5/7/21

بلند پایہ ہستی: اختر بستوی - مضمون نگار: غلام حسین


 

آزادی کے بعد جب اردو زبان پر افتاد آن پڑی تو ایسی نا گفتہ بہ صورت حال میں بر گزیدہ اساتذۂ کرام نے ہی اس شکستہ کشتی کی نا خدائی کی۔اِس کے تحفظ و ترویج اور معیار و وقار کو بر قرار رکھنے میںانھیں حضرات نے اپنا خون جگر صرف کیا۔ جسے محبان اردو کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔اس کار عظیم میں گورکھپوریونیورسٹی کا شعبۂ اردو بھی شریک و سہیم ہے۔یہ شعبہ اپنی ابتدا سے ہی اہل علم اور اہل قلم سے معمور رہا ہے۔ڈاکٹر اختربستوی کا شمار انھیں اساتذہ میں ہو تا ہے۔ان کی ولادت 10 اگست  1940 کوضلع بستی میں مردم خیز علاقہ کے ایک معتبر اور مودب خانوادے میں جناب اصغر علی صدیقی کے یہاں ہوئی۔ جہاں اردو تہذیب و تمدن کا بول بالا تھا۔ان کا اصل نام محمد اختر علی صدیقی ہے جو ادبی دنیا میں اختربستوی کے نام سے مشہور ہوئے۔آزادی سے قبل اردو تعلیم کی زبان عام تھی۔ چنانچہ ان کی ابتدائی تعلیم اردو میں ہوئی ان کے والد کا انتقال کم سنی میں طالب علمی ہی کے زمانے میں ہو گیا تھا۔انھوں نے نا مساعد حالات کی پروا کیے بغیر تعلیم وتعلّم کا سلسلہ جاری رکھا۔ تعلیم کی منزل اول ہی میں ماحول نے انھیں ''با ادب با نصیب،بے ادب بے نصیب ''کا سبق سکھا دیا تھا۔انھوں نے ضلع بستی(یو پی )کے خیر انٹر کالج میں تعلیم حاصل کی اور وہیں اپنے حسن اخلاق اور ذہانت سے معلّم مقرر ہوگئے اور علامہ اقبال کے اس شعر کو نصب العین بنا کر ترقی کے منازل طے کرتے رہے          ؎  

 خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے 

   خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے  

اختربستوی صاحب کے یارغارابن صاحب نے جن کی دوستی بچپن سے دم واپسیں تک قائم رہی ان کے سانحۂ ارتحال پر اپنی یادوں کو اس طرح تازہ کیا ہے :

ـ’’مرحوم اختربستوی اوائل عمری سے ہی ایک پر عزم انسان تھے۔ان کے اندر کچھ کرنے،کچھ بننے کی لگن بچپن سے ہی تھی۔انھوں نے اپنے عزائم کو عملی شکل دینے کے لیے اردو ادب کا میدان چنا۔تقریباً 12 سال کی عمر میں ماہنامہ ’کھلونا‘دہلی کے کہانی کے مقابلے میں ان کی انعام یافتہ کہانی چھپنے سے ان کا جو ادبی سفر شروع ہوا تھا وہ وقت کے ساتھ ہند و پاک کے تما م ادبی رسائل کی ضرورت بن گیا۔‘‘ (ماہنامہ،گلابی کرن، اختربستوی نمبر،ص 58، جولائی1999 )

مشق سخن کے ابتدائی دور میں ہی آپ کا یہ شعر مقبول و معروف ہوا          ؎

آساں نہیں انصاف کی زنجیر ہلانا

دنیا کوجہانگیر کا انصاف نہ سمجھو

 اس وقت خیر انٹر کالج کی بڑی شہرت تھی۔اس کالج میں طلبا کوداخلہ ملنا ہی باعث افتخار ہو تا تھا۔ اساتذہ کی توقیر کا کیا کہنا مقبول صاحب(پرنسپل)کا رعب و رتبہ بستی شہر تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ اطراف و جوانب میں ان کی شہرت کا ڈنکا بجتا تھا۔وہ مسلم اور غیر مسلم میں یکساں مقبول و محترم تھے۔ ایسا ہی پروقار ادارہ اختر صاحب کا میدان عمل تھا۔ پڑھتے پڑھاتے و ہ شہرت کی بلندیوں پر چڑھتے گئے اور ایک دن اردو ادب کے درخشاں ستارے بن گئے۔ دوران ملازمت پرائیویٹ طور پر اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں حاصل کیں۔انھوں نے تاہّل کی زندگی اختیار نہیں کی مگر ان ذمے داریوں کو نبھانا اپنا فرض ا ولیں سمجھا جو والد کے انتقال پر قدرت نے بڑے ہونے کے ناتے ان کے کاندھوں پر ڈال دی تھی۔وہ ذمے داریوں کے ساتھ ساتھ ادبی اورسماجی خدمات میں پیش پیش رہے۔گھر کے بندوبست کو بڑے سلیقے سے نبھایا۔والدہ کی خدمت اور چھوٹے بھائی بہنوں کی کفالت میں کو ئی کسر نہیں چھوڑی۔ انھوں نے اپنی شادی تو نہیں کی مگر بے شمار جوڑوں کو رشتۂ ازدواج میں باندھنے کے لیے ثالث کا بخوبی نبھایا۔بستی میں وہ فعال و با اقبال تھے۔ان کی رئیسانہ ٹھاٹھ باٹ تھی۔خیر کالج چند قدم ہی کی دوری پر تھا جہاں وہ پیدل سردیوں میں چھتری لگا کر جاتے تھے۔عموماًوہ شام میں چھڑی لے کر ٹہلنے نکلتے تھے۔دوست احباب سے ملتے ہنومان پر ساد جگر کے دواخانے میں ان کی نشست ہوتی۔ کبھی کبھار دریاخاں محلہ میں واقع قاضی عدیل عباسی صاحب کے دولت خانے پر حاضری دیتے۔اپنے ذاتی مطالعہ، محنت پیہم اور ذہانت سے ایک دن خیر انٹر کالج میں انگلش کے لکچرر مقرر ہو گئے مگر وہ ستاروں سے آگے بھی اور جہاں دیکھنے کے متمنی تھے۔لہٰذا اردو ادب میں بھی ایم اے کیا اور پروفیسر محمود الٰہی صاحب کی نگرانی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔موصوف اردو شعرو ادب کے جو ہری تھے چنانچہ انھوں نے اس ہیرے کو پہچاننے میں دیر نہیں کی اور گورکھپور یو نیورسٹی کے شعبۂ اردو میں انھیں شامل کر لیا۔یونیورسٹی میں تقرر ہو نے سے ان کے وقار میں اضافہ ہو تا گیا۔

اختر صاحب دوست احباب اور عزیز و اقارب کے معاملے میں بڑے خوش نصیب تھے۔ان کے دوستوں کی طویل فہرست تھی جو پورے ملک میں پھیلے ہو ئے تھے۔ اردو کے شعرا و ادبا اور اساتذہ سے ان کے مخلصانہ روابط تھے۔ ان کی خوشی اور غمی میں برابر کے شریک ہو تے۔ان کی دوستی بے لوث تھی اور دشمنی بے ضرر۔اگر مقامی شعرا سے معاصرانہ چشمک ہو بھی جاتی تواس میں کدورت کا شائبہ نہیں ہو تا۔اردو تحریک اور تحریر سے جو بھی حضرات وابستہ ہوتے وہ ان کے شیدائی ہو تے۔گورکھپور سے سیکڑوں کلو میٹرکی دوری پر واقع چنئی میں براجمان علیم صبا ؔنویدی جو اردوزبان وا دب کے مربی ومحافظ ہیں۔ہر سال وہ اپنی نو ع بہ نوع تخلیقات سے تشنگان اردو ادب کی پیاس بجھاتے ہیں۔ان سے ان کی بڑی قربت تھی۔وہ فقط دوستی کر نا ہی نہیں جانتے تھے بلکہ اسے نبھانا بھی جانتے تھے۔ان کے بچپن کی دوستی تاحیات قائم رہی۔ان کے دوستوں میں جناب ارشد عباسی صاحب (پسرقاضی عدیل عباسی صاحب )کی انسیت آج بھی قائم ہے جب بھی اخترصاحب کا ذکر آتا ہے تو وہ آبدیدہ ہو جاتے ہیں۔  منظور احمد ادیب نے دیگر دوستوں کی دوستی کو اپنے ایک شعر میں اس طرح پرویا ہے      ؎

 ارشد،تحفظ،ابّن و معروف دم بخود

ایسا رفیق جملہ رفیقاں چلا گیا

وہ ایک اچھے استاد کے ساتھ ساتھ ایک سعادت مند شاگرد بھی تھے بقول دیگر استاد تو بہت ملتے ہیں لیکن شاگرد بہت مشکل سے ملتے ہیں۔وہ ایسے شاگرد تھے جو اپنے استاد کے احترام میں بے مثال تھے وہ اکثر اپنے اساتذہ کا ذکر خیر کر تے۔خصوصاً مقبول صاحب (پرنسپل) خیرانٹر کالج اور پروفیسر محمودالٰہی صاحب سے انھیں از حد عقیدت تھی۔ وہ اپنے بزرگوں کے کارناموں کومحفوظ کرنا اور اسے منظر عا م پر لانا اپنا فرض عین سمجھتے تھے۔اس سیاق میں انھوں نے مجاہد آزادی اورمربیِ اردوقاضی محمد عدیل عباسی کے سیاسی اور صحافتی کارناموں کو اجاگر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔سب سے پہلے انھوں نے بستی سے شائع ہو نے والے ہفتہ وار اخبار'بستی کی آواز 'کا قاضی عدیل عباسی نمبر بڑے اہتمام سے نکالا جس میں مشاہیرِ ادب کے مضامین شامل کیے اس کے بعد ’’کردار کے غازی قاضی عدیل عباسی‘‘ بھی مرتب کی پھر اسی موضوع پر انھوں نے ایک مو نو گراف بھی سپرد قلم کیا جسے سا ہتیہ اکادمی نے شائع کیا اور اس مونو گراف پر یوپی اردو اکادمی نے انھیں انعام سے نوازا۔

