13/10/17

مشترکہ وراثت اور جمہوری زبان از رضوانہ

اردو زبان رنگ و نسل، مزاج وا حتیاج اور دل میں اُتر جانے والے اپنے استعاروں اور کانوں میں شہد گھولنے والی اپنی شیرینی کے باوصف آج بھی تروتازہ، شگفتہ اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔ اردو ہماری اور ہمارے ملک کی مشترکہ وراثتوں کی نہ صرف امین ہے بلکہ اپنے جمہوری طرز ادا، اندازِ بیان اور دلوں میں تحرک و تموج پیدا کرنے کی وجہ سے عالمی سطح پر اپنی موجودگی کا ایسا احساس جگا رہی ہے کہ عالم کاری کے اس دور میں اردو سے نابلد افراد بھی اس کی چاشنی اورمٹھاس کے دلدادہ نظر آتے ہیں۔

بحمد اللہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہندوستان میں اردو کی صورتِ حال جیسی بھی ہو سخن فہمی برقرار ہے ۔ یہاں بازاروں سے لے کر ایوانوں تک اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ اس سے قطع نظر کہ ہندی اور انگریزی کے الفاظ اور جملے بھی شامل ہوتے ہیں۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب تک ہم خود کو ہر قسم کے تعصب سے پرے رکھ کر اردو کی سماجی، لسانی اور تہذیبی صورت حال کا از سرِ نو جائزہ نہیں لیتے اس وقت تک زبان کے ساتھ انصاف نا ممکن ہے اور مشترکہ تہذیبی و رثہ کا احیا بھی ممکن نہیں۔  زبانیں انسان کی امتیازی صفات کے ساتھ ساتھ سماجی اور تہذیبی عناصر کی مظہر بھی ہوتی ہیں۔ اس سے ماورا  رہ کر ہم زبان کے تعلق سے سماجی تشکیل اور اس کی معنویت کو برقرار نہیں رکھ سکتے ۔ کیوں کہ زبان ہمارے سماجی، تہذیبی، فکری اور تعلیمی رشتوں سے ہی پہچانی جاتی ہے اور یہی وہ زمین ہے جسے اساس قرار دیتے ہوئے زبان کی قدرو قیمت کا تعین کرتے ہیں۔ پس اردو زبان و ادب کی جڑوں کا ہندوستان کی فضا، فکر اور مزاج سے استوار ہونا ایک لازمی امر ہے۔

شمالی ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد اور پھر دہلی میں ان کی حکومت 1193 کے بعد ہندوستان کے مقامی باشندوں اور نو وارد مسلمانوں کے باہمی اختلاط اور میل جول سے ایک نئی زبان وجود میں آئی۔ جو مختلف ادوار میں ہندوی، ریختہ، دکنی اور پھر اردو کے نام سے مشہور ہوئی۔ چوں کہ باہر سے آنے والے مسلمانوں کی زبان ترکی، فارسی اور عربی تھی۔ آریوں نے سنسکرت کو سرکاری زبان کی حیثیت دے رکھی تھی لیکن وہ عام بول چال کی زبان کا مقام حاصل نہ کرسکی۔ اس کی وجہ شاید یہ رہی ہو کہ وہ اسے پسند بھی نہیں کرتے تھے، لیکن مسلمانوں کا مسئلہ اس کے برعکس تھا۔ انھوں نے آتے ہی اپنی ترکی، فارسی، عربی زبانوں پر ہندوستانی رنگ کا اثر قبول کرنا شروع کردیا ۔ جس سے ایک نئی تہذیب پروان چڑھنے لگی۔ اب چوں کہ زبانوں کا تعلق انسانوں کے تہذیبی ، تمدنی، معاشرتی ارتقا سے براہِ راست ہوتا ہے اور اسی تعلق کے باعث زبانیں غیر ارادی طور پر پیدا ہوتی ہیں اور رفتہ رفتہ سماجی ضرورت کے تحت پروان چڑھتی ہیں۔ مسلمانوں کے مذہبی منشور کے اصول و ضوابط عالمی سطح پر مبنی ہیں اس وجہ سے ان میں قومی اتحاد و اشتراک کی گنجائش بہت ہے۔ لہٰذا ہندوستان کی مقامی قوموں کے اشتراک اور باہمی ارتباط نیز ہندوستان کی مختلف بولیوں کے آپسی اختلاط و امتزاج نے زبانِ اردو کو جنم دیا ،اس سے متعلق ڈاکٹر تارا چند رقم طراز ہیں :
”مسلم ذہن ہندوانہ رنگ وروپ قبول کرنے لگا اور اس نے فارسی و ترکی کی جگہ مقامی زبانوں کو سیکھا اور استعمال کرنا شروع کیا ۔ ہندوؤں نے عربی ،فارسی اور ترکی الفاظ کو مقامی محاوروں میں جگہ دی ۔ اس لین دین کا منافع ہماری تہذیب کے خزانے میں اردو کی شکل میں شامل ہوا۔ “
(ہندوستانی کلچر کا ارتقا، تاریخ کے آئینے میں ، ڈاکٹر تارا چند، اگست1967، ص: 48)

ہندوؤں اور مسلمانوں کے اشتراک اور نئی تہذیبی معاشرتی ضرورتوں کے تحت سب سے زیادہ ترقی کرنے والی زبان اردوتھی۔ تقسیم ہند 1947 کو تاریخ کا ایک ایسا سانحہ پیش آیا جس نے ملک کے ہر چھوٹے بڑے طبقے کو سیاسی، سماجی، معاشرتی، مذہبی، ادبی اور لسانی سطح پر بری طرح سے متاثر کیا۔ انگریزوں کی پیدا کردہ منافرت نے مذہبی فرقہ پرستی کی بنیاد پر ملک کے ٹکڑے کرنے کے علاوہ صدیوں پرانی تہذیب و تمدن کو پارہ پارہ کردیا۔ قیام پاکستان کے بعد اردو زبان کے ساتھ لسانی سطح پر بہت بڑی تبدیلی رونما ہوئی۔ اس کی ایک وجہ مسلمانوں کی حالت زارتھی ،دوسرے برطانوی حکومت کی شہہ نے ہندوؤں میں یہ خیال اورقوی کر دیا کہ ہندی بھی دفتری و عدالتی زبان ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد لوگوں میں اردو زبان کے خلاف مخالفت کا جذبہ شدید ہوتا گیا اور یہی وجہ ہے کہ سیاست دانوں نے ہندی کو مرکزی زبان کا درجہ دے کر اردو کا دائرہ تنگ کرنے کے لیے نفسیاتی طور پر دباو ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کی بلکہ اردو طبقہ کے لیے معاشی صورتِ حال ایک بڑا مسئلہ بن کر کھڑی ہوگئی اور یہی نہیں بلکہ مردم شماری میں اردو والوں کی تعداد حتی الامکان گھٹا کر دکھائی جانے لگی،لیکن وہ پژ مردگی جو آزادی کے فوراً  بعد اردو والوں پر طاری تھی دھیرے دھیرے اس کی کثافت دور ہوتی گئی لہٰذا  اردو کی بازیابی کے لیے انفرادی و اجتماعی طور پر کوششیں شروع ہوئیں۔

