔3

جھوٹی وِٹ اور حقیقی وِٹ کی بحث ایڈیسن (Addison) کے یہاں ملتی ہے۔جس کے نظریات و خیالات سے سرسید اور ان کے رفقائے کار متاثر تھے۔اس نے جھوٹی وٹ اور حقیقی وٹ کی تشریح اپنی تحریروں میں کی ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ جھوٹی وٹ الفاظ کے صوری اورشکلی مشابہت سے کام لینے کو کہتے ہیں،جب کہ حقیقی اور سچی وٹ خیالات کی مشابہت اور قوت ممیزہ کی صوابدید سے ایسے دو خیالات کو ایک دوسرے سے جدا کر دیتی ہے، جو آپس میں کم مشابہت رکھتے ہوں۔ جیسے غالب کا وہ شعر جسے حالی نے تخیل کی مثال میں پیش کیا ہے        ؎

اور بازار سے لے آئے، اگر ٹوٹ گیا

ساغرِ جم سے مرا جامِ سفال اچھا ہے

مقدمہ شعر وشاعری میں دوسرا مصرع اس طرح ہیــ       ؎

جام جم سے یہ مرا جام سفال اچھا ہے4

لیکن یہ مصرع دیوان غالب میں ’ساغر جم سے مرا ‘ درج ہے۔5 اس شعر میں جام سفال کو جو نہایت کم قیمت اور ارزاں ہے ساغر جم سے سے بہتر قرار دیا گیاہے،جو انمول اور بے بدل ہے۔اور یہ حسن تعلیل کی بہترین مثال ہے۔ اوربقول حالی اس سے زبان متلذذ،کان محظوظ اوردل متاثر ہوتا ہے۔ اوریہ شعرباوجود کمال سادگی اور بے ساختگی کے نہایت بلند اور تعجب انگیز ہے۔ واضح ہو کہ مذکورہ بالا خاصیت کاشعر میںہونا جھوٹی وٹ کا مظہر ہے،نہ کہ تخیل کا۔نیز اس شعر میںجس طرح جام سفال کو ساغر جم سے بہتر قرار دینے کی کوشش کی گئی ہے،وہ بھی قابل غور ہے،اس لیے کہ کسی چیز کے بہ آسانی حصول سے اس کی قدر نہیں بڑھتی،بلکہ ضرورت مند کے لیے اس کا حصول آسان ہوتا جاتا ہے، لیکن جو چیزصرف نادر و نایاب نہیں،بلکہ انمول اور بے بدل ہو، تب بھی اس کی قدر و قیمت کم نہیں ہوگی۔ البتہ دل کو خوش رکھنے کے لیے یہ خیال اچھا ہے۔اس شعر سے اگرچہ حسن تعلیل کی وجہ سے تلذذ اور انبساط حاصل ہوا ہے، لیکن کوئی ایسی نئی صورت خلق نہیں ہوئی، جوحقیقی علم عطا کرے یا شعور کو متاثر کر ے،جو کہ تخیل کا کارنامہ ہے۔

مطالعۂ کائنات

شاعری کی دوسری شرط’ مطالعہ کائنات‘ ہے۔ بقول حالی اگر چہ تخیل اپنے محدود اور تنگ دائرے میں رہتے ہوئے بھی کچھ نہ کچھ نتیجہ نکال سکتا ہے۔لیکن شاعری میں کمال حاصل کرنے کے لیے نسخۂ کائنات اور خاص کر نسخۂ فطرت انسانی کا مطالعہ ضروری ہے۔حالی کی اس تشریح سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مطالعۂ کائنات شاعری کی شرط نہ ہو کر تخیل کی پختگی اور اس کے کمال کی شرط ہے۔اس لیے کہ مطالعۂ کائنات اگرشاعری کی شرط ہے،تواس کے بغیر شاعری ممکن نہیں۔حالی نے سر والٹراسکاٹ کے حوالے سے مطالعۂ کائنات کی اہمیت و افادیت کی مثال دی ہے کہ وہ کس طرح چھوٹے چھوٹے خودروپھول،پتے اورمیوے کے نام نوٹ کر رہاتھا،جو وہاں اُگ رہے تھے،تاکہ تخیل کی پرواز کو بلند کرسکے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مطالعۂ کائنات تخیل کی بلندی کے لیے ضروری ہے، نہ کہ شاعری کے لیے شرط ہے۔یہ بھی قابل غور ہے کہ جس شخص میں تخیل کا ملکہ فطری ہوگا،اس کی فطرت خود بخود نسخۂ فطرت انسانی اور نسخۂ کائنات کے مشاہدے سے اپنی ضرورت کی چیزوں کو اخذ کرتی رہے گی۔ اور جوجذبات و خیالات اس کے دل و دماغ میںآتے ہیں، وہ اس کے ذہن پر نقش ہوتے رہتے ہیں،جیسے وہ نئی نئی ترکیب و ترتیب سے نئے نئے نقوش بناتا رہتا ہے،وہ ایک اخباری رپورٹر کی طرح کاغذ پر چھوٹی چھوٹی چیزوں کو لکھتا نہیں پھرا کرتا۔جب کہ حالی کو خود ا س کا اعتراف ہے کہ ’’جتنے بڑے بڑے شاعر دنیا میں گزرے ہیں،وہ کائنات اور فطرت انسانی کے مطالعے میں ضرور مستغرق رہے ہیں۔ جب رفتہ رفتہ اس مطالعے کی عادت ہوجاتی ہے، تو ہر ایک چیز کو غور سے دیکھنے کا ملکہ ہو جاتا ہے اور مشاہدوں کے خزانے گنجینۂ خیال میں خود بخود جمع ہونے لگتے ہیں‘‘۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ حالی سر والٹر اسکاٹ کے حوالے سے اپنی کہی ہوئی بات کی تردید کر رہے ہیں۔ شاید ایک یوروپین کے حوالے سے اپنے نظریے کو موثر بنانا چاہ رہے ہیں،لیکن اس سے تو انھیں کے قول کی نفی ہورہی ہے۔

حالی نے سر والٹر اسکاٹ کی شاعری کے حوالے سے دو باتوں کی موجودگی کا ذکر کیا ہے۔ایک اصلیت سے تجاوز نہ کرنا،دوسرے ایک ایک مطلب کونئے نئے اسلوب سے ادا کرنا۔اسی طرح حالی نے ایک جگہ گولڈ اسمتھ کا بھی حوالہ دیا ہے۔ممتاز حسین دونوں کے بارے میںایک جگہ لکھتے ہیں :

گولڈ اسمتھ اور اسکاٹ دونوں آگسٹن  (Augustan)  دور(یہ دور یورپ میں سترہویں صدی کے اواخر سے اٹھارہویں صدی کے ربع ثانی تک مانا جاتا ہے )کے شاعر تھے۔ اس دور میں کلاسیکی ماڈل کی نقالی کو اہمیت دی جاتی اور شاعری میں تعقل اور اخلاقی تعلیم کو اصول شاعری کی حیثیت سے تسلیم کیا جاتا۔چنانچہ اس کے اثرات ان دونوں کی شاعری میں بھی ملتے ہیں۔لیکن چونکہ یہ زمانہ رومانیت کی آمدآمد کا تھااور یہ بات روز بروز ابھر رہی تھی کہ اولاًشعری مضمون کے پیچھے کوئی ٹھوس حقیقت ہونی چاہیے یعنی اس کی بنیاد صرف واہمے پر نہ ہو،دوسرے یہ کہ پُر آرائش اسلوب کے بجائے سادہ، فطری اسلوب ہونا چاہیے۔6

سر والٹر اسکاٹ اور گولڈ اسمتھ دونوں دوئم درجے کے شاعر ہیں۔ان کی شاعری اور خیالات کو کوئی خاص اہمیت یوروپین شاعری میں نہیں دی گئی، جتنا کہ چوسر، اسپنسر اور شیکسپیئر کے کلام کو دی گئی۔لیکن سر والٹر اسکاٹ اور گولڈ اسمتھ کے خیالات، اصلاحی اور مقصدی نظریات کے عین مطابق تھے،جنھیں حالی کے مشیروں نے شاید حالی تک پہنچا دیا اور حالی نے  ان کے نظریات کو اردو ادب میں اصلاح کے مدنظرپیش کردیا۔

حالی نے مطالعۂ کائنات کی تشریح کرتے ہوئے اس کے دائرے کو بہت وسیع کردیاہے، تخیل اور حافظہ دونوں اس کے دائرۂ کار میں آگئے ہیں۔ حالی کا یہ کہنا ’’اس سرمایے کو اپنی یاد کے خزانے میں محفوظ رکھے‘‘ حافظے کا کام ہے اوران کا یہ کہنا ’’فکر میں میں مشق و مہارت سے یہ طاقت پیدا کرنی کہ وہ مختلف چیزوں سے متحد اور متحد چیزوں سے مختلف خاصیتیں فوراً اخذ کر سکے‘‘ یہ تخیل کا خاصہ ہے۔لیکن تخیل کی بحث میں حالی نے اس قوت کووہبی کہاہے،جب کہ مطالعۂ کائنات میں اسی قوت کو کسبی قرار دیا ہے۔حالی نے تخیل کی بحث میں جس خاصیت کا ذکر کیا تھا،مطالعۂ کائنات کے تحت اسی خاصیت کا اعادہ کیاہے،بس فرق یہ ہے کہ تخیل میں ’نئی صورت‘ کا اضافہ ہے، اور مطالعۂ کائنات میں نہیں ہے۔

تفحص الفاظ

شاعری کی تیسری شرط ’تفحص الفاظ‘ ہے۔ حالی کے نزدیک تفحص الفاظ کے ذریعے ہی تخلیق کار کسی خیال کو مناسب اور موزوں ترین الفاظ کاجامہ پہناتا ہے، جس سے اس خیال کی تصویر ہو بہ ہو آنکھوں کے سامنے پھر جاتی ہے۔یعنی تفحص الفاظ کے ذریعے ہی شاعر اپنے خیال کوہوبہ ہو مخاطب کے رو بہ رو پیش کرنے پر قادر ہوتاہے۔تفحص الفاظ سے ہی شعر میں ایسی کیفیت پیدا ہوتی ہے، جومخاطب کو مسخر کر لیتی ہے۔ اگر کوئی شاعر ایسا کرنے پر قدرت نہ رکھتا ہو تو اس کا شعرکہنے سے نہ کہنا ہی بہتر ہے۔حالی لکھتے ہیں:

اگر چہ شاعر کے متخیلہ کو الفاظ کی ترتیب میںبھی ویسا ہی دخل ہے،جیساکہ خیالات کی ترتیب میں،لیکن شاعر اگر زبان کے ضروری حصے پر حاوی نہیں ہے اور ترتیب شعر کے وقت صبر واستقلال کے ساتھ الفاظ کا تتبع اور تفحص نہیںکرتا تو محض قوت متخیلہ کچھ کام نہیں آسکتی۔7