ڈاکٹر اختر بستوی نے گورکھپور یو نیورسٹی میں آنے سے پہلے ہی اردو ادب میں نمایاں مقام بنا لیاتھا۔بحیثیت شاعر وہ معروف ہو چکے تھے۔دو طویل نظموں کے مجموعے 'نغمہ ٔ  شب' اور' بحر بے کراں 'نیز قطعات کا مجموعہ 'پیکر ِخیال 'منظر عام پر آچکے تھے۔اس کے علاوہ بر صغیر کے معیاری رسائل اور جرائد میں ان کے کلام بکثر ت شائع ہو تے تھے۔جب وہ اپنا مجموعہ کلام شائع کراتے تو اس پر کسی معروف ہستی سے ہی پیش لفظ لکھواتے۔ اپنے پہلے مجموعہ کلام کا پیش لفظ انھوں نے فلم اداکار دلیپ کمار سے لکھوایا تھا۔اور جب 1989میں نظموں کا مجموعہ’اپنے سائے کے سوا‘ شائع کروایا تھا تو نامور شاعر کیفی  اعظمی سے پیش لفظ لکھوایا۔انھوں نے ان کی سحر آفریں ادبی شخصیت کا احاطہ اس انداز میں کیا :

’’میں حیران ہوں کہ ڈاکٹر اختر بستوی کی ہشت پہلو شخصیت کا مطالعہ کس رخ سے شروع کروں۔وہ ایک فصیح و بلیغ خطیب ہیں۔وہ شگفتہ اور شاداب نثر لکھتے ہیں۔وہ بہت ہی کامیاب مترجم ہیں۔طویل نظمیں لکھنے میں انھیں استادانہ مہارت حاصل ہے۔اختر انصاری اور نریش کمار شاد کے بعد سب سے اچھے قطعات ’پیکر خیال ‘ اختر بستوی نے لکھے ہیں وہ تالیف و تدوین کا ایک خاص سلیقہ رکھتے ہیں۔ان کی تنقیدی اور تحقیقی نظر بھی معتبر ہے۔‘‘

آگے کیفی صاحب نے ’اپنے سائے کے سوا‘ کے محاسن اس طرح بیان کیے ہیں :

’’یہ سب نظمیں،نظم کے فن پر پوری اترتی ہیں۔ آج کل ہماری زبان میں جو چیزیں لکھی جا رہی ہیں وہ یا تو مختصر مثنویاں ہوتی ہیں یا غزل مسلسل وہ نظمیں نہیں ہو تی ہیں۔ اخترصاحب کی یہ نظمیں خیال کی اکائیاں ہیں۔ آپ کو کسی بھی نظم میں نہ خیال کی تکرار ملے گی نہ لفظوں اور ترکیبوں کی غیر ضروری کثرت۔‘‘

(پیش لفظ:اپنے سائے کے سِوا،ص نمبر5-6)

اختر صاحب کی نظمیں فن کی کسوٹی پرکھری اترتی ہیں۔ ان کی نظمیں جمالیاتی حس اور روحانی مسرت کی آئینہ دار ہیں۔ان کی نظموں میں غزل کی جلوۂ صدرنگی، قطعات اور رباعیات کی فلسفیانہ گیرائی مو جود ہے۔علامہ اقبال کی طرح و ہ فلسفۂ خودی کے شاعر ہیں۔ان کے مشاہدے اور مطالعے میں عمل کے جذب و انجذاب کی کیفیت بھرپور ملتی ہے۔نظم ’آشوب ِدورِ آہن‘ میںعصری آگہی کو چند مصرعوں میں کس ہنر مندی سے سمیٹ لیا ہے        ؎

رقص ہر جانب مشینی بھوت کا

حکمرانی ہر طرف فولادکی

اجتماعی زندگی کا شور و شر

روح ہر سو مضطرب افراد کی

آرزوئیں زیر دام روز گار

خواہشوں پرغلبہ فکر ِ معاش

دور آہن میں سکوں کی جستجو

دوپہر میں اپنے سائے کی تلاش

انھوں نے زندگی کا عمیق مطالعہ کیا ہے۔حاصل زندگی کو انھوں نے نظم ’تگ و دو‘کے چند مصرعو ں میں بڑی خوبی سے پیش کیا ہے        ؎

عمر بھر میں دہر کے صحرا میں سر گرداں رہا

جلوہ ہائے کائنات و زیست کا خواہاں رہا

روز و شب پھرتا رہا لے کر میں قلب ِناصبور

 پاسکا اب تک نہ لیکن ایک بھی جلوے کا نو ر

 وائے ناکامی نہ میرا غنچہ دل کھل سکا

اپنے سائے کے سوا کچھ بھی نہ مجھ کو مل سکا

  اختر صاحب کو فلسفہ و حکمت سے فطری مناسبت تھی احساس برتری اور احساس کمتری پر اکثر مباحثے ہوتے رہتے ہیں۔ انھوں نے بھی اس حکیمانہ و فلسفیانہ موضوع کو اپنے کلام میں جگہ دی ہے۔وہ ’احساس برتری ‘کو موضوع بناتے ہوئے فرماتے ہیں          ؎

جب بھی ہوا یہ خوف مرے دل میں جا گزیں

چھوٹا نہ میرے دوست سمجھ لیں مجھے کہیں

فوراً میں نے ایسی نکالی کوئی سبیل

احباب کو ملے مری عظمت کی اک دلیل

اکثر سخنوری کو سہارا بنا لیا

شاعر کی حیثیت سے فضیلت جتا دیا

کہتے ہیں سچ ہی فطرت ِانسا ں کے جوہری

احساس برتری بھی ہے احساس کمتری

 ڈاکٹر اختر بستوی کے محب مکرم ابّن صاحب نے ان کے پس از مرگ ایک مجموعہ کلام’غزالاں تم تو واقف ہو‘ مرتب کر کے بستی سے شائع کروایاہے۔

اختربستوی صاحب شگفتہ نثار تھے۔ طنزیہ و مزاحیہ مضامین لکھا کرتے تھے۔ان کے مزاحیہ مضامین کا مجموعہ ’ٹیڑھے نشانے‘ شائع ہو چکا ہے۔انگریزی ڈرامہ سے اردومیں ’شہر سے دور‘ ان کی ترجمہ نگاری کا بین ثبوت ہے اور جب وہ یونیورسٹی کی ملازمت میں آئے تو انھوں نے نثر میں اپنے قلم کا لوہا منوایا۔تالیف و تدوین اور تنقید و تحقیق کے میدان میں خامہ فرسائی کی ’سخن ِجو ہر‘ بڑی عرق ریزی سے پر مغز مقدمہ کے ساتھ مرتب کیا۔قاضی عدیل عباسی صاحب پر مونو گراف لکھا۔مختلف مو ضوعات پر متعدد مضامین لکھے طنزیہ اور مزاحیہ ادب سے انھیں خاصا شغف تھا۔وہ اس ادب کے نشیب و فراز،فن و تکنیک سے بخوبی واقف تھے۔ عالمی ادب پر ان کی گہری نظر تھی۔وہ اپنی عمیق بصیرت کے پیش نظر طنز و مزاح کی فنی باریکیوں کی تفہیم و تعریف اس طرح کرتے ہیں  :

’’مزاح کا ایک قریبی ساتھی بھی ہے جسے طنز کہتے ہیں۔ طنز و مزاح میں کچھ اس قسم کا تعلق ہے جیسا کہ طالب علم اور کلاس روم میں ہو تا ہے۔یہ سچ ہے کہ کلاس روم کے بغیر بھی طالب علم ہو سکتے ہیں اور یہ بھی درست ہے کہ طنز کے بغیر بھی مزاح ممکن ہے لیکن جس طرح تعلیم کے ماہرین کلاس روم کی افادیت سے انکار نہیں کر سکتے اسی طرح اچھے مزاح نگار طنزکے قائل ہو تے ہیں۔احمد جمال پاشا بنیادی طور پر مزاح نگار ہیں لیکن و ہ طنز کے استعمال سے بخوبی واقف ہیں۔‘‘

(نیا دور،یاد رفتگاں نمبر،1988،ص نمبر (197 

اختر صاحب،احمد جمال پاشا کی شگفتہ تحریروں کے شیدائی تھے اور انھیں ان سے بے پناہ انسیت تھی۔ ان کے فکر اسلوب اور کمالات کا اعتراف انھوں نے بڑے دل نشیں انداز میں کیا ہے:

’’جس طرح بعض بادل یکایک افق کے کسی گوشے سے سر ابھارتے ہیں اور پلک جھپکتے میں سارے آسمان پر چھا جاتے ہیں اسی طرح اہل قلم بھی اچانک دنیائے ادب میں نمودارہوتے ہیں لیکن دیکھتے ہی دیکھتے معروف ہو جاتے ہیں۔ اردو کے ناقابل فراموش مزاح نگار احمد جمال پاشا کا شمار ایسے ہی قلم کاروں میں کیا جا سکتا ہے۔ وہ انتہائی چونکانے والے انداز میں رسائل کے صفحات پر ابھرے اور پھر کچھ ایسی جادو کی چھڑی گھمائی کہ چند ہی سال میں ان کی شہرت کے ڈنکے بجنے لگے۔اس اعتبار سے پا شا کو طنز و مزاح کی مملکت کا جولیس سیزر کہا جا سکتا ہے۔جس نے دعویٰ کیاتھا۔میں آیا،میں نے دیکھا،میں نے فتح کر لیا۔ (نیا دور،یاد رفتگاں نمبر،1988،ص نمبر 194) 

اختر صاحب کا تحقیقی مقالہ سیکولرزم اور اردو شاعری بھی منظر عام پر آچکاہے۔اس کے علاوہ رسائل اور جرائد میں تحقیقی و تنقیدی مضامین اتنے شائع ہو چکے ہیں کہ ان کا ایک ضخیم مجموعہ شائع کیا جا سکتا ہے۔اہل  علم کا خیال ہے کہ ان کی اصل دولت ان کے شاگرد ہوتے ہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ استاد اپنے شاگرد سے پہچانے جاتے ہیں اس ضمن میں اختر صاحب کا اقبال بلند تھا۔وہ ہر دل عزیز استاذ تھے ان کے کامیاب شاگردوں کی ایک لمبی فہرست ہے جن میں ڈاکٹر،انجینئر،آئی اے ایس،پی سی ایس افسران، سیاستداں، شاعر، ادیب، معلم، تاجر، کلکر ک وغیرہ سبھی تو ہیں۔انھوں نے درس و تدریس کو ایک مقد س پیشہ سمجھا اور تعلیم کے میدان میں ایک دیانت دار استاد کا کردار ادا کیا۔اپنی قابلیت،محنت،ذہانت اور علمیت کی بنا پر وہ جس زمین پر رہے آسماں بن کر رہے۔اختر صاحب کا کلاس با رونق اور با حیات ہو ا کر تا تھا۔وہ تفہیم و تشریح بڑے مدلل انداز میں کرتے اور ہمیشہ طلبا کی کردار سازی اور ذہنی بیداری پر زور دیتے تھے۔وہ علامہ اقبال کے اس شعر کا درس اکثر دیتے        ؎

