5/4/23

ہندوستانی ثقافت لکھنؤ اور فسانۂ آزاد: ساجد ذکی فہمی


 اردو ادب میں ثقافت کا لفظ زیادہ پرانا نہیں ہے۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں یہ لفظ عربی سے اردو میں منتقل ہوا۔ اس کا بین ثبوت یہ ہے  کہ اردو کی پرانی لغت میں ثقافت کا لفظ موجود نہیں۔ مثلاً نور اللغات، فرہنگ آصفیہ وغیرہ۔ ثقافت سے پہلے جو لفظ اردو ادب میں مستعمل دکھائی دیتا ہے وہ ’تہذیب‘ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ تمام لغت نگاروں نے ثقافت کے ذیل میں تہذیب کا لفظ استعمال کیا ہے۔ مندرجہ بالا لغات کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ دونوں ہم معنی الفاظ ہیں۔ لیکن ان دونوں الفاظ کے ہم معنی ہونے پر بعض حضرات مختلف الرائے ہیں۔ اس مسئلے پر بحث کرنے کے لیے ایک الگ مضمون کی ضرورت درپیش ہوگی۔ لہٰذا اس بحث سے قطع نظر تہذیب اور ثقافت کو ایک ہی زمرے میں رکھ کر اپنی بات آگے بڑھاتا ہوں۔

کلچر یعنی ثقافت کی تعریف کرتے ہوئے ای۔ بی ٹائیلر (Edward Burnett Tylor) نے رقم کیا ہے

’’ثقافت (کلچر) وہ پیچیدہ عنصر ہے جس میں علم، اخلاق، قانون، رسم و رواج اور وہ تمام صلاحیتیں اور عادات وخصائل شامل ہوتے ہیں ، جن کو انسان سماجی حیوان ہونے کی بنا پر حاصل کرتا ہے۔‘‘ 1

اسی ضمن میںمیلنا وسکی تحریر کرتی ہیں

’’ثقافت ایک معاشرتی ورثہ ہے۔ جس میں روایتی طور پر پائی ہوئی ہنر مندی، مواد، مشینی عمل، خیالات، عادات و اطوار اور اقدار شامل ہیں۔‘‘  2

رالف لنٹن تہذیب کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں

’’تہذیب عقائد، جذبات، عادات، اداروں اور علامات کا ایک مجموعہ ہے جو ایک گروپ کے افراد کے کردار اور ان کے ردِ عمل کو متعین کرتا ہے۔ اس پر جغرافیائی اور تاریخی حالات کا نیز معیار زندگی، تعلیم، زبان اور ادب سب کا اثر پڑتا ہے۔‘‘ 3

مندرجہ بالا اقتباسات کے پیش نظر ہم کہہ سکتے ہیں کہ لفظ ثقافت میں بڑی وسعت ہے۔ اس کے ذیل میں علم، اخلاق، قانون، خیالات، رسم و روج، عادات و اطوار، زبان و ادب، فکر و فن، عقائد، جذبات، سیاست، فلسفہ، مذہب وغیرہ تمام چیزیں آجاتی ہیں۔

ثقافت کسی جامد شے کا نام نہیں کہ اس میں تبدیلی ناگزیر ہو۔ کسی قوم، ملت اور قبیلے کی ثقافت جب کسی دوسرے قبیلے، ملت اور قوم پر اثر انداز ہوتی ہے یا ان کے درمیان ربط و ضبط کا عرصہ طویل ہوتا ہے تو دونوں کے اشتراک سے ایک نئی ثقافت جنم لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان جو مختلف مذاہب، رنگوں اور نسلوں کا گہوارہ ہے ثقافتی اعتبار سے نہایت دل چسپ اور دل کش دکھائی دیتا ہے۔ یہاں کے رسم و رواج، طور طریقے، رہن سہن، عقائد و نظریات اور زبان و ادب وغیرہ کو کسی ایک گروہ یا قبیلے کے ساتھ جوڑ کر نہیں دیکھا جاسکتا۔ تاریخ شاہد ہے کہ کسی بھی خطے یا علاقے میں فاتح اور مفتوح قوم کے درمیان تہذیبی، تمدنی، معاشرتی، سیاسی وغیرہ سطح پر رد و قبول کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ مثلاً ہندوستان میں آریائوں سے ماقبل کی ثقافت پر آریائی تہذیب کے اثرات، ہند آریائی تہذیب پر اسلامی تہذیب کے اثرات یا موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب کے اثرات وغیرہ اس کی واضح مثالیں ہیں۔ وقت اور حالات کے پیش نظر ان تمام تہذیبوں کے اثرات ایک دوسرے پر اپنے نقوش ثبت کرتے رہے اور بالآخر ان تہذیبوں کے اختلاط سے ثقافت کے ارتقا کی ایک نئی صورت جلوہ گر ہوئی۔ تہذیبوں کے اسی اختلاط اور امتزاج باہمی نے آگے چل کر ہندوستانی ثقافت کی صورت اختیار کرلی۔

لکھنؤ اسی ہندوستانی ثقافت کا ایک جیتا جاگتا نمونہ تھا۔ فن تعمیر، موسیقی، لباس و زیورات، طرز معاشرت کے ساتھ علم و ادب کے میدان میں بھی لکھنؤ نے گہرے نقوش ثبت کرنے کی کوشش کی۔ دلّی کی تباہی کے بعد وہاں کا تمام تہذیبی سرمایہ آہستہ آہستہ لکھنؤ منتقل ہونا شروع ہوا۔ لیکن لکھنؤ نے ان تمام پر ایسی رنگ آمیزی اور نقاشی کی کہ بہ نسبت دلّی کے وہ  زیادہ لطیف، نفیس اور شاندار دکھائی دینے لگیں۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں تہذیب یا ثقافت کوئی ایسی شے نہیں جسے فوراً وجود بخش دیاجائے، بلکہ یہ ایک ایسا نقش ہے جس کو ابھرنے میں طویل مدت درپیش ہوتی ہے۔ ثقافتی ارتقا کے دوران کئی نقوش بنتے اور بگڑتے رہتے ہیں۔ بالآخر تمام مد و جزر سے گزرنے کے بعد ایک ایسا نقش ابھر کر سامنے آتا ہے جسے زمانہ قبول کرلیتا ہے۔ لیکن لکھنؤ والوں نے دلّی کی تباہی کے بعد دلّی سے الگ ایک نئی تہذیب و ثقافت کی بنیاد ڈالنے کی کوشش شروع کردی۔ ظاہر ہے یہ طریقہ قانون فطرت کے خلاف تھا۔ لہٰذا ظاہری طور پر لکھنوی تہذیب چمک دار اور آنکھوں کو خیرہ کرنے والی تو بن گئی، لیکن بنیاد کمزور ہونے کی وجہ سے وہ دیرپا اثرات کی حامل نہ ہوسکی۔ اس کی مزید وضاحت عبدالحلیم شرر کے اس اقتباس سے بھی ہوتی ہے

’’۔۔۔دہلی کے مقابلے میں ایک نئی متمائز معاشرت اختیار کرنے کی شعوری کوششوں نے زندگی کے ہر شعبے میں ایسی چیزیں پیدا کرنی شروع کیں، جن میں نمود تو بہت تھی، تہہ داری نہیں تھی۔ ‘‘  4

البتہ جہاں تک مذہب کی بات ہے اس نے لکھنوی تہذیب پر گہرے نقوش مرتسم کیے۔ لکھنؤ جب تک دلّی سلطنت کے ماتحت رہا (خواہ برائے نام ہی سہی) اس وقت تک لکھنوی معاشرت میں مذہبیت کا غلبہ اس درجہ حاوی نہیں تھا، حالانکہ اس زمانے میں بھی لکھنؤ کے فرماروایان شیعیت کے قائل تھے۔ لیکن جوں ہی انگریزوں کی شہ پر غازی الدین حیدر نے بادشاہت کا اعلان کیا تو مذہب میں بھی اختراعات کاسلسلہ شروع ہوا۔ خود مختاری کا احساس، حکومت کا زعم، مغلوںسے نجات اور مذہبی جوش نے غازی الدین حیدرسے مذہبی معاملات میں بھی ایسے ایسے کام کروائے جو لکھنؤ سے پہلے عالمی منظر نامے پر کبھی دیکھے نہیں گئے تھے۔زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح مذہبی معاملات میں بھی باطن سے زیادہ ظاہر پر زور صرف کیا گیا۔

بہرحال تغیر و تبدل کا یہ سلسلہ جب زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رہا تھا، تو یہ کیوں کر ممکن تھا کہ زبان و بیان پر اس کے اثرات مرتب نہ ہوتے۔ لہٰذا ’اصلاح زبان‘ کے نام پر ایک تحریک کی شروعات ہوئی، جس میں ناسخ اور شاگردان ناسخ پیش پیش دکھائی دیتے ہیں۔ نثر و نظم دونوں میں لفظوں کی تراش خراش، تشبیہات و استعارات، رمزیات و کنایات، محاورات و ضرب الامثال کے ساتھ نازک خیالی منتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ جو عبارت تھی مقفع و مسجع، جو اشعار تھے رنگینی، معاملہ بندی، رعایت لفظی، فحاشی اور عریانیت کی اعلیٰ مثال۔ غرض کہ ادبا و شعرا نے سادگی اور زندگی کے حقائق کے برعکس رنگینی اور سطحی جذبات کی عکاسی کو اپنا مطمح نظر سمجھ رکھا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب میر صاحب نے دلّی کی تباہی اور معاشی تنگی سے پریشان ہو کر لکھنؤ میں سکونت اختیار کی تو لکھنؤ اپنی تمام تر رنگینی، دل کشی اور دل فریبی کے باوجود ان پر دیرپا اثرات مرتب نہ کرسکا اور بالآخر وہ یہ کہنے پر مجبور ہوئے         ؎

خرابہ دلّی کا وہ چند بہتر لکھنؤ سے تھا

وہیں میں کاش مرجاتا سراسیمہ نہ آتا یاں

برسوں سے لکھنؤ میں اقامت ہے مجھ کو لیک

یاں کے چلن سے رکھتا ہوں عزم سفر ہنوز

آباد اجڑا لکھنؤ چغدوں سے اب ہوا

مشکل ہے اس خرابے میں آدم کی بود و باش

میر اور لکھنؤ کے متعلق محمد حسین آزاد نے بھی آب حیات میں چند واقعات نقل کیے ہیں جن سے میر کی لکھنؤ کے تئیں بے زاری کا اظہار ہوتا ہے۔ 

یہ تمام باتیں اپنی جگہ پر درست ہیں لیکن اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ لکھنؤ؛ اپنی تمام تر خارجیت کے باوجود رثائی ادب میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ فن مرثیہ گوئی کو جس قدر فروغ لکھنؤ میں حاصل ہوا یا جس اعلیٰ پایے کے مرثیہ گو لکھنؤ میں موجود تھے ہندوستان کے کسی دوسرے صوبے یا خطے میں نہیں تھے۔ لکھنؤ میں مرثیہ گوئی کی ترقی کی بنیادی وجہ بادشاہ اور عوام کے دلوں میں مذہبیت کاغلبہ تھا۔ جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا جاچکا ہے کہ مذہب ہی ایک ایسی شے ہے جس کا تعلق ظاہر سے کم باطن سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے اثرات بھی دیرپا ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی لکھنؤاسی ثقافت کے رنگ میں گرچہ پوری طرح نہیں لیکن رنگا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ گفتگو کا سلسلہ دراز تو کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے برعکس گریز کا پہلو اختیار کرتے ہوئے فسانۂ آزاد کی طرف رجوع کرنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔

