4/10/22

وامق جونپوری کی غزل گوئی: ڈاکٹر اسود گوہر



میں فن ہوں میری انگلیاں ہیں زندگی کی نبض پر

قدم مرا زمین پر تو کائنات پر نظر

وامق جونپوری کا اصل نام سید احمد مجتبیٰ تھا۔ 23 اکتوبر 1909 کو موضع کج گائوں ضلع جون پور میں ان کی پیدائش ایک جاگیر دار گھرانے میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی بعد میں بارہ بنکی سے1926 میں ہائی اسکول اور گورنمنٹ کالج فیض آباد سے1929میں سائنس میں انٹرمیڈیٹ کیا۔اس کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی سے1935  میں بی اے پاس کیا اور بعد میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے کلام کے مجموعے چیخیں، جرس، شب چراغ اور سفر نا تمام ایسے مجموعے ہیں جنھوں نے ادب میں اپنی افادیت و انفرادیت کے سبب بے پناہ مقبولیت حاصل کی۔انھوں نے زمانہ طالب علمی سے لے کر اپنی زندگی کے آخری ایام تک نا انصافی،ظلم و استحصال، جبر و استبداد اور سامراجیت کے خلاف آواز اٹھائی اور انسانیت و مساوات کو اپنا نصب العین بنایا۔ تہذیبی و ثقافتی وابستگی اور خاندانی وراثت سے جذباتی لگائو کے سبب وہ اپنے ماضی سے ہمیشہ جڑے رہے اور یہی وجہ رہی کہ انھوں نے کسی بڑے شہر میں مستقر ہونے کے بجائے اپنے گائوں کی کوٹھی ہی میں پناہ لی۔ان کی تخلیقی زندگی کی داستان اپنے اندر پون صدی کو سمیٹے ہوئے ہے۔ ترقی پسند تحریک اور جنگِ آزادی کے پس منظر میں کی گئی شاعری میں انھوں نے بیسویں صدی کی منہ بولتی تصویریں پیش کی ہیں۔شیرازِ ہند جون پور کے اس قد آور شاعرکا 21نومبر 1998 کو انتقال ہو گیا۔

جس ماحول میں وامق نے آنکھ کھولی اس وقت ان کے خاندانی دبدبے کا یہ حال تھا کہ دوچار ضلعے میں کوئی سرکشی بھی کرتا تو اس کی گرفت سے پہلے اس سے سوال کیا جاتا تھا کہ کیا اپنے کوٹڑھواں (عرف عام میں کجگائوں کو کوٹڑھواں کہا جاتا ہے) کا سید سمجھتا ہے۔ ان کی حویلی سے باہر نکل کر عوام الناس سے ملنا جلنا گناہ کبیرہ سمجھا جاتا تھا۔ ایسے ماحول میں وامق کا اپنے ماحول سے بغاوت کرنا عوام الناس سے ملنا، ان کے مسائل کو سمجھنا آسان نہ تھا۔سماج بھی اکثر اس روپ کو سمجھ نہیں پاتا اور شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔اس بات کا ذکر وامق نے اپنی ڈائری میں اس طرح کیا ہے:

"ہمارے ساتھی (جو زیادہ تر سینئر تھے) کہا کرتے تھے ارے بھائی! جانتا ہوں یہ لوگ جونپور کے زمیندار خاندان کے ہیں... یہ لوگ کمیونسٹ تحریک... یہ اور ترقی پسند تحریک... یہ کچھ نہیں... یہ عین وقت پر دھوکہ دینے والے ہیں۔ انھیں کسی خفیہ میٹنگ میں نہیں بلانا چاہییے۔ یہ کسانوں میں سے نہیں ہیں۔ یہ مزدوروں کے خاندان کا لڑکا نہیں ہے۔ اس لیے اس کا اعتبار نہیں کرنا چاہیے ان باتوں سے بڑی تکلیف ہوتی..."

بد اعتمادی کے اس ماحول نے وامق کو ڈگمگانے نہیں دیا بلکہ وہ زندگی کی آخری سانس تک اپنے اصولوں و عقیدے کو گلے لگائے رہے اور کبھی سمجھوتا نہیں کیا جو ان کی فطرت صالحہ کا بڑا ثبوت ہے۔انسان حالات زندگی اور اس کے نشیب و فراز سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ زندگی کے تغیرات اس پر اثر انداز ہوتے ہیںجس کی وجہ سے وہ اپنی سوچ کو بدل کر نئی فکر کو اپناتا ہے چونکہ ادیب و شاعر زیادہ ہی ذکی الحس ہوتے ہیں اس لیے بدلتے ہوئے حالات سے بہت جلد متاثر ہوتے ہیں۔اپنی ڈائری میں اپنے احساسات کا بیان وانق اس طرح کرتے ہیں:

"میری ذات سے وابستہ دو حادثوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ایک یہ کہ میں 1909 کو پیدا ہوا کہ زندگی بھر اپنے وجود کا خمیازہ بھگتا کروں دوسرا حادثہ 1940 میں یہ ہوا کہ میں ایک دم شاعر بن گیا۔"

1940یعنی وامق کی جوانی کا دور جہاں ایک طرف جوانی کے تقاضے انھیں روایتی شاعری کے لیے مجبور کر رہے تھے تو وہیں دوسری طرف ترقی پسند تحریک، جنگ، جاگیردارانہ نظام اور سرمایہ دارانہ نظام لوٹ کھسوٹ کر رہا تھا اور یہ معاشرتی مسائل وامق کو اپنی جانب مراجعت پر اکسا رہے تھے۔ان کی ابتدائی دور کی غزلوں کے چند نمونے ملاحظہ کیجیے         ؎

عقدہ نہ آج تک کھلا چشم مست کا

ساغر میں ہے شراب کہ ساغر شراب میں

وامق برائے کیف بدلتا ہوں کروٹیں

کچھ زندگی کا لطف تو ہے اضطراب میں

——

کھویا کھویا ساپاکے ہمیں وہ دل کی باتیں جان گئے

اور ان کا تجاہل دیکھتے ہی ہم ان کی نظر پہچان گئے

 اس وقت وامق کے جو احساسات تھے ان کے متعلق انھوں نے لکھا ہے :

"اس وقت جنگ پورے شباب پر تھی سارے ملک میں بھوک اور بر ہنگی کی آندھیاں چل رہی تھیں۔فرنگی اور امریکی سپاہی سڑکوں اور گلیوں کو روند تے پھر رہے تھے پست متوسط طبقے اور غریبوں کے گھر ویران اور چکلے خانے آباد ہو رہے تھے۔ مذہبی رہنما جنت اور دوسرے جہنم کی بشارت دے دے کر صبر و شکر کی تلقین فر مارہے تھے۔ یہ حال دیکھ کر ایسا محسوس ہونے لگا کہ جس قسم کی روایتی شاعری میں کر رہا ہوں وہ ایک ناقابل معافی اخلاقی جرم ہے۔ یہی وہ وقت بھی تھا جب ملک کے رجعت پسند ادیب ادب برائے زندگی کے مقابلے میں اپنے آخری مورچے سے جنگ کر رہے تھے اس جنگ سے مجھ کو بڑا فائدہ ہوا اور تھوڑے ہی عرصے میں، میں اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ ادب کوزندگی کا آئینہ دار ہونا چاہیے اب میں محض اپنے ذاتی مشاہدات اور محسوسات سے کام لے رہا تھا اور اس طرح میرے صحیح وجدانِ مقصد کے دور کا آغاز ہوا اور جیسے مجھ کو کچھ تسکین بھی ہونے لگی ’جرس‘ اسی دور کی نظموں اور غزلوں کا مجموعہ ہے۔" (جرس از وامق جونپوری ص14)