بے محنت پیہم کو ئی جوہر نہیں کھلتا

روشن شررِتیشہ سے ہے خانہ فرہاد

وہ اپنے شاگردوں سے بے پناہ شفقت کرتے تھے اور شاگرد بھی ان کا ازحد احترام کرتے۔وہ کلاس میں کسی بھی موضوع پر برجستہ بولنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔تحریر و تقریر میں انھیں یکساں قدرت حاصل تھی۔ان کی گل افشانی گفتار اتنی پر کشش ہوتی کہ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی۔بے شک قدرت نے انھیں لسانی طلا قت و حلاوت بخشی تھی۔ ان کی خرد ا فروز اور فکر انگیز گفتار سے وسیع المطالعہ کا انداز ہو تا تھا۔ یونیورسٹیوں میں اسا تذہ کا تحقیقی کام ایک اہم فریضہ ہے اس میدان میں طلبا کی ترغیب و تشویق بھی اہم ہے۔اس امر میں وہی اساتذہ عہدہ بر آ ہو سکتے ہیں جنھوں نے بحر علم کی شناوری اور دشت علم کی سیاحی میں عمر گزاری ہو۔ بے شک ان کے تبحر علمی سے ریسرچ اسکالروں نے استفادہ کیا ہے۔ان کی نگرانی میں متعددکا میاب مقالے لکھے گئے جن میں زیادہ تر شائع ہوئے اور انھیں پسندیدہ نظروں سے دیکھا گیا ہے۔ان کی نگرانی میں تحقیقی مقالہ لکھنے والوں میں ڈاکٹر شفیق اعظمی، ڈاکٹر درخشاں تاجور، ڈاکٹر خورشید عالم،ڈاکٹر محمد اشرف، ڈاکٹر سیما فاروقی، ڈاکٹر بشریٰ بانو، ڈاکٹر فوزیہ بانو، ڈاکٹر زیبا محموداور ڈاکٹر ذاکرحسین کے نام قابل ذکر ہیں۔ وہ ریسرچ اسکالروں سے خوب محنت کرواتے اور خود بھی محنت کرتے۔ریسرچ اسکالر کواپنے سامنے بٹھا کر ان کے مقالے لفظ با لفظ اور جملہ با جملہ دیکھتے۔تحریر کے رموز و نکات سمجھاتے۔اس سے اسکالر کی صلاحیت میں اضافہ ہو تا۔ان کی خدمت کا شرف جنہیں حاصل ہوا وہ باکمال ہو گئے اور لکھنے پڑھنے کا ذوق و شوق بیدار ہوا۔آج بھی ان کے شاگردوں کی تحریرو ں میں روانی ہے۔ڈاکٹر شفیق اعظمی کا شمار دور حاضر کے معتبر شاعروں اور نقادوں میں ہو تا ہے۔ان کا شعری مجموعہ اور تنقیدی مضامین کا مجموعہ منظرعام پر آچکا ہے۔ اس وقت بھی ان کا قلم رواںاور دواںہے۔انھوں نے اپنے ریسرچ اسکالرو ں کو از حد متاثر کیا ہے۔تشویق و تحریر کا حوصلہ بخشا۔ آج بھی وہ حوصلہ مندی ان طالب علموں میں برقرار ہے۔ڈاکٹر درخشا ں تاجوراردو ادب کی بیش بہا خدمات انجام دے رہی ہیں اور آزادی میں اردو شاعری کی خدمات کو منظر عام پر لا رہی ہیں۔یہ آپ کی تربیت کا ثمرہ ہے کہ ڈاکٹر اشرف گورکھپوری،ڈاکٹر ذاکر حسین اورڈاکٹر زیبا محمود جیسے قلم کاران اپنے قلم کا جوہر دکھا رہے اور ناموس اردو کی پاسداری کر رہے ہیں۔

 پڑھنا لکھنا اختر صاحب کا اوڑھنا بچھونا اور مقصد حیات تھا۔انھوں نے اپنے ارد گرد پڑھنے لکھنے کا خوش گوار ما حول بنا رکھا تھا۔گورکھپور آنے کے بعد انھیں اردو کی خدمت کا سنہرا موقع ملا اس سے ان کی تخلیقی صلاحیت کو مزید تقویت ملی۔گورکھپور شہر کی ادبی فضا نے انھیں اور نکھارا... جوہر صاحب کا تحت،بندوق کی دکان، اشتراک کا دفتر،قاضی پور خورد کی گلفشاں بلڈنگ،حکیم ابو الکلام کا مطب اور نامور پروفیسر حضرات کی رہائش گاہیں تھیں جہاں ادبی گفتگو اور محاربہ آرائی بھی ہو تی تھی۔یہ ادبی فضا چشمک کی سہی مگر ان ادبی سر گرمیوں سے مثبت افعال بھی وقوع پذیر ہو ئے۔مشاعروں،مباحثوں،تحریروں اور تقریروں میں سر گرمی آئی۔روز نامہ اور ہفتہ وار اخبار کا اجرا عمل میں آیا گویا اس شہر کے شعرا و ادبا کو مشق و مہارت کا موقع میسر آیا۔ اختر صاحب گورکھپور کی ادبی ہنگامہ آرائیوں سے بظاہر بیگانہ تھے مگر بہ باطن اس سے متاثر تھے اور متاثر بھی کرتے تھے۔ اس سے اختر صاحب کی تحریروں اور تقریروں میں مزید روانی اور جولانی آئی۔بین الاقوامی سطح پر شعرا اساتذہ سے ان کے گہرے مراسم تھے۔جہاں سے بھی اردو کے رسائل و جرائد نکلتے ان کے مدیرو ں سے براہ راست تعلق رکھتے۔اردو کا کوئی رسالہ اور جرید ہ خواہ وہ سرکاری یا غیر سرکاری،معیاری یا غیر معیاری ہو۔ان کی دست رس سے باہر نہیں تھے۔وہ ان رسالوں کے خریدار ہوتے۔ان کے لیے اپنے کلام و مضامین بھیجتے۔انھوں نے اپنی تنخواہ کا کچھ حصہ کتب و رسائل اور خط و کتابت کے لیے مختص کر رکھا تھا۔وہ بے شمار خط لکھتے دراصل خط کا جواب لکھنا و ہ اپنا اخلاقی فریضہ سمجھتے تھے۔اس معاملے میں وہ خورد و کلاں میں امتیاز نہیں برتتے تھے۔روز انہ کثیر تعداد میں ان کے پاس خطوط و رسائل آتے تھے۔جس دن ڈاک کم ہو تی تو اس دن وہ ملول ِخاطر نظر آتے۔ ایسے رسائل جن میں ان کے کلام یا مضمون شائع ہو تے اسے دیکھ کر وہ باغ باغ ہوجاتے۔مشاعروں ریڈیواور ٹیلی ویژن کے پروگراموں کی مبالغہ آمیز روداد سے سامعین کو متحیرکر تے اوروہ اختر صاحب کی خوبیِ قسمت پر ناز کرتے۔انھیں اخبار کی سرخیوں میں رہنے کی تہہ دار خواہشیں رہتیں۔حیرت تو اس وقت ہوئی جب ان پر دل کا دورہ پڑا اور و ہ ہاسپٹلائیزڈہوئے،صبح کے وقت انھیں کچھ افاقہ ہوا تو تیمارداروں سے دریافت کیا کہ کتنے اخباروں میں میری بیماری کی خبر شائع ہو ئی ہے؟قرب و جوار کے مشاعروں سے لے کر خلیجی مشاعروں میں شرکت کرتے۔وہ نظامت کرتے اور اپنا کلام بھی بڑے مؤ ثر انداز میں پڑھتے۔ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے بھی ان کی وابستگی تھی۔غرضیکہ اردو زبان و ادب کی ترقی و ترویج میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔اختر صاحب کی شخصیت اردو تہذیب و تمدن کی آئینہ دارتھی۔اودھ کی تہذیب کا ان پر گہرا اثر تھا۔نفاست اور سلیقہ ان کی فطرت میں شامل تھا۔جمالیات ان کی شخصیت کا خاصہ تھی۔ان میں نسائی جمالیات کی حسرتی کیفیت بدرجۂ اتم تھی۔وہ اپنے ڈرائنگ روم میں کسی نہ کسی فلمی دنیا کی خوبصورت تصویر آویزاں کرتے۔وہ بے شمار اردو اور انگریزی کی میگزین منگواتے جس کے ٹائٹل کور پرنسائی توبہ شکن تصویر ہو تی۔

ان کا وضع قطع، بودو باش، نشست و برخاست، گفت و شنید سب شاعرانہ تھا۔بظاہر ان کی زندگی قلندرانہ تھی مگر وہ بھی انسان تھے۔خواہشوں کا خواب ان کے یہاں بھی تھا۔ان کی تعبیر کے لیے وہ لاٹری کا ٹکٹ تک خریدتے۔ وضع داری اور روا داری ان کی زندگی کا خاصہ تھی۔ ان کی زندگی شاعرانہ مبالغہ آرائی سے آراستہ تھی۔ اس کی عکاسی ان کی روز مرہ کی زندگی اور دیگر جہات کے ہر زاویے سے ہوتی تھی۔وہ واقعات اور کیفیات پر مبالغے کی ملمع کاری کے عادی تھے۔ان کی مبالغہ آرائی مضرت رسا ں نہیں ہو تی تھی۔ وہ فقط زیب داستاں کے لیے ہو تی تھی مگر بذات خود اختر صاحب کو اس رویے سے بہت نقصان پہنچا۔ اس سے ان کی زندگی معتدل نہیں رہ گئی تھی۔ انھوں نے یہی رویہ اپنی صحت اور زندگی کے ساتھ برتا۔چھینک آنے پر وہ سرجن سے تفتیش کرتے مگر بڑی سے بڑی بیماری کو وہ یوں ہی نظر انداز کر دیتے تھے۔دل کا دورہ پڑا ان کا کچھ نہیں بگڑا دل کے آپریشن کے بعد وہ خوش و خرم تھے لیکن ایک معمولی سی پھنسی ان کی موت کا سبب بن گئی اور 58برس کی عمر میں 10جون 1998کو جبکہ و ہ اپنی سبکدوشی کی منزل سے چند قدم کی دوری پر کھڑے تھے،رحلت فرما گئے۔کچھ سال قبل ہی موت پر انھوں نے عمدہ نظم تخلیق کی تھی جس میں حیات سراب اور مو ت حقیقت بن کر ابھری ہے جس سے بشر کو مفر نہیں          ؎

