5/6/18

مضمون : لغت نویسی میں شعری استناد۔ سلیم شہزاد



لغت میں معنی بیان کرنے کا ایک مخصوص طریقِ کار ہوتا ہے۔ اس کے تفاعل سے اندراج کردہ متن کی جو ساخت نمو پاتی ہے ، اس میں پہلے وہ لسانی ؍ لفظی ساختیہ ہوتا ہے جس کے معنی بیان کیے جاتے ہیں۔ یہ گویا بیج ہے جس سے معنی بیانی کے طریق کار کی مختلف شاخیں پھوٹتی ہیں یعنی لفظ کا تلفظ ، املا ، وضاحت ، ایک یا زائد مترادف ، لسانی اصل کا تعارف ، قواعدی حیثیت اور معنی کی سند وغیرہ۔زیر نظر تحریر میں اسی آخری مذکورہ لغوی مظہر سے سروکار رکھا گیا ہے۔ ’ معانی کے شواہد‘ کے مسئلے پر وفیسر نذیر احمد نے اپنے مقالے بہ عنوان ’ اردو لغت نویسی کے مسائل‘ میں لکھا ہے کہ :
’’اردو لغت نگار ی کا یہ پہلو بہت کمزور ہے اس لیے کہ بعض لغات شواہد سے خالی ہیں اور جن میں شواہد آئے ہیں ، وہ اکثر الفاظ و فقرات کے ہیں جن کی شعری شہادت موجود نہیں۔نثری ادب یا کسی اور طرح کی تحریر کی مثالیں شاذ ہی ملتی ہیں۔اکثر کہا جاتا ہے کہ ہمارے لغت شعری لغت ہیں۔‘‘
عصری معنوں میں’ شعری لغات ‘ وہ نہیں ہیں جن کا تصور ڈاکٹر موصوف کے اقتباس سے ظاہر ہے۔ شعری لغات تو وہ نصاب نامے بھی نہیں تھے جو عروضی آہنگ کو بروئے کار لاکر مثنوی کی ہیئت میں لکھے جاتے تھے۔ لغات میں اشعار کی بھر مار دیکھ کر البتہ کہا جاسکتا ہے کہ لغت نویس نے مجرد لفظوں اور فقروں وغیرہ کے معانی کے استناد کے لیے ایسا مواد پیش کیا ہے جو لغت میں درج لفظ کے معنی سے زیادہ معنوں کا حامل ہوتا ہے اور یہ زائد معنی دیے گئے لفظ کے معنی پر اثر انداز ہوتے ہیں یعنی ایسا ہوسکتا ہے کہ زائد معنی سند میں نہ ہوں تو اندراج کا لفظ وہ معنی ہی افشا نہ کرے جو لغت نویس بیان کر رہا ہے۔کسی لفظ کے لغوی معنی کا شعر میں پائے جانے والے (اسی لفظ کے) مجازی معنی سے کوئی خاص تعلق نہیں ہوتا۔ لفظ کے لغوی معنی اکہرے ہو سکتے ہیں جب کہ شعر میں مستعمل اسی لفظ کے معنی اکہرے نہیں ہوتے۔
لغت نویسی افسانہ نویسی کی طرح کوئی ادبی تخیلاتی سرگرمی نہیں ہے، علم اللسان ؍ لسانیات کے معنیاتی شعبے سے اس کا تعلق ہے۔ اگرچہ ادب کی طرح لغت بھی زبان کا ایک مظہر ہے اور ادبی لسانی اظہار جہاں ایک منظم ساخت کا متقاضی ہے ، وہیں لغوی مخاطبے کی بھی اپنی مخصو ص ساخت ہوتی ہے جو ادبی ساخت کی طرح منظم نہیں ہوتی ۔اس ساخت میں شعری استناد کے طور پر لائے جانے والے اشعار وہ فنی قدر نہیں رکھتے جو لغت کے باہر رہ کر انھیں حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح سند کے لیے دیے گئے نثر پاروں کی معنویت اپنی کلیت سے جدا ہوجانے کی وجہ سے اب لغت میں دیے گئے اندراج کی معنویت سے ہم رشتہ ہوجاتی ہے اس لیے ایک طرح سے محدود ہوتی ہے۔شاید اسی لیے ’ فرہنگ آصفیہ‘ کے دیباچے میں اس کے مؤلف مولوی سید احمد دہلوی شعری استناد پر اس طرح اعتراض کر تے ہیں :
’’اگر کوئی شاعر اپنے شعر میں کوئی فقرہ اظہار مضمون کے واسطے موزوں کرلے تو اس کے یہ معنی نہیں ہوسکتے کہ وہ فقرہ، محاورہ یا اصطلاح بن گیا ۔اس طرح تو شعر کاہر ٹکڑا محاورہ یا اصطلاح خیال کیا جاسکتا ہے۔‘‘
اپنی تالیف کے الف سے یے تک کے اندراجات میں مؤلف موصوف نے لفظوں، فقروں، محاوروں اور اصطلاحوں کے معنوی استناد کے لیے لاتعداد اشعار شامل کر لیے ہیں۔ محولہ بالا اقتباس میں اپنی بات کے خلاف مؤلف کے اس عمل کو لیکن اردو لغت نویسی کی ایک اہم روایت قرار دیا جاسکتا ہے جس کا آغاز نصاب ناموں سے ہوا۔امیر خسرو سے مرزا غالب تک کے لکھے ہوئے نصاب نامے منظوم ہیں ۔ کثیر لسانی لفظی مترادفات کی تعلیم و تدریس کے ان وسائل کو مثنوی کی ہیئت میں اصطلاحی لغت کی ایسی ابتدائی مثالیں کہنا چاہیے جن کا تعلق قدیم علوم کی منظوم ضبط کاری سے تھا یعنی جب تاریخ ، فلسفہ ، اخلاقیات اور مذاہب وغیرہ کی تعلیم نظم میں دی جاتی تھی۔
نصاب نامے کی روایت سے انحراف اور اس کی لغت میں قلب ماہیت کی اولین مثال ملا عبدالواسع ہانسوی کی تالیف ’ غرائب اللغات‘ کو قرار دیا جا سکتا ہے جو گیارہویں صدی ہجری کے اواخر یا بارہویں صدی ہجری کے اوائل میں مدوّن کی گئی ۔ اسی زمانے (یعنی 1792 ) میں مرزا جان طپش دہلوی نے مختصر لغت’ شمس البیان فی مصطلحات ہندوستان‘ تالیف کی جس کا تعارف در علمِ لغت مشتمل بر لغات و محاوراتِ اردو و با سندِ اشعارِ فصحا و بلغاے ہندوستان کے اشتہار سے کیا گیا۔اس لغت میں شعری استناد کی شمولیت کو نصاب نامے کی منظوم روایت کی تقلید سمجھنا چاہیے۔ لفظ یا فقرے کے اندراج کے بعد مؤلف اس کا وضاحتی تلفظ بتا کر مندرج لفظ یا فقرے کا مترادف بتائے بغیر اس کی معنوی وضاحت کرتے اور سند میں شعر دیتے ہوئے کہتے ہیں :
استادی و مولائی حضرت درد می فرماید 
مرزا علی تقی محشر گوید 
میر تقی میر گوید 
وغیرہ۔اس کے بعد ڈاکٹر ایس ڈبلیو فیلن کی ’ ہندوستانی انگلش ڈکشنری ‘ (1879) میں معانی کی سند کے لیے لوک گیت ، دوہے او ر کبت وغیر ہ بھی شامل نظر آتے ہیں۔ بعد کی لغتی تالیفات میں شعری استناد کی روایت کو مزید استحکام حاصل ہوا۔امیر مینائی کی ’ امیر اللغات‘ (1890/92)میں شعری تراکیب کی بہتات ملتی ہے جو ایک شاعر کی تالیف ہونے کا نتیجہ ہے۔اردو لغات کے زیادہ تر شعری استناد کا حامل ہونے کے لیے اس زمانے کے ادبی ماحول کو ذمہ دار کہا جاسکتا ہے۔
اٹھارہویں اور انیسویں صدی کا زمانہ اردو شاعری کے عروج کا زمانہ تھا۔اردو نثر مذہبی مسائل کو مخصوص فقہی ؍ اخلاقی ؍ صوفیانہ وغیرہ لفظیات کے توسط سے بیان کر رہی تھی اس لیے اس میں عام لسانی اظہار کے خواص مفقود تھے ۔ نثر کا ادبی اسلوب داستان طرازی تک محدود تھا اور اگرچہ داستانی نثر بیانیے کے متعدد رنگوں کی حامل تھی لیکن اس نثر کو بھی لسانی عمومیت سے بڑی حد تک عاری ہی سمجھنا چاہیے۔اس زمانے میں بعض شعرا و ادبا نے اردو زبان کے ذخیرۂ الفاظ کو ابجدی وغیرہ ترتیب میں مرتب کرکے لغت نویسی کا آغاز کیا ۔معنوی استنا دکے لیے ان کے سامنے شعری سرمایہ وافر مقدار میں موجود تھا۔ پھر لفظوں کی قواعدی ، املائی ، اشتقاقی اور تلفیظی سند بھی شعرا کے کلام ہی میں تلاش کرنے کی روایت زبان کے استعمال کی بڑی روایت تھی اس لیے لغت نویسوں کے لیے شعر سے استناد کرنے کے سوا چارہ نہ تھا۔بھولے بھٹکے نثری تعملات سے کوئی سندلائی بھی جاتی تھی تو ایسی نثر کا شعریت سے مملو ہونا ناگزیر تھا۔ چنانچہ معنی بیانی میں اشعار کے استناد کی وجہ سے اردو لغت نویسی پر شعری اثرات غالب آگئے پھر لغوی اندراجات کے معانی کے طور پر دیے گئے مترادفات بھی ایک طرح سے شعری نوعیت کے یعنی شعری لفظیات ہی ہوا کرتے تھے۔لغت نویسی کا مقصد عام طور پر ’ مصطلحاتِ شعرا‘ کو یکجا کرنا تھا۔ محاورات وغیرہ پر مشتمل جو لغات ابتدا میں مرتب کیے گئے ،زبان کے عام استعمال کی توضیح و تشریح سے زیادہ ان کا مقصد بھی خاص یعنی شاعرانہ استعمال اور استناد ہوا کرتا تھا۔ آگے چل کر جب انگریز زبان دانوں اور معلّموں نے تعلیمی ، مذہبی اور سیاسی مقاصد کے پیش نظر لغات مرتب کیے تو ان کی تقلید میں اردو لغت نویسوں نے زبان کے ذخیرۂ الفاظ کی تاریخ ، تدوین اور تعریف کو مدنظر رکھا ، اگرچہ استناد کے لیے اب بھی وہ شعراو فصحا کے کلام کی طرف دیکھ رہے تھے اور اب بھی زبان کے معنی اور فصاحت کی شہادت کے لیے شعرا کا کلام ہی ان کے لیے معیار تھا۔
دنیا کی کلاسک زبانوں میں لغت نویسی کا آغاز لسانی شعور رکھنے والے زبان کے پنڈتوں نے کیا۔ سنسکرت ، یونانی،عربی،فارسی اور چینی وغیرہ زبانوں میں مذہبی لفظیات و اصطلاحات کے معانی و مفاہیم کے تحفظ کے مقصد سے ایسی لسانی ضبط کاری کی گئی جو آگے چل کر لغت نویسی کے علم وہنر میں تبدیل ہوگئی۔مخصوص الہٰیاتی اور مذہبی لفظیات کو اس طرح زبان کے دیگر مخاطبوں سے الگ محفوظ کرنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ زبان کے عمومی ، بازاری ، فحش اور مقامی مخاطبے مقدس اظہارات میں سرایت نہ کر جائیںیعنی زبان اپنی تلفیظ و تقریر ، ترسیل و تحریر اور افہام و تفہیم میں ایک علو اور معیار حاصل کرلے اور اسے قائم رکھے۔زبان کی علوئیت اور معیار پسندی کی وجہ سے اردو لغات پر شعریت کا اثر زیادہ نظر آتا ہے۔
’لغت‘ کے لفظی معنی ’ زبان‘ ہے مگر لغت میں کوئی زبان اپنی اس ہیئت میں نہیں ہوتی جس میں کہ وہ شعر ، نثر، فقرے ، محاورے یا روز مرہ وغیرہ کی لسانی ساختوں میں ہوتی ہے۔لغت کی ظاہری ابجدی ترتیب سے اگرچہ اس کے متن کا ایک نظام ضرور بنتا ہے مگر اس نظام کی وجہ سے لغت میں داخل زبان کسی معنوی وحدت کی حامل بھی نہیں بنتی۔ایک مثال سے لغت کی ہیئت کو اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ کسی شعر میں آنے والے الفاظ اپنے عروضی آہنگ کے سبب ایک مخصوص نحو کے پابند ہوجاتے ہیں لیکن لغت میں اسی شعر کے الفاظ آہنگ کے بغیر اور ابجدی ترتیب کے تحت ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے بے ربط مقامیت رکھنے والے ہوتے ہیں جیسے شعر :
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
کے الفاظ لغت میں اس ترتیب سے آئیں گے :
آدمی، آساں ، انساں؍بسکہ ، بھی؍ دشوار ؍کا ،کام،کو؍میسر؍نہیں؍ہر،ہونا(ہے)
لغت کے متن میں شامل ہونے پر یہی صورت کسی نثر پارے میں مستعمل الفاظ کی بھی ہوگی :
رحمت اور برکت کے لیے میرا رسالہ حمدیہ نعتیہ کلام سے بھی مزین ہوتا رہے گا۔
اس جملے کے الفاظ ذیل کی ترتیب سے لغت میں جگہ پائیں گے :
اور ؍برکت، بھی؍ حمدیہ؍رحمت، رسالہ، رہنا(رہے گا)،سے؍کلام،کے لیے ؍مزین،میرا؍
نعتیہ؍ ہونا(ہوتا)۔
