22/11/17

تبصرہ اسلام، تعارف و تاریخ


اسلام، تعارف و تاریخ

اسلام ضابطۂ حیات ہے، قرآن درس حیات ہے اورمحمد ﷺ پیغمبر محبت اور معمار انسانیت ہیں۔ اسلام ایک الہامی اورآفاقی دین ہے۔ اس کی تعلیمات نہایت سادہ اور ہمہ گیر ہیں۔ اسلام میں مذہب کسی خاص طبقے یافرقے کی اجارہ داری نہیں ہے۔ اسے پیش کرنے کا طریقہ عقلی وفکری ہے۔ ہدایت یہ دی گئی ہے کہ عقلی دلائل سے ہی اسلام کو دنیا کے سامنے پیش کیاجائے۔ ’اسلام : تعارف وتاریخ‘ اسی اندازمیں لکھی گئی ایک اہم کتاب ہے جس میں جذباتیت کاکوئی دخل نہیں ہے۔

کتاب میں شامل پہلا مضمون ’اسلام: عقائد، عبادات اور معاملات‘ پروفیسر اخترالواسع نے تحریر کیا ہے جواسلام، عقائد، عبادات اورمعاملات کا احاطہ کرتا ہے۔ ڈاکٹرعمرفاروق کامضمون ’کلام الٰہی کی عملی تصویر: سیرت رسول“چالیس صفحات پہ محیط ہے۔ مصنف نے ابتدامیں ہی یہ واضح کر دیا ہے کہ سیرت رسول کے بنیادی ماخذ قرآن اورحدیث ہیں۔ کتاب الٰہی میں نبی کریم کی زندگی کے متعدد واقعات درج ہیں اور حدیث میں پیغمبراعظم وآخر کی ترسٹھ سالہ زندگی کا ہرنقش کسی نہ کسی انداز میں موجود ہے۔

مسئلۂ خلافت اورخلافت راشدہ پہ ڈاکٹر محمد ارشد کے مضمون میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب تک اس دنیا میں رہے مسلمانوں کی قیادت ان کے ہاتھوں میں رہی۔ تمام دینی و دنیوی امور ومعاملات قرآن کی روشنی میں ان کی ہدایت پہ انجام پاتے رہے۔

’قرآن مجید‘ پہ ڈاکٹر وارث مظہری کامضمون قابل لحاظ ہے۔ اس میں قرآن مجید کا تعارف، مفہوم اورتاریخ بیان کرنے میں مصنّف کامیاب ہیں۔ مصنّف نے قرآن کے نزول یعنی ’وحی ‘کے مفہوم اوراندازکو بیان کرتے ہوئے یہ واضح کیا ہے کہ قرآن یکبارگی کے بجائے تدریجی طور پہ نازل ہوا اور23 سالوں میں تکمیل کو پہنچا۔
’حدیث رسول: تعارف اورتعریف‘ اور’فقہ اسلامی: تعارف اورتاریخ‘میں حدیث وفقہ کی اہمیت، تفہیم اوراس کی تدوین کی کوششوں کااحاطہ کیاگیاہے۔

ڈاکٹر محمدخالدخاں نے اپنے مضمون میں حدیث کی اہمیت کی وضاحت کرتے ہوئے اس کی تدوین کے مراحل کو بخوبی واضح کیاہے۔ڈاکٹر فہیم احمدندوی نے اپنے مضمون ’فقہ اسلامی :تعارف و تاریخ‘ میں یہ صداقت بیان کی ہے کہ ﷲ نے قیامت تک انسان اورانسانی معاشرہ کی رہنمائی کے لیے قرآن کو نازل فرمایا۔ قرآن نے جامع نظام حیات پیش کیااورشریعت نے جائزوناجائزکے حدود مقرر کیے۔

ڈاکٹرمحمدارشد نے اپنے مضمون ’تصوف، مختصر تعارف و تحریک‘ میں صوفی ازم کو ردعمل کی تحریک بتایا ہے جس پہ کامل اتفاق کرنا ذرا مشکل ہے۔ یہ کہنا شاید صحیح نہیں ہے کہ دنیاوی حالات سے بدظن ہوکر درپردہ احتجاج بلند ہوا اور اس نے بعد میں منظم ہوکر تصوف کی صورت اختیارکرلی۔ یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ تصوف احتجاج نہیں بلکہ ظاہروباطن کی اصلاح کی کیفیت ہے۔

ڈاکٹر محمدارشد نے اپنے مضمون میں تصوف کے ان سلسلوں کی مختصرتاریخ اوربنیادی اوصاف و خصوصیات کو بخوبی بیان کیاہے۔ ہر عہد میں صوفیائے کرام نے بلا تفریق مذہب و ملّت خدمت خلق کوفوقیت دی اور صالح معاشرہ اور ملت کے قیام کے لیے سرگرم عمل رہے۔ اس کے علاوہ ان کے کشف و کرامات کاچرچا بھی عام رہا اورعوام الناس میں مقبولیت ومحبوبیت کا سبب بنا۔ ان کی ادبی خدمات بھی قابل قدرہیں لیکن مضمون نگار نے ان موضوعات کوقابل ذکر نہیں سمجھا ہے۔