اس سلسلے میں جو اصلاحی تحریکیں وجود میں آئیں وہ مسلمانوں میں تعلیمی بیداری پیدا کرنے کے علاوہ اردو کی بقا و ترقی کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں جس کا عملی ثبوت ”انجمن ترقی اردو“ اور” قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان“ ہے۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو مرکزی حکومت کے تحت اردو کی ترقی کے لیے کام کرنے والا ادارہ ہے جب کہ انجمن ترقی اردو (ہند) نے منظم ہوکر مختلف کمیٹیاں اور ادارے قائم کرکے اردو کی ترویج کے لیے راہیں ہموار کیں۔

 اس وقت ایک طبقہ ایسا بھی تھا جس نے تقسیم کا الزام اردو کے سر لگایا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ تقسیم کا عمل اردو کی وجہ سے وقوع پذیر ہوا، مگر یہ تقسیم ہند کا ایک بے بنیاد، تعصبانہ، سطحی اور یک رُخا مطالعہ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ برطانوی تسلط کی ابتدا سے ہی اردو نے ان کے خلاف جس باغیانہ رویہ کو اختیار کیا، اس کی مثال دوسری زبانوں میں نہیں ملتی۔ لسانیات کے تعلق سے نہ صرف اردو پر یہ الزام بے بنیاد ہو کر رہ جاتا ہے، بلکہ اردو کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔

ادب چوں کہ اپنے دور کے سیاسی ، سماجی اور اقتصادی حالات کا آئینہ دار ہوتا ہے اور شاعری جو کہ اس کا جزو لازم ہے اور کسی بھی انقلاب کو سامنے لانے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ اس نے غیر ملکی حکمرانوں سے نجات دلانے کے لیے احساس غلامی سے نجات دلائی۔ قومی و وطنی شعور کو بیدار کیا اور حصولِ آزادی کے لیے ہر طرح کے خطرات ، ظلم و تشدد کے خلاف نبرد آزما ہونے کا حوصلہ دیا۔ اردو نے جنگ آزادی کے دوران انقلاب زندہ باد ، ہم آزادی لے کر رہیں گے۔ جیسے پر اثر نعرے دیے، ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘  جیسا ترانہ پیش کیا۔ اپنی پرجوش نظموں اور غزلوں سے مجاہدین آزادی کا لہو گرمایا،  وہی اردو زبان آج اپنے ملک میں اجنبی ہوگئی۔جب کہ اردو ہی وہ زبان ہے جسے حب الوطنی اور تحریک آزادی کا مظہر کہا جاسکتا ہے۔ جس نے کسی نہ کسی زاویے سے اجتماعی زندگی کو متاثر کیا۔ معین الدین عقیل کے مطابق:
”مسلسل سیاسی انتشارات کے نتیجے میں جب قومی تحریکیں وجود میں آئیں تو اردو نے نہ صرف تحریکوں کی جدوجہد کو بیان کیا بلکہ ان میں عملاً حصہ بھی لیا۔ “
(تحریکِ آزادی اردو کا حصہ، معین الدین عقیل، پاکستان کراچی 1976، ص: 111)

یہ زبان اپنی فطرت کے مطابق مخلوط سماج کا حصہ ہے۔ اس کا سیکولر کردار ہی سب سے نمایاں خصوصیت کا حامل ہے۔ وہ مشترکہ زبان جو حصولِ آزادی کے لیے چلائی گئی، تمام تحریکوں کا محور  رہی، افسوس کہ کچھ متعصب اشخاص کی وجہ سے آزادی کے فوراً بعد ہی اسے غیر ملکی زبان کے نام سے پکارا گیا اور جو وجوہات اس کے غیر ملکی ہونے کی بتائی گئیں یا جو معیار قائم کیا گیا وہ اس قدر بھونڈا اور پھسپھسا ہے کہ اگر ان کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ہندوستان کی موجودہ کسی بھی زبان کو ہندوستانی ہونے کا حق حاصل نہیں۔

آزادی کے معاً بعد یعنی 1947میں ہی آفیشل لینگویج ایکٹ پاس کرکے مرکز اور یوپی دونوں جگہ ہندی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دے دیا گیا۔ جب کہ اردو کو اس کی خدمات کے صلے میں دوسری سرکاری زبان تک بننے سے محروم رکھا گیا۔ اردو زبان سے متعلق آج بھی لوگوں میں یہ غلط فہمیاں رائج  ہیں کہ یہ صرف مسلمانوں کی زبان ہے۔ مسلمانوں سے وابستگی کے سبب یہ زبان ہندو اکثریت کی ناراضگی کا شکار ہوگئی۔ یعنی آزادی سے پہلے اردو تمام قوموں کی خاص طور سے مسلمانوں ،سکھوں اور ہندوؤں کی مشترکہ زبان تھی لیکن آزادی کے بعد سکھوں اور ہندوؤں نے اردو کو اپنے دائرۂ عمل سے خارج کردیا۔ لہٰذا اپنے شاندار ماضی کو کھونے کے بعد اردو صرف ”مسلمانوں کی زبان“ بن کر رہ گئی۔

ادب کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس طرح مسلمانوں کا تہذیبی، ثقافتی، تمدنی اور مذہبی ورثہ اردو ادب میں موجود ہے، عین اسی طرح غیر مسلم بالخصوص ہندو دھرم سے متعلق کثیر مذہبی سرمایہ بھی اردو ادب میں محفوظ ہے۔ مثلاً بھگوت گیتا، پران، رامائن ، بدھ ازم، جین ازم وغیرہ سے متعلق معلومات یا تراجم! بھگوت گیتا کے تقریباً 82مطبوعہ ایڈیشن اور پرانوں کے 45 نسخے اردو زبان میں دستیاب ہیں۔اردو زبان کسی ایک مذہب، قوم کی نہیں بلکہ ہندو، مسلم،سکھ ،عیسائی سبھی قوموں کی یکساں طور پر محبوب ترین زبان رہی ہے، یہی وجہ تھی کہ ہر مذہب کے ماننے والوں نے اپنے دینی امور کی تبلیغ و ترسیل کے لیے اس زبان کا سہارا لیا ہے۔

 یہی وہ وجہ ہے کہ ہندی کے مرکزی زبان ہو جانے پر جب اسے تمام صوبوں پر مسلط کیا جانے لگا تو جنوبی ہند میں اس کا شدید ردعمل سامنے آیا جس کے نتیجے میں وہاں ہندی بولنے والوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب کہ شمالی ہند میں جہاں اردو  دوسو برسوں سے ایک تہذیبی پس منظر میں چھائی ہوئی تھی اس کے ساتھ بے گانوں سا سلوک کیا گیا۔

 ہندوستان میں اردو کے مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ اردو ذریعۂ تعلیم کا محدود ہونا ہے۔ کیوں کہ کسی بھی زبان کی بقاو تحفظ اور ترقی کا انحصار ”تعلیم یعنی (Education) پر ہوتا ہے۔ اور یہ تعلیم مادری زبان میں ہی ممکن ہے ۔ تعلیم محض چند علوم و فنون کو سیکھ کر معلومات کا ذخیرہ جمع کرلینے کا نام نہیں بلکہ یہ بچے کی صحیح ذہنی نشوو نما اور اس کی صلاحیتوں کے بالفعل اظہار و تکمیل کا نام ہے۔ اس مقصد کے بغیر تعلیم ادھوری ہے۔ اس صورتِ حال سے نپٹنے کا واحد ذریعہ مادری زبان میں تدریس ہے۔

