15/12/15

ولی کی زبان/عبدالستار صدیقی

زبان ہمیشہ بدلتی رہتی ہے لفظوں کی جو صورتیں، جو ترکیبیں آج سے سو پچاس برس اُدھر عام تھیں، آج ان میں سے بہت سی ایسی ہیں کہ اِس زمانے کے لوگ اُن سے واقف تک نہیں۔ اسی طرح  جو آج رائج ہیں، نہیں کہا جاسکتا، اُن میں سے کون کون سی آگے چل کے سراسر ترک ہوجائیں گی،  کن کن کی شکل بدل جائے گی، کیا کیا محاورے اور لفظ نئے پیدا ہوجائیں گے۔ زبان کی یہ بدلتے رہنے کی صلاحیت اس کی زندگی کی علامت ہے جو زبان اس صلاحیت کو کھو بیٹھی ہو، اس کا مردہ ہوجانا ایسا ہی یقینی ہے جیسے سورج ڈوب جانے پر رات کا آجانا۔ زبان جوں جوں بدلتی جاتی ہے، اُس کی صحت اور فصاحت کے معیار میں ترمیم ہوتی جاتی ہے۔ اس لیے واجب ہے کہ جو نظم       یا نثر ہمارے سامنے ہو اُسے ہم اُسی زمانے کی زبان اور صحت و فصاحت کے معیار سے جانچیں پرکھیںجس زمانے میں وہ نظم یا نثر وجود میں آئی ہو۔ جو نقاد اس چودھویں صدی کی زبان کو  بِنا قرار دے کے بارھویں یا تیرھویں صد ی کے شاعروں کی زبان کو غلط یا غیرفصیح کہہ بیٹھتے ہیں وہ      ایسی بنیادی غلطی کرتے ہیں کہ ان کی تحقیق کی دیوار ثُریا تک ٹیڑھی ہی چلی جاتی ہے، افسوس ہے کہ اس کلیات کی پہلی اشاعت میں ایک حد تک اسی انداز سے ولی کی زبان کو کہیں غلط کہیں    غیرفصیح(’’کلیاتِ ولی‘‘:  انجمن ترقی اردو، اورنگ آباد، 1927 مقدمہ ص 98 ۔ نیز ص 101,102 ’’غیرفصیح الفاظ تین قسم کے ملتے ہیں  ……‘‘) بتایا ہے ولی کے ’’غلط الفاظ کے استعمال‘‘ کی تاویل، عذر خواہی کے طور پر کی ہے(مگر ساتھ ہی ساتھ ’’عالمگیر اردو‘‘ کو ’’صحیح اور قابل قدر‘‘بھی مانا ہے۔ (ص 96-98 ) اس طرح زبان کی بحث الجھ کر رہ گئی ہے۔) اور پھر اسی سلسلے میں ’’غلط الفاظ‘‘ کی فہرستیں دی گئی ہیں۔ اس بحث کے دوران میں کچھ دکنی لفظ بھی گنائے گئے ہیں، مگر اُن میں سے بہت سے وہ ہیں کہ ولی سے سو برس بعد دلّی کے مستند شاعروں کےکلام میںبھی جا بہ جا آئے ہیں۔
ولی کی زبان کو لوگ عموماً ’’دکنی‘‘ کہتے ہیں۔ اس لیے پہلے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ دکنی (یا دکھنی) زبان کب وجود میں آئی، اُس نے کیا مدارج طے کیے اور کیا صورتیں اختیار کیں اور ولی کی زبان کو اس سے کہاں تک واسطہ ہے۔ ساتویں صدی ہجری کے آخر تک دکھن پر کوئی اثر دلّی کی سلطنت یا شمالی ہند کے تمدن کا نہ تھا۔ 694ھ میں علاء الدین خلجی نے دیوگیر پر حملہ کیا اور اس کے سپہ سالار، ملک کافور نے 709ھ میں مشرقی اور جنوب مشرقی دکن پر حملے شروع کیے اور دو تین برس میں اُدھر کے کئی رجواڑوں کو دلّی کا باج گذار بنایا۔ ان مہموں کا سلسلہ جاری رہا اور دیوگیر، دکن میں دلّی کی سلطنت کا ایک مرکز بن گیا، یہاں تک کہ 725ھ میں سلطان محمد تغلق کا دور آیا اور پائے تخت ہی دلّی سے( 727 ھ میں دارالخلافہ منتقل ہوا (پروفیسر نثار احمد فاروقی))  اُٹھا کر دیوگیر پہنچا دیا گیا۔ دلّی شہر کے بسنے والوں کو حکم ہوا کہ سب کے سب دیوگیر جا بسیں۔ دیوگیر کا نام دولت آباد رکھا گیا اور ایک بڑا با رونق شہر وہاں آباد ہوگیا۔ دلّی سے لاکھوں آدمی وہاں پہنچ کر بس گیا اور علاوہ معمولی لوگوں کے وزیروں اور سپہ سالاروں، عالموں اور شاعروں، کاری گروں اور ہنروروں کا دولت آباد میں جمگھٹا ہوگیا۔ ظاہر ہے کہ اُس زمانے میں دولت آباد ایک چھوٹی دلّی بن گیا ہوگا اور وہاں کی زبان وہی ہوگئی ہوگی جو اُس وقت میں دلّی اور اس کے اطراف میں بولی جاتی تھی ۔( یہ زبان خود دلّی میں کہیں اور سے آئی تھی، مگر اس سے یہاں سے بحث نہیں۔)یہ بات تو دکن کے کسی اور خطّے کو حاصل نہیں ہوئی، پر اِس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ اِس نئی زبان کا اثر دکن کے اور حصوں تک کچھ نہ کچھ پہنچا ہوگا۔ محمد تغلق کے بعد حسن بہمنی نے دکن میں سلطنت جمائی تو گلبرگے کو پاے تخت بنایا۔بہمنیوں کو تلنگانے، بیجانگر اور کرناٹک میں بڑی فتوحات ہوئیں اور 764ھ میں گول کُنڈا بھی فتح ہوگیا۔ ان سب جگہوں میں دلّی کی زبان نے کچھ نہ کچھ رواج پایا مگر وہ صورت نہیں ہوسکتی تھی جو دولت آباد اور اس کے پڑوس میں تھی۔ 815ھ میں سیّد محمد گیسودراز گلبرگے پہنچتے ہیں اور تھوڑے ہی زمانے میں صوفیوں کا اثر سارے دکن میں پھیل جاتا ہے۔ اس طرح دلّی کی زبان نے دکن میں بہت رواج پایا مگر دراوڑی زبانوں کے علاقوں میں جو دولت آباد سے دور تھے، اس پردیسی زبان نے کچھ نہ کچھ اثر دراوڑی زبانوں کا ضرور قبول کیا۔ چنانچہ آج بھی مدراس کے علاقے میں جو اردو بولی جاتی ہے اس میں تامل کا موسیقی لہجہ موجود ہے جو اور کہیں کی اردو میں نہیں پایا جاتا۔ کچھ فرق زبان یا لہجے میں ہوجانا اس لیے بھی ضرور تھا کہ یہ لوگ اپنے اصلی مرکز سے دور جا پڑے تھے۔(  پھر بھی ’’دکنی‘‘ زبان نے، خاص کر حیدرآبادی دکنی نے بہت کم دراوڑی اثر قبول کیا اور اس کے اسباب تھے۔)دلّی کی آب و ہوا اور دراوڑی ملک کی آب و ہوا میں بھی بڑا تفاوت تھا۔ بہ خلاف اس کے دکن کا شمال مغربی حصّہ، جس میں دولت آباد واقع ہے، مریٹھ داڑی ملک تھا اور صدیوں پہلے سے جو زبان بولی جاتی تھی وہ بھی مثل ہندستانی کے ایک آریائی زبان تھی جسے شمالی ہند کی بولیوں سے گہرا تعلق تھا پھر، دکن کے اور مقاموں کے مقابلے میں دولت آباد دلّی سے زیادہ قریب بھی تھا اور شمالی ہند سے اس کے تعلقات آئے دن تازہ ہوتے رہتے تھے، یہاں کی آب و ہوا بھی اتنی مختلف نہ تھی جتنی دراوڑی علاقوں کی۔ علاوہ مرہٹی زبان کے گجراتی زبان کا بھی جو ایک دوسری آریائی زبان تھی، کسی قدر اثر پڑا۔