کتاب میں آخری دو مضامین(1) اسلامی معاشرہ اوراسلامی حقوق (2) اسلام کا نظام اخلاق۔ حقوق بشر اور اسلامی معاشرہ میں رائج اخلاقی نظام سے ہے۔ کسی بھی معاشرہ کے ترقی پذیریاترقی یافتہ ہونے کامیزان اس کااخلاق، جذبۂ ایثار اوروسیع القلبی ہے۔ دونوں مضامین میں قرآن اورحدیث کے حوالوں سے یہ بات بخوبی واضح کی گئی ہے کہ اسلام کن انسانی حقوق کی ضمانت دیتا ہے اور اسلام میں اخلاق واخلاص کی بنیادیں کیا ہیں۔
اس کتاب کے مرتبین اور تمام مقالہ نگار مبارک باد کے مستحق ہیں، کیوں کہ یہ اسلام کی روح تک رسائی حاصل کرا کے صحیح تناظر میں پیش کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اس کتاب کا ترجمہ دیگر زبانوں میں جلدازجلدہوناچاہیے تاکہ اسلام کے متعلق غلط فہمیاں دور ہوں اور ملک و معاشرے میں مذہبی رواداری کی فضا ہموارہوسکے۔

کتاب کا نام:       اسلام، تعارف و تاریخ
مرتبین:             پروفیسراخترالواسع
 ڈاکٹر محمدارشد
صفحات:             288
  قیمت :            137 روپے
سنہ اشاعت:       2015
ناشر:                قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان،نئی دہلی
مبصر:              معصوم عزیز کاظمی، کاظمی ہاؤس،وہائٹ ہاؤس کمپاؤنڈ، گیا (بہار)

اگر آپ اس کتاب کو خریدنا چاہتے ہیں تو رابطہ کریں:
شعبۂ فروخت: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،ویسٹ بلاک8، وِنگ 7،آر کے پورم، نئی دہلی۔110066
ای میل: sales@ncpul.in, ncpulsaleunit@gmail.com
فون: 26109746-011
فیکس: 26108159-011

بچوں سے متعلق قومی اردو کونسل کی دیگر کتابوں کو آن لائن پڑھنے کے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں:
http://urducouncil.nic.in/E_Library/urdu_DigitalFlip.html

کونسل کی دیگر ادبی کتابوں کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں۔
http://urducouncil.nic.in/E_Library/urduBooks.html

21/11/17

تبصرہ دکن میں اردو از امتیاز احمد علیمی



دکن میں اردو

اردو کے جن محققین نے اپنی تحقیقی کاوش کی بنیاد پر ادبی دنیا میں اپنے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں ان میں نصیرالدین ہاشمی کا نام بے حد اہم ہے۔یہ حیدر آباد کے ممتاز دانشور اور نامور محقق ہونے کے ساتھ ماہر دکنیات بھی تھے۔انھوں نے ادبی دنیا میں اپنی تحقیقات،تالیفات اور تصنیفات کے ذریعہ ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔دکنی ادب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بناکر ساری زندگی اس پر عمل پیرا رہے اور دکنیات کے تمام تر سرمایے پر محققانہ نظر ڈال کر کتابی شکل میں اسے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا تاکہ آنے والی نسلیں اس بیش قیمتی سرمایے سے استفادہ کر سکیں۔نصیرالدین ہاشمی کی علمی، ادبی، تنقیدی،تاریخی،لسانی،مذہبی اور تحقیقی خدمات بہت ساری ہیں جن کا احاطہ یہاں ممکن نہیں،یہاں ان کی صرف ایک کتاب ’دکن میں اردو‘ کا تعارف مقصود ہے جو ہاشمی صاحب کی پہلی تالیف ہے۔دکن کی ادبی تاریخ کے حوالے سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اس کتاب کی جس قدر مقبولیت ہے وہ کسی اور کتاب کو حاصل نہیں ہے۔ اردو کی ادبی تاریخ اس کتاب کے بغیر نا مکمل تصور کی جائے گی۔اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ جہاں اس کے مختلف ایڈیشنوں کی اشاعت سے کیا جا سکتا ہے وہیں ادب کے زبان زد خاص و عام سے بھی لگایا جا سکتا ہے نیز اس کتاب کا عنوان ایسا ہے جو دوسرے صوبوں کے محققین کے لیے مشعل راہ ہونے کے ساتھ اپنے صوبے میں اردو کی نشوو نما کس طرح ہوئی یا ہو رہی ہے اس پر تحقیقی کام کرنے والوں کے لیے ایک بنیاد بھی ہے اور نمونہ بھی۔