ہندوستان کے دستور کے مطابق ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دی جانی چاہیے۔ (دستور کی دفعہ A530 اور حکومت کی پالیسی کے مطابق)  سہ لسانی فارمولے کو پانچویں کلاس اور اس سے اگلی کلاس پر لاگو کرنا چاہیے۔ تاکہ مادری زبان کو ابتدا ہی سے لازمی زبان کے طور پر پڑھایا جائے۔ شمالی ہند کی کئی ریاستوں میں پہلی کلاس سے ہندی کو اول زبان کا درجہ دے کر پڑھایا جاتا ہے۔ یہ سہ لسانی فارمولے کے ساتھ انصاف نہیں ہے۔ اس طریق کار سے ہندی کو ان غیرہندی والوں پر تھوپا گیا ہے۔ جن کی مادری زبان اردو ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سیکولر تعلیم میں اردو کو جگہ دینے سے مسلسل احتراز اور انکار کیا جاتاجارہا ہے۔ اور افسوس اس امر پر بھی ہے کہ یہ سب خود کو سیکولر کہنے والی سیاسی جماعتیں کرتی رہی ہیں۔

وہ طلبا جن کی مادری زبان اردو یا دوسری کوئی اقلیتی زبان ہے اس کی بقا کی کیا گنجائش ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اردو کو دستور میں دیے گئے تحفظ کے باوجود قومی دھارے اور سیکولر تعلیمی نصاب سے منظم طور پر خارج کردیا گیا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اردو کی بقا و تحفظ کے لیے ایک ایسا فارمولہ تجویز کیا جائے جس سے اردو کو اسکول کی تعلیم میں لازمی طور پر شامل کیا جاسکے۔ ہندوستان کا دستور یقین دلاتا ہے کہ یہ ایک سیکولر ملک ہے۔

اردو کی مزید ترقی اور فروغ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ایسی لسانی دستاویزات جو کہ عام لوگوں سے متعلق ہیں جیسے سرکاری نوٹس ، ووٹرلسٹ، راشن کارڈ وغیرہ دونوں زبانوں میں ہونا چاہئے۔ نیز عدالتوں میں ہر قسم کی دستاویزات اردو زبان میں بھی داخل کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ تمام سرکاری و غیر سرکاری کاموں کے لئے در خواستیں ہندی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی قبول کی جانی چاہئیں۔ تمام سرکاری اعلانات، اطلاعات، نوٹسز اور گزٹ کی اشاعت ہندی کے علاوہ اردو میں بھی ہونی چاہئے۔ ابتدائی اور مڈل سطح پر اردو کی تعلیم کا معقول انتظام ہونا چاہئے ۔ یہی نہیں بلکہ اردو داں طبقہ کے لئے اسی تناسب سے روزگار اور سرکاری سروسز میں جگہ کی فراہمی بھی ضروری امر ہے۔ اردو کو سیاسی، سماجی اور معاشی سطح پر جن تلخ حقیقتوں سے سامنا ہے وہ تو ہے ہی دستور میں دیے گئے حقوق کو ہر سطح پر نیک نیتی سے نافذ کرنے اور عملی جامہ پہنانے کی بھی ضرورت ہے۔

رضوانہ

5/10/17

سرور کی قومی و وطنی شاعری از عبدالرحمٰن


مخصوص تہذیب اور محدود زاویۂ نگاہ کی بنا پر کسی زبان میں اعلیٰ ادب تخلیق نہیں کیا جاسکتا۔ ادب آفاقیت سے قبل مقامیت سے عبارت ہے لہٰذا مخصوص تہذیب اور محدود زاویۂ نگاہ کی بنا پر کسی ادب میں آفاقیت کی تلاش بے معنی ہے۔ آفاقی ادب مشترکہ تہذیب (Composite Culture) کے بطن سے پیدا ہوتا ہے۔ اردو زبان و ادب کی شاندار تہذیب ہمیشہ سے اس طرح کے باہمی اختلاط اور آپسی رواداری کا پیش خیمہ رہی ہے۔اردو زبان اپنے ابتدائی دور سے ہی کسی ایک مخصوص مکتبۂ فکر یا کسی ایک خاص تہذیبی روایت سے سروکار نہیں رکھتی۔ مختلف مذاہب کے پیروکار شعرا  اور ادبا  ماسوا ذاتی معاملات کے سیاسی، سماجی اور مذہبی خیالات پیش کرنے کے لیے وقتاً فوقتاً اس زبان کا سہارالیتے رہے ہیں۔ زبان کی یہ روایت اتنی مستحکم اور پائیدار ہے کہ شاعروں نے اپنے مذہبی رہنماؤں اور دانشوروں کے علاوہ مختلف مذاہب کے رہنماؤں اور دانشوروں کو اس زبان میں نذرانۂ عقیدت پیش کرنے میں خود کو کبھی عاجز محسوس نہیں کیا۔ اردو زبان میں جہاں ایک طرف مختلف مذہبی پیشواؤں کی شان میں قصیدے لکھے گئے اور مذاہب کی تبلیغ و اشاعت اس زبان میں کی گئی، وہیں دوسری طرف مارکسی خیالات و نظریات کی تشہیر میں بھی اس زبان نے نمایاں کارنامے انجام دیے ہیں۔ سیکولرزم کی جو صحت مند روایت اردو زبان و ادب کی تاریخ میں ملتی ہے، بنگالی ادب کو چھوڑدیں تو اس کی مثال ہندوستان کی ایسی کسی اور دوسری بڑی زبان میں شاذ و نادر ہی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ جس وقت ہندوستانی اقوام باطل انگریز قوم سے برسر پیکار تھی تو’انقلاب زندہ باد ‘ کا پرشکوہ نعرہ اسی زبان کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔ سیکڑوں شعرا نے اس زبان میں وطن اور قوم سے متعلق گیت لکھ کر حب الوطنی کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ اردو زبان میں قلی قطب شاہ، نظیر اکبرآبادی،اقبال، جوش ملیح آبادی اور پنڈت برج نرائن چکبست کے علاوہ جن شعرا نے وطن سے متعلق جذبے کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا ہے ان میں سرور جہان آبادی کا نام سرفہرست ہے۔

اردو شاعری میں وطن سے متعلق اشعار سب سے پہلے قلی قطب شاہ کے یہاں ملتے ہیں۔ قلی قطب شاہ نے اپنی نظموںمیں ہندوستانی پھلوں، پھولوں اور رسم و عقائد کی عکاسی بڑے خوبصورت انداز میں کی ہے۔ نظیر نے قلی قطب شاہ کی اس روایت کی توسیع کی۔ نظیر کو اپنے ماحول سے نہایت لگاؤ تھا۔ انھوں نے بلا امتیاز ملت و مذہب ہندوستان کے تمام تہواروں اور رسم و رواج کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا۔ ان کی نظموں میں ہندوستان ہنستا، کھیلتا اور اٹکھیلیاں کرتا نظرآتا ہے۔ مختصر یوں کہا جاسکتا ہے کہ نظیر کی شاعری میں قدیم ہندوستان اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔

نظیر کے بعد سرور جہان آبادی کے یہاں حب الوطنی کا جذبہ نسبتاًزیادہ واضح نظرآتاہے۔ انھوں نے نظم کی تعمیر و ترقی میں ہندوستانی عناصر کو شامل کرنے جیسا اہم اور نمایاں کارنامہ انجام دیا۔ان کے مجموعۂ  کلام میں نظموں کے علاوہ رباعیات بھی شامل ہیں جو ہمیں ہندوستانی رنگ میں رنگی ہوئی دکھائی دیتی ہےں۔یہ نظمیں اور رباعیات ہندوستان کے سیاسی، سماجی، اقتصادی، تاریخی اور تہذیبی نظریات کی ترجمان وعکاس ہیں۔سرور کی نظموں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے عہد کا ہندوستان سیاسی، سماجی اور اقتصادی بحران کا شکار تھا۔ ملک ایسے موڑ پر کھڑا تھا جہاں حب الوطنی کے جذبے کو ابھارنے کی اشد ضرورت تھی ،سرور نے یہ کارنامہ بحسن خوبی انجام دیا۔

سرور کو وطن اورو طن کی ہر شے سے دلی وابستگی ہے۔ نظیر نے اپنی نظموں میں جو ہندوستان پیش کیا تھا سرور کی شاعری میں ایسا ہی ہندوستان ایک بار پھر اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ ہمارے روبرو دکھائی پڑتا ہے۔ ان کے کلام میں ہرجانب ہندوستان کی تصویر بکھری ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ان کی نظریں ہندوستان کو دلہن کے روپ میں دیکھتی ہےں۔ ان کی پوری شاعری میں ہندوستان پر شباب برستا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ انھوں نے ہر شے کی تصویر اتنی عمدگی سے پیش کی ہے کہ اس کی مثال بعد کے شعرا میں جوش کے سوا کسی اور کے یہاں نظر نہیں آتی۔ نسیم سحر کا یہ بند ملاحظہ کیجیے:
گھونگھٹ الٹ الٹ کے رخ نازنیں سے تو
کرتی ہے چھیڑسلسلۂ عنبریں سے تو
ہونے کو ہمکنار گل و یاسمیں سے تو
چلتی ہے بس کے عطر میں خلد بریں سے تو
یوں دھیمی دھیمی آتی ہے تاروں کی چھاﺅں میں
مہندی لگا کے جیسے چلے کوئی پاﺅں میں

سرور کے یہاں حب الوطنی عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔ انھیں وطن کے ذرّے ذرّے سے بے تحاشہ لگاﺅ ہے۔ ان کے نزدیک وطن کبھی دیوی ہے تو کبھی وطن میں انھیں ماں کا روپ دکھائی دیتا ہے۔ کچھ جگہوں پروطن کو لکشمی ،درگا اور سرسوتی بھی کہا گیا ہے۔ غرض وطن کی محبت ان کے دل کے نہاں خانوں میں گہرائی سے رچی اور بسی ہوئی ہے۔ مادرِہند کا یہ بند ملاحظہ فرمائیے:
تیرا دیو استھان دیوی دل کے کاشانے میں ہے
تیری تصویر مقدس ہر صنم خانے میں ہے
لکشمی تو ہے زمانے میں اُجالا ہے تیرا
ہر کنول کا پھول پانی میں شوالا ہے تیرا
سرسوتی کا روپ ہے درگا  کا ہے اوتار تو
نطق و دانش کی ہے دیوی مادرِ غم خوار تو
اُف یہ سندر چھب تری، یہ سانولی صورت تری
دل کے مندر کی ہے زینت موہنی صورت تری

وطن سے متعلق سرور نے جو نظمیں کہی ہیں ان میں موضوعات کی وسعت اور ہمہ گیری کے ساتھ دلکشی اور رعنائی کی جھلک بھی ملتی ہے۔ سرور کے ذریعے اردو شاعری میں پہلے پہل ایسے موضوعات پر طبع آزمائی کی گئی جو اردو شاعری کے لیے بالکل نئے اور اچھوتے تھے۔ گنگا، جمنا، پریاگ کا سنگم، نورجہاں، پدمنی، بیربہوٹی، گلِ فردوس، لکشمی جی، سیتا جی کی گریہ وزاری، پھولوں کا کنج، مہاراجہ دشرتھ کی بیقراری، نسیم سحر، فضائے برشگال، عروسِ برشگال، شفق شام ، بھنورے کی بیقراری جیسے مضامین کو اردو میں سب سے پہلے متعارف کرانے کا سہرا سرور کے سر ہے۔ متقدمین شعراے اردو نے اس سے قبل اس طرح کے موضوعات سے کبھی استفادہ نہیں کیا تھا۔ ان موضوعات کی اہم بات یہ ہے کہ ان سے متعلق نظموں کی فضا اور رنگ خالص ہندوستانی ہے۔

گنگا جمنا پر لکھی نظموں میں سرور نے قدیم ہندوستانی روایت کو بروئے کار لاتے ہوئے چھیڑ چھاڑ اور عشق و عاشقی کے پیرائے میں وطن سے اپنی محبت اور انسیت کا اظہار کیا ہے۔ اس طرح کی شاعری میں بعض جگہ جمال پرستی کے ساتھ ساتھ جنسیت کا دھوکا ہوتا ہے۔شاعرنے اپنے محبوب کے پیکر اور سراپاکا ذکر کرتے ہوئے اسے برج کی پاک دامن اور مقدس نازنین جیسے القاب سے خطاب کیا ہے اور اس کی جادوئی روش کو حسینوں سے بھی زیادہ البیلی روش قرار دیا ہے۔ جمنا کے تقدس اورپاکدامنی کا بیان بھی اسی بند میں کیا گیا ہے۔ یہاں لفظوں کا تضاد بآسانی دیکھا جاسکتا ہے  
آہ!او رنگیں ادا او دلی والی نازنیں
او دو عالم کے حسینوں سے نرالی نازنیں
دھیمی دھیمی وہ تری رفتار بل کھائی ہوئی
وہ نظرجھینپی ہوئی چتون وہ شرمائی ہوئی
وہ حسینوں سے نرالی تیری البیلی روش
دل پہ جادو کرنے والی تیری البیلی روش
برج کی او پاک دامن اور مقدس نازنیں
نقش ہے دل پر ترے اک اک ادائے دلنشیں

اسی نظم کے اگلے اشعار میں وہ جمنا سے پوچھتے ہیں کہ وہ کون ہے جو تیری لہروں میں پردہ نشیں ہوکر بیٹھا ہے، تیری موجوں سے آرہی صدائے دلفریب کس کی ہیں کون تیرے خانۂ دل میں رقص کناں ہے، اور یہ چھا گل کی صدائے جاں نواز کس کی ہے؟ (حرکت کے باعث لہروں میں پیدا ہورہی آواز کو سرور نے چھاگل کی صدائے جاں نواز کہا ہے):
کون یہ پردہ نشیں ہے تیرے دامن میں نہاں
کس کا چہرہ ہے نقابِ زلفِ پرفن میں نہاں
تیری موجوں میں ہے یہ کس کی صدائے دلفریب
گارہی ہے کون یہ غارت گرِ صبر و شکیب
خانۂ  دل میں ہے تیرے کون محوِ رقص و ناز
آرہی ہے کس کی چھاگل کی صدائے دل نواز

اسی طرح گنگا سے متعلق اشعار میں بے پایاں محبت اور خلوص کا اظہار کرتے ہوئے اس حیات آفریں ندی کو پاک نازنیں، ناز آفریں اور صدق و صفا کی دیوی کے ساتھ ساتھ بحرِ معرفت اور پاکباز ہستی جیسے الفاظ سے خطاب کرکے گنگا کے تئیں اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے۔ درج ذیل اشعار ملاحظہ کریں: 
اوپاک نازنیں او پھولوں کے گہنے والی
سرسبز وادیوں کے دامن میں بہنے والی

