7/10/22

گورو روی داس کے افکار ونظریات کی عصری معنویت: مول راج

دورِ قدیم سے ہی سر زمینِ ہند ایسے صوفی سنتوں کا مسکن رہی ہے جو انسانی تعصبات و تفریقات کو مٹانے کی غرض سے وقتاً فوقتاً دُنیا میں آتے رہے۔ ان کے قلوب تو انوارِ الٰہی سے منور تھے ہی لیکن اُنھوں نے اپنی تعلیمات و ہدایات کے ذریعے ایسے حیات بخش اسباق و نصائح یاد گار چھوڑے جو نہ صرف ہمارے لیے مشعلِ راہ اور مینارِ نور کی حیثیت رکھتے ہیں بلکہ آئندہ بھی رُشد و ہدایت کا وسیلہ بنتے رہیں گے۔وہ خدا کے مقرب بندے مخلوقِ خدا کی نیک تربیت و اصلاح کا فریضہ انجام دیتے ہوئے خود توراہی ملکِ بقا ہوگئے۔ ہاں جاتے جاتے اس کرۂ ارضی پر اپنے علم وعمل کے ایسے لافانی نقوش چھوڑ گئے جو رہتی دُنیا تک خلقِ خدا کو گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر نہ صرف حقیقت و معرفت کے اسرارو رموز سے آشنا کرنے کا فریضہ انجام دیں گے بلکہ ایک بہتر زندگی بسر کرنے کا سلیقہ بھی سکھائیں گے۔

ایسی ہی اعلیٰ صفات کے حامل حضرات میں گوروُ رویداس کا نام بھی خاص محترم اور اہمیت کا حامل ہے۔اُن کا نام بھگتی تحریک کے صوفی شعرا میں ایک نمایاں اور منفرد حیثیت رکھتا ہے۔گوروُ رویداس کی پیدائش 1376 میں موضع سیر گوبردھن پور، ضلع بنارس اتر پردیش کے ایک پسماندہ گھرانے میں ہوئی۔ گورورویداس بچپن سے ہی حد درجہ حساس اور ذہین تھے۔ خدا نے اُن کواعلیٰ ترین صلاحیات و صفات عطا کی تھیں۔اس دنیا میں آنے کے بعد انھوں نے دیکھا کہ ہرانسان پانچ عناصر کا مجسمہ ہے اور ہر ایک کے اندر ایک سا لہو، مانس ہے۔لیکن اس حقیقت کو فراموش کر کے اِنسان نے خود کو الگ الگ فرقوں میں بانٹ لیا ہے۔ سب ایک ہی مٹی کے پتلے ہیں۔  پھر بھی ایک افضل اور دوسرا ہیچ کیسے ہوسکتا ہے۔غور کرنے پر ان کو سماج کے ٹھیکیداروں کا گورکھ دھندا سمجھ آیا کہ انھوں نے اپنے نجی مفاد کی خاطر سماج کے ایک طبقے کو نہ صرف اپنا غلام بنا یا بلکہ اُن سے زندگی کے تمام حقوق چھین کر ان کو اس قدر حاشیے پر دھکیل دیا کہ اُ ن کا جیون جانوروں سے بھی بدتر ہوگیا۔چنانچہ گورو رویداس نے سماج سے سماجی غیر برابری، ذات پات اور بھید بھاؤ جیسی تمام بدعتوں کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے اور حاشیے پر پڑے سماج کو اس دلدل سے نکالنے اور سماجی استحصال سے نجات دلانے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ 

گورو رویداس کی فکر  جب ان کے مشاہدے کے پروں پر سوار ہو کر بیان کی طرف گامزن ہوئی تب ان کا ذہن تلمیحات و تشبیہات کے انتخاب کے لیے کسی دوسری جگہ نہ جاکر ان کے اپنے ماحول ہی میں محدود رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں 'جوتا' جسم انسانی بن کر،  'آر' سحرِ دنیا بن کراور 'رمبی' حرص و ہوس کی علامت بن کر ظاہر ہوتی ہے۔اس دور کے دیگر شعرا نے جن استعارات کو متروک بلکہ مکروہ قرار دے رکھا تھا۔ رویداس نے انھیں کے ذریعے جب اپنے کلام میں تلقین و ہدایت کو نظم کیا تو ہندوستانی بھگتی ادب نے پہلی بار ایک انقلاب سا محسوس کیا۔چونکہ اُن کی تعلیم لوگوں کو سماج میں رائج رسموں، رواجوں اور مذہبی رسومات  میں سے نکال کر مالکِ کل کی باطنی ریاضت کی طرف راغب کرتی تھی۔