یہ شعر و نثر کا ساختی استرداد ہے جس کے بعد شعر اور نثر پارے کے لفظوں کے وہ معنی ہرگز نہیں رہتے جو شعر یا نثر پارے میں رہنے پر ہوتے ہیں۔ (لغت میں بعض لفظوں کی صورتیں بھی بدل جاتی ہیں:ہونا؍ رہنا:ہے، ہوتا؍ رہے گا وغیرہ)گویا لغت کا متن بے صنف ہوتا ہے۔ صنف میں رہ کر لفظ کے معنی شعر و نثر کے فرق کے لحاظ سے شعریت اور نثریت کے حامل ہوتے ہیں۔ لغوی اور مجازی معانی کا تصور بھی اسی لیے پید ا ہوتا ہے کہ لغت کے متن میں لفظ کے جو معنی ہوتے ہیں (لغوی معنی )وہ لفظ کے کسی صنف میں شامل ہونے پر اکثر بدل جاتے ہیں(مجازی معنی)اسی بناپر لغت میں شعری استناد کی روایت کو زبان کی افہام و تفہیم کے لیے ایک مسئلہ سمجھنا محل نظر نہیں ۔
لغت میں معنی بیانی کا مخصوص طریق کار لفظ کی قواعدی ، املائی اور اشتقاقی وغیرہ صورتوں کو شعری استناد کے ذریعے پوری طرح واضح نہیں کرسکتا اور اگر کر بھی سکتا ہے تو لغت نویس کے مقرر کردہ اصول کو واحد معیار تسلیم کرنا ہر ایک کے لیے ممکن نہیں مثلاً اردو لغت نویس لفظ ’ بلبل ‘ کو قواعدی نکتے سے مذکر و مؤنث دونوں صورتوں میں پیش کرتے رہے ہیں۔ایک لفظ کے دو تلفظ (مثلاًگھایل؍گھائل)بھی ملتے ہیں۔ اسی طرح ’ شکل ؍ شکیل،شاکر؍مشکور،شکر گزار؍گذار‘وغیرہ لفظوں کے اشتقاق میں بحث ہے ۔ گویاکوئی واحد معیار مقرر نہیں جو شعری استناد کا ٹھوس جواز بن سکے ۔تلفظ کی ذیل میں رشید حسن خاں اپنے مقالے ’ لغت اور عام استعمال ‘ میں کہتے ہیں :
’’شعرمیں لفظ کی حرکت کا تعین بالعموم قافیے میں کیا جاتا ہے۔ ساکن و متحرک حروف کا تعین تو بعض اوقات شعر میں قافیے کے علاوہ ہوسکتا ہے مگر زبر زیر کا تعین نہیں ہوپاتا۔ قافیے میں روی و ما قبل روی کی حرکات محسوب ہوتی ہیں۔اسی طرح جو لفظ سہ حرفی و چہار حرفی ہوتے ہیں ،ان کے حروف اولین کی حرکات کا تعین شعر میں نہیں ہوپاتا۔چوں کہ لغت میں عموماً اسناد میں شعر پیش کیے جاتے رہے ہیں اور الفاظ کی حرکات کا بھی اکثر تعین ان کے واسطے سے ہوتا رہا ہے اس لیے اولین حروف کا تعین مشکل تھا مثلاً شعر کی مدد سے لفظ ’عیاں‘ اور’ عیال‘ کی عین کی حرکت کا تعین نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
ان تکنیکی باتوں کا حاصل صرف یہ ہے کہ قافیے کے حرف روی اور حرف ماقبل روی کی حرکات ہی سے تلفظ کی نشان دہی ہوتی ہے۔ کبھی کبھی شعر میں قافیے کے علاوہ مقام پر آنے والے لفظ کا صحیح تلفظ بھی شعر سے واضح ہوجاتا ہے مگر اکثر ایسا ممکن نہیں۔’ قاتل، بسمل، منزل‘وغیرہ قافیوں میں لفظ’گھاءِل‘کا تلفظ ہمزہ مکسور(ہمزہ پر زیر)سے ہوگا اور ’ بادل، ہلچل، ململ‘ وغیرہ کے ساتھ اسی لفظ کا تلفظ یاے مفتوح (یے پر زبر) سے ہوگا اور یہاں صرف تلفظ کے نہیں ،املا کے فرق کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
لغت میں لفظ کے معنی لفظ سے بتائے جاتے ہیں گویا جس لفظ کے معنی بتائے جاتے ہیں،وہ معنی کے طور پربتائے گئے لفظ سے معنوی ترادف رکھتا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ ہر دو پہلو کے لفظ ایک دوسرے کے (کسی قدر)مترادف ہوتے ہیں مگر ان لفظوں کے ترادف کے لیے جب کوئی شعر سند میں لایا جاتا ہے تو اکثر لغت نویس یہ بھول جاتا ہے کہ وہ اندرا ج کے قلیل صرفی یا کثیر صرفی لفظ کو شعر کی ایک نحوی معنوی ساخت میں پیش کررہا ہے۔شعر میں آنے والا یہ لفظ اپنے آپ میں مجرد معنی افشائی نہیں کرتا بلکہ اپنے اس تعمل کے لیے وہ شعر میں مستعمل دوسرے لفظوں کے معانی سے بھی لازمی طور پر متلازم ہوتا ہے مثلاًغالب کے محولہ شعر میں ’ آدمی ؍ انسان‘ کی معنویت شعر میں رہنے ہی پر افشا ہوتی ہے۔ شعر سے باہر یعنی لغت کے کالم میں دو نوں لفظ کچھ اور ہی معنی رکھتے ہیں۔دیکھیے’فرہنگ آصفیہ‘ میں اسی لفظ کے ساتھ مؤلف نے کیا سلوک کیا ہے :
آدمی : اسم مذکر (۱)(بفتحِ دال صحیح وبسکون دال مستعمل ہے)
آدم کی اولاد، آدم سے تعلق رکھنے والا، آدم کی نسل جو آدم سے نسبت رکھے، 
شخص ، بشر، فرد، کس،متنفس، انسان ، مانس، منش
ان مترادفات میں فقرے’ آدم کی اولاد ؍ آدم کی نسل‘ اور ’ آدم سے تعلق رکھنے والا؍جو آدم سے نسبت رکھے‘ وضاحت کی تکرار کے شکار ہوگئے ہیں۔ استناد کے لیے درج ذیل اشعار دیے گئے ہیں:
اصل کو بھی غور کرلے آدمی
کون تھا،کس چیز سے کیا ہوگیا
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پرناحق
آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا
کچھ نیک و بد کی تم کو نہیں عشق میں تمیز
حیوان بن گئے ، نہیں آپ آدمی رہے
کام کیا نکلے کسی تدبیر سے 
آدمی مجبور ہے تقدیر سے
آکے عدم سے، یوں ہوئے دنیا میں بے خبر
جوں سو رہے، تھکا ہوا منزل کا آدمی
تو حور ہے، پری ہے کہ سارے جہان میں
دیکھا نہ تیری شکل و شمائل کا آدمی
لائے جاکر اسے پرستاں سے
آدمی کیا ہیں، اک بلا ہیں ہم
کہتے ہیں، آج ذوق جہاں سے گزر گیا 
کیا خوب آدمی تھا، خدا مغفرت کرے
غالب کے شعر میں لفظ’ آدمی‘اکیلا استعمال نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ’ آدمی کوئی ہمارا‘ ایک فقرہ ہے (جسے آج کل کی شعریات میں ’ شعری لفظیات ‘میں شمار کیا جاتا ہے)جس کی معنویت شعر کے دوسرے لفظوں سے متلازم ہے۔ ’ آدمی‘ اس شعر میں بے معنی ہے(لالتا پرشاد شفق نے اپنی ’فرہنگ شفق‘میں غالب کا یہی شعر’ آدمی‘بمعنی ’ چاکر، معتمد، خدمت گار‘ کے لیے دیا ہے اور یہ معنی بھی غلط ہیں۔)
تیسرے شعر میں (تم ؍ آپ کے شترگربہ سے قطع نظر)آدمی کے جو معنی ہیں،وہ اندراج کی وضاحت میں دیے ہی نہیں گئے ہیں۔ ’حیوان‘آدمی کی ضد ضرور ہے لیکن ’ عشق میں نیک و بد‘ کی تمیز کا مضمون ’ آدمی‘ کو حیوان کی ضد نہیں بناتا کہ عشق اخلاق سے ہم رشتہ ہے اور حیوان اس تصور سے مبرا ہے۔باقی اشعار میں’ آدمی‘ کے معنی ’ انسان‘ کے ظاہر ہوتے ہیں اس لیے وضاحت میں دیے گئے دیگر مترادفات (بشر ، فرد وغیرہ)غیر ضروری ہوگئے ہیں۔ان کے معنی زبان کے استعمالات میں ’ آدمی‘ کے ہوسکتے ہیں جن کے لیے مؤلف نے سندفراہم نہیں کی۔
اشعار کے بعد ایک فقرہ نظر آتا ہے :
(فقرہ)آدمی اناج کا کیڑا ہے
اس فقرے میں بھی آدمی کے وضاحتی معنی مفقود ہیں۔لسانی ساخت ’ اناج کا کیڑا‘یا صرف لفظ ’کیڑا‘ کے استعارے سے مثال کے آدمی کی جگہ’بشر ، فرد، متنفس‘وغیرہ لفظ رکھے جائیں تو بے معنویت کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔
اسمیہ معنی کے علاوہ ’ آدمی‘ کے دوسرے قواعدی معنی ’ صفت‘ کے طور پر یوں بتائے گئے ہیں :
(2) صفت:جوان ، پورے قد کا ، بالغ،بڑا
اور مثال میں ایک فقرہ دیا ہے :
(فقرہ) بچہ تو کیوں، اچھا خاصا آدمی تھا۔
دی گئی صفات میں’ جوان ، بالغ، بڑا‘ میں ترادف نہیں ، تکرار ہے۔ ان لفظوں کو مثال کے لفظ ’آدمی‘ کی جگہ رکھیں تو بامعنی جملے ضرور ہاتھ آئیں گے لیکن صفت ’پورے قد کا‘ کے استعمال سے وہ بات نہ بنے گی کیوں کہ صرف ’ جوان، بالغ، بڑا‘ پورے قد کا آدمی نہیں ہوتا، بچہ بھی پورے قد کا ہوتا ہے۔
لفظ’آدمی ‘کے تیسرے معنی بھی صفت کے ذریعے بتائے گئے ہیں :
(3) صفت: تمیزدار ، صاحب سلیقہ، عقل مند،عاقل، لائق، دانا،لئیق، 
مہذب،تہذیب یافتہ
ان لفظوں میں’ دانا‘کو’ عاقل‘ کے بعداور’ لئیق‘ کو’لائق‘ کے بعدرکھ دیں تو مترادف لفظو ں کے جو چار گروہ حاصل ہوں گے ، ان کی اشتقاقی خاصیت مشترک ہوگی۔ان لفظوں کے لیے جو اشعار سند میں دیے گئے ہیں، وہ بھی ملاحظہ کیجیے :
کہوں میں حالِ دل اس غیرت پری سے کیا
جو دو گھڑی نہ ٹکے پاس، آدمی کی طرح
فخر کیا اس کا، کسی نے یاں جو زر پیدا کیا
آدمی وہ ہے کہ جس نے کچھ ہنر پیدا کیا
ہم نے یہ مانا کہ واعظ ہے ملک 
آدمی ہونا بہت مشکل ہے یاں
ہیں بہائم بصورت انساں
آدمی اٹھ گئے زمانے سے
قد کشی کرتا نہ اس غیرت شمشاد سے یوں
آدمی تو اگر، اے سروِگلستاں ہوتا
مثال کے پہلے شعر میں ’ غیرت پری ‘ کی ضد اور دوسرے مصرع کا ’ آدمی‘ (3)میں دی گئی کسی صفت سے میل نہیں کھاتا۔دوسرے شعر کے ’ آدمی‘ کے معنی عقل مند؍ عاقل؍ دانا تو ہوسکتے ہیں مگر یہ صفتی معنی نہیں ، تشبیہی معنی ہیں۔تیسرے شعرکا ’ آدمی‘(1)کا ’ انسان ‘ ہے، (3) کی صفات سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ بعد کی مثال میں ’بہائم‘ میں’ انسان؍ آدمی‘ کا ربط محض رسمی ہے(پہلے مثال گزر چکی ہے:حیوان بن گئے، نہیںآپ آدمی رہے)اوپر دی گئی کوئی صفت اس ’آدمی‘ پر چسپاں نہیں ہوتی۔ آخری شعر کا آدمی دوسرے شعر کے ’آدمی‘ سے مماثل ہے اس لیے زائد اور غیر ضروری ہے۔
’ آدمی‘ کے چوتھے معنی :
(4) دیانت دار ، امانت دار، متدین، امین
یہ بھی صفات ہیں ۔ ان کے لیے دی گئی مثل کے فقرے کی سند 
آدمیوں کا کال ہے ،آدمی ہیں مگر آدمی نہیں
ان کے لیے بیکار ہے کیوں کہ یہ صفتی معنی سیاق و سباق کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتے۔
پانچویں معنی اسمائے فاعل کے ذریعے بتائے گئے ہیں مگر یہ بھی ایک طرح کی صفات ہی ہیں :
(5) نوکر، چاکر،ملازم، خادم، خدمت گار، ملازم خاص
لفظ’چاکر‘ اردو میں تنہا مستعمل نہیں ۔ یہ لفظ ’نوکر‘ کے تابع کے طور پر آتا ہے ’ ملازم ؍ ملازم خاص‘ اور ’خادم ؍ خدمت گار‘ تکراری معنی ہیں اور فضول ہیں۔ مثال میں ایک ’فقرۂ مذاق‘ دیا گیا ہے :
بابا،کچھ فقیروں کو بھی دلوا
سائیں، آدمی آئے تو دے
بابا، دو گھڑی کے لیے توہی آدمی بن جا
یہاں پہلے آدمی کے معنی ’ نوکر ؍ ملازم‘ بڑے تکلف کے معنی ہیں اور دوسرے ’ آدمی‘ کے معنی’ انسان‘ کے ہوتے ہیں،’نوکر‘ کے نہیں(یہ ایہام ہے جو معنی کو واضح نہیں کرتا ، انھیں مزید الجھاتا ہے)
(6) قاصد ، پیغامبر، پیک، دوت، ایلچی، سفیر
ان معنوں کے لیے اشعار 