زندگی کو ایک جوئے کی طرح کھیلا عمر بھر

 اور کوئی بازی کسی منزل پہ بھی ہارا نہیں

دائوں جتنے بھی لگائے سب میں کچھ پاتا گیا

کیا ہوا کرتا ہے کھونا،یہ کبھی جا نا نہیں

مل گیا آخر میں لیکن ایک ایسا بھی حریف

حیف جس سے ہار بیٹھا خود میں نے اپنا وجود

 چال کچھ ایسی چلی اس نے کہ سب کچھ لٹ گیا

ہو گیا سارا اثاثہ ہست ’سے پل بھر میں بود‘

جب بھی کوئی اہل علم وادب اختر صاحب کے حسن سلوک،پر وقار تخلیقی و تنقیدی تحاریر، دانشورانہ تقاریر، تدریسی کا ر گزاریوں جیسے زریں کا رناموں کا محاکمہ کرے گا تو ان کی دل آویز ادبی شخصیت کامعترف ہو جائے گا۔بے شک اردو ادب ان کی تخلیق سے معمور ہے۔معتبر ناقد نسیم اعظمی نے اردو ادب میں ان کے مقام کا محاکمہ اس طرح کیا ہے :

’’اس میں کو ئی شک نہیں کہ وہ ہشت پہلو شخصیت کے مالک تھے۔وہ ایک اچھے خطیب،عمدہ نثر نگاراور کامیاب مترجم کی حیثیت سے پورے ہندستان میں جانے پہچانے جاتے ہیں لیکن ان کی فکری و فنی صلاحتیں زیادہ تر شعری تخلیقات ہی کی طرف مائل تھیں اور اس سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا۔کیونکہ موصوف کے چار شعری مجموعہ کلام ہیں۔‘‘

(ماہنامہ،گلابی کرن، اختربستوی نمبر، ص 63، جولائی1999 )

اخترصاحب کے سانحۂ ارتحال پر نا مور ناظم مشاعرہ عمر قریشی صاحب نے مرحوم کی ذات،صفات اور کمالات کو یاد کرکے یوں گریہ کنا ں ہیں         ؎

 

دانشوری وعلم کا دفتر کہیں جسے

ایک روشن کو ماہ منور کہیں جسے

    سینے میں علم وفن کے گہر ہا ئے تابدار

افکار نوبہ نو کا سمندر کہیں جسے

 شعرو سخن کی دنیا میں ایک نام سر بلند

اہل قلم،ادیب و سخنور کہیں جسے

خوشیوں کی اک حیات جسے لے گئی قضا

اخترکی مو ت،مرگ گل تر کہیں جسے

n

Dr. Ghulam Husain

Head, Dept. of Urdu

Govt. Madho College

Ujjain -  456001 (MP)

Mob.: 09893853183

 

 


 

 

 

 

 

 


2/7/21

زندگی رات ہے، رات ڈھل جائے گی (کمال جائسی کی موت پر خراجِ عقیدت) - مضمون نگار: اشتیاق سعید

 



شام مکمل طور پر رات میں تبدیل ہوچکی تھی یا ہوا چاہتی تھی،پتہ نہیں! ایسے ہی کسی لمحے میں موبائل کی گھنٹی بجی... میں نے لپک کے موبائل اُٹھایا۔رشید بشر کا نام فلیش ہورہا تھا۔فوراً فون ریسیو کیا۔میرے ہیلو کہتے ہی رشید بشر کی بے ہنگم آواز گونجی اور وہ لگاتار بولتے چلے گئے۔

’’اشتیاق بھائی کمال صاحب کی سانسیں الٹی چلنے لگی ہیں۔انھیں یہاں لودھا روڈ پر سیتا پارک کے قریب غازی نرسنگ ہوم میں داخل کیا گیا ہے،میری سمجھ سے معاملہ اب تب کا ہے،اگر گھر پہ ہو ں تو آجائیے۔آفاق الماس،جبار استاد اور ظفر گڈو موجود ہیں‘‘۔

’’ٹھیک ہے،میں بھی پہنچتا ہوں‘‘۔ کہہ کر میں نے گفتگو کا سلسلہ منقطع کیا اور واش روم میں جاکے جلدی جلدی چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے،لباس تبدیل کیا اور لودھا روڈ کے لیے نکل پڑا۔

 کمال صاحب گزشتہ پندرہ سولہ برسوں سے گُردے کے عارضے میں مبتلا ہیں۔اوائل میں مہینے میں دو بار ڈائلیسس سے گزرتے رہے۔ادھر دو تین برسوں سے ہفتے میں دو مرتبہ ڈائلیسس ہونے لگا تھا۔معاشی حالات دیگر گوں ہونے کے باوجود وہ اپنے علاج معالجے یا ڈائلیسس کے لیے میونسپل کارپوریشن یا خیراتی ہسپتالوں کو نہیں بلکہ میرا روڈ کے شاندار اور عالیشان ہسپتال ’اُمراؤ‘ ہی کو اوّلیت دیتے تھے۔سبب مظفر حسین تھے۔اِن کے علاج معالجے کے تمام اخراجات مظفر حسین کا ٹرسٹ برداشت کرتا رہا تھا۔ادھر لاک ڈاؤن سے ان کی طرزِ زندگی یکسر تبدیل ہوگئی تھی۔لوگ باگ جو ملنے جلنے والے تھے اُن کا آنا جانا تقریباً بند سا ہوگیا تھا۔معاملہ نقل و حمل کا تھا۔ بسیں اور ٹرینیں تو بند تھیں۔لہٰذا اخراجات کے لالے پڑ گئے۔سیّد نسیم احمد رائے بریلوی نے تو آنا ہی بند کردیا،ممکن ہے بہ توسط موبائل مزاج پرسی کرتے رہے ہوں۔ رشید بشر،غیاث الدین، ظفرگڈّو، ثانی اسلم، عبدالجبار استاد، مکرّم علی،عظیم بھائی اور خاکسار حسبِ دستور  اپنے اپنے وقت کی مناسبت سے کمال صاحب کی بارگاہ میں حاضر ہوتے رہے۔کمال صاحب ان دنوں کچھ زیادہ ہی پریشان پریشان سے رہنے لگے تھے۔ وجہ صاف تھی کہ جس کسی سے وہ فون پر رابطہ کرنا چاہتے تھے،اوّل تو وہ فون اُٹھاتا نہ تھا،خدا خداکرکے اُٹھا بھی لیتا تو دو چار جملے اداکرنے کے بعد رابطہ منقطع کردیتا۔اس پر کمال صاحب جھنجھلا کر وہ وہ مغلظات بکتے کہ اللہ کی پناہ !        ؎

اب کیا کہوں میں جھوٹے سہاروں کی شان میں

شمعیں  جلا  رہا  ہوں  ہوا  کے  مکان  میں

انھیں دنوں ان کے داہنے پیر کی اُنگلیوں کے پاس ایک چھوٹا سا زخم ہوگیا تھا۔اگست کا مہینہ تھا،برسات اپنے پورے شباب پر تھی۔تمام عالم اپنے اپنے گھروں میں دُبکا ہوتا تھا مگر آپ سارا دِن کرسی لگائے اپنے اسٹال کے پاس چھپّر تلے بیٹھے رہتے اور ہر کس و ناکس سے اپنی بے بسی اور مجبوری کا رونا روتے،یا پھر اپنے پیر کے اُس چھوٹے سے زخم کو کُریدنے کی کوشش کرتے۔نتیجتاً آٹھ دس روز بعد پیرکا پنجہ سوج گیا۔ ایسا سوجا کہ چلنے پھرنے کے بھی لائق نہ رہے۔بیگم جائسی نے بجائے گھر میں پناہ دینے کے فرمان جاری کردیا کہ ہسپتال میں بھرتی ہوجاؤ۔بیگم کا فرمان کمال صاحب کے نزدیک کسی صحیفے کی اطاعت سے کم نہ تھا۔ چنانچہ ہسپتال جانے کی تگ و دَو جاری ہوگئی۔ خیر ! کمال صاحب کے لیے گھر میں کوئی گوشہ تو تھا نہیں، لہٰذا اُن کا مقدّر ہسپتال کے بستروں میں اُلجھا ہوا تھا۔ کمال صاحب اُمراؤ ہسپتال میں بستر نشین ہوئے۔ ڈاکٹروں نے خون پیشاب کی طرح طرح کی جانچ کروائی، پھرآپریشن ہوا۔ دو لاکھ اسی ہزار کا صرفہ آیا، جسے مظفر حسین کے ٹرسٹ نے حسبِ معمول ادا کیے۔ پھرہفتے بھر بعدجب باری ہسپتال سے چھٹی کی آئی تو بیگم صاحبہ نے لڑکے سے کہلا بھیجا کہ ’’ابھی نہیں، ہفتہ دس دِن اور رہنے دیں، تاکہ پیر میں کچھ جان پڑ جائے،اور چلنے پھرنے کے قابل ہوجائیں‘‘۔ہسپتال نے اس کارِ خیر کے لیے لاکھ روپئے کا صرفہ بتایا تو چولیں ہِل گئیں۔ خیر !   ؎پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔

بے ساختہ مجھے اُن کا درج ذیل شعر یادآیا جسے وہ ایّامِ جوانی میں مشاعروں میں خوب لہک لہک اور جھوم جھوم کے پڑھا کرتے تھے      ؎