گورو رویداس کی کسی انسان، ذات پات، مذہب یا جماعت سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔ددسرے کامل سنتوں کی طرح اُنھیں بھی ذات پات کی تفریقات منظور نہیں تھی، چونکہ یہ اِنسان کے بنائے ہوئے تھے خدا کے نہیں۔مالک نے تو سب کو ایک جیسا بنایا ہے۔بقول سنت کبیر             ؎

اِک جوت سے سب اُتپنا، کون باہمن کون سودا 

اسی امر کو بابا نانک اپنے کلام میں یوں فرماتے ہیں

  اول اللہ نور اُپایا قدرت کے سب بندے

  اک نور سے سب جگ اُپجیا کون بھلے کو مندے

گوروُ رویداس نے بھی کبھی کسی اِنسان کو اس کی ذات کی وجہ سے اعلیٰ یا ادنیٰ نہیں مانا۔اُن کا قول تھا کہ جنم سے کوئی بھی شخص افضل یا ہیچ نہیں ہوتا بلکہ اس کے اعمال ہی اس کو چھوٹا یا بڑا بناتے ہیں۔بقول آپ کے             ؎

رویداس جنم کے کارنے ہوت نہ کوئی نیچ

  نر کو نیچ کر دیت ہے اوچھے کرم کو کیچ

جنم جات مت پوُچھییٔ، کا جات اور پات

رویداس پوُت سب پربھ کے، کوؤ نہیں جات کُجات

رویداس اُپجے سب اِک نور تیں، باہمن مُلا سیخ

سبھ کو کرتا ایک ہے، سبھ کؤں ایک ہی پیکھ

گورورویداس کا فرمان ہے کہ واحد خدا کی اولاد ہونے کے ناطے ہم سبھی اِنسان برابر ہیں۔ ہم اپنے اعمال کے سبب بر تر یا بدتر بنتے ہیں، کسی مخصوص ذات، خاندان یا مذہب میں پیدا ہونے سے نہیں۔ اس آفاقی سچائی کو انھوں نے بڑے ہی صاف الفاظ میں بیان کیا ہے۔

گورو رویداس نے کسی اسکول میں کوئی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔لیکن ان کے نزدیک تعلیم کی بڑی اہمیت تھی۔وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ تعلیم ایک ایسی شے ہے جو صدیوں سے کند ذہنوں کو تیز کرکے اُن کی کایا پلٹ سکتی ہے۔گور رویداس نے چودھویں صدی میں یہ محسوس کر لیا تھا کہ تعلیم کے حصول کے بغیر ہمارا شعور گرد آلود رہ جاتا ہے۔نیز ہماری نجات کا وحد ذریعہ تعلیم ہے اسی کے طُفیل ہم غلامی کی زندگی سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔گوروُ رویداس اپنے کلام میں تعلیم کی اشد ضرورت اور اہمیت و افادیت پر زور دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔            ؎

چل من ہری چٹسال پڑھاؤں

مادھو ابیدھا ہت کین وبیک دیپ ملین

عصر ِحاضر میں ہوا اور پانی کی آلودگی پوری انسانیت کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ بنا ہے، جس سے نجات پانے کے لیے پوری دنیا  طرح طرح کی کوششوں میں مصروف ہے، لیکن ابھی تک اس مسئلے کا کوئی مکمل حل تلاش کرنے میں ہم ناکام ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی کے سبب آئے دن مختلف نوعیت کے جان لیوا امراض سراُٹھا رہے ہیںاور انسانی وجود کے لیے ایک سنگین چیلنج کے طور پر ابھر رہے ہیں، لیکن گورو رویداس نے آج سے سات سو برس قبل بنی نوع انسان کو اس حقیقت سے روشناس کروا دیا تھا کہ ہماری زندگی کی بنیاد ہوا اور پانی پر ہے۔زندگی میں ہوا اور پانی کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں               ؎

جل کی بھیت پون کا تھنبھا رکت بُوند کا گارا

ہاڈ ماس ناڑی کو پنجر پنکھی بسئے بچارا

گویا انسان کا جسم پانی کی دیوار، ہوا کا کھمبا (ستون) اور خون اور ویریہ کے گارا سے بنا ہے۔جو  ہڈی، چمڑے، گوشت و ناڑیوں کا پنجرہ ہے جس میں ہوا اور پانی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ان کے بغیر اس کی حرکت قلب کا چلنا ممکن نہیں۔