’فسانۂ آزاد‘ از پنڈت رتن ناتھ سرشار دسمبر 1878 تا دسمبر 1879 تک ’اودھ اخبار‘ میں قسط وار شائع ہوتا رہا۔ بعد ازیں یہ فسانہ منشی نول کشورپریس لکھنؤ سے کتابی صورت میں شائع ہوا۔ میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ مکمل فسانۂ آزاد قسط وار شائع ہوا تھا یا اس کی کون سی جلد کب شائع ہوئی۔البتہ جہاں تک فسانۂ آزاد میں موجود ہندوستانی ثقافت کی بات ہے اس کے متعلق یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ اس فسانے میں لکھنوی ثقافت پورے آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ بعض حضرات یہ اعتراض کرسکتے ہیں کہ فسانۂ آزاد میں سرشار نے لکھنؤ کی زوال آمادہ تہذیب و ثقافت کا نقشہ کھینچا ہے۔ لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اسی زوال آمادہ تہذیب و ثقافت کو دراصل لکھنوی ثقافت کا درجہ حاصل ہے۔ کیوں کہ جو حضرات اس قسم کے اعتراضات کرتے ہیں دراصل ان کی نگاہ مغل دور حکومت پر مرکوز ہوتی ہے۔ لہٰذا جب وہ مغلیہ عینک سے لکھنوی ثقافت کا جائزہ لیتے ہیں تو مایوسی ان کے حصے آتی ہے۔ ان کے دلوں میں نئی ثقافت کے نمو کی خوشی نہیں بلکہ پرانی ثقافت کے منہدم ہونے کا افسوس زیادہ ہوتا ہے۔

’فسانۂ آزاد‘ میں سرشار نے لکھنؤ کا جو نقشہ کھینچا ہے اس میں سماجی، سیاسی، مذہبی، معاشرتی، تعلیمی اور تمدنی غرض کہ ہر شعبے کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ درج ذیل میں ’فسانۂ آزاد‘ سے چند مثالیں پیش کی جارہی ہیں۔

زبان و بیان

دو راہ گیر جو ایک دوسرے سے واقف نہیں اس کے باوجود گفتگو میں بے تکلفی کس درجے کی ہے ملاحظہ کیجیے

مثال نمبر1

نازک بدن میاں جانے والے! او میاں جانے والے! اے ذری ادھر تو دیکھو ! الٰہی ہوا کے گھوڑے پر سوار ہیں۔ میرا کلیجہ بلیوں اچھلتا ہے۔ بھری برسات کے دن اے ہے! کہیں پھسل نہ پڑیں، تو قہقہہ اڑے۔یار لوگوں کو دل لگی ہاتھ آئے۔ ان بے چارے کی کھوپڑی پر جائے۔ حضرت سنبھلے ہوئے۔

جانے والا(ٹھہر کر) ارشاد، آپ اپنا مطلب فرمائیے۔ میرے پھسلنے کی فکر نہ کیجیے۔

نازک بدنگریے گا تومجھ سے ضرور پوچھ لیجیے گا۔

جانے والابہت خوب، ضرور پوچھ لوں گا ، بلکہ آپ کو ساتھ لے کر گروں تو سہی۔ نیچے آپ ہوں، اوپر بندہ انشاء اللہ۔

نازک بدنآپ نے یہ کیسی نیم ٹر قطع بنائی ہے۔ کہیں گڈا میر کی پھبتی آپ ہی پر تو لوگ نہیںکہتے ہیں۔

جانے والاآپ کو یہ زنانوں کی وضع کیسی بھائی۔ یہ چھمی جان آپ ہی تونہیں مشہور ہیں۔

چھمی جان(وہی نازک بدن) خدا کی قسم آپ کے کالے کپڑوں سے میں سمجھا، کہ بنڈیلا کسم کے کھیت سے نکل پڑا۔۔۔

جانے والاقسم حضرت عباسؓ کی میں آپ کو دیکھ کر یہ سمجھا کہ کوئی زنانہ مٹکتا جاتا ہے یا پنجہ کش ساقن مردانہ بھیس میں آتی ہے۔  5

مثال نمبر 2

آزاد    (گھڑی جیب سے نکال کر) آئیں آٹھ پر اکیس منٹ آئے۔ اس خوش گپی نے آج ستم ڈھایا۔ لکچر سننے میں نہ آیا۔ مفت کی بک بک ، جھک جھک۔ لاحول ولا قوۃ۔ واللہ لکچر لائق شنید تھا۔ لعنت بکار شیطان۔

چھمی جاناللہ جانتا ہے۔ اس وقت کلیجے پر سانپ لوٹ رہے ہیں۔ نہ جانے تڑکے تڑکے کس منحوس کا منھ دیکھا ہے، کہ بھیرویں کے مزے ہاتھ سے گئے۔

حبیب لبیب    یہ ضعیف الاعتقادی، بھلا کسی کے منھ دیکھنے سے کیا ہوتا ہے۔ آپ بھی نرے چونچ ہی رہے۔ اتنی دیر تک سمجھایا، سرمغزن کی، مگر واہ رے کتے کی دم، بارہ برس بعد بھی ٹیڑھی ہی نکلی۔ جو کہیں چھ مہینے ہماری جوتیاں سیدھی کرو تو اونٹ سے آدمی بن جائو۔

چھمی جانواہ! بس چلیے چلیے۔ یہ زبانی داخلہ بہت سنا ہے۔ ایسے ہی بڑے صوفی صافی ہو، تو ذرا ساتھ چلے چلونہ‘ بغلیں کیوں جھانکتے ہو۔  6

مذہبی عکاسی

نوابین اودھ نے جب بادشاہت اختیار کی تو شیعیت کو بڑا فروغ حاصل ہوا۔ نئے نئے رسوم ایجاد ہونے لگے۔ امام باڑے اور مزارات وغیرہ پر عقیدت مندوں کا ہجوم امڈا چلا آتا تھا۔ ’فسانۂ آزاد‘ میں سرشار نے لکھنؤ کے ان مناظر کی عکاسی نہایت دلچسپ انداز سے کی ہے۔ مثلاً شاہ مینا صاحب کی مزار  کا ایک منظر یوں بیان کرتے ہیں

مثال نمبر1     ’’۔۔۔ شاہ مینا صاحبؒ کی درگاہ سب میں انتخاب زیارت گاہ خاص و عام ہے۔ اللہ اکبر گرد مزار کہیں نوجوانوں کی وہ دھوم دھام ہے کہ جس طرف دیکھیے اژدہام عام ہے۔ غٹ کے غٹ، جوق کے جوق چلے جاتے ہیں۔ غول کے غول امڈے آتے ہیں۔ وہ بھیڑ بھڑکا، وہ دھکم دھکا ، وہ ریل پیل وہ شور و شر کہ الامان ! الحذر! ایک دوسرے کو ریلتا ہے، دوسرا تیسرے کو ڈھکیلتا ہے، ڈولیوں پر ڈولیاں اور فنس پر فنس چلی آتی ہیں۔ مہ جبینان ماہرو، تماشہ بینوں کے بدولت گلچھرے اڑاتی ہیں۔۔۔۔ دوسری جانب قوال حقانی غزلیں گاتے صوفیوں کو وجد میں لاتے ہیں۔ کسی اہل دل کو حال آیا۔ کوئی آنکھوں میں آنسو بھر لایا۔ ہو حق کا نعرہ بلند ہے۔ سرور و غنا کا لطف دو چند ہے۔ ایک سمت ساقنوں کا گرم بازار، دکانیں دھواں دھار، چلم پر چلم بھری جاتی ہے۔ دم پر دم پڑتے ہیں۔ ناتواں نوجوان نشہ کے زور میں عجیب لوچ سے اکڑتے ہیں۔‘‘  7

مثال نمبر2’’۔۔۔ گھر گھر شیون و شن، گھر گھر بکا و بین، گریہ و زاری، اشک باری، جم غفیر، مجمع کثیر، ۔۔۔ مجالس عزا کی دھوم دھام ہے۔ لکھنؤ کا محرم الحرام ہے۔ لکھنؤ کی سوز خوانی، لکھنؤ کی خوش بیانی، لکھنؤ کی عزاداری، لکھنؤ کی سوگواری، از شام تا روم، مشہور ۔۔۔ ہے۔ تعزیہ خانوں میں دھوم، امام باڑوں میں ہجوم ہے اور ان سب میں حسین آباد مبارک کا بدر فی النجوم ہے۔‘‘ 8

طرز معاشرت

مثال نمبر1

حسن آرا جو بنیادی طور پر لکھنؤ میں پلی بڑھی اور ایک مہذب خاندان سے تعلق رکھتی ہے، آزاد کے ساتھ نکاح کی خواہش مند ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آزاد کے کسی رشتے دار کا پتہ نہ خاندان والوں کا۔ لہٰذا حسن آرا، آزاد کو درج ذیل باتوں کی پابندی کرنے کا مشورہ دیتی ہے تاکہ وہ لکھنوی معاشرت کا حصہ معلوم ہو اور کسی غیر کو حرف گیری کا موقع نہ ملے۔

1       پندرھویں دن آپ کے یہاں مشاعرہ ہو، تاکہ اس صحبت سے آپ کا نام ہو اور لوگ آپ کو جانیں کہ آپ کوئی ہیں۔

2       کوئی عمدہ اور خوشنما بنگلہ یا کوئی کوٹھی کرایے پر لیجیے مگر سرراہ اور اس کو نفاست سے آراستہ کیجیے تاکہ لوگ سمجھیں کہ خوش سلیقہ آدمی ہے اور روٹیوں کو محتاج نہیں۔

3       شریف زادوں ، رئیس زادوں اور علما و فضلا کے سوائے اور کسی ایسے ویسے سے صحبت نہ گرمائیے۔ شہدوں، اوباشوں اور بدمعاشوں کو نہ آنے دیجیے۔

4       نماز جمعہ پڑھنے کے لیے ہر بار مسجد جایا کیجیے جس سے مسلمان یہ نہ کہیں کہ پابند صوم  وصلواۃ نہیں ہے۔ لامذہب آدمی کو کوئی اچھا نہیں سمجھتا۔ خیالات چاہے جو ہوں ، لیکن دنیا پرستی اور ظاہر پرستی بھی کسی قدر ضروری ہے۔

5       ایک سواری رکھیے اور صبح شام ہوا کھانے جایا کیجیے۔

6       اماں جان سے کبھی کبھی ملا کیجیے۔ اگر ان باتوں کو آپ پسند کریں اور میرا کہا مانیں تو مجھے شادی کرنے میں اصلاً عذر نہیں۔‘‘  9