حالی کے اس بیان سے بظاہرایسا محسوس ہوتا ہے کہ الفاظ و خیالات دو الگ شے ہیں،جو بیک وقت ذہنِ انسانی میں نہیں آتے۔یعنی خیالات و الفاظ الگ الگ وقت میں انسانی ذہن میں آتے ہیں۔ اسی لیے کلیم الدین احمد لکھتے ہیں:

کیاآپ خیالات کا نقشہ ذہن ہی میں سہی، لفظوں کی مدد کے بغیر کھینچ سکتے ہیں؟خیالات اور الفاظ بیک وقت اس کے ذہن میں آتے ہیں۔خیالات اور الفاظ کا انتخاب، خیالات اور الفاظ کی جانچ، خیالات اور الفاظ کی ترتیب یہ سب چیزیں ساتھ ساتھ عمل میں آتی ہیں۔8

کلیم الدین احمد کا یہ اعتراض بجا ہے،کہ خیالات اور الفاظ دونوں ذہن میں ایک ساتھ آتے ہیں، لیکن بظاہر حالی کا مقصدخیالات اور الفاظ کی علیحدگی کا نہیں،بلکہ خیالات جن الفاظ کے ساتھ ذہن میں آئے تھے، وہ الفاظ ان خیالات کے لیے مناسب اور موزوں بھی ہیں، یا نہیں۔ حالی نے اسی لیے شاعر کو غورو فکر کی ضرورت پر ابھار ا ہے۔ ان کا مقصد الفاظ اور خیالات میں تفاوت بیان کرنا نہیں۔دنیائے ادب میںاستادی اور شاگردی کی جو مضبوط روایت رہی ہے اس کا مقصد ہی شاگردوں کے اشعار پراصلاح دینا ہوتا تھا۔بسااوقات اساتذہ کے ایک دو لفظ کے حذف و اضافے یا ردو بدل سے شعر کی معنویت اور تاثیرمیں جو اضافہ ہوتا تھا،وہ آج ادب سے آگہی رکھنے والوں سے پوشیدہ نہیں۔ اور اساتذہ کی اصلاحوں سے شعر کی معنویت اور تاثیر میں اضافہ اس لیے ہوتا تھاکہ شاگرد یا نوآموز شاعروں سے خیال کو الفاظ کاجامہ پہناتے وقت جو کمیاں اور خامیاں در آتی تھیں،اساتذہ ان کمیوں اور خامیوں کومناسب اور موزوں ترین الفاظ سے رفع کرتے تھے۔میر تقی میر نے اپنے تذکرے ’نکات الشعرا‘ میں مصطفی خان یک رنگ کے ایک شعر پر اپنی صلاح کچھ یوں دی ہے  ؎  

سچ کہے جو کوئی سو مارا جائے

راستی ہے گی دار کی صورت

باعتقاد فقیر بجائے ’سچ‘ حرف ’حق ‘ اولیٰ است9

 میر نے شعر کے پہلے لفظ ’سچ ‘ کو’ حق‘ سے بدلنے کا مشورہ دیا ہے۔اور اپنے خیال میں سچ کی بہ نسبت حق کو بہتر اور اولیٰ قرار دیا ہے۔لفظ ’’سچ کی جگہ لفظ ’حق‘ رکھنے سے شعر میں تلمیح، مناسبت اورمعنویت کی جو کیفیت پیدا ہوئی ہے، وہ اہل نظر سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اسی لیے حالی نے خیالات کو صبر و تحمل کے ساتھ الفاظ کا جامہ پہنانے کا مشورہ دیا ہے۔حالی الفاظ کی اہمیت و افادیت کو محسوس کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

نظمِ الفاظ میں اگربال برابر بھی کمی رہ جاتی ہے تو وہ(ماہرینِ فن) فوراً سمجھ جاتے ہیںکہ ہمارے شعر میں کون سی بات کی کسر ہے۔10

حالی خیالات کو صبر و تحمل کے ساتھ الفاظ کا جامہ پہنانے کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ’ الفاظ کو ایسی صورت سے منتظم کرنا چاہیے کہ وہ صورۃً نثر سے متمیز ہو،لیکن معنی اسی قدر پورے ادا کرے جیسے نثر میں ہو تے ہیں‘۔حالی اس بات کی وضاحت نہیں کرتے کہ شعر نثر سے صورۃً کس طرح علیحدہ ہو۔ کیونکہ حالی نے پہلے ہی وزن کو شعر سے خارج کردیاہے اورکسی دوسرے معیار یا پیمانے کا ذکر بھی نہیںکیاہے،جو شعرکو صورۃً نثرسے علیحدہ کر دے۔حالی نے صورۃًمتمیز ہونے کی بات کہی ہے، معلوم نہیںوزن کے علاوہ وہ کون سی صورت ہوگی،جو شعرکو صورۃً نثر سے متمیز کر ے گی۔حالی شعر سے اس بات کا بھی تقاضا کرتے ہیں کہ وہ نثر کی طرح ہی معنی دے۔ بظاہرنثر کی طرح معنی دینے سے حالی کی مراد یہی ہو سکتی ہے کہ جس طرح نثرمیںابلاغ وترسیل بالکل واضح اور دو ٹوک ہوتی ہے،اس طرح شعر میں بھی ہونا چاہیے،یعنی شعر کے معانی اور مفاہیم میں کوئی پیچیدگی نہ ہواور مقصدِ شعر واضح ہو۔لیکن اگر حالی کا مقصد نثر کی طرح معنی دینے سے یہ ہے کہ جس طرح نثر میں وضاحت اورقطعیت ہوتی ہے اورنثر اجمال وابہام کی حامل نہیں ہوتی۔شعر کوبھی اسی طرح کا ہونا چاہیے۔ظاہرہے شعر سے ان باتوں کا تقاضا کرنا،شعر کو شعریت سے خارج کرنا ہے۔ اس موضوع سے متعلق مزید آگہی کے لیے شمس الرحمن فاروقی کا مضمون ’شعر، غیر شعر اور نثر‘کا مطالعہ فائدے سے خالی نہیں۔

حالی کی تربیت مشرقی طرز پرہوئی تھی۔وہ کلاسیکی شعریات کے اصول و ضوابط سے نہ صرف پوری طرح واقف تھے،بلکہ انھوں نے ان شعریات و رسومیات کو اپنی ابتدائی تخلیقات میں برتا بھی ہے۔ حالی ظاہری اور خارجی دباؤ کے باوجودغیر شعوری طورپر کلاسیکی شعریات و رسومیات کی طرف جھک ہی جاتے ہیں۔ سید عبد اللہ نے بھی اس کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’شاعری اور ادب کے متعلق مولاناحالی کا ذہن قدیم بلاغت کے تصورات سے اس قدر متاثر ہے کہ ظاہری تبدیلی کے باوجود غیر شعوری طور پر ادھر جھک ہی جاتے ہیں۔چنانچہ بیان و انشا کو داخلی سے زیادہ خارجی اور محض صناعتی چیز سمجھنے کے معاملہ میںوہ ہمیشہ جدید خیال کے مقابلہ میںقدیم خیال کی طرف میلان ظاہر کرتے ہیں۔‘‘11

حالی اپنے عہد کے تقاضے اور ماحول کی تبدیلی، نیز سرسید تحریک کے زیرِاثرمقصدی اور افادی ادب کے پُرجوش داعی تھے۔ اسی لیے انھوں نے ایسے نظریات کو پیش کیا جو ان کے مقصدی اور افادی ادب کے مطابق ہوں،لیکن غیر شعوری طور پر قدیم تصورات بلاغت کی طرف وہ جھک جاتے ہیں۔اور ان سے کہیںنہ کہیں کلاسیکی شعریات و رسومیات کا اظہار ہو جاتا ہے۔

تخیل،مطالعۂ کائنات اور تفحص الفاظ کو حالی نے شاعری کی شرط قرار دیا ہے۔تخیل شاعری کی شرط اول ہے،اس پر بحث ارسطو کے زمانے سے ہی چلی آرہی ہے۔ لیکن مطالعۂ کائنات اور تفحص الفاظ کوشاعری کی شرط قراردینا کہاں سے ماخوذ ہے ؟ حالی نے اپنے اس نظریے کی بنیاد کس کے نقطۂ نظر پر رکھی ہے ؟آیا یہ نقطۂ نظر یورپ کے کسی نقاد یا محقق کے قول پرہے، یاحالی کے غور و فکر کا نتیجہ ہے؟اس حوالے سے حالی کے کسی نقاد نے کوئی بحث نہیں کی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ حالی کا یہ نقطۂ نظران کی مشرقی افتاد طبع اور کلاسیکی شعریات سے آگہی کا نتیجہ ہے۔

حالی انگریزی ادب سے واقف نہ تھے۔ وہ جس سماج میں پروان چڑھے تھے،اس میں انگریزی سیکھنے اور انگریزی کالجوںمیںداخلہ لینے کو نہ صرف معیوب سمجھا جا تا تھا،بلکہ انگریزی کالجوں کو ’مجہلے‘ کہا جاتا تھا۔  اس کے باوجود انھوں نے نہ صرف بالواسطہ انگریزی ادب کے نظریات و خیالات سے واقفیت بہم پہنچائی،بلکہ اسے اردو داں طبقے تک پہنچا نے کی بھی کوشش کی۔ اگرچہ حالی ان نظریات و خیالات کو بخوبی نہ سمجھ سکے ہوںاورمکمل طور پر صحیح مذاق شعر کی رہنمائی بھی نہ کر سکے ہوں،لیکن حالی نے شعر وشاعری کے حوالے سے اردو داں طبقے میںجو ایک نظریاتی بحث چھیڑی تھی،غور و فکر کا جو ایک ماحول بنایا تھااوربعد میں آنے والے ناقدین و مفکرین کو شعر و ادب پر گفتگو کرنے کی جو راہ دکھائی تھی، اس میں وہ نہ صرف پوری طرح کامیاب و کامران ہیں،بلکہ اس میں کوئی ان کا ثانی نہیں۔

حواشی

1        مقدمہ شعر وشاعری،الطاف حسین حالی،مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،نئی دہلی،2018،ص52

2        حالی کے شعری نظریات :ایک تنقیدی مطالعہ،ممتاز حسین،سعد پبلی کیشنز،1988،ص116-117

3        ایضاً،ص 188

4        مقدمہ شعر وشاعری،ص 52

5        کلیات غالب،غالب انسٹی ٹیوٹ،نئی دہلی، 2003، ص154

6        حالی کے شعری نظریات: ایک تنقیدی مطالعہ، ص 35

7        مقدمہ شعر و شاعری، ص 58

9        اردو تنقید پر ایک نظر،کلیم الدین احمد، بک امپوریم، پٹنہ، 2018،ص82

9        نکا ت الشعرا،میر تقی میر،مرتبہ مولوی عبدالحق،انجمن ترقی اردو،دکن، 1935،ص20

10      مقدمہ شعر و شاعری، ص 58

8        سر سید اور ان کے نامور رفقا، سید عبداللہ، ایجوکیشنل بک ہاؤس،2011،ص:310

 