گورو رویداس کے کلام کے عمیق مطالعے سے یہ عیاں ہو جاتا ہے کہ آپ بہت بڑے سماجی و سیاسی مفکر تھے اور دور اندیش بھی۔یہی وجہ ہے کہ آپ نے سات سو سال قبل ایک ایسے وطن کا تصور پیش کیا اور ایک ایسے ملک کا خواب دیکھا جو بے غم ہو۔آپ کے عقیدے کی رو سے بے غم پور وہ مقام ہے۔ جہاں کوئی غم یا دکھ نہیں اور نہ کوئی فکر و پریشانی ہے۔یہ ایسا وطن ہے جہاں خوشی اور مسرت کے سوا کچھ نہیں۔جہاں پر کوئی پابندی عائد نہیں۔یہاں ہر کوئی پرسکون اور پر امن زندگی بسر کر سکتا ہے۔بقول آپ کے               ؎

بیگم پورہ شہر کو ناؤ

دُکھ اندہو نہیں تہہ ٹھاؤ

ناں تشویش خراج نہ مال

خوف نہ خطا نہ ترس زوال

قائم دائم سدا پادشاہی

دوم نہ سیم ایک سے آہی

آبادان سدا مشہور

اوہاں گنی بسے مامور 

’بیگم پورہ ‘کی اصل خوبی یہ ہے کہ یہاں کسی قسم کے تعصب اور بھید بھاؤ کو قطعی جگہ نہیں ہو۔یہاں سب برابر ہوں، نہ کوئی لگان دیتا ہواورنہ کوئی لیتا ہو۔یہاں کا حاکم سب کو یکساں دیکھتا ہو۔یہاں ہر کسی کو ایک پر سکون اور بہتر زندگی بسر کرنے کی تمام سہولیات میسر ہوں۔سماج میں بے غم پور کی طرز کے وطن کا ہر کوئی خواہش مند ہے۔ ہمارے دور کا اِنسان بھی اس طرح کے ملک کا متلاشی ہے یہاں کوئی سماجی درجہ بندی اور طبقاتی نظام نہ ہو۔اگر آج کا اِنسان اپنی محدود سوچ کے حصار سے نکل کر گورو رویداس کے کلام کا غائرمطالعہ کرے اور ان کی تعلیم کو عملی طور پر اپنی زندگی کا نصب العین بنا لے تو یقینا وہ ایک ایسے گھر، شہر اور ملک کی تشکیل کر سکتا ہے یہاں کوئی بھی غم نہ ہو۔لیکن یہ بے غم پورے تبھی بن سکتا ہے جب ہم آپس میں امن و ایمان، بھائی چارہ اور قومی اتحاد کو قائم کرکے تمام طرح کے تعصبات کو ترک کر دیں۔

گورو رویداس نے مذہبی اتحاد کے فروغ کے لیے کارہائے نمایاں انجام دیے۔آپ نے انتہائی صدق دلی سے خدائے واحد کے پیغام کو عوام میں پھیلانے اور قومی و مذہبی یکجہتی کو مستحکم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔آپ فرماتے ہیں                ؎          

ہندوں سے کر دوستی مسلمان سے پریت

رویداس پوت سب رام کے سب ہیں اپنے میت

سادھ سنگت مل رہیے مادھو              

جیسے مدھپ مکھیرا

رویداس پیکھیا سودھ کر،آدم سبھی سمان

ہندو مسلمان کو، سرِشٹا اِک بھگوان

ہندُو تُرک منہہ نہیں کچھ بھیدا، دُوئے آئیہہ اِک دوار

پران پِنڈ لو ہہ مانس ایکے، کہہ رویداس بِچار

ہر کوئی جانتا ہے کہ نشہ ایک لعنت ہے جو فرد کی بربادی کا دوسرا نام ہے۔ اس کو ہر مذہب میں حرام قرار دیا گیا ہے۔ "اللہ کے رسول صلی اللہ وسلم نے فرمایا: لعنت ہے شراب پینے والے، پلانے والے، بیچنے والے، کشید کرنے والے اور اس پر مزدوری کرنے والے پر"۔چنان چہ ایسے گھر، گاؤں، شہر اور ملک جو نشے کی لت میں گرفتار ہو جاتے ہیں وہاں کا ماحول ہمیشہ کشیدا ہی رہتا ہے اور آئے دن جھگڑے اور فساد سر اٹھاتے رہتے ہیں۔ وہاں کے عوام اخلاقی گراوٹ کے شکار ہوجاتے ہیں۔گوروُرویداس نے بھی اپنے کلام میں نشے کی پر زور مذمت کی ہے۔اور کسی بھی قسم کی منشیات کے استعمال سے پرہیز کرنے کا درس دیا ہے۔بقول آپ کے          ؎