او ناز آفریں اوصدق و صفا کی دیوی
اوعفتِ مجسم، پربت کی رہنے والی
حسنِ غیور تیرا ہے بے نیازہستی
تو بحرِ معرفت ہے اوپاک باز ہستی

حب الوطنی ایسا جذبہ ہے جو تقریباً ہر ذی روح میں پایا جاتا ہے۔ وطن کی محبت میں انسان بڑی سے بڑی قربانی دینے سے گریز نہیں کرتا ہے۔ سرور کا وطن ان کا پرستش کدہ ہے۔ ان کی شاعری میں وطن اس قدر اعلیٰ اور عظیم قدروں کا حامل ہے کہ یہاں تمیز مذہب و ملت کی کوئی گنجائش دکھائی نہیں دیتی ہے وطن سے عشق سرور کا ایمان ہے: 
ناقوس اور اذاں میں نہیں قیدکفر و دیں
اس کے لیے کہ جس کا پرستش کدہ ہے تو
گنگا نہانے شیخ اگر تیرا  اذن ہو
تیرا  اشارہ ہو تو برہمن کرے وضو
تیرا طریقِ عشق ہی ایمان ہے مرا
تیرے فدائیوں میں ہوں اے شوخ خوبرو
جلوہ نہ ہو کسی بت رعنا کا سامنے
وہ دن خدا کرے کہ ہو آنکھوں میں تو ہی تو

سرور کے عہد کا ہندوستان تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ ملک کے آسمان پر شکست و ریخت کے بادل منڈلارہے تھے تو زمین پر ہر سو مفلوک الحالی کا دور دورہ تھا۔ سرور کو ملک کے حالات کا بخوبی علم تھا۔ وہ اپنے تہذیبی سرمائے سے بھی مکمل واقفیت رکھتے تھے۔اس شکست وریخت اور پرآشوب عہد میں ہندوستانی قوم میں بیداری کی غرض سے سرور نے انھیں ملک کی عظمتِ پارینہ کی داستانیں سنائیں اور وطن کی عظمت کے نغمے گائے۔ اسلاف کے کارناموں کاذکر ان کی نظموں میں بڑے موثر اور دلنشیں انداز میں ملتا ہے۔ ان کی نظموں کو دیکھ کر یہ کہنا بجا معلوم ہوتا ہے کہ سرور کی نظمیں ہندوستان کی عظمت کی تاریخ اور عظیم ہندوستانیوں کی داستان ہیں۔ خاکِ وطن کے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
آہ اے خاکِ وطن اے سرمۂ نور نظر
آہ اے سرمایۂ  آرائشِ جان و جگر
تیرے دامن میں شگفتہ تھے کبھی قدرت کے پھول
گندھ رہے تھے تیری چوٹی میں کبھی وحدت کے پھول
جب مسلط خلق پر تھی خوابِ غفلت کی گھٹا
موتی برساتی تھی تجھ پر ابررحمت کی گھٹا
رفعت بامِ فلک تھی تیری پستی میں نہاں
عظمت خود تھی شرارِ اوجِ ہستی میں نہاں
جب تمدن کا بندھا عالم میں شیرازہ نہ تھا
شاہدِ قدرت نے جب رخ پر ملا غازہ نہ تھا
بادۂ  تہذیب سے خالی تھا جب یورپ کا خم
ایشیا  کا آہ جب بیڑا تھا تاریکی میں گم
جب نہ تھی یونان میں علم و ہنر کی روشنی
جلوہ افروزِ خرد تھی تیرے گھرکی روشنی

سرور کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے شاعری کے ذریعے عوام کے دلوں میں بغاوت کا جذبہ پیدا کرنے کی بجائے ان کے دلوں میں محبت کا جذبہ بیدار کیا۔ مزاج میں شرافت اور سادگی کی وجہ سے انقلاب کا نعرہ بلند کرنے کی بجائے انھیں مصلحت پسندی پر آمادہ کیا۔ احتجاج کے بجائے دلوں میں مادر وطن کی عظمت کا احسا س پیدا کیا۔ قومی اتحاد اور آپسی محبت کا درس دیا۔ آزاد ہندوستان کا ایسا واضح اور دل خوش  تصور پیش کیا جو دوسرے کسی اور شاعر کے یہاں قطعی نظر نہیں آتا۔ پھولوں کا کنج ان کی ایسی ہی ایک نظم ہے۔ اس نظم کے چند اشعار سے سرور کی جدتِ طبع کا احساس بخوبی ہوجاتا ہے: 
پھولوں کا کنج دل کش بھارت میں اک بنائیں
حب وطن کے اس میں پودے نئے لگائیں
خونِ جگر سے سینچیں ہرنخلِ آرزو کو
اشکوں سے بیل بوٹوں کی آبرو بڑھائیں
ایک ایک گل میں پھونکیں روحِ شمیم وحدت
اک اک کلی کو دل کے دامن سے دیں ہوائیں
فردوس کا نمونہ ہو اپنا کنج دل کش
سارے جہاں کی جس میں ہوں جلوہ گر فضائیں
مل مل کے ہم ترانے حب وطن کے گائیں
بلبل ہیں جس چمن کے گیت اس چمن کے گائیں

سرور نے سیاست میں کبھی دلچسپی نہیں دکھائی۔ ان کے عہد کا ہندوستان جس کشمکش سے دوچار تھا، سرور اس سے لاعلم قطعی نہیں تھے۔ وطن سے متعلق ان کی نظموں میں سیاسیات کی جگہ جمالیاتی عنصر زیادہ نمایاں ہے۔ ان کی بعض نظموں میں سیاسی رنگ و آہنگ ملتا ہے، لیکن یہاں بھی ان کا انداز دیگر شعرا سے مختلف اور جدا ہے۔ شہرآشوب کا ذیل بند انھیں خیالات کی نمائندگی کرتا ہے:
جگر فگار جدا دل ہے درمند جدا
کہ قومیت کے ہے پتلے کا بند بند جدا
روش جدا ہے، طریقہ جدا، پسند جدا
کہ ایک ایک کے ہے درپئے گزند جدا
یہ غیریت مرے پروردگار کیسی ہے؟
روش یہ قوم نے کی اختیار کیسی ہے؟

سرور کی قومی شاعری کا تجزیہ کرتے ہوئے گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں کہ:
”ان کی قومی شاعری کی شان دوسری ہے۔ یہ قدیم و جدید کی کشمکش سے آزاد ہے۔ ا س کے جذبے میں سادگی، خیال میں معصومیت اور محبت میں عقیدت کا عنصر ملتا ہے....ان کی وطن دوستی اور قوم پرستی بے میل، بے ریا اور بے لوث ہے۔ یہ اجتماعی احساس سے ناآشنا نہیں لیکن سیاست کے داﺅ پیچ سے بلند اور بے نیاز ہے۔“
(ڈاکٹر گوپی چند نارنگ، اردو شاعری میں ہندوستانی عناصر ،ص 277)

ان مختصر تجزیے کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ قومی اور وطنی شاعری کے لیے فکر و نظر کی جوگہرائی، تخیل کی جو بلند پروازی، جذبات کی جو آہنگی اور فطرت سے جس قدر وابستگی درکار ہے سرور کی وطنی شاعری ان تمام خوبیوں سے مالا مال ہے، نظمیہ شاعری جن حسین جذبوں اور خوبصورت احساسات سے عبارت ہے سرور کی شاعری میں وہ تمام اوصاف و عوامل پوری طرح پائے جاتے ہیں۔