اس کتاب میں کل سات ادوار قائم کیے گئے ہیں۔پہلا دور( 740ھ سے 900ھ)بہمنی عہد کا ہے جس میں اس عہد کی اردو کی نشوو نما کا تفصیل سے احاطہ کرتے ہوئے ان تمام شاعروں اور نثر نگاروں کی خدمات کاجنھوں نے اس زبان کی نشوو نما میں اہم کردار ادا کیا، سب کاتفصیل سے ذکر کیا گیا ہے جب کہ دوسرا دور (900ھ تا 1100ھ) قطب شاہی دور ہے۔بہمنی سلطنت کا شیرازہ بکھرنے کے بعدجو پانچ سلطنتیں قائم ہوئیں ان میں گولکنڈہ، بیجاپور، احمد نگر، برار،اور بیدر قابل ذکر ہیں۔ یہ سلطنتیں قطب شاہی، عادل شاہی،نظام شاہی،عماد شاہی اور برید شاہی کے نام سے موسوم تھیں۔ مصنف نے الگ الگ فصل قائم کر کے مذکورہ سلطنتوں کے ذریعے جس طرح اردو زبان و ادب کی ترویج و اشاعت ہوئی اور جن حکمرانوں نے اردو زبان و ادب کے فروغ میں عملی طور پر حصہ لیا ان سب کا مفصل اور مدلل انداز میں احاطہ کیا ہے،نیز اس عہد میں جس طرح کی شعری ونثری اصناف وجود میں آئیں ان سب کا بھر پور اظہار کیا گیا ہے۔مذکورہ سلطنتوں نے علم و ہنر کی ترویج اور تہذیب و تمدن کو رواج دینے میں جس طرح کی کاوشیں کی ہیں وہ نا قابل فراموش ہیں۔ان سلطنتوں نے اردو کی سر پرستی کی اور اس کو ترقی دے کر بار آور بنا دیا، یہی نہیں بلکہ اس کو اپنی سرکاری اور دفتری زبان قرار دے کر اس میں مزید روح پھونک دی۔کتاب میں ان سلطنتوں کے ذریعے اردو ادب کی بیش بہا خدمات کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔

تیسرا دور(1101ھ تا  1136ھ) مغلیہ عہد کا ہے جس میں مغلیہ اردو کی نشوو نما پر تفصیلی مباحث ہیں جن میں ولی کی دہلی آمد کے بعد جو اردو پروان چڑھی اور جس زبان میں شاعری کی جانے لگی ان سب کے اسباب و علل کا محققانہ جائزہ لیا گیا ہے۔اس کے علاوہ نظم و نثر میں تبدیلی زبان سے جس طرح کی شفافیت آگئی تھی مثالوں کے ذریعے اس کو واضح کیا گیا ہے۔

چوتھا دور(1136ھ تا1220ھ)کا ہے جو سلطنت آصفیہ کے عہد حکومت کا زمانہ ہے،اس حکومت کی زبان اگرچہ فارسی تھی اور سارے دفتری امور فارسی میں ہی انجام دیے جاتے تھے لیکن فارسی کے ساتھ ساتھ اردو بھی قدم سے قدم ملا کر چل رہی تھی اور اس عہد کے شعرا و ادبا اپنی تخلیقات فارسی کے ساتھ اردو میں بھی پیش کرتے رہے اور رفتہ رفتہ اردو زبان میں انگریزی اور فرانسیسی کتابوں کے تراجم کی بھی ابتدا ہوئی۔اردو کے پہلے علمی رسالے اور اردو یونیور سٹی کے قیام کا سہرا بھی سلطنت آصفیہ کے سر جاتا ہے۔ اردو زبان کی ترویج و اشاعت میں اس سلطنت نے جو خدمات انجام دی ہیں وہ ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔اردو زبان و ادب کی آبیاری میں اس سلطنت نے جو کردار نبھایا، مصنف نے مختلف تاریخی حوالوں سے اس عہد میں اردو زبان و ادب کی صورتِ حال کابھر پور احاطہ کیا ہے۔

پانچواں اور چھٹا دور بھی سلطنت آصفیہ سے ہی متعلق ہے۔اس عہد میں نظم و نثر میں لسانی اور موضوعاتی سطح پر تغیر و تبدل کا ذکر کرتے ہوئے اردو کے سرکاری زبان بننے تک کی تمام روداد رقم کی گئی ہے۔اس کے علاوہ مختلف انجمنوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن کے ذریعے اردو زبان و ادب کا بہت زیادہ فروغ ہوا۔

ساتواں دورجس میں اردو کے عروج و زوال کی داستان رقم کی گئی ہے، 1336ھ تا 1374ھ پر مشتمل ہے۔ اس میں اردو زبان و ادب کے فروغ میں جامعہ عثمانیہ،کلیہ جامعہ عثمانیہ اور شعبہ تالیف و ترجمہ کا تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے اس عہد کے شعرا اور نثر نگاروں کے ساتھ خواتین کے کارناموں کابھی مفصل احاطہ کیا گیا ہے۔ نیز اردو زبان و ادب کے فروغ میں اردو اخبارات و رسائل اورر مختلف انجمنیں مثلاً انجمن ترقی اردو،ادارہ ادبیات اردو،حیدر آباد اکیڈمی،اردو مجلس،انجمن ارباب اردو اور انجمن ترقی پسند مصنّفین وغیرہ نے جو خدمات انجام دی ہیں ان سب کا الگ الگ ذکر کیا گیا ہے۔