رویداس مدرا مت پیجیے جو چڑے چڑے اُترائے

نام مہا رس پیجیے جو چڑے نہ اُترائے

سرسری سلل کرت بارنی رے

سنت جن کرت نہیں پانن

آپ فرماتے ہیں کہ شراب چاہے گنگا جل کی بھی کیوں نہ ہو خدا کے بندے اس کا استعمال نہیں کرتے۔وہ شراب کا نشہ کرنے کے بجائے خدا کی عبادت کے نشے کو اہمیت دیتے ہیں کیونکہ شراب کا نشہ چڑھ کر اتر جاتا ہے لیکن عبادت کا نشہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔

گورو رویداس کا دین مساوات، برادری، غمگساری اور ہمدردی کا دین ہے۔ان کی تعلیم کسی ایک فرقے، ذات یا مذہب کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ وہ پوری انسانیت کے مصلح تھے اور سب کی بھلائی و بہتری کے خواہاں                 ؎

ایسا چاہوں راج میں جہاں ملے سبن کو اَن

چھوٹ،بڑؤ سب سم بسے رویداس رہے پرسن

غرض گورورویداس جہاں ایک اعلیٰ صفات عابد اور صوفی سنت ہوئے ہیں وہیں وہ ایک عظیم مصلح و مفکر اور سماج سدھارک کی حیثیت بھی رکھتے تھے۔آپ کی تعلیمات میں انکساری اور خود سپردگی کا جذبہ واضح ملتا ہے۔آپ کے کلام میں گہرائی اور گیرائی ہے۔آپ کے کلام کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ہندی، اُردو، فارسی، گورمُکھی اور ہندوستان کی بیشتر علاقائی زبانوں کا خاصا علم رکھتے تھے۔آپ کے کلام کے چالیس شبد اور ایک شلوک سِکھ دھرم کی مقدس کتاب'شری کوروُ گرنتھ صاحب' میں درج ہیں۔گورو رویداس جیسے عابد، عالم اور مفکر صدیوں بعد اس دھرتی پر آتے ہیں۔بقول ڈاکٹر محمد اقبال                ؎

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

گورو رویداس کے افکار ونظریات کا لب لباب یہ ہے کہ انھوں نے سماجی پاکھنڈ، غلط رسومات اور سماجی و اخلاقی بدعتوں کے خلاف نہ صرف آواز بلند کی بلکہ اُن کا قلع قمع کرنے اور ایک نئے اور ان تمام بدعتوں سے پاک سماج کی تشکیل کا صرف خواب ہی نہیں دیکھا بلکہ اپنی تعلیمات کے ذریعے اس کاطریقہ بھی سُجھایا۔ انھوں نے ایک بہتر سماج کی تشکیل کے لیے فرد کی سیاسی،سماجی و اخلاقی ترقی کے ساتھ ہی ساتھ روحانی ترقی پر بھی زور دیا۔ظاہر ہے آج کے دور میں بھی ان کے افکار و نظریات کی وہی اہمیت و معنویت ہے جو پہلے تھی۔

 Dr. Mool Raj

Assistant Professor, Department of Urdu

Govt. College for Women Udhampur,

U.T. of J&K.

Mob: 9419950551

Email.: prof.moolraj2@gmail.com


6/10/22

کبیر اور ان کے نظریات: محمد منور عالم

 

تیرہویں صدی کی ابتدا میں مسلمانوں کی سلطنت قائم ہونے کے بعد شمالی ہند میں بھکتی کے لیے اور بھی سازگار ماحول پیدا ہوا۔ رامانج کے سلسلے کے مشہور و معروف بھکت رامانند کی بدولت جن کا زمانہ چودہویں صدی کے اواخر سے پندرھویں صدی کے وسط تک کا تھا۔ بھکتی کا مسلک شمالی ہند میں بڑے زور سے پھیلا۔

رامانند کے ہی شاگردوں میں ایک ممتاز شاگرد سنت کبیر بھی ہیں جن کا زمانہ پندرھویں صدی کی ابتدا سے اس صدی کے اواخر یا سولہویں صدی کے آغاز تک کا ہے، جس نے بھکتی کی ایک نئی راہ کھولی،  جس پر ہندوؤں کے ساتھ بہت سے مسلمان بھی چلنے لگے۔ سچ تو یہ ہے کہ معرفت کے اس نئے راگ میں جسے کبیر نے چھیڑا عام ہندوؤں اور مسلمانوں کے جذبا ت سموئے ہوئے ہیں۔ اس میں عاشقانہ ذوق و شوق، سوزو ساز، تسلیم و رضا کے ساتھ ساتھ مصلحانہ بلکہ مجاہدانہ جوش و خروش بھی ہے۔ ایک طرف وہ نغمۂ عشق ہے جو ذات الٰہی کی محبت اور مرشد کی عقیدت سے معمور اور دوسری طرف ظاہری رسوم و روایات سے بغاوت یا فرسودہ افکار و نظریات کے خلاف ایک ابھرتی ہوئی آواز ہے۔  علی سردار جعفری لکھتے ہیں کہ:

"صحیح معنوں میں کبیر کی شخصیت ایسی تھی جس پر ہندوستان کو بجا طور پر ناز ہو سکتا ہے۔کیونکہ وہ متحد کلچر و تہذیب کے نمائندہ تھے۔ کبیر کی شخصیت پر نظر ڈالتے ہیں تو اقبال کا یہ شعر ذہن پر نمودار ہوتا ہے جیسا کہ اقبال نے کہا        ؎

دیکھ اے چشم عدو مجھ کو حقارت سے نہ دیکھ

جس پہ فطرت کو بھی ہے ناز وہ انسان ہوں میں

بہر حال رامانند نے کبیر کو اپنے حلقے میں لے لیا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ کبیر ان کی صحبت میں ایک عرصے تک رہے لیکن بعض یہ رائے رکھتے ہیں کہ ان کی صحبت بہت مختصر تھی اور اس کا ثبوت اس سے بھی ملتا ہے کہ کبیر کے تصورات پر رامانند کے اثرات بہت آہستہ آہستہ دھندلے ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح رامانند سے ملنے سے پہلے کبیر ادھر ادھر گھومتے رہتے تھے اسی طرح ان کی شاگردی اختیار کرلینے کے بعد بھی دوسرے سنیاسیوں اور بھکتوں کے علاوہ مسلم صوفیا کی صحبت میں وقت گزارتے رہے۔ لیکن یہ یقینی بات ہے کہ کبیر کی مذہبی معلومات جو حیرت انگیز حد تک وافر ہیں سوامی رامانند کی گوشٹیوں ( مجلسوں ) کی بھی دین ہیں اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ وہ ان گوشٹیوں میں بھی شریک ہوئے جو مسلم صوفیوں اور ہندو سنتوں کے درمیان ہوتی تھیں۔ اور اسرار و رموز بیان کیے جاتے تھے۔ہندو دھرم کے علاوہ ان کی تصوف اور اسلام سے گہری واقفیت اور رغبت یہ قیاس آرائی کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ ان پڑھ ہونے کے باوجود جس کا خود انھوں نے اعتراف کیا ہے، انھیں اچھی صحبت ملی تھی۔"

(پیغمبران سخن، علی سردار جعفری، ص12-27)

غرض کبیراسلام اور ہندو مت دونوں کی روحانی بنیاد کو ایک سمجھتے ہیں تصورات اور اصطلاحات سے یکساں کام لیتے ہیں۔ ذات پات اور رنگ و نسل سے وہ سخت متنفر ہیں اور انسانوں میں مساوات و برابری کے قائل ہیں۔ انھوں نے اپنی تعلیم کو بھکتی کے دیگر علمبرداروں کی طرح نہ تو کوئی منظّم شکل دی اور نہ ہی قلم بند کیا۔ بلکہ اپنے خیالات و جذبات کو متفرق گیتوں میں ظاہر کیا جو ان کی زندگی میں برابر زبانی گائے جاتے تھے اور آگے چل کر 'وانی' اور 'بیجک' نام کی کتابوں میں جمع کیے گئے۔اس عہد کے بہت سارے ہندو اور مسلمان ان پیرؤں میں داخل ہوئے جو کبیر پنتھی کہلاتے تھے۔ آج بھی ان کی تعداد خاصی ہے جو نہ تو عام ہندوؤں کی طرح مذہبی رسوم و قیود کے پابند ہیں اور نہ ہی مسلمانوں کی طرح صوم و صلاۃ کے۔  ڈاکٹر   تاراچندر اپنی کتاب 'تمدن ہند پر اسلامی اثرات '  میں لکھتے ہیں کہ:

"کبیر کے تعلیمات کے انداز بیان کی صورت گری صوفی اولیا اور صوفیاؤںنے کی ہے۔ ہندی زبان کا انھیں کوئی پیش رو نہ ملا۔ اس لیے وہ جن غولوں کی پیروی کرسکتے تھے وہ مسلمانوں سے ہی مل سکتے تھے۔ مثلاً فرید الدین عطار کا پند نامہ، بابا فرید اور کبیر کی نظموں کے عنوانوں کے تقابل سے امربا وضاحت معلوم ہوتا ہے۔ کبیر نے دوسرے صوفیا کے علاوہ جلال الدین رومی اور شیخ سعدی کا کلام بھی یقینا سنا ہوگاکیونکہ ان کے کلام میں ان صوفی شعرا کی صدائے بازگشت سنائی دیتی ہے۔"