ان حالات کو ذرا غور کی نگاہ سے دیکھیے تو یہ بات صاف دکھائی دینے لگتی ہے کہ دسویں صدی ہجری کے آخر تک دکن میں ہندستانی زبان کی دو صورتیں ہوگئی تھیں، ایک وہ جو دولت آباد کے علاقے سے باہر دکن کے دراوڑی علاقوں میں رائج تھی اور جسے دلّی کی زبان کے ساتھ تعلقات کو تازہ کرنے کے موقعے بہت کم ملے اور جس میں ایک طرف گول کنڈے کے قطب شاہیوں اور دوسری طرف صوفیوں نے ایک خاص دکنی ادب پیدا کردیا تھا۔ دوسری صورت زبان کی وہ صورت تھی جو دولت آباد اور اس کے نواح میں رائج تھی۔ گیارہویں صدی کے آغاز میں مغلوں نے دکن کا رخ کیا اور اس کا اثر تیزی سے بڑھتا گیا۔ انھوں نے بھی اپنا مرکز دولت آباد ہی کو بنایا اور ارونگ زیب نے دولت آباد سے چند میل ہٹ کر اورنگ آباد بسایا ۔(دونوں شہروں میں 14 میل کا فصل ہے، مگر یہ اُس وقت کہ جب اس کا رقبہ بہت گھٹ گیا ہے۔ فرانسیسی سیّاح قے ورئیز صرف 4 کوس یا 8 میل کا فصل بتاتا ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط نہ ہوگا کہ اورنگ زیب کے زمانے میں یہ دونوں شہر اتنے پھیلے ہوئے تھے کہ دونوں کے بیچ صرف 8 میل کا فصل تھا۔ ) شاہ جہاں اور اورنگ زیب کے زمانے میں لوگ دلّی سے جوق درجوق اورنگ آباد آئے اور اپنے ساتھ دلّی کی اردوئے معلی لائے، جس نے دولت آبادی علاقے کی زبان کو تازگی بخشی ( یہ ایک اور وجہ اورنگ آباد کی زبان اور باقی دکن کی زبان میں فرق ہوجانے کی ہوئی۔ اِس کی تجدید ہوگئی اور اُس نے پرانی صورت کو محفوظ رکھا۔) اور دلّی کی نئی زبان کو اورنگ آبادیوں نے شوق سے اختیار کیا، جس پر وہ آج تک فخر کرتے ہیں۔ یہی وہ زبان ہے جسے ہم ولی کے کلام میں پاتے ہیں اور سوا چند بہت خفیف اختلافات کے، یہ وہی زبان ہے جو ولی کے زمانے میں دلّی میں بولی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس کا دیوان دلّی پہنچا تو دلّی والوں نے اُسے سر آنکھوں پر رکھا، شاعروں نے اس کی غزلوں پر غزلیں کہیں اور زبان دانوں نے اس کے کلام کو سند پکڑا۔ اگر اس کے دیوان میں کہیں دو چار لفظ دلّی کی اُس وقت کی زبان سے مختلف پائے ہوں گے، تو اُن کو چاہے شاعر کا اختراع جانا ہو، چاہے اس کی زبان کا پُرانا پن یا دکنیت، پر اُسے عیب نہیں مانا۔ آج بھی، کہ دلّی کا تعلق چھوٹے ڈیڑھ دو سو برس ہوچکے، اورنگ آباد کی زبان کو دلّی کی زبان سے بہت مناسبت باقی ہے اور دکن کے اور حصوں کی زبان سے وہ الگ دکھائی دیتی ہے، اس لیے زیادہ صحیح ہوگا کہ ہم ولی کی زبان کو ’’اورنگا بادی‘‘ کہیں۔ دکن کے باقی حصے میں اب سے سو ڈیڑھ سو برس پہلے تک جو زبان رائج تھی اور جو اب بھی بولی جاتی ہے، اُسے ’’دکنی‘‘ یا ’’دکھنی‘‘ کہنا نادرست نہ ہوگا۔‘‘(اِ س زمانے میں توحیدرآباد کی اردو اور لکھنؤ، دلّی کی اردو میں کم فرق رہ گیا ہے، مگر اُس سے یہاں بحث نہیں۔)
تیرھویں صدی کے اوائل کا ایک اورنگ آبادی مصنف اسی فرق کو اپنی کتاب ’’چراغ ابدی‘‘ کے دیباچے میں جو 1221ھ میں اس نے تصنیف کی تھی، ان لفظوں میں ظاہرکرتا ہے:
’’اگرچہ بعض عزیزوں نے زبان دکھنی ہندی آمیزش میں تفسیر جُز آخر کی لکھی ہے لیکن بہ سبب الفاظ دکھنی لطف زبان ہندی کا پورا نہیں پاتا اور دل یاروں کا واسطے مطالعے اس کے رغبت کم لاتا ، اِس واسطے خاطر قاصر میں اس فقیر کی آیا کہ تفسیر جُز آخر کی زبان ہندی میں کہ بالفعل اورنگ آباد کے لوگوں کا محاورہ ہے لکھے کہ عوام اُس سے باوجود قلت بضاعت کے فائدہ تمام اُٹھاویں۔‘‘(  دیکھو مولوی عبد الحق صاحب کا مقالہ ’’پرانی اردو میں قرآن شریف کے ترجمے‘‘  (رسالہ ’’اردو‘‘۔ اورنگ آباد 1937 ۔ ج 1 ، ص 32۔)
اس سے معلوم ہوتا ہے خود اورنگ آباد کے لوگ اپنی زبان کو دکنی سے کتنا دور اور دلّی کی زبان سے کتنا قریب جانتے تھے اور اورنگ آباد کے عوام بھی دکنی زبان کی کتابوں سے پورا فائدہ  نہ اُٹھا سکتے تھے۔ دونوں بولیوں میں اس طرح امتیاز کرلینے کے بعد، یہ بھی سمجھ لینا ضروری ہے کہ ’’اورنگابادی‘‘ پر ایک حد تک ’’دکھنی‘‘ کا اور اُس کا اِس پر اثر پڑا ہے۔
اب ولی کی زبان کو دیکھنا چاہیے۔ پہلے ان اجزاء سے بحث کرلی جائے، جو ولی کی زبان اور دلّی کے شاعروں میر، سودا، درد اور اُن کے ہم عصروں کی زبان میں مشترک ہیں۔
1 ۔  لفظ: — بوجھنا (پہچاننا سمجھنا) ، بولنا (کہنا کی جگہ)، پَوَن (ہوا)، پی، پیو ، سجن، موہن (محبوب کے لیے)، پیونا (پینا) تجھ، مجھ، (تیرا، میرا) جیو، (جی)، لگ (تلک) نین، نَین(آنکھ)، ستی، سیتی (سے) کنے (پاس) نپٹ، نپٹھ (بالکل، سراسر) یہ اور اس طرح کے بہت سے لفظ شاعروں کے کلام کے علاوہ دلّی، پنجاب، صوبہ متحدہ اور بہار میں اب تک بولے جاتے ہیں۔ کسی لفظ میں حرف علّت کاگھٹ کر ایک حرکت ہی رہ جانا یا حرکت کا کھنچ کر حرف ہوجانا، جیسے اُپر (اوپر) دکھو (دیکھو) لاگا (لگا)، لوہو (لہو)، اودھر، ایدھر، جیدھر۔ تشدید، کا جاتا رہنا یا اکہرے حروف پر تشدید کا آجانا، جیسے ’’اتنا‘‘ سے ’’اتّا‘‘ اور ’’پات‘‘ سے ’’پتّا‘‘ ہوجانا۔ یہ سب صورتیں دلّی کے شاعروں کے کلام میں بھی موجود ہیں۔ نون غنّہ پُرانے زمانے میں بہت تھا، یہاں تک بعضے لوگ فارسی لفظوں ’’کوچہ‘‘، ’’پیچ‘‘، ’’پائچہ‘‘ کو ’’کونچہ‘‘، ’’پینچ‘‘، ’’پائنچہ‘‘ لکھا کرتے تھے۔ توں (تو) کوں (کو) سیں (سے) نیں (نے) سداں (سدا)، دیکھناں (دیکھنا) وغیرہ بہت عام تھے۔ ملفوظ  ہؔ خاص کر دلّی اور پچھاں کے اور مقامات میں اکثر جاتی رہتی ہے اور اس کی جگہ اکثر ایک مخلوط یؔ یا ہمزہ لے لیتا ہے، جیسے ’’بہت‘‘ کی جگہ ’’بوت‘‘، ’’کہتا‘‘ کے لیے ’’کے تا‘‘، ’’کہوں‘‘، (کئوں)اسی طرح ’’کئیں‘‘ یا ’’کئں‘‘ اور ’’وئن‘‘ اور ’’نِئں‘‘ عام طور پر سناجاتا ہے۔ لکھاوٹ میں آکر ایک صورت کی ترجمانی نہیں ہوتی یا نہیں ہوسکتی، تو وہ صورت زبان سے مٹ نہیں جاتی۔ ملفوظ ہؔکہیںحذف ہوجاتی ہے، جیسے ’’گھبراہٹ‘‘ سے ’’گھبراٹ‘‘ کہیں مخلوط ہوجاتی ہے، جیسے ’’وہاں‘‘ سے ’’وھاں‘‘، ’’یہاں‘‘ سے ’’یھاں‘‘ کہیں مخلوط ھ اپنی جگہ بدل لیتی ہے، جیسے ’’گڑھنا‘‘ (گھڑنا) بعضے لفظوں میں ان دونوں کا قلب اور ابدال ایک ساتھ ہوا ہے، جیسے ’’پہچان‘‘ اور پیچھان‘‘، ’’پہونچا‘‘ اور ’’پونچھا‘‘۔ لفظ کے بیچ یا آخر میں سے مخلوط ھ اکثر جاتی رہتی ہے اور بھوک (بھوکھ) تڑپ (تڑپھ)، دھوکا (دھوکھا) سامنا (سامنھا) مانجنا (مانجھنا) بھکاری (بھکھاری) اب سے تھوڑے دن پہلے تک دونوں طرح سے لکھے جاتے رہے ہیں۔