Mohd Shahnawaz Khan

Research Scholar,Dept of Urdu,

Jamia Millia Islamia

New Delhi- 110025

Mob: 9536673993

shahnawazrazi73@gmail.com




زبانی قصہ گوئی کی روایت،مضمون نگار: غلام غوث

 اردو دنیا،نومبر 2025

قصہ گوئی کو انگریزی میں  Story Tellingکہتے ہیں جب کہ قصہ عربی زبان کا لفظ ہے،اور اس کے لغت میں متعدد معانی ملتے ہیں۔ جیسے کہانی، داستان، بیان، تذکرہ، سرگزشت وغیرہ۔ عربی قاعدے کے مطابق یہ لفظ واحد ہے،اس کی جمع قصص ہے،قرآن پاک میں حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے کو ’احسن القصص‘ کہا گیا ہے۔

قصہ سننا اور سنانا انسانوں کی جبلت میں داخل ہے۔ بنی نوع انسان کی محبوب اور مرغوب عادتوں میں قصہ گوئی کو نمایاں مقام حاصل ہے۔قصہ کہانی بنی آدم کی ہمیشہ سے خاص دلچسپیوں کا سامان رہی ہے۔قدیم زمانے سے حیرت انگیز واقعات اور طلسماتی بیانات سننے سنانے کا سماج میں رواج رہا ہے۔ اس حوالے سے پروفیسر گیان چند جین نے لکھا ہے کہ :

’’حکمائے یونان کے بقول قصہ گوئی شاعری اور موسیقی کی دیویوں سے بھی قدیم تر ہے۔ابتدائی نقوش موجود نہیں ہیں۔کون جانے ہماری بعض لوک کہانیاں دس پانچ ہزار سال پیشتر وجود میں آچکی ہوں۔‘‘

(گیان چند جین،اردو کی نثری داستانیں، اتر پردیش اردو اکادمی، لکھنؤ،1987،ص23)

درج بالا بیان سے واضح ہوتا ہے کہ قصہ گوئی کی روایت بڑی قدیم اور پرانی ہے،انسانی سماج کو اس صنف سے ہمیشہ واسطہ رہا ہے۔قصہ کہانی کی وادی میں سیر کرنا پہلے سے انسانوں کی سرشت میں شامل تھا۔ پتھروں کے زمانے سے لے کر دور جدید تک کہانیاں الگ الگ شکلوں میں تبدیل ہو کر آج بھی زندہ ہیں۔

انسانی حیات کے ابتدائی ایام میں بچوں کی ذہنی ترقی کے لیے گھر کی دادی ، نانی قصے سناسنا کر اپنی اولاد میں انسانی تہذیب وثقافت کی روایت کوآگے بڑھانے میں مدد فراہم کیا کرتی تھیں۔

بچوں کی جسمانی ترقی اور بالیدگی میں غذا اور خوراک کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں،ان کی اچھی صحت اچھی غذا پہ موقوف ہوتی ہے،جسمانی نشو ونمامیں اچھے کھان پان کا بڑا دخل ہے،لیکن بچوں کے ذہنی ارتقا اور ان کی دماغی ترقی میں کہانیاں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ قصے کہانیاں بچے کی ذہنی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہیں۔ بچہ جب نئے واقعے اور حیرت انگیز قصے سنتا ہے تو اس میں تجسس کا مادہ  پیداہوتا ہے،اس کا ذہن کہانیوں کے دامن سے گہرائی کے ساتھ وابستہ ہو جاتا ہے، قصے، کہانیاں،اور حکایات کے سننے سے بچے کا دماغ ترقی اور تربیت پاتا ہے،بچوں کی دماغی ترقی اور تربیت میں کہانیوں کا اہم حصہ ہوتا ہے۔

اردو کے مشہور نقاد کلیم الدین احمد لکھتے ہیں کہـ:

’’بچہ کی جسمانی نشو ونما کے ساتھ اس کے دماغ کی بھی ترقی اور تربیت ہوتی ہے۔اور اس ترقی اور تربیت میں کہانیاں ایک اہم حصہ لیتی ہیں۔انسان کی دماغی ترقی کا ایک بڑا سبب تجسس کا مادہ ہے جو مختلف صورتوں میں کار فرما ہے۔جو ہمیں نئی نئی چیزوں کی تلا ش وجستجو پر آمادہ کرتا ہے،جو ہمیں ہر شے کی ماہیت اور اس کے اسباب پر سے پردہ اٹھانے پرمجبور کرتا ہے اور جو ہمیں دماغی کاہلی سے بچاتا ہے اور کسی چیز کو بھی بغیر جانچ پڑتال کے قبول کرنے نہیں دیتا۔بچپن میں بھی اس مادہ کی ترقی نہایت اہم ہے اور یہ ترقی کہانیوں کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔‘‘

(کلیم الدین احمد،اردو زبان اور فن داستان گوئی،(ناشر)دائرہ ٔادب،بانکی پور،پٹنہ،ص2 )

قصہ کہانی کا تعلق دنیا کی ہر زبان سے ہے، کہانیوں کا رواج ہر عہد میں ہونے کے سبب سبھی زبانوں میں اس کا چلن ہے،دنیا کہانیوں سے بھری ہوئی ہے اور تقریبا سبھی کہانیوں میں جزئی طورپر یکسانیت پائی جاتی ہے۔زبانیں الگ الگ  ضرورہیں۔تاہم قصوں کے موضوعات اور کرداروں میں کافی حد تک مماثلت ہوتی ہے۔

اردو زبان وادب کی سبھی اصناف میں داستان گوئی کو تقدم اور اولیت حاصل ہے۔داستان میں کہانی ہوتی ہے،حیرت انگیز واقعات کا بیان ہوتا ہے، دیو، جن پری کے علاوہ، بادشاہوں، شہزادوں، شہزادیوں، امیروں، وزیروں اور رعایا کا تذکرہ ہوتا ہے۔بنی نوع انسان کے اہم ترین کارناموں میں داستان گوئی کا بھی شمار ہوتا ہے۔داستان کا موضوع بہت وسیع اور کشادہ ہوتا ہے، اسی لیے اس میں مکمل آزادی اور کشادہ قلبی سے دلچسپ قصے بیان کیے جاتے ہیں۔

داستانوں میں ایک ہی عہد کی سرگرمیاں نہیں ہوتیں بلکہ زمانے بھر کی ہلچل،تحرک،عمل پیہم،مہم جوئی کا سلسلہ ملتا ہے۔ایک ہی فرد یا چند افراد کے بجائے اس میں پورے سماج کے لوگ اور ان کے کارنامے دکھائی دیتے ہیں۔

اردوادب میں داستان نویسی کی روایت کا آغاز دکن کے ملا وجہی کی داستان ـ’سب رس ‘سے ہوتا ہے۔ملا وجہی نے اس داستان کو 1635 میں لکھا،انھوں نے اس کتاب کو قطب شاہی سلطنت کے فرماں رواں عبد اللہ قطب شاہ کی فرمائش پر تصنیف کیا تھا۔ان کی تصنیف کو نثری داستانوں میںاولیت حاصل ہے۔وجہی کی یہ مایہ ناز تصنیف دکنی ادب میں نہ صرف مقبولیت  اور شہرت کے بام عروج پہ فائز ہے بلکہ اسے اردو ادب میں انفراد وامتیاز کا رتبہ حاصل ہے۔

شمالی ہند کی داستانوں میں نو طرز مرصع،کربل کتھا، عجائب القصص، داستان امیر حمزہ،طلسم ہوش ربا، باغ وبہار،فسانہ عجائب،سروش سخن وغیرہ معروف و مشہور ہیں۔ فورٹ ولیم کالج میں لکھی جانے والی کتابوں میں جو شہرت میر امن دہلو ی کی کتاب ’باغ وبہار ‘کو نصیب ہوئی، وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔باغ وبہار کی سادگی اور سلاست نے اسے مقبول عام و خاص بنادیا۔ اس میں بیان کیے گئے قصے دلچسپ اور متاثر کن ہیں۔ باغ و بہار میں دہلوی تہذیب وثقافت کی عکاسی ہے۔ ایک زمانے میں اس میں بیان کیے گئے قصے لوگ آپس میں ایک دوسرے کوزبانی سنایا کرتے تھے۔زبانی قصہ گوئی کی روایت اس طرح مستحکم ہوتی گئی۔ 

داستان گو دہلی، اودھ، رامپور، بنارس اور حیدر آباد کے درباروں سے وابستہ ہواکرتے اور درباروں میں قصہ سناکر داد و تحسین وصول کرتے تھے۔اس کے علاوہ شہروں کی مجلسوں میں قصہ گو قصے سناتے تھے۔ قصے کتاب دیکھ کر بھی سنائے جاتے تھے  اور زبانی سنانے کے طریقے بھی رائج تھے۔ہندوستان پر انگریزوں کا تسلط قائم ہونے سے قبل اور بعد دونوں زمانوں میں زبانی قصہ گوئی کی روایت کا پتہ چلتا ہے۔

سید وقار عظیم کہتے ہیں کہ :

’’اردو کے اکثر اچھے داستان گو غدر سے پہلے اور غدر کے بعد تک دہلی،اودھ،رامپور،بنارس،اور حیدر آباد کے درباروں اور امیروں سے وابستہ رہے ہیں اور اس تعلق اور وابستگی کے علاوہ شہروں میں داستان گوئی کی مجلسوں کا عام دستور رہا ہے جس میں داستا ن گو کبھی لکھ کر اور کبھی زبانی داستانیں سنا کر سننے والوں کو مسرور کرتے اور ان سے ہدیۂ تحسین وخراج عقیدت ومحبت وصول کرتے رہے ہیں۔دلی اورلکھنؤ نے اپنے زوال اور انحطاط کے زمانے میں بھی اپنی مجلسوں کو اس شمع سے روشن رکھا ہے۔‘‘

(سید وقار عظیم،ہماری داستانیں،ادارۂ فروغ اردو،لاہور،ص17-18)