مذکورہ سات ادوار کے بعد ’آندھرا میں اردو‘ کے تحت آندھرا پردیش میں اردو زبان و ادب کی صورتِ حال کا جائزہ لیتے ہوئے تقسیم ہند کے نتیجے میں اردو کی جو صورتِ حال ہوئی اس کو تاریخی تناظر میں پیش کرتے ہوئے لسانی سطح پر مختلف صوبوں کی تقسیم کا ذکر کیا گیا ہے اور مرد و خواتین شاعر اور نثر نگاروں کی تخلیقات پر مدلل گفتگو کی گئی ہے۔


مذکورہ تما م مباحث کو سامنے رکھ کر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے جس میں دکنی ادب کا بھر پور احاطہ کیا گیا ہے۔قومی کونسل نے اسے کم قیمت میں شائع کر کے ادب کے طلبا کے لیے آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔

کتاب کا نام:   دکن میں اردو
مصنف: نصیر الدین ہاشمی
صفحات: 945،
 قیمت: 325 روپے،
 سنہ اشاعت: 2016
پبلشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان
مبصر:     امتیاز احمد علیمی،ریسرچ فیلو،شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی


اگر آپ اس کتاب کو خریدنا چاہتے ہیں تو رابطہ کریں:
شعبۂ فروخت: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،ویسٹ بلاک8، وِنگ 7،آر کے پورم، نئی دہلی۔110066
ای میل: sales@ncpul.in, ncpulsaleunit@gmail.com
فون: 26109746-011
فیکس: 26108159-011

بچوں سے متعلق قومی اردو کونسل کی دیگر کتابوں کو آن لائن پڑھنے کے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں:
http://urducouncil.nic.in/E_Library/urdu_DigitalFlip.html

کونسل کی دیگر ادبی کتابوں کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں۔
http://urducouncil.nic.in/E_Library/urduBooks.html

20/11/17

مولانا ابوالکلام آزاد اور عالمِ عرب از پروفیسر محمد اسلم اصلاحی

مولانا ابوالکلام آزاد اور عالمِ عرب


ہم میں سے شاید و باید ہی کوئی ایسا شخص ہو جو اس حقیقت سے ناواقف ہو کہ ہمارے عظیم سیاسی وقومی رہنما اور ہمارے اولین وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کی پیدائش 1888 میں سرزمین حجاز کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں ہوئی تھی۔ اس سلسلے کی سب سے اہم اور قابل غور بات یہ ہے کہ مولانا کو سرزمین عرب سے اپنے اس پیدائشی تعلق کا احساس زندگی بھر رہا اسی لیے جب کبھی بھی انھیں کسی افتاد کا سامنا کرنا پڑا تو انھوں نے عرب دانشوروں، مفکروں اور رہنماں سے کسب فیض میں کسی طرح کے تامل سے کام نہیں لیا۔ ان کی مادری زبان چوں کہ عربی تھی اسی لیے اوائل عمر سے ہی عربی رسائل ومجلات ان کے زیر مطالعہ رہے اور انھیں عرب ممالک کی علمی وادبی نیز اجتماعی و سیاسی نیز مذہبی سرگرمیوں سے واقفیت حاصل ہوتی رہی۔ عربی کے یہ میگزین اور رسالے ابتدا میں انھیں اپنے والد اور ان کے دوستوں اور مریدوں کے توسط سے مل جاتے تھے۔ بعد کے ایام میں جب وہ خود اخبارات و رسائل کی دنیا سے وابستہ ہوگئے تو ان کے پاس ان کے اپنے اخبارات ورسائل کے تبادلے میں بعض اہم عربی مجلات اور اخبارات آنے لگے۔

جن عربی رسالوں اور میگزینوں سے وہ اول اول متاثر ہوئے ان میں مصر سے شائع ہونے والے رسائل الموید، الہلال، المنار، مصباح الشرق، اور سرزمین طرابلس، لبنان سے شائع ہونے والا جریدہ ’الجوائب‘ خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔ مذکورہ رسائل کے مطالعے سے جہاں انھیں اپنی عربی زبان کو بہتر سے بہتر بنانے کا موقع مل رہا تھا وہیں انھیں ان کے ذریعے عرب ممالک کے موجودہ سیاسی، علمی، ادبی اور مذہبی احوال وکوائف سے بھی آگاہی حاصل ہورہی تھی۔ اس آگاہی کا اثر ان کے افکار ونظریات پر بہت گہرا پڑا۔