2 ۔  جنس یا تانیث تذکیر کا اختلاف ہر دور میں رہا ہے اور یہ اختلاف مکان اور زمان دونوں پر مبنی ہے۔ بعض صورتیں ایسی بھی ہیں کہ زمان و مکان کا تفاوت نہیں پھر بھی اختلاف موجود ہے، ایک ہی شاعر ایک ہی لفظ کو کبھی مونث کبھی مذکر کہہ جاتا ہے۔ بات یہ ہے کہ اردو نے مختلف اور متعدد زبانوں سے لفظ لیے ہیں۔ جب کوئی نیا لفظ آیا۔ اگر اس میں اردو کی رو سے کوئی علامت تانیث و تذکیر کی نہ تھی تو ایک مدت تک اس کی جنس متعین نہ ہوسکی اور اسی لیے اکثر لفظوں کا آج تک قطعی فیصلہ نہ ہوسکا۔ جنس ہی کے متعین ہونے پر جمع کی صورت کا انحصار ہواکرتا ہے۔ اس لیے اردو میں جنس اور عدد دونوں ایک سیّال حالت میں ہیں اور یقین ہوتا ہے کہ شمالی ہند کے لوگوں نے ولی کے زمانے میں اور اس کے بعد بھی اس کے کلام میں کوئی اجنبیت محسوس نہیں کی۔ خود ولی نے بھی ایک ہی لفظ کو کہیں مونث کہیں مذکر باندھا ہے۔
3 ۔  نحوی ترکیب کو دیکھیے تو اس میں بھی ولی کے ہاں بیشتر وہی ترکیبیں ملتی ہیں جو شمالی ہند کی پرانی زبان میں ہیںجیسے ’’نے‘‘ کا استعمال کبھی کرنا کبھی نہ کرنا اور کبھی اس کا استعمال آج کل کے استعمال سے مختلف ہونا یا اضافی ترکیب میں ’’کا‘‘ ، ’’کی‘‘ ، ’’کے‘‘ کا مقدر رکھنا۔
4 ۔  لوگ اکثر املا کو بھی زبان سمجھ بیٹھتے ہیں، حالاں کہ املا تو لفظوں کی تصویر کھینچنے کی ایک کوشش ہے جو ہمیشہ کامیاب نہیں رہتی۔ املا کے قاعدے کیسے ہی ہمہ گیر اور مکمل بنائے جائیں زبان کی پوری اور سچی ترجمانی ان سے مشکل ہی سے ہوسکتی ہے۔ ایک ’’کوئی‘‘ کا لفظ ہم کئی طرح پر ادا کرتے ہیں(۱)  فعِلُن(۲) فَعِل (۳) فع ۔ ’’کو‘‘، ’’کے‘‘ ، ’’کا‘‘، ’’کی‘‘، ’’سے‘‘ وغیرہ کو کبھی فع کے وزن پر ، کبھی صرف ایک حرکت کے برابر کردیتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ حال ’’کہیں‘‘ اور ’’نہیں‘‘ کا ہے کہ کبھی  فِعل کے وزن پر، کبھی ہ  کو گرا کے فع کے وزن پر بولتے ہیں، پرانے شاعروں میں کوئی ایسا نہیں جس نے ان مختلف صورتوں میں ان لفظوں کو نہ برتا ہو املا کی یکسانی کے لفظ کی شکل ایک معین کرلی جاتی، تلفظ مختلف طرح سے ہوتا۔آخری دور کے شاعروں نے یہ اُلٹی گنگا بہائی کہ زبان کو رسم کتابت کے تابع کر کے زبان پر قیدیں لگائیں۔ اس میں لوگوں نے بعضی ایسی غلطیاں کی ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ صرف ایک مثال کافی ہوگی: ایک لفظ تھا ’’کیوں کر‘‘۔ ’’کر‘‘ کابدل ہے ’’کے‘‘ اس لیے ’’کیوںکر‘‘ کا بدل ہوا ’’کیوں کے‘‘۔ بالکل اسی طرح جیسے ’’آکر، جاکر، کرکر‘‘ کی جگہ آکے، جاکے، کر کے‘‘ بھی بولتے ہیں۔ پرانے زمانے میں ’’کیوں کے‘‘      لکھتے تھے۔
ایک دوسرا لفظ تھا ’’کیوں کہ‘‘ (جس کا پہلا ٹکڑا ہندی، دوسرافارسی ہے) اس کا بدل ہے ’’کس لیے کہ‘‘ یا ’’اس لیے کہ‘‘۔ بھلا فارسی ’’کہ‘‘ کو ہندی ’’کے‘‘ سے، جو ’’کر‘‘ کا قائم مقام ہے، کیا واسطہ؟ مگر اصرار ہے کہ ’’کیوں کے‘‘ غلط ہے۔ ’’کیوں کہ‘‘ لکھو۔ اگر کوئی کہے کہ یہ لفظ اب بولا نہیں جاتا، تو یہ دعویٰ بھی غلط ہے۔ دلّی والے آج بھی بولتے ہیں اور اس کی صحیح کتابت ’’کیونکے‘‘ یا (کیوں کے) ہے۔
جو یہ کہے کہ ریختہ، کیوں کے ہو رشک فارسی
گفتۂ غالب ایک بار، پڑھ کے اُسے سُنا کہ یوں
نہ جانوں کیوں کے مٹے داغ طعنِ بد عہدی
تجھے کہ آئینہ بھی ورطۂ ملامت ہے
5 ۔  ایک بڑا اعتراض ولی اور پرانے شاعروں پر کیا جاتا ہے کہ عربی، فارسی لفظوں کو، جن کے بچلے حرف کو جزم ہے انھیں حرکت دے دی ہے، جیسے ’’شہر‘‘ اور ’’مہربان‘‘ ہ کے زبر سے، ’’طبع‘‘ اور ’’شمع‘‘ کو ب اور م کے زبر سے باندھا ہے اور ’’ثلث‘‘ کو ل کی حرکت سے۔ ان اعتراض کرنے والوں کو یہ بھی تو نہیں معلوم کہ کس عربی لفظ کے حرکات عربی میں کیا ہیں۔’’شمع‘‘ کا م مفتوح اور ساکن دونوں طرح صحیح ہے اور ’’ثلث‘‘ کا  ل ساکن بھی درست ہے اور مضموم بھی۔ یہ لفظ کلام اللہ میں کئی جگہ آیا ہے اور ہر جگہ ل کے پیش سے ہے ’’خط ثلث ‘‘ کو عربی میں ’’الخط الثُلُثی‘‘ (ل کے پیش سے)کہتے ہیں۔ اب رہے وہ لفظ جو سچ مچ عربی یا فارسی میں بچلے حرف کے جزم ہی سے ہیں سو ان کو بھی اکثر حرکت کے ساتھ بولتے ہیں ’’ذکر‘‘ اور ’’فکر‘‘ اور ’’تخت‘‘ اور ’’مہر‘‘ اور ’’شہر‘‘ بچلے حرف کی حرکت سے اردو کے فصیحوں کی زبانوں پر ہیں اور سیّدانشاء نے تو صاف صاف کہا ہے کہ اردو میں یہ لفظ یوں ہی صحیح ہیں۔ ولی پر اس طرح اعتراض کرنا نادانی ہے۔ اُس کے تو برسوں کے بعد لوگوں نے حکم لگایا کہ شعر میں وہی صورت ان لفظوں کی جگہ پائے جو فارسی یا عربی میں ہے، مگر مزا یہ کہ خود ایرانیوں نے عربی لفظوں میں بہت تصرف کرلیے تھے۔ پھر جب فارسی عربی لفظ ہندستانی میں آئے تو اس نے انھیں اپنے جنتر پر کھینچا۔ سوا دو چار قاریوں کے کون ہے جو ح  اور ع کو حلق کی گہرائی سے نکالتا ہوگا اور ز، ذ، ض یا س، ث، ص میں فرق کرتا یا کرسکتا ہوگا اور تو اور ہندستان کے ممتاز شاعر جب اردو میں شعر کہتے تو ان لفظوں کو اسی صورت سے اپنے کلام میں لاتے جس صورت سے وہ ہندی عوام کی زبانوں پر تھے۔ ناصر علی سرہندی کاسا سربرآوردہ فارسی شاعر جب اردو کہتا ہے، ’’حیران‘‘ (ی کی تخفیف سے) ’’بیچارہ‘‘ کو ’’بچارہ‘‘ ’’مِصَر‘‘ (ص کے زبر سے) ’’شرح مُلاّ‘‘ کو ’’شرح ملاّں‘‘ اور ’’درس‘‘ ( ر کے زبرسے) باندھتا۔ ’’فکر‘‘اور’’ فکَر‘‘ کو ’’اثر‘‘ اور ’’سفر‘‘ کا قافیہ کرتا ہے۔ اسی کا ایک مصرع ہے:
بت فرنگی بہ قتل ہمنا رکھے جو پُرچیں جبیں دمادم (شیرانی ’’پنجاب میں اردو‘‘ ص 1240-41 ۔)
اب کیوں کر کہیے کہ ’’ہمنا‘‘ اور ’’تُمنا‘‘ دکن کی مخصوص بولی تھی اور ہندی لفظ کو فارسی ترکیب میں نہ لاتے تھے؟