انسانی ذہن کی تعمیردراصل خارجی اور داخلی اثرات کے زیر اثر ہوتی ہے۔ داخلی اس کی سرشت فطرت و ذہانت ہے جو اسے پیدائشی طور پر قدرت عطا کرتی ہے۔ جبکہ خارجی اثرات انسان کی تربیت کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں اور یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی انسان اپنے خارجی اثرات سے متاثر ہوئے بغیر بچ کر نکل جائے۔اپنے احساسات کی ترجمانی کے لیے وامق کو ایک وسیع میدان کی ضرورت تھی جس کے لیے انھوں نے اپنے جذبات،احساسات کو نظم کے قالب میں ڈھالا۔یہی وجہ رہی کہ دنیائے ادب میں وامق کو نظم نگار کی حیثیت سے ہی جانا جاتا ہے۔لیکن اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ انھوں نے غزل کی زمین کو ترک کر دیا تھا۔ اوائل دو سال کے علاوہ بھی انھوں نے اچھی خاصی غزلیں کہیں جو اپنے فنی حسن کے ساتھ ساتھ جمہوری مزاج سے ہم آہنگ نظر آتی ہیں۔ وامق نے غزل کے محدود دائرے میں بھی عصر حاضر کے تمام مسائل اور اس میں موجود بے اعتدالیوں، پیچیدگیوں و نفسیاتی کشمکش کو نہایت خوبی سے موضوع بنایا۔ملاحظہ کیجیے:

طلسم خواب غفلت توڑ کر بیدار ہوتے ہیں

سنبھل جا تشنۂ دولت کہ ہم بیدار ہوتے ہیں

زمیں لرزاں، زماں لرزاں، نگاہ اہرمن لرزاں

کہ اب تیوری ہمارے انقلاب آثار ہوتے ہیں

دوسری جنگ عظیم اپنے شباب پر تھی اور پوری دنیا اس کے مہلک اثرات سے جوجھ رہی تھی۔ اسی دور میں ہندوستان میں بھی تحریکِ آزادی اپنے پورے شباب پر تھی اور بلاتفریق مذہب و ملّت ہر ہندوستانی اپنی اپنی بساط کے مطابق اس جنگ میں حصہ لے رہا تھا۔ دوسری طرف جنگ آزادی کے متوالوں کو کچلنے کے لیے انگریز سامراج نے اپنی پوری طاقت جھونک دی تھی۔ایسے حالات میں وامق اس طرح نعرہ بلند کرتے ہیں:

ادھر دی جا رہی ہیں رفعتیں دیوار زنداں کو

ادھر آزادیوں کی فکر کامل ہوتی جاتی ہے

ہوائوں کو ادھر ضد ہے کہ اک تنکا نہ رہ جائے

ادھر فکر نشیمن اور محکم ہوتی جاتی ہے

——

ہمارے میکدے کا اب نظام بدلے گا

ہم اپنا ساقی بدل دیں گے جام بدلے گا

ابھی تو چند ہی میکش ہیں باقی سب تشنہ

وہ وقت آگیا جب تشنہ کام بدلے گا

بدلتی رہتی ہیں قدریں رحیل وقت کے ساتھ

زمانہ بدلے گا ہر شے کا نام بدلے گا

یہ عرش و فرش کی تفریق کچھ نہیں وامق

بلند پست کا معیار خام بدلے گا

انتہائی جد وجہد اور کئی جانو ں کی قربانی دے کر ہندوستان نے آزادی تو حاصل کر لی لیکن مذہبی، نسلی اور لسانی عصبیت کی وجہ سے یہاں دو قومی نظریہ پروان چڑھنے لگا۔  جس کے باعث  ملک پہلے دو اور بعد میں تین حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ اس تقسیم میں لاکھوں انسان بے وطن ہوئے اور گھر کے گھر برباد ہوئے۔ خاندان ٹوٹ گئے، احباب بچھڑ گئے۔ گلی، کوچے، سڑکیں اور بازار لہولہان ہو گئے گویا انسانیت زندہ در گور ہو گئی۔ اس کرب کا کھل کر اظہار وامق نے اپنی نظموں میں کیا ہے۔ لیکن غزلیں بھی اس کرب سے خالی نہیں۔ملاحظہ کیجیے          ؎

جبیں پہ خون، جگر خوں، ہاتھ پائوں پر خوں

تمام خوں سے عبارت یہ خواب یاد رہے

ہر اک لہو میں نہیں انقلاب کی تاثیر

ہر اک چمن نہیں شہر گلاب یاد رہے

آزادیِ ملک اور تقسیم ہند نے ہر کسی کو نیا اندازِ فکر اور سوچنے کا نیا نظریہ دیا۔ ملک میں نئے تعلیمی،اقتصادی، سماجی اور فنی تبدیلیوں کا احساس پیدا ہوا۔ ادیبوں، دانشوروں اور شاعروں نے بھی نئی جہت کی تلاش شروع کی۔ اس مرتبہ نعرۂ انقلاب کی جگہ دلِ درد آشنا نے لے لی مگر اعتدال کے ساتھ ادب اور سماج کے رشتوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی۔ اس کا اثر وامق پر بھی پڑا اور انھوں نے فیض، علی سردار جعفری، ساحر، کیفی، سلام، اختر اور مخدوم محی الدین کی طرح نئے اسالیب سے اپنی شاعری کو مزین کیا اور اردو غزل گوئی کو ایک نیا روپ دیا۔درج ذیل اشعار پر غور کیجیے         ؎

وقت آگیا انڈیلیے ساغر میں آفتاب

پھر اپنے جوڑے کھول رہی ہے غموں کی رات

——

وعدہ خلافی کر کے صفائی نہ دیجیے

اس شرط پر ہمیں شب ہجراں قبول ہے

——

عنایات مخصوص رہنے دے ساقی

ہمیں اک نہیں ہیں، یہاں اور بھی ہیں

دنیا میں انسانی زندگی کا جب سے وجود ہوا کشمکشِ حیات اور مسائل حیات سے وہ ہمیشہ ہی دوچار رہی ہے۔ لیکن بیسویں صدی کے ابتدائی دور میں جاگیردارانہ، زمیندارانہ و آمرانہ نظام کا بول بالا تھا جس میں کئی خرابیاں آچکی تھیں۔ اس کے خلاف سماج میں بغاوت کی ہمت نہیں تھی۔ روحانیت مادہ پرستی پر غالب تھی۔ وہیں سماج میں کچھ اچھائیاں بھی موجود تھیں،اخلاقی قدریں زندہ تھیں۔ سماج کا کوئی فرد خود کو تنہا نہیں محسوس کرتا تھا۔ مگر نصف صدی میں یہ ڈھانچہ چر مرا گیا۔ سائنس ،تکنالوجی نے بے پناہ ترقی کر لی، رسل و رسائل ذرائع ابلاغ، تعلیم و صحت کی بے پناہ ترقی کے باوجود بھی سماج منتشر ہو گیا اور اخلاقی قدریں پائمال ہو گئیں۔ مادیت کا بول بالا ہو گیا اور بھرے بازار میں ہر شخص اکیلا ہو کر ذہنی انتشار و خوف کا شکار ہو گیا۔ ان تمام حالات کی عکاسی وامق کے کلام میں بخوبی دیکھی جا سکتی ہے      ؎

موم ہو جاتا تھا جن کے ہاتھ میں آکر پتھر

اپنے ہاتھوں سے ہی خود بن گیا آزر پتھر

نرم لہجے میں کڑی بات بھی لگتی ہے بھلی

نہ ہو خوشیوں کا سہارا تو گل تر پتھر

——

یہ عجب طرح کا دور ہے مگر اپنی رو بھی کچھ اور ہے

میری عمر قابلِ غور ہے میں چلا ہوں جیسے جواں چلے

جو کھلے نشاں تو قدم اٹھے جو لکھے زباں تو قلم چلے

جو چلے قلم تو رکے ستم کہ نظام امن و اماں چلے

سماج اور ادب کے بدلتے ہوئے انداز کا بلاشبہ وامق جونپوری نے خیر مقدم کیا اور اسے پورے اہتمام کے ساتھ اپنے کلام میں برتا۔انھوں نے فن اور زندگی کو الگ الگ خانوں میں نہیں بانٹا اس لیے ان کے کلام میں زندگی اور ادب میں در آئی تبدیلیوں کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ وامق کشمکش حیات سے کبھی ہراساں نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے ایک پر امن، پر عزم اور خوش آئند زندگی کا خواب ہمیشہ ان کی آنکھوں میں رہا۔ زندگی کی ناہمواریوں سے وہ مایوس کبھی نہیں ہوئے کیونکہ انھیں یقین تھا کہ آج نہیں تو کل زمانہ ضرور بدلے گا         ؎