بلا سے آپ نہ آئیں پر آدمی ان کا
تسلی، آکے مجھے، وقت اضطراب تو دے
(’ فرہنگ شفق‘ میں یہ شعر بھی ’ آدمی‘ بمعنی ’چاکر، معتمد، خدمت گار‘ کے لیے دیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ ’ آصفیہ‘ کی طرح غلط نہیں یعنی ’ قاصد ، پیغامبر‘ وغیرہ)
وہ ، خدا جانے کہ ہوگا کیسا بے رحمی شعار
نا خدا ترس اس قدر ہیں جس صنم کے آدمی
جو اس پری سے کہوں ، کوئی آدمی بھیجوں
کہے کہ دخل نہیں یاں فرشتہ خاں کے لیے
خبر میری ، کل ان کے آدمی نے آکے جو پوچھی
کہا میں نے کہ شاید عقل سے بہرہ تجھے کم ہے
’ آدمی‘کے یہ چھٹے معنی دور ازکار ہیں۔ مثالوں کے اشعار میں البتہ اس لفظ کے معنی ’ نوکر ؍ ملازم‘ کے ظاہر ہوتے ہیں(’قاصد؍ پیغامبر‘ اگر عاشق ؍ معشوق کے ملازم ہوں تو یہ معنی ’ آدمی ‘ کے ہوسکتے ہیں۔)
ساتویں معنی ’ لشکری ‘ہیں *
آشنا ،خواہ مرد ہو، خواہ عورت، آپس میں ایک دوسرے کا آدمی کہلاتا ہے
رنڈی، بشنی، یار، دوست 
ان معنوں کے لیے کوئی مثال نہیں دی گئی ہے البتہ دو فقرے یہ لکھے ہیں:
یہ اس کا آدمی ہے
آج رسالدار کے آدمی پر خوب آوازے کسے 
------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
*’فرہنگ آصفیہ‘ میں اس لفظ کے معنی :’بازاری، وہ لوگ جن کی قوم، زبان وغیرہ ٹھیک نہ ہو‘
ایک اندراج ’ لشکری بولی‘ کا ہے بمعنی’’ وہ غیر معتبر ، بے قاعدہ، غلط سلط زبان جو اہل لشکر بولتے ہیں۔‘‘
ان مثالوں کے ’ آدمی‘کے معنی ’ لشکری معنی‘ سے کوئی تعلق نہیں رکھتے نظر آتے(البتہ’ ملازم ؍ خادم‘ کے معنی ان سے ضرور واضح ہیں۔)
(8) خاوند، خصم، دھنی، پرش، لڑکے بالے، جورو، اہلیہ
(ادنیٰ قوموں میں بولا جاتا ہے۔)
بولی میں ’ آدمی‘بمعنی ’ خاوند‘ عام ہے مگر ’ لڑکے بالے، جورو، اہلیہ‘ سے اس ’ آدمی‘کو کچھ لینا دینا نہیں۔مثال میں دو فقرے دیے ہیں :
(فقرے:ہندو عورت)جی جی ، تیرا آدمی کیا آج گھروں نہیں ہے۔
’ آدمی‘ بمعنی ’ خاوند ‘ کو اوپر بازاری کہا پھر مثال میں ’ ہندو عورتوں کی زبان‘ سے اس کا ٹانکا جوڑ دیا۔ یہاں ’ آدمی‘بمعنی ’خاوند‘ بالکل صحیح دیے گئے ہیں البتہ بعد کی مثال
تمھارے گھر کے آدمی کہاں گئے ہیں
میں ’ آدمی‘ بمعنی’ مرد‘ کے ملتے ہیں اور یہ معنی مؤلف نے کہیں نہیں دیے۔
(9)باشندے ، رہنے والے، ساکن(جمع کے ساتھ بولا جاتا ہے)
ان معنوں کے لیے فقرہ :
’’ اس شہر کے آدمی برے ہیں ‘‘
دیا ہے جب کہ اس فقرے سے ’ آدمی‘کے معنی’ باشندے یا ساکن‘ سے زیادہ’ لوگ‘ کے اجاگر ہیں۔
آخری دسویں معنی :نالائق ، بدتمیز
اور مثال کے فقرے 
ارے میاں، تو کیسا آدمی ہے
تم بھی کیا آدمی ہو
دیے ہیں۔ان جملوں میں’ آدمی‘ کے معنی ’ نالائق ؍ بد تمیز‘ کے ہر گز نہیں ہیں(جب کہ اسی لفظ کے بالکل متضاد معنی ’ تمیز دار، صاحب سلیقہ، مہذب‘ وغیرہ بھی مؤلف نے دیے ہیں[3])دسویں معنی کے لیے دیے گئے جملوں کے استعمال کے سیاق و سباق ؍ موقع و محل وغیرہ سے واقفیت ضروری ہے، تبھی ’آدمی‘کے کچھ معنی ظاہر ہوں گے۔
سترہ شعروں کے ذریعے ایک لفظ کے معنی بتانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ معنی کی شہادت کے لیے ہمارے لغت نویس شعری استناد پر زیادہ تکیہ کرتے تھے بلکہ ان کی کوشش ہوا کرتی تھی کہ شعر کے توسط سے زیادہ سے زیادہ معانی اجاگر کریں۔ لفظ (مثال کے طور پر یہی لفظ ’ آدمی‘) کثیر معنوی تو ہے لیکن اس معنوی کثر ت کی تفہیم کے لیے اکثر لسانی تعمل کے بہت سے شخصی ، سماجی، طبعی ، نفسی اورعلمی وغیرہ کوائف سے واقفیت لازمی ہوتی ہے۔لغت نویس اس علمی حقیقت کی زیادہ پروا نہیں کرتے تھے۔ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ جس لفظ ’ آدمی‘ کے معانی مؤلف نے طرح طرح سے بتائے ہیں ، اسی لفظ کے قریبی مترادف ’ انسان‘ کے معنی وغیرہ بتانے میں انھوں نے ایک شعر بھی سنانے کی زحمت نہیں اٹھائی ہے ، بس ’ آدمی‘ کے جو مترادفات لکھے تھے ، انھی کو دہرا دیا ہے یعنی ’آدمی ،منش ، پرش، لائق، شائستہ، مہذب‘ وغیرہ۔ یہاں لفظ ’ انسان‘ کے ایک معنی ’ آنکھ کی پتلی‘ البتہ حیران کن ہیں۔ اس فقرے کے معنوں میں لفظ’ انسان‘ کا استعمال نہیں ملتا۔ ’اُنس‘ بمعنی’ محبت؍ میل ملاپ‘ اور’ نسی‘ بمعنی ’ بھول‘ کو ’ انسان‘ کی لفظ اصل بتایا ہے۔اس میں پہلی مثال تو صحیح ہو سکتی ہے لیکن دوسری غلط محض ہے۔(’فرہنگ شفق‘میں یہ لفظ نہیں پایا جاتا۔)
اس جائزے سے واضح ہوتا ہے کہ لغت کے اندراجات،ان کی مختلف معنوی سطحوں کی شناختوں اور معنوی شہادتوں کا ایک نظام ہے۔ اس نظام کی تفہیم میں شعری استناد پر انحصار کرنے سے لسانی ؍ معنوی خلفشار پیدا ہوسکتا ہے۔’ فرہنگ آصفیہ‘ کے حوالے سے لفظ ’ آدمی‘ کے جائزے میں دیکھا گیا کہ اس لفظ کے اسمیہ معنی کی وضاحتوں کے لیے دیے گئے آٹھ میں سے چھے اشعار میں منتخب لفظ کے تعلق سے لغوی ؍ مجازی معنوی فرق نہیں پایا جاتا ۔تیسرے صفاتی معنوں میں اسمیہ معنوں کی سی کیفیت حاوی ہے اور چھٹے اسمیہ ؍ صفاتی معنی پانچویں معنوں سے مشابہت رکھتے ہیں۔اس بنا پر نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اشعار کی بھر مار کے سبب لفظ کی کثیر معنویت ابہام کا شکار ہوگئی ہے اور غیر شعری استناد کی مثالیں بھی مبہم ، گنجلک اور معانی کی ترسیل میں ناکام ہیں۔
’ فرہنگ آصفیہ‘ کی طرح ’ نوراللغات‘ (مؤلفہ : نورالحسن نیرکاکوروی:1924-31) کو اردو کی دوسری اہم لغت کہنا بے جا نہیں۔ لفظ’ آدمی؍انسان‘ کی شعری اسناد پر بحث میں یہ لغت صرف چار اشعار پیش کرتی ہے، ’ آصفیہ‘ کے سترہ شعروں میں جن پر اظہار خیال کیا جاچکا ہے۔ لفظ’ آدمی‘ کے اندراج کے تحت اس میں لکھا ہے :
آدمی(فارسی بسکون دوم)مذکر ، (۱)جنس انسان انسان
سند میں ذوق کا شعر (کہتے ہیں ، ذوق ۔۔۔)ملتا ہے جس کے توسط سے آدمی کے معنی ’ انسان‘ کے بتائے ہیں اور غلط نہیں بتائے۔دوسرے معنی انسانی اخلاق والا، سمجھ دار ، تمیز دار دے کر شعر :
ہیں بہائم بصورت انساں
آدمی اٹھ گئے زمانے سے
نقل کیا گیا ہے۔ اس میں ’آدمی‘ کے معنی’ انسانی اخلاق والا‘ مبہم ہیں اور دوسرے معنی بھی شعر سے واضح نہیں ہوتے۔ شعر میں’ انسان ؍آدمی‘کا تقابل ’ بہائم‘ سے کیا گیا ہے مگر بہائم کے لیے صفتی تقسیم درست نہیں۔تقابل دو مظاہر کے بیچ کیا جاتا ہے جب کہ یہاں تین مظاہر تقابل میں لائے گئے ہیں جس سے معنی مبہم ہوگئے ہیں۔
تیسرے معنی’ نوکر، چاکر، قاصد‘ میں ’ آصفیہ‘ کے پانچویں اور چھٹے معنی کو یکجا کردیا ہے (اگرچہ مترادفات کم کردیے ہیں۔) سند میں ذوق کے شعر (بلا سے آپ نہ آئیں۔۔۔)کا ’آدمی‘معنوں میں ’ملازم‘سے ترادف رکھتا ہے، ’ قاصد‘ سے نہیں۔اسی طرح آخری معنی’ معتمد‘دے کر غالب کا شعر (پکڑے جاتے ہیں ۔۔۔)نقل کیا ہے۔ اس میں ’ آدمی کوئی ہمارا‘ کو ’ معتمد‘مان لیا جائے تو معنی درست ہوں گے، صرف لفظ ’آدمی‘معتمد کے معنی کے لیے مناسب نہ ہوگا۔ ’آدمی‘کے پانچویں ’ عم‘ (یعنی عمومی) معنی ’جورو، خاوند، آشنا‘ کے بتائے ہیں جن کے لیے’ آصفیہ ‘ کی طرح ’ نور‘ میں بھی کوئی سند نہیں دی گئی ہے۔
لفظ ’ انسان‘ کے اندراج میں مؤلف کہتے ہیں کہ :
’’اس کے اشتقاق میں اقوال مختلف ہیں‘‘
پھر(’آصفیہ‘کی طرح)’ اُنس‘ اور’ نسیاں‘ لفظوں کو ’ انسان‘ کی لفظ اصل بتا کر معنوی وضاحت کرتے اور بتائے گئے معنوں کے لیے تین شعروں سے استناد کرتے ہیں۔
(1) مذکر: بنی آدم، آدمی 
بحر،یہ کیا حال ہے، کیا شکل ہے
عشق میں انساں سے حیواں ہوگئے
(2) مہذب،اخلاق اور صفات انسانی سے موصوف 
رندانِ بے ریا کی ہے صحبت کسے نصیب
زاہد بھی ہم میں بیٹھ کے انسان ہوگیا
(3) آنکھ کی پتلی 
چاہیے، انساں جگہ پیدا کرے
دیدۂ مردم میں انساں کی طرح
یہاں پہلے دو اشعار میں لفظ ’ انسان‘ بتائے گئے معنوں سے متلازم ہے مگر تیسرے شعر سے معنوی الجھاؤ ظاہر ہے۔معنی ’آنکھ کی پتلی‘ کاتعلق دوسرے مصرع کے لفظ ’انساں‘ سے ہے، ترکیب ’ دیدۂ مردم‘جس کے مفہوم کے آڑے آرہی ہے کہ اس ترکیب کے معنی خود ’ آنکھ کی پتلی‘کے ہوتے ہیں۔ (اگرچہ یہاں ’ مردم‘ کے ایہامی معنی ’ انسان‘ ہیں)شعر کی نثر کریں تو
انسان کو چاہیے (کہ)دیدۂ مردم میں جگہ پیدا کرے
پر بات ختم ہوجاتی اور دوسرے مصرع کا فقرہ ’ انساں کی طرح‘ حشو بن جاتا ہے چنانچہ شعر کی سندمیں’ آنکھ کی پتلی‘ کے معنی کی گنجائش نہیں نکلتی۔
’ مہذب اللغات‘ (مؤلفۂ مہذب لکھنوی1975-85)چودہ جلدوں پر مشتمل لغت نویسی کا ایک کارنامہ ہے۔ اس میں ’ آدمی‘ کے معنی کے استناد کے لیے تین شعر اور ایک نثری جملہ دیا گیا ہے۔ 
آدمی : آدم سے نسبت رکھنے والا، انسان، فارسی، فصیح، رائج
فقرہ ’ آدم سے نسبت رکھنے والا‘ ’ فرہنگ آصفیہ ‘ سے منقول ہے اور ’ آدمی ‘بطور صفت نسبتی یہ فقرہ اس لفظ کے بالکل صحیح معنی بتا رہا ہے ۔ دوسرا مترادف’ انسان‘دیا گیا ہے جسے ’ فصیح؍ رائج‘ بتایا ہے۔سند میں مرزا شوق کے شعر
جی بچے تجھ سے تو خدائی ہے
آدمی کاہے کو، قصائی ہے
میں آدمی دیے گئے معنوں سے میل نہیں رکھتا۔
دوسرے معنی’قول فیصل‘ کے تحت لکھے ہیں یعنی صفات انسانی جس میں پائے جائیں۔سند کا شعر
ہیں بہائم بصورت انساں
آدمی اٹھ گئے زمانے سے
’ آصفیہ ‘ اور ’ نور‘ سے نقل کرلیا گیا ہے۔ یہاں بھی ’ آدمی ‘ کے معنی (مؤلف کے قول فیصل کے مطابق)’ صفات انسانی جس میں پائے جائیں‘ شعرکے حوالے سے اندراج سے میل نہیں کھاتے۔
(اس شعر پر اوپر باتیں ہوچکی ہیں)
تیسرے معنی اس طرح دیے ہیں کہ 
نوکر اور ملازم کے لیے بھی کہتے ہیں
اور یہ لغت میں معنی بتانے کا طریقہ نہیں۔سند کا شعر کسی ’ الف لیلیٰ‘ کے حوالے سے آیا ہے
(’ لیلیٰ‘ املا غلط ہے،’ لیلہ‘صحیح) 
کوئی اس طرح سے بے رحم ہوکر
خفا ہوتا ہے اپنے آدمی سے
اگر یہ شعر کسی مثنوی کا ہے تو اس کا ’ آدمی ‘ ’ نوکر؍غلام‘کا مترادف نہیں۔ان معنوں کے لیے سیاق و سباق کی ضرورت تھی جس پر مؤلف نے توجہ نہیں دی(سیاق کے بغیرآدمی کے معنی اس شعر میں’شوہر ‘ کے واضح ہورہے ہیں )
آخری معنوی بیان :
دیہاتی عورتیں اپنے شوہر کو بھی آدمی کہتی ہیں جیسے 
بابو جی ، جب سے ہمارا آدمی باہر گیا ہے، نہ خط بھیجتا ہے ،نہ خرچ کے لیے روپیہ۔
یہ ’ آدمی‘ بمعنی ’ شوہر ‘ بالکل صحیح ہے اور اس سے ثابت ہے کہ لغت میں معنی کے استنا د کے لیے شعر کی طرح نثر بھی ایک موزوں ذریعہ ہوسکتی ہے۔
’ مہذب ‘کے مؤلف لفظ’ انسان‘ کے تحت لکھتے ہیں :
(1) بالکسر:بنی آدم، آدمی، عربی، مذکر،فصیح، رائج
’ انسان ؍ آدمی‘ دونوں واحد ہیں جب کہ ان لفظوں کے معنی ’ بنی آدم‘میں جمع کا تصور پایا جاتا ہے۔اگر سند کے شعر میں ’ انسان‘ کے معنی ’ بنی آدم‘ سمجھے جائیں تو معنوی الجھاؤ پیدا ہوتا ہے ۔ 
میرے مالک نے مرے حق میں یہ احسان کیا
خاک ناچیز تھا میں، سو مجھے انسان کیا
آگے قول فیصل میں مؤلف لفظ ’انسان‘ کے اشتقاق پر بحث کرتے ہیں مگر یہ وہیں باتیں ہیں جو ’آصفیہ ‘اور ’نور‘ کے مؤلفین نے کہی ہیں۔
انسان کے دوسرے معنی :
(مجازاً)با اخلاق آدمی، مہذب اور صفات انسانی سے متصف
یہ معنی ’ نور‘ سے نقل کردیے ہیں اور سند میں شعر بھی وہیں سے اٹھا لیا ہے(رندان بے ریا کی ہے صحبت۔۔۔)انسان کے سلسلے میں ’ مہذب‘ کا قول فیصل امیر مینائی کی ’ امیراللغات‘ میں اس لفظ کے مندرج معنی ’ آنکھ کی پتلی‘ پر تنقید ہے کہ اس لفظ کے معنی کو امیر نے 
نظم ، نیز،شاعرانہ نظم و نثر سے مخصوص کیا ہے 
مثال کا شعر وہی ہے جو ’نور‘ میں ہے یعنی ترکیب ’ دیدۂ مردم‘والا۔شعر دے کر مہذب کہتے ہیں کہ 
یہ معنی پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتے
’مردم‘بمعنی’ آنکھ کی پتلی‘ تو عام زبان میں ہے لیکن ’ انسان‘(آدمی کا مترادف ہونے کے باوجود)آنکھ کی پتلی کے معنوں میں مستعمل نہیں ۔
اردو لغات میں لفظی اندراج کی افہام و تفہیم کا اسلوب عام طور پر ایسا ہی نقل در نقل اور لفظی و معنوی تکرار نظر آتا ہے۔استناد کے لیے دیے گئے اشعار بھی ورق در ورق ایک لغت سے دوسرے لغت میں شامل کرلیے جانے کی بڑی روایت نمایاں ملتی ہے اور مؤلف کی ذاتی لفظ فہمی اور معنی بیانی کی مثالیں شاذ ہیں۔’ قول فیصل‘ جیسی بھاری بھرکم اصطلاح اگرچہ لفظ کے عام استعمال اور لفظ کے رائج معنوں کے پیش نظر لغوی معنی کے تصور کو مستحکم کرتی ہے لیکن فصاحت اور علو پر علاقائی لسانی جبر کے گہرے اثر سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا یعنی ایک لغت نگار کے لیے لکھنوی لفظ و معنی مستند ہیں تو دوسرے کے لیے دہلوی وغیرہ۔تنہا شعری استناد لفظ کے مختلف معنوں کی وضاحت کرنے میں ہر جگہ کامیاب نہیں اسی لیے مالک رام نے اپنے مقالے’لغت نویسی کے مسائل‘ میں کہا ہے کہ :
’’اردو میں یہ روایت رہی ہے کہ الفاظ کے معانی کی سند میں شعرا کا کلام پیش کیا جاتا رہا ہے۔یہ طریقہ ناکافی اور ناقص تھا۔زبان میں ہزارہا ایسے الفاظ ہیں جو شعرا نے اپنے کلام میں استعما ل نہیں کیے۔کیا اس سے ان کی صحت مشکوک ہوگئی؟کیا اس سے ان کے مفہوم یا معنی کے تعین میں کوئی دشواری پیش آئی؟دونوں سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔ بارے اب یہ احساس ہوچلا ہے کہ اسناد میں شعرا کے علاوہ نثر نگاروں کا کلام بھی پیش کرنا چاہیے۔‘‘
چونکہ لغت کی زبان صرف شعرا کی یا صرف نثر نگاروں کی زبان نہیں ہوتی ، یہ عالموں اور جاہلوں دونوں کی زبان ہوتی ہے اس لیے لغت میں معنی کے استنا دکے لیے مالک رام کے قول کے مطابق صرف شعرا کے کلام سے سند پیش کرنا مناسب نہیں۔نثر نگار بھی زبان کا استعما ل کرتے ہیں، ان کی زبان پر بھی بھروساکرکے اسے لغت میں شامل کیا جانا چاہیے۔’ فرہنگِ آصفیہ‘اور ’ نوراللغات‘ وغیرہ کے اندراج’ آدمی‘ کے استناد پر گفتگو کرتے ہوئے بہت سی نثری مثالیں بھی سامنے آتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ لغت نگار نے ایسی مثالوں سے استناد کرتے ہوئے استعمال زبان کے سیاق و سباق اور معنی افشائی میں معاونت کرنے والے متعدد عوامل سے اکثر صرف نظر کیا ہے جس کے سبب ان کا استناد صحیح معنوں میں استناد نہیں بن سکا ہے۔