ْْْْٓقصے،کہانیاںاور داستانوں کے سننے وسنانے کا اہتمام ادبی اور علمی گھرانوں میں ہمیشہ رہا ہے،ادبی شخصیات اس حوالے سے اپنے بچوں کی تربیت بھی کرتی تھیں۔ گھر کے ادبی ماحول میں جب بچے قصے کہانیاں سنتے ہیں تو ان کے اندر علمی اور فکری بلندیاں پیدا ہونے لگتی ہیں، بچپن میں ہی بچے لکھنے، پڑھنے کے شوقین ہوجاتے ہیںاور تہذیب وتمدن کے وارث بن جاتے ہیں۔ عصر حاضر کے ممتاز اردو فکشن نگار مشرف عالم ذوقی اپنے گھر کا ماحول بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’گرمیوں کے موسم میں چھت پر چارپائیاں بچھی ہوتی تھیں۔آسمان پر تاروں کی بارات ۔۔۔۔۔ٹھنڈی ٹھنڈی بہتی ہوئی ہوا۔ہم بھائی بہن چھت پر ابا کے آنے کا انتظار کرتے۔ابا کے آتے ہی ہم انھیں گھیر کر بیٹھ جاتے۔ ابا پھر داستانوں کو لے کر بیٹھ جاتے۔ داستان امیر حمزہ،طلسم ہوشربا ۔۔۔۔۔عمروعیار کی ٹوپی۔ یہاں تک کہ سراج انور کے ناول بھی ابا سے ہی سننے کا موقع ملا۔مطالعہ میں نے بعد میں کیا۔ابا کے سنانے کا مخصوص اندازتھا۔وہ ڈرامائی انداز میں ان کہانیوں کو بیان کیا کرتے تھے۔آج محفلوں میں کہانیاں سناتے ہوئے میں کسی حد تک اس انداز کو اپنانے کی کوشش کرتا ہوں۔ مگر وہ ہنر کہاں سے لاؤںجو ابا مرحوم کے پاس تھا ‘‘

(مشرف عالم ذوقی،سلسلۂ روزوشب، 2013، ص176-77)

ْقصہ گوئی کا فن بنیادی طور پر سننے سنانے کا ہی فن ہے،عہد ماضی میں سنانے کا اہتمام ہوتا تھا اور لوگ حلقہ بناکر قصوں سے لطف اندوز ہوا کرتے۔

بہت بعد میں انھیں تحریری جامہ پہنایا گیا۔ موجودہ عہد میں قصہ گوئی کاسلسلہ کمزور ہوتا جارہا ہے،بلکہ مفقود ہورہا ہے۔داستانوں کا حسین سرمایہ صرف تحریری شکل میں ملتا ہے۔ زبانی قصہ بیان کرنے کا رواج  تقریبا ختم ہو چکا ہے۔جب سے جدید ٹیکنالوجی کا دور آیا ہے،اس نے سماجی،سیاسی اور تہذیبی حیات وروایات میں بڑی تبدیلیاں پیدا کردی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی نے قصہ گوئی کے چلن کو سخت نقصان پہچایا ہے۔ ایک دور تھا جب گھروں میں نانی،دادی بچوں کی تربیت کی خاطر اخلاقی اور تربیتی کہانیاں سنایا کرتی تھیں اور ان کہانیوں میں سچائی،بہادری،نیک نیتی اور خوش اخلاقی کے عناصر وافر مقدار میں موجود ہوتے اور بچے ان کہانیوں کے ذریعے اپنی زندگیوں میں تبدیلیاں لانے میں کوشاں رہتے تھے۔لیکن اب حالات یکسر بدل چکے ہیں،موبائل اور انٹر نیٹ کے ذریعہ لوگوں کے گھر کا ماحول بھی مکمل طور پر بدل چکا ہے۔  لوگوں کی مصروفیات اتنی بڑھ گئی ہیں کہ کسی کو فرصت ہی نہیں کہ وہ اپنے بچوں کو کہانیاں سنائیں۔

حالانکہ زبانی کہانیاں سنانے کی سماج ومعاشرہ میں بڑی اہمیت ہے۔بگڑے ہوئے معاشرے کے سدھار میں اخلاقی اور ادبی  قصے،کہانیاں آج بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔

کہانیاں آج بھی ہمارے بچوں پر مثبت اور مؤثر اثر ڈال سکتی ہیں، ان کی سماجی اہمیت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا،قصوں سے ہم اپنی زبان سے متعلق بھی سیکھ سکتے ہیں۔اچھے اخلاق،بہترین افکار،مثبت نظریات اور ہمدرد انسان بننے کی راہیں اچھی کہانیوں اور قصوں سے ہموار ہوسکتی ہیں۔

بچوں میں مطالعہ کا شوق دلانے کی خاطر بھی انھیں ترغیبی کہانیاں سنانی چاہئیں۔کیونکہ بچپن میں بچوں کے کان جس طرح کی باتیں سنتے ہیں ان سے وہ رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔اخلاقی کہانی بچوں کے اخلاق پہ مثبت اثر ڈالتی ہے اور اس طرح کی کہانی سن کر بچہ ایک اچھا شہری بننے کا خواب بچپن میں ہی دیکھنے لگتا ہے اور اس کے اندر برائیوں سے لڑنے کی قوت ہوتی ہے۔ اس لیے زبانی قصہ گوئی اور کہانی سنانے کی عوامی اولیت کا احیا کیا جانا ضروری ہے۔

Gulam Gaus

Research Scholar, Department of Urdu

Indera Gandhi National open University

New Delhi- 110068

Mob.: 7289849371

ggbarabanki@gmail.com


تہذیب، ثقافت اور تمدن: ایک جائزہ،مضمون نگار: محمد ذاکر

اردو دنیا،نومبر 2025

تہذیب، ثقافت اور تمدن: بظاہر یہ تین الفاظ ہیں لیکن بباطن ہر لفظ ایک جہان معنی اور وسیع تر مفہوم کا حامل ہے۔ان الفاظ کی آفاقیت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم ابتدائے آفرینش سے تاریخ انسانی کا مطالعہ شروع کرتے ہیں۔ تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ یہ صرف تین الفاظ نہیں بلکہ تین ایسی اصطلاحات ہیں جن کا تعلق ارتقائے ذہن اور ارتفاع سماج سے ہے۔

اس تمہید کے بعد ثقافت، تہذیب اور تمدن کے لغوی اور اصطلاحی معنی کے حوالے سے بات ہوگی۔ ان کے تعبیری وتوضیحی واضح کیے جائیں گے۔

تہذیب، ثقافت اور تمدن تینوں عربی الاصل الفاظ ہیں، اپنی لفظی ساخت کے فرق کے باوجود کئی طرح کے جزوی اشتراک سے مملو اور باہم مترادف بھی ہیں۔ یا یوں کہہ لیجیے کہ تہذیب کو ثقافت اور تمدن کے معنی میں بھی لیا جاتا ہے۔ معروف  عربی لغت نگار ابن منظور لکھتے ہیں:

’’التہذیب: ہذب الشیء یہذبہ أي نقاہ وأخلصہ وقیل أصلحہ، وأصل التہذیب تنقیۃ الحنظل من شحمہ و معالجۃ حبہ حتی تذہب مرارتہ ویطیب لأکلہ۔‘‘

(ابن منظور،جمال الدین محمد مکرم،لسان العرب، دار صادر بیروت،ص 63)

’’تہذیب کے معنی ہیں کسی چیز کو صاف کرنا، خالص کرنا  اور اصلاح کرنا اور اصلاً اس کے معنی ہیں حنظل (اندراین) کا گودا صاف کرنا اور اس میں ایسی تدبیر اختیار کرنا کہ اس کی ترشی دور ہوجائے اور وہ کھانے لائق ہوجائے۔‘‘

قاموس المحیط میں بھی ملتے جلتے معنی ہیں:

’’ہذب یہذب تہذیباً قطعہ، نقاہ وأخلصہ وقیل أصلحہ۔‘‘ (مجد الدین فیروز آبادی، القاموس المحیط)

’’تہذیب کے معنی کسی چیز میں تراش خراش کرنا، صاف کرنا، خالص کرنا اور اصلاح کرنا ہیں۔‘‘

ان تعریفات کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تہذیب کے اصل معنی کسی چیز کو صاف کرنا، سنوارنا، شائستگی و آراستگی کے ہیں۔ جب کہ اصطلاح میں یہ وہ معاشرتی طرز عمل ہے، جس کی پشت پر شعوری یا لاشعوری طور پر کوئی مذہبی عقیدہ کار فرماہو۔

فارسی لغت میں اس کے معنی ’’پاکیزہ کردن، خالص کردن، اصلاح کردن، شعر نثر از عیب و نقص، پاک کردن اخلاق‘‘ کے رقم ہیں۔

فیروز اللغات اردو میں اس کے لغوی معنی شائستگی وخوش اخلاقی کے دیے ہیں اور اصطلاحی معنوں میں کسی معاشرے کی بامقصد تخلیقات اور سماجی اقدار کے نظام کو تہذیب کہتے ہیں۔

علوم وآداب، فنون لطیفہ، اطوار ومعاشرت، انداز تمدن اور طرزِ سیاست تہذیب کے نتائج اور مظہر ہیں۔ جب کہ اس کے عناصر ترکیبی میں دنیوی زندگی کا تصور، زندگی کا نصب العین، عقائد و افکار، تربیت افراد کے اصول اور نظام اجتماع کے اصول وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کسی قوم کی زندگی کے خدو خال،رسم و رواج، اصول و ضوابط اور طرزِ بود و باش کو بھی تہذیب کہا جاتا ہے۔

جہاں تک تہذیب کے انگریزی مترادف کا مسئلہ ہے تو پہلے اس لفظ کے لیے Civilization کا لفظ استعمال ہوتا تھا۔ اب کلچر استعمال ہوتا ہے۔

گویا تہذیب معاشرتی، معاشی اور سیاسی اداروں کا مجموعہ ہے۔ تاریخی لحاظ سے اس کی کئی صورتیں ہیں۔ اس کی گوناگوں خصوصیات مختلف معاشرتی سطحوں سے متعلق ہیں۔ مثلاً تعمیر، تحریر وغیرہ۔

اردو زبان میں لفظ تہذیب کا استعمال بالعموم علم اخلاق سے جڑا ہوا ہے۔ جب کہ انگریزی میں اس کے معنی سماجیات سے قائم کیے گئے ہیں۔ انگریزی حوالے سے یہ لفظ اردو میں سب سے پہلے سرسید احمد خاں نے استعمال کیا۔ سبط حسن کے مطابق سرسید احمد خان غالباً پہلے دانشور ہیں جنھوں نے تہذیب کا وہ مفہوم پیش کیا جو  انیسویں صدی میں مغرب میں رائج تھا۔اپنے رسالے تہذیب الاخلاق کے اجرا کے اغراض و مقاصد کو وہ یوں بیان کرتے ہیں:

’’اس پر چہ کے اجرا سے مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو کامل درجہ کی سویلائزیشن (Civilization) یعنی تہذیب اختیار کرنے پر راغب کیا جاوے تا کہ جس حقارت سے (سویلائزڈ) مہذب قو میں ان کو دیکھتی ہیں۔ وہ دفع ہووے اوروہ بھی دنیا میں معزز و مہذب قومیں کہلائیں... سویلائزیشن انگریزی لفظ ہے جس کا تہذیب ہم نے ترجمہ کیا ہے۔‘‘

(سبط حسن پاکستان میں تہذیب کا ارتقا ص، 15)

تہذیب کے تین اہم عناصر یا عوامل ہیں۔ ایک عنصر کو مذہب/ عقیدہ/ نظر یہ کہیے۔ دوسرے کو جغرافیہ اور ماحول قرار دیجیے جس میں آب و ہوا، نسل، ملک، سیاست اور پیدواری نظام سب شامل ہیں اور تیسرے کو تاریخ، روایت،حافظہ،زمانہ سمجھئے۔بقول پروفیسر عتیق اللہ:

’’تہذیب نام ہے اس اجتماعی معاشرت کا جس میں باہمی ذہنی اور مادی شمولیتیں اور شرکتیں انسانی احتیاجات اور ضروریات کی تشکیل و تکمیل کرتی نیز انسانی اقداری ماحول کی پرورش کرتی ہیں۔ اشتراک عمل کے نتیجے میں حاصل ہونے والے وہ سارے داخلی اور خارجی ممتاز اسالیب ایک دوسرے کو مربوط کرنے والے اور ایک دوسرے کی فلاح اور آسودگی کے لیے متلازم و بنیادی اصول اور رویے جن سے نہ صرف یہ کہ آئندہ نسلیں اخذ و کسب کرتی ہیں بلکہ کبھی سہولت کبھی ضرورت کبھی شائستگی کی خاطر ان میں ترمیم و توسیع بھی کرتی ہیں۔ تہذیب ان کے اجتماعی اور تخصیصی افکار و تصورات، اقدار و ترجیحات، عقائد و رسومات کی عکس ریزی ہوتی ہے۔‘‘

(اردو شاعری میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت،پروفیسر عتیق اللہ، ص 59)

  ثقافت: یہ لفظ سننے میں بہت آسان اور عام فہم لگتا ہے، لیکن جب ہم اس لفظ کی معنوی جہات وا کرتے ہیں تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ اس لفظ کی حیات انسانی میں کیا اہمیت و افادیت ہے۔یہ لفظ لغوی معنی میں بھی استعمال ہوتا اور اصطلاحی میں بھی۔

بنیادی طور پرثقافت عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کا مادہ ث، ق، ف ہے۔ عربی لغت میں اس کے معنی  نیزہ کو سیدھا کرنا، مہذب بنانا اور تربیت دینا ہیں۔

فارسی لغت میں ثقافت کے معنی زیرک و چست و چالاک شدن،  استاد شدن،  زیر کی، چالا کی، استادی، حذاقت، بہرہ وری از علم و ادب و تربیت کے ہیں۔

جب کہ اردو لغت کے مطابق ’ثقافت‘کسی قوم یا گروہ انسانی کی تہذیب کے اعلیٰ مظاہر ہیں جو اس کے مذہب، نظام اخلاق، علم و ادب اور فنون میں نظر آتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ لفظ اردو زبان میں عقلمند، نیک، تہذیب یافتہ یا کلچرڈ ہونے کے پس منظر میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

 ہندی یا سنسکرت میں ثقافت کے لیے ’سنسکرتی‘ کا لفظ مستعمل ہے۔جس کے معنی اصلاح شدہ یا صاف کیا ہوا ہیں۔سنسکرتی کا تعلق سنسکار(عادات و اطوار) سے ہے۔جس کے معنی اصلاح کرنا، بہتر بنانا اور تزکیہ کرنا وغیرہ کے ہیں۔

انگریزی زبان میں ثقافت کے لیے کلچر کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔

کلچر یا Cultivation زراعت یا زمین کی قدرتی حیثیت کو بہتر بنانے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا زمین ہی کی مانند انسان کے رجحان اور فطری صلاحیتوں اور قوتوں کو بہتر بنانے کا دوسرا نام کلچر ہے یا پھر انسان کے فطری رجحان اور مزاج کی اصلاح کو ہم ثقافت کہہ سکتے ہیں۔

عصر حاضر میں ثقافت کی اصطلاح ترک کر کے کلچر پر اتفاق کرلیا گیا ہے۔ ثقافت دل ودماغ اور ذوق و فکر کی تربیت  و تہذیب کا نام ہے۔اب اس لفظ کا اطلاق تعلیم یافتہ آدمی کے عملی اکتساب وتحصیل پر ہونے لگا ہے۔ شائستہ اخلاق، خوش ذوقی، فنی استعداد اور کسب علوم جو تعلیم کا نتیجہ ہوتے ہیں کلچر کہلائیں گے۔زمانہ قدیم میں یہ لفظ یعنی کلچرکبھی سویلایزیشن کا ہم معنی ہوا کبھی الگ۔ پہلے یہ فرد کی داخلی تہذیب تک محدود تھا،لیکن پھر اس کا اطلاق مادی ضرورتوں اور اشیا پر بھی ہونے لگا۔اب اس میں کسی قوم یا سماج کی ساری مجلسی زندگی شامل ہے جس میں رسم ورواج، فنون لطیفہ و مفیدہ حالت امن و جنگ میں نجی اور مجلسی زندگی، مذہب، علوم اور آرٹ وغیرہ سبھی شامل ہوں۔اس لفظ کی ایک عام تعریف یہ بھی کی جاتی ہے کہ کلچر عبارت ہے انفرادی و مجلسی رویے سے جس میں افکار، علم عقائد اور اصولی اقدار وغیرہ شامل ہوتی ہیں۔

ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ کلچر ایک طرح کا رویہ ہے جو خارجی بھی ہے اور داخلی بھی۔ اس رویے کے مظاہر کلچر کہلاتے ہیں۔ یہ سمٹ کر محض ذوقی مجلسی رویے ہو سکتے ہیں اور پھیل کر کسی قوم کی پوری تہذیبی تمدنی زندگی پر حاوی ہو سکتے ہیں۔ اس کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ مادی اور غیر مادی۔مادی ثقافت میں اوزار، ہتھیار، آلات، مصنوعات، فرنیچر اور بے شمار دوسری ایجادات کو بھی اس میں شامل کیا جاتا ہے۔یہاں تک کہ اب ٹیکنالوجی بھی اس میں آجاتی ہے۔

یعنی کلچر ضرورتوں کی تکمیل کے لیے کسی سماج کی مشترکہ مساعی و تعاون سے ابھرتا ہے۔ انسان زندہ رہنے کے لیے بنیادی ضرورتوں کھانا، کپڑا، مکان، اور حفاظت جسمانی وغیرہ کے لیے کوشش کرتا ہے۔ اسی کوشش کے نتیجے میں پیشے، نظام تعلیم، نظام قانون اور نظام اخلاق وجود میں آتے ہیں جن میں مذہب بھی شامل ہے۔ اس سے ترقی کر کے اداراوں کی تشکیل ہوئی ہے۔

ان تمام تشریحات کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ثقافت یا کلچر عصر حاضر میں ایک وسیع مفہوم کا حامل ہے جو زندگی کے ہر شعبے پر حاوی ہے۔ اس میں اخلاق، عادات، معاشرت، سیاست، مصنوعات، قانون قاعدے، ملبوسات، خوراک، فنون لطیفہ، فلسفہ، مذہب اور سائنس سب شامل ہیں۔یہ وقت کے ساتھ اپنی صورت اور معیار بدلتا ہے اور ہر تبدیلی کو اپنے اندر جذب کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

تمدن‘بھی عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کا مادہ م، د،ن ہے۔ اس کے معنی عربی لغت میں اقامت کرنا، آباد کرنا، شائستہ و مہذب ہونا اور آسودہ حال ہونا ہیں اور فارسی لغت کے مطابق اس کے معنی ’’شہر نشین شدن،  خوی شہری گزیدن و با خلاق مردم شہر آشنا شدن، زندگانی اجتماعی، ہم کاری مردم با یکدیگر در امور زندگانی و فراہم ساختن اسباب ترقی و آسائش خود‘‘ کے ہیں۔ اردو لغت میں اس کے معنی  شہری بود و باش۔ (کسی ایک جگہ) مل جل کر رہنا، سماجی زندگی، شائستگی، تہذیب، رہنے سہنے کے خاص طریقے، طرز معاشرت وغیرہ بیان کیے گئے ہیں۔

تمدن درحقیقت ضروریات زندگی کی پیداوار ہے۔ انسان کی زندگی کی ضروریات اور اعلیٰ تصور حیات تمدن کو جنم دیتے ہیں۔تہذیب کا تعلق نظریات سے ہے اور تمدن کا اعمال سے۔ بقول سبط حسن:

’’ہر تہذیب اپنے تمدن کی پیش رو ہوتی ہے۔ تہذیب کے لیے شہر، دیہات صحرا اور کوہستان کی کوئی قید نہیں کیونکہ تہذیب معاشرے کی اجتماعی تخلیقات اور اقدار کا نچوڑ ہوتی ہے۔ اسی لیے تہذیب کے آثار ہر معاشرے میں ملتے ہیں، لیکن تمدن کی بنیادی شرط شہری زندگی ہے۔ تمدن اسی وقت وجود میں آتا ہے جب شہر آباد ہوتے ہیں۔ دراصل تمدن نام ہی ان رشتوں کی تنظیم کا ہے جو شہری زندگی اپنے ساتھ لاتی ہے۔‘‘

(تہذیب کا ارتقا:سبط حسن، ص13)

تہذیب‘سے مراد وہ نظریات وتصورات ہیں، جن کے مطابق کوئی جماعت یا قوم زندگی گزارے  اور اس کو اپنا مقصد بنائے۔ یہ نظریات اتنے واضح ہوتے ہیں کہ ہر قوم دوسری قوم سے مختلف ومنفرد نظر آتی ہے چنانچہ تہذیب کسی بھی قوم کی پہچان اور شناخت ہوتی ہے۔  ہمارا ہر عمل اور فعل کسی نظریے اور عقیدے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پہلے ہم کسی کام کے بارے میں سوچتے ہیں اور پھر اس سوچ کے مطابق عمل کرتے ہیں۔  اس طرح ’تہذیب‘ خیالات، تصورات اور افکار وعقائد کا نام ہے اور ان تصورات وافکار کے تحت جو افعال واعمال ظاہر ہوتے ہیں اور جو سیرت وکردار تشکیل  پاتے ہیں، انھیں ’تمدن‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تہذیب وتمدن لازم وملزوم ہیں۔تمدن اصل میں کسی خاص تہذیب کی عملی صورت کا نام ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ تہذیب اصل ہے اور تمدن اس سے پھوٹنے والی شاخ ہے۔ تمدن ان مادی اشیا کے مجموعے کو بھی کہتے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ یا تو بہتر ہوتی رہتی ہیں یا مکمل طور پر حالات کے تقاضوں میں ڈھل جاتی ہیں۔ جیساکہ مواصلات اور دیگر مادی سہولیات۔ لہٰذا  زندگی گزارنے کے  مختلف نظریے رکھنے کے باوجود دو مختلف تہذیب کے لوگوں میں تمدنی حوالے سے یکسانیت ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پراگرچہ ذات، ملکیت، مذہب اور رائے کی آزادی کے نظریے پر کھڑی سرمایہ دارانہ تہذیب اور زندگی کے تمام معاملات میں خالص مذہبی بنیادوں پر استوار تہذیب کے درمیان تصادم جاری ہے۔ لیکن تمدن کے معاملے میں بہت سے چیزیں دونوں میں مشترک بھی ہیں جیسا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی وغیرہ، کیونکہ یہ اشیا کسی بھی لحاظ سے ایک مخصوص تہذیب سے وابستہ نہیں ہوتیں اور نہ ہی کسی طرح سے عقائد پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