غرض یہ کہ وامق زمانے کی صورت نہیں آج، تو کل بدل کر رہے گی

جو ہونا ہے وہ آج ہی ہو بھی جاتا، یہ دل چاہتا ہے مگر ہوتو کیسے

وامق تقلید کے قائل بالکل نہیں تھے اور نا ہی تقلید جامد کے۔ دوسروں کے افکار و خیالات سے جلد مرعوب نہیں ہوتے تھے بلکہ انھوں نے اپنی راہ خود متعین کی اور اسی پر چلتے رہے۔ ان کے مزاج میںوالہانہ پن، بے خوفی و بیباکی بہت نمایاں ہے۔صاف گوئی ان کی سر شت میں سموئی تھی۔ وامق خود احتسابی کے قائل تھے۔ ملاحظہ کیجیے        ؎

مجھے اس جنوں کی ہے جستجو جو چمن کو بخش دے رنگ و بو

جو نوید وصل بہار ہو مجھے اس نظر کی تلاش ہے

مجھے عشق حسن حیات سے مجھے ربط فکر و نشاط سے

مرا شعر نغمۂ    زندگی مجھے نوحہ گر کی تلاش ہے

 انھوں نے عوامی مسائل، جبر و استداد، جاگیر دارانہ نظام، سرمایہ داری، فرقہ پرستی اور لوٹ کھسوٹ کے خلاف بنا کسی مصلحت سامراج سے ٹکر لی۔ باوجود اس کے کہ وہ خود جاگیرادارنہ نظام کے پروردہ تھے مگر جس طرح انھوں نے خود اس نظام سے بغاوت کر کے اپنی عیش و عشرت سے بھر پور زندگی سے کنارہ کشی اختیار کی اور اپنے عمل، اپنی زبان اور اپنے قلم کے ذریعے نفرت کا اظہار بھی کیا۔ بلا شبہ وامق کے قول و عمل میں یکسانیت کی دلیل تھی۔ انھوں نے اپنے نظریہ فن کی عکاسی اس طرح کی ہے:

"ادب کو انسان دوستی کا روشن مینارہ ہونا چاہیے، قومی یکجہتی، ملکی سالمیت اور آزادی ضمیر کا آئینہ دار ہونا چاہیے اور حسن محبت کا لالہ زار جو ادیب باطل اور قاتل سے نفرت نہیں کر سکتا (خواہ اس کا مرکز اندرونی ہو یا بیرونی) وہ حسن و عشق سے نہ محبت کر سکتا ہے نہ آزادی ملک و قوم اس کی نظر میں کوئی حیثیت رکھتی ہے تو اس کی تخلیقات قابلِ اعتبار نہیں۔" (مقدمہ شب درد، ص 14)

وامق کی غزلوں میں الفاظ کا انتخاب اور اس کا بر محل استعمال ان کے کلام میں اس طرح جان ڈال دیتا ہے کہ اس کے بہت سے معنی اور مہمل الفاظ بھی خوبصورت اور بامعنی ہو جاتے ہیں۔ایسے تجربات انھوں نے اپنے کلام میں بغیر کسی کی پرواہ کیے کیا۔انھیں اپنی متعین راہ پر چلنے پر فخر تھا جس کو انھوں نے بتایا بھی اور برتا بھی۔ شاعری کے نشیب و فراز سے وامق بخوبی وافق تھے۔ اپنے کلام میں انھوں نے جذبات کی ترجمانی اس انداز سے کی کہ سننے والا متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکا۔ انھوں نے چھوٹی بحر میں بھی غزلیں کہی۔ انھوں نے زبان و قلم کو کبھی بسیار گوئی کا ذریعہ نہیں بنایا۔ کم بولنا اور حق گوئی ان کا مسلک تھا اس لیے انھوں نے کبھی مصالحت سے کام نہ لیا۔ ان کے مزاج میں عزت اور خودداری کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ خوشامد پسندی اور چاپلوسی سے سخت نفرت کرتے تھے۔ ملاحظہ کیجیے:

کیا ضروری ہے کہ دیوان پر دیوان لکھوں

ایک شعر ایسا کہو زندۂ جاوید رہو

——

آہن نہیں کہ چاہیے جب موڑ دیجیے

شیشہ ہوں مڑ تو سکتا نہیں توڑ دیجیے

بحیثیت مجموعی ہم کہہ سکتے ہیں کہ وامق کی ابتدائی غزلوں میں انھوں نے بھلے ہی کوئی نیا تجربہ نہ کیا ہو لیکن آزادیِ ملک کے بعد تحریر کردہ غزلوں میں انھوں نے بہت جلد اپنے لیے ایک نئی راہ متعین کر لی اور یہی لہجہ ان کی انفرادیت کا ضامن بنا۔ انھوں نے بھلے ہی پیرایۂ بیان اور طرزِ ادا میں کوئی نیا تجربہ نہ کیا ہو مگر ان کے یہاں غزل، کلاسیکی انداز میں زندگی کی حرارت اور عصری مسائل و حقائق کی تصویر بن کر ابھرتی ہے۔

Dr. Aswad Gowher 
Assistant Professor
MGM University 
Aurangabad- 431001 (MS)
Email.: aswadgowher@gmail.com
Mob:9156469099








 

3/10/22

مصحفی اور اس کا امروہہ پن: رئیس احمد فراہی


مصحفی کی تعلیم وتربیت اور عنفوان شباب تک کا زمانہ اپنے آبائی وطن امروہے میں ہی گزرا۔ پھر رہین ستم ہائے روزگار ہوکر دہلی، لکھنؤ، ٹانڈہ اور دیگر مقامات کی سیر کرنی پڑی۔ دہلی سے انھیں قلبی لگاؤ تھا۔ یہاں کے ادبی اور شعری ماحول سے انھیں گہری انسیت تھی۔ زبان دہلی کو وہ معتبر اور معیاری زبان سمجھتے تھے مگر کلام مصحفی کے مطالعے سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے زبان دہلی کے ساتھ ساتھ قصباتی، دیہاتی، ہندی اور دیگر علاقائی زبانوں اور محاوروں کو بھی اپنے شعری سرمایے میں بے ساختہ کھپایا ہے۔ بلاشبہ بعض جگہ یہ الفاظ اپنی غرابت اور نامانوسی کی وجہ سے گرانی کا باعث بنتے ہیں لیکن اکثر جگہوں پر یہی ہندی اور عوامی زبان کے الفاظ اپنی سلاست و شستگی کی وجہ سے شعر کے حسن کو نکھارتے اور اردو کے دامن کو وسیع کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

مصحفی کی شاعری پر مولانا محمد حسین آزاد کا ایک بڑا اعتراض ان کے کلام میں علاقائی رنگ و آہنگ کا ہونا ہے۔ وہ مصحفی کی مشاقی، ہنرمندی اور استادی کا اعتراف تو کرتے ہیں مگر ان کے نزدیک مصحفی کا ’امروہہ پَن‘ اس قدر قبیح چیز ہے کہ یہ ساری خوبیاں پس پشت چلی جاتی ہیں۔آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:

’’دیوان ان کی استادی کو مسلم الثبوت کرتے ہیں۔ انواع واقسام کی صدہا غزلیں ہیں۔ الفاظ کو پس و پیش اور مضمون کو کم وبیش کرکے اس دروبست کے ساتھ کھپایا ہے کہ جو حق استادی کا ہے ادا ہوگیا ہے، ساتھ اس کے اصل محاورے کو بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔‘‘ مزید لکھتے ہیں:

’’غزلوں میں سب رنگ کے شعر ہوتے تھے کسی طرز خاص کی خصوصیت نہیں۔ بعض صفائی اور برجستگی میں لاجواب ہیں اور بعض میں یہی معمولی باتیں ہیں جنھیں ڈھیلی ڈھیلی بندشوں میں باندھ کر پھسرپھسر برابر کہتے چلے گئے ہیں اس کا سبب یا تو پرگوئی ہے یا دلی اور امروہہ کا فرق ہے۔‘‘