Salim Shahzad
323, Mangalwar Ward 
Malegaon-423203 (Maharashtra)
Mob : 9890331137
اگر آپ رسالے کا آن لائن مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے لنک پر کلک کیجیے:۔



قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

4/6/18

مضمون: جدید اردو شاعری کی خاتون اول: ادا جعفری۔ مضمون نگار محی بخش قادری








جدید اردو شاعری کی خاتونِ اوّل :ادا جعفری
محی بخش قادری


اردو شعر و ادب کی آبیاری میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کا بھی اہم کردار رہا ہے۔ جب ہم اس حوالے سے اردو ادب کا مطالعہ کرتے ہیں تو تین ایسی خواتین کا نام نمایاں نظر آتا ہے جنھوں نے اپنی انفرادیت کی بنا پر افسانہ، شاعری، اور تنقید میں اپنا منفرد شناخت نامہ مرتب کیا ہے۔ افسانوی ادب میں عصمت چغتائی، دنیائے نقد میں ممتاز شیریں اور شاعری کی دنیا میں ’ادا جعفری‘ مؤخرالذکر کو اردو شاعری کی خاتون اول بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا شمار بہ اعتبار طویل مشق سخن اور ریاضت فن کے صف اوّل کی معتبر شاعرات میں ہوتا ہے۔ ان کی شاعری کا دورانیہ کم و بیش 75 برس پر محیط ہے جس میں انھوں نے گاہے گاہے یا بطرزِ تفریح طبع نہیں بلکہ تواتر و کمال احتیاط کے ساتھ شاعری کی ہے اور جو کچھ کہا وہ شعورِ حیات اور دل آویزی فن کے سائے میں کہا۔ حرف و صوت کی شگفتگی اور فکر و خیال کی تازگی کے ساتھ کہا۔ فکر و جذبے کے اس ارتعاش کے ساتھ کہا جس کی بدولت ان کا شعر ان کی شخصیت کی شناخت بن گیا
ادا جعفری کی پیدائش اترپردیش کے اس بدایوں ضلع میں ہوئی جو اپنی علمی، تہذیبی، ثقافتی اور تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ روایات کے مطابق اس شہر کو بدھ نام کے ایک راجہ نے بسایا تھا اور شروع میں اس کا نام بدھ مؤیابیداد مؤ تھا جو بعد میں مسلمان سلاطین کے زمانے میں بدایوں ہوگیا۔
ادا کی پیدائش 22 اگست 1924 کو ہوئی۔ خاندانی نام عزیز جہاں ہے جب تین سال کی تھیں کہ والد مولوی بدرالحسن کا انتقال ہوگیا۔ پرورش ننھیال میں ہوئی۔ والدہ نے پڑھنے لکھنے کی طرف راغب کیا۔ گھر (بڑی حویلی) میں ہی ایک کتب خانہ تھا جس میں ڈھیروں اردو فارسی اور انگریزی کتابیں تھیں اور جہاں سب کو جانے کی اجازت نہ تھی لیکن چپکے چپکے ادا نے اس کتب خانے سے استفادہ کرنا شروع کردیا۔ اسی زمانے میں محض نو برس کی عمر میں ادا نے پہلا شعر کہا۔ بقول ادا جعفری انھوں نے ابتدائی نظموں پر اثر لکھنوی سے اصلاح لی لیکن یہ سلسلہ بہت مختصر رہا۔ اس کے بعد کسی سے مشورۂ سخن نہیں کیا۔ اگرچہ بعض لوگوں نے اختر شیرانی کو بھی ان کا استاذ کہا ہے۔
عزیز جہاں نے تیرہ برس کی عمر میں باقاعدہ شاعری شروع کردی تھی۔ وہ ’ادا بدایونی‘ کے نام سے شعر کہتی تھیں جو اختر ’رومان‘ شاہکار اور ’ادب لطیف‘ میں شائع ہوتا رہا۔ ان کی شادی 1947 میں نورالحسن جعفری (لکھنؤ) سے انجام پائی۔ شادی کے بعد ادا جعفری کے نام سے لکھنے لگیں۔ تقسیم ہند کے بعد ادا اپنے شوہر کے ساتھ کراچی منتقل ہوگئیں۔ ان کے شعری مجموعے شہر درد کو 1968 میں آدم جی ادبی انعام ملا۔ شاعری کے بہت سے مجموعہ جات کے علاوہ جو رہی سو بے خبری رہی کے نام سے اپنی خودنوشت سوانح عمری بھی 1995 میں لکھی۔ 1991 میں حکومت پاکستان نے ادبی خدمات کے اعتراف میں تمغہ امتیاز سے نوازا۔
ادا جعفری کے شعری سفر کا آغاز ترقی پسند تحریک کے عروج کے وقت ہوا۔ اس وقت دوسری جنگ عظیم کی ہنگامہ خیز فضا اور پاک و ہند کی تحریک آزادی کا پرآشوب ماحول تھا۔ یہ فضا بیسویں صدی کی پانچویں دہائی یعنی 1940 اور 1950 کے درمیانی عرصے سے خاص تعلق رکھتی ہے۔ یہ دہائی سیاسی اور سماجی اور شعری و ادبی، ہر لحاظ سے پرشور و ہنگامہ خیز دہائی تھی۔ تاج برطانیہ ہندوستان سے اپنا بستر بوریا سمیٹ رہا تھااور نئی بساط سیاست بچھ رہی تھی۔ پاکستان اور ہندوستان کے نام سے دو آزاد مملکتیں وجود میں آئیں۔ ایسے حالات میں ان کی شاعری دلوں پر اثر کرتی تھی اور ضمیر کو جھنجھوڑ دیتی تھی۔ ان کا باقاعدہ شعری سفر 1937 سے 2015 تک جاری رہا۔ ان کی تصانیف یہ ہیں:
میں ساز ڈھونڈتی رہی1950 (شاعری)، شہر درد 1967 (شاعری)، غزالاں تم تو واقف ہو 1947 (شاعری)، ساز سخن بہانہ ہے 1982 (ہائکو)، حرف شناسائی (شاعری)، موسم موسم (کلیات 2002)، جورہی سو بے خبری رہی 1995 (خودنوشت)، غزل نما (تنقید و ترتیب)
پہلا مجموعہ ’میں ساز ڈھونڈھتی رہی‘ 1950 میں منصۂ شہود پر آیا۔ حالانکہ یہ 1947 میں مرتب ہوچکا تھا لیکن تقسیم ہند کی وجہ سے بعد میں شائع ہوا۔ یہ ادا کی اپنی پہچان کا پہلا لمحہ تھااور کچھ نقادوں کی نظر میں اردو ادب میں اپنی نوعیت کی پہلی جرأت اظہار۔ نظم ’میں ساز ڈھونڈتی رہی‘ کا آخری ٹکڑا کچھ یوں ہے:
میں ساز ڈھونڈتی رہی
کہ سن رہے ہیں چشم و دل نظام نو کی آہٹیں
بہار بیت ہی چکی، خزاں بھی بیت جائے گی
مگر میں ایک سوچ میں پڑی ہوئی ہوں آج بھی
وہ میری آرزو کی ناؤ کھے سکے گا یا نہیں
نظام نو بھی مجھ کو ساز دے سکے گا یا نہیں؟؟
اس شعری اسلوب کو ادا جعفری کے ناقدین نے جدید شاعری کی سمت ادا جعفری کا پہلا قدم تسلیم کیا ہے۔ ممتاز ادیب قاضی عبدالغفار نے ادا جعفری کے پہلے شعری مجموعے ’میں ساز ڈھونڈتی رہی‘ کے دیباچے میں اس عہد کی ادبی اور فکری صورت حال کے تفصیلی تجزیے کے ساتھ ساتھ ادا جعفری (جو اس وقت ادا بدایونی کے نام سے معروف تھیں) کی شعری شخصیت پر اثرانداز ہونے والے تمام عوامل کا بڑی تفصیل سے جائزہ لیا ہے اور ہندوستان کی مختلف زبانوں میں لکھنے والی دیگر باشعور اہل قلم خواتین کے ساتھ ادا بدایونی کو بھی عہد جدید کے ان قلم کاروں میں شمار کیا ہے جو اپنی تحریروں کے ذریعے مطالبۂ حقوق انسانیت کے لیے آواز بلند کررہی ہے۔ لکھتے ہیں:
’’جدید اردو ادب و شعر کے معماروں کی صف اوّل میں ادابدایونی کا اور کلام بہت نمایاں ہے۔ ان کے کلام میں قدیم اور فرسودہ نظام زندگی کے خلاف بغاوت کا ایک بے پناہ جذبہ کارفرما ہے۔ ان کی آواز سراپا طلب اور احتجاج ہے۔ ان کے انداز بیان سے ایک ایسی قوت ارادی مترشح ہے جس کے بغیر جدید ادب کے کسی معمار کا پیام موثر نہیں ہوسکتا۔‘‘
جس دور میں ’میں ساز ڈھونڈھتی رہی‘ منظر عام پر آیا وہ دور ادب میں ترقی پسند تحریک کے عروج اور ’حلقہ ارباب ذوق‘ جو آگے چل کر جدیدیت میں تبدیل ہوگیا کے متضاد رجحانات کا دور تھا۔ ترقی پسند تحریک کا جھکاؤ اشتراکیت کی طرف تھا۔ یعنی یہ کہ ادب کو سیاسی اور سماجی نظام کے تابع ہونا چاہیے۔ انتہاپسند اور اعتدال پسند ادیبوں اور شاعروں کے دو واضح گروپ سامنے آئے تھے۔ ن م راشد اور میراجی کا جدید شعری اسلوب، جوش کی سیاہی، اختر شیرانی کی رومانی، احسان دانش کی سماجی اور حفیظ جالندھری کی اسلامی اور تاریخی نظمیں مختلف حلقوں میں مقبول و معروف تھیں۔ فراق، فیض، اختر الایمان، مجید امجد، مجروح سلطان پوری، ساغر، عدم، مجاز، جذبی، احمد ندیم قاسمی، ساحر لدھیانوی، علی سردار جعفری یہ سارے نام شعری افق پر اپنی تمام تر آب و تاب کے ساتھ دمک رہے تھے۔ ایک تیسرا اسلوب فکر علامہ اقبال کے شعری سرمائے کی شکل میں موجود تھا۔ شاعری اپنی بھرپور اسلامی روح اور شکوہ بیان کے ساتھ، دلوں کو فتح کرچکی تھی۔ ناقدین نے یہ مانا کہ ان تینوں شعری اسالیب اور نظریات حیات کے درمیان ادا جعفری کے لیے کسی خاص رنگ پر نگاہیں ٹھہرانا آسان نہ تھا۔ ’میں ساز ڈھونڈتی رہی‘ میں شامل شاعری میں زندگی کے جمالیاتی رُخ کی کشش اور رومان کی دنیا سے فطری لگاؤ کے باوجود، تخیل اور محسوسات کے رنگ تو نمایاں ہوئے ہیں مگر ان کا اپنا شعری لہجہ متعین نہیں ہوپایا ہے۔
1968 میں ان کا دوسرا مجموعہ کلام ’شہر درد‘ شائع ہوا۔
’شہر درد‘ میں نظمیں بھی ہیں اور غزلیں بھی۔ ان کی مشہورزمانہ غزل بھی اسی مجموعے میں شامل ہے جسے پٹیالہ گھرانے کے نامور گائیک امانت علی خاں مرحوم نے گایا ہے:
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
آئے تو سہی، برسر الزام ہی آئے
لمحات مسرت ہیں تصور سے گریزاں
یاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے
کیا راہ بدلنے کا گلہ ہمسفروں سے
جس رہ سے چلے تیرے در و بام ہی آئے
تھک ہار کے بیٹھے ہیں سرکوئے تمنا
کام آئے تو پھر جذبہ ناکام ہی آئے
ادا جعفری کی شاعری میں کچھ ایسے الفاظ بھی جابہ جا ملتے ہیں جو موجودہ زبان و اسلوب میں شامل نہیں سمجھے جاتے جیسے پوچھو ہو، چلے ہے لگے ہے، کہیو وغیرہ۔ یہ الفاظ ان کے ثقافتی پس منظر اور ان کے داخلی آہنگ کی ابتدائی صورت گری کے دیر پا اثرات کی نشان دہی کرتے ہیں۔ یہ اشعار ملاحظہ ہوں ؂
اک وحشت جاں ہے کبھی صحرا کبھی زنداں
اک عالم دل ہے کہ بہاراں سا لگے ہے
دل کے لیے بس آنکھ کا معیار بہت ہے
جو سکہ جاں ہے سربازار چلے ہے