یہ غالباً اسی اثر کا نتیجہ تھا کہ 1908 میں انھوں نے جب بعض عرب ممالک کی سیاحت کی تو وہاں کے علما وفضلا نیز دانشوروں سے موجودہ اسلامی دنیا کے مسائل ومشکلات کے بارے میں بڑی گہرائی اور گیرائی کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔ ا س سیاحت کی بابت ان کے حوالے سے علامہ عبد الرزاق ملیح آبادی نے جو کچھ تحریر کیا ہے ، اس پر طائرانہ نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ عرب دنیا  کا دینی، ادبی او ر سیاسی حلقہ پہلے سے ہی مولانا کی شخصیت اور ان کے مقام و مرتبے سے واقف ہوچکا تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ وہ عراق ومصر و شام اور ترکی میں جہاں جہاں گئے ان کے واقف کاروں نے نہ صرف ان کا گرم جوشی کے ساتھ استقبال کیا بلکہ بعض سیاسی امور میں ان کو کچھ ایسے مشورے بھی دیے جو آنے والے دنوں میں ان کے لیے منیارہ نور ثابت ہوئے۔ مولانا نے خوداس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے عرب ممالک میں اپنے سفر کے دوران وہاں کے علما وادبا نیز سیاسی رہنماں سے بہت کچھ سیکھا۔ مصر کے مشہوراور ہردلعزیز سیاسی رہنما مصطفی کامل کے ہمنواں سے انھوں نے ان سیاسی حربوں کی بابت جانکاری حاصل کی جن کا استعمال وہ لوگ وادیِ نیل پر براجمان برطانوی سامراج کے خلاف کررہے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قاہرہ کی سیاسی سرگرمیوں کے مشاہدہ کے بعد مولانا آزاد کے دل میں برطانوی استعمار پسندوں کے خلاف نفرت کی آگ مزید بھڑک اٹھی اور انھوں نے اس بات کا عزم بالجزم کرلیا کہ آنے والے دنوں میں ان کی بیشتر تگ وتاز کا محور انگریزوں کے خلاف معرکہ آرائی ہوگی۔ ہندوستان اور مصر کے احوال ان کی نگاہ میں یکساں نوعیت کے حامل تھے۔ یہ دونوں ہی ملک برطانوی حکمرانوں کی چیرہ دستیوں کے شکار تھے ۔ دونوں ہی ملکوں میں اپنے غیر ملکی آقاں کے خلاف غم و غصہ اور نفرت کی آگ بھڑک رہی تھی۔ دونوں ہی ملکوں کے باشندے غلامی اور ذلت کا راستہ اختیار کرنے پر مجبورکر دیے گئے تھے۔ اس ظلم و جبر کے خلاف مصر کے سیاسی رہنما متواتر اپنی صدائے احتجاج بلند کررہے تھے اور اس بات کا پرزور مطالبہ کررہے تھے کہ ان کے ملک میں خود ان کے اپنے لوگوں کی حکومت ہونی چاہیے۔

اس طرح کے انقلابی افکار و خیالات نے مولانا آزاد کے انداز فکر اور زاویہ نظر میں زبردست تبدیلی پیدا کردی اور انھوں نے تہیہ کرلیا کہ وہ عربوں بالخصوص مصریوں کی طرح برطانوی سامراج کے خلاف لڑائی میں اپنی عظمت و شوکت نیز علم و دولت الغرض سب کچھ دا پر لگادیں گے۔ اور ہندوستان واپس آنے کے بعد انھوں نے فی الواقع کیا بھی ایسے ہی۔ اس حقیقت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے جب 13جولائی 1913 میں اپنے شہرہ آفاق رسالہ الہلال کا پہلا شمارہ شائع کیا تو ٹائٹل کور پر جمال الدین افغانی (1839-1897) کی تصویر اور اندرون صفحات پر شیخ محمدعبدہ (1845-1905)) اور علامہ رشید رضا (1935-1965) کی تصویر یں شائع کیں۔ مذکورہ تصویروں کی نمایاں اشاعت خود اس حقیقت کی غماز ہے کہ مولانا آزاد کو عرب بالخصوص مصری علما و فضلا نیز وہاں کے دانشوروں اور خردمندوں کے مقام و مرتبے کا بخوبی اندازہ تھا اور وہ چاہتے تھے کہ مسلمانان ہند جمال الدین افغانی کے نظریہ ’اخوت اسلامی‘ کو اچھی طرح سمجھ کر مغربی استعمارپسندوں کے خلاف صف آرا ہوجائیں۔ الہلال کے بیشتر شمارے اس حقیقت کے شاہد ہیں کہ مولانا اپنے مذکورہ رسالے کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف اہل یورپ کی ریشہ دوانیوں اور چیرہ دستیوں کو طشت ازبام کرنا چاہتے تھے اور اہل اسلام کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ مغرب کی سامراجی طاقتیں ان کے عقیدہ و ایمان نیز ان کے تہذیب و تمدن کی بیخ کنی پر آمادہ ہیں۔ مولانا آزاد کے بیشتر عرب مداحین ومعتقدین کا خیال ہے کہ اس طرح کے انقلابی افکار و نظریات مولانا کے ذہن و دماغ میں صرف اس وقت موجزن ہوئے جب انھوں نے مصر ی رہنماں اور دانشوروں مثلا مصطفی کامل، محمد فرید اور سعد زغلول نیز جمال الدین افغانی ، شیخ محمد عبدہ او ر علامہ رشید رضا وغیرہ کی سیاسی تحریروں اور ان کی دینی و علمی نگارشات کا بہ نظر غائر مطالعہ کیا اور محسوس کیا کہ سارا عالم اسلام مغربی قمار بازوں اور دراندازوں کے خلاف لام بند ہے۔ ایسی صورت میں اگر مسلمانان ہند اپنے فریضہ دینی کے تعلق سے بیدار مغزی کا ثبوت نہیں دیں گے تو اقوام عالم کے درمیان ابدی ذلت و رسوائی ان کا مقدر ہوگی اور ان کے لیے غلامی کی زنجیروں سے رہائی پانا انتہائی دشوار ہوجا ئے گا۔