 

Dr. Mohd Zakir

Dept. of Urdu

Kashmir University

Kashmir- 190006  (J&K)

Mob.: 8825021138

drmohdzakir88@gmail.com

 



سہل ممتنع: تعریف و تفہیم،مضمون نگار:محمد نہال افروز

اردو دنیا،نومبر 2025

سہل ممتنع ایک شعری اصطلاح ہے۔اس کے لیے انگریزی میں'Deceptive Simplicity'کالفظ استعمال ہو تا ہے،جس کا مطلب ہے ایسی سادگی جس کے اندر فریب چھپا ہو،یعنی ادبی ا صطلاح میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسی سادگی جس میں کوئی گہری بات(فلسفہ) پوشیدہ ہو۔سہل ممتنع عربی زبان کے دو الفاظ’سہل‘ اور ’ممتنع‘ کا مرکب ہے۔’سہل ‘ کے معنی’’ آسان،سادہ‘‘ اور’ممتنع ‘ کے معنی ’’جس سے روکا جائے، جو ممنوع ہو،جس کا وجود ناممکن ہو،محال، دشوار‘‘کے ہیں۔اس طرح دونوں الفاظ کے معنی پر غور کریں تو ایسے اشعار سہل ممتنع کہلائیں گے، جو آسان، سادہ اور سلیس ہوں،لیکن ان اشعار کو کہنا ہر کس و ناکس کے لیے نا ممکن،محال اور دشوار ہو۔لہٰذاسہل ممتنع اشعار کہنے کے لیے کہنہ مشق شاعر ہونا ضروری ہے، جو آسان سے آسان تر الفاظ کا استعمال کر کے سادہ اور سلیس زبان میں عمدہ اور معنی خیز اشعار کہہ جائے۔ پروفیسر انور جمال سہل ممتنع کی تعریف بیان کرتے ہوئے اپنی کتاب ’ادبی اصطلاحات‘ میں لکھتے ہیں:

’’ایسا شعر جو اس قدر آسان لفظوں میں اداہو جائے کہ ا س کے آگے مزید سلاست کی گنجائش نہ ہو’سہل ممتنع ‘کہلاتا ہے... سہل ممتنع کی خاصیت رکھنے والی شاعری تاثیر کی قوت اور تادیر زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

سہل ممتنع شعری اظہار کا سادہ ترین پیرایہ ہے۔‘‘1

پروفیسر انورجمال کی یہ تعریف بہت حد تک درست ہے،لیکن اسے سہل ممتنع کی مکمل یا بہترین تعریف نہیں کہا جا سکتا۔انھوں نے اس میں سہل ممتنع کی ایک خوبی تو بتائی ہے کہ شعر آسان لفظوں میں ادا کیا جائے،لیکن دوسری اور اہم خوبی کا ذکر نہیں کیا ہے کہ اس میں گہری معنویت اور فلسفیانہ موضوع کو بھی بیان کیا گیا ہو۔یہ صحیح ہے کہ سہل ممتنع کے اشعار میں تاثیر کی قوت ہوتی ہے اور ان میں تادیر زندہ رہنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے،لیکن یہ خصوصیات آسان الفاظ اور سادہ بیانی کی وجہ ہی سے نہیں بلکہ مضمون آفرینی اور خیال کی گہرائی وگیرائی اور فلسفیانہ کلام کی وجہ سے بھی ہوتی ہے۔واضح رہے کہ آسان الفاظ اور سلیس اسلوب میں کہا گیا ہر شعر سہل ممتنع کے زمرے میں آئے، یہ ضروری نہیں ہے۔ نیر مسعود اپنے ایک مضمون ’اردو شعریات کی چند اصطلاحیں‘ میں سہل ممتنع کی مختلف جہتوں سے تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

(i)      ہر سہل کام سہل ممتنع نہیں

(ii)     آسان زبان یا نثری ترتیب وغیرہ جزئی طور پر سہل ممتنع ہیں،لیکن ان شرطوں کے ساتھ کہے ہوئے شعر سہل ممتنع کے برخلاف دقیق، پیچیدہ اور مشکل بھی ہو سکتے ہیں، یعنی

(iii)    سہل ممتنع کا انحصارصرف استعمال الفاظ پر نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق شعر کے معنی مفہوم سے بھی ہوتا ہے۔‘‘2

نیر مسعود نے اس اقتباس میںجن امور پر استدلالی بحث کی ہے وہ یہ ہے کہ ہر سہل کام یا شعر کو سہل ممتنع کے زمرے میں نہیںرکھا جا سکتا۔ ان کا ماننا ہے کہ آسان الفاظ اور سلیس زبان میں کہے گئے اشعار جزوی طور پر سہل ممتنع ہو سکتے ہیں،لیکن کلی طور پر سہل ممتنع وہی ہو گا جس میں  ان شرائط کے ساتھ کوئی دقیق یا پیچیدہ مسئلہ بیان کیا گیا ہو یا پھر کوئی فلسفیانہ موضوع پیش کیا گیا ہو۔سہل ممتنع کا تعلق صرف الفاظ کے استعمال ہی سے نہیں ہوتابلکہ شعر کے معنی و مفہوم سے بھی ہوتا ہے۔مثال کے طور پر ولی دکنی کا یہ شعر ملاحظہ ہو        ؎

خوب رو خوب کام کرتے ہیں

یک نگہ میں غلام کرتے ہیں

ولی  دکنی کا یہ شعر بلا شبہ آسان الفاظ اور سلیس زبان میں ہے،لیکن اس میں کوئی گہری بات نہیں کہی گئی ہے یا کوئی فلسفہ بیان نہیں ہوا ہے۔یہ شعر دیکھنے میں جتنا آسان نظر آرہا ہے،اس کامعنی اور مطلب بھی اتنا ہی آسان ہے۔ولی نے اس شعر میں یہ کہا ہے کہ خوب رویعنی خوب صورت لوگ یہ کمال کرتے ہیں کہ اپنے عاشق کو ایک ہی نظر میں اپنا غلام بنا لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس شعرمیں کوئی اور خاص بات یا کوئی فلسفہ پوشیدہ نہیں ہے بلکہ بالکل سامنے کی بات ہے۔

اسی طرح امیر مینائی کا یہ شعر بھی ملاحظہ ہو        ؎

وہی رہ جاتے ہیں زبانوں پر

شعر جو انتخاب ہوتے ہیں

امیر مینائی کے اس شعر میں بھی کوئی گہری بات یا فلسفیانہ پہلو نہیں ہے،جس کی بنیاد پر اس شعر کو سہل ممتنع کے زمرے میں رکھا جاسکے۔ اس شعر میں صرف اتنا ہی کہا گیا ہے کہ ہمارے اپنے ہزاروں اشعار میں سے وہی شعر زبان پررہ جاتے ہیں،جس کا ہم انتخاب کر لیتے ہیں، باقی سب معدوم ہوجاتے ہیں یاپھر بھول جاتے ہیں۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اس شعر میں سادگی اپنی انتہا پر ہے اور اس شعر میں جن الفاظ کا انتخاب کیا گیا ہے وہ بے حد آسان ہیں۔محض اس وجہ سے اس شعر کو سہل ممتنع کا شعر نہیں کہا جا سکتاکہ اس میں سادگی ہے۔ سہل ممتنع کے لیے یہ ضروری ہے کہ بظاہر سادہ دکھنے والا شعر حقیقت میں اپنے اندر بہت کچھ سمیٹے ہوئے ہو، جس کی تشریح کی جائے تواس کی معنوی پرتیں کھلتی جائیں یعنی معانی کے کئی جہاں کھل جائیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ایسا عمدہ شعر کہنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ حسرت موہانی اس تعلق سے اپنی کتاب’محاسن سخن‘ میں رقم طراز ہیں:

’’سہل ممتنع سادگی و حسن بیان کی اس صنف کا نام ہے،جس کو دیکھ کر ہر شخص بظاہر یہ سمجھے کہ یہ بات میرے دل میں بھی تھی اور ایسا کہنا ہر شاعر کے لیے آسان ہے، مگر جب خودکوشش کر کے ویسا لکھنا چاہے تو نہ لکھ سکے۔‘‘3

حسرت موہانی کی یہ تعریف سہل ممتنع کے لیے بالکل مناسب اور واضح ہے۔ حسرت موہانی کا یہ کہنا کہ’’ہر شخص بظاہر یہ سمجھے کہ یہ بات میرے دل میں بھی تھی اور ایسا کہنا ہر شاعر کے لیے آسان ہے، مگر جب خودکوشش کر کے ویسا لکھنا چاہے تو نہ لکھ سکے۔‘‘یہی اس فن کی اصل تعریف ہے،جواس کو فلسفے کے قریب لے جاتا ہے اور یہی سہل ممتنع کی فلاسفی بھی ہے۔

حسر ت موہانی کے اس تعریف سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ سہل ممتنع کا شعر ایسا ہو نا چاہیے،جس میں سادے الفاظ استعمال ہوئے ہوں،شعرکہنے کا انداز آسان ہو،شعرپڑھ کر قاری ایسا محسوس کرے کہ وہ ایک شعر نہیں بلکہ ایک بات ہے، جو سیدھے دل میں اتر گئی،لیکن اس کے مضمون یا خیال میں اتنی وسعت وبلندی اور اتنی گہرائی و گیرائی ہونی چاہیے کہ وہ کسی فلسفے سے کم نہ ہو، جس شعر میں یہ تمام خصوصیات موجود ہوںگی،وہی سہل ممتنع کا اچھا شعر ہوگا۔احمد رضا خان بریلوی کا یہ سادہ، سلیس، خوبصورت، عمدہ اور معنی خیز شعر ملاحظہ ہو، جو سہل ممتنع کی بہترین مثال ہے        ؎

سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی

اپنے مولا کا پیارا ہمارا نبی

اس شعر میں احمد رضا خان بریلوی نے اس کائنات کی سب سے برگزیدہ شخصیت حضرت محمدؐ کی شان اقدس کو نہایت ہی آسان اور سادہ الفاظ میں بیان کیا ہے،جب کہ آپؐ کی شخصیت و سیرت کو بیان کرنے اوران کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے ایک دو ورق نہیں بلکہ پوری ایک سفینہ بھی کم پڑ جائے گی،لیکن احمد رضا خان بریلوی نے اس شعر میں آپؐ کی شان مبارک کو بہت ہی خوبصورتی اور عمدگی سے بیان کیا ہے۔لہٰذا یہ شعر سہل ممتنع کی بہترین مثال ہے۔