ادا جعفری پر گفتگو کرتے ہوئے عالمی تناظر میں کہی گئی ان کی مشہور نظم ’مسجد اقصیٰ‘ کا ذکر ناگزیر ہے۔ تاریخ شاعری میں دو مسجدوں پر شاہکار نظمیں کہی گئی ہیں۔ ایک اقبال کی نظم ’مسجد قرطبہ‘ اور دوسری ادا جعفری کی نظم ’مسجد اقصیٰ‘، ڈاکٹر اسلم فرخی، ادا جعفری کے شعر ی اظہار کے تعلق سے اپنی ایک تحریر میں رقم طراز ہیں:
1967 میں وہ یادگار نظم ’مسجد اقصیٰ‘ شائع ہوئی جس نے دلوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اردو ادب میں مسجدوں کے حوالے سے دو شعری شہ کار وجود میں آئے ہیں۔ علامہ اقبال کی نظم ’مسجد قرطبہ‘ فلسفیانہ اساس میں ڈوبی ہوئی، زمان و مکاں کے اسرار ہویدا کرنے والی، سطوت ماضی کی بازیافت اور مستقبل کا ایک خوف ناک نظارہ پیش کرتی ہوئی۔ مگر ’مسجد اقصیٰ‘ ذاتی جذبات، واردات سے لبریز وہ فریاد ہے جسے سن کر عرش سے خاک نشینوں کو سلام آتے ہیں۔ ایسی پراثر اور سراپا آرزو نظمیں ہمارے ادب میں خال خال ہیں جن میں فریاد، آرزو، تقاضا سبھی کچھ موجود ہو۔ ادا جعفری کے یہاں جس نسائی حسیت کی جھلک ابتدا سے ملتی ہے وہ اس نظم میں اپنے عروج پر آگئی ہے۔‘‘
اس نظم میں مسلمانوں سے تخاطب کا انداز یہ ہے:
تم تو خورشید بکف تھے سربازار وفا
کیوں حریف نگہ چشم تماشا نہ ہوئے
کس کی جانب نگراں تھے کہ لگی ہے ٹھوکر
تم تو خود اپنے مقدر کی عناں تھامے تھے
اس صحیفے میں ندامت کہیں مفہوم نہ تھی
اس خریطے میں ہزیمت کہیں مرقوم نہ تھی
محترم ہے مجھے اس خاک کا ذرّہ ذرّہ
ہے یہاں سرور کونین کے سجدے کا نشاں
اور پھر نظم کے آخری حصے میں کہتی ہیں:
تم نے کچھ قبلہ اول کے نگہباں سنا؟
حرمت سجدہ گہ شاہ کا فرمان سنا؟
زندگی مرگ عزیزاں کو تو سہ جاتی ہے
مرگ ناموس مگر ہے وہ دہکتی بھٹی
جس میں جل جائے تو خاکستر دل بھی نہ ملے
اس نظم میں جس طرح ادا جعفری نے ’مرگ ناموس‘ کو ملت کی زبوں حالی کا اصل سبب قرار دیا ہے یقیناًاسی ادراک کو ڈاکٹر اسلم فرخی نے ادا کے نسائی شعور کا نقطہ عروج قرار دیا ہے۔
ادا جعفری کی کلیات ’موسم موسم‘ جس میں ان کے پانچ شعری مجموعے اور غیرمطبوعہ کلام پر مشتمل حصہ بہ عنوان ’سفر باقی ہے‘ شامل ہے کے مطالعے کے بعد یہ صاف ہوجاتا ہے کہ ان کی شاعری مدھم مدھم سرگوشی اور خودکلامی کی کیفیات اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ان کے بیانیہ لہجے میں قدیم و جدید لفظیات کے امتزاج سے ایک ایسا شعری اسلوب وجود میں آیا ہے جس کی جھلک اس وقت کی شاعرات میں صرف زہرہ نگاہ کے یہاں ملتی ہے۔ یہی اسلوب ادا جعفری کی شناخت ہے۔ اس شناخت کو انھوں نے اپنے طویل شعری سفر میں مستقل برقرار رکھا ہے۔ یہ آسان نہیں تھا۔ جتنا مشکل شناخت قائم کرنا ہے اس سے کہیں مشکل شناخت کو برقرار رکھنا ہے۔ ’میں ساز ڈھونڈتی رہی‘ سے ’حرف شناسائی‘ اور ’سفر باقی ہے‘تک تمام شعری پیرایوں میں ان کا لہجہ، غم ذات اور غم کائنات سے مانوس و آشنا اور زندگی کے جمالیاتی رنگوں سے مسرتیں کشید کرنے کے باوجود پرسوز نظر آتا ہے۔
1987 میں شائع ہونے والی کتاب ’غزل نما‘ اور ان کی سوانح ’جو رہی سو بے خبری رہی‘ کو ان کے نثری اظہار کا بے مثل نمونہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ ’غزل نما‘ اردو غزل کے قدیم اساتذہ کے مختصر حالات زندگی اور انتخاب کلام پر مشتمل مضامین کا مجموعہ ہے جو انجمن ترقی اردو کے ماہنامے قومی زبان کے لیے قلم بند کیے گئے تھے اور دسمبر 1983 سے ہر ماہ تواتر کے ساتھ 137 اشاعتوں تک شائع ہوتے رہے۔ قدیم غزل گو شعرا کے حالات زندگی کے بنیادی نکات رقم کرتے ہوئے اور ان کے نمونہ ہائے کلام کو منتخب کرتے ہوئے ادا جعفری نے بحیثیت ایک تخلیق کار اور شاعرہ، جن معیارات کو پیش نظررکھا ہے اس سے خود ان کے ذوق شعری کا اندازہ ہوتا ہے۔ جولائی 1995 میں شائع ہونے والی ادا جعفری کی خودنوشت ’جو رہی سو بے خبری رہی‘ ایسی تحریر ہے جو اردو زبان میں معیاری نثر کی تازہ تر لطافتوں اور دلکشی کے ساتھ سپرد قلم کی گئی ہے۔ اور ایک خاص زمانے کی تہذیب، طرز فکر اور طرزِ معاشرت کی عکاس ہے۔ تقسیم ہند سے قبل کے مسلمان معاشرے کی دیرینہ روایات کے ساتھ پروان چڑھنے والی ادا جعفری سفر در سفر، مختلف معاشروں کے تنوع اور رنگارنگی کا مشاہدہ کرتے ہوئے زندگی کی حرارتیں کشید کرتی رہی ہیں۔ اس کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی کے تجربات نے کس کس طرح ان کی شاعرانہ حسیت کی تشکیل کی۔ شاعری میں انھیں غزل اور نظم دونوں پر یکساں قدرت حاصل تھی لیکن اس کے باوصف انھوں نے زیادہ تر نظموں کو اپنا وسیلۂ اظہار بنایا۔ ادا نے اردو اصناف کے علاوہ جاپانی صنف سخن ہائیکو پر بھی طبع آزمائی کی ہے۔ ان ہائیکو کا مجموعہ ’سازِ سخن‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس میں بھی ادا جعفری نے حیات وکائنات کو موضوع بنایا ہے۔ او رکامیابی سے اردو ہائیکو کہا۔ ان کو دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ انہی کی رہنمائی و پیش قدمی نے نئی آنے والی پود کو حوصلہ دیا ہے اور نئی منزلوں کا پتہ بتایا ہے بلاشبہ وہ اردو شاعری میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ادا جعفری کی شخصیت میں کتابوں بچوں اور مظاہر فطرت سے محبت اور قربت کا احساس بچپن ہی سے شامل رہا ہے۔ زندگی کی انھیں خوشیوں کو ترتیب دے کر وہ اپنے اداس دل کے بہلاوے کی صورتیں پیداکرلیتی تھیں۔ ابتدا میں انھوں نے کاغذ اور قلم تھام کر ہرگزرنے والے لمحے کا حساب درج کرنا شروع کردیا وہ بڑی باقاعدگی سے روزنامچہ لکھا کرتی تھیں۔ اپنی ڈائری میں اپنے روز و شب کا احوال لکھتے ہوئے وہ اپنے جذبے کی کہانیاں رقم کیا کرتی تھیں۔ یہ ڈائری اگر آج دستیاب ہوتی تو اندازہ کیا جاسکتا تھا کہ وہ ابتدائی زندگی میں وہ کن کن جذبات و احساسات سے دوچار رہی تھیں۔ مگر 1947 کے فسادات میں یہ ڈائری کہیں گم ہوگئی اور یوں ادا جعفری کے اظہار کے اوّلین مراحل سے شناسائی کا ایک در ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا۔ ادا کی شاعری کا مجموعی مطالعہ اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ ان کی شاعری میں جو تصویریں ہیں وہ نہ کسی چوپالی ہیں اور نہ کسی محل سرا کی۔ جو ترقی پسندی کی خاص پہچان ہے بلکہ یہ دلوں کے اندر کی، ذات کے نہاں خانوں کی تصویریں ہیں جو جدیدیت کی پہچان ہیں لیکن پھر بھی یہ زندگی کے خاکے ہیں۔ کچھ ان کے انفرادی اور کچھ انسان کی اجتماعی زندگی کے ، کچھ دکھ سکھ ان کے اپنے ہیں اور کچھ سماج کے۔ مجموعی حیثیت سے یہ کہنا درست ہوگا کہ ادا جعفری کا شمار ان شاعرات میں نہیں کیا جاسکتا جو نسائیت کے اظہار کے لیے نمائش اور نعرہ بازی کی حد تک اتر آتی ہیں اور ’کیا ہے شعر کو پردہ سخن کا‘ کے پردے اور حجاب سے بے نیاز ہوجاتی ہیں جو شاعری کی روح کہلاتا ہے۔ وہ جدید شاعرہ ہونے کے باوجود اس جدیدیت‘ سے دور ہیں جس کا چیستانی عمل جدیدیت کو لے ڈوبا۔ ان کا شمار اردو کے ان شعرا و شاعرات میں ہوتا ہے جنھوں نے ترقی پسند تحریک کے ساتھ باقاعدہ وابستگی نہ رکھتے ہوئے بھی ترقی پسند شاعری کی۔ ان کی شاعری میں نسائی تشخص کی بازیافت بھی کلاسیکی روایتوں کے احترام کے ساتھ بدرجہ اتم موجود ہے۔ ادا جعفری نے بحیثیت ایک نسوانی وجود، جن دو متضاد زمانوں کو دیکھا، برتا اور جھیلا ہے ان کے اہم تجربات کو بہت سی تفصیلات اور جزئیات کے ساتھ اپنی شاعری میں کامیابی کے ساتھ پیش کیا۔ ادا جعفری کا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے ترقی پسند موضوعات اور نظم کے پیرائے کو اپنا کر شاعری کے جدید تجربات کی طرف خواتین کو متوجہ کرنے کا کام کیا۔ مضمون کو جناب سحر انصاری کے اقتباس پر سمیٹتا ہوں انھوں نے اپنے مضمون ’ادا جعفری: ایک مطالعہ‘ میں اظہار خیال کیا ہے:
’’ادا جعفری کی شاعری مجموعی طور پر اقدار حیات اور انسان دوستی کی شاعری ہے اور ان کے پہلے شعری مجموعے سے لے کر ’سازِ سخن بہانہ ہے‘ تک ان کے اس مسلک شاعری میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ وہ زندگی کی صداقتوں کو شعری پیکروں میں ڈھالنے کا ہنر جانتی ہیں اور اس ضمن میں ا نتہا پسندی کا شکار کبھی نہیں ہوئیں۔ ادا کی شاعری میں زندگی کے کئی روپ اور ازویے ہیں جن میں بنیادی حیثیت انسان کو حاصل ہے۔‘‘
12 مارچ 2015 کو مختصر علالت کے بعد 90 برس کی عمرمیں ادا جعفری کا کراچی پاکستان میں انتقال ہوگیا۔
ابھی تو خواب چہرے سب دعا کی رہ گزر میں تھے
کہانی ختم کیسے ہوگئی آغاز سے پہلے
n
Mohi Bakhsh Qadri
6/48, Veneet Khand, Gomti Nagar
Lucknow - 226010 (UP)
Mob.: 09839018959
mohibaksh@gmail.com
 اگر آپ رسالے کا آن لائن مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے لنک پر کلک کیجیے:۔




قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

23/5/18

مضمون۔ جنوبی ہند کے عصری اردو ادب میں علاقائی اثرات از مہ نور زمانی بیگم






جنوبی ہند کے عصری اردو ادب میں علاقائی اثرات

مہ نور زمانی بیگم




ادب میں علاقائی اثرات زبان اورمواددونوں میں ملتے ہیں۔ جہاں تک زبان پر پائے جانے والے علاقائی اثرات کا سوال ہے ان ریاستوں میں کنڑ، تلگو، تمل اور ملیالم ہی نہیں بلکہ مرہٹی زبانوں کے اثرات شروع سے ہی اردو زبان کے ڈھانچے پر اس طرح سے اثر انداز رہے ہیں کہ یہاں بولی جانے والی اردو زبان’دکنی‘ کے مخصوص نام سے جانی جاتی ہے۔ اس حقیقت سے قطع نظریہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 1985سے بہت پہلے ہی جنوبی ہند کے کئی ادباء و شعرا نے معیاری اردو کے استعمال پر پوری قدرت حاصل کرلی تھی۔ چنانچہ پچاسی تا حال کے جنوبی ہندکے اردو ادب میں علاقائی اثرات کی تلاش یہاں کے شعری اور تنقیدی سر مایے میں بے سود ہے۔اس دورتک کر ناٹک اور حیدر آبادمیں محمودایاز، خالد عرفان، مغنی تبسم، سلیمان اطہر جاوید، ڈاکٹر سیدہ جعفر وغیرہ کئی احباب کی ادبی تنقیدوں نے شمالی ہند اور پاکستان سے شائع ہونے والے موقر رسائل میں جگہ بنا لی تھی لیکن فکشن میںآج بھی علاقائی اثرات کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔اگر ہم یہاں کے فکشن کا جائزہ لیں تو نہایت خوش کُن نتائج سامنے آتے ہیں اور ادب میں علاقائیت کی تلاش کا عمل معتبر محسوس ہونے لگتا ہے۔ 