اردو دنیا کے اس شمارے کے مطالعے کے لیے یہاں کلک کریں

Abdur Rahman
Tapti Hostel, JNU
New Delhi - 110067
Mob.: 9015763031
Email.: uharahman@gmail.com

4/10/17

آزادی کے بعد اردو خود نوشت (تعارفی جائزہ) از شاہدہ نواز


انسانی زندگی کے کچھ واقعات و لمحات ایسے بھی ہوتے ہیں جنھیں انسان عمر بھر بھلا نہیں سکتا۔ ایسے کئی دلچسپ واقعات وہ اپنے دوستوں اور عزیز و اقارب کے درمیان بیان کرتا رہتا ہے۔ ان میں سے کچھ واقعات کو زیرتحریر بھی لاتا ہے مثلاً زندگی کے تلخ و شیریں واقعات، مختلف نشیب و فراز، خوشی و غم کے لمحات قلم بند کرتا ہے جسے خودنوشت (سوانح عمری) کہا جاسکتا ہے۔

خودنوشت میں مصنف اپنی زندگی کے واقعات خود بیان کرتا ہے۔ خودنوشت کے ذریعے نہ صرف کسی مخصوص شخصیت کی زندگی کے واقعات منظرعام پر آتے ہیں بلکہ اس دور کے سیاسی، سماجی، تہذیبی، تاریخی، تمدنی اور ثقافتی، پہلو بھی اُبھر کر سامنے آتے ہیں۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کس قسم کے ماحول میں مصنف کی پیدائش و پرورش ہوئی ہے۔ ان تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ خودنوشت کے ذریعے صرف ایک فرد کی زندگی کے گوشے ہی نہیں بلکہ اس دور کے متعلق بہت سی جانکاری ملتی ہے جسے اس دور کی تاریخ بھی کہا جاسکتا ہے۔ یہ ایک ایسی صنف ہے جس کا مصنف خود ہی مجرم و گواہ اور جج ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امانت داری، دیانت داری، سچائی اور صداقت پسندی اس صنف کے خاص جوہر ہیں۔ بہترین خودنوشت وہی ہوتی ہے جس میں امانت داری اور سچائی سے کام لیا جائے۔

اس صنف نے بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں ارتقائی منازل طے کیں۔ خاص طور پر اس صنف کو آزادی کے بعد ترقی ملی۔ اگر آزادی سے پہلے کے دور پر نظر ڈالی جائے تو اس صنف کے چند عمدہ نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں جیسے مولانا جعفر تھانیسری کی خودنوشت ’تواریخ عجائب‘ (کالا پانی) جو 1885 میں منظرعام پر آئی۔ اس خودنوشت میں انھوں نے اپنی جلاوطنی کا مکمل نقشہ پیش کیا ہے۔ جعفر کو ’انڈمان‘ میں جلاوطن کیا گیا تھا جہاں پر وہ 20برس رہے۔ اس کتاب میں ’انڈمان‘ کے رہن سہن، رسم و رواج، طرزِ زندگی اور عادات و اطوار کا بہترین نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اس خودنوشت سے پتہ چلتا ہے کہ آپ قید کے دوران بھی اپنے کاموں میں مصروف رہے۔ کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوئے حالاں کہ ان کو ناگوار تجربات و حادثات سے بھی گزرنا پڑا۔

ظہیر دہلوی نے اپنی زندگی کی داستان کو ’داستانِ غدر‘ کے عنوان سے لکھا۔ اس میں 1857 کے ہولناک واقعات کا ذکر ہے۔ خواجہ حسن نظامی جو اردو ادب میں انشاپرداز کی حیثیت سے مشہور و معروف ہیں۔ ’آپ بیتی‘ کے عنوان سے داستان حیات لکھی۔ حسرت موہانی نے ’قید فرنگ‘ اور وزیر سلطان جہاں نے ’نیرنگی بخت‘ کے عنوان سے بیتی زندگی کی داستانیں قلم بند کیں۔ اسی طرح اور بھی بہت سارے ادیب و مصنف تھے جنھوں نے اپنی زندگی کو ابدی حیثیت دینے کے لیے خودنوشتیں قلم بند کیں۔

آزادی کے بعد بھی اردو ادب میں بہت سی خودنوشتیں لکھی گئیں۔ اس سلسلے میں ایک قابل ذکر خودنوشت چھتاری احمد خان کی ’یادایام‘ ہے جو 1949 میں شائع ہوئی۔ چھتاری اپنی زندگی میں بہت سارے عہدوں پر فائز  رہے۔ حیدرآباد اور سلطنت برطانیہ کے زیرنگیں علاقوں میں ملازمت کی۔ انھوں نے اس خودنوشت میں برطانیہ حکومت کا ذکر بھی کیا ہے۔ چھتاری نے اپنی داستان حیات کو سپاٹ اور بے کیف داستان کی صورت میں پیش کیا ہے۔

عبدالمجید سالک نے اپنی داستان حیات ’سرگذشت‘ کے عنوان سے قلم بند کی۔ سالک اردو ادب میں نامور ادیب مترجم، صحافی، شاعر، نقاد اور مزاح نگار کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ انھوں نے اس خودنوشت میں اپنی زندگی کے اکیاون برس کے واقعات و تجربات کو موثر انداز میں پیش کیا ہے۔ خودنوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں سوانحی حالات دوسرے حصے میں قید و بند کی تکالیف اور آخر میں اہم شخصیات کے خاکے قلم بند کیے گئے ہیں۔ ابتدا میں آبا و اجداد کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی آپ بیتی ہے جس میں انھوں نے نہ صرف حالات و واقعات کو بیان کیا ہے بلکہ ہندوستان و پاکستان اور خاص کرسرزمین پنجاب کی سیاسی، سماجی، علمی و ادبی اور تہذیبی رجحانات و تحریکات کے متعلق بھی جانکاری پیش کی ہے۔ اپنے عہد کی بہت سی اہم ہستیوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ ایسے تذکروں میں اپنی خاکہ نگاری کے جوہر بھی دکھائے ہیں۔

رشید احمد صدیقی جو کہ اردو ادب میں طنز و مزاح نگار کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ اپنے بیتے کی کہانی ’آشفتہ بیانی میری‘ کے عنوان سے تحریر کی۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالب علم اور استاد بھی رہے ہیں۔ اسی لیے علی گڑھ سے والہانہ عشق ان کی تحریروں سے عیاں ہے۔ بچپن سے لے کر خاندانی تفصیل کا ذکر مختصراً کیا ہے۔ سرسید سے ان کو کافی لگاو تھا۔ انھوں نے سرسید کو رول ماڈل بتایا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین کے ساتھ بھی والہانہ محبت کا اظہار کیا ہے۔ اردو خودنوشت کی خاص خوبیاں جیسے حق گوئی، شگفتگی اور روانی اہم ہیں۔ ان کے یہاں بدرجۂ  اتم موجود ہیں۔

ڈاکٹر اعجاز حسین اردو ادب کی اہم شخصیت ہیں۔ آپ ایک بہترین استاد اور زندہ جاوید ادیب کی حیثیت سے اردو دنیا میں جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی کی روداد ’میری دنیا‘ کے عنوان سے لکھی جو 1965 میں شائع ہوئی۔ اس خودنوشت میں انھوں نے اپنے احباب اور اساتذہ کا بطور خاص ذکر کیا ہے لیکن روداد محبت بیان نہیں کی ہے کہ ان کے بقول آئین محبت کا احترام ایک لمحہ کے لیے بھی مجھ سے الگ نہ ہوا کہ تفصیل بتا کر داستان کو پرلطف بنا سکتا۔