(اردو ترجمہ محمد مسعود احمد، مطبوعی مجلس ادب لاہور)

کبیر کی شاعری کا پیرہن مذہبی ہے۔ جبکہ بھکتی اور تصوف کے امتزاج کادوسرا نمونہ میر اور غالب کی شاعری کا پیرہن غیر مذہبی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کبیر نہ صرف شاعر تھے بلکہ صوفی اور بھکت بھی تھے۔ اور میر و غالب محض ایک شاعر، لیکن اس پیرہن کے باوجود کبیر کا مزاج سیکولر تھا۔  یہی مزاج 'رومی' اور 'نانک' کا بھی ہے۔

کبیر نے اپنی ذات کے لیے زیادہ تر ’جولاہے‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اور کبھی کبھی  ’کوری‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس سے یہ گمان ہوتا ہے کہ کبیر کے عہد کے آس پاس ہی ’کوریوں‘کی ذات کے ایک بڑے حصے نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ ’کوریوں‘ اور ـ’جولاہوں ‘ کی بستیاں جو پنجاب سے بنگال تک کے علاقے میں پھیلی ہوئی ہیں پورے پورے قصبے ان سے آباد ہیں۔ کبیر پنتھیوں نے کبیر کی پیدائش کو ان حسین و جمیل لفطوں میں بیان کیا ہے         ؎

دھن گرجے، دامنی دمکے، بوندیں برسیں، جھر لاگ گئے

لہر تالاب میں کمل کھلے، تہاں بھانو پر گٹا بھئے

(بادل گرج رہے تھے بجلی چمک رہی تھی، بوندیں پڑ رہی تھیں اور مینہ کی جھڑی لگی ہوئی تھی۔ اس طوفان میں جب کبیر سورج کی طرح ظاہر ہوئے تو تالاب میں کمل کے پھول کھلے ہوئے تھے۔)

ممکن ہے اس دوہے کے الفاظ حقیقت کے ترجمان ہوں لیکن اگر استعارے کی زبان سمجھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے جنگوں کی گھن گرج میں قتل و غارت کی بجلیوں میں جہاں خون کی بارش ہورہی تھی کبیرکی پیدائش سے یکایک منظر پر سکون ہوگیا اور آسمان پر سورج نکل آیا اور تالابوں میں کمل کے پھول کھل گئے۔

چونکہ کبیر نے اپنے آپ کو بار بار جولاہا کہا ہے اس لیے یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ انھوںنے اسلام کو ترک نہیں کیا تھا۔ لیکن ان کی سج دھج ہندؤں کی سی تھی ماتھے پر تلک لگاتے اور جنؤں پہنتے تھے اس کے باوجود جرأت اتنی تھی کہ برہمنوں پر طنز کرتے تھے     ؎

تو بھامن میں کاشی جولاہا، بوجھو مور گیا نا

کبیرنے اپنی شاعری میں ہندو تلمیحات و استعارات کا استعمال کیا اور اقبال نے اسلامی روایات سے اپنے تشبیہات و استعارات لیے۔ حالانکہ ان کا فلسفۂ خودی پر اپنشد اور ویدانیت کا اچھا خاصا اثر ہے۔ کبیر نے منصور کی طرح اناالحق نہیں کہا۔ لیکن اناالحق کا سارا جذبہ ان مصرعوں میں موجود ہے

"نرگن آگے سرگن ناچے باجے سوہنگ تورا"

یعنی ذات کے سامنے صفات ناچ رہی ہے اور اناالحق کا راگ بج رہا ہے۔

کبیر کا بنیادی فلسفہ صلح کل ہے وہ لکھتے ہیں کہ         ؎

" کبیرا کھڑا بجار میں سب کی مانگے کھیر

 نا کیہو سے دوستی نا کیہو سے بیر"

دوسری جگہ انھوں نے ذات پات کی نفرتوں پر شدت سے ضرب لگاتے ہوئے لکھا کہ

"ہندو کہو تو میں نہیں مسلمان بھی نا ہی

پانچ تتو کا پوتلا گیبی کھیلے ماہی"

(یعنی میں نہ ہندو ہوں نہ میں مسلمان میںغیب کے کھیل میں پانچ عناصر کا ایک پتلا ہوں۔)

رومی نے اپنی مثنوی میں ایک حکایت بیان کی ہے کہ ایک شخص کو چار مختلف زبانوں کو بولنے والوں نے ایک ایک درہم دیا۔ ایرانی نے کہا اس سے انگور خریدے جائیں، عرب نے کہا نہیں 'عنب' خریدے جائیں، ترک نے ' ازم' کا نام لیا اور چوتھے نے ـ'رستافیل'  کا، اس پر چاروں لڑنے لگے۔ اس وقت اگر کوئی ان چار زبانوں کا جاننے والا موجود ہوتا تو ان بے وقوفوں کو بتاتا کہ سب ایک ہی چیز مانگ رہے ہیں، لڑائی زبان کی ہے۔