در حقیقت علاقائی اثرات ہر ادیب کا اٹوٹ حصہ ہوتے ہیں کیو نکہ ادیب معاشرے کا حساس،د رد منداور دوربین فرد ہوتا ہے۔ ادیب و شاعر کا بچپن جس علاقے میں بسر ہوتا ہے اور وہ زندگی بھر جس علاقے میں رہتا بستا ہے وہاں کی زبان اور تہذیب و ثقافت کے اثرات اس کے لاشعور میں اس طرح مر تسم ہوجا تے ہیں کہ اس کی تخلیقات میں کہیں نہ کہیں ان کی جھلک نمایاں ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ادب میں علاقائی اثرات کا وجود ایک ایسا وصف ہے جو اپنے تخلیق کار کے، کسی مخصوص علاقے سے وابستہ ہونے کا ثبوت پیش کرتا ہے۔ 
تو آئیے میں بات شروع کرتی ہوں شمالی کرناٹک کے شہر ہبلی کے ایک مشہور افسانہ نگار ملّاعبدالغنی کے ناولٹ ’ نقشی کٹورا‘ سے! یہ ایک ایسا ناولٹ ہے جس میں مصنف نے انتہائی فنکاری کے ساتھ زبان اور مواد دونوں کے اعتبار سے علاقائیت کی جیتی جاگتی تصویریں پیش کردی ہیں۔ا س میں بظاہر ایک ایسی پاگل عورت کی کہانی ہے جس کے تنے ہوئے خد و خال، چَڑھی ہوئی بھوئیں اورلال لال آنکھیں دیکھ کر کوئی بھی عام آدمی اس کے قریب تک نہ پھٹکتا تھا، اورخود اس کے اپنے بچے اس کی جنگجو یانہ اورخونخوار اضطراری حرکتوں کا سامنا کر نے سے کتراتے تھے۔ملّاعبدالغنی نے اس ناولٹ کے پردے میں بیجاپور، ہبلی اور دھارواڑکی علاقائی معاشرت، زندگی کے شب و روز، تہذیب و ثقافت، غربت، عظمت، توہم پرستی،زبان، روز مرہ، کہاوتوں اور چٹکلوں سب کو قلمبند کردیا ہے۔
وہاں پر استاد کو ’جناب‘ کہا جاتا ہے جیسے کہ ناولٹ میں جناب چھوٹے شاہ، جناب چھوٹے گدگ وغیرہ ہیں، تایا کو’ بڑے باپ ‘کہا جاتا ہے جو کہ کنڑ ’ دوڈاپّا‘ کاہو بہو اردوترجمہ ہے۔ جب ’ہاں‘ کہنا ہو ’ھوئے ‘ کہا جاتا ہے۔ ’ذ ‘ اور’ ز ‘ کی آواز کو’ج ‘کی آواز سے اداکیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی اور قسم کی لسانی خصوصیات یہاں کی مخصوص دکنی اردو کے مزاج کا حصہ ہیں۔ لہذا شمالی کرناٹک کی اردو زبان کے مخصوص علاقائی اثرات سے مملواس ناولٹ کے چند اقتباسات ہیں : 
’’اللہ کاں بسریاچنگا ماں اِسے، برس پہلے پکتے ہوئے کھانے میں کنکر مٹی ڈالی، دو برس پچھے بڑے باپ کے نوے اِجار جامے کو جلا ئی، تب بڑے باپ کیتّی عاجزی سے پاؤں پکڑ کو بولے تھے ایسا کرو نکو ماں کر کو، اِنے چھوڑی تو بول۔ ‘‘ (ص72)
’’ وھئے۔۔۔مجے معلوم۔۔۔ مچھی کے بچے کو تیرنا شکانا کیا۔۔۔‘‘ (ص42) 
’’میں بلا لے کو جاتوں تمنا کل سال کو۔۔۔ بولو بھی،نیں تو دیکھو حجرت بھینساں چرانے لگاتیں کتے۔‘‘ 
’’ اجی خالہ اسے جرا دودھ پلاؤ جی، کل سے دودھ نیں پئے جی‘‘ (ص14)
ملّا عبدالغنی نے شمالی کر ناٹک کی زبان کے اس طرح کے جیتے جاگتے نقوش کے علاوہ جو معاشرتی تصویریں ’نقشی کٹورا‘ میں پیش کی ہیں اُن کا شائبہ آج بھی دھارواڈ، بیلگام اور بیجاپور کے علاقوں میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ اس ناولٹ میں تعویز، فلیتے، پیروں، شہدوں، حکیموں اور ڈاکٹروں کے آستانوں پر سر جھکانے کا تذکرہ، بھوت پریت اتارنے والوں کا کہا ماننے کے واقعات، نئے رہن سہن کو اپنانے کی طرٖ ف بڑھائے جانے والے بے ہنگم اقدامات،اس علاقے میں پائے جانے والے پیشوں کی اونچ نیچ و غیرہ باتوں کونہایت دلچسپی اور فنکاری کے ساتھ بیان کردیاگیا ہے۔محرم میں ادا کی جانے والی رسومات کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھتے ہیں’’ لوگ اپنے ہر دکھ کا علاج حضرت بی بی فاطمہ کی عودی کو مانتے تھے۔ چوکی کے سامنے ماتھا ٹیکتے، شِرسٹانگ نمسکار کرتے، عودی کی ایک چٹکی جیبھ پر ڈالتے، گلے پر لگاتے،ماتھے پر ٹیکہ لگاتے، دعائیں دی جاتیں،منتیں مانی جاتیں اور فاتحہ پڑھی جاتی۔۔۔ .بکرے ذبح کرکے کندوری کی جاتی، ہُدّے (ڈھائی سیر گڑ ڈھائی سیر مونگ پھلی کا تیل حضرت امام حسین کے نام نذر و نیاز کرنا) دئے جاتے۔ ‘‘ پھر یہ کہ ’’روایت کے مطابق تقریباً ہر مسلمان کے گھر میں پانچویں کو شربت، گھی کے بگھار کی مونگ کی کھچڑی اور سارے بیگن کا سوکھا سالن، تور کی دال یا گوشت کا سالن پکتا،ساتویں کو گھوڑے (ایک میٹھا پکوان) اور گوشت کا سالن اور گھی سے بگھارے چاول اور ’ قتل ‘ (یعنی محرم کی نویں تاریخ) کو ملیدہ اور بریانی،نیز نویں کو خاص طور سے مہندر گڑھ کے تقریباً ہر ہندو گھر انے میں محرم کا تہوار منایا جاتا۔دن بھر روزہ رکھ کر نہا دھو کر لنگایتوں اور برہمنوں، چھتریوں کے ہاں بھاجی،بیگن، روٹی،پھیکے چاول اور ملیدہ شربت تیار کرکے مغرب کے بعد بی بی فاطمہ کے نام عاشور خانے آکر فاتحہ نہ دلائی جاتی توان کے منہ میں کھیل تک اڑ کر نہ جاتی۔ دَھیڑوں، چماروں، دھوبیوں کے گھر کندوریاں ہوتیں، بکرے کٹتے اور ان کی عورتیں نہا دھو کر دھلے دھلائے کپڑوں میں ملبوس ایک جگہ جمع ہوکر صبح ہی صبح رونا بین کرنا شروع کر تیں،بکرے کو بھی نہلا دھلا کر اس کے پاؤں میں صندل لگایا جاتا،پیشانی پر کُم کُم کی انگلیاں بٹھائی جاتیں اور گلے میں پھولوں کے ہار پہنائے جاتے۔۔۔ ‘‘ (ص 61-62)۔ جنوب میں برسوں سے چلی آرہی قومی یکجہتی کی مستحکم روایات کو مٹانے کی جو کوششیں ہوتی رہی ہیں انھیں بھی ملّاعبدالغنی نے بڑی دانشوری کے ساتھ اس ناولٹ میں سمیٹ لیا ہے (صفحہ 145 )۔ 
اسی طرح ہبلی کے ایک اور مشہو ر افسانہ نگار انل ٹھکر کے ہاں بھی علاقائیت کی بہت ساری مثالیں مل جاتی ہیں۔ ان کے ایک ڈرامے’چوتھی دیوار‘ میں انھوں نے ایک پسماندہ ذات، اس کی بیوی اور اس کے ایک مسلمان دوست کے درمیان گفتگو کو پیش کرتے ہوئے جس زبان کا عکس پیش کیا ہے اس میں علاقائی اثرات کی نو عیت اس طرح ہے : 
کملی : لوگن کی نیت جب خراب ہوئی تب ہوئی، مجھے توہار نیت اچھی ناہیں لاگے ہے۔ 
کالو : کیوں کافرک دِکھے ہے تیرے کو؟
رمجو : (باہر سے ) کالو بھیا ....(داخل ہوکر) کا بتیارے ہو ہمارا بھاوج سنگ؟ 
کالو : رمجو آ بھئی آ۔ بیٹھ ادھر ..... رمجو، ایک بات بتا۔۔۔ تو ہار جات کا ہے؟ وغیرہ 
اوپر جو حوالے میں نے پیش کیے ہیں ان میں زبان کے اعتبار سے توفنکاروں نے جان بوجھ کر اپنے اطراف و اکناف کے علاقائی نقوش ابھارے ہیں لیکن جہاں تک ان کے بیانیہ میں ان کی اپنی زبان کا سوال ہے اس میں بھی کرناٹک کے اکثرفکشن نگاروں کے ہاں علاقائی اثرات کی دلیل کے طور پر کبھی جملوں کی ساخت میں صحت کی کمی نظر آتی ہے تو کہیں پر ’نے‘ کے استعمال کی خامیاں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً ’’ انھوں نے اپنے بیٹے کو قریبی محلے کی اسکول کو لے گئے اور داخلہ کرادیا‘‘ اور ’’اُس نے ملّا گیری کو چھوڑ بیٹھا تھا‘‘ وغیرہ۔
ریاست کرناٹک کے ایک افسانہ نگار منظر قدوسی نے اپنے افسانوں کے مجموعے ’برگ آوارہ ‘(2010 ) میں کرناٹک کے علاقے شیموگہ کے ایک دیہات کی معاشرتی زندگی کے دلچسپ مرقعے پیش کیے ہیں۔ ان کا افسانہ ’چاوڑی کا درخت ‘‘یہاں کی اوہام پرستی کی عمدہ مثال ہے۔ اس میں بتا یا گیا ہے کہ بچے ’کٹّے‘ تالاب کے آگے والے چاوڑی کے نہایت خوشبو دار پھول توڑ لاتے تو عورتیں انھیں پہنتی نہیں تھیں بلکہ پتہ چل جاے تو دور سے ہی بھگا دیتی تھیں کیونکہ یہ خیال عام تھا کہ ہر پھول کی خوشبو سے ایک چڑیل لپٹی ہوتی ہے، چونڈے میں پھول لگاتے ہی وہ چڑیل جسم پر سوار ہو جائے گی۔ اس کے بعد کیا ہوگا اس کے تصور سے ہی عورتیں کانپ جاتی تھیں۔ (ص37) 
چاوڑ کیا تھا ؟ اس کی بھی تصویر انھوں نے اس میں نہایت خوبی سے کھینچ دی ہے۔ یہ چاوڑ دراصل ایک میدان میں بنی ہوئی چار دیواری کے اندر نصب کیا ہوا سانپ کی مورت والا ایک پتھر تھا، اس گاؤں کے غیر مسلم اسے چاوڑی کہتے تھے۔ اس کے بازو میں جو درخت تھا اس میں سفید پھول لگتے تھے، وہی چاوڑی کے پھول تھے جن کی خوشبو سے سارا ماحول معطر ہو جاتا تھا۔اک مر تبہ جب راوی کا دوست وزیر،دوستوں کے ساتھ کھڑی دوپہر کے وقت درخت پر چڑھتا ہے اور اتفاقاً نیچے گر پڑتا ہے تو اُس کے گھر پہنچنے کے بعد اس کی ماں یقین کے ساتھ کہتی ہے کہ شیطانوں کے ناچنے کے وقت تم لوگ چاوڑی کے پاس گئے تھے، شیطان نے ہی وزیر کو گرایا ہے۔ وہ پھر اپنے شوہر سے کہتی ہے کہ چلو جاکر چاوڑی کو کُم کُم لگا آئیں ورنہ سانپ رات بھر کو اِسے ستائے گا (ص38)۔ برس میں ایک مرتبہ یہاں جاترا لگتا، بکرے کٹتے، ڈھول پیٹے جاتے، شنکھ پھونکے جاتے، کھانا پکتا اور خوب دھوم دھڑاکا ہوتا۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے جو آج بھی کئی دیہاتوں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہر سال ایک مقررہ دن میں’اُورُو ہبّا‘ یعنی ’گاؤں کا میلہ‘ دھوم دھام سے منایا جاتا ہے اور شہروں میں کام کرنے والے اِن دیہاتوں کے افراد دفتروں میں چھُٹی لگا کر اس میں شریک ہوتے ہیں۔ غرض کہ ’چاوڑی کا درخت ‘ افسانے میں علاقائیت کے مرقع خوبی کے ساتھ منعکس کردیے گئے ہیں۔اس میں اندھی عقیدت کوصالح روایت میں بدلنے کا سامان بھی موجود ہے۔ افسانہ نگارنے سماج کی پامال ہوتی ہوئی انسانی قدروں کو نئے راستوں پر ڈالنے کے لیے بھی اس افسانے میں اپنے فن کا استعمال کیاہے۔
یہ تو رہیں خالص علاقائیت کی مثالیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی فکشن نگاروں کے ہاں جن کی تعداد بیسیوں تک پہنچتی ہے حوالوں اور اشاروں کی صورت میں علاقائی اثرات کی چھاپ صاف نظر آتی ہے۔ وہ اپنے مختصر افسانوں میں بنگلور کے پس منظر میں یا کسی اور شہر میں نظر آنے والی معاشرتی قدروں کی پامالی کااحاطہ کرکے قاری کی فکر کو مہمیزکرتے ہیں۔
فرحت کمال،ضیا میر، فیاض قریشی، انیس الحق،حسنیٰ سرور،یحییٰ نسیم، اثر سعید،ضیا کرناٹکی اور فریدہ رحمت اللہ وغیرہ کے افسانوں میں ہمیں کر ناٹک کے شہر بنگلورکے یا کسی اور مقام کے پس منظر میں علاقائی اثرات کی اچھی خاصی جھلکیاں مل جاتی ہیں جیسے کہ فرحت کمال کے افسانے’اجالے کہاں ہیں‘ اور ’چٹھی پیار کی!‘ میں سٹی مارکیٹ، شیواجی نگر، گوشہ ہسپتال، ودھان سودھا وغیرہ جانے پہچانے مقامات سے بسیں گزرتی ہیں اور افسانہ نگار ان سے وابستہ مسائل کا نقشہ افسانے کہانی کی شکل میں پیش کرتا جاتا ہے۔ اسی طرح قاضی انیس الحق کے افسانوں میں ہری مسجد اور ہوٹل کوشس کی رنگیں شامیں وغیرہ کئی باتوں کا ذکر نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ 
علاقائی اثرات فنکارکی تخلیقی قوتوں کو نئی منزلوں کی طرف رواں دواں کر دیتے ہیں۔ ہر ادیب اپنے اپنے علاقائی اثرات کو اپنے فن میں سمیٹ کر آگے قدم بڑھاتے ہوئے آفاقیت کی منزل پرپہنچ جاتا ہے۔لہٰذا موضوع اور مواد کے اعتبار سے کئی ادب پاروں میں علاقائیت کا عمل دخل اس طرح سے نظر آتا ہے کہ یہ ادب پارے علاقائی اثرات کی منہ بولتی تصویریں ثابت ہونے کے علاوہ عمدہ معیاری ادب پاروں کے زمرے میں بھی شامل ہوجاتے ہیں۔لہٰذا علاقائیت کی حسین فضاؤں میں گذربسر کرتے ہوئے اگر ایک ادیب یا شاعر غروب آفتاب کی پھولی ہوئی شفق کو سورج کے قتل کی گواہی سے تعبیر کرتا ہے تو اس کی ادبی تخلیق کے ڈانڈے جدیدیت اور آفاقیت سے مل جاتے ہیں اورقاری واہ کہنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ اکثر ہوتا یہی ہے کہ ادباء وشعراء علاقائیت کے نشیب و فراز سے گزر کر آفاقی سوچ کی ضیا سے آسمانوں کی بلندیوں پر اڑانیں بھرنے لگتے ہیں تو شاہکار ادب پارے وجود میں آ جاتے ہیں۔