دوسری جگہ انشااور مصحفی کا موازنہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں ـ’’سید انشا ہمیشہ قواعد کے رستے سے ترچھے ہوکر چلتے ہیںمگر وہ ان کا ترچھا پن بھی عجب بانکپن دکھاتا ہے یہ بھی (مصحفی) مطلب کو بہت خوبی اور خوش اسلوبی سے ادا کرتے ہیں مگر کیا کریں کہ وہ امروہہ پن نہیں جاتا۔‘‘

ایک اور جگہ انشا اور مصحفی کی چشمک دکھاتے ہوئے مصحفی کے حوالے سے لکھتے ہیں ’’ وہ پرانا مشاق لکھنؤ بھر کا استاد کوئی چھوٹا آدمی نہ تھا۔ باوجود بڑھاپے کے بگڑ کھڑا ہوا اور یہ غزلیہ فخریہ کہی۔ اب خواہ اسے بڑھاپے کی سستی کہو، خواہ طبیعت کا امروہہ پن کہو، خواہ آئین متانت کی پابندی سمجھو۔‘‘

محمد حسین آزاد نے جگہ جگہ ’امروہہ پن‘ کی پھبتی تو کسی ہے مگر اس امروہہ پن سے ان کی مراد کیا ہے واضح طور پر کہیں اس کا ذکر بھی نہیں کیا ہے۔ جہاں جہاں بھی وہ مصحفی کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہیں ساتھ ہی امروہہ پن کا دم چھلہ لگا کر ان کی شعری خوبیوں کو حسن بے نمک کر دیتے ہیں۔اکثر جگہوں پر وہ جانب داری سے کام لیتے ہوئے عیوب کو بشکل خوبی یا ہنر کے تبدیل کر دیتے ہیں مثلاسید انشا کا قواعد سے روگردانی کرنا اور ترچھے ہوکر چلنا بھی انھیں عجب بانکپن نظر آتا ہے یا یوں ہی استاد ذوق کا چیچک زدہ سانولا چہرہ چمکدار اور بھلا معلوم ہوتاہے۔اس طرح کی جانب داری اور رائے زنی اپنی جگہ درست سہی مگر مصحفی اور ان جیسے دیگر شعرا کی خوبیاں آزاد کے خود ساختہ امروہہ پن جیسے شگوفے میں ہوا ہوکر رہ گئی ہیں جو کہ ا دبی دیانتداری کے منافی ہے۔ آزاد نے مصحفی کے بیان میں مندرجہ ذیل اشعار پر انگشت نمائی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بعض جگہ اپنے وطن کا محاورہ یاد آجاتا ہے اور کہہ دیتے ہیں     ؎

تیغ نے اس کی کلیجہ کھا لیا

اس نے آتے ہی مجھے سنگوا لیا

چمن میں چل کے کر اے مصحفی تو نالہ و آہ

جو جی چلا ہو تیرا امتحان بلبل کو

نہ میں صحرا میں نہ گلشن میں نکل جاؤں گا

خوگر شہر ہوں یاں خاک میں رَل جاؤں گا

ان اشعار میں سنگوانا، جی چلنا اور رل جانا آزاد کو امروہہ کے محاورے معلوم ہوتے ہیں۔اسی لیے ان کو بنیاد بنا کر آزاد نے یہاں بھی اپنا امروہہ پن والا فقرہ چست کر دیا ہے مگر نثار احمد فاروقی نے اپنے مضمون ’مصحفی کی زبان‘ مشمولہ ’ دراسات‘ میں ان الفاظ کو خالص دہلوی شعراکے کلام سے ثابت کیا ہے اور اس پر مدلل و مفصل بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان الفاظ کا امروہہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دیگر شعرا کے علاوہ خود آزاد کے ہمعصر دہلوی شعرا نے بھی ان الفاظ کو اپنے اشعار میں استعمال کیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آزاد کو اس کی خبر نہ ہوئی ہو۔

خیر، یہ اور اس جیسے الفاظ و محاورات عہد مصحفی اور ماقبل مصحفی میں رائج و مروج تھے جو عہد ناسخ میں منسوخ اور ٹکسال باہر ہوئے۔ چنانچہ ان کی بازپرس صرف مصحفی سے کرنا یا ان کو بنیاد بناکر مصحفی کے مرتبے کو گھٹانا کہاں کا علمی اور اخلاقی فریضہ ہے۔ ایمانداری اور دیانتداری کا تقاضا تو یہ ہے کہ علاقائی رنگ و آہنگ والے الفاظ کی سبک روی، اشعار کے دروبست میں ان کے کھپانے کی ہنرمندی، ان کی غرابت کو دور کرکے اپنانے کا عمل اور انھیں داخل زبان کرکے زبان وبیان کو وسعت دینے کی کوششوں کو سراہا اور ان کی لطافت سے محظوظ ہوا جائے،نہ کہ ان کی جاو بیجا تنقیص کی جائے۔

آئیے اب کلام مصحفی میں پائی جانے والی امروہہ کی زبان اور محاورات پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے اور شعری پیکر میں ان کے حسن وقبح اور در وبست پر بھی بات کی جائے تاکہ مصحفی کی فنی مہارت، لفظوں کے برتنے کے سلیقے اور عوامی یا علاقائی زبان کو بے ساختہ کھپا کر اس کی غرابت کو ختم کردینے کی ہنرمندی کا مشاہدہ کیا جا سکے۔ پہلے ہم ان چند الفاظ پر ایک نظر ڈالتے ہیں جو مصحفی نے اپنے کلام میں استعمال کیے ہیں۔

چل بہ چل، بَذّات (بد ذات)، گراں ڈیل، للاہٹ، اُداہٹ، سوندھا، توباہ (توبہ)، سٹکنا، گھرسنا، لپیٹ سپیٹ، ڈلک، چھبک، چونا (ٹپکنا)، بسرنا، نگھرے، نیو، ٹکڑ گدا، پوٹ(پوٹلی)، پُھٹ(دور ہونا)، بھجوانا، منجھیلے(کشمکش)، اپجنا، ورے اور پرے، ٹھٹھولیاں، چھلنا، نلوٹ، جھکجھولے، منتر مارنا، دھرنا، رکھائیاں، پیچ دینا، دیوانہ، ٹل کر رہ جانا، چِتون، مکھڑا، جھمکڑا، سجنا، کوٹھے(چھت)، رندھنا، کھپنا اور چاہیں نکلنا وغیرہ کے علاوہ محاورات وخیالات کی بھی ایک لمبی فہرست ہے جو مصحفی کے دواوین میں جا بہ جا نظر آتی اور اپنی شان وشوکت کی جلوہ گری دکھلاتی ہے۔ کلیات مصحفی جلد چہارم کے دیباچے میں پروفیسر نثار احمد فاروقی رقم طراز ہیں:

"مصحفی کی شاعری کے رموزو علائم میں اور زبان وبیان میں امروہہ پوری طرح جھلک رہا ہے.....مصحفی کا امتیاز یہ ہے کہ وہ امروہے کی زبان اور محاورے کے بہترین نمائندے ہیں۔ عوامی اردو کی مثالیں اتنی بہتات کے ساتھ دوسرے کسی شاعر کے کلام میں نہیں ملتیں۔ ان کی زبان اور علامتوں میں طبقہ متوسط کی قصباتی زندگی اور روزمرہ کی جو تصویر مصحفی کے کلام میں ملتی ہے وہ شاید ہی کہیں اور نظر آئے۔"

آئیے اب اشعار کے حوالے سے مصحفی کے علاقائی رنگ،امروہہ پن اور ان کی خوبیوں کا جائزہ لیتے ہیں     ؎