مثال نمبر2’’عدالت کے قریب ۔۔۔ وہ چہل پہل کا میلا لگا ہوا ہے۔ خوانچے والے پکار رہے ہیں۔ گلاب، ریوڑیاں، دہی بڑے مصالحے کے، مٹر ٹٹر ایک طرف، ساقی چلمیں بھر بھر کر مشکبور دھواں دھار پلا رہا ہے۔ سامنے ککڑ والا مداریے حقے جمائے ایک ایک کے دو دو کر رہا ہے۔ کوئی دُکڑی پر سے اترا اور دن سے کمرے میں داخل۔ کسی نے بگھی روکی اور غڑاپ گواہ گھر میں موجود۔ ۔۔۔ کوئی سبزہ بیگانہ کو اپنا مسکن بنائے بیٹھا چبینا چبا رہا ہے۔ گواہ سر بجیب تفکر یوں جھوٹ بولیں گے، یوں بات بنائیں گے۔ وکیل ہم سے کڑے کڑے سوال کرے گا تو ہم کہہ دیں گے کہ ہمیں یاد نہیں۔ ہم نہیں جانتے۔‘‘  10

اس کی طرح کی سیکڑوں مثالیں ’فسانۂ آزاد‘ سے پیش کی جاسکتی ہیں جو لکھنوی تہذیب و ثقافت کی عکاسی کرتی ہیں۔ درج بالا یا اس جیسے دیگر اقتباسات جو ’فسانۂ آزاد‘ میں مذکور ہیں، سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اٹھارہویں یا انیسویں صدی عیسوی میں لکھنؤ ی تہذیب و ثقافت کا رنگ یا اس کا معیار کیسا تھا؟ درج ذیل میں ایک لطیفہ جو ’فسانۂ آزاد‘ میں مذکور ہے نقل کیا جاتا ہے۔ اس لطیفے میں دراصل لکھنوی ثقافت کی گہری جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں

’’۔۔۔ ایک صاحب نے اپنے غلام کو، کہ صاحب طبع لطیف، بذلہ سنج تھا۔ حکم دیاجاکر بازار میں تاک لگائے۔ اگر انگور ہاتھ آئے تو فوراً خرید لائے۔ غلام نے ۔۔۔ کئی خوشے خریدے اور مٹر گشتی کرتے ہوئے خراماں خراماں آقا کے پاس لے گیا۔ وہ نہایت بددماغ ہوئے۔ فرمایا کہ ذرا سا کام اور یہ تاخیر اتنی دیر میں تو میں لندن ہو آتا۔ ایسا کاہل دیکھا نہ سنا۔ خبردار آج سے اگر ایک کام کو بھیجوں تو ہاتھوں ہاتھ چار کام انجام دے لانا۔ غلام نے دست بستہ عرض کیا کہ پیرو مرشد! اس مرتبہ معاف فرمائیں۔۔۔ دوسرے دن خواجہ کسی زبان دراز، اور گستاخ ، کنیزکے عشوہ پرواز پر ایسے گرمائے کہ تَپ چڑھ آئی۔ غلام کو حکم دیا کہ کسی طبیب لبیب کو بلائو۔ وہ فوراً گیا اور طبیب کے علاوہ اور چند آدمیوں کو بھی ساتھ لایا۔ خواجہ نے پوچھا کہ یہ جماعت کیسی ہے۔۔۔ غلام نے بصد ادب عرض کی کہ خداوند! حضور تو بھول بھول جاتے ہیں۔ ابھی تو کل ہی تاکید اِکید کی تھی کہ اگر ایک کام کا ارشاد کروں تو کئی کام بعجلت تمام سر انجام دے لانا۔ الامرفوق الادب۔۔۔۔ حکیم جی کو حسب الحکم بلا لایا کہ تشخیص مرض کر کے معالجہ کریں اور اُدھر ہی سے لپکا ہوا گیا ، مطرب خوش الحان کو ساتھ لایا کہ اگر خدا وند عروس صحت سے ہم آغوش ہوں تو قول کی خوش آوازی اور ناخن بازی، سے بزم طرب آراستہ ہو۔ غسّال کو بھی لیتا آیا کہ زندگی کا کیا بھروسہ، اگر پیک اجل حضور کو خلد علیین کی سیر دکھائے تو غسّال جھٹ پٹ غسل دے دے۔ اُدھر سے ایک شاعر جادو بیان اور طلیق اللسان کو ہمراہ لیا کہ مرثیہ موزوں کرے۔ اب باقی کون رہا۔ گورکن۔ وہ بھی بات کی بات میں آن موجود ہوگا۔ مطمئن رہیے۔‘‘  11

مقالے کی طوالت کے باعث رہن سہن، فنون لطیفہ، شادی بیاہ وغیرہ کے اقتباسات نہیں پیش کیے جاسکے، لیکن ’فسانۂ آزاد‘ کے مطالعے کے بعد بلاجھجھک یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس میں لکھنوی ثقافت اپنی تمام جلوہ سامانیوں کے ساتھ موجود ہے۔ مثال کے طور پر بامحاورہ بات چیت، وضع قطع، لباس، عقیدہ، ضعیف الاعتقادی، محرم، چہلم، میلے ٹھیلے کے مناظر، چوک، بازار، مشاعرہ، سواری، مکانات، راگ و رنگ کی مجلسیں وغیرہ۔ آخر میں یہی کہوں گا کہ اگر قارئین لکھنوی ثقافت کا نقشہ دیکھنا چاہتے ہوں یا اسے سمجھنا چاہتے ہوں بلکہ ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اسے محسوس کرنا چاہتے ہوں تو انھیں ’فسانۂ آزاد‘ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

حواشی

  •        بحوالہ ہندی ادب کے بھگتی کال پر مسلم ثقافت کے اثرات، ڈاکٹر سید اسد علی، مترجم ڈاکٹر ماجدہ اسد، ترقی اردو بیورو، نئی دہلی، 1991، ص20
  •        ایضاً، ص 21
  •        ہندوستانی تہذیب اور اردو ، شبنم سبحانی ، سرسید بک ڈپو، علی گڑھ، 1972، ص 11
  •        ہندوستان میں مشرقی تمدن کا آخری نمونہ یعنی گذشتہ لکھنؤ، عبدالحلیم شرر، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ، نئی دہلی، 2011، ص 13
  •        فسانۂ آزاد، پنڈت رتن ناتھ سرشار، جلد اول، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی، 2002، ص 14
  •        ایضاً، ص 24     7       ایضاً، ص81-82
  •        ایضاً، ص66      9       ایضاً، ص 507-508
  •      ایضاً، ص 775  11     ایضاً، ص 36-37

Dr. Sajid Zaki Fahmi

Guest Faculty, Dept of Urdu

Jamia Millia Islamia

New Delhi - 110025

Mob.: 8527007231

پنڈت رام نریس ترپاٹھی اور اردو: نیاز سلطان پوری


 پنڈت رام نریش ترپاٹھی (پ  4 مارچ 1889،   و 16 جنوری 1962) کاشمار’دویدی یگ‘کے ممتاز شعرا میں ہوتاہے۔ آپ ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ آپ بیک وقت بلند پایہ شاعر، مستند ادیب، سماجی کارکن مجاہدِ آزادی تھے، حصولِ آزادی کے لیے آپ نے قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں، برٹش حکومت نے 18 ماہ قید سخت اورسوروپے جرمانے کی سزاسنائی۔ علاوہ ازیں آپ نے اپنی پرشکوہ نظموں کے ذریعے ابنائے وطن کے دلوں میں حب الوطنی  کا جذبہ اورآزادی کی تڑپ پیدا کی۔ منشی پریم چند کی طرح آپ نے بھی اپنا ادبی سفر اردو کے ذریعے شروع کیالیکن جلد ہی ان کو احساس ہوگیاکہ ہم عصر شعرا وادبا کے آگے ان کا چراغ نہ جل سکے گا، غالباً اسی لیے آپ نے ہندی زبان کو اپنے احساسات و جذبات کے اظہار کامؤثر وسیلہ بنایااورجلد ہی دنیائے ادب ہندی میں ایک نمایاں مقام حاصل کرلیا۔ یہ وہ زمانہ تھاجب ہندوستان کی تحریکِ آزادی کے ساتھ ساتھ ہندی تحریک بھی ابنائے وطن کو اپنی جانب متوجہ کررہی تھی اورحصولِ آزادی کے ساتھ ساتھ ہندی زبان کوقومی زبان بنانے کی تحریک شباب پر تھی۔ انھوں نے کھڑی بولی میں نثر ونظم کے اعلیٰ نمونے پیش کرکے ہندی کویوں اور لیکھکوں کے لیے مشعلِ راہ کاکام کیااوربرج بھاشاکی جگہ کھڑی بولی کو ہندی ادب کے راج سنگھاسن پر بٹھانے میںکلیدی کردار  اداکیا۔

پنڈت رام نریش ترپاٹھی کاجنم4 مارچ1889 کو  موضع کوئری پورضلع جون پور موجودہ سلطان پورمیں ایک غریب برہمن خاندان میں ہوا۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسے میں حاصل کی، پہلے اردو پھر ہندی کی طرف راغب ہوئے،سن شعور تک پہنچتے پہنچتے ان کے دل میں حب الوطنی اورخدمتِ خلق کا جذبہ کوہِ آتش فشاں کالاوہ بن کر پھوٹ پڑا۔ وہ گاندھی جی سے ازحد متاثر ہوئے اوردیگر ابنائے وطن کی طرح تحریکِ آزادی میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔ نتیجتاً  1922میں سرکارِ انگلشیہ نے انھیں گرفتا رکرکے آگرہ میں داخل ِ زندا ںکیا۔ جہاں بقول پروفیسر محمود الٰہی ’’آگرہ جیل صرف پولیٹکل قیدیوں کے لیے خالی کردیاگیا۔ چنانچہ اس وقت تقریباً تین سو پچاس سیاسی قیدی اس جیل میں موجود ہیں۔ اس زندانی مجمع میں جہاں بہت سے وکیل، بیرسٹر، ایڈیٹر، پروفیسر اور ڈاکٹر اوردرجنوں ایم اے، اوربی اے ہیں وہیں ہندی اردو شعرا کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔ یہ تمام اسیرانِ زندانِ فرنگ مختلف مشاغل میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں۔ چنانچہ منجملہ اور مشغلوں کے ایک ہفتہ وار مشاعرہ بھی ان لوگوں کے پروگرام میں داخل ہے اورپہلا مشاعرہ 20 جنوری 22کو بعد نماز جمعہ( جیل خانے میں باقاعدہ نماز ہوتی ہے اور ہندو پوجا کرتے ہیں) شروع ہوا۔ میرِ مشاعرہ مولاناعارف ہنسوی کو منتخب کیاگیا،مصرع طرح یہ تھا         ؎

ہے یہ وہ درد جو شرمندۂ احساں نہ ہوا1

       حسرت موہانی

اس مشاعرے میں تقریباً دوسو آدمی شریک تھے جن میں مسٹر مہادیودیسائی، پرائیویٹ سکریٹری مہاتما گاندھی، مسٹر جارج جوزف ایڈیٹر انڈی پنڈنٹ الٰہ آباد، سوامی سچیتا نند، بابو ہرنام سنگھ بی اے، پنڈت گووند مالوی فرزند پنڈت مدن موہن مالوی الٰہ آباد، مسٹر گنپت سہائے  سلطان پوربطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں۔ اس زندانی مشاعرے میں ایسی غزلیں پڑھی گئیں جو موجودہ تحریک کے سلسلے میں قومی جوشِ عمل اورحب الوطنی کے جذبات سے مالامال تھیں،مسٹر عبدالمجید خواجہ کاشعر بہت پسند کیاگیااوربار بار پڑھوایا گیا،بابو رگھو پتی سہائے کی پوری غزل بہت پسند کی گئی اوراہلِ سخن نے خوب داددی، مسٹر مہابیر تیاگی  نے بے ساختہ دادطلب کی، سید محمد شاہدکے دو شعر پسند کیے گئے  مولاناخجندی کی پوری غزل قادرالکلامی کی مظہر تھی، حافظ عثمان کا شعرپسند کیاگیا،حفیظ الرحمٰن صاحب کی پوری غزل بہت توجہ اورشوق سے سنی گئی،پنڈت رام نریش ترپاٹھی نے ایک شعرپڑھاجو حسبِ ذیل ہے