گلبرگہ کے ایک مشہور افسانہ نگار اکرام باگ کے افسانے اس بات کے مظہر ہیں کہ انھوں نے زندگی کی تصویر وں میں علاقائی رنگ بھر کر حیات و کائنات کی صداقتوں کو اخذ کرنے کی ایسی کوشش کی ہے کہ ان کے قلم نے آفاقیت کی منزل کو چھو لیا ہے۔اکرام باگ کا افسانہ ’حیات‘ ایسا ہی ایک افسا نہ ہے۔ اس کا راوی اپنے محلے کے گلیاروں میں بسنے والے معذور اور اپاہج افراد کے مشاہدے سے انسان کی جینے کی ہوس کا اندازہ لگاتا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ اس کی جینے کی ہوس نے ہی شاید روح کی عظمت کا فلسفہ ایجاد کیا ہوگا۔(ص13، افسانوں کا مجموعہ کُوچ )۔ ایک کوڑھی کو پانچ سال سے گھسٹ گھسٹ کر جیتے ہوئے دیکھنے تک جوکہانی علاقائیت کی حدود میںآگے بڑھ رہی ہوتی ہے،آگے چل کر آفاقیت کی طرف کُوچ کر جاتی ہے۔ کئی حسی علامتوں کی مدد سے اِکرام باگ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ زندگی کے راز نہ تو سماجیات کا پروفیسر جان سکتا ہے، نہ کوئی مذہبی عالم انھیں کھول سکتا ہے، نہ ہی سیاست میں ہر بات کو جائز سمجھنے والا سیاست دان انھیں پہچان سکتا ہے، نہ ہی کوئی سائنس دان ان کی حقیقت معلوم کر سکتا ہے اور نہ ہی یہ کسی مجنوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں، حیات تو ننگی دیواروں، خالی کمروں، کھلی چھت اور سُونے فرش والے خالی کمرے کی طرح ہے۔چنانچہ اکرام باگ کے افسانے اس بات کے مظہر ہیں کہ ادیب زندگی کی تصویروں کو علاقائی رنگوں میں ابھار کرحیات و کائنات کی سچائیاں عیاں کر دیتا ہے اور اپنے ادب پاروں کوآفاقیت کے شاہکار تسلیم کروالیتا ہے۔ ان کے افسانے علاقائیت سے گذر کر فلسفیانہ سوچ و فکر کی آئینہ داری کرتے ہیں،ان میں افسانہ نگار علاقائیت کے نشیب و فراز سے گزر کر آفاقیت کی ضیا حاصل کر لیتا ہے اورآسمانوں کی بلندیوں پر اڑانیں بھرکر عا لمی قدروں کا نگار خانہ تخلیق کر دیتا ہے۔ علاقائیت کا یہ عمل صرف اکرام باگ کے ہاں ہی نہیں بلکہ پورے ترقی پسند، جدید، مابعد جدید ہر قسم کے ادب میں کسی نہ کسی نہج پر اپناچہرہ دکھاتا ہے۔ چنانچہ جد ید نظموں کی شاعرہ شائستہ یوسف بھی قطب شاہ کے قلعے کے کھنڈروں کا نظارہ کرتی ہیں تو تنہائی کی لذت و کرب کے تجربہ سے گزرتی ہیں اور اسے ’’قطب شاہی قلعے کے کھنڈرات کی ایک شام ‘‘ کے بطور نظم قلم بند کر نے میں سکون محسوس کرتی ہیں۔ 
اسی طرح کرناٹک کے مشہور شاعرماہر منصورکی نظم ’’کمرشیل اسٹریٹ کی ایک شام‘‘ میں ہمیں علاقائیت سے آفاقیت اور خارج سے باطن کی طرف سفر کرتا ہوافنکار ملتا ہے۔ نظم ہے : 
ہوا ہے قتل ابھی آفتابِ تیرہ شکن/ بکھرگئی ہیں ہر یک سمت خون کی لہریں / یہ رہ گزر ہے یا بہتا ہے نور کا دریا / ادھر اُدھر سے گزرتی ہوئی حسینوں کے / گداز جسموں سے اٹھتی ہیں بھینی خوشبوئیں / ہر ایک سمت سے آتا ہوایہ جمِ غفیر / نئی تراش کے ملبوس میں حسیں جوڑے / چمکتی کاروں میں آ آ کے یوں اترتے ہیں / نوازتے ہوں۔۔۔ قدم رکھ کے۔۔۔جیسے دھرتی کو /۔۔۔ ہر ایک دل میں مچلتا ہے آرزوکا لہو / ٹھہر گیا ہے سبک گام کارواںِ حیات / پڑی ہے پاؤں میں زنجیر دلفریبی کی / ابھی گلی سے نکلنے کی دیر تھی ماہر / میرے ضمیر نے چپکے سے یہ کہا مجھ سے / اسی گلی میں کہیں کھو گیا ہوں۔۔۔ میں ۔۔۔ ڈھونڈو۔ (ص38 مجموعہ فاصلہ، ماہر منصور)
جنوب میں گلبرگہ اور حیدر آبادایسے علاقے ہیں جہاں 1948 میں پولیس ایکشن نے بے انتہا تباہی و بربادی مچائی تھی۔ اس کے اثرات یہاں کے اکثرفکشن نگاروں کے ذہن پر اس طرح چھائے ہوئے ہیں کہ ان کی تخلیقات میں وقفہ بہ وقفہ ان اثرات کے سائے منڈ لاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔کبھی مالی حالات کے بگاڑ کی صورت میں تو کبھی ’رسی جل گئی پر بل نہیں گیا‘ کے مصداق احساس برتری کی پیچیدہ بھول بھلیوں میں ان کا عکس ہمیں نظر آ جاتا ہے۔ ڈاکٹر بیگ احساس کے افسانے’ نجات‘ اور’ کھائی‘ ان اثرات کی نمایاں مثالیں ہیں۔ جیلانی بانوکے افسانوں میں بھی ہمیں ان اثرات کے مختلف روپ نظر آتے ہیں۔ جیلانی بانو کے دورِ حاضر کے افسانے حیدر آباد کے جدید تر معاشرتی مسائل کا انتہائی فنکاری کے ساتھ احاطہ کرتے ہیں اور اس احاطے میں وہاں کے علاقائی اثرات کی دھوپ چھاؤں آنکھ مچولی کھیلتی نظر آتی ہے۔ ان کے ایک افسانے ’جنت کی تلاش‘ میں ایک ایسے مولوی صاحب کو پیش کیا گیا ہے جو سڑکوں پر بھیک مانگنے والے اور جھونپڑیوں میں رہنے والے بے سہارا بچوں کو مسجد کے آنگن میں بٹھا کر مذہبی تعلیم دیتے ہیں۔ ایک دن جب وہ ان بچوں کو دوزخ کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ دوزخ آسمان پر ہے، وہاں اندھیرا ہوگا، بھوک لگے گی،مگر کھانا نہیں ملے گا،پینے کو پانی نہیں ہوگا، سانپ اور بچھو کاٹنے کو آئیں گے،بچھانے کو بستر ملے گا نہ اوڑھنے کو چادر ملے گی تو ایک بچی اپنی ساتھی رضیہ سے کہتی ہے کہ مولوی صاحب کو معلوم نہیں ہے کہ دوزخ آسمان پر نہیں ہے۔ اس بات پر مولوی صاحب کی ڈانٹ پھٹکار کے بعد مولوی صاحب کی ناراضگی سے ڈر کر وہ بچی روتے ہوئے دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ کر کہتی ہے ’’ میں جھوٹ نہیں بول رہی ہوں مولوی صاحب، جنگم بستی میں ہماری جھونپڑی دوزخ میں ہے۔ رات کو جب ہمارا باوا سیندھی پی کر آتا ہے، اماں کو مارتا ہے تو اماں روتے روتے بولتی ہے ’ یہ گھر تو دوزخ میں ہے‘‘ اس کے بعد ایک دوسرا بچہ کہتا ہے ’’ ہو مولوی صاحب، ہمارا گھر بھی دوزخ میں ہے،آپ بولے نادوزخ میں اندھیرا ہوگا، کھانا پانی نہیں ملے گا!ہمارے گھر میں لائٹ نہیں ہے۔ چراغ میں تیل نہیں ہوتا تو اندھیرا ہو جاتا ہے۔‘‘ اسی طرح ایک اور بچہ کہتا ہے’’اور بارش ہوتی ہے تو ہماری جھونپڑی میں پانی آجا تا ہے، رات سانپ بھی نکلا تھا۔‘‘ وغیرہ، وغیرہ۔ یہ سب سن کر مولوی صاحب کا سر جھک جاتا ہے اور وہ سوچتے ہیں کہ اب کون سا عذاب ہے جس سے ان بچوں کو ڈراؤں۔ غرض کہ یہ افسانہ بڑی خوبی کے ساتھ، کئی علاقائی حقائق کے علاوہ نہ صرف حیدر آباد کی اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ آج وہاں پرایک طرف دولت کی ریل پیل نظر آتی ہے تو دوسری طرف ایسے مسلمان خاندان بھی بستے ہیں جن کی زندگی دوزخ کا نمو نہ پیش کرتی ہے بلکہ پوری دنیا کے غریبوں کے رستے ہوئے زخموں کا جیتا جاگتا نقشہ پیش کر دیتا ہے۔ اسی طرح جیلانی بانو کی کئی تخلیقات ایسی ہیں جن میں آندھرا پردیش کی علاقائیت کو نہایت سلیقے کے ساتھ منعکس کیا گیا ہے۔ افسانہ بعنوان ’’ کل رات ہمارے گھر مرزا غالب اور عصمت چغتائی آئے تھے ‘‘ میں جیلانی بانو نے بڑے تیکھے انداز میں وہاں کے علاقائی پکوان’’ کھٹی دال اور چاول ‘‘ کا مذاق اڑایا ہے۔ اس کے علاوہ مرزا غالب عصمت چغتائی کو ’’ عصمت بی بی! ‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں تو خواتین کے لیے حیدر آباد اور گلبرگہ والوں کا روایتی طرز تخاطب سامنے آجاتا ہے۔ 
جنوبی ہند کے اردو ادب کو یہاں کے جغرافیائی حالات نے بھی علاقائیت کے اثرات کا ایک انمول نگار خانہ بنانے میں بڑی مدد کی ہے۔چنانچہ حیدر آباد کی افسانہ نگار فیعہ منظور الامین اور تمل ناڈو کے علیم صبا نویدی ایسے فنکار ہیں جن کے افسانوں میں جغرافیائی حالات کے ا ثرات کے نادر نادر نمو نے ملتے ہیں، نادر اس لیے کہ ان فنکاروں نے اپنے دیکھے بھالے مناظر کواپنے تخیل کی مدد سے ایک نئی حسیت عطا کرکے زبان و بیان کو نیا رنگ و روپ عطا کیا ہے۔اس کے علاوہ رفیعہ منظور الامین کے افسانوں میں تلنگانہ کے معاشرتی حالات کا احاطہ اس طرح کیا گیا ہے کہ وہاں کے مناظر،اُن کی خوبصورتی، زبان،عوام کے گذرِ معاش سب کی دلکش عکاسی ملتی ہے۔ مثلاً ایک اقتباس ہے: ’’ اس چھوٹے سے گاؤں کے تقریباً سارے ہی باغیچے کندنا کے باپ ہلّپا کے تھے۔پان کے باغیچے جہاں ......چھوٹے بڑے کلی دار پانوں کے پتے کسی بھارت ناٹیم رقاصہ کی خوبصورت ہتھیلیوں کی طرح ہلکی ہوا میں تھرکتے جاتے۔ جب کامگار اپنی انگلیوں میں لوہے کے تیز ناخن پہنے ان پانوں کو ڈنڈی سے کاٹ کر جمع کرتے تو ہمیشہ گیلی رہنے والی زمین میں اُن کے پیر دھنستے جاتے، باغیچے کے اندر گہرے زمردی سائے میں دوسرے ہر رنگ کا احساس مٹ جاتا۔ ......... پان کے ان باغیچوں کے کناروں پر سپاری کے اکہرے پتلے بانس نما پیڑ تھے جو ایک دوسرے سے کافی دور، شیو جی کے لمبے ترشول کی طرح ایستادہ اور سیدھے تھے۔ یہ پتلے بنسی نما لمبے لمبے پیڑ اپنے سروں پر سپاری کے اکہرے ٹوکرے اٹھائے کسے کسائے برسوں سے یوں ہی کھڑے تھے۔ ..... ’’ یلّی گے ہوگتی؟ ‘‘ (کہاں جا رہی ہو ؟) کندنا نے مینڈھ پر کھڑے کھڑے پوچھا۔ وہ ٹوکری میں بڑے بڑے چیکو جمع کر رہی تھی۔۔۔ وہ کرناٹک کی سانولی سحر تھی، جس میں کولار کے سونے کا رنگ گھلاتھا۔‘‘ (دستک سی درِ دل پر ص 78-79)۔
اسی طرح تامل ناڈو کے ادیب و شاعر علیم صبا نویدی کے افسانے بھی وہاں کے جغرافیائی اثرات کی ایک بہتریں مثال ہیں۔مدراس کی نمایاں خصو صیات یہ ہیں کہ وہاں پرانگارے برساتی ہوئی تمازتِ آفتاب، لہریں مارتے ہوئے خوشنما سمندر اور سیاہ فام عوام سے ہمارا سامنا ہوتا ہے۔ اس علاقے کے پروردہ ادیب و شاعر علیم صبا نویدی کے شعور کوان علاقائی خصوصیات نے اس طرح متاثر کیا ہے کہ انھوں نے ان سب کو انتہائی خوبی کے ساتھ بے شمار استعاروں اور تلازموں میں ڈھال دیا ہے۔وہ آفتاب کی تمازت کو جذبات و احساس کی تمازت کا پیکر عطا کرتے ہیں اور ٹھاٹیں مارتے ہوئے سمندر کے وجود کا احساس ان کے شعور پر اس طرح طاری ہے کہ انھوں نے اس کے زیر اثر ریت کا سمندر، دھوپ کا کھولتا ہوا سمندر، چیخوں کا بے کراں سمندر، زندگی کا بے کراں سمندر، اجالوں کا اتھاہ سمندر، وجود کا سمندر اورآکاشی سمندر جیسے استعارے وجود میں لا کرنہ صرف دلچسپی اور جاذبیت کے پہلو پیدا کر دیے ہیں بلکہ سمندر کے تصور کو نئی جہتیں عطا کرکے نئی حسیت کو جنم دیا ہے،یہاں تک کہ وہ ریت کے سمندر کو گرم گرم سانسیں لیتاہوا محسوس کرتے ہیں۔
ان کے افسانے’جسموں کی دیوار‘ کا ایک اقتباس ہے ’’ ہر طرف دھوپ ہی دھوپ تھی، تیز دھوپ، کڑکتی ہوئی دھوپ، دور دور تک دھوپ کا کھولتا ہوا سمندر ٹھاٹیں مار رہا تھا۔‘‘ (ص24،مجمو عہ اجلی مسکراہٹ) 
علیم صبا نویدی کے ایک اور افسانے کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ’’ چاروں طرف پُوندا ملّی (موگرے) کی خوشبوسے ساحل مدراس کی فضا معطر تھی۔۔۔ ساحل سے دور،بہت دور افق کے کناروں پر بچھی ہوئی سرخ چادریں سورج کے قتل کی گواہی دے رہی تھیں۔۔۔‘‘
(افسانہ شناخت ص60 مجموعہ ہذا )۔ 
جنوبی ہند کے ادب میں علاقائی اثرات کی جھلکیاں پیپل کے درخت سے وابستہ عقیدت، اس کی چھاؤں، اس کی چھاؤں میں لگائی ہوئی مورتیوں کی پوجا (اکثر فیاض قریشی کے افسانوں میں)وغیرہ کے ذکر میں بھی ملتی ہیں۔ کبھی کبھی تخلیق کار ایسی معلومات بھی فراہم کر دیتے ہیں جو قاری کی واقفیت کے خزانے میں اضافہ کرتی ہیں۔ رفیعہ منظور الامین کا افسانہ ’ تنگا منی‘ (مشمولہ مجموعہ دستک سی درِ دل پر ) اسی نوعیت کا افسانہ ہے. اس کے ذریعے کوچین کے ساحل پر بسنے والے مچھیروں کے نشیب و فرازسامنے آتے ہیں تو اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ کوچین کے چھ سو سال پرانے کلیسا میں پُرتگیزی سیاح اور جہازراں واسکوڈی گاما کو دفن کیا گیا تھا اور دفنانے کے صدیوں بعد اس کے تابوت کو قبر سے نکال کرپرتگال پہنچا دیا گیا تھا ( ص 15 مجموعہ ہذا)۔ انھوں نے بھی علاقائی مناظر کے زیر اثر بعض نادر تشبیہیں اور سحر انگیز زبان استعمال کی ہے جیسے کہ ’’ طوفانی سمندر اژدھے کی طرح پھنکار رہا تھا ‘‘ یا یہ کہ ’’ ...... اس کی سسکیوں کی آواز جھونپڑے کے باہر تہس نہس کرتی ہوا کے تانڈو رقص میں گم ہو کر رہ گئی ‘‘ یاپھر ’’ گِنی چُنی مچھلیاں اس کے جال میں دیدے چمکا رہی ہوتیں ‘‘ وغیرہ۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ علاقائی رسوم و رواج اور عقائدکے پردے ہٹائے جاتے ہیں تو علاقائیت کو جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے ساتھ جوڑ کر تخلیق کی قدروقیمت بڑھانے کی کوشش نمایاں نظرآتی ہے (مثلاًآبگینہ، ادھورا پہیہ۔ اکرام باگ )۔ محمد مظہر الزماں خاں اور مجتبیٰ حسین جیسے عا لمی شہرت یافتہ فنکاروں نے علاقائیت سے کام لے کر زندگی کے تلخ حقائق کوبہت ہی پیارے اور شگفتہ سے اسلوب میں اس طرح سجا دیا ہے جیسے کہ کونین کی کڑوی گولیوں کو شکر کی چاشنی میں لپیٹ کر پیش کیا جاتاہے۔ غرض یہ کہ ادب اور علاقائیت میں ایک اٹوٹ سا رشتہ پایا جاتا ہے اورتنقید کی ریڈیائی لہریں جب ادب پاروں کے باطن کو تلاش کرتی ہیں توایک ایسا لمحہء فکریہ بھی جنم لیتا ہے جسے جد ید اور آفاقی تخلیقات کے اندر بھی کہیں نہ کہیں علاقائیت کے سوتے ابلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ 

Dr. Mahnoor Zamani Begum
No.15, Golden Castle Appt.
Flat No.206, Ganesha Block 
Sultanpalya Main Road,3rd Main 
Sultanpalya, Bangalore- 560032 (Karnataka)
اگر آپ رسالے کا آن لائن مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے لنک پر کلک کیجیے:۔



قومی اردو کونسل کی دیگر مطبوعات کے آن لائن مطالعے کے لیے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...