1958 میں شاد عظیم آبادی کی خودنوشت ’شاد کی کہانی شاد کی زبانی‘ منظرعام پر آئی۔ یہ خودنوشت 281 صفحات پر مشتمل ہے۔ انھوں نے نظم و نثر کی خوبیاں بھی بیان کی ہیں۔ اساتذہ کا ذکر پرخلوص انداز میں کیا ہے۔ خودنوشت کی اہم خوبی یہ ہے کہ انھوں نے داستان حیات کو واحد متکلم میں نہیں بلکہ واحد غائب کے صیغے میں لکھا ہے۔ یعنی کتاب میں ’میں‘ نہیں ’وہ‘ حاوی رہتا ہے۔ زبان و بیان کے لحاظ سے خودنوشت عام فہم سادہ اور بہترین ہے۔ اگرچہ یہ خودنوشت خامیوں سے یکسر پاک نہیں پھر بھی اس کی خوبیاں، خامیوں پر حاوی ہیں۔ اس خودنوشت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مصنف نے اس کا عنوان ’کمال عمر‘ رکھا تھا اور اسے وہ کسی اور نام سے شائع کرانا چاہتے تھے۔ اس خودنوشت میں اس عہد کی تہذیب و ثقافت کے نقوش روشن ہیں۔
ڈاکٹر یوسف حسین خان کی خودنوشت ’یادوں کی دنیا‘ 1965 میں منظرعام پر آئی۔ مصنف اردو ادب میں مورخ و ادیب کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ یہ خودنوشت مصنف کی شخصیت اور نفسیات سے پردہ اٹھاتی ہے۔ کتاب آٹھ ابواب اور 472 صفحات پر مشتمل ہے۔ تاریخ نگار ڈاکٹر ذاکر حسین کے چھوٹے بھائی ہیں۔ آپ بیتی میں ڈاکٹر ذاکر حسین کو فخر خاندان کے نام سے یاد کیا ہے۔ پہلے دو ابواب میں خاندانی تاریخ اور دوسرے اہم واقعات پر روشنی ڈالی گئی ہے بچپن کی یادوں کا ذکر مختصر ہے۔ ہندوستان میں پٹھانوں کی آمد کا سلسلہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ تیسرے باب میں بھائیو ں کے متعلق جانکاری دی گئی ہے۔ چوتھے باب میں فخر خاندان کے عنوان سے ڈاکٹر ذاکر حسین کے بارے میں جانکاری ملتی ہے۔ ان کی شخصیت کے ہر پہلو پر تفصیلاً بحث کی گئی ہے۔ یہ تفصیل 70 صفحات پر مشتمل ہے۔ پانچویں باب میں طالب علمی کے زمانے کی یادوں کو تازہ کیا گیا ہے۔ چھٹے باب میں فرانس کے سیاسی، سماجی، ادبی اور معاشرتی پہلووؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

اردو ادب کے مشہور و معروف شاعر جوش ملیح آبادی جو شاعر انقلاب، شاعر شباب اور شاعر فطرت کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی کی داستان کو ’یادوں کی برات‘ کے عنوان سے لکھا۔ یہ خودنوشت اردو ادب کی خودنوشتوں میں منفرد مقام رکھتی ہے۔ اس خودنوشت کو 5حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ زندگی کے بنیادی چار عناصر کا ذکر بھی کیا گیا ہے جیسے شعرگوئی، عشق بازی، حصول علم اور انسان دوستی وغیرہ ابتدائی حصے میں ’چند ابتدائی باتیں‘ کے عنوان سے اپنی بیتی زندگی کے ابتدائی دنوں کو پرجوش انداز میں بیان کیا ہے۔ دوسرے حصے میں آبا و اجداد کا ذکر کیا ہے۔ خاص کر اپنے پردادا کا ذکر تفصیل سے کیا ہے۔ ان کے پردادا فقیر محمد خان گویا اردو ادب کے اہم شاعرتھے۔ اسی حصے میں والدین، بھائی اور بہنوں کا ذکر بھی ملتا ہے تیسرے حصے میں دوستوں اور عزیز و اقارب کا بیان کیا ہے۔ انھوں نے اپنی 75 سالہ زندگی کے کیف و کم کو بہت ہی شاعرانہ انداز میں پیش کیا ہے اور کہیں کہیں مبالغے کا سہارا بھی لیا ہے۔ ’یادوں کی برات‘ میں جوش ملیح آبادی کی شخصیت، نظریات اور عقائد کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

خواجہ غلام السیدین اردو ادب کے مشہور ادیب ہیں۔ انھوں نے اپنی خودنوشت ’مجھے کہنا ہے اپنی زبان میں‘ کو بارہ ابواب میں تقسیم کیا تھا لیکن بے وقت موت نے انھیں کتاب کو مکمل کرنے کی اجازت نہیں دی وہ صرف تین ابواب مکمل کرپائے۔ یہ کتاب 260 صفحات پر مشتمل ہے۔ شاید مصنف زندہ رہتے تو اس کتاب کے صفحات کی تعداد ہزاروں سے بھی زیادہ ہوتی۔ اس کا پہلا باب ’خواب ہے جو کچھ بھی دیکھا‘ کے عنوان سے درج ہے۔ اس باب میں سنی سنائی باتوں پر بچپن کے حالات واواقعات قلم بند کیے ہیں۔ رشید احمد صدیقی کی طرح انھیں بھی علی گڑھ سے محبت تھی شاید یہی وجہ ہے کہ جب وہ علی گڑھ کا ذکر کرتے ہیں تو جذباتی ہوجاتے ہیں۔

اردو ادب کے مشہور و معروف ادیب و نقاد کلیم الدین احمد نے ’اپنی تلاش میں‘ کے عنوان سے خودنوشت لکھی جو 1975 میں شائع ہوئی۔ یہ داستان حیات تین جلدوں پر مشتمل ہے۔ خودنوشت کی ابتدا میں خاندانی حالات پر بحث کرتے ہوئے پٹنہ کے علمی تہذیبی اور معاشرتی حالات کا ذکر کافی تفصیل سے کیا ہے۔ ساتھ ساتھ بچپن کے کھیلوں کاذکر بھی ملتا ہے۔ مشاعروں کی روداد قلم بند کرتے ہوئے اپنے نانا عبدالحمید اور شادعظیم آبادی کی معاصرانہ کشمکش کا ذکر بہترین طریقے سے کیا ہے۔ اس خودنوشت سے وہابی تحریک اور کلیم الدین احمد کے معاصرین سے متعلق بہت قیمتی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ اس وقت کے سیاسی اور سماجی حالات سے بھی آگاہی ہوتی ہے۔ اس خودنوشت میں اگرچہ انھوں نے اپنی ذاتی زندگی کے متعلق کم جانکاری پیش کی ہے لیکن پھر بھی اس کا شمار اردو ادب کی اہم خودنوشتوں میں ہوتا ہے۔