دیکھ کے رنگ حنا ہاتھ پہ تیرے قاتل

رشک کے مارے لہو پنجہ مژگاں سے چوا

اس شعرمیں مصحفی نے جو خیال باندھا ہے اس کی خوبصورتی سے زیادہ الفاظ کا انتخاب اس شعر کے حسن کی دوشیزگی کا سبب ہے کہ قاتل(محبوب) کے ہاتھ پر رنگ حنا کو دیکھ کر عاشق کا لہورشک کے مارے پنجہ مژگاں سے چو گیا۔ محبوب کو قاتل کہنا ایک طرف پیار محبت کا اظہار اور قربت کا احساس ہے تو دوسری طرف قاتل کا تعلق اپنے اصلی اور حقیقی معنی میں پنجہ مژگاں سے لہو کے چونے سے بھی جڑ جاتا ہے۔ یہاں قاتل، رشک، لہو، حنا، ہاتھ اور پنجہ مژگاں کی رعایت بھی قابل دید ہے۔ان ساری خوبیوں کے علاوہ ایک عوامی لفظ ’ چوا‘ اس پورے شعری پیکر میں چار چاندلگا رہا ہے۔ اگر اس ـ’چوا‘ کی جگہ’گرا‘ لفظ استعمال کریں تو مفہوم ادا ہو جائے گا مگر اس کا صوتی اور پیکری دونوں حسن تباہ ہو جائے گا۔اسی طرح لفظ ٹپکنا چونے کا مترادف تو ہوسکتا ہے مگر اس شعر میں اس کا متبادل نہیں ہوسکتا کیونکہ جو فصاحت و بلاغت اور پیکر چونے میں ہے وہ بھی خصوصا خون کے، وہ گرنے اور ٹپکنے میں ناپید ہے۔ گویا یہ عوامی یا ہندی لفظ اس شعر کی شعریت کو مجروح کرنے کے بجائے اس کے حسن کو دوبالا کر رہا ہے۔ یہاں اس سے بہتر لفظ کا انتخاب ممکن نہیں تھا۔ دوسرا شعر دیکھیے                       ؎

گورے بدن کا عالم اس کے میں رات دیکھا

اک نور کا جھمکڑا  تھا پیراہن  کے   اندر

اس شعر میں پیکر تراشی کا ایک بہترین آرٹ پیش کیا گیا ہے۔ بصری پیکر یا تصویر کا حسن اس بات میں ہے کہ اس میں کچھ ابہام ہو۔ سب کچھ واضح اور عیاں نہ ہو بلکہ حسن خود ہی اپنا پردہ ہوجائے اور پھر وہ تصور کی آنکھ کو وا کرنے کا متقاضی ہو۔ یہاں مصحفی نے ایک ہندی یا عوامی اور متروک الاستعمال لفظ جھمکڑا سے محبوب کے حسن کی جلوہ گری کی ہے کہ اس کے گورے بدن کا عالم اور اس کی کیفیت تو میں نے رات دیکھی کہ وہ سراپا اک نور کا جھمکڑا تھا۔ رات اور نور کے تضاد سے حسن میں اضافہ کیا اور گورے بدن کے عالم سے اک نور کا جھمکڑا تیارکیا ہے جو پیراہن کے اندر جلوہ گر تھا۔ گویا اس تصویری کائنا ت میں نور کا جھمکڑا ہی خاص اہمیت کا حامل ہے جو اپنے اندر ابہام بھی رکھتا ہے اور حسن بھی۔ معنوی وسعت بھی رکھتا ہے اور خوش کن پیکر بھی۔شاید کہ جھمکڑے کی جگہ دوسرا لفظ شعری حسن اور روانی کو برقرار رکھنے میں اتنا موثر کردار ادا نہیں کر سکتا تھا۔ اسی مفہوم، اندازاور روایت کا ایک دوسرا شعر دیکھیے جس میں مصحفی نے تقریبا یہی اسلوب اپنایا ہے۔ تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے کہا کہ اس قبا میں بدن ہے یا کیا ہے مجھے کچھ بھی معلوم نہیں،میں نے تو بس شعلہ سا کچھ جھمکتا ہو ادیکھا ہے۔ آپ بھی دیکھیں     ؎

یہ جانتے نہیں ہم اس میں بدن ہے کیا ہے

شعلہ سا اک جھمکتا زیرقبا ہے دیکھا

اس شعر کا تمام دارومدار اس تشبیہی پیکر پر ہے جس میں زیر قبا شعلے کے مانند جھمکتا ہوا بدن قابل دید ہے۔ جھمکنے میں جلوہ دینے اور حسن کی بہاریں دکھلانے کا جو مفہوم پنہاں ہے وہ چمکنے او ردمکنے میں بہر صورت ادا نہیں ہوسکتا تھا۔ اس لفظ کو میر تقی میر نے بھی استعمال کیا ہے     ؎

اس کے فروغ حسن سے جھمکے ہے سب میں نور

شمع حرم ہو یا کہ دیا سومنات کا

ایک اور شعر دیکھیے      ؎

یوں ہے ڈلک بدن کی اس پیرہن کی تہہ میں

سرخی بدن کی جھلکے جیسے بدن کی تہہ میں

یہاں بھی پیرہن کی تہہ میں یا زیر قبا اس کے بدن کی ڈلک یوں ہے جیسے کہ بدن کی سرخی پیرہن میں نہیں بلکہ بدن کی تہہ میںجھلک رہی ہے۔ یہاں بھی تشبیہی عناصر اور لفظوں کے رعایتی نظام سے مصوری کی گئی ہے۔ اس میں سارے لفظ تو عام ہیں مگر ایک لفظ 'ڈلک'عامیانہ ہے جو بدن کے ترکیبی عناصر کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ لفظ ڈلک سونے اور کندن وغیرہ کی چمک دمک کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مصحفی نے یہاں محبوب کے بدن کے لیے استعمال کیا ہے جو محبوب کی رنگت، نزاکت اور چمک دمک کا بھی احساس دلاتا ہے۔ اس لفظ کا ذکرکرتے ہوئے سید حامد صاحب دیوان مصحفی جلد پنجم کے دیباچے میں لکھتے ہیں’’ ڈلک کا لفظ فریاد کررہا ہے کہ میرے جیسے نامعلوم کتنے حسین پر احساس اور معنی آفریں الفاظ لطافت اور طہارت کے نشے میں اردو شاعری کی زبان سے نکا ل دیے گئے۔

علاقائی رنگ و آہنگ کے چند اشعار اور ملاحظہ فرمائیں     ؎

تو گیا پیارے سفر کو چھوڑ کر میرے تئیں

رفتہ رفتہ میں ترے جی سے بِسر کر رہ گیا

خوبی جواب دینے کی ٹک اس کے دیکھیو

گر میں پکارتا ہوں تو کہتا ہے مجھ کو پھوٹ

ہیں اس گلی میں حسن کے تودے لگے ہوئے

خورشید و ماہ لے کے گئے باندھ باندھ پوٹ

مصحفی یار کے گھر کے آگے

ہم سے کتنے نگھرے بیٹھے ہیں

مندرجہ بالا اشعار میں جی سے بسر کر رہ گیا، پھوٹ، پوٹ اور نگھرے وغیرہ عوامی یا علاقائی بولیوں میں سے ہیں۔ مصحفی نے جن کو اپنے شعروں میں کھپا کر شعروں کو زینت اور لفظوں کوعزت بخشی ہے۔ جی سے بسر کر رہ گیا میں ہجر کی جو کیفیت، کسک اور بے ساختگی ہے وہ شعر کی سادگی کے باوجود اس کے حسن کو بڑھاتی اور کیفیت و تاثر نیز معنی کی پرتوں کو وا کرتی ہے۔

دوسرے شعر میں کہا کہ محبوب کے جواب دینے کی خوبی یہ ہے کہ اس کو پکارو تو کہتا ہے پھو ٹ یعنی پھوٹ لے یا بھاگ لے۔ بالکل ہی عوامی اور علاقائی زبان کا لفظ ہے اور مصحفی نے اس لفظ کے ذریعے محبوب کے جواب دینے کی یہی خوبی بتائی ہے کہ وہ کہتا ہے پھوٹ۔ اس لفظ سے محبوب کی بے تکلفی، اس کا چلبلاپن اور اس کی شوخی ادا کے ساتھ قربت سب کچھ مترشح ہوتا ہے۔ گویا یہ ایک لفظ کے ساتھ ساتھ اس پوری کیفیت کا بھی آئینہ دار ہے۔