6 ۔  اسی طرح کا ایک اور وسوسہ ہے کہ مجہول اور معروف و یا ی کا یا ز کو ض کا اور س کو ص کا قافیہ کرنا دکنی زبان کی خصوصیت یا دکن کے شاعروں کی سادگی ہے۔معروف اور مجہول کا قافیہ فارسی کے اساتذہ کے کلام میں بھی کثرت سے ہے اور اردو کے مستند شعرا نے بھی بے تکلف اس طرح کہا ہے۔ ہم مخرج بلکہ قریب المخرج حرفوں کے قافیہ کرنے کا حال یہ ہے کہ فردوسی نے ’’وحی‘‘ کو ’’نہی‘‘ کا، سعدی نے ’’صباحی‘‘ کو ’’ماہی‘‘ کا ’’عدل‘‘ کو ’’فضل کا‘‘ اور ’’کسب‘‘ کو ’’اسپ‘‘ کا، کابتی نے ’’اصل‘‘ کو ’’نسل‘‘ کا، اور ظہوری نے ’’خراط‘‘ کو عامیوں کے تلفظ کے مطابق ’’خراد‘‘ قرار دے کے ’’نہاد‘‘ کے ساتھ قافیہ کیا ہے۔ پھر اگر ولی نے ’’تسبیح‘‘ کو عین اہل اردو کے مطابق ’’تسبی‘‘ کہا تو کیا گناہ کیا اور ز اور ض کا قافیہ کیا تو کیا بدعت ہوئی؟
یہ تو ان لفظوں اور ترکیبوں کا بیان ہوا جن کو دکنی زبان سے مخصوص جاننا درست نہیں، اس لیے کہ یہ سب صورتیں شمالی ہند کے شاعروں کے یہاں بھی ملتی ہیں۔ مگر شمالی ہند کے شاعروں میں سے، جن کا کلام ایک اچھی مقدار میں ملتا ہے وہ سب ولی کے بعد کے لوگ ہیں، ولی کے ہم عصروں یا اُن سے پہلے کے شاعروں یا مصنفوں کا کلام بہت ہی کم اور ناکافی ہے، جس سے یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ کون کون سے لفظ اس وقت کی زبان میں رائج تھے اور کون کون سی ترکیبیں استعمال ہوتی تھیں، اس لیے یہ طے کرنا بھی آسان نہیں کہ جو لفظ ہم صرف دکنی یا اورنگابادی مصنفوں کے ہاں پاتے ہیں وہ اس وقت کی شمالی زبان میں بھی تھے اور بعد کو شمال میں تو محو ہوگئے مگر جنوب میں باقی رہے یا شمال میں کبھی تھے ہی نہیں اور حقیقت میں دکن کی پیداوار ہیں۔ آئندہ اگر مزید معلومات بہم پہنچے تو فیصلہ ہوسکے گا کہ ان کو شمالی زبان کے اجزا ماننا چاہیے یا جنوبی زبان کے۔ اس صورت حال کو سامنے رکھ کر یہاں ان اجزا سے مختصر طور پر بحث کی جاتی ہے۔
1 ۔  لفظوں میں تغیر (حرف کے بدل جانے سے):
(الف)   ہ اور ھ کے حذف، قلب اور ابدال سے اوپر بحث ہوچکی ہے دکن کی خصوصیت یہاں بھی وہی ہے کہ تغیر میں تعمیم زیادہ ہوگئی ہے ’’سوکھا‘‘ کو ’’سُکا‘‘، ’’باہر‘‘ کو ’’بھار‘‘ بولتے ہیں۔ ’’انکھاں‘‘ کو ’’ہانکاں‘‘ ’’انکھیاں‘‘ کو ’’ہنکیاں‘‘ بولتے ہیں۔ (گو کہ کتابت اس طرح نہیں     کی جاتی)
(ب)   ٹ، ڈ، ڑ میں سے اگر دو حرف یا ایک ہی حرف دوبارہ کسی لفظ میں آئے تو پہلا ٹ کے بجائے ت، ڈ کے بجائے د ہوجائے گا۔ ’’توٹ گیا‘‘ یا ’’تُٹ گیا‘‘ (ٹوٹ گیا) ’’دنڈا‘‘ (ڈنڈا) ’’تکڑا‘‘ (ٹکڑا) ’’داٹنا‘‘ (ڈاٹنا) ’’دیڑھ‘‘ (ڈیڑھ) ’’دیوڑھی‘‘ (ڈیوڑھی) ’’تھاٹ‘‘ (ٹھاٹ) ’’تھٹ‘‘ (ٹھٹ)۔
(ج)  حرف حصر یعنی ’’ہی‘‘ کی ہ حذف ہوجاتی ہے۔ جیسے تُمی (تمھی) مگر ایسی صورتوں میں چ، چہ  لگاتے ہیں: ’’ووچ‘‘ (وہ ہی) ’’تمچ‘‘ (تم ہی) یہ چ یا مؤقوف ہوجاتی ہے یا مکسور اور کتابت میں اس کا مکسور ہونا ہ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس کو ھ (مخلوط) قرار دینا درست نہیں یعنی چھ نہیں ہے۔ یہ لاحقہ غالباً گجراتی زبان سے دکن کی بولی میں آیا۔ سنسکرت میں چ بطور لاحقہ کے آتی ہے مگر وہ حصر کے بجائے ترقی کا حرف ہے یعنی ’’بھی‘‘ کے معنی دیتی ہے اور دکن میں بھی ’’بھی‘‘ (تلفظ’’بی‘‘) بالکل اسی طرح استعمال ہوتا ہے جیسے سنسکرت میں چ  لاحقہ، یعنی دو اسموں کے بیچ میں چ  آتی ہے۔ دکن میںکہیں گے۔ ’’ماں بی بچہ‘‘ (یعنی ماں اور بچہ یا ماں بھی بچہ بھی) عجب نہیں کہ گجراتی اور دکنی میں یہ چ سنسکرت سے آئی ہو مگر معنی بدل کر بجائے حصر کے ترقی کے ہوگئے۔
2 ۔  اردو والوں کا دستور ہے کہ لفظ کے بیچ یا آخر میں یا ہو تو ی کو الف سے مخلوط کردیتے ہیں جیسے ہندی ’’پ یار، پ یاس، دھ یان‘‘ سے پیار، پیاس، دھیان‘‘۔ فارسی ’’ پ یاز‘‘ اور   ’’م یان‘‘ سے ’’پیاز‘‘ اور ’’میان‘‘ عربی خ یا ل سے ’’خیال‘‘۔ دکن میں یہ تصرف بہت عام ہوگیا اور ’’دریا‘‘ اور ’’دنیا‘‘ بھی در+یا اور دن+یا ہوگئے۔ اسم سے گزر کر فعل کے صیغوں تک پر اس کا عمل ہوا۔ چلیا، لکھیا، کھلیا، ملیا وغیرہ۔
3۔  اں لگا کر جمع بنتی ہے (اسم چاہے مذکر ہو چاہے مونث) اور یہ پنجاب، پانی پت، سہارن پور وغیرہ میں عام ہے اور دکن میں بہت ہی عام۔ بات، باتاں۔ تروار، ترواراں۔ ہات(ہاتھ) ہاتاں۔ پانو، پانواں۔ پیچ ، پیچاں۔ آنکھ، آنکھاں ۔ جورو، جورواں۔ وغیرہ۔
(الف)  واحد مونث الف پر ختم ہوتا ہو، تو ایک ی(ملفوظ) بڑھا کراں  لگائیں گے ادا، ادایاں۔ دعایاں۔ دوایاں ۔ یہ ی کبھی مخلوط نہیں بولی جاتی۔
(ب)  اگر واحد مونث یا مذکر ی  ( معروف)پر ختم ہوتا ہو تو اں لگنے سے وہ ی مخلوط ہوجائے گی۔ انکھی، انکھیاں، پشانی (پیشانی) پشانیاں، تسبی۔ تسبیاں، چھری۔ چھریاں، چھتری۔ چھتریاں، برچھی۔ برچھیاں، موتی۔ موتیاں، درزی۔ درزیاں، مالی۔ مالیاں، گھوڑی۔ گھوڑیاں۔ اگر واحد ء ی (یاعی) یاہی پر ختم ہو، تو جمع میں ئ، ع، ہ حذف ہوکر ی ملفوظ ہوجاتی ہے بھائی۔ بھایاں، رباعی۔ ربایاں (کتابت، رباعیاں) سپاہی (تلفظ سپاء ی) سپاہیاں (تلفظ۔ سپایاں)۔
(ج)  الف پر ختم ہونے والے مذکر لفظوں کی جمع قائم حالت میں تو الف کو ے (مجہول) کر کے بنتی ہے، جیسے ’’بکرا‘‘ اور ’’گھوڑا‘‘ سے ’’بکرے‘‘ اور ’’گھوڑے‘‘۔ محرف حالت میں ’’بکریاں‘‘ کو اور ’’گھوڑیاں‘‘ سے وغیرہ۔ اس طرح محرف حالت میں مونث مذکر میںگویا فرق ہی نہیں رہتا اور سیاق عبارت سے تانیث و تذکیر میں امتیاز کرنا پڑتا ہے۔
4 ۔  نحوی خصوصیتوں کی تفصیل یہاں نہیں بیان کی جاتی۔ چند غزلیں غور سے پڑھنے پر وہ خصوصیتیں آپ ہی نمایاں ہوجاتی ہیں۔
آخر میں یہ کہہ دینا ضروری ہے کہ ولی نرا شاعر نہ تھا۔ اس کے دیوان میں جابجا ایسے مقامات ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے زمانے کے اہل علم میں سے تھا، عربی نظم و نثر کے شہ کار ہی اس کے مطالعے میں نہ رہتے تھے، علوم پر بھی اس کی نظر تھی۔ کلام کے صواب و خطا کو وہ خوب جانتا تھا یہ بھی سمجھتا تھا کہ لفظوں کے ذرا سے ہیرپھیر سے شعر میں کیوں کر جان      پڑجاتی ہے، یہ بات حاصل نہیں ہوتی جب تک کہ شاعر صحیح اور فصیح کو نہ پہچانے اور شعر کے فن کو نہ جانے۔ ولی کے کلام سے ہم شعر اور زبان دونوں کا لطف اٹھاسکتے ہیں۔ اگر ہم اس زمانے کی زبان
سے واقف ہونے کی سچی کوشش کریں۔