کبھی حیات کے  تیور  بدل  نہیں  سکتے

مِلی ہے داد بہت حادثوں کے گھر سے مجھے

واقعی مجھے کمال جائسی کی حیات کے تیور میں تبدیلی کبھی دِکھائی نہیں دی،وہ جیسے تھے تاعمر ویسے ہی رہے۔یہ الگ بات کہ داد کی صورت حادثوں نے انھیں متزلزل کرنے کی بارہا کوششیں کیں۔ لیکن مجال ہے جو بندہ کبھی ٹس سے مس بھی ہوا ہو۔خیر !واقعہ یہ ہے کہ کمال صاحب فقیری میں بھی اپنی شہنشاہی کو ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔جب مشاعروں کے عروج کا زمانہ تھا تو اِن پر ہُن برستا تھا۔ پیسے کی ریل پیل تھی۔

کمال جائسی کی ولادت 15اپریل1937 کو محلہ خواجگان، قصبہ جائس،ضلع رائے بریلی میں ہوئی۔والدِ محترم حضرت کوثر جائسی کا غالباً چھ دہائی قبل مُلک بھر میں خاصا شہرہ تھا۔آپ کا شمار شعرو سخن کے پیرو مرشد میں ہوتا تھا۔آپ گھر میں نئے مہمان کی آمد پر ایسے عش عش کر اُٹھے گویا رب العزت نے آپ کو شعر و سخن کی سلطنت کے لیے جانشین عطا کردیا ہو۔پھر کیا تھا،آپ نے اپنی تمام تر توجہ اس نو نہال پر مرکوز کردی اور نام کمال احمد تجویز فرمایا۔ کہتے ہیں انسانی زندگی پر اچھے ناموں کے اثرات مرتب ہوتے ہیںاور نام ہی کی مناسبت سے خصلت و کردار کی پرداخت ہوتی ہے۔اس نونہال پر بھی نام کا کمال ظاہر ہونے لگا اور کمال کا کمال اوجِ کمال پر پہنچنے کے لیے بیتاب ہوگیا۔ابھی وہ عمر کی بارہویں منزل ہی پر تھا کہ شعر فہمی کے ساتھ ساتھ شعر گوئی کی جانب بھی قدم بڑھانے لگا۔والدِ محترم حضرت کوثر جائسی نے کمال احمد کے باطن میں موجزن جوہر کو محسوس کیااور حوصلہ افزائی کرنے لگے۔نتیجتاً سترہ برس کی قلیل عمر میں یعنی 1954 میں پہلی غزل کہی اور اپنا نامِ نامی کمال احمد سے کمال جائسی کرکے باقاعدہ شاعری کا آغاز کردیا۔پھر رفتہ رفتہ قصبہ، ضلع، ریاست ہی نہیں مُلک بھر میں آپ کے اشعار کی بازگشت سُنائی پڑنے لگی           ؎

پہنچی ہے جو ترتیبِ ادا تک تری تصویر

پندارِ مصور نے  قلم  چھوڑ  دیا  ہے

1958 میں پہلا کل ہند مشاعرہ کانپور میں پڑھا۔آپ کے ترنم کے لیے اور لب و لہجے کی برجستگی نے وہ غضب ڈھایا کہ کانپور اور اطراف کے اضلاع میں آپ کے نام کی دھوم مچ گئی۔پھر تو جہاں کہیں مشاعروں کا انعقاد ہوتا آپ کو ضرور بُلایا جاتا۔رفتہ رفتہ دوسری ریاستوں میں بھی ان کے نام کی گونج سُنائی پڑنے لگی۔پھر تین چار برسوں میں یہ نام مُلک کے چاروں کھونٹ میں گونجنے لگا۔

1970 میں کمال جائسی کا اوّلین شعری مجموعہ ’نامہ و پیام‘ شائع ہوکر مقبولِ عام ہوا۔دوسرا مجموعہ ’سادہ ورق‘ 1984میں شائع ہوا نیز تیسرا اور آخری شعری مجموعہ  ’کہو کیا جواب دوں‘ 2006 میں شائع ہوکر داد و تحسین بٹورنے میں کامیاب ہوا۔ کہنے کو تو کمال صاحب کی تین کتابیں منظر عام پر آئیں، لیکن مواد ڈھنگ سے دو کتابوں کا بھی نہیں ہے۔پہلی کتاب ’نامہ وپیام کا بیشتر موادبالخصوص نظمیں دوسری کتاب ’سادہ ورق ‘میںشامل کیا گیاہے۔ یہی کیفیت تیسری کتاب پر بھی صادق آتی ہے۔ اب ایسا بھی نہیں کہ کمال صاحب سُست یا کم گو ہیں۔بلکہ انھوں نے اپنی شاعری کا زیادہ تر حصّہ روپئوں کی خاطر مالدار متشاعروں کے حوالے کردیا۔وہ خود کہتے ہیں          ؎

شہرتوں کے طالب تُو اُداس کیوں ہے

آ،  کمال سے  پھر کچھ  کلام لے جا

یہی سبب ہے جو وہ اپنے تازہ کلام رسائل و جرائد میں شائع کرانے سے ساری عمر احتراز کرتے رہے۔اگر کبھی بھجوایا بھی تو وہی غزلیں یا نظمیں جو مجموعوں میں شامِل ہیں۔ یہ ان کا منفی رویہ رہا ہے جس نے انھیں اُردو اکادمیوں نیزسرکاری اداروںکی مراعات سے دور رکھا۔

 کمال جائسی محض میدانِ شعر و سخن کے ہی مجاہد نہیں بلکہ ادبی صحافت کے بھی سپاہی رہے ہیں۔ 1970 میں آپ کی ادارت میں ماہنامہ ’چمن زار‘ کا اِجرا ہواجس کے محض9؍ شمارے شائع ہوئے اس کے بعد بند ہوگیابعد ازاں پندرہ روزہ ’کلامِ ہند‘جاری کیا۔یہ بھی بارہ تیرہ شماروں سے آگے نہیں بڑھ سکا۔

1958 میں والدِ محترم کے وسیلے سے کانپور کی ’الگن مِل‘نمبر1؎ میں کلرک ایگزامنر کے عہدے پر کپڑوں کی کوالیٹی جانچنے کے کام پر لگ گئے اور پوری ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ اپنا کام انجام دینے لگے۔ سال دو سال کام کرنے کے بعد انھیں احساس ہونے لگا کہ ساتھی مزدوروں کے ساتھ مالکان نیز اعلیٰ عہدیداران کی جانب سے کچھ حق تلفی ہورہی ہے تو اِن کا دِل رہ رہ کے تڑپنے لگتا،کیونکہ خدائے برتر و بالا نے انھیں ایک حسّاس دِل عطا کیا تھا۔اب اکیلا چنا تو بھاڑ پھوڑنے سے رہا۔چنانچہ کافی تگ و دو اور حکمت عملی کے بعد مِل کی یونین میں شامل ہوئے اورمزدور ساتھیوں کے لیے آوازیں اُٹھانے لگے۔ان کی آواز اس قدر بلند اور پُرزور ہوتی کہ اربابِ مِل اس پر کان دھرنے پر مجبور ہوجاتے اور مسئلہ حل کرنے ہی میں عافیت سمجھتے۔ ان کی اسی خصوصیت کی بنا پرانھیں بعد کو باقاعدہ طور پر یونین کا لیڈر منتخب کیاگیا۔ ان کی اسی لیڈر شِپ نے انھیں 1962 میں نگر پالیکا کا الیکشن لڑنے پر مجبور کیا۔یہ الگ بات کہ وہ ہار گئے۔

کہتے ہیں ناکہ کمالِ را زوال است۔اس کمال کو بھی ایک روز زوال کا مُنہ دیکھنا ہی تھا۔چنانچہ 90 کی دہائی نے انھیں زوال کے غار میں دھکیل دیا۔حالانکہ 1990  میں ممبئی نے صابو صدیق گراؤنڈ میںجشنِ کمال کا شانداراہتمام کرکے انھیں خراجِ تحسین پیش کیا۔اس مشاعرے میں ملک بھر کے نامی گرامی شعراء کرام نے شرکت کی اور جشنِ کمال کی کامیابی کے ضامن بنے۔اس جشن کا نشہ دو تین سال تک کمال صاحب کو سرور و انبساط کی چہار دیواری سے باہر نکلنے نہ دیا۔لیکن روزی کا کیا ؟ روزی تو مقدور بھر ہر ذی روح کو درکار ہے۔یوں بھی بیٹھے بیٹھے کھانے سے قارون کا خزانہ بھی ایک نہ ایک دن ختم ہوہی جاتاہے۔جب مشاعروں کا چاند مکمل گہنا گیااور اس کی مست چاندنی کمہلانے لگی تو کمال صاحب کو آمدنی کی فکر لاحق ہوئی اور آپ اسی فکر کی اُنگلی تھامے 1995 میں کانپور سے سیدھے میرا روڈ(ممبئی)آن پہنچے۔ حالانکہ یہاں علم وادب نیز شعر وسخن کی زمین انتہائی ناہموار  اور بنجر تھی۔لہٰذا زمین کو ہموار اور زرخیزبنانے کے لیے اسے اپنے تجربات کی نہر سے سینچا، وجدان کے ہل چلائے،جہالت کی خار دار جھاڑیوں کو اُکھاڑنے میں اَنا کی ہتھیلیوںکولہو لہان کیا۔اسی دوران عبدالجبار اجمیری، اقبال سولنکی اور مصطفی راٹھور سے یارانہ ہوا۔ان تینوں میں صرف عبدالجبار اجمیری کو کچھ شعر و شاعری کا شغف تھا۔ اِن تین ساتھیوں نے انھیں نہ صرف حوصلہ دیا بلکہ مالی مدد بھی کی اور ’میراایکتا کمیٹی ‘کے بنیاد گزاروں میں رہے۔ میرا ایکتا کمیٹی کے زیر اہتمام 2016تک غالباً اٹھارہ کل ہند پیمانے کے مشاعرے ہوچکے ہیں۔