تیسرے شعر میں محبوب کی گلی میں حسن کے تودے لگے ہوئے ہیں اور یہیں سے خورشید و ماہ لے کے گئے باندھ باندھ پوٹ۔پوٹ بمعنی پوٹلی یا گٹھری کے ہیں۔ مصحفی نے یہاں صفت مقلوب سے کام لے کے دوسرے مصرعے کے عامیانہ پن سے بات پیدا کی ہے۔ اس کا محبوب اس قدر روشن جبیں اور پرنور ہے کہ اس کے وجود سے اس کی گلی تک منور ہو گئی ہے اور گویا حسن کے تودے لگ گئے ہیں نیز خورشید و ماہ جو خود نور کے منبع ہیں وہ بھی یہیں سے پوٹلی یا گٹھری باندھ باندھ کے لے گئے اور اس سے اپنی روشنی کا سامان پیدا کیا ہے۔ یہاں پوٹ اور خورشید کی رعایت و مناسبت دو وجہوں سے ثابت ہے۔ ایک تو خورشیدوماہ اورپوٹ کی گولائی و مدوری شکل۔ دوسرے خورشید اور ماہ دونوں انسانی ناموں سے متصف ہیں گویا انسان ہیں یعنی حسن کے تودے اور خورشید وماہ دونو ں کو تجسیمی پیکر ادا کرکے انھیں انسانوں کی طرح پوٹ باندھ باندھ کر لے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔خورشید وماہ لے گئے کی بجائے خورشید وماہ ’لے کے‘ گئے باندھ باندھ پوٹ کہا ہے جس سے لہجے کا بھی عامیانہ پن ظاہر ہے۔ اس شعر میں تجسیمی پیکر، بصری پیکر، حسی پیکر اور رعایتی التزام کے علاوہ پوٹ جیسے علاقائی الفاظ نے شعر کے حسن کو چار چاند لگانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

چوتھے شعر میں محبوب کے گھر کے آگے ہم سے کتنے نگھرے بیٹھے ہیں میں ایک لفظ' گھر' سے شعر سازی کی گئی ہے کہ محبوب کے پاس تو گھر ہے اور وہ آرام سے اس میں جلوہ فرما ہے اور یہاں اس کے عشق میں یہ عالم ہے کہ خانہ خراب ہو کر اس کے گھر کے آگے نگھرے( بے گھر) بیٹھے ہیں۔ محبوب کے گھر کے آگے نگھرے بیٹھنے میں بھی دو لطیف اشارے پوشیدہ ہیں۔ ایک تو یہ کہ محبوب کے پاس گھر ہے اور ہمارے پاس گھر نہیں ہے اس لیے اس کے گھر کے سایے میں بیٹھے ہیں کہ کہیں اور ٹھکانہ ہی نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ محبوب کی بدولت ہم خانہ خراب اور نگھرے ہوئے ہیں۔اس لیے ہم انتقاماً اس کے گھر کے آگے بیٹھے ہیں کہ وہ ہمیں اپنے گھر میں جگہ دے یا کم از کم ہماری طرف نگہ التفات کرے۔ اس شعر میں 'نگھرے' ہی ایک کلیدی لفظ ہے۔ا گر اس ایک لفظ کو ہٹا دیا جائے تو شعر میں کچھ بھی باقی نہیں بچتا۔ مصحفی نے گویا ہندی یا عوامی لفظ نگھرے لاکر گھر سے اس کا تعلق اور تضاد بھی قائم کر دیا ہے اور دو ہم صوت الفاظ یکجا ہوجانے کی وجہ سے صوتی سبک روی اور معنوی جہتیں بھی پیدا ہوگئی ہیں گویا یہ لفظ اردو زبان کا نہ ہونے کے باوجود اس طرح سے شعر میں شیر وشکر ہوگیا ہے کہ اس سے شعر کے حسن اور معنوی جہات میں اضافہ ہوا ہے نہ کہ قبح یا گرانی میں۔یہی ایک بڑے شاعر کی فنکاری اور مرصع سازی کا کمال ہے۔

Raees Ahmad Farahi

Room No.: 237, Periyar Hostel, JNU

New Delhi - 110067

Mob.: 8802252580

رسم الخط ہی زبان کی شناخت ہے: سجاد احمد نجار



اردو رسائل میں عموماً ان ادبی مباحث اور مسائل پر زیادہ ارتکاز ہوتا ہے جن سے عوام یا معاشرے کا زیادہ گہرا رشتہ نہیں ہوتا۔ اردو زبان کے تعلق سے جو بھی گفتگو ہوتی ہے ان سے حقیقی صورتِ حال کا ادراک نہیں ہوپاتا۔ زبان کی زمینی صورت حال کیا ہے اس سے آگہی کے لیے ضروری ہے کہ تحریکات و رجحانات کے بجائے ان بنیادی مسائل پر توجہ دی جائے جن کا زبان کے فروغ اور تحفظ سے تعلق ہے۔ عموماً اردو کے حقیقی مسائل سے اجتناب کیا جاتا ہے اور یہ جاننے کی کوشش نہیں کی جاتی کہ کن کن علاقوں میں اردو کی حقیقی صورتِ حال کیا ہے؟

ماہنامہ ’اردو دنیا‘ میں سوال نامے کے ذریعے دراصل اردو زبان کے بنیادی مسائل سے واقفیت حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ یہ اندازہ ہوسکے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں تعلیم، تدریس اور دیگر سطحوں پر اردو زبان کی صورت حال کیا ہے اور وہاں کس طرح کی دشواریاں اور مشکلات پیش آرہی ہیں جب تک اردو زبان کے بنیادی مسائل پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا جائے گا تب تک اردو زبان کے تحفظ اور بقا کے لیے مربوط لائحہ عمل تیار کرنا مشکل ہوگا۔

س  زبانوں کی موت کی وجوہات کیا ہیں؟

ج انسان کے خیالات، جذبات اور احساسات کے اظہار کا سب سے موثر وسیلہ زبان ہے۔ زبان ہی ایک مخصوص قوم کی شناخت کو قائم رکھنے میں معاون ہوتی ہے۔ جس قوم میں زبان کا استعمال ہوتا ہے وہی قوم ترقی کے منازل طے کرتی ہے۔ چین، ترکی، امریکہ اور باقی دوسرے مغربی ممالک اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب کسی علاقے، ملک یا کسی ریاست کے لوگ اپنی مخصوص زبان سے نا آشنا ہوتے ہیں تو وہ زبان اور اس زبان سے منسلک تمام عوامل کی موت اپنے آپ واقع ہو جاتی ہے۔

سزبانوں کو زندہ رکھنے کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے؟

ج جس قوم میں زبان کی حفاظت کے نت نئے اقدامات عمل میں لائے جاتے ہوں،وہ قوم ہر لحاظ سے ترقی کر لیتی ہے۔ اس لیے زبانوں کو زندہ رکھنے کے لیے سب سے پہلے زبانوں کا تحفظ اور اس کی نشر و اشاعت کے سلسلے کو عام کرنا از حد لازمی ہے۔ اس ضمن میں اسکولوں، کالجوں، سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے کام کاج کو اس زبان میں رائج کرناہوگا، جس زبان کو فروغ دینایا حفاظت کرنا ہے۔ اسی طرح اس زبان کے شعری و نثری وسائل کو بھی عام کرنا ہے اور اسی طرح تخلیق کاروں کی مالی مدد کے ساتھ ساتھ نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنابھی لازمی ہے۔

سزبان کا تہذیب و ثقافت سے کیسا رشتہ ہے ؟

جزبان اور تہذیب و ثقافت ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔ زبان ہی کے  بطن سے تہذیب و ثقافت پنپتی اور پروان چڑھتی ہے۔ مثال کے طور پر اردو ہی کو لیجیے۔ اس میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے تمام عناصر کی عکاسی ملتی ہے۔ اس زبان میں یہاں کے تمام مذاہب، کلچر و ثقافت اور باقی دوسرے تہذیبی عناصر کی ہیں۔ گویا زبان ایک ایسا درخت ہے جس کی شاخوں سے تہذیب و ثقافت کے پھل پھوٹتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