کلیات ولی میں ولی دکنی کی ساری غزلیں اور دیگر اصناف میں لکھی ہوئی ان کی تخلیقات موجود ہیں۔
مرتبہ: نور الحسن ہاشمی
مطبوعہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان
قیمت: 148 روپے

اگر آپ اس کتاب کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو رابطہ کریں:
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، وزارت ترقی انسانی وسائل، فروغ اردو بھون، ایف سی33/9 ، انسٹی ٹیوشنل ایریا جسولہ، نئی دہلی۔110025
ای میل: sales@ncpul.in, ncpulsaleunit@gmail.com
فون: 011-49539000

اگر آپ اس کتاب کو آن لائن پڑھنا چاہتے ہیں تو درج ذیل لنک پر کلک کریں


10/12/15

راجندر سنگھ بیدی — زندگی اور شخصیت

راجندر سنگھ بیدی، جیسا کہ انھوں نے خود اپنی پیدائش کے متعلق کہا ہے، یکم ستمبر 1915 کی سویر کو لاہور میں 3 بج کر 47 منٹ پر پیدا ہوئے۔بیدی کی ماں سیوا دیوی ہندو برہمن خاندان سے تھیں، اور باپ بابا ہیرا سنگھ کھتری سِکھ تھے۔ بیدی یا ویدی وید سے نکلا ہوا لفظ ہے۔ وہ کھتری جو وید کو اپنا گرنتھ مانتے ہیں، بیدی کہلاتے ہیں۔ جیسا کہ خود بیدی نے بتایا ہے، ان کی ماتا جی ان کے پتا جی کے ساتھ اپنے گھر سے فرار ہوکر آئی تھیں اور دونوں نے لاہور کے ایک آریہ سماج مندر میں شادی کی تھی۔ باپ پوسٹ آفس میں نوکر تھے۔ گھر کا رہن سہن ہندوانہ بھی تھا اور سِکھی بھی۔ گیتا اور جپ جی صاحب، دونوں کا پاٹھ ہوتا تھا۔ بیدی کے بھائی ہربنس سنگھ کا کہنا ہے کہ اسلامی کلچر سے بھی دلچسپی تھی۔ والد صاحب صوفیانہ کلام کے دلدادہ تھے اور گورپرب اور اسٹمی کے تہوار منائے جاتے تو والد صاحب عید کے میلوں میں بھی بچوں کو لے جاتے۔ کسی مذہب یا عقیدے سے عناد نہیں تھا۔ بیدی کی ماں اردو، ہندی اور تھوڑا بہت انگریزی جانتی تھیں۔ بیدی کے کہنے کے مطابق پہلی کہانیاں جو انھوں نے سنیں تھیں، جن اور پری کی داستانیں نہیں تھیں بلکہ مہاتم تھے جو گیتا کے ہر ادھیاے کے بعد ہوتے ہیں اور جنھیں وہ دوسرے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر ماں سے سنا کرتے تھے۔ پانچ برس کی عمر میں رامائن اور مہابھارت کی کہانیوں سے واقف ہوچکے تھے۔ ماں کی بیماری کی وجہ سے بیدی کے پتا جی ایک پیسے روز کرائے پر کوئی نہ کوئی کتاب بازار سے لے آتے تھے اور پڑھ کر ماں کو سنایا کرتے۔ اسی طرح اسکول کی عمر کے ساتھ ٹاڈ کے راجستھان اور شرلاک ہومز کے کارناموں سے واقف ہوچکے تھے۔ گھر میں کتابیں اور رسالے اکثر آتے تھے۔ چچا سمپورن سنگھ لاہور میں ایک پریس کے منیجر تھے جس میں ہر قسم کے ناول اور قصے چھپتے تھے۔ گھر میں کتابوں کا انبار لگا رہتا۔ یا تو مشہور انگریزی ناولوں کے ترجموں کی ورق گردانی ہوتی یا پھر ’’خونی خواب‘‘، ’’ایک رات میں بیس خون‘‘ یا پھر چندرکانتا کا پاٹھ ہوتا۔ بیدی کے چچا نے جب اسٹیم پریس خرید لیا تو اس کے ساتھ پانچ چھ ہزار کتابیں بھی آئی تھیں۔ کتاب کے کیڑوں کی طرح بیدی ان کتابوں کو چاٹتے رہتے۔ سردیوں میں رات گئے چولھے کے اِرد گرد بیٹھے والد صاحب کسی نہ کسی کتاب یا رسالے سے کچھ نہ کچھ پڑھ کر سناتے اور سب گھٹنوں میں سر دیے سنتے رہتے۔ بیدی کالج میں انٹرمیڈیٹ تک ہی پہنچے تھے کہ والدہ کا تپ دق کی بیماری میں انتقال ہوگیا۔ بیماری کے دوران انھوں نے ماںکی بہت سیوا کی۔ ان کی ٹٹی پیشاب تک صاف کرتے۔ انٹرمیڈیٹ کا امتحان بیدی نے غالباً 1933-35 میں پاس کیا۔ ان دنوں بیکاری بہت عام تھی۔ آئے دن گریجویٹوں کے ریل گاڑی کے سامنے کود کر خودکشی کی وارداتیں ہوتیں۔ بیدی نے والد کے کہنے پر پوسٹ آفس میں نوکری کرلی۔ بیدی کی ادبی زندگی کا آغاز بھی کالج کی زندگی یعنی 1931کے لگ بھگ سترہ اٹھارہ سال کی عمر سے ہوتا ہے۔ اس زمانے میں انھوں نے انگریزی میں نظمیں لکھیں۔ اردو اور پنجابی میں افسانے اور مضامین لکھے۔ طالب علمی کے زمانے میں محسن لاہوری کے نام سے لکھا کرتے تھے۔ کلرکی کے زمانے میں دیر گئے رات تک پڑھنے اور لکھنے کی عادت تھی۔ ڈاک خانہ میں بیدی کو بہت کام کرنا پڑتا۔ کئی بار سترہ اٹھارہ گھنٹے ڈیوٹی دینا پڑتی۔ یہی زمانہ بیدی کی سنجیدہ افسانہ نگاری کا بھی ہے۔ وہ رومانی کہانیوں اور الّم غلّم مضامین اور تراجم اور نہایت مفرس اردو کے دور سے نکل آئے اور زندگی کے اہم تجربات کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا۔ یہی وہ کہانیاں ہیں جو 1937 میں ان کے پہلے مجموعہ ’’دانہ و دام‘‘ کی زینت بنیں اور جب دوسرا مجموعہ ’’گرہن‘‘ 1941 میں شائع ہوا تو وہ اردو کے مستند افسانہ نگار تسلیم کیے جا چکے تھے۔ پروفیسر مجیب صاحب، جو روسی ادب کے بہت اچھے طالب علم تھے، ’’دانہ و دام‘‘ کو بغل میں دبائے پھرتے تھے، اورکہتے تھے ’’میں نے آج تک اردو میں اتنا اچھا مجموعہ نہیں دیکھا۔‘‘ بیدی کی شادی 1934 میں، جب کہ ان کی عمر 19 سال کی تھی، ایک قبول صورت لڑکی ستونت کور سے ہوئی۔ جس سے انھیں دو لڑکے اور دو لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ ستونت کور ایک سلیقہ مند اور ایثار نفس بیوی ثابت ہوئیں۔ بیدی کے افسانے ’’گرم کوٹ‘‘ میں حسن اور رومانیت کی جھلکیاں اور ’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘ کی اِندومیں ایثار نفسی اور ماورائیت کی خصوصیات ستونت کور ہی کا عطیہ ہیں۔ ایک دن تنگ آکر پوسٹ آفس کی نوکری سے استعفا دے دیا۔ بڑی تنگ دستی میں جینے لگے۔ ریڈیو آرٹسٹ کی آسامی کے لیے درخواست دے رکھی تھی۔ احمد شاہ بخاری پطرس آل انڈیا ریڈیو کے ڈائرکٹر جنرل تھے۔ آسامی کے لیے کم از کم گریجویٹ ہونا ضروری تھا۔ بیدی صرف انٹرمیڈیٹ ہی تھے۔ دہلی سے واپسی پر بتایا کہ انٹرویو کے وقت پطرس صاحب اٹھ کر ان سے گلے ملے۔ یہ واقعہ سنایا اور بیدی کی آنکھوں میں آنسو امڈ پڑے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بطور افسانہ نگار کے بیدی کی مقبولیت کا کیا عالم تھا۔ 1943 میں بیدی کا تقرر لاہور ریڈیو اسٹیشن پر بہ حیثیت اسکرپٹ رائٹر کے ہوگیا۔