مولانا کے عرب معتقدین کے اس خیال کو اگر مبنی بر صداقت تسلیم کرلیا جائے تو اس حقیقت کے اعتراف میں ہمیں کسی طرح کا تامل نہیں ہونا چاہیے کہ مولانا کی ذہنی و فکری ساخت میں عرب دانشوروں اور مفکروں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ مشہور عرب ادیب علامہ انور الجندی نے خاص طور سے اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مولانا آزاد کے دل و دماغ میں آزادی و حریت کی تڑپ، مغربی استعمارپسندوں سے نفرت و کراہیت نیز قوم و وطن سے محبت جمال الدین افغانی اورشیخ محمد عبدہ کی تحریروں سے تاثر پذیری کا نتیجہ تھی۔ مولانا کی نگاہ سے افغانی اور عبدہ کے زیر ادارت شائع ہونی والے العروة الوثقی کے بعض شمارے گزرچکے تھے اور انھیں بخوبی اندازہ ہوگیا تھا کہ مغربی طاقتوں کے خلاف مقابلہ آرائی کا وقت آن پہنچا ہے اور اس مقابلہ آرائی کے لیے اہل اسلام کے درمیان اتحاد و اتفاق کا ہونا لازمی ہے۔ الہلال و البلاغ کے بیشتر مشمولات اسی مرکزی فکر کے آئینہ دار ہیں۔ اسی فکر و خیال کو مزید تقویت دینے نیز اس کی مزید تشہیر کی غرض سے مولانا نے 1923 میں’الجامعہ‘ کے نام سے عربی زبان میں ایک پندرہ روزہ رسالہ جاری کیا۔ اس پندرہ روزہ رسالے کی ادارت کی ذمے داری ہرچند کہ علامہ عبد الرزاق ملیح آبادی کے ہاتھوں میں تھی لیکن اس کے حقیقی روح رواں مولانا ابولکلام آزاد تھے اور یہ انھیں کے بنیادی افکار وخیالات کا ترجمان تھا۔ اس رسالے کے اجراءکے وقت ہی مولانا نے اس بات کی وضاحت کر دی تھی کہ اس کا مقصد دنیا ئے اسلام کو مغربی طاقتوں کے خلاف صف آراءکرنا ہے نیز ملت بیضاءکی بقا اور استحکام کے لیے خلافت عثمانیہ کے ہاتھوں کو مضبوط کرنا ہے۔ عام مسلمانوں بالخصوص عربوں کو اہل یورپ کی ان چالوں اور سازشوں سے آگاہ کرنا ہے جنھیں وہ اسلامی دنیا کے اتحاد و اتفاق کو پارہ پارہ کرنے کے لیے اختیار کررہے ہیں۔

مولانا کو اپنے اس مقصد کے حصول میں اس وقت زبردست کامیابی ملی جب عربوں کے ایک بہت بڑے طبقے نے والیِ مکہ شریف حسین کے اس اقدام کی شدید مخالفت کی جس کی رو سے وہ خلافت عثمانیہ سے علیحدہ ہوکر ایک عرب سلطنت کی داغ بیل ڈالنے والا تھا۔ بہ الفاظ دیگر رسالہ’الجامعہ‘ کی آواز صدا بصحرا نہیں ثابت ہوئی۔ بیشتربرادران عرب نے اس آواز پر لبیک کہا۔ رسالے کی اس غیر معمولی مقبولیت سے گھبراکر شریف مکہ نے اپنے زیر اقتدار علاقوں میں اس کے داخلے پر پابندی لگادی۔ یہی نہیں بلکہ اپنے یہاں سے شائع ہوئے رسالہ ’القبلہ‘ میں ان مضامین و مقالات کی تردید شائع کروائی جو رسالہ الجامعہ میں اس کے خلاف لکھے گئے تھے۔ ان تردیدی تحریروں کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ مسئلہ خلافت کے تعلق سے شریف مکہ کو نہ صرف مولانا کے افکار و خیالات پرسخت اعتراض تھا بلکہ اسے رسالہ الجامعہ کے مشمولات و مضامین کی بنا پر مولانا سے ذاتی عناد اور پر خاش ہوگئی تھی۔ غالبا اسی وجہ سے اس نے اپنی جوابی تحریروں میں مولانا کے لیے ابوالکلام کے بجائے ابوالکلاب یعنی پدر سگاں یعنی کتوں کا باپ لکھوایا۔