مسعود حسین خان اردو ادب کی بے نظیر ہستی ہیں وہ بیک وقت شاعر، ادیب، نقاد، محقق، سوانح نگار، ماہر دکنیات، ماہر لسانیات اور بہترین استاد کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ انھوں نے زندگی کی روداد کو ’ورود مسعود‘ کے عنوان سے تحریر کیا۔ داستانِ حیات کو بیان کرنے کے سلسلے میں امانت داری اور دیانت داری سے کام لیا ہے۔

آل احمد سرور نے اپنی بیتی زندگی کو ’خواب باقی ہیں‘ کے عنوان سے لکھا ہے۔ آپ بیک وقت ادیب، نقاد، عالم اور استاد کی حیثیت سے اردو ادب میں مشہور و مقبول ہیں۔ انھوں نے زندگی کے نشیب و فراز کو اجاگر کرنے کے لیے خودنوشت کا سہارا لیا۔ یہ کتاب 1991 میں شائع ہوئی ۔ بے باکی، صفائی، سچائی، اور امانت داری اس کتاب کی خاص خوبیاں ہیں۔ یہ کتاب 6 دہائیوں کے حالات و واقعات پر مبنی ہے۔ انھوں نے عبارت آرائی سے پرہیز کیا ہے۔ بدایوں جو کہ ان کا آبائی وطن تھا اس کا ذکر نہایت خلوص کے ساتھ کیا ہے۔ اس کتاب میں ہندوستان کے مختلف شہروں کا ذکر بھی ملتا ہے۔ علی گڑھ میں دور طالب علمی میں وہاں کے مشاعروں اور مباحثوں وغیرہ کی تفصیل بھی ملتی ہے۔ ساتھ ساتھ اساتذہ کرام کا ذکر بھی ملتا ہے جن میں خواجہ منظور حسین کا نام کافی اہم ہے۔ انھوں نے ملازمت کے دوران اہم ہستیوں سے ملاقات کا ذکر بھی کیا ہے۔ سر ضیاءالدین جو اس وقت یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے ان کا ذکر نہایت احترام کے ساتھ کیا ہے۔ انھوں نے لکھنؤ کے علمی و ادبی اور معاشرتی حالات و واقعات پر بھی بحث کی ہے۔ لکھنؤ  کا ذکر بہت محبت سے کیا ہے۔ لکھنؤسے ان کو کافی لگاو تھا۔ انھوں نے لکھنؤ  یونیورسٹی میں بحیثیت ریڈر 8 سال کام کیا تھا۔ پھر علی گڑھ چلے گئے مگر لکھنؤ کو کبھی بھول نہیں پائے۔ مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ یہ خودنوشت مبالغہ آرائی سے یکسر پاک ہے۔ اس کا شمار اردو ادب کی بہترین خودنوشتوں میں ہوتا ہے۔

عصمت چغتائی نے اپنی داستان حیات کو ’ کاغذی ہے پیرہن‘ کے عنوان سے لکھا۔ عصمت چغتائی اردو ادب میں ناول نگار اور افسانہ نگار کی حیثیت سے جانی جاتی ہیں۔ یہ کتاب  14 ؍ابواب پر مشتمل ہے۔ ابتدا میں رسالہ ’آجکل‘ میں مارچ 1979 سے لے کر 1980 تک سلسلہ وار شائع ہوتی رہی۔ 1994 میں کتابی شکل میں شائع ہوئی۔ اس خودنوشت کو مکمل خودنوشت نہیں کہا جاسکتا کیوں کہ مکمل خودنوشت میں بچپن سے لے کر وفات تک کے سارے حالات و واقعات تفصیل کے ساتھ بیان کیے جاتے ہیں لیکن اس میں یہ سب دیکھنے کو نہیں ملتا۔ البتہ عصمت کی زندگی کے بہت سارے گوشے ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ اس میں گریجویٹ، ملازمت اور لحاف پر مقدمہ تک کے زمانے کے واقعات درج کیے گئے ہیں۔ پہلا عنوان ’غبارکارواں‘ کے نام سے شامل ہے۔ اس عنوان کے تحت انھوں نے بچپن کے بارے میں جانکاری فراہم کی ہے۔ عصمت کی شخصیت کی تعمیر باغی حالات کے زیراثر ہوئی۔ شاید اسی وجہ سے باغیانہ پن ان کی رگوں میں رچ بس گیا تھا۔ ان کو باغی قلم کار بھی کہا جاتا ہے۔اس خودنوشت میں علی گڑھ، لکھنؤ، دہلی اور راجستھانی تہذیب کا ذکر بھی ملتا ہے۔ راجستھان کی یادوں کا بہانہ کرکے وہاں کی جاگیردارانہ زندگی پر طنز کیا ہے۔

اخترالایمان نے اپنی داستانِ حیات کو ’اس آباد خرابے میں‘ کے عنوان سے لکھا ۔ وہ مشہور شاعر، مکالمہ نویس اور فلمی دنیا سے وابستہ شخصیت کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ یہ کتاب 1996 میں منظرعام پر آئی۔ ابتدا میں ’سوغات‘ میں قسط وار شائع ہوتی رہی۔ انھوں نے اس کتاب میں بچپن کے حالات، ابتدائی تعلیم، ہل چلانا، جنگلوں میں گھومنا پھرنا، فصلیں کاٹنا، باغوں میں ٹہلنا، گائے اور بھینس چرانا اور دودھ بیچنے کا ذکر بھی کیا ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کے سلسلے میں اپنے والد کے ساتھ بہت سی جگہوں کی سیر کی۔ انھوں نے یتیم خانے میں بھی زندگی گزاری تھی جس کا ذکر دلکش انداز میں کیا ہے۔ طالب علمی کے زمانے پر بھی بحث کی ہے جیسے علی گڑھ کی طالب علمی کا زمانہ، تلاش معاش کے سلسلے میں پونے اور بمبئی کا سفر اور زندگی کی ناکامیوں کا ذکر اس طریقے سے کیا ہے کہ پورا نقشہ سامنے آجاتا ہے۔ اس کتاب کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ انھوں نے ابتدائی زندگی سے لے کر آخری وقت تک کے مشاہدات، تجربات، حالات و واقعات کو بڑی بے باکی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ انھوں نے اپنی زندگی کے سبھی پہلوؤں کو امانت داری اور دیانت داری سے واضح کیا ہے۔ ازدواجی زندگی کی نقاب کشائی بھی کی ہے پتہ چلتا ہے کہ پہلی بیوی سے ان کے اچھے تعلقات نہیں تھے۔ انھوں نے بہت ساری فلمیں بھی لکھیں جیسے ’وقت‘ جس کو کافی مقبولیت ملی اس فلم کا ایک مکالمہ کافی مشہور ہے ”جن کے گھر شیشے کے ہوں وہ دوسروں پر پتھر نہیں پھینکتے“، مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ اس خودنوشت کو اردو ادب کی بہترین خودنوشتوں میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

ان کے علاوہ اور بھی خودنوشتیں ہیں جو اس اعتبار سے بہت اہمیت کی حامل ہیں کہ ان سے ہمارے عہد کی مکمل تہذیبی، تاریخی، سماجی، سیاسی تصویر سامنے آتی ہے اور کچھ ایسی شخصیات ذہن میں روشن ہوجاتی ہیں جنھیں ہم فراموش کرتے جارہے ہیں۔ میں نے خودنوشتوں کا صرف اجمالی جائزہ لیا ہے کہ تفصیل کے لیے ایک سفینہ درکا رہے۔

Shahida Nawaz D/o Muneer Husain
Room No 114, Srojni Naidu Girls Hostel University of Jammu - 180006 (J&K)

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...