اس نے سمجھاہی نہیں حبّ ِ وطن کیاشے ہے

جیل میںآکے جو سرکار کامہماں نہ ہوا2

پنڈت جی مہاتماگاندھی سے از حد متاثر تھے،ان کی فکر پر گاندھی جی کے اثرات مرتب ہوئے۔ وہ ہندی کے مقتدر کوی ولیکھک (ادیب) بھی تھے اس کے ساتھ ہی ساتھ انھیں ارد وزبان وادب سے بھی والہانہ عشق تھا۔ 1918 انھیں ہندی ساہتیہ سمّیلن ممبئی کے اجلاس میں پرچار منتری (سکریٹری نشر واشاعت ) منتخب کیا گیا اور جنوبی ہندوستان میں ہندی کی اشاعت کاکام سونپاگیا،اس وقت سبھا کے صدر گاندھی جی تھے، ترپاٹھی جی اردو کوایک الگ زبان نہیں مانتے تھے بلکہ ہندی اورارد وکوایک ہی زبان تسلیم کرتے تھے،چنانچہ لکھتے ہیں  

ہندی سے میراابھپرائے (مقصود) پرانی ہندی سے نہیں ہے بلکہ اس کھڑی بولی سے ہے جس کاسانچہ وہی ہے جو ارد وکاہے۔‘‘3

انھوں نے ہندی زبان میں کویتاکَومۡدی حصہ چہارم، اردو شاعری کی تاریخ سپردِ قلم کی جو ادبی حلقوں میں قدرکی نگاہ سے دیکھی گئی،وہ اردو کو مسلمانی ہندی کے نام سے موسوم کرتے تھے۔چنانچہ ایک جگہ رقم طراز ہیں

خسرو اورکبیر کی کویتاکے اداہرنوں(مثالوں) کے رہتے ہوئے آب حیات کے فاضل مصنف مرحوم پروفیسر آزاد کایہ لکھنا کہ ہماری اردو زبان برج بھاشاسے نکلی ہے،صحیح نہیں ہے،اردو کبھی کسی بھاشا سے نکلی ہی نہیں، ہندی ہی کانام اۡردو رکھ لیاگیاہے۔اس کا نام ارد ونہ رکھ کرمسلمانی ہندی رکھاجاتاتوادھک سارتھک (زیادہ بامعنی ) ہوتا۔‘‘4

جب ہماری ہندی کاویاکرن (قواعد) ایک ہے، دونوں کاسانچہ ایک ہے تب اردو الگ سوتنتر(آزاد) بھاشا (زبان) کیسے کہلاسکتی ہے؟ ہندی اوراردو میں صرف اتنا انتر (فرق) ہے کہ ہندی دیوناگری لپی (رسم الخط) میں لکھی جاتی ہے اوراس میں سنسکرت کے شبد (الفاظ) ادھک (زیادہ ) رہتے ہیں اوراردو فارسی لپی میں لکھی جاتی ہے اور اس میں عربی فارسی کے شبدوں کی ادھکتا (کثرت )رہتی ہے۔ گجراتی بھاشاکے بھی دو روپ ہیں ایک پارسیوں کی گجراتی اوردوسراناگری برہمنوں کی گجراتی۔ پارسیوں کی گجراتی میں عربی فارسی کے شبد ادھک رہتے ہیں اور ناگری برہمنوں کی گجراتی میں سنسکرت کے تتسم اورتدبھوشبد۔ پر دونوں روپوں کانام ایک ہے۔ یہی ہندی میں بھی ہوناچاہیے۔ پر  در بھاگیہ سے اردو ایک الگ زبان قراردی گئی ہے۔ہندو مسلمانوں کے جھگڑے کاوہ بھی ایک کارن(وجہ) بنادی گئی ہے۔ ہندی توسروانگ پورن (سراپا،مکمل) اس دن ہوگی جس دن غالب، ذوق، حالی، داغ، اکبر اوراقبال کو بھی وہ اپناکوی کہنے   لگے گی۔    5

متذکرہ بالاشعرا میں حالی، داغ اور اکبر کاکلام ناگری حرو ف میں منتقل کیا جاسکتا ہے، لیکن غالب، ذوق اور اقبال کے فارسی آمیز کلام کو ناگری حروف کاجامہ پہنانے کے بعد کیا ہندی کے عام قاری صحیح طورپرا س کی قرأت کرپائیں گے؟ کسی بھی زبان کے رسم الخط سے اس کی شناخت ہوتی ہے، کیاجسم سے کھال اترجانے کے بعد آدمی کی شناخت قائم رہ سکے گی؟ اگر پنڈت جی کے مشورے کومان لیاجائے تواردو ادب کے ایک بڑے حصّے کو قلم زد کرنا پڑے گااوراردو ادب کی بھرپور نمائندگی نہ ہوپائے گی۔ ذرا غالب کا یہ شعر ملاحظہ فرمائیے         ؎

کاو کاوِسخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ

صبح کرنا شام کالاناہے جوئے شیر کا

یادوسرا شعر          ؎

آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے

مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریرکا

یاڈاکٹر سر محمد اقبال کایہ شعر          ؎

آں کلیمِ بے تجلی آں مسیحِ بے صلیب

نیست پیغمبر ولیکن در بغل دارد کتاب

بجاکہ بول چال کی سطح پرہندی اوراردو زبان میں کوئی فرق نہیں لیکن ادبی سطح پر دونوں زبانوں میںکافی فرق ہے۔ ارد وزبان کارسم الخط تبدیل کرنے سے اردوزبان کاوجود خطرے میں پڑجائے گااوراس کاسرمایہ اچھی طرح سے محفوظ نہ رہ سکے گا۔

جیساکہ متذکرہ بالاسطور میںکہاجاچکاہے کہ ترپاٹھی جی ہندی کے پرجوش حامی اورہندی ادب کی قدآور شخصیت تھے، انھوں نے تقریباًہر صنفِ اد ب میں ہندی زبان وادب کے قابلِ قدر نمونے پیش کیے ہیں۔ بقول اودھ بیراگی ہندی ساہتیہ کی سبھی ودھاؤں میں انھوں نے نہ کیول لکھابلکہ ابھنو پریوگ ( نت نئے تجربے ) بھی کیا ہے۔ ان کے بتائے نردیشوں (ہدایات) پر چل کرانیک کویوں،لیکھکوں نے ہندی ساہتیہ کو وِپۡل سمپدا(بڑی دولت) سے بھرپورکیا۔    6

علاوہ ازیں پنڈت جی اچھے محقق اورتنقید نگاربھی تھے،ان کی ادبی و تنقید ی بصیرت کا عالم قائل تھا۔ انھوں نے اپنی تحقیقی کتاب ’تلسی داس اوران کی کویتا ‘ کے ذریعے گوسوامی تلسی داس کی جائے ولادت کاتعین بھی کیا۔عام طور پر تلسی داس کی جائے پیدائش کو لے کر علمائے ادب میں اختلاف پایاجاتاہے۔ ایک گروہ ان کی جائے پیدائش باندہ ضلع کے راجہ پور نامی گاؤں کومانتاہے، دوسرا گروہ گونڈہ ضلع کے کسی مقام پر اور تیسراگروہ ایٹہ ضلع کا سوکر کا علاقہ تلسی داس کی جائے پیدائش قراردیتاہے۔ ترپاٹھی جی نے تلسی داس کی جنم بھومی سوروں (ایٹہ) کو بدلائل ثابت کیاہے اوربطور ثبوت تلسی داس کا مندرجہ ذیل دوہا پیش کیاہے         ؎

کھیلت اودھ کھوری،گولی بھونراچک ڈوری

لفظ چک ڈور کے بار ے میں ان کاکہناہے کہ برج اوراس کے قرب و جوار کے اضلاع میںبھونرااورچک ڈورکھیلنے کارواج بہت ہے۔اجودھیا،بنارس یاراجہ پور میں یہ کھیل نہیں کھیلاجاتاجبکہ سوروں (ایٹہ) میں اس کابڑارواج ہے۔ ترپاٹھی جی کامانناہے کہ تلسی داس کاجنم ایسے مقام پر ہواتھاجہاں بھونرا اورچک ڈوری کھیلنے کابہت رواج تھا۔ رام چرت مانس اورتلسی داس کے بارے میں جتنی رائیں اب تک موصول ہوئی ہیں ان میں کوی ور رام نریش ترپاٹھی کانظریہ ابھی نوہے۔   7

پنڈت جی نے تقریباً سارے ہندوستان کا دَورہ کرکے لوک گیتوں کو جمع کیا۔ ان لوک گیتوں کو اکٹھا کرنے میں اۡنھیں کافی محنت اوردقتوں کاسامنا کرناپڑا۔ کھیتوں میں چھپ کر اورمکانوں کی دیواروں کے پیچھے بیٹھ کر شادی بیاہ اورخوشی کے تہواروغیرہ کی تقریبات میں گائے جانے والے لوک گیتوں کوقلم بند کرتے تھے۔اس طرح انھوں نے لوک ادب کے معتد بہ حصے کو برباد ہونے سے بچالیا۔ اگر پنڈت جی نے کچھ بھی نہ لکھاہوتا تواۡن کایہی کارنامہ ان کے نام کوزندہ رکھنے کے لیے کافی تھا۔

ترپاٹھی جی نے ہندوستان کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سیر وسیاحت کی ہے اس لیے ان کے کلام میں فطرت کا جوروپ ملتاہے وہ بڑا ہی ہمہ گیرو متنوع ہے، بھارتیندوکے عہد سے حبُّ الوطنی کاجوجذبہ چلا آتاہے اسے ذات پات کے بجائے وطن کی پہنائیوں میں عام کرنا ترپاٹھی جی کاکام تھا، ان کے لیے وطن کا لفظ پوری وسعت اورہمہ گیری کے ساتھ آتاہے۔8

ترپاٹھی جی نے کویتاکومدی حصہ چہارم ص 229 میں  اردو شاعری کی عہد بہ عہد تاریخ بزبانِ ہندی رقم کی ہے جسے ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھاگیا۔ اس کتاب کی تیاری میں جن کتابوں سے استفادہ کیاگیاہے ان کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں

1       اردو ساہتیہ کااتہاس، دوحصے، مصنفہ ڈاکٹررام بابو سکسینہ، ناشر ہندوستانی اکادمی الٰہ آباد۔

2       شعر و شاعری وشعر وسخن آدی۔ مصنفہ شری ایودھیا پرشاد گولیہ، ناشر بھارتیہ گیان پیٹھ، کاشی۔

3       اردو شاعری، مصنفہ شری نارائن پرشاد جین، ناشر ہندی گرنتھ رتناکر کاریالیہ،بمبئی۔

4       اردو کے کوی اور ان کا کاویہ، لیکھک پنڈت گرجادت شکل گریش ناشر پستک بھنڈار،بنارس