رسالہ الجامعہ میں شائع نگارشات و مقالات پر ایک سرسری نگاہ ڈالنے سے ہم بہت جلد اس نتیجے تک پہنچ جاتے ہیں کہ مولانا مسئلہ خلافت کے تئیں انتہائی حساس واقع ہوئے تھے اور اس تعلق سے ان کا اپنے بعض عرب دوستوں سے بھی سخت اختلاف تھا یہی وجہ تھی کہ جب انھیں پتہ چلا کہ ان کے دوست علامہ رشید رضا مسئلہ خلافت کے باب میں عرب قوم پرستوں کے ہمنوا بن چکے ہیں تو انھوں نے متعدد خطوط ان کے نام لکھے اور ان سے اس بات کی وضاحت چاہی کہ اسلامی تعلیمات کی رو سے خلافت عثمانیہ کے خلاف صف آرائی کیوں کر جائز ہے۔ مصر کے سابق وزیر اوقاف شیخ عبد المنعم النمر نے اپنے تحقیقی مقالہ ابوالکلام آزاد۔ المصلح الدینی والزعیم السیاسی فی الہند، میں ان خطوط کا تذکرہ قدرے تفصیل سے کیا ہے اور اس بات کی وضاحت کی ہے کہ علامہ رشید رضا اور مولانا آزاد کے مابین خلافت عثمانیہ کے تعلق سے اختلاف رائے تھا۔ مولانا اس مسئلے کو خالص دینی نقطہ نظرسے دیکھ رہے تھے جب کہ علامہ رشید رضا اور ان کے معاصرمصری علماءعرب قوم پرستوں کے خیالات سے متاثر ہوکر عثمانی خلافت کو محض ایک سیاسی تنازعہ تصور کررہے تھے۔ اسی لیے وہ عثمانی خلافت کی بیخ کنی پر آمادہ عرب مفاد پرستوں کی ترکوں کے خلاف سرگرمیوں کی در پردہ تائید کررہے تھے۔ اس تناظر میں اگر ہم مسئلہ خلافت پر غور کریں تو یہ بات کس قدر عجیب لگتی ہے کہ ایک طرف جہاں ہندوستانی قائدین بشمول مولانا آزاد خلافت عثمانیہ کی بقا کے لیے سردھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھے وہیں دوسری طرف بیشتر عرب علماءو فقہاءمغربی طاقتوں کی ایما پر عرب علاقوں میں ترکوں کی پشت میں چھرے گھونپ رہے تھے اور دانستہ اور نادانستہ طور پر فلسطینی علاقوں میں موجود ہ اسرائیلی حکومت کی بنیادیں ہموار کررہے تھے۔

مولانا آزاد کو اس افسوس ناک صورتِ حال نے بے قرار کردیا تھا اور انھوں نے اپنی جانب سے بھرپور کوشش کی کہ برادران عرب اپنی ترک مخالف کارروائیوں سے باز آجائیں اور مغربی قمار بازوں کے ذریعے ترکوں اورعربوں کے درمیان پھیلائی گئی نسلی منافرت ومخاصمت کو بالائے طاق رکھ دیں لیکن یہ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ اس سلسلے میں مولانا آزاد کی ہر کوشش بے سود ثابت ہوئی اور وہ تاریخ کے مقدرات کو ٹال نہیں سکے حالانکہ اس سلسلے میں انھیں عرب علماءو مفکرین سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں وہ اس لیے کہ اسلامی تعلیمات میں نسلی اور قومی تفاخر و تناحر کی سرے سے کوئی گنجائش ہے ہی نہیں ۔ اس پس منظر میں انھیں یقین تھا کہ دینی تعلیمات سے آشنا عرب اپنے ان ہم وطن قوم پرستوں پر غلبہ حاصل کرلیں گے جو مغربی استعمار پسندوں کے شاطرانہ منصوبوں کا شکار ہوکر خلافت عثمانیہ کی اینٹ سے اینٹ بجانے پر تلے ہوئے تھے۔

اپنے اس یقین وایمان کے زیر اثر مولانا نے اردو میں مسئلہ خلافت اور جزیرہ عرب نامی کتا ب لکھی جس کا ترجمہ بالاقساط علامہ رشید رضا کے زیر ادارت شائع ہونے والے المنار میں شائع ہوا۔ اس کتاب کے لکھنے کی بنیادی غرض و غایت خلافت کے تعلق سے عربوں میں پائی جانے والی بدگمانیوں کا قلع قمع کرنا تھا اور ان پر یہ حقیقت واضح کرنی تھی کہ وَاعتَصِمُوا بِحَبلِ اللّٰہِ جمیعا یعنی جملہ اہل ایمان اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لیں،  پر موجودہ حالات میں عمل صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب ہم خلافت عثمانیہ کی حفاظت و بقا کے لیے سرگرم ہوجائیں نیز اس پر منڈ لارہے خطرات کے خلاف سینہ سپر ہوجائیں۔