  س کیا زبانوں کی موت سے انسانی وراثت کے تحفظ کا مسئلہ بھی جڑا ہوا ہے ؟

جاس بات میں کیا مبالغہ ہو سکتا ہے کہ انسانی وراثت کا سب سے حسین، دیر پا، اور موثر جز زبان ہے۔اگراسی زبان کو خطرہ لاحق ہوا تو اس سے سماج کی تمام تر مضبوط اکائیاں لڑکھڑا جائیں گی۔ زبان کی موت نہ صرف ایک سنگین مسئلہ ہے بلکہ اس سے ایک قوم کا نشان تک باقی نہیں رہ سکتا ہے۔ اس کی مثالیں تاریخِ ادب کی کتابوں میں جگہ جگہ بھری پڑی ہیں۔ ہندوستان جیسے بڑے ملک میں کئی قومیں آباد ہوئیں اور جب ان قوموں نے اپنی مخصوص زبان کو ترک کیا تو اس کے ساتھ ہی وہ زبان ایک مدت کے بعد ناپید ہو گئی۔ اس طرح یہی کہا جا سکتا ہے کہ زبانوں کی موت دراصل انسانی وراثت کی موت ہے۔

س کیا کسی زبان میں خواندگی، سائنسی،سماجی مواد کی کمی سے زبان پر منفی اثرات پڑتے ہیں؟

جسماج میں خواندگی یا سائنسی مواد کی عدم موجودگی سے اگر چہ زبانوں پر کوئی خاص اثرنہیں پڑتا ہے، لیکن ان سماجی محرکات کی وجہ سے ایک تو شرح خواندگی میں اضافہ ہوسکتا ہے جس سے آہستہ آہستہ زبانوں پر بھی اثر پڑے گا کیونکہ ایک حساس قوم ہی زبان کو زندہ رکھنے کی طاقت رکھتی ہے اور اسی کے دم سے تمام علوم معرض وجود میں آتے ہیں۔ ان ہی علوم میں سائنسی علوم کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ سائنسی علوم اگر مادری زبان میں ہوں تو زبان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگی اور اگر مسئلہ اس کے برعکس ہو تو زبان مر تو نہیں سکتی البتہ کمی ضرور واقع ہو سکتی ہے۔

س موجودہ حالات میں اردو زبان کو کس طرح کے خطرات لاحق ہیں؟

ج موجودہ عہد انتشار، بد امنی اور استحصال سے دو چار ہے۔ اس سلسلے میں زبانوں کو جو خطرہ لاحق ہے اس سے آنکھیں چرانا نادانی کے سوا اورکچھ نہیں۔ زبانوں کو مذہب کے ساتھ جوڑا گیا۔ اردو جیسی زبان بھی اس نرغے میں آگئی۔ اسی طرح اردو کا دم بھرنے والا بھی اردو کو اپنی نئی نسل سے آتا ہے، یعنی اردو سے کمانے والا پروفیسر، کلرک، یا اور کوئی شخص اپنی اولاد کو اردو کی بجائے انگریزی زبان و علوم کو سیکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس طرح کے اور بھی کئی نقطے ہیں جن کی وجہ سے اردو کو خطرہ در پیش ہے۔

ساردو کا مستقبل کیا ہے ؟

ج کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ہمتِ مرداں مددِ خدا۔ اس وقت اردو کو جتنے بھی مسائل پیش آ رہے ہیں،ان کو نظر میں رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اردو کا مستقبل کسی نہ کسی طرح تاریکی کی طرف چلا جا رہا ہے۔ اردو پڑھنے والوں کا حلقہ محدود ہوتا جا رہا ہے۔ اسی طرح اس زبان میں اب وہ معیاری ادب نہیں لکھا جا رہا ہے جو ماضی میں ہمارے یہاں لکھا گیا۔ لیکن یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ملک کی کئی ریاستوں میں نئے لکھنے والوں کی تعداد اچھی خاصی ہے۔ اگر ان کی تخلیقات کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی جائے تو یقینا اردو لکھنے، پڑھنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔اب مطالعہ کا شوق مجموعی طور پر معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا نے انسان کی فکر و سوچ کو کہیں سے کہیں دھکیل دیا ہے جس کا اثر زبان و ادب پر پڑا ہے۔

س کیا اردو کے ادارے، تنظیمیں، زبان سے زیادہ ادب پر توجہ دے رہے ہیں اور زبان سے متعلق کتابوں کی اشاعت تقریباً رک سی گئی ہے؟

ج بالکل اردو کی تمام تنظیمیں اور ادارے زبان سے زیادہ اس کے ادب پر توجہ دے رہے ہیں اسی طرح اس زبان کے تعلق سے کتابوں کی اشاعت تھم سی گئی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اب لوگ زیادہ تر اپنے مطلب کے صفحے کو آن لائن پڑھنا ہی پسند کرتے ہیں۔ وہ زمانہ چلا گیا جب ایک اردو داں اپنے گھر میں کتب خانے کے لیے جگہ متعین کر کے اس میں اردو کی کتابیں مزین کرتا تھا۔ یہ منظر آج نئی نسل میں بہت کم نظر آ رہا ہے۔ مادہ پرستی کے اس دور میں اگر کچھ لکھا بھی جا رہا ہے تو اس کے پس پشت خلوص کہیں نظر نہیں آتا۔ صرف پیسوں یا ذاتی مفاد کے لیے کتابیں لکھی جاتی ہیں اور ان کی اشاعت اسی، سو، یا اس سے آگے پیچھے ہوتی ہے۔

سکیا کلاسکیت، جدیدیت وغیرہ پر گفتگو سے زبان کو کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ 

ج کلاسکیت اور جدیدیت وغیرہ ادب کے مباحث ہیں اور زبان کے فروغ میں ان مباحث سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ زبان کو اگر فائدہ پہنچ سکتا ہے تو پھر اس کے لیے الگ طریقہ ہے۔ کلاسکیت نے زبان کا سہارا لے کر اپنا کام کیا اور یہی جدیدیت کا وتیرہ رہا ہے۔ زبان کو ان چیزوں سے کوئی فائدہ ملا یا نہیں ملا اس کا اندازہ لگانا ہمارے لیے نہایت آسان ہے۔ لہٰذا زبان کا دائرہ کار اور اس کا طرز الگ ہے اور ادب کی اصناف کا ڈسکورس الگ ہے۔

س  آپ کے علاقے میں کتنے اردو میڈیم اسکول ہیں اور ان میں اساتذہ کی کتنی تعداد ہے؟

ج میرے لیے یہ سوال نہایت مایوس کن ہے۔ ہمارے علاقے میں جہاں تک اردو میڈیم اسکولوں کی بات ہے تو اس کا جواب نفی میں ہے۔ ہر جگہ سرکاری اور نجی اسکول قائم ہیں لیکن وہاں اردو صرف ایک سبجیکٹ کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔اس کے برعکس باقی تمام کتابیں انگریزی میں ہی پڑھائی جاتی ہیں۔ یہاں (جموں و کشمیر) میں اگر چہ اردو کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے تاہم وہ صرف کاغذوں تک ہی محدود ہے اور عملی طور پر اس کا نفاذ کہیں نظر نہیں آتا ہے۔

س آپ کے علاقے میں کتنی لائبریریاں ہیں اور وہاں کون سے اخبارات اور رسائل آتے ہیں۔

ج ہمارے علاقے میں ایک ڈسٹرکٹ لائبریری ہے اور وہاں مقامی اخبارات( کشمیر عظمیٰ، خیر خواہ، ہند سماچار، الصفا) وغیرہ تواتر کے ساتھ آتے ہیں۔ اگر اس لائبریری میں اردو رسائل کی بات کی جائے تو یہاں بھی مشاہدہ نفی ہی میں ہے۔ اسی طرح ہمارے علاقے میں جتنی بھی کالج لا ئبریاں ہیں ان تمام کی حالت بھی بالکل نا گفتہ بہ ہے۔ الغرض وہاں اردو اخبارات تو پڑھنے کو ملتے ہیں لیکن اردو رسائل کہیں نظر ہی نہیں آتے ہیں۔

سآپ کے علاقے میں کتنی اردو تنظیمیں، ادارے اور انجمنیں ہیں اور وہ کس نہج پر اردو کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہیں ؟

ج ہمارے علاقے میں جتنی بھی اردو انجمنیں قائم ہیں وہ تما م اردو کے فروغ کے سلسلے میں کوشاں نظر آتی ہیں۔ ان انجمنوں سے منسلک ادب دوست حضرات مہینے میں دو یا تین بار ادبی محافل کا انعقاد عمل میں لاتے ہیں اور اسی طرح ان کی کاوشیں مقامی اخبارات میں شائع بھی ہوتی ہیں۔