5       اردو کاویہ کی ایک نئی دھارا،  لیکھک اوپیندر ناتھ اشک، ناشر ہندوستانی اکادمی الٰہ آباد

علاوہ بریں انھوں نے تاریخ ادبِ اردو کے متعلق متعدد کتابوں کامطالعہ بھی کیا لیکن وہ مولانامحمد حسین آزاد کی آبِ حیات سے زیادہ متاثر ہوئے۔

ترپاٹھی جی نے ہندی زبان میں اردو شاعری کی تاریخ سپردِ قلم کرکے ہندی ادب کے پریمیوں کے روبرو پیش کیا۔ اس طرح بلاواسطہ طور پر انھوں نے اردو شاعری سے ہندی کے عام قارئین کو روشناس کرایا۔ پنڈت جی اردو عہدمیں پیدا ہوئے، اردوکی انگلی پکڑ کر انھوں نے ادب کی خدمت کرناسیکھالیکن اپنی زندگی کے آخری ایام میں خود کو انھوں نے ہندی زبان وادب کی ترویج و اشاعت کے لیے وقف کردیا۔ شاید ان کی دوربیں نگاہوں نے آزادی کے بعد اردوکے تاریک مستقبل کو دیکھ لیاتھا، اسی لیے انھوں نے اردو سے منھ موڑ کراپنی ساری توانائی ہندی ادب کی تخلیق میں صرف کردی  اور کئی قابلِ ذکر تخلیقات ان کے رشحاتِ قلم کا نتیجہ ہیں جن میں ملن پتھک، سوپن،جیسی مایۂ ناز شعری تخلیقات شامل ہیں، علاوہ ازیں انھوں نے فکشن، تنقید و تحقیق، بچوں کا ادب، سوانح، فلکیات اورلو ک ادب کواپنی توجہ کا مرکز بنایا اورکئی شاہکار تخلیقات کے ذریعے ہندی ادب کے سرمایے میں قابلِ قدراضافہ کیا۔ راقم الحروف کی دانست میں دنیائے ادب میں ان کاہمسرکوئی دوسرانظر نہیں آتا۔ اگر ترپاٹھی جی نے کویتا کومدی حصہ چہارم کو اردو زبان کا جامہ پہنایا ہوتا تو اس کتاب کی بھی اردو حلقوں میںخوب خوب پذیرائی ہوئی ہوتی، مگر ترپاٹھی جی ہندی کے اتنے پرجوش حامی تھے کہ رفتہ رفتہ اردو زبان کی تصنیف و تالیف سے دست کش ہوگئے۔

ا س کتاب میں ترپاٹھی جی نے اردو شاعری کو پانچ ادوار میں تقسیم کیاہے۔ پہلے دَور کے مخصوص شعرا ولی، آرزو، ناجی، یک رنگ، حاتمِ، آبرو، اورفغاں، دوسرے دَور کے خاص شعرا جانِ جاناں، سودا، سوز، درد، اور میر ہیں۔  اس دَور میں بہت سے قدیم الفاظ نکال دیے گئے اور بہت سے نئے بھرتی کرلیے گئے۔تیسرے دَورکے مخصوص شعرا جرأت، حسن، انشا، مومن، ذوق، غالب، امیر، انیس، دبیر، داغ اورآسی ہیں۔ اس عہد میں زبان پہلے کی بہ نسبت زیادہ آراستہ ہوگئی ہے۔ پانچویں دَور کے شعرا میں حالی، اکبر، اقبال اورچکبست وغیرہ شامل ہیں۔ اس عہد کی زبان پہلے کی بہ نسبت زیادہ معنی خیز اوربامحاورہ ہوگئی ہے۔

اس کتاب میں چار مختلف اصنافِ سخن کو متعارف کرایا ہے جن میں غزل، قصیدہ، مثنوی، مرثیہ،رباعی، مثلث، مخمس، مسدس وغیرہ بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں۔ علاوہ ازیں اس کتاب میں ساٹھ اردو شعرا کامختصر تعارف اور ان کے فکر و فن پر پرمغز تبصرہ اورمنتخب اشعار پیش کیے گئے ہیں جن میں شاہ عالم، نواب آصف الدولہ آصف، نواب وزیر علی خاں وزیر،بہادر شاہ ظفر، نواب واجد علی شا ہ اختر، امیر خسرو، ولی، آبرو، آرزو، حاتم، مجنوں، جانِ جاناں، میاں چرکیں، جعفر زٹلی، میر، درد، سوز، میرحسن، انشا ، جرأت،مصحفی،نظیر، ناسخ، آتش، ذوق، غالب، مومن، انیس، دبیر، نسیم، امیر مینائی، داغ، آسی، شیفتہ وغیرہ شامل ہیں۔

شاہ عالم کا تعارف ان الفاظ میں کیاگیاہے

شاہ عالم دلّی کے بادشاہ تھے،رات دن آپس کی لڑائی جھگڑے اور سلطنت چھن جانے کے ڈر سے پریشان رہتے تھے۔ 1733میں ایک روہیلہ نے دیوانِ خاص میں چھاتی پر چڑھ کر آپ کی آنکھیں نکال لی تھیں، آپ نے ساراجیون (زندگی) تکلیف میں کاٹا۔شاعری کاشوق آپ کو بھی تھا، آفتاب تخلص تھا، آپ فرماتے ہیں        ؎

صبح تو جام سے گزرتی ہے

شب دل آرام سے گزرتی ہے

عاقبت کی خبر خدا جانے

اب تو آرام سے گزرتی ہے

کویتا کومدی     9

نواب واجد علی شاہ کاتعارف ان الفاظ میں کرایاہے

نواب واجد علی شاہ لکھنؤکے آخری نواب تھے۔ 1847 میں بیس برس کی عمر میں گدّی پر بیٹھے۔ان کادربار رنڈیوں، بھانڈوں بھڑؤوں، مسخروں، گویّوں اور شاعروں سے بھرا رہتا تھا، انگریزوں نے انھیں 31جنوری 1856کو قید کرکے کلکتے بھیج دیا۔یہ شاعری بھی کرتے تھے۔  اخترتخلص تھا، 40 کے قریب ا ن کے دیوان ہیں۔

لکھنؤ سے جاتے جاتے یہ آہ نکلی تھی            ؎

در و دیوار پہ حسرت سے نظر کرتے ہیں

خوش رہو اہلِ وطن ہم تو سفر کرتے ہیں 

نہیں چاہیے قصرِ فردوس زاہد

مجھے ہے فقط کوئے جاناں سے مطلب 10

اردو شاعری کاہندؤں پر بھی غیر معمولی اثرپڑا۔اس ضمن میں ترپاٹھی لکھتے ہیں

اردوشاعری کاہندوؤں پر بھی ایسا پربھاؤ(اثر) پڑاکہ شاعروں میں اکرام پانے کے لیے وہ بھی چتا کو چھوڑ کر قبرمیںجانے لگے اوراپنے چاروں دھام چھوڑکر کعبہ کو سجدہ کرنے لگے۔ نسیم  ہندوشاعرتھے،وہ کہتے ہیں          ؎

بتوںکو چھوڑ کرکون جائے

یہیں سے کعبے کو سجدہ ہمارا

چکبست کشمیری برہمن تھے وہ بھی چِتا کو بھول کر قبرکو یاد کرتے تھے         ؎

جس پہ احباب بہت روئے فقط اتنا تھا

گھر کو ویران کیا، قبر کو آباد کیا   

ہندو شاعر وایشورتک کو بھول گئے اورخدا اوراللہ کو رٹنے لگے۔ چکبست کہتے ہیں          ؎

مجھ سے روشن اِن دنوں دیر و حرم کانام ہے

پائے بۡت پر ہے جبیں، لب پر خداکانام ہے

اِن ہی کاایک شعر اور          ؎

پڑھی نماز تو اُجڑے گھروں کے صحرامیں

اگر نہائے تو اپنی لہو کی گنگامی ں

بسمل الٰہ آبادی بھی ہندوشاعر ہیں، وہ فرماتے ہیں         ؎

دیر میںپڑھتے ہیں پانچوں وقت کی بسمل نماز

ایسا ہندو دیکھیے، ایسامسلماں دیکھیے11

ترپاٹھی جی نے مرثیے کی معنویت پر بھرپورروشنی ڈالی ہے۔مرثیے کاتعارف وہ اِن الفاظ میں کراتے ہیں

مرثیہ شوک گیت کو کہتے ہیں پرایا سبھی مرثیوں میں حسن حسین کاشوک پرد برتانت کہاگیاہے۔لکھنؤ میں انیس اوردبیرکے مرثیے بہت پرسِدھ ہیں۔ مرثیے کی بنیاد پہلے پہل دکنی ہندی میں پڑی پر لکھنؤ آکر وہ سرو رنگ پورن ہوا۔

ایک جگہ حالی اور اکبر کے کلام پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں

نظیر، انیس اور دبیرکے بعدحالی اوراکبر یہی دو شاعر ایسے ہوئے ہیں جنھوں نے شاعری میںنئے موڑ لیے، حالی نے تو عاشقانہ شاعری کے وِرودھ ایک نیاہی راستہ نکالا اور ان کی منزل بھی وہی ختم کرگئے۔ حالی اوراکبر عشقیہ شاعری کو جھک جھوڑ کر جگادیا۔   12

رگھوپتی سہائے فرا ق گورکھپوری کے فکر و فن کاجائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں

فراق صاحب آزاد خیال انسان ہیں، عہدِ شباب میں ملک کی پکار پر انھوں نے بہت بڑا ایثار پیش کیا،گورنر نے آئی سی ایس میں ان کو نامزد کردیاتھاپر انھوں نے اس کی پروا نہ کی اورمہاتماگاندھی کے سہیوگ اندولن میں انھوں نے بڑے ساہس سے بھاگ لیا، اور1921میں جیل چلے گئے۔ جیل میں اس پستک کالیکھک ان کے ساتھ تھا۔ جیل سے نکلنے کے بعدیہ کرشچین کالج لکھنؤ میں ادھیاپک نیوکت ہوئے، اس کے بعدالٰہ آباد یونیورسٹی میں آگئے۔ فراق بڑے زندہ دل شاعر ہیں، ان کی شاعری میں امیر مینائی،حسرت، اصغراوراقبال کی شاعری کا لطف آتاہے۔ یدّپ حسن اورعشق کادامن انھوں نے نہیں چھوڑا پر نئے نئے بھارتیہ وِشے بھی بہت لیے اوراۡن پرچبھتے ہوئے وِچار بھی باندھے۔

یہاں فراق کی شاعری کے کچھ نمونے دیے جاتے ہیں          ؎

تجھے دنیا کو سمجھنے کی ہوس ہے، اے کاش

تجھے دنیا کو بدل دینے کاعرفاں ہوتا

نہ سمجھنے کی ہیں باتیں نہ یہ سمجھانے کی

زندگی اجڑی ہوئی نیند ہے دیوانے کی13

ترپاٹھی جی اگرچہ ہندی کے پرجوش حامی تھے لیکن انھوں نے اردو کی خوبیوں کابرملا اظہار بھی کیاہے۔ایک جگہ لکھتے ہیں