اس نقطے کو اس طرح بھی اجاگر کیا جا سکتا ہے کہ "رموز عشق بیاں کن بہ ہر زباں کہ تودانی"۔ عشق زبان و بیاں کا محتاج نہیں، مکان و لامکاں سے پرے تخیل و تصورات کی حد سے آگے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں سے آگے کوئی مقام نہیں۔ یہی فلسفہ ہے جو کم وبیش تمام بڑے لوگوں میں موجزن ہے۔ اور کبیر داس بھی اسی نظریے کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے خیال میں زمین و آسماں کی گردش کسی کو ثابت و سالم چھوڑنے سے قاصر ہے۔ اس لیے وہ لکھتے ہیں کہ         ؎

"چلتی چکی دیکھ کر دیا کبیرا روئے

دو پاٹن کے بیچ میں ثابت بچا نہ کوئے"

گویا کہ یہ ایک چکی ہے جس کا ایک پاٹ زمین اور دوسرا پاٹ آسمان ہے اور اس کے بیچ جتنی چیزیں ہیں کسی کو بقا نہیں۔ اسی نقطے کو قرآن نے کچھ یوں کہا کہ

"کل من علیہا فان"

عام طور سے جو کبیر کے افکار و نظریات کا خاکہ ہمارے ذہن پر مرتب ہوتا ہے وہ یہ کہ کبیر داس یقینی طور پر موحد تھے اور خرافات اور رسوم و قیود سے بیزار تھے یہ اور بات ہے کہ کچھ لوگوں نے ان کے کلام پراعتراضات کیے ہیں اور کچھ ایسے افکارو نظریات تک بندی کی شکل میں کبیر پر مڑھ دیے گئے جس سے وہ بادی النظر میں نہ صرف اسلام بلکہ دیگر فرسودہ مذہب سے بیزاری کا شائبہ دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کے الحاقی کلام میں یہ شعر دیکھا جا سکتا ہے        ؎

کنکر پتھر چون کے مسجد دیو بنائے

تاپڑ چڑھ ملا بانگ دے کیا بہروپیو خدائے

یا پھر          ؎

پاہن پوجن ہری ملے تو میں پوجوں پہاڑ

واسے تو چکی بھلی کوٹ کھائے سنار

اس کا قطعی طور پر یہ مطلب نہیں کہ کبیر داس مذہبیات میں الجھ کر رہ گئے تھے بلکہ ان کے کچھ اشعار اس قدر وسیع و عریض ہیں کہ آج کی شاعری اس پر رشک کناں نظر آتی ہے۔ بلا تخصیص ان کے چند اشعار دیکھے جاسکتے ہیں جو اعلیٰ قدروں کے حامل ہیں اور اس کی روشنی میں برجستہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ   all great man thinks alike،  وہ لکھتے ہیں کہ         ؎   

ایسی وانی بولیے من کا آپا کھوئے

اوروں کو شیتل کرے آپوں شیتل ہوئے

بہ الفاظ دیگر ہماری گفتگو ایسی ہو جس کے اثرات ایسے ہوں جو متکلم اور مخاطب تمام لوگوں کو فرحت کا احساس دلاتا ہو۔ آگے لکھتے ہیں          ؎

 کبیرا پانی راکھئے بن پانی سب سون

 پانی گئے نہ اوبرے موتی مانوس چون

یعنی پانی سے مراد عزت و آبرو ہے جس کا پاس بہر صورت بہر طور پر رکھا جا نا نا گزیر ہے۔ اگر عزت نہیں رہی جسے شاعر نے پانی سے تعبیر کیا ہے تو پھر حالت اس کی بے تاب ہوگی یا بے بس انسان کی یا پھر اس چونے کی کیفیت ہوگی جو بغیر پانی کے دم توڑ دیتا ہے۔

چلتے چلتے ان کا یہ شعر بھی ہمارے ذہن کو اپنی طرف کھینچتا ہے جو اس طرح ہے          ؎

بڑا ہوا تو کیا ہوا جیسے پیڑ کھجور

 پنچھی کو سایا نہیں پھل لاگے اتی دور

ان اشعار کو کبیر داس کی کتاب  'وانی'اور 'بیجک'  میں دیکھا جا سکتا ہے۔

اخیر میں حتمی طور پر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ کبیر داس تمام فرسودہ رسوم و قیود سے بغاوت کرتے نظر آتے ہیں۔