بہرحال اس اہم اور نازک مسئلے پر مولانا کی جملہ کدو کاوش ناکامی کا شکار ہوگئی اور عرب قوم پرستوں کے بالمقابل ان کے قرآنی دلائل و براہین کو خود عرب علماءو فقہاءنے کوئی اہمیت نہیں دی۔ بہ الفاظ دیگر دینی رنگ میں ڈوبے ہوئے ان کے سیاسی بوباس کے حامل افکار و نظریات کو عرب دنیا میں کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہوئی اور خلافت عثمانیہ سے ان کے قلبی ، ایمانی نیز جذباتی تعلق پرکسی نے کوئی توجہ نہیں دی۔

اس مایوس کن صورتِ حال کے باوجود ہمیں فی زمانہ یہ دیکھ کر یقینا بڑی خوشی ہوتی ہے کہ معاصر عرب دنیا میں مولانا کی شناخت آج بھی ان کے بعض دینی ، علمی اور ادبی کارناموں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ان کے ایسے علمی اور تحقیقی کارناموں میں ان کے اس انکشاف کو گرانقدر اہمیت حاصل ہے جس کا تعلق قرآن کریم میں مذکور ذوالقرنین کی شخصیت کی تحدید و تعیین سے ہے قرآن کے بیشتر مفسرین مولانا آزاد کے بقول مذکورہ تاریخی شخصیت کے تعلق سے غلط فہمی کا شکارہوگئے ہیں ۔ بنابریں انھوں نے ذوالقرنین کی شخصیت کو چیستا ں بنادیا ہے۔ مولانا آزاد نے اس موضوع پر تحقیق کی اور کافی غوروخوض نیز بحث وتمحیص کے بعداس  نتیجے پر پہنچے کہ ذوالقرنین نہ تو سکندر مقدونی ہیں اور نہ ہی عرب قبیلہ حمیر کے بادشاہوں میں سے کوئی بادشاہ بلکہ وہ درحقیقت قدیم بلاد فارس کے حکمراں کورش ہیں جنھیں یہودی حضرات قورش یا کیخسرو کے نام سے جانتے ہے۔ اور ان کا زمانہ سکندرمقدونی سے پہلے کا ہے۔ مولانا آزاد نے اپنے اس انکشاف کی تائید میں جو ثبوت و دلائل پیش کیے ہیں ان کو پڑھنے کے بعد شاید ہی کوئی ایسا کورمغز شخص ہو جو ان کی تحقیق کی داد دیے بغیر رہ جائے۔ عرب علماءو فضلاءاور محققین اس اعتراف حقیقت کے تعلق سے بھلا پیچھے کیوں رہتے۔ مصری عالم علامہ احمد حسن باقوری نے وَیَسالُونَکَ عَن ذِی القَرنَینِ یعنی لوگ ذوالقرنین کے بارے میں تم سے سوال کرتے ہیں “ کے عنوان سے ایک کتاب تصنیف کی اور اس میں ذوالقرنین کے بارے میں مولانا آزاد کی تحقیق کو بڑی شرح و بسط کے ساتھ پیش کیا اور اس سلسلے میں مولانا کے انکشاف کو حرف آخر قرار دیتے ہوئے ان کی ژرف نگاہی، دقیقہ رسی اور نکتہ سنجی کی جم کر مدح سرائی کی اور معاصر علماءنیز مفسرین کے درمیان انھیں تحقیق و تدقیق کے میدا ن میں یکتائے روزگار قرار دیا۔

مولانا آزاد کے شکوہ علم و فضل کا اعتراف عرب دنیا کے ہراس عالم دین نے کیا ہے جس کی برصغیر ہندوپاک کے تاریخی اور ثقافتی ورثے سے ذرہ برابر بھی دلچسپی رہی ہے۔ عربوں کے اندر اس دلچسپی کو پیدا کرنے میں سہ ماہی رسالہ ثقافة الہند جسے ہندوستانی وزارت خارجہ کے ایک ذیلی ادارہ انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز گزشتہ 65سال سے شائع کررہا ہے ، کی عظیم الشان خدمات کو کسی طور پر بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس رسالے کی داغ بیل مولانا آزاد نے ہی ڈالی تھی اور اس کا مقصد عرب دنیا کو ہندوستانی تہذیب و ثقافت سے واقف کرانا تھا۔ اس رسالہ کا اجرا خود اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ مولانا آزاد کے یہاں عربوں سے تعلقات کو ترجیحی حیثیت حاصل تھی اورانھیں بلاشبہ اپنے اس مقصد میں مذکورہ رسالے کی بدولت قابل قدر کامیابی حاصل ہوئی۔ عربوں کے اندر اس رسالے کی وجہ سے نہ صرف ہندوستان شناسی کو فروغ حاصل ہوا ہے بلکہ اس کے ذریعے عرب علماءو مفکرین نے مولانا آزاد کے افکار و خیالات سے گہری شناسائی بھی حاصل کی ہے۔
پروفیسر محمد اسلم اصلاحی
نئی دہلی

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...