س آپ کے علاقے میں اردو سے جڑی ہوئی کتنی شخصیات ہیں جن کی خدمات کا اعتراف علاقائی یاقومی سطح پر نہیں کیا گیاہے؟

جپروفیسر نظیر آزاد،پروفیسر جوہر قدوسی، سلیم ساغر، گلزار احمد اور باقی دوسری ادبی شخصیات کو اگر چہ علاقائی سطح پر شہرت حاصل ہے۔ تاہم ان شخصیات کی خدمات کا قومی سطح پر اعتراف نہیں کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ اس کی طرف توجہ دی جائے گی۔

س آپ مقامی سطح پر اردو کے فروغ کے لیے کیا کوششیں کر رہے ہیں ؟

ج میں اردو زبان و ادب کا ادنیٰ سا طالب علم ہوں اور پڑھنے کے ساتھ ساتھ پچھلے بارہ سالوں سے جموں و کشمیر کے کئی اضلاع میں درس و تدریس کے کام سے وابستہ رہا ہوں۔ میری کوشش یہی رہتی ہے کہ طلبہ و طالبات کو اردو زبان و ادب کی طرف مائل کر کے انھیں اس سبجیکٹ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے تیار کروں۔

سآپ کے ذہن میں فروغ اردو کے لیے کیا تجاویز اور مشورے ہیں ؟

ج اردو کے فروغ کے لیے یہی تجاویز اور مشورے ہیں کہ اردو طبقہ اس دور میں اپنے آپ کو باقی علوم کے معاملے میں کمزور نہ سمجھیں۔ خسرو سے لے کر ولی دکنی اور ولی دکنی سے لے کر میر غالب اور مومن اور پھر اس کے بعد ادبی منظر نامے پر ہمیں فخر ہونا چاہیے۔ غیر اردو والے بھی اردو زبان سے محبت کرتے ہیں اور ہمیں چاہیے کہ ہم اس محبت کو عملی طور پر آگے بڑھائیں۔ اپنے بچوں، رشتے داروں اور آس پڑوس کے بچوں کو اردو پڑھنے کے لیے ابھاریں کل یہی بچے اردو کا سرمایہ بن کر سامنے آئیں گے۔

س اردو رسم الخط کی بقا کے لیے کیا کوششیں کی جا سکتی ہیں؟

ج ہر زبان اس کے رسم الخط سے پہچانی جاتی ہے اور رسم الخط ہی زبان کی بقا کے لیے اہم ہے۔ ہمیں رسم الخط کی بقا کے لیے نہ صرف خود اس زبان میں لکھنا ہوگا بلکہ باقی احباب کوبھی اردو لکھنے پر زور دینا چاہیے۔ بچوں کو خوش خط کی مشقیں کرانی چاہیے اور کیلی گرافی کے کورسز بھی عمل میں لانے چاہیے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر بھی اسی زبان کو رائج کرنا چاہیے تاکہ دیکھنے اور پڑھنے والے ان الفاظ کے حسن کو اپنے اندر جذب کر کے ان کو عمل میں لاسکیں۔

س دوسری علاقائی زبانوں میں اردو کے فروغ کی کیا صورتیں ہو سکتی ہیں ؟

ج ہر علاقے کی اپنی اپنی زبان ہوتی ہے۔ ان علاقائی زبانوں کے بعد اگر کوئی زبان بر صغیر میں رائج ہے تو وہ اردو ہی ہے۔ اس لیے ان علاقوں میں اردو کی ترویج کے تما م وسائل بروئے کار لانے چاہیے۔ مشاعرے، بیت بازی، کتابوں کی اشاعت، اخبارات کی اشاعت، اردو میں علاقائی زبان کے ساتھ ساتھ بات چیت کرنا وغیرہ اردو کے فروغ کے لیے سود مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

س کیا آپ کے اہل خانہ اردو زبان لکھنا، پڑھنا اور بولنا جانتے ہیں ؟

ج اس سوال کا جواب یہ ہے کہ آدھے جانتے ہیں اور آدھے نہیں۔ میرے والدنے پانچوں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے تاہم وہ اردو اچھی طرح پڑھتے ہیں اور اس زبان کے علاوہ انھیں اور کوئی زبان آتی ہی نہیں ہے۔ اسی طرح میری اہلیہ بھی اردو پڑھتی اور لکھتی ہے۔ میرے دو بچے ہیں محمد مستقیم اور محمد تمیم۔ محمد تمیم پانچ سال کی عمر کا ہے وہ خاصی اردو بول لیتا ہے۔ اس کو میں میر، غالب اور ناصر وغیرہ کے کئی اشعار ازبر کرائے ہیں۔ محمد تمیم ابھی ایک سال کی عمر کا ہے۔ ان شاء اللہ اسے بھی اردو کا سپاہی بناؤں گا۔

س آپ کے بعد کیا آپ کے گھر میں اردو زندہ رہے گی؟

ج ان شاء اللہ۔ ضرور اورضرور جب میں نے اردو کی بقا کے لیے اپنے آپ کو پیش پیش رکھا تو پھر اپنی اولاد کو کیسے اس عظیم کام کے لیے پیچھے رکھ سکتا ہوں۔

س غیر اردو حلقے میں فروغ اردو کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے؟

ج وہی جو راحت اندوری نے کیا، جو لتا حیا نے کیا،جو بشیربدر وغیرہ نے کیا۔ شعر سننا اور سنانا ہر کسی کو پسند ہے، بس جہاں کہیں غیر اردو کی محفل ہو وہاں موقع و محل کی مناسبت سے شعر و شاعری کی محفل کو گرمائیں ماحول اپنے آپ کا م کرے گا۔

س آپ کے علاقے میں کتنی کالجز یا یونیورسٹیاں ہیں جن میں اردو کی تعلیم دی جاتی ہے اور وہاں اردو پڑھنے والوں کی تعداد کتنی ہے؟

ج ہمارے علاقے میں یونیورسٹی نہیں ہے البتہ یہاں جتنے بھی کالج ہیں ان میں اردو کو ایک مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے اور وہاں اردو طلبہ و طالبات کی تعداد کافی اطمینان بخش ہے۔

س ملکی سطح پر غیر سرکاری تنظیموں سے اردو کی ترویج و اشاعت کے سلسلے میں کس طرح سے مدد لی جا سکتی ہے؟

ج انھیں اردو کی اہمیت اس کی تاریخ اور اس سے جڑی گنگا جمنی تہذیب کے تمام علوم سے آگاہ کرانا ہے اور پھر ان سے اردو کی ترویج کے لیے مدد طلب کرنے کا ہاتھ آگے بڑھانا ہے۔ اگر وہ تنظیمیں مالی مدد کے لیے تیار ہوں گی تو پھر ان سے رشتہ مزید مضبوط کرنے کی ٹھان لینی چاہیے۔

س کیاسینٹرل اسکولوں اور نو ودے و دیالیہ میں اردو کی تعلیم کا کوئی معقول انتظام ہے؟

ج مجموعی طور پراگر دیکھا جائے تو یہ ایک المیہ ہے کہ ایسے اداروں میں ہندی اور انگریزی بڑے چاؤ سے پڑھائی جا رہی ہے مگر اردو کے ساتھ یہ معاملہ نہیں۔ جہاں مسلمان بچے اردو پڑھنا چاہتے ہیں وہاں یہ مضمون ہی نہیں ہے۔ اب اگر کہیں پر اردو پڑھائی بھی جاتی ہے تو اس زبان کو پڑھنے والے بچے بہت کم ہیں۔ جہاں تک ہمارے علاقے کا تعلق ہے تو یہاں چوں کہ اردو کا ماحول قدرے بہتر ہے۔ اس ضمن میں یہاں دو نو ودے ودیالیہ اسکول ہیں اور اسی طرح تین سینٹرل اسکول ہیں، دونوں میں اردو زبان پڑھائی جاتی ہے اور بچے اس زبان میں دلچسپی بھی لے رہے ہیں۔

Sajad Ahmad Najar

Umer Colony Washbug

Pulwama - 192301 (Kashmir)

Cell. No: :9858667464

 

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...