اردو کے کوی محاوروں میں ہی باتیں کہتے ہیں۔ محاوروں کو لے کراردو شاعروں میں کافی بحث پیڑھیوں تک چلتی رہی،جھگڑے ہوئے، کتابیں لکھی گئیں،کھوج کھوج کر محاورے جمع کیے گئے... وہ استعمال میں لائے گئے اوراردوکی شاعری کی بھاشا (زبان)محاوروں سے جگمگا  اٹھی۔ اردوکے شاعرسماج کے اندرہی رہے،انھوں نے سماج کو وہی باتیں دیں جن کو ان کے سَمَے کا سماج چاہتا تھا۔ ہندی کویوں نے انترکش (خلا) کواپنا ابھیسار استھان بنالیاجو کسی کودکھائی نہیں پڑتااورنہ جہاں تک کسی شروتا(سامع) کی پہنچ ہی ہوتی ہے،یہی کار ن ہے کہ اردو شاعروں کے جتنے شعر لوگوں کی زبان پر ہیں ان کاشتانک (عشر عشیر) بھی ہندی کویوں کی پنکتیاں (مصرعے) کسی کو یاد نہیں۔   14

ترقی پسند تحریک کے زیر اثر ہندوستانی زبانوں کے شعرا اورادبا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے تھے، انھوں نے باہم ایک دوسرے سے اثر قبول کیا۔ترپاٹھی جی ہندی کویوں کو پرخلوص مشورہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں

شاعروںکاجھکاؤ اب ہندی کی اور ہورہا ہے، ہندی کویوں کوبھی آگے بڑھ کر انھیں گلے لگاناچاہیے تاکہ دونوں ایک دوسرے سے لابھ اٹھاسکیں۔‘‘15

اردو نثر کے ارتقاپر اظہارخیال کرتے ہوئے ترپاٹھی جی کہتے ہیں 

شروع شروع میں مسلمانوں میں اردو شاعری کی لوک پریتابڑھی جس کاادگم استھان (جائے ولادت) دکھّن تھا۔ اسی طرح اردو گدیہ کی شروعات بھی پہلے پہل دکھنی ہندی ہی سے ہوئی،یدّپ ان ہی دنوں اتر بھارت میں بھی اردو گدّیہ کاوِکاس ہونے لگا تھا۔ اردو گدّیہ کو سب سے بڑا سہارا فورٹ ولیم کالج کلکتہ سے ملا۔ ایسٹ انڈیاکمپنی کے کرمچاریوں کوشاسن کے کام میں سوِدھا  لانے کے لیے دیسی بھاشاؤں کاجاننا بہت ضروری سمجھ کر 1803 میں اۡوکت کالج کاایک وبھاگ (شعبہ) کھولا گیا  تھاجس کے سنیوجک گلکرسٹ صاحب تھے جوسوئم کئی بھاشاؤں کے اچھے جانکار تھے۔اس محکمے کے دواراڈاکٹر گلکرسٹ کی دیکھ ریکھ میں جو پرسدھ ہندوستانی لیکھک داں نیوکت ہوگئے تھے ان میں سے کچھ کے نام یہ ہیں

میرامن، افسوس، حسینی، لطف، حیدری، جوان،  للولال جی، نہال چند، اکرام علی وِلا، سید محمد منیر، شیر علی افسوس اورمداری لال گجراتی، صدل مصر، اتیادی (وغیرہ)    16

اگر ترپاٹھی جی نے کویتاکومدی کو فارسی رسم الخط میں منتقل کیاہوتا تو ان کاشماربھی اردو  کے اوّلین مورخوں میں ہوتا اور اردو دنیامیں ان کانام بھی ادب و احترام کے ساتھ لیاجاتا۔

حواشی

1       مشاعرہ، زنداں، ناشر اتر پردیش اردو اکادمی لکھنؤ،ص27-28

  2     ایضاً    ص30

3       کویتا کومدی چوتھابھاگ ارد وص 111

4       ایضاً   ص 28

5       ایضاً   ص 30۔29

6       راشٹریہ سہارالکھنؤ 13جنوری 1999،  ص7

7       ایضاً    ص7

8       ہندی اد ب کی تاریخ،از ڈاکٹر محمد حسن   ص 229

9       کویتاکومۡدی چوتھا بھاگ اردو   ص   80

10     ایضاً   ص84. 83

11     ایضاً    ص    50

12     ایضاً    ص  9

13     ایضاً    ص526۔  525

14     ایضاً    ص 110

15     ایضاً   ص110

16     ایضاً   ص    111

Niyaz Sultanpuri

Bhatti Jarauli, Post: Kataun

Distt.: Sultanpur- 227408 (UP)

Mob.: 8756228058

 

 

 

 

 

 

 

 

3/4/23

جونپور کی تین معاصرمحترم شخصیتیں: عبدالحق

 

مولانا کرامت علی جونپوری (1796-1871) دعوتِ دین کے بے مثل مبلغ اور مجاہد ہیں۔ دیار ِ مشرق میں احیائے دین کے وہ مردِ میداں ہیں اور میر لشکر بھی۔ احیائے دین کے ساتھ ان کے ہدف میں انگریزی اقتدار کے خلاف جدوجہد بھی تھی۔ اس خانوادے کی خدمات کا اعتراف ابھی باقی ہے۔ رجب علی ان کے چھوٹے بھائی تھے۔رجب علی کے بیٹے کا نام ابوالحسن ہے۔ جو ظفر احمد صدیقی کے والد ماجد ہیں۔مولانا ظفر احمد صدیقی 18 جنوری 1928 کو پیدا ہوئے۔ اور 7 جولائی 2021 کو اس دارفانی سے رخصت ہوئے۔ ان کی تدفین میں شریک نم ناک نگاہوں کا ایسا ہجوم جونپور میں کبھی نہیں دیکھا گیا لگتا تھا کہ پورا شہر سکوتِ غم کی سایہ نشینی میں پردہ پوش ہے۔ یہ ان کی بے پناہ مقبولیت کا مظہر تھا۔ ان کی علمی وروحانی شخصیت پراہالیانِ شہر کو ناز تھا۔ خود مولانا کو جونپور اور باشندوں پر بڑا اعتماد تھا۔جامع مسجد کی نئی تعمیر کے لیے شہر کے لوگوں نے اس اعتماد کو بحال کرکے تعاون کی بے مثال نظیر پیش کی۔ مولانا کی آواز پر شہر کے سبھی پیروجوان نے لبیک کہا اور صدیوں سے مسمار قدیم تعمیر کو بحال کیا۔ جو کسی عجوبہ سے کم نہیں۔ مسلکی اختلاف کے باوجود عالم اور عامی سبھی ان کا احترام کرتے تھے۔وہ عصر حاضر میں جون پور کی سب سے محترم اور برگزیدہ شخصیت کے پیکر تھے۔وہ علم وعمل کی مثال تھے وہ عرفان ِ نظر اور گدازِ قلب کے مرکز محسوس تھے۔ خلقِ خدا کی نظر میں ان کی خدادوستی کی دوسری نظیر نہ تھی۔ صبح وشام ان کے گرد دعائے خیر کی دستیابی کے لیے عوام منتظررہتے۔

9 اکتوبر 1982کو انھیں پہلی بار دیکھا ایک عالم روشن نظر آیا۔ قدوقامت کی وجاہت، علم وعمل کی درازی سے ہم آہنگ تھی۔ سفید کپڑے زیب تن کیے تھے چہرے کی نورفشانی قلب ونگاہ کی بشاشت سے ہم دوش تھی۔ میری پہلی بیٹی صائمہ کا میرے سسرال بلواگھاٹ جون پور میں عقیقہ تھا۔میرے خسر فضل الرحمن مرحوم کی خصوصی درخواست پر وہ تشریف لائے تھے بیٹی کا نام صائمہ انھیں کا تجویز کردہ ہے۔ راقم مولانا محترم کے گھر اکثر حاضر ہوتا وہ  مجھ پر بڑی شفقت فرماتے۔وہ جونپور کے ماضی کی بازیافت اور بزرگوں کی بے کراں خدمات کا بھی تذکرہ کرتے۔ جون 1983 میں حافظ سراج الدین مرحوم کے ہمراہ ان کے پاس حاضر ہوا۔راقم نے جونپور پر لکھے گئے ڈاکٹر محمد سعید کے تحقیقی مقالے کا ذکر کیا۔ انھوں نے دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ چند ماہ کے بعد دہلی سے جونپور جانا ہوا۔ وہ کتاب ساتھ لے گیا اور مولانا کو حاضر کیا وہ بہت خوش ہوئے اوروہ کتاب کئی ماہ تک مولانا کے پاس رہی۔ ان کی خواہش تھی کہ اس کا اردو میں ترجمہ ہوجائے۔ جو ابھی تک ممکن نہ ہوسکا۔ مرحوم نے اپنی ہر تصنیف وتالیف سے نوازا۔ آخری کتاب مفتاح الجنت ہے۔ یہ مولانا کرامت علی کی تصنیف ہے۔ جسے مولانا ظفر احمد صدیقی نے علمی اندازسے مرتب کیا ہے۔ راقم کا خیال ہے کہ اردو کی یہ پہلی فقہی کتاب ہے جوروز وشب کے معمولات اور عبادات کے مسائل پر مشتمل ہے۔ اردو میں فقہ نویسی کے ادب میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔یہ کتاب 1827 میں پہلی بار شائع ہوئی۔ اس وقت تک اردو کا نثری ادب بہت حد تک مذہبی مبادیات ومسائل تک محدود ہے۔یہ بات فورٹ ولیم کالج کے تراجم سے صرفِ نظر کرکے عرض کررہا ہوں۔تقویت الایمان کو جو مقبولیت ملی وہ انیسویں صدی کی کسی کتاب کو نہ حاصل ہوسکی۔ مذکورہ کتاب کو بھی دیار مشرق میں بہت پسند کیا گیا۔ بنگال وبرما تک اسے مقبولیت حاصل ہوئی۔مولانا ظفر احمد صدیقی مرحوم نے اپنے گراں قدر حواشی سے اسے اور بھی مفید ومحترم بنادیا ہے۔ مولانا کرامت علی کا ایک اور کام قابل ذکر ہے۔

وہ ایک مثالی عالم باعمل کے خوب رو پیکر تھے۔ روزوشب کے دینی معمولات کے علاوہ مجاہدانہ فکرو عمل کا امتزاج بھی ان کی سرشت میں شامل تھا۔ سکندر لودھی نے شاہانِ شرقی کو شکست دی اور شہر کو بھی تاراج کیا۔ فوجیوں نے جامع مسجد کو بھی کسی حد تک مسمار کیا۔ مسجد کا مشرقی دروازہ زمیں بوس کردیا گیا تھا۔ جو کئی صدیوں تک داستان خوں ریز کے منظر کو دہراتا رہا۔مولانا ظفر احمد صدیقی کے عزم وارادے کو آفریں ہوکہ انھوں نے اس دروازے کی تعمیرِ نو کا ارادہ کیا اور اسے مکمل کرکے عہد حاضر میں فن تعمیر کے معجزات کی انوکھی مثال قائم کی۔