اس ملازمت کے دوران انھوں نے ریڈیو کے لیے کئی ڈرامے لکھے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران ان کا تبادلہ سرحد کے ریڈیو اسٹیشن پر ہوگیا۔ تنخواہ پانچ سو روپئے ماہانہ ہوئی۔ ایک برس کام کرنے کے بعد مستعفی ہوکر لاہور چلے آئے اور مہیشوری فلم کمپنی میں چھ سو روپئے ماہانہ پر ملازمت کرلی۔ اس کمپنی کے لیے انھوں نے پہلی اور آخر فلم لکھی ’’کہاں گئے۔‘‘ فلم کہاں گئی اس کا آج تک کسی کو پتہ نہیں چلا۔ پھر انھوں نے سنگم پبلشرز لمیٹڈ کے نام سے ایک مطبع قائم کیا۔ منجملہ اور کتابوں کے اپنے ریڈیائی ڈراموں کا مجموعہ ’’سات کھیل‘‘ اس مطبع سے شائع کیا۔ کتابوں کا کافی ذخیرہ مطبع کے پاس تھا اور اچھی آمدنی کا امکان تھا کہ ملک تقسیم ہوگیا۔ فسادات نے پورے پنجاب کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر شملہ چلے گئے اور اپنے ایک مصور دوست ایشور سنگھ کے پڑوس میں مکان لے لیا۔ اس مکان کی نچلی منزل میں ایک مسلمان کنبہ رہتا تھا۔ فسادیوں نے اسے گھیر لیا۔ بیدی اپنے دوست ایشور سنگھ کے ساتھ ایک نقلی فوجی پرمٹ لیے فسادیوں کی بھیڑ میں گھس گئے۔ دکھاوا ایسا کیا کہ وہ دونوں گویا فوج کے آدمی ہوں۔ مسلمان کنبہ کو، جس میں عورتیں زیادہ تھیں، صحیح سلامت بچا لائے۔ اردو کے مشہور شاعر حفیظ جالندھری بھی ان دنوں شملہ میں تھے۔ انھیں بچانا بھی ضروری تھا۔ کسی نہ کسی طرح انھیں بھی ڈھونڈھ نکالا۔ دم رخصت حفیظؔ نے نہایت رقت آمیز لہجہ میں یہ شعر پڑھا۔
ہم ہی میں تھی کوئی بات، یاد تم نہ آسکے
ہم نے تمھیں بھلا دیا ، تم نہ ہمیں بھلا سکے
بعد میں حفیظؔ نے ان واقعات کا ذکر ریڈیو لاہور سے بھی کیا۔ اس درمیان بیدی کے بیوی بچے شملہ آچکے تھے۔ بیدی انھیں لے کر پھر دہلی کی طرف روانہ ہوئے۔ لاہور میں ماڈل ٹاؤن میں ان کا مکان لٹ چکا تھا اور اب لاہور جانے کا کوئی مطلب بھی نہیں تھا۔ ہندستان میں سوائے آسمان کے سر پر کوئی چھت نہ تھی۔ کالکا سے ریل گاڑی لی۔ اندر جانے کو کوئی جگہ نہ تھی۔ کسی طرح بیوی بچوں کو اندر داخل کیا اور خود چھت پر جا بیٹھے۔ ریل ایک ٹنل سے گزری تو پگڑی اُڑ گئی مگر سر بچ گیا۔ ہربنس سنگھ (بیدی کے بھائی) لکھتے ہیں ’’ادھر کچھ لوگوں نے، جن میں ایک پولس انسپکٹر بھی تھا، بھاوج صاحبہ سے جو خوبرو تھیں، مذاق شروع کردیا۔ جب گاڑی انبالہ پہنچی تو بچوں نے چیخ پکار کر کے بیدی کو نیچے بلا لیا۔ جب انھوں نے شرارتی آدمیوں سے باز پرس کی تو وہ پوچھنے لگے۔ ’’آپ کرتے کیا ہیں سردار صاحب‘‘ ؟ تو بیدی نے کہا کہ میں اردو میں کہانیاں لکھتا ہوں۔ اس پر بہت قہقہے بلند ہوئے۔‘‘ 
دہلی میں رسالہ ’’آجکل‘‘ کی ادارت کے لیے کوشش کی لیکن اس درمیان اردو مصنفین کا ایک وفد کشمیر گیا۔ جب واپس آنے لگے تو شیخ عبد اللہ، جو ان دنوں چیف منسٹر تھے، کہنے لگے کہ باقی سب لوگ جاسکتے ہیں مگر ایک شخص کو میں نے حراست میں لے لیا ہے۔ اشارہ بیدی کی طرف تھا جنھیں انھوں نے ڈائرکٹر جموں ریڈیو کے عہدے پر متعین کردیا۔
لیکن اب بیدی کا رخ بمبئی کی طرف تھا جہاں وہ تا دم آخر سکونت پذیر رہے۔ خوب کہانیاں لکھیں اور خوب فلمیں بنائیں۔ فلمی دنیا میں بیدی عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے کیونکہ انھوں نے فلمی دنیا میں آرٹ کی پاکیزگی کو کمرشیل دست برد سے محفوظ رکھا۔ ’’دستک‘‘ جو ان کے ایک ڈرامے ’’نقل مکانی‘‘ پر مبنی تھی، آف بیٹ فلم تھی اور اس نے آرٹ فلم کے میلان کو تقویت دی۔ ان کی پہلی فلم ’’بڑی بہن‘‘ تھی جس میں دلیپ کمار نے ہیرو کا پارٹ ادا کیا تھا۔ ’’داغ‘‘ کا ہیرو بھی دلیپ کمار تھا اور یہ فلم باکس آفس پر بھی ہٹ ہوئی تھی۔ بیدی بہت ہی ذہین اور چابک دست مکالمہ نگار تھے۔ ’’داغ‘‘ کے مکالمے اس قدر برجستہ ، طرار اور شوخ تھے کہ فلم انڈسٹری میں بیدی کی مکالمہ نویسی کا سکّہ بیٹھ گیا۔ پھر انھوں نے ’’دیوداس‘‘ کے مکالمے لکھے۔ فلم کے رومانی، المیہ اور ڈرامائی واقعات کو اثرانگیز بنانے میں بیدی کے مکالموں کا بہت بڑا حصہ ہے۔ ’’دیوداس‘‘ کو شہرہ آفاق فلم بنانے میں بمل رائے کی ہدایت کاری، دلیپ کمار کی ادا کاری اور بیدی کی مکالمہ نگاری کا مساوی حصہ ہے۔ بمل رائے ہی کے لیے بیدی نے وہ سحر انگیز کہانی لکھی جو ’’مدھومتی‘‘ کے نام سے فلمائی گئی۔ بیدی نے اپنی کہانی ’’گرم کوٹ‘‘ کو بھی فلمایا جواتنی کامیاب نہیں رہی۔ جب یہ خبر عام ہوئی کہ بیدی مرزا غالبؔ کے مکالمے بھی لکھ رہے ہیں تو لوگوں کو یقین نہیں آیا کہ دیہاتی فضاؤں میں پلا بڑھا ایک اکھڑ پنجابی سِکھ مغلیہ سلطنت کی شان و شوکت اور اس کی تہذیب اور آداب کی نزاکتوں کو مکالموں کے ذریعہ کیسے پیش کرسکے گا۔ لیکن بیدی نے یہ کام بھی کر دکھایا۔ مرزا غالبؔ کے مکالموں کا امتیازی وصف، صیقل شدہ زبان، بذلہ سنجی، ظرافت اور شائستگی ہے۔ اس کے علاوہ بیدی نے رشی کیش مکرجی کے لیے’’ انوپما‘‘ اور ’’ستیہ کام‘‘ جیسی فلموں کی کہانی اسکرین پلے اور مکالمے لکھے۔ ان فلموں کے علاوہ ’’ بہاروں کے سپنے‘‘ اور ’’میرے ہمدم میرے دوست‘‘ بھی بیدی سے منسوب ہیں۔ اپنے بیٹے نریندر، جو خود ڈائرکٹر بن چکا تھا ،کے مشورے پر انھوں نے ’’پھاگن‘‘ بنائی جو بری طرح ناکام ہوئی۔ آخری عمر میں ہریجنوں کے مسئلہ پر ایک فلم ’’آنکھیں دیکھی‘‘ بھی مکمل کی، لیکن ہنوز اسے دیکھنے کے لیے آنکھیں ترستی ہیں۔ ریلیز ہی نہیں ہوئی۔
بمبئی کے قیام کے دوران شدید خواہش کے باوجود افسانہ نگاری کے لیے وہ بہت وقت نکال نہ سکے، پھر بھی ان کے افسانوں کے چار مجموعے سامنے آئے۔ ’’کوکھ جلی‘‘ 1949 میں ’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘ 1965 میں، ’’ہاتھ ہمارے قلم ہوئے‘‘ 1974 میں اور ’’مکتی بودھ‘‘ 1983 میں شائع ہوئیں۔ ’’کوکھ جلی‘‘ گو بمبئی سے شائع ہوئی، لیکن اس کی کہانیاں جموں اور دہلی کی سکونت کے دوران ضبط قلم ہوئی تھیں۔ اپنے بمبئی کے 35 سالہ قیام کے دوران وہ لگ بھگ 25,30 کہانیاں لکھ سکے۔ بیدی کا انتقال بمبئی میں گیارہ نومبر 1984 میں ہوا۔