کمال جائسی سے میری پہلی ملاقات معروف افسانہ نگار مظہر سلیم کے توسط سے 1998کے اواخر میں ہوئی تھی۔ واقعہ یوں ہے کہ میں نے انورمرزا اور مبین راجو کے ساتھ مِل کے میرا روڈ پہ ایک ’ایکٹنگ انسٹی ٹیوٹ‘ کا اجرا کیا تھا۔فلیٹ مظہر سلیم نے دلوایا تھا۔اُن دنوں میرا روڈ پر اس قدر گہما گہمی نہیں تھی۔ فلموں کے اسٹرگلرز کی یہاں بہتات تھی۔ہمارا انسٹی ٹیوٹ سات آٹھ مہینے سے زائد نہیں چل سکا،آپسی چپقلش کے نتیجے میں بند کرنا پڑا تھا۔بہر کیف ! اِن سات آٹھ مہینوں میں بمشکل تین یا چار ملاقاتیں کمال جائسی سے رہیں۔ اُن دنوں کمال جائسی ایس ٹی ڈی،پی سی اوبوتھ چلاتے تھے۔ میرا روڈ اسٹیشن کے قریب ریلوے ٹریک سے مُلحق اِن کا اِسٹال ہے۔

اس دوران ’میرا ایکتا کمیٹی ‘ کی بنیاد پڑ چُکی تھی، مشاعرے کی منصوبہ بندی جاری و ساری تھی چندے کا اہتمام و انصرام چل پڑا تھا۔اس کارگزاری میں عبدالجبار اجمیری پیش پیش تھے۔اس لیے عبدالجبار اجمیری کانامِ نامی زیادہ اُچھلتا تھا۔خیر دو مشاعروں کے بعد اِن کے نام کی دھوم کچھ زیادہ ہوئی تو مظفر حسین کے بھی کان بجنے لگے اور انھوں نے عبدالجبار اینڈ کمپنی کو بُلوا بھیجا۔ انھوں نے اپنا پیر ومرشد بنا کر کمال جائسی کو پیش کیا۔ مظفر حسین کمال جائسی کی سخن طراز شباہت،چشم غزل، رُباعی پیشانی، دوہا خصلت اور قصیدہ لبی سے اس قدر متاثر ہوئے کہ آپ ہی کا شعر آپ پر چسپاں کردیا           ؎

یہ رازِ عبادت اے زاہد، برسوں میں کھلا دیوانوں پر

جو عشق سے نسبت رکھتا ہے،وہ کُفر بھی ایماں ہوتاہے

بہرحال،میرا جب بھی میرا روڈ جاناہوتا، کمال صاحب سے ملاقات ضرورکرتا۔ پھرنئی صدی یعنی 2006میں ازخود فلیٹ خرید لیا اورمع بال بچّوں کے یہیں بود و باش اختیار کرلی۔ پھرکیاتھا،آتے جاتے ملاقاتیں ہونے لگیں،راہ و رسم مزید مستحکم ہوئی۔یہیں میری پہلی ملاقات اشہر نجمی سے بھی ہوئی۔ان دنوں کمال صاحب کا تیسرا شعری مجموعہ ’کہو کیا جواب دوں‘کی اشاعتی تیاریاں جاری تھیں۔ اس کی تمام تر ذمے داری حاجی رعب علی خان (واپی، گجرات) نے اپنے سر لے رکھی تھی۔کلام ترتیب دینے کا کام اشہر نجمی کے ذمے کا، جسے وہ پوری آب و تاب کے ساتھ انجام دینے میں لگے ہوئے تھے۔ بہر حال! کتاب شائع ہوئی،پھر ان کے شایانِ شان ایک کل ہند پیمانے کے مشاعرے میں کتاب کا اجرا بھی ہوا۔

کمال صاحب کے رفقا بتاتے ہیں کہ کتاب کی اشاعت نیز مشاعرہ اور اجرا کے تمام اخراجات تنِ تنہا حاجی رعب علی خان نے برداشت کیے تھے۔حاجی رعب علی خان کا شمار بڑے کاروباریوں میں ہوتا ہے نیز آپ کمال صاحب کے مداح و پرستار وں میں سے ہیں،ماشاء اللہ آج بھی بقیدِ حیات ہیں۔ آپ ایّامِ نوجوانی سے کمال جائسی کی مترنم آواز کی سحر انگیزی اور لفظوں کی فُسوں کاری میں یوں اُلجھے کہ بس !

کسی کی یاد کا نشہ فضا میں گھولتا رہا

اُداس رات تھی خموش چاند بولتا رہا

پھر کتنی اداس راتیں خموشی کی زنبیل میں غرق ہوئیں اور جانے کتنے چاند گُفتار کے فلک پر روپوش ہوئے۔لیکن یاد کا نشہ پوری آب و تاب کے ساتھ فضا میں سُرور آفرینی میں مست اپنی نوجوانی کے قصّے لُٹاتارہا۔

میں جب غازی نرسنگ ہوم پہنچا تو دیکھا رشید بشر دوڑ دھوپ میں لگے ہوئے ہیںاور کمال صاحب کے عزیزان نیز احباب کو فون کے توسط سے اطلاع رسانی کاکام کر رہے ہیں۔کمال صاحب کی بہن اور بھائی کو بھی مطلع کردیا تھا۔ابھی ہم باتیں کر ہی رہے تھے کہ سیّد نسیم احمد،اکمل احمد اور عارف بھی آگئے۔انھیں کے پیچھے محشر فیض آبادی اور ثانی اسلم بھی تشریف لے آئے۔

اسی دوران ہسپتال کا عملہ آکر رشید صاحب کو بُلا لے گیا۔رشید صاحب پانچ منٹ بعد باہر آئے۔ انھوں نے اعلان کیا’’کمال صاحب نہیں رہے۔ اس روز تاریخ 27دسمبر 2020 تھی اور وقت رات کے 9؍بجنے میں کوئی تین چار منٹ کم رہے ہوں گے۔اگلے روز یعنی 28؍دسمبر 2020 کی صبح ۱۱؍بجے میرا روڈ کے قبرستان میں آپ کو سپردِ خاک کیا گیا۔جب ہم کمال صاحب کو منوں مٹّی تلے دبا کر چلے تو میری آنکھیں جانے کیوں اشکبار ہوگئیں اور ذہن کے کسی گوشے سے اُن کا شعر گونجا          ؎    

تم جلا ؤ کمال آنسوؤں کے دیے

زندگی رات ہے،رات ڈھل جائیگی

واقعی کمال صاحب کے لیے زندگی گزشتہ دو دہائیوں سے رات ہی رہی جو آج ڈھل گئی۔اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ مرحوم کی صبح کو ملگجی نہیں بلکہ صاف وشفاف اور روشن کرے نیزکروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔آمین



Ishtiyaque Saeed

B-01- New Mira Paradise, Geeta Nagar,

Phase-II, Mira Road

Thane-401107  (Maharashtra)

Cell : 9930211461     

E-mail : ishtiyaquesaeed@rediffmail.com

                       

 

 

 


 

 

 

 


1/7/21

اردو صحافت اور کالم نگاری - مضمون نگار: مہتاب امروہوی

 



جہاں اردو صحافت نے جنگ آزادی میں ناقابل فراموش اہم کردار ادا کیا وہاں دوسری جانب اردو ادب کی مختلف اصناف کے فروغ میں بھی اپنی سرگرمی کو تاہنوز جاری رکھا ہے۔ لیکن مقامِ حیرت ہے کہ صحافت کی مشہور اصناف کو آج بھی ادب کے اس حصے میں شامل نہیں کیا گیا جس کا اسے استحقاق ہے۔

اردو ادب کی ہر صنف کی تعمیم میں صحافت نے مرکزی رول نبھایا، خاص طور پر افسانہ، داستان، غزل، ڈراما، سفر نامہ وغیرہ کو بذریعہ اخبارات و رسائل عام قاری تک پہنچایا گیا اور ان کی مقبولیت میں اضافہ کیا گیا۔ لیکن اگر ہم غور کریں تو معلوم ہوگا کہ جتنا تحقیقی کام افسانہ، غزل، ڈرامااور سفر نامہ پر ہوا اس کا دسواں حصہ بھی فنِ صحافت کی کسی بھی صنف کو نہیں ملا۔ اسے اردو ادب سے باہر کی چیز تصور کیا۔

یوں تو پوری اردو صحافت پر تحقیقی اور معلوماتی کام آج بھی تشنہ ہے بالخصوص اخبار کے داخلی مواد سے متعلق بنیادی کام کوصنفی اعتبار سے اگر تقسیم کیا جائے تواس میں  خبر، اداریہ، شذرہ، انٹر ویو،آرٹیکل، انشائیہ، خاکہ، رپورتاژ اور کالم نگاری وغیرہ جیسی تمام صحافتی اصناف آتی ہیں جن کے بارے میں صحافتی لحاظ سے ابھی تک کچھ نہیں لکھا گیا ہے۔ یوں کہنے کو انشائیہ اور خاکے پر اردو میں کچھ حد تک لکھا گیا ہے لیکن وہ ادبی اعتبار سے تحریر کیا گیا ہے، یعنی جن لوگوں نے بھی انشائیہ یا خاکے پر لکھا ہے انھوں نے ان دونوں چیزوں کو ادبی نثر کی نیم ادبی صنف تسلیم کرتے ہوئے اس کو سب سے کمتر قرار دیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ صحافتی تناظر میں لکھنے کی کوشش کسی نے بھی نہیں کی۔ ان اخبار نویسوں اور صحافیوں نے بھی نہیں جن کو حقیقت میں یہ کام کرنا چاہیے تھا اور شاید وہی زیادہ بہتر طور پر اخباری اصناف پر لکھ بھی سکتے تھے۔

ادب اور صحافت میں اتنا قریبی رشتہ ہونے کے باوجود جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اخباری انشائیہ نگاری، اخباری خاکہ نگاری، اخباری انٹر ویو اور کالم نگاری وغیرہ پر اگر کچھ پڑھنا چاہیں تو کچھ ہاتھ نہیں آتا جبکہ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اردو اخباروں کے وقار اور شان کو بڑھانے میں کالم نگاری اور کالم نگاروں کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے۔ یہ کالم نگارہی ہیں جن کے دم سے آج بھی اردو اخباروں کا بھر م قائم ہے۔ورنہ وسائل کی کمی کے سبب اردو اخبار خالص اخباری شعبوں میں دوسری زبانوں کے اخباروں سے بہت پیچھے ہیں۔ وہ تو کہیے کہ اردو کے ادبی صحافیوں نے اپنے انٹر ویوز، انشائیوں اور کالم نگاری سے اردو اخباروں کی لاج بچا رکھی ہے، ورنہ صرف خبروں کے لیے اردو اخباروں کو کوئی خرید نا بھی پسند نہیں کرتا۔