سید غلام سمنانی مرحوم (وفات 22اپریل 1999) سے دہلی میں ملاقات ہوئی وہ مجھے بہت عزیز لگے۔ پہلی ملاقات میں ان کی پُروقار علمی شخصیت نے متاثر کیا۔ وہ انگریزی کے استاد تھے۔ مگر اردو،فارسی،اسلامیات اور شعر کے تخلیقی نکات پر گہری نظررکھتے تھے۔ ناچیز کو جونپور کی دو بڑی شخصیتوں کی علمی عظمت اور وجاہت نے علاقائی عصبیت کے فخر بے جا کی نفسیات سے قریب تر کیا۔ اب سوچتا ہوں تو میرا احساسِ تفاخر غلط بھی نہ تھا۔ خاکسار نے سید غلام سمنانی جیسے وسیع اور جامع مطالعہ سے مربوط شخصیت کم دیکھے۔ وہ برادرانہ شفقت فرماتے۔ ناچیز ان سے اصرار بھی کرتا کہ وہ تصنیف وتالیف کی طرف متوجہ ہوں۔مگر پان کی گلوریاں اور شعرا کی ہم نشینی ان کے لیے حصار بن گئی تھیں وہ ہمہ وقت اس ہجوم ناز میں میر مجلس نظر آتے۔ گھنٹوں ہوسٹل کے تنگ کمرے میں اہل سخن باادب بیٹھے رہتے۔ ان سے فرصت ملتی تو حبس دم کے دوامی آزار کو انگیز کرنے کے لیے مجبور ہوتے۔ ان حالات سے نبردآزما ہونے کے باوجود کچھ کام کرسکے۔ نیشنل بک ٹرسٹ کی فرمائش پر امیر خسرو پر انگریزی میں ایک مونوگراف تیار کیا۔ عہد شاہ جہاں کی ایک تاریخ کا ترجمہ کیا۔ باشم کی مشہور تاریخی کتاب ’ہندوستان کا شاندار ماضی‘کا ترجمہ شائع کیا۔یہ ان کی علمی اور ذولسانی بصیرت کا بہترین شاہ کار ہے اس ترجمے نے علمی وقار میں اضافہ کیا۔ ترجمے کو تخلیق کا حریف بنادیا۔ علامہ اقبال سے ان کی عقیدت مندی اور پرستاری لائق ستائش تھی۔ اقبال کی مجلس ِ شوریٰ کی پیروی میں کیفی اعظمی، پروفیسر محمد حسن کے بعد انہوں نے چوتھی مجلس شوریٰ تخلیق کی جو فکرِ اقبال سے ہم آہنگ ہے اور شعری حسن آفرینی سے دہلی کی کئی محفلوں میں شعر سناتے ہوئے دیکھا اور اکثر روبرو بھی سنا۔ شاعری فارسی ترکیبوں سے گراں قدر تھی،مگر بوجھل نہیں محسوس ہوئی۔کیونکہ کئی ماہ تک سردیوں میں انھوں نے راقم کے غریب خانے پر قیام کیا۔ کالج سے دور قیام تھا اور بچے جون پور جاچکے تھے مجھے دہلی یونیورسٹی کے احاطے میں یونیورسٹی کا مکان ملا ہوا تھا۔ میری گذارش پر وہ میرے پاس آگئے۔ میرا بھانجہ ہر وقت ان کی خدمت کرتا۔چند ماہ ان کے ساتھ بہت اچھے گزرے۔ سردیوں میں بھی وہ آدھی رات تک نیند کو ٹالتے رہتے۔ ان کی صبح بھی دیر سے نمودار ہوتی۔ اٹھنے کے بعد نماز ادا کرتے۔ فیضان (میرا بھانجہ) مصلے پر ہی انھیں چائے پیش کرتا۔ ان سے دعائیں لیتا۔ چونکہ وہ ذاکر حسین کے شبینہ کالج میں تھے اس لیے بہت اطمینان سے سہ پہر میں کالج کے لیے کشاں کشاں روانہ ہوتے۔تدریسی اوقات کے بعد اکثر محفل شعر بھی منعقد ہوجاتی۔ دن بھر کی تکان سے آسودگی مل جاتی۔ تقریباً یہ معمول بن گیا تھا۔

تیرے فسانے عجیب تیرے زمانے عجیب

130 اشعار پر مشتمل ہے ابلیس کی تیری مجلسِ شوریٰ یہ نظم سمنانی مرحوم کے قدرت کلام کی یاد گار ہے۔ ابلیس کی آخری گفتگو کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں          ؎

میں کہ ہوں آتش نفس، آتش نژاد، آتش ضمیر

میری قسمت میں نہیں فیضِ نجات ِ اخروی

ہے مرا پرداختہ اس دور کا سارا نظام

ہے مری پروردۂ آغوشِ تہذیب نوی

اشتراکیت ہوئی میرے نفس سے بار ور

میرے ہی زلّہ ربا ہیں مزد کی ومانوی

سمنانی محروم نے نظم میں ایک دوسرا نکتہ پیدا کیا ہے کہ ابلیس کی زبان سے شاعر ِ مشرق کے حضور خراج پیش کرنے کا منتظر بھی منظوم کیا ہے          ؎

وہ حکیمِ ارضِ مشرق نغمہ سازِ بے بدل

سرگروہِ عاشقاں، سرخیل ارباب ہمم

صاحبِ ضربِ کلیم وجانِ اسرارورموز

دیکھتا ہے دل کے آئینہ میں تقدیرِ امم

لفظیات اور آہنگ کے ساتھ اقبال کے تعارف کا اسلوب بھی انوکھا ہے۔مرحوم کی پوری شاعری پر اقبال کی فکر اور اسالیب کا گہرا نقش نمایاں ہے۔شخصیت کے ساتھ حلقۂ یاراں میں ایسے مرد ہنر مند کا کلام مرتب نہ ہوسکا۔ان کی شعری تخلیق کی یہ شناخت بھی تھی۔ افسوس ہے کہ ایسے مردِ ہنر کا کلام مرتب نہ ہوسکا۔ ان کی غزلیں بھی ان کے منفرد اسلوب ِفکر کی غماز ہیں وہ کلاسیکی روایات کی حامل ہیں۔ اور جدید فکر ومسائل کی ترجمانی سے معمور بھی ہیں۔

مسجد قرطبہ کے واگذاشت ہونے کی خبر پر سمنانی صاحب نے اسی وزن اور ہیئت میں 64 اشعار کی بڑی خوب صورت نظم لکھی۔جورسالہ ’معارف ‘ میں بڑے اہتمام سے شائع ہوئی۔ یہ ایک مرصع اور مربوط آہنگ سے منفرد اسلوب کی حامل ہے اور اقبال کی تخلیق سے قریب تر ہے۔ اس نظم سے مشابہ ابھی تک کوئی دوسری نظم نظر سے نہیں گزری اقبال کے ’پیام ِ مشرق‘ کے ’لالۂ طور‘ کی رباعیوں کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ مسودہ مجھے دکھایا تھا اور کچھ حصہ سنایا بھی تھا۔ افسوس ہے کہ انتقال کے بعد ان رباعیوں کا کیا انجام ہوا۔ معلوم نہ ہوسکا، مرحوم کی بہت سی تحریریں اسی طرح تلف ہوئیں۔ مرحوم مزاجاً قلندری اور بے نیازی کے پیکر تھے وہ اپنا نہ بن سکے اور نہ اپنا کچھ کرسکے ہاں تن آسانوں کے کام آئے۔ وہ مردِ میداں اور میر لشکر کی آرزو بھی نہیں رکھتے تھے۔ہاں سجادہ نشینی کی مجلسی روایت پر ہمیشہ کار بند رہے مگر شاعری میں عزم جواں اور پیکار ِ زندگی کی ترجمانی ان کا شیوۂ گفتار تھا۔ سکون پسند زندگی تھی۔ علم کا جلال پُر شکوہ تھا۔ مگر نرم دمِ گفتار تھے۔تبحرعلمی کے ساتھ وہ مسلکی معامالات میں محدود نظر رکھتے تھے۔ چونکہ وہ خانوادہ ٔ خانقاہی کے پروردہ تھے۔ان کے عزیز واقارب کو بھی کچھوچھہ کی سجادگی وشہ نشینی راس آتی تھی۔

لطائف ِ اشرفیہ مخطوطہ کی تدوین وترجمہ کا بار بار ذکر کرتے۔ نعتیہ ادب سے فکری مناسبت تھی۔ اس موضوع پر ان کی گفتگو وسعتِ مطالعہ کی مظہر ہوتی۔ مولانا سہیل اعظمی کا بے نظیر نعتیہ قصیدہ         ؎

کرے تارِ شعاعی لاکھ اپنی سعیِ امکانی

رفوہوتا نہیں اب صبح کا چاکِ گریبانی

پورا قصیدہ تقریباً ازبر تھا وہ لطف وانبساط کے ساتھ اکثر پڑھتے۔ اقبال کا کلام ان کے ریشہ ہائے دل میں رواں رہتا۔ خود ان کی شاعری میں اقبال کی لفظیات اور ترکیبیں ان کی شناخت بن گئی تھیں معاصر شعرا کی محفلوں میں ان کا بڑا وقار تھا۔ ان جیسا کوئی صاحب ِ مطالعہ بھی نہ تھا۔ مگر خاکساری اور عاجزی ان کی نسبی فطرت کا جوہر خاص تھا۔ انھوں نے کئی کتابوں پر مقدمے لکھے اور قطعات تاریخ بھی رقم کیں جون پور کے ایک کہنہ مشق شاعر محسن رضا کے شعری مجموعہ’زخمہ‘ کا مقدمہ قابلِ ذکر ہے ان کے انتقال پر تاریخ بھی قلم بند کی۔ دہلی یونیورسٹی کے قریب اسپتال میں انتقال کی خبر ملی۔ سایۂ شفقت سے محرومی اور چراغ ِعلم کا سرشام بجھ جانا، راقم کے قیامِ دہلی کا پہلا حادثہ تھا۔ دہلی میں کسی دوست کے گزرجانے کا یہ پہلا صدمہ تھا۔ بعد میں پروفیسر خواجہ احمد فاروقی اور پروفیسر محمد حسن جیسے محسن ومربی کے انتقال سے شہرِ علم پر تاریکی ویرانی کا احساس ہوا        ؎

پاس اگر تو نہیں شہر ہے ویراں تمام

ان حضرات کی رفاقتیں اور بے شمار یادیں اب بھی گوشۂ دل میں اضطراب پیدا کرتی ہیں۔ دیر تک سکوتِ مرگ کی خاموشی طاری رہتی ہے        ؎