کلیات راجندر سنگھ بیدی، جلد اول میں راجندر سنگھ بیدی کے لکھے ہوئے تمام مطبوعہ و غیرمطبوعہ افسانے موجود ہیں
مرتبہ: وارث علوی
مطبوعہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان
قیمت: 550 روپے

اگر آپ اس کتاب کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو رابطہ کریں:
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، وزارت ترقی انسانی وسائل، فروغ اردو بھون، ایف سی33/9 ، انسٹی ٹیوشنل ایریا جسولہ، نئی دہلی۔110025
ای میل: sales@ncpul.in, ncpulsaleunit@gmail.com
فون: 011-49539000

اگر آپ اس کتاب کو آن لائن پڑھنا چاہتے ہیں تو درج ذیل لنک پر کلک کریں
کلیات راجندر سنگھ بیدی، جلد اول

9/12/15

عنایت اللہ حجام اور میر تقی میر کا ادبی معرکہ

عنایت اللہ، حجام عرف کلو قوم کے حجام تھے۔اسی مناسبت سے تخلص بھی حجام رکھا تھا۔انہیں سودا کی شاگردی پر بہت ناز تھا۔ان کے سوا کسی شاعر کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔مصحفی نے ان کے کلام کی تعریف میں لکھا ہے۔کہ وہ باوجود کم علمی کے شعر خوب کہتے تھے۔ان کے اشعار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ باریک بیں تھے۔اور ندرت مضمون سے کلام کو جلادیتے تھے۔ان کے شعروں میں کیفیت ملتی ہے۔اسی سبب سے مشاعروں میں انہیں خوب داد ملتی تھی۔مزاج میں ظرافت تھی۔غزلوں کے مقطعوں میں اکثر اپنے پیشے کے رعایت سے مضمون باندھتے تھے۔جو خوب بامزہ ہوتے تھے۔میر حسن نے لکھا ہے کہ مدرسہ غازی الدین خاں کے قریب ان کی شعر و سخن کی محفل جما کرتی تھی۔
مختلف تذکرہ نگاروں کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ عنایت اللہ حجام کے مزاج میں شوخی اس قدر تھی کہ وہ اپنے آپ کو بھی نہیں بخشتے تھے۔چنانچہ ان کی غزلوں کے مقطعے اسی وجہ سے محفلوں میں مزہ دے جاتے تھے اور ان پر خوب واہ واہ ہوتی تھی۔اول تو وہ خود قوم کے حجام اس پر مستزاد یہ کہ تخلص بھی حجام۔پھر اس تخلص کی رعایت سے اپنے پیشے کی کارگزاریاں۔یہ کیفیت پوری محفل کو لوٹ پوٹ کرنے کے لیے کافی تھی۔چند اشعار دیکھیے۔

اس شوخ کے کوچے میں نہ جایا کرو حجام
چھن جائیں گے اک دن کہیں ہتھیار تمہارے
۔۔۔
رقیبوں پر میاں پڑتا ہے تب سو سو گھڑے پانی
بلا حجام کو جس روز تم حمام کرتے ہو
۔۔۔
روز رخسار کے لیتا ہے مزے خوباں کے
بہتر اس سے کوئی حجام ہنر کیا ہوگا
۔۔۔
حجام تیرے دل کی تو آرزو بر برآئے
چہرے پہ اس کے خالق گر خط شتاب لایا
۔۔۔
اس سے بڑح کر ان کی شوخی کا اور کیا ثبوت ہوگا کہ اپنی زبان سے خود اپنے آپ کو رجالا (کم قوم)کہہ دیا۔ان کا قطعہ ہے:

حجام پڑا سخت حیاناک کے پالے
کچھ اور تو کیا بات کہ وہ منھ سے نکالے
لگ چلتا ہوں اس شوخ سے رستے میں تو مجھ کو
جھنجھلا کے یہ کہتا ہے کہ چل دور رجالے