ہمارا موضوع چونکہ کالم نگاری ہے اس لیے ہماری کوشش یہی ہوگی کہ ہم کالم نگاری کی صنفی نوعیت، کالم نگاری کے مقصد، کالم نگاری کی خصوصیات،کالم نگاری کے آداب و اصول پر روشنی ڈال سکیں۔ لیکن قبل اس کے کہ کالم نگاری پر اظہار خیال کیا جائے یہ مناسب ہو گا کہ انشائیہ، خاکہ نگاری اور رپورتاژ کے بارے میں بھی مختصراً کچھ اظہار خیال کر دیا جائے تاکہ کالم نگاری ان دیگر اصناف صحافت سے متمیز نظر آئے۔

خاکہ نگاری : اردو میں خاکہ نگاری کی روایت کچھ زیادہ پرانی نہیںہے اور صحافتی خاکہ نگاری تو بہت ہی نو خیز ہے۔ انگریزی میں خاکہ نگاری کے بہت اچھے نمونے ملتے ہیں، اردو میں خاکہ نگاری کا آغاز غیر صحافتی انداز یعنی ادب میں ہوا۔ جن ادیبوں نے خاکے لکھے وہ اخباروں سے متعلق نہ تھے۔ محمد حسین آزاد کو اردو کا پہلا خاکہ نگار کہا جاتا ہے کیونکہ انھوں نے آبِ حیات میںکچھ شاعروں کے بہت ہی حسین اور دلکش خاکے لکھے ہیں مگر باضابطہ طور پر اگر کسی خاکہ نگار کا نام لیا جاسکتا ہے تو شاید وہ مرزا فرحت اللہ بیگ ہیں۔ مرزا فرحت اللہ بیگ نے  ڈپٹی نذیر احمد اور مولوی وحیدالدین سلیم کے جو خاکے لکھے ہیں وہ اردو خاکہ نگاری کا آغاز ہی نہیں بلکہ خاکہ نگاری کے اعلیٰ ترین نمونے کہلائے جانے کے مستحق ہیں۔

خاکہ نگاری کو کچھ لوگ شخصیت نگاری سے بھی تعبیر کرتے ہیں کہ خاکہ کسی فرد واحد کی شخصیت کی قلمی تصویرہوتی ہے۔

آزادی سے پہلے جن خاکہ نگاروں نے اس میدان میں اپنی شناخت بنائی تھی ان میں فرحت اللہ بیگ کے علاوہ خواجہ حسن ثانی نظامی، شاہد احمد دہلوی، مولوی عبدالحق، رشید احمد صدیقی، سردار دیوان سنگھ مفتون وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔جنگ آزادی کے دور میں یابعد میں جن خاکہ نگاروں نے شہرت حاصل کی ان میں سعادت حسن منٹو، مالک رام، عصمت چغتائی، شورش کاشمیری، انتظار حسین، کنہیا لال کپور، فکر تونسوی کا نام آتا ہے۔ مندرجہ بالا خاکہ نگاروں میں خواجہ حسن ثانی نظامی دیوان سنگھ مفتون، شاہد احمد دہلوی،عصمت چغتائی اور فکر تونسوی تو باقاعدہ اخبارات سے وابستہ رہے ہیں اور باقی لوگوں نے اپنا خاکہ نگاری سے اردو رسائل کو رونق بخشی۔ صحافتی خاکہ نگاری عام خاکہ نگاری سے تھوڑی سی مختلف ہوتی ہے۔ایک صحافی جب خاکہ لکھتا ہے تو اپنے خاکے کے لیے بالعموم کسی سیاسی یا سماجی شخصیت کا انتخاب کرتا ہے کیونکہ سیاست اور سماج ہی اس کا مخصوص میدان ہوتا ہے۔ کوئی سیاسی لیڈر یا کوئی ایسا رہنما جس کی شخصیت میں خاکہ نگار کو ایسے عناصر نظر آئیں جو سیاست اور سماج کے لیے نقصان رساں یا سودمند ہوں تو وہ اس لیڈر یا اس رہنما کے ان ہی پہلوؤں کی ایک دلچسپ انداز میں قلمی تصویر کھینچتا ہے۔

کبھی کبھی خاکہ نگاری کی حدیں کالم نویسی سے بھی مل جاتی ہیں یا یوں کہیے کہ کالم نگار ی میں خاکہ نگاری کی جھلک نمایاں ہوجاتی ہے۔یعنی کالم نگار اپنے کالم کے لیے سیاسی، سماجی، ادبی، مذہبی یا علمی شخصیت پر جب لکھتا ہے تو اس کے کالم میں وہ شخصیت اتفاق سے اس طرح ابھرتی چلی جاتی ہے کہ کالم نگار ی میں خاکہ نگاری کے پہلو نمایاں ہو جاتے ہیں۔

ایسی کالم نگاری کی مثال دیتے ہوئے پروفیسر شمیم حنفی نے لکھا ہے:

’’اردو خاکہ نگاری یا شخصیت نگاری کی ایک اور شکل جس نے ہمارے زمانے میںخاصا رواج پایا ہے، کالم نویسی کی روایت میں دکھائی دیتی ہے۔ اس سلسلے میں کچھ نہایت پر کشش مثالیں انتظار حسین اور خامہ بگوش کے ادبی کالموں میں ملتی ہیں۔‘‘

(از پروفیسر شمیم حنفی: آزادی کے بعد دہلی میں اردو خاکہ،  اردو اکادمی دہلی، اشاعت دوم 1992، ص 17-18)

انشائیہ نگاری: بیسویں صدی نے اردو صحافت کو جہاں اور چیزیں دیں ان میں سے ایک چیز انشائیہ بھی ہے۔انشائیہ کو اب سے پہلے صنف نثر کی حیثیت حاصل نہیںتھی۔صنف نثر تو تقاد اب بھی نہیں مانتے لیکن یہ اس طرز تحریر کی خوش قسمتی ہے کہ بیسویں صدی میں نقادوں نے اسے کم از کم ایک عدد نام تو عطا کردیا یعنی نثر کے خاص پیرایہ بیان کو انشائیہ کہاجانے لگا۔ انشائیہ کو یہ نام عطا کرنے میں صحافت کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اردو نقادوں نے اس نثری تحریر کو یہ نام شاید اس لیے عطا کیا کہ اردو کے انشائیہ نگاروں (اگر نقاد انھیں انشائیہ نگار مان لیں)میں زیادہ تر صحافی ہیں۔ مولانا ابو الکلام آزاد سے لے کر ڈاکٹر وزیر آغا تک جو نام ہمیں نظر آتے ہیں ان میں بہت سے لوگ کسی نہ کسی حیثیت میں اخبارورسائل سے منسوب رہے ہیں۔ لہٰذا اردو نقادوں نے ان صحافی ادیبوں کی تحریروں سے ادب کو ممتاز کرنے کے لیے انھیں انشائیہ کا نام دے دیا۔ نقادوں کا یہ رویہ ایک طرح سے ادب کی پاکیزگی اور خالصیت کو برقرار رکھنے کی خواہش ہے۔اردو کے نامور نقاد کلیم الدین احمد کا خیال ہے کہ انشائیہ وہی صنف ہے جو انگریزی میں(Essay) کہلاتی ہے اور جس کے بارے میں ڈاکٹر جانسن نے کہا تھا:

''The Essay is a loose sally of mind''

رپورتاژ نگاری : رپورتاژ نگاری بھی صحافت اور ادب کے بین بین ایک چیز( صنف) ہے۔یہ نیم صحافتی اور نیم ادبی قسم کی اصناف میں شمار ہوتی ہے۔اس صنف کی ماضی میںجڑیں زیادہ دور تک نہیں ملتی ہیں۔ بیسویں صدی کی تیسری یا چوتھی دہائی میں اس صنف کا آغاز ہوا، البتہ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ رپورتاژ نگاری یوروپ سے ہماری زبان اردو میں آئی اور یوروپ کے لیے یہ فرانس کے ادیب صحافیوں کی دین ہے۔رپورتاژ فرینچ لفظ ہے۔ انگریزی میں اس کے لیے Reportingیا Reportآتا ہے لیکن جب یہی چیز رفتہ رفتہ صحافت اور ادب کے امتزاج سے مستقل طور پر اخباروں کے کالموں کی زینت بننے لگی تو اس صنف کا نام صحافتی زبان میں بطور اصطلاح رپورتاژ ہی پڑ گیا۔ رپورتاژ کیا ہوتی ہے ؟ اور اس کا دائرۂ کار (موضوع) کیا ہے ؟ اس کے بارے میں ڈاکٹر سید اعجاز حسین نے اپنے ایک مضمون میں کچھ اس طرح لکھا ہے:

’’ رپورتاژ عموماً ایسے واقعات پر مبنی ہوتا ہے جس سے ایک خاص طبقے کے بجائے انفرادی شعور کا ایسا کارنامہ ہو جو پھیلی ہوئی شکل میں عمومیت کا درجہ رکھتا ہو۔‘‘

(از ڈاکٹر سید اعجاز حسین۔ نئے ادبی رجحانات، کتابستان الہ آباد، اشاعت پنچم مئی 1957 ،ص 39)

انٹر ویو نگاری : انٹر ویو اردو صحافت کے لیے کوئی نئی چیز نہیں ہر چند کہ انٹر ویو نگاری کا جو باضابطہ مفہوم اب ہے وہ پہلے نہیں تھا اور نہ انٹر ویو اتنے سائنٹفک انداز سے لیے جاتے تھے۔ انٹر ویو دراصل اس بالمشافہ گفتگو یا مکالمے کو کہتے ہیں جو انٹر ویو لینے والے اور دینے والے کے درمیان سوال و جواب کی صورت میں ہوتا ہے۔ اردو زبان کے بہت سے اخبارات و رسائل نے سیاست، ادب، مذہب، سماج، علم تعلیم اور کھیل کے میدانوں میں ایسے اشخاص کو منتخب کیا جنھوں نے مذکورہ شعبۂ ہائے زندگی میں کسی ایک میں ناموری اور شہرت حاصل کی۔