رفتید ولے نہ از دلِ ما

جون میں ایک تیسری شخصیت ڈاکٹر عبدالسلام (وفات 24اکتوبر 2019)کی تھی جن کا مطب سبزی منڈی میں ہے۔ وہ ندوی عالم تھے۔ علی گڑھ سے بی یوایم ایس کیا تھا۔ دستِ شفا رکھنے والا کرشمہ ساز طبیب سے میری رفاقت تھی۔ وہ ہم مشرب وہم راز تھے۔ جلوت وخلوت میں ان کی ہم نشینی سرمایۂ زندگی تھی۔ بقول اقبال ان کے نفس کی موج سے نشوونما ئے زندگی تھی وہ بھی ساتھ چھوڑ گئے۔ رفاقتیں اب سراب بن گئیں۔ وہ بے انتہا مخلص تھے اور مخیر تھے۔ کئی مسجدوں کے انتظام وانصرام میں مصروف رہتے مریضوں کے ساتھ مسیحائی کا حسن ِ سلوک اور ان کی دل داری شیوۂ زندگی کا دستور بن گیا تھا۔ چمکتا چہرہ اور خوش مزاجی وخوش گفتاری کا خاصہ تھا۔ کبھی کبھی ذاتی زندگی کی نارسائیوں کی پرچھائیں پل بھر کے لیے متاثر کرتیں مگر وہ اندوہِ دل نہ بن سکیں وہ خوش کلامی کے ساتھ خوش خوراک تھے احباب کو دستر خوان پر جمع کرنے کی جبلی خواہش سے ہمیشہ سرشار رہتے۔آئے دن دوستوں کے لیے دستر خوان مخصوص اور موسمی کھانوں سے آراستہ ہوتا۔ انھیں کھانے سے کہیں زیادہ کھلانے کا شوق ہوتا۔ اچھی بات یہ تھی کہ ان کی رفیقۂ حیات شہناز بیگم کو بھی اتنی ہی مسرت ہوتی وہ خود نگرانِ کار اور میزبان ہوتیں۔ان دونوں کی رفاقتیں بھی قابلِ رشک تھیں۔سلام صاحب نام لے کر پکارتے مگر وہ بڑی محبت سے ڈاکٹر صاحب ہی کہتیں۔ سلام صاحب مریضوں اور مطب کی مصروفیات سے فارغ ہوتے ہوئے رات کے گیارہ بج جاتے۔ محترمہ بھی ان کے کھانے کے اہتمام میں مصروف رہتیں۔ حیرت ہوتی تھی کہ صبح سے رات تک وہ مریض دیکھتے تھکتے نہ تھے۔ ناچیز نے ان سے بارہا درخواست کی یہ مصروفیت صحت کو راس نہیں آتی۔ مگر انھیں ایک جنون تھا۔ ہر لمحے کو خدمتِ خلق کے لیے وقف کرچکے تھے۔آخر کار صحت شکر کی مہلک بیماری کی نذر ہوگئی۔ مگر ان کے عزم واستقلال پر حرف نہ آیا۔

میری ان سے ملاقات 1977 میں ہوئی۔ والدہ کے علاج کے سلسلے میں میرے محترم دوست حافظ سراج الدین کاشف مچھلی شہری نے ڈاکٹر عبدالسلام صاحب سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ انھیں کے ساتھ سلام صاحب کے مطب میں حاضر ہوا۔ ایک جواں سال اور خوب رو مسیحا سے ملاقات ہوئی۔ گورے رنگ نے چہرے کو نور وسرور کی بشاشت بخشی تھی۔ آنکھوں کی چمک میں صبحِ نو کے ظہور کا عالم محسوس ہوا۔ گفتگو میں دلبری اور دردمندی نے بہت متاثر کیا۔ ان سب سے بڑھ کر ان کی سرگرمی اور تفاعل وتحرک کا انداز قابلِ رشک تھا۔ لباس کی سادگی حکیم حاذق کے گداز بدن پر زیب دیتی۔ ان کی شخصیت میں وقار تھا مگر یہ وقار محبت وشفقت کا مرکب یا مجموعہ بھی تھا۔ بعض معاملات میں انھیں نرم لہجے میں بگڑتے مگر آخر میں مسکراتے بھی دیکھا وہ گرم گفتاری کے بعد پشیماں ہوتے۔

جان سے ہم تو جاتے ہیں تم بھی جاؤ جانے دو

پر بات ختم ہوتی۔ مریضوں سے الجھتے نہ دیکھا۔ ہاں سرپرستوں اور تیمارداروں کو تنبیہ ضرور کرتے۔ مرض کے علاوہ مریض کی نفسیات اور طرزِ زندگی کے احوال پر نظر رکھتے۔ ان کی بے مثال مسیحائی کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ جب انگریزی دواکار گر نہ ہوتی تو وہ طب یونانی کی ادویہ تجویز کرتے۔ انھیں مفردات کا خوب علم تھا۔ راقم کو اکثر بتاتے کہ شہر کے سب سے مشہور حکیم منظور احمد کے مطب میں مدتوں کام کرنے کی وجہ سے جڑی بوٹیوں کے علم سے وہ زربکف ہوئے۔ڈاکٹر صاحب بہت سی یونانی دوائیں خود تیار کراتے دوستوں کے لیے بھی کارکشائی اور کارسازی کا سامان فراہم کرتے۔ خاص طور پر موسم سرما میں مقویات کی تیاری کا بڑا اہتمام کرتے۔ ایک میرشکار سے ان کا خاص تعلق تھا۔سردیوں میں سیکڑوں کنجشک خریدتے اور خاص معجون تیار کراتے۔ کنجشک کے گوشت سے پلاؤ پکواتے اور دسترخوان پر لطفِ دوستاں کا مزہ لیتے۔ وہ بے حد خوش باش اور خوش خو انسان تھے۔ مسکراتا ہوا چہرہ ہر مرض اور ہر غم کو غلط کرنے کے لیے کافی ہوتا۔ وہ ملولِ خاطری کو پسند نہ کرتے اور نہ کبھی مایوسیوں سے شکست کھائی نجی زندگی کی بعض ناہمواریوں کو بھی خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کرتے۔یہ مکروہات شخصی نہ تھے۔ بلکہ مسلم معاشرے کے پروردہ تھے۔ جنھیں چار وناچار انگیز کرنا پڑتا ہے۔ جونپور کا مسلم معاشرہ کبھی علم وعمل کے بام گردوں سے ہم آغوش ہوا کرتا تھا مگر معاصر سماجی صورت ِحال تشویش ناک اور زوال زدہ ابتری میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اس کا مداوا کسی بھی چارہ ساز کے بس میں نہ تھا۔ ڈاکٹر عبدالسلام آئے دن معاشرے کے مختلف مسائل سے گزرتے رہے۔ انھیں منصف ومسیحا سمجھ کر لوگ مسائل کے حل کے لیے رجوع کرتے رہے۔ وہ اپنی زندگی کی ناخوش گواریوں سے بھی نبردآزما تھے۔ پہلی شادی سے مطمئن نہ تھے۔ تمام تر شفقت وکفالت کے بعد بھی چھوٹے بھائی نے الگ رہنا پسند کیا۔ حددرجہ احترام واحتیاط کے باوجود والدین نے چھوٹے بھائی کے ساتھ رہنے کو ترجیح دی وہ معذور بہن کے معالجے میں اپنی بے دست وپائی کو شدت کے ساتھ محسوس کرتے رہے۔ ٹانڈہ میں دوسری شادی نے انھیں مسرور ومطمئن کیا اور شہناز بیگم کی رفاقت کو ربِّ کریم کی بے پایاں نوازش کہنے لگے۔ ہاں ایک احساس اب بھی دامن گیر تھا۔ انھوں نے ایک دن سیہ رات کی تنہائی میں ایک بڑے راز کی بات کہی جو دوست کی امانت کے طور پر آج بھی سینے میں محفوظ ہے۔ یہ ہم دمِ دیر ینہ کی بخشی ہوئی خلش کی بڑی نعمت و نوازش سے کم نہیں۔ اقبال نے کہا ہے کہ بزم جہاں،حوروجناں اور بادہ وساغر سے کہیں زیادہ بہتر اک ہم دمِ فرزانہ کی صحبت ہے        ؎

از بزمِ جہاں خوشتر از حور و جناں خوشتر

اک ہمدمِ فرزانہ و زبادہ وپیمانہ

جونپورمیں ہر سال کئی راتیں ان کے گھر بسر ہوئیں گورکھپور، بنارس، اعظم گڑھ، مئو، الہ آباد،جون پور تقریباً ہر سال کسی نہ کسی ادبی یا تعلیمی کام کے لیے جانا ہوتا۔ واپسی میں جون پور انھیں کے ساتھ قیام کرتا۔ یہ شادی یعنی 1981 سے پہلے کی بات ہے۔ میری شادی میں ایک موثر محرک وہ بھی تھے۔ 1980 میں شبلی کالج میں ایم  اے کے آخری سال کے زبانی امتحان (وایوا) کے لیے حاضر ہوا۔ ناہید رحمن بھی وہاں امتحان دینے آئی تھیں۔ ان کے خاندان کے سبھی لوگ ڈاکٹر عبدالسلام سے ہی علاج کراتے تھے۔ ان کے گھر سے ڈاکٹر صاحب کا بہت ہی بے تکلفی کا معاملہ تھا۔ شبلی کالج سے گاؤں لوٹتے وقت رات ان کے گھر ٹھہرا۔ جونپور کی تمام طالبات کا ذکر آیا۔ وہ بڑی توجہ سے سنتے رہے اور طالبات کے گھر گھرانے سے اپنی شناسائی کا ذکر کرتے رہے۔ انھوں نے فضل الرحمن مرحوم سے میر اذکر کیا۔

یہ عجیب بات تھی کہ انھوں نے ایک تخلیقی ذہن پایا تھا۔یادداشت بلا کی تھی۔’کلیاتِ قانوں‘ کے صفحے کے صفحے انھیں ازبر تھے۔اکثر مجھے سنایا بھی۔ اس کی بنا پر وہ مرکبات کے اجزا کے خواص کا تجزیہ بھی کرتے اور علاج کے دوران استعمال بھی کرتے۔انگریزی دواؤں پر تکیہ تھا۔ مگر ساری دوائیں اعلیٰ پایے اور معتبر کمپنیوں پر ہی اکتفا کرتے جب بھی موقع ملتا کچھ رقم کرتے۔ مختصر جملے حکمت ونصیحت سے بھر پور عبارت محفوظ ہوجاتی یہ سب ان کے ذہنی مشاہدے پر مبنی ہوتے۔مجھے اکثر پڑھ کر سناتے بھی، کبھی کبھی جملے درست بھی کیے جاتے۔’کشکول‘ کے علاوہ کئی کتابچے شائع ہوئے۔ ناچیز نے 1989 میں شائع ہونے والی کتاب ’اقبال کے شعری اسالیب‘ ان کے نام معنون کی۔ انتساب کے مصرع پر مجھے بے حد داد ملی مگر دونوں کی دوستی کے مراسم پر رشک بھی کیا گیا           ؎

تیرے نفس کی موج سے نشوونمائے آرزو

ان کی سرخوشی اور سرشاری دیکھ کر مجھے بڑی مسرت حاصل ہوئی یہ عمر بھر کی کمائی نہ تھی بلکہ علم واکتساب کا آغاز ہوا تھا پھر بھی فارسی شعر سے لطف اندوز ہوتا رہا         ؎

حاصلِ عمر نثارِ رہ یارے کردم

شادم از زندگیِ خویش کہ کارے کردم

(زندگی بھر کی کمائی کو دوست کی راہ میں لٹادیا۔ خوش ہوں کہ اپنی زندگی میں ایک کام تو کیا)

محبوب دوست اور مشفق ومہرباں ہم نوا کی یادوں کا غبار زندگی کا زاد راہ بن کر اکثر مغموم ومضطرب کرتا ہے        ؎

بے بہا موتی ہیں تیرے چشمِ گوہر بار کے   


Prof. Abdul Haq

2315, Ground Floor, Hudson Lane

Kingsway Camp

Delhi - 110009

Mob.: 9350461394

تازہ اشاعت

تخیل،مطالعۂ کائنات اورتفحص الفاظ کا تجزیہ،مضمون نگار:محمد شاہنواز خان

اردو دنیا،نومبر 2025 الطاف حسین حالی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’مقدمہ شعرو شاعری ‘ میں پہلی بار تنقیدی نظریات پر باضابطہ اور بالتفصیل گفتگو ک...