اس موقع پر میر کا وہ شعر خود بخود ذہن میں آتا ہے۔

پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں
اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی

حجام کو ایک طرف تو مشاعروں میں کافی مقبولیت حاصل تھی۔خواہ اس کی وجہ ان کا ظریفانہ انداز بیان ہو یا اپنے پیشے کے مضامین کا مضحک اظہار۔دوسرے اس زمانے کے ایک بڑے استاد فن سے انہیں تلمذ حاصل تھا۔جوان جیسے کم علم اور بے رتبہ لوگوں کے لیے فخر کی بات تھی۔اس کے علاوہ اس زمانے کے بہت بڑے متقی اور پرہیز گار صوفی محمد فخرالدین سے انہیں بیعت حاصل تھی۔جس سے ان کی سماجی حیثیت بھی بڑھ گئی تھی۔چنانچہ وہ اپنے محلے میں اپنی عرفیت کلو سے نہیں بلکہ شاہ جی کے لقب سے مشہور تھے۔ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھنے لگے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ پھر اپنے سامنے کسی کی کوئی حقیقت نہ سمجھی۔

میر قدرت اللہ قاسم نے لکھا ہے:

شاگرد رشید سر آمد شعرائے فصاحت آما مرزا محمد رفیع سودا است۔بنا بر آنکہ سنگ یک پہلو بود۔غیر از مرزا را شاعرے نمی دانست۔تانجو شگووے خود چہ رسد۔ 
حالانکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ تذکرہ نگاروں نے ان کی کم علمی کا بھی ذکر کیا ہے۔ 
مصحفی نے لکھا ہے:

باوجود کم علمی شعر ہندی رابخوبی سر انجام می دہد۔

 میر حسن نے لکھا ہے:

لیکن ازیں شعراومعلوم شد کہ کلامش بے اصلاح است ، درموشگافی معانی قصردارد۔شعر ایں است۔
کام کیا زور یہ حجام نے
شیخ کی داڑھی کو قصر کرگیا

میر نے نکات الشعرا میں عنایت اللہ حجام کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ہوسکتا ہے کہ اپنی مقبولیت کے پیش نظر انہیں یہ بات بری لگی ہو اور میر کے مقابلے پر آئے ہوں۔دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اپنے استاد کی حمایت میں انہوں نے بلاوجہ عداوت مول لی ہو۔جیسا کہ قائم اور مجذوب نے حق شاگردی ادا کیا تھا۔
میر کی مثنوی اژدر نامے نے بھی معاصرین پر ناخوشگوار اثر چھوڑا تھا۔فضا میں اس کے شرارے بھی موجود تھے۔بہت سے شاعر میر کے خلاف ہجویں کہنے لگے تھے۔بہت ممکن ہے کہ اس رو میں ان کے منہ سے بھی ہجویہ کلمات نکل گئے ہوں۔مزاج کی شوخی کے سبب بھی ان کی رگ ظرافت پھڑک سکتی ہے۔علاوہ ازیں میر کے بعض شعر بھی ان کو گمراہ کرسکتے ہیں۔میر نے بعض جگہ جہاں دوسرے پیشوں کے خوب رویوں کا اپنے کلام میں ذکر کیا ہے وہاں نائی بچے پر بھی اظہار خیال کیا ہے۔لیکن یہاں یہ ذکر حد اعتدال سے تجاوز اختیار کرگیا ہے۔

مل بیٹھے اس نائی کے سے کوئی گھڑی جو زاہد تو
جتنے بال ہیں سارے سر میں ویسے ہی اس کی حجامت ہو

ممکن ہے اس قسم کے اشعار سے بھی حجام کی دل آزادی ہوئی ہو۔بہرحال حجام نے میر کو اشتعال دلایا ہے۔یہ طے ہے۔اگرچہ ہمارے سامنے حجام کا ایسا کلام موجود نہیں جس سے میر کی تضحیک کا علم ہوسکے اور اس کی نوعیت کا جائزہ لیا جاسکے لیکن حجام کی مذمت میں میر کی مثنوی ’در مذمت آئینہ دار‘ موجود ہے۔جو تریپن اشعار پر مشتمل ہے۔اس مثنوی میں میر نے حجام پر الزام لگایا ہے۔

کیا کہوں کیسے ہیں یہ اوندھے لچر
کیجیے اصلاح عائد ہوئے شر

معلوم نہیں اصلاح کرنے سے میر کی کیا مراد ہے؟ شعر کی اصلاح سے تو حجام شر انگیزی نہیں کرسکتے تھے۔البتہ ان کو ان کے طور و طریق کے متعلق تنبیہ کی ہوگی۔قاضی عبدالودود صاحب نے اس معرکہ کی وجہ مخاصمت بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اس کا(عنایت اللہ حجام کا)قصور تو ظاہر ہے کہ وہ میر کی عظمت کا قائل نہ تھا۔لیکن بات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔قیاس کہتا ہے کہ حجام نے میر کی شان میں یا تو کوئی ایسی ہجو کہی ہے جس میں میر اور مرزا کی شاعری کا موازنہ کرکے سودا کو میر پر فوقیت دی ہے۔یا کسی محفل میں انہوں نے اس کا اظہار کیا ہے جبھی تو میر حجام کی ہجو پر اتر آئے ہیں اور سودا کا ذکر بیچ میں لے آئے ہیں۔

موشگافوں کا نہیں ہے نام اب
مدعی شعر ہیں حجام اب
میر و مرزا میں حکم ہووے خرد
نے کہ نائی جن پہ سب دست رد
سمجھے مرزا میر کو مرزا کو میر
نے وہ رگ زن جو نہ سمجھے شیر شیر
مجھ میں مرزا میں تفاوت ہے بہت
یاں تانی واں عجالت ہے بہت
جس جگہ میں نے رکھی منہ میں زباں
ہوتے اس جاگہہ جو مرزا بے گماں
استرے کانوں میں اپنے باندھ کر
کب کے اب تک گھس گئے ہوتے ادھر

بقا کی طرح عنایت اللہ حجام بھی ظرافت نگار تھے۔ہوسکتا ہے جس طرح بقا نے میر کو اپنی ظرافت نگاری سے زچ کیا تھا۔حجام نے بھی مزاحیہ اشعار میں میر کو طنز و تعریض کا نشانہ بنایا ہو۔میر کی لعن طعن اور فحش گوئی سے بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ حجام سے بہت زیادہ کبیدہ خاطر تھے۔بلکہ اس ہجو میں کدورت اور رنجش کے تنائو سے حجام پر پھٹ پڑے ہیں۔
قاضی عبدالودود صاحب کے الفاظ میں (میر)’’خودداری کا جامہ اتار کر ایک حجام کے مقابلے میں خم ٹھونک کر میدان میں آگئے ۔اصل میں محض حجام اور میر کا جھگڑا نہ تھا۔بلکہ سودا اور میر کا معرکہ تھا۔جس میں ایک طرف میر تھے اور دوسری طرف سودا کے وہ شاگرد جو علاوہ سودا کے اور کسی کو شاعر ہی نہ سمجھتے تھے۔ان میں قائم، مجذوب اور حجام سر فہرست تھے۔غالبامیر کو یہ احساس تھا کہ سودا ہی حجام کو ترغیب دیتے ہیں۔اور وہ انہیں کی شہہ پر ان کے خلاف آگ بھڑکا رہے ہیں۔اس در پردہ دشمنی کا میر کو دکھ تھا۔کیونکہ یہ کچھ اس طرح کا معاملہ تھا۔

ایک کہتا ہوں میں تو منہ پہ رقیب
تیری پشتی سے سو سناتے ہیں

انہیں سودا سے ایک کم قوم کو اپنا شاگرد بنانے کی اور اس سے اپنے ہم رتبہ شخص کا مقابلہ کروانے کی شکایت ہے۔اس پس منظر کے بغیر یہ سمجھنا مشکل ہوگا کہ حجام کے ساتھ سودا کو لے دے کیوں کی گئی۔ 
***

 ماخوذ از’’اردو کے ابتدائی ادبی معرکے‘‘
مصنف : ڈاکٹر یعقوب عامر

اگر آپ یہ کتاب آن لائن پڑھنا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کیجیے


اگر آپ اس کتاب کو خریدنا چاہتے ہیں تو براہ کرم رابطہ کیجیے:

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان
وزارت ترقی انسانی وسائل، حکومت ہند
فروغ اردو بھون، FC-33/9، انسٹی ٹیوشنل ایریا، جسولہ نئی دہلی 110025
فون نمبر: 011-26109746
ای میل: ncpulsaleunit@gmail.com, sales@ncpul.in

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...