صنعت سہل ممتنع کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس کے اشعاربظاہراتنے سادہ اورآسان ہوتے ہیں کہ اس کو اگر ہم نثر میں تبدیل کرنا چاہیں تو نہ کر سکیں،یعنی سہل ممتنع کے اشعار نثر کے بہت قریب ہوتے ہیں۔سہل ممتنع کے لیے ایک اور بات کہی جاتی ہے کہ ایسے اشعار چھوٹی بحر میں ہی کہے جا سکتے ہیں،جب کہ ایسا نہیں ہے۔ سہل ممتنع کے لیے بحر کی کوئی قید نہیں ہے،یہ کسی بھی بحر میں کہے جا سکتے ہیں۔ بشرط یہ کہ اشعار میں سہل ممتنع کی دوسری تمام خصوصیات موجود ہوں۔ یہ صحیح ہے کہ چھوٹی بحرمیں کہے گئے سہل ممتنع کے اشعار زیادہ مشہور و مقبول ہیں،لیکن اس کا یہ قطعی مطلب نہیں ہے کہ بڑی بحر میں سہل ممتنع کے اشعار نہیں کہے جا سکتے۔مثال کے طور پر میر تقی میر کا یہ شعر ملاحظہ ہو        ؎

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

اسی طرح مرزا غالب کا بھی ایک شعر ملاحظہ ہو       ؎

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

سہل ممتنع ایک مشکل فن ہے۔ اس میں مشکل سے مشکل تر ین بات کو آسان ترین زبان میں پیش کیا جاتا ہے۔اردو شاعری میں ابتدائی دور ہی سے اس کی مثالیں ملنے لگتی ہیں۔اس میں کلاسیکی اور نو کلاسیکی شعرا سے لے کر ترقی پسند،جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے عہد کے شعرا نے طبع آزمائی کی ہے۔اس فن میں ولی دکنی، میر تقی میر، خواجہ میر درد،مرزاغالب،اکبر الہ آبادی، غلام ہمدانی مصحفی،امام بخش ناسخ، مولانا حالی، داغ دہلوی، مومن خاںمومن،فانی بدایونی،اصغر گونڈوی، حسرت موہانی،یاس یگانہ چنگیزی،جگر مرادآبادی،فراق گورکھپوری، فیض احمدفیض،مخدوم محی الدین، ناصر کاظمی،شہر یار،عرفان صدیقی، جون ایلیا، پروین شاکر وغیرہ نے اپنے فن کا مظاہر ہ کیا ہے۔اس کے باجود اردو شاعری میں سہل ممتنع کے اشعار کی تعداد بہت کم ہے،اس کی وجہ اس کی مشکل پسندی ہے۔مضمون کی طوالت کے پیش نظریہاں پر صرف اہم کلاسیکی اور نو کلاسیکی شعرا کے کلام سے سہل ممتنع کی مثالیں پیش کی جارہی ہیں۔

ولی دکنی کا شمار اردو شاعری کے ابتدائی دور کے شعرا میں ہوتا ہے بلکہ انھیں اردو شاعری کا بابا آدم بھی کہا جاتا ہے۔ولی نے اردو غزل کو ایک نئی پہچان اور بلندی عطا کی ہے۔ان کی غزلوں میں خیال کی ندرت اور بیان کی لطافت پائی جاتی ہے۔انھوں نے اپنی غزلوں میں عشق ومحبت کے ساتھ ساتھ تصوف اور معرفت کو بھی موضوع سخن بنایا ہے۔اس کے علاوہ ان کے یہاں انسانی زندگی کے حقائق پر مبنی اشعار بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔سہل ممتنع میں کہے گئے ان کے اشعار کسی فلسفے سے کم اہمیت نہیں رکھتے۔ ولی کے چند اشعار ملاحظہ ہوں،جس میں وہ بہت آسان الفاظ اور سلیس زبان میں بہت ہی گہری باتیں کہہ گئے ہیں         ؎

.1

مفلسی سب بہار کھوتی ہے

مرد کا اعتبار کھوتی ہے

.2

شغل بہتر ہے عشق بازی کا

کیا حقیقی و کیا مجازی کا

.3

جسے عشق کا تیر کاری لگے

اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے

مذکورہ بالا اشعارالفاظ اور اسلوب کی سطح پر بالکل آسان لگ رہے ہیں،لیکن یہ اشعار اتنے آسان ہیں نہیں،جتنے کہ بظاہر نظر آرہے ہیں۔ ان میں زندگی کے بڑے بڑے فلسفے پوشیدہ ہیں۔

پہلے شعر میں ولی نے مفلسی اور تنگ د ستی کو انسانی زندگی کے لیے عذاب تصور کیا ہے۔مفلسی اور ناداری انسانی زندگی کی خوبصورتی اور خوشیوں کے لیے زہر قاتل ثابت ہوتی ہے۔مفلس اور غریب انسان کی زندگی اس کی غربت کی وجہ سے ہر طرح کی خوشی اور بہار سے محروم ہو جاتی ہے۔ مفلسی ایسی چیز ہے،جس کی وجہ سے ایک مرد سماج ہی میں نہیں بلکہ اپنی بیوی بچوں کے درمیان بھی اپنا اعتبار کھو دیتا ہے۔اس شعر میں مرد کا اعتبار کھونے سے شاعر کی مراد ہے کہ مفلسی یا غریبی ایک ایسی بری چیز ہے جس کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے پر بھروسہ بھی نہیں کرتے۔ یہ انسانی زندگی کی ناقابل یقین حقیقت ہے۔

دوسرا شعر عشق حقیقی پر مبنی ہے۔اس میں صوفیانہ خیالات کا اظہار ہے۔شغل یعنی کہ کام۔شاعر کہتا ہے کہ انسان کے نزدیک عشق و محبت کا کام دراصل سب سے اچھا کام ہے،چاہے وہ حقیقی عشق یعنی اللہ سے محبت ہو یا پھر عشق مجازی یعنی اللہ کے بندوں سے ہو، دونوں ہی اللہ تک پہنچنے کے راستے ہیں۔ اس لیے انسان کو صرف اور صرف محبت کرنا چاہیے،نفرت نہیں۔

تیسرے شعر کا موضوع بھی عشق و محبت ہی ہے۔ اس شعر میں شاعر نے بالکل واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ انسان کی کامیابی کا راز عشق  میں پوشیدہ ہے۔شاعر کہتا ہے کہ جس کسی کو بھی عشق کا کام مشکل یا بھاری لگتا ہے اسے زندگی بھی بھاری لگے گی۔ عشق کا فلسفہ یہ ہے کہ جسے عشق کرنا مشکل لگتا ہے اسے زندگی گزارنا بھی دشوار لگے گا۔کیوں کہ جسے ایک بار عشق ہو جاتا ہے پھر وہ مشکلوں اور مصیبتوں کا سامنا بہت آسانی سے کر لیتا ہے۔

میر تقی میر کو اردو غزل کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ انھوں نے اردو غزل کو ایک نئی بلندی عطا کی ہے۔ میر کی غزلوں میں ہمیں فکر کی گہرائی ملتی ہے، ہمہ گیریت اور سوز و گداز بھی ملتا ہے۔میر تقی میر جیسے استاد سخن شاعر نے سہل ممتنع کی شاعری میں طبع آزمائی کی ہے اور انتہائی شاندار اشعار کہے ہیں۔ میر کی سہل ممتنع کی شاعری میں کئی معنوی پرتیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔ان کے اشعار کی تشریح کرنے پر معانی کی کئی جہتیں کھل کر سامنے آتی ہیں۔ اس حوالے سے میر کے چند اشعار ملا حظہ ہوں      ؎

.1

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے

پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

.2

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا

آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

.3

آگ تھے ابتدائے عشق میں ہم

اب جو ہیں خاک، انتہا ہے یہ

مذکورہ بالا پہلے شعر میں میر تقی میر نے تشبیہ سے کام لیا ہے۔ بظاہر بالکل آسان سا دکھنے والا یہ شعر اپنے اندر بہت کچھ سمیٹے ہوئے ہے۔ اس شعر میں شاعر نے اپنے محبوب کے ہونٹ کی تعریف کی ہے، جس میں شاعر نے اپنے محبوب کے ہونٹ کی تشبیہ گلاب کی ایک پنکھڑی سے دی ہے۔چونکہ ہونٹ کا رنگ گلابی ہوتا ہے،نرم ہوتا ہے، نازک ہوتاہے،اس کی بناوٹ چاند کے مانند ہوتی ہے،یہ تمام خوبیاں گلاب کی ایک پنکھڑی میں بھی ہوتی ہیں، اسی لیے شاعر کہتا ہے کہ میرے محبوب کے ہونٹ اتنے خوبصورت ہیں کہ ان کا بیان مشکل ہے۔ان کی خوبیاں گنانے سے بہتر ہے کہ انھیں گلاب کی پنکھڑی سے مشابہت دے دی جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔

دوسرے شعر میں شاعر نے عشق و محبت کی بات کی ہے۔ عشق کا راستہ بڑا پر خطر ہوتا ہے۔اس پر چلنے والے کو قدم قدم پر صبر آزما امتحانوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس امتحان میں کامیابی بھی ملتی ہے اور کبھی کبھی جان سے ہاتھ بھی دھونے پڑتے ہیں۔ جان دینے کے لیے بڑی ہمت ہونی چاہیے۔لہٰذا جو کوئی اس میدان میں قدم رکھے اس کے دل میں خوف اور ڈربالکل نہیں ہونا چاہیے،بلکہ اس کا حوصلہ بلند ہونا چاہیے۔ عشق کی ابتدا ہی میں اگر عاشق انجام سے ڈر جائے توعشق کی انتہا تک کبھی نہیں پہنچ سکتا۔ اس طرح میر کہتے ہیں کہ یہ تو ابھی عشق کی ابتدا ہے ابھی سے کیوں روتا ہے،آگے تو بڑھ،تب پتہ چلے گا کہ تجھے کامیابی ملے گی یا پھر تو رسوا ہوگا۔

تیسرے شعر میں شاعر کہتا ہے کہ عشق کی ابتدا میں ہم آگ کی مانند تھے۔ مطلب یہ کہ ہمارے اندر ایک جوش تھا، ولولہ تھایعنی ہم بہت خوش تھے،لیکن جب عشق کا بھوت سر سے اتر ا تو پتہ چلا کہ یہ خوشی نہیں بلکہ فریب تھا، دھوکا تھا۔سچ تو یہ ہے کہ عشق کی انتہا خاک پر ہوتی ہے، لہٰذا اب میں خاک کے مانند ہوں یعنی عشق میں تباہ و برباد ہو چکا ہوں۔

 میر تقی میر کے اس طرح کے بہت سے اشعار پیش کیے جا سکتے ہیں، جو دیکھنے میں بہت آسان معلوم پڑتے ہیں،لیکن ان کے اندر بہت ہی باریک اور گہری باتیں پوشیدہ ہوتی ہیں، جن کی تشریح کرنے پر معانی کے کئی جہاں کھلتے چلے جاتے ہیں۔

میر دردکا شمار صوفی شاعروں میں ہوتا ہے۔ان کی زندگی اور شاعری دونوں تصوف کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے۔انھوں نے اپنی غزلوں میں دنیاوی (عارضی) زندگی سے زیادہ ابدی اور دائمی زندگی کو موضوع سخن بنایا ہے۔ ان کے اشعار میں سلاست اور غضب کی روانی ہوتی ہے،جو ان کے کلام کو نہایت ہی پر اثر بناتا ہے۔میردرد اپنے احساسات و جذبات کی ترجمانی نہایت ہی سہل،شستہ اور عام فہم زبان میں کرتے ہیں،جس کی وجہ سے ان کے اشعار سہل ممتنع کے زمرے میں آجاتے ہیں۔وہ دقیق سے دقیق بات کو بہت ہی آسان الفاظ اور سلیس زبان میں کہہ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کے چند اشعار ملاحظہ ہوں       ؎

.1

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے!