Dr. Md. Monawar Alam
Guest Faculty
Department of Urdu
R.N. College, Pandaul
Madhubani - 847234 ( Bihar)
Mob.: 9934938380, 919852505654

4/10/22

مشہور عمارتیں: قریشی ابوعامر حسن



(1)        ایفل ٹاور کس شہر کی نشاندہی کرتا ہے؟

(2)        سکھر بیراج (سندھ) دنیا کے سات جدید ترین عجائبات میں سے ہے۔ صحیح یا غلط

(3)        کس عمارت کو دنیا کی خوبصورت ترین عمارت کہا جاتا ہے؟

(4)        مجسمہ آزادی کس ملک کے ساحل کی نشاندہی کرتی ہے؟

(5)        نمبر 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ لندن کس کی رہائش گاہ ہے؟

(6)        یوروپ کی سب سے بلند عمارت سوہن پیلس کس شہر میں ہے؟

(7)        امریکی صدر ابراہم لنکن کی یادگار کس شہر میں ہے؟

(8)        لندن میں دنیاکا سب سے بڑا گھنٹہ گھر ہے۔ اس کا نام بتائیے؟

(9)        تاج دار برطانیہ کی سرکاری رہائش گاہ کا نام کیا ہے؟

(10)      بس ہاؤس لندن میں کس بین الاقوامی نوعیت کی عمارت ہے؟

(11)      مغلیہ دور کی مشہور یادگار لال قلعہ ہندوستان کے کس شہر میں ہے؟

(12)      ہندوستان کے کس شہر کو جدید عمارت کا شہر کہا جاتاہے؟

(13)      بادشاہی مسجد لاہور کس مغل بادشاہ نے تعمیر کرائی تھی؟

(14)      مشہور عجائبات میں سے ایک ڈائنا کا مندر کس کی یادمیں بنایا گیا تھا؟

(15)      اپولو کا دیوپیکر مجسمہ جس کا شمار دنیا کے عجائبات میں ہوتا ہے کس طرح برباد ہوا۔

(16)      مشہور عجائبات میں سے ایک اسنفکس کس ملک میں واقع ہے؟

(17)      مشہور عمارت انڈیا گیٹ بھارت کے کس شہر میں ہے؟

(18)      حیدرآباد شہر میں کون سی مشہور عمارت ہے؟

(19)      فتح پور سیکری میں کون سی عمارت مشہور ہے؟

(20)      دنیاکا سب سے بڑا ہوٹل یوکزین ہے۔ یہ بتائیے کہ یہ کتنے فٹ کا ہے؟

(21)      ہٹرن نجم راکٹ کو کس عمارت میں اسمبل کیا گیا؟

(22)      دنیاکی سب سے بڑی دفتری عمارت امریکہ کے کس شہر میں ہے؟

(23)      چلی کے معدنی گاؤں آکن کوئلکا کو کیوں اہمیت حاصل ہے؟

(24)      سفارت خانے کی سب سے بڑی عمارت کس ملک میںہے ؟

(25)      وہائٹ ہاؤس (امریکہ) کا سنگ بنیاد کب اور کس نے رکھا؟

(26)      لکڑی کے بنے دنیا کے قدیم ترین مندر کا نام بتائیے، یہ کس ملک میں ہے؟

(27)      دنیا کا سب سے بڑا قلعہ کس شہر میں ہے؟

(28)      اہرام مصر کتنے رقبے پر تعمیر کیے گئے ہیں؟

 

جوابات

(1)پیرس    (2) صحیح (3) تاج محل  (4)         ریاسہائے متحدہ امریکہ

(5) برطانوی وزیراعظم کی            (6) ماسکو، 92 منزلیں   (7) واشنگٹن ڈی سی  (8) بگ بین

 (9) بنگھم پیلس  (10) ریڈیو اسٹیشن ہے  (11) دہلی (12) چنڈی گڑھ

(13) اورنگ زیب  (14) ایک دیوی کی (15) زلزلے سے (16) مصر

(17) دہلی  (18) چار مینار  (19) بلند دروازہ  (20) 650 فٹ، 34 منزلہ

(21) وہیکل اسمبلی بلڈنگ کیپ کنیڈی  (22) پنٹاگن، آرلنگٹن  (23) دنیا کی سب سے بلند رہائشی عمارات ہیں جو سطح سمندر سے 1750 فٹ بلند ہیں (24) چین کے شہر پیکنگ میں

(25) جارج واشنگٹن نے 1792 میں (26) ہاریوبی نارا، جاپان (27) شام کے شہر حلب میں 10ویں صدی میں تعمیر (28)  13 ایکڑ رقبے پر۔ 

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...