انٹر ویو نگاری بھی ان ہی اصناف میں شامل ہے جس کو نہ ادب میں جگہ ملی اور نہ صحافت میں کوئی معزز مقام مل سکا۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو انٹر ویو کے لیے سلیقے کے ساتھ ساتھ بہت ذہانت، دیانت اور سوجھ بوجھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ انٹر ویو چونکہ حالات و مسائل حاضرہ سے متعلق ہی لیے جاتے ہیں اس لیے انٹر ویو لینے والے اور دینے والے کا مطالعہ وسیع، مشاہدہ تیز اور معلومات Currentہونی چاہیے۔ انٹر ویو لینے والا اگر ذہین اور تیز ہے تو سامنے موجود شخصیت سے ہر وہ بات اگلوا سکتا ہے جس کی اسے ضرورت ہے ورنہ بصورت دیگر عموماً دیکھنے میںآتا ہے کہ انٹر ویو لینے والا کسی تیز چرب زبان اور تجربہ کار شخصیت کے سامنے خود کو بے بس اور مجبور محسوس کرنے لگتا ہے۔

کالم نگاری : اردو صحافت کی تاریخ میںکالم نگاری کی روایت کا سراغ ہمیں بہت دور تک ملتا ہے۔یہ ضرور ہے کہ ماضی میں کالم نگاری اپنے رنگ ڈھنگ اور ماضی کے اعتبار سے اپنی کوئی مستقل شناخت قائم نہیں کر پائی تھی جیسی موجودہ کالم نگاری نے قائم کی ہے۔در اصل یہ شئے ابتدا میں اپنے نا تراشیدہ خد و خال کے ساتھ جنم لیتی ہے یعنی اپنے انگھڑروپ میں سامنے آتی ہے۔ اس کا نام اس کے  معنی و مفہوم کا تعین بعد کو ہوتا ہے۔ جیسے جیسے وہ چیزیں Developہوتی رہتی ہیں، سنورتی رہتی ہیں اور اپنے ابتدائی روپ کو چھوڑ کر مکمل نقش و نگار کے ساتھ سامنے آتی ہیں تب ہی ہم اس کے معنی و مفہوم کا تعین کرتے ہیں اس کا مقصد بیان کرتے ہیں اور اس کے لیے اصول و قواعد مرتب کرتے ہیں پھر اس کی تعریف متعین کرکے اس کا ایک نام بھی رکھ لیتے ہیں،اس طرح وہ نام ایک اصطلاح کا درجہ اختیار کر کے رائج ہوجاتا ہے۔ سماجی زندگی کے ہر شعبے میںیہ عمل ہوتا رہا ہے۔علم و ادب کی دنیا میں بس یہی ہوتا رہا ہے۔مختلف علوم کی جن اصطلاحوں کو آج ہم بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور سنتے ہیں ان کے معنی و مفہوم سے بھی آشنا ہوجاتے ہیں یہ اصطلاحیں اپنے آغاز یا ابتدائی دور میں بے نام اور بنا معنی و مفہوم کے تھیں۔

آج ہم قومیت، سیکولرزم، جمہوریت اور مساوات وغیرہ کی اصطلاحیں بے تکلفی سے تحریر و تقریر میں استعمال کرتے ہیں، ان کے معنی و مفہوم سے بھی آگاہ ہیں۔ آج جب جمہوریت بولتے ہیں تو جمہوریت کا لفظ اپنے موجودہ مفہوم و خصائص کے ساتھ ہمارے سامنے آجاتا ہے اور پھر ہم جمہوریت کی تلاش میں روم و یونان تک پہنچ کر موجودہ جمہوریت کے ڈانڈے قدیم رومن اور یونانی جمہوریتوں سے ملا دیتے ہیں حالانکہ قدیم یونانی جمہوریتوں اور موجودہ جمہوریتوں کے تصور میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

اس تمام گفتگو کا حاصل یہ ہے کہ کالم نگاری نے ایک طویل مدت کی تراش خراش کے بعد اپنی موجودہ شکل و صورت اور رنگ روپ حاصل کیا ہے اور اب کہیں بیسویں صدی میںجا کر اپنی الگ شناخت قائم کرپائی ہے وہ بھی اس وجہ سے کہ بیسویں صدی کے آغاز سے ہی پریس کی دنیا میںنہایت تیز رفتاری سے تبدیلیاں آرہی تھیں۔ وہ تبدیلیاں صرف Technological fieldاور خبروں کے حصول و ترسیل تک ہی محدود نہیں تھیں بلکہ اخبار میں چھپنے والے مواد سے بھی متعلق تھیں۔بیسویں صدی میں اخباروں بالخصوص اردو اخباروں اور رسائل کے اندرونی مواد کی نئے سرے سے ترتیب و تزئین سے متعلق تھیں۔وجہ اس کی یہ ہے کہ بیسویں صدی میںپریس اپنےCommercial ageمیں داخل ہو چکا تھا اور صحافت professionمیں تبدیل ہو چکی تھی۔تجارتی مقابلے نے اخباروں کو مجبور کیا کہ مانگ اور کھپت میں اضافہ ہو۔ یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ اخبار اب صرف ملکی اور عالمی واقعات و حادثات سے باخبر ہونے کے لیے نہیں خریدا جاتا تھا ان چیزوں کی آگاہی کے لیے میڈیا کا ایک اور الیکٹرانک شعبہ یعنی ریڈیو میدان میں آگیا تھا۔ اخبار میں قاری اب اپنی دلچسپی کے دوسرے سامان تلاش کرتاتھا۔ اس سلسلہ میں ہمارے بات کی تائید اوصاف احمد کے اس مضمون سے بھی ہوتی ہے جو انھوں نے آواز کے مشہور صحافی جمیل مہدی کے بارے میں لکھا ہے۔ اردو اخباری دنیا کا جائزہ لیتے ہوئے انھوں نے لکھا:

’’اردو صحافت اور ہندوستانی مسلم تہذیب میں اخبار اور اس کے متعلقات کو ایک رومانی حیثیت حاصل رہی ہے۔ صحافت کو ایک طرح سے عبادت سمجھا جاتا رہا ہے۔ صحافت کا یہ تصور عام کرنے میں ’الہلال‘، ’البلاغ‘ اور ’ہمدرد ‘جیسے اخبارات اس طرح پیش پیش رہے ہیں کہ اخبارات کا تجارتی او ر معاشی پہلو پس پشت پڑ گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسری صنعتوں کی طرح اخبار بھی ایک صنعت ہے۔ جس طرح دوسرے کاروباروں کو نفع بخش بنانے کے لیے کاروباری ذہنیت کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح اخبار کو منفعت بخش بنانے اور اسے اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے بھی کاروباری ہنر مندی درکار ہے۔‘‘

(از اوصاف احمد’جمیل مہدی کچھ باتیں کچھ یادیں‘ مطبوعہ ماہنامہ کتاب نما مکتبہ جامعہ نئی دہلی فروری 1996، ص 63)

لہٰذا اردو اخبار بھی اس تجارتی دوڑ میں شامل ہو گئے تو انھوں نے اخباروں کو زیادہ سے زیادہ دلچسپ اور قاری کی حسب منشا بنانے کے لیے اخبار ی مواد میں بہت سے نئے گوشے اورشوشے پید اکر دیے یہ نئے گوشے صحافت کی ان اصناف پر مشتمل تھے جن کو ہم انٹر ویو نگاری، خاکہ، انشائیہ،رپورتاژ، جدید،  فیچر نویسی، مزاحیہ شاعری کے کالم، کارٹون، طنزیہ مزاحیہ نثری کالم کے نام سے جانتے ہیں۔ اردو اخباری دنیا میں ہونے والی اس تبدیلی کی طرف ڈاکٹر قیصر شمیم نے بھی اپنے ایک مضمون میں اشارہ کیا ہے:

’’جب اردو اخبارات و جرائد نے صحافت کے جدید اصولوں کو اپنا کر ایک نئے دورمیں قدم رکھا تو انیسویں صدی کے اواخر تک فیچر نویسی، اداریہ اور مختلف قسم کے سنجیدہ علمی اور مزاحیہ کالم نویسی نے جنم لیا۔‘‘

(از ڈاکٹر قیصر شمیم ’اردو ادب کے فروغ میںصحافت کا حصہ‘ مطبوعہ ماہنامہ کتاب نمامکتبہ جامعہ نئی دہلی، مارچ 1998، ص22)

بیسویں صدی کی صحافت میں مندرجہ بالا جو اصناف داخل ہوئیں ان میں سے کچھ کے دھندلے سے نقوش ہمیں ماضی کی اردو صحافت میںملتے ہیں۔ان تمام اصناف میں مزاحیہ کالم نگاری کو جو اہمیت، امتیاز اور مقبولیت حاصل ہوئی وہ کسی دوسری اخباری صنف کو حاصل نہ ہو سکی۔ اصلیت تو یہ ہے کہ کالم نگاری اردو صحافت کی دنیا میں انقلابی تبدیلی کا باعث بنی اور اس نے اخبارات کو نہ صرف ادبی وقار عطا کیا بلکہ ان کو نئی دلکشی اور دلچسپی سے بھی روشناس کرایا۔

مندرجہ بالا بحث کے تناظر میں ہم بہ بانگ دہل یہ کہہ سکتے ہیں کہ اردو ادب کے فروغ میںصحافت کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے لیکن صحافت کی اصناف کو وہ مقبولیت میسر نہ آسکی جس کی وہ مستحق ہیں۔اب یہ ذمہ داری ان ادبی صحافیوں کی ہے جو اخبارات کے ذریعہ ہی مقبول اور مشہور ہو ئے کہ وہ اس اصناف کے فروغ کے لیے کوششیں کریں اور صحافت کو اردو ادب کا ہی ایک اہم حصہ باور کرائیں۔

اس امر کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ تمام ادبی حلقوں کی جانب سے مؤثر مشترکہ تحریک چلائی جائے اور آنے والی نسل کے لیے ایک ایسا میدان  ہموار کیا جائے جہاں شعبۂ نثر میں اردو صحافت کو بھی ایک اہم اور ضروری حصہ تصور کیا جائے۔ 

 

Dr. Mehtab Amrohvi

Head, Dept of Journalism

Nayab Abbasi Degree (PG)College

Kailsa Road, Amroha-224221 (UP)

Mob.: 9412512750

 

 

 

 


 

  


تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...