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

.2

جگ میں آکر اِدھر اُدھر دیکھا

تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا

.3

دشمنی نے سنا نہ ہو وے گا

جو ہمیں دوستی نے دکھلایا

میر درد کے یہ اشعار بظاہر تو آسان معلوم پڑ رہے ہیں،لیکن ان میں بہت باریک اور گہری باتیں پوشیدہ ہیں۔ ان اشعار میں عشق حقیقی اورعشق مجازی کا رنگ اس طرح ہم آہنگ ہے کہ ان میں امتیاز کرنا دشوار ہے۔ ان اشعار کے مطالعے کے بعد قاری کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ حقیقی محبوب کے لیے کہے گئے اشعارہیں یا پھر مجازی محبوب کے لیے۔چونکہ میر درد کا محبوب معبودِ الٰہی ہے اس لیے کائنات کے ہر ذرے میں انھیں اللہ تعالیٰ ہی نظر آتا ہے۔ گویا دنیا کا ہر ذرہ  ان کے نزدیک د یوتا ہے۔اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ ’’جگ میں آکر اِ دھر اُدھر دیکھا، تو ہی آیا نظرجدھر دیکھا۔‘‘

مرزا غالب نے بھی سہلِ ممتنع میں انتہائی باکمال شاعری کی ہے۔ ان کے اشعار میں سادگی کے پردے میں پیچیدگی اور گہرائی چھپی ہوئی ہے۔ وہ ایسے عام فہم الفاظ اور تراکیب استعمال کرتے ہیں جو ہر قاری کو فوری طور پر سمجھ میں آ جاتے ہیں، لیکن جب ان کی معنوی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی جائے تو فکر و نظر کی نئی جہات کھلتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غالب کے سہلِ ممتنع اشعار ایک طرف زبان کی سلاست اور روانی کا مظہر ہیں اور دوسری طرف فکر و خیال کی بلندی اور معنویت کی گہرائی کو بھی آشکار کرتے ہیں۔ مرزا غالب سہل ممتنع کی تعریف بیان کرتے ہوئے خواجہ غلام غوث بے خبرکو لکھتے ہیں:

’’پیر و مرشد۔سہل ممتنع میں کسرۂ توصیفی ہے۔سہل موصوف اور ممتنع صفت۔ اگر چہ بحسب ضرورت وزن کسرۂ لام مشبع ہو سکتا ہے،لیکن مخل فصاحت ہے۔اور لام موقوف تو خود سراسر قباحت ہے۔سہل ممتنع اس نظم و نثر کو کہتے ہیں کہ دیکھنے میں آسان نظر آئے اور اس کا جواب نہ ہو سکے۔بالجملہ سہل ممتنع کمال حسن ہے اور بلاغت کی نہایت ہے۔ممتنع در حقیقت ممتنع النظیرہے... سخن فہم اگر غور کرے گا تو فقیر کی نظم و نثر میں سہل ممتنع اکثر پائے گا۔‘‘4

غالب کی اس تعریف کی روشنی میں ان کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

.1

موت کا ایک دن معین ہے

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

.2

آگے آتی تھی حال دل پر ہنسی

اب کسی بات پر نہیں آتی

.3

ہم کو ان سے وفا کی ہے امید

جو نہیں جانتے وفا کیا ہے

.4

جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی

حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

سہل ممتنع ایک مشکل فن ضرور ہے،لیکن ہر عہد اور مزاج کے شعرا نے اس فن میں طبع آزمائی کی ہے۔ کلاسیکی شعرا کے بعد نو کلاسیکی شعرا کے یہاں بھی سہل ممتنع کے اشعار بڑی تعداد میں ملتے ہیں۔ اس عہد میں امام بخش ناسخ،اکبرالہ آبادی،داغ دہلوی،امیر مینائی، مومن خاں مومن وغیرہ کے یہاں اس فن میں باکمال اشعار دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔مثال کے طور پر ان شعرا کے سہل ممتنع میں کہے گئے چند اشعار ملاحظہ کریں، جو کسی نہ کسی فلسفے پر مبنی ہیں          ؎

1.

زندگی زندہ دلی کا ہے نام

مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں

2.

وہ نہیں بھولتا جہاں جاؤں

ہائے میں کیا کروں کہاں جاؤں

3.

بھولتا ہی نہیں وہ دل سے اسے

ہم نے اسے سو سو طرح بھلا دیکھا

 (امام بخش ناسخ)

1.

آئی ہو گی کسی کو ہجر میں موت

مجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی

2.

آہ جو دل سے نکالی جائے گی

کیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی

3.

عشق نازک مزاج ہے بے حد

عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا

 (اکبر الہ آبادی)

1.

گر مرض ہو دوا کرے کوئی

مرنے والے کا کیا کرے کوئی

2.

اس نہیں کا کوئی علاج نہیں

روز کہتے ہیں آپ آج نہیں

3.

وہ زمانہ نظر نہیں آتا

کچھ ٹھکانا نظر نہیں آتا

 (داغ دہلوی)

1.

تم کو آتا ہے پیار پر غصہ

مجھ کو غصے پہ پیار آتا ہے

2.

ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے 

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

3.

ساری دنیا کے ہیں وہ میرے سوا

میں نے دنیا چھوڑ دی جن کے لیے

 (امیر مینائی)

صنعت سہلِ ممتنع میں امام بخش ناسخ، اکبر الہ آبادی، داغ دہلوی، امیر مینائی، مومن خاں مومن وغیرہ نے اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق گرانقدر کارنامے انجام دیے، لیکن ان میں سب سے زیادہ اہمیت مومن کو حاصل ہے۔ مومن کا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے سہل ممتنع کو محض سادہ اور رواں بیان تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے جذباتِ عشق، نازک خیالی اور لطیف احساسات کے ساتھ اس درجہ ہم آہنگ کیا کہ ان کے اشعار پڑھنے والے کے دل میں براہِ راست اتر جاتے ہیں۔ ان کے یہاں نہ صرف سادگی اور روانی ہے بلکہ شوخی، نزاکت اور دلکشی بھی ہے جو سہل ممتنع کو ایک نیا حسن عطا کرتی ہے۔

مومن کے کلام میں زبان کی سلاست اور محاوروں کی روانی اس طرح جلوہ گر ہوتی ہے کہ ہر مصرع عام بول چال کا سا دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے اندر چھپی معنوی گہرائی اور جذباتی شدت قاری کو مسحور کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بہت سے اشعار آج بھی ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں اور سہل ممتنع کے اعلیٰ نمونے سمجھے جاتے ہیں۔ مومن نے سہل ممتنع کو محض ایک فنی صنعت کے طور پر نہیں برتا بلکہ اسے اردو غزل کے جذبہ آفریں اور دلنشیں اسلوب میں ڈھال کر اپنی شاعری کا نمایاں حوالہ بنا دیا۔مثال کے طور پر مومن کے چند اشعار دیکھیے       ؎

.1

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

.2

تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے

ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

.3

نہ کرو اب نباہ کی باتیں

تم کو اے مہربان دیکھ لیا

مولانا حالی  کے یہاں بھی سہل ممتنع کے اشعار بڑی تعداد میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ وہ زندگی کے مسائل اور عشق کے فلسفے کو نہایت ہی سادگی اور عام فہم انداز میں بیان کرتے ہیں۔یعنی کہ حالی انتہائی سنجیدہ اور پیچیدہ مسائل کو بھی سہل ممتنع بنا کر پیش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر حالی کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں       ؎

.1

رنج کیا کیا ہیں ایک جان کے ساتھ

زندگی موت ہے حیات نہیں

.2

وہ امید کیا جس کی ہو انتہا

وہ وعدہ نہیں جو وفا ہو گیا

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ سہلِ ممتنع اردو شاعری کی ایک اہم اور نازک صنعت ہے جس میں شاعر اپنی بات نہایت سادہ اور عام فہم انداز میں اس طرح بیان کرتا ہے کہ وہ ہر قاری کو بالکل آسان اور روزمرّہ کی زبان لگے، لیکن حقیقت میں وہی سادگی گہری سوچ، وسیع معنویت اور بلند فنی کمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس اسلوب کی بنیادی خوبی یہ ہے کہ شعر پڑھنے والا یہ خیال کرتا ہے کہ ایسا کہنا تو بہت سہل ہے، مگر جب کہنے کی کوشش کرے تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دراصل نہایت دشوار مرحلہ ہے، اسی لیے اسے ’آسان مگر مشکل‘کہا گیا ہے۔ سہلِ ممتنع کی نمایاں خصوصیات میں سادہ الفاظ کا استعمال، قدرتی روانی، تصنّع اور بناوٹ سے پاک اسلوب اور معانی کی تہہ داری شامل ہے۔ اردو کے بڑے شعرا خصوصاً ولی دکنی،میر تقی میر،میر درد، مرزا غالب، ناسخ، مومن، اکبر الہ آبادی، امیر مینائی،مولاناحالی وغیرہ نے اس شعری صنعت کو کمال تک پہنچایا اور ایسے اشعار تخلیق کیے، جو بظاہر بالکل سہل ہیں مگر معنوی طور پر نہایت دقیق اور گہرے ہیں۔ اس طرح سہلِ ممتنع اردو شاعری کا وہ انداز ہے، جس میں سادگی اور عظمتِ فن ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر جمالیاتی اثر پیدا کرتے ہیں۔

حوالہ جات

  1.  پرفیسر انور جمال، ادبی اصطلاحات،نیشنل بک فاؤنڈیشن،2012،ص 122-121
  2.         بحوالہ:نیر مسعود،اصطلاحات نقد و ادب،ڈاکٹر عمر فاروق،بھارت آفسیٹ، دہلی، 2004،ص172  
  3.  حسرت موہانی، محاسن سخن،رئیس ا لطابع،کانپور،1934،ص61
  4.  مرزا محمد عسکری(مرتب)، ادبی خطوط غالب،نظامی پریس،لکھنؤ،1929،ص59-58

 

Dr. Md Nehal Afroz

Assistant Professor (Urdu)

Centre for Distance and Online Education

Maulana Azad National Urdu University

Gachibowli, Hyderabad, India- Pin : 500032

Mob :   9032815440

Email:  nehalmd6788@gmail.com





تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...